Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 8 · Chapter 11

Book of Zakah

Hadith 4724–4763

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4724

Majma al-Zawaid #4724

عَنْ عِيَاضِ بْنِ مَرْثَدٍ - أَوْ مَرْثَدِ بْنِ عِيَاضٍ - عَنْ رَجُلٍ مِنْهُمْ، أَنَّهُ «سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ؟ قَالَ: "" هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟ "". حَتَّى قَالَ لَهُ ذَلِكَ مَرَّاتٍ، قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَاسْقِ الْمَاءَ "". قَالَ: وَكَيْفَ أَسْقِيهِ؟ قَالَ: "" اكْفِهِمْ آلَتَهُ إِذَا حَضَرُوهُ، وَاحْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا "". وَفِي رِوَايَةٍ: "" تَكْفِيهِمْ آلَتَهُ إِذْ حَضَرُوهُ، وَتَحْمِلُهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا عَنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَقَدْ جَهِلَ الْحُسَيْنِيُّ عِيَاضَ بْنَ مَرْثَدٍ، أَوْ مَرْثَدَ بْنَ عِيَاضٍ. وَقَدْ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَالرَّاوِي ثِقَةٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ ; فَارْتَفَعَتِ الْجَهَالَةُ.

EnglishUnverified translation

Iyad ibn Marthad, or Marthad ibn Iyad, reported from a man of them that he asked the Prophet ﷺ for a deed admitting him to Paradise. The Prophet ﷺ asked him repeatedly whether either parent was alive. When he said no, he commanded watering. When asked how, he explained sufficiency with the vessel and carrying. In another wording the same command is repeated. > **"Is anyone of your parents alive? Then give water to drink. Suffice them its vessel when they are present, and carry it to them when they are absent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض اپنے ایک فرد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے چند مرتبہ یہی چیز دریافت کی ‘ تو انہوں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم پانی پلاؤ انہوں نے عرض کی : میں کیسے پانی پلاؤں ؟ اسے پلاؤ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب لوگ پانی کے پاس موجود ہوں تو تم آلہ ( ڈول ) کے ساتھ ان کی کفایت کرو ( یعنی انہیں پانی نکال کر دے دو ) اور جب وہ موجود نہ ہوں ، تو پانی لاد کر ان کی طرف لے جاؤ ‘‘۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ جب لوگ پانی کے پاس موجود ہوں تو تم آلہ کے حوالے سے تم ان کی کفایت کرو اور جب وہ دور ہوں تو تم لاد کر ان کی طرف لے جاؤ “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ حسینی عیاض بن مرثد یا مرثد بن عیاض نامی راوی سے ناواقف ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ان سے نقل کی ہے ۔ کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا راوی ثقہ ہے ‘ اور صحیح کے رجال میں سے ہے ‘ تو اس اعتبار سے اس کا مجہول ہونا ختم ہو جاتا ہے ۔

4725

Majma al-Zawaid #4725

وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ عِيَاضَ بْنَ مَرْثَدٍ أَوْ مَرْثَدَ بْنَ عِيَاضٍ يُحَدِّثُ رَجُلًا: «أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ عَمَلٍ يُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ قَالَ: "" هَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟ "". قَالَ: لَا. فَسَأَلَهُ ثَلَاثًا. قَالَ: "" اسْقِ الْمَاءَ ; احْمِلْهُ إِلَيْهِمْ إِذَا غَابُوا، وَاكْفِهِمْ إِيَّاهُ إِذَا حَضَرُوا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Asim ibn Kulayb said he heard Iyad ibn Marthad, or Marthad ibn Iyad, narrating to a man that he asked the Prophet ﷺ about a deed admitting him to Paradise. After asking thrice about his parents and being told none was alive, the Prophet ﷺ commanded watering with carrying and sufficiency. > **"Is anyone of your parents alive? Give water to drink. Carry it to them when they are absent, and suffice them it when they are present."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عاصم بن کلیب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عیاض بن مرثد یا شاید مرثد بن عیاض کو ایک شخص کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے ایسے عمل کے بارے میں دریافت کیا : جو انہیں جنت میں داخل کر دے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے ماں باپ میں سے کوئی زندہ ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ان سے سوال کیا ، پھر ارشاد فرمایا تم پانی پلاؤ جب لوگ غیر موجود ہوں تو پانی لاد کر ان کے پاس لے جاؤ اور جب وہ ( پانی کے پاس ) موجود ہوں تو ان کی کفایت کرو ( یعنی انہیں پانی نکال کر دے دو ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4726

Majma al-Zawaid #4726

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، «أَنْ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي أَنْزِعُ فِي حَوْضِي حَتَّى إِذَا مَلَأْتُهُ لِإِبِلِي وَرَدَ عَلَيَّ الْبَعِيرُ لِغَيْرِي فَسَقَيْتُهُ، فَهَلْ [لِي] فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) reported that a man came to the Prophet ﷺ saying he draws in his trough until he fills it for his camels, then another's camel comes and he waters it, asking if there is reward in that. > **"In every moist liver is reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میں اپنے حوض میں سے پانی نکالتا ہوں یہاں تک کہ حوض کو اپنے اونٹ کے لئے بھر دیتا ہوں پھر ایک اونٹ آ جاتا ہے ‘ جو میرا نہیں ہوتا میں اسے بھی پانی پلا دیتا ہوں تو کیا مجھے اس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر جاندار چیز کے حوالے سے اجر ملتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4727

Majma al-Zawaid #4727

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ الْمَاءُ، أَلَمْ تَسْمَعْ إِلَى قَوْلِ أَهْلِ النَّارِ لَمَّا اسْتَغَاثُوا بِأَهْلِ الْجَنَّةِ [قَالُوا]: {أَفِيضُوا عَلَيْنَا مِنَ الْمَاءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ} [الأعراف: 50]». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ called water the best charity, citing the plea of the people of the Fire to the people of Paradise in al-Araf 50. > **"The best charity is water. Have you not heard the saying of the people of the Fire when they sought aid from the people of Paradise: Pour upon us some water or of what Allah has provided you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ پانی ہے کیا تم نے اہل جہنم کے اس قول کو نہیں سنا ہے کہ جب وہ اہل جنت سے مدد مانگیں گے تو یہ کہیں گے : ’’ ہم پر پانی بہا دو یا اس چیز میں سے بہا دو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں رزق میں سے دیا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن مغیرہ ہے ‘ اور وہ مجہول ہے ۔

4728

Majma al-Zawaid #4728

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ: مَا عَمَلٌ إِنْ عَمِلْتُ بِهِ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: "" أَنْتَ بِبَلَدٍ تَجْلِبُ بِهِ الْمَاءَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَاشْتَرِ لَهَا سِقَاءً جَدِيدًا، ثُمَّ اسْقِ فِيهَا حَتَّى تَخْرِقَهَا، فَإِنَّكَ لَمْ تَخْرِقْهَا حَتَّى تَبْلُغَ بِهَا عَمَلَ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that a man asked the Prophet ﷺ for a deed by which he would enter Paradise. The Prophet ﷺ asked whether he lived in a land to which water is brought. When he said yes, he commanded buying a new skin and giving drink until it wore out. > **"Do you live in a land to which water is brought? Then buy for it a new skin, then give drink therein until you wear it out, for you will not wear it out until you have reached thereby a deed of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : وہ کون سا عمل ہے کہ اگر میں اس پر عمل کروں تو میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم کسی ایسی جگہ پر رہتے ہو جہاں پانی لایا جاتا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر تم پانی کے لئے ایک نیا مشکیزہ خریدو اور اس میں پانی ڈال لو اسے استعمال کرتے رہو یہاں تک کہ اسے پرانا کر دو تو تمہارے اس کے پھاڑنے سے پہلے ہی تم اس کی وجہ سے جنت کے عمل تک پہنچ جاؤ گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4729

Majma al-Zawaid #4729

وَعَنْ كُدَيْرٍ الضَّبِّيِّ «أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ وَيُبَاعِدُنِي عَنِ النَّارِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَوَ هُمَا أَعْمَلَتَاكَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "" تَقُولُ الْعَدْلَ، وَتُعْطِي الْفَضْلَ "". قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ الْعَدْلَ كُلَّ سَاعَةٍ، وَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُعْطِيَ الْفَضْلَ. قَالَ: "" فَتُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتُفْشِي السَّلَامَ "". قَالَ: هَذِهِ أَيْضًا شَدِيدَةٌ. قَالَ: "" فَهَلْ لَكَ إِبِلٌ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَانْظُرْ إِلَى بَعِيرٍ مِنْ إِبِلِكَ وَسِقَاءٍ، ثُمَّ اعْمَدْ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ لَا يَشْرَبُونَ الْمَاءَ إِلَّا غِبًّا فَاسْقِهِمْ ; فَلَعَلَّكَ لَا يَهْلِكُ بَعِيرُكَ وَلَا يَتَخَرَّقُ سِقَاؤُكَ حَتَّى تَجِبَ لَكَ الْجَنَّةُ "". فَانْطَلَقَ الْأَعْرَابِيُّ يُكَبِّرُ، فَمَا انْخَرَقَ سِقَاؤُهُ، وَلَا هَلَكَ بِعِيرُهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Kudayr al-Dabbi reported that a Bedouin asked the Prophet ﷺ for a deed drawing him near Paradise and distancing him from the Fire. When the Prophet ﷺ proposed justice in speech and giving surplus, then feeding and spreading greeting, the man said he could not. So the Prophet ﷺ asked about camels and commanded taking a camel and a skin to a household who drink water only at intervals. The Bedouin departed magnifying Allah, and his skin did not tear nor his camel perish before he was killed a martyr. > **"Have the two occupied you? Speak justice and give surplus. Feed food and spread greeting. Have you camels? Then look to a camel of your camels and a skin, then betake yourself to a household who drink water only at intervals, and water them. Perhaps your camel will not perish nor your skin tear before Paradise becomes due for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کدیر ضبی بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے جو مجھے جنت کے قریب کر دے اور جہنم سے مجھے دور کر دے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا وه ( عمل ) یہ دونوں کام کرے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم عدل کے مطابق بات کہو ‘ اور اضافی چیز دے دیا کرو اس نے عرض کی : اللہ کی قسم میں یہ استطاعت نہیں رکھتا کہ ہر وقت عدل کے مطابق بات کہوں اور نہ ہی میں یہ طاقت رکھتا ہوں کہ ہر وقت اضافی چیز دے دیا کروں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم کھانا کھلاؤ اور سلام پھیلاؤ اس نے عرض کی : یہ بھی مشکل ہے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر اپنے اونٹوں میں سے ایک اونٹ لو اور ایک مشکیزہ لو اور پھر ایسے گھرانے کی طرف جاؤ جنہیں وقفے سے پانی ملتا ہے ‘ اور انہیں پانی فراہم کرو ہو سکتا ہے ‘ کہ تمہارے اونٹ کے مرنے سے پہلے اور تمہارے مشکیزے کے پھٹنے سے پہلے تمہارے لئے جنت واجب ہو جائے وہ دیہاتی تکبیر کہتا ہوا چلا گیا اور پھر اس کے مشکیزے کے پھٹنے سے پہلے اور اس کے اونٹ کے مرنے سے پہلے وہ شہید ہونے کے طور پر قتل ہوا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4730

Majma al-Zawaid #4730

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ: "" يَا سَعْدُ، أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى صَدَقَةٍ خَفِيفَةٍ مُؤْنَتُهَا، عَظِيمٍ أَجْرُهَا؟ "". قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" سَقْيُ الْمَاءِ "". فَسَقَى سَعْدٌ الْمَاءَ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي سَقْيِ الْمَاءِ غَيْرُ هَذَا، رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Ubadah (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ offered to guide him to a charity light in burden and great in reward. When he accepted, the Prophet ﷺ named it, so Sad gave water. > **"O Sad, shall I not guide you to a charity light in its burden, great in its reward? Giving water to drink."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے سعد ! کیا میں تمہاری رہنمائی ایسے صدقے کی طرف نہ کروں جسے کرنا آسان ہے ‘ اور اس چیز کا اجر زیادہ ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پانی پلانا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ پانی پلایا کرتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ایک اور حدیث منقول ہے ‘ جو پانی پلانے کے بارے میں ہے ‘ اور اس کے علاوہ ہے اسے امام ابوداؤد نے روایت کیا ہے ۔

4731

Majma al-Zawaid #4731

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «سَلَكَ رَجُلَانِ مَفَازَةً ; عَابِدٌ وَالْآخَرُ بِهِ رَهَقٌ، فَعَطِشَ الْعَابِدُ حَتَّى سَقَطَ، فَجَعَلَ صَاحِبُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ [وَمَعَهُ مِيضَأَةٌ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَيْهِ]، وَهُوَ صَرِيعٌ. فَقَالَ: وَاللَّهِ لَئِنْ مَاتَ هَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ عَطَشًا وَمَعِي مَاءٌ لَا أُصِيبُ مِنَ اللَّهِ خَيْرًا أَبَدًا، وَلَئِنْ سَقَيْتُهُ مَائِي لَأَمُوتَنَّ. فَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ وَعَزَمَ، فَرَشَّ عَلَيْهِ مِنْ مَائِهِ، وَسَقَاهُ فَضْلَهُ، فَقَامَ فَقَطَعَا الْمَفَازَةَ، فَيُوقَفُ الَّذِي بِهِ رَهَقٌ [يَوْمَ الْقِيَامَةِ] لِلْحِسَابِ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ فَتَسُوقُهُ الْمَلَائِكَةُ فَيَرَى الْعَابِدَ فَيَقُولُ: يَا فُلَانُ أَمَا تَعْرِفُنِي؟ فَيَقُولُ: وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا فُلَانٌ الَّذِي آثَرْتُكَ عَلَى نَفْسِي يَوْمَ الْمَفَازَةِ. فَيَقُولُ: بَلَى أَعْرِفُكَ. فَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ: قِفُوا. فَيَقِفُوا فَيَجِيءُ حَتَّى يَقِفَ فَيَدْعُو رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، قَدْ عَرَفْتَ يَدَهُ عِنْدِي، وَكَيْفَ آثَرَنِي عَلَى نَفْسِهِ، يَا رَبِّ هَبْهُ لِي. فَيَقُولُ [لَهُ]: هُوَ لَكَ. فَيَجِيءُ فَيَأْخُذُ بِيَدِ أَخِيهِ، فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ». [قَالَ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ] فَقُلْتُ لِأَبِي ظِلَالٍ: أَحَدَّثَكَ أَنَسٌ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو ظِلَالٍ وَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ، وَابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (رضي الله عنه) reported from the Prophet of Allah ﷺ that two men, a worshipper and another laden with sin, crossed a desert. The worshipper thirsted until he fell, while his companion had a small vessel with some water. The companion reasoned that if the righteous servant died thirsty while he had water he would never attain good from Allah, yet if he gave his water he would die. So he relied upon Allah and resolved, sprinkled some upon him and gave him the remainder, and they crossed the desert. On the Day of Resurrection the sin-laden one is brought for reckoning and ordered to the Fire. As the angels drive him he sees the worshipper and reminds him that he had preferred him over himself in the desert. The worshipper acknowledges him, tells the angels to halt, then supplicates his Lord, who grants his request and gives the man to him, so he takes his brother's hand and admits him to Paradise. Jafar ibn Abi Sulayman asked Abu Zilal whether Anas had narrated it from the Messenger of Allah ﷺ, and he said yes. > **"By Allah, if this righteous servant dies thirsty while I have water, I shall never attain good from Allah. If I give him my water, I shall die. O Lord, You know his hand with me and how he preferred me over himself. O Lord, grant him to me. He is yours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ دو افراد ایک بے آب و گیاہ جگہ سے گزر رہے تھے ‘ ان میں سے ایک عبادت گزار تھا اور دوسرا گناہگار تھا ‘ عبادت گزار کو پیاس لگی ‘ یہاں تک کہ وہ گر گیا اس کے ساتھی نے اس کی طرف دیکھنا شروع کیا اس کے ساتھی کے پاس ایک برتن تھا جس میں تھوڑا سا پانی تھا اس نے اس عبادت گزار کی طرف دیکھنا شروع کیا کہ یہ گر چکا ہے پھر اس نے کہا : اللہ کی قسم اگر یہ نیک بندہ پیاسا مر گیا اور میرے پاس پانی موجود ہوا تو مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف کبھی کوئی بھلائی نصیب نہیں ہو گی ، لیکن اگر میں نے اپنا پانی اسے پلا دیا تو ہو سکتا ہے میں مر جاؤں پھر اس نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ‘ اور عزم کیا ، اور اس پر اپنا پانی چھڑکا اور اضافی پانی اسے پلا دیا وہ عبادت گزار کھڑا ہو گیا ۔ ان دونوں نے اس ویرانے کو پار کر لیا قیامت کے دن اس شخص کو حساب کے لئے پیش کیا گیا اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہوا فرشتے اسے لے کے جانے لگے عبادت گزار نے دیکھا تو کہاں اے فلاں کیا تم نے مجھے پہچانا اس نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے کہا : میں وہ فلاں شخص ہوں کہ ویرانے سے گزرتے ہوئے تم نے میرے لئے اپنی ذات پر ایثار کیا تھا ‘ تو اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے تمہیں پہچان لیا تو عبادت گزار فرشتوں سے یہ کہے گا تم ٹھہر جاؤ وہ ٹھہر جائیں گے یہاں تک کہ وہ آئے گا ‘ اور کھڑا ہو کر اپنے پروردگار سے دعا کرے گا ‘ اور عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! اس شخص نے مجھ پر جو احسان کیا تھا ، تو اس سے واقف ہے کہ اس نے کیسے میرے لئے ایثار کیا تھا اے میرے پروردگار ! اسے مجھے ہبہ کر دے تو پروردگار اس سے فرمائے گا وہ تمہارا ہوا پھر وہ عبادت گزار آئے گا ‘ اور اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑے گا ‘ اور اسے جنت میں داخل کروا دے گا ‘‘۔ جعفر بن ابوسلیمان بیان کرتے ہیں : میں نے ابوظلال سے کہا : کیا حضرت انس رضی اللہ عنہ نے آپ کو نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ابوظلال نامی راوی کو امام بخاری اور ابن حبان نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ویسے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4732

Majma al-Zawaid #4732

عَنْ عَائِشَةَ «أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الشَّيْءُ الَّذِي لَا يَحِلُّ مَنْعُهُ؟ قَالَ: "" الْمَاءُ، وَالْمِلْحُ، وَالنَّارُ "". قَالَتْ: هَذَا الْمَاءُ قَدْ عَرَفْنَاهُ، فَمَا بَالُ الْمِلْحِ وَالنَّارِ؟ فَقَالَ: "" مَنْ أَعْطَى مِلْحًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا حَطِئْتَ بِهِ الْمِلْحَ، وَمَنْ أَعْطَى نَارًا فَكَأَنَّمَا تَصَدَّقَ بِجَمِيعِ مَا أَنْضَجَتِ النَّارُ، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَ رَقَبَةً، وَمَنْ سَقَى مُسْلِمًا شَرْبَةً مِنْ مَاءٍ حَيْثُ لَا يُوجَدُ الْمَاءُ فَكَأَنَّمَا أَحْيَاهُ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زُهَيْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ: مَجْهُولٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) asked the Messenger of Allah ﷺ what thing it is not lawful to withhold. He named three. When she said water is understood but asked about salt and fire, he explained the reward of each, and of giving a Muslim a drink where water is found or where it is not. > **"Water, salt, and fire. Whoever gives salt, it is as if he gave charity of all that the salt seasoned. Whoever gives fire, it is as if he gave charity of all that the fire ripened. Whoever gives a Muslim a drink of water where water is found, it is as if he freed a neck. And whoever gives a Muslim a drink of water where water is not found, it is as if he gave him life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کون سی چیز ایسی ہے ‘ جسے نہ دینا جائز نہیں ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پانی ‘ نمک اور آگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : پانی کی ‘ تو بات سمجھ آتی ہے نمک اور آگ کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص نمک دیتا ہے گویا کہ وہ اس پوری چیز کو صدقہ کر دیتا ہے ، جس کو نمک کے ذریعے تیار کیا ( یعنی پکایا ) گیا ہو ‘ اور جو شخص آگ دیتا ہے گویا کہ وہ اس ساری چیز کو صدقہ کر دیتا ہے ‘ جس کو آگ نے پکایا ہو جو شخص کسی مسلمان کو پانی کا ایک گھونٹ پلاتا ہے ایک ایسی جگہ پر جہاں پانی دستیاب ہوتا ہو تو گویا وہ ایک غلام کو آزاد کرتا ہے ‘ اور جو شخص کسی مسلمان کو پانی کا ایک گھونٹ ایسی جگہ پر پلاتا ہے جہاں پانی دستیاب نہ ہو ‘ تو گویا اس نے اسے زندگی دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زہیر بن مرزوق ہے ۔ امام بخاری فرماتے ہیں یہ مجہول ہے ‘ اور منکرالحدیث ہے ۔

4733

Majma al-Zawaid #4733

وَعَنْ أَنَسٍ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُنَّ يُدْلِجْنَ بِالْقِرَبِ، يَسْقِينَ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported that the wives of the Prophet ﷺ would go out early with skins, giving drink to the Companions of the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ازواج مشکیزے میں پانی لایا کرتی تھیں اور نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کو پانی پلایا کرتی تھیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4734

Majma al-Zawaid #4734

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَتَدْرُونَ أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" الْمَنِيحَةُ ; أَنْ يَمْنَحَ [أَحَدُكُمْ] أَخَاهُ الدِّرْهَمَ، أَوْ ظَهْرَ الدَّابَّةِ، أَوْ لَبَنَ الشَّاةِ، أَوْ لَبَنَ الْبَقَرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَزَادَ: "" الدِّينَارَ أَوِ الْبَقَرَةَ "". وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ asked whether they knew which charity is best. When they said Allah and His Messenger know best, he named the loaned grant in four forms, with Abu Yala adding the dinar and the cow. > **"Do you know which charity is best? The grant: that one of you grants his brother the dirham, or the back of the beast, or the milk of the sheep, or the milk of the cow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عطیہ دینا یہ کہ تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو درہم دے دے یا سواری دے دے یا بکری کا دودھ دے دے یا گائے کا دودھ دے دے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ دینار یا گائے دے دے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4735

Majma al-Zawaid #4735

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ مَنَحَ مِنْحَةً وَرِقًا، أَوْ ذَهَبًا، أَوْ سِقَاءً لَبَنًا، أَوْ أَهْدَى رَفْرَفًا، فَهُوَ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Numan ibn Bashir (رضي الله عنه) said he heard the Messenger of Allah ﷺ promise the rank of freeing a neck for grants of silver, gold, milk for drink, or a large gift. > **"Whoever grants a grant of silver, or gold, or a skin of milk, or presents a large gift, it is like freeing a neck."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص عطیہ کے طور پر چاندی یا سونا یا پینے کے لئے پانی یا دودھ دے دے یا بڑا اونٹ تحفے کے طور پر دے دے تو یہ غلام آزاد کرنے کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4736

Majma al-Zawaid #4736

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: خَيْرُ الصَّدَقَةِ الْمَنِيحَةُ تَغْدُو بِأَجْرٍ وَتَرُوحُ بِأَجْرٍ، وَمَنِيحَةُ النَّاقَةِ كَعِتَاقَةِ الْأَحْمَرِ، وَمَنِيحَةُ الشَّاةِ كَعِتَاقَةِ الْأَسْوَدِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَبِيحَةَ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ كَلَامًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) said the best charity is the loaned milch animal, going out in the morning with reward and returning in the evening with reward, the grant of a she-camel being like freeing a noble red one and the grant of a sheep like freeing a black one.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ سب سے بہترین صدقہ عطیہ ہے ‘ جو صبح کے وقت بھی اجر کے ساتھ ہوتا ہے ‘ اور شام کے وقت بھی اجر کے ساتھ ہوتا ہے ‘ اور اونٹنی کو عطیہ کے طور پر دینا سفید فام شخص کو آزاد کرنے کی مانند ہے ‘ اور بکری کو عطیہ کے طور پر دینا سیاہ فام غلام کو آزاد کرنے کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صبیحہ ہے ‘ جس کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کے بارے میں کلام ذکر نہیں کیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4737

Majma al-Zawaid #4737

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَرْبَعُونَ خُلُقًا يُدْخِلُ اللَّهُ بِهَا الْجَنَّةَ ; أَرْفَعُهَا مِنْحَةُ شَاةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ صَالِحُ الْمُرِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ spoke of forty traits by which Allah admits to Paradise, the highest being the grant of a sheep. > **"Forty traits by which Allah admits to Paradise, the highest of them the grant of a sheep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ چار چیزیں ایسی ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ آدمی کو جنت میں داخل کرتا ہے ، جن میں سب سے بلند چیز بکری عطیہ کے طور پر دینا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4738

Majma al-Zawaid #4738

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «يَا أَبَا ذَرٍّ، اعْقِلْ مَا أَقُولُهُ لَكَ. لَعَنَاقٌ يَأْتِي رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أُحُدٍ ذَهَبًا يَتْرُكُهُ وَرَاءَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو الْأَسْوَدِ الْغِفَارِيُّ ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ told him to retain his words, that a young goat reaching a Muslim is better than Uhud in gold left behind. > **"O Abu Dharr, retain what I say to you. A young goat that reaches a man of the Muslims is better for him than Uhud in gold he leaves behind him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! جو بات میں تمہیں کہنے لگا ہوں ‘ اسے یاد رکھنا ‘ بکری کا وہ بچہ جو کسی مسلمان شخص کو مل جائے ‘ یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ احد پہاڑ سونے کا ہو جائے اور وہ اسے ملے ‘ اور پھر وہ اسے اپنے پیچھے چھوڑ جائے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابواسود رفاعی ہے ‘ جسے امام نسائی نے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔

4739

Majma al-Zawaid #4739

عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ بَنَى بُنْيَانًا مِنْ غَيْرِ ظُلْمٍ وَلَا اعْتِدَاءٍ، أَوْ غَرْسَ غَرْسًا فِي غَيْرِ ظُلْمٍ وَلَا اعْتِدَاءٍ، كَانَ لَهُ أَجْرٌ جَارٍ مَا انْتَفَعَ بِهِ مِنْ خَلْقِ الرَّحْمَنِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ زَبَّانُ وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Anas (رضي الله عنه) reported from the Messenger of Allah ﷺ that building or planting without injustice or aggression earns a running reward while the creation of the Most Merciful benefits thereby. > **"Whoever builds a building without injustice or aggression, or plants a planting without injustice or aggression, has a running reward while any of the creation of the Most Merciful Blessed and Exalted benefits thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص کوئی ظلم یا زیادتی کیے بغیر کوئی عمارت تعمیر کرتا ہے ‘ یا کوئی ظلم اور زیادتی کیے بغیر کوئی پودا لگاتا ہے ‘ تو اسے ایسا اجر ملتا ہے ‘ جو اس وقت تک جاری رہتا ہے ‘ جب تک رحمان کی مخلوق اس چیز سے نفع حاصل کرتی رہتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زبان ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ” ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4740

Majma al-Zawaid #4740

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا يَغْرِسُ مُسْلِمٌ غَرْسًا، وَلَا يَزْرَعُ زَرْعًا ; فَيَأْكُلُ مِنْهُ إِنْسَانٌ، وَلَا طَائِرٌ، وَلَا شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ أَجْرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْبِنَاءِ، وَالْغَرْسِ فِي الْبَيْعِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ جَابِرٍ فِي بَابِ السَّخَاءِ قَبْلَ هَذَا بِيَسِيرٍ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr ibn al-As (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ promised reward for every eater of what a Muslim plants or sows. > **"No Muslim plants a planting, nor sows a crop, then a man eats thereof, nor a bird, nor anything, but he has reward therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو مسلمان کوئی پودا لگاتا ہے ‘ یا کوئی کھیت لگاتا ہے ‘ اور پھر اس میں سے کوئی انسان یا پرندہ یا کوئی بھی اور چیز کچھ کھا لیتے ہیں تو اس شخص کو اجر ملے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : عمارت تعمیر کرنے یا پودا لگانے سے متعلق دیگر احادیث خرید و فروخت سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث سخاوت سے متعلق باب میں اس سے پہلے گزر چکی ہے ۔

4741

Majma al-Zawaid #4741

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "". قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" تُعِينُ صَانِعًا، أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ "". قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" احْبِسْ نَفْسَكَ عَنِ الشَّرِّ ; فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ تَصَدَّقُ بِهَا عَنْ نَفْسِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that a man asked the Prophet ﷺ which deed is best. He answered faith and jihad, then helping a worker or doing for one unable, then restraining oneself from evil as charity for oneself. > **"Which deed is best? Faith in Allah and striving in the way of Allah. Help a maker, or do for one unable. Restrain yourself from evil, for it is a charity you give for yourself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ پر ایمان رکھنا اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اس نے عرض کی : اگر میں اس کی استطاعت نہ رکھوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم کام کرنے والے کی مدد کرو یا کسی اپاہج کے لئے کچھ کر کے دے دو اس نے عرض کی : اگر میں اس کی بھی استطاعت نہ رکھوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اپنے شر کو روک کے رکھو یہ صدقہ ہو گا ‘ جو تم اپنی ذات کی طرف سے کرو گے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4742

Majma al-Zawaid #4742

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «حَدَّثَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَدِيثٍ، فَمَا فَرِحْنَا بِشَيْءٍ مُنْذُ عَرَفْنَا الْإِسْلَامَ أَشَدَّ مِنْ فَرَحِنَا بِهِ!! قَالَ: "" إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيُؤْجَرُ عَنْ إِمَاطَتِهِ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ، وَفِي هِدَايَتِهِ السَّبِيلَ، وَفِي تَعْبِيرِهِ عَنِ الْأَرْثَمِ، وَفِي مِنْحَةِ اللَّبَنِ، حَتَّى إِنَّهُ لَيُؤْجَرُ فِي السِّلْعَةِ تَكُونُ مَصْرُورَةً [فِي ثَوْبِهِ] فَيَلْمَسُهَا فَتُخْطِئُهَا يَدُهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَزَادَ: «وَإِنَّهُ لَيُؤْجَرُ فِي إِتْيَانِهِ أَهْلَهُ، حَتَّى إِنَّهُ لَيُؤْجَرُ فِي السِّلْعَةِ تَكُونُ فِي طَرَفِ ثَوْبِهِ فَيَلْمَسُهَا فَيَعْقِدُ مَكَانَهَا - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - فَيَخْفِقُ بِذَلِكَ فُؤَادُهُ، فَيَرُدُّهَا اللَّهُ عَلَيْهِ، وَيَكْتُبُ لَهُ أَجْرَهَا». وَفِي إِسْنَادِهِ الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) said the Prophet of Allah ﷺ narrated a hadith over which they rejoiced as over nothing since knowing Islam: the believer is rewarded for removing harm from the road, guiding the way, expressing for one impeded in speech, granting milk, even for goods bundled in his garment which he touches and misses with his hand. In al-Bazzar's addition he is rewarded for coming to his wife, and even for goods at the edge of his garment which he touches and ties its place, then his heart flutters for it, so Allah returns it to him and writes its reward for him. > **"The believer is rewarded for his removing harm from the road, and for his guiding the way, and for his expressing for the impeded in speech, and for the grant of milk, until he is rewarded for goods bundled in his garment which he touches and his hand misses them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی نے ایک حدیث ارشاد فرمائی ہمیں اسلام کی معرفت نصیب ہونے کے بعد کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس بات پر خوشی ہوئی آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن کو اس بات پر بھی اجر ملتا ہے کہ وہ راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دے یا راستے کے بارے میں کسی کی رہنمائی کر دے یا کسی ایسے شخص کا مفہوم واضح کر دے جو صحیح طرح سے کلام نہ کر سکتا ہو ‘ یا دودھ عطیہ کر دے ‘ یہاں تک کہ اسے اس سامان کے بارے میں بھی اجر ملتا ہے ‘ جو اس نے اپنے کپڑے کے اندر جیب میں رکھا ہوتا ہے پھر جب وہ اس کو چھوتا ہے ‘ تو اس کے ہاتھ کو وہ نہیں ملتا ( یعنی گم ہو چکا ہوتا ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :’’ آدمی کو اپنی بیوی کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کرنے پر بھی اجر ملتا ہے یہاں تک کہ اسے اس سامان کا بھی اجر ملتا ہے ‘ جو اس کے کپڑے کے ایک کنارے پر موجود ہو وہ اس کو چھوئے اس کی جگہ پر گرہ لگا دے یا اس کی مانند کوئی اور بات کہی ہے ( اور پھر وہ سامان نہ ملے ) تو اس کے دل کو اس کے حوالے سے جو پریشانی لاحق ہوتی ہے پھر اللہ تعالیٰ وہ سامان واپس بھی کر دے تو اس کے لئے اس ( پریشانی ) کا اجر نوٹ کرتا ہے “۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی منهال بن خلیفہ ہے اسے ابوحاتم نے امام ابوداؤد نے اور امام بزار نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ویسے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4743

Majma al-Zawaid #4743

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ تَبَسُّمَكَ فِي وَجْهِ أَخِيكَ يُكْتَبُ لَكَ بِهِ صَدَقَةٌ، وَإِنَّ إِفْرَاغَكَ مِنْ دَلْوِكَ فِي دَلْوِ أَخِيكَ يُكْتَبُ لَكَ بِهِ صَدَقَةٌ، وَإِمَاطَتُكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ يُكْتَبُ لَكَ بِهِ صَدَقَةٌ، إِنَّ أَمْرَكَ بِالْمَعْرُوفِ صَدَقَةٌ، وَنَهْيَكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادَكَ الضَّالَّ يُكْتَبُ لَكَ بِهِ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ أَبِي عَطَاءٍ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ counted smiling, pouring water, removing harm, enjoining good, forbidding evil, and guiding the lost as charity. > **"Your smiling in the face of your brother is written for you as charity, and your pouring from your bucket into your brother's bucket is written for you as charity, and your removing harm from the road is written for you as charity. Your commanding good is charity, your forbidding evil is charity, and your guiding the lost is written for you as charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارا اپنے بھائی کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملنا تمہارے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے تمہارا اپنے ڈول کے ذریعے اپنے بھائی کے ڈول میں پانی ڈال دینا تمہارے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے تمہارا راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا تمہارے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے تمہارا نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے تمہارا برائی سے منع کرنا صدقہ ہے تمہارا گمشدہ شخص کی رہنمائی کرنا تمہارے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن ابوعطاء ہے ‘ اور وہ مجہول ہے ۔

4744

Majma al-Zawaid #4744

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَاذَا يُنْجِي الْعَبْدَ مِنَ النَّارِ؟ قَالَ: "" الْإِيمَانُ بِاللَّهِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مَعَ الْإِيمَانِ عَمَلًا؟ قَالَ: "" يَرْضَخُ مِمَّا رَزَقَهُ اللَّهُ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ فَقِيرًا لَا يَجِدُ مَا يَرْضَخُ بِهِ؟ قَالَ: "" يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَيِيًّا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَأْمُرَ بِالْمَعْرُوفِ وَ [لَا] يَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: "" يَصْنَعُ لِأَخْرَقَ "". قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ أَخْرَقَ لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَصْنَعَ شَيْئًا؟ قَالَ: "" يُعِينُ مَغْلُوبًا "". قُلْتُ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ ضَعِيفًا لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يُعِينَ مَغْلُوبًا؟ قَالَ: "" مَا تُرِيدُ أَنْ تَتْرُكَ فِي صَاحِبِكَ مِنْ خَيْرٍ؟ يُمْسِكُ عَنْ أَذَى النَّاسِ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا فَعَلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: "" مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَفْعَلُ خَصْلَةً مِنْ هَؤُلَاءِ إِلَّا أَخَذَتْ بِيَدِهِ حَتَّى تُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طُرُقٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr (رضي الله عنه) reported that he asked what saves the servant from the Fire. The Prophet ﷺ answered faith, then giving from provision, then commanding good and forbidding evil, then working for one unable, then aiding the overpowered, then refraining from harming people. When asked whether doing that admits to Paradise, he promised that any of these traits takes the Muslim's hand until it admits him to Paradise. > **"What saves the servant from the Fire? Faith in Allah. He gives from what Allah has provided him. He commands good and forbids evil. He works for one unable. He aids the overpowered. He withholds from harming people. There is no Muslim who does one of these traits but it takes his hand until it admits him to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون کون سی چیز بندے کو جہنم سے نجات دلوا سکتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ پر ایمان رکھنا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایمان کے ساتھ عمل بھی ہونا چاہیے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے جو رزق عطا کیا ہے اس میں سے آدمی کوئی چیز دے دے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی شخص فقیر ہو ‘ اور اس کے پاس دینے کے لئے گنجائش نہ ہو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ نیکی کا حکم دے اور وہ برائی سے منع کرے راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ اس لائق نہ ہو کہ وہ نیکی کا حکم دے سکے یا برائی سے منع کر سکے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ کسی اپاہج کے لئے کوئی کام کر دے میں نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر وہ خود اپاہج ہو ‘ اور وہ کوئی کام نہ کر سکتا ہو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ مغلوب کی مدد کر دے میں نے عرض کی : اگر وہ خود کمزور ہو ‘ اور کسی مغلوب کی مدد نہ کر سکتا ہو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم کیا چاہتے ہو کہ تم اپنے ساتھی میں کوئی بھلائی نہ رہنے دو ؟ وہ لوگوں کو تکلیف پہنچانے سے بچا رہے میں نے عرض کی : اگر وہ ایسا کرے گا ‘ تو وہ جنت میں داخل ہو گا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو بھی مسلمان ان کاموں میں سے جو بھی کام کرے گا ، تو وہ کام اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کروا دے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس سے پہلے اس کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ۔

4745

Majma al-Zawaid #4745

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَتْ شَجَرَةٌ تُؤْذِي النَّاسَ، فَأَتَاهَا رَجُلٌ فَعَزَلَهَا عَنْ طَرِيقِ النَّاسِ، قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَتَقَلَّبُ فِي ظِلِّهَا فِي الْجَنَّةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَبُو هِلَالٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (رضي الله عنه) reported that a tree harmed people, so a man came and removed it from people's path. The Prophet of Allah ﷺ said he saw him in its shade in Paradise. > **"I saw him tossing about in its shade in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک درخت لوگوں کو اذیت پہنچایا کرتا تھا ایک شخص اس کے پاس آیا اس نے لوگوں کے راستے سے اسے ہٹا دیا تو اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے اس شخص کو دیکھا ہے کہ وہ جنت میں اس درخت کے سائے میں کروٹیں بدل رہا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ابوہلال ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ ویسے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4746

Majma al-Zawaid #4746

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ أَخْرَجَ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا يُؤْذِيهِمْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ حَسَنَةٍ، وَمَنْ كَتَبَ لَهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً أَدْخَلَهُ بِهَا الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. وَلَفْظُهُ فِي الْكَبِيرِ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَنْ أَخْرَجَ مِنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ شَيْئًا يُؤْذِيهِمْ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهِ مِائَةَ حَسَنَةٍ وَلَمْ يَزِدْ "". وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ that removing harm from the Muslims' path earns a good deed, and such a deed earns Paradise. In the wording of al-Kabir the reward is one hundred good deeds. > **"Whoever removes from the path of the Muslims something that harms them, Allah writes for him thereby a good deed, and whoever has a good deed written for him with Him, He admits him thereby to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص مسلمانوں کے راستے سے کوئی ایسی چیز ہٹا دیتا ہے ‘ جو ان کو تکلیف دیتی ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کے لئے نیکی نوٹ کرتا ہے ‘ اور جس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں نیکی نوٹ کر لے اس نیکی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ معجم کبیر میں اس کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص مسلمانوں کے راستے سے کوئی ایسی چیز نکال دیتا ہے ‘ جو انہیں اذیت دیتی ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس بندے کے لئے ایک سو نیکیاں نوٹ کرتا ہے ‘‘۔ اس کے لئے علاوہ مزید کوئی الفاظ نہیں ہیں ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4747

Majma al-Zawaid #4747

وَعَنْ أَبِي شَيْبَةَ الْمَهْرِيِّ قَالَ: «كَانَ مُعَاذٌ يَمْشِي وَرَجُلٌ مَعَهُ، فَرَفَعَ حَجَرًا مِنَ الطَّرِيقِ، فَقَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ رَفَعَ حَجَرًا مِنَ الطَّرِيقِ كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَسَنَةٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Shaybah al-Mahri said Muadh (رضي الله عنه) was walking with a man and lifted a stone from the road. When asked why, he cited what he heard from the Messenger of Allah ﷺ about lifting a stone and entering Paradise through a good deed. > **"Whoever lifts a stone from the road, a good deed is written for him, and whoever has a good deed enters Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوشیبہ مہری بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ایک شخص ان کے ساتھ تھا انہوں نے راستے سے ایک پتھر ہٹا دیا اس شخص نے دریافت کیا : یہ کس وجہ سے ہے ؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص راستے سے پتھر ہٹا دیتا ہے اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے ‘ اور جس شخص کی ایک نیکی ہو وہ جنت میں داخل ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4748

Majma al-Zawaid #4748

وَعَنِ الْمُسْتَنِيرِ بْنِ أَخْضَرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «كُنْتُ مَعَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي بَعْضِ الطُّرُقَاتِ، فَمَرَرْنَا بِأَذًى فَأَمَاطَهُ أَوْ نَحَّاهُ عَنِ الطَّرِيقِ، فَرَأَيْتُ مِثْلَهُ فَأَخَذْتُهُ فَنَحَّيْتُهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قُلْتُ: يَا عَمِّ، رَأَيْتُكَ صَنَعْتَ شَيْئًا فَصَنَعْتُ مِثْلَهُ. فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ أَمَاطَ أَذًى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ كُتِبَ لَهُ حَسَنَةٌ، وَمَنْ تُقِبِّلَتْ مِنْهُ حَسَنَةٌ دَخَلَ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَقَالَ الْمِزِّيُّ: صَوَابُهُ عَنِ الْمُسْتَنِيرِ بْنِ أَخْضَرَ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ جَدِّهِ، كَمَا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي كِتَابِ الْأَدَبِ، فَإِنْ كَانَ كَمَا قَالَ الْمِزِّيُّ فَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ: عَنْ أَبِيهِ أَخْضَرَ ; فَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ أَخْضَرَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Mustanir ibn Akhdar ibn Muawiyah reported from his father that he was with Maqil ibn Yasar (رضي الله عنه) on a road. When Maqil removed harm from the road, he did likewise with another, so Maqil took his hand and asked his motive. When he said he had imitated him, Maqil cited the Messenger of Allah ﷺ on removing harm and accepted deeds. > **"Whoever removes harm from the path of the Muslims, a good deed is written for him, and whoever has a good deed accepted from him enters Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مستنیر بن اخضر بن معاویہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی راستے سے گزر رہا تھا ہم ایک تکلیف دہ چیز کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اسے ہٹا دیا اور راستے سے اسے ایک طرف کر دیا پھر میں نے ایک اور تکلیف دہ چیز دیکھی تو میں نے اسے پکڑا اور اسے ایک طرف کر دیا انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اے میرے چچا جان ! میں نے آپ کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے بھی اس کی مانند کر لیا تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹاتا ہے اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کی جاتی ہے ‘ اور جس شخص کی ایک نیکی قبول ہو جائے وہ جنت میں داخل ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام مزی فرماتے ہیں درست یہ ہے کہ یہ مستنیر بن اخضر بن معاویہ بن قرہ کے حوالے سے ان کے دادا سے منقول ہے جیسا کہ امام بخاری نے اسے کتاب الادب میں روایت کیا ہے اگر ویسا ہی ہو جس طرح امام مزی نے بیان کیا ہے ‘ تو پھر اگر اللہ نے چاہا تو اس کی سند حسن ہو گی ‘ اور اگر اس کی سند میں یہ مذکور ہو تو اس نے اپنے والد اخضر کے حوالے سے اسے ذکر کیا ہے ‘ تو پھر میں نے کسی کو اخضر کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

4749

Majma al-Zawaid #4749

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Yazid al-Khatmi (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ gave a comprehensive rule of kindness. > **"Every good is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نیکی صدقہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

4750

Majma al-Zawaid #4750

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَمِنَ الْمَعْرُوفِ أَنْ تَلْقَى أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ، وَأَنْ تُفْرِغَ مِنْ دَلْوِكَ فِي إِنَائِهِ». إِلَى هَهُنَا انْتَهَى حَدِيثُ الْإِمَامِ أَحْمَدَ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ gave the same comprehensive rule, adding cheerful meeting and pouring water. Here ends the narration of Imam Ahmad. > **"Every good is charity, and of good is that you meet your brother with a cheerful face, and that you pour from your bucket into his vessel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نیکی صدقہ ہے ‘ اور نیکی میں یہ بات بھی شامل ہے کہ تم خندہ پیشانی کے ساتھ اپنے بھائی سے ملو اور اپنے ڈول میں سے اس کے برتن میں پانی ڈال دو ‘‘۔ امام احمد کی نقل کردہ حدیث یہاں ختم ہو جاتی ہے ۔

4751

Majma al-Zawaid #4751

وَلِجَابِرٍ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كُلُّ مَعْرُوفٍ تَصْنَعُهُ إِلَى غَنِيٍّ، أَوْ فَقِيرٍ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported with Abu Yala that the Messenger of Allah ﷺ declared every good done to rich or poor as charity on the Day of Resurrection. > **"Every good you do to a rich or a poor one is for you charity on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابویعلیٰ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نیکی جو تم کسی خوشحال یا غریب شخص کے ساتھ کرتے ہو ‘ تو وہ قیامت کے دن تمہارے لئے صدقہ شمار ہو گی ‘‘۔

4752

Majma al-Zawaid #4752

وَلِجَابِرٍ عِنْدَ أَبِي يَعْلَى فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى أَيْضًا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَمَا أَنْفَقَ الرَّجُلُ عَلَى أَهْلِهِ وَمَالِهِ كُتِبَتْ لَهُ صَدَقَةٌ، وَمَا وَقَى بِهِ عِرْضَهُ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ "". قَالَ: "" وَكُلُّ نَفَقَةِ مُؤْمِنٍ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ فَعَلَى اللَّهِ خَلْفُهُ ضَامِنًا ; إِلَّا نَفَقَةً فِي بُنْيَانٍ». قَالَ مِسْوَرٌ: قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: فَقُلْنَا لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: مَا أَرَادَ بِقَوْلِهِ: "" وَمَا وَقَى بِهِ الْمَرْءُ بِهِ عَرْضَهُ ""؟. قَالَ: يُعْطِي الشَّاعِرَ وَذَا اللِّسَانِ. قَالَ جَابِرٌ: كَأَنَّهُ يَقُولُ الَّذِي يُتَّقَى لِسَانُهُ. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ بِطُولِهِ أَبُو يَعْلَى، وَاخْتَصَرَهُ الْإِمَامُ أَحْمَدُ كَمَا تَقَدَّمَ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ الْمُنْكَدِرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ; وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported in another wording with Abu Yala from the Messenger of Allah ﷺ that every good is charity, spending on family and wealth is charity, guarding honour thereby is charity, and every spending of the believer not in disobedience is replaced under Allah's guarantee except spending in building. Miswar said Muhammad ibn al-Munkadir told that they asked Jabir what guarding honour means, and he said giving to the poet and the foul-tongued, meaning one whose tongue is feared. > **"Every good is charity. What a man spends upon his family and his wealth is written for him as charity, and what he guards thereby his honour is for him charity. And every spending of a believer not in disobedience, upon Allah is its replacement as guarantor, except spending in building."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابویعلیٰ نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک اور روایت نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نیکی صدقہ ہے آدمی اپنے اہل خانہ پر اور اپنے مال ( یعنی غلاموں وغیرہ ) پر جو خرچ کرتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے آدمی جس کے ذریعے اپنی عزت کو بچاتا ہے وہ اس کے لئے صدقہ کے طور پر نوٹ کیا جاتا ہے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشا فرمایا ہے : ’’ مومن کا ہر وہ خرچ جو معصیت میں نہ ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس کی جگہ اسے مزید عطا کرے البتہ اس خرچ کا معاملہ مختلف ہے ، جو تعمیر میں استعمال ہوتا ہے ‘‘۔ مسور بیان کرتے ہیں : محمد بن منکدر نے کہا ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان سے کیا مراد ہے ؟ ” جس کے ذریعے آدمی اپنی عزت کو محفوظ رکھتا ہے ‘‘۔ انہوں نے جواب دیا : یہ کہ آدمی کسی شاعر یا زبان دراز شخص کو کچھ دے دے حضرت جابر رضی اللہ عنہ یہ فرماتے ہیں گویا نبی اکرم ﷺ یہ کہنا چاہ رہے تھے کہ آدمی اس کی بدزبانی سے بچ کے رہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ طویل روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام احمد نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے جیسا کہ پہلے گزر چکی ہے ۔ امام احمد کی سند میں ایک راوی منکدر بن محمد بن منکدر ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی مسور بن صلت ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4753

Majma al-Zawaid #4753

وَعَنْ نُبَيْطِ بْنِ شَرِيطٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Nubayt ibn Sharit (رضي الله عنه) said he heard the Messenger of Allah ﷺ give the comprehensive rule of kindness. > **"Every good is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نبیط بن شریط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ ہر نیکی صدقہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4754

Majma al-Zawaid #4754

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ ; غَنِيًّا كَانَ أَوْ فَقِيرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى الدَّقِيقِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ the same comprehensive rule, whether to rich or poor. > **"Every good is charity, whether to a rich or a poor one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر نیکی صدقہ ہے خواہ وہ خوشحال شخص کے ساتھ کی جائے یا غریب شخص کے ساتھ کی جائے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ دقیقی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4755

Majma al-Zawaid #4755

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Masud al-Ansari (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ gave the comprehensive rule of kindness. > **"Every good is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نیکی صدقہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4756

Majma al-Zawaid #4756

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَثَابَتٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ عَدِيٌّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Adi ibn Thabit reported from his father from his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ gave the comprehensive rule of kindness. > **"Every good is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عدی بن ثابت نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نیکی صدقہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ثابت نامی راوی کے حوالے سے اس کے بیٹے عدی کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے اس کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4757

Majma al-Zawaid #4757

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik al-Ashjai reported from his father that the Prophet ﷺ gave the comprehensive rule of kindness. > **"Every good is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومالک اشجعی اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نیکی صدقہ ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4758

Majma al-Zawaid #4758

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «أَرْبَعَةٌ تَجْرِي عَلَيْهِمْ أُجُورُهُمْ بَعْدَ الْمَوْتِ: رَجُلٌ مُرَابِطٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَمَنْ عَمِلَ عَمَلًا أُجْرِيَ عَلَيْهِ مِثْلُ مَا عَمِلَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَجْرُهَا لَهُ مَا جَرَتْ، وَرَجُلٌ تَرَكَ وَلَدًا صَالِحًا [فَهُوَ] يَدْعُو لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لَهُ طَرِيقٌ فِيمَنْ عَلِمَ عِلْمًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah al-Bahili (رضي الله عنه) reported from the Messenger of Allah ﷺ four whose rewards run after death: the frontier guard, the doer whose like is continued, the giver whose charity flows while it flows, and the leaver of a righteous child supplicating for him. > **"Four upon whom their rewards run after death: a man stationed in the way of Allah, and one who did a deed whose like is continued upon him, and a man who gave a charity whose reward is for him while it flows, and a man who left a righteous child supplicating for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ چار قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کے اجر مرنے کے بعد بھی جاری رہتے ہیں وہ شخص جو اللہ کی راہ میں پہرا دے رہا ہو وہ شخص جو کوئی ایسا عمل کرے کہ اس کو اس حوالے سے اجر دیا جائے کہ جو اس کی مانند عمل کرتا ہے وہ شخص جو کوئی چیز صدقہ دے تو اس کا عمل اس وقت تک جاری رہتا ہے ‘ جب تک وہ صدقہ چلتا رہتا ہے وہ شخص جو نیک اولاد چھوڑ کر جائے اور وہ اس کے لئے دعا کرے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس سے پہلے اس کی ایک سند اس باب میں گزر چکی ہے ‘ جو علم حاصل کرنے کے بیان میں ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4759

Majma al-Zawaid #4759

عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ، وَاللَّهُ يُحِبُّ إِغَاثَةَ اللَّهْفَانِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ زِيَادٌ النُّمَيْرِيُّ ; وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ - وَقَالَ: يُخْطِئُ - وَابْنُ عَدِيٍّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ likened the guide to good to its doer, and described Allah's love for aiding the distressed. > **"The guide to good is like its doer, and Allah loves the aiding of the distressed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بھلائی کے بارے میں رہنمائی کرنے والا اسے کرنے والے کی مانند ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ محتاج کی مدد کرنے کو پسند کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیاد نمیری ہے ‘ جسے ابن حبان نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کرتا ہے ۔ ابن عدی نے بھی اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اسی طرح نقل کی ہے ۔

4760

Majma al-Zawaid #4760

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الدَّالُّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنْ سَهْلٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ. قُلْتُ: وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ هَذَا الْبَابِ فِي الْعِلْمِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad al-Saidi (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ likened the guide to good to its doer. > **"The guide to good is like its doer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بھلائی کے بارے میں رہنمائی کرنے والا اسے کرنے والے کی مانند ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : سہل کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ، اس باب سے متعلق دیگر احادیث علم سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

4761

Majma al-Zawaid #4761

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَصَدَّقِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ ; ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade a wife giving charity from her husband's house without his permission. > **"A woman should not give charity from her husband's house except with his permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ نہ کرے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ‘ جسے امام احمد اور ایک جماعت نے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ ان افراد میں سے ایک ہے ‘ جن کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

4762

Majma al-Zawaid #4762

وَعَنْ أُمِّ سَعِدٍ قَالَتْ: «دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، الْمَرْأَةُ تُعْطِي الشَّيْءَ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا صَدَقَةً، فَهُوَ لَهَا أَوْ لِزَوْجِهَا؟ قَالَتْ: "" هُوَ بَيْنَهُمَا "" حَدَّثَنِي بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». قُلْتُ: لِعَائِشَةَ فِي الصَّحِيحِ: إِذَا أَنْفَقَتِ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ فَلَهُ أَجْرُهُ وَلَهَا مِثْلُ ذَلِكَ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Umm Sad said she entered upon Aishah (رضي الله عنها) and asked whether a wife giving from her husband's house earns reward for her or for him. Aishah replied it is between them, as told by the Messenger of Allah ﷺ, in agreement with the Sahih wording that when she spends without corrupting, he has his reward and she has the like thereof. > **"It is between them. When a woman spends from her husband's house without corrupting, he has his reward and she has the like thereof."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام سعد بیان کرتی ہیں : میں سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی میں نے کہا : اے ام المومنین عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی چیز صدقہ کے طور پر دے سکتی ہے کیا اس کا ثواب عورت کو ملے گا یا اس کے شوہر کو ملے گا ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : ان دونوں کو ملے گا یہ بات نبی اکرم ﷺ نے مجھے بیان کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں کہتا ہوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے : ’’ جب عورت اپنے شوہر کے گھر میں سے کوئی خرابی پیدا کیے بغیر صدقہ کرے تو مرد کو اس کا اجر ملے گا ‘ اور عورت کو اس کی مانند اجر ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4763

Majma al-Zawaid #4763

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قَادَ أَعْمَى أَرْبَعِينَ ذِرَاعًا كَانَ لَهُ كَعِتْقِ رَقَبَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الصَّفَّارُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ promised the rank of freeing a neck for leading a blind man forty cubits. > **"Whoever leads a blind man forty cubits has like the freeing of a neck."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی نابینا کو چالیس ’’ ذراع ‘‘ ( یعنی دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤ جتنی مقدار ) تک ساتھ لے کے چلتا ہے ‘ تو اسے غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ صفار ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔