وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيِّ قَالَ: «أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَارَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءَ فَرَأَى حِصْنَةً فِي الْأَمْوَالِ، وَالْأَرَاضِي، وَلَمْ يَكُنْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُمْ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ "". فَقَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ. قَالَ: "" لَوْ أَنَّكُمْ إِذَا هَبَطْتُمْ لِعِيدِكُمْ - يَعْنِي الْجُمُعَةَ - مَكَثْتُمْ حَتَّى تَسْمَعُوا مِنِّي قَوْلِي "". قَالُوا: نَعَمْ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ. فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ حَضَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُمُعَةَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَتَنَفَّلَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ مَقَامِهِ، وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّاهُمَا فِي بَيْتِهِ، حَتَّى كَانَ يَوْمَئِذٍ فَتَنَفَّلَهُمَا فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ اسْتَقْبَلَهُمْ بِوَجْهِهِ فَتَبِعَتِ الْأَنْصَارُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ "". فَقَالُوا: لَبَّيْكَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ. قَالَ: "" كُنْتُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تَعْبُدُونَ اللَّهَ تَحْمِلُونَ الْكَلَّ فِي أَمْوَالِكُمْ، وَتَفْعَلُونَ الْمَعْرُوفَ، وَتَصِلُونَ حَتَّى إِذَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ بِالْإِسْلَامِ وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَنْتُمْ تُحْصِنُونَ. فِيمَا يَأْكُلُ ابْنُ آدَمَ أَجْرٌ، وَفِيمَا يَأْكُلُ الطَّيْرُ أَجْرٌ، وَفِيمَا يَأْكُلُ السَّبُعُ أَجْرٌ "". فَانْصَرَفَ الْقَوْمُ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ إِلَّا هَدَمَ مِنْ مَالِهِ ثُلْمَةً أَوْ ثَلَاثًا - يَعْنِي: هَدَمُوا فِي حِيطَانِ بَسَاتِينِهِمْ لِيَدْخُلَ الْقَوْمُ فَيَأْكُلُونَ مِنَ الثَّمَرَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ: "" وَكَانَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيَشْهَدُ الْجِنَازَةَ، وَيُدْعَى فَيُجِيبُ "". وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنْ جَابِرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قُلْتُ: وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
EnglishUnverified translation
Jabir ibn Abdillah al-Sulami (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ came to the quarter of Banu Amr ibn Awf on Wednesday and saw fortification in properties he had not seen before. He asked the Ansar to remain after Friday until they heard his speech. On Friday they attended, he prayed then offered two voluntary rakahs at his place in the mosque, contrary to his habit of praying them at home, then faced them and reminded them that in ignorance they bore burdens, did good, and joined ties, but after Allah favoured them with Islam and Muhammad ﷺ they began to fortify. He then told them of reward in eating. So they returned and every one of them broke one or three breaches in his property, meaning they demolished walls of gardens so people could enter and eat of the fruit. > **"O company of Ansar, if when you come down for your festival, meaning Friday, you remained until you heard my speech. You were in ignorance not worshipping Allah, bearing the burdened one in your wealth, doing good, and joining ties, until Allah favoured you with Islam and with Muhammad. Now you fortify. In what the son of Adam eats is reward, and in what the bird eats is reward, and in what the beast eats is reward."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت جابر بن عبدالله سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بنو عمرو بن اوس کے محلے میں بدھ کے دن تشریف لائے آپ نے لوگوں کی زمین اور اموال میں ایک بڑا گھر دیکھا جو آپ نے اس سے پہلے ملاحظہ نہیں فرمایا تھا آپ نے ان لوگوں سے فرمایا : اے انصار کے گروہ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اپنے عید کے موقع پر آؤ اور ٹھہرے رہو یہاں تک کہ میری گفتگو سن لو تو یہ مناسب ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ جمعہ کے دن ایسا کرنا لوگوں نے عرض کی : ٹھیک ہے ‘ یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں جب جمعہ کا دن آیا تو وہ لوگ آپ کی اقتداء میں شریک ہوئے جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے اپنی جگہ پر ہی دو رکعات نفل ادا کیے ۔ اس سے پہلے آپ جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد گھر تشریف لے جایا کرتے تھے ‘ اور اپنے گھر میں وہ دو رکعات ادا کیا کرتے تھے ‘ لیکن اس دن آپ نے وہ دو نفل مسجد میں ادا کر لیے جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے اپنا رخ ان لوگوں کی طرف کیا انصار مسجد میں آ گئے تھے وہ نبی اکرم ﷺ کی مسجد میں آ گئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے انصار کے گروہ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : زمانہ جاہلیت میں تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے تھے ‘ لیکن اپنے اموال کے ذریعے مصیبت زدہ کا زیادہ بوجھ اٹھاتے تھے ‘ اور بھلائی کا کام کیا کرتے تھے اور صلہ رحمی کیا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور حضرت محمد ﷺ کے ذریعے تم پر احسان کیا ، تو اب تم نے اونچے گھر قلعے بنانے شروع کر دیے ہیں انسان جو چیز کھاتا ہے اس کا اجر ملتا ہے پرندہ جو چیز کھاتا ہے درندہ جو چیز کھاتا ہے اس کا اجر ملتا ہے وہ لوگ واپس گئے تو ان میں سے ہر شخص نے اپنی زمین پر موجود عمارت کو گرا دیا راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے باغ کے اردگرد جو دیواریں بنائی ہوئی تھیں انہیں منہدم کر دیا تاکہ لوگ اندر جا کر وہاں کا پھل کھا سکیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ وہ بیمار کی عیادت کرتے تھے جنازے میں شریک ہوتے تھے بلایا جاتا تھا ‘ تو چلے جایا کرتے تھے ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس روایت کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔