Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 8 · Chapter 10

Book of Zakah

Hadith 4684–4723

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4684

Majma al-Zawaid #4684

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا: «إِنِّي وَاللَّهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا كُلَّهُ ثُمَّ أُوَرِّثُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ would tell them he would dislike holding Uhud all as gold and then bequeathing it. > **"By Allah, it would not please me that Uhud were all mine as gold and then I bequeath it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہم سے یہ فرماتے تھے : اللہ کی قسم ! مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے لئے اُحد پہاڑ سارے کا سارا سونے کا ہو جائے اور پھر میں اسے وراثت میں چھوڑ جاؤں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل ہے ‘ اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

4685

Majma al-Zawaid #4685

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَةُ دَنَانِيرَ وَضَعَهَا عِنْدَ عَائِشَةَ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ مَرَضِهِ قَالَ: "" يَا عَائِشَةُ، ابْعَثِي بِالذَّهَبِ إِلَى عَلِيٍّ "". ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، وَشَغَلَ عَائِشَةَ مَا بِهِ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا ; كُلُّ ذَلِكَ يُغْمَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَشْغَلُ عَائِشَةَ مَا بِهِ، فَبَعَثَ [بِهِ] إِلَى عَلِيٍّ، فَتَصَدَّقَ بِهَا وَأَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَدِيدِ الْمَوْتِ لَيْلَةَ الِاثْنَيْنِ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ بِمِصْبَاحٍ لَهَا إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا فَقَالَتْ: أَهْدِي لَنَا فِي مِصْبَاحِنَا مِنْ عُكَّتِكِ السَّمْنَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْسَى فِي جَدِيدِ الْمَوْتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الزُّهْدِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ had seven dinars left with Aishah. In his illness he repeatedly told her to send the gold to Ali, falling unconscious each time while she was occupied with his condition, until it was sent to Ali, who gave it in charity. On Monday night the Prophet ﷺ lay in the throes of death, and Aishah sent her lamp to one of his wives asking for some of her clarified butter for their lamp. > **"O Aishah, send the gold to Ali."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس سات دینار تھے جنہیں آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس رکھوایا ہوا تھا جب آپ بیمار ہو گئے تو آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! وہ سونا علی کے پاس بھجوا دو پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کی بیماری کی وجہ سے مشغول رہیں یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے چند مرتبہ یہ کہا ہر مرتبہ نبی اکرم ﷺ پر بے ہوشی طاری ہو جاتی تھی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مصروف رہتی تھیں آخر کار نبی اکرم ﷺ نے ان دیناروں کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں صدقہ کر دیا تو پیر کی رات نبی اکرم ﷺ پر طبیعت کی زیادہ خرابی کا غلبہ ہوا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا چراغ نبی اکرم ﷺ کی ایک زوجہ محترمہ کے ہاں بھجوایا اور یہ کہا کہ آپ ہمارے چراغ میں اپنا کچھ تیل ڈال دیں کیونکہ نبی اکرم ﷺ کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ‘ اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4686

Majma al-Zawaid #4686

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ حِذْيَمٍ قَالَ: «بَلَغَ عُمَرُ أَنَّهُ لَا يَدَّخِرُ فِي بَيْتِهِ مِنَ الْحَاجَةِ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِعَشَرَةِ آلَافٍ، فَأَخَذَهَا فَجَعَلَ يُفَرِّقُهَا صُرَرًا فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: أَيْنَ تَذْهَبُ بِهَذِهِ؟ قَالَ: أَذْهَبُ بِهَا إِلَى مَنْ يُرَجِّحُ لَنَا فِيهَا، فَمَا أُبْقِي لَنَا إِلَّا شَيْئًا يَسِيرًا. فَلَمَّا نَفَدَ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُمْ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: اذْهَبْ إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِكَ الَّذِينَ أَعْطَيْتَهُمْ يُرَجِّحُونَ لَكَ فَخُذْ مِنْ أَرْبَاحِهِمْ. وَجَعَلَ يُدَافِعُهَا وَيُمَاطِلُهَا حَتَّى طَالَ ذَلِكَ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَوْ أَنَّ حَوْرَاءَ أَطْلَعَتْ أُصْبُعًا مِنْ أَصَابِعِهَا لَوَجَدَ رِيحَهَا كُلُّ ذِي رُوحٍ، فَأَنَا أَدَعُهُنَّ لَكُنَّ، لَا وَاللَّهِ لَأَنْتُنَّ أَحَقُّ أَنْ أَدَعَكُنَّ لَهُنَّ مِنْهُنَّ لَكُنَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَلَهُ طُرُقٌ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ.

EnglishUnverified translation

Said ibn Amir ibn Hidhyam reported that Umar learned he stores nothing of need in his house, so sent him ten thousand. He took it and divided it into purses. His wife asked where he takes it, he answered to those who will profit them most therein, leaving only a little. When it was exhausted she told him to go to those friends and take from their profits. He put her off at length, then cited what he heard from the Messenger of Allah ﷺ about the Houri's finger scented by every soul, and that their wives are more deserving he leave them for the Houris than the reverse. > **"If a Houri displayed a finger of her fingers, every living soul would find its scent. Shall I leave them for you? Nay, by Allah, you are more deserving that I leave you for them than they for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عامر بن حذیم بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ وہ صاحب اپنے گھر میں ضرورت کی کوئی چیز ذخیرہ نہیں کرتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان صاحب کو دس ہزار ( درہم یا دینار ) بھجوائے انہوں نے وہ لے لیے اور انہیں مختلف تھیلوں میں ڈالنا شروع کیا ان کی اہلیہ نے ان سے دریافت کیا : آپ یہ کہاں لے کے جائیں گے انہوں نے جواب دیا : میں انہیں لے کر ان افراد کے پاس جاؤں گا ‘ جو ان کے بارے میں ہمارے لئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوں گے میں ان میں سے صرف تھوڑی سی چیز رہنے دوں گا جب وہ چیز ختم ہو گئی جو ان لوگوں کے پاس موجود تھی تو ان کی اہلیہ نے ان سے کہا اب آپ اپنے کچھ دوستوں کے پاس جائیں جنہیں آپ نے وہ چیزیں دی تھیں جو آپ کو فائدہ دلایا کرتے تھے تو اس فائدے میں سے آپ حاصل کر لیں وہ اس خاتون کے ساتھ مسلسل بحث مباحثہ کرتے رہے یہاں تک کہ یہ بات طویل ہو گئی تو انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اگر ایک حور اپنی ایک انگلی کو ظاہر کر دے تو اس کی خوشبو کو ہر ذی روح محسوس کرے گا ، تو کیا میں تمہارے لئے ان حوروں کو چھوڑ دوں ؟ اللہ کی قسم ! تم خواتین اس بات کی زیادہ حق دار ہو کہ میں اُن حوروں کی خاطر تمہیں چھوڑ دوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں جنت کی صفت سے متعلق باب میں اس کے مختلف طرق آئیں گے ۔

4687

Majma al-Zawaid #4687

وَعَنْ مَالِكِ الدَّارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ، فَجَعَلَهَا فِي صُرَّةٍ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ: اذْهَبْ بِهَا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ، ثُمَّ تَلِّهِ فِي الْبَيْتِ سَاعَةً حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ! فَذَهَبَ بِهَا الْغُلَامُ إِلَيْهِ فَقَالَ: يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ اجْعَلْ هَذِهِ فِي بَعْضِ حَاجَاتِكَ. فَقَالَ: وَصَلَهُ اللَّهُ وَرَحِمَهُ. ثُمَّ قَالَ: تَعَالَيْ يَا جَارِيَةُ، اذْهَبِي بِهَذِهِ السَّبْعَةِ إِلَى فُلَانٍ، وَبِهَذِهِ الْخَمْسَةِ إِلَى فُلَانٍ، وَبِهَذِهِ الْخَمْسَةِ إِلَى فُلَانٍ. حَتَّى أَنْفَدَهَا. فَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أَعَدَّ مِثْلَهَا لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَقَالَ: اذْهَبْ بِهَا إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَتَلِّهِ فِي الْبَيْتِ حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ؟! فَذَهَبَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ: يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ: اجْعَلْ هَذِهِ فِي بَعْضِ حَاجَاتِكَ. فَقَالَ: رَحِمَهُ اللَّهُ وَوَصَلَهُ، تَعَالَيْ يَا جَارِيَةُ، اذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا، اذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا، فَاطَّلَعَتِ امْرَأَةُ مُعَاذٍ وَقَالَتْ: وَنَحْنُ وَاللَّهِ مَسَاكِينُ فَأَعْطِنَا. فَلَمْ يَبْقَ فِي الْخِرْقَةِ إِلَّا دِينَارَانِ فَدَحَا بِهِمَا إِلَيْهَا. وَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ: إِنَّهُمْ إِخْوَةٌ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَمَالِكُ الدَّارِ لَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Malik al-Dar reported that Umar ibn al-Khattab (رضي الله عنه) placed four hundred dinars in a purse and told a boy to take them to Abu Ubaydah ibn al-Jarrah and linger in the house to see what he does. The boy conveyed that the Commander of the Faithful bids him use them for his needs. Abu Ubaydah invoked joining and mercy upon him, called his girl, and ordered seven to one man, five to another, and five to another, until he exhausted it. The boy returned and told Umar, who had prepared the like for Muadh ibn Jabal (رضي الله عنه) and sent him likewise to observe. Muadh invoked mercy and joining, called his girl, and ordered sums to various houses, until his wife looked out and swore they too are poor, so with only two dinars left in the cloth he thrust them to her. The boy returned and told Umar, who rejoiced at that and said they are brothers one of another.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک دار بیان کرتے ہیں ؛ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چار سو دینار لئے انہیں ایک تھیلی میں ڈالا اور غلام سے کہا تم انہیں لے کے ابوعبیدہ بن جراح کے پاس جاؤ اور پھر اس کے گھر میں کچھ دیر تک ٹھہرے رہنا اور اس بات کا جائزہ لینا کہ وہ اس کا کیا کرتا ہے وہ غلام یہ رقم لے کے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور یہ کہا امیر المومنین نے یہ کہا ہے : انہیں اپنی ضروریات میں خرچ کریں تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ انہیں ملا کے رکھے اور ان پر رحم کرے پھر انہوں نے فرمایا : اے لڑکی ادھر آؤ یہ سات دینار فلاں شخص کو دے آؤ یہ پانچ فلاں کو دے آؤ یہاں تک کہ انہوں نے وہ ساری رقم خرچ کر دی غلام حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا انہیں اس صورت حال کے بارے میں بتایا جو اس نے پائی تھی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اتنی ہی رقم حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لئے تیار کروائی پھر فرمایا اسے لے کر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور اس کے پاس ٹھہرے رہنا اور اس بات کا جائزہ لینا کہ وہ کیا کرتا ہے وہ غلام اس رقم کو لے کے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف گیا اور یہ کہا کہ حضرت امیرالمومنین نے یہ آپ کی طرف بھیجا ہے ‘ اور یہ کہا ہے کہ اسے اپنی ضروریات میں استعمال کریں تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ تعالی ان پر رحم کرے اور انہیں ملا کے رکھے اے لڑکی ادھر آؤ تم فلاں کے گھر میں اتی رقم فلاں کے پاس لے جاؤ اور فلاں کے گھر میں اتنی رقم لے جاؤ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے جھانک کر یہ کہا اللہ کی قسم ہم بھی غریب ہیں آپ ہمیں بھی کچھ دے دیں اس وقت تھیلی میں صرف دو دینار باقی بچے تھے تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے وہ دو دینار اس خاتون کو دے دیے وہ غلام حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس بات پر خوش ہوئے اور فرمایا : یہ لوگ بھائی بھائی ہیں جو ایک دوسرے سے متعلق ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ مالک دار نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4688

Majma al-Zawaid #4688

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ حَيَّانَ الطَّائِيِّ قَالَ: كَانَ رَافِعُ بْنُ عُمَيْرَةَ السُّنَيْسِيُّ يُغَذِّي أَهْلَ ثَلَاثَةِ مَسَاجِدَ وَيَسْقِيهِمُ الْقَرْطَمَةَ، [يَعْنِي الْحَيْسَ]، وَلَيْسَ لَهُ إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ هُوَ لِلْمَبِيتِ، وَهُوَ لِلْجُمُعَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَعَمْرُو بْنُ حَيَّانَ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Hayyan al-Tai reported that Rafi ibn Umayrah al-Sunaysi (رضي الله عنه) fed the people of three mosques and gave them qartamah, meaning hays to drink, while owning only a single shirt worn both at night and for Friday.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن حیان طائی بیان کرتے ہیں : رافع بن عمیرہ سنیسی تین مساجد کے اہل افراد کو کھانا فراہم کرتے تھے ‘ اور انہیں قرطمہ یعنی حیس پلایا کرتے تھے حالانکہ ان کے اپنے پاس ایک قمیص ہوتی تھی وہی رات بسر کرنے کے لئے ہوتی ہے ‘ اور جمعہ کے لئے ہوتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عمرو بن حیان نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4689

Majma al-Zawaid #4689

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ فَيَتْرُكُ أَصْفَرَ وَلَا أَبْيَضَ إِلَّا كُوِيَ بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (رضي الله عنه) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ warn that whoever dies leaving yellow or white will be branded therewith. > **"There is no servant who dies the day he dies leaving yellow or white but he is branded therewith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو شخص جس بھی دن مرتا ہے ‘ اور وہ زرد یا سفید چیز ( سونا یا چاندی ) چھوڑ کر جاتا ہے ‘ تو اس کے ذریعے اسے داغا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

4690

Majma al-Zawaid #4690

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ أَوْكَأَ عَلَى ذَهَبٍ، أَوْ فِضَّةٍ وَلَمْ يُنْفِقْهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ جَمْرًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُكْوَى بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَلَهُ طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr (رضي الله عنه) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ warn that whoever ties over gold or silver without spending it in Allah's way finds it as fire branding him on the Resurrection Day. > **"Whoever ties over gold or silver and does not spend it in the way of Allah, it shall be fire on the Day of Resurrection with which he is branded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص سونے یا چاندی کا منہ باندھ دیتا ہے ( یعنی انہیں سنبھال کے رکھتا ہے ) اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتا ہے ‘ تو قیامت کے دن وہ انگارے کی شکل میں ہوں گے جس کے ذریعے اسے داغا جائے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام احمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس کی ایک اور سند بھی ہے ، جس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4691

Majma al-Zawaid #4691

وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَا بِلَالُ، مِتْ فَقِيرًا، وَلَا تَمُتْ غَنِيًّا "". قُلْتُ: وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ؟ قَالَ: "" مَا رُزِقْتَ فَلَا تُخْبِئْ، وَمَا سُئِلْتَ فَلَا تَمْنَعْ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ؟ قَالَ: "" هُوَ ذَاكَ أَوِ النَّارُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Bilal (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded him to die poor rather than rich. Asked how that is for him, he was told not to store what is provided nor refuse what is asked. Asked again how, he was told it is that or the Fire. > **"O Bilal, die poor and do not die rich. What you are provided, do not store, and what you are asked, do not refuse. It is that or the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے بلال تم فقیر ہونے کے عالم میں مرنا تم خوشحال ہونے کے عالم میں نہ مرنا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میرے لئے کیسے ہو سکتا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہیں جو رزق دیا جائے تم اسے سنبھال کے نہ رکھنا اور جب تم سے کوئی چیز مانگی جائے تو تم دینے سے انکار نہ کرنا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میرے لئے کیسے ہو سکتا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یا تو یہ ہو گا یا پھر آگ ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بن زید قرشی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4692

Majma al-Zawaid #4692

«وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ نَعُودُهُ فَقَالَ: مَا أَدْرِي مَا يَقُولُونَ؟ وَلَكِنْ لَيْتَ مَا فِي تَابُوتِي هَذَا جَمْرٌ. فَلَمَّا مَاتَ نَظَرُوا فَإِذَا فِيهِ أَلْفٌ أَوْ أَلْفَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Abi Hazim reported that they visited Sad ibn Masud in illness and he said he knows not what people say, but would that what is in his chest were fire. When he died they looked and found therein a thousand or two thousand.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سعد بن مسعود کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لئے حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا : مجھے نہیں سمجھ آتی کہ یہ لوگ کیا کہتے ہیں لیکن اے کاش میرے تابوت میں یہ انگارے نہ ہوں جب ان کا انتقال ہو گیا اور لوگوں نے اس بات کا جائزہ لیا تو وہاں ایک ہزار یا شاید دو ہزار ( درہم یا دینار ) موجود تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4693

Majma al-Zawaid #4693

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ دَيْنًا عَلَيْهِ وَلَيْسَ لَهُ وَفَاءٌ فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ وَقَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ". فَقَامَ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ: أَنَا أَقْضِي عَنْهُ. فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ».

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (رضي الله عنه) reported that a man died in the time of the Messenger of Allah ﷺ leaving two dinars as debt upon him with no fulfillment. The Messenger of Allah ﷺ refused to pray over him and told them to pray over their companion. Abu Qatadah then stood and undertook its settlement, whereupon the Messenger of Allah ﷺ rose and prayed over him. > **"Pray over your companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس نے اپنے ذمہ قرض کے طور پر دو دینار کی ادائیگی چھوڑی جس کو ادا کرنے کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : میں وہ اس کی طرف سے ادا کر دوں گا نبی اکرم ﷺ اٹھے اور آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔

4694

Majma al-Zawaid #4694

وَذَكَرَ أَيْضًا: «أَنَّ رَجُلًا تُوُفِّيَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " كَيَّتَيْنِ».

EnglishUnverified translation

He also related that a man died in the time of the Messenger of Allah ﷺ leaving two dinars, whereupon the Messenger of Allah ﷺ described them as two brands. > **"Two brands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انہوں نے یہ روایت بھی ذکر کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس نے دو دینار چھوڑے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔

4695

Majma al-Zawaid #4695

وَفِي رِوَايَةٍ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: " انْظُرُوا إِلَى دَاخِلَةِ إِزَارِهِ ". فَأُصِيبَ دِينَارٌ أَوْ دِينَارَانِ. فَقَالَ: " كَيَّتَانِ».

EnglishUnverified translation

In another narration, a man died in the time of the Messenger of Allah ﷺ with no shroud found for him. When the Prophet ﷺ was approached, he ordered them to look inside his waist-wrapper. A dinar or two dinars were found, whereupon he described them as brands. > **"Look inside his waist-wrapper. Two brands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس کے لئے کفن نہیں مل رہا تھا ایک صاحب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم اس کے تہبند کے اندرونی حصے کا جائزہ لو تو وہاں سے ایک دینار یا دو دینار مل گئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔

4696

Majma al-Zawaid #4696

وَفِي رِوَايَةٍ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ [دِينَارٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيَّةٌ ""، ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ] دِينَارَانِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" كَيَّتَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَبَعْضُ طُرُقِهِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي الزُّهْدِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

In another narration, a man of Ahl al-Suffah died and a dinar was found in his waist-wrapper, whereupon the Messenger of Allah ﷺ called it a brand. Then another died and two dinars were found in his waist-wrapper, whereupon he called them two brands. > **"A brand. Two brands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا اس کے تہبند میں ایک دینار ملا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی ایک چیز ہے پھر ایک اور شخص کا انتقال ہو گیا اس کے تہبند میں دو دینار ملے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے بعض طرق کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں البتہ شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ‘ لیکن اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ‘ اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4697

Majma al-Zawaid #4697

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى خَبَّابٍ فَرَأَيْتُ فِي بَيْتِهِ دَرَاهِمَ مَكْشُوفَةً فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ؟ قَالَ: بِعْتُ ضَيْعَتِي الْفُلَانِيَّةَ وَقَدْ أَنْفَقْتُهَا مَا أَرَى أَحَدًا أَحَقَّ بِهِ مِنِّي .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi al-Hudhayl reported that they entered upon Khabbab (رضي الله عنه) and saw uncovered dirhams in his house. Asked what they are, he answered he sold such-and-such an estate and will spend them, seeing none more deserving of them than himself.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابوہذیل بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے میں نے ان کے گھر میں دراہم کھلے پڑے دیکھے تو میں نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : میں نے اپنی فلاں زمین فروخت کی ہے میں اس کو خرچ کروں گا کیونکہ میں یہ نہیں سمجھتا کہ کوئی ایک اس کے بارے میں مجھ سے زیادہ حق رکھتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

4698

Majma al-Zawaid #4698

وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدِي شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ ". فَقُلْتُ: ادَّخَرْنَاهُ لِشِتَائِنَا. فَقَالَ: " مَا تَخَافُ أَنْ تَرَى لَهُ بُخَارًا فِي جَهَنَّمَ».

EnglishUnverified translation

Bilal (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ entered while he had some dates with him. Asked what they are, he answered they were stored for their winter. The Prophet ﷺ warned him about seeing their vapor in Hell. > **"What is this? Do you not fear to see its vapor in Hell?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تشریف لائے اس وقت میرے پاس کچھ کھجوریں موجود تھیں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کس لئے ہیں میں نے عرض کی : یہ شام کے کھانے کے لئے سنبھال کر رکھی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ نہیں کہ اس کی وجہ سے تم جہنم میں بخار ( یعنی دھویں ) کو دیکھو گے ۔

4699

Majma al-Zawaid #4699

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَطْعِمْنَا يَا بِلَالُ "". ثُمَّ أَقْبَضْتُ لَهُ قَبَضَاتٍ فَقَالَ: "" زِدْنَا يَا بِلَالُ "". فَزِدْتُهُ ثَلَاثًا. فَقُلْتُ: لَمْ يَبْقَ شَيْءٌ إِلَّا شَيْئًا ادَّخَرْتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "" أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي الْأُولَى مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ، وَفِي الثَّانِيَةِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيِّ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Bilal (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ asked him for food, and he presented handfuls of dates. When he said only what he had stored for the Messenger of Allah ﷺ remained, the Prophet ﷺ commanded him to spend freely. > **"Feed us, O Bilal. Give us more, O Bilal. Spend, O Bilal, and do not fear any lessening from the Lord of the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہمیں کھانے کے لئے دو ! میں نے کچھ مٹھی کھجوریں نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں پیش کیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بلال مزید دو میں نے تین مرتبہ مزید پیش کیں میں نے عرض کی : اب صرف وہ چیز باقی رہ گئی ہے ‘ جسے میں نے اللہ کے رسول کے لئے سنبھال کے رکھا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم خرچ کرو اور عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ پہلی روایت میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ اور دوسری روایت میں طلحہ بن زید قرشی ہے ‘ اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

4700

Majma al-Zawaid #4700

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ: "" مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟ "" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادَّخَرْتُهُ لَكَ وَلِضِيفَانِكَ. فَقَالَ: "" أَمَا تَخْشَى أَنْ يَفُورَ لَهُ بُخَارٌ فِي جَهَنَّمَ؟ أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا». رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ، وَالثَّوْرِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ entered upon Bilal (رضي الله عنه) and saw with him a heap of dates stored for him and his guests. > **"What is this, O Bilal? Do you not fear that steam for it would rise in Hell? Spend, O Bilal, and do not fear any lessening from the Lord of the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ان کے پاس کھجوروں کا ایک ڈھیر موجود تھا آپ نے ارشاد فرمایا : اے بلال یہ کس لئے ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے آپ کے لئے اور آپ کے مہمانوں کے لئے سنبھال کے رکھی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتے ہو کہ جہنم میں بخار اس پر آ جائے گا : اے بلال خرچ کرو اور عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ رکھو ‘‘۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ‘ جسے شعبہ اور ثوری نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4701

Majma al-Zawaid #4701

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ بِلَالًا فَأَخْرَجَ لَهُ صُبْرَةً مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ: "" مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟ "" قَالَ: ادَّخَرْتُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ! قَالَ: "" أَمَا تَخْشَى أَنْ يُجْعَلَ لَكَ بُخَارٌ فِي جَهَنَّمَ؟ أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ visited Bilal (رضي الله عنه) in illness, and Bilal brought out a heap of dates he had stored for the Messenger of Allah ﷺ. > **"O Bilal, do you not fear that steam in Hell would be appointed for you? Spend, O Bilal, and do not fear any lessening from the Lord of the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے انہوں نے کھجوروں کا ایک ڈھیر آپ کے سامنے پیش کیا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : بلال یہ کس لئے ہیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے آپ کے لئے سنبھال کے رکھی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ جہنم میں بخار تمہارے لئے مقرر کر دیا ہو ۔ اے بلال ! خرچ کرو اور عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ رکھو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ‘ اور وہ ثقہ ہے ‘ لیکن اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

4702

Majma al-Zawaid #4702

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «جَاءَ حَيٌّ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُمْ: بَنُو سَلَمَةَ رَهْطُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا بَنِي سَلَمَةَ مَنْ سَيِّدُكُمْ؟ "". قَالُوا: جَدُّ بْنُ قَيْسٍ وَإِنَّا لَنُبَخِّلُهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَأَيُّ دَاءٍ أَدْوَى مِنَ الْبُخْلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو الرَّبِيعِ السَّمَّانُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that a clan of the Ansar called Banu Salamah, the people of Muadh ibn Jabal (رضي الله عنه), came, and the Prophet ﷺ asked them about their chief. They said it was Jadd ibn Qays, though they considered him miserly. > **"O Banu Salamah, who is your chief? And what disease is more diseased than miserliness?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار کا قبیلہ آیا ان لوگوں کو بنو سلمہ کہا جاتا تھا یہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے بنوسلمہ تمہارا سردار کون ہے ۔ لوگوں نے جواب دیا : جد بن قیس اور ہم اسے بخیل سمجھتے ہیں تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بخل سے زیادہ بڑی بیماری اور کون سی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوربیع سمان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ‘ اس نوعیت کی دیگر احادیث مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4703

Majma al-Zawaid #4703

وَعَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي نَخْلَةً فَمُرْهُ فَلْيَبِعْهَا، أَوْ لِيَهَبْهَا لِي. فَأَتَى الرَّجُلُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" افْعَلْ وَلَكَ بِهَا نَخْلَةٌ فِي الْجَنَّةِ "". فَأَبَاهُ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا أَبْخَلُ النَّاسِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Salih reported from one of the Companions of the Prophet ﷺ that a man came to the Prophet ﷺ asking him to order the owner of a palm tree in his walled garden to sell it or grant it to him. The Prophet ﷺ offered the owner a palm in Paradise in exchange, but he refused. > **"Do it, and you shall have a palm in Paradise. This is the most miserly of people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصالح نے ایک صحابی کا یہ بیان نقل کیا ہے ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے باغ میں فلاں شخص کا کھجور کا درخت ہے آپ اسے حکم دیں کہ وہ اسے فروخت کر دے یا وہ مجھے ہبہ کر دے وہ شخص آیا تو نبی اکرم ﷺ نے اسے فرمایا تم ایسا کرو اس کے بدلے میں تمہیں کھجور کا درخت مل جائے گا اس نے یہ بات نہیں مانی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ سب سے بڑا بخیل ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4704

Majma al-Zawaid #4704

وَعَنْ جَابِرٍ «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ لِفُلَانٍ فِي حَائِطِي نَخْلَةَ عِذْقٍ، وَإِنَّهُ قَدْ آذَانِي وَشَقَّ عَلَيَّ مَكَانُ عِذْقِهِ. فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" بِعْنِي عِذْقَكَ الَّذِي فِي حَائِطِ فُلَانٍ "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَهَبْهُ لِي "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" فَبِعْنِيهِ بِعِذْقٍ فِي الْجَنَّةِ "". قَالَ: لَا، يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا رَأَيْتُ الَّذِي هُوَ أَبْخَلُ مِنْكَ إِلَّا الَّذِي يَبْخَلُ بِالسَّلَامِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that a man complained that another's fruit-cluster in his garden harmed him. The Messenger of Allah ﷺ asked its owner to sell it, then to grant it, then to sell it for a cluster in Paradise, but he refused each time. > **"Sell me your cluster in the garden of so-and-so. Grant it to me. Sell it to me for a cluster in Paradise. I have not seen one more miserly than you, except one who is miserly with greeting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرے باغ میں فلاں شخص کا ایک گچھہ ہے وہ شخص مجھے تکلیف دیتا ہے ‘ اور اس کا کھجوروں کا گچھہ موجود ہونا مجھے گراں گزرتا ہے نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو پیغام بھیج کر بلوایا اور فرمایا : تم اپنا گچھہ جو فلاں شخص کے باغ میں موجود ہے وہ مجھے فروخت کر دو اس نے کہا : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ تم مجھے ہبہ کر دو اس نے کہا : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں کھجوروں کے گچھے کے عوض میں تم مجھے وہ فروخت کر دو اس نے عرض کی : جی نہیں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے تم سے زیادہ بخیل شخص کوئی نہیں دیکھا البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو سلام کرنے میں بخل سے کام لیتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

4705

Majma al-Zawaid #4705

وَعَنْ أَبِي الْقَيْنِ «أَنَّهُ مَرَّ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ فَأَهْوَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَأْخُذَ مِنْهُ قَبْضَةً لِيَنْثُرَهَا بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ فَضَمَّ طَرَفَ رِدَائِهِ إِلَى بَطْنِهِ وَإِلَى صَدْرِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" زَادَكَ اللَّهُ شُحًّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَفِيهِ خِلَافٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَبَقِيَّةُ طُرُقِ أَحَادِيثِ هَذَا الْبَابِ فِي الزُّهْدِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Qayn (رضي الله عنه) passed by the Prophet ﷺ carrying some dates. When the Prophet ﷺ reached to take a handful to scatter before his Companions, the man clutched the edge of his cloak to his belly and chest. > **"May Allah increase you in niggardliness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوالقین رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے ان کے پاس کچھ کھجوریں تھیں نبی اکرم ﷺ ان کی طرف بڑھے تاکہ مٹھی بھر کھجوریں ان سے لیں اور اپنے اصحاب کے سامنے پھیلا دیں ‘ تو انہوں نے اپنی چادر کا کنارہ اپنے پیٹ اور سینے کے ساتھ ملا لیا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالی تمہارے بخل میں اضافہ کرے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن جمہان ہے ‘ جسے ایک جماعت نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس باب کی احادیث کے بقیہ طرق زہد سے متعلق باب میں آئیں گے ۔

4706

Majma al-Zawaid #4706

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ اسْتَخْلَصَ هَذَا الدِّينَ لِنَفْسِهِ فَلَا يَصْلُحُ لِدِينِكُمْ إِلَّا السَّخَاءُ وَحُسْنُ الْخُلُقِ ; أَلَا فَزَيِّنُوا دِينَكُمْ بِهِمَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنَ الْعُقَيْلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ said Allah chose this religion for Himself, and only two qualities befit it. > **"Allah has chosen this religion for Himself. Nothing befits your religion except generosity and good character. So adorn your religion with them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے اس دین کو اپنے لیے خالص قرار دیا ہے تمہارے دین کے لئے مناسب چیز صرف سخاوت اور اچھے اخلاق ہیں خبردار تم اپنے دین کو ان دونوں کے ذریعے آرستہ کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

4707

Majma al-Zawaid #4707

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «السَّخِيُّ قَرِيبٌ مِنَ اللَّهِ بَعِيدٌ مِنَ النَّارِ قَرِيبٌ مِنَ الْجَنَّةِ، وَالْبَخِيلُ بَعِيدٌ مِنَ اللَّهِ بَعِيدٌ مِنَ الْجَنَّةِ بَعِيدٌ مِنَ النَّاسِ قَرِيبٌ مِنَ النَّارِ، وَالْجَاهِلُ السَّخِيُّ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ [عَزَّ وَجَلَّ] مِنَ الْعَابِدِ الْبَخِيلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) said she heard the Messenger of Allah ﷺ describe the nearness of the generous and the distance of the miser. > **"The generous is near Allah, far from the Fire, near Paradise. The miser is far from Allah, far from Paradise, far from people, near the Fire. And the ignorant generous one is more beloved to Allah Almighty than the worshipping miser."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ سخی شخص اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے جہنم سے دور ہوتا ہے ‘ اور جنت کے قریب ہوتا ہے ‘ اور بخیل شخص اللہ تعالی سے دور ہوتا ہے ‘ جنت سے دور ہوتا ہے لوگوں سے دور ہوتا ہے ‘ اور جہنم کے قریب ہوتا ہے ‘ اور جاہل سخی اللہ تعالی کے نزدیک بخیل عبادت گزار سے زیادہ پسندیدہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4708

Majma al-Zawaid #4708

وَعَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «فِي الْجَنَّةِ بَيْتٌ يُقَالُ لَهُ: بَيْتُ السَّخَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ جَحْدَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported that the Messenger of Allah ﷺ described a house in Paradise named for generosity. > **"In Paradise is a house called the House of Generosity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں ایک گھر ہے ‘ جس کا نام ’’ سخاوت کا گھر ‘‘ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں جحدر بن عبداللہ اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4709

Majma al-Zawaid #4709

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنِ السَّيِّدُ؟ قَالَ: "" يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ "". قَالُوا: فَمَا فِي أُمَّتِكَ سَيِّدًا؟ قَالَ: "" بَلَى رَجُلٌ أُعْطِيَ مَالًا حَلَالًا وَرُزِقَ سَمَاحَةً وَأَدْنَى الْفَقِيرَ وَقَلَّتْ شَكَاتُهُ فِي النَّاسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَافِعُ أَبُو هُرْمُزَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that when asked who the chief is, the Prophet ﷺ named Yusuf ibn Yaqub ibn Ishaq ibn Ibrahim (عليهم السلام). When asked about a chief in his Ummah, he described him. > **"The chief is Yusuf ibn Yaqub ibn Ishaq ibn Ibrahim. Yes, in my Ummah it is a man given lawful wealth and granted liberality, who draws the poor near, and whose complaints among people are few."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ؟ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! سردار کون ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : حضرت یوسف بن حضرت یعقوب بن حضرت اسحاق بن حضرت ابراہیم علیہم السلام لوگوں نے عرض کی : آپ کی امت میں سردار کون ہو گا آپ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ وہ شخص جسے حلال مال دیا گیا ہو ‘ اور نرمی عطا کی گئی ہو وہ فقیر کو قریب رکھے اور لوگوں سے اس کی شکایات کم ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابو ہرمز ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4710

Majma al-Zawaid #4710

وَعَنْ قَيْسِ بْنِ سَلْعٍ الْأَنْصَارِي، «أَنَّ إِخْوَتَهُ شَكَوْا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: إِنَّهُ يُبَذِّرُ مَالَهُ وَيَبْسُطُ فِيهِ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، آخُذُ نَصِيبِي مِنَ الثَّمَرَةِ فَأُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مَنْ صَحِبَنِي. فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدْرَهُ وَقَالَ: "" أَنْفِقْ يُنْفِقِ اللَّهُ عَلَيْكَ "". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ خَرَجْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَعِي رَاحِلَةٌ. قَالَ: وَأَنَا أَكْبَرُ أَهْلِ بَيْتِي الْيَوْمَ وَأَيْسَرُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو عَاصِمٍ، قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Qays ibn Sala al-Ansari (رضي الله عنه) reported that his brothers complained to the Messenger of Allah ﷺ that he squandered his wealth, for he took his share of fruit and spent it in the way of Allah and upon his companions. The Messenger of Allah ﷺ struck his chest and repeated a promise three times. Afterwards he went out in the way of Allah with a mount, and he says he is now the eldest and wealthiest of his household. > **"Spend, and Allah will spend upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قیس بن سلع انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ان کے بھائیوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں شکایت کی انہوں نے عرض کی : یہ اپنا مال فضول خرچ کرتا ہے ‘ اور بہت زیادہ خرچ کرتا ہے میں نے عرض کی : میں پھلوں میں سے اپنا حصہ خرچ کرتا ہوں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہوں اور اپنے ساتھیوں پر خرچ کرتا ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : تم خرچ کرو اللہ تعالیٰ تم پر خرچ کرے گا یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی راوی کہتے ہیں : اس کے بعد میں اللہ کی راہ میں جنگ میں نکلا تو میرے پاس صرف ایک سواری تھی وہ فرماتے ہیں اس وقت میں اپنے اہل خانہ میں سب سے زیادہ بڑا ہوں اور سب سے زیادہ خوشحال ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : سعید بن زیاد ابوعاصم اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4711

Majma al-Zawaid #4711

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السُّلَمِيِّ قَالَ: «أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَارَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ يَوْمَ الْأَرْبِعَاءَ فَرَأَى حِصْنَةً فِي الْأَمْوَالِ، وَالْأَرَاضِي، وَلَمْ يَكُنْ رَآهُ قَبْلَ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُمْ: "" يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ "". فَقَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ. قَالَ: "" لَوْ أَنَّكُمْ إِذَا هَبَطْتُمْ لِعِيدِكُمْ - يَعْنِي الْجُمُعَةَ - مَكَثْتُمْ حَتَّى تَسْمَعُوا مِنِّي قَوْلِي "". قَالُوا: نَعَمْ، أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ. فَلَمَّا كَانَتِ الْجُمُعَةُ حَضَرُوا صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْجُمُعَةَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَتَنَفَّلَ رَكْعَتَيْنِ عِنْدَ مَقَامِهِ، وَكَانَ قَبْلَ ذَلِكَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّاهُمَا فِي بَيْتِهِ، حَتَّى كَانَ يَوْمَئِذٍ فَتَنَفَّلَهُمَا فِي الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ اسْتَقْبَلَهُمْ بِوَجْهِهِ فَتَبِعَتِ الْأَنْصَارُ فِي الْمَسْجِدِ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ "". فَقَالُوا: لَبَّيْكَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا أَنْتَ. قَالَ: "" كُنْتُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَا تَعْبُدُونَ اللَّهَ تَحْمِلُونَ الْكَلَّ فِي أَمْوَالِكُمْ، وَتَفْعَلُونَ الْمَعْرُوفَ، وَتَصِلُونَ حَتَّى إِذَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ بِالْإِسْلَامِ وَبِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا أَنْتُمْ تُحْصِنُونَ. فِيمَا يَأْكُلُ ابْنُ آدَمَ أَجْرٌ، وَفِيمَا يَأْكُلُ الطَّيْرُ أَجْرٌ، وَفِيمَا يَأْكُلُ السَّبُعُ أَجْرٌ "". فَانْصَرَفَ الْقَوْمُ فَمَا بَقِيَ أَحَدٌ إِلَّا هَدَمَ مِنْ مَالِهِ ثُلْمَةً أَوْ ثَلَاثًا - يَعْنِي: هَدَمُوا فِي حِيطَانِ بَسَاتِينِهِمْ لِيَدْخُلَ الْقَوْمُ فَيَأْكُلُونَ مِنَ الثَّمَرَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ: "" وَكَانَ يَعُودُ الْمَرِيضَ وَيَشْهَدُ الْجِنَازَةَ، وَيُدْعَى فَيُجِيبُ "". وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنْ جَابِرٍ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قُلْتُ: وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdillah al-Sulami (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ came to the quarter of Banu Amr ibn Awf on Wednesday and saw fortification in properties he had not seen before. He asked the Ansar to remain after Friday until they heard his speech. On Friday they attended, he prayed then offered two voluntary rakahs at his place in the mosque, contrary to his habit of praying them at home, then faced them and reminded them that in ignorance they bore burdens, did good, and joined ties, but after Allah favoured them with Islam and Muhammad ﷺ they began to fortify. He then told them of reward in eating. So they returned and every one of them broke one or three breaches in his property, meaning they demolished walls of gardens so people could enter and eat of the fruit. > **"O company of Ansar, if when you come down for your festival, meaning Friday, you remained until you heard my speech. You were in ignorance not worshipping Allah, bearing the burdened one in your wealth, doing good, and joining ties, until Allah favoured you with Islam and with Muhammad. Now you fortify. In what the son of Adam eats is reward, and in what the bird eats is reward, and in what the beast eats is reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بنو عمرو بن اوس کے محلے میں بدھ کے دن تشریف لائے آپ نے لوگوں کی زمین اور اموال میں ایک بڑا گھر دیکھا جو آپ نے اس سے پہلے ملاحظہ نہیں فرمایا تھا آپ نے ان لوگوں سے فرمایا : اے انصار کے گروہ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم اپنے عید کے موقع پر آؤ اور ٹھہرے رہو یہاں تک کہ میری گفتگو سن لو تو یہ مناسب ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ جمعہ کے دن ایسا کرنا لوگوں نے عرض کی : ٹھیک ہے ‘ یا رسول اللہ ! ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں جب جمعہ کا دن آیا تو وہ لوگ آپ کی اقتداء میں شریک ہوئے جب آپ نے نماز مکمل کر لی تو آپ نے اپنی جگہ پر ہی دو رکعات نفل ادا کیے ۔ اس سے پہلے آپ جمعہ کی نماز پڑھنے کے بعد گھر تشریف لے جایا کرتے تھے ‘ اور اپنے گھر میں وہ دو رکعات ادا کیا کرتے تھے ‘ لیکن اس دن آپ نے وہ دو نفل مسجد میں ادا کر لیے جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے اپنا رخ ان لوگوں کی طرف کیا انصار مسجد میں آ گئے تھے وہ نبی اکرم ﷺ کی مسجد میں آ گئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے انصار کے گروہ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم حاضر ہیں ہمارے ماں باپ آپ پر قربان ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : زمانہ جاہلیت میں تم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے تھے ‘ لیکن اپنے اموال کے ذریعے مصیبت زدہ کا زیادہ بوجھ اٹھاتے تھے ‘ اور بھلائی کا کام کیا کرتے تھے اور صلہ رحمی کیا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام اور حضرت محمد ﷺ کے ذریعے تم پر احسان کیا ، تو اب تم نے اونچے گھر قلعے بنانے شروع کر دیے ہیں انسان جو چیز کھاتا ہے اس کا اجر ملتا ہے پرندہ جو چیز کھاتا ہے درندہ جو چیز کھاتا ہے اس کا اجر ملتا ہے وہ لوگ واپس گئے تو ان میں سے ہر شخص نے اپنی زمین پر موجود عمارت کو گرا دیا راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے باغ کے اردگرد جو دیواریں بنائی ہوئی تھیں انہیں منہدم کر دیا تاکہ لوگ اندر جا کر وہاں کا پھل کھا سکیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ وہ بیمار کی عیادت کرتے تھے جنازے میں شریک ہوتے تھے بلایا جاتا تھا ‘ تو چلے جایا کرتے تھے ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس روایت کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4712

Majma al-Zawaid #4712

عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ الْحَنْظَلِيِّ «أَنَّ وَفْدًا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُمْ فَكَذَّبَهُ بَعْضُهُمْ فَقَالَ: "" لَوْلَا سَخَاءٌ فِيكَ وَمِقَكَ اللَّهُ عَلَيْهِ لَشَرَّدْتُ بِكَ وَافِدَ قَوْمٍ». قُلْتُ: وَمِقَكَ: أَيْ أَحَبَّكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَكَأَنَّ الصَّحَابِيَّ سَقَطَ ; فَإِنَّ الْأَصْلَ سَقِيمٌ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا فِي الْحُدُودِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Abbad al-Hanzali reported that a delegation came to the Messenger of Allah ﷺ, and he questioned them, but one of them denied him. The Prophet ﷺ spared him because of generosity in him, by which Allah loves him, the word mimak meaning He loves you. > **"Were it not for generosity in you, for which Allah loves you, I would have made an example of you, O envoy of a people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن عباد حنظلی بیان کرتے ہیں : ایک وفد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے ان سے کچھ دریافت کیا ، تو ان میں سے کسی ایک نے آپ کی بات کو تسلیم نہیں کیا آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے اندر سخاوت موجود نہ ہوتی ، جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرتا ہے ‘ تو اے قوم کے نمائندے ! میں تمہیں پرے کر دیتا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : لفظ و مقک کا مطلب یہ ہے یعنی وہ تم سے محبت رکھتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور گویا اس روایت میں صحابی کا ذکر نہیں ہے کیونکہ اصل میں سقم پایا جاتا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث حدود سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4713

Majma al-Zawaid #4713

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الْفَرَائِضِ فِي سُورَةِ النِّسَاءِ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْحَبْسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمِقْدَامُ بْنُ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that when the verse of the shares of inheritance in Surat al-Nisa was revealed, the Messenger of Allah ﷺ forbade habs, meaning confining property from inheritance.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : جب سورت نساء میں وراثت کے حکم سے متعلق آیت نازل ہو گئی تو نبی اکرم ﷺ نے حبس ( یعنی کسی چیز کو کسی کام کے لئے مخصوص کرنے ) سے منع کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مقدام بن داؤد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4714

Majma al-Zawaid #4714

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا حَبْسَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Fadalah ibn Ubayd (رضي الله عنه) reported from the Messenger of Allah ﷺ a prohibition of habs. > **"There is no habs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حبس ‘ نہیں ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4715

Majma al-Zawaid #4715

وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بِشْرِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ الْمُهَاجِرُونَ الْمَدِينَةَ اسْتَنْكَرُوا الْمَاءَ، وَكَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي غِفَارٍ عَيْنٌ يُقَالُ لَهَا: رُومَةَ، وَكَانَ يَبِيعُ مِنْهَا الْقِرْبَةَ بِمُدٍّ. فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بِعْنِيهَا بِعَيْنٍ فِي الْجَنَّةِ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي وَلَا لِعِيَالِي غَيْرُهَا، لَا أَسْتَطِيعُ ذَلِكَ. فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ فَاشْتَرَاهَا بِخَمْسَةٍ وَثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَجْعَلُ لِي مِثْلَ الَّذِي جَعَلْتَهُ لَهُ، عَيْنًا فِي الْجَنَّةِ إِنِ اشْتَرَيْتُهَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: قَدِ اشْتَرَيْتُهَا، وَجَعَلْتُهَا لِلْمُسْلِمِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمَسَاوِرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Salamah Bishr ibn Bashir al-Aslami reported from his father that when the Muhajirun came to Madinah they disliked its water. A man of Banu Ghifar owned a spring called Rumah, selling a skinful for a mudd. The Messenger of Allah ﷺ offered him a spring in Paradise for it, but he said he and his family had nothing else and could not. When Uthman (رضي الله عنه) heard, he bought it for thirty-five thousand dirhams, then asked the Prophet ﷺ whether he would grant him the same, a spring in Paradise, if he bought it. When the Prophet ﷺ said yes, he declared he had bought it and made it for the Muslims. > **"Sell it to me for a spring in Paradise. Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلمہ بشر بن بشیر اسلمی اپنے والد کا یہ بیان کرتے ہیں : جب مہاجرین مدینہ منورہ آئے ‘ تو وہاں کا پانی انہیں موافق نہیں آیا بنوغفار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا ایک کنواں تھا جس کا نام رومہ تھا وہ شخص اس کا ایک مشکیزہ ایک مد کے عوض میں فروخت کرتا تھا نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تم اسے جنت میں موجود ایک کنویں کے عوض میں مجھے فروخت کر دو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے لئے اور میرے اہل و عیال کے لئے اس کے علاوہ آمدن کا اور کوئی ذریعہ نہیں ہے میں ایسا نہیں کر سکتا جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے پینتیس ہزار درہم کے عوض میں اسے خرید لیا پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے جو پیشکش فلاں شخص کو دی تھی کیا وہ مجھے بھی کریں گے کہ مجھے جنت میں موجود کنواں مل جائے اگر میں اس کنویں کو خرید لیتا ہوں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ انہوں نے عرض کی : میں نے اسے خرید لیا ہے ‘ اور اسے مسلمانوں کے لئے وقف کرتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4716

Majma al-Zawaid #4716

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي كُلُّهُ صَدَقَةٌ. قَالَ: فَافْتَقَرَ أَبَوَاهُ حَتَّى جَلَسَا مَعَ الْأَوْفَاضِ، ثُمَّ جَاءَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَانَ ابْنُنَا مِنْ أَكْثَرِ الْأَنْصَارِ مَالًا فَتَصَدَّقَ بِمَالِهِ وَافْتَقَرْنَا حَتَّى جَلَسْنَا مَعَ الْأَوْفَاضِ. قَالَ: "" صَدَقَةُ ابْنِكُمْ رَدٌّ عَلَيْكُمَا "". ثُمَّ تَوَفَّيَا، فَأَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى ابْنِهِمَا: "" أَنِ ارْدُدِ الصَّدَقَةَ فَإِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تُوَرَّثُ وَلَا تُعْتَمَرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَأَحَادِيثُ هَذَا الْبَابِ كُلُّهَا فِي آخِرِ الْفَرَائِضِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that a man of the Ansar declared all his wealth charity, so his parents became destitute and sat with the needy strangers. When they complained to the Messenger of Allah ﷺ, he returned the charity to them. Then when they died, he sent to their son ordering restoration. > **"Your son's charity is returned to you two. Return the charity, for charity is neither inherited nor taken as a life-grant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا پورا مال صدقہ ہے راوی بیان کرتے ہیں : اس کے ماں باپ غریب ہو کر تنگ دستی کا شکار ہو کر بیٹھ گئے پھر وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے بیٹے کے پاس انصار میں سب سے زیادہ مال موجود تھا اس نے اپنا سارا مال صدقہ کر دیا ہے ‘ اور اب ہم غریب اور تنگ دست ہو کر بیٹھ گئے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے بیٹے کا صدقہ تم دونوں کی طرف واپس آ جائے گا پھر جب ان دونوں کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے بیٹے کی طرف پیغام بھیجا کہ اب تم صدقہ واپس کر دو کیونکہ صدقے کو وراثت میں منتقل نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اسے عمری کے طور پر منتقل کیا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔ اس باب سے متعلق تمام احادیث فرائض سے متعلق باب کے آخر میں آئیں گی ۔

4717

Majma al-Zawaid #4717

عَنْ حَنْظَلَةَ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فِي حِجْرِي يَتِيمًا، وَقَدْ تَصَدَّقْتُ عَلَيْهِ بِمِائَةٍ مِنَ الْإِبِلِ ; فَرَأَيْنَا الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ وَقَالَ: "" إِنَّمَا الصَّدَقَةُ خَمْسٌ، وَإِلَّا فَعَشْرٌ، وَإِلَّا فَخَمْسَ عَشْرَةَ "". حَتَّى بَلَغَ الْأَرْبَعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، قُلْتُ: رَوَاهُ أَحْمَدُ أَطْوَلَ مِنْ هَذَا بِكَثِيرٍ، وَأَنَّهَا كَانَتْ وَصِيَّةٌ، وَلَمْ تُجِزْهَا الْوَرَثَةُ - وَيَأْتِي فِي الْوَصَايَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ - وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Hanzalah (رضي الله عنه) said he told the Messenger of Allah ﷺ that he had an orphan under his care upon whom he had given one hundred camels in charity. He saw anger in his face, and the Prophet ﷺ limited charity in number until he reached forty. > **"Charity is only five, or else ten, or else fifteen, until he reached forty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حنظلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے زیر پرورش ایک یتیم لڑکا ہے میں نے اسے ایک سو اونٹ صدقہ کر دیے ہیں راوی کہتے ہیں : تو ہم نے نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر غضب کے آثار دیکھے آپ نے ارشاد فرمایا : صدقے میں پانچ اونٹ دیے جاتے ہیں دس دیے جاتے ہیں پندرہ دیے جاتے ہیں یہاں تک کہ آپ نے چالیس تک کا ذکر کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام احمد نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کیا ہے یہ وصیت سے متعلق ہے کہ وصیت کو ورثاء سے آگے نہیں جانا چاہیے یہ روایت وصیت سے متعلق باب میں آگے آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا اور اس کی سند حسن ہے ۔

4718

Majma al-Zawaid #4718

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْ صَدَقَةٍ أَفْضَلَ مِنْ صَدَقَةٍ تُصَدَّقُ عَلَى مَمْلُوكٍ عِنْدَ مَلِيكِ سُوءٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَشِيرُ بْنُ مَيْمُونَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ declared the most excellent charity to be that given to an owned slave under a bad master. > **"There is no charity better than charity given to an owned slave in the hands of an evil master."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی بھی صدقہ اس صدقے سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا جو کسی ایسے غلام پر کیا جائے جو کسی برے مالک کے پاس ہو ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشیر بن میمون ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4719

Majma al-Zawaid #4719

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنِ اهْتَمَّ بِجَوْعَةِ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ فَأَطْعَمَهُ حَتَّى شَبِعَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ وَسَقَاهُ حَتَّى يُرْوَى». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ promised forgiveness and quenching for one who cares for his Muslim brother's hunger and thirst. > **"Whoever cares for the hunger of his Muslim brother and feeds him until he is full, Allah forgives him, and gives him drink until he is quenched."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی بھوک کا خیال کر کے اسے کچھ کھلائے یہاں تک کہ اس کو سیر کر دے تو اللہ تعالی اس کی مغفرت کر دیتا ہے ‘ اور اسے یوں سیراب کرے گا کہ وہ سیر ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4720

Majma al-Zawaid #4720

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَطْعَمَ أَخَاهُ حَتَّى يُشْبِعَهُ وَسَقَاهُ مِنَ الْمَاءِ حَتَّى يَرْوِيَهُ بَاعَدَهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ سَبْعَ خَنَادِقَ ; مَا بَيْنَ كُلِّ خَنْدَقَيْنِ خَمْسُ مِائَةِ عَامٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" مَنْ أَطْعَمَ أَخَاهُ خُبْزًا "". وَفِيهِ رَجَاءُ بْنُ أَبِي عَطَاءٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr (رضي الله عنهما) reported that the Messenger of Allah ﷺ promised distance of seven trenches from the Fire, five hundred years between every two, for feeding and watering a brother to satisfaction. In a variant in al-Awsat the wording mentions feeding bread. > **"Whoever feeds his brother until he satisfies him, and gives him water to drink until he quenches him, Allah distances him from the Fire by seven trenches, between every two trenches five hundred years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے بھائی کو کھلاتا ہے یہاں تک کہ اسے سیر کر دیتا ہے ‘ اور اسے پانی پلاتا ہے یہاں تک کہ اسے سیراب کر دیتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم سے سات خندقوں جتنا دور کر دے گا جن میں سے ہر دو خندقوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فیصلہ ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جو شخص اپنے بھائی کو روٹی کھلائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی رجاء بن ابوعطاء ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4721

Majma al-Zawaid #4721

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" إِدْخَالُكَ السُّرُورَ عَلَى مُؤْمِنٍ أَشْبَعْتَ جَوْعَتَهُ، أَوْ سَتَرْتَ عَوْرَتَهُ، أَوْ قَضَيْتَ لَهُ حَاجَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ بَشِيرٍ الْكِنْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ was asked which deed is best, and he answered with bringing joy to a believer in three forms. > **"Your bringing joy to a believer: you satisfy his hunger, or you cover his nakedness, or you fulfil for him a need."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارا مومن پر خوشی داخل کرنا ( یوں کہ ) اس کی بھوک کے عالم میں تم اسے سیر کر دو یا اسے لباس فراہم کر دو یا اس کی کوئی اور ضرورت پوری کر دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن بشیر کندی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4722

Majma al-Zawaid #4722

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ أَطْعَمَ مُؤْمِنًا حَتَّى يُشْبِعَهُ مِنْ سَغَبٍ أَدْخَلَهُ اللَّهُ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا مَنْ كَانَ مِثْلَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقَدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ الصُّورِيُّ: كَانَ يَتْبَعُ السُّلْطَانَ، وَكَانَ صَدُوقًا.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ that feeding a believer from hunger earns entry through a special gate of Paradise. > **"Whoever feeds a believer until he satisfies him from hunger, Allah admits him through a gate of Paradise which none enters but one like him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص کسی مؤمن کو کھلاتا ہے یہاں تک کہ اسے بھوک کے عالم میں سیر کر دیتا ہے ‘ تو اللہ تعالٰی اسے جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے میں داخل کرے گا اس دروازے میں سے صرف وہ شخص داخل ہو سکے گا جس نے اس کی مانند کام کیا ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے محمد بن مبارک صوری بیان کرتے ہیں : یہ حاکم وقت کے پاس آیا جایا کرتا تھا ویسے یہ صدوق ہے ۔

4723

Majma al-Zawaid #4723

وَعَنْ أَبِي جُنَيْدَةَ الْفِهْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ سَقَى عَطْشَانًا فَأَرَوَاهُ فُتِحَ لَهُ بَابٌ مِنَ الْجَنَّةِ، فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلْ مِنْهُ. وَمَنْ أَطْعَمَ جَائِعًا فَأَشْبَعَهُ، وَسَقَى عَطْشَانًا فَأَرَوَاهُ ; فَتُحِتْ لَهُ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ كُلُّهَا، فَقِيلَ لَهُ: ادْخُلْ مِنْ أَيِّهَا شِئْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Junaydah al-Fihri reported from his father from his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ promised a gate for watering the thirsty, and all gates for combining feeding and watering. > **"Whoever waters a thirsty one and quenches him, a gate of Paradise is opened for him, and it is said to him: Enter through it. And whoever feeds a hungry one and satisfies him, and waters a thirsty one and quenches him, all the gates of Paradise are opened for him, and it is said to him: Enter through whichever you wish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجنیدہ فہری اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص پیاسے کو پانی پلا کر اسے سیراب کر دے اس کے لئے جنت کا دروازہ کھولا جائے گا اس سے کہا جائے گا اس میں سے داخل ہو جاؤ اور جو شخص بھوکے کو کھانا کھلا کے اسے سیر کر دے اور پیاسے کو پانی پلا کر اسے سیر کر دے اس کے لئے جنت کے تمام دروزے کھول دیے جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا تم ان میں سے جس سے چاہو اندر داخل ہو جاؤ ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن ابوفروہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔