وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْصَرَفَ يَوْمًا مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَأَتَى النِّسَاءَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَقَفَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ بِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتَقَرَّبْنَ إِلَى اللَّهِ بِمَا اسْتَطَعْتُنَّ "". وَكَانَ فِي النِّسَاءِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَأَتَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا سَمِعَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَتْ حُلِيًّا لَهَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَيْنَ تَذْهَبِينَ بِهَذَا الْحُلِيِّ؟ قَالَتْ: أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ رَجَاءَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْ أَهْلِ النَّارِ. فَقَالَ: وَيْلَكِ هَلُمِّي فَتَصَدَّقِي عَلَيَّ، وَعَلَى وَلَدِي، فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى أَذْهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَذَهَبَتْ تَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَيُّ الزَّيَانِبُ هِيَ؟ "" قَالُوا: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: "" ائْذَنُوا لَهَا "". فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ مَقَالَةً فَرَجَعْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَحَدَّثْتُهُ، فَأَخَذْتُ حُلِيِّي أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكَ رَجَاءَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي اللَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ. فَقَالَ لِي ابْنُ مَسْعُودٍ: تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ، وَعَلَى وَلَدِي، فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ، فَقُلْتُ: حَتَّى أَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيْهِ، وَعَلَى بَنِيهِ، فَإِنَّهُمْ لَهُ مَوْضِعٌ "". ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا سَمِعْتُ مِنْكَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَيْنَا "" مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عَقْلٍ [قَطْ] وَلَا دِينٍ أَذْهَبَ بِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ؟ "" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعُقُولِنَا؟ قَالَ: "" أَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ فَالْحَيْضَةُ الَّتِي تُصِيبُكُنَّ تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَمْكُثَ لَا تُصَلِّي وَلَا تَصُومُ، فَذَلِكُنَّ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ عُقُولِكُنَّ فَشَهَادَتُكُنَّ إِنَّمَا شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ نِصْفُ شَهَادَةِ الرَّجُلِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ left the dawn prayer one day, came to the women in the mosque, stood over them and warned them concerning deficiency of mind and religion, their majority among the people of Fire, and the need to draw near to Allah as able. The wife of Abdullah ibn Masud went to him, told him what she heard, and took her jewelry intending nearness to Allah and His Messenger in hope of escape from the Fire. Ibn Masud told her to give it to him and his child as its proper place. She refused until consulting the Prophet ﷺ, sought permission, was asked which Zaynab and identified as the wife of Abdullah, was admitted, repeated the account, and was told to give it to them. She then asked about the statement on deficiency, what deficiency of religion and minds means, and was told of menses preventing prayer and fasting and of a woman's testimony being half a man's. > **"O company of women, I have not seen any deficient in mind and religion more sweeping to the hearts of the resolute than you, and I have seen that you are the majority of the people of Fire on the Day of Resurrection, so draw near to Allah as much as you can. Admit her. Give it in charity to him and to his sons, for they are its proper place. As for what I mentioned of deficiency in your religion, it is the menses that befall you, when one of you remains as long as Allah wills without praying or fasting, that is part of the deficiency of your religion. And as for what I mentioned of deficiency in your minds, it is your testimony, for a woman's testimony is only half a man's testimony."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز پڑھ کے فارغ ہوئے آپ مسجد میں خواتین کے پاس تشریف لائے آپ ان کے پاس ٹھہر گئے آپ نے ارشاد فرمایا : اے خواتین کے گروہ ! میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے نقص والی ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو تم سے زیادہ جلدی ‘ سمجھ دار لوگوں کے دلوں کو لے جاتی ہو ‘ اور میں نے دیکھا ہے کہ قیامت کے دن اہل جہنم کی اکثریت تمہاری ہو گی تو تم جہاں تک ہو سکے اللہ تعلی کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو ان خواتین میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی موجود تھیں وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی جو بات سنی تھی اس کے بارے میں انہیں بتایا انہوں نے اپنا زیور لیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم اپنا زیور لے کے کہاں جا رہی ہو ؟ اس نے کہا : میں اس کے ذریعے اللہ تعالی اور اس کے رسول کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں ۔ یہ امید رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنمی نہیں کرے گا ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم لاؤ اور مجھے صدقہ کرو اور میرے بچوں کے اوپر صدقہ کرو کیونکہ ہم اس بات کے مستحق ہیں اس خاتون نے کہا : جی نہیں پہلے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤں گی ( اور آپ سے اس بارے میں دریافت کروں گی ) پھر وہ خاتون گئیں اس نے نبی اکرم ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! زینب اندر آنے کی اجازت مانگ رہی ہے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون سی زینب ؟ لوگوں نے بتایا : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اندر آنے دو وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کی گفتگو سنی تھی میں واپس حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئی میں نے انہیں یہ بات بتائی میں نے اپنا زیور لیا تاکہ میں اللہ تعالیٰ اور آپ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں یہ امید رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اہل جہنم میں سے نہیں کرے گا ‘ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : تم یہ ( زیور ) مجھ پر اور میری اولاد پر صدقہ کرو کیونکہ ہم اس بات کے مستحق ہیں تو میں نے کہا : جب تک میں نبی اکرم ﷺ سے اجازت نہیں لیتی ( میں ایسا نہیں کروں گی ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم وہ ( زیور ) اس پر اور اس کے بچوں پر صدقہ کرو کیونکہ ان کا حق ہے پھر اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو سنا تھا جب آپ ہمارے پاس ٹھہرے تھے ۔ آپ نے فرمایا : میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص مخلوق نہیں دیکھی جو تم سے زیادہ جلدی سمجھ دار لوگوں کے دلوں کو لے جاتی ہو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے دین اور ہماری عقل میں کیا کمی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہارے دین میں کمی کا جو ذکر کیا تھا اس سے مراد حیض ہے ‘ جو تم خواتین کو لاحق ہوتا ہے ‘ اور پھر جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے کوئی عورت ٹھہری رہتی ہے وہ اس دوران نہ نماز ادا کرتی ہے ‘ اور نہ روزہ رکھتی ہے ‘ تو یہ تمہارے دین میں کمی ہے ‘ اور جہاں تک میں نے عقل میں کمی کا ذکر کیا تھا ‘ تو اس سے مراد تم خواتین کا گواہی دینا ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف ہوتی ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔