Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 8 · Chapter 9

Book of Zakah

Hadith 4644–4683

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4644

Majma al-Zawaid #4644

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الصَّدَقَةُ؟ قَالَ: "" أَضْعَافٌ مُضَاعَفَةٌ، وَعِنْدَ اللَّهِ الْمَزِيدُ "". ثُمَّ قَرَأَ: "" {مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً} [البقرة: 245] "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" سِرٌّ إِلَى فَقِيرٍ، أَوْ جُهْدٌ مِنْ مُقِلٍّ "". ثُمَّ قَرَأَ: {إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقَاتِ فَنِعِمَّا هِيَ} [البقرة: 271] "" الْآيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (رضي الله عنه) reported that Abu Dharr asked the Messenger of Allah ﷺ what charity is, and he described its multiplied reward and increase with Allah, then recited the verse of the goodly loan multiplied many times. Asked which charity is best, he named hidden giving and the effort of the straitened, then recited the verse concerning open and hidden charities. > **"Manifold multiples, and with Allah is increase. Who is it that will loan Allah a goodly loan so He multiplies it for him many times over. Secret giving to a poor man, or the toil of one who has little. If you disclose charities, how excellent they are."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! صدقہ کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اس کا اجر کئی گنا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے مزید بھی ملتا ہے پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے گا اللہ تعالیٰ اسے کئی گنا اجر عطا کرے گا “۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : غریب کو پوشیدہ طور پر دینا یا تنگ دست شخص کا محنت کر کے صدقہ کرنا پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اگر تم صدقات کو ظاہر کرتے ہو تو یہ اچھی بات ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4645

Majma al-Zawaid #4645

وَعَنْ حَكِيمِ بْنَ حِزَامٍ «أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" ابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ وَالصَّدَقَةُ عَنْ ظَهْرِ غِنَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَأَبُو صَالِحٍ مَوْلَى حَكِيمٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Hakim ibn Hizam (رضي الله عنه) reported that he asked the Prophet ﷺ which charity is best, and was commanded to begin with dependents and to give while remaining independent. > **"Begin with those you maintain, and charity given after sufficiency."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا کون سا صدقہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم اس پر خرچ کا آغاز کرو جس کی تم کفالت کرتے ہو ‘ اور وہ صدقہ جو کرنے کے بعد آدمی خوشحال رہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ابو صالح جو حکیم نامی شخص کا غلام ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4646

Majma al-Zawaid #4646

وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ أَطْعَمَ مِسْكِينًا مِنْ جُوعٍ، أَوْ دَفَعَ عَنْهُ مَغْرَمًا، أَوْ كَشَفَ عَنْهُ كَرْبًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ سَلَمَةَ الْخَبَائِرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hakam ibn Umayr (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ named the most beloved deeds to Allah Almighty in feeding the hungry poor, settling debt, and lifting distress. > **"The most beloved deeds to Allah Almighty are that one feed a poor man suffering hunger, or settle a debt upon him, or lift a distress from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ عمل اس شخص کا ہے ‘ جو کسی بھوکے مسکین کو کھانا کھلاتا ہے ‘ یا کسی شخص کا قرض ادا کروا دیتا ہے ‘ یا کسی کی پریشانی ختم کروا دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن سلمہ خبائری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4647

Majma al-Zawaid #4647

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ أَفْضَلَ الصَّدَقَةِ الصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub al-Ansari (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ singled out charity to the spiteful kinsman as most excellent. > **"The best charity is charity to the spiteful kinsman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ اس رشتے دار کو صدقہ کرنا ہے ‘ جو دشمنی رکھتا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4648

Majma al-Zawaid #4648

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ، «أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الصَّدَقَاتِ: أَيُّهَا أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Hakim ibn Hizam (رضي الله عنه) reported that a man asked the Messenger of Allah ﷺ which charities are best, and he named giving to the spiteful kinsman. > **"To the spiteful kinsman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے صدقات کے بارے میں دریافت کیا : ان میں کون سا سب سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : دشمنی رکھنے والے رشتے دار کو ( صدقہ کرنا ) ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4649

Majma al-Zawaid #4649

وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الصَّدَقَةُ عَلَى الْمِسْكِينِ صَدَقَةٌ، وَعَلَى ذِي الرَّحِمِ صَدَقَةٌ وَصِلَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Talhah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ distinguished charity to the poor from charity to the kinsman, the latter combining two virtues. > **"Charity to the poor is charity, and to the kinsman is charity and joining."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ مسکین کو صدقہ کرنا صدقہ ہے ‘ اور رشتے دار کو صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے ‘ اور صلہ رحمی بھی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4650

Majma al-Zawaid #4650

وَعَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَفْضَلُ الصَّدَقَةِ الصَّدَقَةُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الْكَاشِحِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Kulthum bint Uqbah (رضي الله عنها) reported that the Prophet ﷺ described the most excellent charity as that given to the spiteful kinsman. > **"The best charity is charity to the spiteful kinsman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ سب سے زیادہ فضیلت والا صدقہ دشمنی رکھنے والے رشتے دار کو صدقہ کرنا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4651

Majma al-Zawaid #4651

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ الصَّدَقَةَ عَلَى ذِي قَرَابَةٍ يُضَعَّفُ أَجْرُهَا مَرَّتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ described the reward of charity to a relative as doubled twofold. > **"Charity to a relative has its reward doubled twofold."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : رشتے دار کو صدقہ کرنے کا دگنا اجر ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4652

Majma al-Zawaid #4652

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَا يُعَذِّبُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنْ رَحِمَ الْيَتِيمَ، وَلَانَ لَهُ فِي الْكَلَامِ، وَرَحِمَ يُتْمَهُ وَضَعْفَهُ، وَلَمْ يَتَطَاوَلْ عَلَى جَارِهِ بِفَضْلِ مَا آتَاهُ اللَّهُ "" وَقَالَ: "" يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، وَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَدَقَةً مِنْ رَجُلٍ، وَلَهُ قَرَابَةٌ مُحْتَاجُونَ إِلَى صِلَتِهِ وَيَصْرِفُهَا إِلَى غَيْرِهِمْ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَنْظُرُ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيْسَ بِالْمَتْرُوكِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ swore by Him who sent him with truth that Allah will not punish on the Resurrection Day one who shows mercy to the orphan, speaks gently to him, pities his orphanhood and weakness, and does not vaunt over his neighbor with Allah's bounty. He then addressed his nation with an oath that Allah accepts no charity diverted from needy kin to others and will not look upon its doer. > **"By Him who sent me with the truth, Allah will not punish on the Day of Resurrection one who shows mercy to the orphan, is gentle to him in speech, pities his orphanhood and weakness, and does not vaunt over his neighbor with the surplus Allah has given him. O nation of Muhammad, by Him who sent me with the truth, Allah does not accept charity from a man whose needy kin require his joining while he diverts it to others. By Him in whose Hand is my soul, Allah will not look at him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کو عذاب نہیں دے گا ‘ جو یتیم پر رحم کرتا ہو ‘ اور اس کے ساتھ نرم بات کرتا ہو وہ اس کے یتیم ہونے اور کمزور ہونے پر رحم کرتا ہو ‘ اور اللہ تعالیٰ نے اسے جو کچھ عطا کیا ہے وہ اضافی ہونے کی وجہ سے اپنے پڑوسی کے سامنے خود کو نمایاں نہ کرتا ہو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے محمد کی اُمت ! اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے اللہ تعالی کسی ایسے شخص کا صدقہ قبول نہیں کرتا جس کے رشتے دار اس کی صلہ رحمی کے محتاج ہوں اور وہ صدقہ دوسروں کو کر دے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کی طرف نظر نہیں کرے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ابوحاتم کہتے ہیں : یہ متروک نہیں ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4653

Majma al-Zawaid #4653

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الرِّجَالِ، وَالنِّسَاءِ، فَحَضَّ الرِّجَالَ عَلَى الصَّدَقَةِ، ثُمَّ أَقْبَلُ عَلَى النِّسَاءِ فَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَبَعَثَتْ إِلَيْهِ زَيْنَبُ - امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ - بِلَالًا فَقَالَتْ: اقْرَأْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنِ امْرَأَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ السَّلَامَ، وَلَا تُبَيِّنْ لَهُ، وَقُلْ لَهُ: هَلْ لَهَا مَنْ أَجْرٍ فِي زَوْجِهَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ وَأَيْتَامٌ فِي حِجْرِهَا - وَهُمْ بَنُو أَخِيهَا - أَنْ تَجْعَلَ صَدَقَتَهَا فِيهِمْ؟ فَأَتَى بِلَالٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "" نَعَمْ لَهَا أَجْرُهَا أَجْرَانِ: أَجْرُ الْقَرَابَةِ، وَأَجْرُ الصَّدَقَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نَصْرٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ stood among men and women, urged the men to charity, then turned to the women with the same urging. Zaynab, the wife of Abdullah, sent Bilal (رضي الله عنه) asking him to convey greeting from a Muhajir woman without naming her, and to ask whether she earns reward by placing her charity with her migrant husband who owns nothing and with orphan nephews in her care. Bilal brought the question, and the Prophet ﷺ affirmed two rewards. > **"Yes. She has her reward twofold: the reward of kinship and the reward of charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ مردوں اور خواتین کے درمیان کھڑے ہوئے آپ نے پہلے مردوں کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی پھر آپ خواتین کی طرف متوجہ ہوئے اور ان کو صدقہ کرنے کی ترغیب دی حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم ﷺ کے پاس بھیجا اس خاتون نے کہا : تم نبی اکرم ﷺ کو یہ کہنا کہ مہاجرین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے سلام پیش کیا ہے تم نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ بیان نہ کرنا ( کہ میں نے یہ کہا ہے ) تم نبی اکرم ﷺ سے یہ کہنا کہ کیا اس عورت کو اپنے شوہر کے بارے میں اجر ملے گا جس کا تعلق مہاجرین سے ہے ‘ اور جس کے پاس کوئی چیز نہیں ہے ‘ اور اس عورت کے زیر پرورش یتیم بچے بھی ہیں اور وہ بچے اس عورت کے بھتیجے ہیں کہ اگر وہ صدقہ کو ان ( بچوں اور اپنے شوہر ) پر خرچ کرتی ہے ؟ حضرت بلال رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ نے فرمایا : جی ہاں ۔ اس عورت کو دگنا اجر ملے گا رشتے داری کے حقوق ادا کرنے کا اجر اور صدقہ کرنے کا اجر ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصر ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4654

Majma al-Zawaid #4654

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْصَرَفَ يَوْمًا مِنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ فَأَتَى النِّسَاءَ فِي الْمَسْجِدِ فَوَقَفَ عَلَيْهِنَّ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ بِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ، وَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ أَنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتَقَرَّبْنَ إِلَى اللَّهِ بِمَا اسْتَطَعْتُنَّ "". وَكَانَ فِي النِّسَاءِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَأَتَتْ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا سَمِعَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخَذَتْ حُلِيًّا لَهَا، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَيْنَ تَذْهَبِينَ بِهَذَا الْحُلِيِّ؟ قَالَتْ: أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ رَجَاءَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْ أَهْلِ النَّارِ. فَقَالَ: وَيْلَكِ هَلُمِّي فَتَصَدَّقِي عَلَيَّ، وَعَلَى وَلَدِي، فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ حَتَّى أَذْهَبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَذَهَبَتْ تَسْتَأْذِنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالُوا لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَيُّ الزَّيَانِبُ هِيَ؟ "" قَالُوا: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: "" ائْذَنُوا لَهَا "". فَدَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُ مِنْكَ مَقَالَةً فَرَجَعْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَحَدَّثْتُهُ، فَأَخَذْتُ حُلِيِّي أَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَى اللَّهِ وَإِلَيْكَ رَجَاءَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي اللَّهُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ. فَقَالَ لِي ابْنُ مَسْعُودٍ: تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيَّ، وَعَلَى وَلَدِي، فَإِنَّا لَهُ مَوْضِعٌ، فَقُلْتُ: حَتَّى أَسْتَأْذِنَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَصَدَّقِي بِهِ عَلَيْهِ، وَعَلَى بَنِيهِ، فَإِنَّهُمْ لَهُ مَوْضِعٌ "". ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ مَا سَمِعْتُ مِنْكَ حِينَ وَقَفْتَ عَلَيْنَا "" مَا رَأَيْتُ مِنْ نَوَاقِصِ عَقْلٍ [قَطْ] وَلَا دِينٍ أَذْهَبَ بِقُلُوبِ ذَوِي الْأَلْبَابِ مِنْكُنَّ؟ "" قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا نُقْصَانُ دِينِنَا وَعُقُولِنَا؟ قَالَ: "" أَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ فَالْحَيْضَةُ الَّتِي تُصِيبُكُنَّ تَمْكُثُ إِحْدَاكُنَّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَمْكُثَ لَا تُصَلِّي وَلَا تَصُومُ، فَذَلِكُنَّ مِنْ نُقْصَانِ دِينِكُنَّ، وَأَمَّا مَا ذَكَرْتُ مِنْ نُقْصَانِ عُقُولِكُنَّ فَشَهَادَتُكُنَّ إِنَّمَا شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ نِصْفُ شَهَادَةِ الرَّجُلِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ left the dawn prayer one day, came to the women in the mosque, stood over them and warned them concerning deficiency of mind and religion, their majority among the people of Fire, and the need to draw near to Allah as able. The wife of Abdullah ibn Masud went to him, told him what she heard, and took her jewelry intending nearness to Allah and His Messenger in hope of escape from the Fire. Ibn Masud told her to give it to him and his child as its proper place. She refused until consulting the Prophet ﷺ, sought permission, was asked which Zaynab and identified as the wife of Abdullah, was admitted, repeated the account, and was told to give it to them. She then asked about the statement on deficiency, what deficiency of religion and minds means, and was told of menses preventing prayer and fasting and of a woman's testimony being half a man's. > **"O company of women, I have not seen any deficient in mind and religion more sweeping to the hearts of the resolute than you, and I have seen that you are the majority of the people of Fire on the Day of Resurrection, so draw near to Allah as much as you can. Admit her. Give it in charity to him and to his sons, for they are its proper place. As for what I mentioned of deficiency in your religion, it is the menses that befall you, when one of you remains as long as Allah wills without praying or fasting, that is part of the deficiency of your religion. And as for what I mentioned of deficiency in your minds, it is your testimony, for a woman's testimony is only half a man's testimony."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ صبح کی نماز پڑھ کے فارغ ہوئے آپ مسجد میں خواتین کے پاس تشریف لائے آپ ان کے پاس ٹھہر گئے آپ نے ارشاد فرمایا : اے خواتین کے گروہ ! میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے نقص والی ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو تم سے زیادہ جلدی ‘ سمجھ دار لوگوں کے دلوں کو لے جاتی ہو ‘ اور میں نے دیکھا ہے کہ قیامت کے دن اہل جہنم کی اکثریت تمہاری ہو گی تو تم جہاں تک ہو سکے اللہ تعلی کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو ان خواتین میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بھی موجود تھیں وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی جو بات سنی تھی اس کے بارے میں انہیں بتایا انہوں نے اپنا زیور لیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم اپنا زیور لے کے کہاں جا رہی ہو ؟ اس نے کہا : میں اس کے ذریعے اللہ تعالی اور اس کے رسول کی بارگاہ میں قرب حاصل کرنا چاہتی ہوں ۔ یہ امید رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنمی نہیں کرے گا ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم لاؤ اور مجھے صدقہ کرو اور میرے بچوں کے اوپر صدقہ کرو کیونکہ ہم اس بات کے مستحق ہیں اس خاتون نے کہا : جی نہیں پہلے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤں گی ( اور آپ سے اس بارے میں دریافت کروں گی ) پھر وہ خاتون گئیں اس نے نبی اکرم ﷺ کے ہاں اندر آنے کی اجازت مانگی لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! زینب اندر آنے کی اجازت مانگ رہی ہے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون سی زینب ؟ لوگوں نے بتایا : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اندر آنے دو وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کی گفتگو سنی تھی میں واپس حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گئی میں نے انہیں یہ بات بتائی میں نے اپنا زیور لیا تاکہ میں اللہ تعالیٰ اور آپ کی بارگاہ میں قرب حاصل کروں یہ امید رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اہل جہنم میں سے نہیں کرے گا ‘ تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : تم یہ ( زیور ) مجھ پر اور میری اولاد پر صدقہ کرو کیونکہ ہم اس بات کے مستحق ہیں تو میں نے کہا : جب تک میں نبی اکرم ﷺ سے اجازت نہیں لیتی ( میں ایسا نہیں کروں گی ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم وہ ( زیور ) اس پر اور اس کے بچوں پر صدقہ کرو کیونکہ ان کا حق ہے پھر اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو سنا تھا جب آپ ہمارے پاس ٹھہرے تھے ۔ آپ نے فرمایا : میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص مخلوق نہیں دیکھی جو تم سے زیادہ جلدی سمجھ دار لوگوں کے دلوں کو لے جاتی ہو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے دین اور ہماری عقل میں کیا کمی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہارے دین میں کمی کا جو ذکر کیا تھا اس سے مراد حیض ہے ‘ جو تم خواتین کو لاحق ہوتا ہے ‘ اور پھر جب تک اللہ کو منظور ہوتا ہے کوئی عورت ٹھہری رہتی ہے وہ اس دوران نہ نماز ادا کرتی ہے ‘ اور نہ روزہ رکھتی ہے ‘ تو یہ تمہارے دین میں کمی ہے ‘ اور جہاں تک میں نے عقل میں کمی کا ذکر کیا تھا ‘ تو اس سے مراد تم خواتین کا گواہی دینا ہے کہ عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف ہوتی ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

4655

Majma al-Zawaid #4655

«وَعَنْ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّ وَلَدِهِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَنَاعَ الْيَدِ. قَالَ: فَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ صَنْعَتِهَا قَالَتْ: فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ: لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ بِشَيْءٍ؟ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ: وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي!! فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبِيعُ مِنْهَا وَلَيْسَ لِي وَلَا لِوَلَدِي وَلَا لِزَوْجِي نَفَقَةٌ غَيْرُهَا، وَقَدْ شَغَلُونِي عَنِ الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِشَيْءٍ فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ فِيمَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ فَإِنَّ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرَ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ، وَقَدْ تُوبِعَ.

EnglishUnverified translation

Raitah, wife of Abdullah ibn Masud and mother of his child, was skilled with her hand and spent from her craft upon him and his child. She complained to Abdullah that he and his child kept her from charity so she could give nothing alongside them. He swore he would dislike her doing so if she earned no reward therein. She came to the Messenger of Allah ﷺ, explained she earns by her craft with no other maintenance for herself, her child, or her husband, and asked whether spending upon them earns reward. He commanded spending and promised reward for it. > **"Spend upon them, for you have therein the reward of what you spend upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اور ان کی ام ولد سیدہ رائطہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : وہ ایک ایسی خاتون تھی جو دست کاری جانتی تھیں راوی بیان کرتے ہیں : وہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد پر اپنی آمدن خرچ کیا کرتی تھیں وہ بیان کرتی ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا آپ نے اور آپ کے بچوں نے مجھ کو صدقہ کرنے سے روکا ہوا ہے آپ لوگوں کے ہمراہ میں کوئی چیز صدقہ نہیں کر پاتی ہوں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اگر تمہیں اس میں اجر نہ ملتا ہوتا تو تمہیں ایسا کرنا پڑتا وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کام کاج کرنے والی عورت ہوں جسے میں فروخت کر دیتی ہوں میرے لئے اور میرے بچوں کے لئے اور میرے شوہر کے لئے اس آمدن کے علاوہ کوئی خرچ کا ذریعہ نہیں ، لیکن ان لوگوں کی وجہ سے میں صدقہ نہیں کر پاتی ہوں کہ کوئی چیز صدقہ کر دوں تو کیا مجھے اس چیز کے حوالے سے اجر ملے گا ‘ جو میں ان پر خرچ کرتی ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا : ’’ تم ان پر خرچ کرو کیونکہ تم ان پر جو خرچ کرو گی تمہیں اس پر اجر ملے گا “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے لیکن ’’ ثقہ ‘‘ ہے اس کی متابعت کی گئی ہے ۔

4656

Majma al-Zawaid #4656

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَضْحَى، أَوْ فِطْرٍ، فَصَلَّى، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَوَعَظَ النَّاسَ، وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ، وَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا "". ثُمَّ انْصَرَفَ فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ، فَقَالَ لَهُنَّ: "" تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ "". فَقُلْنَ: بِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِقَلْبِ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ "". فَقُلْنَ: مَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا وَدِينِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ بِنِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ؟ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا. أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ؟ "". قُلْنَ: بَلَى. قَالَ: "" فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا "". قَالَ: ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ جَاءَتْهُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ. قَالَ: "" أَيُّ الزَّيَانِبُ؟ "". قِيلَ: امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ: "" ائْذَنْ لَهَا "". فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، إِنَّكَ أَمَرْتَنَا الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ، وَعِنْدِي حُلِيٌّ لِي، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ فَزَعْمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ هُوَ وَوَلَدُهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَدَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ، زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ went out on Adha or Fitr, prayed, admonished the people and commanded them to give charity, then passed the women and warned them that he had seen them as the majority of the Fire. Asked why, he cited frequent cursing, ingratitude to husbands, and deficiency of mind and religion sweeping the resolute man's heart. Asked what that deficiency is, he cited a woman's testimony as half a man's, and menses preventing prayer, as deficiency of mind and of religion. He then returned home, where the wife of Abdullah ibn Masud sought permission, was asked which Zaynab and identified, was admitted, explained she had jewelry she meant for charity while Ibn Masud claimed he and his child were most deserving, and the Prophet ﷺ confirmed his truthfulness. > **"O people, give charity. Give charity, for I have seen you as the majority of the people of Fire. You curse often and deny the husband. I have not seen any deficient in mind and religion more sweeping to the heart of the resolute man than one of you, O company of women. Is not a woman's testimony half a man's testimony? That is part of the deficiency of her mind. When a woman menstruates does she not pray? That is part of the deficiency of her religion. Admit her. Ibn Masud has spoken truly. Your husband and your child are most deserving of those upon whom you bestow your charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ عیدالاضحی یا شاید عیدالفطر کے دن نکلے آپ نے نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! صدقہ کرو پھر آپ وہاں سے مڑے اور خواتین کے پاس سے گزرے آپ نے ان سے فرمایا تم صدقہ کرو کیونکہ میں نے اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ( یعنی خواتین کی ) دیکھی ہے خواتین نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیونکہ تم بکثرت لعنت کرتی ہو ‘ اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو تم میں سے کسی ایک سے زیادہ جلدی کسی سمجھ دار شخص کے دل کو لے جائے اے خواتین کے گروہ ! خواتین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عورت کے عقل اور دین میں کیا کمی ہوتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف نہیں ہوتی ہے تو یہ اس کے عقل کی کمی کی وجہ سے ہے کیا جب عورت کو حیض آتا ہے وہ نماز ادا نہیں کرتی ہم نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اس کے دین میں کمی ہے پھر نبی اکرم ﷺ وہاں سے تشریف لے گئے یہاں تک کہ اپنے گھر آ گئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اندر آنے کی اجازت مانگ رہی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون سی زینب عرض کی گئی : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے اجازت دے دو آپ نے اسے اجازت دی تو اس خاتون نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آج آپ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا میرے پاس زیور تھا ۔ میں نے اس کو صدقہ کرنے کا ارادہ کیا ، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ وہ اور ان کی اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ میں ان پر صدقہ کروں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابن مسعود نے ٹھیک کہا ہے تمہارا شوہر اور تمہاری اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ تم ان پر صدقہ کرو “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4657

Majma al-Zawaid #4657

وَعَنْ جَمْرَةَ بِنْتِ قُحَافَةَ قَالَتْ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ: "" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ "". فَأَتَتْ زَيْنَبُ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زَوْجِي مُحْتَاجٌ فَهَلْ يَجُوزُ لِي أَنْ أُعُودَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، لَكِ أَجْرَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَازِبٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Jamrah bint Quhafah (رضي الله عنها) reported that she heard the Messenger of Allah ﷺ in the Farewell Pilgrimage command women to give even from their jewelry, warning they are the majority of the Fire. Zaynab then asked whether she may bestow upon her needy husband, and he affirmed two rewards. > **"O company of women, give charity even from your jewelry, for you are the majority of the people of Fire. Yes. You have two rewards."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ جمرہ بنت قحافہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے خواتین کے گروہ تم صدقہ کرو خواہ اپنے زیور ہی کر دو کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آئیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے شوہر محتاج ہیں تو کیا میرے لئے یہ بات جائز ہو گی کہ میں ان کی مدد کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! ۔ اس طرح تمہیں دگنا اجر ملے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عازب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4658

Majma al-Zawaid #4658

عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا أَعْطَى الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Amr ibn Umayyah (رضي الله عنه) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ describe a man's gift to his wife as charity. > **"Whatever a man gives his wife is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آدمی اپنی بیوی کو جو دیتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4659

Majma al-Zawaid #4659

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا سَقَى امْرَأَتَهُ مِنَ الْمَاءِ أُجِرَ "". قَالَ: فَأَتَيْتُهَا فَسَقَيْتُهَا وَحَدَّثْتُهَا بِمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَفِي حَدِيثِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ ضَعْفٌ، وَهَذَا مِنْهَا.

EnglishUnverified translation

Al-Irbad ibn Sariyah (رضي الله عنه) reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ promise reward for giving one's wife water. He then went to his wife, gave her to drink, and told her what he had heard. > **"When a man gives his wife water to drink, he is rewarded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آدمی جب اپنی بیوی کو پانی پلاتا ہے ‘ تو اسے اس کا اجر ملے گا “۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں اپنی بیوی کے پاس آیا میں نے اسے پانی پلایا اور اسے وہ حدیث بیان کی جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے ‘ زہری سے اس کے روایت کرنے میں ضعف پایا جاتا ہے ‘ اور یہ روایت بھی ان میں سے ایک ہے ۔

4660

Majma al-Zawaid #4660

وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يَكْرِبَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا أَطْعَمْتَ نَفْسَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ وَلَدَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ زَوْجَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ، وَمَا أَطْعَمْتَ خَادِمَكَ فَهُوَ لَكَ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي لِهَذِهِ الْأَحَادِيثِ وَغَيْرِهَا طُرُقٌ فِي النِّكَاحِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Miqdam ibn Madikarib (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ counted feeding oneself, one's child, one's wife, and one's servant all as charity for the giver. > **"What you feed yourself is charity for you, what you feed your child is charity for you, what you feed your wife is charity for you, and what you feed your servant is charity for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مقدام بن معدیکرب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو چیز تم خود کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہے ‘ جو تم اپنی اولاد کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہے ‘ جو تم اپنی بیوی کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہے ‘ اور جو تم اپنے خادم کو کھلاتے ہو وہ تمہارے لئے صدقہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت کی دیگر احادیث مختلف طرق کے ساتھ نکاح سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4661

Majma al-Zawaid #4661

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ كَانَ لَهُ بِنْتَانِ، أَوْ أُخْتَانِ، أَوْ عَمَّتَانِ، أَوْ خَالَتَانِ وَعَالَهُنَّ فُتِحَتْ لَهُ ثَمَانِيَةُ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ - يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعِينُوهُ، يَا عِبَادَ اللَّهِ أَعْطُوهُ، يَا عِبَادَ اللَّهِ أَقْرِضُوهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ الْعَدَوِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported that the Messenger of Allah ﷺ promised one who maintains two daughters, two sisters, two paternal aunts, or two maternal aunts the opening of the eight gates of Paradise, calling upon Allah's servants to aid, give, and lend him. > **"Whoever has two daughters, or two sisters, or two paternal aunts, or two maternal aunts, and maintains them, the eight gates of Paradise are opened for him. O servants of Allah, aid him. O servants of Allah, give him. O servants of Allah, lend him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کی دو بیٹیاں ہوں یا دو بہنیں ہوں یا دو پھوپھیاں ہوں یا دو خالائیں ہوں اور وہ ان کی کفالت کرے تو اس شخص کے لئے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیے جائیں گے اے اللہ کے بندو ! تم اس کی مدد کرو اے اللہ کے بندو ! تم اسے دو اے اللہ کے بندو ! تم اسے قرض دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن حبیب عدوی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

4662

Majma al-Zawaid #4662

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا أَنْفَقَ الْمَرْءُ عَلَى نَفْسِهِ، وَوَلَدِهِ، وَأَهْلِهِ، وَذِي رَحِمِهِ، وَقَرَابَتِهِ فَهُوَ لَهُ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مِسْوَرُ بْنُ الصَّلْتِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ counted a man's spending upon himself, his child, his family, his womb-relatives, and his kin as charity for him. > **"Whatever a man spends upon himself, his child, his family, his womb-relative, and his kin is charity for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی اپنے آپ پر اپنی اولاد پر اپنے اہل خانہ پر اپنے رشتے داروں پر اپنے قریبی عزیزوں پر جو بھی خرچ کرتا ہے وہ صدقہ ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسور بن صلت ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

4663

Majma al-Zawaid #4663

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أُعْطِيَ مِنْ فَضْلِ مَا خَوَّلَنِي اللَّهُ؟ قَالَ: "" ابْدَأْ بِأُمِّكَ، وَأَبِيكَ، وَأُخْتِكَ، وَأَخِيكَ، وَالْأَدْنَى فَالْأَدْنَى، وَلَا تَنْسَ الْجِيرَانَ وَذَا الْحَاجَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal (رضي الله عنه) reported that a man came to the Prophet ﷺ asking whom to give surplus from what Allah entrusted to him, and was commanded to begin with mother, father, sister, brother, then nearest, without forgetting neighbors and the needy. > **"Begin with your mother, your father, your sister, your brother, then nearest then nearest, and do not forget neighbors and the needy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے عطا کیا ہے اس میں سے جو اضافی چیز ہے وہ میں کسے دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنی ماں سے آغاز کرو پھر اپنے باپ اپنی بہن اپنے بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں کو دو اور تم پڑوسیوں اور حاجت مندوں کو نہ بھول جانا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن احمد عرزمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4664

Majma al-Zawaid #4664

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْيَدُ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ، وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ، وَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ، فَأَدْنَاكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ preferred the upper hand to the lower and commanded beginning with dependents in their order of nearness. > **"The upper hand is better than the lower hand, and begin with those you maintain: your mother, your father, your sister, your brother, then nearest then nearest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے زیادہ فضیلت رکھتا ہے ‘ اور تم اس سے آغاز کرو جس کی تم کفالت کرتے ہو تمہاری ماں تمہارا باپ تمہاری بہن اور تمہارا بھائی اور ( پھر ) درجہ بدرجہ قریبی عزیز ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4665

Majma al-Zawaid #4665

وَعَنْ صَعْصَعَةَ بْنِ نَاجِيَةَ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رُبَّمَا فَضَلَتْ لِي الْفَضْلَةُ خَبَّأْتُهَا لِلنَّائِبَةِ وَابْنِ السَّبِيلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Sasah ibn Najiyah (رضي الله عنه) reported that he entered upon the Prophet ﷺ and asked about surplus he stores for calamity and the wayfarer, and was directed to mother, father, sister, brother, then nearest. > **"Your mother and your father, your sister and your brother, then nearest then nearest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صعصعہ بن ناجیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بعض اوقات میرے پاس اضافی چیز ہوتی ہے ‘ جسے میں نے کسی مشکل یا مسافر کے لئے سنبھال کے رکھا ہوتا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنی ماں اپنے باپ اپنی بہن اپنے بھائی اور درجہ بدرجہ قریبی عزیزوں ( پر اضافی رقم خرچ کرو ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4666

Majma al-Zawaid #4666

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَنْفَقَ عَلَى نَفْسِهِ صَدَقَةً يَسْتَعِفُّ بِهَا فَهِيَ صَدَقَةٌ، وَمَنْ أَنْفَقَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَوَلَدِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ فَهِيَ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ أَحَدُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ counted spending upon oneself for chastity and spending upon wife, child, and household as charity. > **"Whoever spends upon himself a charity by which he preserves his chastity, it is charity, and whoever spends upon his wife, his child, and his household, it is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے آپ پر خرچ کرتا ہے ‘ تاکہ وہ اس کے ذریعے لوگوں سے مانگنے ) بچ کے رہے تو یہ صدقہ ہے اور جو شخص اپنی بیوی پر اور اپنی اولاد پر اور اپنے اہل خانہ پر خرچ کرتا ہے ‘ تو یہ صدقہ ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے اسے دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ جن میں سے ایک کی سند حسن ہے ۔

4667

Majma al-Zawaid #4667

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «نَفَقَةُ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْكُوفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَبَقِيَّةُ أَحَادِيثِ النَّفَقَةِ فِي النِّكَاحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi Awfa (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ described a man's spending upon his family as charity. > **"A man's spending upon his family is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی کا اپنے اہل خانہ پر خرچ کرنا صدقہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم اور کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر کوفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : خرچ کرنے سے متعلق دیگر احادیث نکاح سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ۔

4668

Majma al-Zawaid #4668

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ "". قَالُوا: إِلَّا مَنْ؟ قَالَ: "" هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ "". قَالُوا: إِلَّا مَنْ؟ قَالَ: "" هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ "". قَالُوا: إِلَّا مَنْ؟ قَالَ: حَتَّى خِفْنَا أَنْ تَكُونَ قَدْ وَجَبَتْ. قَالَ: "" إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ بْنُ سَعِيدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ thrice declared ruin upon the wealthy hoarders. Each time they asked who is excepted, until they feared it settled as obligation, whereupon he excepted one who gives thus and thus on all sides, noting how few they are. > **"Except one who says thus and thus and thus, and how few they are."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( مال کی ) کثرت والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے لوگوں نے عرض کی : البتہ کس شخص کا معاملہ مختلف ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کثرت والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے لوگوں نے عرض کی : البتہ کس کا معاملہ مختلف ہے راوی بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ ( یہ بات ) واجب ہو جائے گی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کرے ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرے ) اور ایسے لوگ کم ہیں ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی عطیہ بن سعید ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

4669

Majma al-Zawaid #4669

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَا أَبَا ذَرٍّ، أَيُّ جَبَلٍ هَذَا؟ "". قُلْتُ: أُحُدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لِي قِطَعًا ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدَعُ مِنْهُ قِيرَاطًا "". قَالَ: قُلْتُ: قِنْطَارًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" قِيرَاطًا ""، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ: [يَا أَبَا ذَرٍّ]، "" إِنَّمَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَقَلُّ، وَلَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَكْثَرُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ asked him what mountain this is, he answered Uhud, and the Prophet ﷺ swore he would dislike holding it as pieces of gold spent in Allah's way while leaving a qirat. Asked whether the exception is a qintar, he insisted it is a qirat, repeating it thrice, then explained he states the least, not the most. > **"O Abu Dharr, what mountain is this? By Him in whose Hand is my soul, it would not please me that it were mine as pieces of gold I spend in the way of Allah Almighty, leaving of it a qirat. A qirat. I only state what is least, and I do not state what is most."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! یہ کون سا پہاڑ ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ احد پہاڑ ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس سونے کا ٹکڑا ہو جسے میں اللہ کی راہ میں خرچ کروں پھر اس میں سے ایک قیراط چھوڑ دوں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک قنطار نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک قیراط یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! میں وہ بات بیان کرتا ہوں ‘ جو سب سے کم ہے ‘ میں وہ نہیں کہتا ہوں جو سب سے زیادہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سالم بن ابوحفصہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4670

Majma al-Zawaid #4670

وَعَنْ أَبِي السَّلِيلِ قَالَ: «وَقَفَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَوْ عَمِّي أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبَقِيعِ، وَهُوَ يَقُولُ: "" مَنْ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ أَشْهَدُ لَهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". قَالَ: فَحَلَلْتُ مِنْ عِمَامَتِي فَجَاءَ لَوْثًا أَوْ لَوْثَيْنِ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِمَا فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ بَنِي آدَمَ فَعَقَدْتُ عَلَيَّ عِمَامَتِي فَجَاءَ رَجُلٌ وَلَمْ أَرَ رَجُلًا بِالْبَقِيعِ أَشَدَّ سَوَادًا [أَصْفَرَ] مِنْهُ، وَلَا آدَمَ، يَعِيرُ نَاقَةٍ لَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ نَاقَةً أَحْسَنَ مِنْهَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَدَقَةٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: دُونَكَ هَذِهِ النَّاقَةَ. قَالَ: فَلَمَزَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: هَذَا يَتَصَدَّقُ بِهَذِهِ، فَوَاللَّهِ لَهِيَ خَيْرٌ مِنْهُ. فَسَمِعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" كَذَبْتَ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْهَا "" - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - ثُمَّ قَالَ: "" وَيْلٌ لِأَصْحَابٍ الْمِئِينِ مِنَ الْإِبِلِ "" [ثَلَاثًا]. قَالُوا: إِلَّا مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا ""، وَجَمَعَ بَيْنَ كَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ، وَعَنْ شِمَالِهِ، ثُمَّ قَالَ: "" قَدْ أَفْلَحَ الْمُجْهِدُ الْمُزْهِدُ "" - ثَلَاثًا - "" الْمُزْهِدُ فِي الْعَيْشِ الْمُجْهِدُ فِي الْعِبَادَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Salil reported that a man halted at their gathering in al-Baqi and related from his father or uncle that he saw the Messenger of Allah ﷺ in al-Baqi promising his witness on the Resurrection Day for whoever gives charity. The narrator unwrapped one or two coils of his turban intending to give them, then human hesitation seized him and he retied it. Then a very dark man arrived leading a she-camel finer than any seen in al-Baqi, asked whether to give it, was told yes, and offered it. Another man nudged him saying the camel is better than him, the Prophet ﷺ heard it, thrice declared him wrong and the giver better, thrice warned owners of hundreds of camels, excepted the generous giver gesturing with both hands to right and left, then thrice declared success for the striving ascetic, ascetic in livelihood and striving in worship. > **"Whoever gives charity, I shall bear witness for him thereby on the Day of Resurrection. Yes. Take this she-camel. You have lied, rather he is better than you and than it. Woe to the owners of hundreds of camels. Except one who says thus and thus. The striving ascetic has succeeded. The ascetic in livelihood, the striving in worship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسلیل بیان کرتے ہیں : ایک شخص بقیع میں ہماری محفل کے پاس آ کر ہمارے پاس ٹھہرا اس نے کہا : میرے والد نے یا شاید میرے چچا نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو بقیع میں دیکھا آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : جو شخص کوئی چیز صدقہ کرے گا اس کی وجہ سے قیامت کے دن میں اس کے حق میں گواہی دوں گا وہ صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے اپنا عمامہ کھولا ‘ ابھی ایک یا دو ہی پیچ کھولے تھے ‘ میں اس کو صدقہ کرنا چاہتا تھا ، لیکن پھر میرے من میں وہی چیز آ گئی ، جو اولاد آدم کے من میں آ جاتی ہے ‘ تو میں نے اپنا عمامہ دوبارہ باند لیا ، پھر ایک شخص آیا میں نے بقیع میں اس سے زیادہ سیاہ رنگ کا شخص یا گندمی رنگ کا شخص نہیں دیکھا تھا وہ اپنی اونٹنی لے کے آیا میں نے بقیع میں اس سے زیادہ خوبصورت اونٹنی کوئی نہیں دیکھی تھی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں صدقہ کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ۔ اس نے عرض کی : آپ یہ اونٹنی لے لیں تو ایک شخص نے اسے ٹہوکا دیا اور کہا : یہ شخص تو یہ اونٹنی صدقہ کر رہا ہے اللہ کی قسم یہ اونٹنی تو اس سے زیادہ بہتر ہے نبی اکرم ﷺ نے یہ بات سن لی تو ارشاد فرمایا تم نے غلط کہا ہے بلکہ وہ تم سے اور اس سے زیادہ بہتر ہے ‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کے لئے بربادی ہے ‘ جن کے پاس دو سو اونٹ ہوں یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! البتہ کس شخص کا معاملہ مختلف ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو اس طرح اور اس طرح کرتا ہے نبی اکرم ﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کے اس طرح اشارہ کیا ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوشش کرنے والے اور زہد اختیار کرنے والے کامیاب ہو گئے ‘‘۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ زہد اختیار کرنے سے مراد زندگی کے معاملات میں زہد اختیار کرنا ہے ‘ اور کوشش کرنے سے مراد عبادت میں اہتمام کرنا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

4671

Majma al-Zawaid #4671

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عِمْرَانُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ فِيهِ الْأَزْدِيُّ: يُعْرَفُ وَيُنْكَرُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الزُّهْدِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abdurrahman ibn Abza (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ declared ruin upon the wealthy hoarders except one who gives on all sides. > **"The wealthy hoarders have perished, except one who says thus and thus."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابزی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کثرت والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جو اس طرح اور اس طرح کہتا ہے ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمران بن سلیمان ہے ‘ جس کے بارے میں ازدی نے یہ کہا ہے : یہ کچھ معروف اور کچھ منکر ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ‘ اس نوعیت کی دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4672

Majma al-Zawaid #4672

عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: «سَمِعَتِ الْأَنْصَارُ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِمَالٍ مِنْ قِبَلِ الْبَحْرَيْنِ، وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ إِلَى الْبَحْرَيْنِ، فَوَافَوْا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ، [فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -] تَعَرَّضُوا لَهُ، فَلَمَّا رَآهُمْ تَبَسَّمَ وَقَالَ: "" لَعَلَّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ قَدِمَ وَقَدِمَ بِمَالٍ؟ "". قَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" أَبْشِرُوا، وَأْمَلُوا خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ إِذَا صُبَّتْ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا فَتَنَافَسْتُمُوهَا كَمَا تَنَافَسَهَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Miswar ibn Makhramah (رضي الله عنه) reported that the Ansar heard Abu Ubaydah had arrived with wealth from Bahrain, whither the Prophet ﷺ had sent him, so they joined the dawn prayer with him. When he finished they faced him, he smiled at them, asked whether they heard of the arrival with wealth, they affirmed it, and he bade them glad tidings and hope for good, swearing his fear is not poverty but worldly rivalry as with those before them. > **"Perhaps you have heard that Abu Ubaydah ibn al-Jarrah has arrived, and has arrived with wealth? Rejoice and hope for good. By Allah, it is not poverty I fear for you, but when the world is poured upon you and you rival therein as those before you rivaled therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار نے یہ بات سنی کہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے کے آئے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں بحرین بھیجا ہوا تھا ، تو وہ لوگ صبح کی نماز میں نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں شریک ہوئے جب نبی اکرم ﷺ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو وہ لوگ آپ کے سامنے آ گئے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ کیا ‘ تو آپ مسکرا دیے آپ نے ارشاد فرمایا : شاید تم لوگوں نے یہ بات سنی ہے کہ ابوعبیدہ آیا ہے ‘ اور مال لے کے آیا ہے ان لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم خوشخبری حاصل کرو اور بھلے کی امید رکھو اللہ کی قسم تم لوگوں کے بارے میں مجھے غربت کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ تم لوگوں پر دنیا کو انڈیل دیا جائے گا ‘ اور تم اس کی طرف اسی طرح راغب ہو جاؤ گے جس طرح تم سے پہلے کے لوگ اس کی طرف راغب ہو گئے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4673

Majma al-Zawaid #4673

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْفَقْرَ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ التَّكَاثُرَ، وَمَا أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْخَطَأَ، وَلَكِنْ أَخْشَى عَلَيْكُمُ الْعَمْدَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ disclaimed fear of poverty and of error, and affirmed fear of rivalry for increase and of deliberate wrongdoing. > **"I do not fear poverty for you, but I fear rivalry for increase for you, and I do not fear error for you, but I fear deliberate sin for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے تم لوگوں کے بارے میں غربت کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ مجھے تم لوگوں کے بارے میں کثرت کا اندیشہ ہے مجھے تم لوگوں کے بارے میں غلطی کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ مجھے تم لوگوں کے بارے میں جان بوجھ کر کرنے کا اندیشہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4674

Majma al-Zawaid #4674

«وَعَنْ أَبِي سِنَانٍ الدُّؤَلِيِّ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ وَعِنْدَهُ نَفَرٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى سَفَطٍ أُتِيَ بِهِ مِنْ قَلْعَةٍ مِنَ الْعِرَاقِ، فَكَانَ بِهِ خَاتَمٌ، فَأَخَذَهُ بَعْضُ بَنِيهِ، فَأَدْخَلَهُ فِي فِيهِ، فَانْتَزَعَهُ عُمَرُ مِنْهُ، ثُمَّ بَكَى عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ مَنْ عِنْدَهُ: لِمَ تَبْكِي وَقَدْ فَتَحَ اللَّهُ لَكَ وَأَظْهَرَكَ عَلَى عَدُوِّكَ، وَأَقَرَّ عَيْنَكَ؟ قَالَ عُمَرُ [إِنِّي]: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا تُفْتَحُ الدُّنْيَا عَلَى قَوْمٍ إِلَّا أَلْقَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ، وَالْبَغْضَاءَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا أُشْفِقُ مِنْ ذَلِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sinan al-Duali reported that he entered upon Umar ibn al-Khattab (رضي الله عنه) while early Muhajirun sat with him. Umar sent for a chest brought from a fortress in Iraq containing a ring. One of his sons took it into his mouth, Umar pulled it away, then wept. Asked why he wept after conquest, dominance, and delight, he cited what he heard from the Messenger of Allah ﷺ about worldly opening casting enmity and hatred until the Resurrection, and his fear thereof. > **"The world is not opened upon a people but Allah Almighty casts enmity and hatred among them until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسنان دؤلی بیان کرتے ہیں : وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اس وقت ان کے پاس مہاجرین اولین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد موجود تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا کہ وہ سامان لایا جائے جو عراق کے ایک قلعہ سے آیا ہے اس میں ایک انگوٹھی موجود تھی ان کے کسی صاحبزادے نے وہ انگوٹھی لی اور اسے اپنے منہ میں ڈال لیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ ان سے واپس لی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے ان کے پاس موجود افراد میں سے کسی صاحب نے ان سے دریافت کیا : آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح نصیب کی ہے آپ کو آپ کے دشمن پر غلبہ عطا کیا ہے ‘ اور آپ کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا ہے ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ دنیا جس بھی قوم پر کشادہ کی جاتی ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیتا ہے ‘ اور یہ قیامت کے دن تک ہو گا ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو مجھے اس بات کا اندیشہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے امام ابویعلیٰ نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ( یہاں عربی متن میں اسی طرح تحریر ہے شاید یہاں یہ ہو گا کہ امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ) اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4675

Majma al-Zawaid #4675

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ هَذَا الدِّينَارَ، وَالدِّرْهَمَ أَهْلَكَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَلَا أَرَاهُمَا إِلَّا مُهْلِكَاكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُنْذِرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الزُّهْدِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ warned that the dinar and dirham destroyed those before them and, in his view, will destroy them likewise. > **"This dinar and dirham destroyed those before you, and I see them only destroying you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک دینار اور درہم انہوں نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاکت کا شکار کر دیا تھا اور ان دونوں کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ یہ تمہیں بھی ہلاکت کا شکار کر دیں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن منذر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4676

Majma al-Zawaid #4676

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ صَلَّى اللَّهُ وَعَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنَبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ فَإِنَّ مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى. وَلَا آبَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنَبَتَيْهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda (رضي الله عنه) reported that the Prophet ﷺ described two angels dispatched at every sunrise at its flanks, calling to earth's folk save men and jinn to come to their Lord since little and sufficing is better than much and distracting, and two angels at every sunset calling for replacement for the spender and ruin for the withholder. > **"O people, come to your Lord, for what is little and suffices is better than what is much and distracts. O Allah, grant the spender replacement, and grant the withholder ruin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے ‘ تو اس کے پہلو میں دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں ‘ وہ دونوں پکار کر کہتے ہیں : جس کی آواز تمام زمین والے سنتے ہیں صرف دو قسم کے گروہ ( یعنی انسان اور جنات نہیں سن پاتے ہیں ) اے لوگو اپنے پروردگار کی طرف آؤ جو چیز تھوڑی ہو ‘ اور کفایت کر جائے وہ اس سے زیادہ بہتر ہے ‘ جو زیادہ ہو ‘ اور غافل کر دے اور جب سورج غروب ہوتا ہے ، تو اس کے پہلو میں دو فرشتے بھیجے جاتے ہیں وہ دونوں پکار کر کہتے ہیں جس کی آواز تمام زمین والے سنتے ہیں صرف دو قسم کے گروہ ( یعنی انسان اور جنات ) نہیں سن پاتے ہیں وہ یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ مزید عطا فرما اور خرچ نہ کرنے والے کے مال کو ضائع کر دے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4677

Majma al-Zawaid #4677

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ: «دَخَلْتُ أَنَا، وَأَبِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِأَبِي: "" هَذَا ابْنُكَ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" مَا اسْمُهُ؟ "". قَالَ: الْحُبَابُ. قَالَ: "" لَا تُسَمِّهِ الْحُبَابَ فَإِنَّ الْحُبَابَ شَيْطَانٌ وَلَكِنْ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ "". ثُمَّ قَالَ لِأَبِي: "" مَاذَا لَكَ مِنَ الْمَالِ؟ "". قَالَ: لِي مِنْ أَنْوَاعِ الْمَالِ أَتَصَدَّقُ بِهِ، وَأُعْتِقُ، وَأَحْمِلُ وَلَكِنْ أُنْفِقُهُ فِيهِ فَيَذْهَبُ، ثُمَّ أُقَيِّدُهُ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ مَلَكًا يُنَادِي فِي السَّمَاءِ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِمُنْفِقٍ خَلَفًا وَلِمُمْسِكِ مَالِهِ تَلَفًا؟ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِمَا أُوتِرُ؟ قَالَ: "" بِـ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: 1]، وَ {قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ} [الكافرون: 1]، وَ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdurrahman ibn Abi Sabrah (رضي الله عنه) reported that he and his father entered upon the Messenger of Allah ﷺ. Asked whether this is his son, affirmed, asked his name, told Hubab, he forbade that name since Hubab is a devil and named him Abdurrahman. Then asked what wealth he holds, he answered various kinds from which he gives, frees, and mounts, but spending depletes it so he withholds it. The Prophet ﷺ reminded him of the angel's nightly call for spender and withholder. Asked with what to perform witr, he named the uppermost, the disbelievers, and sincerity chapters. > **"Do not name him Hubab, for Hubab is a devil, but he is Abdurrahman. Do you not know that an angel calls in heaven: O Allah, grant the spender replacement and the withholder of his wealth ruin? Perform witr with Glorify the Name of your Lord Most High, and Say O disbelievers, and Say He is Allah One."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابوسبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور میرے والد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے نبی اکرم ﷺ نے میرے والد سے دریافت کیا : یہ تمہارا بیٹا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس کا نام کیا ہے ۔ انہوں نے عرض کی : حباب نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس کا نام حباب نہ رکھو کیونکہ حباب شیطان ہوتا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے والد سے دریافت کیا : تمہارا کتنا مال ہے ۔ انہوں نے عرض کی : میرے پاس مال کی مختلف قسمیں ہیں جنہیں میں صدقہ بھی کرتا ہوں غلام بھی آزاد کرتا ہوں سواری کے لئے بھی دے دیتا ہوں ، لیکن جب میں اس میں سے خرچ کرتا ہوں تو وہ چلا جاتا ہے پھر میں اس کو قید کر دیتا ہوں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ ایک فرشتہ آسمان میں پکار کر کہتا ہے : ’’ اے اللہ ! خرچ کرنے والے کو اس کی جگہ عطا فرما جو شخص مال کو روک کے رکھتا ہے اس کے مال کو ضائع کر دے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے وتر میں کیا پڑھنا چاہیے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : سورت «الاعلی» سورت «الکافرون» اور سورت «اخلاص» ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4678

Majma al-Zawaid #4678

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ سَائِلًا سَأَلَ فَأَمَرَتِ الْخَادِمَ فَأَخْرَجَ لَهُ شَيْئًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَهَا: "" يَا عَائِشَةُ، لَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah (رضي الله عنها) reported that a beggar asked, she commanded the servant, who brought out something for him, whereupon the Prophet ﷺ warned her against counting lest Allah count against her. > **"O Aishah, do not count, lest Allah Almighty count against you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ منقول ہے کہ ایک مانگنے والے نے ان سے مانگا انہوں نے خادم کو حکم دیا اس خادم نے اسے کوئی چیز نکال کے دے دی تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے عائشہ ! تم شمار نہ کرو ! ورنہ اللہ تعالٰی بھی تمہیں شمار کر کے دے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4679

Majma al-Zawaid #4679

عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ: فَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: مَا أَنْفَقْتَ فَلَكَ، وَمَا أَمْسَكْتَ فَلَيْسَ لَكَ، فَذَلِكَ مَالُهُ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الزُّهْدِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالٌ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Anas (رضي الله عنه) reported from the Prophet ﷺ that every servant has three companions, one of them being his wealth, which tells him what he spends is his and what he withholds is not his. > **"There is no servant but he has three companions. As for one companion, he says: what you spend is yours, and what you withhold is not yours, and that is his wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر بندے کے تین دوست ہوتے ہیں ایک دوست یہ کہتا ہے ‘ جو تم نے خرچ کیا وہ تمہارا ہوا جو تم نے روک لیا وہ تمہارا نہ ہوا یہ آدمی کا مال ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ‘ جو مکمل روایت کے طور پر زہد سے متعلق باب میں آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4680

Majma al-Zawaid #4680

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «نَشَرَ اللَّهُ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِهِ أَكْثَرَ لَهُمَا الْمَالَ، وَالْوَلَدَ، فَقَالَ لِأَحَدِهِمَا: أَيْ فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ؟ قَالَ: لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ: أَلَمْ أُكْثِرْ لَكَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ؟ قَالَ: بَلَى أَيْ رَبِّ. قَالَ: وَكَيْفَ صَنَعْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ؟ قَالَ: تَرَكْتُهُ لِوَلَدِي مَخَافَةَ الْعَيْلَةِ عَلَيْهِمْ. قَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ تَعْلَمُ الْعِلْمَ لَضَحِكْتَ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتَ كَثِيرًا. أَمَا إِنَّ الَّذِي تَخَوَّفْتَ عَلَيْهِمْ قَدْ أَنْزَلْتُ بِهِمْ. وَيَقُولُ لِلْآخَرِ: أَيْ فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ؟ فَيَقُولُ: لَبَّيْكَ رَبِّ وَسَعْدَيْكَ. قَالَ لَهُ: أَلَمْ أُكْثِرْ لَكَ مِنَ الْمَالِ وَالْوَلَدِ؟ قَالَ: بَلَى أَيْ رَبِّ. قَالَ: فَكَيْفَ صَنَعْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ؟ قَالَ: أَنْفَقْتُ فِي طَاعَتِكَ، وَوَثِقْتُ لِوَلَدِي مِنْ بَعْدِي بِحُسْنِ طَوْلِكَ. قَالَ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ تَعْلَمُ الْعِلْمَ لَضَحِكْتَ كَثِيرًا وَلَبَكَيْتَ قَلِيلًا، أَمَا إِنَّ الَّذِي قَدْ وَثِقْتَ لَهُمْ بِهِ قَدْ أَنْزَلْتُ بِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ السَّفَرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ described Allah resurrecting two servants granted abundant wealth and children. He asks the first by name, he answers at Your service, asks whether He increased him, he affirms it, asks how he acted with it, he answers he left it for his child fearing poverty upon them, and is told had he known he would laugh little and weep much, and what he feared has befallen them. He asks the second likewise, he answers he spent in obedience and trusted his Lord's bounty for his child after him, and is told had he known he would laugh much and weep little, and what he trusted in has befallen them. > **"O so-and-so son of so-and-so? Did I not increase for you wealth and children? How did you act with what I gave you? If you knew knowledge you would laugh little and weep much. What you feared for them has befallen them. O so-and-so son of so-and-so? Did I not increase for you wealth and children? How did you act with what I gave you? If you knew knowledge you would laugh much and weep little. What you trusted in for them has befallen them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے دو بندوں کو زندہ کرے گا جنہیں اس نے بکثرت مال اور اولاد عطا کی ہو گی ان میں سے ایک سے دریافت کرے گا : اے فلاں بن فلاں وہ عرض کرے گا : اے میرے پروردگار ! میں حاضر ہوں سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے پروردگار فرمائے گا کیا میں نے تمہیں بکثرت مال اور اولاد عطا نہیں کیے تھے وہ عرض کرے گا جی ہاں اے میرے پروردگار ! پروردگار فرمائے گا میں نے جو تمہیں عطا کیا تھا تم نے اس کے بارے میں کیا طرز عمل اختیار کیا وہ جواب دے گا میں نے اسے اپنی اولاد کے لئے چھوڑ دیا اس اندیشے کے تحت کہ کہیں ان کو غربت لاحق نہ ہو جائے تو پروردگار فرمائے گا اگر تم علم رکھتے ہوتے تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے ان کے بارے میں تمہیں جس کا اندیشہ تھا وہ میں نے ان پر نازل کر دی ہے پھر پروردگار دوسرے شخص سے فرمائے گا : اے فلاں بن فلاں وہ عرض کرے گا میں حاضر ہوں اے میرے پروردگار ! اور سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہو سکتی ہے پروردگار اس سے دریافت کرے گا کیا میں نے تمہیں بکثرت مال اور اولاد عطا نہیں کیے تھے وہ عرض کرے گا جی ہاں اے میرے پروردگار ! پروردگار فرمائے گا میں نے جو تمہیں دیا تھا اس کے بارے میں تم نے کیا طرز عمل اختیار کیا وہ عرض کرے گا میں نے اسے تیری فرمانبرداری کے کام میں خرچ کیا ‘ اور اپنے بعد اپنی اولاد کے لئے میں نے تیرے کرم پر بھروسہ کیا ‘ تو پروردگار فرمائے گا اگر تم علم رکھتے ہوتے تو تم زیادہ ہنستے اور تھوڑا روتے ( مطبوعہ متن میں یہ الفاظ اسی طرح ہیں لیکن شاید یہاں یہ عبارت ہونی چاہیے تھی : اگر تم علم رکھتے ہوتے ‘ تو تم تھوڑا ہنستے اور زیادہ روتے ) ‘ جس چیز کے بارے میں تم نے ان لوگوں کے حوالے سے توقع رکھی تھی ‘ وہ میں نے ان پر نازل کر دی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن سفر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4681

Majma al-Zawaid #4681

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَصْحَابِهِ ذَاتَ يَوْمٍ، وَفِي يَدِهِ قِطْعَةٌ مِنَ الذَّهَبِ فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: "" مَا كَانَ مُحَمَّدٌ قَائِلًا لِرَبِّهِ لَوْ مَاتَ وَهَذِهِ عِنْدَهُ؟ "". فَقَسَّمَهَا قَبْلَ أَنْ يَقُومَ وَقَالَ: "" مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ مِثْلَ هَذَا الْجَبَلِ "". - وَأَشَارَ إِلَى أُحُدٍ - "" ذَهَبًا، وَفِضَّةً فَيُنْفِقُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَيَتْرُكُ مِنْهَا دِينَارًا "". فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ قُبِضَ وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا وَلَا أَمَةً، وَلَقَدْ تَرَكَ دِرْعَهُ مَرْهُونَةً عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ كَانَ يَأْكُلُ مِنْهَا وَيُطْعِمُ عِيَالَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ came out to his Companions one day with a piece of gold in his hand, asked Abdullah ibn Umar what Muhammad would say to his Lord if he died with it, divided it before rising, and declared he would dislike his Companions holding Uhud in gold and silver then spending it while leaving a dinar. Ibn Abbas added that the Messenger of Allah ﷺ was taken leaving no dinar, dirham, slave, or bondwoman, only his coat mortgaged with a Jew for thirty measures of barley from which he ate and fed his household. > **"What would Muhammad say to his Lord if he died with this in his possession? It would not please me that the Companions of Muhammad have the like of this mountain, gold and silver, then spend it in the way of Allah while leaving of it a dinar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے آپ کے ہاتھ میں سونے کا ایک ٹکڑا تھا آپ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا محمد اپنے پروردگار کی بارگاہ میں کیا عرض کرے گا : اگر وہ ایسی حالت میں مر گیا کہ اس کے پاس یہ ہوا پھر نبی اکرم ﷺ نے وہاں سے اٹھنے سے پہلے اسے تقسیم کر دیا آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ ’’ محمد ( ﷺ ) کے اصحاب ‘‘ کے پاس ( مطبوعہ متن میں اسی طرح مذکور ہے لیکن شاید یہاں لفظ ’’ اصحاب ‘‘ زائد ہے ‘ اصل عبارت یوں ہونی چاہیے :’’ محمد ( ﷺ ) کے پاس ‘‘ ) اس پہاڑ جتنا سونا یا چاندی ہو ‘ آپ نے اُحد پہاڑ کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی : اور پھر وہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دے اور اس میں سے ایک دینار چھوڑ دے ( یعنی ایک دینار چھوڑنا بھی پسند نہیں ہے ) ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو آپ نے کوئی دینار کوئی درہم کوئی غلام یا کوئی کنیز ( ترکہ میں ) نہیں چھوڑا آپ نے اپنی زرہ ترکہ میں چھوڑی تھی وہ جو کے تیس صاع کے عوض میں ایک یہودی شخص کے پاس رہن رکھی ہوئی تھی آپ ان جو کو خود کھاتے تھے ‘ اور اپنے اہل خانہ کو کھلایا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4682

Majma al-Zawaid #4682

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْتَفَتَ إِلَى أُحُدٍ فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا تَحَوَّلَ لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ وَأَدَعُ مِنْهُ دِينَارَيْنِ إِلَّا دِينَارَيْنِ أُعِدُّهُمَا لِدَيْنٍ كَانَ عَلَيَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas (رضي الله عنهما) reported that the Prophet ﷺ turned to Uhud and swore he would dislike its transformation into gold for Muhammad's household to spend in Allah's way while dying with two dinars left, save two prepared for a debt upon him. > **"By Him in whose Hand is my soul, it would not please me that Uhud turn into gold for the household of Muhammad, which I spend in the way of Allah, then die the day I die leaving of it two dinars, except two dinars I prepare for a debt upon me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُحد پہاڑ کی طرف توجہ کی اور یہ ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اُحد پہاڑ آل محمد کے لئے سونے کا ہو جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کروں اور پھر جس دن میں مروں تو میں نے اس میں سے دو دینار چھوڑے ہوئے ہوں البتہ ان دو دیناروں کا معاملہ مختلف ہے ‘ جنہیں میں نے اپنا ذمہ لازم کسی قرض کی ادائیگی کے لئے رکھا ہوا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں اس روایت کو امام احمد نے بھی نقل کیا ہے ۔

4683

Majma al-Zawaid #4683

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: «إِنِّي لَا أَلِجُ هَذِهِ الْغُرْفَةَ مَا أَلِجُهَا إِلَّا خَشْيَةَ أَنْ يَكُونَ فِيهَا مَالٌ فَأُتَوَفَّى وَلَمْ أُنْفِقْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub (رضي الله عنه) reported that the Messenger of Allah ﷺ would say he enters the chamber only from fear wealth lies therein and he dies without spending it. > **"I do not enter this chamber but I enter it fearing there is wealth therein and I die without spending it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے تھے : میں اس بالا خانے میں داخل ہوتا ہوں اور میں اس میں صرف اندیشے کے تحت داخل ہوتا ہوں کہ کہیں اس میں کوئی ایسا مال موجود نہ ہو کہ جب میں مر جاؤں تو میں نے اسے کہیں خرچ نہ کیا ہوا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔