Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 7 · Chapter 5

Book of Funerals

Hadith 3887–3926

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3887

Majma al-Zawaid #3887

عَنْ حِبَّانَ أَبِي النَّضْرِ قَالَ: «دَخَلْتُ مَعَ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ عَلَى أَبِي الْأَسْوَدِ الْجُرَشِيِّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَجَلَسَ فَأَخَذَ أَبُو الْأَسْوَدِ يَمِينَ وَاثِلَةَ فَمَسَحَ بِهَا عَلَى عَيْنَيْهِ وَوَجْهِهِ لِبَيْعَتِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَقَالَ وَاثِلَةُ: وَاحِدَةٌ أَسْأَلُهُ عَنْهَا قَالَ: وَمَا هِيَ؟ قَالَ: كَيْفَ ظَنُّكَ بِرَبِّكَ؟ فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ وَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَيْ حَسَنٌ فَقَالَ وَاثِلَةُ: أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: "" أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hibban Abu al-Nadr reported that he entered with Wathilah ibn al-Asqa رضي الله عنه upon Abu al-Aswad al-Jurashi in the illness in which he died. Abu al-Aswad greeted them and sat, then took the right hand of Wathilah and wiped it over his eyes and face because of its pledge to the Messenger of Allah ﷺ. Wathilah said he wished to ask one thing, and upon being asked what it was, he asked how Abu al-Aswad thought of his Lord. Abu al-Aswad signalled with his head that it was good, so Wathilah gave him glad tidings of what he had heard from the Messenger of Allah ﷺ as a divine address concerning Allah being as His servant thinks of Him and the servant thinking what he wills. > **"Allah Almighty says: I am as My servant thinks of Me, so let him think of Me what he wills."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حبان ابونضر بیان کرتے ہیں : میں حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابواسود جرثی کی خدمت میں حاضر ہوا یہ ان کی اس بیماری کے دوران کی بات ہے ‘ جس میں ان کا انتقال ہوا تھا انہوں نے ہمیں سلام کیا ‘ اور تشریف فرما ہو گئے ابواسود نے حضرت واثلہ کا ہاتھ پکڑا اور اس ہاتھ کو اپنی آنکھوں اور اپنے چہرے پر پھیرا اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت واثلہ نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر بیعت کی ہوئی تھی راوی کہتے ہیں : حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک چیز کے بارے میں ، میں دریافت کرنا چاہتا ہوں انہوں نے کہا : وہ چیز کیا ہے ؟ حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تمہارا اپنے پروردگار کے بارے میں گمان کیا ہے ‘ تو ابواسود نے اپنے سر کے ذریعے اشارہ کر کے جواب دیا کہ وہ ( گمان ) اچھا ہے ‘ تو حضرت واثلہ نے فرمایا : تم یہ خوشخبری حاصل کرو کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں اب وہ جو چاہے میرے بارے میں گمان رکھے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

3888

Majma al-Zawaid #3888

وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي إِنْ ظَنَّ خَيْرًا فَلَهُ، وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَلَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي حُسْنِ الظَّنِّ فِي الْأَدْعِيَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ conveyed the address of Allah Almighty concerning being as His servant thinks of Him, so that good thought brings good and evil thought brings evil. > **"Allah Almighty says: I am as My servant thinks of Me; if he thinks good, it is his, and if he thinks evil, it is his."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : اللہ تعالی فرماتا ہے : ’’ میں اپنے بارے میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں اگر وہ بھلائی کا گمان رکھتا ہے ‘ تو وہ اسے ملے گی ‘ اور اگر وہ برائی کا گمان رکھتا ہے ‘ تو وہ اسے ملے گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اچھا گمان رکھنے کے بارے میں احادیث دعاؤں سے متعلق باب میں اور دیگر ابواب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

3889

Majma al-Zawaid #3889

عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ اسْتَوْجَبَ شَفَاعَتِي، وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْآمَنِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Salman رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ concerning one who dies in either of the two sanctuaries, that intercession becomes due for him and he shall be among the secure on the Day of Resurrection. > **"Whoever dies in either of the two sanctuaries, my intercession becomes due for him, and he shall be among the secure on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص حرمین میں سے کسی ایک جگہ انتقال کر جائے اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جائے گی ‘ اور وہ شخص قیامت کے دن امن والے لوگوں میں سے ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور بن سعید ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3890

Majma al-Zawaid #3890

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بُعِثَ آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ promised that one who dies in either of the two sanctuaries shall be raised secure on the Day of Resurrection. > **"Whoever dies in either of the two sanctuaries shall be raised secure on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ جو شخص حرمین میں سے کسی ایک جگہ انتقال کر جائے قیامت کے دن اسے امن کی حالت میں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن مسروقی ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے ۔ ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔

3891

Majma al-Zawaid #3891

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ مَاتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وُقِيَ عَذَابَ الْقَبْرِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ يَزِيدٌ الرَّقَاشِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ promised protection from the punishment of the grave for one who dies on Friday. > **"Whoever dies on Friday is shielded from the punishment of the grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص جمعہ کے دن انتقال کر جائے اسے قبر کے عذاب سے بچا لیا جاتا ہے “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3892

Majma al-Zawaid #3892

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ مَاتَ فِي بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَكَأَنَّمَا مَاتَ فِي السَّمَاءِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الْبَصْرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ likened dying in Bayt al-Maqdis to dying in heaven. > **"Whoever dies in Bayt al-Maqdis, it is as if he died in heaven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص بیت المقدس میں انتقال کر جائے اس کا انتقال گویا آسمان میں ہوا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ بصری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3893

Majma al-Zawaid #3893

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَمْ يَلْقَ ابْنُ آدَمَ شَيْئًا قَطُّ مُنْذُ خَلَقَهُ اللَّهَ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ""، قَالَ: "" ثُمَّ إِنَّ الْمَوْتَ لَأَهْوَنُ مِمَّا بَعْدَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that since Allah created him, the son of Adam has never met anything harder upon him than death, then added that death itself is easier than what comes after it. > **"The son of Adam has never met anything since Allah created him harder upon him than death; then death is easier than what comes after it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : انسان کو جب سے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے اس وقت سے لے کر اس نے کبھی بھی کسی ایسی چیز کا سامنا نہیں کیا جو اس کے لئے موت سے زیادہ سخت ہو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر بعد کی صورت حال کے مقابلے میں موت زیادہ آسان ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3894

Majma al-Zawaid #3894

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: آخِرُ شِدَّةٍ يَلْقَاهَا الْمُؤْمِنُ الْمَوْتُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ قَابُوسُ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said that the last hardship a believer meets is death.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : وہ آخری شدت ( یعنی سخت یا مشکل چیز ) جس کا مومن سامنا کرتا ہے وہ موت ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قابوس ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور ابن عدی نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

3895

Majma al-Zawaid #3895

وَعَنْ سَوْدَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِذَا أُمِتْنَا صَلَّى لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ حَتَّى يَأْتِيَنَا؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ تَعْلَمِينَ مَا أَعْلَمُ عِلْمَ الْمَوْتِ - يَا بِنْتَ زَمْعَةَ - عَلِمْتِ أَنَّهُ أَشَدُّ مِمَّا تُقَدِّرِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sawdah, wife of the Prophet ﷺ, رضي الله عنها reported that she asked the Messenger of Allah ﷺ whether, when they died, Uthman ibn Mazun would pray for them until he joined them. The Messenger of Allah ﷺ answered her, addressing her as daughter of Zamah, that were she to know what he knew of death she would know it harder than she reckoned. > **"If you knew what I know of death, O daughter of Zamah, you would know it harder than you reckon."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب ہم مر جائیں گے ‘ تو عثمان بن مظعون ہمارے لئے دعائے رحمت کریں گے ؟ یہاں تک کہ وہ ہمارے پاس آ جائیں گے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے زمعہ کی صاحبزادی ! موت کے بارے میں ، جو میں جانتا ہوں ‘ اگر وہ تم جان جاؤ ‘ تو تمہیں پتہ چل جائے کہ یہ اُس سے زیادہ سخت ہے ‘ جو تم اندازہ کر رہی ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3896

Majma al-Zawaid #3896

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَثَلُ الَّذِي يَفِرُّ مِنَ الْمَوْتِ كَمَثَلِ الثَّعْلَبِ، تَطْلُبُهُ الْأَرْضُ بِدَيْنٍ فَجَعَلَ يَسْعَى حَتَّى إِذَا أَعْيَا وَابْتَهَرَ دَخَلَ جُحْرَهُ فَقَالَتْ لَهُ الْأَرْضَ: يَا ثَعْلَبُ دَيْنِي، فَخَرَجَ وَلَهُ حُصَاصٌ فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى تَقَطَّعَتْ عُنُقُهُ فَمَاتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُعَاذُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهُذَلِيُّ قَالَ الْعُقَيْلِيُّ: لَا يُتَابَعُ عَلَى رَفْعِ حَدِيثِهِ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ likened one who flees from death to a fox pursued by the earth for a debt: it runs until exhausted and panting, enters its den, is told by the earth to pay its debt, rushes out panting, continues thus until its neck breaks and it dies. > **"The likeness of one who flees from death is that of a fox pursued by the earth for a debt: it runs until, weary and panting, it enters its den, whereupon the earth says to it: O fox, my debt. It rushes out panting and continues thus until its neck breaks and it dies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ وہ شخص جو موت سے راہ فرار اختیار کرتا ہے اس کی مثال لومڑی کی طرح ہے ‘ جسے زمین تلاش کرتی ہے وہ دوڑتی رہتی ہے یہاں تک کہ جب وہ تھک جاتی ہے ‘ اور اس کا سانس پھول جاتا ہے ‘ تو اپنی بل میں داخل ہو جاتی ہے زمین اس سے کہتی ہے : اے لومڑی ! میرا قرض ؟ وہ نکلتی ہے ‘ تو وہ تیز دوڑتی ہے ‘ اور وہ اسی طرح ( دوڑتی ) رہتی ہے ‘ یہاں تک کہ اس کی گردن ٹوٹ جاتی ہے ‘ اور وہ مر جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی معاذ بن محمد ہذلی ہے عقیلی بیان کرتے ہیں : اس حدیث کے ” مرفوع ‘‘ ہونے میں اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔

3897

Majma al-Zawaid #3897

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «تُحْفَةُ الْمُؤْمِنِ الْمَوْتُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reported from the Prophet ﷺ that death is the gift of the believer. > **"The gift of the believer is death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مومن کے لئے تحفہ ، موت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3898

Majma al-Zawaid #3898

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ بِمَكَّةَ مُقْعَدَانِ لَهُمَا ابْنٌ شَابٌّ فَكَانَ إِذَا أَصْبَحَ نَقَلَهُمَا فَأَتَى بِهِمَا الْمَسْجِدَ فَكَانَ يَكْتَسِبُ عَلَيْهِمَا يَوْمَهُ فَإِذَا كَانَ الْمَسَاءُ احْتَمَلَهُمَا فَأَقْبَلَ بِهِمَا، فَافْتَقَدَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالَ: مَاتَ ابْنُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ تُرِكَ أَحَدٌ تُرِكَ ابْنُ الْمُقْعَدَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنُ نَجِيحٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي تَفْسِيرِ سُورَةِ صَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that in Makkah there were two disabled parents with a young son who each morning carried them to the mosque, earned for them through the day, and each evening carried them back. The Prophet ﷺ missed him and asked about him, was told that their son had died, and declared that had anyone been left, the son of the two disabled ones would have been left. > **"Had anyone been left, the son of the two disabled ones would have been left."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مکہ میں دو اپاہچ میاں بیوی تھے ان کا ایک نوجوان بیٹا تھا جب صبح ہوتی تھی تو وہ ان دونوں کو منتقل کرتا تھا اور انہیں مسجد میں لے آتا تھا وہ دن بھر ان دونوں کے لئے کماتا تھا جب شام ہوتی تھی تو ان دونوں کو اٹھا کر ساتھ لے جاتا تھا نبی اکرم ﷺ نے اس غیر موجود پایا تو اس کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ کو بتایا گیا کہ ان دونوں کا بیٹا فوت ہو گیا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر کسی کو چھوڑا جاتا ‘ تو ان دو اپاہچ میاں بیوی کے بیٹے کو چھوڑ دیا جاتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر بن نجیح ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ‘ اس بارے میں ایک حدیث سورت ” ص “ کی تفسیر سے متعلق باب میں آگے آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

3899

Majma al-Zawaid #3899

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ ""، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ!؟ قَالَ: "" لَيْسَ ذَلِكَ كَرَاهِيَةً لِلْمَوْتِ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا حُضِرَ جَاءَهُ الْبَشِيرُ مِنَ اللَّهِ فَلَيْسَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ أَنْ يَكُونَ قَدْ لَقِيَ اللَّهَ فَأَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَإِنَّ الْفَاجِرَ وَالْكَافِرَ إِذَا حُضِرَ جَاءَهُ مَا هُوَ صَائِرٌ إِلَيْهِ مِنَ الشَّرِّ أَوْ مَا يَلْقَى مِنَ الشَّرِّ فَكَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ فَكَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that Allah loves the meeting of one who loves meeting Him and dislikes the meeting of one who dislikes meeting Him. When Anas remarked that they all disliked death, the Prophet ﷺ explained that this was not mere dislike of death, but that the believer at his end receives a bearer of glad tidings from Allah so that nothing is more beloved to him than meeting Allah, while the wicked disbeliever at his end receives what evil he shall pass into, so dislikes meeting Allah and Allah dislikes meeting him. > **"Whoever loves the meeting with Allah, Allah loves meeting him; and whoever dislikes the meeting with Allah, Allah dislikes meeting him. It is not mere dislike of death, but when the believer is approached, a bearer of glad tidings comes to him from Allah, and nothing is more beloved to him than meeting Allah, so Allah loves meeting him; and when the wicked disbeliever is approached, there comes to him what evil he shall pass into or what evil he shall meet, so he dislikes the meeting with Allah and Allah dislikes meeting him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے ‘ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم سب موت کو ناپسند کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد موت کو ناپسند کرنا نہیں ہے بلکہ جب مؤمن کا آخری وقت قریب آتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشخبری سنانے والا اس کے پاس آتا ہے اس وقت مؤمن کے نزدیک کوئی بھی چیز اس سے زیادہ محبوب نہیں ہوتی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جائے تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ‘ اور فاجر اور کافر شخص کا جب آخری وقت قریب آتا ہے ‘ تو اس کے پاس وہ صورت آتی ہے ، جس برائی کی طرف اس نے جانا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جس برائی کا اس نے سامنا کرنا ہے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3900

Majma al-Zawaid #3900

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: «كَانَ أَوَّلُ يَوْمٍ عَرَفْتُ فِيهِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي لَيْلَى، رَأَيْتُ شَيْخًا أَبْيَضَ الرَّأْسِ عَلَى حِمَارٍ وَهُوَ يَتْبَعُ جِنَازَةً فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: حَدَّثَنِي فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ "" قَالَ: الْقَوْمُ يَبْكُونَ!! فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكُمْ؟ "" قَالُوا: إِنَّا نَكْرَهُ الْمَوْتَ!! قَالَ: "" لَيْسَ ذَلِكَ وَلَكِنَّهُ إِذَا حُضِرَ فَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِينَ {فَرَوْحٌ وَرَيْحَانٌ وَجَنَّةُ نَعِيمٍ} [الواقعة: 89] فَإِذَا بُشِّرَ بِذَاكَ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ وَاللَّهُ لِلِقَائِهِ أَحَبُّ، {وَأَمَّا إِنْ كَانَ مِنَ الْمُكَذِّبِينَ الضَّالِّينَ - فَنُزُلٌ مِنْ حَمِيمٍ - وَتَصْلِيَةُ جَحِيمٍ} [الواقعة: 92 - 94] فَإِذَا بُشِّرَ بِذَاكَ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلِقَائِهِ أَكْرَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ فِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ata ibn al-Saib reported that the first day he came to know Abd al-Rahman ibn Abi Layla, he saw a white-headed elder on a donkey following a funeral, heard him narrate from one who had heard the Messenger of Allah ﷺ declare that Allah loves the meeting of one who loves meeting Him and dislikes the meeting of one who dislikes meeting Him, saw the people weep and ask why they wept since they disliked death, and heard him explain that it was not that, but the state at the end: the near one given spirit, sweet basil, and Paradise of bliss loves meeting Allah and Allah loves his meeting more, while the denying stray given boiling water and roasting in Hell dislikes meeting Allah and Allah dislikes his meeting more, citing the verses of Surat al-Waqiah. > **"Whoever loves the meeting with Allah, Allah loves meeting him; and whoever dislikes the meeting with Allah, Allah dislikes meeting him. It is not that, but when he is approached, if he is of those brought near, then rest and sweet basil and a Paradise of bliss, and when he is given those glad tidings he loves the meeting with Allah and Allah loves his meeting more; and if he is of the denying stray, then a lodging of boiling water and roasting in Hell, and when he is given those tidings he dislikes the meeting with Allah and Allah Almighty dislikes his meeting more."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں : جب پہلی مرتبہ مجھے عبدالرحمن بن ابولیلیٰ کی شناخت حاصل ہوئی تو اس کی یوں صورت حال ہوئی کہ میں نے ایک بزرگ کو دیکھا جن کے سر کے بال سفید تھے ‘ اور وہ ایک گدھے پر سوار تھے ‘ اور وہ ایک جنازے میں جا رہے تھے میں نے انہیں یہ بیان کرتے ہوئے سنا فلاں بن فلاں نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے ‘ اور جو شخص اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے “۔ رادی بیان کرتے ہیں : لوگ رونے لگے تو انہوں نے فرمایا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : ہم موت کو ناپسند کرتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس سے مراد یہ نہیں ہے ‘ بلکہ جب آدمی کا آخری وقت قریب آتا ہے ‘ تو اگر وہ مقرب لوگوں میں سے ہوتا ہے ‘ تو اس کے لئے سرور آرام اور جنت نعیم ( کی خوشخبری ہوتی ہے ) اور جب کسی شخص کو اس کے حوالے سے خوشخبری دی جاتی ہے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ اس کی حاضری کو زیادہ پسند کرتا ہے ‘ اور اگر وہ شخص جھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو ‘ تو اس کی تواضع کھولتے ہوئے پانی سے کی جائے گی اور اس کو جہنم میں داخل کر دیا جائے گا ‘ جب اسے اس بات کی اطلاع دی جاتی ہے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے ‘ اور اللہ تعالی اس کی حاضری کو زیادہ ناپسند کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احد نے نقل کی ہے ۔ عطاء بن سائب کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3901

Majma al-Zawaid #3901

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ declare that Allah loves the meeting of one who loves meeting Him and dislikes the meeting of one who dislikes meeting Him. > **"Whoever loves the meeting with Allah, Allah loves meeting him; and whoever dislikes the meeting with Allah, Allah dislikes meeting him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے ‘ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

3902

Majma al-Zawaid #3902

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ، وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ» رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said that whoever loves the meeting with Allah, Allah loves meeting him, and whoever dislikes the meeting with Allah, Allah dislikes meeting him, and that death comes before the meeting with Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے ‘ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے ‘ اور موت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری سے پہلے ہو گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3903

Majma al-Zawaid #3903

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ مَا أَوَّلُ مَا يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَا أَوَّلُ مَا تَقُولُونَ لَهُ؟ "" قُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ: هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ يَا رَبَّنَا فَيَقُولُ: لِمَ؟ فَيَقُولُونَ: رَجَوْنَا عَفْوَكَ وَمُغْفِرَتَكَ فَيَقُولُ: قَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ مَغْفِرَتِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ offered to inform them of the first thing Allah Almighty shall say to the believers on the Day of Resurrection and the first thing they shall say to Him. When they assented, he told how Allah shall ask the believers whether they loved meeting Him, they shall answer affirmatively, He shall ask why, they shall answer that they hoped for His pardon and forgiveness, and He shall declare His forgiveness due for them. > **"If you wish, I shall inform you of the first thing Allah Almighty shall say to the believers on the Day of Resurrection and the first thing you shall say to Him. Allah Almighty shall say to the believers: Did you love meeting Me? They shall say: Yes, our Lord. He shall say: Why? They shall say: We hoped for Your pardon and Your forgiveness. He shall say: My forgiveness has become due for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم چاہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے سب سے پہلے کیا ارشاد فرمائے گا ؟ اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے پہلے کیا عرض کریں گے ؟ ہم نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے فرمائے گا : کیا تم لوگ میری بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتے تھے تو وہ عرض کریں گے : جی ہاں ۔ اے ہمارے پروردگار ! اللہ تعالیٰ دریافت کرے گا : وہ کیوں ؟ وہ عرض کریں گے : ہمیں تیرے معاف کرنے اور مغفرت کرنے کی امید تھی تو پروردگار فرمائے گا : تمہارے لئے میری مغفرت واجب ہو گئی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3904

Majma al-Zawaid #3904

وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ: الْمَوْتُ وَالْمَوْتُ خَيْرٌ لِلْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mahmud ibn Labid رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ described two things the son of Adam dislikes: death, though death is better for the believers than tribulation, and littleness of wealth, though littleness of wealth means less reckoning. > **"Two things the son of Adam dislikes: death, and death is better for the believers than tribulation; and he dislikes littleness of wealth, and littleness of wealth means less reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : دو چیزیں ہیں جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے موت حالانکہ موت اہل ایمان کے لئے فتنے سے زیادہ بہتر ہے ! اور آدمی مال کے کم ہونے کو ناپسند کرتا ہے ‘ حالانکہ مال کم ہونے کی صورت میں حساب بھی تھوڑا دینا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3905

Majma al-Zawaid #3905

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَهُ: «إِنَّ الْمُؤْمِنَ عِنْدِي بِمَنْزِلَةِ كُلِّ خَيْرٍ يَحْمَدُنِي وَأَنَا أَنْزِعُ نَفْسَهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ أَحْمَدَ بْنِ أَبَانَ الْقُرَشِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ conveyed that the believer stands with his Lord in the station of all good, praising Him even while his soul is drawn from between his sides. > **"Indeed the believer is with Me in the station of all good: he praises Me while I draw his soul from between his sides."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( پروردگار یہ فرماتا ہے : ) ’’ مومن میرے نزدیک ہر قسم کی بھلائی کے مرتبے میں ہے وہ میری حمد بیان کرتا ہے ‘ جبکہ میں اس کے دونوں پہلوؤں کے درمیان سے اس کی جان الگ کر رہا ہوتا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد احمد بن ابان قرشی کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ میں ان سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3906

Majma al-Zawaid #3906

عَنِ الْمَشْيَخَةِ أَنَّهُمْ حَضَرُوا غُضَيْفَ بْنَ الْحَارِثِ حِينَ اشْتَدَّ سُوقُهُ فَقَالَ: هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ يَقْرَأُ يس؟ قَالَ: فَقَرَأَهَا صَالِحُ بْنُ شُرَيْحٍ السَّكُونِيُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ مِنْهَا قُبِضَ قَالَ: فَكَانَ الْمَشْيَخَةُ يَقُولُونَ: إِذَا قُرِئَتْ عِنْدَ الْمَوْتِ خُفِّفَ عَنْهُ بِهَا، قَالَ صَفْوَانُ: قَرَأَهَا عِيسَى بْنُ الْمُعْتَمِرِ عِنْدَ ابْنِ مَعْبَدٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

The elders reported that they attended Ghudayf ibn al-Harith when his death-struggle grew severe, whereupon he asked whether any of them could recite Ya Sin. Salih ibn Shurayh al-Sakuni recited it, and when he reached its fortieth verse Ghudayf was taken. The elders used to say that when it is recited at death, the dying one is lightened thereby. Safwan added that Isa ibn al-Mutamir recited it at Ibn Mabad.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مشائخ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ غضیف بن حارث کے پاس موجود تھے ‘ جب ان پر نزع کا عالم طاری ہونا شروع ہوا ‘ تو انہوں نے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی ایک شخص سورت یسین پڑھ سکتا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : تو صالح بن شریح سکونی نے سورت یسین پڑھنا شروع کی جب وہ چالیسویں آیت تک پہنچے تو ان کی روح قبض ہو گئی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو مشائخ یہ فرماتے ہیں : جب مرنے والے کے قریب سورت یسین پڑھی جائے تو اسے موت میں آسانی نصیب ہوتی ہے ۔ صفوان نامی راوی بیان کرتے ہیں : عیسیٰ بن معتمر نے ابن معبد کے پاس اسے ( یعنی سورہ یٰسین کو ) پڑھا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3907

Majma al-Zawaid #3907

عَنْ سَلْمَانَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَعُودُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبِينِهِ فَقَالَ: "" كَيْفَ تَجِدُكَ؟ "" فَلَمْ يَحُرْ إِلَيْهِ شَيْئًا فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ عَنْكَ مَشْغُولٌ فَقَالَ: "" خَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَهُ "" فَخَرَجَ النَّاسُ مِنْ عِنْدِهِ وَتَرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَأَشَارَ الْمَرِيضُ: أَنْ أَعِدْ يَدَكَ حَيْثُ كَانَتْ ثُمَّ نَادَاهُ: "" يَا فُلَانُ مَا تَجِدُ؟ "" قَالَ: أَجِدُنِي بِخَيْرٍ وَقَدْ حَضَرَنِي اثْنَانِ أَحَدُهُمَا أَسْوَدُ وَالْآخَرُ أَبْيَضُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّهُمَا أَقْرَبُ مِنْكَ؟ "" قَالَ: الْأَسْوَدُ، قَالَ: "" إِنَّ الْخَيْرَ قَلِيلٌ وَإِنَّ الشَّرَّ كَثِيرٌ "" قَالَ: فَمَتِّعْنِي مِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِدَعْوَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ اغْفِرِ الْكَثِيرَ وَأَنْمِ الْقَلِيلَ ""، ثُمَّ قَالَ: "" مَا تَرَى؟ "" قَالَ: "" خَيْرًا بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي أَرَى الْخَيْرَ يَنْمَى وَأَرَى الشَّرَّ يَضْمَحِلُّ وَقَدِ اسْتَأْخَرَ عَنِّي الْأَسْوَدُ قَالَ: "" أَيُّ عَمَلِكَ أَمْلَكُ بِكَ؟ "" قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي الْمَاءَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اسْمَعْ يَا سَلْمَانُ هَلْ تُنْكِرُ مِنِّي شَيْئًا؟ "" قَالَ: نَعَمْ بِأَبِي وَأُمِّي قَدْ رَأَيْتُكَ فِي مَوَاطِنَ مَا رَأَيْتُكَ عَلَى مِثْلِ حَالِكَ الْيَوْمَ!! قَالَ: "" إِنِّي أَعْلَمُ مَا يَلْقَى مَا مِنْهُ عِرْقٌ إِلَّا وَهُوَ بِأَلَمِ الْمَوْتِ عَلَى حِدَّتِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salman رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ went out to visit a man of the Ansar. Entering upon him, he placed his hand upon his forehead and asked how he found himself, but the man gave no answer, and it was said that he was preoccupied away from the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ asked that he be left alone with him, so the people left, and when the Messenger of Allah ﷺ lifted his hand the sick man gestured for him to return it where it had been. Upon being called by name and asked what he found, the man answered that he found good and that two figures had attended him, one black and one white. Upon being asked which was nearer to him, he answered the black one, and the Prophet ﷺ explained the meaning concerning the littleness of good and the abundance of evil. The man then requested the benefit of a supplication, so the Prophet ﷺ supplicated for forgiveness of the much and increase of the little, then asked what he now saw. The man answered, swearing by his father and mother, that he saw good growing and evil dwindling with the black receding from him. Upon being asked which of his deeds held him most, he answered that he used to give water to drink. The Prophet ﷺ then asked Salman whether he found anything strange in him, and when Salman affirmed, describing the Prophet's state that day as unlike any station in which he had seen him, the Prophet ﷺ explained that he knew what the man suffered, with every vein feeling the pang of death distinctly. > **"How do you find yourself? Which of the two is nearer to you? Good is little and evil is much. O Allah, forgive the much and increase the little. What do you see? Which of your deeds holds you most? Listen, O Salman, do you find anything strange in me? I know what he suffers; there is no vein in him but that it feels the pang of death distinctly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لے گئے جب آپ اس کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اپنا دست مبارک اس کی پیشانی پر رکھا اور دریافت کیا : تم کیا محسوس کر رہے ہو ؟ اس نے نبی اکرم ﷺ کو کوئی جواب نہیں دیا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی توجہ آپ سے ہٹی ہوئی ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے اور اس کو الگ چھوڑ دو تو لوگ اس کے پاس سے اٹھ کر باہر چلے گئے اور نبی اکرم ﷺ کو وہیں رہنے دیا پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اٹھایا تو بیمار نے اشارہ کیا کہ آپ اپنا دست مبارک وہیں رکھ دیں جہاں یہ پہلے تھا پھر نبی اکرم ﷺ نے اسے پکار کر دریافت کیا : اے فلاں تم کیا محسوس کر رہے ہو ؟ اس نے عرض کی : میں اپنے اندر بہتری پا رہا ہوں ۔ میرے پاس دو فرشتے آئے تھے ان میں سے ایک سیاہ تھا اور ایک سفید تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان میں سے کون تمہارے زیادہ قریب تھا ؟ اس نے جواب دیا : سیاہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا مطلب ہے بھلائی کم ہے ‘ اور برائی زیادہ ہے اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اپنی دعاؤں سے نوازیے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے اللہ زیادہ ( یعنی گناہوں ) کی مغفرت کر دے اور تھوڑے کو بڑھا دے پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیا دیکھ رہے ہو ؟ اس نے عرض کی : بہتری دیکھ رہا ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے دیکھا کہ بھلائی بڑھ رہی ہے ‘ اور میں نے دیکھا کہ برائی مضمحل ہو رہی ہے ‘ یہاں تک کہ سیاہ چیز مجھ سے پیچھے ہٹ گئی نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں اپنے عمل میں سے کون سا عمل زیادہ بہتر محسوس ہو رہا ہے ؟ اس نے عرض کی : میں پانی پلایا کرتا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! تم سن لو کیا تمہیں میری طرف سے کوئی چیز منکر ( یعنی عجیب ) محسوس ہو رہی ہے ؟ حضرت سلمان نے عرض کی : جی ہاں ۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آپ کو کئی مقامات پر دیکھا ہے ‘ لیکن جس طرح کی صورت حال میں آج دیکھا ہے اس طرح پہلے کبھی نہیں دیکھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اس چیز کو جانتا ہوں جس صورت حال کا سامنا یہ کر رہا ہے ایسی صورت حال میں ہر ایک رگ الگ طور پر موت کی تکلیف کو محسوس کرتی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3908

Majma al-Zawaid #3908

عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَفِيهِ كَلَامٌ لِاخْتِلَاطِهِ.

EnglishUnverified translation

Zadhan Abu Umar reported from one who heard the Prophet ﷺ declare that whoever is prompted at death with La ilaha illa Allah shall enter Paradise. > **"Whoever is prompted at death with La ilaha illa Allah shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زاذان ابوعمر بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بیان کی ہے ‘ جس نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس شخص کو موت کے قریب «لا الہ الا اللہ» کی تلقین کر دی جائے وہ جنت میں داخل ہو گا “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ اور اس کے اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3909

Majma al-Zawaid #3909

وَعَنْ زَاذَانِ أَبِي عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ لُقِّنَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ دَخَلَ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Zadhan Abu Umar reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that whoever is prompted with La ilaha illa Allah at death shall enter Paradise. > **"Whoever is prompted with La ilaha illa Allah at death shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زاذان ابوعمر روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : "" جس شخص کو موت کے قریب «لا الہ الا اللہ» کی تلقین کر دی جائے وہ جنت میں داخل ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3910

Majma al-Zawaid #3910

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ كَئِيبٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا لِي أَرَاكَ كَئِيبًا؟ "" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عَمٍّ لِيَ الْبَارِحَةَ - فُلَانٍ - وَهُوَ يَكِيدُ بِنَفْسِهِ قَالَ: "" فَهَلْ لَقَّنْتَهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "" قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" فَقَالَهَا؟ "" قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "" وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ هِيَ لِلْأَحْيَاءِ؟ قَالَ: "" هِيَ أَهْدَمُ لِذُنُوبِهِمْ هِيَ أَهْدَمُ لِذُنُوبِهِمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ زَائِدَةُ بْنُ أَبِي الْوَقَّادِ، وَثَّقَهُ الْقَوَارِيرِيُّ وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that Abu Bakr رضي الله عنه entered upon the Prophet ﷺ in grief, and when the Prophet ﷺ asked why he appeared grieved, he told of spending the previous night with a cousin in his death-throes. Upon being asked whether he had prompted him with La ilaha illa Allah, he answered that he had done so, and upon being asked whether the man had uttered it, he answered affirmatively, so the Prophet ﷺ declared Paradise due for him. When Abu Bakr asked how it stood for the living, the Prophet ﷺ twice declared that it demolishes their sins all the more. > **"Had he uttered it, Paradise has become due for him. It demolishes their sins; it demolishes their sins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ پریشان تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے میں تمہیں پریشان دیکھ رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گزشتہ رات میں اپنے فلاں چچا زاد کے پاس موجود تھا اور اس شخص کی روح اس وقت قبض ہو رہی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے اس وقت اسے «لا الہ الا اللہ» پڑھنے کی تلقین کی تھی ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایسا کیا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا اس نے وہ کلمہ پڑھ لیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کے لئے جنت واجب ہو گئی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! زندہ لوگوں کے حق میں یہ کیسا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ان کے گناہوں کو زیادہ منہدم کر دے گا ‘ یہ ان کے گناہوں کو زیادہ منہدم کر دے گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زائدہ بن ابووقاد ہے ‘ جسے قواریری نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ امام بخاری اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

3911

Majma al-Zawaid #3911

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ الْبَزَّازُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ مُجَاهِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ commanded prompting the dying among them with La ilaha illa Allah. > **"Prompt your dying ones with La ilaha illa Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا الہ الا اللہ» پڑھنے کی تلقین کرو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن مجاہد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3912

Majma al-Zawaid #3912

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ لَمْ يَدْخُلِ النَّارَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ali رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ promised that one whose last speech is La ilaha illa Allah shall never enter the Fire. > **"Whoever has La ilaha illa Allah as his last speech shall never enter the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کا آخری کلام «لا الہ الا اللہ» ہو ‘ وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابو بلال اشعری ہے ‘ جسے امام دارقطنی نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

3913

Majma al-Zawaid #3913

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَقُولُوا: الثَّبَاتَ الثَّبَاتَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ [بْنُ مُحَمَّدِ] بْنِ صَهْبَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded prompting the dying with La ilaha illa Allah and enjoining steadfastness with the declaration that there is no power except through Allah. > **"Prompt your dying ones with La ilaha illa Allah, and say: Steadfastness, steadfastness; and there is no power except through Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا الہ الا اللہ» پڑھنے کی تلقین کرو اور کہو : ثابت قدم رہو ثابت قدم رہو ! اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن صھبان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3914

Majma al-Zawaid #3914

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ لُقِّنَ عِنْدَ الْمَوْتِ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَطَاءٌ فِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ata ibn al-Saib reported from his father from his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ declared that whoever is prompted at death with the testimony that La ilaha illa Allah shall enter Paradise. > **"Whoever is prompted at death with the testimony that La ilaha illa Allah shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن سائب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کو موت کے قریب «لا الہ الا اللہ» کی گواہی دینے کی تلقین کر دی جائے ( اور وہ یہ کلمہ پڑھ لے ) وہ جنت میں داخل ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عطاء نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3915

Majma al-Zawaid #3915

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَفَعَهُ قَالَ: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَإِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا، وَنَفْسُ الْكَافِرِ تَخْرُجُ مِنْ شِدْقِهِ كَمَا تَخْرُجُ نَفْسُ الْحِمَارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reported in marfu form that the Prophet ﷺ commanded prompting the dying with La ilaha illa Allah, explaining that the soul of the believer comes out in sweat while the soul of the disbeliever comes out from his jaws as the soul of the donkey comes out. > **"Prompt your dying ones with La ilaha illa Allah, for the soul of the believer comes out in sweat, and the soul of the disbeliever comes out from his jaws as the soul of the donkey comes out."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ حدیث نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا الہ الا اللہ» پڑھنے کی تلقین کرو ‘ کیونکہ مؤمن کی جان پسینے میں نکلتی ہے ‘ اور کافر کی جان اس کی باچھوں سے نکلتی ہے ، جس طرح گدھے کی جان نکلتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند حسن ہے ۔

3916

Majma al-Zawaid #3916

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَقِّنُوا مَوْتَاكُمْ شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَمَنْ قَالَهَا عِنْدَ مَوْتِهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ "" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَنْ قَالَهَا فِي صِحَّتِهِ؟ قَالَ: "" تِلْكَ أَوْجَبُ وَأَوْجَبُ ""، ثُمَّ قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ جِيءَ بِالسَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ وَمَا بَيْنَهُنَّ وَمَا تَحْتَهُنَّ فَوُضِعْنَ فِي كِفَّةِ الْمِيزَانِ وَوُضِعَتْ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي الْكِفَّةِ الْأُخْرَى لَرَجَحَتْ بِهِنَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ أَبِي طَلْحَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded prompting the dying with the testimony that La ilaha illa Allah, promising Paradise for one who utters it at death. When asked about one who utters it in health, he twice declared that even more binding, then swore by Him in whose Hand is his soul that were the heavens and the earth and all within them, between them, and beneath them placed in one scale of the balance and the testimony placed in the other, it would outweigh them. > **"Prompt your dying ones with the testimony that La ilaha illa Allah, for whoever utters it at his death, Paradise becomes due for him. That is even more binding, even more binding. By Him in whose Hand is my soul, were the heavens and the earth and all within them, between them, and beneath them brought and placed in one scale of the balance and the testimony that La ilaha illa Allah placed in the other scale, it would outweigh them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے قریب المرگ لوگوں کو «لا الہ الا اللہ» کی گواہی دینے کی تلقین کرو جو شخص مرنے کے قریب اس کلمے کو پڑھ لے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جو شخص صحت کے دوران اس کلمہ کو پڑھے گا اسے کیا نصیب ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ زیادہ واجب کرنے والا ہو گا زیادہ واجب کرنے والا ہو گا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اگر تمام آسمانوں اور زمین اور ان میں موجود اور ان کے درمیان موجود اور ان کے نیچے موجود سب چیزوں کو لایا جائے اور انہیں میزان کے ایک پلڑے میں رکھا جائے اور «لا الہ الا اللہ» کی گواہی کو دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو یہ سب پر بھاری ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں صرف ابن ابوطلحہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

3917

Majma al-Zawaid #3917

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى غُلَامٍ مِنَ الْيَهُودِ وَهُوَ مَرِيضٌ فَقَالَ: "" أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ "" قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "" أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، ثُمَّ قُبِضَ فَوَلِيَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْمُسْلِمُونَ فَغَسَّلُوهُ وَدَفَنُوهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Safwan ibn Assal al-Muradi رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ entered upon a Jewish boy in sickness and asked him whether he testified that La ilaha illa Allah. When the boy assented, he asked whether he testified that Muhammad is the Messenger of Allah. When the boy assented, he was then taken, and the Messenger of Allah ﷺ and the Muslims took charge of him, washed him, and buried him. > **"Do you testify that La ilaha illa Allah? Do you testify that Muhammad is the Messenger of Allah?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک یہودی لڑکے پاس تشریف لائے جو بیمار تھا آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ حضرت محمد ‘ اللہ کے رسول ہیں اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ پھر اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ اور مسلمان اس کے نگران بنے اور انہوں نے اسے غسل دیا اور اسے دفن کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

3918

Majma al-Zawaid #3918

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ قَالَ: «شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ وَهُوَ فِي النَّزْعِ فَقَالَ: إِذَا أَنَا مِتُّ فَاصْنَعُوا بِي كَمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَقَالَ: "" إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إِخْوَانِكُمْ فَسَوَّيْتُمُ التُّرَابَ عَلَيْهِ فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ ثُمَّ لْيَقُلْ: يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانِ ابْنَ فُلَانَةٍ فَإِنَّهُ يَسْمَعُ وَلَا يُجِيبُ ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةٍ، فَإِنَّهُ يَسْتَوِي قَاعِدًا ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانُ ابْنَ فُلَانَةٍ، فَإِنَّهُ يَقُولُ: أَرْشِدْنَا رَحِمَكَ اللَّهُ، وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ فَلْيَقُلْ: اذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّكَ رَضِيتَ بِاللَّهِ رِبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا، فَإِنَّ مُنْكِرًا وَنَكِيرًا يَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ وَيَقُولُ: انْطَلِقْ بِنَا مَا نَقْعُدُ عِنْدَ مَنْ لُقِّنَ حُجَّتَهُ فَيَكُونُ اللَّهُ حَجِيجَهُ دُونَهُمَا "" قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ أُمَّهُ؟ قَالَ: "" فَيَنْسُبُهُ إِلَى حَوَّاءَ يَا فُلَانُ بْنَ حَوَّاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Saeed ibn Abdullah al-Awdi reported that he witnessed Abu Umamah al-Bahili رضي الله عنه in his death-struggle enjoining that when he died they should do with him as the Messenger of Allah ﷺ had commanded: when one of their brethren dies and they have levelled the earth over him, one of them should stand at the head of his grave and call him by his name and his mother's name, for he hears but does not answer, then call again so that he sits upright, then call again so that he asks for guidance without them perceiving, then remind him of what he left the world upon — the testimony that La ilaha illa Allah and that Muhammad is His servant and His Messenger, contentment with Allah as Lord, Islam as religion, Muhammad as Prophet, and the Quran as guide — for Munkar and Nakir shall each take the other's hand and depart, saying they shall not sit with one whose proof has been prompted, with Allah Himself as his advocate against them. When a man asked what if the mother's name were unknown, the Prophet ﷺ instructed ascription to Hawwa. > **"When one of your brethren dies and you have levelled the earth over him, let one of you stand at the head of his grave and say: O so-and-so son of so-and-so daughter of so-and-so, for he hears but does not answer; then say: O so-and-so son of so-and-so, for he sits upright; then say: O so-and-so son of so-and-so, for he says: Guide us, may Allah have mercy upon you, though you do not perceive. Then let him say: Remember what you left the world upon — the testimony that La ilaha illa Allah and that Muhammad is His servant and His Messenger, and that you were content with Allah as Lord, Islam as religion, Muhammad as Prophet, and the Quran as guide. For Munkar and Nakir shall each take the hand of his companion and say: Let us go; why should we sit with one whose proof has been prompted, when Allah Himself is his advocate against us. If he does not know his mother, let him ascribe him to Hawwa: O so-and-so son of Hawwa."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عبداللہ اودی بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ان پر نزع کا عالم طاری تھا انہوں نے ارشاد فرمایا : جب میں مر جاؤں تو میرے ساتھ ویسا کرنا جس طرح نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا تھا آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ’’ جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی ایک انتقال کر جائے تو تم اس پر مٹی برابر کرنا اور تم میں سے کوئی ایک شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو کر یہ کہے اے فلاں بن فلاں اے فلانہ کے صاحبزادے ! کیونکہ وہ شخص سنتا بھی ہو گا ‘ اور جواب بھی دیتا ہو گا پھر وہ شخص یہ کہے : اے فلاں بن فلانہ تو وہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا پھر وہ کہے اے فلاں بن فلانہ تم ہماری رہنمائی کرو اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، لیکن تم لوگوں کو اس کا شعور نہیں ہو گا اس وقت آدمی یہ کہے گا : تم اس چیز کو یاد کرو جس پر تم دنیا سے نکلتے وقت تھے ‘ اور وہ اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے اور اسلام کے دین ہونے حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے قرآن کے امام ہونے سے راضی تھے ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو منکر نکیر میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے ہاتھ کو پکڑتا ہے ‘ اور یہ کہتا ہے تم ہمارے ساتھ چلو ! ہم ایسے شخص کے پاس نہیں بیٹھیں گے ‘ جس کی حجت کی اسے تلقین کر دی گئی ہو اور منکر نکیر سے پہلے اللہ تعالی اس کی طرف سے حجت کی تلقین کرنے والا ہو ‘ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آدمی اس شخص کی ماں کے نام سے واقف نہ ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو پھر آدمی اس کی نسبت سیدہ حواء رضی اللہ عنہا کی طرف کر دے اور یہ کہے : اے فلاں بن حواء ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن میں واقف نہیں ہوں ۔

3919

Majma al-Zawaid #3919

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «أَسْنَدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى صَدْرِي فَقَالَ: "" مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ صَامَ يَوْمًا ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمِنْ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ابْتِغَاءَ وَجْهِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِهَا دَخَلَ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَى الْبَزَّارُ طَرَفًا مِنْهُ فِي الصِّيَامِ فَقَطْ،، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah رضي الله عنه reported that he supported the Prophet ﷺ against his chest, whereupon the Prophet ﷺ declared that whoever utters La ilaha illa Allah and is sealed therewith shall enter Paradise, whoever fasts a day seeking Allah's Face and is sealed therewith shall enter Paradise, and whoever gives charity seeking Allah's Face and is sealed therewith shall enter Paradise. > **"Whoever says La ilaha illa Allah and is sealed therewith shall enter Paradise; whoever fasts a day seeking the Face of Allah and is sealed therewith shall enter Paradise; and whoever gives charity seeking the Face of Allah and is sealed therewith shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے سینے کے ساتھ ٹیک لگوائی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص «لا الہ الا اللہ» پڑھ لے اور اس کے ذریعے اس پر مہر لگا دی جائے وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ایک دن کا روزہ رکھے اور اس کے حوالے سے اس کے لئے مہر لگا دی جائے وہ جنت میں داخل ہو گا ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوئی صدقہ کرے اور اس کے حوالے سے اس کے لئے مہر لگا دی جائے وہ جنت میں داخل ہو گا “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ‘ جو صرف روزے کے بارے میں ہے ۔ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3920

Majma al-Zawaid #3920

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «سَمِعْتُ عُمَرَ يَقُولُ لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ: مَا لِي أَرَاكَ شَعِثًا أَغْبَرَ مُنْذُ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَعَلَّهُ أَنَّ مَا بِكَ أَمَارَةُ ابْنِ عَمِّكَ؟ قَالَ: فَقَالَ: مَعَاذَ اللَّهِ إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَا يَقُولُهَا رَجُلٌ يَحْضُرُهُ الْمَوْتُ إِلَّا وَجَدَ رُوحَهُ لَهَا رَوْحَةٌ حَتَّى تَخْرُجَ مَنْ جَسَدِهِ، وَكَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ""، فَلَمْ أَسْأَلْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْهَا وَلَمْ يُخْبِرْنِي بِهَا! فَذَاكَ الَّذِي دَخَلَنِي!! قَالَ عُمَرُ: فَإِنِّي أَعْلَمُهَا قَالَ: فَلِلَّهِ الْحَمْدُ فَمَا هِيَ قَالَ: الْكَلِمَةُ الَّتِي قَالَهَا لِعَمِّهِ قَالَ: صَدَقْتَ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that he heard Umar رضي الله عنه ask Talhah ibn Ubaydillah رضي الله عنه why he appeared dishevelled and dusty since the death of the Messenger of Allah ﷺ, wondering whether the leadership of his cousin troubled him. Talhah swore refuge with Allah and told of hearing the Prophet ﷺ declare knowledge of a word that, uttered at death, gives the soul rest until it leaves the body and becomes light on the Day of Resurrection, yet he had neither asked the Messenger of Allah ﷺ about it nor been told it, and that this troubled him. Umar declared that he knew it, and upon being praised and asked what it was, he identified it as the word the Prophet ﷺ offered his uncle, which Talhah confirmed as true. > **"I know a word that no man utters when death attends him except that his soul finds rest thereby until it leaves his body, and it shall be a light for him on the Day of Resurrection: La ilaha illa Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : کیا وجہ ہے نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد میں مسلسل تمہیں بکھرے ہوئے بالوں والا اور غبار آلود دیکھ رہا ہوں شاید تمہیں اپنے چچا زاد کی امارت ( یعنی حکومت ) کے حوالے سے کوئی الجھن ہے ، تو انہوں نے کہا اس بات سے اللہ کی پناہ ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں ایک ایسے کلمہ کے بارے میں جانتا ہوں کہ جسے کوئی شخص موت کے قریب پڑھ لے تو اس کی روح کو اس کی راحت محسوس ہو گی یہاں تک کہ وہ روح اس کے جسم سے نکل جائے اور وہ کلمہ قیامت کے دن اس شخص کے لئے نور ہو گا ‘‘۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ سے اس کلمے کے بارے میں دریافت بھی نہیں کیا ‘ اور آپ نے مجھے اس کے بارے میں بتایا بھی نہیں تو اس چیز نے مجھے پریشان کیا ہوا ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اس کلمے کے بارے میں جانتا ہوں تو حضرت طلحہ نے کہا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے وہ کلمہ کون سا ہے ‘ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ وہ کلمہ ہے ‘ جو نبی اکرم ﷺ نے اپنے چچا کو پڑھنے کے لئے کہا تھا ‘ تو حضرت طلحہ نے کہا : آپ نے ٹھیک کہا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3921

Majma al-Zawaid #3921

وَعَنْ يَحْيَى بْنَ طَلْحَةَ قَالَ: «رَأَى عُمَرُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ حَزِينًا فَقَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَاتٍ لَا يَقُولُهُنَّ عَبْدٌ عِنْدَ الْمَوْتِ إِلَّا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ وَأَشْرَقَ لَهُ لَوْنَهُ، [وَرَأَى] مَا يَسُرُّهُ "" قَالَ: فَمَا يَمْنَعُنِي أَنْ أَسْأَلَهُ عَنْهَا إِلَّا الْقُدْرَةُ عَلَيْهَا فَقَالَ عُمَرُ: إِنِّي لَأَعْلَمُ مَا هِيَ قَالَ طَلْحَةُ: مَا هِيَ؟ قَالَ: هَلْ تَعْلَمُ كَلِمَةً هِيَ أَفْضَلُ مِنْ كَلِمَةٍ دَعَا إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَمَّهُ عِنْدَ الْمَوْتِ، قَالَ طَلْحَةُ: هِيَ - وَاللَّهِ - هِيَ [قَالَ عُمَرُ] لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Talhah reported that Umar رضي الله عنه saw Talhah ibn Ubaydillah رضي الله عنه grieved and asked what ailed him. Talhah told of hearing the Messenger of Allah ﷺ declare knowledge of words that, uttered at death, relieve distress, brighten the colour, and show what delights, yet inability had kept him from asking about them. Umar declared that he knew them, and upon being asked what they were, he asked whether any word could excel the word the Messenger of Allah ﷺ urged upon his uncle at death, which Talhah swore was indeed it, and Umar named it as La ilaha illa Allah. > **"I know words that no servant utters at death except that Allah relieves him and brightens his colour, and he sees what delights him: La ilaha illa Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن طلحہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کو غمگین دیکھا تو دریافت کیا : تمہیں کیا ہوا ہے ؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں کچھ کلمات کے بارے میں جانتا ہوں جنہیں کوئی شخص مرتے وقت پڑھ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم کر دے گا ‘ اور اس کے رنگ کو روشن کر دے گا ‘ اور وہ شخص ایسی چیز دیکھے گا ‘ جو اسے خوش کر دے گی ‘‘۔ پھر حضرت طلحہ نے فرمایا : میں نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کر سکتا تھا ، لیکن میں نے پھر بھی اس بارے میں آپ سے دریافت نہیں کیا ، تو حضرت عمر ﷺ نے فرمایا : میں جانتا ہوں کہ وہ کلمات کون سے ہیں ؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کون سے ہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کیا آپ کسی ایسے کلے سے واقف ہیں جو اس کلمہ سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو جس کی طرف نبی اکرم ﷺ نے اپنے چھا ( جناب ابوطالب ) کو ان کے انتقال کے قریب دعوت دی تھی ؟ تو حضرت طلحہ نے کہا : وہی ہے اللہ کی قسم وہی ہے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ «لا الہ الا اللہ» ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3922

Majma al-Zawaid #3922

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: "" يَا خَالِ قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ""، فَقَالَ: خَالٌ أَمْ عَمٌّ؟ قَالَ: "" لَا بَلْ خَالٌ "" [وَقَالَ] خَيْرٌ إِلَيَّ أَنْ أَقُولَهَا قَالَ: "" نَعَمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ visited a man of the Ansar and addressed him as maternal uncle, bidding him utter La ilaha illa Allah. The man asked whether he meant maternal or paternal uncle, the Prophet ﷺ clarified maternal uncle, and when the man asked whether good lay in uttering it, he confirmed it. > **"O maternal uncle, say: La ilaha illa Allah. Nay, maternal uncle. Yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے آپ نے فرمایا : اے ماموں ! آپ «لا الہ الا اللہ» پڑھ لیں تو اس شخص نے دریافت کیا : ماموں یا چچا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ ماموں ‘ اس شخص نے کہا : اگر میں یہ کلمہ پڑھ لوں گا ، تو کیا مجھے بھلائی نصیب ہو گی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

3923

Majma al-Zawaid #3923

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ: اللَّهُمَّ لَقِّنِّي حُجَّتِي، فَإِنَّ الْكَافِرَ يُلَقَّنُ حُجَّتَهُ، وَلَكِنْ لِيَقُلِ: اللَّهُمَّ لَقِّنِّي حُجَّةَ الْإِيمَانِ عِنْدَ الْمَمَاتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ وَفِيهِ السَّكَنُ بْنُ أَبِي كَرِعَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ forbade any of them to supplicate to be prompted with his proof in absolute terms, since even the disbeliever is prompted with his proof, and instructed instead to supplicate to be prompted with the proof of faith at death. > **"Let none of you say: O Allah, prompt me with my proof, for the disbeliever is prompted with his proof; but let him say: O Allah, prompt me with the proof of faith at death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تم میں سے کوئی ایک شخص یہ ہرگز نہ کہے کہ اے اللہ ! مجھے میری حجت کی تلقین کرنا کیونکہ کافر کو اس کی حجت کی تلقین کی جاتی ہے آدمی کو یہ کہنا چاہیے : اے اللہ ! موت کے قریب ایمان کی حجت کی مجھے تلقین کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سکن بن ابوکرعہ ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

3924

Majma al-Zawaid #3924

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلنَّفْسِ: اخْرُجِي قَالَتْ: لَا أَخْرُجُ إِلَّا كَارِهَةً قَالَ: اخْرُجِي وَإِنْ كَرِهْتِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ conveyed that Allah Blessed and Exalted commands the soul to come out, it answers that it will come out only unwillingly, and He commands it to come out even if unwilling. > **"Allah Blessed and Exalted says to the soul: Come out. It says: I shall not come out except unwillingly. He says: Come out even if unwilling."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نفس ( یعنی روح ) سے فرماتا ہے : تم نکل جاؤ ! تو وہ عرض کرتی ہے : میں صرف مجبوری کے عالم میں نکلوں گی تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم نکل جاؤ اگرچہ تمہیں ناپسند ہو ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3925

Majma al-Zawaid #3925

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بِعَرَقِ الْجَبِينِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ: الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, reported from the Prophet ﷺ that the death of the believer comes with sweat of the forehead. > **"The death of the believer is with sweat of the forehead."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مومن کی موت پیشانی کے پسینے کے ہمراہ ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3926

Majma al-Zawaid #3926

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بِعَرَقِ الْجَبِينِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي الْكَبِيرِ نَحْوَهُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَرِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, reported from the Prophet ﷺ that the believer dies with sweat of the forehead. > **"The believer dies with sweat of the forehead."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مومن پیشانی کے پسینے کے ہمراہ مرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور معجم کبیر میں ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔