وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «وَنَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عِنْدَ رَأْسِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: "" يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ارْفُقْ بِصَاحِبِي فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ "" فَقَالَ مَلَكُ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: طِبْ نَفْسًا وَقَرَّ عَيْنًا وَاعْلَمْ أَنِّي بِكُلِّ مُؤْمِنٍ رَفِيقٌ، وَاعْلَمْ يَا مُحَمَّدُ أَنِّي لَأَقْبِضُ رُوحَ ابْنِ آدَمَ فَإِذَا صَرَخَ صَارِخٌ مِنْ أَهْلِهِ قُمْتُ فِي الدَّارِ وَمَعِي رُوحُهُ فَقُلْتُ: مَا هَذَا الصَّارِخُ؟ وَاللَّهِ مَا ظَلَمْنَاهُ وَلَا سَبَقْنَا أَجَلَهُ وَلَا اسْتَعْجَلْنَا قَدَرَهُ وَمَا لَنَا فِي قَبْضِهِ مِنْ ذَنْبٍ، فَإِنْ تَرْضَوْا بِمَا صَنَعَ اللَّهُ تُؤْجَرُوا وَإِنْ تَحْزَنُوا وَتَسْخَطُوا تَأْثَمُوا وَتُؤْزَرُوا، مَا لَكُمَ عِنْدَنَا مِنْهُ عُتْبَى وَإِنَّ لَنَا عِنْدَكُمْ بَعْدَ عَوْدَةٍ وَعَوْدَةٍ فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ، وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِ - يَا مُحَمَّدُ - شَعْرٍ وَلَا مَدَرٍ، بَرٍّ وَلَا فَاجِرٍ، سَهْلٍ وَلَا جَبَلٍ إِلَّا أَنَا أَتَصَفَّحُهُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ حَتَّى لَأَنَا أَعْرَفُ بِصَغِيرِهِمْ وَكَبِيرِهِمْ مِنْهُمْ بِأَنْفُسِهِمْ، وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ لَوْ أَرَدْتُ أَقْبِضُ رُوحَ بَعُوضَةٍ مَا قَدَرْتُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ أَذِنَ بِقَبْضِهَا». قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ: بَلَغَنِي أَنَّهُ إِنَّمَا يَتَصَفَّحُهُمْ عِنْدَ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَإِذَا نَظَرَ عِنْدَ الْمَوْتِ فَمَنْ كَانَ يُحَافِظُ عَلَى الصَّلَوَاتِ دَنَا مِنْهُ الْمَلَكُ وَطَرَدَ عَنْهُ الشَّيْطَانَ وَيُلَقِّنُهُ الْمَلَكُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَذَلِكَ الْحَالُ الْعَظِيمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَمْرٍ الْجُعْفِيُّ وَالْحَارِثُ بْنُ الْخَزْرَجِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَى الْبَزَّارُ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ: وَاعْلَمْ أَنِّي بِكُلِّ مُؤْمِنٍ رَفِيقٌ.
EnglishUnverified translation
Al-Harith ibn al-Khazraj reported from his father that he heard the Messenger of Allah ﷺ address the Angel of Death, upon him be peace, at the head of a man of the Ansar, bidding him be gentle with his companion for he was a believer. The Angel of Death answered bidding him be of good cheer and cool eye, for he is gentle with every believer, then addressed him as Muhammad ﷺ explaining his seizure of souls, his standing in the house with the soul when kin wail — protesting no wrong, no hastening of term or decree, no fault in the seizure, with reward for acceptance and sin for grief and wrath, no excuse remaining with them, and repeated returns — his daily survey of every household of hair or clay, righteous or wicked, plain or mountain, knowing young and old better than themselves, and his powerlessness to seize even a gnat's soul without Allah's leave. Jafar ibn Muhammad added that it reached him the survey occurs at prayer times, so that one guarding prayer is approached by the angel, shielded from Satan, and prompted with La ilaha illa Allah, Muhammad the Messenger of Allah, in that mighty state. > **"O Angel of Death, be gentle with my companion, for he is a believer. Be of good cheer and cool eye, for I am gentle with every believer. O Muhammad, when I seize the soul of the son of Adam and one of his household wails, I stand in the house with his soul and say: What is this wailing? By Allah, we wronged him not, nor hastened his term, nor hurried his decree, and we have no fault in seizing him. If you are content with what Allah has done you are rewarded, and if you grieve and rage you sin and bear burden. You have no reproach against us, and we shall return to you again and again, so beware, beware. O Muhammad, there is no household of hair or clay, righteous or wicked, plain or mountain, but I survey them every day and night until I know their young and old better than themselves. By Allah, O Muhammad, had I wished to seize the soul of a gnat I could not unless Allah had permitted its seizure."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حارث بن خزرج نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ’’ نبی اکرم ﷺ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے سرہانے ملک الموت کو دیکھ کر ارشاد فرمایا : اے ملک الموت میرے ساتھی کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ یہ مؤمن ہے ‘ تو ملک الموت نے کہا : آپ اطمینان سے رہیں اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا رکھیں آپ یہ بات جان لیں کہ میں ہر مومن کے لئے مہربان ہوں اے حضرت محمد آپ یہ بات جان لیں کہ جب میں کسی انسان کی روح قبض کرتا ہوں اور اس کے اہل خانہ میں سے کوئی چیخ کر روتا ہے ، تو میں دروازے میں کھڑا ہو جاتا ہوں ۔ میرے ساتھ اس شخص کی روح ہوتی ہے میں دریافت کرتا ہوں : یہ شخص کون ہے ؟ اللہ کی قسم ہم نے اس پر کوئی ظلم نہیں کیا ہم نے اس کے مخصوص وقت سے پہلے اس کی روح کو قبض نہیں کیا اس کی متعین مقدار سے جلدی نہیں کی ‘ تو اس کی روح قبض کرنے میں ہمارا کیا گناہ ہے اگر تم لوگ اس چیز سے راضی ہو جو اللہ تعالیٰ نے طے کیا ہے ‘ تو تمہیں اجر نصیب ہو گا ‘ اور اگر تم غمگین ہوتے ہو ‘ اور ناراض ہوتے ہو ‘ تو تم پر بوجھ آئے گا ہمیں اس حوالے سے کوئی عتاب نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہم نے تو تمہارے پاس یکے بعد دیگرے آتے رہنا ہے ‘ تو تم احتیاط کرو احتیاط کرواے حضرت محمد ( ﷺ ) ! ہر گھر خواہ وہ بالوں سے بنا ہوا ہو ‘ یا کچی مٹی سے بنا ہوا ہو نیک آدمی کا ہو ‘ یا گناہ گار کا ہو نرم جگہ پر ہو ‘ یا پہاڑ پر ہو میں ہر گھرانے میں روزانہ چکر لگاتا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے چھوٹے اور بڑوں کو خود ان سے بھی زیادہ بہتر طور پر جانتا ہوں اللہ کی قسم ! اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! اگر میں کسی مکھی کی روح قبض کرنے کا ارادہ کروں تو میں اس کی بھی قدرت نہیں رکھتا جب تک اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کرنے کی اجازت نہیں دیتا جعفر بن محمد ( شاید اس سے مراد امام جعفر صادق ہیں : ) یہ فرماتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ملک الموت نمازوں کے اوقات کے وقت ان لوگوں کے گھروں میں آتا جاتا ہے ‘ اور جب وہ موت کے قریب کسی ایسے شخص کو پاتا ہے ‘ جو نمازیں باقاعدگی سے ادا کیا کرتا تھا ، تو ملک الموت اس کے پاس آ جاتا ہے ‘ اور شیطان اس شخص سے دور ہو جاتا ہے ملک الموت اسے «لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ» پڑھنے کی تلقین کرتا ہے ‘ اور یہ بڑی بہترین حالت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شمر جعفی اور ایک راوی حارث بن خزرج ہے میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام بزار نے اس روایت میں سے ان الفاظ تک کا حصہ نقل کیا ہے : ” آپ یہ بات جان لیں کہ میں ہر مومن کے لئے مہربان ہوں “۔