Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 7 · Chapter 6

Book of Funerals

Hadith 3927–3966

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3927

Majma al-Zawaid #3927

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «نَفْسُ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا، وَلَا أُحِبُّ مَوْتًا كَمَوْتِ الْحِمَارِ "" قِيلَ: وَمَا مَوْتُ الْحِمَارِ؟ قَالَ: "" مَوْتُ الْفَجْأَةِ "" قَالَ: "" وَرُوحُ الْكَافِرِ تَخْرُجُ مِنْ أَشْدَاقِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُسَامُ بْنُ مِصَكٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ declare that the soul of the believer comes out in sweat, that he did not love a death like the death of the donkey, and upon being asked what the death of the donkey was, he identified it as sudden death, adding that the soul of the disbeliever comes out from his jaws. > **"The soul of the believer comes out in sweat, and I do not love a death like the death of the donkey. Sudden death. And the soul of the disbeliever comes out from his jaws."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مومن کی جان پسینے میں نکلتی ہے ‘ اور مجھے ایسی موت پسند نہیں ہے ‘ جو گدھے کی موت کی مانند ہو ‘ عرض کی گئی : گدھے کی موت کیا ہوتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اچانک موت ‘ آپ نے فرمایا : کافر کی روح ، اُس کی باچھوں میں سے نکلتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسام بن مصک ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3928

Majma al-Zawaid #3928

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «وَنَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى مَلَكِ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عِنْدَ رَأْسِ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: "" يَا مَلَكَ الْمَوْتِ ارْفُقْ بِصَاحِبِي فَإِنَّهُ مُؤْمِنٌ "" فَقَالَ مَلَكُ الْمَوْتِ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: طِبْ نَفْسًا وَقَرَّ عَيْنًا وَاعْلَمْ أَنِّي بِكُلِّ مُؤْمِنٍ رَفِيقٌ، وَاعْلَمْ يَا مُحَمَّدُ أَنِّي لَأَقْبِضُ رُوحَ ابْنِ آدَمَ فَإِذَا صَرَخَ صَارِخٌ مِنْ أَهْلِهِ قُمْتُ فِي الدَّارِ وَمَعِي رُوحُهُ فَقُلْتُ: مَا هَذَا الصَّارِخُ؟ وَاللَّهِ مَا ظَلَمْنَاهُ وَلَا سَبَقْنَا أَجَلَهُ وَلَا اسْتَعْجَلْنَا قَدَرَهُ وَمَا لَنَا فِي قَبْضِهِ مِنْ ذَنْبٍ، فَإِنْ تَرْضَوْا بِمَا صَنَعَ اللَّهُ تُؤْجَرُوا وَإِنْ تَحْزَنُوا وَتَسْخَطُوا تَأْثَمُوا وَتُؤْزَرُوا، مَا لَكُمَ عِنْدَنَا مِنْهُ عُتْبَى وَإِنَّ لَنَا عِنْدَكُمْ بَعْدَ عَوْدَةٍ وَعَوْدَةٍ فَالْحَذَرَ الْحَذَرَ، وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتِ - يَا مُحَمَّدُ - شَعْرٍ وَلَا مَدَرٍ، بَرٍّ وَلَا فَاجِرٍ، سَهْلٍ وَلَا جَبَلٍ إِلَّا أَنَا أَتَصَفَّحُهُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ حَتَّى لَأَنَا أَعْرَفُ بِصَغِيرِهِمْ وَكَبِيرِهِمْ مِنْهُمْ بِأَنْفُسِهِمْ، وَاللَّهِ يَا مُحَمَّدُ لَوْ أَرَدْتُ أَقْبِضُ رُوحَ بَعُوضَةٍ مَا قَدَرْتُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ اللَّهُ هُوَ أَذِنَ بِقَبْضِهَا». قَالَ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ: بَلَغَنِي أَنَّهُ إِنَّمَا يَتَصَفَّحُهُمْ عِنْدَ مَوَاقِيتِ الصَّلَاةِ فَإِذَا نَظَرَ عِنْدَ الْمَوْتِ فَمَنْ كَانَ يُحَافِظُ عَلَى الصَّلَوَاتِ دَنَا مِنْهُ الْمَلَكُ وَطَرَدَ عَنْهُ الشَّيْطَانَ وَيُلَقِّنُهُ الْمَلَكُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَذَلِكَ الْحَالُ الْعَظِيمُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ شَمْرٍ الْجُعْفِيُّ وَالْحَارِثُ بْنُ الْخَزْرَجِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَى الْبَزَّارُ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ: وَاعْلَمْ أَنِّي بِكُلِّ مُؤْمِنٍ رَفِيقٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Harith ibn al-Khazraj reported from his father that he heard the Messenger of Allah ﷺ address the Angel of Death, upon him be peace, at the head of a man of the Ansar, bidding him be gentle with his companion for he was a believer. The Angel of Death answered bidding him be of good cheer and cool eye, for he is gentle with every believer, then addressed him as Muhammad ﷺ explaining his seizure of souls, his standing in the house with the soul when kin wail — protesting no wrong, no hastening of term or decree, no fault in the seizure, with reward for acceptance and sin for grief and wrath, no excuse remaining with them, and repeated returns — his daily survey of every household of hair or clay, righteous or wicked, plain or mountain, knowing young and old better than themselves, and his powerlessness to seize even a gnat's soul without Allah's leave. Jafar ibn Muhammad added that it reached him the survey occurs at prayer times, so that one guarding prayer is approached by the angel, shielded from Satan, and prompted with La ilaha illa Allah, Muhammad the Messenger of Allah, in that mighty state. > **"O Angel of Death, be gentle with my companion, for he is a believer. Be of good cheer and cool eye, for I am gentle with every believer. O Muhammad, when I seize the soul of the son of Adam and one of his household wails, I stand in the house with his soul and say: What is this wailing? By Allah, we wronged him not, nor hastened his term, nor hurried his decree, and we have no fault in seizing him. If you are content with what Allah has done you are rewarded, and if you grieve and rage you sin and bear burden. You have no reproach against us, and we shall return to you again and again, so beware, beware. O Muhammad, there is no household of hair or clay, righteous or wicked, plain or mountain, but I survey them every day and night until I know their young and old better than themselves. By Allah, O Muhammad, had I wished to seize the soul of a gnat I could not unless Allah had permitted its seizure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث بن خزرج نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ’’ نبی اکرم ﷺ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے سرہانے ملک الموت کو دیکھ کر ارشاد فرمایا : اے ملک الموت میرے ساتھی کے ساتھ نرمی کرنا کیونکہ یہ مؤمن ہے ‘ تو ملک الموت نے کہا : آپ اطمینان سے رہیں اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا رکھیں آپ یہ بات جان لیں کہ میں ہر مومن کے لئے مہربان ہوں اے حضرت محمد آپ یہ بات جان لیں کہ جب میں کسی انسان کی روح قبض کرتا ہوں اور اس کے اہل خانہ میں سے کوئی چیخ کر روتا ہے ، تو میں دروازے میں کھڑا ہو جاتا ہوں ۔ میرے ساتھ اس شخص کی روح ہوتی ہے میں دریافت کرتا ہوں : یہ شخص کون ہے ؟ اللہ کی قسم ہم نے اس پر کوئی ظلم نہیں کیا ہم نے اس کے مخصوص وقت سے پہلے اس کی روح کو قبض نہیں کیا اس کی متعین مقدار سے جلدی نہیں کی ‘ تو اس کی روح قبض کرنے میں ہمارا کیا گناہ ہے اگر تم لوگ اس چیز سے راضی ہو جو اللہ تعالیٰ نے طے کیا ہے ‘ تو تمہیں اجر نصیب ہو گا ‘ اور اگر تم غمگین ہوتے ہو ‘ اور ناراض ہوتے ہو ‘ تو تم پر بوجھ آئے گا ہمیں اس حوالے سے کوئی عتاب نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہم نے تو تمہارے پاس یکے بعد دیگرے آتے رہنا ہے ‘ تو تم احتیاط کرو احتیاط کرواے حضرت محمد ( ﷺ ) ! ہر گھر خواہ وہ بالوں سے بنا ہوا ہو ‘ یا کچی مٹی سے بنا ہوا ہو نیک آدمی کا ہو ‘ یا گناہ گار کا ہو نرم جگہ پر ہو ‘ یا پہاڑ پر ہو میں ہر گھرانے میں روزانہ چکر لگاتا ہوں یہاں تک کہ میں ان کے چھوٹے اور بڑوں کو خود ان سے بھی زیادہ بہتر طور پر جانتا ہوں اللہ کی قسم ! اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! اگر میں کسی مکھی کی روح قبض کرنے کا ارادہ کروں تو میں اس کی بھی قدرت نہیں رکھتا جب تک اللہ تعالیٰ اس کی روح قبض کرنے کی اجازت نہیں دیتا جعفر بن محمد ( شاید اس سے مراد امام جعفر صادق ہیں : ) یہ فرماتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ ملک الموت نمازوں کے اوقات کے وقت ان لوگوں کے گھروں میں آتا جاتا ہے ‘ اور جب وہ موت کے قریب کسی ایسے شخص کو پاتا ہے ‘ جو نمازیں باقاعدگی سے ادا کیا کرتا تھا ، تو ملک الموت اس کے پاس آ جاتا ہے ‘ اور شیطان اس شخص سے دور ہو جاتا ہے ملک الموت اسے «لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ» پڑھنے کی تلقین کرتا ہے ‘ اور یہ بڑی بہترین حالت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن شمر جعفی اور ایک راوی حارث بن خزرج ہے میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں امام بزار نے اس روایت میں سے ان الفاظ تک کا حصہ نقل کیا ہے : ” آپ یہ بات جان لیں کہ میں ہر مومن کے لئے مہربان ہوں “۔

3929

Majma al-Zawaid #3929

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ تَخْرُجُ رَشْحًا وَإِنَّ نَفْسَ الْكَافِرِ تَسِلُ كَمَا تَخْرُجُ نَفْسُ الْحِمَارِ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ لِيَعْمَلُ الْخَطِيئَةَ فَيُشَدَّدُ بِهَا عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ لِيُكَفَّرَ بِهَا، وَإِنَّ الْكَافِرَ لِيَعْمَلُ الْحَسَنَةَ فَيَسْهُلُ عَلَيْهِ عِنْدَ الْمَوْتِ لِيُجْزَى بِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that the soul of the believer comes out in sweat while the soul of the disbeliever slips out as the soul of the donkey comes out, that the believer's sin is made severe upon him at death as expiation, and that the disbeliever's good deed is made easy upon him at death as recompense. > **"The soul of the believer comes out in sweat, and the soul of the disbeliever slips out as the soul of the donkey comes out. The believer commits sin and it is made severe upon him at death as expiation for it, and the disbeliever performs good and it is made easy upon him at death as recompense for it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن کی جان پسینے میں سے نکلتی ہے ‘ اور کافر کی جان یوں نکلتی ہے ، جس طرح گدھے کی جان نکلتی ہے مؤمن نے گناہ کیا ہوا ہوتا ہے ‘ تو مرتے وقت اس پر سختی کی جاتی ہے تاکہ یہ چیز اس کا کفارہ بن جائے اور کافر نے اچھائی کی ہوئی ہوتی ہے ‘ تو مرتے وقت اس پر آسانی کی جاتی ہے ‘ تاکہ وہ اس اچھائی کا بدلہ بن جائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3930

Majma al-Zawaid #3930

وَعَنْ سَلْمَانَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَعُودُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ وَضَعَ يَدَهُ عَلَى جَبِينِهِ فَقَالَ: "" كَيْفَ تَجِدُكَ؟ "" فَلَمْ يَحُرْ إِلَيْهِ شَيْئًا فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ عَنْكَ مَشْغُولٌ قَالَ: "" خَلُّوا بَيْنِي وَبَيْنَهُ "" فَخَرَجَ النَّاسُ مِنْ عِنْدِهِ وَتَرَكُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَأَشَارَ الْمَرِيضُ أَيْ أَعِدْ يَدَكَ حَيْثُ كَانَتْ، ثُمَّ نَادَى: "" يَا فُلَانُ مَا تَجِدُ؟ "" قَالَ: أَجِدُ خَيْرًا وَقَدْ حَضَرَنِي اثْنَانِ أَحَدُهُمَا أَسْوَدُ وَالْآخَرُ أَبْيَضُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيُّهُمَا أَقْرَبُ مِنْكَ؟ "" قَالَ: الْأَسْوَدُ قَالَ: "" إِنَّ الْخَيْرَ قَلِيلٌ وَإِنَّ الشَّرَّ كَثِيرٌ "" قَالَ: فَمَتِّعْنِي مِنْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِدَعْوَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ اغْفِرِ الْكَثِيرَ وَأَنْمِ الْقَلِيلَ "" ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا تَرَى؟ "" قَالَ: [خَيْرًا] بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي الْخَيْرَ يُنْمَى وَأَرَى الشَّرَّ يَضْمَحِلُّ وَقَدِ اسْتَأْخَرَ عَنِّي الْأَسْوَدُ قَالَ: "" أَيُّ عَمَلِكَ كَانَ أَمْلَكَ بِكَ؟ "" قَالَ: كُنْتُ أَسْقِي الْمَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اسْمَعْ يَا سَلْمَانُ هَلْ تُنْكِرُ مِنِّي شَيْئًا؟ "" قَالَ: نَعَمْ - بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي - قَدْ رَأَيْتُكَ فِي مَوَاطِنَ مَا رَأَيْتُكُ عَلَى مِثْلِ حَالِكَ الْيَوْمَ! قَالَ: "" إِنِّي لِأَعْلَمُ مَا يَلْقَى، مَا مِنْهُ عِرْقٌ إِلَّا وَهُوَ يَأْلَمُ الْمَوْتِ عَلَى حِدَّتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salman رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ went out to visit a man of the Ansar. Entering upon him, he placed his hand upon his forehead and asked how he found himself, but the man gave no answer, and it was said that he was preoccupied away from the Prophet ﷺ. The Prophet ﷺ asked that he be left alone with him, so the people left. When the Messenger of Allah ﷺ lifted his hand the sick man gestured to return it where it had been. Upon being called by name and asked what he found, the man answered that he found good and that two figures had attended him, one black and one white. Upon being asked which was nearer, he answered the black one, and the Prophet ﷺ explained the meaning concerning the littleness of good and the abundance of evil. The man then requested the benefit of a supplication, so the Prophet ﷺ supplicated for forgiveness of the much and increase of the little, then asked what he now saw. The man answered, swearing by his father and mother, that good was increasing and evil dwindling with the black receding. Upon being asked which of his deeds held him most, he answered that he used to give water to drink. The Prophet ﷺ then asked Salman whether he found anything strange in him, and when Salman affirmed, describing the Prophet's state that day as unlike any station in which he had seen him, the Prophet ﷺ explained that he knew what the man suffered, with every vein feeling the pang of death distinctly. > **"How do you find yourself? Which of the two is nearer to you? Good is little and evil is much. O Allah, forgive the much and increase the little. What do you see? Which of your deeds held you most? Listen, O Salman, do you find anything strange in me? I know what he suffers; there is no vein in him but that it feels the pang of death distinctly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لے گئے جب آپ اس کے پاس تشریف لائے تو آپ نے اپنا دست مبارک اس کی پیشانی پر رکھا آپ نے دریافت کیا : تم کیا محسوس کر رہے ہو ؟ اس نے نبی اکرم ﷺ کو کوئی جواب نہیں دیا عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی توجہ آپ کی طرف نہیں ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے اور اس کو تنہا چھوڑ دو تو لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے اٹھ کر باہر چلے گئے اور نبی اکرم ﷺ کو وہیں رہنے دیا نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اٹھایا تو بیمار نے اشارہ کیا کہ آپ اپنا دست مبارک وہیں رکھ دیں جہاں پہلے موجود تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے فلاں تم کیا محسوس کر رہے ہو اس نے عرض کی : میں بھلائی محسوس کر رہا ہوں میرے پاس دو چیزیں آئی ہیں ان میں سے ایک سفید ہے ‘ اور دوسری سیاہ ہے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : ان میں سے کون سی تمہارے زیادہ قریب ہے ؟ اس نے جواب دیا : سیاہ والی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کا مطلب ہے بھلائی کم ہے ‘ اور برائی زیادہ ہے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے دعا سے نوازیے نبی اکرم ﷺ نے دعا کی اے اللہ ! زیادہ والی چیز ( یعنی گناہوں کی ) مغفرت کر دے اور تھوڑی والی چیز ( یعنی بھلائی ) کو بڑھا دے پھر نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیا دیکھ رہے ہو ؟ اس نے عرض کی : بھلائی ‘ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں بھلائی بڑھ رہی ہے ‘ اور میں برائی کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ مضمحل ہو رہی ہے ‘ اور سیاہ چیز مجھ سے پیچھے ہٹ رہی ہے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے عمل میں سے کون سا عمل تمہیں موزوں لگ رہا ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں پانی پلایا کرتا تھا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سن لو کیا تمہیں میری طرف سے کوئی چیز مختلف محسوس ہوئی حضرت سلمان نے عرض کی : جی ہاں ۔ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں نے آپ کو مختلف قسم کی صورت حال میں دیکھا ہے ‘ لیکن جس طرح کی صورت حال آج ہے اس طرح کبھی آپ کو نہیں دیکھا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ جس چیز کا سامنا کر رہا ہے میں اس کو دیکھ رہا ہوں ہر ایک رگ موت کی تکلیف کو الگ سے محسوس کرتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3931

Majma al-Zawaid #3931

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ نَفْسَ الْمُؤْمِنِ إِذَا قُبِضَتْ تَلَقَّاهَا مِنْ أَهْلِ الرَّحْمَةِ مِنْ عِبَادِهِ كَمَا يَلْقَوْنَ الْبَشِيرَ مِنَ الدُّنْيَا فَيَقُولُونَ: أَنْظِرُوا صَاحِبَكُمْ يَسْتَرِيحُ فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ فِي كَرْبٍ شَدِيدٍ ثُمَّ يَسْأَلُوهُ: مَاذَا فَعَلَ فُلَانٌ؟ وَمَاذَا فَعَلَتْ فُلَانَةٌ؟ هَلْ تَزَوَّجَتْ؟ فَإِذَا سَأَلُوهُ عَنِ الرَّجُلِ قَدْ مَاتَ قَبْلَهُ فَيَقُولُ: هَيْهَاتَ قَدْ مَاتَ ذَلِكَ قَبْلِي!! فَيَقُولُونَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ذُهِبَ بِهِ إِلَى أُمِّهِ الْهَاوِيَةِ فَبِئْسَتِ الْأُمُّ وَبِئْسَتِ الْمُرَبِّيَةُ، وَإِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَائِرِكُمْ [مِنْ أَهْلِ الْآخِرَةِ] فَإِنْ كَانَ خَيْرًا فَرِحُوا وَاسْتَبْشَرُوا وَقَالُوا: اللَّهُمَّ هَذَا فَضْلُكَ وَرَحْمَتُكَ فَأَتْمِمْ نِعْمَتَكَ عَلَيْهِ وَأَمِتْهُ عَلَيْهَا، وَيَعْرِضُ عَلَيْهِمْ عَمَلَهُمُ الْمُسِيءَ فَيَقُولُونَ: اللَّهُمَّ أَلْهِمْهُ عَمَلًا صَالِحًا تَرْضَى بِهِ عَنْهُ وَتُقَرِّبُهُ إِلَيْكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub al-Ansari رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ described how the soul of the believer, when seized, is met by the merciful among His servants as a bearer of glad tidings is met in this world, told to let their companion rest for he was in severe distress, then questioned about such-and-such man and woman and marriages, and when asked about one who died before him, answers in surprise that he died before. They then declare the return to Allah and judge him taken to his mother Hawiyah, an evil mother and nurse. He further described deeds presented to kindred and kinsfolk among the people of the Hereafter: if good they rejoice, give glad tidings, and supplicate Allah to complete His favour upon the doer and cause him to die upon it; if evil they supplicate Allah to inspire him with righteous work pleasing to Him that draws him near. > **"When the soul of the believer is seized, it is met by the merciful among His servants as the bearer of glad tidings is met in this world, and they say: Let your companion rest, for he was in severe distress. Then they ask him: What did so-and-so do, and what did so-and-so woman do; did she marry? And when they ask him about a man who died before him, he says: Alas, he died before me. So they say: To Allah we belong and to Him we return; he has been taken to his mother Hawiyah, an evil mother and an evil nurse. Your deeds are presented to your kindred and kinsfolk among the people of the Hereafter: if good they rejoice and give glad tidings and say: O Allah, this is Your bounty and Your mercy, so complete Your favour upon him and cause him to die upon it; and if evil they say: O Allah, inspire him with righteous work with which You are pleased with him and draw him near to You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مومن کی جان جب قبض کی جاتی ہے ‘ تو رحمت والے فرشتے اسے یوں ملتے ہیں جس طرح دنیا میں کوئی خوشخبری سنانے والا ملتا ہے وہ کہتے ہیں : تم اپنے ساتھی کا جائزہ لو کہ اس نے راحت حاصل کر لی ہے اس سے پہلے وہ شدید مشکل میں تھا پھر وہ اس سے دریافت کرتے ہیں کہ فلاں کا کیا حال ہے فلاں کا کیا حال ہے فلاں کا کیا حال ہے کیا اس نے شادی کر لی ہے ‘ جب وہ اس سے کسی ایسے شخص کے بارے میں دریافت کرتے ہیں جو پہلے مر چکا ہو تو وہ کہتا ہے ارے بھائی وہ تو مجھ سے پہلے ہی فوت ہو چکا ہے ‘ تو دوسرے لوگ کہتے ہیں : بے شک ہم اللہ تعالٰی کے مخصوص ہے ‘ اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے وہ اپنے ٹھکانے حاویہ ( یعنی جہنم ) کی طرف چلا گیا ہو گا ‘ اور وہ برا ٹھکانہ ہے ‘ اور بری تربیت کرنے والی ہے ۔ ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) تمہارے اعمال اہل آخرت سے تعلق رکھنے والے تمہارے قریبی رشتہ داروں اور تعلق داروں کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اگر وہ عمل بہتر ہو تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور خوشخبری حاصل کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! یہ تیرا فضل ہے ‘ اور تیری رحمت ہے ‘ تو اس پر اپنی نعمت کو مکمل کر دے اور اس نعمت پر اسے موت دینا اور برائی کرنے والے کا عمل بھی ان لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ‘ تو وہ کہتے ہیں : اے اللہ ! اسے نیک عمل کی ‘ توفیق دے جس کے ذریعے تو اس سے راضی ہو جائے اور تو اس کو اپنی بارگاہ میں مقرب کر لے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3932

Majma al-Zawaid #3932

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «إِذَا قُتِلَ الْعَبْدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأَوَّلُ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ دَمِهِ يُكَفِّرُ اللَّهُ ذُنُوبَهُ كُلَّهَا، ثُمَّ يُرْسِلُ لَهُ اللَّهُ بِرَيْطَةٍ مِنَ الْجَنَّةِ فَتُقْبَضُ فِيهَا نَفْسُهُ وَيُجَسَّدُ مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى تُرَكَّبَ فِيهِ رُوحُهُ ثُمَّ يُعَرِّجُ مَعَ الْمَلَائِكَةِ كَأَنَّهُ كَانَ مَعَهُمْ مُنْذُ خَلَقَهُ اللَّهُ حَتَّى يُؤْتَى بِهِ الرَّحْمَنُ - عَزَّ وَجَلَّ - وَيَسْجُدُ قَبْلَ الْمَلَائِكَةِ ثُمَّ تَسْجُدُ الْمَلَائِكَةُ بَعْدَهُ، ثُمَّ يُغْفَرُ لَهُ وَيُطَهَّرُ ثُمَّ يُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الشُّهَدَاءِ فَيَجِدُهُمْ فِي رِيَاضٍ خُضْرٍ وَثِيَابٍ مِنْ حَرِيرٍ عِنْدَهُمْ ثَوْرٌ وَحُوتٌ يُلَغِثَانِهِمْ كُلَّ يَوْمٍ بِشَيْءٍ لَمْ يُلْغَثَاهُ بِالْأَمْسِ يَظَلُّ الْحُوتُ فِي أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَيَأْكُلُ مَنْ كُلِّ رَائِحَةٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ فَإِذَا أَمْسَى وَكَزَهُ الثَّوْرُ بِقَرْنِهِ فَذَكَاهُ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ فَوَجَدُوا فِي طَعْمِ لَحْمِهِ كُلَّ رَائِحَةٍ مِنْ أَنْهَارِ الْجَنَّةِ وَيَلْبَثُ الثَّوْرُ نَافِشًا فِي الْجَنَّةِ يَأْكُلُ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ، فَإِذَا أَصْبَحَ عَدَا عَلَيْهِ الْحُوتُ فَذَكَاهُ بِذَنَبِهِ فَأَكَلُوا مِنْ لَحْمِهِ فَوَجَدُوا فِي طَعْمِ لَحْمِهِ كُلَّ ثَمَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ، يَنْظُرُونَ إِلَى مَنَازِلِهِمْ يَدْعُونَ اللَّهَ بِقِيَامِ السَّاعَةِ فَإِذَا تَوَفَّى اللَّهُ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ بِخِرْقَةٍ مِنَ الْجَنَّةِ وَرَيْحَانٍ مِنْ رَيْحَانِ الْجَنَّةِ فَقَالَ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ اخْرُجِي إِلَى رَوْحٍ وَرَيْحَانٍ وَرَبٍّ غَيْرِ غَضْبَانَ، اخْرُجِي فَنِعْمَ مَا قَدَّمْتِ فَتَخْرُجُ كَأَطْيَبِ رَائِحَةِ مِسْكٍ وَجَدَهَا أَحَدُكُمْ بِأَنْفِهِ وَعَلَى أَرْجَاءِ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ جَاءَ مِنَ الْأَرْضِ الْيَوْمَ رُوحٌ طَيِّبَةٌ فَلَا يَمُرُّ بِبَابٍ إِلَّا فَتَحَ لَهُ وَلَا مَلَكٍ إِلَّا صَلَّى عَلَيْهِ وَيَشْفَعُ حَتَّى يُؤْتَى بِهِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَتَسْجُدُ الْمَلَائِكَةُ قَبْلَهُ ثُمَّ يَقُولُونَ: رَبَّنَا هَذَا عَبْدُكَ فُلَانٌ تَوَفَّيْنَاهُ وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ فَيَقُولُ: مُرُوهُ بِالسُّجُودِ فَيَسْجُدُ النَّسَمَةُ ثُمَّ يُدْعَى مِيكَائِيلُ فَيُقَالُ: اجْعَلْ هَذِهِ النَّسَمَةَ مَعَ أَنْفُسِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى أَسْأَلَكَ عَنْهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُؤْمَرُ بِجَسَدِهِ فَيُوَسِّعُ لَهُ، طُولُهُ سَبْعُونَ وَعَرْضُهُ سَبْعُونَ وَيَنْبِذُ فِيهِ الرَّيْحَانَ وَيَبْسُطُ لَهُ الْحَرِيرَ فِيهِ، وَإِنْ كَانَ مَعَهُ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ نَوَّرَهُ وَإِلَّا جُعِلَ لَهُ نُورًا مِثْلَ نُورِ الشَّمْسِ ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَى مَقْعَدِهِ فِي الْجَنَّةِ بُكْرَةً وَعَشِيًّا. وَإِذَا تَوَفَّى اللَّهُ الْعَبْدَ الْكَافِرَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ مَلَكَيْنِ وَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِقِطْعَةٍ بِجَادٍ أَنْتَنُ مِنْ كُلِّ نَتَنٍ وَأَخْشَنُ مَنْ كُلِّ خَشِنٍ فَقَالَ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ اخْرُجِي إِلَى جَهَنَّمَ وَعَذَابٍ أَلِيمٍ وَرَبٍّ عَلَيْكِ سَاخِطٍ، اخْرُجِي فَسَاءَ مَا قَدَّمْتِ، فَتَخْرُجُ كَأَنْتَنِ جِيفَةٍ وَجَدَهَا أَحَدُكُمْ بِأَنْفِهِ قَطُّ، وَعَلَى أَرْجَاءِ السَّمَاءِ مَلَائِكَةٌ يَقُولُونَ: سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ جَاءَ مِنَ الْأَرْضِ جِيفَةٌ وَنَسَمَةٌ خَبِيثَةٌ لَا يُفْتَحُ لَهُ بَابُ السَّمَاءِ فَيُؤْمَرُ بِجَسَدِهِ فَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ فِي الْقَبْرِ وَيُمْلَأُ حَيَّاتٌ مِثْلُ أَعْنَاقِ الْبُخْتِ تَأْكُلُ لَحْمَهُ فَلَا يَدَعَنَّ مِنْ عِظَامِهِ شَيْئًا، ثُمَّ يُرْسَلُ عَلَيْهِ مَلَائِكَةٌ صُمٌّ عُمْيٌ مَعَهُمْ فَطَاطِيسُ مِنْ حَدِيدٍ لَا يُبْصِرُونَهُ فَيَرْحَمُونَهُ وَلَا يَسْمَعُونَ صَوْتَهُ فَيَرْحَمُونَهُ فَيَضْرِبُونَهُ وَيَخْبِطُونَهُ، وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ نَارٍ فَيَنْظُرُ إِلَى مَقْعَدِهِ مِنَ النَّارِ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يُدِيمَ ذَلِكَ عَلَيْهِ فَلَا يَصِلُ إِلَى مَا وَرَاءَهُ مِنَ النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reported that when the servant is killed in the path of Allah, Allah effaces all his sins with the first drop of his blood upon the earth, sends him a wrap from Paradise in which his soul is seized, fashions for him a body from Paradise into which his spirit is set, then he ascends with the angels as though with them since Allah created him until brought to the Most Merciful, prostrates before the angels, is forgiven and purified, then commanded to the martyrs whom he finds in green meadows and silken garments with a bull and a fish feeding them daily what was not fed the day before — the fish dwelling in Paradise rivers tasting every fragrance, slaughtered evenings by the bull's horn, the bull grazing Paradise fruits, slaughtered mornings by the fish's tail — each tasting in its flesh every fragrance and fruit of Paradise, gazing upon their dwellings and invoking the Hour. When Allah takes the believing servant, He sends two angels with cloth and sweet basil from Paradise bidding the tranquil soul come out to rest, basil, and a Lord not angry, with what it sent forth excellent, emerging as the sweetest musk scent, greeted by angels across heaven as a pure soul from earth, every gate opened and every angel praying upon it and interceding until brought to Allah Almighty, with angels prostrating before him and presenting him as a servant who kept His remembrance moist, until commanded to His mercy and Paradise. > **"O tranquil soul, come out to rest and sweet basil and a Lord not angry; come out, for excellent is what you sent forth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب بندے کو اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاتا ہے ، تو اس کے خون کا پہلا قطرہ جب زمین پر گرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو ختم کر دیتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت کی ایک چادر بھیجتا ہے ، جس میں اس کی جان کو قبض کیا جاتا ہے ‘ اور اسے جنت میں سے ایک جسم فراہم کیا جاتا ہے یہاں تک کہ اس کی روح اس جسم میں داخل ہو جاتی ہے پھر فرشتے اسے لے کر اوپر جاتے ہیں اور وہ یوں ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اسے پیدا کیا تھا اس دن سے وہ ان فرشتوں کے ساتھ ہے یہاں تک کہ اسے رحمان کے سامنے پیش کیا جاتا ہے وہ فرشتوں سے پہلے سجدے میں جاتا ہے فرشتے اس کے بعد سجدے میں جاتے ہیں پھر اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘ اور پھر اسے پاک کر دیا جاتا ہے پھر اس کے بارے میں حکم دیا جاتا ہے کہ اسے شہداء کی طرف لے جایا جائے تو وہ شہداء کو سرسبز باغات میں اور ریشمی کپڑوں میں پاتا ہے ‘ ان کے پاس بیل اور مچھلی ہوتے ہیں وہ روزانہ انہیں ایسی چیز کھلاتے ہیں ، جو گزشتہ دن نہیں کھلائی گئی ہوتی ‘ وہ مچھلی جنت کی نہروں میں رہتی ہے ‘ اور جنت کی نہروں میں سے ہر قسم کے ذائقے کی چیز کھاتی ہے ‘ جب شام ہوتی ہے ، تو بیل اسے سینگ مارتا ہے ‘ اور اسے ذبح کر دیتا ہے وہ لوگ اس کا گوشت کھاتے ہیں تو انہیں اس کے گوشت میں جنت کی نہروں میں سے ہر چیز کا ذائقہ محسوس ہوتا ہے وہ بیل جنت میں چرتا رہتا ہے ‘ اور جنت کے پھلوں کو کھاتا رہتا ہے ‘ جب صبح ہوتی ہے ‘ تو مچھلی اس کے پاس آتی ہے ‘ اور اسے اپنی دم کے ذریعے مار کر اسے ذبح کر دیتی ہے وہ لوگ اس بیل کا گوشت کھاتے ہیں اور اس کے گوشت میں جنت کے ہر پھل کا ذائقہ پاتے ہیں وہ لوگ اپنی قیام گاہوں کی طرف دیکھتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ قیامت قائم ہو جائے ۔ جب اللہ تعالیٰ کسی مومن بندے کو وفات دیتا ہے تو اس کی طرف دو فرشتے جنت کے کپڑے کے ہمراہ بھیجتا ہے ‘ اور جنت کے رزق ( یعنی مختلف چیزوں ) کے ہمراہ بھیجتا ہے ‘ اور یہ فرماتا ہے : اے مطمئن جان ! تم نکل کر سرور اور رزق ( یا رحمت ) اور اس پروردگار کی طرف جاؤ ‘ جو غضب ناک نہیں ہے ‘ تم نکل جاؤ ! وہ چیز اچھی ہے ، جو تم نے آگے بھیجی ہے ‘ تو جب وہ جان نکلتی ہے ‘ تو وہ مشک کی سب سے پاکیزہ ترین خوشبو کی مانند ہوتی ہے ‘ جسے تم لوگوں میں سے کسی ایک نے اپنے ناک کے ذریعے محسوس کیا ہو ‘ آسمان پر فرشتے موجود ہوتے ہیں ‘ جو یہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے ‘ آج زمین کی طرف سے ایک پاکیزہ روح آ رہی ہے وہ روح جس بھی دروازے کے پاس سے گزرتی ہے وہ دروازہ اس کے لئے کھل جاتا ہے ‘ اور جس بھی فرشتے کے پاس سے گزرتی ہے وہ فرشتہ اس کے لئے دعائے رحمت کرتا ہے ‘ اور اس کی شفاعت کرتا ہے یہاں تک کہ اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں لایا جاتا ہے ‘ تو فرشتے اس سے پہلے سجدہ کرتے ہیں اور عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار یہ تیرا فلاں بندہ ہے ، جسے ہم نے وفات دے دی تو اس کے بارے میں زیادہ بہتر جانتا ہے ‘ تو پروردگار فرماتا ہے اسے سجدہ کرنے کا حکم دو تو وہ جان سجدے میں چلی جاتی ہے پھر میکائیل کو بلایا جاتا ہے ‘ اور یہ کہا جاتا ہے اس جان کو اہل ایمان کی روحوں کے ہمراہ رکھ دو قیامت کے دن میں تم سے اس کے بارے میں دریافت کروں گا پھر اس کے جسم کے بارے میں حکم دیا جاتا ہے ‘ تو اس کے لئے کشادہ کر دیا جاتا ہے ، جس کی لمبائی ستر گز اور چوڑائی ستر گز ہوتی ہے ‘ اور اس کے لئے اس میں رزق ( یعنی مختلف نعمتیں ) رکھ دی جاتی ہیں ، اور ریشمی کپڑا اس کے لئے بچھا دیا جاتا ہے ‘ اگر اس کو قرآن آتا ہو ‘ تو وہ اس کے لئے روشنی کر دیتا ہے ورنہ اس کے لئے ایسا نور رکھا جاتا ہے ‘ جو سورج کے نور کی مانند ہوتا ہے پھر اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے ، تو وہ صبح و شام اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھتا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ کسی کافر شخص کو موت دیتا ہے ، تو اس کی طرف دو فرشتے بھیجتا ہے وہ اس کے ساتھ ایک کپڑا بھیجتا ہے ‘ جو انتہائی بدبودار اور انتہائی سخت ہوتا ہے ‘ اور یہ فرماتا ہے اے خبیث روح تم نکل کر جہنم دردناک عذاب اور ناراض پروردگار کی طرف جاؤ تم نکلو تم نے جو آگے بھیجا تھا وہ برا ہے ‘ تو وہ یوں نکتی ہے جیسے بدبودار ترین مردار ہو جس کی بو کسی شخص نے کبھی بھی ناک کے ذریعے محسوس کی ہو ہر آسمان پر فرشتے موجود ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے زمین کی طرف سے ایک مردار اور خبیث روح آئی ہے اس کے لئے آسمان کا دروازہ نہیں کھولا جاتا اس کے جسم کے بارے میں حکم دیا جاتا ہے ‘ تو اس کی قبر اس پر تنگ ہو جاتی ہے ‘ اور اسے بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے سانپوں کے ذریعے بھر دیا جاتا ہے وہ سانپ اس شخص کا گوشت کھاتے ہیں اور اس کی ہڈیوں میں سے بھی کوئی چیز باقی نہیں رہنے دیتے ہیں پھر اس پر ایسے فرشتوں کو بھیجا جاتا ہے جو بہرے اور اندھے ہوتے ہیں ان کے پاس لوہے کے گرز ہوتے ہیں وہ دیکھ نہیں سکتے کہ اس پر رحم کریں اس کی آواز نہیں سن سکتے کہ اس پر رحم کریں وہ اسے مارتے ہیں اور اسے مخبوط الحواس کر دیتے ہیں پھر اس شخص کے لئے جہنم کا دروازہ کھولا جاتا ہے ‘ اور وہ صبح و شام اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھتا ہے ‘ اور وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہے کہ اس کی یہی صورت حال ہمیشہ رہے تاکہ اسے اس کے بعد جہنم تک نہ پہنچنا پڑے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3933

Majma al-Zawaid #3933

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ أَعْمَالَكُمْ تُعْرَضُ عَلَى أَقَارِبِكُمْ وَعَشَايِرِكُمْ مِنَ الْأَمْوَاتِ فَإِنْ كَانَ خَيْرًا اسْتَبْشَرُوا وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ قَالُوا: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْهُمْ حَتَّى تَهْدِيَهُمْ كَمَا هَدَيْتِنَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي أَيُّوبَ فِي الْبَابِ قَبْلَ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that deeds are presented to dead kindred and kinsfolk: if good they rejoice, and if otherwise they supplicate Allah not to cause them to die until He guides them as He guided their dead. > **"Your deeds are presented to your kindred and kinsfolk among the dead: if good they rejoice, and if otherwise they say: O Allah, do not cause them to die until You guide them as You guided us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تمہارے اعمال تمہارے قریبی رشتہ داروں اور خاندان کے افراد کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں جو فوت ہو چکے ہوں اگر وہ عمل بہتر ہوں تو وہ لوگ خوشخبری حاصل کرتے ہیں اور اگر وہ ( عمل ) اس کے علاوہ ہوں تو وہ لوگ یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! تو انہیں اس وقت تک موت نہ دینا جب تک تو انہیں اس طرح ہدایت نصیب نہیں کرتا جس طرح تو نے ہمیں ہدایت نصیب کی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس سے پہلے ایک باب میں حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث گزر چکی ہے ۔

3934

Majma al-Zawaid #3934

عَنْ أُمِّ هَانِئٍ أَنَّهَا «سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَتَزَاوَرُ إِذَا مِتْنَا وَيَرَى بَعْضُنَا بَعْضًا؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَكُونُ النَّسِيمُ طَيْرًا تَعْلُقُ بِالشَّجَرِ حَتَّى إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَخَلَتْ كُلُّ نَفْسٍ فِي جَسَدِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Hani رضي الله عنها reported that she asked the Messenger of Allah ﷺ whether they would visit one another and see one another after death, whereupon he told that souls become birds clinging to trees until the Day of Resurrection, when every soul enters its body. > **"Souls become birds clinging to trees until, when the Day of Resurrection comes, every soul enters its body."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : کیا جب ہم مر جائیں گے تو ایک دوسرے سے ملیں گے اور ایک دوسرے کو دیکھیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جان پرندے کی شکل میں درخت کے ساتھ لٹکی رہے گی یہاں تک کہ جب قیامت کا دن آئے گا ‘ تو ہر جان اپنے جسم میں داخل ہو جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3935

Majma al-Zawaid #3935

وَعَنْ أُمِّ هَانِئٍ الْأَنْصَارِيَّةِ أَنَّهَا سَأَلَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَتَزَاوَرُ إِذَا مِتْنَا؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ مِثْلَهُ. وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ. قُلْتُ: ذَكَرَ أُمَّ هَانِئٍ أُخْتَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ وَذَكَرَ لَهَا الْحَدِيثَ الْأَوَّلَ وَذَكَرَ الثَّانِيَةَ وَأَنَّهَا أَنْصَارِيَّةٌ وَتَرْجَمَ لَهَا وَفِي الْآخَرِ ابْنُ لَهِيعَةَ.

EnglishUnverified translation

Umm Hani al-Ansariyyah رضي الله عنها reported that she asked the Prophet ﷺ whether they would visit one another after death, and the narrator then mentioned the like of the preceding report concerning souls becoming birds clinging to trees until the Resurrection. > **"Souls become birds clinging to trees until, when the Day of Resurrection comes, every soul enters its body."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام ہانی انصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا : جب ہم مر جائیں گے تو کیا ایک دوسرے سے ملیں گے ‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : پہلے انہوں نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کی بہن سے سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا کا ذکر کیا ‘ اور ان کے حوالے سے پہلے والی حدیث ذکر کی اور پھر اس کے بعد دوسری روایت ذکر کرتے ہوئے یہ کہا کہ وہ خاتون انصاریہ ہیں اور انہوں نے اس خاتون کے حالات بھی بیان کر دیے دوسری روایت میں ابن لہیعہ ہے ۔

3936

Majma al-Zawaid #3936

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمَّا حَضَرَتْ سَعْدَ بْنَ مَالِكٍ الْوَفَاةُ دَخَلَتْ عَلَيْهِ أُمُّ مُبَشِّرٍ بِنْتُ الْبَرَاءِ بْنِ مَعْرُورٍ قَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنْ لَقِيتَ أَبِي فَأَقْرِئْهُ مِنِّي السَّلَامَ فَقَالَ: يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أُمَّ مُبَشِّرٍ نَحْنُ أَشْغَلُ مِنْ ذَلِكَ فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ فِي أَجْوَافِ طَيْرٍ خُضْرٍ تَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ "" قَالَ: بَلَى قَالَتْ: فَهُوَ ذَاكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Kab ibn Malik reported that when death attended Sad ibn Malik, Umm Mubashshir bint al-Bara ibn Marur entered upon him and asked him, addressing him as Abu Abd al-Rahman, to convey her greeting to her father if he met him. He invoked Allah's forgiveness upon her and protested their preoccupation, whereupon she asked whether he had not heard the Messenger of Allah ﷺ declare the spirits of believers in the bellies of green birds clinging to Paradise trees. He assented, and she concluded that this meeting would indeed be. > **"The spirits of the believers are in the bellies of green birds clinging to the trees of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بنت براء بن معرور ان کے پاس آئیں اور بولیں : اے ابوعبدالرحمن ! اگر آپ کی ملاقات میرے والد سے ہو ‘ تو ان سے سلام کہہ دیجیے گا حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ام مبشر ! اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے ہمیں اس بات کا موقع کہاں ملے گا ‘ تو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! کیا آپ نے اللہ کے رسول کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ’’ مومنین کی ارواح سبز پرندوں کے پیٹوں میں جنت کے درخت سے لٹکی ہوئی ہوں گی “ تو حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا نے کہا پھر وہ ہو جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

3937

Majma al-Zawaid #3937

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ كَعْبٍ قَالَ: «لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ أَتَتْهُ أُمُّ مُبَشِّرٍ فَقَالَتْ: اقْرَأْ عَلَى ابْنِي السَّلَامَ فَقَالَ لَهَا: أَوَمَا سَمِعْتِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" رُوحُ الْمُؤْمِنِ طَائِرٌ يَعْلُقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّى يُبْعَثَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "" قَالَتْ: بَلَى وَلَكِنْ ذُهِلْتُ». قُلْتُ: حَدِيثُ كَعْبٍ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Kab ibn Malik reported from Kab رضي الله عنه that when death attended him, Umm Mubashshir came and asked him to convey greeting to her son. He asked whether she had not heard the Messenger of Allah ﷺ declare the believer's spirit a bird clinging to Paradise trees until resurrected on the Day of Resurrection. She answered affirmatively but confessed forgetfulness. > **"The spirit of the believer is a bird clinging to the trees of Paradise until it is raised on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا تو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا ان کے پاس آئیں اور بولیں : میرے بیٹے کو سلام کہہ دیجیے گا حضرت کعب نے ان سے کہا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے ’’ مومن کی روح پرندے کی شکل میں ہوتی ہے ‘ اور جنت کے درخت سے لٹکی رہتی ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا “۔ اس خاتون نے جواب دیا : جی ہاں ۔ لیکن میں بھول گئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3938

Majma al-Zawaid #3938

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: الْجَنَّةُ مُعَلَّقَةٌ بِقُرُونِ الشَّمْسِ تُنْشَرُ فِي كُلِّ عَامٍ مَرَّةً وَأَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِينَ فِي طَيْرٍ كَالزَّرَازِيرِ يَتَعَارَفُونَ مِنْهَا يُرْزَقُونَ مِنْ ثَمَرِ الْجَنَّةِ. قَالَ خَالِدُ بْنُ مَعْدَانَ: إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ قَالُوا: رَبُّنَا أَلَمْ تَعِدْنَا أَنْ تُورِدَنَا النَّارَ؟ قَالَ: بَلَى وَلَكِنَّكُمْ مَرَرْتُمْ بِهَا وَهِيَ خَامِدَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يُونُسَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما said that Paradise hangs suspended by the horns of the sun, spread forth once each year, and that the spirits of believers are in birds like starlings, recognising one another therein and provisioned from Paradise fruits. Khalid ibn Madan added that when the people of Paradise enter Paradise they shall ask their Lord whether He had not promised to bring them through the Fire, and He shall answer affirmatively but that they passed it while extinguished.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جنت سورج کے سینگوں کے ساتھ معلق ہے ‘ وہ سال میں ایک مرتبہ پھیلتی ہے ‘ اور مومنین کی ارواح پرندے میں ہوتی ہیں ، جو زرزور ( مینا کے جیسا ایک پرندہ ) کی طرح کا پرندہ ہوتا ہے ‘ وہ ( ارواح ) ایک دوسرے سے شناسا ہوتی ہیں اور انہیں جنت کا پھل رزق کے طور پر دیا جاتا ہے ۔ خالد بن معدان بیان کرتے ہیں : جب اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہو جائیں گے تو یہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! کیا تو نے ہمارے ساتھ یہ وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو ہمیں جہنم پر وارد کرے گا ؟ تو پروردگار فرمائے گا : جی ہاں ! لیکن جب تم اس کے پاس سے گزرے تھے تو وہ بجھی ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یونس ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال ہیں ۔

3939

Majma al-Zawaid #3939

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَبِي سَلَمَةَ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ فَلَمَّا شَقَّ بَصَرَهُ مَدَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَأَغْمَضَهُ، فَلَمَّا أَغْمَضَهُ صَاحَ أَهْلُ الْبَيْتِ فَسَكَّتَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" إِنَّ النَّفْسَ إِذَا خَرَجَتْ يَتْبَعُهَا الْبَصَرُ وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَحْضُرُ الْمَيِّتَ فَيُؤَمِّنُونَ عَلَى مَا يَقُولُ أَهْلُ الْمَيِّتِ ""، قَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ ارْفَعْ دَرَجَةَ أَبِي سَلَمَةَ فِي الْمَهْدِيِّينَ وَاخْلُفْهُ فِي عَقِبِهِ فِي الْغَابِرِينَ وَاغْفِرْ لَنَا وَلَهُ يَوْمَ الدِّينِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي النَّوَّارِ وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ entered upon Abu Salamah while in death, and when his sight fixed upwards the Messenger of Allah ﷺ stretched his hand and closed his eyes. When the household wailed, the Messenger of Allah ﷺ silenced them, explaining that sight follows the soul when it departs and that angels attend the dead and affirm what the household utters. He then supplicated for Abu Salamah's elevation among the guided, succession among his descendants, and forgiveness on the Day of Recompense. > **"When the soul comes out, sight follows it, and the angels attend the dead and affirm what the household of the dead utters. O Allah, raise the rank of Abu Salamah among the guided, succeed him among his descendants that remain, and forgive us and him on the Day of Recompense."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جو انتقال کر چکے تھے ان کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک بڑھا کر ان کی آنکھیں بند کر دیں جب آنکھیں بند کیں تو گھر والے رونے لگے نبی اکرم ﷺ نے انہیں خاموش کروایا اور ارشاد فرمایا : جب جان نکلتی ہے ، تو بینائی اس کے پیچھے جاتی ہے ‘ اور فرشتے میت کے پاس موجود ہوتے ہیں اور میت کے گھر والے جو کچھ کہتے ہیں : اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! ہدایت یافتہ لوگوں میں ابوسلمہ کے درجے کو بلند کر دے اور اس کے پس ماندگان میں اس کی جگہ ( دیکھ بھال کرنے والا ) ہو جا اور ہماری اور اس کی قیامت کے دن مغفرت کر دینا “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابونوار ہے ‘ اور وہ مجہول ہے ۔

3940

Majma al-Zawaid #3940

عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ الْيَمَانِ أُخْتِ حُذَيْفَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ وَلَا عِنْدَ مَيِّتٍ فَإِنَّهُنَّ إِذَا اجْتَمَعْنَ قُلْنَ وَقُلْنَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي الْمَسَاجِدِ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Khawlah bint al-Yaman, sister of Hudhayfah, رضي الله عنها reported that she heard the Messenger of Allah ﷺ declare no good in gatherings of women nor in their presence at the dead, for when they gather they speak and speak. > **"There is no good in gatherings of women nor at the dead, for when they gather they speak and speak."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ خولہ بنت یمان رضی اللہ عنہا جو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ خواتین کی جماعت اور میت کے پاس ان کی موجودگی میں کوئی بھلائی نہیں ہے کیونکہ اگر وہ اکٹھی ہوں گی تو وہ یہ کہیں گی ‘ اور وہ کہیں گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کی مانند روایت مساجد سے متعلق باب میں پہلے گزر چکی ہے ۔

3941

Majma al-Zawaid #3941

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَاتَتْ فُلَانَةٌ وَاسْتَرَاحَتْ. فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reported that Bilal رضي الله عنه came to the Prophet ﷺ announcing that a certain woman had died and found rest, whereupon the Messenger of Allah ﷺ grew angry and declared that only one forgiven truly rests. > **"Only one forgiven truly rests."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت بلال نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں خاتون کا انتقال ہو گیا ہے ‘ اور اس نے راحت حاصل کر لی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ غصے میں آ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : راحت وہ حاصل کرتا ہے ‘ جس کی مغفرت ہو جائے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3942

Majma al-Zawaid #3942

وَعَنْهَا: «تُوُفِّيَتِ امْرَأَةٌ كَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَضْحَكُونَ مِنْهَا وَيُمَازِحُونَهَا فَقُلْتُ: اسْتَرَاحَتْ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّمَا يَسْتَرِيحُ مَنْ غُفِرَ لَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reported concerning a woman whom the Companions of the Prophet ﷺ used to laugh with and jest with: when she died and Aishah remarked that she had found rest, the Messenger of Allah ﷺ declared that only one forgiven truly rests. > **"Only one forgiven truly rests."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے ( یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ) حوالے سے یہ روایت منقول ہے : ایک خاتون کا انتقال ہو گیا ۔ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اس خاتون کے ساتھ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے میں نے کہا : اس عورت کو راحت نصیب ہو گئی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : راحت اس کو نصیب ہوتی ہے ، جس کی مغفرت ہو جائے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3943

Majma al-Zawaid #3943

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُعْطِيَتْ أُمَّتِي شَيْئًا لَمْ يُعْطَهُ أَحَدٌ مِنَ الْأُمَمِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ الطَّحَّانُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ declared his nation granted at calamity what none of the nations was granted: Inna lillahi wa inna ilayhi rajiun. > **"My nation has been granted at calamity what none of the nations was granted: Inna lillahi wa inna ilayhi rajiun."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کو ایک ایسی چیز عطا کی گئی ہے ‘ جو اور کسی بھی امت کو عطا نہیں کی گئی وہ مصیبت کے وقت «انا للہ وانا الیہ راجعون» پڑھنا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خالد طحان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3944

Majma al-Zawaid #3944

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ} [البقرة: 156 - 157] قَالَ: أَخْبَرَ اللَّهُ - جَلَّ وَعَزَّ - أَنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا سَلَّمَ لِأَمْرِ اللَّهِ وَرَجَعَ وَاسْتَرْجَعَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ كُتِبَ لَهُ ثَلَاثُ خِصَالٍ مِنَ الْخَيْرِ: الصَّلَاةُ مِنَ اللَّهِ وَالرَّحْمَةُ، وَتَحْقِيقُ سَبِيلِ الْهُدَى، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنِ اسْتَرْجَعَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ جَبَرَ اللَّهُ مُصِيبَتَهُ وَأَحْسَنَ عُقْبَاهُ وَجَعَلَ لَهُ خَلَفًا يَرْضَاهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported concerning the verse Those who, when calamity befalls them, say Inna lillahi wa inna ilayhi rajiun, upon them are blessings from their Lord and mercy, and they are the guided, that Allah informed that when the believer submits to Allah's decree and returns with istirja at calamity, three goods are written for him: blessing from Allah, mercy, and realisation of guidance. He added that the Messenger of Allah ﷺ declared that whoever says istirja at calamity shall have his calamity mended, his end made good, and a pleasing successor granted. > **"Whoever says istirja at calamity, Allah shall mend his calamity, make his end good, and grant him a successor with whom he is pleased."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے ‘ تو وہ کہتے ہیں : بے شک ہم اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کے جانا ہے یہ وہ لوگ ہیں کہ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے درود اور رحمت نازل ہو گا ‘ اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں ‘‘۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ بات بتائی ہے کہ جب مؤمن اللہ تعالیٰ کے حکم کو تسلیم کرتا ہے ‘ اور مصیبت کے وقت «انا للہ وانا اليه راجعون» پڑھ لیتا ہے ‘ تو اس کے لئے بھلائی کی تین چیزیں نوٹ کی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے درود اور رحمت اور ہدایت کے راستے کا متحقق ہونا ‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : ’’ جو شخص مصیبت کے وقت «انا للہ وانا الیہ راجعون» پڑھ لیتا ہے ‘ تو اللہ تعالٰی اس کی مصیبت کا بدلہ دیتا ہے ( یا اس کی وجہ سے ہونے والی خرابی کو ٹھیک کر دیتا ہے ) ‘ اور اس کا انجام اچھا کرتا ہے ‘ اور اسے اس کی جگہ ایسی چیز عطا کرتا ہے ، جس سے وہ شخص راضی ہوتا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوطلحہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3945

Majma al-Zawaid #3945

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا فَإِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ وَفَاةَ أَخِيهِ فَلْيَقُلْ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ، اللَّهُمَّ اكْتُبْهُ فِي الْمُحْسِنِينَ وَاجْعَلْ كِتَابَهُ فِي عِلِّيِّينَ وَاخُلُفْ عَقِبَهُ فِي الْآخَرِينَ اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ declared death a fright, and instructed that when one of them attends his brother's death he should utter the return to Allah and turning to their Lord, inscribe the dead among the good with his book in Illiyyin and succession among those after, and supplicate not to be deprived of his reward nor tried after him. > **"Death is a fright, so when one of you attends his brother's death, let him say: Inna lillahi wa inna ilayhi rajiun, and to our Lord we surely turn. O Allah, write him among the good, place his book in Illiyyin, succeed him among those after, O Allah, deprive us not of his reward nor try us after him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ موت کی پریشانی ہوتی ہے ‘ جب کوئی شخص اپنے بھائی کی وفات کے وقت آئے ‘ تو اسے یہ پڑھنا چاہیے : ’’ بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے بے شک ہم نے اسی طرف لوٹ کے جانا ہے ‘ اور بے شک ہم نے اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کے جاتا ہے اے اللہ ! تو اس کو نیکی کرنے والوں میں نوٹ کر لے اور اس کی کتاب کو علیین میں نوٹ کر لے اور بعد والوں میں اس کی جگہ دیکھ بھال کرنے والا ہو جا اے اللہ ! تو ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ رکھنا اور اس کے بعد ہمیں آزمائش کا شکار نہ کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع اسدی ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3946

Majma al-Zawaid #3946

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ وَلَا مُسْلِمَةٍ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَذْكُرُهَا وَإِنْ قَدُمَ عَهْدُهَا فَيُحْدِثُ لَهُ اسْتِرْجَاعًا إِلَّا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ وَأَعْطَاهُ ثَوَابَهُ يَوْمَ أُصِيبَ بِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو الْمِقْدَامِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Husayn ibn Ali رضي الله عنهما reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ declare that no Muslim man or woman afflicted with calamity who remembers it even after long time and renews istirja thereupon shall fail to have Allah renew reward for him thereupon, granting the reward of the day he was afflicted. > **"No Muslim man or Muslim woman is afflicted with calamity and remembers it even after long time and renews istirja thereupon except that Allah renews for him thereupon and grants him its reward as on the day he was afflicted with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ جس بھی مسلمان مرد یا مسلمان عورت کو کوئی مصیبت لاحق ہو ‘ اور پھر وہ اس کو یاد کرے اگرچہ اس کا زمانہ قریب ہو ‘ اور پھر اس کے سامنے یہ بات آئے کہ وہ «انا للہ وانا الیہ راجعون» پڑھے تو پھر اللہ تعالیٰ اسے اس کی جگہ نئے سرے سے ثواب عطا کرتا ہے ‘ اور اسے وہ ثواب اس دن کے حساب سے عطا کرتا ہے ‘ جب اسے وہ مصیبت لاحق ہوئی تھی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ابومقدام ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3947

Majma al-Zawaid #3947

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْقَطَعَ شِسْعُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ "" فَقَالَ [لَهُ] رَجُلٌ: هَذَا لَشِسْعٌ!؟ فَقَالَ "" إِنَّهَا مُصِيبَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَثِيرٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported that they went out with the Messenger of Allah ﷺ when the Prophet's sandal strap broke, whereupon he uttered Inna lillahi wa inna ilayhi rajiun. When a man remarked at a mere strap, he declared it a calamity. > **"Inna lillahi wa inna ilayhi rajiun. It is a calamity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جا رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کا تسمہ ٹوٹ گیا تو آپ نے «انا للہ وانا الیہ راجعون» پڑھا ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یہ تسمے کے لئے ہے ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ بھی ایک مصیبت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3948

Majma al-Zawaid #3948

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «انْقَطَعَ قِبَالُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتَرْجَعَ فَقَالُوا: مُصِيبَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! فَقَالَ: "" مَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِمَّا يَكْرَهُ فَهِيَ مُصِيبَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported that the Prophet's sandal thong broke and he uttered istirja. When asked in surprise whether this were a calamity, O Messenger of Allah, he explained that whatever befalls the believer of what he dislikes is a calamity. > **"Whatever befalls the believer of what he dislikes is a calamity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا تسمہ ٹوٹ گیا تو آپ نے «انا للہ وانا الیہ راجعون» پڑھا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ بھی مصیبت ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مؤمن کو جو بھی ایسی صورت حال لاحق ہو جو اسے ناپسند ہو تو وہ مصیبت ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

3949

Majma al-Zawaid #3949

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا انْقَطَعَ شِسْعُ أَحَدِكُمْ فَلْيَسْتَرْجِعْ فَإِنَّهَا مِنَ الْمَصَائِبِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ خُنَيْسٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded that when one's sandal strap breaks he should utter istirja, for it is among calamities. > **"When the strap of one of you breaks, let him utter istirja, for it is among calamities."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب کسی شخص کا تسمہ ٹوٹ جائے تو اسے «انا للہ وانا الیہ راجعون» پڑھنا چاہیے کیونکہ یہ بھی مصیبت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن خنیس ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3950

Majma al-Zawaid #3950

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ. قُلْتُ: رَوَاهُ الْبَزَّارُ بَعْدَ حَدِيثٍ أَبِي هُرَيْرَةَ. وَفِي حَدِيثِ شِدَّادٍ: خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddad ibn Aws رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ the like of the preceding report concerning uttering istirja when the sandal strap breaks. > **"When the strap of one of you breaks, let him utter istirja, for it is among calamities."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بزار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کے بعد نقل کی ہے ۔ حضرت شداد رضی اللہ عنہ کی روایت کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3951

Majma al-Zawaid #3951

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ فِي مَالِهِ أَوْ جَسَدِهِ وَكَتَمَهَا وَلَمْ يَشْكُهَا إِلَى النَّاسِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ promised that whoever is afflicted with calamity in wealth or body, conceals it, and does not complain of it to people, shall have Allah's forgiveness made due upon Allah. > **"Whoever is afflicted with calamity in his wealth or his body and conceals it and does not complain of it to people, it is due upon Allah to forgive him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کو مال یا جسم کے حوالے سے کوئی مصیبت لاحق ہو ‘ اور وہ اس کو چھپائے اور لوگوں کے سامنے اس کی شکایت نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ اس کی مغفرت کر دے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

3952

Majma al-Zawaid #3952

عَنْ سَابِطٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ فَلْيَذْكُرْ مُصِيبَتَهُ بِي فَإِنَّهَا أَعْظَمُ الْمَصَائِبِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو بُرْدَةَ عَمْرُو بْنُ يَزِيدَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Sabit رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ instructed that whenever any of them is struck by a calamity, he should recall his calamity through the Prophet himself, on account of its surpassing greatness over all other calamities. > **"When one of you is struck by a calamity, let him remember his calamity through me, for it is the greatest of calamities."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سابط رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کسی شخص کو کوئی مصیبت لاحق ہو ‘ تو وہ اس مصیبت کو یاد کر لے جو میرے حوالے سے ہے کیونکہ وہ سب سے بڑی مصیبت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبردہ عمرو بن یزید ہے ، جسے ابن حبان نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور دیگر حضرات نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3953

Majma al-Zawaid #3953

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبَقِيعِ عَلَى امْرَأَةٍ جَاثِمَةٍ عَلَى قَبْرٍ تَبْكِي، فَقَالَ لَهَا: "" يَا أَمَةَ اللَّهِ، اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي "". فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنِّي أَنَا الْحَرَّى الثَّكْلَى. فَقَالَ: "" يَا أَمَةَ اللَّهِ، اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي "". فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَوْ كُنْتَ مُصَابًا عَذَرْتَنِي. فَقَالَ: "" يَا أَمَةَ اللَّهِ، اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي "". فَقَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، قَدْ أَسْمَعْتَ فَانْصَرِفْ عَنِّي. قَالَ: فَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَوَقَفَ عَلَى الْمَرْأَةِ فَقَالَ لَهَا: مَا قَالَ لَكِ الرَّجُلُ الذَّاهِبُ؟ قَالَتْ: قَالَ لِي كَذَا وَكَذَا. قَالَ: فَهَلْ تَعْرِفِينَهُ؟ قَالَتْ: لَا. قَالَ: ذَاكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَوَثَبَتْ مُسْرِعَةً وَهِيَ تَقُولُ: أَنَا أَصْبِرُ، أَنَا أَصْبِرُ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى، الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرَوَى الْبَزَّارُ طَرَفًا مِنْهُ، وَفِيهِ بَكْرُ بْنُ الْأَسْوَدِ أَبُو عُبَيْدَةَ النَّاجِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ passed through al-Baqi by a woman crouching over a grave and weeping, and thrice bade her fear Allah and be patient, addressing her as maidservant of Allah. She, not knowing him, answered each time that she was a bereaved mother burning with grief, that had he himself been afflicted he would have excused her, and finally that he had made himself heard and should leave her. The Prophet ﷺ went on his way, and when one of his Companions who had followed him informed the woman that the man who had gone was the Messenger of Allah ﷺ, she sprang up hastening after him and declared her patience, whereupon he told her twice where true patience lies. > **"Patience is at the first shock, patience is at the first shock."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جنت البقیع میں ایک خاتون کے پاس سے گزرے جو ایک قبر کے پاس بیٹھی ہوئی رو رہی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : اے اللہ کی کنیز ! تم اللہ تعالی سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا : اے اللہ کے بندے ! میرا بچہ فوت ہو گیا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ کی کنیز ! تم اللہ سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا : اے اللہ کے بندے ! اگر تمہیں یہ مصیبت لاحق ہوئی ہوتی تو تم مجھے معذور سمجھتے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے اللہ کی کنیز ! تم اللہ سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا : اے اللہ کے بندے ! تمہیں بات پتہ چل گئی ہے اب تم میرے پاس سے چلے جاؤ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ تشریف لے گئے ، آپ کے اصحاب میں سے ایک شخص آپ کے پیچھے آ رہا تھا وہ عورت کے پاس ٹھہرا اس نے اس عورت سے دریافت کیا : جو صاحب ابھی گئے ہیں انہوں نے تم سے کیا کہا تھا اس عورت نے کہا : انہوں نے مجھے یہ یہ کہا تھا اس شخص نے کہا : کیا تم انہیں پہچانتی ہو ؟ اس عورت نے جواب دیا : جی نہیں اس شخص نے کہا : وہ اللہ کے رسول تھے راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ عورت تیزی سے اٹھ کر آئی اور بولی میں صبر سے کام لیتی ہوں میں صبر سے کام لیتی ہوں یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : صبر صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے صبر صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بکر بن اسود ابوعبیدہ ناجی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3954

Majma al-Zawaid #3954

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ الْفَضْلَ بْنَ عَبَّاسٍ أَنْ يُعِدَّ لَهُ طَهُورًا، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، وَكَانَ إِذَا كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ تَبَاعَدَ حَتَّى لَا يَكَادَ يُرَى، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ أَقْبَلَ رَاجِعًا، فَمَرَّ بِامْرَأَةٍ عَلَى قَبْرِ مَيِّتٍ لَهَا وَهِيَ تُعَدِّدُ وَتُعَوِّلُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهَا - وَهِيَ لَا تَعْرِفُهُ - فَقَالَ لَهَا: "" اتَّقِي اللَّهَ وَاصْبِرِي "". قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، اذْهَبْ لِحَاجَتِكَ. فَقَالَ لَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ انْصَرَفَ، فَجَاءَ فَأَخَذَ الْمَطْهَرَةَ مِنَ الْفَضْلِ، فَقَامَ الْفَضْلُ فَأَتَى الْمَرْأَةَ، فَقَالَ لَهَا: مَا قَالَ لَكِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَامَتْ فَقَالَتْ: يَا وَيْلَهَا، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ؟ فَسَعَتْ حَتَّى لَحِقَتْهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ مَا عَرَفْتُكَ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى "" قَالَهَا ثَلَاثًا». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ عَنْ أَنَسٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ السَّعْدِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ bade al-Fadl ibn Abbas رضي الله عنه prepare water for his purification, then went far out of sight for his need as was his custom. Upon his return he passed a woman wailing over the grave of one of her dead, stood over her without her recognizing him, and bade her fear Allah and be patient. She thrice told him to go about his own need, so he departed and took the vessel from al-Fadl. When al-Fadl then came to the woman and asked her what the Messenger of Allah ﷺ had said to her, she cried out at her ruin for not knowing him, hastened until she caught up with him at the door of the mosque, and swore by Allah that she had not recognized him, whereupon he told her thrice where patience lies. > **"Patience is at the first shock."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ آپ کے وضو کا پانی تیار کریں ، پھر نبی اکرم ﷺ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے جب آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو دور چلے جاتے تھے ‘ یہاں تک کہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے تھے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے قضائے حاجت کر لی اور آپ واپس تشریف لا رہے تھے تو آپ کا گزر ایک خاتون کے پاس سے ہوا جو اپنے ایک مردہ کی قبر پر بیٹھی ہوئی تھی اور آہ وزاری کر رہی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ اس عورت کے پاس ٹھہر گئے وہ عورت آپ کو پہچانتی نہیں تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صبر سے کام لو اس عورت نے کہا : اے اللہ کے بندے ! تم جاؤ اور جا کے اپنا کام کرو نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ اس سے بات کی اور پھر آپ تشریف لے گئے آپ نے حضرت فضل سے وضو کا پانی حاصل کیا حضرت فضل اٹھ کر اس عورت کے پاس گئے اور اس سے کہا اللہ کے رسول نے تمہیں کیا کہا تھا ، تو وہ عورت کھڑی ہوئی اور بولی ہائے بربادی یہ اللہ کے رسول تھے میں نے تو انہیں پہچانا ہی نہیں پھر وہ جلدی سے چلتی ہوئی آئی اور مسجد کے دروازے کے پاس نبی اکرم ﷺ تک پہنچ گئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا صبر صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا ایک حصہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ سعدی ہے ‘ اور وہ متروک اور ضعیف ہے ۔

3955

Majma al-Zawaid #3955

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الصَّبْرُ عِنْدَ أَوَّلِ الصَّدْمَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ defined the occasion of true patience as the very first onset of the shock. > **"Patience is at the first shock."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ صبر صدمے کے آغاز میں ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

3956

Majma al-Zawaid #3956

«عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنَّهُ مَاتَ ابْنٌ لَهُ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَزِّيهِ بِابْنِهِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: "" بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، سَلَامٌ عَلَيْكَ، فَإِنِّي أَحْمَدُ إِلَيْكَ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعْظَمَ اللَّهُ لَكَ الْأَجْرَ، وَأَلْهَمَكَ الصَّبْرَ، وَرَزَقَنَا وَإِيَّاكَ الشُّكْرَ، فَإِنَّ أَنْفُسَنَا وَأَمْوَالَنَا وَأَهْلَنَا مِنْ مَوَاهِبِ اللَّهِ الْهَنِيئَةِ، وَعَوَارِيهِ الْمُسْتَوْدَعَةِ، مَتَّعَكَ اللَّهُ بِهِ فِي غِبْطَةٍ وَسُرُورٍ، وَقَبَضَهُ مِنْكَ بِأَجْرٍ كَثِيرِ الصَّلَاةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْهُدَى، إِنِ احْتَسَبْتَهُ فَاصْبِرْ، وَلَا يُحْبِطُ جَزَعُكَ أَجْرَكَ فَتَنْدَمَ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْجَزَعَ لَا يَرُدُّ مَيِّتًا وَلَا يَدْفَعُ حُزْنًا، وَمَا هُوَ نَازِلٌ فَكَانَ قَدْ، وَالسَّلَامُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُجَاشِعُ بْنُ عَمْرٍو، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal رضي الله عنه lost a son, and the Messenger of Allah ﷺ wrote to him consoling him for his son, opening in the Name of Allah the Most Merciful the Most Compassionate from Muhammad the Messenger of Allah, praising before him Allah besides whom there is no deity, invoking magnified reward, inspired patience, and gratitude for them both, reminding him that selves, wealth, and families are among Allah's pleasant gifts and entrusted loans, that Allah had delighted him with the child in gladness and taken him back with abundant reward of prayer, mercy, and guidance, urging him to be patient if he seeks reward lest panic nullify his reward and leave him regretful, for panic returns no dead and repels no grief, and whatever is to descend is as though it already had, closing with peace. > **"In the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate. From Muhammad, the Messenger of Allah, to Muadh ibn Jabal. Peace be upon you, and I praise before you Allah besides whom there is no deity. To proceed: may Allah magnify your reward, inspire you with patience, and grant us and you gratitude. For our selves, our wealth, and our families are among the pleasant gifts of Allah and His entrusted loans. Allah delighted you with him in gladness and joy, and took him from you with abundant reward of prayer, mercy, and guidance, if you seek reward for him. So be patient, and let not your panic nullify your reward lest you regret. And know that panic returns no dead nor repels grief, and whatever is to descend is as though it already had. Peace."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان کے ایک صاحبزادے فوت ہو گئے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کو خط لکھ کے ان کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے ساتھ تعزیت کی آپ نے انہیں خط میں یہ لکھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے یہ اللہ کے رسول حضرت محمد ( ﷺ ) کی طرف سے معاذ بن جبل کے نام ہے تم کو سلام ہو میں تمہارے سامنے اس اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں جس کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں ہے اما بعد اللہ تعالیٰ تمہیں عظیم اجر عطا کرے تمہیں صبر عطا کرے اور ہمیں اور تمہیں شکر کی توفیق عطا کرے کیونکہ ہماری جانیں ہمارے اموال اور ہمارے اہل خانہ اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہیں اور اس کی طرف سے عارضی طور پر دی ہوئی چیز ہیں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بچے کے حوالے سے خوشی اور سرور بخشا تھا اور پھر اسے تم سے واپس لے لیا جو بہت سے اجر کے ہمراہ ہے ‘ جو درود رحمت اور ہدایت کی شکل میں ہے اگر تم اس پر ثواب کی امید رکھتے ہو ‘ تو صبر سے کام لو اور تمہاری گریہ وزاری تمہارے اجر کو ضائع نہ کر دے کہ بعد میں تم ندامت کا شکار ہو جاؤ تم یہ جان لو کہ آہ وفغاں مردے کو واپس نہیں لاتی ہے ‘ اور غم کو ختم نہیں کرتی ہے ‘ جو کچھ نازل ہونا ہے وہ ہو کے رہے گا والسلام “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاشع بن عمرو ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3957

Majma al-Zawaid #3957

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَعَدَ أَصْحَابُهُ حِزَانًا يَبْكُونَ حَوْلَهُ، فَجَاءَ رَجُلٌ طَوِيلٌ صَبِيحٌ فَصِيحٌ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، أَشْعَرُ الْمَنْكِبَيْنِ وَالصَّدْرِ، فَتَخَطَّى أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَخَذَ بِعِضَادَيِ الْبَابِ، فَبَكَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاعَةً ثُمَّ قَالَ: إِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخُلْفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَعِوَضًا مَنْ كُلِّ مَا فَاتَ، فَإِلَى اللَّهِ فَأَنِيبُوا، وَإِلَيْهِ فَارْغَبُوا، فَإِنَّمَا الْمُصَابُ مَنْ لَمْ يَجْبُرْهُ الثَّوَابُ. فَقَالَ الْقَوْمُ: تَعْرِفُونَ الرَّجُلَ؟ فَنَظَرُوا يَمِينًا وَشِمَالًا فَلَمْ يَرَوْا أَحَدًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا الْخَضِرُ أَخُو النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ أَبُو مَعْمَرٍ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allah ﷺ passed away and his Companions sat grieving and weeping around him, there came a tall, fair-faced, eloquent man in a waist-wrapper and cloak, thick-haired upon shoulders and chest, who stepped past the Companions of the Messenger of Allah ﷺ until he took hold of the two doorposts, wept over the Messenger of Allah ﷺ for an hour, then spoke words of consolation concerning every calamity, every perished one, and everything lost, urging return to Allah and desire toward Him, for only he is afflicted whom reward does not console. When the people asked whether any knew the man and looked right and left without seeing anyone, Abu Bakr رضي الله عنه declared his identity. > **"In Allah is consolation from every calamity, a successor for every perished one, and recompense for everything lost. So turn to Allah and desire Him, for only he is afflicted whom reward does not console."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں جب نبی اکرم ﷺ کا وصال ہوا تو آپ کے اصحاب آپ کے اردگرد غمگین بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران ایک طویل القامت شخص آیا جس کا چہرہ روشن تھا اور زبان فصیح تھی اس نے تہبند باندھا ہوا تھا اور چادر اوڑھی ہوئی تھی کندھے کے بال زیادہ تھے ‘ اور سینے کے بال بھی زیادہ تھے وہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کو پھلانگتا ہوا آگے آیا اور دروازے کی چوکھٹ کے پاس کھڑا ہو گیا وہ گھڑی بھر تک روتا رہا پھر اس نے یہ کہا : ہر مصیبت کے حوالے سے اللہ تعالٰی سے ہی مدد حاصل کی جا سکتی ہے ‘ اور ہر ہلاک ہونے والے کی جگہ وہی کفایت کرتا ہے ‘ اور ہر فوت ہونے والی چیز کا عوض عطا کرتا ہے ‘ تو تم لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو اس کی طرف رغبت رکھو کیونکہ مصیبت زدہ وہ شخص ہوتا ہے ‘ جسے ثواب نصیب نہ ہو حاضرین نے کہا : کیا تم لوگ ان صاحب کو جانتے ہو ؟ ان لوگوں نے دائیں بائیں دیکھا تو انہیں کوئی نظر نہ آیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ نبی اکرم ﷺ کے بھائی حضرت خضر علیہ السلام تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبدالصمد ابومعمر ہے ‘ جسے امام بخاری نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

3958

Majma al-Zawaid #3958

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ يَتَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَاعِضُّوهُ وَلَا تَكْنُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kab رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded that when a man is seen consoling himself with the condolence of Jahiliyyah, he be rebuked bluntly and without euphemism. > **"When you see a man consoling himself with the condolence of Jahiliyyah, bite him and do not use euphemism."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم کسی شخص کو زمانہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق تعزیت کرتے ہوئے دیکھو ‘ تو اس پر سختی ( سے ناراضگی ) کا اظہار کرو ‘ اور کنایہ نہ کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3959

Majma al-Zawaid #3959

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دُعِيَ إِلَى جِنَازَةٍ سَأَلَ عَنْهَا، فَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا خَيْرًا قَامَ فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَإِنْ أُثْنِيَ عَلَيْهَا غَيْرَ ذَلِكَ قَالَ لِأَهْلِهَا: "" شَأْنَكُمْ بِهَا "". وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allah ﷺ was called to a funeral he would ask about the deceased, and if he was praised with good he would rise and pray over him, whereas if he was praised with other than that he would leave the matter to the family and not pray over him. > **"Attend to her yourselves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو جب جنازے کے لئے بلایا جاتا تھا ، تو آپ اس میت کے بارے میں دریافت کر لیتے تھے اگر اس کی تعریف کی جاتی تھی تو آپ اٹھ کر اس کی نماز جنازہ ادا کرتے تھے ‘ اور اگر اس کی برائی بیان کی جاتی تھی تو آپ اس کے اہل خانہ سے یہ کہتے تھے کہ تم لوگ خود انتظام کر لو آپ اس شخص کی نماز جنازہ نہیں ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

3960

Majma al-Zawaid #3960

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَتَشْهَدُ لَهُ أَهْلُ أَرْبَعَةِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ إِلَّا قَالَ اللَّهُ: قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ فِيهِ، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى. وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَيَشْهَدُ لَهُ أَهْلُ أَرْبَعَةِ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ أَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ إِلَّا خَيْرًا إِلَّا قَالَ اللَّهُ: قَدْ قَبِلْتُ عِلْمَكُمْ وَغَفَرْتُ لَهُ مَا لَا تَعْلَمُونَ» "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ spoke concerning any Muslim who dies while the people of four houses among his nearest neighbours testify for him, and what Allah declares in accepting their knowledge of him and forgiving him what they know not. In the narration of Abu Yala the wording adds that they know naught of him but good. > **"There is no Muslim who dies and the people of four houses among his nearest neighbours testify for him, testifying that they know naught but good, except that Allah says: I have accepted your knowledge of him, and I have forgiven him what you know not."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھرانے کے افراد اس کے حق میں گواہی دے دیں ‘ تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : اس شخص کے بارے میں تمہارے علم کو میں نے قبول کیا ، اور جو چیز تم نہیں جانتے اس کے حوالے سے میں نے اس کی مغفرت کر دی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو مسلمان فوت ہو جائے اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے چار گھرانے کے افراد اس کے حق میں گواہی دے دیں کہ وہ لوگ اس کے بارے میں صرف بھلائی کا علم رکھتے ہیں تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : تمہارے علم کو میں نے قبول کیا ‘ اور جس چیز کے بارے میں تم نہیں جانتے اس کے حوالے سے میں نے اس کی مغفرت کر دی “۔ امام احمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں بھی مذکور ہے ‘ لیکن وہ اس کے علاوہ ہے ۔

3961

Majma al-Zawaid #3961

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ عَزَّ وَجَلَّ: "" «مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَمُوتُ فَتَشْهَدُ لَهُ ثَلَاثَةُ أَبْيَاتٍ مِنْ جِيرَانِهِ الْأَدْنَيْنَ بِخَيْرٍ إِلَّا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلَى مَا عَلِمُوا، وَغَفَرْتُ لَهُ مَا أَعْلَمُ» "". قُلْتُ: لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ, relating from his Lord Almighty, concerning any Muslim servant who dies while three houses among his nearest neighbours testify good for him, and what Allah Almighty declares in accepting the testimony of His servants for what they knew and forgiving him for what He knows. > **"There is no Muslim servant who dies and three houses among his nearest neighbours testify good for him except that Allah Almighty says: I have accepted the testimony of My servants for what they knew, and I have forgiven him for what I know."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے آپ کے پروردگار کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ” جو بھی مسلمان بندہ فوت ہوتا ہے ‘ اور اس کے قریبی پڑوسیوں میں سے تین گھرانوں کے افراد اس کے حق میں بھلائی کی گواہی دے دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میں نے اپنے بندوں کی گواہی ان کے علم کے مطابق قبول کی اور اپنے علم والی چیزوں کے حوالے سے اس کی مغفرت کر دی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ایک حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ لیکن وہ اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3962

Majma al-Zawaid #3962

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَأَثْنَى النَّاسُ عَلَيْهَا خَيْرًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" وَجَبَتْ "". ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى فَكَأَنَّ النَّاسَ نَالُوا مِنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" وَجَبَتْ "". فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُتِيَ بِفُلَانٍ فَقَالَ: وَجَبَتْ، وَأُتِيَ بِفُلَانٍ فَقَالَ: وَجَبَتْ. فَقَالَ عُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، أُتِيَ بِفُلَانٍ فَأَثْنَى النَّاسُ عَلَيْهِ خَيْرًا فَقُلْتَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ أُتِيَ بِفُلَانٍ أَثْنَى النَّاسُ عَلَيْهِ شَرًّا فَقُلْتُ: وَجَبَتْ؟ فَقَالَ: "" أُتِيَ بِأَخِيكُمْ فَشَهِدْتُمْ بِمَا شَهِدْتُمْ فَوَجَبَتْ شَهَادَتُكُمْ، ثُمَّ أُتِيَ بِأَخِيكُمْ فُلَانٍ فَشَهِدْتُمْ [بِمَا شَهِدْتُمْ] فَوَجَبَتْ شَهَادَتُكُمْ، أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that while they were with the Prophet ﷺ a funeral was brought and the people praised it with good, so the Prophet ﷺ pronounced the verdict, then another was brought and the people spoke ill of it as though assailing the man, so the Prophet ﷺ pronounced the same verdict. When the Companions of the Messenger of Allah ﷺ asked how both had received it, Umar رضي الله عنه put the question on their behalf, swearing by his father and mother, and the Prophet ﷺ explained the standing of their two testimonies and the station of the believers toward one another. > **"Your brother was brought and you testified as you testified, so your testimony became incumbent. Then your brother so-and-so was brought and you testified as you testified, so your testimony became incumbent. You are the witnesses of Allah on earth, some of you over others."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے اس کی اچھائی بیان کی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی پھر ایک اور جنازہ لایا گیا لوگوں نے اس کی برائی بیان کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی صحابہ کرام نے عرض کی : فلاں شخص کا جنازہ لایا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : واجب ہو گئی پھر فلاں کو لایا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : واجب ہو گئی حضرت عمر ﷺ نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں فلاں شخص کو لایا گیا لوگوں نے اس کی تعریف کی ‘ تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی پھر فلاں کو لایا گیا لوگوں نے اس کی برائی بیان کی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے ایک بھائی کو لایا گیا تم نے اس کے بارے میں جو بھی گواہی دینی تھی وہ گواہی دی ‘ تو تمہاری گواہی واجب ہو گئی پھر تمہارے فلاں بھائی کو لایا گیا تم نے اس کے بارے میں جو گواہی دینی تھی وہ دی تو تمہاری گواہی واجب ہو گئی تم لوگ زمین میں ایک دوسرے کے بارے میں اللہ کے گواہ ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔

3963

Majma al-Zawaid #3963

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: «شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَجْلِسَيْنِ: أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقِيلَ: هَذَا فُلَانٌ وَبِئْسَ الرَّجُلُ، وَأُثْنِيَ عَلَيْهِ شَرًّا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" تَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟ "" قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" وَجَبَتْ "". وَأَمَّا الْآخَرُ فَأُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ فَقَالُوا: هَذَا فُلَانٌ، وَأَثْنَوْا عَلَيْهِ خَيْرًا، قَالَ: "" تَعْلَمُونَ ذَلِكَ؟ "" قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" وَجَبَتْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ حَمْزَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Kab ibn Ujrah رضي الله عنه reported that he witnessed two sittings with the Messenger of Allah ﷺ. In the first a funeral was brought and the man was named and declared an evil man with evil spoken of him, so the Messenger of Allah ﷺ asked whether they knew that to be so, they affirmed it, and he pronounced the verdict. In the other the funeral of a man was brought and he was praised with good, so the Messenger of Allah ﷺ asked whether they knew that to be so, they affirmed it, and he pronounced the verdict. > **"It has become incumbent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ دو محافل میں موجود رہا ہوں ان میں سے ایک محفل میں ایک جنازہ لایا گیا عرض کی گئی : یہ فلاں شخص ہے ‘ اور یہ برا شخص ہے اس کی برائی بیان کی گئی تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ اسے جانتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : واجب ہو گئی پھر ایک اور محفل میں ایک شخص کا جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا : یہ فلاں شخص ہے ۔ لوگوں نے اس کی بھلائی بیان کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم لوگ یہ علم رکھتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ بن حمزہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3964

Majma al-Zawaid #3964

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَقَالَ لَهُ الْقَوْمُ: إِنْ كُنْتَ وَإِنْ كُنْتَ. ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى فَقَالَ الْقَوْمُ: إِنْ كُنْتَ وَكُنْتَ، فَأَثْنَوْا عَلَى وَاحِدَةٍ خَيْرًا وَالْأُخْرَى شَرًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ سَلَّمَ: "" أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، وَالْمَلَائِكَةُ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي السَّمَاءِ» "". وَفِي رِوَايَةٍ: "" «فَإِذَا شَهِدْتُمْ وَجَبَتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي السَّنَدِ الْأَوَّلِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ أَبُو مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِي الْأُخْرَى مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwa رضي الله عنه reported that while they were with the Prophet ﷺ a funeral was brought and the people spoke over it in terms of wishing the man had been this or that, then another was brought and the people spoke likewise, praising one with good and the other with evil, whereupon the Messenger of Allah ﷺ defined the station of men and of angels. In another narration the consequence of their testimony is added. > **"You are the witnesses of Allah on earth, and the angels are the witnesses of Allah in heaven. So when you testify, it becomes incumbent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ایک جنازہ لایا گیا لوگوں نے اس شخص سے کہا اگر تم یہ اور وہ ہوتے ( تو یہ مناسب تھا ) پھر ایک اور جنازہ لایا گیا تو لوگوں نے کہا : اگر تم یہ اور وہ ہوتے تو ( مناسب تھا ) یعنی انہوں نے ایک جنازے کی تعریف کی اور دوسرے کی برائی بیان کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ زمین میں اللہ کے گواہ ہو ‘ اور فرشتے آسمان میں اللہ کے گواہ ہیں ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جب تم نے گواہی دے دی تو واجب ہو گئی “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ پہلی کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم ابومریم ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ جبکہ دوسری کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3965

Majma al-Zawaid #3965

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا مَاتَ الْعَبْدُ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ مِنْهُ سِرًّا، وَتَقُولُ النَّاسُ خَيْرًا، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِمَلَائِكَتِهِ: قَدْ قَبِلْتُ شَهَادَةَ عِبَادِي عَلَى عَبْدِي، وَغَفَرْتُ لَهُ عِلْمِي فِيهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُشَيْرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكُ [الْحَدِيثِ].

EnglishUnverified translation

Amir ibn Rabiah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning the servant who dies while Allah knows his secret and the people speak good of him, and what Allah Almighty says to His angels in accepting the testimony of His servants over His servant and forgiving him what His own knowledge encompasses. > **"When the servant dies, while Allah knows his secret, and the people speak good, Allah Almighty says to His angels: I have accepted the testimony of My servants over My servant, and I have forgiven him what I know of him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب بندہ مر جاتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ پوشیدہ معاملات کا علم رکھتا ہے اگر لوگ بھلائی کی بات کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے اپنے بندے کے بارے میں ، میں نے اپنے دوسرے بندوں کی گواہی کو قبول کر لیا اور اس کے بارے میں میرا جو علم تھا اس کے حوالے سے میں نے اس کی مغفرت کر دی “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن قشیری ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

3966

Majma al-Zawaid #3966

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرَّتْ جِنَازَةٌ فَقَالَ: "" مَا هَذِهِ الْجِنَازَةُ؟ "" فَقَالَ: جِنَازَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، [كَانَ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولِهِ. فَقَالَ: "" وَجَبَتْ "" ثَلَاثًا. ثُمَّ مَرَّتْ أُخْرَى فَقَالَ: "" مَا هَذِهِ؟ "" فَقَالُوا: جِنَازَةُ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ] كَانَ يُبْغِضُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَالَ: "" وَجَبَتْ "" ثَلَاثًا». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that while he sat with the Prophet ﷺ a funeral passed and the Prophet ﷺ asked whose it was. It was said to be the funeral of so-and-so son of so-and-so, who loved Allah and His Messenger, so he pronounced the verdict thrice. Then another passed and he asked whose it was. It was said to be the funeral of so-and-so son of so-and-so, who hated Allah and His Messenger, so he pronounced the verdict thrice. > **"It has become incumbent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ایک جنازہ گزرا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کس کا جنازہ ہے ؟ کسی نے بتایا یہ فلاں بن فلاں کا جنازہ ہے ۔ وہ ایک ایسا شخص تھا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا تھا نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا : واجب ہو گئی پھر ایک اور جنازہ گزرا آپ نے دریافت کیا : یہ کس کا جنازہ ہے ؟ لوگوں نے بتایا یہ فلاں بن فلاں کا جنازہ ہے وہ ایک ایسا شخص تھا جو اللہ اور اس کے رسول سے بغض رکھتا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمایا واجب ہو گئی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث منقول ہے ‘ جو اس سیاق کے بغیر ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔