Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 7 · Chapter 4

Book of Funerals

Hadith 3847–3886

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3847

Majma al-Zawaid #3847

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «وَعَنْ مَنْ أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْهِ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ الصَّلْتِ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَدْ رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Saeed al-Khudri رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ conveyed the divine address concerning the one whose two precious faculties are taken and who endures with patience and expectation of reward, and the reward with which Allah is then pleased for him, falling short of nothing but Paradise. > **"Whose two precious ones I take and he is patient and seeks reward, I am not pleased with any reward for him less than Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) ’’ جس شخص کی بینائی میں رخصت کر دوں اور وہ صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے میں اس کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوؤں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن صلت ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔ ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ امام احمد بن حنبل نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔

3848

Majma al-Zawaid #3848

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: إِذَا أَذْهَبْتُ حَبِيبَتَيْ عَبْدِي فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ أَثَبْتُهُ بِهِمَا الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ conveyed the address of Allah Almighty concerning the removal of the two beloved faculties of His servant, the servant's patience and expectation of reward, and the recompense appointed for him in the form of Paradise. > **"When I remove the two beloved ones of My servant and he is patient and seeks reward, I reward him with Paradise for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب میں اپنے بندے کی دو محبوب چیزوں ( یعنی دونوں آنکھوں کی بینائی ) کو رخصت کر دوں اور وہ صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے تو میں ان دونوں کے عوض میں اس کے لئے جنت کو مقرر کر دوں گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن زحر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3849

Majma al-Zawaid #3849

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ ذَهَبَ بَصَرُهُ فِي الدُّنْيَا جَعَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنْ كَانَ صَالِحًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ (*) وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning the one whose sight departs in this world and what Allah Almighty appoints for him on the Day of Resurrection in the form of light, provided he is righteous. > **"Whose sight departs in this world, Allah Almighty appoints a light for him on the Day of Resurrection, if he is righteous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ دنیا میں جس شخص کی بینائی رخصت ہو جائے گی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کے لئے نور مقرر کرے گا اگرچہ وہ نیک ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی بشر بن ابراہیم انصاری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3850

Majma al-Zawaid #3850

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «قَالَ اللَّهُ: إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْ عَبْدِي لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ "" قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً؟ قَالَ: "" وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: "" وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمٍ الضَّبِّيُّ، ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ قَالَ: وَيُخْطِئُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ conveyed the divine address concerning the seizure of the two precious faculties of His servant and the reward with which Allah is pleased, whereupon the questioner asked whether the same applied to a single eye, and the Prophet ﷺ confirmed that it did. > **"When I take the two precious ones of My servant, I am not pleased with any reward for him less than Paradise; and even if it be one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب میں اپنے بندے کی دونوں آنکھوں کی بینائی لے لوں تو میں اس کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر ایک ( آنکھ کی بینائی رخصت ہوئی ہو ‘ تو بھی یہ اجر و ثواب حاصل ہو گا ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر ایک کی ہوئی ہو ‘ تو بھی ( یہی اجر و ثواب حاصل ہو گا ) ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ اگر ایک ہو ‘‘۔ یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلیم ضبی جسے ازدی نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اور یہ بات بیان کی ہے : یہ غلطی کرتا ہے ۔

3851

Majma al-Zawaid #3851

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «قَالَ رَبُّكُمْ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: إِذَا قَبَضْتُ كَرِيمَةَ عَبْدِي وَهُوَ بِهَا ضَنِينٌ فَحَمِدَنِي عَلَى ذَلِكَ لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ السَّفْرُ بْنُ نُسَيْرٍ ذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ conveyed the address of their Lord the Blessed and Exalted concerning the seizure of the precious faculty of His servant while he cherishes it, his praising Allah for that, and the reward with which Allah is then pleased for him, falling short of nothing but Paradise. > **"When I seize the precious one of My servant while he cherishes it, and he praises Me for that, I am not pleased with any reward for him less than Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ تمہارا پروردگار فرماتا ہے ‘ جب میں اپنے بندے کی بینائی قبض کر لوں اور وہ اس بینائی کو چاہتا ہو ‘ اور پھر بھی وہ اس بات پر میری حمد بیان کرے تو میں اس کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوؤں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سفر بن نسیر ہے ۔ ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔ امام دارقطنی نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3852

Majma al-Zawaid #3852

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «لَا هَمَّ إِلَّا هَمُّ الدَّيْنِ، وَلَا وَجَعَ إِلَّا وَجَعُ الْعَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قَرِينُ بْنُ سَهْلٍ قَالَ الْأَزْدِيُّ: كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ declared the true anxiety to be that of debt and the true pain to be that of the eye. > **"There is no anxiety except the anxiety of debt, and no pain except the pain of the eye."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ پریشانی صرف قرض کی پریشانی ہوتی ہے ‘ اور تکلیف صرف آنکھ کی تکلیف ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قرین بن سہل ہے ازدی کہتے ہیں : یہ کذاب ہے ۔

3853

Majma al-Zawaid #3853

عَنْ أَبِي عَسِيبٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَتَانِي جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِالْحُمَّى وَالطَّاعُونِ فَأَمْسَكْتُ الْحُمَّى بِالْمَدِينَةِ وَأَرْسَلْتُ الطَّاعُونَ إِلَى الشَّامِ فَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ لِأُمَّتِي وَرَحْمَةٌ لَهُمْ رِجْسٌ عَلَى الْكَافِرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Usayb, the freedman of the Messenger of Allah ﷺ, رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ told how Jibril, upon him be peace, came to him bearing fever and plague, how he retained fever for Madinah and dispatched plague toward Sham, and how plague stands as martyrdom and mercy for his nation but filth upon the disbeliever. > **"Jibril came to me with fever and plague; I retained fever in Madinah and sent plague to Sham. Plague is martyrdom for my nation and mercy for them, and filth upon the disbeliever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے غلام حضرت ابوعسیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے پاس بخار اور طاعون لے کے آئے ‘ تو میں نے بخار کو مدینہ کے لئے روک لیا اور طاعون کو شام کی طرف بھیجوا دیا ‘ طاعون میری امت کے لئے شہادت ہو گا ‘ اور ان کے لئے رحمت ہو گا ‘ اور کافروں کے لئے عذاب ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

3854

Majma al-Zawaid #3854

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْغَارِ فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ طَعْنًا وَطَاعُونًا "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ قَدْ سَأَلْتَ مَنَايَا أُمَّتِكَ فَهَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ: "" ذَرْبٌ كَالدُّمَّلِ إِنْ طَالَتْ بِكَ حَيَاةٌ سَتَرَاهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْحَنَفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr al-Siddiq رضي الله عنه reported that he was with the Prophet ﷺ in the cave when the Prophet supplicated for stabbing and plague, whereupon he asked, addressing him as Messenger of Allah, about the meaning of plague, since he already knew of his supplication regarding the deaths of his nation and understood stabbing. The Prophet ﷺ explained it as a discharge resembling a boil and told him that a long life would show it to him. > **"It is a discharge like a boil; if your life is long, you shall see it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غار میں موجود تھا آپ نے دعا کی : اے اللہ ! طعن اور طاعون ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ تو مجھے تو پتہ ہے کہ آپ نے اپنی امت کے بارے میں دعا مانگی ہے طعن ( ہتھیار کے ذریعے زخمی ہونے ) کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ پیپ والے پھوڑے کی طرح کا ہوتا ہے ‘ اگر تمہاری زندگی طویل ہوئی ، تو تم عنقریب اسے دیکھ لو گے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر حنفی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3855

Majma al-Zawaid #3855

وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ: «أَنَّ الطَّاعُونَ وَقَعَ بِالشَّامِ فَقَالَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ: إِنَّ هَذَا الزَّجْرَ قَدْ وَقَعَ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي الشِّعَابِ وَالْأَوْدِيَةِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ مُعَاذًا فَلَمْ يُصَدِّقْهُ بِالَّذِي قَالَ، قَالَ: فَقَالَ: بَلْ هُوَ شَهَادَةٌ وَرَحْمَةٌ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللَّهُمَّ أَعْطِ مُعَاذًا وَأَهْلَهُ نَصِيبَهُمْ مِنْ رَحْمَتِكَ قَالَ أَبُو قِلَابَةَ: فَعَرَفْتُ الشَّهَادَةَ وَعَرَفْتُ الرَّحْمَةَ وَلَمْ أَدْرِ مَا دَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ حَتَّى أُنْبِئْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَا هُوَ ذَاتَ لَيْلَةٍ يُصَلِّي إِذْ قَالَ فِي دُعَائِهِ: "" فَحُمَّى إِذَا أَوْ طَاعُونًا "" - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ لَهُ إِنْسَانٌ مِنْ أَهْلِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُكَ اللَّيْلَةَ تَدْعُو بِدُعَاءٍ؟ قَالَ: "" وَسَمِعْتَهُ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "" إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ لَا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِسَنَةٍ فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ لَا يُسَلِّطَ عَلَيْهِمْ عَدُوًّا مِنْ غَيْرِهِمْ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لَا يَلْبِسَهُمْ شِيَعًا وَيُذِيقُ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَأَبَى عَلَيَّ "" - أَوْ قَالَ: "" فَمُنِعْتُ، فَقُلْتُ: حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا حُمَّى إِذًا أَوْ طَاعُونًا "" يَعْنِي: ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو قِلَابَةَ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Qilabah reported that when plague fell upon Sham, Amr ibn al-As رضي الله عنه declared it a scourge and commanded the people to disperse from it into ravines and valleys. News of this reached Muadh رضي الله عنه, who refused to affirm what Amr had said and declared it instead to be martyrdom, mercy, and the invocation of their Prophet ﷺ, supplicating Allah to grant Muadh and his household their share of His mercy. Abu Qilabah added that he understood the martyrdom and the mercy but not the invocation of their Prophet, until he was informed that the Messenger of Allah ﷺ, while praying one night, had said in his supplication words concerning fever or plague three times. When a member of his household asked him in the morning about a supplication heard in the night, he confirmed having heard it and explained that he had asked his Lord Almighty not to destroy his nation by famine and was granted it, asked Him not to empower a foreign enemy over them, asked Him not to clothe them in factions tasting one another's might but was refused, and thereupon thrice uttered the words concerning fever or plague. > **"Then fever or plague; then fever or plague; then fever or plague."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقلابہ بیان کرتے ہیں : شام میں طاعون کی وباء پھیل گئی تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ بیماری ہے ‘ جو واقع ہو گئی ہے ‘ تو تم اس کو چھوڑ کر مختلف گھاٹیوں اور وادیوں میں بکھر جاؤ ‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی ‘ تو انہوں نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے قول کی تصدیق نہیں کی اور یہ فرمایا : جی نہیں بلکہ یہ شہادت ہے ‘ اور رحمت ہے ‘ اور تمہارے نبی کی دعا ہے اے اللہ ! تو معاذ اور اس کے گھر والوں کو اپنی رحمت میں سے ان کا حصہ نصیب فرما ۔ ابوقلابہ کہتے ہیں : شہادت کا مجھے پتہ تھا ‘ رحمت ہونے کا مجھے پتہ تھا ، لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ تم لوگوں کے نبی کی دعا سے مراد کیا ہے ؟ یہاں تک کہ مجھے یہ بات بیان کی گئی کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ رات کے وقت نماز ادا کر رہے تھے ۔ آپ نے دعا کے دوران ارشاد فرمایا : یا یہاں بخار ہو ‘ یا طاعون ہو ایسا آپ نے تین مرتبہ کہا جب صبح ہوئی تو آپ کے گھر والوں میں سے کسی نے آپ سے کہا یا رسول اللہ ! میں نے گزشتہ رات آپ کو ایک دعا کرتے ہوئے سنا تھا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اس کو سنا تھا انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے تو پروردگار نے یہ چیز مجھے عطا کر دی میں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ وہ ان لوگوں پر ایسا دشمن مسلط نہ کرے جو ان کے علاوہ ہو ‘ اور میں نے اس سے یہ دعا مانگی تھی کہ وہ انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے کہ وہ ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے پھریں تو پروردگار نے اسے قبول نہیں کیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) مجھے روک دیا گیا تو میں نے عرض کی : پھر یا تو بخار ہو ‘ یا طاعون ہو ‘ یا تو بخار ہو ‘ یا طاعون ہو یعنی تین مرتبہ ایسے کہا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ ابوقلابہ نامی راوی نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

3856

Majma al-Zawaid #3856

وَعَنْ أَبِي مُنِيبٍ الْأَحْدَبِ قَالَ: خَطَبَ مُعَاذٌ بِالشَّامِ فَذَكَرَ الطَّاعُونَ فَقَالَ: إِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ عَلَى آلِ مُعَاذٍ نَصِيبَهُمْ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ، ثُمَّ نَزَلَ عَنْ مَقَامِهِ ذَلِكَ فَدَخَلَ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: {الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ} [البقرة: 147] فَقَالَ مُعَاذٌ: سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ بَعْضَهُ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ وَإِسَنَادُهُ مُتَّصِلٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Munib al-Ahdab reported that Muadh رضي الله عنه preached in Sham, mentioned the plague, and declared it to be the mercy of their Lord, the invocation of their Prophet, and the seizure of the righteous before them, supplicating Allah to apportion to the household of Muadh their share of this mercy. He then descended from his station and entered upon Abd al-Rahman ibn Muadh, who recited the verse that the truth is from his Lord and he must not be of the doubters, and Muadh answered with the verse that he would be found, if Allah willed, among the patient. > **"It is the mercy of your Lord, the invocation of your Prophet, and the seizure of the righteous before you. O Allah, apportion to the household of Muadh their share of this mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومنیب احدب بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے شام میں خطبہ دیتے ہوئے طاعون کا ذکر کیا ‘ اور ارشاد فرمایا : یہ تمہارے پروردگار کی رحمت ہے ‘ اور تمہارے نبی کی دعا ہے ‘ اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کے انتقال کا طریقہ ہے اے اللہ ! معاذ کے گھر والوں کو اس رحمت میں سے ان کا حصہ نصیب فرما پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے نیچے اتر آئے آپ حضرت عبدالرحمن بن معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے تو حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’ یہ چیز حق ہے ‘ اور تمہارے پروردگار کی طرف سے ہے ‘ تو تم شک کا شکار ہونے والوں میں سے ہرگز نہ ہو جانا ‘‘۔ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا ( یعنی یہ آیت پڑھی ) ’’ عنقریب تم مجھے صبر کرنے والوں میں پاؤ گے ‘ اگر اللہ نے چاہا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے اس کا کچھ حصہ معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں اور ان کی سند میں متصل ہے ۔

3857

Majma al-Zawaid #3857

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «سَتُهَاجِرُونَ إِلَى الشَّامِ فَيُفْتَحُ لَكُمْ وَيَكُونُ فِيكُمْ دَاءٌ كَالدُّمَّلِ أَوْ كَالْحُزَّةِ يَأْخُذُ بِمُرَاقِ الرَّجُلِ يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ أَنْفُسَهُمْ وَيُزَكِّي بِهِ أَعْمَالَهُمْ». اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْطِهِ هُوَ وَأَهْلَ بَيْتِهِ الْحَظَّ الْأَوْفَرَ مِنْهُ، فَأَصَابَهُمُ الطَّاعُونُ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ فَطُعِنَ فِي إِصْبَعِهِ بِالسَّبَّابَةِ فَكَانَ يَقُولُ: مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرُ النَّعَمِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal رضي الله عنه said that he heard the Messenger of Allah ﷺ foretell the emigration to Sham, its conquest, and the emergence among them of a malady resembling a boil or a burning pain seizing the soft underbelly of a man, through which Allah would grant them martyrdom and purify their deeds. Muadh then supplicated that if Allah knew he had heard this from the Messenger of Allah ﷺ, He grant him and his household the fullest share of it. The narrator added that plague then struck them so that none of them remained, that Muadh was pierced in his forefinger, and that he used to declare that nothing, not even red camels, would please him in its place. > **"You shall emigrate to Sham and it shall be opened for you, and among you shall be a disease like a boil or like a burning pain seizing the soft belly of a man; Allah shall thereby grant them martyrdom and purify their deeds thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب تم لوگ شام کی سرزمین کی طرف ہجرت کر جاؤ گے وہ تمہارے لئے فتح کر دی جائے گی وہاں پھوڑئے ‘ یا حزة ( وہ درد جو دل یا جگر میں محسوس ہو ) کی مانند ایک بیماری ہو گی ‘ جو آدمی کے پیٹ کے نیچے والے حصے کو ( یا خون کی رگوں کو ) گرفت میں لے گی ‘ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے لوگوں کو شہادت نصیب کرے گا ‘ اور اس کے ذریعے ان کے اعمال کا تزکیہ کرے گا ( اس کے بعد حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے دعا کی : ) ” اے اللہ ! اگر تو یہ بات جانتا ہے کہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اللہ کے رسول کی زبانی یہ بات سنی ہے ‘ تو تو اس کو ( یعنی حضرت معاذ کو ) اور اس کے اہل خانہ کو اس میں سے حظ وافر عطا فرما ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : تو ان لوگوں کو طاعون نے اپنی لپیٹ میں لے لیا اور ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچا ان کی شہادت کی انگلی میں اس کا پھوڑا نمودار ہوا تھا ، تو وہ یہ کہتے تھے کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس کے عوض میں مجھے سرخ اونٹ مل جائیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اسماعیل بن عبیداللہ نامی راوی نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

3858

Majma al-Zawaid #3858

وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «فَنَاءَ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ "" قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ: "" وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَفِي كُلٍّ شَهَادَةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa al-Ashari رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ declared the perishing of his nation to be through stabbing and plague, and when asked about plague since stabbing was already understood, he explained it as the thrust of their enemies from among the jinn, with martyrdom in each. > **"The perishing of my nation is by stabbing and plague. Plague is the thrust of your enemies from among the jinn, and in each is martyrdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میری امت طعن ( زخمی ہونے ) اور طاعون کے ذریعے فنا ہو گی عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! طعن کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ تمہارے دشمن جنوں کا وار ہے ‘ اور ( ان دونوں صورتوں میں سے ) ہر صورت میں شہادت نصیب ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کے بعض رجال ’’ صیح ‘‘ کے رجال ہیں یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار نے اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ۔

3859

Majma al-Zawaid #3859

وَعَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ قَيْسٍ أَخِي أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فَنَاءَ أُمَّتِي قَتْلًا فِي سَبِيلِكَ بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Burdah ibn Qays, the brother of Abu Musa, رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ supplicated Allah to make the perishing of his nation take the form of killing in His path through stabbing and plague. > **"O Allah, make the perishing of my nation as killing in Your path by stabbing and plague."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبردہ بن قیس رضی اللہ عنہ جو حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بھائی ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ( یعنی آپ نے یہ دعا کی : ) ” اے اللہ ! تو میری امت کو اپنی راہ میں طعن اور طاعون کے ذریعے قتل ہونے کی صورت میں فنا کرنا “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

3860

Majma al-Zawaid #3860

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ قَالَ: لَمَّا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِالشَّامِ خَطَبَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الطَّاعُونَ رِجْسٌ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ فِي هَذِهِ الشِّعَابِ وَفِي هَذِهِ الْأَوْدِيَةِ، فَبَلَغَ ذَلِكَ شُرَحْبِيلَ بْنَ حَسَنَةَ قَالَ: فَغَضِبَ فَجَاءَ يَجُرُّ ثَوْبَهُ مُعَلِّقَ نَعْلَيْهِ بِيَدِهِ فَقَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -، وَعَمْرٌو أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِهِ وَلَكِنَّهُ رَحْمَةٌ [مِنْ رَ] بِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Ghanm reported that when plague fell upon Sham, Amr ibn al-As رضي الله عنه addressed the people declaring the plague a filth and commanding them to disperse from it into ravines and valleys. News of this reached Shurahbil ibn Hasanah رضي الله عنه, who came in anger dragging his garment with his sandals hung in his hand, declared that he had accompanied the Messenger of Allah ﷺ while Amr was more astray than his household's donkey, and affirmed instead that it is a mercy from their Lord, the invocation of their Prophet, and the death of the righteous before them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : جب شام میں طاعون پھیل گیا تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : یہ طاعون ، گندگی ( یعنی بیماری ) ہے ‘ تو تم اسے چھوڑ کر مختلف علاقوں اور مختلف وادیوں میں بکھر جاؤ اس بات کی اطلاع حضرت شرحبیل بن حسنہ کو ملی تو وہ غصے میں آ گئے ‘ تو وہ اپنے کپڑے کو کھینچتے ہوئے اور اپنے ہاتھ میں جوتے کو لٹکا کر آئے اور یہ بات بیان کی : میں اللہ کے رسول کے ساتھ رہا ہوں عمرو اپنے اہل خانہ کے گدھے سے زیادہ گمراہ ہے بلکہ یہ ( طاعون ) تمہارے پروردگار کی طرف سے رحمت ہے ‘ اور تمہارے نبی کی دعا ہے ‘ اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی موت ( کی وجہ ) ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

3861

Majma al-Zawaid #3861

وَعِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ عَنْ أَبِي مُنِيبٍ أَنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ فِي طَاعُونٍ آخَرَ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: هَذَا زَجْرٌ مِثْلُ السَّبِيلِ مَنْ يَنْكُبُهُ أَخْطَأَهُ وَمِثْلُ النَّارِ مَنْ يَنْكُبُهَا أَخْطَأَتْهُ وَمَنْ أَقَامَ أَحْرَقَتْهُ وَآذَتْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Munib reported, in a narration concerning another outbreak of plague, that Amr ibn al-As رضي الله عنه addressed the people declaring this chastisement to be like a road, which misses whoever turns aside from it, and like fire, which misses whoever turns aside from it but burns and pains whoever remains upon it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد نے ایک روایت ابومنیب کے حوالے سے نقل کی ہے : یہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے ایک اور طاعون کے درمیان لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : یہ سبیل کی مانند زجر ( بیماری ) ہے ‘ جسے یہ چبھتا ہے اسے خراب کر جاتا ہے ‘ اور آگ کی مانند ہے ، جسے وہ چبھتا ہے ‘ تو اسے خراب کر جاتا ہے ‘ اور جو ٹھہر جاتا ہے ‘ یہ اسے جلا دیتی ہے ‘ اور اذیت پہنچاتی ہے “۔

3862

Majma al-Zawaid #3862

وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُمَيْرٍ عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عَمْرًا فَقَالَ: صَدَقَ. رَوَاهَا كُلَّهَا أَحْمَدُ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بَعْضَهُ وَأَسَانِيدُ أَحْمَدَ حِسَانٌ صِحَاحٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Humayr reported from Shurahbil ibn Hasanah رضي الله عنه a narration similar to the preceding, except that when news of Shurahbil's words reached Amr رضي الله عنه, he declared that Shurahbil had spoken truth.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ بات منقول ہے : یزید حمیر نے حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا : انہوں نے ٹھیک کہا ہے ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں ان میں سے بعض روایات نقل کی ہیں ۔ امام احمد کی اسانید حسن اور صحیح ہیں ۔

3863

Majma al-Zawaid #3863

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ حَدِيثِ الْحَارِثِ بْنِ عَمِيرَةَ: أَنَّهُ قَدِمَ مَعَ مُعَاذٍ مِنَ الْيَمَنِ فَمَكَثَ مَعَهُ فِي دَارِهِ وَفِي مَنْزِلِهِ فَأَصَابَهُمُ الطَّاعُونُ فَطُعِنَ مُعَاذٌ وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ وَشُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ وَأَبُو مَالِكٍ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، وَكَانَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ حِينَ حَسَّ بِالطَّاعُونِ فَرَّ وَفَرَقَ فَرَقًا شَدِيدًا وَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ تَفَرَّقُوا فِي هَذِهِ الشِّعَابِ فَقَدْ نَزَلَ بِكُمْ أَمْرٌ [مِنْ أَمْرِ اللَّهِ] لَا أَرَاهُ إِلَّا رِجْزٌ وَطَاعُونٌ فَقَالَ لَهُ شُرَحْبِيلُ بْنُ حَسَنَةَ: كَذَبْتَ قَدْ صَحِبْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْتَ أَضَلُّ مِنْ حِمَارِ أَهْلِكَ فَقَالَ عَمْرٌو: صَدَقْتَ فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: كَذَبْتَ، لَيْسَ بِالطَّاعُونِ وَلَا الرِّجْزِ وَلَكِنَّهَا رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَبْضُ الصَّالِحِينَ، اللَّهُمَّ فَآتِ آلَ مُعَاذٍ النَّصِيبَ الْأَوْفَرَ مِنْ هَذِهِ الرَّحْمَةِ قَالَ: فَمَا أَمْسَى حَتَّى طُعِنَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُهُ وَأَحَبُّ الْخَلْقِ إِلَيْهِ الَّذِي كَانَ يُكَنَّى بِهِ فَرَجَعَ مُعَاذٌ مِنَ الْمَسْجِدِ فَوَجَدَهُ مَكْرُوبًا، فَقَالَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ كَيْفَ أَنْتَ؟ فَاسْتَجَابَ لَهُ فَقَالَ: يَا أَبَتِ الْحَقُّ مِنْ رَبِّكَ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ فَقَالَ مُعَاذٌ: وَإِنَّا (إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ)، فَمَاتَ مِنْ لَيْلَتِهِ وَدَفَنَهُ مِنَ الْغَدِ فَجَعَلَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٌ يُرْسِلُ الْحَارِثَ بْنَ عَمِيرَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ يَسْأَلُهُ كَيْفَ هُوَ؟ فَأَرَاهُ أَبُو عُبَيْدَةَ طَعْنَةً فِي كَفِّهِ فَبَكَى الْحَارِثُ بْنُ عَمِيرَةَ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ وَفَرَقَ مِنْهَا حِينَ رَآهَا فَأَقْسَمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِاللَّهِ مَا يُحِبُّ أَنَّ لَهُ مَكَانَهَا حُمْرُ النَّعَمِ. فَقَالَ: فَرَجَعَ الْحَارِثُ إِلَى مُعَاذٍ فَوَجَدَهُ مَغْشِيًّا عَلَيْهِ فَبَكَى الْحَارِثُ وَاسْتَبْكَى، ثُمَّ إِنَّ مُعَاذًا أَفَاقَ فَقَالَ: يَا ابْنَ الْحِمْيَرِيَّةِ لِمَ تَبْكِي عَلَيَّ؟ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْكَ فَقَالَ الْحَارِثُ: وَاللَّهِ مَا عَلَيْكَ أَبْكِي!! فَقَالَ مُعَاذٌ: فَعَلَى مَا تَبْكِي؟ قَالَ: أَبْكِي عَلَى مَا فَاتَنِي مِنْكَ الْعَصْرُ مِنَ الْغُدُوِّ وَالرَّوَاحِ، فَقَالَ مُعَاذٌ: أَجْلِسْنِي، فَأَجْلَسَهُ فِي حِجْرِهِ فَقَالَ: اسْمَعْ مِنِّي فَإِنِّي أُوصِيكَ بِوَصِيَّةٍ: إِنَّ الَّذِي تَبْكِي عَلَيَّ مِنْ غُدُوِّكَ وَرَوَاحِكَ فَإِنَّ الْعِلْمَ مَكَانُهُ بَيْنَ لَوْحَيِ الْمُصْحَفِ، فَإِنْ أَعْيَا عَلَيْكَ تَفْسِيرُهُ فَاطْلُبْهُ بَعْدِي عِنْدَ ثَلَاثَةٍ: عُوَيْمِرُ أَبُو الدَّرْدَاءُ أَوْ عِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ أَوْ عِنْدَ ابْنِ أُمُّ عَبْدٍ، وَأُحَذِّرُكَ زَلَّةَ الْعَالَمِ وَجِدَالَ الْمُنَافِقِ، ثُمَّ إِنَّ مُعَاذًا اشْتَدَّ بِهِ [النَّزْعُ] نَزْعُ الْمَوْتِ فَنَزَعَ نَزْعًا لَمْ يَنْزِعْهُ أَحَدٌ فَكَانَ كُلَّمَا أَفَاقَ مِنْ غَمْرَةٍ فَتَحَ طَرْفَهُ فَقَالَ: اخْنُقْنِي خَنْقَتَكَ فَوَعِزَّتِكَ [إِنَّكَ] لَتَعْلَمُ أَنِّي أُحِبُّكَ، فَلَمَّا قَضَى نَحْبَهُ انْطَلَقَ الْحَارِثُ حَتَّى أَتَى أَبَا الدَّرْدَاءِ بِحِمْصَ فَمَكَثَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ قَالَ الْحَارِثُ: أَخِي مُعَاذٌ أَوْصَانِي بِكَ وَسَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ وَابْنِ أُمِّ عَبْدٍ وَلَا أَرَانِي إِلَّا مُنْطَلِقًا إِلَى الْعِرَاقِ فَقَدِمَ الْكُوفَةَ فَجَعَلَ يَحْضُرُ مَجْلِسَ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ بُكْرَةً وَعَشِيَّةً فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ ذَاتَ يَوْمٍ فِي الْمَجْلِسِ قَالَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: امْرُؤٌ مِنَ الشَّامِ، قَالَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ: نِعْمَ الْحَيُّ أَهْلُ الشَّامِ لَوْلَا وَاحِدَةٌ! قَالَ الْحَارِثُ: وَمَا تِلْكَ الْوَاحِدَةُ؟ قَالَ: لَوْلَا أَنَّهُمْ يَشْهَدُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَنَّهُمْ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، قَالَ: فَاسْتَرْجَعَ الْحَارِثُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ: صَدَقَ مُعَاذٌ فِيمَا قَالَ لِي فَقَالَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ: مَا قَالُ لَكَ يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: حَذَّرَنِي زَلَّةَ الْعَالِمِ، وَاللَّهِ مَا أَنْتَ - يَا ابْنَ مَسْعُودٍ - إِلَّا أَحَدُ رَجُلَيْنِ: إِمَّا رَجُلٌ أَصْبَحَ عَلَى يَقِينٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَأَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، أَوْ رَجُلٌ مُرْتَابٌ لَا تَدْرِي أَيْنَ مَنْزِلُكَ؟، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: صَدَقَ أَخِي إِنَّهَا زَلَّةٌ فَلَا تُؤَاخِذْنِي بِهَا، فَأَخَذَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِيَدِ الْحَارِثِ فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَحْلِهِ فَمَكَثَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ الْحَارِثُ: لَا بُدَّ لِي أَنْ أُطَالِعَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيَّ بِالْمَدَائِنِ فَانْطَلَقَ الْحَارِثُ حَتَّى قَدِمَ عَلَى سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ بِالْمَدَائِنِ فَلَمَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ قَالَ: مَكَانَكَ حَتَّى أَخْرُجَ إِلَيْكَ، قَالَ الْحَارِثُ: وَاللَّهِ مَا أَرَاكَ تَعْرِفُنِي يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: بَلَى عَرَفَتْ رُوحِي رُوحَكَ قَبْلَ أَنْ أَعْرِفَكَ إِنَّ الْأَرْوَاحَ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا فِي غَيْرِ اللَّهِ اخْتَلَفَ، فَمَكَثَ عِنْدَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى الشَّامِ، فَأُولَئِكَ الَّذِينَ يَتَعَارَفُونَ فِي اللَّهِ وَيَتَزَاوَرُونَ فِي اللَّهِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرَوَى أَحْمَدُ بَعْضَهُ وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ طَرَفًا مِنْهُ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Ghanm reported from the account of al-Harith ibn Umayrah that he arrived with Muadh رضي الله عنه from Yemen and abode with him in his house and dwelling, whereupon plague struck them, afflicting Muadh, Abu Ubaydah ibn al-Jarrah, Shurahbil ibn Hasanah, and Abu Malik رضي الله عنهم on a single day. When Amr ibn al-As perceived the plague he fled in great fright and commanded the people to disperse into the ravines, deeming what had descended a punishment and plague from the affair of Allah. Shurahbil ibn Hasanah told him he had lied, reminding him of their companionship with the Messenger of Allah ﷺ and judging him more astray than his household's donkey, and Amr conceded that he had spoken truth. Muadh ibn Jabal then told Amr ibn al-As that he had lied, for it was neither plague in his sense nor punishment, but the mercy of their Lord, the invocation of their Prophet ﷺ, and the seizure of the righteous, supplicating Allah to grant the household of Muadh the fullest share of this mercy. Before evening his son Abd al-Rahman, the most beloved of creation to him and the one from whom he took his kunya, was afflicted. Muadh returned from the mosque to find him distressed, asked him how he was, and the son, whose supplication in his favour had been answered, replied with the verse that the truth is from his Lord and he must not be of the doubters, whereupon Muadh answered with the words that they would be, if Allah willed, among the patient. The son died that night and was buried the next morning. Muadh ibn Jabal then kept sending al-Harith ibn Umayrah to Abu Ubaydah to ask after him, Abu Ubaydah showed him a piercing in his palm, al-Harith wept before Abu Ubaydah and withdrew in fear when he saw it, and Abu Ubaydah swore by Allah that he would not love red camels in its place. Al-Harith returned to Muadh to find him unconscious, wept and made others weep, then Muadh revived and asked him, O son of al-Himyariyyah, why he wept over him, seeking Allah's refuge from him. Al-Harith swore he did not weep over him but over missing his morning and evening company. Muadh bade him seat him, al-Harith seated him in his lap, and Muadh bade him listen to a bequest: that what he wept over of coming and going was as nothing, for knowledge lies between the two boards of the mushaf, and if its interpretation proves difficult he should seek it after him with three men, Uwaymir Abu al-Darda, Salman al-Farisi, or Ibn Umm Abd, warning him against the slip of the scholar and the disputation of the hypocrite. Then the throes of death intensified upon Muadh with a severity none had suffered, and whenever he revived from a stupor he opened his eyes and addressed his Lord to tighten His grip, swearing by His might that He knew he loved Him. When he fulfilled his term, al-Harith set out to Abu al-Darda in Hims, abode with him as long as Allah willed, then told him that his brother Muadh had enjoined him concerning him, Salman al-Farisi, and Ibn Umm Abd, and that he saw no course but to proceed to Iraq. He arrived at Kufa and attended the gathering of Ibn Umm Abd morning and evening, until one day Ibn Umm Abd asked who he was, he answered a man from Sham, Ibn Umm Abd praised the people of Sham but for one fault, and when asked what it was, answered that they testify of themselves that they are of Paradise. Al-Harith twice or thrice uttered the words of return to Allah and declared that Muadh had spoken truth in what he had told him. Ibn Masud رضي الله عنه asked what he had told him, nephew, he answered that Muadh had warned him against the slip of the scholar, then swore that Ibn Masud was one of two men, either a man risen upon certainty testifying that none is worthy of worship but Allah and thus of Paradise, or a doubting man unknowing of his abode. Ibn Masud conceded that his brother had spoken truth, that it had been a slip, and asked him not to hold him to it, then took al-Harith by the hand to his lodging, where al-Harith abode as long as Allah willed. Al-Harith then declared he must visit Abu Abdillah Salman al-Farisi in al-Madain, set out until he reached him, greeted him, and Salman bade him stay in his place until he came out to him. Al-Harith swore he had not thought Salman would know him, Salman answered that his spirit had known his spirit before ever knowing him, for spirits are marshaled troops, those that recognised one another unite and those that disavowed one another differ except in Allah. Al-Harith abode with him as long as Allah willed, then returned to Sham. Such, the narrator concluded, are those who know one another in Allah and visit one another in Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن غنم نے حارث بن عمیرہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ وہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن سے آئے اور ان کے محلے اور ان کے گھر میں ان کے ساتھ ٹھہرے رہے ان لوگوں کو طاعون لاحق ہو گیا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابومالک رضی اللہ عنہ ایک ہی دن میں طاعون کا شکار ہوئے جب حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو طاعون کا اندازہ ہوا تو انہوں نے راہ فرار اختیار کی اور وہ بہت زیادہ خوف زدہ ہو گئے انہوں نے ارشاد فرمایا : مختلف گھاٹیوں میں بکھر جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم تم پر نازل ہونے لگا ہے میرا خیال ہے یہ عذاب ( یا گندگی ) اور طاعون ہے ‘ تو حضرت شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تم غلط کہہ رہے ہو ‘ ہم اللہ کے رسول کے ساتھ رہے ہیں تم اپنے گھر والوں کے گدھے سے زیادہ گمراہ ہو ‘ تو حضرت عمرو نے کہا آپ ٹھیک کہہ رہے ہو ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حضرت عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا تم غلط کہہ رہے ہو یہ نہ تو طاعون ہے ‘ اور نہ ہی عذاب ہے ‘ بلکہ یہ تمہارے پروردگار کی رحمت اور تمہارے نبی کی دعا اور نیک لوگوں کی موت کی صورت ہے اے اللہ ! تو معاذ کے گھر والوں کو اس رحمت میں سے زیادہ حصہ عطا فرما ۔ راوی کہتے ہیں : شام ہونے تک حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن بھی طاعون کا شکار ہو گئے وہ صاحبزادے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو ساری مخلوق میں سب سے زیادہ محبوب تھے ‘ اور حضرت معاذ رضی اللہ عنہ انہی کی نسبت سے کنیت اختیار کرتے تھے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ مسجد سے واپس تشریف لائے تو انہیں پریشانی کے عالم میں پایا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے عبدالرحمن ! تمہارا کیا حال ہے ؟ ان صاحبزادے کے حق میں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی دعا مستجاب ہو گئی تھی ان صاحبزادے نے کہا : اے ابا جان یہ آپ کے پروردگار کی طرف سے آنے والا حق ہے آپ نے شک کا شکار ہونے والوں میں سے ہرگز نہیں ہونا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر اللہ نے چاہا تو ہم صبر کرنے والوں میں سے ہوں گے وہ صاحبزادے اسی رات انتقال کر گئے تو اگلے دن حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں دفن کر دیا پھر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حارث بن عمیرہ کو حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجا تاکہ ان سے دریافت کریں کہ ان کا کیا حال ہے ‘ تو حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے حارث کو دکھایا کہ ان کی ہتھیلی میں طاعون کا نشان موجود ہے ‘ تو حارث بن عمیرہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رونے لگے جب انہوں نے یہ دیکھا تو وہ ان کے پاس سے اٹھ کر آ گئے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اللہ کے نام کی قسم اٹھائی کہ انہیں یہ بات پسند نہیں ہے کہ اس زخم کی جگہ انہیں سرخ اونٹ مل جائیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : حارث بن عمیرہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے ‘ تو انہوں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو پایا کہ ان پر بے ہوشی طاری ہو چکی تھی حارث رونے لگے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو ہوش آیا تو انہوں نے کہا : اے ابن حمیر یہ ! تم مجھ پر کیوں رو رہے ہو ؟ میں تم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں حارث نے کہا : اللہ کی قسم میں آپ پر نہیں رو رہا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر تم کس بات پر رو رہے ہو ؟ حارث نے کہا : میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ صبح و شام کا آپ کا تعلق مجھ سے چھوٹ جائے گا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم مجھے بٹھاؤ حارث نے انہیں بٹھا دیا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری بات سنو میں تمہیں ایک وصیت کرنے لگا ہوں تم اس وجہ سے رو رہے ہو کہ صبح و شام کا ساتھ چھوٹ جائے گا علم کی جگہ مصحف کے دوالواح کے درمیان ہے ( یعنی قرآن مجید ہے ) اگر تم اس کی تفسیر میں تھک جاتے ہو ‘ تو میرے بعد علم کو تین آدمیوں کے پاس تلاش کرنا عویمر ابودرداء یا سلمان فارسی کے پاس ‘ یا ابن ام عبد کے پاس اور میں تمہیں عالم کی لغزش اور منافق کے ساتھ بحث کرنے سے بچنے کی تلقین کرتا ہوں پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پر نزع کا عالم شدید ہو گیا جو موت کی نزع کا عالم تھا انہیں جب بھی نزع کی تکلیف لاحق ہوتی تھی اور جب بھی بے ہوشی میں افاقہ ہوتا تھا ، تو وہ اپنی پلک اٹھا کر یہ کہتے تھے یہ تیری طرف سے آنے والا دباؤ ہے ‘ جو مجھے لاحق ہوا ہے ‘ اور تیری عزت کی قسم ہے ‘ تو یہ بات جانتا ہے کہ میں تجھ سے محبت رکھتا ہوں ۔ جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو حارث وہاں سے روانہ ہوئے اور حمص میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس آ گئے جتنا اللہ کو منظور تھا وہ اتنا عرصہ ان کے پاس ٹھہرے رہے پھر حارث نے کہا : میرے بھائی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھے آپ کے بارے میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اور حضرت ابن اُتم عبد ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے بارے میں وصیت کی تھی اب میں یہ سمجھتا ہوں کہ مجھے عراق جانا چاہے پھر وہ کوفہ آ گئے اور حضرت ابن ام عبد رضی اللہ عنہ کی محفل میں صبح و شام حاضر ہونے لگے ایک مرتبہ وہ اسی محفل میں موجود تھے تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ انہوں نے بتایا : شام سے تعلق رکھنے والا ایک فرد ہوں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اہل شام اچھا گروہ ہے اگر ان میں ایک خامی نہ ہو حارث نے دریافت کیا : وہ ایک چیز کیا ہے ؟ حضرت عبداللہ نے فرمایا : یہ نہ ہو کہ وہ لوگ اپنے بارے میں اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ وہ جنتی ہیں تو حارث نے دو یا شاید تین مرتبہ «انا للہ وانا الیہ راجعون» کہا اور پھر یہ کہا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے جو بات کہی تھی وہ ٹھیک کہی تھی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! انہوں نے تم سے کیا کہا تھا ؟ حارث نے بتایا انہوں نے مجھے عالم کی لغزش سے بچنے کی تلقین کی تھی اور اے حضرت ابن مسعود اللہ کی قسم ! آپ دو قسم کے افراد میں سے کوئی ایک ہیں ، یا تو آدمی یہ ہوتا ہے کہ وہ ایسے یقین پر صبح کرتا ہے کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ تو ایسی صورت میں آپ جنتی ہوں گے یا پھر آدمی شک کا شکار ہوتا ہے ‘ تو آپ کو یہ پتہ نہیں چلے گا کہ آپ کا ٹھکانہ کیا ہو گا ، تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے بھائی نے ٹھیک کہا تھا یہ لغزش تھی تماس کے حوالے سے میرا مواخذہ نہ کرو پھر حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے حارث کا ہاتھ پکڑا اور انہیں ساتھ لے کر اپنے گھر چلے گئے پھر جتنا اللہ کو منظور تھا حارث وہاں ٹھہرے رہے پھر حارث نے کہا : میرے لئے یہ ضروری ہے کہ میں ابوعبداللہ سلمان فارسی سے مدائن میں جا کے مل لوں ۔ پھر حارث وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ مدائن میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جب انہوں نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کو سلام کیا ، تو حضرت سلمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اپنی جگہ رہو میں نکل کر تمہارے پاس آتا ہوں حارث نے کہا : اللہ کی قسم ! اے ابوعبداللہ آپ کے بارے میں میری یہ رائے نہیں تھی کہ آپ مجھے پہچانتے ہوں گے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ۔ لیکن میری روح نے تمہاری روح کو پہچان لیا تھا اس سے پہلے کہ میں تمہیں پہچانوں ، روحیں ( عالم ارواح میں ) گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں وہاں جو ایک دوسرے سے متعارف تھیں ( دنیا میں ) وہ ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور وہاں جو ایک دوسرے سے نا آشنا تھیں وہ دنیا میں لاتعلق رہتی ہیں پھر جتنا اللہ کو منظور تھا حارث ان کے ہاں ٹھہرے رہے پھر وہ شام واپس چلے گئے ۔ تو یہ وہ لوگ تھے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے کو پہچانتے تھے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے ملا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ امام احمد نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے بزار کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک سے زیادہ حضرات نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔

3864

Majma al-Zawaid #3864

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تَنْزِلُونَ مَنْزِلًا يُقَالُ لَهُ الْجَابِيَةُ - أَوِ الْجُوَيْبِيَةُ - يُصِيبُكُمْ فِيهِ دَاءٌ مِثْلُ غُدَّتَيِ الْجَمَلِ يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ أَنْفُسَكُمْ وَذَرَارِيَّكُمْ، وَيُزَكِّي بِهِ أَعْمَالَكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ، وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ foretold an encampment at a station called al-Jabiya, or al-Juwaybiyah according to the doubt of the transmitter, where a malady resembling the two glands of a camel would befall them, through which Allah would grant martyrdom to them and their offspring and purify their deeds. > **"You shall alight at a station called al-Jabiya, or al-Juwaybiyah, where a disease like the two glands of a camel shall befall you; Allah shall thereby grant martyrdom to you and your offspring, and purify your deeds thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ ایک جگہ پر پڑاؤ کرو گے جس کا نام جابیہ ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو یبیہ ہو گا وہاں تمہیں ایک بیماری لاحق ہو گی جو اونٹ کے غدہ کی مانند ہو گی اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے تمہیں اور تمہارے بال بچوں کو شہادت نصیب کرے گا ‘ اور اس کی وجہ سے تمہارے اعمال کا تزکیہ کر دے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن یحیی خشنی ہے ‘ جسے دحیم اور دیگر حضرات نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ امام نسائی اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

3865

Majma al-Zawaid #3865

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «فَنَاءُ أُمَّتِي فِي الطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ "" قُلْنَا: قَدْ عَرَفْنَا الطَّعْنَ فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ: "" وَخْزُ أَعْدَائِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَفِي كُلٍّ شَهَادَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ النَّصِيبِيُّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: لَهُ مَنَاكِيرُ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ declared the perishing of his nation to be in stabbing and plague, and when asked about plague since stabbing was already understood, he explained it as the thrust of their enemies from among the jinn, with martyrdom in each. > **"The perishing of my nation is in stabbing and plague. Plague is the thrust of your enemies from among the jinn, and in each is martyrdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” میری امت طعن ( یعنی جنگ میں زخمی ہونے ) اور طاعون کے ذریعے فنا ہو گی “ ہم نے عرض کی : طعن کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ تمہارے دشمنوں جنات کا وار ہے ‘ اور ( طعن اور طاعون دونوں میں سے ) ہر ایک صورت میں شہادت نصیب ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عصمہ نصیبی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3866

Majma al-Zawaid #3866

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَأْتِي الشُّهَدَاءُ وَالْمُتَوَفَّوْنَ بِالطَّاعُونِ فَيَقُولُ أَصْحَابُ الطَّاعُونِ: نَحْنُ شُهَدَاءُ فَيُقَالُ: انْظُرُوا فَإِنَّ جِرَاحَتَهُمْ كَجِرَاحِ الشُّهَدَاءِ تَسِيلُ دَمًا كَرِيحِ الْمِسْكِ فَهُمْ شُهَدَاءُ فَيَجِدُونَهُمْ كَذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَحَدِيثُهُ عَنِ أَهْلِ الشَّامِ مَقْبُولٌ وَهَذَا مِنْهُ.

EnglishUnverified translation

Utbah ibn Abd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ described the coming of the martyrs and those dead of plague, the claim of the plague-stricken that they are martyrs, and the command to examine whether their wounds resemble the wounds of martyrs flowing with blood bearing the fragrance of musk, in which case they are martyrs, and the finding that they are indeed so. > **"Look; if their wounds are like the wounds of the martyrs, flowing with blood bearing the fragrance of musk, then they are martyrs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عبد سلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ( قیامت کے دن ) شہداء اور طاعون کے نتیجے میں فوت ہونے والے لوگ آئیں گے تو طاعون کا شکار افراد یہ کہیں گے کہ ہم بھی شہید ہیں تو یہ کہا جائے گا ۔ تم اس بات کا جائزہ لو اگر تو ان کے زخم شہداء کے زخم کی مانند ہیں کہ ان میں سے مشک کی خوشبو کی طرح کا خون نکلتا ہے ‘ تو پھر یہ شہداء شمار ہوں گے تو وہ ( فرشتے ) ان لوگوں کو ایسا ہی پائیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اہل شام سے اس کی نقل کردہ روایت مقبول ہے ‘ اور یہ ان روایات میں سے ایک ہے ۔

3867

Majma al-Zawaid #3867

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تَفْنَى أُمَّتِي إِلَّا بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ: "" غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْبَعِيرِ، الْمُقِيمُ بِهَا كَالشَّهِيدِ وَالْفَارُّ مِنْهَا كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ declared that his nation perishes only by stabbing and plague, and when asked about plague since stabbing was already understood, he described it as a gland resembling the gland of a camel, with the one who remains therein as a martyr and the one who flees from it as one fleeing from the advancing ranks. > **"It is a gland like the gland of a camel. Whoever remains therein is as a martyr, and whoever flees from it is as one fleeing from the battle ranks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت صرف طعن اور طاعون کے ذریعے فنا ہو گی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! طعن کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا چیز ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ اونٹ کے غدے کی مانند ایک غدہ ہے طاعون میں مقیم رہنے والا شخص شہید کی مانند ہو گا ‘ اور اس سے فرار اختیار کرنے والا شخص میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے والے شخص کی مانند ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

3868

Majma al-Zawaid #3868

وَلَهَا عِنْدَ أَبِي يَعْلَى أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «وَخْزَةٌ تُصِيبُ أُمَّتِي مِنْ أَعْدَائِهِمُ الْجِنِّ، غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْإِبِلِ، مَنْ أَقَامَ عَلَيْهَا كَانَ مُرَابِطًا وَمَنْ أُصِيبَ بِهِ كَانَ شَهِيدًا وَمَنْ فَرَّ مِنْهُ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ». وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «وَالصَّابِرُ عَلَيْهِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ».

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ described plague as a piercing wound befalling his nation from their enemies the jinn, resembling the gland of camels, with the one who remains therein counted as a frontier guard, the one afflicted counted as a martyr, the one who flees counted as one fleeing from the battle ranks, and the one patient therein as a warrior in the path of Allah. > **"It is a piercing wound befalling my nation from their enemies the jinn, a gland like the gland of camels. Whoever remains therein is as a frontier guard, whoever is afflicted thereby is a martyr, whoever flees from it is as one fleeing from the battle ranks, and whoever is patient therein is as a warrior in the path of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام ابویعلیٰ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ روایت بھی نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ یہ ایک وار ہے ‘ جو میری امت کو ان کے دشمنوں جنات کی طرف سے لاحق ہو گا یہ اونٹ کے غدہ کی مانند غدہ ہے ‘ جو شخص اس ( طاعون زدہ علاقے ) میں ٹھہرا رہے گا وہ پہرا دینے والا شمار ہو گا ‘ اور جو اس میں مر جائے گا وہ شہید شمار ہو گا ‘ اور جو اس سے فرار اختیار کرے گا وہ میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے والے کی مانند ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اور اس پر صبر کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہو گا “۔

3869

Majma al-Zawaid #3869

وَلَهَا عِنْدَ الْبَزَّارِ: قُلْتُ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ: "" يُشْبِهُ الدُّمَّلَ يَخْرُجُ فِي الْآبَاطِ وَالْمُرَاقِ وَفِيهِ تَزْكِيَةُ أَعْمَالِهِمْ وَهُوَ لِكُلِّ مُسْلِمٍ شَهَادَةٌ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ، وَبَقِيَّةُ الْأَسَانِيدِ حِسَانٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها reported that when asked about plague since stabbing was already understood, the Prophet ﷺ described it as resembling a boil emerging in the armpits and the soft underbellies, bearing the purification of their deeds, and constituting martyrdom for every Muslim. > **"It resembles a boil emerging in the armpits and the soft underbellies; therein is the purification of their deeds, and it is martyrdom for every Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے امام بزار نے یہ روایت نقل کی ہے ۔ ( وہ بیان کرتی ہیں : ) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! طعن کا تو ہمیں پتہ ہے طاعون کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ پھوڑے کی مانند ہو گا ، جو بغلوں میں ‘ اور پیٹ کے نیچے والے حصے میں نکلے گا ‘ اس میں ان لوگوں کے اعمال کا تزکیہ ہو گا ‘ اور یہ ہر مسلمان کے لئے شہادت ہو گا ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں اور باقی اسانید حسن ہیں ۔

3870

Majma al-Zawaid #3870

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي الطَّاعُونِ: "" الْفَارُّ مِنْهُ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ، وَمَنْ صَبْرَ فِيهِ كَانَ لَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما said that he heard the Messenger of Allah ﷺ speak concerning plague, likening flight from it to flight from the battle ranks and promising the reward of a martyr for whoever endures therein with patience. > **"Whoever flees from it is as one fleeing from the battle ranks, and whoever is patient therein shall have the reward of a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو طاعون کے بارے میں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس سے فرار اختیار کرنے والا میدان جنگ سے فرار اختیار کرنے والے کی مانند ہو گا ، اور جو اس میں صبر کرے گا اسے شہید کا اجر ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

3871

Majma al-Zawaid #3871

وَعَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ عَنْ أَبِيهِ أَوْ عَنْ عَمِّهِ عَنْ جِدِّهِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ: "" إِذَا وَقَعَ الطَّاعُونُ بِأَرْضٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا مِنْهَا، وَإِذَا وَقَعَ بِهَا وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تُقْدِمُوا عَلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Ikrimah ibn Khalid al-Makhzumi reported from his father, or from his uncle, from his grandfather, that the Messenger of Allah ﷺ commanded during the expedition of Tabuk that when plague falls in a land while they are in it they must not leave it, and when it falls somewhere while they are not in it they must not advance upon it. > **"When plague falls in a land and you are in it, do not leave it; and when it falls somewhere and you are not in it, do not advance upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عکرمہ بن خالد مخزومی نے اپنے والد شاید اپنے چچا کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : غزوہ تبوک کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : ” جب طاعون کسی سرزمین میں واقع ہو جائے اور تم وہاں موجود ہو تو تم وہاں سے نہ نکلو اور جب یہ کسی جگہ پر واقع ہو جائے اور تم وہاں موجود نہ ہو ‘ تو تم وہاں نہ جاؤ “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

3872

Majma al-Zawaid #3872

وَلَهُ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ: «وَإِذَا كَانَ بِأَرْضٍ وَلَسْتُمْ بِهَا فَلَا تَقْرَبُوهَا». وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

In another narration from the same chain it is conveyed that the Prophet ﷺ commanded that when plague occupies a land where they are not present, they must not draw near it. > **"When it is in a land and you are not in it, do not draw near it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان صاحب کے حوالے سے ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” جب یہ کسی ایسی جگہ پر ہو کہ تم لوگ وہاں موجود نہ ہو ‘ تو تم اس جگہ کے قریب نہ جاؤ “۔ امام احمد کی سند حسن ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کو اسی طرح روایت کیا ہے ۔

3873

Majma al-Zawaid #3873

وَعَنْ زَيْدَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: «ذُكِرَ الطَّاعُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّهُ رِجْسٌ أَصَابَ مَنْ قَبْلَكُمْ فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِهِ بِبَلَدٍ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِ، وَإِذَا وَقَعَ بِبَلَدٍ وَأَنْتُمْ بِهَا فَلَا تَخْرُجُوا فِرَارًا مِنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thabit رضي الله عنه reported that plague was mentioned before the Messenger of Allah ﷺ, who described it as a filth that afflicted those before them, and commanded that those who hear of it in a town must not enter upon it, and those in a town where it falls must not leave fleeing from it. > **"It is a filth that afflicted those before you. When you hear of it in a town, do not enter upon it; and when it falls in a town and you are in it, do not leave fleeing from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے طاعون کا ذکر کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک تکلیف ہے ‘ جو تم سے پہلے لوگوں کو لاحق ہوئی تھی جب تم اس کے بارے میں سنو کہ یہ کسی شہر میں آ گئی ہے ‘ تو تم وہاں نہ جاؤ اور جب یہ اس شہر میں آ جائے جہاں تم موجود ہو تو تم اس سے فرار اختیار کرتے ہوئے وہاں سے نہ نکلو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3874

Majma al-Zawaid #3874

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: ذَكَرَ مُعَاوِيَةُ الطَّاعُونَ فِي خُطْبَتِهِ فَقَالَ عُبَادَةُ: أُمُّكَ هِنْدٌ أَعْلَمُ مِنْكُمْ فَأَتَمَّ خُطْبَتَهُ ثُمَّ صَلَّى ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عُبَادَةَ فَنَفَرَتْ رِجَالُ الْأَنْصَارِ مَعَهُ فَأَجْلَسَهُمْ وَدَخَلَ عُبَادَةُ فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: أَلَمْ تَتَّقِ اللَّهَ وَتَسْتَحِي إِمَامَكَ؟ فَقَالَ لَهُ عُبَادَةُ: أَلَيْسَ قَدْ عَلِمْتَ أَنِّي بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أَنِّي لَا أَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ ثُمَّ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عِنْدَ الْعَصْرِ فَصَلَّى ثُمَّ أَخَذَ بِقَائِمَةِ السَّرِيرِ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي ذَكَرْتُ لَكُمْ حَدِيثًا عَلَى الْمِنْبَرِ فَدَخَلْتُ الْبَيْتَ فَإِذَا الْحَدِيثُ كَمَا حَدَّثَنِي عُبَادَةُ فَاقْتَبِسُوا مِنْهُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ مِنِّي. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ سِنَانٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Yala ibn Shaddad ibn Aws reported that Muawiya رضي الله عنه mentioned plague in his sermon, whereupon Ubada رضي الله عنه remarked that his mother Hind knew better than them. Muawiya completed his sermon, prayed, then sent for Ubada, and some men of the Ansar set out with him, whom Muawiya seated before Ubada entered. Muawiya asked him whether he did not fear Allah and feel shame before his leader, Ubada asked whether he did not already know that he had pledged to the Messenger of Allah ﷺ never to fear the blame of any blamer in the cause of Allah, and then departed. Muawiya returned at the afternoon prayer, prayed, seized the post of the couch, and declared to the people that he had conveyed a report upon the pulpit, had then entered his house to find the report exactly as Ubada had narrated it to him, and bade them draw knowledge from Ubada, for he knew better than him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یعلی بن شداد بن اوس بیان کرتے ہیں : حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں طاعون کا ذکر کیا ‘ تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہاری والدہ ہند تم سے زیادہ علم رکھتی ہیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنا خطبہ مکمل کیا ، پھر انہوں نے نماز پڑھائی پھر انہوں نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا تو انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ گئے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں بٹھایا حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ اندر آئے تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کیا آپ اللہ تعالیٰ ڈرتے نہیں ہیں اور اپنے امام سے حیاء نہیں کرتے ہیں تو حضرت عبادہ نے ان سے کہا کیا تم یہ بات نہیں جانتے ہو کہ میں نے اللہ کے رسول کے دست اقدس پر اس بات کی بیعت کی تھی کہ میں اللہ تعالیٰ کی ذات کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف زدہ نہیں ہوں گا پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ عصر کے وقت تشریف لائے انہوں نے نماز پڑھائی پھر انہوں نے پلنگ کے پائے کو پکڑا اور یہ ارشاد فرمایا : اے لوگو ! میں نے منبر پر تمہارے سامنے ایک بات ذکر کی تھی پھر میں گھر گیا تو اصل بات وہ ہے ‘ جو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی ‘ تو تم ان سے استفادہ کرو کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ علم رکھتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن سنان ہے ‘ جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

3875

Majma al-Zawaid #3875

وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ الْأَشْعَرِيِّ عَنْ رَابِّهِ، رَجُلٍ مِنْ قَوْمِهِ كَانَ خَلَفَ عَلَى أُمِّهِ بَعْدَ أَبِيهِ كَانَ شَهِدَ طَاعُونَ عَمُوَاسَ قَالَ: لَمَّا اشْتَغَلَ الْوَجَعُ قَامَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي النَّاسِ خَطِيبًا فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَإِنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ يَسْأَلُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يَقْسِمَ لَهُ مِنْهُ حَظَّهُ قَالَ: فَطُعِنَ فَمَاتَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - وَاسْتَخْلَفَ عَلَى النَّاسِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَقَامَ خَطِيبًا بَعْدَهُ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ رَحْمَةُ رَبِّكُمْ وَدَعْوَةُ نَبِيِّكُمْ وَمَوْتُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَإِنَّ مُعَاذًا يَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَقْسِمَ لِآلِ مُعَاذٍ مِنْهُ حَظَّهُ قَالَ: فَطُعِنَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُهُ فَمَاتَ - رَحِمَهُ اللَّهُ -، ثُمَّ قَامَ فَدَعَا رَبَّهُ لِنَفْسِهِ فَطُعِنَ فِي رَاحَتِهِ - رَحِمَهُ اللَّهُ -، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا ثُمَّ يُقَبِّلُ ظَهْرَ كَفِّهِ يَقُولُ: مَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِمَا فِيكِ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا فَلَمَّا مَاتَ اسْتُخْلِفَ عَلَى النَّاسِ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ، فَقَامَ فِينَا خَطِيبًا فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ هَذَا الْوَجَعَ إِذَا وَقَعَ إِنَّمَا يَشْتَعِلُ اشْتِعَالَ النَّارِ فَتَجَبَّلُوا مِنْهُ فِي الْجِبَالِ فَقَالَ أَبُو وَائِلَةَ الْهُذَلِيُّ: كَذَبْتَ وَاللَّهِ لَقَدْ صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنْتَ شَرٌّ مِنْ حِمَارِي هَذَا!! قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَرُدُّ عَلَيْكَ مَا تَقُولُ - وَايْمُ اللَّهِ - لَا نُقِيمُ عَلَيْهِ، ثُمَّ خَرَجَ وَخَرَجَ النَّاسُ مَعَهُ فَتَفَرَّقُوا عَنْهُ وَدَفَعَهُ اللَّهُ عَنْهُمْ قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - مِنْ رَأْيِ عَمْرٍو فَوَاللَّهِ مَا كَرِهَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَشَهْرٌ فِيهِ كَلَامٌ، وَشَيْخُهُ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Shahr ibn Hawshab al-Ashari reported from Rabbihi, a man of his tribe who had undertaken his mother's care after his father and who had witnessed the plague of Amwas, that when the affliction spread, Abu Ubaydah ibn al-Jarrah رضي الله عنه stood preaching among the people declaring this pain to be the mercy of their Lord, the invocation of their Prophet, and the death of the righteous before them, and asking Allah Almighty to apportion to Abu Ubaydah his share of it, whereupon he was afflicted and died, may Allah have mercy upon him. Muadh ibn Jabal رضي الله عنه succeeded him over the people, stood preaching after him with the same declaration, and asked Allah to apportion to the household of Muadh their share of it, whereupon his son Abd al-Rahman was afflicted and died, may Allah have mercy upon him. Muadh then rose and supplicated his Lord for himself, was afflicted in his palm, may Allah have mercy upon him, and was seen gazing at it and kissing the back of his palm declaring he would not love anything of this world in exchange for what it bore. When he died, Amr ibn al-As رضي الله عنه succeeded over the people, stood preaching among them declaring that when this pain falls it spreads like the burning of fire, so they should take to the mountains away from it. Abu Wailah al-Hudhali told him he had lied, swearing by Allah that he had accompanied the Messenger of Allah ﷺ while Amr was worse than his own donkey. Amr swore by Allah he would not return upon him what he said, declared by Allah they would not remain upon it, then departed with the people following him, they dispersed from it, and Allah repelled it from them. When this judgement of Amr reached Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه, he did not dislike it, by Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شہر بن حوشب اشعری ‘ اپنی قوم سے تعلق رکھنے والے اپنے ایک شخص رابہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ اپنے والد کے بعد اپنی والدہ کی دیکھ بھال کیا کرتے تھے ان کے والد عمواس کے طاعون میں موجود رہے تھے وہ بیان کرتے ہیں : جب تکلیف پھیل گئی تو حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ لوگوں کے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے انہوں نے ارشاد فرمایا : اے لوگو بے شک یہ تکلیف تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تمہارے نبی کی دعا ہے ‘ اور تم سے پہلے لوگوں کی موت کی وجہ ہے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ اس تکلیف میں سے ان کا حصہ انہیں عطا کرے راوی کہتے ہیں : تو انہیں طاعون ہو گیا اور ان کا بھی انتقال ہو گیا اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کرے اس کے بعد حضرت معاذ بن جبل لوگوں کے امیر بنے اس کے بعد انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : اے لوگو یہ تکلیف تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تمہارے نبی کی دعا ہے ‘ اور تم سے پہلے کے نیک لوگوں کی موت کا ذریعہ ہے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے گھر والوں کو اس تکلیف میں سے ان کا حصہ عطا کرے راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے عبدالرحمن طاعون کا شکار ہو کر انتقال کر گئے پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے اپنے پروردگار سے اپنی ذات کے لئے دعا مانگی تو ان کی ہتھیلی میں طاعون ( کا نشان ) نمودار ہوا راوی کہتے ہیں : میں نے انہیں دیکھا کہ وہ اس نشان کو دیکھتے تھے ‘ اور پھر اپنی ہتھیلی کی پشت کو بوسہ دیا کرتے تھے ‘ اور یہ فرماتے تھے کہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ تمہارے بدلے میں مجھے دنیا میں سے کچھ بھی مل جائے جب ان کا انتقال ہو گیا تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو لوگوں کا امیر مقرر کیا گیا وہ ہمارے درمیان خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے انہوں نے ارشاد فرمایا : اے لوگو یہ تکلیف جب واقع ہوتی ہے ‘ تو یہ یوں پھیلتی ہے ، جس طرح آگ پھیل جاتی ہے ‘ تو تم لوگ اس کو چھوڑ کر مختلف پہاڑوں میں پھیل جاؤ تو حضرت ابووائلہ ہذلی نے کہا : آپ غلط کہہ رہے ہیں اللہ کی قسم ! میں اللہ کے رسول کے ساتھ رہا ہوں اور آپ اس گدھے سے بھی زیادہ برے ہیں تو حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم تم جو کہہ رہے ہو میں تمہیں اس کا جواب نہیں دوں گا اللہ کی قسم ہم اس جگہ پر نہیں ٹھہریں گے پھر حضرت عمرو رضی اللہ عنہ وہاں سے چلے گئے ان کے ساتھ کچھ لوگ بھی چلے گئے وہ لوگ اس جگہ کو چھوڑ کر ادھر ادھر بکھر گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو طاعون سے محفوظ رکھا راوی بیان کرتے ہیں : جب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو اس بات کی اطلاع ملی جو حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کا موقف تھا ، تو اللہ کی قسم انہوں نے اس کو ناپسندیدہ قرار نہیں دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ شہر نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کے استاد کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3876

Majma al-Zawaid #3876

وَعَنْ عَابِسٍ الْغِفَارِيِّ «أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَهُ فَوْقَ إِجَارٍ لَهُ فَمَرَّ بِقَوْمٍ يَتَحَمَّلُونَ فَقَالَ: مَا هَؤُلَاءِ؟ قِيلَ: قَوْمٌ يَفِرُّونَ مِنَ الطَّاعُونِ قَالَ: يَا طَاعُونُ خُذْنِي يَا طَاعُونُ خُذْنِي يَا طَاعُونُ خُذْنِي فَقَالَ لَهُ ابْنُ أَخٍ لَهُ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ -: تَتَمَنَّى الْمَوْتَ وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ [فَإِنَّ الْمَوْتَ] أَجْرُ عَمَلِ الْمُؤْمِنِ وَلَا يُرَدُّ فَيُسْتَعْتَبْ "" قَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنِّي أُبَادِرُ خِلَالًا سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ يَتَخَوَّفُهُنَّ عَلَى أُمَّتِهِ: "" إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ، وَكَثْرَةُ الشُّرَطِ، وَاسْتِخْفَافٌ بِالدَّمِ، وَقَطِيعَةُ الرَّحِمِ، وَنَشْوٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ يُقَدِّمُونَ الرَّجُلَ لَيْسَ بِأَفْقَهِهِمْ فِي الدِّينِ وَلَا بِأَعْلَمِهِمْ وَفِيهِمْ مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ وَأَعْلَمُ يُقَدِّمُونَهُ يُغَنِّيهِمْ غِنَاءً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Abis al-Ghifari رضي الله عنه was once with his companions above a rooftop of his when people burdened for travel passed by, he asked who they were, and was told they were people fleeing the plague, whereupon he thrice called upon the plague to seize him. A nephew of his, who had attained companionship, reproached him for wishing for death despite having heard the Messenger of Allah ﷺ forbid any of them to wish for death, since death seals the work of the believer without return for amends. Abis answered him, nephew, that he hastened to depart before traits he had heard from the Messenger of Allah ﷺ that would appear in the last age and were feared for his nation. > **"The rule of fools, the multitude of guards, the belittling of blood, the severing of kinship, and youths who take the Quran as flutes, advancing a man neither most understanding in religion nor most knowledgeable among them, though among them are those more understanding and more knowledgeable, advancing him to sing to them in melody."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عابس غفاری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ ان لوگوں کے ساتھ ایک بلند جگہ پر موجود تھے کچھ لوگ گزرے جو سواری پر سوار تھے انہوں نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں تو بتایا گیا کہ یہ لوگ طاعون سے بچنے کے لئے جا رہے ہیں تو حضرت عابس غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا : اے طاعون مجھے گرفت میں لے اے طاعون مجھے گرفت میں لے اے طاعون مجھے گرفت میں لے ان کے ایک بھتیجے نے ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ان سے کہا : کیا آپ موت کی آرزو کر رہے ہیں ؟ جبکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم میں سے کوئی ایک موت کی آرزو نہ کرے ‘ کیونکہ موت مؤمن کے عمل کا اجر ہے ‘ اس کو ( دنیا میں ) لوٹایا نہیں جائے گا کہ اس کو ایک اور موقعہ دیا جائے “۔ تو حضرت عابس غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا : اے میرے بھتیجے ! میں کچھ چیزوں کے آنے سے پہلے ( دنیا سے ) رخصت ہو جانا چاہتا ہوں جن چیزوں کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا ہے کہ وہ آخری زمانے میں نمودار ہوں گی ‘ اور نبی اکرم ﷺ کو اپنی امت کے بارے میں ان چیزوں سے اندیشہ تھا ( وہ چیزیں یہ ہیں ) بے وقوفوں کی حکومت شرطیں زیادہ لگانا خون کو کمتر سمجھنا رشتے داری کے حقوق پامال کرنا اور نوجوانوں کا قرآن کو مزامیر کے طور پر اختیار کرنا ‘ لوگ کسی ایسے شخص کو آگے نہیں کریں گے جو دین کے بارے میں زیادہ علم رکھتا ہو ‘ یا دین کی زیادہ سمجھ بوجھ رکھتا ہو ان لوگوں میں زیادہ سمجھ بوجھ رکھنے والا اور زیادہ علم والا موجود ہو گا ، لیکن وہ ایسے شخص کو ( امامت کے لئے ) آگے کریں گے جو قرآن گا کر سنائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔

3877

Majma al-Zawaid #3877

وَلَهُ فِي رِوَايَةٍ: وَقَدْ سَمِعْتُ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَا يَتَمَنَّى أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ فَيَكُونُ عِنْدَ انْقِطَاعِ أَجْلِهِ». وَفِي إِسْنَادِهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ. قُلْتُ: وَلَهُ طُرُقٌ تَأْتِي فِي الْإِمَارَةِ وَالْخِلَافَةِ وَالتَّوْبَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abis al-Ghifari رضي الله عنه reported in another narration that he himself heard the Messenger of Allah ﷺ speak concerning one who wishes for death and the severing of his appointed term that such a wish entails. > **"Let none of you wish for death, for it comes at the cutting off of his term."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے ایک روایت میں یہ الفاظ منقول ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے کیونکہ اس طرح اس کی مہلت ختم ہو جائے گی “۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے مختلف طرق ہیں جو حکومت کرنے اور خلافت اور توبہ سے متعلق باب میں آگے آئیں گے ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

3878

Majma al-Zawaid #3878

عَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالزَّكَاةِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَقَالَ: "" مَا تَعُدُّونَ الشَّهِيدَ فِيكُمْ؟ "" قَالُوا: الَّذِي يُقْتَلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ قَالَ: "" إِنَّ شُهَدَاءَ أُمَّتِي إِذَنْ لِقَلِيلٌ: الْقَتْلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ شَهَادَةٌ، وَالطَّاعُونُ شَهَادَةٌ، وَالنُّفَسَاءُ شَهَادَةٌ، وَالْحَرْقُ شَهَادَةٌ، وَالْغَرَقُ شَهَادَةٌ، وَالسُّلُّ شَهَادَةٌ، وَالْبَطْنُ شَهَادَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ بِنَحْوِ هَذَا فِي الْجِهَادِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Salman al-Farisi رضي الله عنه reported that he came to the Prophet ﷺ with zakat on three occasions, whereupon the Prophet ﷺ asked those present whom they counted as a martyr among them. They answered that it was one killed in the path of Allah, so the Prophet ﷺ declared the martyrs of his nation few if confined to that, then enumerated killing in the path of Allah, plague, death in childbirth, burning, drowning, consumption, and abdominal disease as martyrdom. > **"Indeed the martyrs of my nation are then few: being killed in the path of Allah is martyrdom, plague is martyrdom, death in childbirth is martyrdom, burning is martyrdom, drowning is martyrdom, consumption is martyrdom, and abdominal disease is martyrdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں زکوۃ لے کر تین مرتبہ حاضر ہوا آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے درمیان کسے شہید شمار کرتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : اس شخص کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس صورت میں میری امت کے شہید کم ہوں گے اللہ کی راہ میں قتل ہونا شہادت ہے طاعون شہادت ہے نفاس کے دوران عورت کا مرنا شہادت ہے جل جانا شہادت ہے ڈوب جانا شہادت ہے سل کی بیماری شہادت ہے پیٹ ( کی بیماری کی وجہ سے مر جانا ) شہادت ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مندل بن علی ہے ‘ جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کی مانند دیگر احادیث جہاد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

3879

Majma al-Zawaid #3879

عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ حُمَمَةٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ غَازِيًا إِلَى أَصْبَهَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَفُتِحَتْ أَصْبَهَانُ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّ حُمَمَةً يَزْعُمُ أَنَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَكَ فَإِنْ كَانَ صَادِقًا فَاعْزِمْ بِهِ عَلَيْهِ بِصِدْقِهِ وَإِنْ كَانَ كَاذِبًا فَاعْزِمْ لَهُ عَلَيْهِ، وَإِنْ كَرِهَ فَأَخَذَهُ الْبَطْنُ فَمَاتَ بِأَصْبَهَانَ فَقَالَ أَبُو مُوسَى: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا وَاللَّهِ مَا سَمِعَنَا فِيمَا سَمِعْنَا مِنْ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبَلَغَ عِلْمُنَا إِلَّا أَنَّ حُمَمَةَ شَهِيدٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ وَفِيهِ دَاوُدُ الْأَوْدِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ فِي أُخْرَى.

EnglishUnverified translation

Humayd ibn Abd al-Rahman al-Himyari reported that a Companion of the Messenger of Allah ﷺ named Humamah رضي الله عنه went out to campaign at Isfahan in the caliphate of Umar رضي الله عنه. After Isfahan was opened he supplicated to Allah that if his claim to love meeting Him were true, Allah should decree it upon him with truthfulness, and if false, Allah should still decree it upon him even if disliked. He was then seized by abdominal disease and died at Isfahan, whereupon Abu Musa al-Ashari رضي الله عنه addressed the people swearing by Allah that according to all they had heard from their Prophet ﷺ and the extent of their knowledge, Humamah was a martyr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بن عبدالرحمن حمیری بیان کرتے ہیں : ایک صاحب جن کا نام حضرت حممہ رضی اللہ عنہ تھا وہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی تھے ۔ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جنگ میں حصہ لینے کے لئے اصبہان چلے گئے ۔ انہوں نے یہ دعا کی اے اللہ ! حممہ رضی اللہ عنہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ تیری بارگاہ میں حاضری کو پسند کرتا ہے اگر وہ سچا ہو تو اس کی سچائی کو اس پر لازم کر دے اور اگر جھوٹا ہو تو اس کے خلاف کو اس پر لازم کر دے خواہ وہ اسے ناپسند کرتا ہو ‘ تو انہیں پیٹ کے درد نے اپنے لپیٹ میں لے لیا ‘ اور ان کا انتقال اصبہان میں ہو گیا تو حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! بے شک اللہ کی قسم ہم نے تمہارے نبی کی زبانیں جو باتیں سنی ہیں ، اور جو ہمارا علم ہے ‘ اس کے مطابق حمامہ شہید ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی داؤد راوی ہے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور دوسری روایت کے مطابق انہوں نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3880

Majma al-Zawaid #3880

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْمَيِّتُ مِنْ ذَاتِ الْجَنْبِ شَهِيدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ described the one who dies of pleurisy as holding the rank of a martyr. > **"One who dies of pleurisy is a martyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ذات الجنب کی بیماری سے مرنے والا شہید ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3881

Majma al-Zawaid #3881

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَوْتُ الْغَرِيبِ شَهَادَةٌ إِذَا احْتُضِرَ فَرَمَى بِبَصَرِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فَلَمْ يَرَ إِلَّا غَرِيبًا وَذَكَرَ أَهْلَهُ وَوَلَدَهُ فَتَنَفَّسَ فَلَهُ بِكُلِّ نَفَسٍ يَتَنَفَّسُهُ يَمْحُو اللَّهُ عَنْهُ أَلْفَيْ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَيَكْتُبُ لَهُ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ described the death of one far from home as martyrdom, explaining that when his end approaches and he looks right and left seeing only strangeness, remembers his family and children, and draws breaths, Allah effaces for every breath he breathes two thousand thousand evil deeds and writes for him two thousand thousand good deeds. > **"The death of the stranger is martyrdom: when he is approached and casts his sight to his right and his left and sees only strangeness, and remembers his family and his children and breathes, then for every breath he breathes Allah effaces from him two thousand thousand evil deeds and writes for him two thousand thousand good deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ غریب الوطنی کی موت شہادت ہوتی ہے ، جب اس کا آخری وقت آتا ہے ‘ اور وہ نگاہ اٹھا کر دائیں بائیں دیکھتا ہے ‘ تو اسے غریب الوطنی دکھائی دیتی ہے وہ اپنے اہل خانہ اور اپنی اولاد کو یاد کرتا ہے ‘ اور گہرے سانس لیتا ہے ‘ تو ہر ایک سانس جو وہ کھینچتا ہے ‘ تو اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ اس کی دو ہزار ہزار ( یعنی بیس لاکھ ) برائیاں ختم کر دیتا ہے ‘ اور اس کے لئے دو ہزار ہزار ( یعنی بیس لاکھ ) نیکیاں نوٹ کرتا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3882

Majma al-Zawaid #3882

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَعَوَّذُ مِنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ يَمْرَضَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ used to seek refuge with Allah from sudden death, and that it pleased him for a man to fall ill before he died.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اچانک موت سے پناہ مانگا کرتے تھے ۔ آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ آدمی مرنے سے پہلے بیمار ہو جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن قرشی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3883

Majma al-Zawaid #3883

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ مَوْتِ الْفَجْأَةِ فَقَالَ: "" رَاحَةٌ لِلْمُؤْمِنِ، وَأَخْذَةُ أَسَفٍ عَلَى الْفَاجِرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ قِصَّةٌ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reported that she asked the Messenger of Allah ﷺ about sudden death, whereupon he described it as rest for the believer and a seizure of sorrow upon the wicked. > **"It is rest for the believer and a seizure of sorrow upon the wicked."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے اچانک موت کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ مومن کے لئے راحت ہے ‘ اور فاجر شخص کے لئے افسوس ناک پکڑ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس میں پورا واقعہ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن ولید و صافی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3884

Majma al-Zawaid #3884

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَعَاذَ مِنْ سَبْعِ مَوْتَاتٍ: "" مَوْتِ الْفُجَاءَةِ، وَمِنْ لَدْغِ الْحَيَّةِ، وَمِنَ السَّبُعِ، وَمِنَ الْغَرَقِ، وَمِنَ الْحَرْقِ، وَمِنْ أَنْ يَخِرَّ عَلَى شَيْءٍ أَوْ يَخِرَّ عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَمِنَ الْقَتْلِ عِنْدَ فِرَارِ الزَّحْفِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr ibn al-As رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ used to seek refuge from seven deaths: sudden death, the bite of a snake, a beast of prey, drowning, burning, falling upon a thing or a thing falling upon one, and being killed while fleeing from the battle ranks. > **"Sudden death, the bite of a snake, a beast of prey, drowning, burning, falling upon a thing or a thing falling upon him, and being killed while fleeing from the battle ranks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ موت کی سات قسم کی صورتوں سے پناہ مانگتے تھے اچانک موت سانپ کے ڈسنے درندے کی وجہ سے ڈوبنے کی وجہ سے جل جانے کی وجہ سے آدمی کے کسی چیز پر گرنے یا آدمی پر کسی چیز کے گرنے کی وجہ سے اور میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرتے ہوئے قتل ہو جانے ( کی شکل میں آنے والی موت ) سے ( آپ ﷺ ) پناہ مانگتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3885

Majma al-Zawaid #3885

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ هَمًّا أَوْ غَمًّا، أَوْ أَنْ أَمُوتَ غَرَقًا وَأَنْ يَتَخَبَّطَنِيَ الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ أَوْ أَمُوتَ لَدِيغًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ وَثَّقَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ supplicated for refuge against dying of anxiety or grief, dying by drowning, Satan confounding him at death, and dying by a sting or bite. > **"O Allah, I seek refuge with You from dying of anxiety or grief, or dying by drowning, or Satan confounding me at death, or dying by a sting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( یعنی آپ نے یہ دعا کی : ) ” اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں پریشانی یا غم کی وجہ سے انتقال کر جاؤں یا میں ڈوب کر مر جاؤں یا موت کے وقت شیطان مجھے مخبوط الحواس کر دے یا میں کسی کے ڈسنے کی وجہ سے مر جاؤں “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسحاق ہے میں نے کسی کو اس کی توثیق کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

3886

Majma al-Zawaid #3886

وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِجِدَارٍ مَائِلٍ فَأَسْرَعَ الْمَشْيَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ: "" إِنِّي أَكْرَهُ مَوْتَ الْفَوَاتِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported with his chain that the Prophet ﷺ once passed by a leaning wall and quickened his pace. When asked about it, he explained that he disliked a death that seizes unawares. > **"I dislike sudden death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انہوں نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک دیوار کے پاس سے ہوا جو گرنے والی تھی تو آپ تیزی سے چلتے ہوئے تشریف لے گئے آپ کی خدمت میں اس حوالے سے گزارش کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں اچانک موت کو ناپسند کرتا ہوں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند ضعیف ہے ۔