Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 7 · Chapter 3

Book of Funerals

Hadith 3807–3846

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3807

Majma al-Zawaid #3807

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَثَلُ الْمَرِيضِ إِذَا بَرَأَ وَصَحَّ مِنْ مَرَضِهِ كَمَثَلِ الْبُرْدَةِ تَقَعُ مِنَ السَّمَاءِ فِي صَفَائِهَا وَلَوْنِهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقِّرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ drew a parable for the sick person when he recovers and regains health after his illness, comparing him to hail descending from the sky with reference to its cleanness and colour. > **"The likeness of the sick person when he recovers and is cured of his sickness is that of hail falling from the sky in its purity and its colour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بیمار جب تندرست ہو جائے اور بیماری سے ٹھیک ہو جائے اس کی مثال اولوں کی مانند ہے ‘ جو آسمان سے گرتے ہیں ‘ ( یعنی ) اس کی صفائی اور اس کی رنگت کے حوالے سے ( اس کی مانند ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3808

Majma al-Zawaid #3808

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «لَيْسَ مِنْ عَمَلِ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُخْتَمُ عَلَيْهِ، فَإِذَا مَرِضَ الْمُؤْمِنُ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: يَا رَبَّنَا عَبْدَكَ حَبَسْتَهُ؟ فَيَقُولُ الرَّبُّ - عَزَّ وَجَلَّ -: اخْتِمُوا لَهُ عَلَى مِثْلِ عَمَلِهِ حَتَّى يَبْرَأَ أَوْ يَمُوتَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ explained that the work of every day is sealed, and described what the angels say when the believer falls ill and is confined, together with the reply of the Lord Almighty commanding the recording to continue as before until recovery or death. > **"Seal for him the like of his deeds until he recovers or dies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ روزانہ کے ہر ایک عمل پر مہر لگائی جاتی ہے جب مؤمن بیمار ہوتا ہے ‘ تو فرشتے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! تو نے اپنے بندے کو محبوس کر دیا ہے ‘ تو پروردگار فرماتا ہے : اس کے عمل پر اس کے ( گزشتہ معمول کے مطابق ) مہر لگاؤ جب تک یہ تندرست نہیں ہو جاتا یا فوت نہیں ہو جاتا “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3809

Majma al-Zawaid #3809

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ يُصَابُ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ يَحْفَظُونَهُ فَقَالَ: اكْتُبُوا لِعَبْدِي فِي كُلِّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ مَا كَانَ يَعْمَلُ مِنْ خَيْرٍ مَا كَانَ فِي وَثَاقِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ described the affliction of any person in his body, and the command Allah Almighty gives to the angels who guard him to record each day and night the good he used to perform for as long as he remains held in divine bonds. > **"Write for My servant in every day and night what he used to do of good for as long as he remains in My bonds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جب بھی کوئی شخص اپنے جسم میں آزمائش ( یعنی بیماری ) میں مبتلاء ہوتا ہے ، تو اللہ تعالٰی اس کے محافظ فرشتوں کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے : میرے بندے کے لئے روزانہ دن اور رات میں اس کے مطابق ( اجر و ثواب ) نوٹ کرو جو بھلائی کا کام یہ پہلے کیا کرتا تھا جب تک یہ میری بندش میں ( یعنی بیماری کا شکار رہتا ہے ) ۔ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3810

Majma al-Zawaid #3810

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا كَانَ عَلَى طَرِيقَةٍ حَسَنَةٍ مِنَ الْعِبَادَةِ ثُمَّ مَرِضَ قِيلَ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ بِهِ: اكْتُبْ لَهُ مِثْلَ عَمَلِهِ إِذَا كَانَ طَلِيقًا حَتَّى أُطْلِقَهُ أَوْ أُكْفِتَهُ إِلَيَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَإِسْنَادُهُ صَحِيحٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning the servant who travels upon a fine path of worship and then falls ill, and the instruction given to the angel entrusted with him to keep recording as in his days of freedom until Allah releases him or gathers him to Himself. > **"Write for him the like of his deeds when he was free, until I release him or gather him to Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب کوئی بندہ عبادت کے حوالے سے اچھے راستے پر گامزن ہوتا ہے ‘ اور پھر وہ بیمار ہو جائے ( اور سابقہ معمول کے مطابق عبادت نہ کر سکے ) تو اس پر مقرر فرشتے سے یہ کہا جاتا ہے : تم اس کے اس عمل کی مانند نوٹ کرو جب یہ آزاد تھا ( یعنی بیمار نہیں تھا ) یہاں تک کہ میں اسے آزاد کر دوں ( یعنی بیماری ختم کر دوں ) یا اسے اپنی طرف بلا لوں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند صحیح ہے ۔

3811

Majma al-Zawaid #3811

وَعَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ: «أَنَّهُ رَاحَ إِلَى مَسْجِدِ دِمَشْقَ وَهَجَّرَ الرَّوَاحَ فَلَقِيَ شَدَّادَ بْنَ أَوْسٍ [الْأَنْصَارِيَّ] وَالصَّنَايِحِيُّ مَعَهُ فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدَانِ يَرْحَمُكُمَا اللَّهُ؟ فَقَالَا: نُرِيدُ هَاهُنَا إِلَى أَخٍ لَنَا مَرِيضٍ مِنْ مِصْرَ نَعُودُهُ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا حَتَّى دَخَلَا عَلَى ذَلِكَ الرَّجُلِ فَقَالَا لَهُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟ فَقَالَ: أَصْبَحْتُ بِنِعْمَةٍ فَقَالَ لَهُ شِدَادٌ: أَبْشِرْ بِكَفَّارَاتِ السَّيِّئَاتِ وَحَطِّ الْخَطَايَا فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنًا فَحَمِدَنِي عَلَى مَا ابْتَلَيْتُهُ فَاجْرُوا لَهُ كَمَا كُنْتُمْ تُجْرُوهُ لَهُ وَهُوَ صَحِيحٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ كُلُّهُمْ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنْ رَاشِدٍ الصَّنْعَانِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ فِي غَيْرِ الشَّامِيِّينَ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Ashath al-Sanani reported that he set out early for the mosque of Damascus and met Shaddad ibn Aws al-Ansari رضي الله عنه accompanied by al-Sunabihi, and upon asking where they intended to go out of mercy upon them, they replied that they meant to visit a sick brother from Egypt, so he accompanied them until they entered upon the man. They asked him how he had risen that morning, he answered that he had risen in blessing, and Shaddad gave him glad tidings of the effacement of evils and the removal of sins, citing what he had heard from the Messenger of Allah ﷺ in the form of a divine address concerning the servant who praises Allah over his trial and the command to the angels to maintain his former record. > **"When I test a believing servant of Mine and he praises Me for what I have tested him with, then record for him as you used to record for him while he was healthy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواشعث صنعانی بیان کرتے ہیں : وہ مسجد دمشق کی طرف گئے ۔ وہ جلدی چلے گئے تھے ان کی ملاقات حضرت شداد بن اوس انصاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی صنایحی ان کے ساتھ تھے راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اللہ تعالیٰ آپ دونوں حضرات پر رحم کرے آپ کہاں جا رہے ہیں ؟ ان دونوں نے جواب دیا : ہم یہاں اپنے بھائی کی عیادت کرنے کے لئے جا رہے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : میں بھی ان دونوں کے ساتھ روانہ ہو گیا یہ دونوں صاحبان اس شخص کے پاس گئے اور اس سے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے جواب دیا : میں نے نعمت کے ہمراہ صبح کی ہے ‘ تو حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا تم گناہوں کے کفارے اور خطاؤں کے مٹائے جانے کی خوشخبری قبول کرو کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب میں اپنے کسی مؤمن بندے کو آزمائش ( یعنی بیماری ) کا شکار کرتا ہوں ‘ اور میں نے اسے جس آزمائش کا شکار کیا ہو اس کے حوالے سے وہ میری حمد بیان کرتا ہے ( تو اے فرشتو ) تم اس کے لئے اس کی مانند اجر نوٹ کرو جس طرح تم اس کے لئے اجر اس وقت نوٹ کرتے تھے ‘ جب وہ تندرست ہوتا تھا “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ ان سب حضرات نے اسے اسماعیل بن عیاش کے حوالے سے راشد صنعانی سے نقل کیا ہے ‘ اور اہل شام کے علاوہ سے روایت نقل کرنے میں یہ ضعیف ہے ۔

3812

Majma al-Zawaid #3812

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «إِذَا ابْتَلَى اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ بِبَلَاءٍ فِي جَسَدِهِ قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلْمَلَكِ: اكْتُبْ لَهُ صَالِحَ عَمَلِهِ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُهُ فَإِنْ شَفَاهُ غَسَلَهُ وَطَهَّرَهُ، وَإِنْ قَبَضَهُ غَفَرَ لَهُ وَرَحِمَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَأَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ described what Allah Almighty says to the angel when He tests the Muslim servant with an affliction in his body regarding the continued recording of his former righteous work, and the two outcomes of healing with washing and purification or seizure with forgiveness and mercy. > **"Write for him the righteous deeds he used to do; if I heal him I wash him and purify him, and if I seize him I forgive him and have mercy upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی مسلمان بندے کو اس کے جسم کے حوالے سے آزمائش ( یعنی بیماری ) میں مبتلاء کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرشتے سے یہ فرماتا ہے : تم اس کا وہ نیک عمل نوٹ کرتے رہو جو یہ پہلے کیا کرتا تھا اگر اللہ تعالی اس کو شفاء نصیب کر دے تو اسے ( گناہوں کے حوالے سے ) دھو دیتا ہے ‘ اور پاک کر دیتا ہے ‘ اور اگر اس کی روح کو قبض کر لے تو اس کی مغفرت کر دیتا ہے ‘ اور اس پر رحم کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3813

Majma al-Zawaid #3813

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَمْرَضُ إِلَّا أَمَرَ اللَّهُ حَافِظَهُ أَنَّ مَا عَمِلَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَلَا يَكْتُبُهَا وَمَا عَمِلَ مِنْ حَسَنَةٍ أَنْ يَكْتُبَهَا عَشْرَ حَسَنَاتٍ، وَأَنْ يَكْتُبَ لَهُ مِنَ الْعَمَلِ الصَّالِحِ كَمَا كَانَ يَعْمَلُ وَهُوَ صَحِيحٌ وَإِنْ لَمْ يَعْمَلْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَبِي الْمَسَاوِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ described the command Allah gives to the guardian of the servant who falls ill: that no evil he commits be recorded, that every good he performs be recorded tenfold, and that his former righteous work in health continue to be recorded for him even when he no longer performs it. > **"Whenever a servant falls ill, Allah commands his guardian that whatever evil he does, it is not to be written, and whatever good he does is to be written as ten good deeds, and that his righteous work be written for him as he used to do while healthy even if he does not perform it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو بھی بندہ بیمار ہوتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے محافظ فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ وہ ( بندہ ) جو برائی کرے وہ ( فرشتہ ) اس کو نوٹ نہ کرے ‘ وہ شخص جو اچھائی کرئے ‘ وہ فرشتہ اسے دس نیکیوں کے طور پر نوٹ کرے اور اس کے اس نیک عمل کو بھی اس کے حق میں نوٹ کرتا رہے ‘ جو وہ عمل پہلے کیا کرتا تھا جب وہ تندرست ہوتا تھا خواہ ( بیماری کے دوران ) اس نے وہ عمل نہ کیا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلیٰ بن ابومساور ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3814

Majma al-Zawaid #3814

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «عَجَبٌ لِلْمُؤْمِنِ وَجَزِعِهِ مِنَ السُّقْمِ وَلَوْ يَعْلَمُ مَا لَهُ فِي السُّقْمِ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ سَقِيمًا الدَّهْرَ ""، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكَ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ: مِمَّ رَفَعْتَ إِلَى السَّمَاءِ فَضَحِكْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" عَجِبْتُ مِنْ مَلَكَيْنِ كَانَا يَلْتَمِسَانِ عَبْدًا فِي مُصَلَّى كَانَ فِيهِ وَلَمْ يَجِدَاهُ فَرَجَعَا فَقَالَا: يَا رَبَّنَا عَبَدُكَ فُلَانٌ كُنَّا نَكْتُبُ لَهُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ عَمَلَهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ فَوَجَدْنَاهُ قَدْ حَبَسْتَهُ فِي حِبَالِكَ، قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: اكْتُبُوا لِعَبْدِي عَمَلَهُ الَّذِي كَانَ يَعْمَلُ فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ وَلَا تَنْقُصُوا مِنْهُ شَيْئًا وَعَلَيَّ أَجْرُهُ مَا حَبَسْتُهُ وَلَهُ أَجْرُ مَا كَانَ يَعْمَلُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Utbah ibn Masud رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ expressed wonder at the believer and his anguish over sickness, noting that had he known its worth he would have wished to remain ill for a lifetime. The narrator added that the Messenger of Allah ﷺ then raised his head toward the sky and laughed, and when asked why he had raised his gaze and laughed, he told of his wonder at two angels who sought a servant in the prayer place where he used to be but did not find him, returned reporting that Allah had confined him in His bonds, and received the divine command to record undiminished his former day-and-night deeds with his reward resting upon Allah for the duration of his confinement. > **"Write for My servant the deeds he used to do in his day and night, and diminish nothing thereof; upon Me is his reward for as long as I confine him, and for him is the reward of what he used to do."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مومن پر اور بیماری میں اس کی گریہ وزاری کرنے پر حیرانگی ہوتی ہے اگر اسے یہ پتہ چل جائے کہ بیماری کا کیا . اجر و ثواب اسے ملتا ہے ‘ تو وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ ہمیشہ بیمار رہے راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور ہنس پڑے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ آسمان کی طرف سر اٹھا کر ہنسے کیوں ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے دو فرشتوں پر حیرانگی ہوئی وہ دونوں ایک بندے کو جائے نماز پر تلاش کر رہے تھے جہاں وہ موجود ہوتا تھا ان دونوں فرشتوں نے اُس کو نہیں پایا ‘ تو وہ دونوں واپس گئے ان دونوں نے عرض کی : اے ہمارے پروردگار تیرے فلاں بندے کا عمل ہم روزانہ دن اور رات میں نوٹ کیا کرتے تھے جو عمل وہ پہلے کیا کرتا تھا اب ہم نے اس کو پایا ہے کہ تو نے اسے اپنی رسی میں محبوس کر دیا ہے ( یعنی بیماری کا شکار کر دیا ہے ) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم لوگ میرے بندے کے لئے اس کا وہی عمل نوٹ کرو جو وہ روزانہ دن اور رات میں عمل کیا کرتا تھا اور اس میں کوئی کمی نہ کرنا جب تک میں نے اسے محبوس رکھا ہے اس کا اجر میرے ذمہ ہے ‘ اور اس کو اس چیز کا اجر ملے گا ‘ جو وہ عمل پہلے کیا کرتا تھا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

3815

Majma al-Zawaid #3815

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُشَاكُ بِشَوْكَةٍ إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ وَكَفَّرَ عَنْهُ عَشْرَ سَيِّئَاتٍ وَرَفَعَ لَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ مُسَافِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها said that she heard the Messenger of Allah ﷺ speak concerning every Muslim pricked even by a thorn, and what Allah records for him, effaces from him, and raises for him by way of degrees. > **"There is no Muslim pricked by a thorn except that Allah writes ten good deeds for him, effaces ten evil deeds from him, and raises him ten degrees thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس بھی مسلمان کو اگر کوئی کانٹا بھی لگتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے حق میں دس نیکیاں نوٹ کرتا ہے اس کے دس گناہ ختم کر دیتا ہے ‘ اور اس کی وجہ سے اس شخص کے دس درجات بلند کرتا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی روح بن مسافر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3816

Majma al-Zawaid #3816

وَعَنْهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا ضَرَبَ عَلَى مُؤْمِنٍ عِرْقٌ قَطُّ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيئَةً وَكَتَبَ لَهُ حَسَنَةً وَرَفَعَ لَهُ دَرَجَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها said that she heard the Messenger of Allah ﷺ speak concerning the believer whenever a vein throbs upon him, and what Allah removes from him, records for him, and elevates for him thereby. > **"No vein ever throbs upon a believer except that Allah removes a sin from him, writes a good deed for him, and raises a degree for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب بھی کسی مؤمن کی رگ جوش مارتی ہے ( یعنی وہ فشار دم کی وجہ سے حرکت کرتی ہے ) تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے گناہوں کو ختم کر دیتا ہے ‘ اور اس کے لئے نیکیاں نوٹ کرتا ہے ‘ اور اس کے درجے کو بلند کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

3817

Majma al-Zawaid #3817

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ «يُؤْتَى بِالشَّهِيدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُنْصَبُ لِلْحِسَابِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْمُتَصَدِّقِ فَيُنْصَبُ لِلْحِسَابِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِأَهْلِ الْبَلَاءِ فَلَا يُنْصَبُ لَهُمْ مِيزَانٌ وَلَا يُنْصَبُ لَهُمْ دِيوَانٌ فَيُصَبُّ عَلَيْهِمُ الْأَجْرُ صَبًّا حَتَّى إِنَّ أَهْلَ الْعَافِيَةِ لِيَتَمَنَّوْنَ أَنَّ أَجْسَادَهُمْ قُرِّضَتْ بِالْمَقَارِيضِ مِنْ حُسْنِ ثَوَابِ اللَّهِ لَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُجَّاعَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ described the Day of Resurrection when the martyr is brought and set up for reckoning, then the charitable giver is brought and set up for reckoning, then the people of affliction are brought for whom neither scale nor register is set up, but reward is poured upon them in abundance, until the people of well-being wish their bodies had been clipped with scissors out of admiration for the excellent reward granted to the afflicted. > **"Then the people of affliction are brought, and neither scale is set up for them nor register; reward is poured upon them in abundance, until the people of well-being wish that their bodies had been clipped with scissors, for the excellence of Allah's reward for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن شہید کو لایا جائے گا ‘ اور حساب کے لئے پیش کیا جائے گا پھر صدقہ کرنے والے کو لایا جائے گا اسے حساب کے لئے پیش کیا جائے گا پھر آزمائش کا شکار لوگوں کو لایا جائے گا ‘ تو ان کے لئے نہ میزان نصب کیا جائے اور نہ دیوان نصب کیا جائے ان پر اجر کو انڈیل دیا جائے گا یہاں تک کہ ( دنیا میں ) عافیت والے لوگ یہ آرزو کریں گے کہ ( دنیا میں ) ان کے جسموں کو قینچیوں کے ذریعے کاٹ دیا گیا ہوتا اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اللہ تعالی نے جو عمدہ ثواب ان ( آزمائش کا شکار لوگوں کو ) عطا کیا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مجاعہ بن زبیر ہے ‘ جسے امام احمد نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور امام دارقطنی نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3818

Majma al-Zawaid #3818

وَعَنِ الْأَصْبَغِ بْنِ نُبَاتَةَ قَالَ: «دَخَلْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ إِلَى الْحَسَنِ نَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ يَا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: أَصْبَحْتُ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا قَالَ: كَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ الْحَسَنُ: اسْنِدُونِي فَأَسْنَدَهُ عَلِيٌّ إِلَى صَدْرِهِ فَقَالَ: سَمِعْتُ جَدِّي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يُقَالُ لَهَا شَجَرَةُ الْبَلْوَى يُؤْتَى بِأَهْلِ الْبَلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَا يُرْفَعُ لَهُمْ دِيوَانٌ وَلَا يُنْصَبُ لَهُمْ مِيزَانٌ يُصَبُّ عَلَيْهِمُ الْأَجْرُ صَبَّا، وَقَرَأَ: إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُمْ بِغَيْرِ حِسَابٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Al-Asbagh ibn Nubatah reported that he entered with Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه to visit al-Hasan رضي الله عنه in his illness, where Ali asked him how he had risen that morning, addressing him as son of the Messenger of Allah ﷺ. Al-Hasan answered that he had risen in praise of Allah, recovered, Ali replied that it would remain so if Allah willed, and then al-Hasan asked to be propped up, so Ali supported him against his chest. Al-Hasan then cited what he had heard from his grandfather, the Messenger of Allah ﷺ, concerning a tree in Paradise named for tribulation, the bringing of the afflicted on the Day of Resurrection with no register raised and no scale erected while reward is poured upon them, followed by the recitation of the verse on the patient. > **"In Paradise there is a tree called the Tree of Tribulation. The people of affliction are brought on the Day of Resurrection, and no register is raised for them nor scale erected; reward is poured upon them in abundance. Only the patient shall be paid their reward without reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اصبغ بن نباتہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ہمراہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے حاضر ہوا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کے صاحبزادے تمہارا کیا حال ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : الحمدللہ اب میں بہتر ہوں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا ، پھر حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ لوگ مجھے سہارا دیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں اپنے سینے کے ساتھ لگایا ‘ تو حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے اپنے نانا اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک جنت میں ایک درخت ہے ‘ جسے آزمائش کا درخت کہا جاتا ہے قیامت کے دن آزمائش کا شکار لوگوں کو لایا جائے گا ‘ تو ان کے لئے دیوان بلند نہیں کیا جائے گا ان کے لئے میزان کو نصب نہیں کیا جائے گا ‘ اور ان پر اجر کو بہا دیا جائے گا پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر کسی حساب کے بغیر دیا جائے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

3819

Majma al-Zawaid #3819

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «يَوَدُّ أَهْلُ الْبَلَاءِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يُعَايِنُونَ الثَّوَابَ لَوْ أَنَّ جُلُودَهُمْ كَانَتْ تُقْرَضُ بِالْمَقَارِيضِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه stated, as a report of his own, that on the Day of Resurrection the people of affliction, when they witness the reward with their own eyes, will wish that their skins had been clipped with scissors in the world for the sake of what they then behold.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قیامت کے دن آزمائش کا شکار لوگ جب ثواب کو دیکھیں گے تو وہ یہ خواہش کریں گے کہ کاش ان کی کھالیں قینچیوں کے ذریعے کاٹ دی گئی ہوتیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

3820

Majma al-Zawaid #3820

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ قَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْكَ وَسَلَّمَ - مَا جَزَاءُ الْحُمَّى؟ قَالَ: "" تُجْرَى الْحَسَنَاتُ عَلَى صَاحِبِهَا مَا اخْتَلَجَ عَلَيْهِ قَدَمٌ أَوْ ضَرَبَ عَلَيْهِ عِرْقٌ "" قَالَ أُبَيٌّ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكُ حُمَّى لَا تَمْنَعُنِي خُرُوجًا فِي سَبِيلِكَ وَلَا خُرُوجًا إِلَى بَيْتِكَ وَلَا مَسْجِدِ نَبِيِّكَ، قَالَ: فَلَمْ يُمْسِ إِلَيَّ قَطُّ إِلَّا وَبِهِ حُمَّى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاذِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ وَهُمَا مَجْهُولَانِ كَمَا قَالَ ابْنُ مَعِينٍ، قُلْتُ: ذَكَرَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ قَبْلَ هَذَا بِبَابَيْنِ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaab رضي الله عنه asked the Messenger of Allah ﷺ, upon him be peace, what the recompense of fever is, and received an answer linking the flow of good deeds to the stumbling of the foot and the throbbing of the vein. Ubayy then supplicated for a fever that would not hinder his going forth in Allah's path, nor his going forth to His House, nor to the mosque of His Prophet, and the narrator added that no evening came upon him thereafter except that fever was upon him. > **"Good deeds flow for its bearer for as long as a foot stumbles upon him or a vein throbs upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بخار کی جزا کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ اپنے متعلقہ فرد کی نیکیوں کو جاری رکھتا ہے ، جب تک اس کا قدم لڑکھڑاتا ہے ‘ یا جب تک اس کی رگ اس پر جوش مارتی ہے حضرت ابی نے عرض کی : اے اللہ ! میں تجھ سے ایسے بخار کا سوال کرتا ہوں جو مجھے تیری راہ میں ( جہاد کے لئے ) نکلنے یا تیرے گھر کی طرف نکلنے یا تیری مسجد کی طرف جانے سے نہ روکے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو شام ہونے سے پہلے انہیں بخار ہو گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں محمد بن معاذ بن ابی بن کعب کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ۔ یہ دونوں راوی مجہول ہیں جیسا کہ یحیی بن معین نے یہ بات بیان کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے ان دونوں کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ‘ اس سے دو باب پہلے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث گزر چکی ہے ( جس میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے واقعہ کا تذکرہ ہے ) ۔

3821

Majma al-Zawaid #3821

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْحُمَّى كِيرٌ مِنْ جَهَنَّمَ فَمَا أَصَابَ الْمُؤْمِنَ مِنْهَا كَانَ حَظَّهُ مِنْ جَهَنَّمَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو حَصِينٍ الْفِلَسْطِينِيُّ وَلَمْ أَرَ لَهُ رَاوِيًا غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ described fever as a furnace belonging to Hell, and explained that whatever portion of it befalls the believer constitutes his share thereof. > **"Fever is a furnace from Hell; whatever of it befalls the believer is his share of Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ بخار جہنم کی ایک بھٹی ( یا تپش ) ہے ‘ تو جس مؤمن کو اس میں سے جو چیز لاحق ہوتی ہے وہ جہنم میں سے اس مؤمن کا حصہ ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوحصین فلسطینی ہے محمد بن مطرف کے علاوہ میں نے کسی اور کو اس سے روایت نقل کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

3822

Majma al-Zawaid #3822

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «اسْتَأْذَنَتِ الْحُمَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" مَنْ هَذِهِ؟ "" قَالَتْ: أُمُّ مِلْدَمٍ فَأَمَرَ بِهَا إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ فَلَقُوا مِنْهَا مَا يَعْلَمُ اللَّهُ فَأَتَوْهُ فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ: "" مَا شِئْتُمْ؟ إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ أَنْ تَكُونَ لَكُمْ طَهُورًا؟ "" قَالُوا: وَتَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "" قَالُوا: فَدَعْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that fever sought permission to enter upon the Messenger of Allah ﷺ, who asked who she was, and she answered that she was Umm Mildam. He then ordered her toward the people of Quba, who suffered from her what Allah knows, until they came to him complaining of it. He offered them a choice between his supplicating Allah to remove it from them or its remaining as a means of purification, and when they asked whether he would truly do so and he confirmed it, they chose that she be left. > **"If you wish, I supplicate Allah and He removes it from you; and if you wish, it remains for you as a purification."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بخار نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کون ہو اس نے عرض کی : ام ملدم ‘ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ وہ اہل قباء کی طرف چلا جائے تو جو اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا ان لوگوں کو بخار کے حوالے سے سامنا کرنا پڑا پھر وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے سامنے بخار کی شکایت کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم کیا چاہتے ہو اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں وہ اس کو تم سے دور کر دے گا ‘ اور اگر تم چاہو تو یہ تمہارے لئے طہارت کے حصول ( یعنی گناہوں سے پاک ہونے ) کا باعث بن جائے گا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ایسا کر لیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ ان لوگوں نے عرض کی : پھر آپ اسے رہنے دیں ( تاکہ یہ ہمارے گناہوں کا کفارہ بن جائے ) “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3823

Majma al-Zawaid #3823

وَعَنْ أُمِّ طَارِقٍ مَوْلَاةِ سَعْدٍ قَالَتْ: «جَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى سَعْدٍ فَاسْتَأْذَنَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ فَسَكَتَ سَعْدٌ ثُمَّ أَعَادَ فَسَكَتَ سَعْدٌ فَانْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: فَأَرْسَلَنِي إِلَيْهِ سَعْدٌ أَنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنَا أَنْ نَأْذَنَ لَكَ إِلَّا أَنَّا أَرَدْنَا أَنْ تَزِيدَنَا قَالَتْ: فَسَمِعْتُ صَوْتًا عَلَى الْبَابِ يَسْتَأْذِنُ وَلَا أَرَى شَيْئًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ أَنْتِ؟ "" قَالَتْ: "" أُمُّ مِلْدَمٍ "" قَالَ: "" لَا مَرْحَبًا وَلَا أَهْلًا أَتَذْهَبِينَ إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ "" قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: "" فَاذْهَبِي إِلَيْهِمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Tariq, the freedwoman of Saad رضي الله عنها, reported that the Prophet ﷺ came to Saad and sought permission, but Saad remained silent, then sought permission again and Saad remained silent, then repeated it and Saad remained silent, so the Prophet ﷺ turned away. Saad then sent her to him to explain that nothing had prevented them from granting permission except their desire that he increase them in greeting. She then heard a voice at the door seeking permission though she saw nothing, and the Prophet ﷺ asked who she was. She answered that she was Umm Mildam, he gave her no welcome and asked whether she would go to the people of Quba, she agreed, and he commanded her to proceed to them. > **"No welcome and no greeting. Will you go to the people of Quba? Then go to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی کنیز ام طارق بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے آپ نے اندر آنے کی اجازت طلب کی حضرت سعد رضی اللہ عنہ خاموش رہے آپ نے پھر آنے کی اجازت طلب کی حضرت سعد رضی اللہ عنہ پھر خاموش رہے نبی اکرم ﷺ نے دوبارہ اجازت طلب کی حضرت سعد رضی اللہ عنہ پھر خاموش رہے نبی اکرم ﷺ واپس مڑ گئے ام طارق بیان کرتی ہیں : حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے مجھے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا تاکہ یہ عرض کروں کہ ہم نے آپ اجازت اس لئے پیش نہیں کی تھی کہ ہم یہ چاہتے تھے کہ آپ ہمیں مزید عطا کرتے رہیں ( یعنی زیادہ السلام علیکم کہتے رہیں ) ام طارق بیان کرتی ہیں : میں نے دروازے پر کسی کی آواز سنی جو اندر آنے کی اجازت مانگ رہا تھا ، لیکن مجھے کوئی چیز نظر نہیں آئی نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کون ؟ اس نے عرض کی : ام ملد ( یعنی بخار ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں نہ خوش آمدید ہے ‘ اور نہ اہلا و سہلا ہے کیا تم اہل قباء کی طرف چلے جاؤ گے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تم ان کی طرف چلے جاؤ ‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3824

Majma al-Zawaid #3824

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «اسْتَأْذَنَتِ الْحُمَّى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهَا: "" مَنْ أَنْتِ؟ "" فَقَالَتْ: أَنَا الْحُمَّى أَبْرِي اللَّحْمَ وَأَمُصُّ الدَّمَ قَالَ: "" اذْهَبِي إِلَى أَهْلِ قُبَاءٍ "" فَأَتَتْهُمْ فَجَاءُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدِ اصْفَرَّتْ وُجُوهُهُمْ فَشَكَوُا الْحُمَّى إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا شِئْتُمْ؟ إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ فَدَفَعَهَا عَنْكُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُمُوهَا وَأَسْقَطَتْ بَقِيَّةَ ذُنُوبِكُمْ؟ "" قَالُوا: بَلَى فَدَعْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ لَاحِقٍ وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Salman رضي الله عنه reported that fever sought permission to enter upon the Messenger of Allah ﷺ, who asked who she was, and she answered that she was fever which wears away flesh and sucks blood. He commanded her to proceed to the people of Quba, she went to them, and they came to the Messenger of Allah ﷺ with their faces yellowed, complaining of the fever. He offered them the choice of his supplicating Allah to repel it or leaving it so that it would efface their remaining sins, and they chose that it be left, addressing him as Messenger of Allah. > **"If you wish, I supplicate Allah and He repels it from you; and if you wish, you leave it and it effaces your remaining sins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بخار نے نبی اکرم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں بخار ہوں ، میں گوشت کو کم ( یا کمزور ) کر دیتا ہوں اور خون کو چوس لیتا ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اہل قباء کی طرف چلے جاؤ وہ بخار ان لوگوں کے پاس چلا گیا وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کے چہرے زرد ہو چکے تھے ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بخار کی شکایت کی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو تم چاہو ( ویسا ہو گا ) اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں وہ اس کو تم سے دور کر دے گا ‘ اور اگر تم چاہو تو تم اسے رہنے دو یہ تمہارے بقایا گناہوں کو ختم کر دے گا ‘ تو لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! آپ اسے رہنے دیں یا رسول اللہ !‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن لاحق ہے ‘ جسے امام نسائی نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ جبکہ امام احمد اور امام ابن حبان نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3825

Majma al-Zawaid #3825

وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْحُمَّى حَظُّ كُلِّ مُؤْمِنٍ مِنَ النَّارِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ described fever as the portion of every believer drawn from the Fire. > **"Fever is the share of every believer from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں :’’ بخار ‘‘ جہنم میں سے ہر مومن کا حصہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

3826

Majma al-Zawaid #3826

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «فَقَدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا كَانَ يُجَالِسُهُ فَقَالَ: "" مَا لِي فَقَدْتُ فُلَانًا؟ "" فَقَالُوا: اعْتَبَطَ - وَكَانُوا يُسَمُّونَ الْوَعْكَ الِاعْتِبَاطَ - فَقَالَ: "" قُومُوا حَتَّى نَعُودَهُ ""، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ بَكَى الْغُلَامُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَبْكِ فَإِنَّ جِبْرِيلَ أَخْبَرَنِي أَنَّ الْحُمَّى حَظُّ أُمَّتِي مِنْ جَهَنَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رَاشِدٍ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ.

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ missed a man who used to keep his company and asked why he no longer saw him, whereupon those present said he had been seized suddenly, using the term sudden seizure for feverish ailment. The Prophet ﷺ commanded them to rise and visit him, and when he entered upon him the youth wept, so the Prophet ﷺ forbade him to weep and conveyed what Jibril had told him concerning fever as the share of his nation drawn from Hell. > **"Do not weep, for Jibril informed me that fever is the share of my nation from Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے ایک ایسے شخص کو غیر موجود پایا جو آپ کی خدمت میں حاضر رہتا تھا آپ نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے میں فلاں شخص کو غیر موجود پا رہا ہوں ؟ لوگوں نے عرض کی : اسے بخار ہو گیا ہے ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) وہ لوگ لفظ بخار کے لئے لفظ اعتباط استعمال کرتے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اٹھو تاکہ ہم لوگ اس کی عیادت کر آئیں جب نبی اکرم ﷺ اس شخص کے پاس تشریف لائے ‘ تو وہ لڑکا رونے لگا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نہ روؤ ! کیونکہ جبرائیل نے مجھے بتایا ہے : بخار جہنم میں سے میری امت کا حصہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن راشد ہے ‘ جسے امام احمد نے اور دیگر حضرات نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ‘ جبکہ عجلی نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3827

Majma al-Zawaid #3827

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْحُمَّى حَظُّ أُمَّتِي مِنْ جَهَنَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مَيْمُونَ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ وَقَالَ الْفَلَّاسُ: صَدُوقٌ كَثِيرُ الْخَطَأِ وَالْوَهْمِ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ described fever as the portion of his nation drawn from Hell. > **"Fever is the share of my nation from Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بخار جہنم میں سے میری امت کا حصہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن میمون ہے ‘ جسے امام احمد اور ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے فلاس فرماتے ہیں یہ صدوق ہے ‘ اور بکثرت غلطی کرتا ہے ‘ اور بکثرت وہم کا شکار ہوتا ہے یہ متروک الحدیث ہے ۔

3828

Majma al-Zawaid #3828

وَعَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْحُمَّى مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ وَهِيَ نَصِيبُ الْمُؤْمِنِ مِنَ النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَوَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Rayhanah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ described fever as arising from the fierce heat of Hell and as the portion of the believer drawn from the Fire. > **"Fever is from the blast of Hell, and it is the share of the believer from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بخار جہنم کی تپش کا حصہ ہے ‘ اور یہ جہنم میں سے مؤمن کا حصہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک جماعت نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3829

Majma al-Zawaid #3829

وَعَنْ شِيثِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُمُّ مِلْدَمٍ تَأْكُلُ اللَّحْمَ وَتَشْرَبُ الدَّمَ بَرْدُهَا وَحَرُّهَا مِنْ جَهَنَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Shith ibn Saad رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ described Umm Mildam as consuming flesh and drinking blood, and explained that its cold and its heat belong to Hell. > **"Umm Mildam eats flesh and drinks blood; its cold and its heat are from Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شیث بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بخار گوشت کو کھا جاتا ہے ‘ اور خون کو پی جاتا ہے اس کی ٹھنڈک اور گرمی جہنم کا حصہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

3830

Majma al-Zawaid #3830

وَعَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ عَمَّتِهِ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُمُّ مِلْدَمٍ تُخْرِجُ خَبَثَ ابْنِ آدَمَ كَمَا يُخْرِجُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abd Rabbihi ibn Saeed ibn Qays reported from his paternal aunt that the Messenger of Allah ﷺ described what Umm Mildam removes from the son of Adam, likening it to what the furnace removes from iron. > **"Umm Mildam expels the filth of the son of Adam just as the furnace expels the dross of iron."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدربہ بن سعید بن قیس ‘ اپنی پھوپھی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بخار انسان کی خرابیوں کو یوں نکال دیتا ہے ، جس طرح بھٹی لوہے کے میل ( یعنی زنگ ) کو نکال دیتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3831

Majma al-Zawaid #3831

وَعَنْ فَاطِمَةَ الْخُزَاعِيَّةِ قَالَتْ: «عَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ وَهِيَ وَجِعَةٌ فَقَالَ لَهَا: "" كَيْفَ تَجِدِينَكِ؟ "" قَالَتْ: بِخَيْرٍ إِلَّا أَنَّ أُمُّ مِلْدَمٍ قَدْ بَرِحَتْ بِي [يَعْنِي: الْحُمَّى]، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اصْبِرِي فَإِنَّهَا تُذْهِبُ خَبَثَ ابْنِ آدَمَ كَمَا يُذْهِبُ الْكِيرُ خَبَثَ الْحَدِيدِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْحُمَّى فِي الطِّبِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Fatimah al-Khuzaiyyah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ visited a sick woman of the Ansar and asked her how she found herself. She answered that she was well except that Umm Mildam, meaning fever, had settled heavily upon her, whereupon the Prophet ﷺ commanded her to be patient and explained what fever eliminates from man by the parable of the furnace and iron. > **"Be patient, for it removes the filth of the son of Adam just as the furnace removes the dross of iron."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ خزاعیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک خاتون کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لے گئے جس کا تعلق انصار سے تھا وہ خاتون بیمار تھی نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : تم کیا صورت حال پا رہی ہو ؟ اس نے عرض کی : ٹھیک ہوں ، لیکن مجھے مسلسل بخار رہ رہا ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم صبر سے کام لو ! کیونکہ یہ ( یعنی بخار ) انسان کے میل کو یوں ختم کر دیتا ہے ‘ جس طرح بھٹی لوہے کے میں ( یعنی زنگ ) کو ختم کر دیتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : بخار کے بارے میں مزید احادیث طب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

3832

Majma al-Zawaid #3832

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: «قَالَ نُعَيْمَانُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ بِي وَعْكٌ شَدِيدٌ مِنَ الْحُمَّى!! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَأَيْنَ أَنْتَ يَا نُعَيْمَانُ مِنْ مَهِيعَةَ "" وَكَانَتْ أَرْضَ وَبِيئَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Rafi ibn Khadij رضي الله عنه reported that Nuayman said, addressing the Messenger of Allah ﷺ, that he suffered a severe feverish ailment, whereupon the Messenger of Allah ﷺ answered him with a question concerning his distance from Mahyaah, which the narrator identified as a pestilential land. > **"And where are you, O Nuayman, from Mahyaah?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت نعیمان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے شدید بخار ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے نعیمان ! تم مہیعہ سے کہاں ہو ؟ راوی کہتے ہیں : وہ ایک وبائی سرزمین تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

3833

Majma al-Zawaid #3833

عَنْ شُرَحْبِيلَ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَهُ أَعْرَابِيٌّ طَوِيلُ يَنْتَفِضُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ شَيْخٌ كَبِيرٌ بِهِ حُمَّى تَفُورُ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" شَيْخٌ كَبِيرٌ بِهِ حُمَّى تَفُورُ هِيَ لَهُ كَفَارَّةٌ وَطَهُورٌ "" فَأَعَادَهَا [وَأَعَادَهَا عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعَادَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَوْ أَرْبَعَةً] فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَّا إِذَا أَبَيْتَ فَهُوَ كَمَا تَقُولُ وَمَا قَضَى اللَّهُ فَهُوَ كَائِنٌ "" قَالَ: فَمَا أَمْسَى مِنَ الْغَدِ إِلَّا مَيِّتًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Shurahbil رضي الله عنه reported that they were with the Prophet ﷺ when a tall Bedouin came trembling and spoke of an aged elder seized by a boiling fever that would deliver him to the graves. The Messenger of Allah ﷺ answered him with words of expiation and purification, the man repeated his gloomy utterance and the Prophet ﷺ repeated his own answer three or four times, and then the Prophet ﷺ warned him that since he refused, the matter would be as he insisted and whatever Allah decreed would come to pass. The narrator added that the man did not survive past the evening of the following day but died. > **"An aged elder with a boiling fever; it is for him an expiation and a purification. But since you refuse, it shall be as you say, and whatever Allah decrees shall come to pass."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شرحبیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے اسی دوران ایک دیہاتی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جو کافی عرصے سے کپکپا رہا تھا ( یعنی بخار میں مبتلا تھا ) اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک بوڑھا عمر رسیدہ شخص ہے ‘ جسے بخار ہے ‘ جو جوش مار رہا ہے ‘ اور وہ اسے قبر تک پہنچا کے دم لے گا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ایک بوڑھے اور عمر رسیدہ شخص ہو جسے بخار ہے ‘ جو جوش مار رہا ہے ‘ اور یہ بخار اس کے لئے کفارے اور طہارت کے حصول کا باعث بنے گا اس شخص نے اپنی بات دہرائی تو نبی اکرم ﷺ نے بھی اپنی بات اس کے سامنے دہرا دی یہ مکالمہ تین مرتبہ یا شاید چار مرتبہ ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم نہیں مان رہے ‘ تو یہ ویسا ہی ہو گا جیسے تم کہہ رہے ہو ‘ اور اللہ تعالیٰ نے جو فیصلہ دیا ہے وہ ہو کے رہے گا ۔ راوی کہتے ہیں : اگلے دن شام سے پہلے وہ شخص مر گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

3834

Majma al-Zawaid #3834

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَتِ امْرَأَةٌ بِهَا لَمَمٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ لِي فَقَالَ: "" إِنْ شِئْتِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكِ، وَإِنْ شِئْتِ صَبَرْتِ وَلَا حِسَابَ عَلَيْكِ؟ ""، قَالَتْ: بَلَى أَصْبِرُ وَلَا حِسَابَ عَلَيَّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that a woman afflicted with lamam came to the Prophet ﷺ and asked him to supplicate for her, whereupon he offered her a choice between his supplicating Allah to heal her or her enduring with patience so that no reckoning would fall upon her, and she chose endurance without reckoning. > **"If you wish, I supplicate Allah and He heals you; and if you wish, you are patient and there is no reckoning upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون جسے جنون ( یا مرگی ) کی شکایت تھی ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے دعا کیجئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیتا ہوں اور وہ تمہیں شفاء نصیب کر دے گا ‘ اور اگر تم چاہو ‘ تو صبر سے کام لو تو تمہیں حساب نہیں دینا ہو گا ، تو اس خاتون نے عرض کی : ٹھیک ہے ‘ میں صبر سے کام لیتی ہوں تاکہ مجھے حساب نہ دینا پڑے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

3835

Majma al-Zawaid #3835

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ فَجَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا الْخَبِيثَ غَلَبَنِي فَقَالَ لَهَا: "" إِنْ تَصْبِرِي عَلَى مَا أَنْتِ عَلَيْهِ تَجِيئِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَيْسَ عَلَيْكِ ذَنْبٌ وَلَا حِسَابَ ""، قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لِأَصْبِرَنَّ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ، قَالَتْ: إِنِّي أَخَافُ الْخَبِيثَ أَنْ يَحْرِدَنِي، فَدَعَا لَهَا فَكَانَتْ إِذَا أَحَسَّتْ أَنْ يَأْتِيَهَا تَأْتِي أَسْتَارَ الْكَعْبَةِ تَتَعَلَّقُ بِهَا فَتَقُولُ: اخْسَأْ فَيَذْهَبُ عَنْهَا». قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا، وَفِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ هَذَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ فَرْقَدٌ السَّبِخِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that while the Prophet ﷺ was in Makkah, a woman of the Ansar came to him complaining that the malignant affliction had overcome her. He promised her that patient endurance in her present state would bring her on the Day of Resurrection with neither sin nor reckoning, she swore by Him who sent him with the truth that she would endure until meeting Allah, then confessed her fear that the affliction would expose her by stripping her. He supplicated for her, and thereafter whenever she sensed its approach she would come to the curtains of the Kaaba, cling to them, and command it to be gone, whereupon it would depart from her. > **"If you are patient upon what afflicts you, you shall come on the Day of Resurrection with neither sin upon you nor reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مکہ میں موجود تھے انصار سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس خبیث بیماری نے مجھ پر غلبہ پا لیا ہے نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا تم جس صورت حال کا شکار ہو اگر تم اس پر صبر سے کام لو تو جب تم قیامت کے دن آؤ گی ‘ تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ‘ اور تمہیں کوئی حساب نہیں دینا ہو گا اس خاتون نے عرض کی : اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے تک صبر سے کام لوں گی پھر اس خاتون نے عرض کی : اس خبیث بیماری کے حوالے سے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ مجھے بے پردہ کر دے گی نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کے لئے دعا کر دی ، اس خاتون کو جب بھی یہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ بیماری اس پر حملہ آور ہونے لگی ہے ‘ تو وہ کعبہ کے پاس آ کر اس کے پردے سے لپٹ جاتی تھی ، اور اس ( بیماری ) سے یہ کہتی تھی : دفعان ہو جاؤ ‘ تو وہ بیماری اس سے دور ہو جاتی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں بھی مذکور ہے ‘ لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فرقد سخجی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3836

Majma al-Zawaid #3836

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعُودُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَهُوَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَقَالَ لَهُ: "" يَا زَيْدُ لَوْ كَانَ بَصَرُكَ لَمَا بِهِ [كَيْفَ كُنْتَ تَصْنَعُ؟ قَالَ: إِذًا أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ. قَالَ: إِنْ كَانَ بَصَرُكَ لَمَا بِهِ، ثُمَّ] صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ لَتَلْقَيَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيْسَ عَلَيْكَ ذَنْبٌ». قُلْتُ: لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ الْجُعْفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الثَّوْرِيُّ وَشُعْبَةُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that he entered with the Prophet ﷺ to visit Zayd ibn Arqam رضي الله عنه while he complained of his eyes, whereupon the Prophet ﷺ asked him what he would do were his sight taken, he answered that he would then be patient and seek reward, and the Prophet ﷺ promised him the state in which he would meet Allah Almighty if his sight were taken and he endured with expectation of reward. > **"If your sight were taken and then you were patient and sought reward, you would surely meet Allah Almighty with no sin upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے داخل ہوا ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے زید اگر تمہاری بینائی رخصت ہو جائے ‘ تو پھر تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے عرض کی : ایسی صورت میں ، میں صبر سے کام لوں گا ‘ اور ثواب کی امید رکھوں گا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تمہاری بینائی رخصت ہو جائے اور تم صبر سے کام لو اور ثواب کی امید رکھو ‘ تو جب تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گے ‘ تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہو گا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ایک حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ‘ جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفی ہے ‘ جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ثوری اور شعبہ نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3837

Majma al-Zawaid #3837

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: يَا ابْنَ آدَمَ إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْكَ فَصَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى لَمْ أَرْضَ لَكَ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ conveyed a divine address to the son of Adam concerning the seizure of his two precious faculties, patience and expectation of reward at the first shock, and the reward with which Allah is then pleased for him, falling short of nothing but Paradise. > **"O son of Adam, if I take your two precious ones and you are patient and seek reward at the first shock, I am not pleased with any reward for you less than Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے انسان ! جب میں تمہاری دو محبوب چیزیں ( یعنی دونوں آنکھوں کی بینائی ) لے لوں اور تم پہلے صدمے کے وقت صبر سے کام لو اور ثواب کی امید رکھو تو میں تمہارے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوؤں گا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3838

Majma al-Zawaid #3838

وَعَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ قُدَامَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «عَزِيزٌ عَلَى اللَّهِ أَنْ يَأْخُذَ كَرِيمَتَيْ مُؤْمِنٍ ثُمَّ يُدْخِلُهُ النَّارَ» قَالَ يُونُسٌ: يَعْنِي عَيْنَيْهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ الْحَاطِبِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Aisha bint Qudamah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ described it as unbefitting the majesty of Allah to take the two precious faculties of a believer and then admit him into the Fire. Yunus, one of the transmitters, explained that the two precious ones meant his two eyes. > **"It is grave before Allah to take the two precious ones of a believer and then admit him into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ بنت قدامہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی ذات اس سے بلند و برتر ہے کہ وہ کسی مؤمن کی دو محبوب چیزوں کو لے اور پھر اسے جہنم میں داخل کرے “ یونس کہتے ہیں : اس سے مراد اس کی دونوں آنکھیں ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان حاطبی ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ‘ اور ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

3839

Majma al-Zawaid #3839

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَقُولُ اللَّهُ: إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْ عَبْدِي فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ conveyed a divine address concerning the seizure of the two precious faculties of His servant, the servant's patience and expectation of reward, and the reward with which Allah is then pleased for him, falling short of nothing but Paradise. > **"When I take the two precious ones of My servant and he is patient and seeks reward, I am not pleased with any reward for him less than Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب میں اپنے کسی بندے کی دونوں آنکھوں کی بینائی لے لوں اور وہ صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے تو میں اس کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوتا “۔ یہ روایت ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔

3840

Majma al-Zawaid #3840

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَنْ يُبْتَلَى عَبْدٌ بِشَيْءٍ أَشَدَّ عَلَيْهِ مِنَ الشِّرْكِ بِاللَّهِ، وَلَنْ يُبْتَلَى عَبْدٌ بِشَيْءٍ أَشَدَّ مِنْ ذَهَابِ بَصَرِهِ، وَلَنْ يُبْتَلَى عَبْدٌ بِذَهَابِ بَصَرِهِ فَيَصْبِرُ إِلَّا غُفِرَ لَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ described the severest trials of the servant, placing association with Allah at their head, then the departure of sight as the severest of the remainder, and promised forgiveness for the one tested with the loss of sight who endures with patience. > **"No servant is ever tested with anything harder upon him than association with Allah, nor is a servant tested with anything harder than the departure of his sight; and no servant is tested with the departure of his sight and is patient except that he is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بندے کو کسی بھی ایسی آزمائش کا شکار نہیں کیا جاتا جو اس کے لئے کسی کو اللہ کا شریک قرار دینے سے زیادہ سخت ہو ‘ اور بندے کو کسی بھی ایسی چیز کے ہمراہ آزمائش کا شکار نہیں کیا جاتا جو بینائی کے رخصت ہونے سے زیادہ سخت ہو ‘ اور جب بھی کسی بندے کو بینائی کی رخصتی کی آزمائش کا شکار کیا جائے اور وہ شخص صبر سے کام لے تو اس کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

3841

Majma al-Zawaid #3841

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا ابْتُلِيَ عَبْدٌ بَعْدَ ذَهَابِ دِينِهِ بِأَشَدَّ مِنْ بَصَرِهِ، وَمَنِ ابْتُلِيَ بِبَصَرِهِ فَصَبَرَ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ لَقِيَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى وَلَا حِسَابَ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ described the severest trial befalling the servant after the loss of his religion, and promised the one tested in his sight who remains patient until meeting Allah the state in which he shall meet Him, free of reckoning. > **"No servant is tested after the loss of his religion with anything harder than his sight; and whoever is tested with his sight and is patient until he meets Allah shall meet Allah the Blessed and Exalted with no reckoning upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ دین کے رخصت ہو جانے کے بعد بندے کو ایسی کسی آزمائش کا شکار نہیں کیا گیا جو بینائی کی رخصتی سے زیادہ شدید ہو جس شخص کو بینائی کے حوالے سے آزمائش کا شکار کیا جائے اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے ( یعنی فوت ہونے ) تک صبر سے کام لے ‘ تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ‘ تو اسے کوئی حساب نہیں دینا ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

3842

Majma al-Zawaid #3842

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيمَا يَرْوِيهِ: «إِذَا أَخَذْتُ مِنْ عَبْدَيْ كَرِيمَتَيْهِ وَهُوَ بِهِمَا ضَنِينٌ لَمْ أَرْضَ لَهُ ثَوَابًا دُونَ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Irbad ibn Sariyah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ conveyed, in what he narrates from his Lord, the divine address concerning the seizure of the two precious faculties from His servant while he cherishes them, and the reward with which Allah is then pleased for him, falling short of nothing but Paradise. > **"When I take from My servant his two precious ones while he cherishes them, I am not pleased with any reward for him less than Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : جو آپ ﷺ ( اپنے پروردگار سے ) روایت کرتے ہیں ( کہ پروردگار نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ” جب میں اپنے کسی بندے کی دونوں آنکھوں کی بینائی لے لوں ‘ اور وہ اس ( بینائی ) کی خواہش رکھتا ہو تو میں اس بندے کے لئے جنت سے کم ثواب پر راضی نہیں ہوؤں گا “۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3843

Majma al-Zawaid #3843

وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «قَالَ اللَّهُ: مَنْ سَلَبْتُ كَرِيمَتَيْهِ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُصَيْنُ بْنُ عُمَرَ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ.

EnglishUnverified translation

Jarir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ conveyed the divine address concerning the one deprived of his two precious faculties and the compensation granted in their place. > **"Whose two precious ones I take away, I compensate him with Paradise in their place."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جس کی دونوں آنکھوں کی بینائی میں سلب کر لوں تو ان دونوں کے عوض میں ، میں اسے جنت دوں گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حصین بن عمر ہے ‘ جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور عجلی نے اسے ” ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3844

Majma al-Zawaid #3844

وَعَنْ أُنَيْسَةَ بِنْتِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنْ أَبِيهَا «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ يَعُودُهُ مِنْ مَرَضٍ كَانَ بِهِ فَقَالَ: "" لَيْسَ عَلَيْكَ مِنْ مَرَضِكَ هَذَا بَأْسٌ، وَلَكِنْ كَيْفَ بِكَ إِذَا عُمِّرْتَ بَعْدِي فَعَمِيتَ؟ "" قَالَ: إِذَا أَصْبِرُ وَأَحْتَسِبُ قَالَ: "" إِذَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ» قَالَ: فَعَمِيَ بَعْدَمَا مَاتَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ رَدَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَيْهِ بَصَرَهُ ثُمَّ مَاتَ - رَحِمَهُ اللَّهُ -. قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ طَرَفًا مِنْهُ فِي عِيَادَتِهِ فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَنُبَاتَةُ بِنْتُ بَرِيرِ بْنِ حَمَّادٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهَا.

EnglishUnverified translation

Unaysah bint Zayd ibn Arqam reported from her father رضي الله عنه that the Prophet ﷺ entered upon Zayd ibn Arqam to visit him in an illness he suffered, assured him there was no harm upon him from that illness, then asked him of his condition when granted long life after him and struck with blindness. Zayd answered that he would then be patient and seek reward, the Prophet ﷺ promised him entry into Paradise without reckoning in that event, and the narrator added that he did go blind after the death of the Prophet ﷺ, then Allah Almighty restored his sight to him, and thereafter he died, may Allah have mercy upon him. > **"Then you shall enter Paradise without reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انیسہ بنت زید بن ارقم اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے آپ ان کی بیماری کے دوران ان کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہاری بیماری کے حوالے سے تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، لیکن اس وقت تمہارا کیا بنے گا کہ جب تمہیں میرے بعد مزید عمر نصیب ہو گی ‘ اور تم نابینا ہو جاؤ گے انہوں نے عرض کی : پھر میں صبر سے کام لوں گا ‘ اور ثواب کی امید رکھوں گا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسی صورت میں تم کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے وصال کے بعد حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بینائی لوٹا دی تھی پھر ان کا انتقال ہوا تھا اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ‘ جو ان کی عیادت کرنے کے بارے میں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ نباتہ بنت بریر بن حماد کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔

3845

Majma al-Zawaid #3845

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَذْهَبَ اللَّهُ بَصَرَهُ فَصَبَرَ وَاحْتَسَبَ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ وَاجِبًا أَنْ لَا تَرَى عَيْنَاهُ النَّارَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ وَهْبُ بْنُ حَفْصٍ الْحَوَانِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning the one whose sight Allah removes and who endures with patience and expectation of reward, and the binding right thereby established upon Allah regarding his eyes and the Fire. > **"Whose sight Allah removes and he is patient and seeks reward, it is a binding right upon Allah that his two eyes shall never see the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ جس شخص کی بینائی رخصت کر دے اور وہ شخص صبر سے کام لے اور ثواب کی امید رکھے تو اللہ تعالی کے ذمہ یہ بات لازم ہو گی کہ اس کی آنکھیں آگ ( یا جہنم ) کو نہ دیکھیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وہب بن حفص حوانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3846

Majma al-Zawaid #3846

وَعَنْ أَبِي ظِلَالٍ الْقَسْمَلِيِّ «أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ لَهُ: يَا أَبَا ظِلَالٍ مَتَّى أُصِيبَ بَصَرُكَ؟ قَالَ: لَا أَعْقِلُهُ قَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا حَدَّثَنَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جِبْرَائِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى؟ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ قَالَ: يَا جِبْرَائِيلُ مَا ثَوَابُ عَبْدِي إِذَا أَخَذْتُ كَرِيمَتَيْهِ إِلَّا النَّظَرُ إِلَى وَجْهِي وَالْجِوَارُ فِي دَارِي؟ "" وَلَقَدْ رَأَيْتُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكُونَ حَوْلَهُ يُرِيدُونَ أَنْ تَذْهَبَ أَبْصَارُهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَشْرَسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ وَأَبُو ظِلَالٍ ضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ عَدِيٍّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abu Zilal al-Qasamli reported that he entered upon Anas ibn Malik رضي الله عنه, who asked him when his sight had been afflicted, and he answered that he could not recall. Anas then offered to narrate a report the Messenger of Allah ﷺ had narrated to them from Jibril, upon him be peace, from his Lord the Blessed and Exalted, asking Jibril what the reward of His servant is when his two precious ones are taken, and answering it with the vision of His Face and neighbourhood in His abode. The narrator added that he saw the companions of the Prophet ﷺ weeping around him, wishing their own sight had departed. > **"O Jibril, what is the reward of My servant when I take his two precious ones except gazing upon My Face and dwelling in My neighbourhood in My abode?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوظلال قسملی بیان کرتے ہیں : وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : اے ابوظلال ! تمہاری بینائی کب رخصت ہوئی تھی انہوں نے جواب دیا : مجھے یاد نہیں ہے حضرت انس نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایک حدیث بیان کروں جو نبی اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل کے حوالے سے اپنے پروردگار کے حوالے سے ہمیں بیان کی تھی آپ نے بتایا تھا پروردگار نے فرمایا : ’’ اے جبرائیل ! میرا وہ بندہ جس کی میں نے بینائی رخصت کر دی ہو اس کا ثواب صرف میری ذات کا دیدار اور میرے پڑوس میں ٹھہرنا ہے “۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو میں نے نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کو دیکھا کہ جو آپ کے ارد گرد موجود تھے وہ رونے لگے اور ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کی بینائی رخصت ہو جائے ( اور اس کا یہ اجر و ثواب انہیں حاصل ہو جائے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اشرس بن ربیع ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ابوظلال نامی راوی کو امام ابوداؤد امام نسائی نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ‘ جبکہ ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔