Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 7 · Chapter 15

Book of Funerals

Hadith 4287–4323

37 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4287

Majma al-Zawaid #4287

وَعَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَخْلٍ لِأَبِي طَلْحَةَ يَبْرُزُ لِحَاجَتِهِ قَالَ: وَبِلَالٌ يَمْشِي وَرَاءَهُ، يُكْرِمُ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَمْشِيَ إِلَى جَنْبِهِ، فَمَرَّ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْرٍ، فَقَامَ حَتَّى تَمَّ إِلَيْهِ بِلَالٌ فَقَالَ: "" وَيْحَكَ يَا بِلَالُ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ؟ "". قَالَ: مَا أَسْمَعُ شَيْئًا. قَالَ: "" صَاحِبُ الْقَبْرِ يُعَذَّبُ "". فَسَأَلَ عَنْهُ فَوَجَدَ يَهُودِيًّا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that while the Messenger of Allah ﷺ was in the palms of Abū Ṭalḥah رضي الله عنه going out for his need, with Bilāl رضي الله عنه walking behind him out of honour for the Prophet of Allah ﷺ rather than beside him, the Prophet of Allah ﷺ passed a grave and stood until Bilāl caught up, then asked whether he heard what he ﷺ heard, and when Bilāl heard nothing, he ﷺ informed him of the occupant's punishment, and inquiry revealed a Jew. > **"Woe to you, O Bilāl, do you hear what I hear? The owner of the grave is being punished."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے باغ میں موجود تھے ‘ آپ قضائے حاجت کے لئے تشریف لے گئے راوی بیان کرتے ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے چل رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کے احترام کے باعث وہ آپ کے ساتھ نہیں چلتے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا آپ ٹھہر گئے یہاں تک کہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ آپ کے پاس آ گئے آپ نے فرمایا : اے بلال ! تمہارا ستیاناس ہو کیا تم وہ بات سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں ؟ انہوں نے عرض کی : میں کچھ نہیں سن رہا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے نبی اکرم ﷺ نے اس قبر والے کے بارے میں دریافت کیا ‘ تو پتہ چلا کہ وہ ایک یہودی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4288

Majma al-Zawaid #4288

وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «أَخْبَرَنِي مَنْ لَا أَتَّهِمُ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِلَالٌ يَمْشِيَانِ بِالْبَقِيعِ إِذْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا بِلَالُ، هَلْ تَسْمَعُ مَا أَسْمَعُ؟ "". قَالَ: [لَا] وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَسْمَعُهُ! قَالَ: "" أَلَا تَسْمَعُ أَهْلَ هَذِهِ الْقُبُورِ يُعَذَّبُونَ؟ "". يَعْنِي: قُبُورَ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports from one of the Companions of the Prophet ﷺ whom he does not suspect, that while the Messenger of Allah ﷺ and Bilāl رضي الله عنه were walking in al-Baqī', the Messenger of Allah ﷺ asked whether he heard what he ﷺ heard, and when he swore he did not hear it, he ﷺ asked whether he did not hear the people of these graves punished, meaning the graves of the people of Jāhiliyyah. > **"O Bilāl, do you hear what I hear? Do you not hear the people of these graves being punished?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے ‘ جس کا تعلق نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے ہے ‘ اور جس پر میں تہمت عائد نہیں کرتا وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ جنت البقیع سے گزر رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے بلال تم وہ بات سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں انہوں نے عرض کی : جی نہیں اللہ کی قسم میں وہ نہیں سن رہا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم ان قبر والوں کو نہیں سن رہے ، جنہیں عذاب ہو رہا ہے راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی مراد اہل جاہلیت کی قبریں تھیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4289

Majma al-Zawaid #4289

وَعَنْ أُمِّ مُبَشِّرٍ قَالَ: «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا فِي حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطَ بَنِي النَّجَّارِ فِيهِ قُبُورٌ مِنْهُمْ قَدْ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَسَمِعَهُمْ [وَهُمْ] يُعَذَّبُونَ، فَخَرَجَ وَهُوَ يَقُولُ: "" اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ "". قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّهُمْ لِيُعَذَّبُونِ فِي قُبُورِهِمْ؟ قَالَ: "" نَعَمْ عَذَابًا تَسْمَعُهُ الْبَهَائِمُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Mubashshir رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ came to her while she was in a garden of Banū al-Najjār containing graves of those who had died in Jāhiliyyah, and he ﷺ heard them punished and came out commanding seeking refuge, and when she asked whether they are indeed punished in their graves, he ﷺ confirmed it with a punishment heard by beasts. > **"Seek refuge with Allah from the punishment of the grave. Yes, with a punishment heard by beasts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے میں اس وقت بنونجار کے ایک باغ میں موجود تھی اس باغ میں ان لوگوں کی کچھ قبریں بھی تھیں جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو سنا کہ انہیں عذاب ہو رہا ہے آپ باہر نکلے اور یہ کہہ رہے تھے تم لوگ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو سیدہ ام مبشر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ان لوگوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہو رہا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! ایسا عذاب ہو رہا ہے ، جسے جانور بھی سنتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4290

Majma al-Zawaid #4290

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، وَهُوَ يَسِيرُ عَلَى رَاحِلَتِهِ، فَنَفَرَتْ قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا شَأْنُ رَاحِلَتِكَ نَفَرَتْ؟ قَالَ: "" إِنَّهَا سَمِعَتْ صَوْتَ رَجُلٍ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ فَنَفَرَتْ لِذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَابِرُ الْجُعْفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Sa'īd al-Khudrī رضي الله عنه reports that he was with the Messenger of Allah ﷺ on a journey while he ﷺ rode his mount and it shied, and when he asked what ailed the mount, he ﷺ explained that it had heard the voice of a man punished in his grave and shied for that reason. > **"It heard the voice of a man punished in his grave, so it shied for that reason."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہا تھا آپ اپنی سواری پر چل رہے تھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کی سواری کا کیا معاملہ ہے کہ یہ بے چین ہو رہی ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اس نے ایک شخص کی آواز سنی ہے ‘ جسے اس کی قبر میں عذاب دیا جا رہا ہے ، تو اس وجہ سے یہ بے چین ہوئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

4291

Majma al-Zawaid #4291

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «إِنَّ الْمَوْتَى لَيُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ ; حَتَّى إِنَّ الْبَهَائِمَ تَسْمَعُ أَصْوَاتَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

'Abd Allāh, meaning Ibn Mas'ūd رضي الله عنه, reports from the Prophet ﷺ that the dead are punished in their graves until even beasts hear their voices. > **"Indeed the dead are punished in their graves, until even beasts hear their voices."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مردوں کو ان کی قبروں میں عذاب ہوتا ہے یہاں تک کہ جانور ان کی آواز سنتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4292

Majma al-Zawaid #4292

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ نَحْوَ بَقِيعِ الْغَرْقَدِ، [فَكَانَ النَّاسُ يَمْشُونَ خَلْفَهُ، فَلَمَّا سَمِعَ صَوْتَ النِّعَالِ وَقَرَّ فِي نَفْسِهِ، فَحُبِسَ حَتَّى قَدَّمَهُمْ أَمَامَهُ لِئَلَّا يَقَعَ فِي قَلْبِهِ شَيْءٌ مِنَ الْكِبْرِ]، فَلَمَّا مَرَّ بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ قَالَ: إِذَا بِقَبْرَيْنِ دَفَنُوا فِيهِمَا رَجُلَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَنْ دَفَنْتُمْ هَهُنَا الْيَوْمَ؟ "" [قَالُوا يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فُلَانٌ وَفُلَانٌ، قَالَ: "" إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ الْآنَ وَيُفْتَنَانِ فِي قَبْرَيْهِمَا]، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: "" أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانِ لَا يَتَنَزَّهُ مِنَ الْبَوْلِ "". وَأَخَذَ جَرِيدَةً فَشَقَّهَا، ثُمَّ جَعَلَهَا عَلَى الْقَبْرَيْنِ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَلِمَ فَعَلْتَ ذَاكَ؟ قَالَ: "" لِيُخَفَّفَ عَنْهُمَا "". قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، وَحَتَّى مَتَى يُعَذَّبَانِ؟ قَالَ: "" غَيْبٌ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ، [وَلَوْلَا تَجَافِي قُلُوبِكُمْ وَتَزَيُّدُكُمْ فِي الْحَدِيثِ سَمِعْتُمْ مَا أَسْمَعُ]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ passed in intense heat toward Baqī' al-Gharqad while the people walked behind him, and when he ﷺ heard the sound of sandals it weighed upon himself so he halted until he sent them ahead lest pride enter his heart, then when he passed Baqī' al-Gharqad there were two graves in which two men had been buried, and he ﷺ asked whom they had buried that day, and when they named them he ﷺ informed them they were now punished and tried, explained it as tale-bearing and neglect of urine, split a palm stalk and placed it upon the graves for lightening, and when asked how long they would be punished described it as unseen known only to Allah, adding that were it not for the diversion of hearts and excess in speech they would hear what he ﷺ hears. > **"Whom did you bury here today? They are now punished and tried in their graves. As for one of them, he used to walk with tale-bearing, and as for the other, he would not guard himself from urine. Let it be lightened for them. It is unseen which none knows but Allah. Were it not for the diversion of your hearts and your excess in speech, you would hear what I hear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک شدید گرم دن میں بقیع غرقد کے پاس سے ہوا کچھ لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے ‘ جب آپ نے ان کے جوتوں کی آواز سنی تو آپ کو الجھن محسوس ہوئی آپ رک گئے ان لوگوں کو اپنے سے آگے چلنے دیا تاکہ آپ کے دل میں تکبر نہ آئے جب آپ بقیع سے گزرے تو وہاں دو قبریں موجود تھیں جن میں دو افراد کو دفن کیا گیا تھا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہاں آج تم نے کسے دفن کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! فلاں اور فلاں کو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس وقت ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے ‘ اور انہیں ان کی قبر میں آزمائش کا شکار کیا گیا ہے لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان دونوں میں سے ایک چغلی کیا کرتا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک شاخ لی اور اسے دو حصوں میں تقسیم کیا ، اور انہیں دونوں کی قبروں پر لگا دیا لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : تاکہ ان دونوں کے عذاب میں تخفیف ہو جائے لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ان دونوں کو کب تک عذاب ہوتا رہے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ایک غیب ہے ‘ جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ‘ ۔ اگر تمہارے دلوں کی غفلت نہ ہوتی اور تمہاری بات چیت نہ ہوتی ‘ تو تم بھی وہ بات سنتے ‘ جو میں سنتا ہوں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4293

Majma al-Zawaid #4293

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ يَوْمًا بِقُبُورٍ وَمَعَهُ جَرِيدَةٌ رَطْبَةٌ، فَشَقَّهَا بِاثْنَتَيْنِ، وَوَضَعَ وَاحِدَةً عَلَى قَبْرٍ، وَالْأُخْرَى عَلَى قَبْرٍ آخَرَ، ثُمَّ مَضَى فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ: "" أَمَّا أَحَدُهُمَا فَكَانَ يُعَذَّبُ فِي النَّمِيمَةِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَكَانِ لَا يَتَّقِي الْبَوْلَ، وَلَنْ يُعَذَّبَا مَا دَامَتْ هَذِهِ رَطْبَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ once passed graves with a moist palm stalk, split it in two, placed one upon a grave and the other upon another grave, then went on, and when they asked why he ﷺ had done so, he ﷺ explained the punishment for tale-bearing and neglect of urine and the relief while moist. > **"As for one of them, he was punished for tale-bearing, and as for the other, he would not guard against urine, and they shall not be punished while this remains moist."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا آپ کے پاس ایک تر شاخ تھی آپ نے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا ‘ اور ایک حصہ ایک قبر پر رکھ دیا اور دوسرا حصہ دوسری قبر پر رکھ دیا پھر آپ تشریف لے گئے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان میں سے ایک شخص کو چغلی کرنے کی وجہ سے عذاب ہو رہا تھا اور دوسرا پیشاب سے نہیں بچتا تھا جب تک یہ شاخ تر رہے گی ان دونوں کو عذاب نہیں ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر بن میسرہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4294

Majma al-Zawaid #4294

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «بَيْنَا أَنَا أَسِيرُ بِجَنَبَاتِ بَدْرٍ إِذْ خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ حُفْرَةٍ فِي عُنُقِهِ سِلْسِلَةٌ فَنَادَانِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ اسْقِنِي. فَلَا أَدْرِي أَعَرَفَ اسْمِي أَوْ دَعَانِي بِدَعَايَةِ الْعَرَبِ. وَخَرَجَ رَجُلٌ فِي ذَلِكَ الْحَفِيرِ فِي يَدِهِ سَوْطٌ فَنَادَانِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ لَا تَسْقِهِ فَإِنَّهُ كَافِرٌ. ثُمَّ ضَرَبَهُ بِالسَّوْطِ حَتَّى عَادَ إِلَى حُفْرَتِهِ. فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْرِعًا فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ لِي: "" أَوَ قَدْ رَأَيْتَهُ؟ "". قُلْتُ: نَعَمْ. قَالَ: "" ذَاكَ عَدُوُّ اللَّهِ أَبُو جَهْلِ بْنُ هِشَامٍ، وَذَاكَ عَذَابُهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports that while he travelled by the environs of Badr, a man emerged from a pit with a chain upon his neck calling to him for drink, whether knowing his name or calling as the Arabs call, and another man emerged in that pit with a whip calling to him not to give him drink for he is a disbeliever, then struck him with the whip until he returned to his pit, so he hastened to the Prophet ﷺ and informed him, and when he ﷺ asked whether he had seen him and he confirmed it, he ﷺ identified him as the enemy of Allah Abū Jahl ibn Hishām and his punishment until the Resurrection. > **"Did you indeed see him? That is the enemy of Allah, Abū Jahl ibn Hishām, and that is his punishment until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں بدر کے آس پاس سفر کر رہا تھا اسی دوران ایک گڑھے میں سے ایک شخص نکلا جس کی گردن میں ایک بیڑی تھی اس نے مجھے پکار کر کہا : اے عبداللہ ! تم مجھے کچھ پلاؤ ! مجھے اندازہ نہیں ہوا کہ کیا اس نے میرا نام لیا ہے ‘ یا مجھے عربوں کے مخصوص طریقے کے مطابق بلایا ہے پھر اس گڑھے میں سے ایک اور شخص نکلا جس کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی اس نے مجھے پکار کر کہا : اے عبداللہ ! تم اسے نہ پلاؤ کیونکہ یہ کافر ہے پھر اس نے اسے چھڑی ماری پھر اسے واپس گڑھے میں لے گیا پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں جلدی سے حاضر ہوا میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے دیکھا تھا ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ اللہ کا دشمن ابوجہل بن ہشام تھا اور یہ اس کا عذاب ہے ‘ جو قیامت تک ہوتا رہے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4295

Majma al-Zawaid #4295

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ: "" ائْتُونِي بِجَرِيدَتَيْنِ "". فَجَعَلَ إِحْدَاهُمَا عِنْدَ رَأْسِهِ، وَالْأُخْرَى عِنْدَ رِجْلَيْهِ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَنْفَعُهُ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" لَنْ يَزَالَ يُخَفَّفُ عَنْهُ بَعْضُ عَذَابِ الْقَبْرِ مَا دَامَ فِيهِمَا نُدُوٌّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ passed a grave and commanded that two palm stalks be brought, then placed one at its head and the other at its feet, and when it was asked whether that would benefit him, he ﷺ explained the continued lightening of some punishment while moisture remains in them. > **"Bring me two palm stalks. Some of the punishment of the grave shall continue to be lightened for him while moisture remains in them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا آپ نے فرمایا : میرے پاس دو شاخیں لے کے آؤ ! آپ نے ان میں سے ایک شاخ اس کے سرہانے رکھ دی اور دوسری پاؤں کی طرف لگا دی عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا یہ چیز اسے فائدہ دے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تک یہ دونوں تر رہیں گی اس شخص کے عذاب میں کچھ تخفیف ہوتی رہے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4296

Majma al-Zawaid #4296

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ سِيَابَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِقَبْرٍ فَقَالَ: "" إِنَّ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ يُعَذَّبُ فِي غَيْرِ كَبِيرٍ "". ثُمَّ دَعَا بِجَرِيدَةٍ فَوَضَعَهَا عَلَى قَبْرِهِ فَقَالَ: "" لَعَلَّهُ يُخَفَّفُ عَنْهُ مَا دَامَتْ رَطْبَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ حَبِيبُ بْنُ أَبِي جَبِيرَةَ قَالَ الْحُسَيْنِيُّ: مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Ya'lā ibn Siyābah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ passed a grave and declared its owner punished though not for a major matter difficult to avoid, then called for a palm stalk and placed it upon his grave, expressing hope of lightening while moist. > **"Indeed the owner of this grave is punished though not for a major matter. Perhaps it will be lightened for him while it remains moist."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلی بن سیابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس قبر والے کو عذاب ہو رہا ہے ‘ جو کسی ایسے بڑے گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا ( جس سے بچنا مشکل ہو ) پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک شاخ منگوائی اور اسے اس کی قبر پر رکھ دیا آپ نے ارشاد فرمایا : جب تک یہ تر رہے گی اس وقت تک اس کے عذاب میں تخفیف رہے گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حبیب بن ابوجبیرہ ہے حسینی فرماتے ہیں یہ مجہول ہے ۔

4297

Majma al-Zawaid #4297

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: إِنَّ تَسْوِيَةَ الْقَبْرِ مِنَ السُّنَّةِ، قَدْ رَفَعَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى فَلَا تَشَبَّهُوا بِهِمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Mu'āwiyah رضي الله عنه reports that levelling the grave is from the Sunnah, for the Jews and Christians raise them, so do not resemble them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قبر کو برابر رکھنا سنت ہے یہودی اور عیسائی قبر بلند رکھتے ہیں تم ان دونوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4298

Majma al-Zawaid #4298

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَخِي قَالَ: أُصِيبَ أَبُوكَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مَعَ ابْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ الزُّبَيْرِ، فَدُفِنَ فِي مَسْجِدِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ أَمَرَّ الْخَيْلَ عَلَى قَبْرِهِ لِئَلَّا يُرَى أَثَرُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعُثْمَانُ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

'Uthmān ibn 'Abd al-Raḥmān reports that his brother informed him that their father 'Abd al-Raḥmān was struck alongside Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما, and Ibn al-Zubayr ordered concerning him so he was buried in the mosque of the Ka'bah, then ordered horses passed over his grave lest its trace be seen.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عثمان بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : میرے بھائی نے مجھے یہ بات بتائی کہ تمہارے والد عبدالرحمن حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ شہید ہو گئے تھے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انہیں مسجد کعبہ میں دفن کیا گیا پھر انہوں نے گھوڑوں کو ان کی قبر کے اوپر سے گزار دیا تاکہ اس کا نشان ختم ہو جائے ‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عثمان نامی راوی کو امام دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

4299

Majma al-Zawaid #4299

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنِّي نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا ; فَإِنَّ فِيهَا عِبْرَةً» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Sa'īd al-Khudrī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that he ﷺ had forbidden visiting graves, then permitted visiting them for the lesson therein. > **"I forbade you from visiting graves, so visit them, for therein is a lesson."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ اس میں عبرت پائی جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4300

Majma al-Zawaid #4300

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّ لَكُمْ فِيهَا عِبْرَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that he ﷺ had forbidden visiting graves, then permitted visiting them for the lesson therein for them. > **"I forbade you from visiting graves, so visit them, for you have in them a lesson."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ تمہارے لئے ان میں عبرت ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن متوکل ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4301

Majma al-Zawaid #4301

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «[كُنْتُ] نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ فَكُلُّوا وَادَّخِرُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلَا تَقُولُوا مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَانْتَبِذُوا، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Sa'īd al-Khudrī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated his former prohibitions of sacrificial meat beyond three, of visiting graves, and of vessels, followed by permission to eat and store, to visit without speech angering the Lord, and to prepare nabīdh, while every intoxicant is forbidden. > **"I forbade you the meat of sacrifices beyond three, so eat and store; and I forbade you visiting graves, so visit them, and do not say what angers the Lord; and I forbade you vessels, so prepare nabīdh, and every intoxicant is forbidden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین سے زیادہ استعمال کرنے سے منع کیا تھا اب تم اسے کھاؤ بھی اور ذخیرہ بھی کرو اور میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو البتہ کوئی ایسی بات نہ کہنا جو پروردگار کو ناراض کر دے اور میں نے تمہیں ( مخصوص قسم کے ) برتنوں سے منع کیا تھا ، تو تم نبیذ تیار کر لو ‘ لیکن ہر نشہ آور چیز حرام ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4302

Majma al-Zawaid #4302

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، ثُمَّ رَخَّصَ فِيهَا، أَحْسَبُهُ قَالَ: "" فَإِنَّهَا تُذَكِّرُ الْآخِرَةَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Ā'ishah رضي الله عنها reports that the Prophet ﷺ forbade visiting graves, then permitted them, deeming that he ﷺ said it reminds of the Hereafter. > **"It reminds of the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا پھر آپ نے اس کی رخصت دی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے آپ نے یہ فرمایا تھا کہ یہ آخرت کی یاد دلاتی ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4303

Majma al-Zawaid #4303

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ نَحْوَ الْمَقَابِرِ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ قَبْرٍ، فَرَأَيْنَاهُ كَأَنَّهُ يُنَاجِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الدُّمُوعَ مِنْ عَيْنَيْهِ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ، وَكَانَ أَوَّلُنَا فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: "" إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّي وَكَانَتْ وَالِدَةً وَلَهَا قِبَلِي حَقٌّ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَنَهَانِي "". قَالَ: ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا فَجَلَسْنَا، فَقَالَ: "" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَزُورَ فَلْيَزُرْ، وَإِنِّي [كُنْتُ] نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَإِنِّي [كُنْتُ] نَهَيْتُكُمْ عَنْ ظُرُوفٍ، وَأَمَرْتُكُمْ بِظُرُوفٍ، [وَأَمَرْتُكُمْ بِـ] ظُرُوفٍ فَانْتَبِذُوا ; فَإِنَّ الْآنِيَةَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّوْعِ فِي الْأَشْرِبَةِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reports that they went out with the Messenger of Allah ﷺ on the day of the Conquest of Makkah toward the graves, and the Messenger of Allah ﷺ sat facing a grave as though conversing intimately, then stood wiping tears from his eyes, and 'Umar رضي الله عنه, foremost among them, met him and asked, offering himself as ransom, what made him weep, whereupon he ﷺ mentioned seeking permission from his Lord to visit his mother's grave as a mother with right upon him and seeking forgiveness for her but being forbidden, then he ﷺ gestured them to sit and announced the permissions after prohibitions concerning graves, sacrificial meat and vessels, with avoidance of every intoxicant. > **"By my father and mother, what makes you weep? I sought permission from my Lord to visit the grave of my mother, for she was a mother with a right upon me, and I wished to seek forgiveness for her, but He forbade me. I had forbidden you visiting graves, so whoever among you wishes to visit, let him visit; and I had forbidden you the meat of sacrifices beyond three days, so eat and store as seems to you; and I had forbidden you vessels, and commanded you vessels, so prepare nabīdh, for vessels neither permit anything nor forbid it, and avoid every intoxicant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ قبرستان کی طرف گئے نبی اکرم ﷺ ایک قبر کی طرف رخ کر کے تشریف فرما ہوئے ‘ ہم نے آپ کو دیکھا یوں لگ رہا تھا جیسے آپ مناجات کر رہے ہیں پھر نبی اکرم ﷺ اٹھے آپ نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آپ سے ملاقات ہوئی وہ ہم سب سے پہلے آپ سے ملے انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی کہ اپنی ماں کی قبر کی زیارت کروں کیونکہ وہ میری والدہ ہیں اور ان کا مجھ پر حق ہے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ان کے لئے دعا مغفرت کروں تو پروردگار نے مجھے منع کر دیا پھر نبی اکرم ﷺ نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ ہم بیٹھ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم میں سے جو شخص ( قبروں کی ) زیارت کرنا چاہے وہ زیارت کر لے اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے منع کیا تھا اب تم اسے کھاؤ بھی اور ذخیرہ بھی کرو جتنا تمہیں مناسب لگے اور میں نے تمہیں مخصوص قسم کے برتنوں سے منع کیا تھا اور مخصوص قسم کے برتنوں کی تمہیں اجازت دی تھی تو اب تم ( کسی بھی قسم کے برتن میں ) نبیذ تیار کر لو کیونکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا ہے ‘ البتہ تم ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث مشروبات سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4304

Majma al-Zawaid #4304

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ، وَأَنْ تُحْبَسَ لُحُومُ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ، ثُمَّ قَالَ: "" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، فَإِنَّهَا تُذَكِّرُكُمُ الْآخِرَةَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الْأَوْعِيَةِ فَاشْرَبُوا فِيهَا، وَاجْتَنِبُوا مَا أَسْكَرَ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تَحْتَبِسُوا فَوْقَ ثَلَاثٍ فَاحْتَبِسُوا مَا بَدَا لَكُمْ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَأَحْمَدُ، وَفِيهِ رَبِيعَةُ بْنُ النَّابِغَةِ، قَالَ الْبُخَارِيُّ: لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ عَنْ عَلِيٍّ فِي الْأَضَاحِيِّ.

EnglishUnverified translation

'Alī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade visiting graves, vessels, and retaining sacrificial meat beyond three, then declared permission to visit for remembrance of the Hereafter, to drink from vessels while avoiding intoxication, and to retain meat as seems fit. > **"I had forbidden you visiting graves, so visit them, for they remind you of the Hereafter; and I forbade you vessels, so drink from them, and avoid what intoxicates; and I forbade you the meat of sacrifices to retain beyond three, so retain as seems to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قبروں کی زیارت کرنے سے ‘ مخصوص قسم کے برتنوں سے تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے سے منع کیا تھا پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو کیونکہ یہ تمہیں آخرت کی یاد دلائیں گی میں نے تمہیں مخصوص قسم کے برتنوں میں پینے سے منع کیا تھا ‘ تو تم اس چیز سے اجتناب کرو جو نشہ آور ہو ‘ اور میں نے تمہیں قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے منع کیا تھا اب جتنا تمہیں مناسب لگے تم اسے روک کے رکھو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ربیعہ بن نابغہ ہے ۔ امام بخاری کہتے ہیں : قربانی کے گوشت کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کی نقل کردہ روایت مستند نہیں ہے ۔

4305

Majma al-Zawaid #4305

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «زُورُوا الْقُبُورَ، وَلَا تَقُولُوا هَجْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ مَرْوَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded visiting graves without speaking evil. > **"Visit graves, and do not speak evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قبروں کو زیارت کرو ‘ لیکن کوئی بری بات نہ کہنا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر مں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن کثیر بن مروان ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

4306

Majma al-Zawaid #4306

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فَاشْرَبُوا، وَلَا تَشْرَبُوا مُسْكِرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا. قُلْتُ: وَتَأْتِي بَقِيَّةُ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ فِي الْأَضَاحِيِّ وَالْأَشْرِبَةِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbās رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ concerning the former prohibitions of visiting graves, of sacrificial meat beyond three, and of nabīdh, followed by permission to visit without evil speech, to eat and retain, and to drink without intoxicant. > **"I forbade you visiting graves, so visit them, and do not speak evil; and I forbade you the meat of sacrifices beyond three, so eat and retain; and I forbade you nabīdh, so drink, but do not drink an intoxicant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو ‘ لیکن تم کوئی بری بات نہ کہنا اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے منع کیا تھا اب تم کھاؤ بھی اور روک کے بھی رکھو اور میں نے تمہیں نبیذ سے منع کیا تھا اب تم اسے پی لو البتہ تم نشہ آور چیز نہ پینا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابونضر ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ‘ اس موضوع سے متعلق دیگر احادیث قربانی کے گوشت اور مشروبات سے متعلق باب میں آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4307

Majma al-Zawaid #4307

وَعَنْ ثَوْبَانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ فَزُورُوهَا، وَاجْعَلُوا زِيَارَتَكُمْ لَهَا صَلَاةً عَلَيْهِمْ، وَاسْتِغْفَارًا لَهُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَكُلُوا مِنْهَا وَادَّخِرُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَمَّا يُنْبَذُ فِي الدُّبَّاءِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ فَانْتَبِذُوا وَانْتَفِعُوا بِهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ رَبِيعَةَ الرَّحْبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Thawbān رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated his former prohibition of visiting graves followed by permission with visitation made as prayer and seeking forgiveness for them, his former prohibition of sacrificial meat beyond three followed by permission to eat and store, and his former prohibition of fermentation in dubbā', ḥantam and naqīr followed by permission to prepare and benefit. > **"I had forbidden you visiting graves, so visit them, and make your visitation to them a prayer upon them and seeking forgiveness for them; and I forbade you the meat of sacrifices beyond three, so eat from them and store; and I forbade you what is fermented in dubbā', ḥantam and naqīr, so prepare nabīdh and benefit thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم ان کی زیارت کرو اور اپنی ان کی زیارت کو ان لوگوں کے لئے رحمت اور ان لوگوں کے دعائے استغفار بناؤ اور میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے منع کیا تھا اب تم اسے کھا بھی لو اور ذخیرہ بھی کرو اور میں نے تمہیں اس چیز سے منع کیا تھا جو دباء یا حنتم یا نقیر میں نبیذ تیار کی جاتی ہے اب تم ( ان برتنوں میں ) نبیذ تیار کر لو اور ان کے ذریعے نفع حاصل کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید بن ربیعہ رحبی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4308

Majma al-Zawaid #4308

وَعَنْ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «ثَلَاثٌ نَهَيْتُكُمْ عَنْهَا: زِيَارَةُ الْقُبُورِ، وَلُحُومُ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، وَنَبْذٌ فِي الْمُزَفَّتِ وَالْحَنْتَمِ وَالنَّقِيرِ، أَلَا فَزُورُوا إِخْوَانَكُمْ وَسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ، فَإِنَّ فِيهِمْ عِبْرَةً، أَلَا وَلُحُومُ الْأَضَاحِيِّ فَكُلُوا مِنْهَا وَادَّخِرُوا، أَلَا وَكُلُّ مُسْكِرٍ خَمْرٌ، أَلَا وَكُلُّ خَمْرٍ حَرَامٌ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْخَصِيبِ. قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

'Ā'ishah رضي الله عنها reports that she heard the Messenger of Allah ﷺ mention three things he ﷺ had forbidden, namely visiting graves, sacrificial meat beyond three, and fermentation in muzaffat, ḥantam and naqīr, followed by permission to visit brothers and greet them for the lesson therein, to eat and store sacrificial meat, and the declaration that every intoxicant is khamr and every khamr forbidden. > **"Three things I forbade you: visiting graves, and the meat of sacrifices beyond three, and fermentation in muzaffat, ḥantam and naqīr. Behold, so visit your brothers and greet them, for therein is a lesson; behold, as for the meat of sacrifices, eat from them and store; behold, every intoxicant is khamr, behold, and every khamr is forbidden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تین چیزوں سے میں نے تمہیں منع کیا تھا قبروں کی زیارت کرنے سے تین دن کے بعد قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے اور مزفت نقیر اور حنتم میں نبیذ تیار کرنے سے ‘ خبردار ! اب تم اپنے بھائیوں کی ( قبروں کی ) زیارت کرو اور ان پر سلام بھیجو کیونکہ اس میں عبرت پائی جاتی ہے خبردار اب تم قربانی کا گوشت کھاؤ بھی اور ذخیرہ بھی کرو خبردار ہر نشہ آور چیز خمر ہے ‘ اور خبردار ہر خمر حرام ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں عبدالجبار کے حوالے سے یہ روایت صرف محمد بن ابوخصیب نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4309

Majma al-Zawaid #4309

وَعَنْ أَبِي مُوَيْهِبَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى أَهْلِ الْبَقِيعِ، فَصَلَّى عَلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ مُطَوَّلًا، وَيَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي الْوَفَاءِ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ.

EnglishUnverified translation

Abū Muwayhibah, freedman of the Messenger of Allah ﷺ, رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was commanded to pray for the people of al-Baqī', so he ﷺ prayed for them at night three times.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومویہبہ رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو یہ حکم دیا گیا کہ آپ اہل بقیع کے لئے دعائے رحمت کریں تو نبی اکرم ﷺ نے رات کے وقت تین مرتبہ ان کے لئے دعائے رحمت کی ۔ یہ روایت امام احمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اگر اللہ نے چاہا تو یہ روایت علامات نبوۃ سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر آئے گی ۔

4310

Majma al-Zawaid #4310

وَلَفْظُهُ عِنْدَ الْبَزَّارِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَرَقَهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ: "" يَا أَبَا مُوَيْهِبَةَ، انْطَلِقْ، فَإِنِّي أُمِرْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لِأَهْلِ الْبَقِيعِ "". فَانْطَلَقْتُ، فَلَمَّا أَتَى الْبَقِيعَ قَالَ: "" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْمَقَابِرِ، لِيَهْنِ لَكُمْ مَا أَصْبَحْتُمْ فِيهِ بِمَا أَصْبَحَ النَّاسُ فِيهِ، لَوْ تَدْرُونَ مَا نَجَّاكُمُ اللَّهُ مِنْهُ، أَقْبَلَتِ الْفِتَنُ» "". وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ، وَالْبَزَّارِ كِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Muwayhibah رضي الله عنه reports in the wording with al-Bazzār that the Messenger of Allah ﷺ came to him one night and commanded him to go forth to seek forgiveness for the people of al-Baqī', and when they reached al-Baqī' he ﷺ greeted the people of the graves and congratulated them for what they are in compared to what the people are in, for Allah's deliverance, with tribulations approaching. > **"O Abā Muwayhibah, go forth, for I have been commanded to seek forgiveness for the people of al-Baqī'. Peace upon you, O people of the graves; congratulations to you for what you are in compared to what the people are in; had you known what Allah has saved you from, tribulations are approaching."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام بزار نے اس روایت کے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ رات کے وقت ان کے پاس تشریف لائے اور آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابومویہبہ ! تم چلو مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں اہل بقیع کے لئے دعائے مغفرت کروں ‘‘۔ میں چل پڑا جب آپ بقیع تشریف لائے تو آپ نے یہ دعا کی : ’’ اے قبرستان والو ! تم پر سلام ہو لوگ جس حالت میں ہیں اور اس کے مقابلے میں تم جس حالت میں ہو تمہیں مبارک ہو کاش تم لوگ یہ بات جان لو کہ اللہ تعالی نے تمہیں کس چیز سے نجات عطا کی ہے کیونکہ فتنے آ رہے ہیں ‘‘۔ امام احمد اور امام بزار دونوں کی سند کے راوی ضعیف ہیں ۔

4311

Majma al-Zawaid #4311

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَذْهَبُ إِلَى الْحَيَّانِ مَاشِيًا»، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَزَادَ فِيهِ: وَيَرْجِعُ مَاشِيًا، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ, along with Abū Bakr and 'Umar رضي الله عنهما, used to go walking to al-Ḥayyān and return walking.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ پیدل حیان کی طرف تشریف لے جاتے تھے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے ( یا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی ایسا کیا کرتے تھے ۔ ) یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں :’’ اور آپ پیدل واپس آتے تھے ‘‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4312

Majma al-Zawaid #4312

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ زَارَ قَبْرَ أَبَوَيْهِ أَوْ أَحَدِهِمَا كُلَّ جُمُعَةٍ غُفِرَ لَهُ وَكُتِبَ بَرًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ أَبُو أُمَيَّةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that whoever visits the graves of his parents, or one of them, every Friday is forgiven and recorded as dutiful. > **"Whoever visits the grave of his parents, or one of them, every Friday, is forgiven and recorded as dutiful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ہر جمعہ کے دن اپنے ماں باپ یا ان دونوں میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرتا ہے اس کی مغفرت ہو جاتی ہے اسے نیک نوٹ کیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم ابوامیہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4313

Majma al-Zawaid #4313

وَعَنْ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: الْخُرُوجُ إِلَى الْحَيَّانِ فِي الْعِيدَيْنِ مِنَ السُّنَّةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَارِثُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Alī رضي الله عنه reports that going out to the graveyards on the two 'Īds is from the Sunnah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : عیدین کے موقع پر قبرستان جانا سنت ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4314

Majma al-Zawaid #4314

وَعَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: تُوُفِّيَ - يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ - بِالْحُبَشِيِّ، فَلَمَّا حَجَّتْ عَائِشَةُ أَتَتْ قَبْرَهُ فَقَالَتْ: وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً ... مِنَ الدَّهْرِ حَتَّى قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا ... لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعَا أَمَا وَاللَّهِ لَوْ شَهِدْتُكَ مَا زُرْتُكَ وَلَدَفَنْتُكَ حَيْثُ مِتَّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abī Mulaykah reports that 'Abd al-Raḥmān ibn Abī Bakr رضي الله عنهما passed away at al-Ḥubashī, and when 'Ā'ishah رضي الله عنها performed Ḥajj she came to his grave and recited verses likening their long companionship to the two companions of Jadhīmah until separation rendered them as though never together for a night, then swore that had she witnessed him she would neither visit him now nor have buried him except where he died. > **"We were like the two companions of Jadhīmah for an era of time, until it was said they would never part; then when we parted, it is as though I and Mālik, for length of companionship, never spent a night together. By Allah, had I witnessed you, I would not have visited you, and I would have buried you where you died."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حبشی میں انتقال ہو گیا تو جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حج کے لئے جا رہی تھیں تو ان کی قبر پر آئیں اور بولیں : ’’ ہم جزیمہ کے دو ساتھیوں کی طرح ایک عرصے تک ایک ساتھ رہے یہاں تک کہ یہ کہا گیا کہ یہ دونوں جدا نہیں ہوں گے اور جب ہم جدا ہوئے تو میں اور مالک طویل عرصہ ساتھ رہنے کے حوالے سے یوں تھے کہ جیسے ہم نے ایک رات بھی ساتھ نہیں گزاری ‘‘۔ اللہ کی قسم ! اگر میں تمہارے پاس موجود ہوتی ‘ تو میں تمہارے پاس آتی اور تمہیں وہیں دفن کرتی ‘ جہاں تمہارا انتقال ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4315

Majma al-Zawaid #4315

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَى الْبَقِيعِ - بَقِيعِ الْغَرْقَدِ - فَقَالَ: "" السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَرَحِمَ اللَّهُ الْمُسْتَقْدِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَاحِقُونَ» "". - يَعْنِي: بِكُمْ -. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ غَالِبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ went out to al-Baqī', Baqī' al-Gharqad, and greeted the Muslim and believing people of the abodes, invoked mercy upon the predecessors, and affirmed joining them if Allah wills, meaning them. > **"Peace upon the people of the abodes from among the Muslims and the believers, and may Allah have mercy upon the predecessors, and we, if Allah wills, shall join you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بقیع یعنی بقیع غرقد کی طرف تشریف لے گئے اور یہ پڑھا : ” اے مسلمانوں اور مومنوں کے علاقے والو ! تم پر سلام ہو اللہ تعالیٰ پہلے چلے جانے والوں پر رحم کرے اگر اللہ نے چاہا تو ہم بھی آ ملیں گئے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : یعنی تم لوگوں سے آ ملیں گے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی غالب بن عبداللہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4316

Majma al-Zawaid #4316

وَعَنْهُ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مُصْعَبِ بْنِ عُمَيْرٍ حِينَ رَجَعَ مِنْ أُحُدٍ فَوَقَفَ عَلَيْهِ وَعَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" أَشْهَدُ أَنَّكُمْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ اللَّهِ، فَزُورُوهُمْ وَسَلِّمُوا عَلَيْهِمْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ أَحَدٌ إِلَّا رَدُّوا عَلَيْهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Umar رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ passed by Muṣ'ab ibn 'Umayr رضي الله عنه when returning from Uḥud, and stood over him and his companions and bore witness that they are alive with Allah, then commanded visiting them and greeting them, swearing that none greets them until the Resurrection except that they reply to him. > **"I bear witness that you are alive with Allah, so visit them and greet them, for by the One in Whose Hand is my soul, none greets them until the Day of Resurrection except that they reply to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جب آپ اُحد سے واپس تشریف لا رہے تھے ۔ آپ ان کے اور ان کے ساتھیوں ( کی قبروں کے پاس ) ٹھہر گئے آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تم لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زندہ ہو ‘‘ ( پھر آپ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا : ) تم ان کی ( قبروں کی ) زیارت کرو اور ان پر سلام بھیجو قسم ہے اس ذات کی جس کے دست قدرت میں میری جان ہے قیامت کے دن تک جو شخص بھی ان پر سلام بھیجے گا یہ جواب دیتے رہیں گے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ‘ جسے امام دارقطنی نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

4317

Majma al-Zawaid #4317

وَعَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ مِنْ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ حَتَّى انْتَهَى إِلَى الْمَقْبَرَةِ فَقَالَ: "" السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الْقُبُورِ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ. "" مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ. أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ، وَنَحْنُ لَكُمْ تَبَعٌ، عَافَانَا اللَّهُ وَإِيَّاكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Mujammi' ibn Jāriyah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ went out for a funeral of Banū 'Amr ibn 'Awf until he reached the graveyard, then thrice greeted the people of the graves and declared them predecessors and themselves followers with a supplication of well-being for all. > **"Peace upon the people of the graves, peace upon the people of the graves, peace upon the people of the graves. Whoever among you was from among the believers and the Muslims, you are our predecessors, and we are your followers; may Allah grant us and you well-being."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بنو عمرو بن عوف کے ایک جنازے میں شریک ہوئے آپ قبرستان آئے ‘ تو آپ نے یہ فرمایا : ’’ اہل قبرستان پر سلام ہو ‘‘ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی : ( پھر یہ فرمایا ) :’’ تم میں سے جو شخص بھی مؤمن ہے ‘ اور مسلمان ہے تم ہمارے پیشرو ہو ‘ اور ہم تمہارے پیچھے آ رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں عافیت عطا کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

4318

Majma al-Zawaid #4318

«وَعَنْ بَشِيرِ بْنِ الْخَصَاصِيَةِ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَحِقْتُهُ بِالْبَقِيعِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" السَّلَامُ عَلَى أَهْلِ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ "". وَانْقَطَعَ شِسْعِي فَقَالَ: "" أَنْعِشْ قَدَمَكَ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، طَالَتْ عُزُوبَتِي، وَنَأَيْتُ عَنْ دَارِ قَوْمِي، فَقَالَ: "" يَا بَشِيرُ، أَلَا تَحْمَدُ اللَّهَ الَّذِي أَخَذَ بِنَاصِيَتِكَ مِنْ بَيْنِ رَبِيعَةَ قَوْمٍ يَرَوْنَ لَوْلَاهُمُ انْكَفَأَتِ الْأَرْضُ بِمَنْ عَلَيْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَلَهُ طَرِيقٌ عِنْدَ أَحْمَدَ تَأْتِي فِي الْمَنَاقِبِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Bashīr ibn al-Khaṣāṣiyah رضي الله عنه reports that he came to the Prophet ﷺ and caught up with him at al-Baqī' and heard him greet the believing people of the abodes, then when his shoestrap broke he ﷺ commanded him to right his foot, and when he mentioned his long estrangement from his people's home, he ﷺ asked whether he does not praise Allah Who took his forelock from among Rabī'ah, a people who deem that were it not for them the earth would overturn with those upon it. > **"Peace upon the people of the abodes from among the believers. Right your foot. O Bashīr, do you not praise Allah Who took your forelock from among Rabī'ah, a people who deem that were it not for them the earth would overturn with those upon it?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بشیر بن خصاصیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ بقیع میں آپ کے پاس آ کے ملا ‘ تو میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ مومنین کے علاقے کے رہنے والوں پر سلام ہو ‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) میرا تسمہ ٹوٹ گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم جوتے کے بغیر چلو ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اپنے علاقے سے خاصے عرصے سے دور ہوں ‘ اور اپنی قوم کی جگہ سے دور ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بشیر ! کیا تم اس بارے میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان نہیں کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ربیعہ قوم کے درمیان میں سے تمہاری پیشانی کو پکڑا اور تمہیں اسلام کی توفیق عطا کی ) ‘ وہ لوگ کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اگر وہ لوگ نہ ہوتے ، تو زمین ‘ اُس کے اوپر موجود سب چیزوں سمیت اوندھی ہو جاتی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ‘ اس کی ایک سند امام احمد نے بھی نقل کی ہے ‘ جو مناقب سے متعلق باب میں آگے آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4319

Majma al-Zawaid #4319

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - قَالَتْ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقَبْرِ أَوْ يُجَصَّصَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ مُرْسَلَةٍ: "" أَوْ يُجْلَسَ عَلَيْهِ "". وَفِي الْإِسْنَادَيْنِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade building over the grave or plastering it. > **"Do not build over the grave, nor plaster it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ قبر پر عمارت تعمیر کی جائے ‘ یا اس پر چونا لگایا جائے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ ایک ’’ مرسل ‘‘ روایت میں انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :’’ یا اُس پر بیٹھا جائے ‘‘ ۔ دونوں سندوں میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

4320

Majma al-Zawaid #4320

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «نَهَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُبْنَى عَلَى الْقُبُورِ، أَوْ يُقْعَدَ عَلَيْهَا، أَوْ يُصَلَّى عَلَيْهَا». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ النَّهْيَ عَنِ الْبِنَاءِ عَلَيْهَا فَقَطْ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Sa'īd رضي الله عنه reports that the Prophet of Allah ﷺ forbade building over graves, or sitting upon them, or praying upon them. > **"Do not build over graves, nor sit upon them, nor pray upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ قبروں پر عمارت تعمیر کی جائے ‘ یا اُن پر بیٹھا جائے یا ان پر نماز ادا کی جائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے صرف قبر پر عمارت تعمیر کی ممانعت والا حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4321

Majma al-Zawaid #4321

«وَعَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَزْمٍ قَالَ: رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ: "" يَا صَاحِبَ الْقَبْرِ، انْزِلْ مِنْ عَلَى الْقَبْرِ لَا تُؤْذِي صَاحِبَ الْقَبْرِ وَلَا يُؤْذِيكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

'Umārah ibn Ḥazm رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ saw him sitting upon a grave and commanded him to descend from it, neither harming its occupant nor being harmed by him. > **"O companion of the grave, descend from upon the grave; do not harm the owner of the grave, nor shall he harm you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمارہ بن حزم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے قبر پر بیٹھے دیکھا ‘ تو ارشاد فرمایا : ’’ اے قبر پر بیٹھنے والے ! قبر پر سے نیچے اتر آؤ ‘ اور قبر والے کو اذیت نہ پہنچاؤ ‘ اور نہ ہی وہ تمہیں اذیت پہنچائے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

4322

Majma al-Zawaid #4322

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: لَأَنْ أَطَأَ عَلَى جَمْرَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَطَأَ عَلَى قَبْرِ مُسْلِمٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

'Abd Allāh, meaning Ibn Mas'ūd رضي الله عنه, reports that treading upon an ember is dearer to him than treading upon the grave of a Muslim.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں انگارے پر پاؤں دے دوں ‘ یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر پاؤں دوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4323

Majma al-Zawaid #4323

عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: «نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَمْشِي فِي نَعْلَيْهِ بَيْنَ الْمَقَابِرِ فَقَالَ: "" يَا صَاحِبَ السِّبْتِيَّةِ، اخْلَعْ نَعْلَيْكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

'Iṣmah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ saw a man walking in his sandals between the graves and commanded him to remove his sibtiyyah sandals. > **"O wearer of sibtiyyah sandals, remove your sandals."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو قبروں کے درمیان جوتا پہن کر چلتے ہوئے دیکھا ‘ تو ارشاد فرمایا : اے جوتوں والے شخص اپنے جوتے اتار دو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند ضعیف ہے ۔