وَعَنْ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ نَحْوَ الْمَقَابِرِ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ قَبْرٍ، فَرَأَيْنَاهُ كَأَنَّهُ يُنَاجِي، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الدُّمُوعَ مِنْ عَيْنَيْهِ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ، وَكَانَ أَوَّلُنَا فَقَالَ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا يُبْكِيكَ؟ قَالَ: "" إِنِّي اسْتَأْذَنْتُ رَبِّي فِي زِيَارَةِ قَبْرِ أُمِّي وَكَانَتْ وَالِدَةً وَلَهَا قِبَلِي حَقٌّ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَسْتَغْفِرَ لَهَا فَنَهَانِي "". قَالَ: ثُمَّ أَوْمَأَ إِلَيْنَا أَنِ اجْلِسُوا فَجَلَسْنَا، فَقَالَ: "" إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبُورِ، فَمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَزُورَ فَلْيَزُرْ، وَإِنِّي [كُنْتُ] نَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا مَا بَدَا لَكُمْ، وَإِنِّي [كُنْتُ] نَهَيْتُكُمْ عَنْ ظُرُوفٍ، وَأَمَرْتُكُمْ بِظُرُوفٍ، [وَأَمَرْتُكُمْ بِـ] ظُرُوفٍ فَانْتَبِذُوا ; فَإِنَّ الْآنِيَةَ لَا تُحِلُّ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ، وَاجْتَنِبُوا كُلَّ مُسْكِرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا النَّوْعِ فِي الْأَشْرِبَةِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
EnglishUnverified translation
Zayd ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه reports that they went out with the Messenger of Allah ﷺ on the day of the Conquest of Makkah toward the graves, and the Messenger of Allah ﷺ sat facing a grave as though conversing intimately, then stood wiping tears from his eyes, and 'Umar رضي الله عنه, foremost among them, met him and asked, offering himself as ransom, what made him weep, whereupon he ﷺ mentioned seeking permission from his Lord to visit his mother's grave as a mother with right upon him and seeking forgiveness for her but being forbidden, then he ﷺ gestured them to sit and announced the permissions after prohibitions concerning graves, sacrificial meat and vessels, with avoidance of every intoxicant. > **"By my father and mother, what makes you weep? I sought permission from my Lord to visit the grave of my mother, for she was a mother with a right upon me, and I wished to seek forgiveness for her, but He forbade me. I had forbidden you visiting graves, so whoever among you wishes to visit, let him visit; and I had forbidden you the meat of sacrifices beyond three days, so eat and store as seems to you; and I had forbidden you vessels, and commanded you vessels, so prepare nabīdh, for vessels neither permit anything nor forbid it, and avoid every intoxicant."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت زید بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ قبرستان کی طرف گئے نبی اکرم ﷺ ایک قبر کی طرف رخ کر کے تشریف فرما ہوئے ‘ ہم نے آپ کو دیکھا یوں لگ رہا تھا جیسے آپ مناجات کر رہے ہیں پھر نبی اکرم ﷺ اٹھے آپ نے اپنی آنکھوں سے آنسو پونچھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آپ سے ملاقات ہوئی وہ ہم سب سے پہلے آپ سے ملے انہوں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے یہ اجازت مانگی کہ اپنی ماں کی قبر کی زیارت کروں کیونکہ وہ میری والدہ ہیں اور ان کا مجھ پر حق ہے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ان کے لئے دعا مغفرت کروں تو پروردگار نے مجھے منع کر دیا پھر نبی اکرم ﷺ نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ تم لوگ بیٹھ جاؤ ہم بیٹھ گئے آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے تمہیں قبروں کی زیارت کرنے سے منع کیا تھا اب تم میں سے جو شخص ( قبروں کی ) زیارت کرنا چاہے وہ زیارت کر لے اور میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت استعمال کرنے سے منع کیا تھا اب تم اسے کھاؤ بھی اور ذخیرہ بھی کرو جتنا تمہیں مناسب لگے اور میں نے تمہیں مخصوص قسم کے برتنوں سے منع کیا تھا اور مخصوص قسم کے برتنوں کی تمہیں اجازت دی تھی تو اب تم ( کسی بھی قسم کے برتن میں ) نبیذ تیار کر لو کیونکہ برتن کسی چیز کو حلال یا حرام نہیں کرتا ہے ‘ البتہ تم ہر نشہ آور چیز سے اجتناب کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث مشروبات سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔