Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 7 · Chapter 14

Book of Funerals

Hadith 4247–4286

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4247

Majma al-Zawaid #4247

عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّهُ كَانَتْ عِنْدَهُ عُصَيَّةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَاتَ، فَدُفِنَتْ مَعَهُ بَيْنَ جَيْبِهِ وَقَمِيصِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه had with him a small staff of the Messenger of Allah ﷺ, and when he died it was buried with him between his breast and his shirt.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ان کے پاس نبی اکرم ﷺ کی ایک چھڑی تھی جب ان کا انتقال ہوا تو وہ چھڑی ان کے ساتھ ان کے گریبان اور قمیص کے درمیان میں دفن کی گئی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4248

Majma al-Zawaid #4248

عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوَدِيِّ قَالَ: «شَهِدْتُ أَبَا أُمَامَةَ، وَهُوَ فِي النَّزْعِ فَقَالَ: إِذَا أَنَا مِتُّ فَاصْنَعُوا بِي كَمَا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [أَنْ نَصْنَعَ بِمَوْتَانَا، أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] فَقَالَ: "" إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنْ إِخْوَانِكُمْ فَسَوَّيْتُمُ التُّرَابَ عَلَى قَبْرِهِ فَلْيَقُمْ أَحَدُكُمْ عَلَى رَأْسِ قَبْرِهِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانَةَ. فَإِنَّهُ يَسْمَعُهُ وَلَا يُجِيبُ. ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانَةَ. فَإِنَّهُ يَسْتَوِي قَاعِدًا. ثُمَّ يَقُولُ: يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانَةَ. فَإِنَّهُ يَقُولُ: أَرْشِدْنَا رَحِمَكَ اللَّهُ - وَلَكِنْ لَا تَشْعُرُونَ - فَلْيَقُلْ: اذْكُرْ مَا خَرَجْتَ عَلَيْهِ مِنَ الدُّنْيَا شَهَادَةَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّكَ رَضِيتَ بِاللَّهِ، رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا، وَبِمُحَمَّدٍ نَبِيًّا، وَبِالْقُرْآنِ إِمَامًا، فَإِنَّ مُنْكَرًا وَنَكِيرًا يَأْخُذُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ، وَيَقُولُ: انْطَلِقْ بِنَا مَا نَقْعُدُ عِنْدَ مَنْ لُقِّنَ حُجَّتَهُ، فَيَكُونُ اللَّهُ حَجِيجَهُ دُونَهُمَا "". [فَـ] قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْ أُمَّهُ؟ قَالَ: "" فَيَنْسِبُهُ إِلَى حَوَّاءَ: يَا فُلَانُ بْنَ حَوَّاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Abdillah al-Awdi said that he attended Abu Umamah رضي الله عنه in his death throes, and he bade them do with him as the Messenger of Allah ﷺ had commanded them to do with their dead. He related that the Messenger of Allah ﷺ commanded that when a brother dies and the earth is levelled over his grave, one of them should stand at the head of his grave and call him thrice by his mother's name, for he hears without answering, then sits upright, then asks for guidance without their perceiving, whereupon he should be reminded of the testimony with which he left the world, his pleasure with Allah as Lord, Islam as religion, Muhammad ﷺ as Prophet, and the Qur'an as guide, so that Munkar and Nakir withdraw from one thus taught his proof, with Allah as his disputant besides them. When asked about one whose mother's name is unknown, he bade him be ascribed to Hawwa. > **"When one of your brothers dies and you level the earth over his grave, let one of you stand at the head of his grave, then say: O so-and-so, son of so-and-so. Remember what you left the world upon: testimony that there is no god but Allah and that Muhammad is His servant and His Messenger, and that you were pleased with Allah as Lord, with Islam as religion, with Muhammad as Prophet, and with the Qur'an as guide. O so-and-so, son of Hawwa."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن عبداللہ اودی بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ‘ وہ نزع کے عالم میں تھے ‘ انہوں نے ارشاد فرمایا : جب میں مر جاؤں ‘ تو تم میرے ساتھ اُسی طرح کرنا ، جس طرح اللہ کے رسول ﷺ نے یہ حکم دیا تھا کہ ہم اپنے مرحومین کے ساتھ کیا کریں ‘ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا : ” جب تمہارے بھائیوں میں سے کوئی ایک انتقال کر جائے اور تم اُس کی قبر پر مٹی کو برابر کر دو ‘ تو تم میں سے کوئی ایک شخص اس کی قبر کے سرہانے کھڑا ہو ‘ اور پھر یہ کہے : اے فلاں بن فلانہ ! کیونکہ وہ مردہ اسے سن رہا ہو گا ‘ اور اسے جواب نہیں دے سکتا ہو گا ‘ پھر وہ شخص یہ کہے : اے فلاں بن فلانہ ! تو وہ مردہ سیدھا ہو کر بیٹھ جائے گا ‘ پھر وہ شخص یہ کہے : اے فلاں بن فلانہ ! تو مردہ کہے گا : تم ہماری رہنمائی کرو ! اللہ تعالیٰ تمہاری رہنمائی کرے ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) لیکن تم لوگوں کو اُس کا شعور نہیں ہو گا ‘ پھر آدمی کو یہ کہنا چاہیے : تم اس چیز کو یاد کرو ! جس چیز پر تم دنیا سے رخصت ہوئے تھے ‘ اور وہ اس بات کی گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور تم اللہ تعالیٰ کے پروردگار ہونے ‘ اسلام کے دین ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے نبی ہونے اور قرآن کے امام ہونے سے راضی تھے ( یعنی اُن پر ایمان رکھتے تھے ) ۔ ( نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں ) تو منکر اور نکیر میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے ‘ اور یہ کہتا ہے : اب ہم چلتے ہیں ، ہم ایسے شخص کے پاس نہیں بیٹھیں گے ‘ جس کی حجت کی اُسے تلقین کر دی گئی ہو ‘ تو اللہ تعالیٰ ان دونوں سے پہلے حجت عطا کرنے والا ہوتا ہے ‘ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آدمی اس کی ماں کا نام نہ جانتا ہو ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو پھر وہ اُس کی نسبت سیدہ حواء رضی اللہ عنہا کی طرف کر دے اور یہ کہے : اے فلاں بن حواء ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک جماعت ایسی ہے ‘ جن میں سے واقف نہیں ہوں ۔

4249

Majma al-Zawaid #4249

عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى قَبْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَأَمَرَ فَرُشَّ عَلَيْهِ الْمَاءُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، إِلَّا أَنَّ شَيْخَ الْبَزَّارِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Rabi'ah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ stood over the grave of Uthman ibn Maz'un رضي الله عنه and commanded that water be sprinkled over it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی قبر پر کھڑے ہوئے ‘ اور آپ ﷺ کے حکم کے تحت ان کی قبر پر پانی چھڑ کا گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ البتہ امام بزار کے استاد محمد بن عبداللہ کا معاملہ مختلف ہے ‘ میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔

4250

Majma al-Zawaid #4250

وَعَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَشَّ عَلَى قَبْرِ ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الطَّبَرَانِيِّ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ sprinkled water over the grave of his son Ibrahim رضي الله عنه.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی قبر پر پانی چھڑکا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ امام طبرانی کے استاد کے علاوہ ‘ اس روایت کے تمام رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4251

Majma al-Zawaid #4251

عَنْ أَبِي الْحَجَّاجِ الثُّمَالِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَقُولُ الْقَبْرُ لِلْمَيِّتِ حِينَ يُوضَعُ فِيهِ: وَيْحَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، مَا غَرَّكَ بِي؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي بَيْتُ الْفِتْنَةِ وَبَيْتُ الظُّلْمَةِ؟ مَا غَرَّكَ إِذْ كُنْتَ تَمُرُّ بِي فَدَّادًا؟ فَإِنْ كَانَ مُصْلِحًا أَجَابَ عَنْهُ مُجِيبُ الْقَبْرِ: أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ؟ قَالَ: فَيَقُولُ الْقَبْرُ: إِنِّي إِذًا أَعُودَ عَلَيْهِ خَضِرًا، أَوْ يَعُودَ جَسَدُهُ نُورًا، وَتَصْعَدَ رُوحُهُ إِلَى رَبِّ الْعَالَمِينَ "". فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَائِذٍ: يَا أَبَا الْحَجَّاجِ، وَمَا الْفَدَّادُ؟ قَالَ: الَّذِي يُقَدِّمُ رِجْلًا وَيُؤَخِّرُ أُخْرَى، كَمِشْيَتِكَ يَا ابْنَ أَخِي أَحْيَانًا. قَالَ: وَهُوَ يَوْمَئِذٍ يَلْبَسُ وَيَتَهَيَّأُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ لِاخْتِلَاطِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Hajjaj al-Thumali رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ said that the grave addresses the dead when he is placed in it, reproaching the son of Adam for his delusion though knowing it the house of trial and darkness and for his strutting past it. If he was righteous, the responder of the grave answers on his behalf by citing his enjoining of good and forbidding of evil, whereupon the grave turns green for him, his body becomes light, and his soul ascends to the Lord of the worlds. When Ibn A'idh asked about the strutter, he described one who steps forward with one foot and delays the other, like his nephew's gait at times, while dressed and prepared that day. > **"Woe to you, O son of Adam, what deluded you of me? Did you not know that I am the house of trial and the house of darkness? What deluded you when you used to pass by me strutting? If he used to enjoin good and forbid evil, then I turn green for him, his body becomes light, and his soul ascends to the Lord of the worlds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحجاج ثمالی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے ‘ تو قبر میت سے یہ کہتی ہے : اے ابن آدم ! تمہارا ستیاناس ہو کس چیز نے تمہیں میرے حوالے سے غلط فہمی کا شکار رکھا ؟ کیا تم یہ بات نہیں جانتے تھے کہ میں آزمائش کا گھر ہوں اور تاریکی کا گھر ہوں تمہیں کس چیز نے غلط فہمی کا شکار کیا جب تم میرے پاس سے گزرا کرتے تھے ‘ اور تمہاری آواز بلند ہوتی تھی ، تو اگر وہ شخص نیکی کرنے والا ہو گا ، تو قبر کو جواب دینے والا اس شخص کی طرف سے یہ جواب دے گا اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر یہ شخص نیکی کا حکم دیتا ہوتا اور برائی سے منع کرتا ہوتا نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں تو قبر یہ کہے گی کہ ایسی صورت میں ‘ میں اس کے لئے سرسبز ہو جاؤں گی ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کا جسم نورانی ہو جائے گا ‘ اور اس کی روح تمام جہانوں کے پروردگار کی بارگاہ میں اوپر چلی جائے گی ‘‘۔ ابن عائذ نے ان سے دریافت کیا : اے ابوحجاج ! فداد سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ شخص جو کبھی پاؤں آگے کر دیتا ہے ‘ اور کبھی پیچھے کر دیتا ہے ، جس طرح اے میرے بھانجے ! تم کبھی چلتے ہو ‘ راوی بیان کرتے ہیں : وہ اس دن ( عمدہ ) لباس پہن کر تیار ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ‘ اور اس میں اس کا اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ضعف پایا جاتا ہے ۔

4252

Majma al-Zawaid #4252

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَجَلَسَ إِلَى قَبْرٍ مِنْهَا فَقَالَ: "" مَا يَأْتِي عَلَى هَذَا الْقَبْرِ مِنْ يَوْمٍ إِلَّا وَهُوَ يُنَادِي بِصَوْتٍ ذَلْقٍ طَلْقِ: يَا ابْنَ آدَمَ، كَيْفَ نَسِيتَنِي؟ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنِّي بَيْتُ الْوَحْدَةِ، وَبَيْتُ الْغُرْبَةِ، وَبَيْتُ الْوَحْشَةِ، وَبَيْتُ الدُّودِ، وَبَيْتُ الضِّيقِ، إِلَّا مَنْ وَسَّعَنِي اللَّهُ عَلَيْهِ؟ "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" الْقَبْرُ إِمَّا رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ، أَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبِ بْنِ سُوَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that they went out with the Messenger of Allah ﷺ for a funeral, and he ﷺ sat beside one of the graves and described how no day passes over the grave except that it calls out, reminded the son of Adam of its solitude, estrangement, wildness, worms and constriction, and then described the grave as either a garden or a pit. > **"O son of Adam, how have you forgotten me? Did you not know that I am the house of solitude, and the house of estrangement, and the house of wildness, and the house of worms, and the house of constriction, except for one for whom Allah makes me spacious? The grave is either a garden from among the gardens of Paradise, or a pit from among the pits of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے نبی اکرم ﷺ قبر کے پاس تشریف فرما ہوئے آپ نے ارشاد فرمایا : اس قبر پر جو بھی دن آتا ہے اس میں یہ بلند آواز میں پکار کر یہ کہتی ہے اے ابن آدم تم مجھے کیسے بھول گئے کیا تم یہ نہیں جانتے کہ میں تنہائی کا گھر ہوں میں غریب الوطنی کا گھر ہوں میں وحشت کا گھر ہوں اور کیڑوں مکوڑوں کا گھر ہوں تنگی کا گھر ہوں البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ‘ جس کے لئے اللہ تعالیٰ مجھے کشادہ کر دے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہوتی ہے ‘ یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ایوب بن سوید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4253

Majma al-Zawaid #4253

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، فَلَمَّا انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ قَعَدَ عَلَى شِقَّتِهِ، فَجَعَلَ يُرَدِّدُ بَصَرَهُ فِيهِ، ثُمَّ قَالَ: "" يُضْغَطُ فِيهِ الْمُؤْمِنُ ضَغْطَةً تَزُولُ مِنْهَا حَمَائِلُهُ، وَيُمْلَأُ عَلَى الْكَافِرِ نَارًا» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي الزُّهْدِ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه reports that they were with the Prophet ﷺ at a funeral, and when they reached the grave he ﷺ sat at its side and kept gazing into it, then described the compression of the believer from which his shoulder-straps are displaced and the filling of fire upon the disbeliever. > **"The believer is compressed therein with a compression from which his ḥamā'il are removed, and it is filled with fire upon the disbeliever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو نبی اکرم ﷺ اس کے کنارے پر بیٹھ گئے آپ اس میں نگاہ ڈالنے لگے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس میں مومن کو یوں بھینچا جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی حمائل ( گردن اور سینہ ) زائل ہو جاتے ہیں ‘ اور یہ کافر کے لئے آگ سے بھر جاتی ہے “۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے یہ حدیث آگے چل کر زہد سے متعلق باب میں مکمل روایت کے طور پر آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک رادی محمد بن جابر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4254

Majma al-Zawaid #4254

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «لَمَّا دُفِنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبَّحَ النَّاسُ مَعَهُ طَوِيلًا، ثُمَّ كَبَّرَ وَكَبَّرَ النَّاسُ، ثُمَّ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَ سَبَّحْتَ؟ قَالَ: "" لَقَدْ تَضَايَقَ عَلَى هَذَا الرَّجُلِ الصَّالِحِ قَبْرُهُ حَتَّى فَرَّجَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ قَالَ الْحُسَيْنِيُّ: فِيهِ نَظَرٌ. قُلْتُ: وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ غَيْرَهُ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn 'Abd Allāh رضي الله عنهما reports that when Sa'd ibn Mu'ādh رضي الله عنه was buried while they were with the Messenger of Allah ﷺ, he ﷺ glorified Allah and the people glorified long with him, then he ﷺ magnified Allah and the people magnified, and when they asked why he ﷺ had glorified, he ﷺ explained the constriction of the grave upon that righteous man and Allah's relief of him. > **"This righteous man was constricted in his grave until Allah, Mighty and Majestic, relieved him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا اس وقت ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے سبحان اللہ کہا لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ خاصی دیر تک سبحان اللہ پڑھا پھر آپ نے تکبیر کہی تو لوگوں نے بھی تکبیر کہی پھر لوگوں نے دریافت کیا : آپ نے سبحان اللہ کیوں کہا تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس نیک شخص کے لئے قبر تنگ ہو گئی تھی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے کشادہ کر دیا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمود بن محمد بن عبدالرحمن بن عمرو بن جموح ہے حسینی فرماتے ہیں اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے ان کے علاوہ کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4255

Majma al-Zawaid #4255

وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «إِنَّ لِلْقَبْرِ ضَغْطَةً، لَوْ كَانَ أَحَدٌ نَاجٍ مِنْهَا لَنَجَا مِنْهَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَعَنْ نَافِعٍ، عَنْ إِنْسَانٍ، عَنْ عَائِشَةَ، وَكِلَا الطَّرِيقَيْنِ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Ā'ishah رضي الله عنها reports from the Prophet ﷺ concerning the pressure of the grave and that had anyone been saved from it, Sa'd ibn Mu'ādh رضي الله عنه would have been saved. > **"Indeed the grave has a pressure; had anyone been saved from it, Sa'd ibn Mu'ādh would have been saved from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں :’’ قبر بھینچتی ہے اگر کسی شخص کو اس سے نجات ملنی ہوتی ہے ‘ تو سعد بن معاذ کو اس سے نجات مل جاتی “۔ یہ روایت امام احمد نے نافع کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ‘ اور نافع کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ۔ ان دونوں اسناد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4256

Majma al-Zawaid #4256

وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: «دَخَلَتْ عَلَيَّ يَهُودِيَّةٌ، فَحَدَّثَتْنِي عَنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرْتُهُ بِقَوْلِهَا فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا، فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ قَالَ: "" يَا عَائِشَةُ، تَعَوَّذِي بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّهُ لَوْ نَجَا أَحَدٌ نَجَا مِنْهُ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَلَكِنَّهُ لَمْ يَزِدْ عَلَى ضَمَّةٍ». قُلْتُ: ذُكِرَ هَذَا فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ فِي عَذَابِ الْقَبْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

'Ā'ishah, Mother of the Believers رضي الله عنها, reports that a Jewish woman came to her and spoke of the punishment of the grave, and when the Messenger of Allah ﷺ came she informed him of her words and he ﷺ gave her no reply at first, then afterwards commanded her to seek refuge and mentioned Sa'd ibn Mu'ādh رضي الله عنه and the embrace. > **"O 'Ā'ishah, seek refuge with Allah from the punishment of the grave, for had anyone been saved, Sa'd ibn Mu'ādh would have been saved from it, but it did no more than embrace him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک یہودی عورت میرے ہاں آئی اور میرے ساتھ قبر کے عذاب کے بارے میں بات چیت کرنے لگی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : جب نبی اکرم ﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے آپ کو اس عورت کے بیان کے بارے میں بتایا نبی اکرم ﷺ نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اگر کسی کو اس سے نجات ملنی ہوتی تو سعد بن معاذ کو اس سے نجات مل جاتی ، لیکن اس نے بھینچنے سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ایک طویل حدیث میں ذکر کی گئی ہے ‘ جو قبر کے عذاب سے متعلق ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4257

Majma al-Zawaid #4257

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ دُفِنَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى قَبْرِهِ قَالَ: "" لَوْ نَجَا أَحَدٌ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ أَوْ مَسْأَلَةِ الْقَبْرِ لَنَجَا سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَلَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً، ثُمَّ أُرْخِيَ عَنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوَسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbās رضي الله عنهما reports that on the day Sa'd ibn Mu'ādh رضي الله عنه was buried, the Prophet ﷺ was sitting at his grave and declared that had anyone been saved from the trial or questioning of the grave, Sa'd would have been saved, yet he was embraced and then released. > **"Had anyone been saved from the trial of the grave, or the questioning of the grave, Sa'd ibn Mu'ādh would have been saved; he was embraced with an embrace, then he was released from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جس دن حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو دفن کیا گیا اس دن نبی اکرم ﷺ ان کی قبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر کسی شخص کو قبر کی آزمائش سے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) قبر کے سوالات سے نجات ملنا ہوتی تو سعد بن معاذ کو مل جاتی اسے پہلے بھینچا گیا اور پھر اسے چھوڑ دیا گیا ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4258

Majma al-Zawaid #4258

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «تُوُفِّيَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجْنَا مَعَهُ، فَرَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهْتَمًّا شَدِيدَ الْحُزْنِ، فَجَعَلْنَا لَا نُكَلِّمُهُ حَتَّى انْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، فَإِذَا هُوَ لَمْ يَفْرَغْ مِنْ لَحْدِهِ، فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ، فَحَدَّثَ نَفْسَهُ هُنَيْهَةً، وَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ فَرَغَ مِنَ الْقَبْرِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ فَرَأَيْتُهُ يَزْدَادُ حُزْنُهُ، ثُمَّ إِنَّهُ فَرَغَ فَخَرَجَ، فَرَأَيْتُهُ سُرِّيَ عَنْهُ وَتَبَسَّمَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَأَيْنَاكَ مُهْتَمًّا حَزِينًا فَلَمْ نَسْتَطِعْ أَنْ نُكَلِّمَكَ، ثُمَّ رَأَيْنَاكَ سُرِّيَ عَنْكَ فَلِمَ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" كُنْتُ أَذْكُرُ ضِيقَ الْقَبْرِ، وَغَمَّهُ وَضَعْفَ زَيْنَبَ، فَكَانَ ذَلِكَ يَشُقُّ عَلَيَّ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْهَا فَفَعَلَ، وَلَقَدْ ضَغَطَهَا ضَغْطَةً سَمِعَهَا مَنْ بَيْنِ الْخَافِقَيْنِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that when Zaynab, daughter of the Messenger of Allah ﷺ, passed away, they went out with him ﷺ and saw him ﷺ deeply anxious and grieved so they did not speak to him until they reached the grave whose laḥd was not yet finished, and he ﷺ sat with them around him, reflected for a while and gazed at the sky, then descended into the grave with increasing grief, and when he ﷺ came out his distress was lifted and he ﷺ smiled, and when they asked about the change he ﷺ mentioned the straitness and anguish of the grave, the weakness of Zaynab, his supplication for lightening, and the embrace heard by all except jinn and men. > **"I was remembering the straitness of the grave, and its anguish, and the weakness of Zaynab, and that weighed upon me, so I supplicated Allah, Mighty and Majestic, to lighten it for her, and He did. Yet it compressed her with a compression heard by all between the two horizons except jinn and men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ نکلے ہم نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ انتہائی غمگین تھے ہم نے آپ کے ساتھ کوئی بات نہیں کی یہاں تک کہ آپ قبر کے پاس تشریف لے آئے ‘ تو ابھی وہاں لحد تیار نہیں ہوئی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوئے ‘ ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے نبی اکرم ﷺ کچھ دیر اپنی سوچ میں رہے پھر آپ آسمان کی طرف دیکھنے لگے جب قبر تیار ہو گئی تو نبی اکرم ﷺ قبر میں اترے میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کے غم میں اضافہ ہو گیا تھا پھر جب آپ فارغ ہوئے اور اس سے باہر آئے تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی پریشانی ختم ہو گئی اور آپ مسکرا رہے تھے ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! پہلے ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ پریشان اور غمگین تھے ہم آپ کے ساتھ بات نہیں کر سکے پھر ہم نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں قبر کی تنگی ‘ اور اس کے غم کو اور زینب کی کمزوری کے بارے میں سوچ رہا تھا ، تو یہ چیز مجھ پر گراں گزر رہی تھی پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ زینب کو تخفیف عطا کرے تو اللہ تعالی نے ایسا کیا البتہ قبر نے اسے ایک مرتبہ بھینچا اور اس کی آواز کو زمین و آسمان کے درمیان ہر چیز نے سنا صرف جنات اور انسانوں نے نہیں سنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

4259

Majma al-Zawaid #4259

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ «أَنْ صَبِيًّا دُفِنَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَوْ أَفْلَتَ أَحَدٌ مِنْ ضَمَّةِ الْقَبْرِ لَأَفْلَتَ هَذَا الصَّبِيُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb رضي الله عنه reports that when a child was buried, the Messenger of Allah ﷺ declared that had anyone escaped the embrace of the grave, that child would have escaped. > **"Had anyone escaped the embrace of the grave, this child would have escaped."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک بچے کو دفن کر دیا گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قبر کے بھینچنے سے اگر کسی کو نجات ملنی ہوتی تو اس بچے کو مل جاتی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4260

Majma al-Zawaid #4260

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى صَبِيٍّ أَوْ صَبِيَّةٍ فَقَالَ: "" لَوْ كَانَ أَحَدٌ نَجَا مِنْ ضَمَّةِ الْقَبْرِ لَنَجَا هَذَا الصَّبِيُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ prayed over a boy, or a girl, and declared that had anyone been saved from the embrace of the grave, that child would have been saved. > **"Had anyone been saved from the embrace of the grave, this child would have been saved."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک بچے یا شاید ایک بچی کی نماز جنازہ ادا کی آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر کسی کو قبر کے بھینچنے سے نجات ملنی ہوتی تو اس بچے کو نجات مل جاتی “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4261

Majma al-Zawaid #4261

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: أَتَيْنَا صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ، فَحَدَّثَتْنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" «إِنْ كُنْتُ لَأَرَى لَوْ أَنَّ أَحَدًا أُعْفِيَ مِنْ ضَغْطَةِ الْقَبْرِ لَعُفِيَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ، وَلَقَدْ ضُمَّ ضَمَّةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Nāfi' reports that they came to Ṣafiyyah bint Abī 'Ubayd and she narrated that the Messenger of Allah ﷺ expressed his view that had anyone been exempted from the pressure of the grave, Sa'd ibn Mu'ādh رضي الله عنه would have been exempted, yet he was embraced. > **"I indeed hold that had anyone been exempted from the pressure of the grave, Sa'd ibn Mu'ādh would have been exempted, yet he was embraced with an embrace."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں : ہم سیدہ صفیہ بنت ابوعبید رضی اللہ عنہما کے پاس آئے ‘ تو انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر کسی شخص کو قبر کے بھینچنے سے معافی ملنی ہوتی تو سعد بن معاذ اس سے بچ جاتا ، لیکن اسے بھی بھینچا گیا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور یہ روایت ’’ مرسل ‘‘ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4262

Majma al-Zawaid #4262

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ فَتَّانَ الْقَبْرِ، فَقَالَ عُمَرُ: أَتُرَدُّ عَلَيْنَا عُقُولُنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" نَعَمْ كَهَيْئَتِكُمُ الْيَوْمَ "". فَقَالَ عُمَرُ: بِفِيهِ الْحَجَرُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Abd Allāh ibn 'Amr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ mentioned the trial of the grave, whereupon 'Umar رضي الله عنه asked whether their minds would be restored to them, and the Messenger ﷺ confirmed it would be as their state today, whereupon 'Umar رضي الله عنه answered with his confident retort. > **"Yes, as your state today. Then stone in his mouth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قبر کی آزمائش کا ذکر کیا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہماری عقلیں ہمیں لوٹا دی جائیں گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ اسی طرح جس طرح آج ہیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر اس کا جواب دے دیا جائے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4263

Majma al-Zawaid #4263

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِنَازَةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَإِذَا الْإِنْسَانُ دُفِنَ فَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ جَاءَهُ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ فَأَقْعَدَهُ قَالَ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا قَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبَدُهُ رَسُولُهُ. فَيَقُولُ: صَدَقْتَ. ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ فَيَقُولُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ فَهَذَا مَنْزِلُكَ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيُرِيدُ أَنْ يَنْهَضَ إِلَيْهِ فَيَقُولُ لَهُ: اسْكُنْ. وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ. وَإِنْ كَانَ كَافِرًا أَوْ مُنَافِقًا يَقُولُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا. فَيَقُولُ: لَا دَرَيْتَ وَلَا تَلَيْتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ. ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: هَذَا مَنْزِلُكَ لَوْ آمَنْتَ بِرَبِّكَ، فَأَمَّا إِذْ كَفَرْتَ بِرَبِّكَ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَبْدَلَكَ هَذَا. وَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ، ثُمَّ يَقْمَعُهُ مِقْمَعَةً بِالْمِطْرَاقِ يَسْمَعُهَا خَلْقُ اللَّهِ كُلُّهُمْ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ "". فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَحَدٌ يَقُومُ عَلَيْهِ مَلَكٌ فِي يَدِهِ مِطْرَاقٌ إِلَّا هِيلَ عِنْدَ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ} [إبراهيم: 27]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَزَادَ: {فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ} [إبراهيم: 27]. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Sa'īd al-Khudrī رضي الله عنه reports that he witnessed a funeral with the Messenger of Allah ﷺ, and he ﷺ addressed the people concerning the trial of this community in their graves, describing the coming of an angel with a hammer who seats the dead and questions him about the man, the answer of the believer and his two openings, the answer of the disbeliever or hypocrite and his beating heard by all creation except the two heavy ones, and when some people expressed fear of the standing angel, he ﷺ recited the verse of the firm word. > **"O people, indeed this community will be tried in their graves. When a man is buried and his companions disperse from him, an angel comes to him with a hammer in his hand and seats him and says: What do you say concerning this man? If he was a believer he says: I bear witness that there is no god but Allah and that Muḥammad is His servant and His Messenger. So he says: You have spoken truly. Then a door to the Fire is opened for him and he says: This would have been your abode had you disbelieved in your Lord, but since you believed in your Lord, this is your abode, and a door to Paradise is opened for him, and he wishes to rise toward it, so he says to him: Remain still. And his grave is widened for him. And if he was a disbeliever or a hypocrite, he says to him: What do you say concerning this man? So he says: I do not know; I heard the people saying something. So he says: You neither knew, nor recited, nor were guided. Then a door to Paradise is opened for him and he says: This would have been your abode had you believed in your Lord, but since you disbelieved in your Lord, Allah, Mighty and Majestic, has exchanged this for you. And a door to the Fire is opened for him, then he strikes him a blow with the hammer heard by all Allah's creation except the two heavy ones. Allah keeps firm those who believe with the firm word."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! اس امت کو ان کی قبروں میں آزمائش کا شکار کیا جائے گا جب انسان کو دفن کیا جاتا ہے ‘ اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے ‘ جس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے وہ اس شخص کو بٹھاتا ہے ‘ اور یہ کہتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو اگر وہ مردہ مؤمن ہو ‘ تو وہ یہ کہتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور حضرت محمد ﷺ کے بندے اور اس کے رسول ہیں تو فرشتہ کہتا ہے تم نے سچ کہا ہے پھر اس شخص کے لئے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے فرشتہ یہ کہتا ہے اگر تم نے اپنے پروردگار کا کفر کیا ہوتا تو تمہارا ٹھکانہ یہ ہونا تھا ، لیکن کیونکہ تم اپنے پروردگار پر ایمان رکھتے تھے اس لئے تمہارا ٹھکانہ یہ ہو گا پھر اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے وہ شخص اٹھ کر اس کی طرف جانا چاہتا ہے ‘ تو فرشتہ اس سے کہتا ہے تم پر سکون رہو پھر اس شخص کے لئے اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے ۔ اور اگر وہ مردہ کوئی کافر یا منافق ہو ‘ تو فرشتہ اس سے کہتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ وہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو کوئی بات کہتے ہوئے سنا تھا ‘ تو فرشتہ کہتا ہے نہ تمہیں سمجھ آئی نہ تم نے تلاوت کی نہ تم نے ہدایت حاصل کی پھر اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے فرشتہ کہتا ہے اگر تم اپنے پروردگار پر ایمان رکھتے ہوتے تو تمہارا ٹھکانہ یہ ہونا تھا ، لیکن تم نے اپنے پروردگار کا کفر کیا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس کی جگہ یہ ٹھکانہ دے دیا ہے پھر اس کے لئے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولا جاتا ہے پھر فرشتہ اسے گرز کے ذریعے ضرب لگاتا ہے ‘ اور اس کی چیخ کو اللہ تعالیٰ کی ساری مخلوق سنتی ہے صرف دو قسم کے گروہ ( انسان اور جنات ) نہیں سن پاتے ہیں ‘‘۔ بعض حاضرین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب کسی شخص کے سرہانے فرشتہ گرز لے کے کھڑا ہوا ہو گا ‘ تو آدمی اس وقت تو ہولناکی کا شکار ہو ہی جائے گا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ اللہ تعالیٰ ایمان رکھنے والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دیتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے “۔ اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4264

Majma al-Zawaid #4264

وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «إِنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا، فَإِذَا أُدْخِلَ الْمُؤْمِنُ قَبَرَهُ وَتَوَلَّى عَنْهُ أَصْحَابُهُ، جَاءَهُ مَلَكٌ شَدِيدُ الِانْتِهَارِ، فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: أَقُولُ: إِنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ وَعَبْدُهُ. فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ: انْظُرْ إِلَى مَقْعَدِكَ الَّذِي كَانَ لَكَ فِي النَّارِ قَدْ أَنْجَاكَ اللَّهُ مِنْهُ أَبْدَلَكَ بِمَقْعَدِكَ الَّذِي تَرَى مِنَ النَّارِ مَقْعَدَكَ الَّذِي تَرَى مِنَ الْجَنَّةِ. فَيَرَاهُمَا كِلَاهُمَا، فَيَقُولُ الْمُؤْمِنُ: دَعُونِي أُبَشِّرُ أَهْلِي. فَيُقَالُ لَهُ: اسْكُنْ. وَأَمَّا الْمُنَافِقُ فَيَقْعُدُ إِذَا تَوَلَّى عَنْهُ أَهْلَهُ فَيَقُولُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي، أَقُولُ مَا تَقُولُ النَّاسُ. فَيُقَالُ: لَا دَرَيْتَ، هَذَا مَقْعَدُكُ الَّذِي كَانَ لَكَ فِي الْجَنَّةِ، قَدْ أَبْدَلَكَ اللَّهُ مَقْعَدَكَ مِنَ النَّارِ "" قَالَ جَابِرٌ: "" فَيَرَاهُمَا جَمِيعًا ""، فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ ; الْمُؤْمِنُ عَلَى إِيمَانِهِ وَالْمُنَافِقُ عَلَى نِفَاقِهِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: "" «يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ فِي الْقَبْرِ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ» "". فَقَطْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ describe the trial of this community in their graves, the coming of a stern angel to the believer and the disbeliever, their answers concerning the man, the exchange of seats in Fire and Paradise seen together, the believer's wish to bear glad tidings to his family and the command to remain still, and that every servant is raised in the grave upon the state in which he died. > **"Indeed this community will be tried in their graves. When the believer is admitted into his grave and his companions turn away from him, a stern angel comes to him and says to him: What did you say concerning this man? So the believer says: I say he is the Messenger of Allah and His servant. So the angel says to him: Look at your seat which was for you in the Fire; Allah has saved you from it, and He has exchanged your seat which you see in the Fire for your seat which you see in Paradise. So he sees them both, and the believer says: Leave me to bear glad tidings to my family. So it is said to him: Remain still. As for the hypocrite, he sits when his family have turned away from him, and it is said to him: What did you say concerning this man? So he says: I do not know; I said what the people said. So it is said: You did not know. This is your seat which was for you in Paradise; Allah has exchanged your seat in the Fire for it. Every servant is raised in the grave upon what he died upon; the believer upon his faith and the hypocrite upon his hypocrisy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس امت کو ان کی قبروں میں آزمائش کا شکار کیا جائے گا مومن کو جب اس کی قبر میں داخل کیا جاتا ہے ‘ اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے ‘ جو ہیبت ناک ہوتا ہے وہ اس سے کہتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ تو وہ مؤمن کہتا ہے یہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں فرشتہ اس سے کہتا ہے تم اس ٹھکانے کی طرف دیکھو جو تمہارا جہنم میں ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس سے نجات عطا کر دی ہے ‘ اور جو تم نے ٹھکانہ جہنم میں دیکھا تھا اس کی جگہ تمہیں وہ ٹھکانہ عطا کر دیا ہے ‘ جو تم جنت میں دیکھو گے وہ ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ لیتا ہے ‘ تو وہ مومن کہتا ہے تم لوگ مجھے مہلت دو تاکہ میں یہ خوشخبری اپنے گھر والوں کو سنا دوں تو اس سے کہا جاتا ہے تم پرسکون رہو جہاں تک منافق کا تعلق ہے ‘ تو وہ بیٹھتا ہے ‘ جب اس کے اہل خانہ اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں فرشتہ اس سے دریافت کرتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ تو وہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم ‘ میں وہی کہتا تھا جو لوگ کہتے تھے ‘ تو یہ کہا جاتا ہے : تم نے سمجھ بوجھ حاصل نہیں کی یہ تمہارا وہ ممکنہ ٹھکانہ ہے ‘ جو جنت میں تمہارا ہونا تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی جگہ تمہیں جہنم کا ٹھکانہ عطا کر دیا ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو وہ شخص ان دونوں ٹھکانوں کو دیکھ لیتا ہے میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قبر میں ہر بندے کو اسی طریقے کے مطابق زندہ کیا جاتا ہے ‘ جس طرح وہ مرا تھا مومن کو اس کے ایمان پر اور منافق کو اس کے نفاق پر ( اٹھایا جاتا ہے ) ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس صرف کا یہ حصہ منقول ہے : ’’ ہر بندے کو قبر میں اس پر اٹھایا جاتا ہے ‘ جس پر وہ مرا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4265

Majma al-Zawaid #4265

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «جَاءَتْ يَهُودِيَّةٌ اسْتَطْعَمَتْ عَلَى بَابِي فَقَالَتْ: أَطْعِمُونِي أَعَاذَكُمُ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ: فَلَمْ أَزَلْ أَحْبِسُهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ؟ قَالَ: "" وَمَا تَقُولُ؟ "" قُلْتُ: تَقُولُ: أَعَاذَكُمُ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ، ثُمَّ قَالَ: "" أَمَّا فِتْنَةُ الدَّجَّالِ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا حَذَّرَهُ أُمَّتَهُ، وَسَأُحَدِّثُكُمُوهُ بِحَدِيثٍ لَمْ يُحَذِّرْهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ ; إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ. فَأَمَّا فِتْنَةُ الْقَبْرِ فَبِي تُفْتَنُونَ، وَعَنِّي تُسْأَلُونَ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ غَيْرَ فَزِعٍ وَلَا مَشْعُوفٍ، فَيُقَالُ: فِيمَ كُنْتَ؟ فَيَقُولُ: فِي الْإِسْلَامِ فَيُقَالُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، فَصَدَّقْنَاهُ. فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ. ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا، [يَقَالُ]: وَعَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ جَلَسَ فِي قَبْرِهِ فَزِعًا مَشْعُوفًا، فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي. فَيُقَالُ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ قَبْلَكُمْ؟ فَيَقُولُ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قَوْلًا فَقُلْتُ كَمَا قَالُوا. فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَنْكَ. ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَيُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا، عَلَى الشَّكِّ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. ثُمَّ يُعَذَّبُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

'Ā'ishah رضي الله عنها reports that a Jewish woman came begging at her door and invoked protection from the trial of the Dajjāl and the trial of the punishment of the grave, and she detained her until the Messenger of Allah ﷺ came and asked what she said, whereupon he ﷺ stood and raised his hands outstretched seeking refuge, then explained the trial of the Dajjāl and the trial of the grave, the questioning of the righteous man without fear and of the evil man in terror, and their two openings. > **"As for the trial of the Dajjāl, there was no prophet except that he warned his community of him, and I shall tell you of him what no prophet told his community: he is one-eyed, and Allah is not one-eyed; written between his eyes is kāfir, which every believer will read. As for the trial of the grave, by me you will be tried, and about me you will be asked. When the righteous man is seated in his grave, neither terrified nor bewildered, it is said: In what were you? So he says: In Islam. So it is said: Who is this man who was among you? So he says: Muḥammad, the Messenger of Allah; he came to us with clear proofs and guidance from Allah, so we believed him. So an opening is made for him toward the Fire, and he looks at it crushing one part another, and it is said to him: Look at what Allah has shielded you from. Then an opening is made for him to Paradise, and he looks at its bloom and what is in it, and it is said to him: This is your seat therein, and upon certainty you lived, and upon it you died, and upon it you will be raised, if Allah wills. And when the evil man sits in his grave, terrified and bewildered, it is said to him: What did you say? So he says: I do not know. So it is said to him: Who is this man who was before you? So he says: I heard the people saying a saying, so I said as they said. So an opening is made for him to Paradise, and he looks at its bloom and what is in it, and it is said to him: Look at what Allah has turned away from you. Then an opening is made for him toward the Fire, and he looks at it crushing one part another, and it is said: This is your seat therein; upon doubt you lived, and upon it you died, and upon it you will be raised, if Allah wills. Then he is punished."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک یہودی عورت آئی اس نے میرے دروازے پر کھانے کے لئے کچھ مانگا اس نے کہا : تم لوگ مجھے کھانے کے لئے کچھ دو اللہ تعالیٰ تمہیں دجال کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب کی آزمائش سے محفوظ رکھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے اس عورت کو روکے رکھا یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ یہودی عورت کیا کہتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کیا کہتی ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ کہتی ہے اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو دجال کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب کی آزمائش سے محفوظ رکھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لئے اور دجال کی آزمائش اور قبر کے عذاب کی آزمائش سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک دجال کی آزمائش کا تعلق ہے ‘ تو ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ‘ اور میں تم لوگوں کو اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتا دوں گا کہ کسی نبی نے اپنی امت کو وہ بات نہیں بتائی وہ یہ کہ وہ ( یعنی دجال ) کانا ہو گا ‘ اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ لے گا جہاں تک قبر کی آزمائش کا تعلق ہے ‘ تو اس میں میرے حوالے سے تمہیں آزمائش کا شکار کیا جائے گا ‘ اور میرے بارے میں تم لوگوں سے سوال کیا جائے گا اگر کوئی نیک شخص ہو گا ‘ تو اسے اُس کی قبر میں بٹھایا جائے گا وہ نہ گھبراہٹ کا شکار ہو گا اور نہ پریشان ہو گا اس سے دریافت کیا جائے گا : تم کس اعتقاد کے قائل تھے وہ جواب دے گا اسلام کے اس سے دریافت کیا جائے گا : تمہارے درمیان جو یہ صاحب تھے یہ کون تھے وہ جواب دے گا یہ حضرت محمد تھے جو اللہ کے رسول تھے وہ ہمارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح نشانیاں اور ہدایت لے کے آئے تھے ہم نے اس کی تصدیق کی ، تو اس شخص کے لئے جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھولی جائے گی وہ جہم کو دیکھے گا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اس سے یہ کہا جائے گا تم اس بات کا جائزہ لو ‘ جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں محفوظ کر دیا ہے پھر اس شخص کے لئے جنت کی طرف سے ایک کھڑکی کھولی جائے گی وہ جنت کی زیبائش و آرائش کو دیکھے گا ‘ تو اس سے یہ کہا جاے گا یہ تمہارا ٹھکانہ ہے اس سے یہ بھی کہا جائے گا تم یقین پر زندہ رہے اس پر مرے اور اگر اللہ نے چاہا تو اسی پر تمہیں زندہ کیا جائے گا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اور اگر وہ کوئی برا شخص ہو ‘ تو وہ قبر میں بیٹھتا ہے ‘ تو وہ پریشان حال اور خوف زدہ ہوتا ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارا کیا عقیدہ تھا وہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہاری طرف جو یہ صاحب تھے یہ کون تھے وہ جواب دیتا ہے میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا ، تو میں نے بھی اسی کی مانند بات کہہ دی جس طرح لوگوں نے کہی تھی تو اس شخص کے لئے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ جنت کی زیبائش اور آرائش کو دیکھتا ہے اس سے یہ کہا جاتا ہے تم اس چیز کو دیکھ لو جسے اللہ تعالیٰ نے تم سے پھیر دیا ہے پھر جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے پھر وہ اس کو دیکھتا ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اس سے کہا جاتا ہے یہ تمہارا ٹھکانہ ہو گا تم شک پر زندہ رہے اسی پر مرے اور اگر اللہ نے چاہا تو اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر اس شخص کو عذاب دیا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

4266

Majma al-Zawaid #4266

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ وَلَمَّا يُلْحَدُ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ، وَكَأَنَّ عَلَى رُءُوسِنَا الطَّيْرُ، وَفِي يَدِهِ عُودٌ يَنْكُتُ بِهِ فِي الْأَرْضِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: "" اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ "". مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ، نَزَلَ إِلَيْهِ مَلَائِكَةٌ مِنَ السَّمَاءِ بِيضُ الْوُجُوهِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الشَّمْسُ، مَعَهُمْ كَفَنٌ مِنْ أَكْفَانِ الْجَنَّةِ، وَحَنُوطٌ مِنْ حَنُوطِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَجْلِسُوا مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، وَيَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ عَلَيْهِ السَّلَامُ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ، اخْرُجِي إِلَى مَغْفِرَةٍ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٍ. قَالَ: فَتَخْرُجُ فَتَسِيلُ كَمَا تَسِيلُ الْقَطْرَةُ فِي السِّقَاءِ، فَيَأْخُذُهَا فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَأْخُذُوهَا، فَيَجْعَلُوهَا فِي ذَلِكَ الْكَفَنِ وَفِي ذَلِكَ الْحَنُوطِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَطْيَبِ نَفْحَةِ مِسْكٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ، قَالَ: فَيَصْعَدُونَ بِهَا، فَلَا يَمُرُّونَ [يَعْنِي: بِهَا] عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذَا الرُّوحُ الطَّيِّبُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ - بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا - حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُمْ، فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا، حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَ عَبْدِي فِي عِلِّيِّينَ، وَأَعِيدُوهُ إِلَى الْأَرْضِ [فَإِنِّي مِنْهَا خَلَقْتُهُمْ وَفِيهَا أُعِيدُهُمْ وَمِنْهَا أُخْرِجُهُمْ تَارَةً أُخْرَى. قَالَ: فَتُعَادُ رُوحُهُ] فِي جَسَدِهِ، فَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ [لَهُ]: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ. فَيَقُولَانِ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: دِينِيَ الْإِسْلَامُ. فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: هُوَ رَسُولُ اللَّهِ. فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا عَمَلُكَ؟ فَيَقُولُ: قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ وَآمَنْتُ بِهِ وَصَدَّقْتُهُ. فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ صَدَقَ عَبْدِي فَأَفْرِشُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَأَلْبِسُوهُ مِنَ الْجَنَّةِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ. قَالَ: فَيَأْتِيهِ مِنْ رُوحِهَا وَطِيبِهَا، وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ. قَالَ: وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ حَسَنُ الْوَجْهِ، حَسَنُ الثِّيَابِ، طَيِّبُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُرُّكَ، هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ. فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ فَوَجْهُكَ الْوَجْهُ يَجِيءُ بِالْخَيْرِ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الصَّالِحُ. فَيَقُولُ: رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ، رَبِّ أَقِمِ السَّاعَةَ ; حَتَّى أَرْجِعَ إِلَى أَهْلِي وَمَالِي. وَإِنَّ الْعَبْدَ الْكَافِرَ إِذَا كَانَ فِي انْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْيَا وَإِقْبَالٍ مِنَ الْآخِرَةِ نَزَلَ مَلَائِكَةٌ سُودُ الْوُجُوهِ، مَعَهُمُ الْمُسُوحُ، فَيَجْلِسُونَ مِنْهُ مَدَّ الْبَصَرِ، ثُمَّ يَجِيءُ مَلَكُ الْمَوْتِ حَتَّى يَجْلِسَ عِنْدَ رَأْسِهِ، فَيَقُولُ: أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْخَبِيثَةُ، اخْرُجِي إِلَى سَخَطٍ مِنَ اللَّهِ وَغَضَبٍ. فَتُفَرَّقُ فِي جَسَدِهِ فَيَنْزِعُهَا كَمَا يَنْزِعُ السَّفُّودَ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ، وَيَخْرُجَ مِنْهَا كَأَنْتَنِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ. فَيَصْعَدُونَ بِهَا فَلَا يَمُرُّونَ بِهَا عَلَى مَلَإٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا: مَا هَذِهِ الرِّيحُ الْخَبِيثَةُ؟ فَيَقُولُونَ: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ - بِأَقْبَحِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانَ يُسَمَّى بِهَا فِي الدُّنْيَا - حَتَّى يُنْتَهَى بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيُسْتَفْتَحُ لَهُ فَلَا يُفْتَحُ لَهُ "". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تُفْتَحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَلَا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ، فَيَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: اكْتُبُوا كِتَابَهُ فِي سِجِّينٍ فِي الْأَرْضِ السُّفْلَى. ثُمَّ تُطْرَحُ رُوحُهُ طَرْحًا "". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَكَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَاءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّيْرُ أَوْ تَهْوِي بِهِ الرِّيحُ فِي مَكَانٍ سَحِيقٍ} [الحج: 31] فَيُعَادُ رُوحُهُ فِي جَسَدِهِ، وَيَأْتِيهِ مَلَكَانِ فَيُجْلِسَانِهِ فَيَقُولَانِ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي. [فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا دِينُكَ؟ فَيَقُولُ: هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي، فَيَقُولَانِ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي بُعِثَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ هَاهْ هَاهْ، لَا أَدْرِي] فَيُنَادِي مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: أَنْ كَذَبَ، فَأَفْرِشُوهُ مِنَ النَّارِ، وَافْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، فَيَأْتِيهِ مِنْ حَرِّهَا وَسُمُومِهَا، وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ فِيهِ أَضْلَاعُهُ، وَيَأْتِيهِ رَجُلٌ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ، مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِالَّذِي يَسُوءُكَ هَذَا يَوْمُكَ الَّذِي كُنْتَ تُوعَدُ. فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَوَجْهُكَ الَّذِي يَجِيءُ بِالشَّرِّ. فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ. فَيَقُولُ: رَبِّ لَا تُقِمِ السَّاعَةَ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Barā' ibn 'Āzib رضي الله عنه reports that they went out with the Messenger of Allah ﷺ for the funeral of a man from the Anṣār, and when they reached the grave whose laḥd was not yet dug, the Messenger of Allah ﷺ sat with them around him as though birds were upon their heads, prodding the earth with a stick in his hand, then raised his head and twice or thrice commanded seeking refuge, then described at length the descent of white-faced angels and the departure of the tranquil soul with its ascent to the seventh heaven and return, its questioning and widening and handsome visitor, and the descent of black-faced angels and the departure of the foul soul with its rejection from heaven and return, its questioning and constriction and ugly visitor. > **"Seek refuge with Allah from the punishment of the grave. O tranquil soul, come out to forgiveness from Allah and pleasure. Write the book of My servant in 'Illiyyīn, and return him to the earth, for from it I created them, and into it I shall return them, and from it I shall bring them out another time. Who is your Lord? What is your religion? Who is this man who was sent among you? What is your deed? My servant has spoken truly, so spread for him from Paradise, and clothe him from Paradise, and open for him a door to Paradise. Bear glad tidings of what delights you; this is your day which you were promised. I am your righteous deed. My Lord, establish the Hour, my Lord, establish the Hour, so that I may return to my family and my wealth. O foul soul, come out to wrath from Allah and anger. The gates of heaven shall not be opened for them, nor shall they enter Paradise until the camel passes through the eye of the needle. Write his book in Sijjīn in the lowest earth. And whoever associates with Allah, it is as though he fell from the sky and the birds snatched him, or the wind swept him to a distant place. Hah, hah, I do not know. He has lied, so spread for him from the Fire, and open for him a door to the Fire. Bear glad tidings of what displeases you; this is your day which you were promised. I am your foul deed. My Lord, do not establish the Hour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک انصاری شخص کے جنازے میں شریک ہوئے جب ہم قبر کے پاس پہنچے تو ابھی لحد تیار نہیں ہوئی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہوئے ، ہم آپ کے اردگرد بیٹھ گئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ہمارے سروں پر پرندے موجود ہوں نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک میں ایک چھڑی تھی جس کے ذریعے آپ زمین کو کرید رہے تھے ۔ آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور ارشاد فرمایا : قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو آپ نے یہ بات دو یا شاید تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا :’’ مومن بندہ جب دنیا سے رخصت ہونے لگتا ہے ‘ اور آخرت کی طرف جانے لگتا ہے ، تو سفید چہروں کے مالک فرشتے آسمان سے نازل ہو کر اس کی طرف آتے ہیں ان کے چہرے سورج کی مانند ( روشن اور چمک دار ) ہوتے ہیں ان کے پاس جنت کا کفن ہوتا ہے ‘ جنت کی خوشبو ہوتی ہے ‘ اور وہ اس شخص کے پاس اتنی دور تک بیٹھ جاتے ہیں جہاں تک نگاہ کام کرتی ہے پھر ملک الموت علیہ السلام آتے ہیں اور اس شخص کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور یہ کہتے ہیں : اے مطمئن جان تم نکل کر اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور رضا مندی کی طرف جاؤ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں تو وہ جان یوں نکلتی ہے ، ‘ جس طرح مشکیزے میں سے کوئی قطرہ ٹپکتا ہے ملک الموت اسے پکڑ لیتے ہیں جب اسے پکڑ لیتے ہیں تو پلک جھپکنے کے عرصے کے لئے بھی اسے نہیں چھوڑتے یہاں تک کہ وہ اسے پکڑ کر اسے اس کفن میں رکھ دیتے ہیں اور اس خوشبو کو لگا دیتے ہیں وہ اس جسم میں سے یوں نکلتی ہے ‘ جس طرح روئے زمین پر موجود مشک کی سب سے عمدہ خوشبو ہو نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں فرشتے اس جان کو لے کر اوپر جاتے ہیں وہ فرشتے اس روح کو لے کر فرشتوں کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ فرشتے یہ کہتے ہیں : یہ کس کی پاکیزہ روح ہے ‘ تو وہ فرشتے یہ جواب دیتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے وہ اس شخص کا سب سے اچھا نام لیتے ہیں دنیا میں جس سب سے اچھے نام کے ذریعے اسے بلایا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ فرشتے اسے لے کے آسمان دنیا تک پہنچ جاتے ہیں وہ دروازہ کھولنے کے لئے کہتے ہیں : پھر ہر آسمان سے مقرب فرشتے اگلے آسمان تک اس روح کے ساتھ جاتے ہیں یہاں تک کہ اسے ساتویں آسمان تک پہنچا دیا جاتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے میرے بندے کی تحریر کو علیین میں نوٹ کر لو اور اسے زمین کی طرف لوٹا دو کیونکہ ہم نے اس سے انہیں پیدا کیا ہے ‘ اور اسی میں ہم انہیں لوٹا دیں گے اور اس میں سے ہی ہم انہیں دوبارہ نکالیں گے تو اس شخص کی روح کو اس شخص کے جسم کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے پھر دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں وہ اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے دریافت کرتے ہیں تمہارا پروردگار کون ہے وہ جواب دیتا ہے میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے دونوں فرشتے دریافت کرتے ہیں تمہارا دین کیا ہے وہ جواب دیتا ہے میرا دین اسلام ہے دونوں فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں وہ صاحب کون ہیں ، جو تمہارے درمیان مبعوث ہوئے تھے وہ جواب دیتا ہے وہ اللہ کے رسول ہیں تو دونوں فرشتے اس سے یہ کہتے ہیں : تمہارا عمل کیا ہے وہ جواب دیتا ہے میں نے اللہ کی کتاب کو پڑھا اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی ، تو آسمان سے ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے کہ میرے بندے نے سچ کہا ہے تم اس کے لئے جنت کا بچھونا بچھا دو اسے جنت کا لباس پہنا دو اس کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھول دو تو جنت کی ٹھنڈک اور خوشبو اس شخص کی طرف آتی ہے ‘ اور اس شخص کی قبر کو حد نگاہ تک وسیع کر دیا جاتا ہے پھر ایک شخص اس کے پاس آتا ہے ، جس کا چہرہ خوبصورت ہوتا ہے لباس شاندار ہوتا ہے خوشبو پاکیزہ ہوتی ہے وہ یہ کہتا ہے تم اس چیز کی خوشخبری حاصل کرو جو تمہیں خوش کر دے گی یہ وہ دن ہے ، جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا تھا وہ بندہ کہتا ہے تم کون ہو تمہارا چہرہ بہت خوبصورت ہے ‘ اور تم بھلائی لے کے آئے ہو ‘ تو وہ دوسرا شخص کہتا ہے میں تمہارا نیک عمل ہوں تو وہ بندہ کہتا ہے اے میرے پروردگار ! قیامت قائم کر دے اے میرے پروردگار ! قیامت قائم کر دے تاکہ میں اپنے اہل خانہ اور اپنے مال کی طرف لوٹ جاؤں ۔ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) جب کافر شخص کا دنیا سے رخصت ہونے اور آخرت کی طرف جانے کا وقت آتا ہے ‘ تو سیاہ چہروں کے مالک فرشتے نازل ہوتے ہیں ان کے ساتھ کھردرے کپڑے ہوتے ہیں وہ حد نگاہ تک اس کے پاس بیٹھ جاتے ہیں پھر ملک الموت آتے ہیں اور اس کے سرہانے بیٹھ جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں : اے خبیث روح تم نکل کر پروردگار کی ناراضگی ‘ اور غضب کی طرف جاؤ تو وہ روح اس شخص کے جسم میں پھیل جاتی ہے ، تو ملک الموت یوں اسے الگ کرتا ہے ، جس طرح تر روئی میں سے کانٹا الگ کیا جاتا ہے ‘ جب ملک الموت اسے پکڑ لیتا ہے ‘ تو اسے پلک جھپکنے کے عرصے کے لئے بھی نہیں چھوڑتا ہے اسے فورا اس کھردرے کپڑے میں ڈال دیتا ہے وہ روح اس جسم سے یوں نکلتی ہے کہ جیسے انتہائی بدبودار مردار ہو جو زمین پر پایا گیا ہو فرشتے اسے لے کر اوپر کی طرف جاتے ہیں وہ فرشتوں کے جس بھی گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ فرشتے دریافت کرتے ہیں یہ خبیث بدبو کس چیز کی ہے وہ جواب دیتے ہیں فلاں بن فلاں کی ہے وہ اس کے سب سے برے نام کے ذریعے ذکر کرتے ہیں جو دنیا میں اس کا لیا جاتا تھا یہاں تک کہ وہ اسے لے کر آسمان دنیا کے پاس پہنچتے ہیں اس کے لئے دروازہ کھولنے کا کہا جاتا ہے ‘ تو دروازہ نہیں کھلتا پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ ان لوگوں کے لئے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک اونٹ سوئی کے ناکے میں داخل نہیں ہوتا ‘‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم اس کی تحریر کو سجین میں سب سے نیچے والی زمین نوٹ کر لو پھر اس کی روح کو پھینک دیا جاتا ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتا ہے ‘ تو اس کی مثال یوں ہے جیسے وہ آسمان سے گرا ہو ‘ اور پرندوں نے اسے اُچک لیا ہو ‘ یا ہواؤں نے اُڑا کر دور دراز کے مقام پر پہنچا دیا ‘‘۔ پھر اس شخص کی روح کو اس کے جسم میں لوٹا دیا جاتا ہے ‘ پھر دو فرشتے اس کے پاس آتے ہیں وہ دونوں اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے دریافت کرتے ہیں تمہارا پروردگار کون ہے وہ جواب دیتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا ہے دونوں فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں تمہارا دین کیا ہے وہ جواب دیتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا دونوں فرشتے اس سے دریافت کرتے ہیں یہ صاحب کون ہیں ، جو تمہارے درمیان مبعوث ہوئے تھے وہ جواب دیتا ہے ہائے ہائے میں نہیں جانتا ، تو آسمان سے ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے اس نے جھوٹ بولا ہے اس کے لئے جہنم کا بچھونا بچھا دو اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھول دو تاکہ اس کی تپش اور اس کی گرمی اس کی طرف آئے اس شخص کی قبر اس کے لئے تنگ ہو جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں پھر ایک شخص اس کے پاس آتا ہے ‘ جس کا چہرہ انتہائی قبیح ہوتا ہے ‘ اور لباس قبیح ہوتا ہے ‘ اور بو بدبودار ہوتی ہے وہ یہ کہتا ہے تم اس بات کی اطلاع قبول کرو جو تمہیں بری لگے گی یہ وہ دن ہے ‘ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا تھا وہ مردہ دریافت کرتا ہے تم کون ہو ؟ تم ایک برائی لے کے آئے ہو ‘ تو وہ جواب دیتا ہے میں تمہارا خبیث عمل ہوں تو مردہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار ! تو قیامت قائم نہ کرنا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4267

Majma al-Zawaid #4267

وَعِنْدَ أَحْمَدَ فِي رِوَايَةٍ عَنْهُ أَيْضًا نَحْوُ هَذَا. وَزَادَ فِيهِ: " «فَيَأْتِيهِ آتٍ قَبِيحُ الْوَجْهِ قَبِيحُ الثِّيَابِ مُنْتِنُ الرِّيحِ، فَيَقُولُ: أَبْشِرْ بِهَوَانٍ مِنَ اللَّهِ وَعَذَابٍ مُقِيمٍ، فَبَشَّرَكَ اللَّهُ بِالشَّرِّ مَنْ أَنْتَ؟ فَيَقُولُ: أَنَا عَمَلُكَ الْخَبِيثُ، كُنْتَ بَطِيئًا عَنْ طَاعَةِ اللَّهِ، سَرِيعًا فِي مَعْصِيَتِهِ فَجَزَاكَ اللَّهُ شَرًّا. ثُمَّ يُقَيَّضُ لَهُ أَعْمَى أَصَمُّ أَبْكَمُ فِي يَدِهِ مِرْزَبَّةٌ، لَوْ ضُرِبَ بِهَا جَبَلٌ كَانَ تُرَابًا، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً فَيَصِيرُ تُرَابًا، ثُمَّ يُعِيدُهُ اللَّهُ كَمَا كَانَ، فَيَضْرِبُهُ ضَرْبَةً أُخْرَى فَيَصِيحُ صَيْحَةً يَسْمَعُهُ كُلُّ شَيْءٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ ". قَالَ الْبَرَاءُ: " ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ، وَيُمَهَّدُ لَهُ مِنْ فُرُشِ النَّارِ».

EnglishUnverified translation

Al-Barā' رضي الله عنه reports in a narration with Aḥmad similar to the preceding, with the addition of the coming of an ugly-faced, ugly-clothed, foul-smelling visitor announcing disgrace, his identification as the foul deed marked by slowness to obedience and haste to disobedience, and the appointment of a blind, deaf and mute angel with a hammer that would turn a mountain to dust, striking him to dust and restored and struck again with a shriek heard by all except the two heavy ones, followed by a door to the Fire and bedding from the Fire. > **"Bear glad tidings of disgrace from Allah and lasting punishment; may Allah give you tidings of evil; who are you? I am your foul deed; you were slow to the obedience of Allah, swift in His disobedience, so Allah has requited you with evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد نے ایک روایت میں ان صحابی کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ پھر ایک شخص اس کے پاس آتا ہے ، جس کا چرہ قبیح ہوتا ہے لباس قبیح ہوتا ہے بو بدبودار ہوتی ہے وہ یہ کہتا ہے : اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسوائی اور ہمیشہ رہنے والے عذاب کی اطلاع حاصل کرو اللہ تعالیٰ نے برائی کے بارے میں تمہیں اطلاع بھجوائی ہے وہ دریافت کرتا ہے تم کون ہو ‘ تو وہ جواب دیتا ہے میں تمہارا خبیث عمل ہوں تم اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداری کے کام میں سست تھے ‘ اور اس کی معصیت کے کام میں جلد باز تھے تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں برا بدلہ دیا ہے پھر اس شخص کے لئے ایک فرشتہ مقرر کیا جاتا ہے ‘ جو گونگا بہرا اور اندھا ہوتا ہے اس کے ہاتھ میں گرز ہوتا ہے اگر اس گرز کو پہاڑ پر مارا جائے تو وہ مٹی ہو جائے وہ فرشتہ اس مردے کو ضرب لگاتا ہے ‘ تو وہ مردہ مٹی ہو جاتا ہے پھر اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ اسے پہلے کی طرح کر دیتا ہے وہ فرشتہ پھر اسے ضرب لگاتا ہے ‘ تو وہ مردہ ایسی چیخ مارتا ہے ‘ جسے ہر چیز سنتی ہے صرف دو قسم کے گروہ ( یعنی انسان اور جنات ) نہیں سن پاتے ہیں ‘‘۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر اس شخص کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے ‘ اور اس کے لئے جہنم کا بچھونا بچھا دیا جاتا ہے ۔

4268

Majma al-Zawaid #4268

وَعَنْ أَسْمَاءَ أَنَّهَا كَانَتْ تُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «إِذَا دَخَلَ الْإِنْسَانُ قَبْرَهُ فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا أَحَفَّ بِهِ عَمَلُهُ الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ. قَالَ: فَيَأْتِيهِ الْمَلَكُ مِنْ نَحْوِ الصَّلَاةِ فَيَرُدُّهُ، وَمِنْ نَحْوِ الصِّيَامِ فَيَرُدُّهُ، [قَالَ]: فَيُنَادِيهِ: اجْلِسْ. قَالَ: فَيَجْلِسُ، فَيَقُولُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مَنْ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ. قَالَ: [أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: يَقُولُ: وَمَا يُدْرِيكَ؟ أَدْرَكْتَهُ؟ قَالَ]: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ. قَالَ: يَقُولُ: عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثَ. قَالَ: وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا أَوْ كَافِرًا قَالَ: جَاءَهُ مَلَكٌ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ يَرُدُّهُ قَالَ: فَأَجْلَسَهُ قَالَ: اجْلِسْ مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ قَالَ: أَيُّ رَجُلٍ. قَالَ: مُحَمَّدٌ. [قََالَ]: يَقُولُ: مَا أَدْرِي - وَاللَّهِ - سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ. قَالَ: [فَيَقُولُ] لَهُ الْمَلَكُ: عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثَ. وَتُسَلَّطُ عَلَيْهِ دَابَّةٌ فِي قَبْرِهِ مَعَهَا سَوْطٌ ثَمَرَتُهُ جَمْرَةٌ مِثْلُ [عَرْفِ] الْبَعِيرِ، تَضْرِبُهُ مَا شَاءَ اللَّهُ، صَمَّاءُ لَا تَسْمَعُ صَوْتَهُ فَتَرْحَمَهُ». قُلْتُ: لَهَا فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ مِنْهُ طَرَفًا فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Asmā' رضي الله عنها reports from the Prophet ﷺ concerning the man's entry into the grave, the surrounding of the believer by his prayer and fasting which repel the angel from either side, his seating and questioning about the Prophet ﷺ and his firm answer with its requital, and the coming of the angel to the wicked or disbelieving man with nothing to repel him, his ignorant answer with its requital, and the unleashing of a deaf beast with a whip tipped with ember like a camel's hump striking as Allah wills. > **"Sit. What do you say concerning this man, meaning Muḥammad? I bear witness that he is the Messenger of Allah. Upon that you lived, and upon it you died, and upon it you will be raised. Sit; what do you say concerning this man? Upon that you lived, and upon it you died, and upon it you will be raised."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات بیان کرتی ہیں : ’’ جب انسان قبر میں داخل ہوتا ہے ‘ تو اگر وہ مؤمن ہو ‘ تو اس کا عمل یعنی نماز اور روزہ اسے گھیر لیتے ہیں فرشتہ نماز کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ‘ تو نماز اسے واپس کر دیتی ہے ‘ روزے کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ‘ تو روزہ اسے واپس کر دیتا ہے پھر فرشتہ اسے پکار کر کہتا ہے تم بیٹھ جاؤ وہ بندہ بیٹھ جاتا ہے فرشتہ اس سے دریافت کرتا ہے ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو یعنی نبی اکرم ﷺ کے بارے میں کیا کہتے ہو وہ کہتا ہے کون سے صاحب ؟ فرشتہ کہتا ہے حضرت محمد ﷺ وہ مردہ کہتا ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں فرشتہ کہتا ہے تمہیں اس بات کا کیسے پتہ چلا کیا تم نے ان کا زمانہ پایا ہے وہ جواب دیتا ہے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں وہ فرشتہ کہتا ہے تم اسی عقیدے پر زندہ رہے اسی پر مرے اور اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اگر وہ مردہ کوئی گناہ گار یا کافر ہو تو فرشتہ اس کے پاس آتا ہے اس کے اور مردے کے درمیان کوئی چیز نہیں ہوتی جو فرشتے کو واپس کرے وہ فرشتہ اسے بٹھا دیتا ہے ‘ اور کہتا ہے تم بیٹھ جاؤ ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو وہ دریافت کرتا ہے کون سے صاحب ؟ فرشتہ جواب دیتا ہے حضرت محمد ( ﷺ ) مردہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم اللہ کی قسم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا ‘ تو میں نے وہ بات کہہ دی تو فرشتہ اس سے یہ کہتا ہے تم اسی عقیدے پر زندہ رہے اس پر تم مرے اور اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا ‘ اس شخص پر اس کی قبر میں ایک جانور کو مسلط کیا جاتا ہے ‘ جس کے پاس ستر کوڑے ہوتے ہیں اور اس کا کنارہ انگارے کا ہوتا ہے ‘ جو اونٹ کی ایال کی طرح کا ہوتا ہے ‘ وہ اس کو جتنا اللہ کو منظور ہو اتنا مارتا ہے وہ بہرا ہوتا ہے اس مردے کی آواز نہیں سنتا کہ اس پر رحم کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) ان خاتون کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث منقول ہے ‘ جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4269

Majma al-Zawaid #4269

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَيُسْمَعُ خَفْقُ نِعَالِهِمْ حِينَ يُوَلُّونَ عَنْهُ، فَإِذَا كَانَ مُؤْمِنًا كَانَتِ الصَّلَاةُ عِنْدَ رَأْسِهِ، وَالزَّكَاةُ عَنْ يَمِينِهِ، وَالصَّوْمُ عَنْ شِمَالِهِ، وَفِعْلُ الْخَيْرَاتِ، وَالْمَعْرُوفُ، وَالْإِحْسَانُ إِلَى النَّاسِ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، فَتَقُولُ الصَّلَاةُ: لَيْسَ قِبَلِي مَدْخَلٌ. فَيُؤْتَى عَنْ يَمِينِهِ فَتَقُولُ الزَّكَاةُ: لَيْسَ قِبَلِي مَدْخَلٌ. وَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ شِمَالِهِ فَيَقُولُ الصَّوْمُ: لَيْسَ قِبَلِي مَدْخَلٌ. ثُمَّ يُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَيَقُولُ فِعْلُ الْخَيْرَاتِ، وَالْمَعْرُوفُ، وَالْإِحْسَانُ إِلَى النَّاسِ: لَيْسَ مِنْ قِبَلِي مَدْخَلٌ. فَيُقَالُ لَهُ: اجْلِسْ. فَيَجْلِسُ، وَقَدْ مَثُلَتْ لَهُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوبِ، فَيُقَالُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ الَّذِي كَانَ قِبَلَكُمْ؟ - يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ مِنْ عِنْدِ رَبِّنَا ; فَصَدَّقْنَاهُ وَاتَّبَعْنَاهُ، فَيُقَالُ لَهُ: صَدَقْتَ، وَعَلَى هَذَا حَيِيتَ وَعَلَى هَذَا مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنَّ شَاءَ اللَّهُ. وَيُفْسَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَدَّ بَصَرِهِ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: "" {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27] ""، وَيُقَالُ: افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، فَيُفْتَحُ لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، فَيُقَالُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ لَوْ عَصَيْتَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ -. فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا وَيُقَالُ: افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، فَيُفْتَحُ لَهُ فَيُقَالُ: هَذَا مَنْزِلُكَ وَمَا أَعَدَّهُ اللَّهُ لَكَ. فَيَزْدَادُ غِبْطَةً وَسُرُورًا فَيُعَادُ الْجِلْدُ إِلَى مَا بَدَأَ مِنْهُ وَيُجْعَلُ رُوحُهُ فِي نَسَمِ طَيْرٍ يُعَلَّقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ. وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيُؤْتَى [فِي قَبْرِهِ] مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ فَلَا يُوجَدُ شَيْءٌ، فَيُؤْتَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ فَلَا يُوجِدُ شَيْءٌ، فَيَجْلِسُ خَائِفًا مَرْعُوبًا فَيُقَالُ لَهُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ كَانَ فِيكُمْ؟ وَمَا تَشَهَدُ بِهِ؟ فَلَا يَهْتَدِي لِاسْمِهِ، فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَيَقُولُ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُ كَمَا قَالُوا. فَيُقَالُ لَهُ: صَدَقْتَ، عَلَى هَذَا حَيِيتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. وَيُضَيَّقُ اللَّهُ قَبْرَهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِي فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا} [طه: 124]، فَيُقَالُ: افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى الْجَنَّةِ، [فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ]، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا كَانَ مَنْزِلَكَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ لَوْ أَطَعْتَهُ، فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وُثُبُورًا، ثُمَّ يُقَالُ: افْتَحُوا لَهُ بَابًا إِلَى النَّارِ، فَيُفْتَحُ لَهُ [بَابٌ] إِلَيْهَا، فَيُقَالُ: هَذَا مَنْزِلُكَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لَكَ، فَيَزْدَادُ حَسْرَةً وَثُبُورًا». قَالَ أَبُو عُمَرَ - يَعْنِي الضَّرِيرَ -: قُلْتُ لِحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ: كَانَ هَذَا مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ؟ قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو عُمَرَ: كَأَنَّهُ يَشْهَدُ بِهَذِهِ الشَّهَادَةِ عَلَى غَيْرِ يَقِينٍ يَرْجِعُ إِلَى قَلْبِهِ، كَانَ يَسْمَعُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَيَقُولُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ swore by the One in Whose Hand is his soul that the dead hears the shuffling of their sandals as they turn away, then described the standing of prayer at the head, zakāh at the right, fasting at the left and good deeds, kindness and beneficence at the feet, each repelling approach from its side, the seating with the sun pictured at setting, the questioning about the man sent before them, the believer's testimony and its requital with widening and the verse of the firm word and the two doors increasing joy and the soul placed in a bird hanging in the trees of Paradise, and the disbeliever's fearful sitting, his ignorant answer, his constriction and the verse of the constricted life and the two doors increasing regret, with the explanatory remark of Abū 'Umar and Ḥammād ibn Salamah concerning one of the qiblah who testified without heart-certainty. > **"By the One in Whose Hand is my soul, he hears the shuffling of their sandals as they turn away from him. There is no entry from my side. Sit. What do you say concerning this man who was before you? I bear witness that he is the Messenger of Allah; he came to us with clear proofs from our Lord, so we believed him and followed him. You have spoken truly, and upon this you lived, and upon this you died, and upon it you will be raised, if Allah wills. Allah keeps firm those who believe with the firm word in the life of this world and in the Hereafter. Open for him a door to the Fire. This would have been your abode had you disobeyed Allah, Mighty and Majestic. Open for him a door to Paradise. This is your abode and what Allah has prepared for you. What do you say concerning this man who was among you, and what do you testify of him? Muḥammad. I heard the people saying something, so I said as they said. You have spoken truly; upon this you lived, and upon it you died, and upon it you will be raised, if Allah wills. And whoever turns away from My remembrance, then he shall have a constricted life. Open for him a door to Paradise. This would have been your abode and what Allah had prepared for you had you obeyed Him. Open for him a door to the Fire. This is your abode and what Allah has prepared for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ‘ جب اسے لوگ چھوڑ کر جاتے ہیں تو وہ ( یعنی مردہ ) ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے اگر وہ مؤمن ہو ‘ تو نماز اس کے سرہانے آ جاتی ہے زکوۃ اس کے دائیں طرف آ جاتی ہے روزہ بائیں طرف آ جاتا ہے بھلائی کے کام اور نیکیاں اور لوگوں کے ساتھ اچھائیاں پاؤں کی طرف آ جاتے ہیں پھر اگر فرشتہ اس کے سرہانے کی طرف سے آنے کی کوشش کرے تو نماز یہ کہتی ہے میری طرف سے جانے کا راستہ نہیں ہے اگر دائیں طرف سے آنے کی کوشش کرے تو زکوۃ یہ کہتی ہے میری طرف سے جانے کا راستہ نہیں ہے بائیں طرف سے آنے کی کوشش کی جائے تو روزہ کہتا ہے میری طرف سے جانے کا راستہ نہیں ہے پھر اگر پاؤں کی طرف سے آنے کی کوشش کرے تو بھلائی کے کام نیکیاں اور لوگوں کے سے اچھائیاں یہ کہتی ہیں میری طرف سے آنے کی گنجائش نہیں ہے ‘ تو اس مردے سے کہا جاتا ہے تم بیٹھ جاؤ وہ بیٹھ جاتا ہے اس مردے کے سامنے یہ صورت حال ہوتی ہے جیسے سورج غروب ہونے لگا ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے : ان صاحب کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ؟ جو تمہاری طرف مبعوث ہو کر آئے ) تھے یعنی نبی اکرم ﷺ کے بارے میں کیا کہتے ہو ‘ تو مردہ یہ کہتا ہے کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں یہ ہمارے پاس ہمارے پروردگار کی طرف سے واضح نشانیاں لے کے آئے تھے ہم نے ان کی تصدیق کی اور ہم نے ان کی پیروی کی ‘ تو اس سے کہا جاتا ہے تم نے ٹھیک کہا ہے تم اسی عقیدے پر زندہ رہے تھے اسی پر تم مرے تھے ‘ اور اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اگر اللہ نے چاہا پھر اس مردے کے لئے اس کی قبر کو تا حد نگاہ کشادہ کر دیا جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے ۔ ’’ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ‘‘۔ یہ بات کہی جاتی ہے اس کے لئے جہنم کی طرف ایک دروازہ کھولو اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھولا جاتا ہے ‘ اور یہ کہا جاتا ہے اگر تم نے اللہ کی طرف نافرمانی کی ہوتی ہے ‘ تو تمہارا ٹھکانہ یہ ہونا تھا ، تو اس شخص کی خوشی اور سرور میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر یہ کہا جاتا ہے اس کے لئے جنت کی طرف ایک دروازہ کھولو اس کے لئے دروازہ کھولا جاتا ہے ‘ اور یہ کہا جاتا ہے یہ تمہارا ٹھکانہ ہے ‘ اور یہ کہا جاتا ہے ‘ یہ وہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تیار کی ہے ‘ تو اس شخص کے رشک اور سرور میں اضافہ ہو جاتا ہے ‘ اور پھر جلد کو اس کی طرف لوٹا دیا جاتا ہے ، جس سے اس کا آغاز ہوا تھا اور اس کی روح کو ایک پرندے کے اندر رکھ دیا جاتا ہے ‘ جو جنت کے درخت سے لٹکا رہتا ہے ۔ جہاں تک کافر کا تعلق ہے ‘ تو اس کی قبر میں اس کے سرہانے کی طرف سے ( فرشتہ ) آتا ہے ‘ تو کوئی چیز نہیں ملتی پاؤں کی طرف سے آنا چاہئے ، تو کوئی چیز نہیں پائی جاتی وہ ( کافر ) خوف زدہ اور مرعوب ہو کر بیٹھ جاتا ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارے درمیان جو یہ صاحب تھے ان کے بارے میں تم کیا کہتے ہو ‘ اور ان کے بارے میں تم کیا گواہی دیتے ہو ؟ تو نبی اکرم ﷺ کے نام کے بارے میں اسے رہنمائی نصیب نہیں ہوتی تو کہا جاتا ہے حضرت محمد ﷺ ( کے بارے میں سوال کیا جا رہا ہے ) تو وہ شخص کہتا ہے میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا ، تو میں نے بھی اسی طرح کہہ دیا جس طرح انہوں نے کہا تھا ‘ تو اس مردے سے کہا جاتا ہے تم نے سچ کہا اسی عقیدے پر تم زندہ رہے اسی پر تم مرے اور اگر اللہ نے چاہا تو اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر اس کی قبر اس پر تنگ کی جاتی ہے یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جاتی ہیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ’’ اور جو شخص میرے ذکر سے منہ موڑتا ہے ‘ تو اس کے لئے تنگی والی زندگی ہوتی ہے ‘‘۔ پھر یہ حکم ہوتا ہے اس کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھولو تو اس کے لئے جنت کی طرف سے دروازہ کھولا جاتا ہے اس سے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر تم نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی ہوتی تو یہ جگہ تمہارا ٹھکانہ ہوئی تھی اور یہ چیز اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تیار رکھی ہونی تھی ، تو اس کی حسرت اور چیخ و پکار میں اضافہ ہو جاتا ہے پھر یہ کہا جاتا ہے اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھولو اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھولا جاتا ہے ‘ تو اس سے یہ کہا جاتا ہے یہ تمہارا ٹھکانہ ہے ‘ اور یہ وہ چیز ہے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تیار کی ہے ‘ تو اس کی حسرت اور آہ و فریاد میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ ابوعمر ضریر نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں نے حماد بن سلمہ سے دریافت کیا : یہ اہل قبلہ میں سے ہو گا انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ ابوعمر نامی راوی کہتے ہیں : گویا کہ اس مردے نے یہ گواہی یقین کے بغیر دی تھی ‘ ایسا یقین جو اس کے دل کی طرف لوٹتا ہوتا اس نے صرف لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا ، تو وہ بات کہہ دی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4270

Majma al-Zawaid #4270

وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْأَوْسَطِ أَيْضًا رَفَعَهُ قَالَ: "" «يُؤْتَى الرَّجُلُ فِي قَبْرِهِ، فَإِذَا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ دَفَعَتْهُ تِلَاوَةُ الْقُرْآنِ، وَإِذَا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ يَدَيْهِ دَفَعَتْهُ الصَّدَقَةُ، وَإِذَا أُتِيَ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ دَفَعَهُ مَشْيُهُ إِلَى الْمَسَاجِدِ، وَالصَّبْرُ حَجْرَةً، فَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَوْ رَأَيْتُ خَلِيلًا كُنْتُ صَاحِبَهُ» "". وَرَوَى الْبَزَّارُ طَرَفًا مِنْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports in a marfū' narration concerning the man's trial in his grave, where recitation of the Qur'an repels approach from the head, charity repels approach from the hands, walking to the mosques repels approach from the feet, while patience stands as a barrier and speaks of accompanying a beloved. > **"The man is approached in his grave; when approached from his head, recitation of the Qur'an repels him, and when approached from his hands, charity repels him, and when approached from his feet, his walking to the mosques repels him, and patience stands as a barrier. Indeed, had I seen a beloved, I would have accompanied him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے معجم اوسط میں ایک روایت ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر منقول ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ آدمی کے پاس قبر میں ( فرشتہ ) آتا ہے ‘ وہ سرہانے کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ‘ تو قرآن کی تلاوت اسے پرے کر دیتی ہے ‘ جب سامنے کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ‘ تو صدقہ اسے پیچھے کر دیتا ہے ‘ جب پاؤں کی طرف سے آنے کی کوشش کرتا ہے ‘ تو مسجد کی طرف چل کر جانا اسے پیچھے کر دیتا ہے ‘ اور صبر رکاوٹ بن جاتا ہے وہ یہ کہتا ہے : اگر میں کوئی خلیل دیکھ لوں ، تو اس کا ساتھی بن جاؤں “۔ امام بزار نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔

4271

Majma al-Zawaid #4271

وَعَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ - قَالَ: "" «إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَنْزِلُ بِهِ الْمَوْتُ وَيُعَايِنُ مَا يُعَايِنُ، فَوَدَّ لَوْ خَرَجَتْ - يَعْنِي نَفْسَهُ - وَاللَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَهُ، فَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَصْعَدُ بِرُوحِهِ إِلَى السَّمَاءِ فَتَأْتِيهِ أَرْوَاحُ الْمُؤْمِنِينَ فَيَسْتَخْبِرُونَهُ عَنْ مَعَارِفِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَإِذَا قَالَ: تَرَكْتُ فُلَانًا فِي الدُّنْيَا ; أَعْجَبَهُمْ ذَلِكَ، وَإِذَا قَالَ: إِنَّ فُلَانًا قَدْ مَاتَ، قَالُوا: مَا جِيءَ بِهِ إِلَيْنَا. وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَجْلِسُ فِي قَبْرِهِ فَيُسْأَلُ: مَنْ رَبُّهُ؟ فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ. فَيَقُولُ: مَنْ نَبِيُّكَ؟ فَيَقُولُ: نَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَمَا دِينُكَ؟ قَالَ: دِينِي الْإِسْلَامُ. فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ فِي قَبْرِهِ، فَيَقُولُ - أَوْ يُقَالُ -: انْظُرْ إِلَى مَجْلِسِكَ. ثُمَّ يَرَى الْقَبْرَ فَكَأَنَّمَا كَانَتْ رَقْدَةً، فَإِذَا كَانَ عَدُوَّ اللَّهِ نَزَلَ بِهِ الْمَوْتُ وَعَايَنَ مَا عَايَنَ، فَإِنَّهُ لَا يُحِبُّ أَنْ تَخْرُجَ رُوحُهُ أَبَدًا، وَاللَّهُ يُبَغِضُ لِقَاءَهُ، فَإِذَا جَلَسَ فِي قَبْرِهِ أَوْ أُجْلِسَ يُقَالُ لَهُ: مَنْ رَبُّكَ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي. فَيُقَالُ: لَا دَرَيْتَ. فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنْ جَهَنَّمَ ثُمَّ يُضْرَبُ ضَرْبَةً تُسْمِعُ كُلَّ دَابَّةٍ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ. ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: نَمْ كَمَا يَنَامُ الْمَنْهُوسُ "". - فَقُلْتُ لِأَبِي هُرَيْرَةَ: مَا الْمَنْهُوسُ؟ قَالَ: الَّذِي تَنْهَشُهُ الدَّوَابُّ وَالْجَنَادِبُ - "" ثُمَّ يُضَيَّقُ عَلَيْهِ قَبْرُهُ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ خَلَا سَعِيدَ بْنَ بَحْرٍ الْقَرَاطِيسِيَّ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥāzim reports from Abū Hurayrah رضي الله عنه, deeming it marfū', concerning the believer overtaken by death witnessing what he witnesses and longing for his soul to depart while Allah loves his meeting, the ascent of his soul and the questioning of the believers' souls about the people of the earth and their remark when one has died yet was not brought to them, the believer's seating in his grave and questioning about Lord, Prophet and religion with the opening of a door and the grave seen as a nap, and the enemy of Allah disliking departure while Allah dislikes his meeting, his ignorant answer, the opening of a door from Hell, the blow heard by every creature except the two heavy ones, the command to sleep as the manhūs sleeps, explained as one bitten by beasts and locusts, and the constriction of his grave. > **"O tranquil soul, come out. Who is your Lord? My Lord is Allah. Who is your Prophet? My Prophet is Muḥammad. What is your religion? My religion is Islam. Look at your seat. Who is your Lord? I do not know. You did not know. Sleep as the manhūs sleeps."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ۔ انہوں نے ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر اسے نقل کیا ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ جب مؤمن پر موت طاری ہونے لگتی ہے ‘ اور وہ مشاہدہ کرتا ہے ‘ تو اس بات کی خواہش کرتا ہے کہ اس کی جان نکل جائے اللہ تعالیٰ اس کی حاضری کو پسند کرتا ہے مؤمن کی روح آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے اہل ایمان کی ارواح اس کے پاس آتی ہیں اور اہل زمین کے بارے میں اس سے اطلاع حاصل کرتی ہیں جب وہ شخص یہ کہتا ہے کہ میں نے فلاں شخص کو دنیا میں چھوڑا تھا ، تو انہیں یہ بات اچھی لگتی ہے ‘ اور جب وہ یہ بات کہتا ہے کہ فلاں شخص کا انتقال ہو چکا ہے ‘ تو دیگر اہل ایمان کی ارواح یہ کہتی ہیں کہ وہ ہمارے پاس تو نہیں لایا گیا مومن اپنی قبر میں بیٹھتا ہے تو اس سے سوال کیا جاتا ہے اس کا پروردگار کون ہے ‘ تو وہ جواب دیتا ہے میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے فرشتہ پوچھتا ہے تمہارا نبی کون ہے ‘ تو وہ جواب دیتا ہے میرے نبی حضرت محمد ﷺ ہیں ۔ فرشتہ دریافت کیا : تمہارا دین کیا ہے ‘ تو وہ جواب دیتا ہے میرا دین اسلام ہے پھر اس کی قبر میں اس کے لئے ایک دروازہ کھولا جاتا ہے ‘ اور پھر فرشتہ یہ کہتا ہے ( یا مومن سے یہ بات کہی جاتی ہے : ) تم اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو پھر وہ قبر کو دیکھتا ہے ‘ تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ آرام گاہ ہے ‘ اور جب مردہ اللہ کا دشمن ( یعنی کافر ) ہو جب اسے موت آنے لگتی ہے ‘ تو وہ آخرت کا مشاہدہ کرتا ہے ‘ تو وہ یہ پسند نہیں کرتا کہ اس کی روح کبھی بھی نکلے اللہ تعالیٰ بھی اس کی حاضری کو ناپسند کرتا ہے ‘ جب وہ اپنی قبر میں بیٹھتا ہے ‘ یا اسے بٹھایا جاتا ہے ‘ تو اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے ‘ تو وہ جواب دیتا ہے مجھے نہیں معلوم اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہیں سمجھ حاصل نہیں ہے پھر اس کے لئے جہنم کا دروازہ کھولا جاتا ہے پھر اس پر ضرب لگائی جاتی ہے ‘ اور اس کی چیخ کی آواز ہر جانور سنتا ہے صرف دو قسم کے گروہ ( یعنی انسان اور جنات ) نہیں سنتے ہیں ، پھر اس سے کہا جاتا ہے : تم اس طرح سو جاؤ جس طرح منہوس سوتا ہے ‘ راوی کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : منہوس سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : وہ شخص جسے جانوروں نے اور کیڑوں مکوڑوں نے نوچ لیا ہو ‘ پھر اس شخص کی قبر اس کے لئے تنگ ہو جاتی ہے “۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کے رجال ثقہ ہیں صرف سعید بن بحرقراطیسی کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

4272

Majma al-Zawaid #4272

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُبْتَلَى هَذِهِ الْأُمَّةُ فِي قُبُورِهَا فَكَيْفَ بِي وَأَنَا امْرَأَةٌ ضَعِيفَةٌ؟ قَالَ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27]». قُلْتُ: لَهَا حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Ā'ishah رضي الله عنها reports that she asked the Messenger of Allah ﷺ how it would be with her, a weak woman, when this community is tried in their graves, whereupon he ﷺ recited the verse of the firm word. > **"Allah keeps firm those who believe with the firm word in the life of this world and in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس امت کو ان کی قبروں میں آزمائش میں مبتلاء کیا جائے گا ‘ تو میرے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے میں تو ایک کمزور عورت ہوں نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ایک حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4273

Majma al-Zawaid #4273

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «بَيْنَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَقِيعِ الْغَرْقَدِ وَأَنَا أَمْشِي خَلْفَهُ إِذْ قَالَ: "" لَا هُدِيتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ، لَا هُدِيتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ، لَا هُدِيتَ وَلَا اهْتَدَيْتَ "". قَالَ أَبُو رَافِعٍ: مَا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَسْتُ أُرِيدُكَ، وَلَكِنْ أُرِيدُ صَاحِبَ هَذَا الْقَبْرِ، سُئِلَ عَنِّي فَزَعَمَ أَنَّهُ لَا يَعْرِفُنِي "". فَإِذَا قَبْرٌ مَرْشُوشٌ عَلَيْهِ مَاءٌ حِينَ دُفِنَ صَاحِبُهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfi' رضي الله عنه reports that while he was walking behind the Messenger of Allah ﷺ in Baqī' al-Gharqad, he ﷺ thrice uttered a supplication against one not guided, and when Abū Rāfi' asked what ailed him, he ﷺ clarified he did not mean him but the owner of a freshly watered grave who, asked about him ﷺ, claimed not to know him. > **"You were not guided, nor did you attain guidance. I do not mean you, but I mean the owner of this grave; he was asked about me and claimed he does not know me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بقیع غرقد سے گزر رہا تھا میں آپ کے پیچھے چل رہا تھا اسی دوران آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ نہ تمہیں ہدایت نصیب ہوئی نہ تم نے ہدایت حاصل کی نہ تمہیں ہدایت نصیب ہوئی نہ تم نے ہدایت حاصل کی نہ تمہیں ہدایت نصیب ہوئی نہ تم نے ہدایت حاصل کی حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں مراد نہیں لے رہا بلکہ میں اس قبر والے شخص کو مراد لے رہا ہوں ‘ اس سے میرے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس کا یہ کہنا تھا کہ یہ مجھ سے واقف نہیں ہے راوی کہتے ہیں : وہ ایک ایسی قبر تھی جس پر پانی چھٹرکا گیا تھا جو اس کے دفن کے بعد چھڑکا گیا تھا ( یعنی تازہ بنی ہوئی قبر تھی ) ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4274

Majma al-Zawaid #4274

وَعَنْ أَيُّوبَ بْنِ بَشِيرٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كَانَتْ ثَائِرَةٌ فِي بَنِي مُعَاوِيَةَ، فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْلِحُ بَيْنَهُمْ، فَالْتَفَتَ إِلَى قَبْرٍ فَقَالَ: "" لَا دَرَيْتَ ""، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: "" إِنَّ هَذَا يُسْأَلُ عَنِّي فَقَالَ: لَا أَدْرِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صُهْبَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ayyūb ibn Bashīr reports from his father concerning a feud among Banū Mu'āwiyah which the Messenger of Allah ﷺ went to reconcile, when he ﷺ turned toward a grave and uttered a rebuke, and when asked explained that the man was asked about him ﷺ and answered he did not know. > **"You did not know. He is asked about me, so he says: I do not know."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایوب بن بشیر نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : بنومعاویہ کے درمیان آپس میں اختلافات ہوئے نبی اکرم ﷺ ان کے درمیان صلح کروانے کے لئے تشریف لے گئے آپ نے ایک قبر کی طرف توجہ کی ‘ تو آپ نے ارشاد فرمایا : تمہیں سمجھ بوجھ حاصل نہیں ہوئی اس بارے میں آپ سے دریافت کیا گیا ، تو آپ نے فرمایا : اس شخص سے میرے بارے میں دریافت کیا گیا تو اس نے کہا : مجھے نہیں معلوم ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن محمد بن صہبان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4275

Majma al-Zawaid #4275

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ بِاللَّيْلِ يَدْعُو بِالْبَقِيعِ وَمَعَهُ أَبُو رَافِعٍ، فَدَعَا بِمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ، ثُمَّ انْصَرَفَ مُقْبِلًا، فَمَرَّ عَلَى قَبْرٍ فَقَالَ: "" أُفٍّ، أُفٍّ، أُفٍّ "". فَقَالَ لَهُ أَبُو رَافِعٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا مَعَكَ غَيْرِي؛ فَمِنِّي أَفَّفْتَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" [لَا]، وَلَكِنِّي أَفَّفْتُ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ الَّذِي سُئِلَ عَنِّي فَشَكَّ فِيَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfi' رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ went out at night to supplicate at al-Baqī' with Abū Rāfi', and after supplicating as Allah willed and turning back, he ﷺ passed a grave and thrice uttered uff, and when Abū Rāfi' asked, offering himself as ransom and fearing it was meant for him alone with him, he ﷺ clarified it was for the owner who was asked about him ﷺ and doubted him. > **"Uff, uff, uff. No, but I uttered uff for the owner of this grave, who was asked about me and doubted me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ رات کے وقت نکلے آپ جنت البقیع والوں کے لئے دعا کرنا چاہتے تھے ۔ آپ کے ساتھ حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ تھے آپ واپس تشریف لے آئے واپسی پر آپ کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا آپ نے فرمایا : اف ہے آف ہے آف ہے حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کے ساتھ میرے علاوہ اور کوئی نہیں ہے کیا آپ میرے لئے یہ کہہ رہے ہیں ۔ اف ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں بلکہ میں اس قبر والے کے لئے اف ہے کہہ رہا ہوں جس سے میرے بارے میں دریافت کیا گیا تھا ، تو اسے میرے بارے میں شک تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4276

Majma al-Zawaid #4276

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «شَهِدْنَا جِنَازَةً مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ دَفْنِهَا وَانْصَرَفَ النَّاسُ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّهُ الْآنَ يَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِكُمْ أَتَاهُ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ أَعْيُنُهُمَا مِثْلُ قُدُورِ النُّحَاسِ وَأَنْيَابُهُمَا مِثْلُ صَيَاصِي الْبَقَرِ وَأَصْوَاتُهُمَا مِثْلُ الرَّعْدِ، فَيُجْلِسَانِهِ فَيَسْأَلَانِهِ مَا كَانَ يَعْبُدُ وَمَنْ كَانَ نَبِيُّهُ. فَإِنْ كَانَ مِمَّنْ يَعْبُدُ اللَّهَ قَالَ: كُنْتُ أَعْبُدُ اللَّهَ وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ فَآمَنَّا بِهِ وَاتَّبَعْنَاهُ، فَذَلِكَ قَوْلُ اللَّهِ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ} [إبراهيم: 27]، فَيُقَالُ لَهُ: عَلَى الْيَقِينِ حَيِيتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ. ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ، وَيُوَسَّعُ لَهُ فِي حُفْرَتِهِ. وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الشَّكِّ قَالَ: "" لَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا فَقُلْتُهُ، فَيُقَالُ لَهُ: عَلَى الشَّكِّ حَيِيتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ، ثُمَّ يُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى النَّارِ، وَيُسَلَّطُ عَلَيْهِ عَقَارِبُ، وَتَنَانِينُ لَوْ نَفَخَ أَحَدُهُمْ فِي الدُّنْيَا مَا نَبَتَتْ شَيْئًا تَنْهَشُهُ، وَتُؤْمَرُ الْأَرْضُ فَتَضُمُّهُ حَتَّى تَخْتَلِفَ أَضْلَاعُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: تَفَرَّدَ بِهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، قُلْتُ: وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that they witnessed a funeral with the Prophet of Allah ﷺ, and when burial was finished and the people departed, the Prophet of Allah ﷺ described how the dead now hears their sandals, how Munkar and Nakīr come with eyes like copper pots, tusks like cows' horns and voices like thunder, seat him and ask what he worshipped and who his prophet was, the worshipper's true answer with its requital of certainty and widening, and the doubter's ignorant answer with its requital of doubt and the opening to the Fire, the unleashing of scorpions and serpents whose breath would barren the earth, and the compression of the earth until the ribs interlace. > **"He now hears the shuffling of your sandals. Munkar and Nakīr come to him, their eyes like copper pots, their tusks like cows' horns, and their voices like thunder. They seat him and ask him what he used to worship and who his prophet was. I used to worship Allah, and my prophet is Muḥammad; he came to us with clear proofs, so we believed in him and followed him. Allah keeps firm those who believe with the firm word in the life of this world and in the Hereafter. Upon certainty you lived, and upon it you died, and upon it you will be raised. I do not know; I heard the people saying something, so I said it. Upon doubt you lived, and upon it you died, and upon it you will be raised."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے ‘ جب آپ اس کو دفن کر کے فارغ ہوئے اور لوگ واپس چلے گئے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ( مردہ ) اس وقت تم لوگوں کے جوتوں کی آہٹ بھی سن رہا ہو گا منکر اور نکیر اس کے پاس آئیں گے ‘ ان کی آنکھیں پیتل کی ہنڈیوں کی مانند ہوں گی ‘ اور ان دونوں کے دانت یوں نکلے ہوئے ہوں گے جس طرح گائے کے سینگ ہوتے ہیں اور ان دونوں کی آواز بجلی کی آواز کی مانند ہو گی ‘ وہ دونوں فرشتے اسے بٹھا کر اس سے سوال کریں گے کہ وہ کس کی عبادت کرتا تھا اور اس کا نبی کون تھا اگر وہ ایسا شخص ہو جو اللہ کی عبادت کرتا تھا ، تو یہ کہے گا میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کیا کرتا تھا اور میرے نبی حضرت محمد ﷺ ہیں جو ہمارے پاس واضح نشانیاں لے کے آئے تھے ہم ان پر ایمان لائے اور ہم نے ان کی پیروی کی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ’’ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ‘‘۔ تو اس مردے سے یہ کہا جائے گا تم یقین پر زندہ رہے اسی پر تم مرے اور اسی پر تمہیں زندہ کیا جائے گا پھر اس مردے کے لئے جنت کی طرف دروازہ کھول دیا جائے گا ‘ اور اس کی قبر کو اس کے لئے کشادہ کر دیا جائے گا اور اگر مردہ اہل شک میں سے ہو تو وہ یہ کہے گا مجھے نہیں معلوم میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تو میں نے بھی وہ بات کہہ دی تو اس سے یہ کہا جائے گا تم شک پر زندہ رہے اسی پر تم مرے اور اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر اس کے لئے جہنم کی طرف دروازہ کھول دیا جائے اور اس پر بچھوؤں اور سانپوں کو مسلط کر دیا جائے گا ، اگر ان میں سے کوئی ایک دنیا پر پھونک مار دے تو وہاں کبھی کوئی چیز نہ آگے جہاں اس نے پھونک ماری ہو وہ اسے نوچیں گے زمین کو حکم ہو گا وہ اسے بھینچ لے گی یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ایک دوسرے میں پیوست ہو جائیں گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : ابن لہیعہ اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4277

Majma al-Zawaid #4277

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا دُفِنَ الْمَيِّتُ سَمِعَ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ مُنْصَرِفِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that when the dead is buried he hears the shuffling of their sandals as they turn away departing. > **"When the dead is buried, he hears the shuffling of their sandals when they turn away from him departing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جب میت کو دفن کیا جاتا ہے ‘ تو وہ لوگوں کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتی ہے ‘ جب وہ لوگ اسے چھوڑ کر واپس جاتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4278

Majma al-Zawaid #4278

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «إِذَا حَدَّثْتُكُمْ بِحَدِيثٍ أُنَبِّئُكُمْ بِتَصْدِيقِ ذَلِكَ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا مَاتَ جَلَسَ فِي قَبْرِهِ، فَيُقَالُ: مَنْ رَبُّكَ؟ مَا دِينُكَ؟ مَنْ نَبِيُّكَ؟ [فَيُثَبِّتُهُ اللَّهُ] فَيَقُولُ: رَبِّيَ اللَّهُ، وَدِينِي الْإِسْلَامُ، وَنَبِيِّي مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَيُوَسَّعُ لَهُ فِي قَبْرِهِ، وَيُفَرَّجُ لَهُ فِيهِ. ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: {يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَ} [إبراهيم: 27]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

'Abd Allāh, meaning Ibn Mas'ūd رضي الله عنه, reports that whenever he narrates a ḥadīth he informs of its confirmation, namely that the believer when he dies sits in his grave and is asked about his Lord, religion and Prophet, and Allah makes him firm so he answers with his Lord, his religion and his Prophet, whereupon his grave is widened, and he then recited the verse of the firm word and the straying of the wrongdoers. > **"Who is your Lord? What is your religion? Who is your Prophet? My Lord is Allah, and my religion is Islam, and my Prophet is Muḥammad. Allah keeps firm those who believe with the firm word in the life of this world and in the Hereafter, and Allah sends astray the wrongdoers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب میں تم لوگوں کو کوئی حدیث بیان کروں تو میں اس کی تصدیق کے بارے میں ( قرآن کی آیت ) تمہیں بتاؤں گا جب مؤمن مر جاتا ہے ‘ تو وہ اپنی قبر میں بیٹھ جاتا ہے ‘ اور اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارا پروردگار کون ہے تمہارا دین کیا ہے ؟ تمہارے نبی کون ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدم رکھتا ہے وہ عرض کرتا ہے میرا پروردگار اللہ تعالیٰ ہے میرا دین اسلام ہے میرے نبی حضرت محمد ﷺ ہیں تو اس کے لئے اس کی قبر کو کشادہ کر دیا جاتا ہے ‘ اور اس کے لئے قبر میں کشادگی رکھی جاتی ہے پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو ثابت قول پر ثابت قدم رکھے گا دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت میں بھی اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو گمراہ کر دے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4279

Majma al-Zawaid #4279

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيَسْمَعُ خَفْقَ نِعَالِهِمْ إِذَا وَلَّوْا عَنْهُ - يَعْنِي مُدْبِرِينَ» - "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that the dead hears the shuffling of their sandals when they turn away from him, meaning departing. > **"Indeed the dead hears the shuffling of their sandals when they turn away from him, meaning departing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میت لوگوں کے جوتوں کی آہٹ بھی سنتی ہے ، جب وہ لوگ اسے چھوڑ کر واپس جا رہے ہوتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4280

Majma al-Zawaid #4280

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: اسْمُ الْمَلَكَيْنِ اللَّذَيْنِ يَأْتِيَانِ فِي الْقَبْرِ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ، وَكَانَ اسْمُ هَارُوتَ وَمَارُوتَ - وَهُمَا فِي السَّمَاءِ - عَزَرًا وَعَزِيزًا .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbās رضي الله عنهما reports that the names of the two angels who come in the grave are Munkar and Nakīr, and that the names of Hārūt and Mārūt, while they were in heaven, were 'Azrā and 'Azīz.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قبر میں جو دو فرشتے آتے ہیں ان کے نام منکر اور نکیر ہیں ہاروت اور ماروت جب آسمان میں ہوتے تھے تو ان کا نام عزر اور عزیز تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4281

Majma al-Zawaid #4281

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا «أَنَّ يَهُودِيَّةً كَانَتْ تَخْدِمُهَا، فَلَا تَصْنَعُ عَائِشَةُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ لَهَا الْيَهُودِيَّةُ: وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ. قَالَتْ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيَّ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لِلْقَبْرِ عَذَابٌ قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: "" لَا، وَعَمَّ ذَاكَ؟ "". قَالَتْ: هَذِهِ يَهُودِيَّةٌ لَا نَصْنَعُ إِلَيْهَا شَيْئًا مِنَ الْمَعْرُوفِ إِلَّا قَالَتْ: وَقَاكِ اللَّهُ عَذَابَ الْقَبْرِ. قَالَ: "" كَذَبَتْ يَهُودُ، وَهُمْ عَلَى اللَّهِ كُذُبٌ، لَا عَذَابَ دُونَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ "". قَالَتْ: ثُمَّ مَكَثَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَمْكُثَ، فَخَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ بِنِصْفِ النَّهَارِ مُشْتَمِلًا بِثَوْبِهِ مُحَمَّرَةً عَيْنَاهُ، وَهُوَ يُنَادِي بِأَعْلَى صَوْتِهِ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، أَظَلَّتْكُمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، أَيُّهَا النَّاسُ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، أَيُّهَا النَّاسُ اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، فَإِنَّ عَذَابَ الْقَبْرِ حَقٌّ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

'Ā'ishah رضي الله عنها reports that a Jewish woman used to serve her, and whenever 'Ā'ishah did her any kindness the Jewess would invoke Allah's protection for her from the punishment of the grave, so when the Messenger of Allah ﷺ came to her she asked whether there is punishment in the grave before the Resurrection, and he ﷺ first denied it and asked what prompted it, then declared the Jews liars upon Allah with no punishment before the Resurrection, but after some time he ﷺ came out at midday wrapped in his garment with reddened eyes, calling at the top of his voice about enveloping tribulations like dark night, the disparity between laughter and weeping had they known what he knew, and the command to seek refuge, for the punishment of the grave is true. > **"No, and what is that? The Jews have lied, and they lie upon Allah; there is no punishment before the Day of Resurrection. O people, tribulations have shaded you like portions of the dark night. O people, had you known what I know, you would have laughed little and wept much. O people, seek refuge with Allah from the punishment of the grave, for indeed the punishment of the grave is true."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک یہودی خاتون ان کی خدمت کیا کرتی تھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جب بھی اسے کوئی چیز دیا کرتی تھیں تو وہ یہودی خاتون ان سے یہی کہا کرتی تھی اللہ تعالیٰ آپ کو قبر کے عذاب سے بچائے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا قیامت سے پہلے قبر میں عذاب ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں اس سوال کی وجہ کیا ہے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا یہ یہودی عورت ہے میں جب بھی اس کے ساتھ کوئی اچھائی کرتی ہوں تو وہ یہ کہتی ہے اللہ تعالیٰ تمہیں قبر کے عذاب سے بچائے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہودی غلط کہتے ہیں : یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرتے ہیں ، قیامت کے دن سے پہلے کوئی عذاب نہیں ہو گا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر جتنا عرصہ اللہ کو منظور تھا اتنا عرصہ گزر گیا ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نصف النہار کے وقت نکلے آپ نے اپنے کپڑے کو لپیٹا ہوا تھا آپ کی آنکھیں سرخ تھیں آپ نے بلند آواز میں پکار کر یہ کہا : ” اے لوگو ! تم پر ایسے فتنے آئیں گے جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے اے لوگو ! اگر تمہیں وہ بات چل جائے جو میں جانتا ہوں تو تم تھوڑا ہنسو اور تم زیادہ روؤ اے لوگو ! تم قبر کے عذاب سے پناہ مانگو کیونکہ قبر کا عذاب حق ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4282

Majma al-Zawaid #4282

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَحَلًّا لِبَنِي النَّجَّارِ، فَسَمِعَ أَصْوَاتَ رِجَالٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ مَاتُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ يُعَذَّبُونَ فِي قُبُورِهِمْ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعًا، فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَتَعَوَّذُوا مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn 'Abd Allāh رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ entered a quarter of Banū al-Najjār and heard the voices of men from Banū al-Najjār who had died in Jāhiliyyah being punished in their graves, so he ﷺ came out frightened and commanded his Companions to seek refuge from the punishment of the grave. > **"Seek refuge with Allah from the punishment of the grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ بنو نجار کے محلے میں داخل ہوئے آپ نے بنو نجار سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کی آوازیں سنیں جو زمانہ جاہلیت میں مر چکے تھے ‘ اور انہیں ان کی قبروں میں عذاب دیا جا رہا تھا نبی اکرم ﷺ پریشانی کے عالم میں نکلے آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ قبر کے عذاب سے پناہ مانگیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔

4283

Majma al-Zawaid #4283

وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ: عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُبُورِ نِسَاءٍ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ هَلَكُوا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَسَمِعَهُمْ يُعَذَّبُونَ فِي الْقُبُورِ فِي النَّمِيمَةِ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ passed by the graves of women from Banū al-Najjār who had perished in Jāhiliyyah and heard them punished in their graves for tale-bearing. > **"They are punished in their graves for tale-bearing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے معجم اوسط میں یہ روایت نقل کی ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر بنو نجار سے تعلق رکھنے والی کچھ خواتین کی قبروں کے پاس سے ہوا جو زمانہ جاہلیت میں فوت ہوئی تھیں نبی اکرم ﷺ نے انہیں سنا کہ قبروں میں انہیں چغلی کرنے کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے ۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں اور امام طبرانی کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ۔

4284

Majma al-Zawaid #4284

وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «"" يُرْسَلُ عَلَى الْكَافِرِ حَيَّتَانِ: وَاحِدَةٌ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، وَالْأُخْرَى مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ يُقْرِضَانِهِ قَرْضًا، كُلَّمَا فَرَغَتَا عَادَتَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

'Ā'ishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that two snakes are sent against the disbeliever, one from his head and the other from his feet, biting him, and whenever they finish they return, until the Resurrection. > **"Two snakes are sent against the disbeliever: one from his head, and the other from his feet, biting him repeatedly; whenever they finish, they return, until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں :’’ کافر پر دو سانپ بھیجے جاتے ہیں ایک اس کے سر کی طرف ہوتا ہے ‘ اور دوسرا پاؤں کی طرف سے ہوتا ہے وہ دونوں اسے ڈنک مارتے ہیں جب بھی وہ دونوں فارغ ہوتے ہیں تو دوبارہ ایسا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور ایسا قیامت تک ہوتا رہے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4285

Majma al-Zawaid #4285

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «يُسَلَّطُ عَلَى الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا تَلْدَغُهُ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، وَلَوْ أَنَّ تِنِّينًا مِنْهَا نَفَخَ فِي الْأَرْضِ مَا أَنْبَتَ خَضِرًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى مَوْقُوفًا، وَفِيهِ دَرَّاجٌ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Sa'īd al-Khudrī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that ninety-nine tinnīn are unleashed against the disbeliever in his grave, stinging him until the Hour, and had one of them breathed upon the earth no greenery would ever grow. > **"Ninety-nine tinnīn are unleashed against the disbeliever in his grave, stinging him until the Hour comes, and had one of them breathed upon the earth, it would never grow greenery."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کافر پر اس کی قبر میں ننانوے اژدھے مسلط کیے جاتے ہیں جو قیامت قائم ہونے تک اسے ڈنک مارتے رہیں گے ‘ اگر ان میں سے کوئی ایک اژدھا زمین پر پھونک مار دے تو اس جگہ پر کبھی سبزہ نہ اگے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام ابویعلیٰ نے اسے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دراج ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

4286

Majma al-Zawaid #4286

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: "" «الْمُؤْمِنُ فِي قَبْرِهِ فِي رَوْضَةٍ، وَيُرَحَّبُ لَهُ قَبْرِهِ سَبْعِينَ ذِرَاعًا، وَيُنَوَّرُ لَهُ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، أَتَدْرُونَ فِيمَا أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَإِنَّ لَهُ مَعِيشَةً ضَنْكًا وَنَحْشُرُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَعْمَى} [طه: 124] [قَالَ: أَتَدْرُونَ مَا الْمَعِيشَةُ الضَّنْكِ؟] قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" عَذَابُ الْكَافِرِ فِي قَبْرِهِ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لِيُسَلَّطُ عَلَيْهِمْ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ تِنِّينًا، أَتَدْرُونَ مَا التِّنِّينُ؟ "". قَالَ: "" تِسْعٌ وَتِسْعُونَ حَيَّةً، لِكُلِّ حَيَّةٍ سَبْعَةُ رُءُوسٍ، يَنْفُخُونَ فِي جِسْمِهِ، وَيَلْسَعُونَهُ وَيَخْدِشُونَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ دَرَّاجٌ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَاخْتُلِفَ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports from the Messenger of Allah ﷺ concerning the believer in his grave in a garden with his grave widened seventy cubits and illuminated like the full moon, and his questioning of the Companions about the verse of the constricted life and the blind resurrection, their referral to Allah and His Messenger, and his explanation as the punishment of the disbeliever with ninety-nine tinnīn, explained as ninety-nine snakes each with seven heads blowing, biting and scratching until the Resurrection. > **"The believer in his grave is in a garden, and his grave is widened for him seventy cubits, and illuminated for him like the full moon on the night of fullness. Do you know concerning what this verse was revealed: Then he shall have a constricted life, and We shall raise him on the Day of Resurrection blind? Do you know what the constricted life is? It is the punishment of the disbeliever in his grave. By the One in Whose Hand is my soul, ninety-nine tinnīn are unleashed against them. Do you know what the tinnīn is? Ninety-nine snakes, each snake having seven heads, blowing into his body, biting him and scratching him until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ مومن اپنی قبر میں باغ میں ہوتا ہے اس کی قبر کو ستر گز تک کشادہ کر دیا جاتا ہے ‘ اور چودھویں رات کے چاند کی مانند روشن کر دیا جاتا ہے کیا تم جانتے ہو یہ آیت کس کے لئے نازل ہوئی ہے : ’’ اور اس کے لئے تنگی کی زندگی ہو گی ‘ اور ہم قیامت کے دن اسے نابینا ہونے کے طور پر دوبارہ زندہ کریں گے ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ تنگی کی زندگی سے مراد کیا ہے لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سے مراد کافر کا عذاب ہے ‘ جو اسے قبر میں ہو گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس شخص پر ننانوے تنین مسلط کیے جائیں گے کیا تم جانتے ہو تنین کیا ہوتا ہے آپ نے فرمایا : وہ ننانوے سانپ ہوں گے ہر سانپ کے سات سر ہوں گے وہ اس کافر کے جسم میں پھونک ماریں گے اسے ڈسیں گے اسے زخمی کریں گے اور ایسا قیامت کے دن تک ہو گا ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی دراج ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔