وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «جَاءَتْ يَهُودِيَّةٌ اسْتَطْعَمَتْ عَلَى بَابِي فَقَالَتْ: أَطْعِمُونِي أَعَاذَكُمُ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ، قَالَتْ: فَلَمْ أَزَلْ أَحْبِسُهَا حَتَّى جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ هَذِهِ الْيَهُودِيَّةُ؟ قَالَ: "" وَمَا تَقُولُ؟ "" قُلْتُ: تَقُولُ: أَعَاذَكُمُ اللَّهُ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ مَدًّا يَسْتَعِيذُ بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ، وَمِنْ فِتْنَةِ عَذَابِ الْقَبْرِ، ثُمَّ قَالَ: "" أَمَّا فِتْنَةُ الدَّجَّالِ فَإِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا حَذَّرَهُ أُمَّتَهُ، وَسَأُحَدِّثُكُمُوهُ بِحَدِيثٍ لَمْ يُحَذِّرْهُ نَبِيٌّ أُمَّتَهُ ; إِنَّهُ أَعْوَرُ وَإِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِأَعْوَرَ، مَكْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ كَافِرٌ، يَقْرَؤُهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ. فَأَمَّا فِتْنَةُ الْقَبْرِ فَبِي تُفْتَنُونَ، وَعَنِّي تُسْأَلُونَ، فَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ الصَّالِحُ أُجْلِسَ فِي قَبْرِهِ غَيْرَ فَزِعٍ وَلَا مَشْعُوفٍ، فَيُقَالُ: فِيمَ كُنْتَ؟ فَيَقُولُ: فِي الْإِسْلَامِ فَيُقَالُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ فِيكُمْ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، جَاءَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَى مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، فَصَدَّقْنَاهُ. فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا وَقَاكَ اللَّهُ. ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا، [يَقَالُ]: وَعَلَى الْيَقِينِ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. وَإِذَا كَانَ الرَّجُلُ السُّوءُ جَلَسَ فِي قَبْرِهِ فَزِعًا مَشْعُوفًا، فَيُقَالُ لَهُ: مَا كُنْتَ تَقُولُ؟ فَيَقُولُ: لَا أَدْرِي. فَيُقَالُ لَهُ: مَا هَذَا الرَّجُلُ الَّذِي كَانَ قَبْلَكُمْ؟ فَيَقُولُ: سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ قَوْلًا فَقُلْتُ كَمَا قَالُوا. فَيُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيَنْظُرُ إِلَى زَهْرَتِهَا وَمَا فِيهَا، فَيُقَالُ لَهُ: انْظُرْ إِلَى مَا صَرَفَ اللَّهُ عَنْكَ. ثُمَّ يُفْرَجُ لَهُ فُرْجَةٌ قِبَلَ النَّارِ، فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا يُحَطِّمُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَيُقَالُ: هَذَا مَقْعَدُكَ مِنْهَا، عَلَى الشَّكِّ كُنْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ. ثُمَّ يُعَذَّبُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.
EnglishUnverified translation
'Ā'ishah رضي الله عنها reports that a Jewish woman came begging at her door and invoked protection from the trial of the Dajjāl and the trial of the punishment of the grave, and she detained her until the Messenger of Allah ﷺ came and asked what she said, whereupon he ﷺ stood and raised his hands outstretched seeking refuge, then explained the trial of the Dajjāl and the trial of the grave, the questioning of the righteous man without fear and of the evil man in terror, and their two openings. > **"As for the trial of the Dajjāl, there was no prophet except that he warned his community of him, and I shall tell you of him what no prophet told his community: he is one-eyed, and Allah is not one-eyed; written between his eyes is kāfir, which every believer will read. As for the trial of the grave, by me you will be tried, and about me you will be asked. When the righteous man is seated in his grave, neither terrified nor bewildered, it is said: In what were you? So he says: In Islam. So it is said: Who is this man who was among you? So he says: Muḥammad, the Messenger of Allah; he came to us with clear proofs and guidance from Allah, so we believed him. So an opening is made for him toward the Fire, and he looks at it crushing one part another, and it is said to him: Look at what Allah has shielded you from. Then an opening is made for him to Paradise, and he looks at its bloom and what is in it, and it is said to him: This is your seat therein, and upon certainty you lived, and upon it you died, and upon it you will be raised, if Allah wills. And when the evil man sits in his grave, terrified and bewildered, it is said to him: What did you say? So he says: I do not know. So it is said to him: Who is this man who was before you? So he says: I heard the people saying a saying, so I said as they said. So an opening is made for him to Paradise, and he looks at its bloom and what is in it, and it is said to him: Look at what Allah has turned away from you. Then an opening is made for him toward the Fire, and he looks at it crushing one part another, and it is said: This is your seat therein; upon doubt you lived, and upon it you died, and upon it you will be raised, if Allah wills. Then he is punished."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک یہودی عورت آئی اس نے میرے دروازے پر کھانے کے لئے کچھ مانگا اس نے کہا : تم لوگ مجھے کھانے کے لئے کچھ دو اللہ تعالیٰ تمہیں دجال کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب کی آزمائش سے محفوظ رکھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے اس عورت کو روکے رکھا یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ یہودی عورت کیا کہتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کیا کہتی ہے ؟ میں نے عرض کی : یہ کہتی ہے اللہ تعالیٰ تم لوگوں کو دجال کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب کی آزمائش سے محفوظ رکھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا لئے اور دجال کی آزمائش اور قبر کے عذاب کی آزمائش سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک دجال کی آزمائش کا تعلق ہے ‘ تو ہر نبی نے اپنی امت کو اس سے بچنے کی تلقین کی ہے ‘ اور میں تم لوگوں کو اس کے بارے میں ایک ایسی بات بتا دوں گا کہ کسی نبی نے اپنی امت کو وہ بات نہیں بتائی وہ یہ کہ وہ ( یعنی دجال ) کانا ہو گا ‘ اور اللہ تعالیٰ کانا نہیں ہے دجال کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہو گا جسے ہر مومن پڑھ لے گا جہاں تک قبر کی آزمائش کا تعلق ہے ‘ تو اس میں میرے حوالے سے تمہیں آزمائش کا شکار کیا جائے گا ‘ اور میرے بارے میں تم لوگوں سے سوال کیا جائے گا اگر کوئی نیک شخص ہو گا ‘ تو اسے اُس کی قبر میں بٹھایا جائے گا وہ نہ گھبراہٹ کا شکار ہو گا اور نہ پریشان ہو گا اس سے دریافت کیا جائے گا : تم کس اعتقاد کے قائل تھے وہ جواب دے گا اسلام کے اس سے دریافت کیا جائے گا : تمہارے درمیان جو یہ صاحب تھے یہ کون تھے وہ جواب دے گا یہ حضرت محمد تھے جو اللہ کے رسول تھے وہ ہمارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے واضح نشانیاں اور ہدایت لے کے آئے تھے ہم نے اس کی تصدیق کی ، تو اس شخص کے لئے جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھولی جائے گی وہ جہم کو دیکھے گا کہ اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اس سے یہ کہا جائے گا تم اس بات کا جائزہ لو ‘ جس سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں محفوظ کر دیا ہے پھر اس شخص کے لئے جنت کی طرف سے ایک کھڑکی کھولی جائے گی وہ جنت کی زیبائش و آرائش کو دیکھے گا ‘ تو اس سے یہ کہا جاے گا یہ تمہارا ٹھکانہ ہے اس سے یہ بھی کہا جائے گا تم یقین پر زندہ رہے اس پر مرے اور اگر اللہ نے چاہا تو اسی پر تمہیں زندہ کیا جائے گا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اور اگر وہ کوئی برا شخص ہو ‘ تو وہ قبر میں بیٹھتا ہے ‘ تو وہ پریشان حال اور خوف زدہ ہوتا ہے اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہارا کیا عقیدہ تھا وہ کہتا ہے مجھے نہیں معلوم اس سے دریافت کیا جاتا ہے : تمہاری طرف جو یہ صاحب تھے یہ کون تھے وہ جواب دیتا ہے میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے ہوئے سنا تھا ، تو میں نے بھی اسی کی مانند بات کہہ دی جس طرح لوگوں نے کہی تھی تو اس شخص کے لئے جنت کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے وہ جنت کی زیبائش اور آرائش کو دیکھتا ہے اس سے یہ کہا جاتا ہے تم اس چیز کو دیکھ لو جسے اللہ تعالیٰ نے تم سے پھیر دیا ہے پھر جہنم کی طرف ایک کھڑکی کھولی جاتی ہے پھر وہ اس کو دیکھتا ہے کہ اس کا ایک حصہ دوسرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے اس سے کہا جاتا ہے یہ تمہارا ٹھکانہ ہو گا تم شک پر زندہ رہے اسی پر مرے اور اگر اللہ نے چاہا تو اسی پر تمہیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا پھر اس شخص کو عذاب دیا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔