Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 7 · Chapter 13

Book of Funerals

Hadith 4207–4246

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4207

Majma al-Zawaid #4207

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَلَغَهُ مَوْتُ النَّجَاشِيِّ فَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: "" إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَّاشِيَّ قَدْ مَاتَ، فَمَنْ أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ فَلْيُصَلِّ عَلَيْهِ "". فَتَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَحْوَ الْحَبَشَةِ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا التَّكْبِيرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah ibn Asid رضي الله عنه reported that when news of al-Najashi's death reached the Messenger of Allah ﷺ, he gave leave to whoever wished to pray over him, then turned toward Abyssinia and pronounced four takbirs over him. > **"Indeed your brother al-Najashi has died, so whoever wishes to pray over him, let him pray over him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو نجاشی کے انتقال کی اطلاع ملی تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تمہارا بھائی نجاشی انتقال کر گیا ہے ‘ جو شخص اس کی نماز جنازہ ادا کرنا چاہے وہ نماز جنازہ ادا کرے پھر نبی اکرم ﷺ نے حبشہ کی طرف رخ کیا ‘ اور اس پر چار مرتبہ تکبیر کہی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے تکبیر کہنے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4208

Majma al-Zawaid #4208

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ، فَغَسَّلْنَاهُ، وَكَفَّنَّاهُ، وَحَنَّطْنَاهُ، ثُمَّ أَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَقُلْنَا: تُصَلِّي عَلَيْهِ؟ فَخَطَا خُطْوَةً، ثُمَّ قَالَ: "" أَعَلَيْهِ دَيْنٌ؟ ""، قُلْتُ: دِينَارَانِ، فَانْصَرَفَ، فَتَحَمَّلَهَا أَبُو قَتَادَةَ، فَأَتَيْنَاهُ، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: الدِّينَارَانِ عَلَيَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" قَدْ أَوْفَى اللَّهُ حَقَّ الْغَرِيمِ، وَبَرِئَ مِنْهَا الْمَيِّتُ ""، قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدَ ذَلِكَ بِيَوْمٍ: "" مَا فَعَلَ الدِّينَارَانِ؟ ""، قُلْتُ: إِنَّمَا مَاتَ مِنَ الْأَمْسِ، قَالَ: فَعَادَ إِلَيْهِ مِنَ الْغَدِ قَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" الْآنَ بَرُدَتْ عَلَيْهِ جِلْدَتُهُ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه said that a man died and they washed him, shrouded him, perfumed him, then brought him to the Messenger of Allah ﷺ to pray over him. When they asked him to pray, he stepped forward, then asked about debt upon him. Upon learning of two dinars, he withdrew until Abu Qatadah assumed them, then he prayed over him, and later asked about their payment until he was told they had been settled. > **"Is there debt upon him? Allah has fulfilled the right of the creditor, and the dead is free of it. What became of the two dinars? Now his skin has cooled upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا انتقال ہو گیا ہم نے اسے غسل دیا اسے کفن پہنایا اسے خوشبو لگائی پھر ہم اس کی میت لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں ہم نے عرض کی : آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ ایک قدم چلے پھر آپ نے دریافت کیا : کیا اس کے ذمہ قرض ہے ؟ میں نے عرض کی : دو دینار ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ واپس مڑ گئے تو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے ان کی ادائیگی اپنے ذمہ لی ہم دوبارہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : دونوں دیناروں کی ادائیگی میرے ذمہ ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ قرض کے خواہ کے حق کو ادا کر دے گا ‘ اور میت اس سے آزاد ہو جائے گی حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا ٹھیک ہے پھر نبی اکرم ﷺ نے اُن صاحب کی نماز جنازہ پڑھائی اس کے ایک دن بعد نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : دو دیناروں کا کیا بنا میں نے عرض کی : اس شخص کا گزشتہ دن تو انتقال ہوا ہے راوی کہتے ہیں : پھر وہ اگلے دن نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : میں نے ان دونوں کو ادا کر دیا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اب اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہوئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4209

Majma al-Zawaid #4209

وَعَنْ عِيسَى بْنِ صَدَقَةَ بْنِ عَبَّادٍ الْيَشْكُرِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عِيسَى عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا يَنْفَعُنَا اللَّهُ بِهِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: «مَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَمُوتَ وَلَا دَيْنَ عَلَيْهِ فَلْيَفْعَلْ ; فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةِ رَجُلٍ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ فَقَالَ: "" لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ حَتَّى تَضْمَنُوا دَيْنَهُ، فَإِنَّ صَلَاتِي عَلَيْهِ تَنْفَعُهُ ""، فَلَمْ يَضْمَنُوا دَيْنَهُ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ، وَقَالَ: "" إِنَّهُ مُرْتَهَنٌ فِي قَبْرِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَعِيسَى وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Isa ibn Sadaqah ibn Abbad al-Yashkuri said that he entered with his father upon Anas ibn Malik رضي الله عنه and asked for a beneficial narration. Anas bade whoever was able to die free of debt to do so, for he had seen the Messenger of Allah ﷺ refuse the funeral of a debtor until his debt was guaranteed, explaining that his prayer would benefit him, and describing the unguaranteed debtor as held hostage in his grave. > **"I shall not pray over him until you guarantee his debt, for my prayer over him will benefit him. He is held hostage in his grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عیسیٰ بن صدقہ بن عباد یشکری بیان کرتے ہیں : میں ابوعیسی کے ہمراہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ہم نے کہا : آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث بیان کیجیئے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں نفع عطا کرے تو میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ وہ اس حالت میں میرے کہ اس کے ذمہ کوئی قرض نہ ہو ‘ تو اسے ایسا کرنا چاہیے کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ کے پاس ایک شخص کا جنازہ لایا گیا جس کے ذمہ قرض تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں اس کی نماز جنازہ اس وقت تک نہیں پڑھاؤں گا جب تک تم اس کے قرض کا ذمہ نہیں لے لیتے پھر میرا نماز جنازہ ادا کرنا اسے فائدہ دے گا لوگوں نے اس کے قرض کو اپنے ذمہ نہیں لیا تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کی نماز جنازہ بھی ادا نہیں کی آپ نے ارشاد فرمایا : یہ اپنی قبر میں رہن کے طور پر ( پابند ) رہے گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ عیسیٰ نامی راوی کو ابوحاتم نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور دیگر لوگوں نے انہیں ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

4210

Majma al-Zawaid #4210

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةٍ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا قَالَ: "" هَلْ عَلَيْهِ دَيْنٌ؟ ""، قَالُوا: نَعَمْ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ جِبْرِيلَ نَهَانِي أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى مَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَالَ: إِنَّ صَاحِبَ الدَّيْنِ مُرْتَهَنَّ فِي قَبْرِهِ حَتَّى يُقْضَى دَيْنُهُ عَنْهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ was brought a funeral to pray over, asked whether debt lay upon the dead, and upon being told yes, explained that Jibril had forbidden him to pray over a debtor and described the debtor as held hostage in his grave until his debt is settled on his behalf. > **"Is there debt upon him? Indeed Jibril forbade me to pray over one upon whom is debt. The holder of debt is held hostage in his grave until his debt is settled on his behalf."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں آپ نے دریافت کیا : کیا اس کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ میں کسی ایسے شخص کی نماز جنازہ ادا کروں جس کے ذمہ قرض ہو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مقروض شخص اپنی قبر میں رہن رکھا رہتا ہے ‘ جب تک اس کی طرف سے اس کے قرض کو ادا نہیں کر دیا جاتا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

4211

Majma al-Zawaid #4211

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَامَ يُصَلِّي عَلَيْهَا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلَيْهِ دَيْنٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" انْطَلِقُوا بِصَاحِبِكُمْ فَصَلُّوا عَلَيْهِ ""، فَقَالَ رَجُلٌ: عَلَيَّ دِينُهُ فَصَلِّ عَلَيْهِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ was brought a funeral and rose to pray over it, but when told of debt upon the dead, he bade the people take their companion and pray over him. When a man assumed the debt and asked him to pray, the Messenger of Allah ﷺ rose and prayed over him. > **"Take your companion and pray over him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے اٹھنے لگے تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے ذمہ قرض ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کو لے جاؤ اور اس کی نماز جنازہ ادا کر لو ایک صاحب نے عرض کی : اس کا قرض میرے ذمہ ہے آپ اس کی نماز جنازہ ادا کر لیں تو نبی اکرم ﷺ اٹھے اور آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4212

Majma al-Zawaid #4212

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُتِيَ بِرَجُلٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟ ""، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا يَنْفَعُكُمْ أَنْ أُصَلِّيَ عَلَى رَجُلٍ رُوحُهُ مُرْتَهَنٌّ فِي قَبْرِهِ، لَا تَصْعَدُ رُوحُهُ إِلَى السَّمَاءِ، فَلَوْ ضَمِنَ رَجُلٌ دَيْنَهُ قُمْتُ فَصَلَّيْتُ عَلَيْهِ، فَإِنَّ صَلَاتِي تَنْفَعُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ أُمَيَّةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه said that they were with the Prophet ﷺ when a man was brought for prayer. He asked whether debt lay upon their companion, and upon being told yes, he explained that his prayer would be of no benefit to one whose soul is held hostage in his grave and does not ascend to heaven, unless a man guaranteed the debt, in which case his prayer would benefit him. > **"Is there debt upon your companion? What benefit is it to you that I pray over a man whose soul is held hostage in his grave and whose soul does not ascend to heaven? Were a man to guarantee his debt, I would stand and pray over him, for my prayer would benefit him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ایک شخص ( کی میت ) لائی گئی تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہیں اس کا کیا فائدہ ہو گا کہ میں ایک ایسے شخص کی نماز جنازہ پڑھاؤں کہ جس کی روح اس کی قبر میں رہن کے طور پر رکھی ہوئی ہو اس کی روح آسمان کی طرف بلند نہیں ہو گی ‘ اگر کوئی شخص اس کے قرض کا ضامن بنتا ہے ‘ تو میں پھر اس کی نماز جنازہ پڑھا دیتا ہوں ، اس صورت میں میری نماز اسے فائدہ دے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن امیہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4213

Majma al-Zawaid #4213

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: «أُتِيَ بِجِنَازَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟ ""، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ""، فَقَالَ رَجُلٌ: هُوَ عَلَيَّ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah رضي الله عنه said that a funeral was brought, the Prophet ﷺ asked whether debt lay upon their companion, and upon being told yes, he bade them pray over their companion. When a man assumed it upon himself, the Messenger of Allah ﷺ prayed over him. > **"Is there debt upon your companion? Pray over your companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتاده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک جنازہ لایا گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو ایک صاحب نے عرض کی : ( وہ قرض ) میرے ذمہ ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ عمری ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4214

Majma al-Zawaid #4214

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «مَاتَ مَيِّتٌ، فَمَرُّوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَوْهُ لِلصَّلَاةِ عَلَيْهِ فَقَالَ: "" عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟ ""، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ; دِينَارَانِ، قَالَ: "" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ""، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَقَارِبِهِ: هُوَ عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" هُوَ عَلَيْكَ، وَهُوَ بَرِيءٌ مِنْهُ؟ "" قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقِيَهُ بَعْدُ فَقَالَ: "" مَا صَنَعْتَ؟ "" قَالَ: مَا فَرَغْتُ، قَالَ: "" بَرِّدْ عَلَى صَاحِبِكَ ""، ثُمَّ عَجِّلْ قَضَاءَهُ، ثُمَّ لَقِيَهُ فَقَالَ: قَدْ قَضَيْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" الْآنَ حِينَ بَرَّدْتَ عَلَى صَاحِبِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ نَافِعٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما said that a dead man was carried past the Messenger of Allah ﷺ and he was called to pray over him. He asked about debt upon their companion, and upon learning of two dinars, he bade them pray over their companion until a kinsman assumed the debt with confirmation that the dead was thereby freed. The Messenger of Allah ﷺ then prayed over him, afterwards pressed the guarantor about payment, bade him give coolness to his companion and hasten settlement, and upon being told it was settled, confirmed that coolness had been given. > **"Is there debt upon your companion? Pray over your companion. Is it upon you, and is he free of it? What have you done? Give coolness to your companion. Now you have given coolness to your companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا انتقال ہو گیا لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے اور آپ کو اس کی نماز جنازہ پڑھانے کی درخواست کی نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! دو دینار ہیں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو مرحوم کے رشتے داروں میں سے ایک شخص نے عرض کی : وہ میرے ذمہ ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا وہ تمہارے ذمہ ہو گئے اور یہ اس سے لاتعلق ہو گیا اس شخص نے کہا : جی ہاں ۔ تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کی نماز جنازہ پڑھا دی پھر اس کے بعد نبی اکرم ﷺ کی ملاقات اس فرد سے ہوئی تو آپ نے دریافت کیا : تم نے کیا کیا ؟ اس نے عرض کی : میں فارغ نہیں ہوا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے ساتھی کو ٹھنڈک فراہم کرو اور اس کی ادائیگی جلدی کر دو پھر نبی اکرم ﷺ سے اس شخص کی ملاقات ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے وہ ادائیگی کر دی ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اب تم نے اپنے ساتھی کو ٹھنڈک فراہم کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن نافع ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ابوزرعہ نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4215

Majma al-Zawaid #4215

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ دَيْنًا عَلَيْهِ لَيْسَ لَهُ وَفَاءٌ، فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُصَلِّيَ عَلَيْهِ وَقَالَ: "" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ""، فَقَامَ إِلَيْهِ أَبُو قَتَادَةَ فَقَالَ: أَنَا أَقْضِي عَنْهُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو عُتْبَةَ الْكِنْدِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه said that a man died in the time of the Messenger of Allah ﷺ leaving two dinars of debt with no means of settlement. The Messenger of Allah ﷺ refused to pray over him and bade the people pray over their companion, until Abu Qatadah رضي الله عنه rose and undertook its payment, whereupon the Messenger of Allah ﷺ rose and prayed over him. > **"Pray over your companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس نے اپنے ذمہ دو دینار قرض چھوڑا ‘ جس کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کر دیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر آپ کی طرف آئے اور عرض کی : میں اس کی طرف سے ادائیگی کر دوں گا ‘ تو نبی اکرم ﷺ اٹھے اور آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعتبہ کندی ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

4216

Majma al-Zawaid #4216

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ قَالَتْ: «دُعِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى جِنَازَةِ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَلَمَّا وُضِعَ السَّرِيرُ تَقَدَّمَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيُصَلِّيَ عَلَيْهِ ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: "" عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ؟ "" قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ; دِينَارَانِ، قَالَ: "" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ""، فَقَالَ أَبُو قَتَادَةَ: أَنَا بِدَيْنِهِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Yazid رضي الله عنها said that the Messenger of Allah ﷺ was called to the funeral of a man of the Ansar. When the bier was set down and the Prophet of Allah ﷺ advanced to pray over him, he turned and asked about debt upon their companion. Upon learning of two dinars, he bade them pray over their companion until Abu Qatadah رضي الله عنه took the debt upon himself for the Prophet ﷺ, whereupon he prayed over him. > **"Is there debt upon your companion? Pray over your companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کو انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی نماز جنازہ کے لئے بلایا گیا جب چار پائی رکھ دی گئی اور نبی اکرم ﷺ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لئے آگے بڑھے تو آپ نے پیچھے مڑ کر دریافت کیا : کیا تمہارے ساتھی کے ذمہ کوئی قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! دو دینار ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اس کے قرض کی ادائیگی میرے ذمہ ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4217

Majma al-Zawaid #4217

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ فَأُتِي - النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" انْظُرُوا إِلَى دَاخِلَةِ إِزَارِهِ ""، فَأُصِيبَ دِينَارٌ أَوْ دِينَارَانِ، فَقَالَ: "" كَيَّتَانِ "" صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ [فَقَالَ رَجُلٌ: إِلَيَّ قَضَائُهُمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَصَلَّى عَلَيْهِ]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَيَأْتِي فِي الزُّهْدِ وَغَيْرِهِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا، إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه said that a man died in the time of the Messenger of Allah ﷺ with no shroud found for him. When the Prophet ﷺ was approached, he bade them look inside his waist-wrapper, where a dinar or two dinars were found. He described them as two brands and bade them pray over their companion, until a man undertook their payment, whereupon he prayed over him. > **"Look inside his waist-wrapper. Two brands. Pray over your companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص کا انتقال ہو گیا اس کے لئے کفن نہیں ملا اس بارے میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس کے تہبند کے اندرونی حصے کا جائزہ لو ( جب ایسا کیا گیا ) تو وہاں سے ایک دینار یا دو دینار مل گئے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگوانے والی دو چیزیں ہیں تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کی ادائیگی میرے ذمہ ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ آگے چل کر زہد سے متعلق باب میں اس نوعیت کی احادیث آئیں گی ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

4218

Majma al-Zawaid #4218

عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ: "" إِنَّا مُدْلِجُونَ، فَلَا يُدْلِجَنَّ مُصْعِبٌ وَلَا مُضْعِفٌ ""، فَأَدْلَجَ رَجُلٌ عَلَى نَاقَةٍ لَهُ صَعْبَةٍ، فَسَقَطَ فَانْدَقَّتْ فَخِذُهُ فَمَاتَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالصَّلَاةِ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَمَرَ مُنَادِيًا يُنَادِي فِي النَّاسِ: "" إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ "" ثَلَاثَ مَرَّاتٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban, freedman of the Messenger of Allah ﷺ, رضي الله عنه said that the Messenger of Allah ﷺ said on a journey that they would travel by night and that no rider of a refractory or weak mount should travel by night. A man travelled by night upon a refractory she-camel of his, fell, broke his thigh, and died. The Prophet ﷺ commanded prayer over him, then commanded a caller to announce thrice among the people that Paradise is not lawful for the disobedient. > **"We are travelling by night, so let no rider of a refractory or weak mount travel by night. Indeed Paradise is not lawful for the disobedient."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سفر کر رہے تھے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : ہم رات کے وقت سفر کر رہے ہیں کوئی بھی ایسا شخص رات کے وقت سفر نہ کرے ‘ جس کا جانور سرکش ہو ‘ یا کمزور ہو ایک شخص نے اپنی سرکش اونٹنی پر رات کے وقت سفر کیا وہ گر گیا اس کی زانوں کی ہڈی ٹوٹ گئی اور وہ مر گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کا حکم دیا اور پھر آپ نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کر دے : جنت کسی نافرمان کے لئے ۔ حلال نہیں ہے ‘ یہ اعلان تین مرتبہ کرے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کی سند حسن ہے ۔

4219

Majma al-Zawaid #4219

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَأَمَرَ الْمُنَادِيَ فَنَادَى: "" مَنْ كَانَ مُضْعِفًا مَعَنَا فَلْيَرْجِعْ ""، فَجَعَلَ النَّاسُ يَتَرَاجَعُونَ حَتَّى بَلَغُوا مَضِيقًا مِنَ الطَّرِيقِ، فَوَقَصَتْ بِرَجُلٍ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ، فَرَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[فَنَادَى بِالْمُسْلِمِينَ فَأَتَاهُ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ]: "" مَا شَأْنُكُمْ أَوْ مَا حَبَسَكُمْ؟ ""، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فُلَانٌ أَتَى الْمَضِيِقَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ فَقَتَلَتْهُ، فَدَعَوْهُ يُصَلِّي عَلَيْهِ فَأَبَى، فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى: "" إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَحِلُّ لِعَاصٍ، أَلَا وَإِنَّ الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ حَرَامٌ، وَكُلُّ [سَبُعٍ] ذِي نَابٍ، أَوْ قَالَ: ظُفُرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه said that they went out with the Messenger of Allah ﷺ on an expedition he undertook, and he commanded the caller to announce that whoever was with a weak mount should return. The people withdrew until they reached a narrow place in the road, where a man's she-camel threw him and killed him. The Messenger of Allah ﷺ saw it, summoned the Muslims, asked what had kept them, and upon being told and asked to pray over the man, he declined and commanded a caller to announce the exclusion of the disobedient from Paradise and the prohibition of domestic donkeys and every fanged or clawed predator. > **"Whoever is with a weak mount among us, let him return. What is your affair, or what has detained you? Indeed Paradise is not lawful for the disobedient. Indeed domestic donkeys are forbidden, and every predator with fang or claw."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ایک جنگ میں حصہ لینے کے لئے نکلے نبی اکرم ﷺ نے منادی کو حکم دیا اس نے یہ اعلان کیا ہمارے ساتھ جو شخص کمزور جانور والا ہو اسے واپس چلے جانا چاہیے تو لوگوں نے واپس جانا شروع کر دیا یہاں تک کہ وہ راستے میں ایک تنگ جگہ کے پاس پہنچے تو ایک شخص کی اونٹنی نے اسے نیچے گرا دیا جس کے نتیجے میں وہ شخص مر گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ صورت حال ملاحظہ فرمائی تو بلند آواز میں مسلمانوں کو پکارا تو کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ ( راوی کو شک ہے ‘ یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) کس چیز نے تمہیں روک دیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص تنگ جگہ پر پہنچا تھا اس کی اونٹنی نے اسے گرا دیا جس کے نتیجے میں وہ شخص مر گیا لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے یہ درخواست کی کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں تو آپ نے یہ بات قبول نہیں کی آپ نے منادی کو حکم دیا اس نے بلند آواز میں یہ اعلان کیا : جنت کسی نافرمان کے لئے حلال نہیں ہے خبردار پالتو گدھے حرام ہیں اور ہر نوکیلے دانت والے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہر ناخن والے درندے ( کا گوشت کا کھانا ) حرام ہے ‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ لیکن وہ ثقہ ہے ۔

4220

Majma al-Zawaid #4220

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ رَجْلَةٍ لَهُ، فَجَاءَ وَرَثَتُهُ مِنَ الْأَعْرَابِ، فَأَخْبَرُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَا صَنَعَ فَقَالَ: "" أَوَ فَعَلَ ذَلِكَ؟ "" وَقَالَ: "" لَوْ أَعْلَمْتَنَا - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - مَا صَلَّيْنَا عَلَيْهِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn رضي الله عنه reported that a man freed six slaves of his at his death, and his heirs from the Bedouins came and informed the Messenger of Allah ﷺ of what he had done. He asked in astonishment whether he had done that, and said that had they informed him, he would not have prayed over him. > **"Did he do that? Had you informed us, we would not have prayed over him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے مرنے کے قریب اپنے چھ غلاموں کو آزاد کر دیا اس کے ورثاء جن کا تعلق دیہات سے تھا وہ آئے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اس شخص کے اس عمل کے بارے میں بتایا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا اس نے ایسا کیا تھا ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اگر تم نے ہمیں پہلے بتا دیا ہوتا تو ہم نے اس کی نماز جنازہ نہیں کرنی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4221

Majma al-Zawaid #4221

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى زَانِيَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا وَوَلَدِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ زِيَادٍ صَاحِبُ نَافِعٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ prayed over an adulteress who died in childbed together with her child.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک زنا کرنے والی عورت اور اس کے بچے کی نماز جنازہ ادا کی تھی جو نفاس کے دوران انتقال کر گئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زیاد ہے ‘ جو نافع کا شاگرد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4222

Majma al-Zawaid #4222

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بِئْرٍ فِيهَا أَسْوَدُ مَيِّتٌ، قَالَ: فَأَشْرَفَ فِي الْبِئْرِ، فَإِذَا هُوَ مُلْقًى فِي الْبِئْرِ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" مَا لَهُ مُلْقًى فِي الْبِئْرِ؟ "" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ كَانَ جَافِيَ الدِّينِ، يُصَلِّي أَحْيَانًا وَأَحْيَانًا لَا يُصَلِّي، قَالَ: "" وَيْحَكُمْ أَخْرِجُوهُ ""، فَأَمَرَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَغُسِّلَ، وَكُفِّنَ، وَقَالَ: "" احْمِلُوهُ ""، وَقَالَ: "" إِنْ كَادَتِ الْمَلَائِكَةُ لَتَسْبِقُنَا ""، قَالَ: وَصَلَّى عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَطَاءٌ فِيهِ كَلَامٌ، وَرَاوِيهِ لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Ata ibn al-Sa'ib reported from his father from his grandfather that the Prophet ﷺ passed by a well in which lay a dead black man. He looked into the well, asked why he had been cast there, and upon being told that he was harsh in religion, praying at times and abandoning prayer at times, he ordered his removal, washing, shrouding, carrying, and prayer, describing the hastening of the angels toward him. > **"Why is he cast in the well? Woe to you, take him out. Carry him. The angels had nearly outrun us to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن سائب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک کنویں کے پاس سے ہوا جس میں ایک سیام فام شخص کی لاش موجود تھی نبی اکرم ﷺ نے کنویں میں جھانکا تو آپ کو کنویں میں وہ شخص نظر آیا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا وجہ ہے یہ کنویں میں کیوں پڑا ہوا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ شخص دین سے لاتعلق تھا کبھی نماز پڑھ لیتا تھا کبھی نہیں پڑھتا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم لوگ اسے باہر نکالو نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت اس شخص کو غسل بھی دیا گیا کفن بھی دیا گیا آپ نے ارشاد فرمایا : اس کی میت اٹھاؤ آپ نے فرمایا : فرشتے ہم سے سبقت لے جا رہے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عطاء نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس سے روایت کرنے والا شخص بھی معروف نہیں ہے ۔

4223

Majma al-Zawaid #4223

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ غُلَامٌ شَابٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرِضَ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فَقَالَ: "" تَشْهَدُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ ""، قَالَ: فَجَعَلَ يَنْظُرُ إِلَى أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ: قُلْ كَمَا يَقُولُ لَكَ مُحَمَّدٌ. قَالَ: فَقَبِلَ ثُمَّ مَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [لِأَصْحَابِهِ]: "" صَلُّوا عَلَى أَخِيكُمْ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه said that a young servant boy of the Prophet ﷺ fell ill, and the Prophet ﷺ visited him, invited him to bear witness that there is no god but Allah and that he is the Messenger of Allah, and upon the boy's father bidding him assent to what Muhammad ﷺ said, the boy accepted and then died. The Prophet ﷺ bade his companions pray over their brother. > **"Do you bear witness that there is no god but Allah and that I am the Messenger of Allah? Pray over your brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا ( وہ یہودی تھا ) وہ بیمار ہو گیا ۔ نبی اکرم ﷺ اس کی عیادت کرنے کے لئے اس کے پاس تشریف لائے آپ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور میں اللہ کا رسول ہوں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : اس شخص نے اپنے والد کی طرف دیکھنا شروع کیا ، تو اس کے والد نے اس سے کہا : تم اس طرح کہہ دو جس طرح حضرت محمد ( ﷺ ) تم سے فرما رہے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس شخص نے کلمہ شہادت پڑھا اور پھر انتقال کر گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : تم لوگ اپنے بھائی کی نماز جنازہ ادا کرو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4224

Majma al-Zawaid #4224

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ، فَأَخَذَ جِبْرِيلُ بِثَوْبِهِ فَقَالَ: لَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ وَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allah ﷺ intended to pray over Abdullah ibn Ubayy, Jibril seized his garment and forbade prayer over any of them or standing over his grave. > **"Do not pray over any of them, nor stand over his grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عبداللہ بن اُبی کی نماز جنازہ ادا کرنے کا ارادہ کیا تو حضرت جبرائیل علیہ السلام ( مطبوعہ نسخے میں یہ لفظ اسی طرح ہے ‘ ویسے دیگر روایات میں یہ بات مذکور ہے : آپ ﷺ کا دامن تھامنے والے فرد ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے ) نے آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کی : آپ ان میں سے کسی ایک کی نماز جنازہ ادا نہ کریں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

4225

Majma al-Zawaid #4225

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: دُعِيَ عُمَرُ لِجِنَازَةٍ، فَخَرَجَ فِيهَا أَوْ يُرِيدُهَا، فَتَعَلَّقْتُ بِهِ فَقُلْتُ: اجْلِسْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ; فَإِنَّهُ مِنْ أُولَئِكَ، فَقَالَ: نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ، أَنَا مِنْهُمْ؟ قَالَ: لَا، وَلَا أُبَرِّئُ أَحَدًا بَعْدَكَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah رضي الله عنه said that Umar رضي الله عنه was called to a funeral and went out to attend it, so he clung to him and bade him sit, for the dead was of those hypocrites. Umar adjured him by Allah whether he himself was of them, and he answered no, adding that he would clear no one after him. > **"Sit, O Commander of the Faithful, for he is of those. I adjure you by Allah, am I of them? No, nor shall I clear anyone after you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ایک جنازے کے لئے بلایا گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس میں شرکت کے لئے نکلنے لگے یا جانے لگے تو میں ان کے ساتھ لپٹ گیا اور میں نے عرض کی : آپ بیٹھ جائیں کیونکہ یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا میں ان میں سے ہوں ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! اور آپ کے بعد میں کسی کو بری قرار نہیں دوں گا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4226

Majma al-Zawaid #4226

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِالْمَدِينَةِ فَرَأَى جَمَاعَةً يَحْفِرُونَ قَبْرًا، فَسَأَلَ عَنْهُ فَقَالُوا: حَبَشِيٌّ قَدِمَ فَمَاتَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، سِيقَ مِنْ أَرْضِهِ وَسَمَائِهِ إِلَى التُّرْبَةِ الَّتِي خُلِقَ مِنْهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ passed in Madinah by a party digging a grave, asked about it, and upon being told that an Abyssinian who had arrived had died, he declared the divine unity and said that he had been driven from his land and sky to the soil from which he was created. > **"La ilaha illa Allah. He was driven from his land and his sky to the soil from which he was created."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر مدینہ منورہ میں ایک جگہ سے ہوا آپ نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ ایک قبر کھود رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے میت کے بارے میں دریافت کیا ، تو لوگوں نے بتایا : ایک حبشی شخص آیا تھا اور وہ انتقال کر گیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اسے اس کی زمین اور آسمان سے اس مٹی کی طرف لایا گیا ہے ‘ جس سے اسے پیدا کیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ ہے ‘ جو علی بن مدینی کا والد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4227

Majma al-Zawaid #4227

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «مَرَّ بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ وَنَحْنُ نَحْفِرُ قَبْرًا فَقَالَ: "" مَا تَصْنَعُونَ؟ ""، فَقُلْنَا: نَحْفِرُ قَبْرًا لِهَذَا الْأَسْوَدِ، فَقَالَ: "" جَاءَتْ بِهِ مَنِيَّتُهُ إِلَى تُرْبَتِهِ ""، قَالَ أَبُو أُسَامَةَ: تَدْرُونَ يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ لِمَ حَدَّثْتُكُمْ بِهَذَا الْحَدِيثِ؟ لِأَنَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ خُلِقَا مِنْ تُرْبَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ، وَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه said that the Prophet ﷺ passed by them while they were digging a grave and asked what they were doing. When they said they were digging a grave for a black man, he said that his appointed death had brought him to his soil. Abu Usamah added that he narrated this to the people of Kufah because Abu Bakr and Umar رضي الله عنهما were created from the soil of the Messenger of Allah ﷺ. > **"What are you doing? His death brought him to his soil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس سے گزرے ہم ایک قبر کھود رہے تھے ۔ آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیا کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم ایک سیام نام شخص کے لئے قبر کھود رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کی موت اس مخصوص مٹی تک اسے لے آئی ہے ۔ ابواسامہ نامی راوی نے فرمایا : اے اہل کوفہ ! کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو میں نے تم لوگوں کو یہ حدیث کیوں بیان کی ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تخلیق بھی اللہ کے رسول کی تربت سے ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے عجلی نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور جمہور نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

4228

Majma al-Zawaid #4228

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنْ حَبَشِيًّا دُفِنَ بِالْمَدِينَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" دُفِنَ بِالطِّينَةِ الَّتِي خُلِقَ مِنْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى الْخَزَّازُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that an Abyssinian was buried in Madinah, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said that he had been buried in the clay from which he was created. > **"He was buried in the clay from which he was created."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک حبشی کو مدینہ منورہ میں دفن کیا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسے اس مٹی میں دفن کیا گیا ہے ‘ جس میں سے اسے پیدا کیا گیا تھا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ خزاز ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4229

Majma al-Zawaid #4229

عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عُمَرَ، «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُلْحِدَ لَهُ لَحْدٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها and Ibn Umar رضي الله عنهما reported that a lahd was made for the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے لئے لحد بنائی گئی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4230

Majma al-Zawaid #4230

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «[أُ] لْحِدَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنُصِبَ عَلَيْهِ اللَّبِنُ نَصْبًا، وَأُخِذَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه said that a lahd was made for the Messenger of Allah ﷺ, unbaked bricks were set upright over him, and he was taken into the grave from the side of the qiblah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے لئے لحد بنائی گئی تھی اور آپ کے لئے اینٹیں نصب کی گئی تھیں اور آپ کو قبلہ کی طرف سے ( قبر میں ) لیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی حمانی ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4231

Majma al-Zawaid #4231

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَمَّا تُوُفِّيَ آدَمُ غَسَّلَتْهُ الْمَلَائِكَةُ بِالْمَاءِ وِتْرًا وَلُحِدَ لَهُ، وَقَالَتْ: هَذِهِ سُنَّةُ آدَمَ وَوَلَدِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Ka'b رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that when Adam عليه السلام died, the angels washed him with water an odd number of times, made a lahd for him, and declared it the sunnah of Adam and his children. > **"When Adam died, the angels washed him with water an odd number of times, a lahd was made for him, and they said: This is the sunnah of Adam and his children."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب حضرت آدم علیہ السلام کا انتقال ہوا تو فرشتوں نے انہیں پانی کے ذریعے طاق تعداد میں غسل دیا اور ان کے لئے لحد تیار کی اور یہ بات بیان کی : یہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی اولاد کی سنت ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4232

Majma al-Zawaid #4232

عَنْ أَنَسٍ، «أَنَّ رُقَيَّةً - رَحِمَهَا اللَّهُ - لَمَّا مَاتَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" لَا يَدْخُلُ الْقَبْرَ رَجُلٌ فَارَقَ أَهْلَهُ ""، فَلَمْ يَدْخُلْ عُثْمَانُ عَلَيْهِ الرِّضْوَانُ الْقَبْرَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that when Ruqayyah رحمها الله died, the Messenger of Allah ﷺ forbade any man who had parted from his wife to enter the grave, so Uthman رضي الله عنه did not enter the grave. > **"No man who has parted from his wife shall enter the grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قبر میں ایسا کوئی شخص داخل نہیں ہو گا ، جو اپنی اہلیہ سے جدا ہوا ہو تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ قبر میں داخل نہیں ہوئے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4233

Majma al-Zawaid #4233

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ يُدْخِلُونَ الْمَيِّتَ [الْقَبْرَ] مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said that the Prophet ﷺ, Abu Bakr رضي الله عنه, and Umar رضي الله عنه used to bring the dead into the grave from the side of the qiblah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ میت کو قبر میں قبلہ کی سمت سے داخل کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ‘ جسے ابن حبان نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

4234

Majma al-Zawaid #4234

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو السَّكْسَكِيِّ قَالَ: «خَرَجْنَا فِي جِنَازَةٍ، فَإِذَا أَهْلُهَا يَدْخُلُونَ الْقَبْرَ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ، فَقَالَ كَرْبٌ الْيَحْصَبِيُّ: قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ لِكُلِّ بَيْتٍ بَابًا، وَبَابُ الْقَبْرِ مِنْ تِلْقَاءِ رِجْلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ يُعْرَفُوا.

EnglishUnverified translation

Safwan ibn Amr al-Saksaki said that they went out with a funeral whose people were bringing the dead into the grave from the side of the qiblah, whereupon Karb al-Yahsabi cited Nu'man ibn Bashir رضي الله عنه that the Messenger of Allah ﷺ said that every house has a door and the door of the grave lies toward its feet. > **"Indeed every house has a door, and the door of the grave is from the direction of its feet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صفوان بن عمر و سکسکی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک جنازے میں شریک ہوئے جنازے کے اہل خانہ اسے قبر میں قبلہ کی سمت سے داخل کرنا چاہتے تھے تو کرب یحصبی نے یہ بات بیان کی حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے یہ روایت نقل کی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر گھر کا کوئی دروازہ ہوتا ہے ‘ اور قبر کا دروازہ پاؤں کی سمت میں ہوتا ہے ‘‘۔

4235

Majma al-Zawaid #4235

وَعَنْ مُحَمَّدٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي جِنَازَةٍ، فَأَمَرَ بِالْمَيِّتِ فَسُلَّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad said that he was with Anas ibn Malik رضي الله عنه at a funeral, and Anas commanded concerning the dead, so he was slipped into the grave from the side of the feet of the grave.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد نامی راوی بیان کرتے ہیں : میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوا انہوں نے میت کے بارے میں حکم دیا تو اسے قبر کے پائنتی کی طرف سے قبر میں اتارا گیا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4236

Majma al-Zawaid #4236

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَبْدَءُوا بِدَفْنِ الْمَيِّتِ، وَأَنْ يُلْقَى التُّرَابُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ حَسَّانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه said that it is of the sunnah to begin with the burial of the dead and for earth to be cast from the side of the qiblah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سنت یہ ہے کہ میت کو دفن کرنے کا آغاز اور مٹی ڈالے جانے کا آغاز قبلہ کی سمت سے کیا جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن حسان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4237

Majma al-Zawaid #4237

عَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ: «أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ ذِي النِّجَادَيْنِ الَّذِي هَلَكَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حُفْرَتِهِ، وَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ: "" دَلِّيَا إِلَيَّ أَخَاكُمَا ""، فَلَمَّا وَضَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي لَحْدِهِ قَالَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي رَاضٍ عَنْهُ فَارْضَ عَنْهُ ""، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي صَاحِبُ الْحُفْرَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ. وَكَثِيرٌ: ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Kathir ibn Abdillah reported from his father from his grandfather that Abdullah Dhu al-Bijadayn رضي الله عنه perished during the expedition of Tabuk in the depth of the night. The Messenger of Allah ﷺ descended into his grave pit, bade Abu Bakr and Umar رضي الله عنهما lower their brother to him, and when he placed him in his lahd, he declared his pleasure with him and asked for Allah's pleasure. Abu Bakr then wished that he had been the occupant of that pit. > **"Lower your brother to me. O Allah, I am pleased with him, so be pleased with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کثیر بن عبداللہ نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ عبداللہ ذونجادین غزوہ تبوک کے موقع پر رات کے وقت انتقال کر گئے نبی اکرم ﷺ ان کی قبر میں اترے آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے بھائی کو میری طرف بڑھاؤ جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں لحد میں رکھ دیا تو آپ نے فرمایا : اے اللہ ! میں اس سے راضی ہوں تو بھی اس سے راضی ہو جا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میری یہ خواہش تھی کہ اس قبر کا فرد میں ہوتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ کثیر نامی راوی ضعیف ہے ۔

4238

Majma al-Zawaid #4238

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَنْ رُدُّوا الْقَتْلَى إِلَى مَضَاجِعِهِمْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id رضي الله عنه said that on the day of Uhud the caller of the Messenger of Allah ﷺ announced that the slain should be returned to their resting places. > **"Return the slain to their resting places."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کے منادی نے یہ اعلان کیا : مقتولین کو ان کی شہادت گاہ کی طرف لوٹا دو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4239

Majma al-Zawaid #4239

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «لَمَّا وُضِعَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْقَبْرِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" {مِنْهَا خَلَقْنَاكُمْ وَفِيهَا نُعِيدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً أُخْرَى} [طه: 55] "" قَالَ: ثُمَّ قَالَ: لَا أَدْرِي أَوْ قَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ""، أَمْ لَا؟ فَلَمَّا بَنَى عَلَيْهَا لَحْدَهَا طَفِقَ يَطْرَحُ إِلَيْهِمُ الْحُبُوبَ، وَيَقُولُ: "" سُدُّوا خِلَالَ اللَّبِنِ ""، ثُمَّ قَالَ: "" أَمَا إِنَّ هَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ، وَلَكِنَّهُ يُطَيِّبُ نَفْسَ الْحَيِّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه said that when Umm Kulthum, daughter of the Messenger of Allah ﷺ, رضي الله عنها was placed in the grave, the Messenger of Allah ﷺ recited the verse of Surah Ta-Ha, pronounced the burial formula with uncertainty in one wording, and when her lahd was built, he handed pebbles and bade the gaps between bricks be filled, explaining that though it avails nothing, it comforts the living. > **"From it We created you, and into it We shall return you, and from it We shall bring you forth another time. In the name of Allah, and in the path of Allah, and upon the religion of the Messenger of Allah ﷺ. Fill the gaps between the bricks. Indeed this is nothing, but it comforts the soul of the living."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہ کو قبر میں اتارا جانے لگا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اسی سے ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے ‘ اور اسی میں ہم تمہیں لوٹا دیں گے اور اسی میں سے ہم تمہیں دوبارہ نکالیں گے ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر آپ نے کچھ کہا جو مجھے سمجھ نہیں آئی پھر آپ نے یہ پڑھا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے دین پر ( میں اسے سپرد خاک کرتا ہوں ) ‘‘۔ جب آپ نے ان کی لحد بنا دی تو آپ نے ان کی طرف چھوٹے پتھر بڑھانے شروع کیے اور آپ نے فرمایا : ان کے ذریعے اینٹوں کے درمیان خالی جگہ کو پر کر دو ! پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ کوئی چیز نہیں ہے ‘ لیکن اس کے ذریعے زندہ شخص کو اطمینان ملتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند ضعیف ہے ۔

4240

Majma al-Zawaid #4240

وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ: أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ شَهِدَ جِنَازَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ: فَأَظْهَرُوا الِاسْتِغْفَارَ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ أَنْسٌ، وَأَدْخَلُوهُ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ الْقَبْرِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Sirin said that Anas ibn Malik رضي الله عنه attended the funeral of a man of the Ansar, the people openly sought forgiveness for him without Anas objecting, and they brought him into the grave from the side of the feet of the grave.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن سیرین بیان کرتے ہیں : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے جنازے میں شریک ہوئے لوگوں نے بلند آواز میں استغفار پڑھنا شروع کیا ، تو حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا ان لوگوں نے اسے قبر کے پائنتی کی طرف سے داخل کیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4241

Majma al-Zawaid #4241

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْحَسَنِ، أَيُّهُمَا أَفْضَلُ الْمَشْيُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ أَوْ أَمَامَهَا؟ فَقَالَ لِي: يَا أَبَا سَعِيدٍ، وَمِثْلُكَ يَسْأَلُ عَنْ هَذَا؟ فَقُلْتُ: وَمَنْ يَسْأَلُ عَنْ هَذَا إِلَّا مِثْلِي، إِنِّي رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يَمْشِيَانِ أَمَامَهَا. فَقَالَ: رَحِمَهُمَا اللَّهُ، وَغَفَرَ لَهُمَا، وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعَا كَمَا سَمِعْنَا، وَلَكِنَّهُمَا كَانَا سَهْلَيْنِ يُحِبَّانِ السُّهُولَةَ. يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِذَا مَشَيْتَ خَلْفَ أَخِيكَ الْمُسْلِمِ فَأَنْصِتْ، وَفَكِّرْ فِي نَفْسِكَ كَأَنَّكَ قَدْ صِرْتَ مِثْلَهُ. أَخُوكَ كَانَ يَشَاحُّكَ عَلَى الدُّنْيَا، خَرَجَ مِنْهَا حَزِينًا سَلِيبًا، لَيْسَ لَهُ إِلَّا مَا تَزَوَّدَ مِنْ عَمَلٍ صَالِحٍ. فَإِذَا بَلَغْتَ الْقَبْرَ فَجَلَسَ النَّاسُ فَلَا تَجْلِسْ، وَلَكِنْ قُمْ عَلَى شَفِيرِ قَبْرِهِ، فَإِذَا دُلِّيَ فَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، اللَّهُمَّ عَبْدُكَ نَزَلَ بِكَ وَأَنْتَ خَيْرُ مَنْزُولٍ بِهِ، خَلَّفَ الدُّنْيَا خَلْفَ ظَهْرِهِ، فَاجْعَلْ مَا قَدِمَ عَلَيْهِ خَيْرًا مِمَّا خَلَّفَ ; فَإِنَّكَ قُلْتَ: {وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ} [آل عمران: 198]. ثُمَّ احْثُ عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَيُّوبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه said that he asked Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه whether walking behind the funeral or before it is more excellent. When he cited the practice of Abu Bakr and Umar رضي الله عنهما walking before it, Ali invoked mercy and forgiveness upon them, explained that they had heard as they had heard but preferred ease, and instructed him to walk behind his Muslim brother in silence and reflection upon his own likeness to him, to remain standing at the grave when others sit, to pronounce the burial formula with supplication for the servant who has left the world behind, and to throw three handfuls of earth. > **"In the name of Allah, and in the path of Allah, and upon the religion of the Messenger of Allah ﷺ. O Allah, Your servant has come to You, and You are the best with whom to stay. He has left the world behind his back, so make what he goes to better than what he left behind, for You said: And what is with Allah is better for the righteous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا : اے ابوالحسن ! ان دونوں میں سے کون سی صورت زیادہ فضیلت رکھتی ہے ‘ جنازے کے پیچھے چلنا یا اس کے آگے چلنا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوسعید ! کیا تم جیسا شخص اس بارے میں دریافت کرے گا میں نے کہا : اس بارے میں صرف میرے جیسا شخص ہی دریافت کر سکتا ہے کیونکہ میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے ہوئے دیکھا ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ ان دونوں حضرات پر رحم کرے اور ان دونوں کی مغفرت کرے ان دونوں حضرات نے بھی اسی طرح سنا جس طرح ہم لوگوں نے سنا ‘ لیکن یہ حضرات سہولت پسند تھے ‘ اور سہولت کو پسند کرتے تھے اے ابوسعید جب تم اپنے مسلمان بھائی ( کے جنازے ) کے پیچھے چلو تو خاموش رہو ‘ اور غور و فکر کرتے رہو کہ آخر کار تم نے بھی اس کی مانند ہو جاتا ہے ‘ تمہارا بھائی دنیا کا کتنا خواہشمند تھا ‘ وہ اس سے ایسی حالت میں گیا ہے کہ وہ غمگین ہے ‘ اور اس سے چیزیں سلب کر لی گئی ہیں اس کے پاس زاد سفر کے طور پر صرف نیک عمل ہے ‘ پھر جب تم قبر کے پاس پہنچ جاؤ لوگ بیٹھ جائیں تو تم نہ بیٹھنا بلکہ تم قبر کے کنارے پر کھڑے ہو جانا جب اسے قبر میں اتارا جائے تو تم یہ پڑھنا : ’’ اللہ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ کی راہ میں اور اللہ کے رسول کے دین پر ( میں اسے سپرد خاک کرتا ہوں ) ‘‘۔ اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے ‘ جو تیرا مہمان بن گیا ہے ‘ اور تو سب سے بہترین میزبان ہے اس نے دنیا پس پشت ڈال دی ہے اس نے جو بھلائی آگے بھیجی تھی اسے اس کی جگہ بنا دے جسے یہ پیچھے چھوڑ کر گیا ہے کیونکہ تو نے ہی یہ بات ارشاد فرمائی ہے ’’ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لئے زیادہ بہتر ہے ‘‘۔ ( حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) پھر تم اس پر تین مرتبہ مٹی ڈال دینا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ایوب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4242

Majma al-Zawaid #4242

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «إِذَا مَاتَ أَحَدُكُمْ فَلَا تَحْبِسُوهُ، وَأَسْرِعُوا بِهِ إِلَى قَبْرِهِ، وَلْيُقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِهِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ، وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ بِخَاتِمَةِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي قَبْرِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابِلُتِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما said that he heard the Messenger of Allah ﷺ command hastening the dead to his grave without detention and reciting the Opening of the Book at his head and the seal of Surat al-Baqarah at his feet in his grave. > **"When one of you dies, do not detain him, hasten him to his grave, and let the Opening of the Book be recited at his head and the seal of Surat al-Baqarah at his feet in his grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم میں سے کوئی ایک شخص انتقال کر جائے تو تم اسے روک کے نہ رکھنا تم اسے اس کی قبر کی طرف جلدی لے جانا اس کے سرہانے سورت فاتحہ اور پائنتی سورت بقرہ کی اختتامی آیات کی تلاوت کرنا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4243

Majma al-Zawaid #4243

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْعَلَاءِ بْنِ اللَّجْلَاجِ قَالَ: «قَالَ لِي أَبِي: يَا بُنَيَّ، إِذَا مِتُّ فَالْحَدْ لِي لَحْدًا، فَإِذَا وَضَعْتَنِي فِي لَحْدِي فَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ شَنِّ التُّرَابَ عَلِيَّ شَنًّا، ثُمَّ اقْرَأْ عِنْدَ رَأْسِي بِفَاتِحَةِ الْبَقَرَةِ وَخَاتِمَتِهَا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn al-Ala ibn al-Lajlaj said that his father bade him, when he died, to make a lahd for him, to pronounce the burial formula when placing him in his lahd, to pour earth over him, and to recite at his head the opening and the seal of al-Baqarah, for he had heard the Messenger of Allah ﷺ say that. > **"O my son, when I die, make a lahd for me. When you place me in my lahd, say: In the name of Allah and upon the religion of the Messenger of Allah ﷺ. Then pour earth over me, then recite at my head the opening of al-Baqarah and its seal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن العلاء بن لجلاج بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھ سے کہا : اے میرے بیٹے جب میں مر جاؤں تو تم میرے لئے لحد تیار کرنا اور جب تم مجھے لحد میں رکھو تو یہ پڑھنا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اللہ کے رسول کے دین پر ( میں اسے سپردخاک کرتا ہوں ) ‘‘ پھر تم میرے اوپر مٹی ڈال دینا پھر تم میرے سرہانے سورت بقرہ کی ابتدائی اور آخری آیات تلاوت کرنا کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

4244

Majma al-Zawaid #4244

وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وُضِعَ الْمَيِّتُ فِي قَبْرِهِ قَالَ: "" بِسْمِ اللَّهِ، وَعَلَى سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "". وَوَضَعَ خَلْفَ قَفَاهُ مَدَرَةً، وَبَيْنَ كَتِفَيْهِ مَدَرَةً، وَبَيْنَ رُكْبَتَيْهِ مَدَرَةً، وَمِنْ وَرَائِهِ أُخْرَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بِسْطَامُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Wathilah رضي الله عنه said that when the dead was placed in his grave, the Messenger of Allah ﷺ pronounced the burial formula upon the sunnah of the Messenger of Allah ﷺ, placed a clod behind his nape, a clod between his shoulders, a clod between his knees, and another behind him. > **"In the name of Allah, and upon the sunnah of the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ، تو نبی اکرم ﷺ یہ پڑھتے تھے : اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی سنت کے مطابق پھر آپ اس کی گدی کے نیچے ایک ڈھیلا رکھتے تھے دونوں کندھوں کے درمیان ایک ڈھیلا رکھتے تھے دونوں گھٹنوں کے درمیان ایک ڈھیلا رکھتے تھے ‘ اور اس کے پیچھے ایک اور رکھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بسطام بن عبدالوہاب ہے ‘ اور وہ مجہول ہے ۔

4245

Majma al-Zawaid #4245

وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ حَارِثٍ السُّلَمِيِّ، «أَنَّهُ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ غَزَوَاتٍ قَالَ: قَالَ لَنَا: إِذَا دَفَنْتُمُونِي وَرَشَشْتُمْ عَلَى قَبْرِي الْمَاءَ فَقُومُوا عَلَى قَبْرِي وَاسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ وَادْعُوا لِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الدَّعَّاءُ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Hakam ibn Harith al-Sulami رضي الله عنه, who campaigned with the Messenger of Allah ﷺ in three expeditions, instructed that when they buried him they should sprinkle water over his grave, stand over his grave, face the qiblah, and supplicate for him. > **"When you bury me and sprinkle water over my grave, stand over my grave, face the qiblah, and supplicate for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکم بن حارث سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تین غزوات میں شرکت کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے ہم سے کہا جب تم لوگ مجھے دفن کر دو گے تو میری قبر پر پانی چھڑکنا اور میری قبر کے پاس کھڑے ہو جانا اور قبلہ کی طرف رخ کر کے میرے لئے دعا کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطیہ الدعاء ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

4246

Majma al-Zawaid #4246

وَعَنْ قَتَادَةَ أَنْ أَنَسًا دَفَنَ ابْنًا لَهُ فَقَالَ: اللَّهُمَّ جَافِ الْأَرْضَ عَنْ جَنْبَيْهِ، وَافْتَحْ أَبْوَابَ السَّمَاءِ لِرُوحِهِ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Qatadah said that Anas رضي الله عنه buried a son of his and supplicated that Allah keep the earth from his sides, open the doors of heaven for his soul, and replace his abode with one better than it. > **"O Allah, keep the earth from his sides, open the doors of heaven for his soul, and replace him with an abode better than his abode."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قتادہ بیان کرتے ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک صاحبزادے کو دفن کیا ‘ اور یہ دعا کی : ’’ اے اللہ ! تو اس کے پہلو سے زمین کو دور کر دینا اور اس کی روح کے لئے آسمان کے دروازے کھول دینا اور اسے اس کے گھر کی جگہ بہتر گھر بدلے میں عطا کر دینا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔