Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 7 · Chapter 12

Book of Funerals

Hadith 4167–4206

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4167

Majma al-Zawaid #4167

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى عَلَى الْمَيِّتِ كَبَّرَ أَرْبَعًا ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ عَبْدُكَ وَابْنُ أَمَتِكَ، احْتَاجَ إِلَى رَحْمَتِكَ، وَأَنْتَ غَنِيٌّ عَنْ عَذَابِهِ، فَإِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي إِحْسَانَهُ، وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْهُ ""، ثُمَّ يَدْعُو مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَدْعُوَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Rukanah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ, when he prayed over the dead, would pronounce four takbirs and then say a supplication describing him as His servant and son of His bondwoman in need of His mercy while Allah is free of need for his punishment, asking increase if righteous and pardon if erring, then supplicating further as Allah willed. > **"O Allah, Thy servant and son of Thy bondwoman stands in need of Thy mercy, and Thou art free of need for his punishment. If he was righteous, increase in his righteousness, and if he was erring, pardon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یزید بن رکانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب نماز جنازہ ادا کرتے تھے تو چار تکبیریں کہتے تھے ‘ اور یہ دعا کرتے تھے : ’’ اے اللہ ! یہ تیرا بندہ ہے ‘ اور تیری کنیز کا بیٹا ہے یہ تیری رحمت کا محتاج ہے ‘ اور تو اس کو عذاب دینے سے بے نیاز ہے اگر یہ اچھائی کرنے والا تھا ، تو تو اس کی اچھائی میں اضافہ کر دے اور اگر یہ برائی کرنے والا تھا ، تو تو اس سے درگزر فرما لے ‘‘۔ پھر جو اللہ کو منظور ہوتا تھا آپ وہ دعا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یعقوب بن حمید ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4168

Majma al-Zawaid #4168

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «مَاتَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ فَصَلَّى عَلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأُمُّ سُلَيْمٍ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ ; كَأَنَّهُمْ عُرْفُ دِيكٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أُمُّ يَحْيَى ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهَا.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that a son of Abu Talhah رضي الله عنه died and the Prophet ﷺ prayed over him, with Umm Sulaym رضي الله عنها behind Abu Talhah, as though they were the crest of a rooster.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے انتقال کر گئے نبی اکرم ﷺ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑی ہوئی تھیں ‘ یوں لگتا تھا جیسے وہ لوگ مرغ کی کلغی ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اُم یحیی ہے ‘ میں نے کسی کو اس خاتون کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4169

Majma al-Zawaid #4169

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، «أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى عُمَيْرِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ حِينَ تُوُفِّيَ، فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ فِي مَنْزِلِهِ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ أَبُو طَلْحَةَ وَرَاءَهُ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ وَرَاءَ أَبِي طَلْحَةَ، لَمْ يَكُنْ مَعَهُمْ غَيْرُهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Abi Talhah reported that Abu Talhah رضي الله عنه invited the Messenger of Allah ﷺ for Umayr ibn Abi Talhah when he died. The Messenger of Allah ﷺ came to them and prayed over him in their house, with the Messenger of Allah ﷺ in front, Abu Talhah behind him, and Umm Sulaym رضي الله عنها behind Abu Talhah, with none besides them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن ابوطلحہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو عمیر بن ابوطلحہ کے انتقال پر ان کی نماز جنازہ کے لئے بلایا نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے ہاں تشریف لائے نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے گھر میں اس بچے کی نماز جنازہ پڑھائی نبی اکرم ﷺ آگے ہو گئے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ آپ کے پیچھے تھے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھیں اور ان کے ساتھ ان کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4170

Majma al-Zawaid #4170

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى جِنَازَةٍ، فَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ نَافِعٍ الْأَشْعَرِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa رضي الله عنه reported that they prayed with the Messenger of Allah ﷺ over a funeral, and he gave salam to his right and to his left.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز جنازہ ادا کی ، تو آپ نے دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن نافع اشعری ہے ‘ جسے الوزرعہ نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

4171

Majma al-Zawaid #4171

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «خِلَالٌ كَانَ يَفْعَلُهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَرَكَهُنَّ النَّاسُ: إِحْدَاهُنَّ تَسْلِيمُ الْإِمَامِ فِي الْجِنَازَةِ مِثْلَ تَسْلِيمِهِ فِي الصَّلَاةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Mas'ud رضي الله عنه reported that there were traits the Messenger of Allah ﷺ used to practise which the people abandoned, among them the greeting of the imam in the funeral like his greeting in prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کچھ کام ایسے ہیں جو نبی اکرم ﷺ کیا کرتے تھے ‘ اور لوگوں نے انہیں ترک کر دیا ہے ، ان میں سے ایک امام کا نماز جنازہ میں اس طرح سلام پھیرنا ہے ‘ جس طرح وہ عام نماز میں سلام پھیرتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4172

Majma al-Zawaid #4172

عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ انْتَظَرَ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى صَلَّتْ عَلَى عُتْبَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه is reported to have waited for Umm Abdullah until she prayed over Utbah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے اُم عبداللہ کا انتظار کیا تھا یہاں تک کہ اس خاتون نے عتبہ کی نماز جنازہ ادا کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4173

Majma al-Zawaid #4173

عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجَابِرِ قَالَ: «صَلَّيْتُ خَلْفَ عِيسَى - مَوْلًى لِحُذَيْفَةَ بِالْمَدَائِنِ - عَلَى جِنَازَةٍ، فَكَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا وَهِمْتُ وَلَا نَسِيتُ، وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ مَوْلَايَ وَوَلِيُّ نِعْمَتِي حُذَيْفَةُ بْنُ الْيَمَانِ، [قَالَ]: صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: مَا نَسِيتُ وَلَا وَهِمْتُ، وَلَكِنْ كَبَّرْتُ كَمَا كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ فَكَبَّرَ خَمْسًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَيَحْيَى الْجَابِرُ فِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Yahya ibn Abdullah al-Jabir reported that he prayed behind Isa, freedman of Hudhayfah, at al-Mada'in over a funeral, and he pronounced five takbirs. He then turned to them and said he had neither erred nor forgotten, but had pronounced takbir as his master and benefactor Hudhayfah ibn al-Yaman رضي الله عنه had done. Hudhayfah had prayed over a funeral with five takbirs, then turned and said he had neither forgotten nor erred, but had pronounced takbir as the Messenger of Allah ﷺ had done when he prayed over a funeral with five takbirs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن عبداللہ جابر بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام عیسیٰ کے پیچھے مدائن میں نماز جنازہ ادا کی ‘ تو انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : نہ تو مجھے وہم ہوا ہے ‘ اور نہ ہی میں بھولا ہوں ‘ لیکن میں نے اسی طرح تکبیر کہی ہے ‘ جس طرح میرے آقا اور میرے ولی نعمت حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی تھی انہوں نے ایک نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے پانچ تکبیریں کہی تھیں اور پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر یہ بولے تھے کہ نہ تو میں بھولا ہوں اور نہ ہی میں وہم کا شکار ہوا ہوں بلکہ میں نے اس طرح تکبیر کہی ہے ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے تکبیر کہی تھی آپ نے ایک نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ یحیی جابر نامی راوی کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4174

Majma al-Zawaid #4174

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ، أَنْ عَلِيًّا صَلَّى عَلَى سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ سِتًّا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيْنَا فَقَالَ: إِنَّهُ بَدْرِيٌّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Ma'qil reported that Ali رضي الله عنه prayed over Sahl ibn Hunayf رضي الله عنه with six takbirs, then turned to them and said he was a Badri.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن معقل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے ان پر چھ تکبیریں کہی تھیں پھر وہ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : یہ بدری ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4175

Majma al-Zawaid #4175

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا وَقْتَ وَلَا عَدَدَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْجِنَازَةِ، يَعْنِي التَّكْبِيرَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه stated that there is no fixed time nor number in prayer over the funeral, meaning the takbir.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نماز جنازہ کا نہ تو کوئی وقت ہے ‘ اور نہ ہی کوئی تعداد مقرر ہے ان کی مراد تکبیر تھی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4176

Majma al-Zawaid #4176

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «قَدْ كَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعًا وَخَمْسًا وَأَرْبَعًا، فَكَبَّرُ [وا] مَا كَبَّرَ الْإِمَامُ إِذَا قَدَّمْتُمُوهُ». َرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ pronounced seven, five, and four takbirs, so they should pronounce as the imam pronounces when they put him forward.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سات تکبیریں بھی کہی ہیں پانچ بھی کہی ہیں اور چار بھی کہی ہیں جب تم امام کو آگے کر دو تو امام جتنی تکبیریں کہے ‘ تو تم بھی اتنی کہہ دو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

4177

Majma al-Zawaid #4177

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى قَتْلَى أُحُدٍ، فَكَبَّرَ تِسْعًا تِسْعًا، ثُمَّ سَبْعًا سَبْعًا، ثُمَّ أَرْبَعًا أَرْبَعًا، حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ prayed over the slain of Uhud, pronouncing nine takbirs at a time, then seven at a time, then four at a time, until he joined Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے غزوہ اُحد کے مقتولین کی نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے نو ‘ نو تکبیریں کہیں پھر ( آپ ﷺ نے نماز جنازہ میں ) سات ‘ سات تکبیریں کہیں پھر چار ، چار تکبیریں کہیں یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4178

Majma al-Zawaid #4178

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يُكَبِّرُ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ سَبْعَ تَكْبِيرَاتٍ، وَعَلَى بَنِي هَاشِمٍ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ، ثُمَّ كَانَ آخِرُ صِلَاتِهِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ حَتَّى خَرَجَ مِنَ الدُّنْيَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ فِيهِ نَافِعٌ أَبُو هُرْمُزَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْغَائِبِ: أَنَّهُ كَبَّرَ عَلَى النَّجَاشِيِّ خَمْسَ تَكْبِيرَاتٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ used to pronounce seven takbirs over the people of Badr and five takbirs over Banu Hashim, then his last funeral prayers were with four takbirs until he left the world.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ( نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے ) اہل بدر پر سات تکبیریں کہیں تھیں بنوہاشم پر پانچ تکبیریں کہی تھیں اور آخری نماز جنازہ جو آپ نے پڑھائی تھی اس میں آپ نے چار تکبیریں کہی تھیں یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ابوہرمز ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : غائبانہ نماز جنازہ سے متعلق باب میں ایک حدیث آئے گی کہ نبی اکرم ﷺ پر نے نجاشی کی نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ۔

4179

Majma al-Zawaid #4179

وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحْسِنْ كَفَنَهُ، وَصَلُّوا عَلَى الْمَيِّتِ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَوَاءً» "". قُلْتُ: أَخْرَجْتُهُ لِقَوْلِهِ: "" أَرْبَعَ تَكْبِيرَاتٍ ""، وَبَقِيَّتُهُ فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ، وَعِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ commanded excellence in shrouding the brother and equality of the funeral prayer by night and by day with four takbirs. > **"When one of you shrouds his brother, let him make his shroud excellent, and pray over the dead by night and by day with four takbirs, alike by night and by day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص اپنے بھائی کو کفن دے تو اس کو اچھا کفن دے اور تم رات یا دن میں میت کی نماز جنازہ ادا کرتے ہوئے چار تکبیریں کہو اس بارے رات اور دن کا حکم برابر ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے ان الفاظ کو یہاں نقل کیا :’’ چار تکبیریں ‘‘ اس کا بقیہ کچھ حصہ ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ اور امام ابن ماجہ نے بھی اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4180

Majma al-Zawaid #4180

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ prayed over his son Ibrahim رضي الله عنه and pronounced four takbirs over him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے ان پر چار تکبیریں کہی تھیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4181

Majma al-Zawaid #4181

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ prayed over his son Ibrahim رضي الله عنه and pronounced four takbirs over him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی تو اس میں چار تکبیریں کہی تھیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مالک بن مغول ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

4182

Majma al-Zawaid #4182

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «آخِرُ جِنَازَةٍ صَلَّى عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما said that the last funeral prayer the Messenger of Allah ﷺ prayed over, he pronounced four takbirs over it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : وہ آخری نماز جنازہ جو نبی اکرم ﷺ نے پڑھائی تھی آپ نے اس میں چار تکبیریں کہی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

4183

Majma al-Zawaid #4183

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «أَنَّ الْمَلَائِكَةَ غَسَّلَتْ آدَمَ وَكَبَّرَتْ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، وَقَالُوا: هَذِهِ سُنَّتُكُمْ يَا بَنِي آدَمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ سَعْدٍ، وَثَّقَهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Ka'b رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that the angels washed Adam عليه السلام and pronounced four takbirs over him, declaring that practice to be the way of his descendants. > **"This is your sunnah, O children of Adam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ’’ فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو غسل دیا انہوں نے حضرت آدم علیہ السلام پر چار تکبیریں کہیں اور انہوں نے یہ کہا : اے اولاد آدم یہ تمہارا مخصوص طریقہ ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن سعد ہے ‘ جسے امام ابونعیم اور دیگر حضرات نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔

4184

Majma al-Zawaid #4184

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، وَقَامَ عَلَى قَبْرِهِ، وَحَثَا فِيهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Rabi'ah رضي الله عنه said that he saw the Prophet ﷺ pray over Uthman ibn Maz'un رضي الله عنه and pronounce four takbirs over him, stand over his grave, and throw three handfuls of earth into it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے آپ نے چار تکبیریں کہی تھیں آپ ان کی قبر پر کھڑے ہوئے تھے ‘ اور ان پر دونوں ہاتھ ملا کر تین لپ ( مٹی کے ) ڈالے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبداللہ عمری ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

4185

Majma al-Zawaid #4185

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي عَطَاءٍ قَالَ: شَهِدْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْحَنَفِيَّةِ حِينَ مَاتَ ابْنُ عَبَّاسٍ بِالطَّائِفِ، فَوَلِيَهُ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَنَفِيَّةِ وَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا، وَأَخَذَهُ مِنْ قِبَلِ الْقِبْلَةِ حَتَّى أَدْخَلَهُ الْقَبْرَ، وَضَرَبَ عَلَيْهِ فُسْطَاطًا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Abi Ata said that he was present with Muhammad ibn al-Hanafiyyah when Ibn Abbas رضي الله عنهما died at Taif, and Muhammad took charge of him, pronounced four takbirs over him, lowered him into the grave from the side of the qiblah until he placed him in the grave, and kept a tent pitched over his grave for three days.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمران بن ابوعطاء بیان کرتے ہیں : میں اس وقت حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھا جب حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا طائف میں انتقال ہوا تھا حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے چار تکبیریں کہی تھیں اور انہیں قبلہ کی طرف سے لے کر قبر میں اتارا تھا اور تین دن تک اس کی قبر پر خیمہ لگا کے رکھا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4186

Majma al-Zawaid #4186

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى جِنَازَةٍ وَمَا نَرَى الشَّمْسَ إِلَّا عَلَى أَطْرَافِ الْحِيطَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها said that she saw the Messenger of Allah ﷺ pray over a funeral while the sun was seen only upon the edges of the walls.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے ایک نماز جنازہ پڑھائی حالانکہ ہم دیکھ رہے تھے کہ سورج ( یعنی دھوپ ) دیواروں کے کناروں پر پہنچ چکا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن سعید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4187

Majma al-Zawaid #4187

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يُصَلَّى عَلَى الْجَنَائِزِ بَيْنَ الْقُبُورِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ forbade praying over funerals between graves.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے قبروں کے درمیان میں نماز جنازہ ادا کرنے سے منع کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4188

Majma al-Zawaid #4188

عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: صَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ صِفِّينَ عَلَى عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ وَهَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ، فَكَانَ عَمَّارُ أَقْرَبَهُمَا إِلَى عَلِيٍّ، وَكَانَ هَاشِمُ أَقْرَبَهُمَا إِلَى الْقِبْلَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سِنَانُ بْنُ هَارُونَ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Al-Sha'bi said that Ali رضي الله عنه prayed on the day of Siffin over Ammar ibn Yasir رضي الله عنه and Hashim ibn Utbah رضي الله عنه, with Ammar nearer to Ali and Hashim nearer to the qiblah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور حضرت ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی تو حضرت عمار رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ والی طرف تھے ‘ اور حضرت ہاشم رضی اللہ عنہ قبلہ کی طرف تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سنان بن ہارون ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

4189

Majma al-Zawaid #4189

عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ رَجُلٍ يُصَلِّي عَلَيْهِ مِائَةٌ إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُبَشِّرُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said that no man is prayed over by one hundred except that Allah forgives him. > **"There is no man over whom one hundred pray except that Allah forgives him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس شخص کی نماز جنازہ ایک سو افراد ادا کر لیں اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن ابوملیح ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4190

Majma al-Zawaid #4190

وَعَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ أَنَّهُ خَرَجَ فِي جِنَازَةٍ، فَلَمَّا وُضِعَ السَّرِيرُ أَقْبَلَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ: سَوُّوا صُفُوفَكُمْ، وَأَحْسِنُوا شَفَاعَتَكُمْ، ثُمَّ قَالَ أَبُو الْمَلِيحِ: حَدَّثَنِي سُلَيْكٌ - وَكَانَ أَخَا مَيْمُونَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ - عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ صَلَّى عَلَيْهِ مِائَةٌ شُفِّعُوا فِي أَخِيهِمْ، وَالْأُمَّةُ أَرْبَعُونَ إِلَى مِائَةٍ، وَالْعُصْبَةُ عَشَرَةٌ إِلَى أَرْبَعِينَ، وَالنَّفَرُ ثَلَاثَةٌ إِلَى عَشَرَةٍ». قُلْتُ: رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Malih al-Hudhali said that he went out with a funeral, and when the bier was set down he turned to the people and bade them straighten their rows and make their intercession well. He then related from Sulayk, the brother of Maymunah, Mother of the Believers رضي الله عنها, from Maymunah, that the Prophet ﷺ explained the numbers by which intercession is granted for the brother. > **"Whoever is prayed over by one hundred, they are granted intercession for their brother; and the community is from forty to one hundred, and the clan is from ten to forty, and the company is from three to ten."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوملیح ہذلی بیان کرتے ہیں : وہ ایک جنازے میں نکلے جب چار پائی کو رکھ دیا گیا تو وہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور بولے صفیں سیدھی کر لو اور اچھے طریقے سے سفارش کرنا پھر ابوملیح نے یہ بات بیان کی حضرت سلیک رضی اللہ عنہ جو ام المومنین سیدہ ام میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھائی ہیں انہوں نے مجھے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کی نماز جنازہ ایک سو افراد ادا کر لیں تو ان کے بھائی کے بارے میں ان لوگوں کی شفاعت قبول ہوتی ہے ‘ اور امت چالیس سے لے کے ایک سو افراد تک ہوتی ہے ‘ اور عصبہ دس افراد سے لے چالیس افراد تک ہوتا ہے ‘ اور نفرتین سے لے کے دس افراد تک ہوتے ہیں “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4191

Majma al-Zawaid #4191

عَنْ أَنَسٍ «أَنَّ أَسْوَدَ كَانَ يُنَظِّفُ الْمَسْجِدَ فَمَاتَ فَدُفِنَ لَيْلًا، فَأَتَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُخْبِرَ فَقَالَ: "" انْطَلِقُوا إِلَى قَبْرِهِ ""، فَانْطَلَقُوا فَقَالَ: "" إِنَّ هَذِهِ الْقُبُورَ مُمْتَلِئَةٌ عَلَى أَهْلِهَا ظُلْمَةً، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُنَوِّرُهَا بِصَلَاتِي عَلَيْهَا ""، فَأَتَى الْقَبْرَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنْ أَخِي مَاتَ وَلَمْ تُصَلِّ عَلَيْهِ، قَالَ: "" فَأَيْنَ قَبْرُهُ؟ "" فَأَخْبَرَهُ، فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ الْأَنْصَارِيِّ فَصَلَّى». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that a black man who used to clean the mosque died and was buried at night. When the Prophet ﷺ was informed, he asked to be taken to his grave, described how his prayer illumines the darkness of graves, prayed over the grave, and then went with an Ansari to pray over his brother's grave as well. > **"Set out for his grave. Indeed these graves are filled with darkness over their people, and Allah Almighty illumines them through my prayer over them. Where is his grave?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سیاہ فام شخص مسجد میں صفائی کیا کرتا تھا اس کا انتقال ہو گیا اسے رات میں دفن کر دیا گیا ۔ نبی اکرم ﷺ کو جب اس بات کی اطلاع دی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اس کی قبر کی طرف چلو وہ لوگ چلے گئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ قبریں اپنے متعلقہ افراد کے لئے تاریکی سے بھری ہوئی ہوتی ہیں تو میرے ان پر نماز جنازہ ادا کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انہیں نورانی کر دیتا ہے پھر نبی اکرم ﷺ قبر پر تشریف لائے آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا بھائی فوت ہو گیا ، لیکن آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کی نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس کی قبر کہاں ہے ؟ اس نے آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم ﷺ اس انصاری کے ساتھ تشریف لے گئے اور آپ نے اس کی بھی نماز جنازہ ادا کی ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4192

Majma al-Zawaid #4192

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى قَبْرٍ بَعْدَمَا دُفِنَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَامِعٍ الْعَطَّارُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ prayed over a grave after the dead had been buried.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میت کے دفن ہو جانے کے بعد قبر پر نماز جنازہ ادا کی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جامع عطار ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4193

Majma al-Zawaid #4193

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُ فُقَرَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، وَيَشْهَدُ جَنَائِزَهُمْ إِذَا مَاتُوا، فَتُوُفِّيَتِ امْرَأَةٌ مَنْ أَهْلِ الْعَوَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِذَا حَضَرَتْ فَآذِنُونِي ""، فَأَتَوْهُ لِيُؤْذِنُوهُ، فَوَجَدُوهُ نَائِمًا وَقَدْ ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ، فَكَرِهُوا أَنْ يُوقِظُوهُ، وَتَخَوَّفُوا عَلَيْهِ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَهَوَامَّ الْأَرْضِ، فَذَهَبُوا بِهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهَا قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَيْنَاكَ لِنُؤْذِنَكَ فَوَجَدْنَاكَ نَائِمًا، فَكَرِهْنَا أَنْ نُوقِظَكَ، وَتَخَوَّفْنَا عَلَيْكَ ظُلْمَةَ اللَّيْلِ وَهَوَامَّ الْأَرْضِ، فَمَشَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى قَبْرِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا وَكَبَّرَ أَرْبَعًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Hunayf رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to visit the poor of Madinah and attend their funerals. When a woman from al-Awali died, he asked to be informed when she was ready, but the people found him asleep late in the night and disliked waking him while fearing the darkness and vermin, so they buried her. In the morning he walked to her grave and prayed over her with four takbirs. > **"When she is ready, inform me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ کے غریبوں کی عیادت کیا کرتے تھے ‘ اور جب وہ لوگ فوت ہو جاتے تھے تو ان کے جنازے میں شریک ہوا کرتے تھے نواحی علاقے کے رہنے والوں میں سے ایک خاتون انتقال کر گئی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب وہ حاضر ہو جائے ( یعنی میت کی تکفین مکمل ہو جائے ) تو مجھے اس کے بارے میں اطلاع دے دینا وہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو اس بارے میں اطلاع دیں ‘ تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پایا کہ آپ سو رہے تھے رات کا ایک حصہ گزر چکا تھا لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کو بیدار کرنا مناسب نہیں سمجھا لوگوں کو رات کی تاریکی اور زمین کے حشرات الارض کے حوالے سے بھی اندیشہ تھا وہ اس عورت کی میت لے گئے اگلے دن نبی اکرم ﷺ نے اس عورت کے بارے میں دریافت کیا ، تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم آپ کو اطلاع دینے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ‘ لیکن ہم نے آپ کو پایا کہ آپ سو رہے تھے تو ہمیں یہ اچھا نہیں لگا کہ آپ کو بیدار کریں ہمیں آپ کے حوالے سے رات کی تاریکی اور زمین کے حشرات الارض کا بھی اندیشہ تھا راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ پیدل چل کر اس خاتون کی قبر کی طرف تشریف لے گئے آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی اور آپ نے چار تکبیریں کہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن حسین ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک جماعت نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4194

Majma al-Zawaid #4194

وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ وَحْوَحٍ «أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ الْبَرَاءِ، لَمَّا لَقِيَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنِي بِأَمْرِكَ وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا، قَالَ: فَعَجِبَ لِذَلِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ غُلَامٌ، فَقَالَ لَهُ عِنْدَ ذَلِكَ: "" اذْهَبْ فَاقْتُلْ أَبَاكَ ""، قَالَ: فَذَهَبَ مُوَلِّيًا يَفْعَلُ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: "" أَقْبِلْ ; فَإِنِّي لَمْ أُبْعَثْ بِقَطِيعَةِ الرَّحِمِ ""، فَمَرِضَ طَلْحَةُ بَعْدَ ذَلِكَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَعُودُهُ فِي الشِّتَاءِ فِي بَرْدٍ وَغَيْمٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ لِأَهْلِهِ: "" إِنِّي لَا أَرَى طَلْحَةَ إِلَّا حَدَثَ فِيهِ الْمَوْتُ، فَآذِنُونِي بِهِ حَتَّى أَشْهَدَهُ وَأُصَلِّيَ عَلَيْهِ، وَعَجِّلُوا ""، فَلَمْ يَبْلُغِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَنِي سَالِمِ بْنِ عَوْفٍ حَتَّى تُوُفِّيَ، وَجَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ، فَكَانَ مِمَّا قَالَ طَلْحَةُ: ادْفِنُونِي وَأَلْحِقُونِي بِرَبِّي عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا تَدْعُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنِّي أَخَافُ الْيَهُودَ أَنْ تَصَّافَّ فِي سُنَّتِي، وَأُخْبِرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ أَصْبَحَ، فَجَاءَ حَتَّى وَقَفَ عَلَى قَبْرِهِ وَصَفَّ النَّاسَ مَعَهُ [ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ] فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ الْقَ طَلْحَةَ تَضْحَكُ إِلَيْهِ وَيَضْحَكُ إِلَيْكَ». قُلْتُ: عَزَا صَاحِبُ الْأَطْرَافِ بَعْضَ هَذَا إِلَى أَبِي دَاوُدَ وَلَمْ أَرَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Husayn ibn Wahwah reported that Talhah ibn al-Bara رضي الله عنه met the Prophet ﷺ as a youth and offered absolute obedience, whereupon the Prophet ﷺ tested him with a command against his father, then recalled him and disavowed severing kinship. Talhah later fell ill, the Prophet ﷺ visited him in winter cold and cloud, and bade his family inform him and hasten so he might attend and pray over him. Talhah died at night before the Prophet ﷺ reached Banu Salim ibn Awf, enjoining burial without summoning the Messenger ﷺ for fear of the Jews. In the morning the Prophet ﷺ came, stood over his grave with the people in rows, raised his hands, and supplicated for him. > **"Go and kill your father. Come forward, for I was not sent to sever kinship. I see nothing in Talhah but that death has come upon him, so inform me of him that I may attend him and pray over him, and hasten. O Allah, meet Talhah while he laughs to You and You laugh to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حصین بن وحوح بیان کرتے ہیں : حضرت طلحہ بن براء رضی اللہ عنہ کی جب نبی اکرم ﷺ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی حکم دیجیے میں آپ کے حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا نبی اکرم ﷺ کو یہ بات پسند آئی کیونکہ وہ لڑکے تھے اس وقت نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم جاؤ اور اپنے باپ کو قتل کر دو وہ ایسا کرنے کے لئے مڑ گئے نبی اکرم ﷺ نے انہیں بلوایا اور فرمایا : آؤ ! مجھے اس لئے مبعوث نہیں کیا گیا کہ رشتے داری کے حقوق کو پامال کروں اس کے بعد طلحہ نامی وہ صاحبزادے بیمار ہو گئے سردی اور بارش والے دن شام کے وقت نبی اکرم ﷺ ان کی عیادت کرنے کے لئے تشریف لائے جب آپ واپس جانے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے ان کے اہل خانہ سے فرمایا میں دیکھ رہا ہوں کہ طلحہ مرنے کے قریب ہے ‘ جب یہ فوت ہو جائے تو تم مجھے اس بارے میں بتا دینا تاکہ میں اس کے جنازے میں شریک ہوؤں اور اس کی نماز جنازہ پڑھاؤں ابھی نبی اکرم ﷺ بنو سالم بن عوف کے محلے تک نہیں پہنچے تھے کہ ان کا انتقال ہو گیا رات تاریک ہو چکی تھی طلحہ نے یہ کہا : تم لوگ مجھے دفن کر دینا اور مجھے میرے پروردگار کے سپرد کر دینا تم لوگ نبی اکرم ﷺ کو نہ بلانا کیونکہ مجھے یہودیوں کے حوالے سے یہ اندیشہ ہے کہ وہ آپ ﷺ کو کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں اگلے دن نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع دی گئی تو آپ تشریف لائے یہاں تک کہ آپ ان کی قبر کے پاس آ کے ٹھہرے لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کر کے یہ دعا کی :’’ اے اللہ ! تو طلحہ سے ایسے عالم میں ملنا کہ وہ تجھے دیکھ کے ہنس رہا ہو ‘ اور تو اسے دیکھ کے ہنس رہا ہو ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ اطراف ‘‘ کے مصنف نے اس روایت کے کچھ حصے کی نسبت امام ابوداؤد کی طرف کی ہے ‘ اور میں نے اس کتاب میں یہ روایت نہیں دیکھی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4195

Majma al-Zawaid #4195

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ prayed over al-Najashi.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک ایسا شخص ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

4196

Majma al-Zawaid #4196

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ خَدِيجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Zayd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ prayed over al-Najashi.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی تھی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خدیج بن معاویہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4197

Majma al-Zawaid #4197

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مَاتَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ اللَّيْثِيُّ، فَتُحِبُّ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَيْهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ ""، قَالَ: فَضَرَبَ بِجَنَاحِهِ الْأَرْضَ، فَلَمْ تَبْقَ شَجَرَةٌ وَلَا أَكَمَةٌ إِلَّا تَصَعْصَعَتْ، [قَالَ]: فَرَفَعَ سَرِيرَهُ فَنَظَرَ إِلَيْهِ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ، وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فِي كُلِّ صَفٍّ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلِكٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا جِبْرِيلُ، بِمَا نَالَ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ مِنَ اللَّهِ؟ قَالَ: بِحُبِّهِ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1]، وَقِرَاءَتِهِ إِيَّاهَا ذَاهِبًا وَجَائِيًا، وَقَائِمًا وَقَاعِدًا، وَعَلَى كُلِّ حَالٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي يَعْلَى مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْعَلَاءِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَحْبُوبُ بْنُ هِلَالٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَا يُعْرَفُ، وَحَدِيثُهُ مُنْكَرٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه said that Jibril عليه السلام descended upon the Prophet ﷺ, announced the death of Mu'awiyah ibn Mu'awiyah al-Laythi, and asked whether he wished to pray over him. When he assented, Jibril struck the earth with his wing so that every tree and hill was levelled, the bier was raised into view, and he pronounced the takbir with two rows of angels behind him, seventy thousand in each row. When asked by what means that rank was attained, Jibril attributed it to love of Surat al-Ikhlas and its constant recitation in every state. > **"Mu'awiyah ibn Mu'awiyah al-Laythi has died; would you like to pray over him? Yes. O Jibril, by what did he attain this station with Allah? Through his love of Qul Huwa Allahu Ahad and his recitation of it going and coming, standing and sitting, and in every state."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نازل ہوئے انہوں نے بتایا : معاویہ بن معاویہ لیثی کا انتقال ہو گیا ہے کیا آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنا پسند کریں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو انہوں نے اپنا پر زمین پر مارا تو راستے میں موجود ہر درخت اور ہر ٹیلہ ہٹ گیا راوی بیان کرتے ہیں : انہوں نے مرحوم کی چارپائی کو اٹھایا تو نبی اکرم ﷺ اسے دیکھ رہے ‘ اور آپ نے تکبیر کہی آپ کے پیچھے دو صفیں فرشتوں کی تھیں ہر صف میں ستر ہزار فرشتے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے جبرائیل اس کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ مقام کس وجہ سے ملا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اس کے سورت اخلاص سے محبت کرنے کی وجہ سے اور اس کے جاتے ہوئے آتے ہوئے کھڑے ہوئے بیٹھے ہوئے ہر حال میں اس ( سورت اخلاص ) کو تلاوت کرنے کی وجہ سے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔ امام ابویعلیٰ کی سند میں ایک راوی محمد بن ابراہیم بن العلاء ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔ امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محبوب بن ہلال ہے ۔ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ‘ اور اس کی نقل کردہ حدیث منکر ہے ۔

4198

Majma al-Zawaid #4198

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِبْرِيلُ، وَهُوَ بِتَبُوكَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، اشْهَدْ جِنَازَةَ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَزَلَ جِبْرِيلُ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَوَضَعَ جَنَاحَهُ الْأَيْمَنَ عَلَى الْجِبَالِ فَتَوَاضَعَتْ، وَوَضَعَ جَنَاحَهُ الْأَيْسَرَ عَلَى الْأَرَضِينَ فَتَوَاضَعْنَ، حَتَّى نَظَرَ إِلَى مَكَّةَ وَالْمَدِينَةِ، فَصَلَّى عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجِبْرِيلُ وَالْمَلَائِكَةُ، فَلَمَّا فَرَغُوا قَالَ: "" يَا جِبْرِيلُ، بِمَا بَلَغَ مُعَاوِيَةُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيُّ هَذِهِ الْمَنْزِلَةَ؟ "". قَالَ: بِقِرَاءَةِ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1] قَائِمًا وَقَاعِدًا، وَرَاكِبًا وَمَاشِيًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نُوحُ بْنُ عُمَرَ ; قَالَ ابْنُ حِبَّانَ: يُقَالُ إِنَّهُ سَرَقَ هَذَا الْحَدِيثَ، قُلْتُ: لَيْسَ هَذَا بِضَعْفٍ فِي الْحَدِيثِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَلَيْسَ فِيهِ عِلَّةٌ غَيْرَ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه said that Jibril عليه السلام came to the Messenger of Allah ﷺ while he was at Tabuk and bade him witness the funeral of Mu'awiyah ibn Mu'awiyah al-Muzani. The Messenger of Allah ﷺ went out with Jibril and seventy thousand angels; Jibril placed his right wing upon the mountains so they sank and his left wing upon the lands so they sank, until Makkah and Madinah were seen. The Messenger of Allah ﷺ, Jibril, and the angels prayed over him, and when they finished he asked by what means that station had been reached. > **"O Muhammad, attend the funeral of Mu'awiyah ibn Mu'awiyah al-Muzani. O Jibril, by what did Mu'awiyah ibn Mu'awiyah al-Muzani reach this station? Through reciting Qul Huwa Allahu Ahad, standing and sitting, riding and walking."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے نبی اکرم ﷺ اس وقت تبوک میں موجود تھے انہوں نے کہا : اے حضرت محمد ! آپ معاویہ بن معاویہ مزنی کے جنازے میں شریک ہوں تو نبی اکرم ﷺ نکلے حضرت جبرائیل علیہ السلام ستر ہزار فرشتوں کے ہمراہ نکلے تھے انہوں نے اپنا دایاں پاؤں مارا تو وہ جھک گئے انہوں نے اپنا بایاں پاؤں زمین پر مارا تو وہ جھک گئی یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ مکہ اور مدینہ کو دیکھ سکتے تھے ‘ یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے ان صاحب کی نماز جنازہ ادا کی حضرت جبرائیل اور فرشتوں نے بھی ادا کی جب یہ لوگ اس سے فارغ ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے جبرائیل ! معاویہ بن معاویہ مزنی کو یہ مقام کس وجہ سے نصیب ہوا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سورت اخلاص کھڑے ہو کر بیٹھ کر سوار ہو کر پیدل چلتے ہوئے ( ہر حال میں پڑھنے کی وجہ سے یہ مقام ملا ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نوح بن عمر ہے ۔ ابن حبان کہتے ہیں : یہ بات کہی جاتی ہے اس نے یہ حدیث چوری کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ چیز حدیث میں کمزوری کا باعث نہیں بن سکتی اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت میں اس کے علاوہ اور کوئی علت نہیں ہے ۔

4199

Majma al-Zawaid #4199

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ غَازِيًا بِتَبُوكَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، هَلْ لَكَ فِي جِنَازَةِ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ؟ فَقَالَ: "" نَعَمْ ""، فَقَالَ جِبْرِيلُ بِيَدِهِ هَكَذَا، فَفَرَّجَ لَهُ عَنِ الْجَبَلِ وَالْآكَامِ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَمْشِي وَمَعَهُ جِبْرِيلُ، وَمَعَ جِبْرِيلَ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ، فَصَلَّى عَلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجِبْرِيلَ: "" بِمَ بَلَغَ مُعَاوِيَةُ هَذَا؟ ""، قَالَ: بِكَثْرَةِ قِرَاءَةِ {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} [الإخلاص: 1]، كَانَ يَقْرَؤُهَا قَائِمًا وَقَاعِدًا وَرَاقِدًا، فَبِهَذَا بَلَغَ مَا بَلَغَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Mu'awiyah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ was campaigning at Tabuk when Jibril عليه السلام came and asked whether he desired the funeral of Mu'awiyah ibn Mu'awiyah al-Muzani. When he assented, Jibril gestured with his hand so the mountains and hills parted, and the Messenger of Allah ﷺ walked with Jibril and seventy thousand angels and prayed over Mu'awiyah. When asked by what means he had attained that rank, Jibril attributed it to abundant recitation of Surat al-Ikhlas by night and day. > **"O Muhammad, do you desire the funeral of Mu'awiyah ibn Mu'awiyah al-Muzani? Yes. By what did Mu'awiyah attain this? Through much recitation of Qul Huwa Allahu Ahad; he used to recite it standing and sitting and lying, and thereby he attained what he attained."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ غزوہ تبوک میں شرکت کے لئے گئے ہوئے تھے حضرت جبرائیل علیہ السلام آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : کیا آپ معاویہ بن معاویہ مزنی کے جنازے میں دلچسپی رکھتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس طرح اشارہ کیا ، تو سب پہاڑ اور ٹیلے ہٹ گئے نبی اکرم ﷺ چلتے ہوئے تشریف لائے آپ کے ساتھ حضرت جبرائیل علیہ السلام تھے ‘ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے معاویہ بن معاویہ کی نماز جنازہ ادا کی نبی اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا : معاویہ اس مقام تک کس وجہ سے پہنچا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سورت اخلاص کی بکثرت تلاوت کی وجہ سے وہ کھڑے ہو کر بیٹھ کر لیٹ کر اس کو پڑھتا رہتا تھا ، تو اس وجہ سے اس مقام تک پہنچا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن ابوسہل ہے ‘ اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4200

Majma al-Zawaid #4200

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ، فَكَبَّرَ عَلَيْهِ أَرْبَعًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ prayed over al-Najashi and pronounced four takbirs over him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی تھی آپ نے اس پر چار تکبیریں کہی تھیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4201

Majma al-Zawaid #4201

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى النَّجَاشِيِّ حِينَ نُعِيَ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تُصَلِّي عَلَى عَبْدٍ حَبَشِيٍّ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ} [آل عمران: 199]» الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ prayed over al-Najashi when his death was announced, and when it was objected that he would pray over an Abyssinian slave, Allah Almighty sent down the verse concerning those among the People of the Book who believe in Allah. > **"And indeed, among the People of the Book are those who believe in Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو جب نجاشی کے انتقال کی خبر ملی تو آپ نے نجاشی کی نماز جنازہ ادا کی عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ایک حبشی شخص کی نماز جنازہ ادا کرنے لگے ہیں ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام طبرانی کے رجال ثقہ ہیں ۔

4202

Majma al-Zawaid #4202

وَعَنْ كَثِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى النَّجَاشِيِّ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ خَمْسًا». قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ خَلَا ذِكْرَ النَّجَاشِيِّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَكَثِيرٌ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Kathir ibn Abdillah reported from his father from his grandfather that the Messenger of Allah ﷺ prayed over al-Najashi and pronounced five takbirs over him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

کثیر بن عبداللہ نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : نبی اکرم ﷺ نے نجاشی کی نماز جنازہ میں پانچ تکبیریں کہی تھیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے نجاشی کا ذکر نہیں کیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ کثیر نامی راوی ضعیف ہے ۔

4203

Majma al-Zawaid #4203

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَاةُ النَّجَاشِيِّ قَالَ: "" اخْرُجُوا فَصَلُّوا عَلَى أَخٍ لَكُمْ لَمْ تَرَوْهُ قَطُّ "". فَخَرَجْنَا، وَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَفَّنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّى وَصَلَّيْنَا، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا قَالَ الْمُنَافِقُونَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا خَرَجَ فَصَلَّى عَلَى عِلْجٍ نَصْرَانِيٍّ لَمْ يَرَهُ قَطُّ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ: {وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ} [آل عمران: 199]» إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه said that when news of al-Najashi's death reached the Prophet ﷺ, he commanded the companions to go out and pray over an unseen brother. They went out, the Prophet ﷺ advanced with them ranged behind him, and they prayed. When the hypocrites marvelled that he prayed over a Christian chief he had never seen, Allah sent down the verse concerning those among the People of the Book who believe in Allah, to the end of the verse. > **"Go out and pray over a brother of yours whom you have never seen."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو نجاشی کی وفات کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ نکلو اور اپنے اس بھائی کی نماز جنازہ ادا کرو جسے تم نے کبھی نہیں دیکھا تو ہم نکلے نبی اکرم ﷺ آگے ہوئے ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنا لیں ۔ آپ نے نماز ادا کی ہم نے بھی نماز ادا کی جب ہم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو منافقین نے کہا : تم لوگ ان کی طرف دیکھو کہ یہ نکلے اور انہوں نے ایک عیسائی طاقتور شخص ( یعنی حکمران ) کی نماز جنازہ ادا کی ‘ جسے انہوں نے کبھی دیکھا بھی نہیں ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں ‘ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ابوزناد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4204

Majma al-Zawaid #4204

وَعَنْ جَرِيرٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ النَّجَاشِيَّ قَدْ مَاتَ فَصَلُّوا عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jarir رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ announced the death of al-Najashi and commanded prayer over him. > **"Indeed al-Najashi has died, so pray over him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے ‘ تم لوگ اس کی نماز جنازہ ادا کرو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4205

Majma al-Zawaid #4205

وَعَنِ ابْنِ خَارِجَةَ قَالَ: «لَمَّا بَلَغَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَفَاةُ النَّجَاشِيِّ قَالَ: "" إِنَّ أَخَاكُمْ قَدْ تُوُفِّيَ ""، فَخَرَجْنَا فَصَفَفْنَا خَلْفَهُ، فَصَلَّيْنَا وَمَا نَرَى شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ حُمَرَانَ بْنُ أَعْيَنَ، وَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Kharijah said that when news of al-Najashi's death reached the Prophet ﷺ, he announced the death of their brother, they went out and formed rows behind him, and they prayed though they saw nothing before them. > **"Indeed your brother has died."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن خارجہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کو نجاشی کے انتقال کی اطلاع ملی تو آپ نے ارشاد فرمایا : تمہارے بھائی کا انتقال ہو گیا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں ) ہم لوگ نکلے ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنا لیں اور ہم نے نماز جنازہ ادا کی حالانکہ ہم کچھ نہیں دیکھ رہے تھے ( یعنی میت ہمارے سامنے نہیں تھی ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حمران بن اعین ہے ‘ جسے ابوحاتم نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے یحیی بن معین نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4206

Majma al-Zawaid #4206

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: «لَمَّا مَاتَ النَّجَاشِيُّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ: "" إِنَّ أَخَاكُمُ النَّجَّاشِيَّ قَدْ مَاتَ، قُومُوا فَصَلُّوا عَلَيْهِ "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْهِ وَقَدْ مَاتَ فِي كُفْرِهِ؟ فَقَالَ: "" أَلَا تَسْمَعُونَ إِلَى قَوْلِ اللَّهِ: {وَإِنَّ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَمَنْ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْكُمْ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِمْ} [آل عمران: 199]»، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي دَاوُدَ الْحَرَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Wahshi ibn Harb رضي الله عنه said that when al-Najashi died, the Messenger of Allah ﷺ bade his companions rise and pray over their brother al-Najashi. When a man asked how they could pray over one who died in disbelief, he directed them to Allah's word concerning those among the People of the Book who believe in Allah and in what was sent down, to the end of the verse. > **"Indeed your brother al-Najashi has died, so rise and pray over him. Have you not heard the word of Allah: And indeed, among the People of the Book are those who believe in Allah and in what was sent down to you and in what was sent down to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نجاشی کا انتقال ہوا تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے ارشاد فرمایا : تمہارے بھائی نجاشی کا انتقال ہو گیا ہے تم لوگ اٹھو اور اس کی نماز جنازہ ادا کرو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس کی نماز جنازہ کیسے ادا کر سکتے ہیں جبکہ اس کا انتقال کفر کے عالم میں ہوا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا ہے : ’’ بے شک اہل کتاب میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر اور جو تمہاری طرف نازل کیا گیا اس پر اور جو ان کی طرف نازل کیا گیا اس پر ایمان رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوداؤد حرانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔