Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 7 · Chapter 10

Book of Funerals

Hadith 4087–4126

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4087

Majma al-Zawaid #4087

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «إِذَا مِتُّ فَلَا تُقَمِّصُونِي ; فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ يُقَمَّصْ، وَلَمْ يُعَمَّمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الْعُمَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه instructed, as a report of his own, that when he dies they should not dress him in a shirt, for he saw that the Messenger of Allah ﷺ was neither dressed in a shirt nor given a turban. > **"When I die, do not dress me in a shirt, for I saw the Messenger of Allah was neither dressed in a shirt nor given a turban."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے فرمایا : جب میں مر جاؤں تو تم مجھے قمیص نہ پہنانا کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تھا نہ تو آپ کو قمیص پہنائی گئی تھی اور نہ ہی عمامہ باندھا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید عمری ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4088

Majma al-Zawaid #4088

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ أَحَدُهَا قَمِيصٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ was shrouded in three garments, one of which was a shirt.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا جن میں سے ایک قمیص تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4089

Majma al-Zawaid #4089

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَسَدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ was shrouded in three garments.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن قاسم اسدی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4090

Majma al-Zawaid #4090

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كُفِّنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ: بُرْدٍ صَنْعَانِيٍّ وَبُرْدَيْ حِبَرَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ قَعِيبُ بْنُ الْمُحْرِزِ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه stated, as a report of his own, that the Prophet ﷺ was shrouded in three garments: a Sanani cloak and two Hibara cloaks.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ایک صنعانی چادر تھی اور دو حبرہ چادریں تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راؤی قعیب بن محرز ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4091

Majma al-Zawaid #4091

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: «إِذَا أَنَا مِتُّ فَاجْعَلُوا فِي غُسْلِي كَافُورًا، وَكَفِّنُونِي فِي بُرْدَيْنِ وَقَمِيصٍ، فَإِنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَعَلَ ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Mughaffal رضي الله عنه instructed, as a report of his own, that when he dies camphor be placed in his washing and that he be shrouded in two cloaks and a shirt, for the Prophet ﷺ was so treated. > **"When I die, place camphor in my washing and shroud me in two cloaks and a shirt, for the Prophet was so treated."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے فرمایا : جب میں مر جاؤں تو میرے غسل کے پانی میں کافور ملا دینا اور مجھے دو چادروں اور ایک قمیص میں کفن دینا کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا کیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن موسیٰ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4092

Majma al-Zawaid #4092

وَعَنْ أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ: سَأَلْتُ آلَ مُحَمَّدٍ وَفِيهِمُ ابْنُ نَوْفَلٍ: «فِي أَيِّ شَيْءٍ كُفِّنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: فِي حُلَّةٍ حَمْرَاءَ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ، وَجُعِلَ فِي قَبْرِهِ شِقُّ قَطِيفَةٍ كَانَتْ لَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Ishaq reported that he asked the family of Muhammad, among them Ibn Nawfal, in what the Messenger of Allah ﷺ was shrouded, and was told of a red hulla without a shirt and a strip of their velvet placed in his grave.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسحاق بیان کرتے ہیں : میں نے آل محمد سے دریافت کیا : جن میں ابن نوفل بھی موجود تھے کہ کس چیز میں نبی اکرم ﷺ کو کفن دیا گیا تھا ، تو انہوں نے جواب دیا : ایک سرخ حلے میں ، جس میں قمیص شامل نہیں تھی اور آپ کی قبر میں ان لوگوں کی ایک چادر کا ٹکڑا رکھا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4093

Majma al-Zawaid #4093

وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى قَالَ: «أَتَيْتُ حَلْقَةً مِنْ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَسَأَلْتُ أَشْيَاخَهُمْ فِي كَمْ كُفِّنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟» فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Ishaq reported in another narration that he came to a circle of Banu Abdul Muttalib and asked their elders in how many garments the Prophet ﷺ was shrouded, and they narrated the like thereof.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے ان کے حوالے سے ایک اور روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : وہ بیان کرتے ہیں : میں بنوعبدالمطلب کے ایک حلقے میں آیا میں نے ان کے بزرگوں سے دریافت کیا : نبی اکرم ﷺ کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔

4094

Majma al-Zawaid #4094

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «لَمَّا قُتِلَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ كَانَتْ عَلَيْهِ نَمِرَةٌ، فَكَانَ عَلِيٌّ هُوَ الَّذِي أَدْخَلَهُ قَبْرَهُ، فَكَانَ إِذَا غَطَّى بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ قَدَمَاهُ، وَإِذَا غَطَّى قَدَمَيْهِ خَرَجَتْ رَأْسُهُ، فَسَأَلَ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَهُ أَنْ يُغَطِّيَ رَأْسَهُ، وَأَنْ يَأْخُذَ [لَهُ] شَجَرًا مِنَ الْعَلَجَانِ فَيَجْعَلَهُ عَلَى رِجْلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ أَيُّوبَ عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَأَيُّوبُ لَمْ أَعْرِفْ مَنْ هُوَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that when Hamzah ibn Abdul Muttalib رضي الله عنه was slain there was upon him a striped cloak, that Ali رضي الله عنه was the one who lowered him into his grave, that when his head was covered his feet appeared and when his feet were covered his head appeared, and that upon asking the Messenger of Allah ﷺ he was commanded to cover the head and to take some Idhkhir shrubs to place upon his feet. > **"Cover his head, and take for him some shrubs of Idhkhir and place them upon his feet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کو قتل کیا گیا تو ان کے جسم پر دھاری دار چادر تھی ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں قبر میں داخل کیا تھا جب وہ اُن کے سر کو ڈھانپتے تھے تو پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے ‘ اور جب وہ ان کے پاؤں کو ڈھانپتے تھے تو سر ظاہر ہو جاتا تھا انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ان کے سر کو ڈھانپ دیں اور علجان درخت کے کچھ پتے لے کر ان کے پاؤں پر ڈال دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ایوب کی حکم بن عتیبہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ ایوب نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں کہ یہ کون ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4095

Majma al-Zawaid #4095

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قُتِلَ حَمْزَةُ يَوْمَ أُحُدٍ، وَقُتِلَ مَعَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَجَاءَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِثَوْبَيْنِ لِتُكَفِّنَ فِيهِمَا حَمْزَةَ، فَلَمْ يَكُنْ لِلْأَنْصَارِيِّ كَفَنٌ، فَأَسْهَمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الثَّوْبَيْنِ، ثُمَّ كُفِّنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي ثَوْبٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ الْجَزَرِيُّ الشَّاهِدُ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that Hamzah رضي الله عنه was slain on the day of Uhud together with a man from the Ansar, that Safiyyah bint Abdul Muttalib رضي الله عنها brought two garments to shroud Hamzah in, that there was no shroud for the Ansari, so the Prophet ﷺ drew lots between the two garments and each of the two men was shrouded in one garment.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر حضرت حمزہ رضی اللہ شہید ہو گئے ان کے ساتھ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بھی شہید ہوئے سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہما دو کپڑے لے کے آئی تھیں تاکہ ان میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو کفن دیا جائے انصاری کے لئے کوئی کفن نہیں تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان دو کپڑوں کے دو حصے کیے اور ان دونوں صاحبان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کپڑے میں کفن دیا گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عثمان جزری شاہد ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4096

Majma al-Zawaid #4096

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِحَمْزَةَ وَقَدْ جُدِعَ أَنْفُهُ وَمُثِّلَ بِهِ فَقَالَ: "" لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا تَرَكْتُهُ حَتَّى يَحْشُرَهُ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ ""، فَكُفِّنَ فِي نَمِرَةٍ ; إِذَا خُمِّرَ رَأْسُهُ بَدَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا خُمِّرَ رِجْلَاهُ بَدَا رَأْسُهُ، فَخَمَّرُوا رَأْسَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ مِنْ غَيْرِ ذِكْرِ الْكَفَنِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that on the day of Uhud the Prophet ﷺ passed by Hamzah رضي الله عنه with his nose cut and his body mutilated, declared that were it not for the grief of Safiyyah رضي الله عنها he would have left him until Allah gathered him from the bellies of beasts and birds, and that he was shrouded in a striped cloak which, when the head was covered, exposed the feet, and when the feet were covered, exposed the head, so they covered his head. > **"Were it not that Safiyyah would grieve within herself, I would have left him until Allah gathers him from the bellies of beasts and birds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد کے موقع پر نبی اکرم ﷺ کا گزر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ( کی میت ) کے پاس سے ہوا ان کی لاش کاٹ دی گئی تھی اور مثلہ کر دیا گیا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہما پریشان ہو جائیں گی میں ان کو یوں ہی رہنے دیتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ حشر کے دن انہیں درندوں اور پرندوں کے پیٹوں میں سے اٹھا لیتا انہیں ایک چادر میں کفن دیا گیا جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تھا ، تو پاؤں ظاہر ہو جاتے تھے ‘ اور جب پاؤں ڈھانپے جاتے تھے تو سر ظاہر ہو جاتا تھا ، تو لوگوں نے ان کے سر کو ڈھانپ دیا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ امام ابوداؤد نے اس کا کچھ حصہ ذکر کیا ہے ‘ جس میں کفن کا ذکر نہیں ہے ۔ اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4097

Majma al-Zawaid #4097

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «خَمِّرُوا وُجُوهَ مَوْتَاكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded covering the faces of the dead and forbade imitating the Jews. > **"Cover the faces of your dead, and do not imitate the Jews."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے مردوں کے چہرے ڈھانپ دیا کرو اور یہودیوں کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4098

Majma al-Zawaid #4098

وَعَنْ شَيْخٍ مِنْ قَيْسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «جَاءَنَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَنَا بَكْرَةٌ صَعْبَةٌ لَا نَقْدِرُ عَلَيْهَا، قَالَ: فَدَنَا مِنْهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَاحْتَفَلَ فَحَلَبَ، [قَالَ]: فَلَمَّا مَاتَ أَبِي جَاءَ وَقَدْ شَدَدْتُهُ فِي كَفَنِهِ وَأَخَذْتُ سُلَّاءَةً، فَشَدَدْتُ بِهَا الْكَفَنُ فَقَالَ: "" لَا تُعَذِّبْ أَبَاكَ بِالسُّلَّى ""، ثُمَّ بَزَقَ عَلَى صَدْرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ رُضَابَ بُزَاقِهِ عَلَى صَدْرِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

A sheikh from Qays reported from his father that the Prophet ﷺ came to them while they had a refractory young she-camel they could not manage, that the Prophet ﷺ drew near, wiped its udder until it filled and milked it, and that when his father died and he had bound him in his shroud and tightened the shroud with sula fibres, the Prophet ﷺ forbade tormenting his father therewith and spat upon his chest until the moisture of the spittle was seen there. > **"Do not torment your father with sula."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

قیس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ہمارے پاس ایک جوان اونٹنی تھی جس پر قابو پانا مشکل تھا نبی اکرم ﷺ اس کے قریب ہوئے آپ نے اس کے تھن پر ہاتھ پھیرا تو وہ دودھ دینے کے لئے تیار ہو گئی آپ نے دودھ دوہ لیا راوی بیان کرتے ہیں : جب میرے والد کا انتقال ہوا تو میں نے ان کے کفن کو باندھ دیا اور میں نے سلاۃ ( وہ جھلی نما چیز کہ جانور کا بچہ ماں کے پیٹ میں اس کے اندر ہوتا ہے ) لے لیا ‘ اور میں نے اس کے ذریعے کفن کو باندھ دیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ’’ سلی “ کے ذریعے اپنے باپ کو عذاب نہ دو ! پھر نبی اکرم ﷺ نے ان کے سینے پر لعاب دہن ڈالا ‘ یہاں تک کہ میں نے ان کے سینے پر آپ کے لعاب دہن کا رضاب ( باریک اور پتلا مواد ) دیکھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4099

Majma al-Zawaid #4099

وَعَنِ ابْنَةِ أُهْبَانَ أَنَّ أَبَاهَا أَمَرَ أَهْلَهُ أَنْ يُكَفِّنُوهُ وَلَا يُلْبِسُوهُ قَمِصَيًا، قَالَتْ: فَأَلْبَسْنَاهُ قَمِيصًا، فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِيصُ عَلَى الْمِشْجَبِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا.

EnglishUnverified translation

The daughter of Uhban reported, as a narration of her own, that her father had commanded his family to shroud him without dressing him in shirts, that they dressed him in a shirt nonetheless, and by morning the shirt was found upon the drying rack.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنت اہبان بیان کرتی ہیں : ان کے والد نے ان کے اہل خانہ کو یہ حکم دیا تھا کہ انہیں کفن دیتے ہوئے انہیں قمیص نہ پہنائیں وہ خاتون بیان کرتی ہیں : ہم نے انہیں ( کفن میں ) قمیص پہنا دی اگلے دن وہ قمیص کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے اسی طرح نقل کی ہے ۔

4100

Majma al-Zawaid #4100

وَرَوَى الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ فَقَالَ: عَنْ عُدَيْسَةَ بِنْتِ أُهْبَانَ قَالَتْ: حَيْثُ حَضَرَ أَبِي الْوَفَاةُ قَالَ: لَا تُكَفِّنُونِي فِي ثَوْبٍ مَخِيطٍ، فَحَيْثُ قُبِضَ وَغُسِّلَ أَرْسَلُوا إِلَيَّ أَنْ أَرْسِلُوا بِالْكَفَنِ، فَأُرْسِلَ إِلَيْهِمْ بِالْكَفَنِ، قَالُوا: قَمِيصٌ، قُلْتُ: إِنَّ أَبِي قَدْ نَهَانِي أَنْ أُكَفِّنَهُ فِي قَمِيصٍ مَخِيطٍ، قَالَتْ: فَأَرْسَلْتُ إِلَى الْقِصَارِ وَلِأَبِي قَمِيصٍ فِي الْقِصَارِ، فَأُتِيَ بِهِ، فَأُلْبِسَ وَذَهَبَ بِهِ، فَأَغْلَقْتُ بَابِي وَتَبِعْتُهُ، وَرَجَعْتُ وَالْقَمِيصُ فِي الْبَيْتِ، فَأَرْسَلْتُ إِلَى الَّذِينَ غَسَّلُوا أَبِي فَقُلْتُ: كَفَّنْتُمُوهُ فِي قَمِيصٍ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قُلْتُ: هُوَ ذَا، قَالُوا: نَعَمْ. وَفِيهِ أَبُو عَمْرٍو الْقَسْمَلِيُّ ; قَالَ الْحُسَيْنِيُّ: لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Udaysah bint Uhban رضي الله عنها reported that when death approached her father he instructed that he not be shrouded in any sewn garment, that after his soul was taken and he was washed they sent to her for the shroud, she sent it, they asked for a shirt, she reminded them of his prohibition against a sewn shirt, sent to the fuller for a shirt of his held there, it was brought and he was dressed and taken away, she closed her door and followed, and upon returning found the shirt in the house. She then sent to those who had washed him asking whether they had shrouded him in a shirt, they affirmed, and upon showing it they affirmed it was that very one. > **"Do not shroud me in a sewn garment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے معجم کبیر میں یہ روایت نقل کی ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : عدیسہ بنت اہبان بیان کرتی ہیں : جب میرے والد کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا : مجھے کسی سلے ہوئے کپڑے میں کفن نہ دینا وہ خاتون بیان کرتی ہیں : جب انہیں غسل دے دیا گیا تو لوگوں نے مجھے پیغام بھیجا کہ تم کفن بھجوا دو میں نے ان کی طرف کفن بھجوایا لوگوں نے کہا : قمیص کہاں ہے ؟ میں نے کہا : میرے والد نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ میں انہیں سلی ہوئی قمیص میں کفن دوں وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے درزی کی طرف پیغام بھیجا میرے والد کی ایک قمیص درزی کے پاس تھی وہ لائی گئی اور انہیں پہنا دی گئی اور پھر ان کی میت کو لے گئے میں نے دروازہ بند کیا ‘ اور ان کے پیچھے گئی جب میں واپس آئی تو قمیص گھر میں موجود تھی جن لوگوں نے میرے والد کو غسل دیا تھا ۔ میں نے پیغام بھیجا اور میں نے دریافت کیا : تم نے انہیں قمیص میں کفن دیا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ میں نے دریافت کیا : کیا وہ یہی ہے ۔ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعمرو قسملی ہے حسینی فرماتے ہیں یہ معروف نہیں ہے ۔

4101

Majma al-Zawaid #4101

وَعَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ دَعَا بِخِلَقِ جُبَّةِ صُوفٍ فَقَالَ: كَفِّنُونِي فِيهَا فَإِنِّي لَقِيتُ فِيهَا الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَإِنَّمَا كُنْتُ أُخَبِّئُهَا لِهَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ الزُّهْرِيَّ لَمْ يُدْرِكْ سَعْدًا.

EnglishUnverified translation

Al-Zuhri reported that when death approached Sad ibn Abi Waqqas رضي الله عنه he called for a worn woollen jubba and instructed that he be shrouded in it, for in it he had met the polytheists on the day of Badr, and he had kept it aside for that very day. > **"Shroud me in it, for in it I met the polytheists on the day of Badr, and I kept it aside for this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زہری بیان کرتے ہیں : جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ایک پرانا اونی جبہ منگوایا اور ارشاد فرمایا : تم لوگ مجھے اس میں کفن دے دینا کیونکہ غزوہ بدر کے موقع پر یہ پہن کر میں نے مشرکین کا سامنا کیا تھا اور میں نے اسے اس وقت کے لئے سنبھال کے رکھا ہوا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم زہری نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

4102

Majma al-Zawaid #4102

وَعَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ كُفِّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، بَعَثَنِي وَأَبَا مَسْعُودٍ فَابْتَعْنَا لَهُ كَفَنًا ; حُلَّةَ عَصْبٍ بِثَلَاثِمِائَةِ دِرْهَمٍ، قَالَ: أَرِيَانِي مَا ابْتَعْتُمَا لِي، فَأَرَيْنَاهُ، فَقَالَ: مَا هَذَا لِي بِكَفَنٍ، إِنَّمَا يَكْفِينِي رَيْطَتَانِ بَيْضَاوَانِ، لَيْسَ مِنْهَا قَمِيصٌ، إِنِّي لَا أَتْرُكُ إِلَّا قَلِيلًا حَتَّى أَنَالَ خَيْرًا مِنْهُمَا أَوْ شَرًّا مِنْهُمَا، فَابْتَعْنَا لَهُ رَيْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ فِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: سَأَلْنَا أَبَا مَسْعُودٍ: مَا قَالَ حُذَيْفَةُ عِنْدَ الْمَوْتِ؟ قَالَ: قَالَ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ صِيَاحٍ إِلَى النَّارِ وَاشْتَرُوا لِي ثَوْبَيْنِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Silah ibn Zufar reported concerning Hudhayfah ibn al-Yaman رضي الله عنه that he was to be shrouded in two garments. He sent Silah and Abu Mas'ud رضي الله عنه, and they purchased for him a shroud of striped Yemeni cloth for three hundred dirhams. When they showed it to him upon his request, he declared it unsuitable for his shroud and deemed two white sheets without a shirt sufficient for him, explaining that only a short time would pass before he met with something better or worse than them, so they bought two white sheets for him. In another narration he sought refuge in Allah from wailing that leads to the Fire and asked for two garments to be bought for him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

صلہ بن زفر بیان کرتے ہیں : حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیا گیا انہوں نے مجھے اور حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ کو بھجوایا ہم نے ان کے لئے کفن خریدا ہم نے تین سو درہم کے عوض میں پٹی کا حلہ خریدا انہوں نے دریافت کیا : تم دونوں مجھے دکھاؤ کہ تم دونوں نے میرے لئے کیا خریدا ہے ؟ ہم نے وہ انہیں دکھایا تو انہوں نے فرمایا : یہ میرے کفن کے لئے مناسب نہیں ہے میرے لئے تو سفید رنگ کی دو چادریں کافی ہیں جن میں کوئی قمیص نہ ہو تھوڑی ہی دیر گزرنے کے بعد مجھے یا تو ان دونوں ( یعنی سادی چادروں ) سے زیادہ بہتر چیز مل جائے گی یا ان دونوں سے زیادہ بری چیز ملے گی راوی کہتے ہیں : تو ہم نے ان کے لئے دو سفید چادریں خرید لیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں : ہم نے حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے مرتے وقت کیا کہا تھا انہوں نے جواب دیا : انہوں نے یہ کہا تھا : میں اس چیخ و پکار سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں جو جہنم کی طرف لے جائے تم میرے لئے دو کپڑے خرید لو ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4103

Majma al-Zawaid #4103

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّ مَيْمُونَةَ كُفِّنَتْ فِي دِرْعٍ مُعَصْفَرٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talhah reported that Maymunah رضي الله عنها was shrouded in a shirt dyed with safflower.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن ابوطلحہ بیان کرتے ہیں : سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کو معصفر ( زرد رنگ سے رنگی ہوئی ) قمیص میں کفن دیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عیاش ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4104

Majma al-Zawaid #4104

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ يُؤْذِنُ بِجِنَازَةِ النَّاسِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ سَلُوا إِلَى اللَّهِ مَوْتَاكُمْ، وَلَا تُؤْذِنُونَ بِهِمُ النَّاسَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ ; ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that a man came to announce a funeral to the people, whereupon the Messenger of Allah ﷺ addressed the people concerning supplicating for their dead and not publicising them. > **"O people, ask Allah for your dead, and do not announce them to the people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص لوگوں کے جنازے کا اعلان کرنے کے لئے آیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! اپنے مرحومین کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور لوگوں کو ان کے بارے میں اطلاع نہ دو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ایک جماعت نے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

4105

Majma al-Zawaid #4105

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: «لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُنَّا نُؤْذِنُهُ بِمَنْ حَضَرَ مِنْ مَوْتَانَا، فَيَأْتِيهِ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ، فَيَحْضُرُهُ وَيَسْتَغْفِرُ لَهُ، وَيَنْتَظِرُ مَوْتَهُ، قَالَ: فَكَانَ ذَلِكَ رُبَّمَا حَبَسَهُ الْحَبْسَ الطَّوِيلَ فَيَشُقُّ عَلَيْهِ، قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّهُ أَرْفَقَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ لَا نُؤْذِنَهُ بِالْمَيِّتِ حَتَّى يَمُوتَ، قَالَ: فَكُنَّا إِذَا مَاتَ الْمَيِّتُ آذَنَّاهُ بِهِ، فَجَاءَ فِي أَهْلِهِ، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ وَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ إِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَشْهَدَهُ انْتَظَرَ شُهُودَهُ، وَإِنْ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْصَرِفَ انْصَرَفَ، قَالَ: فَكُنَّا عَلَى ذَلِكَ طَبَقَةً أُخْرَى؟ قَالَ: فَقُلْنَا: إِنَّهُ أَرْفَقُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَحْمِلَ مَوْتَانَا إِلَى بَيْتِهِ وَلَا نُشَخِّصَهُ وَلَا نُتْعِبَهُ، قَالَ: فَفَعَلْنَا ذَلِكَ، فَكَانَ الْأَمَرُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allah ﷺ arrived in Madinah they would inform him of whoever among their dead was near death, so he ﷺ would come before death, attend him, seek forgiveness for him, and await his death. That sometimes detained him at length and weighed upon him, so they decided it would be gentler not to inform him until death had occurred. Thereafter when one died they informed him, and he ﷺ would come to his family, seek forgiveness for him and pray over him, then remain for the burial if he wished or leave if he wished. Later they decided it would be gentler to carry their dead to his house without burdening him, and they did so, and the matter continued thus.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو ہمارا جو شخص قریب المرگ ہوتا تھا ہم اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو اطلاع دے دیتے تھے اس کے مرنے سے پہلے نبی اکرم ﷺ اس کے پاس تشریف لے آتے تھے ۔ آپ اس کے پاس موجود ہوتے تھے اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے تھے ‘ اور اس کی موت کا انتظار کیا کرتے تھے راوی بیان کرتے ہیں : بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ آپ کو خاصی دیر تک رکنا پڑتا تھا ، تو یہ بات آپ پر گراں گزرتی تھی راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے طے کیا : نبی اکرم ﷺ کے لئے زیادہ موزوں یہ ہے کہ ہم کسی قریب المرگ شخص کے بارے میں اس وقت تک اطلاع نہ دیں جب تک اس کا انتقال نہیں ہو جاتا راوی کہتے ہیں : اسی طرح جب ایک شخص فوت ہوا تو ہم نے آپ کو اس کے بارے میں اطلاع دی نبی اکرم ﷺ اس کے اہل خانہ کے پاس تشریف لائے آپ نے اس شخص کے لئے دعائے مغفرت کی اس کے لئے دعائے رحمت کی پھر آپ کو یہ مناسب لگتا کہ آپ جنازے میں شریک ہوں تو آپ اس کا انتظار کرتے تھے ‘ اور اگر آپ کو یہ مناسب لگتا کہ آپ واپس تشریف لے جائیں تو واپس تشریف لے جاتے تھے راوی کہتے ہیں : ہم اس وقت دوسرے طبقے میں تھے راوی کہتے ہیں : ہم نے کہا : یہ نبی اکرم ﷺ کے لئے زیادہ موزوں ہے کہ ہم اپنے مرحومین کو اٹھا کر نبی اکرم ﷺ کے گھر لے جایا کریں اور آپ کو تکلیف اور زحمت نہ دیں ۔ راوی کہتے ہیں : تو ہم نے ایسا ہی کیا ، پھر معاملہ یوں ہی رہا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4106

Majma al-Zawaid #4106

عَنْ جَابِرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا خَمَّرْتُمُ الْمَيِّتَ فَأَخْمِرُوهُ ثَلَاثًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning perfuming the dead with incense and the number in which it should be done. > **"When you perfume the dead with incense, perfume him thrice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جب تم میت کو دھونی دو ‘ تو تین مرتبہ دھونی دو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4107

Majma al-Zawaid #4107

عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا خَيْرَ فِي جَمَاعَةِ النِّسَاءِ وَلَا عِنْدَ مَيِّتٍ ; فَإِنَّهُمْ إِذَا اجْتَمَعْنَ قُلْنَ وَقُلْنَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ أَحَادِيثُ فِي هَذَا فِي مَوَاضِعِهَا.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported from the Messenger of Allah ﷺ concerning gatherings of women and their presence by the dead, and what results when they assemble. > **"There is no good in the assembly of women, nor in their presence by the dead, for when they gather they say and say."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ خواتین کی جماعت ( یا اجتماع ) اور میت کے پاس ان کی موجودگی میں کوئی بھلائی نہیں ہے کیونکہ جب وہ اکھٹی ہوں گی تو ایسی ویسی باتیں کریں گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ اس سے پہلے اس بارے میں احادیث دیگر مقامات پر گزر چکی ہیں ۔

4108

Majma al-Zawaid #4108

عَنْ أَسْمَاءَ ابْنَةِ عُمَيْسٍ «أَنَّ ابْنَةً لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تُوُفِّيَتْ، وَكَانُوا يَحْمِلُونَ الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَلَى الْأَسِرَّةِ سَوَاءً، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ بِالْحَبَشَةِ وَهُمْ نَصَارَى أَهْلِ الْكِتَابِ، وَهُمْ يَجْعَلُونَ لِلْمَرْأَةِ نَعْشًا فَوْقَهُ أَضْلَاعٌ يَكْرَهُونَ أَنْ يُوصَفَ شَيْءٌ مِنْ خَلْقِهَا، أَفَلَا أَجْعَلُ لِابْنَتِكَ نَعْشًا مِثْلَهُ؟ فَقَالَ: "" اجْعَلِيهِ ""، فَهِيَ أَوَّلُ مَنْ جَعَلَ نَعْشًا فِي الْإِسْلَامِ لِرُقَيَّةَ ابْنَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَلَفُ بْنُ رَاشِدٍ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Umays رضي الله عنها reported that a daughter of the Messenger of Allah ﷺ died while men and women alike were carried upon open biers. She mentioned that she had been in Abyssinia among the Christian People of the Book who made for a woman a bier with ribs above it, disliking that any part of her form be described, and asked whether she should make the like for his daughter. The Prophet ﷺ permitted her to do so, and she was the first to make a covered bier in Islam, for Ruqayyah, daughter of the Messenger of Allah ﷺ. > **"Make it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی کا انتقال ہوا تو مردوں اور خواتین نے ان کی میت کو اٹھایا انہوں نے ( یعنی سید اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہ ) نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حبشہ میں تھی وہاں اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے عیسائی رہتے تھے وہ لوگ عورت کے لئے چار پائی تیار کرتے تھے جس کے اوپر ( جانور کی ) پسلیاں رکھ دیتے تھے وہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ عورت کی جسامت ظاہر ہو تو کیا میں آپ کی صاحبزادی کے لئے ایسی چارپائی تیار نہ کر دوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اسے بنا لو یہ وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہ کے لئے ڈھانپی ہوئی چارپائی تیار کی تھی یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلف بن راشد ہے ‘ اور وہ مجہول ہے ۔

4109

Majma al-Zawaid #4109

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ حَمَلَ جَوَانِبَ السَّرِيرِ الْأَرْبَعَ كَفَّرَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ كَبِيرَةً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي سَارَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning one who carries the four sides of the bier and what Allah effaces from him. > **"Whoever carries the four sides of the bier, Allah effaces from him forty major sins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو چارپائی کے چاروں کناروں کو اٹھاتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے چالیس کبیرہ گناہ ختم کر دیتا ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4110

Majma al-Zawaid #4110

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ «أَنَّهُ رَأَى جِنَازَةً فَقَامَ لَهَا وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى جِنَازَةً فَقَامَ لَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِمَا يَشْفِي.

EnglishUnverified translation

Uthman ibn Affan رضي الله عنه is reported to have seen a funeral and stood for it, explaining that he had seen the Messenger of Allah ﷺ see a funeral and stand for it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ۔ انہوں نے جنازہ دیکھا تو وہ کھڑے ہو گئے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے جنازے کو دیکھا تو اس کے لئے کھڑے ہو گئے تھے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمران بن مناح ہے میں نے کسی کو اس کے ایسے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا جو شفاء بخش ہوں ( یعنی ضرورت پوری کر دیں ) ۔

4111

Majma al-Zawaid #4111

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ قَالَ: «سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَمُرُّ بِنَا جِنَازَةُ الْكَافِرِ نَقُومُ لَهَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ قُومُوا لَهَا ; فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ الْأَرْوَاحَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reported that a man asked the Messenger of Allah ﷺ whether they should stand when the funeral of a disbeliever passed by them. The Prophet ﷺ affirmed it and explained that the standing is not for the bier itself but in veneration of the One who seizes souls. > **"Yes, stand for it, for you do not stand for it; you stand only in veneration of the One who seizes souls."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ بھی گزرتا ہے ‘ تو کیا ہم اس کے لئے بھی کھڑے ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ۔ تم اس کے لئے کھڑے ہو کیونکہ تم اس جنازے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے ہو تم اس ذات کے لئے کھڑے ہوتے ہو جو ارواح کو قبض کرتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

4112

Majma al-Zawaid #4112

وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id ibn Zayd رضي الله عنه reported that a funeral passed by the Prophet ﷺ and he stood for it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اس کے لئے کھڑے ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

4113

Majma al-Zawaid #4113

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا نَعْلَمُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Sa'id ibn Zayd رضي الله عنه reported that a funeral passed by the Prophet ﷺ and he stood.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوئے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ یہ فرماتے ہیں ہمارے علم کے مطابق یہ روایت حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے بعض حضرات نے یہ بات بیان کی ہے یہ حضرت ابوسعید بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4114

Majma al-Zawaid #4114

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَامَ فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ؟ فَقَالَ: "" إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. قُلْتُ: وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ غَيْرُ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that a Jewish funeral passed by the Messenger of Allah ﷺ and he stood. When it was said to him that it was the funeral of a Jew, he ﷺ explained it by the fright of death. > **"Indeed death has a terror."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا آپ کھڑے ہو گئے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : موت کی پریشانی ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام نسائی نے روایت نقل کی ہے جو جنازے کے لئے کھڑے ہونے کے بارے میں ہے ‘ اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔

4115

Majma al-Zawaid #4115

وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، أَوْ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا فَقُومُوا لَهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهَا نَقُومُ وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ» "". قَالَ لَيْثٌ: فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيُّ فَقَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عَلِيٍّ نَنْتَظِرُ جِنَازَةً؛ إِذْ مَرَّتْ بِنَا أُخْرَى فَقُمْنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا يُقِيِمُكُمْ؟ فَقُلْنَا: هَذَا مَا تَأْتُونَا بِهِ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: زَعَمَ أَبُو مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، أَوْ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا فَقُومُوا لَهَا ; فَإِنَّهُ لَيْسَ نَقُومُ لَهَا وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ» ""، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ مَرَّةٍ بِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، كَانُوا أَهْلَ كِتَابٍ وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِمْ، فَإِذَا نُهِيَ انْتَهَى فَمَا عَادَ بَعْدُ. قُلْتُ: حَدِيثُ عَلِيٍّ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ concerning standing when any funeral passes, whether of a Muslim, a Jew, or a Christian, and that the standing is not for the bier but for the angels accompanying it. Layth mentioned that he narrated this to Mujahid, who cited Abdullah ibn Sakhbarah al-Azdi as saying they were sitting with Ali رضي الله عنه awaiting a funeral when another passed and they stood. Ali asked what made them stand, they attributed it to what the companions of Muhammad ﷺ had brought them, and when questioned they quoted the report of Abu Musa. Ali replied that the Messenger of Allah ﷺ had done so only once for a Jewish man, since he used to resemble the People of the Book, but when he was forbidden he desisted and never did so again. > **"When a funeral passes by you, whether it be of a Muslim, a Jew, or a Christian, then stand for it, for it is not for it that we stand, but we stand for the angels who are with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے تو خواہ وہ مسلمان ہو ‘ یا عیسائی ہو ‘ یا یہودی ہو تم اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ کیونکہ ہم اس کے لئے کھڑے نہیں ہوتے ہیں بلکہ ہم اس وجہ سے کھڑے ہوتے ہیں جو فرشتے اس کے ساتھ ہوتے ہیں ‘‘۔ لیث بیان کرتے ہیں : میں نے مجاہد کو یہ حدیث بیان کی ‘ تو انہوں نے بتایا : عبداللہ بن سخبرہ ازدی نے مجھے یہ حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے جنازے کا انتظار کر رہے تھے اسی دوران ایک جنازہ گزرا تو ہم کھڑے ہو گئے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں کھڑے ہوئے ہو ؟ ہم نے کہا : یہ اس وجہ سے ہے ‘ جو ( حدیث ) آپ نے ہمیں بیان کی ہے : اے حضرت محمد کے اصحاب ! حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کون سی حدیث ہے ؟ میں نے کہا : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب تمہارے پاس سے جنازہ گزرے خواہ مسلمان کا ہو ‘ یا یہودی کا ہو ‘ یا عیسائی کا ہو تو تم اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ کیونکہ ہم اس کے لئے کھڑے نہیں ہوتے بلکہ ہم اس کے ساتھ جانے والے فرشتوں کے لئے کھڑے ہوتے ہیں “۔ حضرت علی ﷺ نے ارشاد فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے ایسا صرف ایک یہودی کے لئے کیا تھا ، آپ ( امور میں ) اہل کتاب کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے تھے ‘ جب آپ کو اس سے منع کر دیا گیا ، تو آپ باز آ گئے اور اس کے بعد ایسا نہیں کیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام نسائی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے ‘ لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔

4116

Majma al-Zawaid #4116

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ: "" إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that a funeral passed by the Prophet ﷺ and he stood. When he was questioned about it, he ﷺ explained it by the fright belonging to death. > **"Indeed death has a fright."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ایک جنازہ گزرا آپ کھڑے ہو گئے اس بارے میں آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : تو آپ نے ارشاد فرمایا : موت کی مخصوص گھبراہٹ ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام بزاز نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع اسدی ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4117

Majma al-Zawaid #4117

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ لِجِنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that he saw the Messenger of Allah ﷺ stand for the funeral of a Jew that passed by him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو ایک یہودی کے جنازے کے لئے کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا ہے ‘ جو آپ کے پاس سے گزرا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4118

Majma al-Zawaid #4118

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: تَذَاكَرْنَا الْقِيَامَ عِنْدَ الْجِنَازَةِ عِنْدَ عَلِيٍّ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: مَا زِلْنَا نَفْعَلُهُ. فَقَالَ عَلِيٌّ: صَدَقْتَ ; ذَاكَ وَأَنْتُمْ يَهُودُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Wahb reported that they discussed standing at funerals in the presence of Ali رضي الله عنه, and Abu Mas'ud رضي الله عنه said they had continued to practise it. Ali replied that he had spoken the truth, explaining it as what prevailed while they were as Jews.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ہم حضرت علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں جنازے کے لیے قیام کے معاملے میں گفتگو کر رہے تھے تو حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم مسلسل ایسا کرتے رہے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے ٹھیک کہا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تم یہودی ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4119

Majma al-Zawaid #4119

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّ بِهَا عَلَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ stood only for the funeral of a Jew that passed by him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک یہودی کے جنازے کی وجہ سے کھڑے ہو گئے تھے جو آپ کے پاس سے گزرا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4120

Majma al-Zawaid #4120

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ مَرَّتْ بِهِمْ جِنَازَةٌ فَقَامَ الْقَوْمُ وَلَمْ يَقُمْ فَقَالَ: مَاذَا صَنَعْتُمْ؟ إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَأَذِّيًا بِرِيحِ الْيَهُودِ. قُلْتُ: رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan ibn Ali رضي الله عنهما is reported to have passed with a group by a funeral where the people stood but he did not stand. When he asked what they had done, he explained that the Messenger of Allah ﷺ had stood only from annoyance at the smell of the Jews.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان لوگوں کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو کچھ لوگ کھڑے ہو گئے ‘ لیکن وہ کھڑے نہیں ہوئے انہوں نے فرمایا : تم لوگوں نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ یہودی کی بو سے اذیت محسوس کرتے ہوئے کھڑے ہوئے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام نسائی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4121

Majma al-Zawaid #4121

وَعَنْ حُسَيْنٍ وَابْنِ عَبَّاسٍ - أَوْ عَنْ أَحَدِهِمَا - أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ أَجْلِ جِنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّ بِهَا عَلَيْهِ فَقَالَ: آذَانِي رِيحُهَا». قُلْتُ: حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ خَلَا قَوْلَهُ: آذَانِي رِيحُهَا، وَحَدِيثُ حُسَيْنٍ لَيْسَ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْهُمْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Husayn رضي الله عنه and Ibn Abbas رضي الله عنهما, or one of them, reported that the Messenger of Allah ﷺ stood only on account of the funeral of a Jew that passed by him, explaining it by the annoyance its smell had caused him. > **"Its smell annoyed me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یا ان دونوں حضرات میں سے کسی ایک کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ’’ ایک یہودی کا جنازہ پاس سے گزرنے پر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہو گئے آپ نے ارشاد فرمایا : اس کی بو نے مجھے اذیت پہنچائی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کو امام نسائی نے نقل کیا ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ اس کی بو نے مجھے اذیت پہنچائی ہے ‘‘۔ جبکہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث محدثین میں سے کسی اور نے نقل نہیں کی ہے یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4122

Majma al-Zawaid #4122

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ قَالَ: «مَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِتِلْكَ الْجِنَازَةِ إِلَّا أَنَّهَا كَانَتْ يَهُودِيَّةً، فَإِذَا هِيَ رِيحُ بَخُورِهَا، فَقَامَ حَتَّى جَازَتْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو عَمْرٍو السَّدُوسِيُّ، وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Ayyash ibn Abi Rabi'ah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ stood for that funeral only because it was of a Jewess, on account of the smell of its incense, remaining standing until it had passed him by.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عیاش بن ابوربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اس جنازے کی وجہ سے کھڑے نہیں ہوئے تھے وہ جنازہ ایک یہودی عورت کا تھا ، اس کی دھونی کی بو کی وجہ سے آپ کھڑے ہوئے تھے ‘ اور اس وقت تک کھڑے رہے تھے ‘ جب تک وہ آگے نہیں گزر گیا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعمرو سدوسی ہے ابوعامر عقدی کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4123

Majma al-Zawaid #4123

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَيْسَ لِلنِّسَاءِ أَجْرٌ فِي اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَجَاهِيلُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning women following funerals and the absence of reward therein. > **"There is no reward for women in following funerals."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خواتین کو جنازے کے ساتھ جانے میں اجر نہیں ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس میں مجہول راوی پائے جاتے ہیں ۔

4124

Majma al-Zawaid #4124

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةٍ فَرَأَى نِسْوَةً فَقَالَ: "" أَتَحْمِلْنَهُ؟ "" قُلْنَ: لَا، قَالَ: "" أَتَدْفِنَّهُ؟ ""، قُلْنَ: لَا. قَالَ: "" فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْحَارِثُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ الذَّهَبِيُّ: ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik رضي الله عنه reported that they went out with the Messenger of Allah ﷺ for a funeral and he saw women. He asked whether they would carry it and they said no, asked whether they would bury it and they said no, then commanded them to return laden with sin and without reward. > **"Do you carry him? Do you bury him? Then return laden with burden and without reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں نکلے آپ نے خواتین کو ملاحظہ فرما کر دریافت کیا : تم اسے کندھا دو گی ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اسے دفن کرو گی ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر تم ایسی حالت میں واپس جاؤ کہ تمہیں گناہ ہوا ہو تمہیں اجر نصیب نہ ہو ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حارث بن زیاد ہے ۔ امام ذہبی فرماتے ہیں وہ ضعیف ہے ۔

4125

Majma al-Zawaid #4125

وَعَنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ فَضَالَةَ قَالَ: سَأَلَتُ رَبِيعَةَ الْمَعَافِرَيَّ عَنِ الْكُدَى فَقَالَ: أَحْسَبُهَا الْمَقَابِرَ، قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَبِيعَةَ شَكَّ لَقِيتُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي حَبِيبٍ، قَالَ يَزِيدُ بْنُ حَبِيبٍ: «وَحَضَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جِنَازَةَ رَجُلٍ، فَلَمَّا وُضِعَتْ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا أَبْصَرَ امْرَأَةً فَسَأَلَ عَنْهَا فَقِيلَ: هِيَ أُخْتُ الْمَيِّتِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهَا: "" ارْجِعِي ""، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهَا حَتَّى تَوَارَتْ. قَالَ يَزِيدُ: وَقَدْ حَضَرَتْ أُمُّ سَلَمَةَ أَبَا سَلَمَةَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي آخِرِ حَدِيثٍ ذَكَرَهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَلَكِنَّهُ مُنْقَطِعُ الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Al-Mufaddal ibn Fadalah reported that he asked Rabi'ah al-Ma'afiri about al-kuda and he thought it meant the graves. When he saw doubt in Rabi'ah he met Yazid ibn Abi Habib, who reported that the Messenger of Allah ﷺ attended a man's funeral, and when it was placed for prayer he saw a woman and asked about her. When told she was the sister of the deceased, he ordered her to return and did not pray until she was out of sight. Yazid added that Umm Salamah رضي الله عنها had attended Abu Salamah رضي الله عنه. > **"Return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مفضل بن فضالہ بیان کرتے ہیں : میں نے ربیعہ معافری سے ’’ کدی ‘‘ کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : میرا خیال ہے وہاں قبرستان تھا راوی کہتے ہیں : جب میں نے ربیعہ کو دیکھا کہ وہ اس بارے میں شک کا شکار ہے تو میری ملاقات یزید بن ابوحبیب سے ہوئی یزید بن حبیب نے یہ بات بیان کی نبی اکرم ﷺ ایک شخص کے جنازے میں موجود تھے ‘ جب اسے رکھا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں تو آپ نے ایک خاتون کو ملاحظہ فرمایا آپ نے اس عورت کے بارے میں دریافت کیا ، تو عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! یہ مرحوم کی بہن ہے نبی اکرم ﷺ نے اس عورت سے فرمایا تم واپس چلی جاؤ آپ نے اس وقت تک نماز جنازہ شروع نہیں کی جب تک وہ عورت اوجھل نہیں ہو گئی ۔ یزید نامی راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے جنازے میں شریک ہوئی تھیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ایک حدیث کے آخر میں نقل کی ہے ‘ جس کو انہوں نے ذکر کیا ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم اس کی سند منقطع ہے ۔

4126

Majma al-Zawaid #4126

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: «إِنِّي لَمَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ قُرِّبَتْ إِلَيْهِ جِنَازَةٌ لِيُصَلِّيَ عَلَيْهَا، فَالْتَفَتَ فَنَظَرَ إِلَى امْرَأَةٍ مُقْبِلَةٍ فَقَالَ: "" رَدُّوهَا "" فَرَدُّوهَا مِرَارًا حَتَّى تَوَارَتْ، فَلَمَّا رَآهَا تَوَارَتْ كَبَّرَ عَلَيْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Usamah ibn Sharik رضي الله عنه reported that he was with the Messenger of Allah ﷺ when a funeral was brought near for him to pray over. He turned and saw a woman approaching, ordered her to be sent back, and she was turned back repeatedly until she disappeared. When he saw she had disappeared, he pronounced the takbir over it. > **"Send her back."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس وقت نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، جب آپ کے سامنے ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں آپ نے توجہ کی ‘ تو آپ کو ایک عورت آتی ہوئی نظر آئی آپ نے ارشاد فرمایا : اسے واپس کر دو تو لوگوں نے اسے کئی مرتبہ واپس کیا یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئی جب آپ نے دیکھا کہ وہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئی ہے ، تو پھر آپ نے نماز جنازہ کی تکبیر کہی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ عرزمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔