Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 7 · Chapter 9

Book of Funerals

Hadith 4047–4086

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

4047

Majma al-Zawaid #4047

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «أَخْذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِي فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى ابْنِهِ إِبْرَاهِيمَ، وَهُوَ يَجُودُ بِنَفْسِهِ، قَالَ: فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَضَعَهُ فِي حِجْرِهِ حَتَّى خَرَجَتْ نَفْسُهُ، قَالَ: فَوَضَعَهُ ثُمَّ بَكَى، فَقُلْتُ: تَبْكِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَنْتَ تَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ؟ فَقَالَ: "" إِنِّي لَمْ أُنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ وَلَكِنْ نُهِيَتُ عَنْ صَوْتَيْنِ أَحْمَقَيْنِ فَاجِرَيْنِ: صَوْتٌ عِنْدَ نِعْمَةٍ: لَهْوٌ وَلَعِبٌ وَمَزَامِيرُ شَيْطَانٍ، وَصَوْتٌ عِنْدَ مُصِيبَةٍ: لَطْمُ وُجُوهٍ وَشَقُّ جُيُوبٍ، وَهَذِهِ رَحْمَةٌ، وَمَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ، يَا إِبْرَاهِيمُ لَوْلَا أَنَّهُ وَعْدٌ صَادِقٌ وَقَوْلٌ حَقٌّ، وَأَنَّ آخِرَنَا سَيَلْحَقُ بِأَوَّلِنَا لَحَزِنَّا عَلَيْكَ حُزْنًا أَشَدَّ مِنْ هَذَا، وَإِنَّا عَلَيْكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ، تَبْكِي الْعَيْنُ وَيَحْزَنُ الْقَلْبُ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Awf رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ took his hand and went with him to his son Ibrahim while the child breathed his last, that the Prophet ﷺ took him into his lap until his soul departed, then laid him down and wept, and when questioned about weeping despite forbidding it, distinguished weeping from two foolish sinful voices, described tears as mercy, and addressed Ibrahim concerning the true promise, the joining of the last with the first, grief of heart and eye, and refusal to utter what angers the Lord. > **"I did not forbid weeping, but I forbade two foolish sinful voices: a voice at blessing with idle play and the flutes of Satan, and a voice at calamity with striking faces and tearing collars. And this is mercy, and whoever does not show mercy will not be shown mercy. O Ibrahim, were it not for a true promise and a just word, and that our last shall join our first, we would have grieved over you with a grief severer than this. And we are indeed grieved over you, O Ibrahim; the eye weeps and the heart grieves, and we do not say what displeases the Lord Almighty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور میں آپ کے ساتھ آپ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کی طرف چلا گیا جو آخری سانسیں لے رہے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ نے انہیں لیا اور اپنی گود میں رکھا یہاں تک کہ ان کی جان نکل گئی تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں رکھ دیا اور پھر آپ رونے لگے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ رو رہے ہیں جبکہ آپ رونے سے منع کرتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے رونے سے منع نہیں کیا گیا بلکہ مجھے دو احمق اور فاجر آوازوں سے منع کیا گیا ہے وہ آواز جو نعمت کے وقت نکالی جاتی ہے ، جو لہو و لعب اور شیطان کے باجوں کی صورت میں ہوتی ہے ‘ اور وہ آواز جو مصیبت کے وقت نکالی جاتی ہے ، جو چہرے پر طمانچے مارنے گریبان پھاڑنے کی صورت میں ہوتی ہے یہ چیز ( یعنی محض رونا ) رحمت ہے ‘ اور جو شخص رحم نہیں کرتا اس پر رحمت نہیں کی جاتی ہے اے ابراہیم اگر ایک سچا وعدہ نہ ہوتا اور حق فرمان نہ ہوتا اور یہ نہ ہوتا کہ ہمارے آخری فرد نے بھی عنقریب پہلے والے سے جا ملنا ہے ‘ تو ہمیں تمہارے حوالے سے اس سے زیادہ شدید غم ہونا تھا اے ابراہیم ہم تمہارے حوالے سے غمگین ہیں آنکھ رو رہی ہے دل غمگین ہے ‘ لیکن ہم کوئی ایسی بات نہیں کہیں گے جو پروردگار کو ناراض کر دے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابولیلی ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4048

Majma al-Zawaid #4048

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ، وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، تَبْكِي عَلَى هَذَا السَّخْلِ؟ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَقَدْ دَفَنْتُ اثْنَيْ عَشَرَ وَلَدًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، كُلُّهُمْ أَشَبُّ مِنْهُ، كُلُّهُمْ أَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَحْيَاءً، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ""فَمَاذَا إِنْ كَانَتِ الرَّحْمَةُ ذَهَبَتْ مِنْكَ!! يَحْزَنُ الْقَلْبُ وَتَدْمَعُ الْعَيْنُ، وَلَا نَقُولُ مَا يُسْخِطُ الرَّبَّ، وَإِنَّا عَلَى إِبْرَاهِيمَ لَمَحْزُنُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported that when Ibrahim, son of the Prophet ﷺ, died, a man came to the Prophet ﷺ while his eyes shed tears and objected to his weeping over the infant, swearing that he himself had buried twelve sons alive in Jahiliyyah older than him, and the Prophet of Allah ﷺ replied questioning what can be done if mercy has departed, affirming grief and tears without displeasing speech. > **"What then if mercy has departed from you? The heart grieves and the eye sheds tears, and we do not say what displeases the Lord, and we are indeed grieved over Ibrahim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے کا انتقال ہوا تو ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کیا آپ اس بچے پر رو رہے ہیں ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ‘ میں نے زمانہ جاہلیت میں اپنی اولاد میں سے بارہ بچے دفن کیے ہیں اور ان سب کی عمر اس سے زیادہ تھی ‘ اور میں نے ان سب کو زندہ زمین میں دفن کیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا ہو سکتا ہے ؟ اگر تم سے رحمت رخصت ہو گئی ہو ؟ دل غمگین ہے ‘ اور آنکھ رو رہی ہے ‘ اور ہم کوئی ایسی بات نہیں کہتے جو پروردگار کو ناراض کر دے ‘ ہم ابراہیم کے حوالے سے غمگین ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید الہانی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4049

Majma al-Zawaid #4049

وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ، «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا هَلَكَ ابْنُهُ طَاهِرٌ ذَرَفَتْ عَيْنُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَكَيْتَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ الْعَيْنَ تَذْرِفُ، وَإِنَّ الدَّمْعَ يَغْلِبُ، وَإِنَّ الْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلَا نَعْصِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saib ibn Yazid رضي الله عنه reported that when Tahir, son of the Prophet ﷺ, perished, the eye of the Prophet ﷺ shed tears, and when it was said to him in surprise that he wept, he explained the shedding of the eye, the overcoming of tears, and the grief of the heart without disobedience to Allah. > **"The eye sheds, tears overcome, and the heart grieves, yet we do not disobey Allah Almighty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کے صاحبزادے حضرت طاہر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو نبی اکرم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آنکھ بہہ رہی ہے ‘ اور آنسو قابو میں نہیں ہیں اور دل غمگین ہے ‘ اور ہم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہیں کر رہے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یزید بن عبدالملک نوفلی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4050

Majma al-Zawaid #4050

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «بَعَثَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ ابْنَتِي مَغْلُوبَةٌ، فَقَالَ لِلرَّسُولِ: "" قُلْ لَهَا: إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى "". ثُمَّ بَعَثَتْ إِلَيْهِ الثَّانِيَةَ، فَقَالَ لَهَا مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ بَعَثَتْ إِلَيْهِ الثَّالِثَةَ، فَجَاءَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَخْرَجَتْ إِلَيْهِ الصَّبِيَّةَ وَنَفْسُهَا تُقَعْقِعُ فِي صَدْرِهَا، فَرَقَّ عَلَيْهَا فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَفَطِنَ بِهِ بَعْضُ أَصْحَابِهِ وَهُمْ يَنْظُرُونَ إِلَيْهِ حِينَ ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: "" مَا لَكُمْ تَنْظُرُونَ؟ رَحْمَةُ اللَّهِ يَضَعُهَا حَيْثُ يَشَاءُ، إِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: اسْتُعِزَّ بِأُمَامَةَ بِنْتِ أَبِي الْعَاصِ، فَبَعَثَتْ زَيْنَبُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. وَفِيهِ: الْوَلِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Abdur Rahman ibn Awf رضي الله عنه reported that a daughter of the Messenger of Allah ﷺ sent word that her daughter was overcome, that the Prophet ﷺ twice returned the messenger with the same message of consolation regarding what Allah takes and gives, then went with some Companions upon a third summons, was handed the child while her soul rattled in her chest, showed tenderness until his eyes shed tears, and when his Companions looked on in wonder, explained it as mercy placed by Allah where He wills and His mercy upon the merciful among His servants. > **"Say to her: to Allah belongs what He has taken and to Him belongs what He has given. What is the matter with you that you look on? It is the mercy of Allah which He places where He wills; Allah only shows mercy to the merciful among His servants."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی نے آپ کو پیغام بھیجا کہ میری بیٹی فوت ہونے والی ہے نبی اکرم ﷺ نے قاصد سے کہا کہ تم اس سے کہہ دو اللہ تعالیٰ جو واپس لے وہ اس کی ملکیت ہے ‘ اور جو وہ عطا کرے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ان صاحبزادی نے آپ کو دوبارہ پیغام بھیجا نبی اکرم ﷺ نے دوبارہ یہی بات ارشاد فرما دی ان صاحبزادی نے تیسری مرتبہ آپ کو پیغام بھیجا تو نبی اکرم ﷺ کچھ اصحاب سمیت ان صاحبزادی کے ہاں تشریف لے گئے ان صاحبزادی نے بچی کو آپ کی طرف بڑھایا اس بچی کا سانس سینے میں اٹک رہا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ کو اس سے انسیت ہوئی اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے جب آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تو آپ کے بعض اصحاب جو آپ کو دیکھ رہے تھے وہ حیران ہوئے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیا دیکھ رہے رہو ؟ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے ‘ جسے وہ جہاں چاہتا ہے وہاں رکھ دیتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والوں پر رحم کرتا ہے “۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ سیدہ امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا کا آخری وقت قریب آیا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے آپ کو پیغام بھیجا تھا ‘‘۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4051

Majma al-Zawaid #4051

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «ثَقُلَ ابْنٌ لِفَاطِمَةَ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَدْعُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" ارْجِعْ، فَإِنَّ لَهُ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَبْقَى، وَكَلٌّ لِأَجَلٍ بِمِقْدَارٍ "". فَلَمَّا احْتُضِرَ بَعَثَتْ إِلَيْهِ وَقَالَ لَنَا: "" قُومُوا "". فَلَمَّا جَلَسَ جَعَلَ يَقْرَأُ: "" {فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ - وَأَنْتُمْ حِينَئِذٍ تَنْظُرُونَ} [الواقعة: 83 - 84] "". حَتَّى قُبِضَ، فَدَمَعَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَبْكِي وَتَنْهَى عَنِ الْبُكَاءِ؟ قَالَ: "" إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُوسَى الْمَكِّيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported concerning the son of Fatimah رضي الله عنها falling grievously ill, her summoning of the Prophet ﷺ, his first reply that to Allah belongs what He takes and what He leaves and that all is for a decreed term, then his rising with his Companions when the child approached death, his recitation of the verses of Surat al-Waqiah when the soul reached the throat until the child passed, the flowing of his eyes, and his answer to Sad رضي الله عنه who questioned his weeping despite forbidding it. > **"When the soul reaches the throat and you at that time are looking on. It is only mercy, and Allah only shows mercy to the merciful among His servants."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھیج کر آپ کو بلوایا نبی اکرم ﷺ نے ( قاصد سے ) فرمایا تم واپس چلے جاؤ جو وہ واپس لے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ‘ اور جسے وہ باقی رہنے دے وہ بھی اسی کی ملکیت ہے ‘ اور ہر ایک کی ایک متعین مدت ہے ‘ جب ان صاحبزادے کا وقت قریب آیا تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم ﷺ کو پیغام بھیجا تو نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا : تم لوگ اٹھو ! جب آپ تشریف فرما ہوئے تو آپ نے یہ آیت پڑھنی شروع کی : ’’ پھر ( اس وقت ) کیوں نہیں ( روح کو واپس کرتے ) جب وہ حلق تک پہنچ جاتی ہے ‘ اور تم اس وقت دیکھتے رہ جاتے ہو ‘‘۔ یہاں تک کہ ان صاحبزادے کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ رو رہے ہیں جبکہ آپ رونے سے منع کرتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ رحمت ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے رحم کرنے والے بندوں پر رحم کرتا ہے “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن موسیٰ مکی ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق بھی کی گئی ہے ۔

4052

Majma al-Zawaid #4052

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «احْتُضِرَتِ ابْنَةٌ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَاهَا فَضَمَّهَا إِلَيْهِ، وَجَعَلَهَا بَيْنَ ثَدْيَيْهِ، فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَتْ أُمُّ أَيْمَنَ، فَقَالَ لَهَا: "" تَبْكِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَكِ؟ ""، فَقَالَتْ: مَا لِي لَا أَبْكِي، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْكِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنِّي لَسْتُ أَبْكِي، وَلَكِنَّهَا رَحْمَةٌ ; نَظَرْتُ إِلَيْهَا عَلَى هَذِهِ الْحَالِ وَنَفْسُهَا تُنْزَعُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ لِاخْتِلَاطِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that a daughter of the Messenger of Allah ﷺ approached death, that he ﷺ came to her, embraced her to his breast while his eyes shed tears, that Umm Ayman رضي الله عنها wept and was questioned about weeping in the presence of the Messenger, and upon her reply that she wept because he wept, the Prophet ﷺ clarified that it was not wailing but mercy at beholding the soul being drawn forth. > **"Do you weep while the Messenger of Allah is with you? I do not weep, but it is mercy; I looked at her in this state while her soul was being drawn forth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی صاحبزادی کا آخری وقت قریب آیا نبی اکرم ﷺ نے انہیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اپنے سینے کے ساتھ لگا لیا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہ بھی رونے لگیں نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تم رو رہی ہو ‘ جبکہ اللہ کے رسول تمہارے پاس موجود ہیں سیدہ اُم ایمن رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں کیوں نہ روؤں جبکہ اللہ کے رسول بھی رو رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں رو نہیں رہا ہوں بلکہ یہ رحمت ہے میں نے اس کی طرف اس حال میں دیکھا کہ اس کی جان نکل رہی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے ‘ جو اختلاط کا شکار ہوا تھا ( چینی جسے اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے ” ضعیف “ قرار دیا گیا ) ۔

4053

Majma al-Zawaid #4053

وَعَنْ سَالِمِ أَبِي النَّضْرِ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، وَهُوَ يَمُوتُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِثَوْبٍ فَسُجِّيَ عَلَيْهِ، وَكَانَ عُثْمَانُ نَازِلًا عَلَى امْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مُعَاذٍ، قَالَتْ: فَمَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُكِبًّا عَلَيْهِ طَوِيلًا وَأَصْحَابُهُ مَعَهُ، ثُمَّ تَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَى، فَلَمَّا بَكَى بَكَى أَهْلُ الْبَيْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" رَحِمَكَ اللَّهُ أَبَا السَّائِبِ "" وَكَانَ السَّائِبُ قَدْ شَهِدَ مَعَهُ بَدْرًا قَالَ: فَتَقُولُ أُمُّ مُعَاذٍ: هَنِيئًا لَكَ أَبَا السَّائِبِ الْجَنَّةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" وَمَا يُدْرِيكِ يَا أُمَّ مُعَاذٍ؟ أَمَّا هُوَ فَقَدْ جَاءَهُ الْيَقِينُ، وَلَا نَعْلَمُ إِلَّا خَيْرًا ""، قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ لَا أَقُولُهَا لِأَحَدٍ بَعْدَهُ أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَهُوَ مُرْسَلٌ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Salim Abu al-Nadr reported that the Messenger of Allah ﷺ entered upon Uthman ibn Mazun رضي الله عنه while he was dying, ordered a cloth to cover him, remained bent over him a long time with his Companions while Uthman lodged with an Ansari woman called Umm Muadh, then withdrew weeping until the household wept, invoked mercy upon Abu al-Saib, and when Umm Muadh congratulated him upon Paradise, questioned her knowledge while affirming that certainty had come to him and that they knew only good of him, whereupon she vowed never to say it again for anyone after him. > **"May Allah have mercy upon you, O Abu al-Saib. What makes you know, O Umm Muadh? As for him, certainty has come to him, and we know only good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سالم ابونضر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے جو انتقال کر گئے تھے ۔ نبی اکرم ﷺ کے حکم کے تحت انہیں کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دیا گیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ انصار سے تعلق والی ایک خاتون کے ہاں ٹھہرے ہوئے تھے جسے اُم معاذ کہا جاتا تھا وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ خاصی دیر تک ان پر جھکے رہے آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب بھی تھے پھر نبی اکرم ﷺ پیچھے ہٹ گئے اور رونے لگے جب آپ رونے لگے تو گھر میں موجود افراد بھی رونے لگے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابو سائب ! اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے راوی بیان کرتے ہیں : سائب نے آپ کے ہمراہ غزوہ بدر میں شرکت کی ہے راوی بیان کرتے ہیں : اُم معاذ نے کہا : اے ابوسائب آپ کو جنت کی مبارک ہو ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ام معاذ تمہیں کیسے پتہ چلا جہاں تک کہ اس کا تعلق ہے ‘ تو اس کے پاس یقین آ گیا ہے ‘ اور ہمیں صرف بھلائی کا علم ہے ‘ تو سیدہ ام معاذ رضی اللہ عنہا نے کہا جی نہیں اللہ کی قسم ان کے بعد میں کبھی کسی کے بارے میں ‘ یہ بات نہیں کہوں گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ یہ روایت ’’ مرسل “ ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4054

Majma al-Zawaid #4054

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ أَبَاهُ يَوْمَ أُحُدٍ قَتَلَهُ الْمُشْرِكُونَ، ثُمَّ مَثَّلُوا بِهِ ; فَجَدَعُوا أَنْفَهُ وَأُذُنَيْهِ، قَالَ جَابِرٌ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهِ وَإِلَى مَا صَنَعُوا بِهِ وَصِحْتُ، فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَسَجُّوهُ بِثَوْبٍ، ثُمَّ إِنِّي كَشَفْتُ الثَّوْبَ، فَلَمَّا رَأَيْتُ مَا صُنِعَ بِهِ صِحْتُ، فَجَاءَتِ الْأَنْصَارُ فَسَجُّوهُ بِالثَّوْبِ، قَالَ: وَذَلِكَ بِعَيْنِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ الْأَنْصَارُ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تَرَى مَا يَصْنَعُ جَابِرٌ!؟ قَالَ: "" دَعُوهُ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما reported that on the day of Uhud his father was slain by the polytheists who then mutilated him by cutting his nose and ears, that Jabir looked upon him and cried out, the Ansar covered him with a cloth, he uncovered and cried out again until they covered him again, all before the eyes of the Messenger of Allah ﷺ, and when the Ansar complained to the Messenger of Allah ﷺ about his conduct, he ordered that he be left. > **"Leave him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : غزوہ اُحد میں ان کے والد کو مشرکین نے قتل کر دیا پھر انہوں نے ان کا مثلہ کیا ان کی ناک اور کان کاٹ دیے حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان کی طرف دیکھا اور مشرکین نے جو ان کے ساتھ سلوک کیا تھا اس کی طرف دیکھا تو میں چیخا انصار آئے اور انہوں نے ان کی لاش کو کپڑے کے ذریعے ڈھانپ دیا میں کپڑا ہٹانے لگا حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ سب نبی اکرم ﷺ کی نظروں کے سامنے ہو رہا تھا پھر انصار گئے اور وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ملاحظہ نہیں فرما رہے ہیں جابر کیا کر رہا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اسے رہتے دو ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ‘ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4055

Majma al-Zawaid #4055

وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزَاةٍ، فَلَمَّا أَقْبَلْنَا رَاجِعِينَ بَكَتِ امْرَأَةُ رَجُلٍ كَانَ اسْتُشْهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" مَا هَذِهِ الْبَاكِيَةُ؟ "". قِيلَ: فَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيٍّ. فَالْتَفَتَ إِلَى عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ وَأَوْصَاهُ بِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَجَاهِيلُ.

EnglishUnverified translation

Aidh ibn Amr رضي الله عنه reported that he was with the Prophet ﷺ on a campaign, that upon returning the wife of a man martyred alongside the Messenger of Allah ﷺ wept, the Prophet ﷺ asked who the weeping woman was, was told she was Fatimah bint Ali, then turned to Aidh ibn Amr, married her to him, and entrusted him concerning her. > **"Who is this weeping woman?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنگ میں شریک ہوا جب ہم واپس آ رہے تھے تو ایک شخص کی بیوی رونے لگی وہ شخص نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جنگ میں شریک ہو کر جام شہادت نوش کر گیا تھا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ رونے والی عورت کون ہے ؟ بتایا گیا فاطمہ بنت علی نبی اکرم ﷺ نے حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی طرف توجہ کی اور پھر اس خاتون کی شادی ان صاحب کے ساتھ کر دی اور ان صاحب کو اس خاتون کے بارے میں ( اچھی طرح خیال رکھنے کی ) تلقین کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس میں مجہول راوی ہیں ۔

4056

Majma al-Zawaid #4056

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: رُخِّصَ فِي الْبُكَاءِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Yazid stated, as a report of his own, that concession was granted for weeping without wailing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن یزید فرماتے ہیں : نوحہ کیے بغیر رونے کی اجازت دی گئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4057

Majma al-Zawaid #4057

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «دَخَلْتُ عَرِيشًا، وَفِيهِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ، وَأَبُو مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: فَذَكَرَ حَدِيثًا لَهُمَا قَالَا فِيهِ: إِنَّهُ رُخِّصَ لَنَا فِي الْبُكَاءِ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Sad reported that he entered a shelter in which were Qarazah ibn Kab رضي الله عنه and Abu Masud al-Ansari رضي الله عنه, and they narrated a hadith in which they stated that concession had been granted to them for weeping at calamity without wailing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن سعد بیان کرتے ہیں : میں ایک چھپر کے نیچے داخل ہوا وہاں حضرت قرضہ بن کعب رضی اللہ عنہ اور حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ موجود تھے راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے ان دونوں صاحبان کے حوالے سے ایک حدیث ذکر کی جس میں ان لوگوں نے یہ کہا : ہمیں مصیبت کے وقت نوحہ کیے بغیر رونے کی اجازت دی گئی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4058

Majma al-Zawaid #4058

وَعَنْ أُمِّ إِسْحَاقَ قَالَتْ: «هَاجَرْتُ مَعَ أَخِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَدِينَةِ فَلَمَّا كُنْتُ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ قَالَ لِي أَخِي: اقْعُدِي يَا أُمَّ إِسْحَاقَ، فَإِنِّي نَسِيتُ نَفَقَتِي بِمَكَّةَ، فَقُلْتُ: إِنِّي أَخْشَى عَلَيْكَ الْفَاسِقَ زَوْجِي، فَقَالَ: لَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَتْ: فَلَبِثْتُ أَيَّامًا فَمَرَّ بِي رَجُلٌ قَدْ عَرَفْتُهُ وَلَا أُسَمِّيهِ، فَقَالَ: مَا يُقْعِدُكِ هَاهُنَا يَا أُمَّ إِسْحَاقَ؟ قَالَتْ: أَنْتَظِرُ إِسْحَاقَ ذَهَبَ لِنَفَقَةٍ لَهُ بِمَكَّةَ، قَالَ: لَا إِسْحَاقَ لَكِ قَدْ لَحِقَهُ زَوْجُكِ الْفَاسِقُ فَقَتَلَهُ، فَقَدِمْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَتَوَضَّأُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قُتِلَ إِسْحَاقُ، وَأَنَا أَبْكِي وَيَنْظُرُ إِلَيَّ، فَإِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ نَكَّسَ، وَأَخَذَ كَفًّا مِنْ مَاءٍ فَنَضَحَهُ فِي وَجْهِي». قَالَ بَشَّارٌ: قَالَتْ جَدَّتِي: فَلَقَدْ كَانَتْ تُصِيبُنَا الْمُصِيبَةُ الْعَظِيمَةُ فَتَرَى الدُّمُوعَ عَلَى عَيْنَيْهَا وَلَا يُصِيبُ خَدَّهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَشَّارُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Umm Ishaq رضي الله عنها reported that she migrated with her brother toward the Messenger of Allah ﷺ at Madinah, that on the way her brother asked her to wait while he returned to Makkah for his forgotten provision, she feared her wicked husband for him but he assured her if Allah willed, she waited days until a man she knew but would not name told her that her wicked husband had overtaken Ishaq and killed him, so she came to the Messenger of Allah ﷺ while he performed ablution, told him weeping of the killing as he looked at her, and when she looked at him he lowered his gaze and sprinkled water from his palm upon her face. Bashshar added from his grandmother that thereafter even at great calamity tears would appear in their eyes without reaching their cheeks. > **"What keeps you sitting here, O Umm Ishaq? There is no Ishaq for you; your wicked husband overtook him and killed him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام اسحاق رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے اپنے بھائی کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کی طرف مدینہ منورہ ہجرت کے لیے نکلی ، راستے میں میرے بھائی نے مجھ سے کہا : اے اُم اسحاق ! تم بیٹھی رہو میں اپنا خرچ مکہ میں بھول آیا ہوں میں نے کہا : مجھے آپ کے بارے میں اپنے فاسق شوہر کے حوالے سے اندیشہ ہے ۔ انہوں نے کہا : جی نہیں اگر اللہ نے چاہا ( تو کچھ نہیں ہو گا ) سیدہ ام اسحاق رضی اللہ عنہا کرتی ہیں : میں کچھ دن تک وہاں ٹھہری رہی پھر ایک شخص میرے پاس سے گزرا میں جس سے واقف تھی ، لیکن میں اس کا نام نہیں جانتی تھی اس نے کہا : اے ام اسحاق تم یہاں کیوں بیٹھی ہوئی ہو سیدہ ام اسحاق نے جواب دیا : میں اسحاق کا انتظار کر رہی ہوں وہ اپنا خرچ لینے کے لئے مکہ گئے ہوئے ہیں تو اس شخص نے کہا : اسحاق تمہارے پاس نہیں آ سکتا تمہارا فاسق شوہر ملا تھا اور اس نے اسے قتل کر دیا ۔ سیدہ اُم اسحاق رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پھر میں آئی اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی آپ اس وقت وضو کر رہے تھے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسحاق قتل ہو گیا ہے میں رو رہی تھی اور نبی اکرم ﷺ میری طرف دیکھ رہے تھے ‘ جب میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ نے سر جھکایا تھیلی میں پانی لیا اور اسے میرے چہرے پر چھڑک دیا ۔ بشار نامی راوی بیان کرتے ہیں : میری دادی بیان کرتی ہیں : ہمیں بڑی مصیبت بھی لاحق ہوتی تھی تو ہماری آنکھوں میں آنسو نظر آ جاتے تھے ‘ لیکن وہ رخسار تک نہیں پہنچتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی بشار بن عبدالملک ہے ‘ جسے یحیی بن معین نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

4059

Majma al-Zawaid #4059

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُتْبَةُ بْنُ مَسْعُودٍ بَكَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَقَالُوا لَهُ: تَبْكِي؟ فَقَالَ: نَعَمْ، أَخِي فِي النَّسَبِ، وَصَاحِبِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ إِلَّا مَا كَانَ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ وَزَادَ: وَمَا أُحِبُّ مَعَ ذَلِكَ أَنِّي كُنْتُ مِتْ قَبْلَهُ ; لَأَنْ يَمُوتَ فَأَحْتَسِبُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَمُوتَ فَيَحْتَسِبُنِي. وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Utbah رضي الله عنه reported that when Utbah ibn Masud رضي الله عنه died, Abdullah ibn Masud رضي الله عنه wept, and when the people asked him in surprise, he affirmed it on account of brotherhood of lineage, companionship with the Messenger of Allah ﷺ, and love surpassed only by Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه, adding that he would not wish to have died before him, for that the other die and he reckon reward is dearer to him than the reverse. > **"Yes. He is my brother by lineage, my companion with the Messenger of Allah, and the most beloved of people to me, except for what is due to Umar ibn al-Khattab. That he should die and I reckon him in reward is dearer to me than that I should die and he reckon me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عتبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب حضرت عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رونے لگے لوگوں نے عرض کی : آپ رو رہے ہیں آپ نے فرمایا : جی ہاں ۔ یہ میرا سگا بھائی ہے میرے ساتھ نبی اکرم ﷺ کا صحابی ہے ‘ اور میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب فرد ہے ‘ البتہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی مجھے ان سے زیادہ محبت ہے ۔ ) یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اس کے ہمراہ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میں اس سے پہلے مر گیا ہوتا کیونکہ وہ فوت ہو جائے اور میں اس پر ثواب کی امید رکھوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں مر جاتا اور وہ میرے حوالے سے ثواب کی امید رکھتا “۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

4060

Majma al-Zawaid #4060

وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ امْرَأَةِ أَبِي مُوسَى قَالَتْ: مَرِضَ أَبُو مُوسَى فَبَكَيْتُ عِنْدَهُ فَنُهِيتُ، فَقَالَ: ذَرُوهَا تُهْرِيقُ مِنْ عَبْرَتِهَا سَجْلًا أَوْ سَجْلَيْنِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Umm Abdullah, wife of Abu Musa رضي الله عنه, reported that when Abu Musa fell ill she wept beside him and was forbidden, whereupon he instructed that she be left to pour forth a skinful or two of her tears. > **"Leave her to pour forth a skinful or two of her tears."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ اُم عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے میں ان کے پاس رونے لگی تو مجھے اس سے منع کر دیا گیا انہوں نے فرمایا : اسے آنسو بہانے دو خواہ ایک ڈول ہو ‘ یا دو ڈول ہوں ... اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

4061

Majma al-Zawaid #4061

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبْكَى إِلَّا عَلَى أَحَدِ رَجُلَيْنِ: فَاجِرٍ مُكْمِلٍ فُجُورَهُ، أَوْ بَارٍّ مُكْمِلٍ بِرَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ restricted weeping to two kinds of men: the flagrantly sinful who completed his sinfulness, and the righteous who completed his righteousness. > **"Weeping is only for one of two men: a flagrantly sinful one who completed his sinfulness, or a righteous one who completed his righteousness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دو قسم کے افراد میں سے کسی ایک پر رویا جا سکتا ہے ایسا گناہ گار شخص جس کا فجور مکمل ہو ‘ یا ایسا نیکوکار جس کی نیکی مکمل ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4062

Majma al-Zawaid #4062

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ فَرَأَيْتُ بِهِ الْمَوْتَ فَقُلْتُ: هَيِّجْ هَيِّجْ مَنْ لَا يَزَالُ دَمْعُهُ مُقَنَّعًا فَإِنَّهُ مَرَّةً مَدْفُونُ، فَقَالَ: لَا تَقُولِي ذَلِكَ، وَلَكِنْ قَوْلِي: {وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ} [ق: 19]. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها reported that she entered upon Abu Bakr رضي الله عنه, saw death upon him, and recited a verse lamenting one whose tears remain veiled yet shall once be buried, whereupon he forbade that wording and instructed her to recite instead the verse of Surat Qaf concerning the stupor of death bringing the truth. > **"And the stupor of death comes with the truth; that is what you used to flee from."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئی میں نے دیکھا کہ وہ قریب المرگ ہیں ‘ میں نے کہا : تم اس کو برانگیختہ کرو اس کو برانگیختہ کرو ‘ جس کے آنسو نہیں ڈھانپے جا سکتے ہیں ، آخر کار ایک مرتبہ دفن کیا جاتا ہے ‘ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم یہ نہ کہو ! بلکہ تم یہ پڑھو : ’’ موت کی بیہوشی حق کے ہمراہ آ گئی ‘ یہ وہ جس چیز ہے ‘ جس سے تم بھاگتے تھے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4063

Majma al-Zawaid #4063

عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبَّلَ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Amir ibn Rabiah رضي الله عنه stated, as a report of his own, that he saw the Messenger of Allah ﷺ kiss Uthman ibn Mazun رضي الله عنه after his death.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ( کی میت ) کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4064

Majma al-Zawaid #4064

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ مَاتَ بُكْرَةً فَلَا يُقِيلَنَّ إِلَّا فِي قَبْرِهِ، وَمَنْ مَاتَ عَشِيَّةً فَلَا يَبِيتَنَّ إِلَّا فِي قَبْرِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded that whoever dies in the morning shall rest at midday only in his grave, and whoever dies in the evening shall spend the night only in his grave. > **"Whoever dies in the morning shall not rest at midday except in his grave, and whoever dies in the evening shall not spend the night except in his grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص صبح کے وقت مر جائے وہ دوپہر قبر میں کرے اور جو شخص شام کو مر جائے وہ رات قبر میں ہی گزارے ( یعنی اس کو جلدی دفن کر دیا جائے ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

4065

Majma al-Zawaid #4065

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ لَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: أَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ قَالُوا: يَوْمُ الِاثْنَيْنِ، قَالَ: فَإِنْ مِتُّ مِنْ لَيْلَتِي فَلَا تَنْتَظِرُوا بِيَ الْغَدَ، فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَيَّامِ وَاللَّيَالِي إِلَيَّ أَقْرَبُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ: شَيْخُ أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُيَسِّرٍ أَبُو سَعْدٍ، ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ كَثِيرُونَ، وَقَالَ أَحْمَدُ: صَدُوقٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها reported that when death approached Abu Bakr رضي الله عنه he asked which day it was, was told it was Monday, and instructed that if he died that night they should not wait for the morrow, for the most beloved days and nights to him were those nearest to the Messenger of Allah ﷺ. > **"If I die tonight, do not wait with me for tomorrow, for the most beloved of days and nights to me are those nearest to the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں : جب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے دریافت کیا : آج کون سا دن ہے لوگوں نے انہیں بتایا : آج پیر کا دن ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اگر میرا آج رات میں انتقال ہو جائے تو تم کل کا انتظار نہ کرنا کیونکہ میرے نزدیک تمام دنوں اور راتوں میں ، سب سے زیادہ پسندیدہ وقت وہ ہے ‘ کہ جو نبی اکرم ﷺ کے زیادہ قریب کر دے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں امام احمد کے استاد احمد بن محمد بن محمد بن میسر ابوسعد ہیں جنہیں بہت سے افراد نے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔ امام احمد کہتے ہیں وہ صدوق ہیں ۔

4066

Majma al-Zawaid #4066

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ حَفَرَ قَبْرًا بَنَى اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ، وَمَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ، وَمَنْ كَفَّنَ مَيِّتًا كَسَاهُ اللَّهُ مِنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ، وَمَنْ عَزَّى حَزِينًا أَلْبَسَهُ اللَّهُ التَّقْوَى، وَصَلَّى عَلَى رُوحِهِ فِي الْأَرْوَاحِ، وَمَنْ عَزَّى مُصَابًا كَسَاهُ اللَّهُ حُلَّتَيْنِ مَنْ حُلَلِ الْجَنَّةِ لَا تَقُومُ لَهُمَا الدُّنْيَا، وَمَنِ اتَّبَعَ جِنَازَةً حَتَّى يُقْضَى دَفْنُهَا كُتِبَ لَهُ ثَلَاثَةُ قَرَارِيطَ، الْقِيرَاطُ مِنْهَا أَعْظَمُ مِنْ جَبَلِ أُحُدٍ، وَمَنْ كَفَلَ يَتِيمًا أَوْ أَرْمَلَةً أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ وَأَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْخَلِيلُ بْنُ مُرَّةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ enumerated the rewards for digging a grave, washing the dead, shrouding, consoling the grieved and the afflicted, following the bier until burial, and sheltering the orphan and widow. > **"Whoever digs a grave, Allah builds for him a house in Paradise. Whoever washes a dead person emerges from his sins as on the day his mother bore him. Whoever shrouds a dead person, Allah clothes him from the garments of Paradise. Whoever consoles a grieving one, Allah clothes him with piety and sends blessings upon his spirit among the spirits. Whoever consoles an afflicted one, Allah clothes him with two garments of Paradise for which the world cannot stand. Whoever follows a bier until its burial is decreed, three qirats are written for him, each qirat greater than Mount Uhud. Whoever shelters an orphan or a widow, Allah shades him in His shade and admits him to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص قبر کھودتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں گھر بنا دے گا ‘ جو شخص میت کو غسل دیتا ہے وہ اپنے گناہوں سے یوں نکل جاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا جو شخص میت کو کفن دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت کا حلہ پہنائے گا ‘ اور جو شخص غمگین شخص کے ساتھ تعزیت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے تقویٰ کا لباس پہنائے گا ‘ اور تمام ارواح میں سے اس کی روح پر رحمت نازل کرے گا ‘ اور جو شخص کسی مصیبت زدہ کے ساتھ تعزیت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت کے حلوں میں سے دو حلے پہنائے گا کہ پوری دنیا بھی اس کی قیمت نہیں ہو سکتی جو شخص جنازے کے ساتھ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کو دفن کر دیا جائے اس شخص کے لئے تین قیراط نوٹ کیے جاتے ہیں جن میں سے ایک قیراط احد پہاڑ سے زیادہ بڑا ہوتا ہے ‘ جو شخص یتیم کی یا بیوہ عورت کی کفالت کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اپنا سایہ فراہم کرے گا ‘ اور اسے جنت میں داخل کرے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خلیل بن مرہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

4067

Majma al-Zawaid #4067

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَكَتَمَ عَلَيْهِ طَهَّرَهُ اللَّهُ مِنْ ذُنُوبِهِ، فَإِنْ كَفَّنَهُ كَسَاهُ اللَّهُ مِنَ السُّنْدُسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّامِيُّ، رَوَى عَنْ أَبِي خَالِدٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever washes a dead person and conceals what he sees, and whoever shrouds him, and the purification and clothing with sundus granted in return. > **"Whoever washes a dead person and conceals it from him, Allah purifies him of his sins; and if he shrouds him, Allah clothes him from sundus."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میت کو غسل دیتے ہوئے اس کی پردہ پوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس کے گناہوں کے حوالے سے پاک کر دیتا ہے ‘ اور اگر وہ ( یعنی میت کو ) کفن دیتا ہے ‘ تو اللہ تعالی اسے سندس کا لباس پہنائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوعبداللہ شامی ہے ، جس نے ابوخالد سے روایات نقل کی ہیں میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4068

Majma al-Zawaid #4068

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَكَتَمَ عَلَيْهِ غَفَرَ [اللَّهُ] لَهُ أَرْبَعِينَ كَبِيرَةً، وَمَنْ حَفَرَ لِأَخِيهِ قَبْرًا حَتَّى يُجِنَّهُ فَكَأَنَّمَا أَسْكَنَهُ مَسْكَنًا حَتَّى يُبْعَثَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Rafi رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever washes a dead person and conceals him, and whoever digs a grave for his brother until he lays him within it, likening the latter to providing a dwelling until resurrection. > **"Whoever washes a dead person and conceals him, Allah forgives him forty major sins. Whoever digs for his brother a grave until he lays him within it, it is as if he has settled him in a dwelling until he is raised."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میت کو غسل دیتا ہے ‘ اور اس کے معاملے کو پوشیدہ رکھتا ہے اللہ تعالی اس شخص کے چالیس کبیرہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ‘ اور جو شخص اپنے بھائی کی قبر کھودتا ہے یہاں تک کہ اسے قبر میں دفنا دیتا ہے ‘ تو گویا کہ اس نے اس کو اس وقت تک کے لئے ٹھکانہ فراہم کر دیا کہ جب اسے دوبارہ زندہ کیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4069

Majma al-Zawaid #4069

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَأَدَّى فِيهِ الْأَمَانَةَ وَلَمْ يُفْشِ عَلَيْهِ مَا يَكُونُ مِنْهُ عِنْدَ ذَلِكَ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ ""، قَالَ: "" لِيَلِهِ أَقْرَبُكُمْ مِنْهُ إِنْ كَانَ يَعْلَمُ، فَإِنْ لَا يَعْلَمْ فَمَنْ تَرَوْنَ عِنْدَهُ حَظًّا مِنْ وَرَعٍ وَأَمَانَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ.

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ spoke concerning whoever washes a dead person while fulfilling trust and not spreading what appears at that time, describing his emergence from sins as on the day of birth, and instructed that the nearest to the deceased should undertake him if known, otherwise one deemed possessed of piety and trustworthiness. > **"Whoever washes a dead person and fulfils trust therein and does not spread what appears of him at that time emerges from his sins as on the day his mother bore him. Let the nearest of you to him undertake him if he knows; and if he does not know, then one whom you deem possessed of piety and trustworthiness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میت کو غسل دیتے ہوئے امانت کو ادا کرتا ہے ‘ اور غسل کے وقت اس کی طرف جو چیز سامنے آئی تھی اسے پھیلاتا نہیں ہے وہ اپنے گناہوں سے نکل کر یوں ہو جاتا ہے جیسے وہ اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ‘‘۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میت کو غسل وغیرہ دینے کا کام اسے کرنا چاہیے جو میت کا سب سے زیادہ قریبی ہو اگر کسی قریبی عزیز کا پتہ ہو ‘ اور اگر یہ نہیں پتہ ہوتا تو اسے دینا چاہیے جس کے بارے میں تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ سب سے زیادہ پرہیز گار اور امانت والا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔

4070

Majma al-Zawaid #4070

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ خَدِيجٍ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ قَالَ: مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَتَبِعَهُ وَوَلِيَ جُثَّتَهُ رَجَعَ مَغْفُورًا لَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ صَالِحٌ أَبُو حُجَيْرٍ، وَهُوَ مَجْهُولٌ.

EnglishUnverified translation

Muawiyah ibn Khadij رضي الله عنه, who had companionship, stated as a report of his own that whoever washes a dead person, shrouds him, follows him, and takes charge of his body returns forgiven.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ‘ وہ یہ فرماتے ہیں : جو شخص میت کو غسل دے اسے کفن دے جنازے کے ساتھ جائے اس کے جسم کا نگران بنے ، جب وہ واپس آتا ہے ‘ تو اس کی مغفرت ہو چکی ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابوحجیر ہے ‘ اور وہ مجہول ہے ۔

4071

Majma al-Zawaid #4071

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيَعْرِفُ مَنْ يَحْمِلُهُ وَمَنْ يُغَسِّلُهُ وَمَنْ يُدَلِّيهِ فِي قَبْرِهِ» ""، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ فِي الْمَجْلِسِ: مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ أَبِي سَعِيدٍ، فَانْطَلَقَ ابْنُ عُمَرَ إِلَى أَبِي سَعِيدٍ فَقَالَ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that the dead recognizes who carries him, who washes him, and who lowers him into his grave. Ibn Umar رضي الله عنهما, present in the gathering, asked from whom this was heard, was told from Abu Said, then went to Abu Said and asked him directly, and Abu Said affirmed hearing it from the Prophet ﷺ. > **"The dead indeed recognizes who carries him, who washes him, and who lowers him into his grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میت اس شخص کو پہچانتی ہے ‘ جو اسے اٹھاتا ہے ‘ اور جو اسے غسل دیتا ہے ‘ اور جو اسے قبر میں اتارتا ہے “۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جو اس محفل میں موجود تھے انہوں نے دریافت کیا : تم نے یہ روایت کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور بولے اے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ آپ نے یہ بات کس سے سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : نبی اکرم ﷺ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک شخص ایسا ہے کہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4072

Majma al-Zawaid #4072

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: غَسَّلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، فَلَمَّا بَلَغْتُ عَوْرَتَهُ قُلْتُ لِبَنِيهِ: أَنْتُمْ أَحَقُّ بِغَسْلِ عَوْرَتِهِ، دُونَكُمْ فَاغْسِلُوهَا. فَجَعَلَ الَّذِي يَغْسِلُهَا عَلَى يَدِهِ خِرْقَةً وَعَلَيْهَا ثَوْبٌ، ثُمَّ غَسَلَ الْعَوْرَةَ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Sirin stated, as a report of his own, that he washed Anas ibn Malik رضي الله عنه, and when he reached the private parts he told his sons that they had greater right to wash it, so the one who washed it placed a rag upon his hand with a garment over the body and washed that part from beneath the garment.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو غسل دیا جب میں ان کی شرمگاہ کے مقام تک پہنچا تو میں نے ان کے صاحبزادے سے کہا ان کی شرمگاہ کو غسل دینے کا تم زیادہ حق رکھتے ہو اب تم انہیں سنبھالو انہیں غسل دو ان صاحبزادے نے انہیں غسل دینا شروع کیا ان کے ہاتھ میں کپڑا لپٹا ہوا تھا اور حضرت انس رضی اللہ عنہ کی میت پر بھی کپڑا موجود تھا انہوں نے کپڑے کے نیچے سے ان کی شرمگاہ کو دھویا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4073

Majma al-Zawaid #4073

وَعَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: تُوُفِّيَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ فَجُعِلَ فِي حَنُوطِهِ سُكَّةٌ أَوْ سُكٌّ، وَمِسْكَةٌ فِيهَا مِنْ عَرَقِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Humayd reported, as a narration of his own, that when Anas ibn Malik رضي الله عنه died there was placed in his embalming perfume a small vessel containing some of the sweat of the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حمید بیان کرتے ہیں : جب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ان کی حنوط میں ایک شیشی بھی رکھی گئی ‘ جس میں نبی اکرم ﷺ کا پسینہ ملا ہوا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

4074

Majma al-Zawaid #4074

وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أُمِّ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِذَا تُوُفِّيَتِ الْمَرْأَةُ فَأَرَادُوا أَنْ يُغَسِّلُوهَا فَلْيَبْدَءُوا بِبَطْنِهَا ; فَلْيُمْسَحْ بَطْنُهَا مَسْحًا رَفِيقًا إِنْ لَمْ تَكُنْ حُبْلَى، فَإِنْ كَانَتْ حُبْلَى فَلَا تُحَرِّكِيهَا، فَإِنْ أَرَدْتِ غَسْلَهَا فَابْدَئِي بِسُفْلَتِهَا فَأَلْقِي عَلَى عَوْرَتِهَا ثَوْبًا سِتِّيرًا، ثُمَّ خُذِي كُرْسُفَةً فَاغْسِلِيهَا فَأَحْسِنِي غَسْلَهَا، ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ تَحْتِ الثَّوْبِ، فَامْسَحِيهَا بِكُرْسُفٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَأَحْسَنِي مَسْحَهَا قَبْلَ أَنْ تُوَضِّئِيهَا، ثُمَّ وَضِّئِيهَا بِمَاءٍ فِيهِ سِدْرٌ، وَلْيُفْرِغِ الْمَاءَ امْرَأَةٌ وَهِيَ قَائِمَةٌ لَا تَلِي شَيْئًا غَيْرَهُ حَتَّى تُنَقَّى بِالسِّدْرِ وَأَنْتِ تَغْسِلِينَ، وَلْيَلِ غُسْلَهَا أَوْلَى النَّاسِ بِهَا، وَإِلَّا فَامْرَأَةٌ وَرِعَةٌ مُسْلِمَةٌ، فَإِنْ كَانَتْ صَغِيرَةً أَوْ ضَعِيفَةً فَلْتَلِهَا امْرَأَةٌ أُخْرَى وَرِعَةٌ مُسَلِمَةٌ، فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ غَسْلِ سُفْلَتِهَا غَسْلًا نَقَاءً بِسِدْرٍ وَمَاءٍ فَلْتُوَضِّئْهَا وُضُوءَ الصَّلَاةِ، فَهَذَا بَيَانُ وُضُوئِهَا، ثُمَّ اغْسِلِيهَا بَعْدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، فَابْدَئِي بِرَأْسِهَا قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ، فَأَنْقِي غَسْلَهُ مِنَ السِّدْرِ بِالْمَاءِ، وَلَا تُسَرِّحِي رَأْسَهَا بِمُشْطٍ، فَإِنْ حَدَثَ بِهَا حَدَثٌ بَعْدَ الْغَسْلَاتِ الثَّلَاثِ فَاجْعَلِيهَا خَمْسًا، فَإِنْ حَدَثَ فِي الْخَامِسَةِ فَاجْعَلِيهَا سَبْعًا، وَكُلُّ ذَلِكَ فَلْيَكُنْ وِتْرًا بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، فَإِنْ كَانَ فِي الْخَامِسَةِ أَوِ الثَّالِثَةِ فَاجْعَلِي فِيهِ شَيْئًا مِنْ كَافُورٍ وَشَيْئًا مِنْ سِدْرٍ، ثُمَّ اجْعَلِي ذَلِكَ فِي جَرٍّ جَدِيدٍ، ثُمَّ أَقْعِدِيهَا فَأَفْرِغِي عَلَيْهَا وَابْدَئِي بِرَأْسِهَا حَتَّى تَبْلُغِي رِجْلَيْهَا، فَإِذَا فَرَغْتِ مِنْهَا فَأَلْقِي عَلَيْهَا ثَوْبًا نَظِيفًا، ثُمَّ أَدْخِلِي يَدَكِ مِنْ وَرَاءِ الثَّوْبِ فَانْزِعِيهِ عَنْهَا، ثُمَّ احْشِي سُفْلَتَهَا كُرْسُفًا مَا اسْتَطَعْتِ، وَاحْشِي كُرْسُفَهَا، ثُمَّ خُذِي سَبْتِيَّةً طَوِيلَةً مَغْسُولَةً فَارْبُطِيهَا عَلَى عَجُزِهَا [كَمَا تُرْبَطُ عَلَى النِّطَاقِ، ثُمَّ اعْقُدِيهَا بَيْنَ فَخِذَيْهَا وَضُمِّي فَخِذَيْهَا ثُمَّ أَلْقِي طَرَفَ السِّبْتِيَّةِ عَنْ عَجُزِهَا] إِلَى قَرِيبٍ مِنْ رُكْبَتِهَا، فَهَذَا شَأْنُ سُفْلَتِهَا ثُمَّ طَيِّبِيهَا وَكَفِّنِيهَا، وَاطْوِي شَعْرَهَا ثَلَاثَةَ أَقْرُنٍ: قُصَّةً وَقَرْنَيْنِ، وَلَا تُشَبِّهِيهَا بِالرِّجَالِ، وَلْيَكُنْ كَفَنُهَا فِي خَمْسَةِ أَثْوَابٍ: أَحُدُّهَا الْإِزَارُ تَلُفِّي بِهِ فَخِذَيْهَا، وَلَا تُنْقِصِي مِنْ شَعْرِهَا شَيْئًا بِنُورَةٍ وَلَا غَيْرِهَا، وَمَا يَسْقُطُ مِنْ شَعْرِهَا فَاغْسِلِيهِ ثُمَّ اغْرِزِيهِ فِي شَعْرِ رَأْسِهَا، وَطَيِّبِي شَعْرَ رَأْسِهَا فَأَحْسِنِي تَطْيِيبَهُ، وَلَا تَغْسِلِيهَا بِمَاءٍ مُسَخَّنٍ، وَاخْمِرِيهَا وَمَا تُكَفِّنِينَهَا بِهِ بِسَبْعِ نُبْذَاتٍ إِنْ شِئْتِ وَاجْعَلِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا وِتْرًا، وَإِنْ بَدَا لَكِ أَنْ تُخَمِّرِيهَا فِي نَعْشِهَا فَاجْعَلِيهِ وِتْرًا، هَذَا شَأْنُ كَفَنِهَا وَرَأْسِهَا، وَإِنْ كَانَتْ مَحْدُورَةً أَوْ مَحْضُونَةً أَوْ أَشْبَاهَ ذَلِكَ فَخُذِي خِرْقَةً وَاحِدَةً وَاغْسِلِيهَا بِالْمَاءِ، وَاجْعَلِي تَتَبَّعِي كُلَّ شَيْءٍ مِنْهَا، وَلَا تُحَرِّكِيهَا، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَنَفَّسَ مِنْهَا شَيْءٌ لَا يُسْتَطَاعُ رَدَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا: لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ، وَفِي الْآخَرِ: جُنَيْدٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ بَعْضُ كَلَامٍ.

EnglishUnverified translation

Umm Sulaym رضي الله عنها, mother of Anas ibn Malik رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ gave detailed instructions for washing a deceased woman: beginning with the belly with gentle wiping if she is not pregnant and not moving her if pregnant; beginning the washing with the lower part while a covering cloth veils her nakedness; washing with cotton and washing well, then inserting the hand beneath the cloth and wiping thrice with cotton before ablution; performing ablution with water containing lote leaves while another standing woman pours and does nothing else until purification, with the nearest kin undertaking it or otherwise a pious Muslim woman, assisted by another if small or weak; washing the lower part cleanly with lote and water, then ablution as for prayer; then three washings with water and lote beginning with the head and cleansing it of lote with water without combing with a comb; increasing to five if impurity recurs after three, and to seven if after five, all in odd numbers with water and lote, with some camphor and lote in the third or fifth, placed in a new jar; then seating her and pouring from head to feet, covering with a clean cloth, removing the soiled covering from behind it, stuffing the lower part with as much cotton as possible; binding a long washed loincloth upon her buttocks as a waist-wrapper is tied, knotting it between her thighs, joining the thighs and drawing its end toward the knees; then perfuming and shrouding her, braiding her hair into three plaits of forelock and two braids without imitating men; shrouding in five garments including an izar wrapping the thighs; removing nothing of her hair by depilatory or otherwise, washing what falls and inserting it into the head hair, perfuming the head hair well, not washing with heated water, perfuming her and the shroud with seven sprinklings in odd numbers if wished, and likewise in odd if veiling her in her bier; and if she is confined or nursed in illness or the like, washing with a single rag following each part with water without moving her, out of fear that something may issue that cannot be returned. > **"When a woman dies and they wish to wash her, let them begin with her belly; let her belly be wiped gently if she is not pregnant, and if she is pregnant do not move her. If you wish to wash her, begin with her lower part and cast a veiling cloth over her nakedness. Then take cotton and wash her and wash her well. Then insert your hand beneath the cloth and wipe her with cotton three times, and wipe her well before you perform ablution for her. Then perform ablution for her with water containing lote leaves, and let a woman pour the water while standing, undertaking nothing else until she is cleansed with lote while you wash. Let the most entitled among people undertake her washing, otherwise a pious Muslim woman; and if she is small or weak, let another pious Muslim woman attend her. When you finish washing her lower part with a cleansing wash of lote and water, then perform ablution for her as for prayer; this is the exposition of her ablution. Then wash her after that three times with water and lote, beginning with her head before all else, and cleanse its washing of lote with water, and do not comb her head with a comb. If impurity issues after the three washings, make them five; and if it issues in the fifth, make them seven, and let all of that be odd with water and lote. And in the fifth or the third, put therein some camphor and some lote. Then place that in a new jar. Then seat her and pour over her, beginning with her head until you reach her feet. When you finish with her, cast a clean cloth over her, then insert your hand behind the cloth and remove it from her. Then stuff her lower part with cotton as much as you can. Then take a long washed loincloth and bind it upon her buttocks and tie it between her thighs and join her thighs, then cast its end toward her knees. This is the affair of her lower part. Then perfume her and shroud her, and braid her hair into three plaits: a forelock and two braids, and do not liken her to men. Let her shroud be in five garments, one of them an izar with which you wrap her thighs. Remove nothing of her hair with depilatory or otherwise, and whatever falls of her hair, wash it then insert it into the hair of her head, and perfume the hair of her head and perfume it well. Do not wash her with heated water. Perfume her and what you shroud her with, with seven sprinklings if you wish, and make everything thereof odd. And if it occurs to you to veil her in her bier, make it odd. This is the affair of her shroud and her head. And if she is confined or nursed in illness or the like, take a single rag and wash her with water, following each part of her, and do not move her, for I fear something may issue from her that cannot be returned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا جو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی والدہ ہیں وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی عورت فوت ہو جائے اور لوگ ( یعنی خواتین ) اسے غسل دینے کا ارادہ کریں تو سب سے پہلے اس کے پیٹ سے آغاز کریں اس کے پیٹ پر نرمی سے ہاتھ پھیریں اگر وہ حاملہ نہ ہو اگر وہ حاملہ ہو ‘ تو پھر اسے حرکت نہ دیں اگر تم اس کو غسل دینے کا ارادہ کرو تو سب سے پہلے اس کے زیریں حصے سے آغاز کرو اور اس کی شرمگاہ پر ایسا کپڑا ڈال دو جو پردہ پوشی کر رہا ہو پھر تم روئی لے کر اس کے ذریعے اسے دھوؤ اور اچھی طرح سے دھوؤ پھر تم اپنا ہاتھ کپڑے کے نیچے داخل کرو اور روئی کے ذریعے تین مرتبہ اسے پونچھ لو پھر تم اسے وضو کروانے سے پہلے پھر پونچھ لو پھر تم اسے ایسے پانی کے ذریعے غسل کرواؤ جس میں بیری کے پتے ملے ہوئے ہوں اور ایک عورت پانی بہائے جو کھڑی ہوئی ہو وہ اس کے علاوہ اور کوئی کام نہ کرے یہاں تک کہ اسے بیری کے پتوں کے ذریعے صاف کر دیا جائے تم غسل دیتی رہو عورت کی غسل کی نگران وہ عورت بنے جو اس کی سب سے زیادہ قریبی عزیزہ ہو ورنہ کوئی ایسی عورت بنے جو مسلمان ہو ‘ اور پرہیز گار ہو خواہ وہ چھوٹی عمر کی ہو ‘ یا کمزور ہو پھر دوسری عورت اس کی نگران بنے جو پرہیز گار اور مسلمان ہو جب وہ اس کے زیریں حصے کو غسل دے کر فارغ ہو جائے جو اچھی طرح بیری کے پتے کے ذریعے اور پانی کے ذریعے صاف ہو چکا ہو تو پھر وہ عورت اس میت کو نماز کے وضو کی طرح وضو کروائے یہ اس کے وضو کا بیان ہے پھر اس کے بعد اسے تین مرتبہ غسل دے جو پانی اور بیرے کے پتوں کے ذریعے ہو ہر چیز سے پہلے سر سے آغاز کرے پانی کے ہمراہ بیری کے پتوں کے ذریعے اسے دھو کر صاف کرے اور کنگھی کے ذریعے اس کے بال نہ سنوارے اگر تین مرتبہ غسل دینے کے بعد حدث لاحق ہو جاتا ہے ‘ تو پانچ مرتبہ غسل دے اگر پانچ مرتبہ کے بعد ہو جاتا ہے ‘ تو سات مرتبہ دے ہر صورت میں پانی اور بیری کے پتوں کا استعمال طاق تعداد میں ہونا چاہیے پانچویں مرتبہ میں یا تیسری مرتبہ میں تھوڑا سا کافور اور تھوڑی سی بیری شامل کر لینی چاہیے اسے ایک نئے مٹکے میں رکھنا چاہیے پھر تم اس کی میت کو بٹھا دو اور اس پر پانی بہاؤ اس کے سر سے آغاز کرو یہاں تک کہ اس کے پاؤں تک پہنچ جائے جب تم اس سے فارغ ہو جاؤ تو اس پر صاف کپڑا ڈال دو پھر اپنا ہاتھ کپڑے کے نیچے داخل کر کے اس کے لباس کو اتار دو اور پھر اس کے نیچے والے حصے میں روئی ڈال دو جہاں تک ہو سکے اور روئی کو بھر دو پھر تم دھوئی ہوئی لمبی سبطی کپڑا لے کر اس کے پہلو پر باندھو ‘ جس طرح ازار بند باندھا جاتا ہے ‘ پھر تم اس کی دونوں زانوں کے درمیان گرہ لگا دو اور اس کے دونوں زانوں کو ملا دو پھر اس رسی کا ایک کنارہ اس کے پہلو پر ڈال دو جو اس کے گھٹنے کے قریب ہو یہ اس کے زیریں حصے کا معاملہ ہو گیا پھر تم اسے خوشبو لگاؤ اسے کفن پہناؤ اور اس کے بالوں کی تین چوٹیاں بنا دو ایک بڑا جوڑا ہو ‘ اور دو اطراف کی لٹیں ہوں اور اس کو مردوں کے ساتھ مشابہت نہ دلوانا عورت کا کفن پانچ کپڑوں کی شکل میں ہونا چاہیے جن میں سے ایک تہبند ہو جس کو تم اس کے زانوں پر لپیٹ دو اور تم نورہ ‘ یا کسی اور چیز کے ذریعے اس کے بال صاف نہ کرنا اس کے جو بال گر گئے ہوں انہیں دھو دینا اور پھر انہیں اس کے سر کے بالوں میں ڈال دینا اس کے سر کے بالوں پر خوشبو لگانا اور اچھی طرح سے خوشبو لگانا تم اسے گرم پانی کے ذریعے غسل نہ دینا اور تم اس کو ڈھانپ دینے کے بعد ‘ اس کے کفن پر سات مرتبہ معمولی سی خوشبو لگا دینا ‘ اگر تم چاہو ‘ اور اس میں سے ہر ایک کو طاق تعداد میں رکھنا ‘ یہ اس کے کفن اور اس کے سر کا معاملہ ہو گیا اگر وہ ورم آلود جسم والی تھی ، تو پھر تم ایک کپڑا لے کر اسے پانی کے ذریعے دھو دینا اور اس کی ہر چیز کو تلاش کر کے صاف کرنا ‘ اسے حرکت نہ دینا کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اس میں سے کوئی ایسی چیز نکل آئے گی جسے واپس نہیں کیا جا سکے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ جن میں سے ایک سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ تدلیس کرنے والا ہے ، لیکن وہ ثقہ ہے دوسری سند میں ایک راوی جنید ہے اس کی توثیق کی گئی ہے اس کے بارے میں کچھ کلام بھی کیا گیا ہے ۔

4075

Majma al-Zawaid #4075

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّهُ حَدَّثَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughirah ibn Shubah رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allah ﷺ command whoever washes a dead person to take a ritual bath himself. > **"Whoever washes a dead person, let him take a ritual bath."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص میت کو غسل دے اسے غسل کر لینا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

4076

Majma al-Zawaid #4076

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: مِنَ السُّنَّةِ أَنْ تَتَّخِذَ إِحْدَاكُنَّ فِي يَدَيْهَا أَوْ عُنُقِهَا شَيْئًا تُسْلَبُهُ إِذَا وُضِعَتْ عَلَى سَرِيرِ غُسْلِهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Aisha رضي الله عنها stated, as a report of her own, that it is from the Sunnah that one of you women take something in her hands or upon her neck by which she supports the deceased woman when she is laid upon the bed of washing.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سنت یہ ہے کہ تم میں سے کوئی ایک خاتون میت عورت کے ہاتھوں یا گردن میں کوئی چیز پکڑ لے تاکہ اسے اس وقت سہارا دے جب اسے اس کے غسل کے تختے پر رکھا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جو معروف نہیں ہے ۔

4077

Majma al-Zawaid #4077

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَ أَبَاهُ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded whoever washes a dead person to take a ritual bath himself. > **"Whoever washes a dead person, let him take a ritual bath."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میت کو غسل دے اسے غسل کر لینا چاہیے ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ابواسحاق سبیعی کی اپنے والد کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ‘ اور میں نے کسی کو اس کے والد کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

4078

Majma al-Zawaid #4078

وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: سُئِلَ عَبْدُ اللَّهِ عَنْ غَاسِلِ الْمَيِّتِ أَيَغْتَسِلُ؟ قَالَ: إِنْ كُنْتُمْ تَرَوْنَ أَنَّ صَاحِبَكُمْ نَجِسًا فَاغْتَسِلُوا مِنْهُ، وَإِلَّا فَإِنَّمَا يَكْفِيكُمُ الْوُضُوءُ .. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يَسْمَعِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Ibrahim al-Nakhai reported that Abdullah رضي الله عنه was asked about one who washes the dead, whether he must take a ritual bath, and replied that if they deemed their companion impure they should bathe, otherwise ablution suffices. > **"If you deem your companion impure, then bathe from him; otherwise ablution suffices you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے میت کو غسل دینے والے شخص کے بارے میں دریافت کیا گیا : کیا وہ غسل کرے گا انہوں نے فرمایا : تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ تمہارا ساتھی ( یعنی میت ) نجس تھا جس کی وجہ سے تم غسل کرو گے تمہارے لئے وضو کر لینا بھی کافی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابراہیم نخعی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

4079

Majma al-Zawaid #4079

عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: رَأَيْتُ خَالِدَ بْنَ الْحَوَارِيِّ - رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى أَهْلَهُ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ: اغْسِلُونِي غَسْلَتَيْنِ: غَسْلَةً لِلْجَنَابَةِ، وَغَسْلَةً لِلْمَوْتِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْحَاقُ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ishaq ibn al-Harith reported that he saw Khalid ibn al-Hawari, a man from Abyssinia among the Companions of the Prophet ﷺ, approach his wife, and when death approached him he instructed that he be washed twice: a washing for janaba and a washing for death. > **"Wash me two washings: a washing for janaba and a washing for death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسحاق بن حارث بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت خالد بن حواری رضی اللہ عنہ کو دیکھا جن کا تعلق حبشہ سے تھا وہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی تھے ۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ صحبت کی ‘ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو انہوں نے فرمایا : تم لوگ مجھے دو مرتبہ غسل دینا ایک مرتبہ جنابت کا غسل ہو گا ‘ اور ایک مرتبہ موت کا ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اسحاق نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

4080

Majma al-Zawaid #4080

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أُصِيبَ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَحَنْظَلَةُ بْنُ الرَّاهِبِ وَهُمَا جُنُبٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" رَأَيْتُ الْمَلَائِكَةَ تُغَسِّلُهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reported that Hamzah ibn Abdul Muttalib رضي الله عنه and Hanzalah ibn al-Rahib رضي الله عنه were struck down while in janaba, and the Messenger of Allah ﷺ declared that he saw the angels washing them both. > **"I saw the angels washing them both."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور حضرت حنظلہ بن راہب رضی اللہ عنہ نے جنابت کی حالت میں جام شہادت نوش کیا تھا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے فرشتوں کو دیکھا کہ وہ ان دونوں کو غسل دے رہے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

4081

Majma al-Zawaid #4081

عَنْ سِنَانِ بْنِ غَرَفَةَ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الرَّجُلِ يَمُوتُ مَعَ النِّسَاءِ، وَالْمَرْأَةُ تَمُوتُ مَعَ الرِّجَالِ وَلَيْسَ لَهُمَا مَحْرَمٌ ; قَالَ: "" يُيَمَّمَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْخَالِقِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ وَاقَدٍ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sinan ibn Gharafah رضي الله عنه, who had companionship, reported from the Prophet ﷺ concerning a man who dies among women, or a woman who dies among men, while neither has a mahram present, that dry ablution be performed for them. > **"They shall be given tayammum."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سنان بن غرفہ رضی اللہ عنہ جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے وہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ایسے شخص کے بارے میں نقل کرتے ہیں : جو خواتین کے ساتھ موجود ہوتا ہے ‘ اور انتقال کر جاتا ہے ‘ یا کوئی عورت مردوں کے ساتھ موجود ہوتی ہے ‘ اور انتقال کر جاتی ہے ‘ اور ان دونوں کا کوئی محرم نہیں ہوتا ہے نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا ہے انہیں تیمم کروا دیا جائے گا - یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالخالق بن یزید بن واقد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4082

Majma al-Zawaid #4082

عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَكَانَ يُدْعَى فِي زَمَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَارِئَ، وَكَانَ لَقِيَ عَدُوًّا، فَانْهَزَمَ مِنْهُمْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: هَلْ لَكَ فِي الشَّامِ لَعَلَّ اللَّهَ يَمُنُّ عَلَيْكَ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا الْعَدُوَّ الَّذِي فَرَرْتُ مِنْهُمْ، قَالَ: فَخَطَبَهُمْ بِالْقَادِسِيَّةِ، فَقَالَ: إِنَّا لَاقُو الْعَدُوِّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ غَدًا، وَإِنَّا مُسْتَشْهِدُونَ فَلَا تَغْسِلُوا عَنَّا دَمًا، وَلَا نُكَفَّنُ إِلَّا فِي ثَوْبٍ كَانَ عَلَيْنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Said ibn Ubayd رضي الله عنه, who was called the Reciter in the time of the Prophet ﷺ, reported that after meeting the enemy and retreating, Umar رضي الله عنه offered him passage to Sham hoping Allah would favour him, but he refused except toward the enemy from whom he had fled. He then addressed the troops at al-Qadisiyyah, declaring that they would meet the enemy on the morrow, God willing, and would be martyred, instructing that no blood be washed from them and that they be shrouded only in the garments upon them. > **"We shall meet the enemy tomorrow, God willing, and we shall be martyred, so do not wash any blood from us, and we shall not be shrouded except in the garment that is upon us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن عبید رضی اللہ عنہ جنہیں نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں قاری کہا جاتا تھا ان کا دشمن سے سامنا ہوا دشمن نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : آپ شام جانا چاہیں گے ہو سکتا ہے اللہ تعالٰی آپ پر مہربانی کرے انہوں نے کہا : جی نہیں ! میں اس دشمن کی طرف جانا چاہوں گا ‘ جس سے میں فرار ہوا تھا راوی بیان کرتے ہیں : پھر انہوں نے ’’ قادسیہ ‘‘ کے مقام پر ان لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ کہا : کل اگر اللہ نے چاہا ‘ تو ہم دشمن کا سامنا کریں گے اور ہم جام شہادت نوش کریں گے ‘ تم ہمارے خون کو نہ دھونا اور ہمیں اسی کپڑے کا کفن دینا ‘ جو ہمارے جسم پر موجود ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

4083

Majma al-Zawaid #4083

عَنْ عَلِيٍّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْكَفَنُ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَارُونَ الْفَرْوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ali رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ that the shroud is taken from the whole of the wealth. > **"The shroud is from the whole of the wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کفن ( میت کے ) پورے مال میں سے دیا جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ہارون فروی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

4084

Majma al-Zawaid #4084

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «كُفِّنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَبْعَةِ أَثْوَابٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، [وَالْبَزَّارُ].

EnglishUnverified translation

Ali رضي الله عنه stated, as a report of his own, that the Prophet ﷺ was shrouded in seven garments.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو سات کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ‘ اور اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ۔

4085

Majma al-Zawaid #4085

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُفِّنَ فِي رَيْطَتَيْنِ وَبُرْدٍ نَجْرَانِيٍّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ was shrouded in two sheets and a Najrani cloak.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو دو چادروں میں اور ایک نجرانی چادر میں کفن دیا گیا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

4086

Majma al-Zawaid #4086

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «كُفِّنَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ وَإِزَارٍ وَلِفَافَةٍ، وَكُفِّنَ عُمَرُ فِي ثَوْبَيْنِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ نَاصِحٌ الْمُحَلِّمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ was shrouded in three white garments of izar and wrapping, and that Umar رضي الله عنه was shrouded in two garments.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو تین سفید کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ایک تہبند تھا اور ایک لفافہ تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو دو کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ناصح محلمی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔