Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 7 · Chapter 1

Book of Funerals

Hadith 3727–3766

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3727

Majma al-Zawaid #3727

عَنْ بُرَيْدَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «أَنَّهُ رَأَى إِنْسَانًا بِهِ بَلَاءٌ فَقَالَ: "" لَعَلَّكَ سَأَلْتَ رَبَّكَ يُعَجِّلُ لَكَ الْبَلَاءَ؟ ""، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: "" فَهَلَّا سَأَلْتَ رَبَّكَ الْعَافِيَةَ وَقُلْتَ: {رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [البقرة: 201]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْغَلَابِيُّ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: يُعْتَبَرُ بِهِ إِذَا رَوَى عَنْ ثِقَةٍ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ saw a man afflicted with balā' and asked him whether he had supplicated his Lord to hasten the balā' for him in this world, and the man acknowledged that he had done so, whereupon the Prophet ﷺ directed him to ask instead for 'āfiyah through the Qur'anic supplication. > **"Perhaps you asked your Lord to hasten the balā' for you? Why did you not ask your Lord for 'āfiyah and say: Our Lord, give us good in this world and good in the Hereafter and shield us from the punishment of the Fire?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو کسی آزمائش ( یعنی بیماری وغیرہ ) کا شکار تھا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : شاید تم نے اپنے پروردگار سے یہ دعا کی ہو گی کہ وہ تمہیں جلدی ( یعنی دنیا میں ہی ) آزمائش کا شکار کر دے اس نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اپنے پروردگار سے عافیت کا سوال کیوں نہیں کیا ؟ اور یہ کیوں نہیں کہا : ” اے ہمارے پروردگار ! تو ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں قبر کے عذاب سے بچا دے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن زکریا غلابی ہے ‘ جسے امام دارقطنی نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اور یہ بات بیان کی ہے ‘ جب یہ کسی ثقہ راوی سے روایت نقل کرے تو اس کا اعتبار کیا جائے گا ۔

3728

Majma al-Zawaid #3728

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عِبَادًا يُحْيِيهِمْ فِي عَافِيَةٍ وَيُمِيتُهُمْ فِي عَافِيَةٍ وَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ فِي عَافِيَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْبَرَاءَ بْنِ النَّضْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū Mas'ūd al-Anṣārī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke of certain servants of Allah Almighty whom He keeps in 'āfiyah throughout their states, causing them to live and die in 'āfiyah and to enter Paradise in 'āfiyah. > **"Indeed Allah, Mighty and Majestic, has servants whom He keeps alive in 'āfiyah, and causes to die in 'āfiyah, and admits into Paradise in 'āfiyah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں جنہیں وہ عافیت میں زندہ رکھتا ہے ‘ اور جنہیں وہ عافیت میں موت دیتا ہے ‘ اور جنہیں وہ عافیت میں جنت میں داخل کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن براء بن نضر ہے ‘ اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

3729

Majma al-Zawaid #3729

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَافِيَةَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لِصَاحِبِهَا مِنْ جَزِيلِ الثَّوَابِ إِذَا هُوَ شَكَرَ وَذَكَرَ الْبَلَاءَ وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لِصَاحِبِهِ مِنْ جَزِيلِ الثَّوَابِ إِذَا هُوَ صَبَرَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَأَنْ أُعَافَى فَأَشْكُرُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُبْتَلَى فَأَصْبِرُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَرَسُولُ اللَّهِ يُحِبُّ مَعَكَ الْعَافِيَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْبَرَاءَ بْنَ النَّضْرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardā' رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ mentioned 'āfiyah and the abundant reward Allah has prepared for its possessor when he gives thanks, and mentioned balā' and the abundant reward Allah has prepared for its possessor when he shows ṣabr, whereupon Abū al-Dardā' declared his preference for being spared and grateful over being tried and patient, and the Prophet ﷺ affirmed his love for 'āfiyah alongside him. > **"And the Messenger of Allah loves 'āfiyah along with you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے عافیت کا ذکر کیا ‘ اور عافیت والے شخص کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو عظیم اجر و ثواب تیار کیا ہے اس کا ذکر کیا جب کہ وہ بندہ شکر کرتا ہو ‘ اور نبی اکرم ﷺ نے آزمائش کا ذکر کیا ‘ اور جب آزمائش کا شکار شخص صبر کرتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جو عظیم اجر و ثواب تیار کیا ہے اس کا ذکر کیا ، تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں عافیت میں رہوں اور شکر کروں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ میں کسی آزمائش کا شکار ہو کر صبر کروں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کے رسول بھی تمہارے ساتھ عافیت کو پسند کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن براء بن نضر ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3730

Majma al-Zawaid #3730

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ: انْطَلَقُوا إِلَى عَبْدِي فَصُبُّوا عَلَيْهِ الْبَلَاءَ [صَبًّا، فَيَصُبُّونَ عَلَيْهِ الْبَلَاءَ]، فَيَحْمَدُ اللَّهَ فَيَرْجِعُونَ فَيَقُولُونَ: يَا رَبَّنَا صَبَبْنَا عَلَيْهِ الْبَلَاءَ صَبًّا كَمَا أَمَرْتَنَا فَيَقُولُ: ارْجِعُوا فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَ صَوْتَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ described how Allah Almighty commands the angels to pour balā' upon His servant, and when the servant responds with praise of Allah and the angels return with their report, He commands them to return, out of love for hearing the servant's voice. > **"Allah, Mighty and Majestic, says to the angels: Go to My servant and pour balā' upon him in abundance. So they pour balā' upon him and he praises Allah. They return and say: Our Lord, we poured balā' upon him in abundance as You commanded us. So He says: Return, for indeed I love to hear his voice."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : میرے بندے کی طرف جاؤ اور اس پر آزمائش انڈیل دو ( فرشتے ایسا کرتے ہیں ) تو وہ بندہ اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہے ‘ جب فرشتے واپس آتے ہیں تو عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار جس طرح تو نے ہمیں حکم دیا تھا اس کے مطابق ہم نے اس پر آزمائش ڈال دی تھی پروردگار فرماتا ہے : تم واپس جاؤ میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ میں اس کی آواز سنوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3731

Majma al-Zawaid #3731

وَبِسَنَدِهِ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِنَّ اللَّهَ لَيُجَرِّبُ أَحَدَكُمْ بِالْبَلَاءِ كَمَا يُجَرِّبُ أَحَدُكُمْ ذَهَبَهُ بِالنَّارِ فَمِنْهُ مَا يَخْرُجُ كَالذَّهَبِ الْإِبْرِيزِ فَذَاكَ حَمَاهُ اللَّهُ مِنَ الشُّبُهَاتِ، وَمِنْهُ مَا يَخْرُجُ دُونَ ذَلِكَ فَذَلِكَ الَّذِي يَشُكُّ بَعْضَ الشَّكِّ، وَمِنْهُ مَا يَخْرُجُ كَالذَّهَبِ الْأَسْوَدِ فَذَاكَ الَّذِي افْتُتِنَ» ".

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reports with the same chain that the Messenger of Allah ﷺ likened Allah's testing of a person through balā' to a man's testing of his gold with fire, yielding pure gold, lesser gold, and blackened gold, corresponding to those protected from doubts, those touched by some doubt, and those overcome by fitnah. > **"Indeed Allah tries one of you with balā' just as one of you tries his gold with fire. From it comes forth what is like pure refined gold, and that is the one whom Allah has protected from doubts; and from it comes forth what is below that, and that is the one who doubts with some doubt; and from it comes forth what is like black gold, and that is the one who has been subjected to fitnah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان منقول ہے : ’’ اللہ تعالیٰ تم میں سے کسی ایک شخص کی آزمائش کے ذریعے جانچ کرتا ہے ، جس طرح تم میں سے کوئی ایک شخص آگ کے ذریعے اپنے سونے کو جانچتا ہے ‘ تو اس میں سے جو نکلتا ہے وہ خالص سونے کی مانند ہوتا ہے ‘ تو یہ وہ شخص ہو گا جسے اللہ تعالی نے شبہات سے بچا لیا ہو ‘ اور اس میں سے کچھ ایسی چیز بھی نکلتی ہے ‘ جو اس سے کم ہوتی ہے ‘ تو یہ وہ شخص ہو گا ‘ جو کچھ شک کا شکار ہو ‘ اور اس میں سے وہ چیز بھی نکلتی ہے ‘ جو سیاہ سونے کی مانند ہوتی ہے تو یہ وہ شخص ہے ‘ جسے فتنہ کا شکار کیا گیا ہو گا “۔

3732

Majma al-Zawaid #3732

وَبِسَنَدِهِ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا مَرِضَ أَوْحَى اللَّهُ إِلَى مَلَائِكَتِهِ فَيَقُولُ: أَيَا مَلَائِكَتِي أَنَا قَيَّدْتُ عَبْدِي بِقَيْدٍ مِنْ قُيُودِي فَإِنْ قَبَضْتُهُ أَغْفِرُ لَهُ، وَإِنْ عَافَيْتُهُ فَجَسَدُهُ مَغْفُورٌ لَهُ لَا ذَنْبَ لَهُ» ".

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reports with the same chain that the Messenger of Allah ﷺ described Allah's address to His angels when a Muslim falls ill, declaring that He has restrained His servant with a restraint of His, such that seizure by death brings forgiveness and restoration to health brings a forgiven body without sin. > **"When the Muslim falls ill, Allah inspires His angels, saying: O My angels, I have restrained My servant with a restraint from My restraints. If I take him then I forgive him, and if I grant him 'āfiyah then his body is forgiven, having no sin upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسلمان جب بیمار ہوتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کی طرف وحی کر کے یہ فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! میں نے اپنے بندے کو اپنی ایک بیڑی میں پابند کر دیا ہے اگر میں اس کو قبض کر لوں گا ‘ تو میں اس کی مغفرت کر دوں گا ‘ اور اگر میں نے اسے عافیت عطا کر دی ( یعنی اس آزمائش سے نجات دے دی ) تو اس کا جسم ایسا ہو گا کہ اس کی مغفرت ہو چکی ہو گی ‘ اور اس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا ‘‘۔

3733

Majma al-Zawaid #3733

وَعَنْ أَبِي عِنْبَةَ الْخَوْلَانِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا ابْتَلَاهُ، وَإِذَا ابْتَلَاهُ أَضْنَاهُ ""، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا أَضْنَاهُ؟ قَالَ: "" لَا يَتْرُكُ لَهُ أَهْلًا وَلَا مَالًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ شَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ، ضَعَّفَهُ الذَّهَبِيُّ وَلَمْ يَذْكُرْ سَبَبًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Abū 'Inabah al-Khawlānī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that when Allah intends good for a servant He subjects him to trial, and when He tries him He wears him down, and when asked about the meaning of wearing down, he ﷺ explained it as leaving him neither family nor wealth. > **"When Allah intends good for a servant He tries him, and when He tries him He wears him down. He leaves for him neither family nor wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعنبہ خولانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کرتا ہے ‘ تو اسے آزمائش کا شکار کر دیتا ہے ‘ اور جب اسے آزمائش کا شکار کرتا ہے ‘ تو اسے مشقت کا شکار کر دیتا ہے ‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اسے مشقت کا شکار کرنے سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ اُس کے اہل خانہ اور مال کو اس کے لئے نہیں رہنے دیتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن محمد ہے ‘ جو امام طبرانی کا استاد ہے ۔ امام ذہبی نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کوئی سبب ذکر نہیں کیا اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3734

Majma al-Zawaid #3734

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُصِيبَةُ تُبَيِّضُ وَجْهَ صَاحِبِهَا يَوْمَ تَسْوَدُّ الْوُجُوهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ رِقَاعٍ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that muṣībah will whiten the face of its possessor on the Day when faces are blackened. > **"Calamity whitens the face of its possessor on the Day when faces are blackened."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مصیبت اپنے متعلقہ فرد کے چہرے کو اس دن سفید کرے گی جس دن کئی چہرے سیاہ ہوں گئے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن رقاع ہے ‘ اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

3735

Majma al-Zawaid #3735

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِالْحُزْنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنْهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثٌ فِي الْبُيُوعِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ وَفِيهِ: «أَنَّ مِنَ الذُّنُوبِ ذُنُوبًا لَا يُكَفِّرُهَا إِلَّا الْهَمُّ فِي طَلَبِ الْمَعِيشَةِ».

EnglishUnverified translation

'Ā'ishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that when the sins of a servant multiply and he has nothing to expiate them, Allah tries him with grief so that it becomes an expiation for him. > **"When the sins of the servant multiply and he has nothing to expiate them, Allah tries him with grief in order to expiate them from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جائیں اور اس کی کوئی ایسی چیز نہ ہو جو ان گناہوں کو ختم کر سکے تو اللہ تعالیٰ اسے غم کی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : خرید و فروخت سے متعلق باب میں ایک حدیث آگے آئے گی ‘ اگر اللہ نے چاہا اس میں یہ ذکر ہو گا کہ گناہوں میں سے کچھ گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ جن کا کفارہ صرف رزق کے حصول میں آدمی کی پریشانی بن سکتی ہے ۔

3736

Majma al-Zawaid #3736

وَعَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ فَمَنْ صَبَرَ فَلَهُ الصَّبْرُ وَمِنْ جَزَعَ فَلَهُ الْجَزَعُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Maḥmūd ibn Labīd رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that when Allah loves a people He tries them, and whoever shows ṣabr obtains the reward of ṣabr, while whoever shows panic and impatience reaps only panic. > **"When Allah loves a people He tries them. So whoever is patient, then ṣabr is for him, and whoever panics, then panic is for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب اللہ تعالی کسی قوم سے محبت کرتا ہے ‘ تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے ‘ جو شخص صبر سے کام لیتا ہے اسے صبر کا اجر و ثواب ) نصیب ہو گا ، اور جو شخص آہ وزاری کرے گا اسے آہ وزاری ( کی پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3737

Majma al-Zawaid #3737

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that divine love for a people is accompanied by their trial. > **"When Allah loves a people He tries them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے محبت کرتا ہے ‘ تو انہیں آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3738

Majma al-Zawaid #3738

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ عِرْقُ الْكُلْيَةِ - وَهِيَ الْخَاصِرَةُ - تَأْخُذُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَهْرًا مَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَخْرُجَ إِلَى النَّاسِ، وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَكْرَبُ حَتَّى آخُذَ بِيَدِهِ فَأَتْفُلُ فِيهَا بِالْقُرْآنِ ثُمَّ أَكُبُّهَا عَلَى وَجْهِهِ أَلْتَمِسُ بِذَلِكَ بَرَكَةَ الْقُرْآنِ وَبَرَكَةَ يَدِهِ فَأَقُولُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ مُجَابُ الدَّعْوَةِ فَادْعُ اللَّهَ يُفَرَّجْ عَنْكَ مَا أَنْتَ فِيهِ؟ فَيَقُولُ: "" يَا عَائِشَةُ أَنَا أَشَدُّ النَّاسِ بَلَاءً». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Ā'ishah رضي الله عنها reports that the pain of the kidney vein, which is in the flank, seized the Messenger of Allah ﷺ for a month so that he could not come out to the people, and she watched him in anguish, taking his hand and blowing upon it with recitation of the Qur'an then passing it over his face seeking the blessing of the Qur'an and the blessing of his hand, and when she urged him, as one whose supplication is answered, to supplicate Allah for relief, he ﷺ answered with mention of the severity of his own balā'. > **"O 'Ā'ishah, I am the severest of people in balā'."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : پہلو کی ایک رگ کی تکلیف کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ ایک ماہ تک لوگوں کے پاس تشریف نہیں لے جا سکے میں آپ کو تکلیف کا شکار دیکھتی تھی یہاں تک کہ میں آپ کا ہاتھ پکڑ لیتی تھی پھر قرآن پڑھ کر اس پر دم کرتی تھی اور پھر آپ کے دست مبارک کو آپ کے چہرے پر پھیر دیتی تھی میں اس کے ذریعے قرآن کی برکت حاصل کرنا چاہتی تھی اور نبی اکرم ﷺ کے دست مبارک کی برکت حاصل کرنا چاہتی تھی میں یہ گزارش کرتی تھی یا رسول اللہ ! آپ کی دعا قبول ہوتی ہے ‘ تو آپ اللہ تعالٰی سے یہ دعا کریں کہ آپ جس صورت حال کا شکار ہیں اللہ تعالیٰ اسے ختم کر دے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کا شکار کیا جاتا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

3739

Majma al-Zawaid #3739

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَرَقَهُ وَجَعٌ فَجَعَلَ يَشْتَكِي وَيَتَقَلَّبُ عَلَى فِرَاشِهِ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَوْ صَنَعَ هَذَا بَعْضُنَا لَوَجَدْتَ عَلَيْهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الصَّالِحِينَ يُشَدَّدُ عَلَيْهِمْ وَإِنَّهُ لَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ نَكْبَةٌ مِنْ شَوْكَةٍ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ إِلَّا حُطَّتْ بِهِ عَنْهُ خَطِيئَةٌ وَرُفِعَتْ [لَهُ] بِهَا دَرَجَةٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

'Ā'ishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ was struck by pain and lay complaining and turning upon his bed, and when she remarked that she would have resented such conduct from one of them, the Prophet ﷺ explained the rigour imposed upon the righteous and the expiation and elevation attained through every mishap befalling the believer, even a thorn and beyond. > **"Indeed the righteous are dealt with severely, and no mishap befalls the believer, from a thorn prick and what is above that, except that a sin is thereby removed from him and a rank is thereby raised for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کو تکلیف لاحق ہوئی آپ تکلیف کے عالم میں اپنے بستر پر پہلو بدلتے رہے ‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : اگر یہ تکلیف ہم میں سے کسی کو لاحق ہوتی ، تو میں اس کے خلاف غصہ محسوس کرتی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نیک لوگوں پر سختی مسلط کی جاتی ہے ‘ اور مومن کو جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے خواہ وہ کانٹا چبھنے کی ہو یا وہ اس سے بھی کم ہو ‘ تو اس کی وجہ سے اس کے گناہ ختم کر دیے جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے اس کا درجہ بلند کیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3740

Majma al-Zawaid #3740

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: «أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعُودُهُ فِي نِسَاءٍ فَإِذَا سِقَاءٌ مُعَلَّقٌ نَحْوَهُ يَقْطُرُ مَاؤُهُ عَلَيْهِ مِمَّا يَجِدُهُ مِنْ حَرِّ الْحُمَّى فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ فَشَفَاكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ مِنْ أَشَدِّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءَ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِيهِ: "" «إِنَّا مُعَاشِرَ الْأَنْبِيَاءِ يُضَاعَفُ عَلَيْنَا الْبَلَاءُ» "" وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū 'Ubaydah ibn Ḥudhayfah reports from his paternal aunt Fāṭimah رضي الله عنها that she with a group of women visited the Messenger of Allah ﷺ in illness while a suspended waterskin dripped water upon him from the heat of fever, and when they suggested he supplicate Allah for cure, the Messenger of Allah ﷺ answered by ranking the severity of balā' upon the prophets and then those successively closest to them. > **"Indeed among the severest of people in balā' are the prophets, then those who come after them, then those who come after them, then those who come after them, then those who come after them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ بن حذیفہ نے اپنی پھوپھی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے : وہ بیان کرتی ہیں : ہم کچھ خواتین نبی اکرم ﷺ کی عیادت کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ کے پاس ایک مشکیزہ لٹکایا گیا تھا جس میں سے پانی کے قطرے آپ پر ٹپک رہے تھے تاکہ آپ کو بخار کی جو گرمی محسوس ہو رہی ہے ( اس کا حل ہو سکے ) ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کر دیں ، تو وہ آپ کو شفاء نصیب کر دے گا نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں میں سب سے زیادہ سخت آزمائش کا سامنا انبیاء کو کرنا پڑتا ہے پھر اس کے بعد ان کے بعد والے ( زیادہ نیک لوگوں کو ) پھر اس کے بعد ان کے بعد والوں کو پھر اس کے بعد ان کے بعد والوں کو ( یعنی زیادہ نیک لوگوں کو ایسا کرنا پڑتا ہے ) ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ اور اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ہم انبیاء کے گروہ کو دگنی آزمائش کا سامنا کرنا پڑتا ہے ‘‘۔ امام احمد کی سند حسن ہے ۔

3741

Majma al-Zawaid #3741

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الرَّجُلَ لِيَكُونُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ الْمَنْزِلَةُ فَمَا يَبْلُغُهَا بِعَمَلِهِ فَمَا يَزَالُ اللَّهُ يَبْتَلِيهِ بِمَا يَكْرَهُ حَتَّى يَبْلُغَهَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِي رِوَايَةٍ لَهُ: "" «يَكُونُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ الْمَنْزِلَةُ الرَّفِيعَةُ» ""،، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that a man may hold a station with Allah which his deeds do not attain, so Allah continues to try him with what he dislikes until he attains it, and in one narration the station is described as lofty. > **"Indeed a man may hold a station with Allah which he does not reach by his deed, so Allah continues to try him with what he dislikes until he reaches it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ کسی شخص کا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک مخصوص مقام ہوتا ہے اس مقام تک آدمی اپنے عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکا تو اللہ تعالی اس شخص کو مسلسل اس آزمائش کا شکار کرتا ہے ‘ جسے وہ ناپسند کرتا ہے ، یہاں تک کہ وہ شخص اس مقام تک پہنچ جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ ان کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اللہ تعالی کی بارگاہ میں اس کا بلند مرتبہ ہوتا ہے ‘‘۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

3742

Majma al-Zawaid #3742

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ الْعَبْدَ إِذَا سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ مَنْزِلَةٌ لَمْ يَبْلُغْهَا بِعَمَلٍ ابْتَلَاهُ اللَّهُ فِي جَسَدِهِ، فِي مَالِهِ أَوْ وَلَدِهِ ثُمَّ صَبَّرَهُ عَلَى ذَلِكَ حَتَّى يُبَلِّغَهُ الْمَنْزِلَةَ الَّتِي سَبَقَتْ لَهُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَأَحْمَدُ وَفِيهِ قِصَّةٌ وَمُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ وَأَبُوهُ: لَمْ أَعْرِفْهُمَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Khālid reports from his father from his grandfather, who was a Companion of the Messenger of Allah ﷺ, that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that when a station has been decreed for a servant by Allah which he cannot reach by deed, Allah tries him in his body or his wealth or his child, then grants him ṣabr over that until He brings him to the station decreed for him by Allah, Mighty and Majestic. > **"Indeed when a station has been decreed for the servant by Allah which he cannot reach by deed, Allah tries him in his body, or in his wealth, or in his child, then grants him ṣabr over that until He brings him to the station which was decreed for him by Allah, Mighty and Majestic."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن خالد نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے یہ روایت نقل کی ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی تھے وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک بندے کے لئے جب اللہ تعالی کی طرف سے کوئی مقام طے ہو چکا ہو ‘ اور آدمی اپنے عمل کے ذریعے وہاں تک نہ پہنچ سکتا ہو تو اللہ تعالی اس شخص کو اس کے جسم یا اس کے مال یا اس کی اولاد کے حوالے سے آزمائش کا شکار کر دیتا ہے ‘ اور پھر اس آزمائش پر اسے صبر کی ‘ توفیق دیتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالی اس شخص کو اس مقام تک پہنچا دیتا ہے ‘ جو اللہ تعالی کی طرف سے اس کے لئے پہلے سے طے ہو چکا ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر معجم اوسط میں اور امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس میں پورا واقعہ ہے محمد بن خالد اور اس کے والدان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

3743

Majma al-Zawaid #3743

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا تَزَالُ الْبَلَايَا بِالْمُؤْمِنِ وَالْمُؤْمِنَةِ حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَمَا عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that balāyā continue to befall the believing man and believing woman until they meet Allah with no sin upon them. > **"Balāyā do not cease to befall the believing man and the believing woman until they meet Allah with no sin upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ آزمائشیں مسلسل مؤمن مرد یا مومن عورت کو لاحق ہوتی رہتی ہیں یہاں تک کہ وہ جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے ‘ تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3744

Majma al-Zawaid #3744

وَعَنْ مُسْلِمٍ مَوْلَى الزُّبَيْرِ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ أَبِي فَاطِمَةَ الضَّمْرِيِّ فَحَدَّثَنِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ: "" مَنْ يُحِبُّ أَنْ يَصِحَّ فَلَا يَسْقَمُ؟ "" فَابْتَدَرْنَا فَقُلْنَا: نَحْنُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَرَفْنَاهَا فِي وَجْهِهِ فَقَالَ: "" أَتُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا كَالْحَمِيرِ الضَّالَّةِ؟ "" قَالُوا: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ تَكُونُوا أَصْحَابَ كَفَّارَاتٍ؟ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ إِنَّ اللَّهَ يَبْتَلِي الْمُؤْمِنَ بِالْبَلَاءِ وَمَا يَبْتَلِيهِ بِهِ إِلَّا لِكَرَامَتِهِ عَلَيْهِ، إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَدْ أَنْزَلَهُ مَنْزِلَةً لَمْ يَبْلُغْهَا بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلِهِ فَيَبْتَلِيهِ مِنَ الْبَلَاءِ مَا يُبَلِّغُهُ تِلْكَ الدَّرَجَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ عَدِيٍّ قَالَ: وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Muslim, the freedman of al-Zubayr, reports that he entered upon 'Abdullāh ibn Iyās ibn Abī Fāṭimah al-Ḍamrī, who narrated from his father from his grandfather that the latter sat with the Messenger of Allah ﷺ when he turned to them and asked who loves to remain healthy and never fall ill, and when they hastened to affirm this he ﷺ showed displeasure on his face, then asked whether they love to be like stray donkeys or rather to be people of expiations, and swore by Him in Whose Hand is the soul of Abū al-Qāsim that Allah tries the believer only out of honour for him, having settled him in a station his deeds cannot reach and conveying him to it through balā'. > **"Who among you loves to remain healthy and never fall ill? Do you love to be like stray donkeys? Do you not love to be people of expiations? By Him in Whose Hand is the soul of Abū al-Qāsim, Allah tries the believer with balā', and He does not try him with it except out of honour for him. Allah has settled him in a station which he cannot reach by any of his deeds, so He tries him with balā' by which He conveys him to that rank."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسلم ‘ جو زبیر کے آزاد کردہ غلام ہیں ‘ وہ بیان کرتے ہیں : میں عبداللہ بن ایاس بن ابوفاطمہ ضمری کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا سے منقول یہ حدیث بیان کی وہ ( یعنی ان کے دادا ) بیان کرتے ہیں : ’’ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے آپ نے دریافت کیا : کون شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ تندرست رہے بیمار نہ ہو ؟ تو ہم نے جلدی کی ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ایسا چاہتے ہیں ہمیں نبی اکرم ﷺ کے چہرے پر ناگواری کا احساس ہوا آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم گمشدہ گدھے کی مانند ہو جاؤ ؟ لوگوں نے عرض کی : جی نہیں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم اس چیز کو پسند نہیں کرتے ہو کہ تم ایسے ہو جاؤ کہ تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو جائے اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے اللہ تعالیٰ مؤمن کو آزمائش کا شکار کرتا ہے ‘ اور وہ اسے اس آزمائش کا شکار اس لئے کرتا ہے تاکہ اس پر اپنا کرم کرے اور اللہ تعالیٰ اسے ایک مخصوص مقام پر فائز کرنا چاہتا ہے اس مقام تک وہ شخص اپنے کسی عمل کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو آزمائش کا شکار کر دیتا ہے ‘ اور وہ آزمائش اس شخص کو اس درجہ تک پہنچا دیتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ البتہ ابن عدی یہ کہتے ہیں : اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

3745

Majma al-Zawaid #3745

عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ السُّنْبُلَةِ تَسْتَقِيمُ مَرَّةً وَتَخِرُّ مَرَّةً، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ الْأَرْزَةِ لَا تَزَالُ مُسْتَقِيمَةً حَتَّى تَخِرَّ وَلَا تَشْعُرُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ likened the believer to an ear of grain which stands straight at times and falls at times, and likened the disbeliever to a pine tree which remains ever upright until it falls without perceiving. > **"The parable of the believer is like the parable of the ear of grain: it stands straight once and falls once. And the parable of the disbeliever is like the parable of the pine: it remains ever upright until it falls without perceiving."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ مومن کی مثال ( کھیت کی ) بالی کی مانند ہے ‘ جو کبھی جھک جاتی ہے ‘ کبھی سیدھی ہو جاتی ہے ‘ اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی مانند ہے ‘ جو ہمیشہ سیدھا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک ہی مرتبہ گرتا ہے ‘ اور اسے پتہ بھی نہیں : چلتا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3746

Majma al-Zawaid #3746

وَعَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ «دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ: "" مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ وَهُوَ حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ؟ "" قَالَ: إِنَّ ذَلِكَ لَوَجَعٌ مَا أَصَابَنِي قَطُّ!! قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ تَحْمَرُّ مَرَّةً وَتَصْفَرُّ أُخْرَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Ka'b رضي الله عنه reports that a man entered upon the Messenger of Allah ﷺ, who asked him when he last encountered Umm Mildam, being heat between skin and flesh, and when the man replied that such a pain had never afflicted him at all, the Messenger of Allah ﷺ drew the parable of the believer as a tender shoot which reddens at one time and yellows at another. > **"When was your last encounter with Umm Mildam, which is heat between the skin and the flesh? The parable of the believer is the parable of the tender shoot: it reddens once and yellows another time."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں ’’ اُم ملدم ‘‘ آخری مرتبہ کب ہوا تھا ( راوی کہتے ہیں : ) یہ ایک تپش ہوتی ہے ، جو جلد اور گوشت کے درمیان محسوس ہوتی ہے ( شاید اس سے مراد بخار ہے ) اس نے کہا : یہ تکلیف تو مجھے کبھی لاحق نہیں ہوئی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن کی مثال ‘ پودے ( یا ترو تازہ گھاس ) کی مانند ہوتی ہے ‘ جو کبھی سرخ ہو جاتا ہے ‘ اور کبھی زرد ہو جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3747

Majma al-Zawaid #3747

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ يَمِيلُ أَحْيَانًا وَيَقُومُ أَحْيَانًا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ فَهْدُ بْنُ حِبَّانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَلْمٍ صَاحِبُ السَّابِرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ likened the believer to an ear of grain which inclines at times and stands at times. > **"The parable of the believer is the parable of the ear of grain: it inclines at times and stands at times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مومن کی مثال ( کھیت کی ) بالی کی مانند ہوتی ہے ‘ جو کبھی جھک جاتی ہے ‘ اور کبھی سیدھی ہو جاتی ہے “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فہد بن حبان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سلم ہے ‘ جو سابری کا شاگرد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3748

Majma al-Zawaid #3748

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ رِيشَةٍ بِفَلَاةٍ تَقْلِبُهَا الرِّيحُ وَتُقِلُّهَا أُخْرَى» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْعُطَارِدِيُّ، وَثَّقَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: رَأَيْتُ أَهْلَ الْعِرَاقِ مُجْمِعِينَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ likened the believer to a feather in a barren wilderness which the wind overturns and another wind lifts. > **"The parable of the believer is like the parable of a feather in a desert land: the wind overturns it and another lifts it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مومن کی مثال بے آب و گیاہ جگہ پر موجود ’’ پر ‘‘ کی طرح ہے ‘ جسے ہوائیں الٹتی پلٹتی رہتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی احمد بن عبدالجبار عطاردی ہے جسے امام دارقطنی اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : میں نے اہل عراق کو دیکھا ہے کہ وہ اس کے ضعیف ہونے پر متفق ہیں ۔

3749

Majma al-Zawaid #3749

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَالْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ يُضْعِفُهَا الْأَرْوَاحُ حَتَّى يَهُبَّ لَهَا رِيحٌ فَيَصْرَعُهَا» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: "" «حَتَّى يَهُبَّ لَهَا رِيحٌ فَيَصْرَعُهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ likened the believer to a tender shoot of cultivation which the winds bend, even to the point that a wind may at times throw it down. > **"The parable of the believer is like the tender shoot of cultivation: the winds bend it until at times a wind comes to it and lays it low."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مومن کی مثال کھیت کی تازہ بالی کی مانند ہے ‘ جسے ہوائیں الٹتی پلٹتی رہتی ہیں ، یہاں تک کہ کبھی ہوا اسے بچھاڑ بھی دیتی ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ’’ یہاں تک کہ کبھی ہوا اسے بچھاڑ بھی دیتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

3750

Majma al-Zawaid #3750

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ يَمِيلُ أَحْيَانًا وَيَقُومُ أَحْيَانًا، وَمَثَلُ الْكَافِرِ كَمَثَلِ أَرْزٍ يَخِرُّ وَلَا يَشْعَرُ بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُهَلَّبُ بْنُ الْعَلَاءِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ. قُلْتُ: وَيَأْتِي فِي الْأَدَبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

'Ammār ibn Yāsir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ likened the believer to an ear of grain which inclines at times and stands at times, and likened the disbeliever to a pine tree which falls without perceiving it. > **"The parable of the believer is the parable of the ear of grain: it inclines at times and stands at times. And the parable of the disbeliever is like the parable of a pine: it falls without perceiving it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ مومن کی مثال ( کھیت کی ) بالی کی مانند ہے ‘ جو کبھی جھک جاتی ہے ‘ اور کبھی کھڑی ہو جاتی ہے ‘ اور کافر کی مثال صنوبر کے درخت کی مانند ہے کہ جو ( ایک ہی مرتبہ ) گر جاتا ہے ‘ اور اس کا پتہ بھی نہیں چلتا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مہلب بن العلاء ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ادب سے متعلق باب میں آگے چل کر کچھ احادیث آئیں گی جو اس کی مانند ہوں گی باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

3751

Majma al-Zawaid #3751

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنَةٌ لِي كَذَا وَكَذَا - ذَكَرَتْ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا - أُتْرِبُكَ بِهَا قَالَ: "" قَدْ قَبِلْتُهَا "" فَلَمْ تَزَلْ تَمْدَحُهَا حَتَّى ذَكَرَتْ أَنَّهَا لَمْ تَصْدَعْ وَلَمْ تَشْتَكِ شَيْئًا قَطُّ قَالَ: "" لَا حَاجَةَ فِي ابْنَتِكِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that a woman came to the Prophet ﷺ and offered him her daughter, describing at length her beauty and loveliness, and he ﷺ accepted her, but she continued to praise her until she mentioned that the girl had never suffered headache nor complained of anything at all, whereupon he ﷺ declared he had no need of her daughter. > **"I have accepted her. I have no need of your daughter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری بیٹی ایسی ہے اس نے اپنی بیٹی کے حسن و جمال کا ذکر کیا ‘ اور یہ کہا کہ میں اس کا رشتہ آپ کے ساتھ کرنا چاہتی ہوں نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں اسے قبول کرتا ہوں وہ عورت مسلسل اس لڑکی کی تعریفیں بیان کرتی رہی یہاں تک کہ اس نے یہ بھی ذکر کیا کہ وہ لڑکی کبھی بیمار نہیں ہوئی اور اسے کبھی کسی بیماری کی شکایت نہیں ہوئی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے تمہاری بیٹی میں کوئی دلچپسی نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3752

Majma al-Zawaid #3752

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ أَخَذَتْكَ أُمُّ مِلْدَمٍ؟ "" قَالَ: وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ: "" حَرٌّ بَيْنَ الْجِلْدِ وَاللَّحْمِ "" قَالَ: مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ قَالَ: "" فَهَلْ أَخَذَكَ هَذَا الصُّدَاعُ؟ "" قَالَ: وَمَا الصُّدَاعُ؟ قَالَ: "" عِرْقٌ يَضْرِبُ عَلَى الْإِنْسَانِ فِي رَأْسِهِ "" قَالَ: مَا وَجَدْتُ هَذَا قَطُّ!! فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: "" مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَقَالَ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ: مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ فَأَعْجَبَهُ صِحَّتُهُ وَجِلْدُهُ فَدَعَاهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that a Bedouin entered upon the Messenger of Allah ﷺ, who asked him whether Umm Mildam had seized him, being heat between skin and flesh, and the man denied ever experiencing it, then asked him whether ṣudā' had seized him, being a vein striking a person in his head, and the man again denied ever experiencing it, and when the Bedouin turned away he ﷺ described him as a man of Hellfire for whoever wishes to behold one. > **"Has Umm Mildam seized you, which is heat between the skin and the flesh? Has this ṣudā' seized you, which is a vein striking a person in his head? Whoever loves to look at a man from the people of Hellfire, let him look at this man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : تمہیں کبھی بخار ہوا ہے ؟ اس نے دریافت کیا : بخار کیا ہوتا ہے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ایک تپش ہوتی ہے ‘ جو جلد اور گوشت کے درمیان ہوتی ہے اس نے کہا : میں نے یہ صورت حال کبھی نہیں پائی ہے نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں کبھی صداع ہوا ہے ؟ اس نے دریافت کیا : صداع کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ ایک رگ ہے ‘ جو انسان کے سر میں ضرب لگاتی ہے ( شاید اس سے مراد بلند فشار دم ہے ) اس نے کہا : میں نے یہ صورت حال بھی کبھی نہیں پائی ہے ‘ جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ کسی جہنمی کو دیکھے اسے اس شخص کو دیکھ لینا چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ ایک روایت میں امام احمد نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک دیہاتی کے پاس سے ہوا اس کی صحت اور جسمانی حالت آپ کو اچھی لگی آپ نے اسے بلوایا ‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

3753

Majma al-Zawaid #3753

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ "" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ "" قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" كُلُّ شَدِيدٍ جَعْظَرِيٍّ هُمُ الَّذِينَ لَا يَأْلَمُونَ رُؤُوسَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ الْغَنَوِيُّ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: هُوَ عِنْدِي أَقْرَبُ إِلَى الصِّدْقِ. قُلْتُ: وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ asked whether he should inform them of the people of Paradise and the people of Hellfire, and when they affirmed, he ﷺ described the people of Paradise as the weak and oppressed, and described the people of Hellfire as every harsh swaggering brute, being those whose heads never ache. > **"Shall I not inform you of the people of Paradise? The weak and oppressed. Shall I not inform you of the people of Hellfire? Every harsh swaggering brute. They are those whose heads never ache."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تم لوگوں کو اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ضعیف اور مظلوم لوگ ( اہل جنت ہیں ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اہل جنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر سخت مزاج سرکش ‘ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں سر میں درد بھی نہیں ہوتا “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی براء بن یزید غنوی ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ میرے نزدیک سچائی سے زیادہ قریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

3754

Majma al-Zawaid #3754

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَتَى عَهْدُكَ بِأُمِّ مِلْدَمٍ؟ "" قَالَ: وَمَا أُمُّ مِلْدَمٍ؟ قَالَ: "" حَرٌّ يَكُونُ بَيْنَ الْجِلْدِ وَالْعَظْمِ يَمُصُّ الدَّمَ وَيَأْكُلُ اللَّحْمَ "" قَالَ: مَا اشْتَكَيْتُ قَطُّ!! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا ""، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَخْرِجُوهُ عَنِّي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ: صَدُوقٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: صَدُوقٌ وَهُوَ مِمَّنْ لَمْ يَتَعَمَّدِ الْكَذِبَ وَلَهُ أَحَادِيثُ صَالِحَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that a Bedouin came to the Prophet ﷺ, who asked him when he last encountered Umm Mildam, described as heat between skin and bone that saps the blood and consumes the flesh, and when the man replied that he had never complained of it at all, the Messenger of Allah ﷺ declared him a man of Hellfire and ordered him removed from his presence. > **"When was your last encounter with Umm Mildam? Whoever wishes to look at a man from the people of Hellfire, let him look at this man. Take him away from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں اُم ملدم آخری مرتبہ کب ہوا تھا ؟ اس نے دریافت کیا : ام ملدم کیا ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک تپش جو جلد اور ہڈیوں کے درمیان ہوتی ہے ‘ اور خون چوس لیتی ہے ‘ اور گوشت کو کھا لیتی ہے اس نے کہا : مجھے یہ بیماری کبھی لاحق نہیں ہوئی نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہو کہ وہ جہنمی کو دیکھے اُسے اس شخص کو دیکھ لینا چاہیے پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے میرے پاس سے لے جاؤ ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے ‘ عمرو بن علی بیان کرتے ہیں : یہ صدوق اور منکر الحدیث ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے یہ ان افراد میں سے ایک ہے ‘ جو جان بوجھ کر غلط بیانی نہیں کرتے ہیں اس کے حوالے سے صالح احادیث منقول ہیں ۔

3755

Majma al-Zawaid #3755

عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا اخْتَلَجَ عِرْقٌ وَلَا عَيْنٌ إِلَّا بِذَنْبٍ، وَمَا يَغْفِرُ اللَّهُ أَكْثَرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ بَهْرَامَ وَهُوَ ثِقَةٌ إِلَّا أَنَّهُ كَانَ مُرْجِئًا.

EnglishUnverified translation

Al-Barā' ibn 'Āzib رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that no vein throbs nor eye suffers except on account of sin, and what Allah forgives is greater. > **"No vein throbs nor eye suffers except on account of sin, and what Allah forgives is greater."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی بھی رگ ‘ یا آنکھ خرابی کا شکار کسی گناہ کی وجہ سے ہی ہوتی ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ جو مغفرت کرتا ہے وہ زیادہ ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی صلت بن بہرام ہے وہ ثقہ ہے ‘ تاہم وہ مرجئی ہے ۔

3756

Majma al-Zawaid #3756

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: إِذَا اشْتَكَى عَبْدِي فَأَظْهَرَ الْمَرَضَ مِنْ قَبْلِ ثَلَاثٍ فَقَدْ شَكَانِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ conveyed that Allah Almighty said that when His servant complains and displays sickness before three days have passed, he has complained of Him. > **"Allah, Mighty and Majestic, said: When My servant complains and displays sickness before three days, then he has complained of Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جب میرا بندہ بیمار ہو ‘ اور تین دن سے پہلے بیماری کا اظہار کر دے تو گویا اس نے مجھ سے شکایت کی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عبداللہ بن عمر عمری ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3757

Majma al-Zawaid #3757

عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: إِنَّ مِمَّا أَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: إِنَّ اللَّهَ لِيَبْتَلِيَ الْعَبْدَ وَهُوَ يُحِبُّ يَسْمَعُ تَضَرُّعَهُ.

EnglishUnverified translation

'Amr ibn Murrah states among what Allah Almighty sent down that Allah tries the servant, while loving him, in order to hear his humble supplication.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نازل کیا تھا ( اس میں ایک بات یہ بھی تھی : ) بے شک اللہ تعالیٰ بندے کو آزمائش کا شکار اس لئے کرتا ہے کیونکہ وہ اس کی گریہ وزاری سننے کو پسند کرتا ہے ‘‘۔

3758

Majma al-Zawaid #3758

وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ مِثْلَهُ. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.

EnglishUnverified translation

Abū Wā'il reports the like from Ibn Mas'ūd رضي الله عنه concerning Allah trying His beloved servant to hear his supplication.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ۔ کہ انہوں نے اس کی مانند بات ارشاد فرمائی ہے ۔ یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالملک ہے ۔ امام ابوحاتم فرماتے ہیں ۔ وہ قوی نہیں ہے ۔

3759

Majma al-Zawaid #3759

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عُودُوا الْمَرْضَى وَمُرُوهُمْ فَلْيَدْعُوَا لَكُمْ فَإِنَّ دَعْوَةَ الْمَرِيضِ مُسْتَجَابَةٌ وَذَنْبَهُ مَغْفُورٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قَيْسٍ الْعُمَرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded visiting the sick and instructing them to supplicate for the visitors, for the supplication of the sick is answered and his sin is forgiven. > **"Visit the sick and command them to supplicate for you, for indeed the supplication of the sick is answered and his sin is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بیماروں کی عیادت کرو اور انہیں یہ ہدایت کرو کہ وہ تمہارے لئے دعا کریں کیونکہ بیمار کی دعا مستجاب ہوتی ہے ‘ اور اس کے گناہ کی بخشش ہو جاتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن قیس عمری ہے ‘ اور وہ متروک الحدیث ہے ۔

3760

Majma al-Zawaid #3760

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يُعَادُ الْمَرِيضُ إِلَّا بَعْدَ ثَلَاثٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَصْرُ بْنُ حَمَّادٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: وَهُوَ مَعَ ضَعْفِهِ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that the sick is not visited except after three days. > **"The sick is not visited except after three days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بیمار کی عیادت تین دن بعد کی جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نصر بن حماد ہے ‘ اور وہ متروک ہے ایک جماعت نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی کہتے ہیں : اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔

3761

Majma al-Zawaid #3761

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا فَقَدَ الرَّجُلَ مِنْ إِخْوَانِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ غَائِبًا دَعَا لَهُ وَإِنْ كَانَ شَاهِدًا زَارَهُ وَإِنْ كَانَ مَرِيضًا عَادَهُ، فَفَقَدَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكْنَاهُ مِثْلَ الْقَرْعِ لَا يَدْخُلُ فِي رَأْسِهِ شَيْءٌ إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" عُودُوا أَخَاكُمْ "" قَالَ فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعُودُهُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ إِذَا هُوَ كَمَا وُصِفَ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيْفَ تَجِدُكَ؟ "" قَالَ: مَا يَدْخُلُ فِي رَأْسِي شَيْءٌ إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِي قَالَ: "" وَمِمَّ ذَاكَ؟ "" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَصَلَّيْتُ مَعَكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: {الْقَارِعَةُ - مَا الْقَارِعَةُ} [القارعة: 1 - 2] إِلَى آخِرِهَا {نَارٌ حَامِيَةٌ} [القارعة: 11] قَالَ: فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ مَا كَانَ مِنْ ذَنْبٍ مُعَذِّبْنِي عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْ لِي عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا، فَنَزَلَ بِي مَا تَرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بِئْسَ مَا قُلْتَ، أَلَا سَأَلَتَ اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَكَ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَيَقِيَكَ عَذَابَ النَّارِ؟ "" قَالَ: فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِذَلِكَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَقَامَ كَأَنَّمَا نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ قَالَ: فَلَمَّا خَرَجْنَا قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَضَضْتَنَا آنِفًا عَلَى عِيَادَةِ الْمَرِيضِ فَمَا لَنَا فِي ذَلِكَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ يَعُودُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ إِلَى حَقْوَيْهِ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ [وَغَمَرَتِ الْمَرِيضَ الرَّحْمَةُ] وَكَانَ الْمَرِيضُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ وَكَانَ الْعَائِدُ فِي ظِلِّ قُدْسِهِ، وَيَقُولُ اللَّهُ لِلْمَلَائِكَةِ: انْظُرُوا كَمِ احْتَسَبُوا عِنْدَ الْمَرِيضِ الْعُوَّادُ؟ قَالَ: تَقُولُ: أَيْ رَبِّ فَوَاقًا - إِنْ كَانَ احْتَبَسُوا فَوَاقًا - فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: اكْتُبُوا لِعَبْدِي [الْعَائِدِ] عِبَادَةَ أَلْفِ سَنَةٍ قِيَامَ لَيْلِهِ وَصِيَامَ نَهَارِهِ، وَأَخْبَرُوهُ أَنِّي لَمْ أَكْتُبْ عَلَيْهِ خَطِيئَةً وَاحِدَةً قَالَ: وَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ: انْظُرُوا كَمِ احْتَسَبُوا؟ قَالَ: يَقُولُونَ: سَاعَةً - إِنْ كَانُوا احْتَسَبُوا سَاعَةً - فَيَقُولُ: اكْتُبُوا لَهُ دَهْرًا وَالدَّهْرُ عَشَرَةُ آلَافِ سَنَةٍ إِنْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَإِنْ عَاشَ لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ وَاحِدَةٌ، وَإِنْ كَانَ صَبَاحًا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ [وَكَانَ فِي خَرَافِ الْجَنَّةِ]، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنَّهُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ لِغَفْلَتِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ, when he missed one of his brothers for three days, would ask about him, supplicating for him if absent, visiting him if present, and visiting his sick if ill, and that he missed an Anṣārī man on the third day and was told he had become like a bare gourd with nothing entering his mouth but exiting from his rear, so the Messenger of Allah ﷺ commanded that the brother be visited, and went out with Abū Bakr and 'Umar رضي الله عنهما among the party to visit him and found him as described. When asked how he found himself and from what this befell him, the man explained that he had passed by the Prophet ﷺ while he recited Sūrah al-Qāri'ah to its end in Maghrib prayer and had supplicated that whatever sin merited punishment in the Hereafter be hastened for him in this world, whereupon the Messenger of Allah ﷺ reproached his words and taught him the supplication for good in this world and the Hereafter and protection from the Fire, then ordered him to supplicate with it and supplicated for him himself, until the man rose as though loosed from bonds. When 'Umar رضي الله عنه then asked about the reward for visiting the sick which he ﷺ had just urged, he ﷺ answered that the Muslim who leaves his house to visit his Muslim brother wades in mercy. > **"How do you find yourself? And from what is that? Evil is what you said. Why did you not ask Allah to give you good in this world and good in the Hereafter and shield you from the punishment of the Fire? Visit your brother. Indeed the Muslim servant, when he leaves his house to visit his Muslim brother, wades in mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ساتھیوں میں سے کسی شخص کو تین دن تک غیر موجود پاتے تھے تو اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے اگر وہ غیر موجود ہوتا تھا ، تو اس کے لئے دعا کر دیتے تھے ‘ اور اگر وہ ( شہر میں ) موجود ہوتا تھا ، تو اس سے ملنے کے لئے جاتے تھے ‘ اور اگر وہ بیمار ہوتا تھا ، تو آپ اس کی عیادت کے لئے جاتے تھے ایک مرتبہ آپ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو تیسرے دن غیر موجود پایا تو اس کے بارے میں دریافت کیا : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہم نے اسے قرع ( بے آب و گیاہ جگہ جہاں نباتات نہیں ہوتی ہیں ) کی مانند پایا ہے کہ اس کے منہ میں جو چیز جاتی ہے ‘ وہ اس کے شرم گاہ سے ( پاخانے کی شکل میں ) نکل جاتی ہے نبی اکرم ﷺ نے اپنے بعض ساتھیوں سے فرمایا تم لوگ اپنے بھائی کی عیادت کرو راوی کہتے ہیں : ہم لوگ اس شخص کی عیادت کرنے کے لئے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے لوگوں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘ جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اس کی وہی حالت تھی جو ہمارے سامنے بیان کی گئی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے عرض کی : میرے سر ( یعنی منہ ) میں جو چیز بھی جاتی ہے وہ میری شرمگاہ سے نکل جاتی ہے ۔ لوگوں نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ میں آپ کے پاس سے گزرا آپ اس وقت مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے میں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ نے اس میں سورة القارعہ کی تلاوت کی ‘ تو میں نے یہ دعا کی : اے اللہ ! میرے جس بھی گناہ کا مجھے آخرت میں عذاب ہونا ہے ‘ تو مجھے اس گناہ کی سزا دنیا میں دے دے تو مجھے اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ‘ جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے بہت غلط بات کہی ہے کیا تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا نہیں مانگ سکتے تھے کہ وہ تمہیں دنیا میں بھلائی عطا کرے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے اور تمہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو ہدایت کی ‘ تو اس شخص نے یہ دعا کی پھر نبی اکرم ﷺ نے بھی اس کے لئے دعا کی راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ شخص یوں کھڑا ہوا جیسے اسے رسیوں سے چھڑا دیا گیا ہو راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم وہاں سے نکلے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں کچھ دیر پہلے بیمار کی عیادت کرنے کی ترغیب دی تھی تو ہمیں اس کا کیا اجر و ثواب حاصل ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی مسلمان شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لئے اپنے گھر سے نکلتا ہے ‘ تو وہ تہبند باندھنے کے مقام تک رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ‘ اور جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے ‘ تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ‘ اور بیمار شخص عرش کے سائے میں ہوتا ہے ‘ اور عیادت کرنے والا اس کی پاکی کے سائے میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ بیمار کے پاس عیادت کرنے والوں نے کتنے ثواب کی امید رکھی تو فرشتہ عرض کرتا ہے میرے پروردگار جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ لیا جاتا ہے خواہ وہ اتنی دیر کے لئے ثواب کی امید رکھے جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ لیا جاتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم میرے عیادت کرنے والے بندے کے لئے ایک ہزار سال کی راتوں کی نوافل اور دن کے نفلی روزوں کی عبادت کا ثواب نوٹ کر لو اور اسے یہ بتا دو کہ میں اس کے خلاف ایک بھی گناہ کو نوٹ نہیں کروں گا ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ انہوں نے کتنے دیر تک ثواب کی امید رکھی نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں فرشتے کہتے ہیں : ایک گھڑی کے لئے ۔ خواہ ایک گھڑی کے لئے انہوں نے ثواب کی امید رکھی ہو ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم اس کے لئے ایک زمانے تک کا ثواب نوٹ کر لو اور ایک زمانہ دس ہزار سال پر مشتمل ہوتا ہے ‘ اور اگر وہ شخص اس سے پہلے انتقال کر گیا تو وہ جنت میں جائے گا ‘ اور اگر وہ زندہ رہا تو اس کے خلاف ایک بھی گناہ کو نوٹ نہیں کیا جائے گا اگر صبح کا وقت ہو ( یعنی جب وہ شخص عیادت کرنے کے لئے گیا تھا ) تو شام ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس شخص کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں اور وہ شخص جنت کے میوے چنتا رہتا ہے ‘ اور اگر ( عیادت کے لئے جانے ) کا شام کا وقت ہو ‘ تو ستر ہزار فرشتے صبح ہونے تک اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں تو وہ شخص ( اس دوران ) جنت کے میوے چنتا رہتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے وہ ایک نیک شخص ہے ، لیکن ضعیف الحدیث ہے ‘ اور اپنی غفلت کی وجہ سے متروک قرار پایا ہے ۔

3762

Majma al-Zawaid #3762

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَفَعَهُ قَالَ: "" «أَعْظَمُ الْعِبَادَةِ أَجْرًا أَخَفُّهَا، وَالتَّعْزِيَةُ مَرَّةً» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: أَحْسَبُ ابْنَ أَبِي فُدَيْكٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ.

EnglishUnverified translation

'Alī ibn 'Umar ibn 'Alī reports from his father from his grandfather, in marfū' form, that the Messenger of Allah ﷺ stated that the greatest in reward among acts of visiting the sick is the lightest of them, and that ta'ziyah is offered once. > **"The greatest in reward among acts of visitation is the lightest of them, and ta'ziyah is once."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن عمر بن علی نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کے حوالے سے ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اجر کے اعتبار سے سب سے بڑی عیادت وہ ہے ‘ جو سب سے مختصر ہو ‘ اور تعزیت ایک مرتبہ کی جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : میرا یہ خیال ہے کہ ابن ابوفدیک نامی راوی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

3763

Majma al-Zawaid #3763

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: عِيَادَةُ الْمَرِيضِ أَوَّلَ يَوْمٍ سُنَّةٌ وَبَعْدَ ذَلِكَ تَطَوُّعٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا إِنَّهُ قَالَ: فَمَا زَادَ فَتَطَوُّعٌ وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَمَا زَادَ فَهِيَ نَافِلَةٌ وَفِي أَحَدِ أَسَانِيدِهِ: عَلِيُّ بْنُ عُرْوَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ مَتْرُوكٌ، وَفِي الْآخَرِ: النَّضْرُ أَبُو عُمَرَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn 'Abbās رضي الله عنهما states that visiting the sick on the first day is Sunnah, and what is beyond that is voluntary and supererogatory.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ پہلے دن بیمار کی عیادت کرنا سنت ہے ‘ اور اس کے بعد نفل ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ۔ ’’ جو اس کے علاوہ ہو وہ نفل ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ جو زیادہ ہو ‘ وہ نفل ہے ‘‘۔ ان کی اسانید میں سے ایک سند میں ایک راوی علی بن عروہ ہے ‘ اور وہ ضعیف اور متروک ہے ‘ اور دوسری سند میں ایک راوی نضر ابوعمر ہے ‘ اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

3764

Majma al-Zawaid #3764

وَعَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: أَتَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ فَقُلْتُ: يَا أَبَا حَمْزَةَ إِنَّ الْمَكَانَ بَعِيدٌ، وَنَحْنُ يُعْجِبُنَا أَنْ نَعُودَكَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَيُّمَا رَجُلٍ يَعُودُ مَرِيضًا فَإِنَّمَا يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ، فَإِذَا قَعَدَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ "" قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِلصَّحِيحِ الَّذِي يَعُودُ الْمَرِيضَ، فَالْمَرِيضُ مَا لَهُ؟ قَالَ: "" تُحَطُّ عَنْهُ ذُنُوبُهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَزَادَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ خَرَجَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ» "" وَأَبُو دَاوُدَ ضَعِيفٌ جِدًّا، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abū Dāwūd reports that he came to Anas ibn Mālik رضي الله عنه and remarked upon the distance and their desire to visit him, whereupon Anas raised his head and narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that whoever visits a sick person wades in mercy and, when he sits with the sick, mercy envelops him, and when asked what belongs to the sick himself, he ﷺ answered that sins are removed from him, and added that when the servant is ill for three days he emerges from his sins as on the day his mother bore him. > **"Whichever man visits a sick person, he wades in mercy, and when he sits with the sick, mercy envelops him. His sins are removed from him. When the servant is ill for three days, he emerges from his sins like the day his mother bore him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بوداؤد بیان کرتے ہیں : میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے عرض کی : اے حضرت ابوحمزہ ! جگہ دور ہے ‘ اور ہمیں یہ بات پسند ہے کہ ہم آپ کی عیادت کے لئے آئیں تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور یہ بات بیان کی میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص کسی بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ رحمت میں غوطہ لگاتا ہے ‘ اور جب وہ بیمار کے پاس بیٹھا ہوا ہوتا ہے ‘ تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے “۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ثواب اس تندرست کو حاصل ہوتا ہے ُ‘ جو بیمار کی عیادت کرتا ہے ‘ تو بیمار کو کیا اجر حاصل ہو گا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے گناہ اس سے دور کر دیے جاتے ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب بیمار شخص تین دن تک بیمار رہے ‘ تو وہ اپنے گناہوں سے یوں نکل جاتا ہے ، جس طرح اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا ‘‘۔ ابوداؤد نامی راوی انتہائی ضعیف ہے ‘ اور طبرانی کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن حکم بن ابان ہے ‘ اور وہ بھی ضعیف ہے ۔

3765

Majma al-Zawaid #3765

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «عَائِدُ الْمَرِيضِ يَخُوضُ فِي الرَّحْمَةِ ""، وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى وِرْكِهِ هَكَذَا مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، "" فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that the visitor of the sick wades in mercy, placing his hand upon his hip to illustrate his coming and going, and that when he sits with him mercy envelops him. > **"The visitor of the sick wades in mercy, and when he sits with him, mercy envelops him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بیمار کی عیادت کرنے والا رحمت میں غوطہ لگاتا ہے نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اپنے پہلو پر رکھا اور پھر ارشاد فرمایا : اس طرح وہ جاتے ہوئے اور واپس آتے ہوئے بھی ( رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ) اور جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے ‘ تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے “۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ مذکور ہے اسے عبیداللہ بن زحر نے علی بن زید سے نقل کیا ہے ‘ اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

3766

Majma al-Zawaid #3766

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ عَادَ مَرِيضًا خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَهُ اسْتَشْفَعَ فِيهَا وَقَدِ اسْتَشْفَعْتُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ فِي الرَّحْمَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ka'b ibn Mālik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stated that whoever visits a sick person wades in mercy, and when he sits with him he intercedes therein, and that they have, Allah willing, interceded in mercy. > **"Whoever visits a sick person wades in mercy, and when he sits with him he intercedes therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ رحمت میں ڈوب جاتا ہے ‘ اور جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے ‘ تو اس سے شفاعت چاہے ‘ اگر اللہ نے چاہا ‘ تو تم رحمت میں شفاعت چاہو گے “۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔