وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا فَقَدَ الرَّجُلَ مِنْ إِخْوَانِهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ سَأَلَ عَنْهُ فَإِنْ كَانَ غَائِبًا دَعَا لَهُ وَإِنْ كَانَ شَاهِدًا زَارَهُ وَإِنْ كَانَ مَرِيضًا عَادَهُ، فَفَقَدَ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ فَسَأَلَ عَنْهُ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ تَرَكْنَاهُ مِثْلَ الْقَرْعِ لَا يَدْخُلُ فِي رَأْسِهِ شَيْءٌ إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" عُودُوا أَخَاكُمْ "" قَالَ فَخَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَعُودُهُ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ إِذَا هُوَ كَمَا وُصِفَ لَنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيْفَ تَجِدُكَ؟ "" قَالَ: مَا يَدْخُلُ فِي رَأْسِي شَيْءٌ إِلَّا خَرَجَ مِنْ دُبُرِي قَالَ: "" وَمِمَّ ذَاكَ؟ "" قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَرَرْتُ بِكَ وَأَنْتَ تُصَلِّي الْمَغْرِبَ فَصَلَّيْتُ مَعَكَ وَأَنْتَ تَقْرَأُ هَذِهِ السُّورَةَ: {الْقَارِعَةُ - مَا الْقَارِعَةُ} [القارعة: 1 - 2] إِلَى آخِرِهَا {نَارٌ حَامِيَةٌ} [القارعة: 11] قَالَ: فَقُلْتُ: اللَّهُمَّ مَا كَانَ مِنْ ذَنْبٍ مُعَذِّبْنِي عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ فَعَجِّلْ لِي عُقُوبَتَهُ فِي الدُّنْيَا، فَنَزَلَ بِي مَا تَرَى فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بِئْسَ مَا قُلْتَ، أَلَا سَأَلَتَ اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَكَ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَيَقِيَكَ عَذَابَ النَّارِ؟ "" قَالَ: فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَعَا بِذَلِكَ وَدَعَا لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَقَامَ كَأَنَّمَا نَشِطَ مِنْ عِقَالٍ قَالَ: فَلَمَّا خَرَجْنَا قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَضَضْتَنَا آنِفًا عَلَى عِيَادَةِ الْمَرِيضِ فَمَا لَنَا فِي ذَلِكَ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الْمَرْءَ الْمُسْلِمَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ يَعُودُ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ خَاضَ فِي الرَّحْمَةِ إِلَى حَقْوَيْهِ، فَإِذَا جَلَسَ عِنْدَ الْمَرِيضِ غَمَرَتْهُ الرَّحْمَةُ [وَغَمَرَتِ الْمَرِيضَ الرَّحْمَةُ] وَكَانَ الْمَرِيضُ فِي ظِلِّ عَرْشِهِ وَكَانَ الْعَائِدُ فِي ظِلِّ قُدْسِهِ، وَيَقُولُ اللَّهُ لِلْمَلَائِكَةِ: انْظُرُوا كَمِ احْتَسَبُوا عِنْدَ الْمَرِيضِ الْعُوَّادُ؟ قَالَ: تَقُولُ: أَيْ رَبِّ فَوَاقًا - إِنْ كَانَ احْتَبَسُوا فَوَاقًا - فَيَقُولُ اللَّهُ لِمَلَائِكَتِهِ: اكْتُبُوا لِعَبْدِي [الْعَائِدِ] عِبَادَةَ أَلْفِ سَنَةٍ قِيَامَ لَيْلِهِ وَصِيَامَ نَهَارِهِ، وَأَخْبَرُوهُ أَنِّي لَمْ أَكْتُبْ عَلَيْهِ خَطِيئَةً وَاحِدَةً قَالَ: وَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ: انْظُرُوا كَمِ احْتَسَبُوا؟ قَالَ: يَقُولُونَ: سَاعَةً - إِنْ كَانُوا احْتَسَبُوا سَاعَةً - فَيَقُولُ: اكْتُبُوا لَهُ دَهْرًا وَالدَّهْرُ عَشَرَةُ آلَافِ سَنَةٍ إِنْ مَاتَ قَبْلَ ذَلِكَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَإِنْ عَاشَ لَمْ يُكْتَبْ عَلَيْهِ خَطِيئَةٌ وَاحِدَةٌ، وَإِنْ كَانَ صَبَاحًا صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُمْسِيَ [وَكَانَ فِي خَرَافِ الْجَنَّةِ]، وَإِنْ كَانَ مَسَاءً صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ حَتَّى يُصْبِحَ، وَكَانَ فِي خِرَافِ الْجَنَّةِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا وَلَكِنَّهُ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ مَتْرُوكٌ لِغَفْلَتِهِ.
EnglishUnverified translation
Anas ibn Mālik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ, when he missed one of his brothers for three days, would ask about him, supplicating for him if absent, visiting him if present, and visiting his sick if ill, and that he missed an Anṣārī man on the third day and was told he had become like a bare gourd with nothing entering his mouth but exiting from his rear, so the Messenger of Allah ﷺ commanded that the brother be visited, and went out with Abū Bakr and 'Umar رضي الله عنهما among the party to visit him and found him as described. When asked how he found himself and from what this befell him, the man explained that he had passed by the Prophet ﷺ while he recited Sūrah al-Qāri'ah to its end in Maghrib prayer and had supplicated that whatever sin merited punishment in the Hereafter be hastened for him in this world, whereupon the Messenger of Allah ﷺ reproached his words and taught him the supplication for good in this world and the Hereafter and protection from the Fire, then ordered him to supplicate with it and supplicated for him himself, until the man rose as though loosed from bonds. When 'Umar رضي الله عنه then asked about the reward for visiting the sick which he ﷺ had just urged, he ﷺ answered that the Muslim who leaves his house to visit his Muslim brother wades in mercy. > **"How do you find yourself? And from what is that? Evil is what you said. Why did you not ask Allah to give you good in this world and good in the Hereafter and shield you from the punishment of the Fire? Visit your brother. Indeed the Muslim servant, when he leaves his house to visit his Muslim brother, wades in mercy."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ساتھیوں میں سے کسی شخص کو تین دن تک غیر موجود پاتے تھے تو اس کے بارے میں دریافت کرتے تھے اگر وہ غیر موجود ہوتا تھا ، تو اس کے لئے دعا کر دیتے تھے ‘ اور اگر وہ ( شہر میں ) موجود ہوتا تھا ، تو اس سے ملنے کے لئے جاتے تھے ‘ اور اگر وہ بیمار ہوتا تھا ، تو آپ اس کی عیادت کے لئے جاتے تھے ایک مرتبہ آپ نے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو تیسرے دن غیر موجود پایا تو اس کے بارے میں دریافت کیا : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہم نے اسے قرع ( بے آب و گیاہ جگہ جہاں نباتات نہیں ہوتی ہیں ) کی مانند پایا ہے کہ اس کے منہ میں جو چیز جاتی ہے ‘ وہ اس کے شرم گاہ سے ( پاخانے کی شکل میں ) نکل جاتی ہے نبی اکرم ﷺ نے اپنے بعض ساتھیوں سے فرمایا تم لوگ اپنے بھائی کی عیادت کرو راوی کہتے ہیں : ہم لوگ اس شخص کی عیادت کرنے کے لئے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ روانہ ہوئے لوگوں میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی تھے ‘ جب ہم اس کے پاس پہنچے تو اس کی وہی حالت تھی جو ہمارے سامنے بیان کی گئی تھی ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے عرض کی : میرے سر ( یعنی منہ ) میں جو چیز بھی جاتی ہے وہ میری شرمگاہ سے نکل جاتی ہے ۔ لوگوں نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک مرتبہ میں آپ کے پاس سے گزرا آپ اس وقت مغرب کی نماز پڑھا رہے تھے میں نے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کی آپ نے اس میں سورة القارعہ کی تلاوت کی ‘ تو میں نے یہ دعا کی : اے اللہ ! میرے جس بھی گناہ کا مجھے آخرت میں عذاب ہونا ہے ‘ تو مجھے اس گناہ کی سزا دنیا میں دے دے تو مجھے اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ‘ جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے بہت غلط بات کہی ہے کیا تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا نہیں مانگ سکتے تھے کہ وہ تمہیں دنیا میں بھلائی عطا کرے اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کرے اور تمہیں جہنم کے عذاب سے بچا لے ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو ہدایت کی ‘ تو اس شخص نے یہ دعا کی پھر نبی اکرم ﷺ نے بھی اس کے لئے دعا کی راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ شخص یوں کھڑا ہوا جیسے اسے رسیوں سے چھڑا دیا گیا ہو راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم وہاں سے نکلے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ہمیں کچھ دیر پہلے بیمار کی عیادت کرنے کی ترغیب دی تھی تو ہمیں اس کا کیا اجر و ثواب حاصل ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی مسلمان شخص اپنے مسلمان بھائی کی عیادت کے لئے اپنے گھر سے نکلتا ہے ‘ تو وہ تہبند باندھنے کے مقام تک رحمت میں ڈوبا رہتا ہے ‘ اور جب وہ بیمار کے پاس بیٹھتا ہے ‘ تو رحمت اسے ڈھانپ لیتی ہے ‘ اور بیمار شخص عرش کے سائے میں ہوتا ہے ‘ اور عیادت کرنے والا اس کی پاکی کے سائے میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ بیمار کے پاس عیادت کرنے والوں نے کتنے ثواب کی امید رکھی تو فرشتہ عرض کرتا ہے میرے پروردگار جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ لیا جاتا ہے خواہ وہ اتنی دیر کے لئے ثواب کی امید رکھے جتنی دیر میں اونٹنی کا دودھ لیا جاتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے تم میرے عیادت کرنے والے بندے کے لئے ایک ہزار سال کی راتوں کی نوافل اور دن کے نفلی روزوں کی عبادت کا ثواب نوٹ کر لو اور اسے یہ بتا دو کہ میں اس کے خلاف ایک بھی گناہ کو نوٹ نہیں کروں گا ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرماتا ہے : تم لوگ اس بات کا جائزہ لو کہ انہوں نے کتنے دیر تک ثواب کی امید رکھی نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں فرشتے کہتے ہیں : ایک گھڑی کے لئے ۔ خواہ ایک گھڑی کے لئے انہوں نے ثواب کی امید رکھی ہو ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : تم اس کے لئے ایک زمانے تک کا ثواب نوٹ کر لو اور ایک زمانہ دس ہزار سال پر مشتمل ہوتا ہے ‘ اور اگر وہ شخص اس سے پہلے انتقال کر گیا تو وہ جنت میں جائے گا ‘ اور اگر وہ زندہ رہا تو اس کے خلاف ایک بھی گناہ کو نوٹ نہیں کیا جائے گا اگر صبح کا وقت ہو ( یعنی جب وہ شخص عیادت کرنے کے لئے گیا تھا ) تو شام ہونے تک ستر ہزار فرشتے اس شخص کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں اور وہ شخص جنت کے میوے چنتا رہتا ہے ‘ اور اگر ( عیادت کے لئے جانے ) کا شام کا وقت ہو ‘ تو ستر ہزار فرشتے صبح ہونے تک اس کے لئے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں تو وہ شخص ( اس دوران ) جنت کے میوے چنتا رہتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ہے وہ ایک نیک شخص ہے ، لیکن ضعیف الحدیث ہے ‘ اور اپنی غفلت کی وجہ سے متروک قرار پایا ہے ۔