وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: «خَرَجَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَجِدْهُ فَطَلَبَهُ فِي بُيُوتِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ، فَاتَّبَعَهُ فِي سِكَّةٍ سِكَّةٍ حَتَّى دُلَّ عَلَيْهِ فِي جَبَلِ ثَوَابٍ فَخَرَجَ حَتَّى رَقِيَ جَبَلَ ثَوَابٍ فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا فَبَصَرَ بِهِ فِي الْكَهْفِ الَّذِي اتَّخَذَ النَّاسُ إِلَيْهِ طَرِيقًا إِلَى مَسْجِدِ الْفَتْحِ قَالَ مُعَاذٌ: فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى أَسَأْتُ بِهِ الظَّنَّ فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ قُبِضَتْ رُوحُهُ فَقَالَ: "" جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِهَذَا الْمَوْضِعِ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: مَا تُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ إِلَيَّ فَقَالَ: إِنَّهُ يَقُولُ لَكَ: لَا أَسُوؤُكَ فِي أُمَّتِكَ فَسَجَدْتُ فَأَفْضَلُ مَا تُقُرِّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - السُّجُودُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ مَوْلَى بَنِي مُزَيْنَةَ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ.
EnglishUnverified translation
Abu Qatadah رضي الله عنه reported that Muadh ibn Jabal رضي الله عنه went out seeking the Messenger of Allah ﷺ but did not find him, so he searched for him in his houses and did not find him, then followed street after street until he was directed to him at Mount Thawr. He ascended it, looked right and left, and saw him in the cave toward which people had made a path to the Mosque of al-Fath. Muadh found him prostrating, and he did not raise his head until Muadh thought ill of the matter and supposed his soul had been taken. When the Prophet ﷺ raised his head, Muadh expressed his fear, and the Prophet ﷺ explained the two visits of Jibril عليه السلام at that place, the greeting and question conveyed from Allah concerning his ummah, and his prostration because of the excellence of prostration as a means of nearness. > **"Jibril came to me in this place and said: Indeed Allah, Blessed and Exalted, conveys salam to you and says to you: What do you wish that I do with your ummah? I said: Allah knows best. He went away, then came back to me and said: He says to you: I will not displease you concerning your ummah. So I prostrated, and the most excellent thing by which nearness is sought to Allah, Mighty and Majestic, is prostration."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی تلاش میں نکلے ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو نہیں پایا انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے گھروں میں تلاش کیا ، تو نہیں پایا وہ ایک ایک گلی سے گزرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کو تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ جبل ثواب کے پاس ان کو نبی اکرم ﷺ کے بارے میں پتہ چلا تو وہ جبل ثواب پر چڑھ گئے انہوں نے دائیں بائیں دیکھا تو ان کی نظر ایک غار پر پڑی کہ جسے لوگ مسجد فتح کے راستے کے طور پر استعمال کرتے تھے ‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سجدے کی حالت میں تھے میں پہاڑ کے سرے سے نیچے اتر آیا ، لیکن آپ سجدے کی حالت میں ہی رہے آپ نے اپنا سر نہیں اٹھایا یہاں تک کہ میں نے آپ کے بارے میں براگمان کیا میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کی روح قبض ہو گئی ہے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے سر اٹھا لیا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کے بارے میں برا گمان کیا تھا ۔ میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کی روح قبض ہو گئی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے پاس اس مقام پر آئے اور انہوں نے یہ بتایا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا ہے ‘ اور آپ سے یہ فرمایا ہے کہ تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کی : اللہ بہتر جانتا ہے وہ چلے گئے پھر وہ میرے پاس آئے اور بولے : پروردگار آپ سے یہ فرما رہا ہے : میں تمہاری اُمت کے بارے میں تمہیں ناگواری کا شکار نہیں کروں گا ‘ تو میں سجدے میں چلا گیا کیونکہ سب سے زیادہ فضیلت والی وہ چیز ‘ جس کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے ‘ وہ سجدہ کرنا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم مدنی ہے ‘ جو بنو مرینہ کا غلام ہے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔