Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 6 · Chapter 3

Book of Voluntary Prayers

Hadith 3709–3726

18 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3709

Majma al-Zawaid #3709

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ قَرَأَ الْأَعْرَافَ وَالنَّجْمَ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ فَإِنْ شَاءَ رَكَعَ بِهَا وَقَدْ أَجَزَأَ عَنْهُ، وَإِنْ شَاءَ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ السُّورَةَ وَسَجَدَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه gave a ruling concerning one who recites Surah al-Araf, Surah al-Najm, and Surah Iqra Bismi Rabbik alladhi Khalaq, explaining the sufficiency of bowing and the manner of prostrating and then continuing. > **"Whoever recites al-Araf, al-Najm, and Iqra Bismi Rabbik alladhi Khalaq, then if he wishes he may bow with it and it will suffice him, and if he wishes he may prostrate, then stand, recite the surah, and prostrate."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو شخص سورت اعراف سورت «نجم» اور سورت «اقرا باسم ربک الذی خلق» پڑھتا ہے ‘ تو اگر وہ چاہے ‘ تو اس کی ( آیت سجدہ تلاوت کرنے کے بعد ) رکوع میں چلا جائے تو یہ اس کی طرف سے کفایت کر جائے گا ‘ اور اگر وہ چاہے ‘ تو سجدہ کر لے پھر وہ کھڑا ہو کر کوئی اور سورت پڑھے پھر رکوع کرے اور سجدے میں جائے ۔

3710

Majma al-Zawaid #3710

وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: مَنْ قَرَأَ سُورَةَ الْأَعْرَافِ أَوِ النَّجْمِ أَوِ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ أَوْ إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ أَوْ بَنِي إِسْرَائِيلَ فَشَاءَ أَنْ يَرْكَعَ بِآخِرِهِنَّ رَكَعَ أَجَزَأَهُ سُجُودُ الرُّكُوعِ، وَإِنْ سَجَدَ فَلْيُضِفْ إِلَيْهَا سُورَةً أُخْرَى. رَوَاهُمَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّهُمَا مُنْقَطِعَانِ بَيْنَ إِبْرَاهِيمَ وَابْنِ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه gave a ruling concerning one who recites Surah al-Araf, al-Najm, Iqra Bismi Rabbik, Idha al-Sama unshaqqat, or Bani Israil, explaining when bowing at the end suffices and what one who prostrates should then recite. > **"Whoever recites Surah al-Araf, or al-Najm, or Iqra Bismi Rabbik, or Idha al-Sama unshaqqat, or Bani Israil, then if he wishes to bow at the end of them, let him bow; the bowing suffices him for the prostration. And if he prostrates, let him add another surah to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ روایت بھی منقول ہے : وہ فرماتے ہیں ، جو شخص سورت اعراف یا سورت «نجم» یا سورت «اقرا باسم ربک الذی خلق» یا سورت «انشقاق» یا سورت بنی اسرائیل پڑھتا ہے ‘ تو اگر وہ چاہے ‘ تو اس کے آخر میں رکوع میں چلا جائے تو یہ اس کے لئے کفایت کر جائے گا کہ وہ سجدے کی جگہ رکوع میں چلا جائے اور اگر وہ سجدہ کر لے تو پھر وہ اس کے ساتھ دوسری سورت ملا لے یہ دونوں روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں تاہم ابراہیم نامی راوی اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے درمیان ان کی سند منقطع ہے ۔

3711

Majma al-Zawaid #3711

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ آخِرَ السُّورَةِ فَارْكَعْ إِنْ شِئْتَ أَوِ اسْجُدْ فَإِنَّ السَّجْدَةَ مَعَ الرَّكْعَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه gave a ruling concerning the prostration that occurs at the end of a surah, allowing either bowing or prostrating. > **"When the prostration is at the end of the surah, then bow if you wish, or prostrate, for indeed the prostration is with the bowing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب سجدہ سورت کے آخر میں ہو ‘ تو اگر تم چاہو تو رکوع میں چلے جاؤ اور اگر چاہو تو سجدے میں چلے جاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3712

Majma al-Zawaid #3712

وَمِنْهُ أَيْضًا قَالَ: «إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ آخِرَ السُّورَةِ فَارْكَعْ إِنْ شِئْتَ أَوِ اسْجُدْ فَإِنَّ السَّجْدَةَ مَعَ الرَّكْعَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه likewise gave a ruling concerning the prostration at the end of a surah and its conjunction with the bowing. > **"When the prostration is at the end of the surah, then bow if you wish, or prostrate, for indeed the prostration is with the bowing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات بھی منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : جب سجدہ سورت کے آخر میں ہو ‘ تو اگر تم چاہو تو رکوع میں چلے جاؤ یا پھر سجدے میں چلے جاؤ سجدہ رکوع کے ساتھ ہی ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3713

Majma al-Zawaid #3713

عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ: كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ وَهُوَ يَمْشِي فَإِذَا مَرَرْنَا بِسَجْدَةٍ كَبَّرَ وَكَبَّرْنَا وَسَجَدَ وَسَجَدْنَا ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيُكَبِّرُ وَيَقُولُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ فَنَقُولُ: عَلَيْكُمُ السَّلَامُ. وَزَعَمَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ كَانَ يَفْعَلُ ذَلِكَ بِهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ فِيهِ كَلَامٌ لِاخْتِلَاطِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ata ibn al-Saib said that they used to recite before Abu Abd al-Rahman al-Sulami while he was walking, and that when they passed a verse of prostration, he would pronounce the takbir and they would pronounce it with him, and he would prostrate and they would prostrate with him. He would then raise his head with takbir and greet them with peace, and they would return the greeting to him. Abu Abd al-Rahman held that Abdullah رضي الله عنه used to do the same with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن سائب بیان کرتے ہیں : ہم عبدالرحمن سلمی کے سامنے تلاوت کیا کرتے تھے وہ اس وقت چل رہے ہوتے تھے ‘ جب ہم آیت سجدہ تلاوت کرتے تھے تو وہ بھی تکبیر کہتے تھے ‘ اور ہم بھی تکبیر کہتے تھے ‘ اور وہ بھی اشارے کے ذریعے سجدہ کر لیتے تھے ‘ اور ہم بھی اشارے کے ذریعے سجدہ کر لیتے تھے ‘ اور پھر وہ اپنا سر اٹھاتے ہوئے تکبیر کہتے تھے ‘ اور یہ کہتے تھے «السلام علیکم» تو ہم بھی یہ کہتے تھے «علیکم السلام» ابوعبدالرحمن کا یہ بیان کرنا ہے : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ان لوگوں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ عطاء بن سائب نامی راوی کے اس کے اختلاط کا شکار ہونے کی وجہ سے کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3714

Majma al-Zawaid #3714

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَوَجَّهَ نَحْوَ مَشْرَبَتِهِ فَدَخَلَ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ فَخَرَّ سَاجِدًا فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّ اللَّهَ قَبَضَ نَفْسَهُ فِيهَا، فَدَنَوْتُ مِنْهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: "" مَنْ هَذَا؟ "" قُلْتُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ: "" مَا شَأْنُكَ؟ "" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ سَجَدْتَ سَجْدَةً خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ اللَّهُ قَدْ قَبَضَ نَفْسَكَ فِيهَا قَالَ: "" إِنَّ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَانِي فَبَشَّرَنِي فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ صَلَّيْتُ عَلَيْهِ وَمَنْ سَلَّمَ عَلَيْكَ سَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَسَجَدْتُ لِلَّهِ شُكْرًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Awf رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ went out and turned toward his upper chamber, then entered it and faced the qiblah and fell into prostration. He prolonged the prostration until Abd al-Rahman thought that Allah had taken his soul in it, so he drew near to him, whereupon the Prophet ﷺ raised his head and asked who was there and what his matter was. Abd al-Rahman replied that he had feared the soul of the Messenger ﷺ had been taken in that prostration. The Prophet ﷺ then explained the glad tidings brought by Jibril عليه السلام concerning divine mercy and peace for those who invoke salah and salam upon him, and the reason for his prostration in gratitude to Allah. > **"Jibril came to me and gave me glad tidings, saying: Indeed Allah, Mighty and Majestic, says: Whoever sends salah upon you, I shall send salah upon him, and whoever sends salam upon you, I shall send salam upon him. So I prostrated to Allah in gratitude."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ باہر نکلے آپ کا رخ اپنے بالا خانے کی طرف تھا آپ اس میں گئے آپ نے قبلہ کی طرف رخ کیا ‘ اور سجدے میں چلے گئے آپ نے طویل سجدہ کیا یہاں تک کہ میں نے یہ گمان کیا کہ اللہ تعالی نے سجدے کے دوران آپ کی جان کو قبض کر لیا ہے میں آپ کے قریب آیا تو آپ نے اپنا سر اٹھایا آپ نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے عرض کی : عبدالرحمن آپ نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا سجدہ کیا ہے کہ میں اس اندیشے کا شکار ہو گیا کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے اس سجدے کے دوران آپ کی جان کو قبض نہ کر لیا ہو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی اور بتایا : اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : جو شخص آپ پر درود بھیجے گا میں اس پر رحمت نازل کروں گا ‘ اور جو شخص آپ پر سلام بھیجے گا میں اس پر سلامتی نازل کروں گا ، تو میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے یہ سجدہ کیا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3715

Majma al-Zawaid #3715

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: «غَابَ عَنَّا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَخْرُجْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ لَنْ يَخْرُجَ فَلَمَّا خَرَجَ سَجَدَ سَجْدَةً فَظَنَنَّا أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيهَا فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: "" إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - اسْتَشَارَنِي فِي أُمَّتِي مَاذَا أَفْعَلُ بِهِمْ؟ فَقُلْتُ: مَا شِئْتَ أَيْ رَبِّ هُمْ خَلْقُكَ وَعِبَادُكَ فَاسْتَشَارَنِي الثَّانِيَةَ فَقُلْتُ لَهُ كَذَلِكَ، فَقَالَ: لَا أُحْزِنُكَ فِي أُمَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ» فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قُلْتُ: وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ إِمَّا فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ أَوْ فِي الْمَنَاقِبِ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah ibn al-Yaman رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ was absent from them and did not come out until they thought he would not come out. When he did come out, he fell into a prostration so long that they thought his soul had been taken in it. When he raised his head, he described how his Lord had consulted him concerning his ummah and what He would do with them, how he had twice entrusted the matter to his Lord as His creation and servants, and how his Lord had then reassured him concerning his ummah. The compiler noted that the full narration will come, God willing, in the signs of prophethood or in the virtues of the ummah. > **"Indeed my Lord, Mighty and Majestic, consulted me concerning my ummah, asking what He should do with them. I said: Whatever You will, my Lord; they are Your creation and Your servants. He consulted me a second time and I said the same to Him. He said: I will not grieve you concerning your ummah, O Muhammad."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہم سے اوجھل ہو گئے آپ تشریف نہیں لائے یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ تشریف نہیں لائیں گے پھر آپ تشریف لائے اور سجدے میں چلے گئے ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید اس سجدے کے دوران آپ کی روح قبض ہو گئی ہے ‘ جب آپ نے سر اٹھایا تو آپ نے فرمایا : میرے پروردگار نے میری امت کے بارے میں مجھ سے مشورہ لیا کہ میں ان کے ساتھ کیا کروں ؟ تو میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو جو چاہے وہ کر ! وہ تیری مخلوق ہیں ‘ اور تیرے بندے ہیں پروردگار نے دوسری مرتبہ مجھ سے مشورہ لیا تو میں نے پھر اسی طرح کہ دیا پروردگار نے فرمایا : اے محمد ! امیں تمہیں تمہاری امت کے بارے میں غمگین نہیں کروں گا “۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اگر اللہ نے چاہا تو یہ روایت مکمل طور پر آگے آئے گی جو یا تو نبوت کی علامات سے متعلق باب میں آئے گی یا امت کی فضیلت سے متعلق باب میں کتاب المناقب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3716

Majma al-Zawaid #3716

وَعَنْ جَابِرٍ رَفَعَهُ قَالَ: "" مَرَّ رَجُلٌ بِجُمْجُمَةِ إِنْسَانٍ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ فَخَرَّ سَاجِدًا فَقِيلَ لَهُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ فَأَنْتَ أَنْتَ وَأَنَا أَنَا "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reported in marfu form from the Prophet ﷺ an account of a man who passed by the skull of a human being and reflected within himself, then fell prostrate, whereupon a voice addressed him distinguishing his station from that of his Lord. > **"A man passed by the skull of a human being and spoke to himself, then fell prostrate. It was said to him: Raise your head, for you are you and I am I."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ ایک مرتبہ ایک شخص ‘ ایک انسان کی کھوپڑی کے پاس سے گزرا ‘ اس کے ذہن میں کچھ خیال آیا تو وہ سجدے میں گر گیا ‘ اس سے کہا گیا : تم اپنا سر اٹھاؤ ! تم ‘ تم ہو ‘ اور میں ، میں ہوں “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3717

Majma al-Zawaid #3717

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا يَتْبَعُهُ فَفَزِعَ عُمَرُ فَأَتَاهُ بِظَهْرَةٍ مِنْ جِلْدٍ فَوَجَدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدًا فِي مَشْرَبَتِهِ فَتَنَحَّى عَنْهُ مِنْ خَلْفِهِ حَتَّى رَفَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فَقَالَ: "" أَحْسَنْتَ يَا عُمَرُ حِينَ وَجَدَتْنِي سَاجِدًا فَتَنَحَّيْتَ عَنِّي، إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَتَانِي فَقَالَ: مَنْ صَلَّى عَلَيْكَ مِنْ أُمَّتِكَ وَاحِدَةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا وَرَفَعَهُ بِهَا عَشْرَ دَرَجَاتٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ بَحِيرٍ الْمِصْرِيِّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ.

EnglishUnverified translation

Umar ibn al-Khattab رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ went out and found no one following him, so Umar became alarmed and came with a water-skin of leather, and found the Prophet ﷺ prostrating in his upper chamber. Umar withdrew behind him until the Prophet ﷺ raised his head, commended him for withdrawing upon finding him in prostration, and informed him of what Jibril عليه السلام had brought concerning the tenfold reward for sending salah upon him. > **"You did well, O Umar, when you found me prostrating and withdrew from me. Indeed Jibril came to me and said: Whoever from your ummah sends one salah upon you, Allah will send ten upon him and raise him ten degrees thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے آپ نے کسی شخص کو نہیں پایا جو آپ کے پیچھے جاتا حضرت عمر رضی اللہ عنہ گھبرا گئے وہ چھڑے کا ڈول لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ، تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے بالا خانے میں سجدے کے حالت میں دیکھا وہ ایک طرف ہٹ کر نبی اکرم ﷺ کے پیچھے بیٹھ گئے یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے سر اٹھایا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! تم نے اچھا کیا جب تم نے مجھے سجدے کی حالت میں پایا تو مجھ سے پرے ہو کر بیٹھ گئے جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے یہ بتایا : آپ کی امت کا جو شخص آپ پر ایک مرتبہ درود بھیجے گا ، تو اللہ تعالٰی اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرے گا ‘ اور اس درود کی وجہ سے اس شخص کے دس درجات بلند کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد محمد بن عبدالرحیم بن بحیر مصری کا معاملہ مختلف ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

3718

Majma al-Zawaid #3718

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: «خَرَجَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ يَطْلُبُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَجِدْهُ فَطَلَبَهُ فِي بُيُوتِهِ فَلَمْ يَجِدْهُ، فَاتَّبَعَهُ فِي سِكَّةٍ سِكَّةٍ حَتَّى دُلَّ عَلَيْهِ فِي جَبَلِ ثَوَابٍ فَخَرَجَ حَتَّى رَقِيَ جَبَلَ ثَوَابٍ فَنَظَرَ يَمِينًا وَشِمَالًا فَبَصَرَ بِهِ فِي الْكَهْفِ الَّذِي اتَّخَذَ النَّاسُ إِلَيْهِ طَرِيقًا إِلَى مَسْجِدِ الْفَتْحِ قَالَ مُعَاذٌ: فَإِذَا هُوَ سَاجِدٌ فَلَمْ يَرْفَعْ رَأْسَهُ حَتَّى أَسَأْتُ بِهِ الظَّنَّ فَظَنَنْتُ أَنْ قَدْ قُبِضَتْ رُوحُهُ فَقَالَ: "" جَاءَ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِهَذَا الْمَوْضِعِ فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يُقْرِئُكَ السَّلَامَ وَيَقُولُ لَكَ: مَا تُحِبُّ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ إِلَيَّ فَقَالَ: إِنَّهُ يَقُولُ لَكَ: لَا أَسُوؤُكَ فِي أُمَّتِكَ فَسَجَدْتُ فَأَفْضَلُ مَا تُقُرِّبَ بِهِ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - السُّجُودُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَدَنِيُّ مَوْلَى بَنِي مُزَيْنَةَ وَضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah رضي الله عنه reported that Muadh ibn Jabal رضي الله عنه went out seeking the Messenger of Allah ﷺ but did not find him, so he searched for him in his houses and did not find him, then followed street after street until he was directed to him at Mount Thawr. He ascended it, looked right and left, and saw him in the cave toward which people had made a path to the Mosque of al-Fath. Muadh found him prostrating, and he did not raise his head until Muadh thought ill of the matter and supposed his soul had been taken. When the Prophet ﷺ raised his head, Muadh expressed his fear, and the Prophet ﷺ explained the two visits of Jibril عليه السلام at that place, the greeting and question conveyed from Allah concerning his ummah, and his prostration because of the excellence of prostration as a means of nearness. > **"Jibril came to me in this place and said: Indeed Allah, Blessed and Exalted, conveys salam to you and says to you: What do you wish that I do with your ummah? I said: Allah knows best. He went away, then came back to me and said: He says to you: I will not displease you concerning your ummah. So I prostrated, and the most excellent thing by which nearness is sought to Allah, Mighty and Majestic, is prostration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی تلاش میں نکلے ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو نہیں پایا انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کے گھروں میں تلاش کیا ، تو نہیں پایا وہ ایک ایک گلی سے گزرتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کو تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ جبل ثواب کے پاس ان کو نبی اکرم ﷺ کے بارے میں پتہ چلا تو وہ جبل ثواب پر چڑھ گئے انہوں نے دائیں بائیں دیکھا تو ان کی نظر ایک غار پر پڑی کہ جسے لوگ مسجد فتح کے راستے کے طور پر استعمال کرتے تھے ‘ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سجدے کی حالت میں تھے میں پہاڑ کے سرے سے نیچے اتر آیا ، لیکن آپ سجدے کی حالت میں ہی رہے آپ نے اپنا سر نہیں اٹھایا یہاں تک کہ میں نے آپ کے بارے میں براگمان کیا میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کی روح قبض ہو گئی ہے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے سر اٹھا لیا تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کے بارے میں برا گمان کیا تھا ۔ میں نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کی روح قبض ہو گئی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جبرائیل میرے پاس اس مقام پر آئے اور انہوں نے یہ بتایا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام کہا ہے ‘ اور آپ سے یہ فرمایا ہے کہ تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کی : اللہ بہتر جانتا ہے وہ چلے گئے پھر وہ میرے پاس آئے اور بولے : پروردگار آپ سے یہ فرما رہا ہے : میں تمہاری اُمت کے بارے میں تمہیں ناگواری کا شکار نہیں کروں گا ‘ تو میں سجدے میں چلا گیا کیونکہ سب سے زیادہ فضیلت والی وہ چیز ‘ جس کے ذریعے بندہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے ‘ وہ سجدہ کرنا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم مدنی ہے ‘ جو بنو مرینہ کا غلام ہے ابوزرعہ اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

3719

Majma al-Zawaid #3719

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: «أَقْبَلْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يُصَلِّي فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا حَتَّى أَصْبَحَ فَسَجَدَ سَجْدَةً ظَنَنْتُ أَنَّ نَفْسَهُ قَدْ قُبِضَتْ فِيهَا قَالَ: "" تَدْرِي لِمَ ذَاكَ؟ "" قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ فَأَعَادَهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَقَالَ: "" إِنِّي صَلَّيْتُ مَا كَتَبَ لِي رَبِّي وَأَتَانِي رَبِّي فَقَالَ لِي فِي آخِرِهَا: مَا أَفْعَلُ بِأُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: أَيْ رَبِّ أَنْتَ أَعْلَمُ فَأَعَادَهَا عَلَيَّ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا فَقَالَ لِي فِي آخِرِهَا: مَا أَفْعَلُ بِأُمَّتِكَ؟ قُلْتُ: أَنْتَ أَعْلَمُ يَا رَبِّ قَالَ: إِنِّي لَا أُحْزِنُكَ فِي أُمَّتِكَ، فَسَجَدْتُ لِرَبِّي وَرَبِّي شَاكِرٌ يُحِبُّ الشَّاكِرِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ عُثْمَانَ السَّكْسَكِيِّ عَنْ مُعَاذٍ وَلَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا فَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي أَتْبَاعِ التَّابِعِينَ وَهُوَ مِنْ طَرِيقِ بَقِيَّةَ وَقَدْ عَنْعَنَهُ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal رضي الله عنه reported that he came to the Messenger of Allah ﷺ while he was standing in prayer, and he remained standing until morning, then fell into a prostration so long that Muadh thought his soul had been taken in it. The Prophet ﷺ asked him whether he knew the reason for it, and when Muadh entrusted knowledge to Allah and His Messenger, the Prophet ﷺ repeated the question three or four times, then described the prayer his Lord had decreed for him, the repeated questioning of his Lord concerning his ummah, and his prostration to his Grateful Lord who loves the grateful. > **"I prayed what my Lord had decreed for me, and my Lord came to me and said to me at the end of it: What shall I do with your ummah? I said: My Lord, You know best. He repeated it to me three or four times, then said to me at the end: What shall I do with your ummah? I said: You know best, my Lord. He said: I will not grieve you concerning your ummah. So I prostrated to my Lord, and my Lord is Grateful and loves the grateful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا نبی اکرم ﷺ اس وقت کھڑے ہوئے نماز ادا کر رہے تھے ۔ آپ مسلسل قیام کی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی تو آپ سجدے میں چلے گئے میں نے یہ گمان کیا کہ شاید سجدے کے دوران آپ کی روح قبض ہو گئی ہے نبی اکرم ﷺ نے میری طرف دیکھا اور فرمایا : اے معاذ کیا تم نے دیکھا ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اتنا طویل سجدہ کیا کہ میں نے یہ گمان کیا کہ شاید اس سجدے کے دوران آپ کی روح قبض ہو گئی ہے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو اس کی ( یعنی سجدے کو طویل کرنے کی ) وجہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے وہ نماز ادا کی جو اللہ تعالیٰ نے میرے نصیب میں لکھی تھی پھر میرا پروردگار میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے فرمایا : میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو زیادہ بہتر جانتا ہے پروردگار نے تین یا چار مرتبہ یہ بات میرے ساتھ کی سب سے آخر میں مجھ سے یہ بات کی کہ میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں نے عرض کی : اے پروردگار تو زیادہ بہتر جانتا ہے ‘ تو پروردگار نے فرمایا : تمہاری امت کے بارے میں ، میں تمہیں غمگین نہیں کروں گا ، تو میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں سجدے میں چلا گیا میرا پروردگار شکر قبول کرنے والا ہے ‘ اور شکر کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں حجاج بن عثمان سکسکی کے حوالے سے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ‘ اور اس نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ تبع تابعین میں کیا ہے یہ روایت بقیہ کے حوالے سے منقول ہے ‘ اور وہ عنعنہ کے ساتھ اس کو نقل کرتے ہیں ۔

3720

Majma al-Zawaid #3720

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ: «جِئْتُ أَزُورُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ يُوحَى إِلَيْهِ، فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ قَالَ لِعَائِشَةَ: "" نَاوِلِينِي رِدَائِي "" فَخَرَجَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ فَإِذَا فِيهِ قَوْمٌ لَيْسَ فِي الْمَسْجِدِ غَيْرُهُمْ فَجَلَسَ فِي نَاحِيَةِ الْقَوْمِ حَتَّى قَضَى الْمُذَكِّرُ تَذْكِرَتَهُ قَرَأَ تَنْزِيلَ السَّجْدَةِ فَأَطَالَ السُّجُودَ حَتَّى إِذَا جَاءَ مَنْ كَانَ عَلَى قَدْرِ مِيلَيْنِ وَتَسَامَعَ النَّاسُ سُجُودَهُ فَعَجَزَ الْمَسْجِدُ عَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ إِلَى أَهْلِهَا احْضُرُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقَدْ رَأَيْتُ مِنْهُ شَيْئًا لَمْ أَرَهُ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَطَلْتَ السُّجُودَ؟ فَقَالَ: "" سَجَدْتُ لِرَبِّي شُكْرًا فِيمَا أَعْطَانِي مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ "" فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أُمَّتُكَ أَكْثَرُ وَأَطْيَبُ فَاسْتَكْثِرْ لَهُمْ فَقَالَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا فَقَالَ عُمَرُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَدِ اسْتَوْهَبْتَ أُمَّتَكَ!». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ قُلْتُ: وَلَهُ طُرُقٌ تَأْتِي فِي الْبَعْثِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abd al-Rahman ibn Abi Bakr رضي الله عنه reported that he came to visit the Messenger of Allah ﷺ while revelation was descending upon him. When the state lifted from him, he asked Aishah رضي الله عنها to hand him his cloak, then went out and entered the mosque, where only a small group was present. He sat with them until the speaker finished his exhortation, then recited Surah Tanzil al-Sajdah and prolonged the prostration until one could have travelled two miles in its duration. The people heard of his prostration and gathered until the mosque could not contain them, and Aishah sent word to her family to attend upon witnessing something unprecedented. When he raised his head, Abu Bakr رضي الله عنه asked about the length of the prostration, and the Prophet ﷺ explained the gift granted to him concerning his ummah. Abu Bakr asked him to seek increase for them, and he did so twice or thrice, whereupon Umar رضي الله عنه expressed his joy that the ummah had been granted to him. The compiler noted that it has other chains to come in the chapter of resurrection, God willing. > **"I prostrated to my Lord in gratitude for what He has granted me concerning my ummah: seventy thousand entering Paradise without reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی زیارت کرنے کے لئے آیا تو اس وقت آپ کی طرف وحی نازل ہو رہی تھی جب آپ کی یہ کیفیت ختم ہو گئی تو آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان سے فرمایا کہ مجھے میری چادر پکڑاؤ پھر آپ مسجد میں چلے گئے وہاں کچھ لوگ موجود تھے ان کے علاوہ مسجد میں اور کوئی نہیں تھا نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گئے یہاں تک کہ بیان کرنے والے نے اپنی بات ختم کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے سورت تنزیل السجدہ کی تلاوت کی اور طویل سجدہ کیا جو اتنا طویل تھا کہ کوئی شخص ( اتنی دیر میں ) دو میل کا فاصلہ طے کر سکتا تھا لوگوں نے اس سجدے کے بارے میں لوگوں کو بتایا تو لوگ اتنے زیادہ اکھٹے ہو گئے کہ مسجد بھر گئی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں کو پیغام بھیجا کہ آپ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ جائیں کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ایک ایسی چیز دیکھی ہے ‘ جو پہلے میں نے نہیں دیکھی تھی پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر اٹھایا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے سجدے کو اتنا طول دیا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے میری امت کے بارے میں مجھے جو چیز عطا کی ہے میں نے اپنے پروردگار کا شکر ادا کرنے کے لئے سجدہ کیا تھا اس نے یہ چیز عطا کی ہے کہ میری امت کے ستر ہزار افراد کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ حضرت ابوبکر نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ کی امت کثرت والی ہے ‘ اور زیادہ پاکیزہ ہے آپ ان کے لئے مزید کثرت کی دعا کرتے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دو مرتبہ یا تین مرتبہ ( میں نے مزید کثرت طلب کی تھی ) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کی امت آپ کو ہبہ کر دی گئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے میں یہ کہتا ہوں ‘ اس روایت کے مختلف طرق ہیں جو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق باب میں آگے آئیں گے ‘ اگر اللہ نے چاہا ۔

3721

Majma al-Zawaid #3721

وَعَنْ جَرِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَمْ يَبْقَ مِنْ طَوَاغِيتَ الْجَاهِلِيَّةِ إِلَّا بَيْتُ ذِي الْخَلَصَةِ فَمَنْ يُنْتَدَبُ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ؟ "" قَالَ جَرِيرٌ: أَنَا، وَانْتَدَبَ مَعَهُ سَبْعَمِائَةٍ كُلُّهُمْ مِنْ أَحْمُسَ فَلَمْ يَفْجَأِ الْقَوْمَ إِلَّا بِنَوَاصِي الْخَيْلِ فَقَتَلُوا وَحَرَقُوا الْبَيْتَ وَكَتَبُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِبِشَارَةٍ وَأَخْبَرُوهُ أَنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْهُ إِلَّا كَالْبَعِيرِ الْأَجْرَبِ فَخَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاجِدًا ثُمَّ قَالَ: "" اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأَحْمُسَ فِي خَيْلِهَا وَرِجَالِهَا». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارِ السُّجُودِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَجَمَاعَةٌ كَثِيرَةٌ، وَقَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ: صَدُوقٌ كَثِيرُ الْخَطَأِ وَالْوَهْمِ.

EnglishUnverified translation

Jarir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ announced that nothing remained of the idols of Jahiliyyah except the house of Dhu al-Khalasah, and asked who would volunteer for Allah and His Messenger. Jarir volunteered, setting out with seven hundred men, all from Ahmas, and they surprised the people with the forelocks of their horses, killed, burned the house, and wrote to the Messenger ﷺ with glad tidings that nothing of it remained but something like a mangy camel. Upon this news the Messenger of Allah ﷺ fell prostrate and supplicated for Ahmas. The compiler noted that it is in the Sahih in similar form with an abridged mention of the prostration. > **"Nothing remains of the tyrants of Jahiliyyah except the house of Dhu al-Khalasah, so who will volunteer for Allah and His Messenger? O Allah, bless Ahmas in its horses and its men."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : زمانہ جاہلیت کے بتوں میں سے صرف بیت ذی الخلصہ رہ گیا ہے ‘ تو کون اللہ اور اس کے رسول کی خاطر اس کو ختم کرے گا ؟ حضرت جریر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ، تو وہ اپنے ساتھ سات سو افراد کو لے کے گئے جن کا سب تعلق احمس قبیلے سے تھا وہ لوگ اچانک ان کے سروں پر پہنچ گئے انہوں نے لوگوں کو قتل بھی کیا ‘ اور اس گھر کو جلا دیا انہوں نے خوشخبری کی خبر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں تحریری طور پر بھیجی اور آپ کو یہ بتایا : اب اس گھر کی حالت یوں ہے ‘ جس طرح رسوا کیا ہوا کوئی اونٹ ہوتا ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) جس طرح کوئی خارش زدہ اونٹ ہوتا ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ سجدے میں چلے گئے پھر آپ نے یہ دعا کی : اے اللہ ! احمس قبیلے کے گھڑ سواروں اور پیادہ افراد کو برکت نصیب فرما ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں یہ روایت اس کی مانند منقول ہے ‘ جس میں اختصار کے ساتھ سجدہ کرنے کا ذکر ہے یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے ‘ جسے شعبہ اور ایک بڑی جماعت نے ” ضعیف “ قرار دیا ہے عمرو بن علی کہتے ہیں : یہ صدوق ہے ‘ لیکن بکثرت غلطی کرتا ہے ‘ اور بکثرت وہم کا شکار ہوتا ہے ۔

3722

Majma al-Zawaid #3722

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُهُ سَجَدَ سَجْدَةَ الشُّكْرِ وَقَالَ: "" سَجَدْتُ شُكْرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ خُارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَالْبُخَارِيُّ وَجَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ عَلِيُّ بْنُ يَحْيَى وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa رضي الله عنه reported that they were with the Messenger of Allah ﷺ and he saw him perform the prostration of gratitude, and the Prophet ﷺ explained its purpose. > **"I prostrated in gratitude."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے میں نے آپ کو سجدہ شکر کرتے ہوئے دیکھا آپ ﷺ نے فرمایا : میں نے یہ سجدہ شکر کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے ‘ جسے یحیی بن معین امام بخاری اور ایک جماعت نے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے علی بن یحیی نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ۔

3723

Majma al-Zawaid #3723

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِهِ رَجُلٌ بِهِ زَمَانَةٌ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَمَرَّ بِهِ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَمَرَّ بِهِ عُمَرُ فَنَزَلَ فَسَجَدَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ passed by a man afflicted with a chronic ailment, so he dismounted and prostrated. Abu Bakr رضي الله عنه then passed by him and likewise dismounted and prostrated, and Umar رضي الله عنه then passed by him and likewise dismounted and prostrated.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جس کا ایک ہاتھ نہیں تھا نبی اکرم ﷺ نیچے اترے اور سجدے میں چلے گئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا گزر اس شخص کے پاس سے ہوا تو وہ بھی نیچے اترے اور سجدے میں چلے گئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا گزر اس شخص کے پاس سے ہوا تو وہ بھی نیچے اترے اور سجدے میں چلے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن عبیداللہ ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3724

Majma al-Zawaid #3724

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا رَأَى رَجُلًا مُتَغَيِّرَ الْخَلْقِ سَجَدَ، وَإِذَا رَأَى قِرْدًا سَجَدَ، وَإِذَا قَامَ مِنْ مَنَامِهِ سَجَدَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَثَّقَهُ أَبُو زَرْعَةَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Abdullah رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ, when he saw a man of altered creation, would prostrate, and when he saw a monkey he would prostrate, and when he rose from sleep he would prostrate.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب کسی ایسے شخص کو دیکھتے تھے جس کی ظاہری تخلیق میں کوئی خامی ہوتی تھی تو آپ سجدے میں چلے جاتے تھے ‘ جب آپ بندر کو دیکھتے تھے تو آپ سجدے میں چلے جاتے تھے ‘ اور جب آپ نیند سے بیدار ہوتے تھے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن محمد بن منکدر ہے ‘ جسے ابوزرعہ نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

3725

Majma al-Zawaid #3725

وَعَنْ عُرْفُجَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْصَرَ رَجُلًا بِهِ زَمَانَةٌ فَسَجَدَ، وَأَنَّ أَبَا بَكْرٍ أَتَاهُ فَتْحٌ فَسَجَدَ، وَأَنَّ عُمَرَ أَتَاهُ فَتْحٌ فَسَجَدَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْفَهْمِيُّ وَلَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ مِسْعَرٍ.

EnglishUnverified translation

Urfajah رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ saw a man afflicted with disability and prostrated, and that Abu Bakr رضي الله عنه came to him after a victory and prostrated, and that Umar رضي الله عنه came to him after a victory and prostrated.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرفجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا ‘ جو اپاہج تھا ، تو آپ سجدے میں چلے گئے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس شخص کے پاس آئے ‘ تو وہ بھی سجدے میں چلے گئے ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے ‘ تو وہ بھی سجدے میں چلے گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبداللہ فہمی ہے مسعر کے علاوہ اور کسی نے اس سے روایت نقل نہیں کی ہے ۔

3726

Majma al-Zawaid #3726

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ أَنَّهُ لَمَّا قُتِلَ ابْنُ الزُّبَيْرِ كَانَ عِنْدَهَا شَيْءٌ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفْطٍ فَأَمَرَتْ بِطَلَبِهِ فَلَمَّا وَجَدَتْهُ خَرَّتْ سَاجِدَةً. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ وَفِي بَعْضِ رِجَالِهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Asma bint Abi Bakr al-Siddiq رضي الله عنها reported that when Ibn al-Zubayr رضي الله عنهما was killed, she had in her keeping something that the Prophet ﷺ had given in a small basket. She ordered that it be sought, and when it was found, she fell prostrate.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو شہید کیا گیا تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے پاس ایک چیز تھی ‘ جو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہا کو ایک ٹوکری میں عطا کی تھی ‘ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے اسے تلاش کرنے کا حکم دیا جب وہ انہیں مل گئی ‘ تو سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سجدے میں چلی گئیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند حسن ہے ‘ اور اس کے بعض رجال کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔