Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 5 · Chapter 9

Book of the Two Eids

Hadith 3520–3559

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3520

Majma al-Zawaid #3520

وَعَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ وَمَقْرُبَةٌ لَكُمْ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَكْفَرَةٌ لِلسَّيِّئَاتِ وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ وَمَطْرَدَةٌ عَنِ الْحَسَدِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ أَبِي الْجَوْنِ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ عَدِيٍّ وَضَعَّفَهُ أَبُو دَاوُدَ وَأَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Salman al-Farisi رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that they must hold fast to standing in night prayer, for it was the practice of the righteous before them, a means of nearness to Allah Almighty, an expiation for evil deeds, a deterrent from sin, and a repeller of disease from the body. > **"Upon you is standing in night prayer, for it was the practice of the righteous before you, and a means of nearness for you to Allah Almighty, an expiation for evil deeds, a deterrent from sin, and a repeller of disease from the body."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم پر رات کے وقت نوافل ادا کرنا لازم ہے ‘ کیونکہ یہ تم سے پہلے کے نیک لوگوں کا معمول ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تمہارے قربت کے حصول کا باعث ہے ‘ برائیوں کو ختم کرنے والا ہے ‘ گناہوں سے روکنے والا ہے ‘ اور جسم سے بیماری کو دور کرنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سلیمان بن ابوالجون ہے ‘ جسے دحیم ‘ ابن حبان اور ابن عدی نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ امام ابوداؤد اور ابوحاتم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

3521

Majma al-Zawaid #3521

وَعَنْ أَنَسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا أَعْجَبَهُ نَحْوُ رَجُلٍ أَمَرَهُ بِالصَّلَاةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ الْبَصْرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، رَوَى عَنْ أَنَسٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: ذَكَرَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ يَحْيَى بْنَ عُثْمَانَ الْقُرَشِيَّ وَلَكِنَّهُ ذَكَرَهُ فِي الطَّبَقَةِ الثَّالِثَةِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that when the Prophet ﷺ was pleased with a man's conduct, he would command him to pray.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو جب کسی شخص کا طور طریقہ پسند آتا تھا ، تو آپ اُسے نماز پڑھنے کا حکم دیتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عثمان قرشی بصری ہے ‘ میں اس سے واقف نہیں ہوں ‘ اس نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ میں یہ کہتا ہوں : ابن حبان نے یحیی بن عثمان قرشی کا ذکر کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ لیکن انہوں نے اس کا ذکر تیسرے طبقے میں کیا ہے ۔

3522

Majma al-Zawaid #3522

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ مَا قَلَّ أَوْ كَثُرَ وَنَجْعَلَ آخِرَ ذَلِكَ وِتْرًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى، وَلِلْبَزَّارِ فِي رِوَايَةٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ كَانَ يَأْمُرُنَا أَنْ نُصَلِّيَ كُلَّ لَيْلَةٍ بَعْدَ الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ نَحْوَهُ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded them to pray at night, whether little or much, and to make the last of that the Witr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کریں ‘ خواہ وہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو ‘ اور ہم اس کے آخر میں وتر ادا کریں ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں ‘ امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ‘ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم روزانہ رات کے وقت فرض نماز کے بعد ( نفل ) نماز ادا کریں ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے اور اس کی سند میں ” ضعیف “ ہے ۔

3523

Majma al-Zawaid #3523

وَعَنْ جَابِرٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَدَعَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ وَلَوْ حَلْبَ شَاةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that they must never abandon night prayer, even for the duration of milking a sheep. > **"Do not ever abandon night prayer, even for the milking of a sheep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم رات کی ( نفل ) نماز کو ہرگز ترک نہ کرنا ‘ خواہ وہ اتنی دیر کے لئے ہو ‘ جتنی دیر میں بکری کا دودھ دوہا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے ‘ جس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے ۔

3524

Majma al-Zawaid #3524

وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْجِبُهُ التَّهَجُّدُ مِنَ اللَّيْلِ "" «نِصْفَهُ، ثُلُثَهُ، رُبُعَهُ، فَوَاقَ حَلْبِ نَاقَةٍ، فَوَاقَ حَلْبِ شَاةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ: أَبُو بِلَالٍ الْأَشْعَرِيُّ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Jundub ibn Sufyan رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ loved Tahajjud in the night, whether half of it, a third of it, a quarter of it, the duration of milking a camel, or the duration of milking a sheep.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو رات کے وقت تہجد ادا کرنا پسند تھا ‘ ( خواہ ) اس کی نصف ہو ‘ تہائی ہو ‘ چوتھائی ہو ‘ اونٹنی کا دودھ دوہنے کے وقفے کے برابر ہو ‘ بکری کا دودھ دوہنے کے وقفے کے برابر ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوبلال اشعری ہے ‘ جسے امام دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

3525

Majma al-Zawaid #3525

وَعَنِ إِيَاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْمُزَنِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا بُدَّ مِنْ صَلَاةٍ بِلَيْلٍ وَلَوْ حَلْبَ شَاةٍ، وَمَا كَانَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ فَهُوَ مِنَ اللَّيْلِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Iyas ibn Muawiyah al-Muzani reports that the Messenger of Allah ﷺ said that night prayer is indispensable even for the duration of milking a sheep, and that whatever is prayed after the Isha prayer counts as of the night. > **"Night prayer is indispensable, even for the milking of a sheep, and whatever is after the Isha prayer is of the night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ایاس بن معاویہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرنا ضروری ہے ‘ خواہ وہ بکری کا دودھ دوہنے کے عرصے جتنی ہو ‘ اور عشاء کی نماز کے بعد جو بھی ( نفل ) نماز ادا کی جائے گی ‘ وہ رات کی نماز شمار ہو گی ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسحاق ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3526

Majma al-Zawaid #3526

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: تَذَكَّرْتُ قِيَامَ اللَّيْلِ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" نِصْفَهُ، ثُلُثَهُ، رُبُعَهُ، فَوَاقَ حَلْبِ نَاقَةٍ، فَوَاقَ حَلْبِ شَاةٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that when night standing was mentioned, one of those present informed them that the Messenger of Allah ﷺ had said that it may be half the night, a third of it, a quarter of it, the duration of milking a camel, or the duration of milking a sheep. > **"Half of it, a third of it, a quarter of it, the duration of milking a camel, the duration of milking a sheep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں رات کو نوافل ادا کرنے سے متعلق بات چیت کر رہا تھا ‘ تو کسی نے یہ بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس کا ( یعنی رات کا ) نصف حصہ ‘ یا ایک تہائی حصہ ‘ یا ایک چوتھائی حصہ ‘ یا اونٹنی کے دودھ دوہنے کے وقت جتنے وقت ‘ یا بکری کا دودھ دوہنے کے وقت جتنے وقت ( کے لئے نفل ادا کرنے چاہئیں ) ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3527

Majma al-Zawaid #3527

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِصَلَاةِ اللَّيْلِ وَرَغَّبَ فِيهَا حَتَّى قَالَ: "" عَلَيْكُمْ بِصَلَاةِ اللَّيْلِ وَلَوْ رَكْعَةً ""، وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَجُلٌ يَرْكَعُ بَعْدَ مَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ. وَقَالَ أَيْضًا: "" فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ؟ صَلَاتَانِ مَعًا؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded night prayer and encouraged it, even saying that it is binding even if only one rakah, and that once the Messenger of Allah ﷺ came out to find a man performing supererogatory bowing after the congregational prayer had been established, whereupon he further asked whether they would not desist, asking whether two prayers could be together. > **"Upon you is night prayer, even if only one rakah. Will you not desist? Two prayers together?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے رات کے نفل نماز ادا کرنے کا حکم دیا تھا ، اور اس کی ترغیب دی تھی ، یہاں تک کہ آپ نے یہ ارشاد فرمایا : تم پر رات کی ( نفل ) نماز ادا کرنا لازم ہے ‘ خواہ وہ ایک ہی رکعت کیوں نہ ہو ‘ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ‘ ایک شخص نماز کھڑی ہو جانے کے بعد نوافل ادا کر رہا تھا ، تو نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ باز آنے والے ہو ؟ کیا دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی جائیں گی ؟ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

3528

Majma al-Zawaid #3528

وَعَنْ عُبَيْدَةَ الْمُلَيْكِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: "" «يَا أَهْلَ الْقُرْآنِ لَا تَوَسَّدُوا الْقُرْآنَ وَاتْلُوهُ حَقَّ تِلَاوَتِهِ فِي آنَاءِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَاذْكُرُوا مَا فِيهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ، وَلَا تَسْتَعْجِلُوا ثَوَابَهُ فَإِنَّ لَهُ ثَوَابًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ubaydah al-Mulayki رضي الله عنه reports from the Messenger of Allah ﷺ that he used to say that O People of the Quran, they must not take the Quran as a pillow, but recite it with its due recitation in the hours of night and day, remember what is in it that they may succeed, and not hasten its reward, for indeed it has its reward. > **"O People of the Quran, do not take the Quran as a pillow, but recite it with its due recitation in the hours of the night and day, and remember what is in it that you may succeed, and do not hasten its reward, for indeed it has its reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبیدہ ملیکی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کیا ہے : ’’ اے اہل قرآن ! تم قرآن کو تکیہ نہ بناؤ ‘ رات اور دن کے مختلف اوقات میں اس کی یوں تلاوت کرو ‘ جو تلاوت کرنے کا حق ہے ‘ اور اس میں جو کچھ ذکر ہوا ہے ‘ اس کو یاد کرو ( یا اس سے نصیحت حاصل کرو ) تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ اور اس کے ثواب میں جلدی نہ کرنا ‘ اس کا ثواب ملتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3529

Majma al-Zawaid #3529

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «جَاءَ جِبْرَائِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَجْزِيٌّ بِهِ، أَحْبِبْ مَنْ شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْلَمْ أَنَّ شَرَفَ الْمُؤْمِنِ قِيَامُ اللَّيْلِ وَعِزَّهُ اسْتِغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو دَاوُدَ وَتَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ عَدِيٍّ وَابْنُ حِبَّانَ بِمَا لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Sad رضي الله عنه reports that Jibril عليه السلام came to the Prophet ﷺ and said to him that he may live as long as he wishes but he shall die, do whatever he wishes but he shall be recompensed for it, love whomever he wishes but he shall part from him, and know that the honour of the believer lies in standing at night and his might lies in his independence of people. > **"O Muhammad, live as long as you wish, for you shall die, and do as you wish, for you shall be recompensed for it, and love whomever you wish, for you shall part from him, and know that the honour of the believer is his standing at night, and his might is his independence of people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! جب تک آپ چاہیں زندہ رہیں ، لیکن ( ایک دن ) آپ نے مر جانا ہے ‘ آپ جو چاہیں عمل کریں اس کی جزا ملے گی ‘ آپ جس چیز سے چاہیں محبت رکھیں ، لیکن آپ کو اس سے جدا ہونا ہو گا ‘ اور آپ یہ بات جان لیں ! کہ مؤمن کا شرف رات کے وقت نوافل ادا کرنے میں ہے ‘ اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیازی اختیار کرنے میں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی زافر بن سلیمان ہے ‘ جسے امام احمد یحیی بن معین اور امام ابوداؤد نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔ ابن عدی اور ابن حبان نے اس کے بارے میں ایسا کلام کیا ہے ‘ جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

3530

Majma al-Zawaid #3530

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ صَلَّى مِنْكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْهَرْ بِقِرَاءَتِهِ فَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ تُصَلِّي بِصَلَاتِهِ، وَتَسْمَعُ لِقِرَاءَتِهِ، وَإِنَّ مُؤْمِنِي الْجِنِّ الَّذِينَ يَكُونُونَ فِي الْهَوَاءِ وَجِيرَانَهُ مَعَهُ فِي مَسْكَنِهِ يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِ وَيَسْمَعُونَ قِرَاءَتَهُ، وَأَنَّهُ يَطْرُدُ بِجَهْرِهِ بِقِرَاءَتِهِ عَنْ دَارِهِ وَعَنِ الدُّورِ الَّتِي حَوْلَهُ فُسَّاقَ الْجِنِّ وَمَرَدَةَ الشَّيَاطِينِ، وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي يُقْرَأُ فِي الْقُرْآنُ عَلَيْهِ خَيْمَةٌ مِنْ نُورٍ يَهْتَدِي بِهَا أَهْلُ السَّمَاءِ كَمَا يُهْتَدَى بِالْكَوْكَبِ الدُّرِّيِّ فِي لُجَجِ الْبِحَارِ وَفِي الْأَرْضِ الْقَفْرِ، فَإِذَا مَاتَ صَاحِبُ الْقُرْآنِ رُفِعَتْ تِلْكَ الْخَيْمَةُ فَتَنْظُرُ الْمَلَائِكَةُ مِنَ السَّمَاءِ فَلَا يَرَوْنَ ذَلِكَ النُّورَ فَتَلَقَّاهُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ سَمَاءٍ إِلَى سَمَاءٍ فَتُصَلِّي الْمَلَائِكَةُ عَلَى رُوحِهِ فِي الْأَرْوَاحِ ثُمَّ تَسْتَقْبِلُ الْمَلَائِكَةَ الْحَافِظِينَ الَّذِينَ كَانُوا مَعَهُ ثُمَّ تَسْتَغْفِرُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ تَعَلَّمَ كِتَابَ اللَّهِ ثُمَّ صَلَّى سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ إِلَّا أَوْصَتْ بِهِ تِلْكَ اللَّيْلَةُ الْمَاضِيَةُ الْمُسْتَأْنِفَةُ أَنْ يَنْتَبِهَ لِسَاعَتِهِ وَأَنْ تَكُونَ عَلَيْهِ خَفِيفَةً فَإِذَا مَاتَ وَكَانَ أَهْلُهُ فِي جِهَازِهِ جَاءَ الْقُرْآنُ فِي صُورَةٍ حَسَنَةٍ جَمِيلَةٍ فَوَقَفَ عِنْدَ رَأْسِهِ حَتَّى يُدْرَجَ فِي أَكْفَانِهِ فَيَكُونُ الْقُرْآنُ عَلَى صَدْرِهِ دُونَ الْكَفَنِ، فَإِذَا وُضِعَ فِي قَبْرِهِ وَسُوِّيَ عَلَيْهِ وَتَفَرَّقَ عَنْهُ أَصْحَابُهُ أَتَاهُ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ فَيُجْلِسَانِهِ فِي قَبْرِهِ فَيَجِيءُ الْقُرْآنُ حَتَّى يَكُونَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُمَا فَيَقُولَانِ لَهُ: إِلَيْكَ حَتَّى نَسْأَلَهُ فَيَقُولُ: لَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ إِنَّهُ لَصَاحِبِي وَخَلِيلِي وَلَسْتُ أَخْذُلُهُ عَلَى حَالٍ فَإِنْ كُنْتُمَا أُمِرْتُمَا بِشَيْءٍ فَامْضِيَا لِمَا أُمِرْتُمَا بِهِ وَدَعَا مَكَانِي فَإِنِّي لَسْتُ أُفَارِقُهُ حَتَّى أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ثُمَّ يَنْظُرُ الْقُرْآنُ إِلَى صَاحِبِهِ فَيَقُولُ: أَنَا الْقُرْآنُ الَّذِي كُنْتَ تَجْهَرُ بِي وَتُخْفِينِي وَتُحِبُّنِي فَأَنَا حَبِيبُكَ وَمَنْ أَحْبَبْتُهُ أَحَبَّهُ اللَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ بَعْدَ مَسْأَلَةِ مُنْكَرٍ وَنَكِيرٍ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ، فَيَسْأَلُهُ مُنْكَرٌ وَنَكِيرٌ وَيَصْعَدَانِ وَيَبْقَى هُوَ وَالْقُرْآنُ فَيَقُولُ: لَأَفْرِشَنَّكَ أَلْفَ فِرَاشٍ لَيِّنًا وَلَأُدَثِّرَنَّكَ دِثَارًا حَسَنًا جَمِيلًا بِمَا أَسْهَرْتُ لَيْلَكَ وَأَنْصَبْتُ نَهَارَكَ، قَالَ: فَيَصْعَدُ الْقُرْآنُ إِلَى السَّمَاءِ أَسْرَعَ مِنَ الطَّرْفِ فَيَسْأَلُ اللَّهَ ذَلِكَ لَهُ فَيُعْطِيَهُ فَيَنْزِلُ بِهِ أَلْفُ أَلْفٍ مِنْ مُقَرَّبِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ فَيَجِيءُ الْقُرْآنُ فَيُحَيِّيهِ فَيَقُولُ: هَلِ اسْتَوْحَشْتَ؟ مَا زِدْتُ مُنْذُ فَارَقْتُكَ أَنْ كَلَّمْتُ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ فِرَاشًا وَدِثَارًا وَمِفْتَاحًا وَقَدْ جِئْتُكَ بِهِ فَقُمْ حَتَّى تَفْرِشَكَ الْمَلَائِكَةُ، قَالَ: فَتُنْهِضُهُ الْمَلَائِكَةُ إِنْهَاضًا لَطِيفًا ثُمَّ تَفْتَحُ لَهُ فِي قَبْرِهِ مَسِيرَةَ أَرْبَعِمِائَةِ عَامٍ ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ فِرَاشٌ بِطَانَتُهُ مِنْ حَرِيرٍ أَخْضَرَ حَشْوُهُ الْمِسْكُ الْأَذْفَرُ، وَتُوضَعُ لَهُ مَرَافِقُ عِنْدَ رِجْلَيْهِ وَرَأْسِهِ مِنَ السُّنْدُسِ الْأَخْضَرِ وَالْإِسْتَبْرَقِ وَيُسْرَجُ لَهُ سِرَاجَانِ مِنْ نُورِ الْجَنَّةِ عِنْدَ رَأْسِهِ وَرِجْلَيْهِ يُزْهِرَانِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ تُضْجِعُهُ الْمَلَائِكَةُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ، ثُمَّ يُؤْتَى بِيَاسَمِينِ الْجَنَّةِ وَتَصْعَدُ عَنْهُ وَيَبْقَى هُوَ وَالْقُرْآنُ فَيَأْخُذُ الْقُرْآنُ الْيَاسَمِينَ فَيَضَعُهُ عَلَى أَنْفِهِ غَضًّا فَيَنْشُقُهُ حَتَّى يُبْعَثَ، وَيَرْجِعُ الْقُرْآنُ إِلَى أَهْلِهِ فَيُخْبِرُهُمْ كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَيَتَعَاهَدُهُ كَمَا يَتَعَاهَدُ الْوَالِدُ الشَّفِيقُ وَلَدَهُ بِالْخَيْرِ فَإِنْ تَعَلَّمَ أَحَدٌ مِنْ وَلَدِهِ الْقُرْآنَ بَشَّرَهُ بِذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ عَقِبُهُ عَقِبَ سُوءٍ دَعَا لَهُمْ بِالصَّلَاحِ وَالْإِقْبَالِ» أَوْ كَمَا ذَكَرَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ خَالِدٌ: ابْنُ مَعْدَانَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ، وَمَعْنَاهُ أَنَّهُ يَجِيءُ ثَوَابُ الْقُرْآنِ كَمَا قَالَ: إِنَّ اللُّقْمَةَ تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِثْلَ أُحُدٍ وَإِنَّمَا يَجِيءُ ثَوَابُهَا قُلْتُ: وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Muadh ibn Jabal رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever among them prays at night should recite aloud, for the angels pray with his prayer and listen to his recitation, and the believing jinn in the air and his neighbours dwelling with him in his abode pray with his prayer and listen to his recitation, and that by his loud recitation he drives away from his house and the houses around it the corrupt among jinn and rebellious devils. He further explained that the house in which the Quran is recited is covered with a tent of light by which the inhabitants of heaven are guided, just as one is guided by a brilliant star in the depths of the seas and in barren land. When the companion of the Quran dies, that tent is raised, so the angels look from heaven and no longer see that light, and the angels receive him from heaven to heaven and invoke blessings upon his spirit among the spirits. Then the guardian angels who were with him come forth to meet him, and the angels seek forgiveness for him until the Day he is raised. No man learns the Book of Allah then prays an hour of the night except that the passing night enjoins the coming night to awaken him at his hour and to be light upon him. When he dies and his family are engaged in preparing him, the Quran comes in a beautiful comely form and stands at his head until he is wrapped in his shrouds, with the Quran upon his chest beneath the shroud. When he is placed in his grave, the earth levelled over him, and his companions disperse from him, Munkar and Nakir come to him and sit him up in his grave, whereupon the Quran comes until it stands between him and them. They say to it to stand aside that they may question him, but it replies by the Lord of the Kabah that he is indeed its companion and intimate, that it will never forsake him in any state, and that if they were commanded with anything they should proceed with what they were commanded and leave its place, for it will not part from him until it admits him into Paradise. Then the Quran looks to its companion and says that it is the Quran which he used to recite aloud and softly and love, that it is his beloved, and whomever it loves Allah loves, and that after the questioning of Munkar and Nakir there shall be no anxiety nor grief upon him. Munkar and Nakir question him and ascend, and he remains with the Quran, which promises to spread for him a thousand soft beds and cover him with a fine beautiful covering, because he kept his night wakeful and wearied his day. The narrator states that the Quran then ascends to heaven swifter than the blink of an eye and asks Allah for that for him, and He grants it, so a million of the nearest angels of the sixth heaven descend with it. The Quran comes and greets him and asks whether he felt lonely, informing him that since parting from him it only spoke to Allah Blessed and Exalted until a bed, covering, and key were prepared for him, and that it has brought them, so let him rise that the angels may spread his bedding. The angels gently raise him, then a space of four hundred years' journey is opened for him in his grave, then a bed is laid whose lining is of green silk stuffed with fragrant musk, with cushions of green brocade and thick silk at his feet and head, and two lamps of the light of Paradise are kindled for him at his head and feet, shining until the Day of Resurrection. Then the angels lay him upon his right side facing the Qiblah, then jasmine of Paradise is brought and raised above him, and he remains with the Quran. The Quran takes the jasmine and places it fresh upon his nose, so he inhales its fragrance until he is raised. The Quran returns to his family, informs them every day and night, watches over them as a compassionate father watches over his child with good, gives glad tidings if any of his children learns the Quran, and supplicates for righteousness and devotion if his descendants prove evil, or as he stated. > **"Whoever among you prays at night, let him recite aloud, for indeed the angels pray with his prayer and listen to his recitation, and indeed the believing jinn who are in the air and his neighbours with him in his dwelling pray with his prayer and listen to his recitation, and he drives away by his loud recitation from his house and from the houses around him the corrupt among jinn and the rebellious devils."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم میں سے جو شخص رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ‘ اسے بلند آواز میں قرأت کرنی چاہیے ‘ کیونکہ فرشتے اس کی نماز کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں اور اس کی قرأت کو سنتے ہیں ، جنات سے تعلق رکھنے والے مؤمنین ، جو ہوا میں رہتے ہیں ‘ اور اس کی رہائش گاہ میں اس کے ساتھ پڑوس میں رہتے ہیں ‘ وہ بھی اس کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں اور اس کی تلاوت کو سنتے ہیں اور ایسا شخص بلند آواز میں قرأت کر کے اپنے گھر سے اور اپنے آس پاس کے گھروں سے فاسق جنوں اور سرکش شیاطین کو دور کر دیتا ہے ‘ وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے ‘ اس پر نور کا بنا ہوا خیمہ موجود ہوتا ہے ‘ جس کے ذریعے آسمان والے یوں رہنمائی حاصل کرتے ہیں ، جس طرح سمندر میں اور بے آب و گیاہ جگہ پر چمکدار ستارے کے ذریعے رہنمائی کی جاتی ہے ‘ جب قرآن کا عالم فوت ہو جاتا ہے ‘ تو وہ خیمہ اٹھا لیا جاتا ہے ‘ فرشتے آسمان سے دیکھتے ہیں انہیں وہ نور نظر نہیں آتا پھر فرشتے ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک اس شخص ( کی روح ) سے ملاقات کرتے ہیں اور فرشتے دیگر تمام ارواح میں سے اس کی روح پر رحمت نازل کرتے ہیں ‘ پھر اس کے ساتھ رہنے والے محافظ فرشتے اس کے سامنے آتے ہیں اور پھر فرشتے اس دن تک اس کے لئے دعائے مغفرت کرتے رہتے ہیں ‘ جب تک اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا ‘ جو بھی شخص اللہ تعالیٰ کی کتاب کا علم حاصل کرتا ہے ‘ پھر رات کی کسی ایک گھڑی میں ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ‘ تو گزرنے والی رات آگے آنے والی رات کو اُس شخص کے حوالے سے تلقین کرتی ہے کہ اس مخصوص گھڑی میں اس شخص کو بیدار کر دے ‘ اور وہ رات اس کے لئے ہلکی رہے ۔ جب وہ شخص فوت ہو جاتا ہے ‘ اور اس کے اہل خانہ اس کی تجہیز و تکفین کی تیاری کر رہے ہوتے ہیں ، تو قرآن ایک خوبصورت شکل و صورت میں آتا ہے ‘ اس کے سرہانے کھڑا ہو جاتا ہے ‘ یہاں تکہ اس کے کفن کے اندر آ جاتا ہے ‘ اس کے سینے پر کفن سے پہلے قرآن ہوتا ہے ‘ جب اس شخص کو قبر میں رکھا جاتا ہے ‘ اور اس پر مٹی ڈال دی جاتی ہے ‘ اور اس کے ساتھی اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں تو منکر اور نکیر اس کے پاس آتے ہیں وہ اس کی قبر میں اس شخص کو بٹھاتے ہیں ‘ یہاں تک کہ قرآن آ جاتا ہے ‘ اور اس شخص اور دونوں کے فرشتوں کے درمیان آ جاتا ہے ‘ وہ دونوں فرشتے قرآن سے کہتے ہیں : تم ہٹ جاؤ ! تاکہ ہم اس سے سوال کریں ، قرآن کہتا ہے : جی نہیں ! رب کعبہ کی قسم ! یہ میرا ساتھی اور میرا دوست ہے ‘ میں اسے کسی بھی حالت میں رسوائی کا شکار نہیں کروں گا ‘ اگر تم دونوں کو کسی چیز کا حکم دیا گیا ہے ‘ تو تمہیں جو حکم دیا گیا ہے ‘ تم اس پر عمل کرو مجھے اپنی جگہ پر رہنے دو ‘ میں اس شخص سے اس وقت تک جدا نہیں ہوں گا جب تک میں اسے جنت میں داخل نہیں کروا دیتا ‘ پھر قرآن اپنے ساتھی کی طرف دیکھتا ہے ‘ اور یہ کہتا ہے : میں وہ قرآن ہوں جسے تم بلند آواز میں پڑھا کرتے تھے ‘ اور پست آواز میں پڑھا کرتے تھے ‘ اور تم مجھ سے محبت رکھتے تھے ‘ تو میں تمہارا حبیب ہوں ، جس شخص سے میں محبت رکھتا ہوں ‘ اللہ تعالی بھی اس سے محبت رکھتا ہے منکر اور نکیر کے سوال کے بعد تم پر کوئی پریشانی اور غم نہیں ہو گا ‘ منکر اور نکیر اس شخص سے سوال کرنے کے بعد اوپر چلے جاتے ہیں اور پھر ( قبر میں ) وہ شخص اور قرآن باقی رہ جاتے ہیں ، قرآن کہتا ہے : میں تمہارے لئے نرم بچھونا بچھواؤں گا ‘ اور تمہارے لئے عمدہ لباس فراہم کروں گا ‘ کیونکہ تم رات کے وقت جاگتے رہتے تھے ‘ اور دن میں مشقت کا شکار رہتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : پھر قرآن آسمان کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے جاتا ہے جتنی دیر میں پلک جھپکتی ہے وہ اللہ تعالیٰ سے مانگتا ہے ‘ اللہ تعالی یہ چیزیں اسے عطا کرتا ہے ‘ پھر ایک ہزار ‘ ہزار ( یعنی دس لاکھ ) فرشتے جن کا تعلق چھٹے آسمان کے مقرب فرشتوں سے ہوتا ہے ‘ وہ اس کے ساتھ نازل ہوتے ہیں ، قرآن آتا ہے ‘ اس شخص کو سلام کرتا ہے ‘ اور دریافت کرتا ہے : کیا تمہیں وحشت محسوس ہوئی ؟ تم سے جدا ہونے کے بعد میں نے صرف اللہ تعالیٰ سے کلام کیا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے بچھونا ‘ اوڑھنے کی چیز اور کنجی عطا کر دی ‘ وہ میں تمہارے پاس لے آیا ہوں ، اب تم اُٹھو ! تاکہ فرشتے تمہارا بچھونا بچھا دیں ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : فرشتے اسے نرمی سے اٹھاتے ہیں پھر اس شخص کی قبر کو چار سو سال کی مسافت جتنا کشادہ کر دیا جاتا ہے ، پھر اس شخص کے لئے بچھونا بچھایا جاتا ہے ‘ جو سبز ریشم کے استر والا ہوتا ہے ‘ اور اس کے اندر مشک اذفر بھری ہوئی ہوتی ہے ‘ اس کے پاؤں کے پاس اور سرہانے کے پاس سبز سندس اور استبرق کے تکیے رکھے جاتے ہیں ‘ اس کے لئے جنت کے نور سے روشن دو چراغ جلائے جاتے ہیں ، ایک اس کے سرہانے کے پاس ہوتا ہے ‘ اور ایک پائینتی کی طرف ہوتا ہے ‘ وہ ( چراغ ) قیامت کے دن تک روشنی کرتے رہیں گے ، پھر فرشتے اس شخص کو دائیں پہلو کے بل لٹا دیتے ہیں ‘ اس کا رخ قبلہ کی طرف ہوتا ہے ، پھر جنت کی یاسمین لائی جاتی ہے ‘ فرشتے اس شخص کو چھوڑ کر اوپر چلے جاتے ہیں ‘ اور وہ شخص اور قرآن باقی رہ جاتے ہیں ، قرآن یاسمین کو لے کر اس شخص کی ناک پر رکھتا ہے ‘ تو وہ شخص دوبارہ زندہ کیے جانے تک اسے سونگھتا رہے گا ‘ پھر قرآن اس کے اہل خانہ کی طرف جاتا ہے ‘ اور روزانہ انہیں خبر دیتا ہے وہ اس شخص کا یوں خیال رکھتا ہے ‘ جس طرح کوئی شفیق باپ ‘ اپنی اولاد کی بھلائی کے ہمراہ دیکھ بھال کرتا ہے ‘ اگر اس شخص کی اولاد میں سے کسی نے قرآن کا علم حاصل کیا ہو ‘ تو قرآن اس شخص کو اس حوالے سے مبارک باد دیتا ہے ‘ اور اگر اس کے پسماندگان میں کوئی خرابی آ گئی ہو ‘ تو قرآن اُن لوگوں کے لئے بہتری اور ٹھیک ہونے کی دعا کرتا ہے ‘‘ یا جس طرح بھی انہوں نے ذکر کیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ وہ بیان کرتے ہیں : خالد بن معدان نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا ثواب آتا ہے ، جس طرح نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ ایک لقمہ قیامت کے دن اُحد پہاڑ کی مانند ہو کر آئے گا ‘‘۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اُس کا ثواب آئے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایسا راوی ہے کہ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

3531

Majma al-Zawaid #3531

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا خَيَّبَ اللَّهُ امْرَأً قَامَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَافْتَتَحَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَهُوَ ثِقَةٌ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah does not disappoint a man who stands in the depth of the night and opens Surah al-Baqarah and Aal Imran. > **"Allah does not disappoint a man who stands in the depth of the night and opens Surah al-Baqarah and Aal Imran."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو رسوائی کا شکار نہیں کرتا ‘ جو نصف رات کے وقت قیام کی حالت میں سورت البقرۃ اور سورت آل عمران کی تلاوت کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ اور تدلیس کرنے والا ہے ۔

3532

Majma al-Zawaid #3532

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مَنْ ظَاهِرِهَا فَقَالَ أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ: لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لِمَنْ أَطَابَ الْكَلَامَ وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ وَبَاتَ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِيَامٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَاللَّفْظُ لَهُ وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ: فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ that in Paradise there is a chamber whose outside is seen from its inside and whose inside is seen from its outside. Abu Malik al-Ashari رضي الله عنه asked for whom it is, O Messenger of Allah, and he replied that it is for whoever refines his speech, feeds food, and spends the night standing while people sleep. In the narration of Ahmad the questioner is named as Abu Musa al-Ashari رضي الله عنه. > **"Indeed in Paradise there is a chamber whose outside is seen from its inside and whose inside is seen from its outside. It is for whoever refines his speech, feeds food, and spends the night standing while people sleep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور جن کا اندورنی حصہ باہر سے نظر آتا ہے ‘ حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ کس شخص کے لئے ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس شخص کے لئے جو پاکیزہ کلام کرے کھانا کھلائے اور اس وقت کھڑا ہو کر رات بسر کرے ( یعنی نوافل ادا کرے ) جب لوگ سو رہے ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند حسن ہے ‘ روایت کے یہ الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں امام احمد کی سند میں یہ الفاظ ہیں : ” حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے سوال کیا تھا ‘‘۔

3533

Majma al-Zawaid #3533

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى بَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا وَظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَأَلَانَ الْكَلَامَ وَتَابَعَ الصِّيَامَ وَقَامَ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik al-Ashari رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ said that in Paradise there are chambers whose inside is seen from their outside and whose outside is seen from their inside, which Allah has prepared for whoever feeds food, softens speech, fasts consecutively, and stands at night while people sleep. > **"Indeed in Paradise there are chambers whose inside is seen from their outside and whose outside is seen from their inside. Allah has prepared them for whoever feeds food, softens speech, fasts consecutively, and stands at night while people sleep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کا اندرونی حصہ باہر سے اور بیرونی حصہ اندر سے نظر آتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ ان لوگوں ( یعنی اس شخص ) کے لئے تیار کیے ہیں جو کھانا کھلاتا ہے ‘ نرم کلام کرتا ہے ‘ مسلسل روزے رکھتا ہے ‘ اور رات کے وقت اُس وقت نوافل ادا کرتا ہے ‘ جب لوگ سو رہے ہوں “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3534

Majma al-Zawaid #3534

وَعَنْ أَبِي مُعَانِقٍ الْأَشْعَرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا أَعَدَّهَا اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَأَدَامَ الصِّيَامَ وَصَلَّى بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا مُعَانِقٍ لَيْسَتْ لَهُ صُحْبَةٌ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي ثِقَاتِ التَّابِعِينَ، وَسُئِلَ عَنْهُ الدَّارَقُطْنِيُّ فَقَالَ: مَجْهُولٌ لَا شَيْءَ.

EnglishUnverified translation

Abu Muaniq al-Ashari reports that the Messenger of Allah ﷺ said that in Paradise there are chambers whose outside is seen from their inside and whose inside is seen from their outside, which Allah Almighty has prepared for whoever feeds food, fasts perpetually, and prays at night while people sleep. > **"Indeed in Paradise there are chambers whose outside is seen from their inside and whose inside is seen from their outside. Allah Almighty has prepared them for whoever feeds food, fasts perpetually, and prays at night while people sleep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومعانق اشعری ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت میں ایسے بالا خانے ہیں ، جن کا بیرونی حصہ اندر سے ‘ اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے یہ اس شخص کے لئے تیار کیے ہیں ، جو کھانا کھلاتا ہے ہمیشہ روزے رکھتا ہے ‘ اور رات کو اس وقت نماز ادا کرتا ہے ‘ جب لوگ سو رہے ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ البتہ ’’ ابومعانق ‘‘ کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ہے ۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ ’’ ثقہ ‘‘ تابعین میں کیا ہے ‘ امام دارقطنی سے ان کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو انہوں نے فرمایا : یہ مجہول ہے ‘ اور کوئی چیز نہیں ہے ۔

3535

Majma al-Zawaid #3535

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ بَاتَ لَيْلَةً فِي خِفَّةٍ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ يُصَلِّي تَدَارَكَتْ حَوْلَهُ الْحُورُ الْعِينُ حَتَّى يُصْبِحَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever spends the night praying in lightness of food and drink will have the wide-eyed Houris encircling him until morning. > **"Whoever spends the night praying in lightness of food and drink, the wide-eyed Houris circle around him until morning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص کھانے پینے کے حوالے سے ہلکا ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے رات گزارتا ہے ‘ صبح ہونے تک حورعین اس کے اردگرد چکر لگاتی رہتی ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3536

Majma al-Zawaid #3536

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ وَيَضْحَكُ إِلَيْهِمْ وَيَسْتَبْشِرُ بِهِمُ: الَّذِي إِذَا انْكَشَفَتْ فِئَةٌ قَاتَلَ وَرَاءَهَا بِنَفْسِهِ لِلَّهِ تَعَالَى فَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ وَإِمَّا أَنْ يَنْصُرَهُ اللَّهُ وَيَكْفِيَهُ، فَيَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا كَيْفَ صَبَرَ لِي بِنَفْسِهِ!؟ وَالَّذِي لَهُ امْرَأَةٌ حَسَنَةٌ وَفِرَاشٌ لَيِّنٌ حَسَنٌ فَيَقُومُ مِنَ اللَّيْلِ يَذَرُ شَهْوَتَهُ وَيَذْكُرُنِي وَلَوْ شَاءَ رَقَدَ، وَالَّذِي إِذَا كَانَ فِي سَفَرٍ وَكَانَ مَعَهُ رَكْبٌ فَسَهِرُوا ثُمَّ هَجَعُوا فَقَامَ مِنَ السَّحَرِ فِي ضَرَّاءَ سِرًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that three are those whom Allah loves, smiles upon, and rejoices in: the one who, when a contingent is exposed, fights behind it with his own self for Allah Almighty, whether he is killed or Allah grants him victory and suffices him, so He says to behold how this servant of His endured with his own self for Him; the one who has a beautiful wife and a soft fine bed yet rises in the night, abandoning his desire and remembering Him, though had he wished he could have slept; and the one who is on a journey with a party who keep awake then slumber, so he rises in the last part of the night in hardship and ease in secret devotion. > **"Three are those whom Allah loves, smiles upon, and rejoices in: the one who, when a contingent is exposed, fights behind it with his own self for Allah Almighty, whether he is killed or Allah grants him victory and suffices him, and He says, Behold this servant of Mine, how he endured with his own self for Me; the one who has a beautiful wife and a soft fine bed, yet rises in the night, abandoning his desire and remembering Me, though had he wished he could have slept; and the one who is on a journey with a party who keep awake then slumber, so he rises in the last part of the night in hardship and ease in secret."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تین لوگ ایسے ہیں ، جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے ‘ انہیں دیکھ کے مسکرا دیتا ہے ‘ اور انہیں دیکھ کے خوش ہوتا ہے ‘ وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنی ذات کے ساتھ جنگ میں حصہ لیتا ہے ‘ یا شہید ہو جاتا ہے ‘ یا پھر اللہ تعالیٰ اُس کی مدد کرتا ہے ‘ اور اس کی کفایت کر دیتا ہے ‘ تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : میرے اس بندے کا جائزہ لو ! اس نے میری خاطر کیسے اپنی ذات کے حوالے سے صبر سے کام لیا ہے ‘ اور وہ شخص جس کی خوبصورت بیوی ہو اور نرم اور عمدہ بچھونا ہو اور وہ رات کے وقت کھڑا ہو کر ( نوافل ادا کرے تو اللہ فرماتا ہے : اس نے اپنی خواہش کو ترک دیا ہے ‘ اور میرا ذکر کر رہا ہے ، اگر یہ چاہتا تو یہ سو جاتا اور وہ شخص جو سفر کر رہا ہو ‘ اس کے ساتھی اور بھی سوار ہوں ، وہ لوگ سو جائیں ‘ اور وہ شخص سحری کے وقت تنگی یا آسانی ہر حالت میں نوافل ادا کرتا رہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3537

Majma al-Zawaid #3537

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَرْفَعُهُ قَالَ: "" «ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: رَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ يُخْفِيهَا مِنْ شِمَالِهِ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ فَاسْتَقْبَلَ الْعَدُوَّ» "". قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ: "" الَّذِي كَانَ فِي سَرِيَّةٍ "" فَقَطْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reports in a Marfu narration that three are those whom Allah Almighty loves: a man who stands at night reciting the Book of Allah, a man who gives charity concealing it even from his left hand, and a man who is in a detachment whose companions flee, yet he advances to face the enemy. > **"Three are those whom Allah Almighty loves: a man who stands at night reciting the Book of Allah, a man who gives charity concealing it from his left hand, and a man who is in a detachment whose companions flee, yet he advances to face the enemy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ تین لوگ ایسے ہیں ، جن سے اللہ تعالیٰ محبت رکھتا ہے ‘ ایک وہ شخص جو رات کے وقت کھڑا ہو کر اللہ تعالیٰ کی کتاب کی تلاوت کرتا ہے ایک وہ شخص جو یوں صدقہ کرتا ہے کہ اسے بائیں ہاتھ سے بھی پوشیدہ رکھتا ہے ‘ اور ایک وہ شخص جو کسی مہم میں ہو ‘ اس کے ساتھی پسپا ہو جائیں ‘ اور وہ دشمن کے سامنے چلا جائے “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا صرف وہ حصہ نقل کیا ہے ‘ جو جنگی مہم کے بارے میں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3538

Majma al-Zawaid #3538

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «عَجِبَ رَبُّنَا مِنْ رَجُلَيْنِ: رَجُلٌ ثَارَ عَنْ وِطَائِهِ وَلِحَافِهِ بَيْنَ أَهْلِهِ وَحُبِّهِ إِلَى صَلَاتِهِ فَيَقُولُ رَبُّنَا: يَا مَلَائِكَتِي انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي ثَارَ مِنْ فِرَاشِهِ وَوِطَائِهِ مِنْ بَيْنِ حُبِّهِ وَأَهْلِهِ إِلَى صَلَاتِهِ رَغْبَةً فِيمَا عِنْدِي وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدِي» فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارِ التَّصَدُّقِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that their Lord wonders at two men, a man who springs from his bed and quilt among his family and beloved toward his prayer, whereupon their Lord says to His angels to behold His servant who sprang from his bed and quilt, from among his beloved and family, toward his prayer, desiring what is with Him and fearing what is with Him, then the narrator mentioned the like with an abridged mention of charity. > **"Our Lord wonders at two men: a man who springs from his bed and quilt among his family and beloved toward his prayer, so our Lord says, O My angels, behold My servant who sprang from his bed and quilt, from among his beloved and family, toward his prayer, desiring what is with Me and fearing what is with Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہمارا پروردگار ‘ دو ایسے افراد پر خوش ہوتا ہے ‘ ایک وہ شخص جو اپنے بستر ‘ لحاف ‘ اپنے اہل خانہ اور اپنی محبوب چیز کو چھوڑ کر نماز کی طرف جاتا ہے ‘ ہمارا پروردگار فرماتا ہے : اے میرے فرشتو ! تم میرے بندے کا جائزہ لو ‘ جس نے اپنا بستر اپنا لحاف اپنی محبوب چیز اور اپنے اہل خانہ کو چھوڑا ‘ اور نماز کی طرف آ گیا ، اُس چیز کی طرف رغبت رکھتے ہوئے ‘ جو میرے پاس موجود ہے ‘ اور اس چیز سے ڈرتے ہوئے ‘ جو میرے پاس ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ‘ جس میں صدقہ کرنے کا ذکر اختصار کے ساتھ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

3539

Majma al-Zawaid #3539

وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ نَحْوُهُ مَوْقُوفًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «وَرَجُلٌ لَا يَعْلَمُ بِهِ أَحَدٌ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ وَصَلَّى عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَمِدَ اللَّهَ وَاسْتَفْتَحَ الْقِرَاءَةَ فَيَضْحَكُ اللَّهُ مِنْهُ يَقُولُ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي لَا يَرَاهُ أَحَدٌ غَيْرِي» "". وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ وَلَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ.

EnglishUnverified translation

In the narration of al-Tabarani in al-Kabir, the like is reported from him as Mawquf, except that it states that there is also a man whom none knows, who perfects wudu, invokes blessings upon Muhammad ﷺ, praises Allah, and begins recitation, so Allah smiles upon him and says to behold His servant whom none sees but He. > **"Behold My servant, whom none sees but Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان صحابی کے حوالے سے ‘ امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر یہ روایت نقل کی ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اور وہ شخص جو رات کو کھڑا ہوتا ہے ‘ اس کے بارے میں کوئی نہیں جانتا ہے ‘ وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے ، حضرت محمد ﷺ پر درود بھیجتا ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہے ‘ اور قرآءت کرنی شروع کر دیتا ہے ‘ تو اللہ تعالی اس شخص پر خوش ہوتا ہے ‘ اور فرماتا ہے : میرے اس بندے کی طرف دیکھو ! اسے میرے علاوہ اور کوئی نہیں دیکھ رہا ہے “۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ ہے ‘ اور اس نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے سماع نہیں کیا ہے ۔

3540

Majma al-Zawaid #3540

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ قَالَ: «أَلَا إِنَّ اللَّهَ يَضْحَكُ إِلَى رَجُلَيْنِ: رَجُلٌ قَامَ فِي لَيْلَةٍ بَارِدَةٍ مِنْ فِرَاشِهِ وَلِحَافِهِ وَدِثَارِهِ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِمَلَائِكَتِهِ: مَا حَمَلَ عَبْدِي هَذَا عَلَى مَا صَنَعَ؟ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا رَجَاءَ مَا عِنْدَكَ وَشَفَقَةً مِمَّا عِنْدَكَ؟! فَيَقُولُ: فَإِنِّي قَدْ أَعْطَيْتُهُ مَا رَجَا وَأَمَّنْتُهُ مِمَّا يَخَافُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said that indeed Allah smiles upon two men: a man who rises on a cold night from his bed, quilt, and covering, performs wudu, then stands for prayer, whereupon Allah Almighty asks His angels what moved this servant of His to do what he did. They reply that it was hope for what is with Him and fear of what is with Him, whereupon He declares that He has granted him what he hoped and secured him from what he feared. > **"Indeed Allah smiles upon two men: a man who rises on a cold night from his bed, quilt, and covering, performs wudu, then stands for prayer. Allah Almighty says to His angels, What moved this servant of Mine to do what he did? They say, Our Lord, hope for what is with You and fear of what is with You. He says, Indeed I have granted him what he hoped, and secured him from what he feared."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ خبردار ! اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر خوش ہوتا ہے ‘ ایک وہ شخص جو ٹھنڈی رات میں اپنے بستر ‘ لحاف ‘ چادر کو چھوڑ کر اٹھتا ہے ، وضو کرتا ہے ‘ اور پھر نماز کی طرف جاتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے : میرے اس بندے کو ایسا کرنے پر کس بات نے مجبور کیا ؟ وہ عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! اس چیز کی امید نے جو تیرے پاس ہے ‘ اور اس چیز کے ڈر ‘ نے ‘ جو تیرے پاس ہے ‘ تو پروردگار فرماتا ہے : اس نے جو امید رکھی ہے ‘ وہ میں اسے عطا کرتا ہوں ‘ اور جس چیز سے وہ ڈرتا ہے ‘ اُس کے حوالے سے میں اسے امان دیتا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند حسن ہے ۔

3541

Majma al-Zawaid #3541

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ لَيَضْحَكُ إِلَى ثَلَاثَةِ نَفَرٍ: رَجُلٍ قَامَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ فَأَحْسَنَ الطَّهُورَ وَصَلَّى، وَرَجُلٌ نَامَ وَهُوَ سَاجِدٌ - أَحْسَبُهُ قَالَ: كَانَ فِي كَتِيبَةٍ فَانْهَزَمَتْ وَهُوَ عَلَى جَوَادٍ لَوْ شَاءَ أَنْ يَذْهَبَ لَذَهَبَ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ وَغَيْرُهُ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ لِسُوءِ حِفْظِهِ لَا لِكَذِبِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said رضي الله عنه reports from the Messenger of Allah ﷺ that indeed Allah smiles upon three persons: a man who rises in the depth of the night, perfects purification, and prays; a man who sleeps while prostrating, and, as the narrator thought, one who is in a squadron that flees while he remains upon his steed, though had he wished to depart he could have departed. > **"Indeed Allah smiles upon three persons: a man who rises in the depth of the night, perfects purification, and prays; a man who sleeps while prostrating; and a man who is in a squadron that flees while he remains upon his steed, though had he wished to depart he could have departed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ تین آدمیوں پر خوش ہوتا ہے ‘ ایک وہ شخص جو نصف رات کے وقت اُٹھ کر اچھی طرح وضو کر کے نماز ادا کرتا ہے ‘ اور ایک وہ شخص جو سجدے کی حالت میں سو جاتا ہے ‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک وہ شخص جو کسی جنگی مہم میں ہو اور وہ مہم پسپا ہو جائے اور وہ شخص گھوڑے پر سوار ہو ( اور دشمن کی طرف چلا جائے ) حالانکہ اگر وہ بھی جانا چاہتا تو وہ بھی ( فرار ہو کر ) جا سکتا تھا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بن ماجہ نے اس سیاق کے بغیر نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ‘ اور اس کے حافظے کی خرابی کی وجہ سے اس کے بارے میں بہت کلام کیا گیا ہے ‘ اس کے جھوٹا ہونے کی وجہ سے کلام نہیں کیا گیا ( یعنی وہ جھوٹا نہیں ہے ) ۔

3542

Majma al-Zawaid #3542

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّمَا الْحَسَدُ فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ فَقَامَ بِهِ فَأَحَلَّ حَلَالَهُ وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَوَصَلَ مِنْهُ أَقَارِبَهُ وَرَحِمَهُ وَعَمِلَ بِطَاعَةِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَوْحُ بْنُ صَلَاحٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ الْحَاكِمُ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr ibn al-As رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said that envy is only in two cases: a man to whom Allah has given the Quran, so he stands with it, abiding by it, declaring its lawful lawful and its unlawful unlawful; and a man to whom Allah has given wealth, so he joins thereby his kin and womb and acts in obedience to Allah. > **"Envy is only in two cases: a man to whom Allah has given the Quran, so he stands with it, declaring its lawful lawful and its unlawful unlawful; and a man to whom Allah has given wealth, so he joins thereby his kin and acts in obedience to Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک رشک دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ، ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا ہو ‘ اور وہ اس کے ساتھ مصروف رہتا ہو ‘ وہ اس کے ساتھ مصروف رہے ‘ اس کے حلال کو حلال قرار دے اور اس کے حرام کو حرام قرار دے اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہو ‘ وہ اس کے ذریعے اپنے قریبی عزیزوں اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے ‘ اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری والا عمل کرے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی روح بن صلاح ہے ‘ جسے ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور ابن حبان نے ” ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ امام حاکم کہتے ہیں : یہ مامون ہے ۔

3543

Majma al-Zawaid #3543

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا: "" «لَيْسَ فِي الدُّنْيَا حَسَدٌ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: الرَّجُلُ يُغْبَطُ أَنْ يُعْطِيَهُ اللَّهُ الْمَالَ الْكَثِيرَ فَيُنْفِقُ مِنْهُ فَيُكْثِرُ النَّفَقَةَ يَقُولُ الْآخَرُ: لَوْ كَانَ لِي مَالٌ لَأَنْفَقْتُهُ مِثْلَمَا يُنْفِقُ هَذَا وَأَحْسَنُ فَهُوَ يَحْسُدُهُ، وَرَجُلٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَيَقُومُ اللَّيْلَ وَرَجُلٌ إِلَى جَنْبِهِ لَا يَعْلَمُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَحْسُدُهُ عَلَى قِيَامِهِ وَعَلَى مَا عَلَّمَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْقُرْآنَ فَيَقُولُ: لَوْ عَلَّمَنِي اللَّهُ مِثْلَ هَذَا لَقُمْتُ مِثْلَ مَا يَقُومُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِي إِسْنَادِهِ بَعْضُ ضَعْفٍ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ used to say to them that there is no envy in the world except in two cases: that a man envies one to whom Allah has given abundant wealth which he spends profusely, so the other says that had he wealth he would spend like this man spends and better, thus envying him; and that a man recites the Quran and stands at night with it while a man beside him knows not the Quran, so he envies him for his standing and for what Allah Almighty taught him of the Quran, saying that had Allah taught him the like he would stand as he stands. > **"There is no envy in the world except in two cases: a man to whom Allah gives abundant wealth which he spends profusely, so another says, Had I wealth I would spend as this man spends and better; and a man who recites the Quran and stands at night with it, so one beside him who knows not the Quran envies him for his standing and for what Allah Almighty taught him of the Quran, saying, Had Allah taught me the like I would stand as he stands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہم سے یہ فرماتے تھے : ’’ دنیا میں رشک صرف دو آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ‘ یہ کہ آدمی ایسے شخص پر رشک کرے جس کو اللہ تعالیٰ نے بہت سا مال دیا ہو ‘ اور وہ شخص اس مال میں سے ( اللہ تعالیٰ کی راہ میں ) خرچ کرتا ہو اور بکثرت خرچ کرتا ہو ‘ تو دوسرا شخص یہ کہے : کہ اگر میرے پاس بھی مال ہوتا ، تو میں بھی اُسے اسی طرح خرچ کرتا ، جس طرح یہ شخص خرچ کرتا ہے ‘ تو یوں آدمی اس پر رشک کا اظہار کرے ‘ اور ایک وہ شخص جو قرآن پڑھتا ہو اور رات کو اس کو نوافل میں پڑھتا ہو ‘ دوسرا شخص جو اُس کے پہلو میں موجود ہو ‘ وہ قرآن کا علم نہ رکھتا ہو ‘ وہ اس پر رشک کرتے ہوئے یہ سوچے کہ وہ قیام کرتا ہے ‘ اور اللہ تعالی نے جو علم عطا کیا ہے ‘ اس کے حوالے سے اس پر رشک کرے اور یہ کہے کہ اگر اللہ تعالی نے مجھے بھی اس کی مانند علم عطا کیا ہوتا ، تو میں بھی اسی طرح نوافل ادا کرتا ‘ جس طرح یہ شخص ادا کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں بعض ایسے راوی ہیں جنہیں ضعیف قرار دیا گیا ہے یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

3544

Majma al-Zawaid #3544

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَنَافُسَ بَيْنِكُمْ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ قُرْآنًا فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَيَتَّبِعُ مَا فِيهِ فَيَقُولُ رَجُلٌ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَقُومُ بِهِ كَمَا يَقُومُ بِهِ، وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ وَيَتَصَدَّقُ فَيَقُولُ رَجُلٌ مِثْلَ تِلْكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn al-Akhnas رضي الله عنه, who had companionship, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that there is no rivalry among them except in two cases: a man to whom Allah has given the Quran, so he stands with it through the hours of night and day and follows what is in it, whereupon another says that had Allah given him what He gave so-and-so he would stand with it as he stands with it; and a man to whom Allah has given wealth which he spends and gives in charity, whereupon another says the like. > **"There is no rivalry among you except in two cases: a man to whom Allah has given the Quran, so he stands with it through the hours of the night and day and follows what is in it, so a man says, Had Allah given me what He gave so-and-so I would stand with it as he stands with it; and a man to whom Allah has given wealth, so he spends and gives charity, so a man says the like."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ رشک صرف دو طرح کے آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ‘ ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کا علم عطا کیا ہو اور وہ رات دن اس کے ساتھ مصروف رہتا ہو ‘ اور اس میں موجود احکام کی پیروی کرتا ہو ‘ تو آدمی یہ کہے : کہ اللہ تعالی نے اگر مجھے بھی وہ چیز عطا کی ‘ جو اس نے فلاں کو عطا کی ہے ‘ تو میں اس کے ساتھ اسی طرح مصروف رہوں گا ، جس طرح یہ شخص اس کے ساتھ مصروف رہتا ہے ‘ اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالی نے مال عطا کیا ہو ‘ اور وہ شخص اس کو خرچ کرتا ہو اور صدقہ کرتا ہو ‘ تو ( اس کو دیکھ کر رشک کرنے والا ) آدمی اس کی مانند بات کہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3545

Majma al-Zawaid #3545

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَتْلُوهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا لَفَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُهُ فِي حَقِّهِ فَهُوَ يَقُولُ: لَوْ أُوتِيتُ مِثْلَ مَا أُوتِيَ هَذَا لَفَعَلْتُ كَمَا يَفْعَلُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Said رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that there is no envy except in two cases: a man to whom Allah has given the Quran which he recites through the hours of night and day, so another says that had he been given the like of what this man was given he would do as he does; and a man to whom Allah has given wealth which he spends in its right, so another says that had he been given the like of what this man was given he would do as he does. > **"There is no envy except in two cases: a man to whom Allah has given the Quran, so he recites it through the hours of the night and day, and another says, Had I been given the like of what this man was given I would do as he does; and a man to whom Allah has given wealth, so he spends it in its right, and another says, Had I been given the like of what this man was given I would do as he does."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ رشک صرف دو طرح کے آدمیوں پر کیا جا سکتا ہے ، ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا ہو ‘ تو وہ رات دن اس کی تلاوت کرتا رہتا ہو ‘ تو دوسرا آدمی یہ کہے : کہ اگر مجھے بھی اس کی مانند دیا گیا ہوتا ‘ جو اس شخص کو دیا گیا ہے ‘ تو میں نے ویسا ہی کرنا تھا ، جس طرح یہ کرتا ہے ‘ اور ایک وہ شخص ‘ جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا اور وہ حق میں اس کو خرچ کرتا ہو ‘ تو دوسرا شخص یہ کہے : اگر مجھے بھی وہ چیز دی گئی ہوتی ، جو اس کو دی گئی ہے ‘ تو میں بھی ویسا ہی کرتا جس طرح یہ کرتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

3546

Majma al-Zawaid #3546

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فَقَالَ: زَرَعَ فَلَانٌ زَرْعًا فَأَضْعَفَ، أَوْ كَمَا قَالَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَمَا ذَاكَ؟! رَكْعَتَانِ خَفِيفَتَانِ خَيْرٌ لَكَ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا عَلَيْهَا، وَلَوْ أَنَّكُمْ تَفْعَلُونَ كُلَّ مَا أُمِرْتُمْ بِهِ لَأَكَلْتُمْ غَيْرَ وُزَعَاءَ وَلَا أَشْقِيَاءَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زَحْرٍ وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that a man of the Ansar came to the Messenger of Allah ﷺ while Abu Bakr رضي الله عنه and Umar رضي الله عنه were with him, and mentioned that so-and-so had sown a crop which had multiplied, or as he said, whereupon the Messenger of Allah ﷺ asked what that amounts to, and explained that two light rakahs are better for him than all of that, the world and what is upon it, and that had they done all they were commanded they would eat amply without wretchedness. > **"What is that? Two light rakahs are better for you than all of that, the world and what is upon it. Had you done all you are commanded, you would eat amply without wretchedness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ‘ اُس شخص نے عرض کی : فلاں شخص نے کاشت کاری کی تھی ، تو اسے دگنی پیداوار نصیب ہوئی ہے یا جس طرح بھی اس نے کہا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ کیا چیز ہے ؟ دو مختصر رکعات تمہارے لئے ‘ ان سب چیزوں سے زیادہ بہتر ہیں ، جن کا تعلق دنیا سے ہے ‘ یا جو کچھ اس پر موجود ہے ‘ اور اگر تم ہر وہ کام کرنے لگو ‘ جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ‘ ( یہاں معجم طبرانی کے مطبوعہ نسخے میں یہ الفاظ ہیں : «غيراء زرعا ولا اشقياء ) تو تم بد نصیب ہوئے بغیر ‘ بھر پور طریقے سے کھاؤ ( یعنی تمہیں بہت زیادہ رزق نصیب ہو ) ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن زحر اور ایک راوی علی بن یزید ہے ‘ اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

3547

Majma al-Zawaid #3547

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ لَا يَكَادُ يَصُومُ وَقَالَ: إِنِّي إِذَا صُمْتُ ضَعُفْتُ عَنِ الصَّلَاةِ وَالصَّلَاةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الصِّيَامِ، فَإِنْ صَامَ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي بَعْضِ طُرُقِهِ: وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي الضُّحَى.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه would hardly ever fast, saying that when he fasted he grew weak for prayer, and prayer was more beloved to him than fasting, though when he did fast he fasted three days of the month.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ زیادہ روزے نہیں رکھتے تھے ‘ وہ فرماتے تھے : اگر میں روزے رکھوں گا ‘ تو نماز کے حوالے سے کمزور ہو جاؤں گا ‘ ( نفلی ) نماز ادا کرنا میرے نزدیک ( نفلی ) روزہ رکھنے سے زیادہ محبوب ہے ‘ اگر وہ روزے رکھتے بھی تھے ‘ تو ہر مہینے میں تین روزے رکھ لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ ہیں :’’ وہ چاشت کی نماز ادا نہیں کرتے تھے ‘‘۔

3548

Majma al-Zawaid #3548

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ صَائِمًا قَطُّ إِلَّا يَوْمَيْنِ إِلَّا رَمَضَانَ قَالَ: لَا أَدْرِي مَا شَأْنُ ذَيْنِكَ الْيَوْمَيْنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abu Ubaydah reports from his mother that she never saw Abdullah fasting at all except two days besides Ramadan, and the narrator said he does not know what was the matter of those two days.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبیدہ ‘ اپنی والدہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو نماز کے علاوہ ( اور کسی بھی مہینے میں ) صرف دو روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے ‘ راوی کہتے ہیں : مجھے نہیں معلوم کہ اُن دو دنوں کا معاملہ کیا تھا ؟ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا ہے ۔

3549

Majma al-Zawaid #3549

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ: اخْتَلَفْتُ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ سَنَةً فَمَا رَأَيْتُهُ صَائِمًا قَطُّ إِلَّا فِي رَمَضَانَ، وَكَانَ يَشْرَبُ النَّبِيذَ الشَّدِيدَ فِي جِرَارٍ خُضْرٍ. وَإِسْنَادُهُ فِيهِ عِصْمَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَعَمُّ الشَّعْبِيِّ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا.

EnglishUnverified translation

Al-Shabi reports from his uncle that he frequented Ibn Masud for a year and never saw him fasting at all except in Ramadan, and that he would drink strong nabidh from green jars.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی نے ‘ اپنے چچا کا یہ بیان نقل کیا ہے : ایک سال تک میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آتا جاتا رہا ، میں نے انہیں رمضان کے علاوہ اور کسی بھی مہینے میں ( نفلی ) روزے رکھتے ہوئے نہیں پایا ‘ وہ سبز گھڑے میں تیار ہونے والی تیز نبیذ پی لیتے تھے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی عصمہ بن سلیمان ہے ‘ اور ایک راوی امام شعبی کا چچا ہے ‘ میں نے کسی کو ان دونوں کے حالات کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

3550

Majma al-Zawaid #3550

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: الصَّلَاةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الصَّوْمِ وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي الضُّحَى. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masud رضي الله عنه said that prayer is more beloved to him than fasting, and the narrator states that he would not pray Duha.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نماز ادا کرنا ‘ میرے نزدیک روزہ رکھنے سے زیادہ پسندیدہ ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) وہ چاشت کی نماز ادا نہیں کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بکیر بن عامر ہے ‘ جسے امام احمد نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔

3551

Majma al-Zawaid #3551

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّكَ مَا كُنْتَ فِي صَلَاةٍ فَإِنَّكَ تَقْرَعُ بَابَ الْمَلِكِ، وَمَنْ يُكْثِرُ قَرْعَ بَابِ الْمَلِكِ يُوشِكُ أَنْ يُفْتَحَ لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said that so long as one is in prayer one knocks at the door of the King, and whoever knocks frequently at the door of the King, it is soon opened for him. > **"So long as you are in prayer, you knock at the door of the King, and whoever knocks frequently at the door of the King, it is soon opened for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب تک تم نماز کی حالت میں ہوتے ہو ‘ تو تم بادشاہ کے دروازے کو کھٹکھٹا رہے ہوتے ہو اور جو شخص بادشاہ کے دروازے کو بکثرت کھٹکھٹاتا رہتا ہے ‘ تو آخرکار وہ دروازہ اس کے لئے کھول دیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3552

Majma al-Zawaid #3552

وَلِابْنِ مَسْعُودٍ عِنْدَهُ أَيْضًا: مَثَلُ الَّذِي يُدِيمُ الصَّلَاةَ مَثَلُ الَّذِي يَقْرَعُ الْبَابَ وَمِنْ يُدِيمُ قَرْعَ الْبَابِ يُوشِكُ أَنْ يُفْتَحَ لَهُ.

EnglishUnverified translation

From Ibn Masud رضي الله عنه it is also reported that the parable of one who persists in prayer is like one who knocks at a door, and whoever persists in knocking, it is soon opened for him. > **"The parable of one who persists in prayer is like one who knocks at a door, and whoever persists in knocking, it is soon opened for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام طبرانی نے ‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت بھی نقل کی ہے : ’’ جو شخص باقاعدگی سے ( نفل ) نماز ادا کرتا ہے ‘ اس کی مثال اس شخص کی مانند ہے ‘ جو دروازہ کھٹکھٹاتا رہتا ہے ‘ جو شخص باقاعدگی سے کھٹکھٹاتا رہتا ہے ‘ تو وہ ( دروازہ ) اس کے لئے کھول دیا جاتا ہے ‘‘۔

3553

Majma al-Zawaid #3553

وَعَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَا يُصَلِّي الضُّحَى وَيُصَلِّي مَا بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ مَعَ عَقَبَةٍ مِنَ اللَّيْلِ طَوِيلَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Al-Shabi said that Ibn Masud رضي الله عنه would not pray Duha, but would pray between Zuhr and Asr, along with a long portion of the night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام شعبی فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چاشت کی نماز ادا نہیں کرتے تھے ‘ وہ ظہر اور عصر کے درمیان نماز ادا کرتے تھے ‘ اور رات کے وقت طویل ( نفل ) نماز ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3554

Majma al-Zawaid #3554

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي حَمْلَةَ وَالْأَوْزَاعِيِّ قَالَا: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْجُدُ كُلَّ يَوْمٍ أَلْفَ سَجْدَةٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Hamlah and al-Awzai said that Abdullah ibn Abbas رضي الله عنهما would prostrate a thousand prostrations every day.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن ابوحملہ اور امام اوزاعی فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روزانہ ایک ہزار سجدے کیا کرتے تھے ( شاید اس سے مراد یہ ہے ‘ ایک ہزار رکعت ادا کرتے تھے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند منقطع ہے ۔

3555

Majma al-Zawaid #3555

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي بِاللَّيْلِ فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ!! قَالَ: "" يَنْهَاهُ مَا يَقُولُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that a man came to the Prophet ﷺ and said that so-and-so prays at night but steals when morning comes, whereupon he replied that what he says, meaning his prayer, will prevent him. > **"What he says will prevent him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : فلاں شخص رات کو نوافل ادا کرتا ہے ، لیکن جب صبح ہوتی ہے ‘ تو وہ چوری کر لیتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جو ( نماز ) وہ پڑھتا ہے وہ اسے ( چوری سے ) روک دے گی “۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3556

Majma al-Zawaid #3556

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنَّ فُلَانًا يُصَلِّي فَإِذَا أَصْبَحَ سَرَقَ قَالَ: "" سَيَنْهَاهُ مَا يَقُولُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that a man said to the Prophet ﷺ that so-and-so prays but steals when morning comes, whereupon he replied that what he says, meaning his prayer, will soon prevent him. > **"What he says will soon prevent him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : فلاں شخص ( رات کے وقت نفل نماز ) نماز ادا کرتا ہے ‘ جب صبح ہوتی ہے ‘ تو وہ چوری کر لیتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو ( نماز ) وہ پڑھتا ہے ‘ وہ عنقریب اسے ( چوری کرنے سے ) روک دے گی “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3557

Majma al-Zawaid #3557

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ لَمْ تَنْهَهُ صَلَاتُهُ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ لَمْ يَزْدَدْ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever is not forbidden by his prayer from indecency and wrongdoing only increases in distance from Allah. > **"Whoever is not forbidden by his prayer from indecency and wrongdoing only increases in distance from Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جس شخص کی نماز اُسے برائی اور منکر چیزوں سے نہیں روکتی ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ تاہم وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

3558

Majma al-Zawaid #3558

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ لَمْ تَأْمُرْهُ صَلَاتُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَهُ عَنِ الْمُنْكَرِ لَمْ يَزْدَدْ مِنَ اللَّهِ إِلَّا بُعْدًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said that whoever is not commanded by his prayer to good nor forbidden by it from wrongdoing only increases in distance from Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس شخص کی نماز اسے نیکی کا حکم نہیں دیتی اور اسے برائی سے منع نہیں کرتی ‘ وہ اللہ تعالیٰ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3559

Majma al-Zawaid #3559

عَنْ وَاقِدٍ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَطَاعَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَدْ ذَكَرَهُ وَإِنْ قَلَّتْ صَلَاتُهُ وَصِيَامُهُ وَتِلَاوَتُهُ الْقُرْآنَ، وَمَنْ عَصَى اللَّهَ لَمْ يَذْكُرْهُ وَإِنْ كَثُرَتْ صَلَاتُهُ وَصِيَامُهُ وَتِلَاوَتُهُ الْقُرْآنَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْهَيْثَمُ بْنُ جِمَازٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Waqid, freedman of the Messenger of Allah ﷺ, reports from the Messenger of Allah ﷺ that whoever obeys Allah Almighty has indeed remembered Him, even if his prayer, fasting, and recitation of the Quran are little, and whoever disobeys Allah has not remembered Him, even if his prayer, fasting, and recitation of the Quran are abundant. > **"Whoever obeys Allah Almighty has indeed remembered Him, even if his prayer, fasting, and recitation of the Quran are little, and whoever disobeys Allah has not remembered Him, even if his prayer, fasting, and recitation of the Quran are abundant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واقد رضی اللہ عنہ ‘ جو نبی اکرم ﷺ کے غلام ہیں ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کرتا ہے ‘ وہ گویا اس کا ذکر کرتا ہے ‘ اگرچہ اس کی ( نفلی ) نماز ‘ یا روزہ ‘ یا قرآن کی تلاوت کم ہو ‘ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتا ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا ‘ اگرچہ اس کی نماز ‘ روزہ اور قرآن کی تلاوت زیادہ ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ہیثم بن جماز ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔