وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَوَقَفَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ: "" مَا لَكِ يَا كَحِيلَةُ مُتَبَذِّلَةٌ؟ أَلَيْسَ عُثْمَانُ شَاهِدًا؟ "" قَالَتْ: بَلَى وَمَا اضْطَجَعَ عَلَى فِرَاشٍ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا وَيَصُومُ النَّهَارَ فَلَا يُفْطِرُ فَقَالَ: "" مُرِيهِ أَنْ يَأْتِيَنِي "" فَلَمَّا جَاءَ قَالَتْ لَهُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَبَكَى ثُمَّ قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ بَلَغَكَ عَنِّي أَمْرٌ! قَالَ: "" أَنْتَ الَّذِي تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ لَا يَقَعُ جَنْبُكَ عَلَى فِرَاشٍ؟ "" قَالَ عُثْمَانُ: قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لِعَيْنِكَ حَظٌّ وَلِجَسَدِكَ حَظٌّ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَائْتِ زَوْجَكَ فَإِنِّي أَنَا أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَنَامُ وَأُصَلِّي وَآتِي النِّسَاءَ فَمَنْ أَخَذَ بِسُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى، وَمَنْ تَرَكَهَا ضَلَّ، وَإِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَإِذَا كَانَتِ الْفَتْرَةُ إِلَى الْغَفْلَةِ فَهِيَ الْهَلَكَةُ وَإِذَا كَانَتِ الْفَتْرَةُ إِلَى الْفَرِيضَةِ فَلَا يَضُرُّ صَاحِبَهَا شَيْئًا، فَخُذْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُ فَإِنِّي إِنَّمَا بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ فَلَا تُثْقِلْ عَلَيْكَ عِبَادَةَ رَبِّكَ لَا تَدْرِي مَا طُولُ عُمُرِكَ؟» "" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ تُشْبِهُ هَذَا فِي النِّكَاحِ.
EnglishUnverified translation
Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ came out of the house of Uthman ibn Mazun رضي الله عنه and stood at the door, asking Kahilah why she appeared dishevelled and whether Uthman was not present. She replied that he was, but that he had not lain upon a bed for such and such a time and fasts the day without breaking fast. He told her to order him to come to him. When Uthman came and she informed him, he set out to the Prophet ﷺ, found him in the mosque, sat beside him, but the Prophet ﷺ turned away from him. He wept, then said that he knew something concerning him had reached him. He asked whether he is the one who fasts the day and stands the night with his side never touching a bed. Uthman replied that he had done that seeking good, whereupon the Prophet ﷺ reminded him of the shares of his eye, body, and wife, commanded moderation in fasting, sleeping, standing, and approaching his wife, citing his own practice of fasting and breaking fast, sleeping and praying, and approaching women, and explaining that whoever takes his Sunnah is guided and whoever abandons it is astray. He further explained that every deed has ardour and every ardour has lassitude, so lassitude toward heedlessness is ruin, while lassitude toward the obligatory harms not its companion, and enjoined taking of deeds what one can bear, for he was sent with the upright easy creed, so one must not burden oneself in the worship of one's Lord, for one knows not the length of one's life. > **"Your eye has a share, and your body has a share, and your wife has a share. So fast and break fast, sleep and stand, and approach your wife. For I fast and break fast, sleep and pray, and approach women. Whoever takes my Sunnah is guided, and whoever abandons it is astray. Take of deeds what you can bear, for I was sent with the upright easy creed, so do not burden yourself in the worship of your Lord, for you know not the length of your life."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے گھر سے باہر نکلے اور دروازے پر ٹھہر گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا : اے کہیلہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ تمہاری حالت اتنی خراب کیوں ہے ؟ کیا عثمان گھر میں موجود نہیں ہے ؟ اس خاتون نے عرض کی : جی ہاں ! وہ اتنے ‘ اتنے عرصے سے کبھی بستر پر لیٹے نہیں ہیں ( یعنی رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں ) ‘ وہ دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہیں ، کوئی روزہ ترک نہیں کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس سے کہنا کہ وہ میرے پاس آئے ‘ جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ( گھر ) آئے ‘ تو اس خاتون نے انہیں بتایا ( کہ نبی اکرم ﷺ نے آپ کو یاد کیا ہے ) وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف روانہ ہوئے ‘ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو مسجد میں پایا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر بیٹھ گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُن سے منہ پھیر لیا ‘ وہ رونے لگے اور پھر انہوں نے کہا : مجھے یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ میرے بارے میں کوئی بات آپ تک پہنچی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم ہی وہ شخص ہو ‘ جو دن کے وقت روزہ رکھ لیتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو ؟ اور رات بھر اپنا پہلو بستر پر نہیں رکھتے ہو ؟ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے بھلائی کے حصول کے لئے ایسا کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہاری آنکھ کا بھی حصہ ہے ، تمہارے جسم کا بھی حصہ ہے ، تمہاری بیوی کا بھی حصہ ہے ، تم ( نفلی ) روزہ رکھا بھی کرو اور ترک بھی کر دیا کرو ‘ سو بھی جایا کرو اور نقل بھی پڑھ لیا کرو ‘ اپنی بیوی کے پاس بھی جایا کرو ‘ میں ( نفلی ) روزہ رکھتا بھی ہوں ، اور ترک بھی کر دیتا ہوں ‘ سوتا بھی ہوں ‘ اور ( نفل ) نماز بھی پڑھ لیتا ہوں ، اور خواتین کے ساتھ بھی رہتا ہوں ، جو شخص میری سنت کو اختیار کرے گا ‘ وہ ہدایت حاصل کر لے گا ‘ اور جو شخص اُسے ترک کرے گا ‘ وہ گمراہ ہو جائے گا ‘ ہر عمل میں ایک چستی ہوتی ہے اور ہر چستی میں سستی آ جاتی ہے ‘ تو جس شخص کی سستی غفلت کی طرف ہو گی ، تو یہ ہلاکت ہو گی ‘ اور جب سستی فرض کی طرف ہو گی ‘ تو پھر ایسا کرنے والے کو وہ کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ‘ تم اتنا عمل کرو ‘ جتنی تم طاقت رکھتے ہو ‘ کیونکہ مجھے بالکل سیدھے اور آسان راستے کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ‘ تم اپنے اوپر ‘ اپنے پروردگار کی عبادت کا بوجھ نہ لادو ‘ کیونکہ تم یہ نہیں جانتے کہ تمہاری عمر کتنی طویل ہو گی ؟“۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ میں یہ کہتا ہوں : کچھ احادیث ‘ جو اس روایت سے مشابہہ ہیں ‘ وہ نکاح سے متعلق باب میں آئیں گی ۔