Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 5 · Chapter 10

Book of the Two Eids

Hadith 3560–3599

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3560

Majma al-Zawaid #3560

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَتْ مَوْلَاةٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّهَا تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً وَالشِّرَّةُ إِلَى فَتْرَةٍ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى سُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ ضَلَّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that a freedwoman of the Prophet ﷺ would fast by day and stand at night, so it was mentioned to him that she fasts by day and stands at night, whereupon the Messenger of Allah ﷺ explained that every deed has its ardour and ardour lapses into lassitude, so whoever's lassitude tends toward his Sunnah is guided, and whoever's tends to other than that is astray. > **"Indeed for every deed there is ardour, and ardour lapses into lassitude, so whoever's lassitude is toward my Sunnah is guided, and whoever's lassitude is toward other than that is astray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ایک کنیز تھی ‘ جو دن کے وقت روزہ رکھا کرتی تھی ‘ اور رات کے وقت نوافل پڑھا کرتی تھی ‘ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی : وہ دن کے وقت روزہ رکھتی ہے ‘ اور رات کو نفل پڑھتی رہتی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر عمل میں ایک اہتمام ہوتا ہے ( یعنی آدمی اس کے لیے چاق و چوبند ہوتا ہے ‘ ) اور ہر اہتمام میں فرق ( یعنی کزوری یا کاہلی کا پہلو ) آ جاتا ہے ‘ تو جس شخص کا فرق ‘ میری سنت کی طرف ہو گا ‘ وہ ہدایت حاصل کر لے گا ‘ اور جس شخص کا فرق اس کے علاوہ ہو گا ‘ وہ گمراہ ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3561

Majma al-Zawaid #3561

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah does not tire until they tire. > **"Indeed Allah does not tire until you tire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” بے شک اللہ تعالی تھکتا نہیں ہے ‘ بلکہ تم تھک جاتے ہو “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3562

Majma al-Zawaid #3562

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَعَائِشَةَ قَالَا: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمَسْجِدَ فَإِذَا صَوْتُهُ كَدَوِيِّ النَّحْلِ [مِنْ] قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ فَقَالَ: "" إِنَّ الْإِسْلَامَ لِيَتَّسِعُ ثُمَّ تَكُونُ فَتْرَةً فَمَنْ كَانَتْ لَهُ فَتْرَةٌ إِلَى غُلُوٍّ وَبِدْعَةٍ فَأُولَئِكَ أَهْلُ النَّارِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْمُسَيَّبُ بْنُ شَرِيكٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما and Aishah رضي الله عنها report that the Messenger of Allah ﷺ entered the mosque to find a sound like the humming of bees from recitation of the Quran, whereupon he said that Islam shall indeed expand, then there shall be lassitude, so whoever's lassitude tends toward excess and innovation, those are the people of the Fire. > **"Indeed Islam shall expand, then there shall be lassitude, so whoever's lassitude is toward excess and innovation, those are the people of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ مسجد میں داخل ہوئے ‘ وہاں شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح قرآن کی تلاوت کی آواز آ رہی تھی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلام کشادہ ہو جاتا ہے ‘ پھر اس میں ضعف آ جاتا ہے ‘ تو جس شخص کا ضعف ‘ غلو اور بدعت کی طرف ہو گا ، تو وہ لوگ اہل جہنم میں سے ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن شریک ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3563

Majma al-Zawaid #3563

وَعَنْ جَعْدَةَ بْنِ هُبَيْرَةَ قَالَ: «ذُكِرَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَوْلًى لِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يُصَلِّي وَلَا يَنَامُ وَيَصُومُ وَلَا يُفْطِرُ فَقَالَ: "" أَنَا أُصَلِّي وَأَنَامُ وَأَصُومُ وَأُفْطِرُ، لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَمَنْ تَكُنْ فَتْرَتُهُ إِلَى السُّنَّةِ فَقَدِ اهْتَدَى وَمَنْ تَكُنْ إِلَى غَيْرِ ذَلِكَ فَقَدْ ضَلَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jadah ibn Hubayrah رضي الله عنه reports that a freedman of Banu Abd al-Muttalib was mentioned to the Prophet ﷺ who prayed and never slept, and fasted and never broke fast, whereupon he said that he himself prays and sleeps, fasts and breaks fast, and that for every deed there is ardour and for every ardour there is lassitude, so whoever's lassitude is toward the Sunnah is guided, and whoever's is toward other than that is astray. > **"I pray and I sleep, and I fast and I break fast. For every deed there is ardour, and for every ardour there is lassitude, so whoever's lassitude is toward the Sunnah is guided, and whoever's is toward other than that is astray."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جعدہ بن ہبیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے بنوعبدالمطلب کے غلام کا ذکر کیا گیا ‘ جو نماز پڑھتا رہتا تھا اور سوتا نہیں تھا ‘ ( نفلی ) روزے رکھتا رہتا تھا ‘ اور کوئی روزہ ترک نہیں کرتا تھا ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں ( نفلی ) نماز ادا کرتا بھی ہوں ‘ اور سو بھی جاتا ہوں ‘ میں ( نفلی ) روزہ رکھتا بھی ہوں ‘ اور ترک بھی کر دیتا ہوں ‘ ہر عمل کے لیے نشاط ( یعنی چاق و چوبند ہونے کا پہلو ) ہوتا ہے ‘ اور ہر چاق و چوبند ہونے میں ضعف ( اور تھکاوٹ کا پہلو ) آ جاتا ہے ‘ تو جس شخص کا ضعف ( یعنی عمل ترک کر دینے کا پہلو ) سنت کی طرف ہو گا ‘ وہ ہدایت حاصل کر لے گا ‘ اور جس کا اُس ( سنت ) کے علاوہ کسی اور کی طرف ہو گا ‘ وہ گمراہ ہو جائے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3564

Majma al-Zawaid #3564

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " «خُذُوا مِنَ الْعِبَادَةِ مَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْأَمُ حَتَّى تَسْأَمُوا» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that they should take of worship what they can bear, for Allah does not weary until they weary. > **"Take of worship what you can bear, for indeed Allah does not weary until you weary."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ اتنی ( نفلی ) عبادت اختیار کرو ! جس کی تم طاقت رکھتے ہو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا ہے بلکہ تم تھک جاتے ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

3565

Majma al-Zawaid #3565

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ بِمَا تُطِيقُونَ فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Imran ibn Husayn رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that they must take of deeds what they can bear, for Allah does not tire until they tire. > **"Take of deeds what you can bear, for indeed Allah does not tire until you tire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم پر اتنا عمل کرنا لازم ہے ، جس کی تم طاقت رکھتے ہو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نہیں تھکتا ہے ‘ اور تم تھک جاتے ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

3566

Majma al-Zawaid #3566

وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ النَّفْسَ مَلُولَةٌ وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي قَدْرَ الْمُدَّةِ، فَلْيَنْظُرْ مِنَ الْعِبَادَةِ مَا يُطِيقُ ثُمَّ لِيُدَاوِمْ عَلَيْهِ فَإِنَّ أَحَبَّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ مَا دِيمَ عَلَيْهِ وَإِنَّ قَلَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْجَارُودُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the soul grows weary, and none of them knows the extent of the term, so let one consider of worship what he can bear, then persist therein, for the most beloved deeds to Allah are those persisted in, even if little. > **"Indeed the soul grows weary, and none of you knows the extent of the term, so let one consider of worship what he can bear, then persist therein, for indeed the most beloved deeds to Allah are those persisted in, even if little."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک نفس ملول ہو جاتا ہے ‘ اور تم میں سے کوئی ایک بھی مدت کے بارے میں نہیں جانتا ( کہ اُسے کتنی زندگی نصیب ہوتی ہے ؟ ) تو آدمی کو عبادت کے حوالے سے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے جس کی وہ طاقت رکھ سکتا ہو ‘ پھر اُسے باقاعدگی سے کرنا چاہیے کیونکہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے پسندیدہ عمل وہ ہے ‘ جسے باقاعدگی سے کیا جائے ‘ اگر وہ تھوڑا ہو ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جارود بن یزید ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3567

Majma al-Zawaid #3567

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَصَلَّيْتُ بِصَلَاتِهِ فَلَمَّا جَلَسَ خَفَّفَ فِي قِيَامِهِ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَيُسْمِعُنِي السَّلَامَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ فَقَالَ: "" اكْلَفِي مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقِينَ "" يَقُولُهَا ثَلَاثًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reports that she saw the Messenger of Allah ﷺ praying one night, so she stood behind him and prayed with his prayer. When he sat he lightened his standing and prayed two light rakahs, then saluted, then rose and prayed two rakahs, then saluted, making her hear the salutation. Then he turned to her and thrice told her to burden herself only with deeds within her capacity. > **"Burden yourself with of deeds what you can bear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو رات کے وقت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ‘ میں آپ کے پیچھے کھڑی ہو گئی ‘ میں نے آپ ﷺ کی نماز کی پیروی میں نماز ادا کی ‘ جب نبی اکرم ﷺ بیٹھے ‘ تو آپ نے مختصر قیام کیا ، پھر آپ نے دو مختصر رکعت ادا کیں ، پھر آپ نے سلام پھیر دیا ، پھر آپ کھڑے ہو گئے ، پھر آپ نے دو رکعات ادا کیں ، پھر آپ نے سلام پھیر دیا ‘ آپ نے سلام کی آواز مجھ تک پہنچائی ، پھر آپ ﷺ میری طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا : ’’ اتنے عمل کا خود کو پابند کرو ‘ جس کی تم طاقت رکھتی ہو ‘‘ یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3568

Majma al-Zawaid #3568

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمًا يَجْتَهِدُونَ فِي الْعِبَادَةِ اجْتِهَادًا شَدِيدًا فَقَالَ: "" تِلْكَ ضَرُورَةُ الْإِسْلَامِ وَشِرَّتُهُ وَلِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةٌ فَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى اقْتِصَادٍ فَنِعْمَ مَا هُوَ، وَمَنْ كَانَتْ فَتْرَتُهُ إِلَى الْمَعَاصِي فَأُولَئِكَ هُمُ الْهَالِكُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ وَقَدْ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ فَذَهَبَ التَّدْلِيسُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Amr رضي الله عنهما reports that some people who strove strenuously in worship were mentioned before the Prophet ﷺ, whereupon he said that it is the ardour of Islam and its zeal, and for every deed there is zeal, so whoever's lassitude tends toward moderation, how excellent it is, and whoever's lassitude tends toward sins, those are the destroyed. > **"That is the need of Islam and its zeal, and for every deed there is zeal, so whoever's lassitude is toward moderation, how excellent it is, and whoever's lassitude is toward sins, those are the destroyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے کچھ لوگوں کا ذکر کیا گیا ‘ جو بہت اہتمام کے ساتھ عبادت کرتے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ اسلام کی ضرورت اور اس کے لیے نشاط ( یعنی چاق و چوبند ہونا ) ہے ‘ اور ہر نشاط میں کسلمندی آ جاتی ہے ‘ تو جس شخص کا ( کسلمندی کی وجہ سے عمل کو ) ترک کرنا ‘ میانہ روی کی طرف ہو گا ‘ تو یہ اچھی چیز ہو گی ‘ اور جس شخص کا ( کسلمندی کی وجہ سے عمل کو ) ترک کرنا گناہ کی طرف ہو گا ، تو یہی لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ امام احمد نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ امام احمد کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ‘ ابن اسحاق نے یہ بات بیان کی ہے : ابوزبیر نے مجھے حدیث بیان کی ‘ تو اس طرح تدلیس ختم ہو جاتی ہے ۔

3569

Majma al-Zawaid #3569

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْتِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ فَوَقَفَ عَلَى الْبَابِ فَقَالَ: "" مَا لَكِ يَا كَحِيلَةُ مُتَبَذِّلَةٌ؟ أَلَيْسَ عُثْمَانُ شَاهِدًا؟ "" قَالَتْ: بَلَى وَمَا اضْطَجَعَ عَلَى فِرَاشٍ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا وَيَصُومُ النَّهَارَ فَلَا يُفْطِرُ فَقَالَ: "" مُرِيهِ أَنْ يَأْتِيَنِي "" فَلَمَّا جَاءَ قَالَتْ لَهُ فَانْطَلَقَ إِلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ إِلَيْهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَبَكَى ثُمَّ قَالَ: قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ بَلَغَكَ عَنِّي أَمْرٌ! قَالَ: "" أَنْتَ الَّذِي تَصُومُ النَّهَارَ وَتَقُومُ اللَّيْلَ لَا يَقَعُ جَنْبُكَ عَلَى فِرَاشٍ؟ "" قَالَ عُثْمَانُ: قَدْ فَعَلْتُ ذَلِكَ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لِعَيْنِكَ حَظٌّ وَلِجَسَدِكَ حَظٌّ، فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَنَمْ وَقُمْ وَائْتِ زَوْجَكَ فَإِنِّي أَنَا أَصُومُ وَأُفْطِرُ وَأَنَامُ وَأُصَلِّي وَآتِي النِّسَاءَ فَمَنْ أَخَذَ بِسُنَّتِي فَقَدِ اهْتَدَى، وَمَنْ تَرَكَهَا ضَلَّ، وَإِنَّ لِكُلِّ عَمَلٍ شِرَّةً وَلِكُلِّ شِرَّةٍ فَتْرَةٌ فَإِذَا كَانَتِ الْفَتْرَةُ إِلَى الْغَفْلَةِ فَهِيَ الْهَلَكَةُ وَإِذَا كَانَتِ الْفَتْرَةُ إِلَى الْفَرِيضَةِ فَلَا يَضُرُّ صَاحِبَهَا شَيْئًا، فَخُذْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُ فَإِنِّي إِنَّمَا بُعِثْتُ بِالْحَنِيفِيَّةِ السَّمْحَةِ فَلَا تُثْقِلْ عَلَيْكَ عِبَادَةَ رَبِّكَ لَا تَدْرِي مَا طُولُ عُمُرِكَ؟» "" رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ تُشْبِهُ هَذَا فِي النِّكَاحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ came out of the house of Uthman ibn Mazun رضي الله عنه and stood at the door, asking Kahilah why she appeared dishevelled and whether Uthman was not present. She replied that he was, but that he had not lain upon a bed for such and such a time and fasts the day without breaking fast. He told her to order him to come to him. When Uthman came and she informed him, he set out to the Prophet ﷺ, found him in the mosque, sat beside him, but the Prophet ﷺ turned away from him. He wept, then said that he knew something concerning him had reached him. He asked whether he is the one who fasts the day and stands the night with his side never touching a bed. Uthman replied that he had done that seeking good, whereupon the Prophet ﷺ reminded him of the shares of his eye, body, and wife, commanded moderation in fasting, sleeping, standing, and approaching his wife, citing his own practice of fasting and breaking fast, sleeping and praying, and approaching women, and explaining that whoever takes his Sunnah is guided and whoever abandons it is astray. He further explained that every deed has ardour and every ardour has lassitude, so lassitude toward heedlessness is ruin, while lassitude toward the obligatory harms not its companion, and enjoined taking of deeds what one can bear, for he was sent with the upright easy creed, so one must not burden oneself in the worship of one's Lord, for one knows not the length of one's life. > **"Your eye has a share, and your body has a share, and your wife has a share. So fast and break fast, sleep and stand, and approach your wife. For I fast and break fast, sleep and pray, and approach women. Whoever takes my Sunnah is guided, and whoever abandons it is astray. Take of deeds what you can bear, for I was sent with the upright easy creed, so do not burden yourself in the worship of your Lord, for you know not the length of your life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے گھر سے باہر نکلے اور دروازے پر ٹھہر گئے ، آپ ﷺ نے فرمایا : اے کہیلہ ! تمہیں کیا ہوا ہے ؟ تمہاری حالت اتنی خراب کیوں ہے ؟ کیا عثمان گھر میں موجود نہیں ہے ؟ اس خاتون نے عرض کی : جی ہاں ! وہ اتنے ‘ اتنے عرصے سے کبھی بستر پر لیٹے نہیں ہیں ( یعنی رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں ) ‘ وہ دن کے وقت نفلی روزہ رکھ لیتے ہیں ، کوئی روزہ ترک نہیں کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس سے کہنا کہ وہ میرے پاس آئے ‘ جب حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ ( گھر ) آئے ‘ تو اس خاتون نے انہیں بتایا ( کہ نبی اکرم ﷺ نے آپ کو یاد کیا ہے ) وہ نبی اکرم ﷺ کی طرف روانہ ہوئے ‘ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو مسجد میں پایا ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر بیٹھ گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے اُن سے منہ پھیر لیا ‘ وہ رونے لگے اور پھر انہوں نے کہا : مجھے یہ بات پتہ چل گئی ہے کہ میرے بارے میں کوئی بات آپ تک پہنچی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم ہی وہ شخص ہو ‘ جو دن کے وقت روزہ رکھ لیتے ہو اور رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہو ؟ اور رات بھر اپنا پہلو بستر پر نہیں رکھتے ہو ؟ حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے بھلائی کے حصول کے لئے ایسا کیا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہاری آنکھ کا بھی حصہ ہے ، تمہارے جسم کا بھی حصہ ہے ، تمہاری بیوی کا بھی حصہ ہے ، تم ( نفلی ) روزہ رکھا بھی کرو اور ترک بھی کر دیا کرو ‘ سو بھی جایا کرو اور نقل بھی پڑھ لیا کرو ‘ اپنی بیوی کے پاس بھی جایا کرو ‘ میں ( نفلی ) روزہ رکھتا بھی ہوں ، اور ترک بھی کر دیتا ہوں ‘ سوتا بھی ہوں ‘ اور ( نفل ) نماز بھی پڑھ لیتا ہوں ، اور خواتین کے ساتھ بھی رہتا ہوں ، جو شخص میری سنت کو اختیار کرے گا ‘ وہ ہدایت حاصل کر لے گا ‘ اور جو شخص اُسے ترک کرے گا ‘ وہ گمراہ ہو جائے گا ‘ ہر عمل میں ایک چستی ہوتی ہے اور ہر چستی میں سستی آ جاتی ہے ‘ تو جس شخص کی سستی غفلت کی طرف ہو گی ، تو یہ ہلاکت ہو گی ‘ اور جب سستی فرض کی طرف ہو گی ‘ تو پھر ایسا کرنے والے کو وہ کوئی نقصان نہیں پہنچائے گی ‘ تم اتنا عمل کرو ‘ جتنی تم طاقت رکھتے ہو ‘ کیونکہ مجھے بالکل سیدھے اور آسان راستے کے ہمراہ مبعوث کیا گیا ہے ‘ تم اپنے اوپر ‘ اپنے پروردگار کی عبادت کا بوجھ نہ لادو ‘ کیونکہ تم یہ نہیں جانتے کہ تمہاری عمر کتنی طویل ہو گی ؟“۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ میں یہ کہتا ہوں : کچھ احادیث ‘ جو اس روایت سے مشابہہ ہیں ‘ وہ نکاح سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

3570

Majma al-Zawaid #3570

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا تُغَالَبُوا هَذَا اللَّيْلَ فَإِنَّكُمْ لَنْ تُطِيقُوهُ فَإِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَنْصَرِفْ إِلَى فِرَاشِهِ فَإِنَّهُ أَسْلَمُ لَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه said that they must not contend with this night, for they will never bear it, and that when one of them grows drowsy he should depart to his bed, for that is safer for him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ اس رات پر غالب آنے کی کوشش نہ کرو ( یعنی رات بھر عبادت نہ کرتے رہو ) کیونکہ تم لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے ہو ‘ جب کسی شخص کو اونگھ آ جائے ‘ تو وہ اپنے بستر کی طرف چلا جائے ‘ یہ اس کے لئے زیادہ سلامتی کا باعث ہو گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

3571

Majma al-Zawaid #3571

وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: كُنَّا إِذَا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ نَجْلِسُ بَعْدَهُ فَيَتَثَبَّتُ النَّاسُ فِي الْقِرَاءَةِ فَإِذَا قُمْنَا صَلَّيْنَا، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ: أَتُحَمِّلُونَ النَّاسَ مَا لَا يُحَمِّلُهُمُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -؟ تُصَلُّونَ فَيَرَوْنَ ذَلِكَ وَاجِبًا عَلَيْهِمْ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَفِي بُيُوتِكُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Masruq said that when Abdullah rose they would remain sitting after him, with people firming their recitation, and when they rose they prayed, until news of that reached him. When they entered upon him he asked whether they burden people with what Allah Almighty has not burdened them, praying in such a manner that people deem it obligatory upon them, and told them that if they must do so, it should be in their houses.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے اُٹھ جانے کے بعد ہم لوگ اُن کے بعد بھی بیٹھے رہتے تھے ، کچھ لوگ قرأت کرنے میں مشغول رہتے تھے ، پھر جب ہم اٹھتے تھے ، تو نفل پڑھنے لگ پڑتے تھے ‘ انہیں جب اس بارے میں اطلاع ملی ‘ تو جب ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگوں پر وہ بوجھ لاد رہے ہو ؟ جو اللہ تعالی نے اُن پر لاگو نہیں کیا ہے ‘ تم رضی اللہ عنہ لوگ یوں ( نفل ) نماز ادا کرتے ہو کہ یہ سمجھتے ہو کہ یہ تم پر لازم ہے اگر تم لوگوں نے ایسا ضرور ہی کرنا ہے ‘ تو تم لوگ اپنے گھروں میں کیا کرو ( یعنی تم لوگ اپنے گھروں میں نوافل پڑھا کرو ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3572

Majma al-Zawaid #3572

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ: «أَنَّ رَجُلًا مَرَّ عَلَى قَوْمٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا عَلَيْهِ السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزَهُمْ قَالَ رَجُلٌ لَهُمْ مِنْهُمْ: إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا فِي اللَّهِ فَقَالَ أَهْلُ الْمَجْلِسِ: بِئْسَ وَاللَّهِ مَا قُلْتَ لَتُبَيِّنَنَّهُ قُمْ يَا فُلَانُ - رَجُلٌ مِنْهُمْ - فَأَخْبِرْهُ قَالَ: فَأَدْرَكَهُ رَسُولُهُمْ فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ فَانْصَرَفَ الرَّجُلُ حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي مَرَرْتُ بِمَجْلِسٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ فِيهِمْ فُلَانٌ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ فَرَدُّوا السَّلَامَ فَلَمَّا جَاوَزْتُهُمْ أَدْرَكَنِي رَجُلٌ مِنْهُمْ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ فُلَانًا قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُبْغِضُ هَذَا الرَّجُلَ فِي اللَّهِ، فَادْعُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَسَلْهُ عَلَى مَا يُبْغِضُنِي؟ فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَمَّا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ فَاعْتَرَفَ بِذَلِكَ وَقَالَ: لَقَدْ قُلْتُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَلِمَ تُبْغِضُهُ؟ "" قَالَ: أَنَا جَارُهُ وَأَنَا بِهِ خَابِرٌ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ صَلَّى صَلَاةً قَطُّ إِلَّا هَذِهِ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ الَّتِي يُصَلِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ: سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ رَآنِي أَخَّرْتُهَا عَنْ وَقْتِهَا أَوْ أَسَأْتُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فِيهَا؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَا قَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يَصُومُ قَطُّ إِلَّا هَذَا الشَّهْرَ الَّذِي يَصُومُهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ: سَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ رَآنِي فَرَّطْتُ فِيهِ أَوِ انْتَقَصْتُ مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَا قَالَ: وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُهُ يُعْطِي سَائِلًا قَطُّ وَلَا رَأَيْتُهُ يُنْفِقُ مِنْ مَالِهِ شَيْئًا فِي شَيْءٍ مِنْ سَبِيلِ اللَّهِ خَيْرٍ إِلَّا هَذِهِ الصَّدَقَةَ الَّتِي يُؤَدِّيهَا الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ قَالَ: فَسَلْهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ كَتَمْتُ مِنَ الزَّكَاةِ شَيْئًا قَطُّ أَوْ مَاكَسْتُ فِيهَا طَالِبَهَا؟ فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: لَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قُمْ إِنْ أَدْرِي لَعَلَّهُ خَيْرٌ مِنْكَ!» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَدْ تَقَدَّمَ وَلَكِنْ هَاهُنَا أَحْسَنُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا مُظَفَّرَ بْنَ مُدْرِكٍ وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Tufayl Amir ibn Wathilah رضي الله عنه reports that a man passed by a company, greeted them, and they returned his greeting. When he had passed them, one of them said that he dislikes this man for Allah. The assembly rebuked him and ordered him to make it clear, sending one of them to inform him. Their messenger caught up with him and told him what was said, so the man turned back until he came to the Messenger of Allah ﷺ and complained that he had passed a Muslim assembly containing so-and-so, greeted them, they returned his greeting, but then one of them informed him that so-and-so declared hatred for him for Allah, and he asked the Messenger of Allah ﷺ to summon him and ask for what he hates him. The Messenger of Allah ﷺ summoned him and questioned him about what the man had reported, and he confessed that he had indeed said it. When the Messenger of Allah ﷺ asked why he hates him, he replied that he is his neighbour and knows him well, and that by Allah he never saw him pray any prayer except the prescribed prayer which the righteous and the wicked both pray. The other man interposed asking the Messenger of Allah ﷺ to ask whether he ever saw him delay it beyond its time or perform its bowing and prostration poorly, and when the Messenger of Allah ﷺ asked him, he replied in the negative. He then said that by Allah he never saw him fast except the month which the righteous and the wicked both fast. The other man again asked that he be questioned whether he ever saw him negligent therein or detracting from its right, and he again replied in the negative. He then said that by Allah he never saw him give a beggar anything nor spend anything of his wealth in any path of good, except the charity which the righteous and the wicked both render. The other man again asked that he be questioned whether he ever concealed anything of Zakah or haggled with its collector, and he again replied in the negative, whereupon the Messenger of Allah ﷺ dismissed the accuser, expressing that he does not know, perhaps the man is better than him. > **"Arise, I do not know, perhaps he is better than you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا ‘ اُس نے ان لوگوں کو سلام کیا ان لوگوں نے اسے سلام کا جواب دیا ‘ جب وہ ان لوگوں سے آگے گزر گیا ، تو ان میں سے ایک شخص نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اس شخص کو ناپسند کرتا ہوں ‘ اہل محفل نے کہا : اللہ کی قسم ! تم نے بری بات کہی ہے ‘ تم نے یہ بات اُسے بیان کرنی تھی ‘ اے فلاں ! تم اٹھو ‘ انہوں نے اپنے میں سے ایک شخص سے یہ کہا ‘ اور اُسے اس بارے میں بتاؤ ‘ اُن لوگوں کا قاصد اس دوسرے شخص کے پاس گیا ‘ اور اسے پہلے شخص کے قول کے بارے میں بتایا ‘ تو وہ شخص وہاں سے مڑا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں لوگوں کے پاس سے گزرا ‘ جس میں فلاں شخص بھی موجود تھا ، میں نے ان لوگوں کو سلام کیا ‘ ان لوگوں نے سلام کا جواب دیا ‘ جب میں ان لوگوں سے آگے گزر گیا ، ‘ تو اُن میں سے ایک شخص میرے پاس آیا ‘ اور اس نے مجھے یہ بات بتائی کہ فلاں شخص نے یہ کہا ہے : اللہ کی قسم ! میں اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر اس شخص سے بغض رکھتا ہوں ‘ یا رسول اللہ ! آپ اُسے بلائیے ! اور اُس سے دریافت کیجئے کہ وہ کس وجہ سے مجھ سے بغض رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو بلایا اور اس سے اس چیز کے بارے میں دریافت کیا ، جو دوسرے شخص نے آپ کو بتائی تھی تو اس شخص نے اس کا اعتراف کر لیا اور یہ کہا : یا رسول اللہ ! میں نے یہ بات کہی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس سے کیوں بغض رکھتے ہو ؟ اُس شخص نے کہا : میں اس کا پڑوسی ہوں ‘ اور اس کی خبر گیری کرتا رہتا ہوں ‘ اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی بھی کوئی ( نفل ) نماز ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ یہ شخص صرف وہ فرض نماز ادا کرتا ہے ‘ جسے ہر نیک اور گنہگار ادا کر لیتا ہے ‘ تو دوسرے شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ اس سے پوچھیئے کہ اس نے کبھی مجھے دیکھا کہ میں نے نماز کو اس کے وقت سے تاخیر سے ادا کیا ہو ؟ یا میں نے رکوع یا سجدہ صیح طریقے سے نہ کیا ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے اُس سے دریافت کیا ، تو اس نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر اُس شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی بھی ( نفلی ) روزہ رکھتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ یہ صرف اُس مہینے کے روزے رکھتا ہے ‘ جس کے روزے ہر نیک اور گنہگار رکھتا ہے ‘ تو دوسرے شخص نے کہا : آپ اس سے پوچھیئے کہ کیا اس نے مجھے اس روزے کے بارے میں کبھی افراط کرتے ہوئے ‘ یا روزے کے حق میں کوئی کمی کرتے ہوئے دیکھا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص سے دریافت کیا ، تو اس شخص نے جواب دیا : جی نہیں ! پھر اس شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نے اسے کبھی بھی مانگنے والے کو کچھ دیتے ہوئے نہیں دیکھا ‘ اور نہ ہی کبھی اسے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے مال میں سے کوئی چیز اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کی ہو ‘ البتہ یہ وہ زکوۃ ادا کرتا ہے ‘ جو ہر نیک اور گنہگار ادا کرتا ہے ‘ تو دوسرے شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ اس سے پوچھیئے کہ کیا میں نے کبھی زکوۃ میں سے کوئی چیز روکی ہے ؟ یا میں نے کبھی زکوۃ وصول کرنے والے سے جھگڑا کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے اُس شخص سے دریافت کیا : تو اس نے کہا : جی نہیں ! تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اُٹھ جاؤ ! میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ ( جسے تم ناپسند کرتے ہو ) شاید تم سے بہتر ہے ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ یہ روایت اس سے پہلے گزر چکی ہے ‘ لیکن یہاں زیادہ بہتر طور پر ذکر ہوئی ہے ‘ اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، مظفر بن مدرک کا معاملہ مختلف ہے ‘ وہ ’’ ثقہ ‘‘ اور ثبت ہے ۔

3573

Majma al-Zawaid #3573

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ أَكْسَفُ أَحْوَلُ أَوْقَصُ أَحْنَفُ أَفْحَمُ أَعْسَرُ أَرْسَحُ أَفْحَجُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِمَا فَرَضَ اللَّهُ عَلَيَّ؟ فَلَمَّا أَخْبَرَهُ قَالَ: إِنِّي أُعَاهِدُ اللَّهَ أَنْ لَا أَزِيدَ عَلَى فَرِيضَةٍ قَالَ: "" لِمَ؟ "" قَالَ: لِأَنَّهُ خَلَقَنِي أَكَسَفَ أَحْوَلَ أَفْحَمَ أَعْسَرَ أَرْسَحَ أَفْحَجَ ثُمَّ أَدْبَرَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَيْنَ الْعَاتِبُ عَلَى رَبِّهِ، عَاتَبَ رَبًّا كَرِيمًا فَاعْتِبْهُ قَالَ: قُلْ لَهُ: أَلَا تَرْضَى أَنْ تُبْعَثَ فِي صُورَةِ جِبْرِيلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الرَّجُلِ فَقَالَ: "" إِنَّكَ عَاتَبْتَ رَبًّا كَرِيمًا فَأَعْتَبَكَ أَفَلَا تَرْضَى أَنْ يَبْعَثَكَ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى صُورَةِ جِبْرِيلَ؟ "" قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ!! قَالَ: فَإِنِّي أُعَاهِدُ اللَّهَ أَنْ لَا يَقْوَى جَسَدِي عَلَى شَيْءٍ يَرْضَاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا حَمَلْتُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ كَبِيرٍ اللَّيْثِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Wathilah ibn al-Asqa رضي الله عنه reports that a man of unsightly form, cross-eyed, short-necked, bandy-legged, dark, left-handed, spare in the shoulders, and wide between the knees came to the Prophet ﷺ and asked him to inform him of what Allah had made obligatory upon him. When he was informed, he pledged to Allah that he would add nothing beyond the obligation. The Prophet ﷺ asked why, and he replied that it is because his Lord created him thus afflicted. He then turned away, whereupon Jibril عليه السلام came and asked where the one displeased with his Lord is, declaring that he had reproached a Generous Lord, so He reproached him in return, and told him to say to him whether he would not be pleased to be raised on the Day of Resurrection in the form of Jibril. The Prophet ﷺ thus sent for the man and informed him that he had reproached a Generous Lord who had reproached him in return, asking whether he would not be pleased that Allah raise him on the Day of Resurrection in the form of Jibril. He replied affirmatively, O Messenger of Allah, then pledged to Allah that his body would bear whatever pleases Allah Almighty that it can bear. > **"You reproached a Generous Lord, so He reproached you in return. Would you not be pleased that Allah raises you on the Day of Resurrection in the form of Jibril?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ جو برے حال میں تھا ، بھینگا تھا ، اس کی گردن چھوٹی تھی ، لنگڑا تھا ، کالا تھا ‘ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا تھا ، اس کے کندھوں پر گوشت کم تھا ، اس کے زانوں کے درمیان کی جگہ کشادہ تھی ‘ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کیا چیز فرض قرار دی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے اسے بتایا ‘ تو اس نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کی خاطر اس کو باقاعدگی سے کروں گا ‘ اور فرض میں کوئی اضافہ نہیں کروں گا ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس نے کہا : کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے برے حال والا ‘ بھینگا ‘ کالا ‘ بائیں ہاتھ سے کام کرنے والا ‘ کندھوں پر تھوڑے گوشت والا ‘ زانوں کے درمیان کشادہ جگہ والا پیدا کیا ہے ‘ پھر وہ شخص چلا گیا ، حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : اے حضرت محمد ﷺ ! اپنے پروردگار سے ناراضگی کا اظہار کرنے والا شخص کہاں ہے ‘ اس نے کریم پروردگار پر ناراضگی کا اظہار کیا تو پروردگار نے اُس پر ناراضگی کا اظہار کیا ‘ حضرت جبرائیل نے کہا : آپ اس سے کہہ دیں کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ قیامت کے دن تمہیں حضرت جبرائیل علیہ السلام کی صورت میں زندہ کیا جائے ؟ نبی اکرم ﷺ نے اس شخص کو پیغام بھیجا اور فرمایا : تم نے کریم پروردگار پر ناراضگی کا اظہار کیا ‘ تو اُس نے تم پر ناراضگی کا اظہار کیا ، کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ‘ کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں جبرائیل کی شکل و صورت میں زندہ کرے ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! پھر اُس نے کہا : اب میں اللہ تعالیٰ کے نام پر یہ عہد کرتا ہوں کہ میرا جسم جو بھی ایسا عمل کرنے کی قوت رکھتا ہو ‘ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہو ‘ تو میں وہ کام کروں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علاء بن کثیر لیثی ہے ‘ اور وہ انتہائی ” ضعیف “ ہے ۔

3574

Majma al-Zawaid #3574

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْ ذَكَرٍ وَلَا أُنْثَى إِلَّا وَعَلَى رَأْسِهِ جَرِيرٌ مَعْقُودٌ ثَلَاثَ عُقَدٍ حِينَ يَرْقُدُ فَإِنِ اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ فَذَكَرَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ فَتَوَضَّأَ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَإِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ انْحَلَّتْ عُقَدُهُ كُلُّهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ: "" وَأَصْبَحَ نَشِيطًا قَدْ أَصَابَ خَيْرًا فَإِنْ هُوَ نَامَ لَا يَذْكُرُ اللَّهَ أَصْبَحَ عَلَيْهِ عُقَدُهُ ثَقِيلًا وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ: "" «وَإِنِ اسْتَيْقَظَ قَالَ لَهُ الشَّيْطَانُ: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ ارْقُدْ فَيَعْقِدُ الشَّيْطَانُ عَلَيْهِ الْجَرِيرَ» "".

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that there is no male nor female but upon his head is tied a cord with three knots when he sleeps. If one of them awakes and remembers Allah Almighty a knot is loosened, and when he rises and performs wudu a knot is loosened, and when he rises for prayer all his knots are loosened. In the narration of Ahmad and Abu Yala there is the addition that he rises energetic, having attained good, but if he sleeps without remembering Allah until morning, his knots remain heavy upon him. In the narration of al-Tabarani in al-Awsat there is the addition that when he awakes Satan says to him that the night is long, so sleep, and Satan ties the cord upon him. > **"There is no male nor female but upon his head is tied a cord with three knots when he sleeps. If one of you awakes and remembers Allah Almighty a knot is loosened, and when he rises and performs wudu a knot is loosened, and when he rises for prayer all his knots are loosened."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو بھی مذکر یا مونث جب سوتا ہے ‘ تو اس کے سر پر ایک رسی باندھ دی جاتی ہے ، جس میں تین گرہیں لگا دی جاتی ہیں ‘ اگر کوئی شخص بیدار ہو کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے ‘ تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ اگر وہ اُٹھ کر وضو کرے تو ایک اور گرہ کھل جاتی ہے ‘ اور اگر وہ اُٹھ کر نماز کی طرف جائے ‘ تو تمام گرہیں کھل جاتی ہیں “۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اور وہ چاق و چوبند حالت میں ہوتا ہے کہ اس نے بھلائی حاصل کر لی ہوتی ہے ‘ اور اگر وہ سویا رہے ‘ اور اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کرے ‘ یہاں تک کہ صبح ہو جائے ‘ تو اُس کی گرہیں بوجھل ہو جاتی ہیں ‘‘۔ اس روایت کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ اگر وہ بیدار ہو جائے ‘ تو شیطان اس سے کہتا ہے : آرام کرو رات بہت لمبی ہے سوئے رہو پھر شیطان اس پر گرہ لگا دیتا ہے ‘‘۔

3575

Majma al-Zawaid #3575

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: إِذَا رَقَدَ أَحَدُكُمْ عُقِدَ عَلَى رَأْسِهِ بِجَرِيرٍ فَإِنْ قَامَ فَذَكَرَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أُطْلِقَتْ وَاحِدَةٌ وَإِنْ مَضَى فَتَوَضَّأَ أُطْلِقَتِ الثَّانِيَةُ فَإِنْ مَضَى فَصَلَّى أُطْلِقَتِ الثَّالِثَةُ فَإِنِ أَصْبَحَ وَلَمْ يَقُمْ شَيْئًا مِنَ اللَّيْلِ وَلَمْ يُصَلِّ الصُّبْحَ أَصْبَحَ وَهُوَ عَلَيْهِ - يَعْنِي الْجَرِيرَ. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ مَرْفُوعًا بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurairah رضي الله عنه said that when one of you lies down to sleep, knots are tied over his head with a cord, and if he rises and remembers Allah Almighty one knot is loosened, and if he proceeds to perform ablution a second knot is loosened, and if he proceeds to pray a third knot is loosened, but if he reaches morning without having risen for anything in the night and without having prayed the dawn prayer, he reaches morning with it still upon him, meaning the cord.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب کوئی شخص سو جاتا ہے ‘ تو اس کے سر پر رسی سے گرہ لگا دی جاتی ہے ‘ اگر وہ اُٹھ کر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا ہے ‘ تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ اگر وہ جا کر وضو کرتا ہے ‘ تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے ‘ اور اگر وہ جا کر نماز ادا کرتا ہے ، تو تیسری گرہ کھل جاتی ہے ‘ اور اگر وہ ایسی حالت میں صبح کرے کہ وہ رات کو بیدار ہی نہ ہوا ہو ‘ اور اُس نے صبح کی نماز ادا نہ کی ہو ‘ تو وہ ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ رسی اُس پر ہوتی ہے ‘‘۔ راوی کہتے ہیں : اس سے مراد وہ رسی تھی ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر اختصار کے ساتھ منقول ہے ‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

3576

Majma al-Zawaid #3576

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا أَوْ إِنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فُلَانًا نَامَ الْبَارِحَةَ وَلَمْ يُصَلِّ حَتَّى أَصْبَحَ قَالَ: "" بَالَ الشَّيْطَانُ فِي أُذُنِهِ قَالَ الْحَسَنُ: إِنَّ بَوْلَهُ وَاللَّهِ ثَقِيلٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurairah رضي الله عنه reports that a man who had slept through the night without praying until morning was mentioned in the presence of the Messenger of Allah ﷺ, and Al-Hasan al-Basri remarked upon the heaviness of such urine. > **"Satan has urinated in his ear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) عرض کی : یا رسول اللہ ! فلاں شخص صبح ہونے تک سویا رہتا ہے ‘ وہ نماز ادا نہیں کرتا ، یہاں تک کہ صبح ہو جاتی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کے کان میں شیطان نے پیشاب کر دیا ہے ۔ حسن بصری کہتے ہیں : اللہ کی قسم ! اس کا پیشاب وزنی ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3577

Majma al-Zawaid #3577

وَعَنْ سَمُرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ لِلشَّيْطَانِ كَحُولًا وَلَعُوقًا فَإِذَا كَحَلَ الْإِنْسَانُ مِنْ كُحْلِهِ نَامَتْ عَيْنَاهُ عَنِ الذِّكْرِ، وَإِذَا لَعِقَهُ مِنْ لَعُوقِهِ ذَرَّبَ لِسَانَهُ بِالشَّرِّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ زَادَ فِيهِ: "" إِذَا وَضَّأَ يَدَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ، وَإِذَا وَضَّأَ يَدَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ "" وَغَيْرُ ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Samurah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke of Satan possessing a means of anointing and a means of licking, and of their effect upon remembrance and speech. > **"Satan has a kohl and a lick. When he anoints a man with his kohl, his eyes sleep away from remembrance, and when he gives him to lick from his lick, his tongue pours forth evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ شیطان کا سرمہ لگانا اور چاٹنا ہوتا ہے ‘ جب انسان اُس کا سرمہ لگاتا ہے ‘ تو اُس کی آنکھیں ذکر کو چھوڑ کر سو جاتی ہیں ‘ اور جب وہ اس کے چاٹے ہوئے میں سے چاٹتا ہے ‘ تو اُس کی زبان برائی پھیلاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک قرشی ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ اس سے پہلے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث طہارت سے متعلق کتاب میں گزر چکی ہے ‘ جس میں یہ مذکور ہے ‘ جب وہ اپنے ہاتھ کو دھوتا ہے ‘ تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ جب وہ دوسرے ہاتھ کو دھوتا ہے ، تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ اور اس طرح دیگر امور کا بیان ہے ۔

3578

Majma al-Zawaid #3578

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" «إِذَا أَرَادَ الْعَبْدُ الصَّلَاةَ مِنَ اللَّيْلِ أَتَاهُ مَلَكٌ فَقَالَ لَهُ: قُمْ فَقَدْ أَصْبَحْتَ فَصَلِّ وَاذْكُرْ رَبَّكَ، فَيَأْتِيهِ الشَّيْطَانُ فَيَقُولُ: عَلَيْكَ لَيْلٌ طَوِيلٌ وَسَوْفَ تَقُومُ، فَإِنْ قَامَ فَصَلَّى أَصْبَحَ نَشِيطًا خَفِيفَ الْجِسْمِ قَرِيرَ الْعَيْنِ، وَإِنْ هُوَ أَطَاعَ الشَّيْطَانَ حَتَّى أَصْبَحَ بَالَ فِي أُذُنِهِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ هُوَ ضَعِيفٌ. وَيَأْتِي حَدِيثُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ فِي الْعِشَارِ فِي الزَّكَاةِ.

EnglishUnverified translation

Abdullah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ described what comes to the servant who intends prayer in the night, and the contrasting calls of an angel and of Satan, and the differing morning states of obedience and disobedience. > **"When the servant intends prayer in the night, an angel comes to him and says to him: Rise, for morning has come, so pray and remember your Lord. Then Satan comes to him and says: The night is long upon you, and you will rise later. If he rises and prays, he reaches morning energetic, light in body and cool of eye, but if he obeys Satan until morning comes, Satan urinates in his ear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب بندہ رات کے وقت نماز ادا کرنے کا ارادہ کرتا ہے ‘ تو ایک فرشتہ اس کے پاس آتا ہے ‘ اور کہتا ہے : تم اُٹھ جاؤ صبح ہونے والی ہے ‘ تم نماز ادا کرو اور اپنے پروردگار کا ذکر کرو ‘ شیطان اُس کے پاس آتا ہے ‘ اور کہتا ہے : ابھی رات بہت لمبی ہے ‘ آرام کرو ‘ تم تھوڑی دیر بعد اُٹھ جانا اگر وہ اُٹھ کر نماز ادا کر لے ‘ تو ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ چاک و چوبند ہوتا ہے ‘ اور اس کا جسم ہلکا پھلکا ہوتا ہے ‘ اور اُس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہیں ‘ اور اگر وہ شیطان کی اطاعت کر لے ‘ تو صبح ہونے پر شیطان اس کے کان میں پیشاب کر دیتا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ’’ زکوۃ میں عشر وصول کرنے ‘‘ والے سے متعلق باب میں آئے گی ۔

3579

Majma al-Zawaid #3579

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: «دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَى فَاطِمَةَ مِنَ اللَّيْلِ فَأَيْقَظَنَا لِلصَّلَاةِ قَالَ: ثُمَّ رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ فَصَلَّى هَوْنًا مِنَ اللَّيْلِ فَلَمْ يَسْمَعْ لَنَا حِسًّا فَرَجَعَ إِلَيْنَا فَأَيْقَظَنَا وَقَالَ: "" قُومَا فَصَلِّيَا "" قَالَ: فَجَلَسْتُ وَأَنَا أَعْرِكُ عَيْنِي وَأَنَا أَقُولُ: إِنَّا وَاللَّهِ مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا إِنَّمَا أَنْفُسُنَا بِيَدِ اللَّهِ فَإِذَا شَاءَ أَنْ يَبْعَثَنَا بَعَثَنَا قَالَ: فَوَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَقُولُ وَيَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَى فَخْذِهِ: "" مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا مَا نُصَلِّي إِلَّا مَا كُتِبَ لَنَا، {وَكَانَ الْإِنْسَانُ أَكْثَرَ شَيْءٍ جَدَلًا} [الكهف: 54]» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ حَكِيمُ بْنُ حَكِيمِ بْنِ عُبَادَةَ ضَعَّفَهُ ابْنُ سَعْدٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ came to him and to Fatimah رضي الله عنها in the night and woke them for prayer, then returned to his house and prayed part of the night, and hearing no sound from them he returned and commanded them to rise, whereupon Ali answered while rubbing his eyes with an excuse concerning destiny, at which the Prophet ﷺ turned away striking his thigh and repeating his words and reciting a verse. > **"Rise and pray. You pray only what has been decreed for you, you pray only what has been decreed for you. And man is most contentious in disputation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ میرے پاس اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ہمیں نماز کے لئے بیدار کیا ، پھر نبی اکرم ﷺ اپنے گھر چلے گئے ، آپ رات کا کچھ حصہ نماز ادا کرتے رہے ، لیکن آپ کو ہماری طرف سے کوئی آہٹ سنائی نہیں دی ‘ تو آپ ہمارے پاس واپس آئے اور آپ نے ہمیں بیدار کیا اور ارشاد فرمایا : تم دونوں اٹھ کر نماز ادا کر لو ! حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں آنکھیں مل کر بیٹھ گیا ‘ اور میں یہ کہہ رہا تھا : اللہ کی قسم ! بے شک ہم صرف وہ نماز ادا کریں گے ‘ جو اللہ تعالیٰ نے ہمارے نصیب میں لکھی ہے ‘ کیونکہ ہماری جانیں ‘ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ، جب وہ ہمیں دوبارہ زندہ کرنا چاہتا ہے ، ہمیں زندہ ( یعنی بیدار ) کر دیتا ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ مڑ گئے ، آپ ﷺ اپنے زانوں پر ہاتھ مارتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے : ہم صرف وہ نماز ادا کریں گے ‘ جو ہمارے نصیب میں لکھی ہے ، ہم صرف وہ نماز ادا کریں گے ‘ جو ہمارے نصیب میں لکھی ہے ’’ بے شک انسان بہت زیادہ بحث کرنے والا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حکیم بن حکیم بن عبادہ ہے ‘ جسے ابن سعد نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اور ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3580

Majma al-Zawaid #3580

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ رَجُلٍ يَسْتَيْقِظُ مِنَ اللَّيْلِ فَيُوقِظُ امْرَأَتَهُ فَإِنْ غَلَبَهَا النَّوْمُ نَضَحَ فِي وَجْهِهَا مِنَ الْمَاءِ فَيَقُومَانِ فِي بَيْتِهِمَا فَيَذْكُرَانِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - سَاعَةً مِنْ لَيْلٍ إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik al-Ashari رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ spoke of the forgiveness granted to a man who rises in the night, wakes his wife, sprinkles water upon her face if sleep overcomes her, and joins her in remembrance of Allah Almighty for an hour of the night in their house. > **"There is no man who wakes in the night and wakes his wife, and if sleep overcomes her he sprinkles water upon her face, and they rise in their house and remember Allah Almighty for an hour of the night, except that they are both forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص رات کے وقت بیدار ہوتا ہے ‘ اور اپنی بیوی کو بھی بیدار کرتا ہے ‘ اور اگر اُس عورت پر نیند غالب ہو ‘ تو اُس کے چہرے پر پانی چھڑک دیتا ہے ‘ پھر وہ دونوں اُٹھ کر اپنے گھر میں نماز ادا کرتے ہیں ‘ اور اللہ تعالیٰ کا رات کی گھڑی میں ذکر کرتے ہیں ، تو ان دونوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3581

Majma al-Zawaid #3581

عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ لَا يَنَامُ إِلَّا وَالسِّوَاكُ عِنْدَهُ فَإِذَا اسْتَيْقَظَ بَدَأَ بِالسِّوَاكِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ would not sleep except with the siwak beside him, and that whenever he awoke he began with the siwak.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب بھی سوتے تھے ‘ تو مسواک آپ کے پاس موجود ہوتی تھی ‘ جب بھی آپ بیدار ہوتے تھے ‘ تو سب سے پہلے مسواک کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3582

Majma al-Zawaid #3582

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ اسْتَنْجَى وَتَوَضَّأَ وَاسْتَاكَ ثُمَّ يَبْعَثُ يَطْلُبُ الطِّيبَ فِي رَبَاعِ نِسَائِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that when the Messenger of Allah ﷺ rose in the night he would relieve himself, perform ablution and use the siwak, then send to seek perfume among the apartments of his wives.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے ‘ تو استنجاء کرتے تھے ‘ پھر وضو کرتے تھے ‘ اور مسواک کرتے تھے ، پھر آپ ﷺ اپنی ازواج کے گھر میں خوشبو طلب کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3583

Majma al-Zawaid #3583

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «ذُكِرَ النَّوْمُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" نَامُوا فَإِذَا انْتَبَهْتُمْ فَاسْتَنُّوا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُنْذِرِ ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Abdullah ibn Masud رضي الله عنه reports that sleep was mentioned in the presence of the Messenger of Allah ﷺ, who gave instruction concerning sleeping and what to do upon waking. > **"Sleep, and when you wake, clean your teeth with the siwak."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے نیند کا ذکر کیا گیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : سو جاؤ ! اور جب تم بیدار ہو ‘ تو مسواک کرو ! “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن منذر ہے ‘ جسے امام دارقطنی اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

3584

Majma al-Zawaid #3584

وَعَنْ رَبِيعَةَ الْجَرْشِيِّ قَالَ: «سَأَلْتُ عَائِشَةَ: مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ؟ وَبِمَا كَانَ يَسْتَفْتِحُ؟ فَقَالَتْ: كَانَ يُكَبِّرُ عَشْرًا وَيَحْمَدُ عَشْرًا وَيُسَبِّحُ عَشْرًا وَيُهَلِّلُ عَشْرًا وَيَسْتَغْفِرُ عَشْرًا، وَيَقُولُ: "" اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي "" عَشْرًا، وَيَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الضِّيقِ يَوْمَ الْحِسَابِ "" عَشْرًا». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rabiah al-Jarshi reports that he asked Aishah رضي الله عنها what the Messenger of Allah ﷺ would say when he rose in the night and with what he would begin, and she described his tenfold glorifications and his two tenfold supplications for forgiveness, guidance, provision and refuge from distress on the Day of Reckoning. > **"Allah is Greatest ten times, and praise be to Allah ten times, and glory be to Allah ten times, and there is no god but Allah ten times, and I seek Allah's forgiveness ten times. O Allah, forgive me and guide me and provide for me ten times. O Allah, I seek refuge in You from constriction on the Day of Reckoning ten times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیعہ جرشی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : نبی اکرم ﷺ جب رات کے وقت بیدار ہوتے تھے ‘ تو آپ کیا پڑھتے تھے ؟ اور آپ کسی چیز کے ذریعے آغاز کرتے تھے ؟ تو انہوں نے بتایا : ’’ نبی اکرم ﷺ دس مرتبہ «اللہ اکبر» ‘ دس مرتبہ «الحمدللہ» ‘ دس مرتبہ «لا الہ الا اللہ» ‘ دس مرتبہ «استغفراللہ» پڑھتے تھے ‘ پھر یہ پڑھتے تھے : ’’ اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے ‘ تو مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ ‘ اور تو مجھے رزق عطا فرما ‘‘۔ یہ مذکورہ بالا کلمہ ) دس مرتبہ پڑھتے تھے : اور یہ ( درج ذیل کلمہ ) پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! میں حساب کے دن تنگی سے ‘ تیری پناہ مانگتا ہوں ‘‘۔ یہ بھی دس مرتبہ پڑھتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3585

Majma al-Zawaid #3585

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[حَنِيفًا] فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" «مَنْ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأَ وَمَضْمَضَ فَاهُ ثُمَّ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ مِائَةَ مَرَّةٍ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ مِائَةَ مَرَّةٍ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مِائَةَ مَرَّةٍ غُفِرَتْ لَهُ ذُنُوبُهُ إِلَّا الدِّمَاءَ وَالْأَمْوَالَ فَإِنَّهَا لَا تَبْطُلُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sad ibn Junadah رضي الله عنه reports that he was present with the Messenger of Allah ﷺ at Hanif and heard him speak of the forgiveness granted to one who rises in the night, performs ablution, rinses his mouth and repeats the appointed glorifications one hundred times each, excepting claims of blood and wealth which are not annulled. > **"Whoever rises in the night and performs ablution and rinses his mouth, then says glory be to Allah one hundred times and praise be to Allah one hundred times and there is no god but Allah one hundred times, his sins are forgiven, except for blood and wealth, for they are not annulled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ’’ حنیف ‘‘ میں موجود تھا ، میں نے آپ ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو شخص رات کے وقت اٹھ کر وضو کرے اور اپنے منہ میں کلی کرے اور پھر یہ پڑھے : «سبحان اللہ» ایک سو مرتبہ ‘ «الحمدللہ» ایک سو مرتبہ ‘ «اللہ اکبر» ایک سو مرتبہ ‘ «لا الہ الا اللہ» ایک سو مرتبہ ‘ تو اُس شخص کے گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘ البتہ قتل ‘ یا مال ہتھیانے کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ یہ کالعدم نہیں ہوتے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن بن عطیہ عوفی ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

3586

Majma al-Zawaid #3586

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا نَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يُصَلِّيَ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَضَعْ عَنْ يَمِينِهِ قَبْضَةً مِنْ تُرَابٍ فَإِذَا انْتَبَهَ فَلْيُحَصِّبْ عَنْ شِمَالِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ فِي رِوَايَةٍ، وَكَذَلِكَ ابْنُ مَعِينٍ، وَضَعَّفَاهُ فِي رِوَايَةٍ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَجَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Numan ibn Bashir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ instructed one who sleeps in the night intending to pray therein concerning placing and casting dust. > **"When one of you sleeps in the night intending to pray in the night, let him place a handful of dust at his right, and when he wakes let him throw pebbles to his left."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جب کوئی شخص رات کے وقت سونے لگے ‘ اور اُس کا ارادہ یہ ہو کہ وہ رات کے وقت نماز ادا کرے گا ‘ تو اُسے اپنے دائیں طرف مٹھی بھر مٹی رکھنی چاہیے ‘ اگر وہ بیدار ہو جائے ‘ تو پھر اپنے بائیں طرف کنکریاں رکھنی چاہیں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اسے امام بزار نے بھی نقل کیا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے ‘ جسے امام احمد نے ‘ ایک روایت کے مطابق ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ یحیی بن معین نے ایسا ہی کیا ہے ‘ ایک روایت کے مطابق انہوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ امام بخاری ‘ امام مسلم اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

3587

Majma al-Zawaid #3587

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي يَقُومُ أَحَدُهُمَا مِنَ اللَّيْلِ فَيُعَالِجُ نَفْسَهُ إِلَى الطَّهُورِ وَعَلَيْهِ عُقَدٌ فَيَتَوَضَّأُ فَإِذَا وَضَّأَ يَدَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا وَضَّأَ وَجْهَهُ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا مَسَحَ بِرَأْسِهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ وَإِذَا وَضَّأَ رِجْلَيْهِ انْحَلَّتْ عُقْدَةٌ فَيَقُولُ الرَّبُّ - عَزَّ وَجَلَّ - الَّذِي وَرَاءَ الْحِجَابِ: انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُعَالِجُ نَفْسَهُ مَا سَأَلَنِي عَبْدِي هَذَا فَهُوَ لَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Uqbah ibn Amir رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ speak of two men from his Ummah, one of whom rises in the night and strives against himself toward purification while knots are upon him, and of the loosening of a knot with each act of ablution, and of what the Lord Almighty says from behind the veil concerning His servant and his request. > **"Two men from my Ummah: one of them rises in the night and strives with himself toward purification while knots are upon him. He performs ablution, and when he washes his hands a knot is loosened, and when he washes his face a knot is loosened, and when he wipes his head a knot is loosened, and when he washes his feet a knot is loosened. Then the Lord Almighty from behind the veil says: Look at this servant of Mine striving with himself. Whatever this servant of Mine asks of Me, it is his."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری اُمت سے تعلق رکھنے والے دو قسم کے افراد ہیں ، اُن میں سے ایک رات کے وقت اٹھتا ہے ‘ اور اپنے آپ کو طہارت کے لئے تیار کرتا ہے ‘ اس پر گرہیں لگی ہوئی ہوتی ہیں ‘ وہ وضو کرتا ہے ‘ جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے ‘ تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ جب وہ اپنے چہرے کو دھوتا ہے ‘ تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ جب وہ اپنے سر پر مسح کرتا ہے ‘ تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ جب وہ اپنے پاؤں پر وضو کرتا ہے ‘ تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ‘ تو حجاب کے پیچھے سے میرا پروردگار فرماتا ہے : میرے بندے کی طرف دیکھو ! جو اپنے آپ کو اس چیز کے لئے تیار کر رہا ہے ‘ میرا بندہ مجھ سے جو مانگے گا ‘ وہ اُس کو ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3588

Majma al-Zawaid #3588

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَنْبَسَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرِ أَجْوَبُهُ دَعْوَةً "" قُلْتُ: أَوْجَبُهُ؟ قَالَ: "" لَا أَجْوَبُهُ» يَعْنِي بِذَلِكَ الْإِجَابَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ رَوَاهُ مِنْ طَرِيقِهِ أَيْضًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «وَجَوْفُ اللَّيْلِ الْآخِرُ أَوْجَبُهُ دَعْوَةً "" فَقُلْتُ: أَجْوَبُهُ؟ قَالَ: "" لَا وَلَكِنْ أَوْجَبُهُ» "".

EnglishUnverified translation

Amr ibn Anbasah رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ concerning the form of the night prayer and the most answered supplication in the last depth of the night, together with an explanation of the word denoting answered supplication. > **"The night prayer is two by two, and the last depth of the night is the most answered in supplication."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عنبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ رات کی نماز دو ‘ دو کر کے ادا کی جائے گی ‘ اور رات کے آخری نصف حصے میں ‘ ( دعا یا عبادت ) زیادہ قبول ہوتی ہے “۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اپنے استاد سے دریافت کیا : لفظ ’’ اجوب ‘‘ کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : اس سے مراد یہ ہے کہ ( دعا یا عبادت ) قبول ہوتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابو مریم ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ‘ انہوں نے اسے اس سند کے ساتھ نقل کیا ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ رات کا آخری نصف حصہ ‘ دعا کی قبولیت کے لئے زیادہ موزوں ہے ‘‘۔ میں نے دریافت کیا : لفظ ” اجوب ‘‘ کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ لفظ ” اوجب “ ہے ۔

3589

Majma al-Zawaid #3589

«وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَوْتِرْ قَبْلَ أَنْ تَنَامَ وَصَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ammar ibn Yasir رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ addressed him with instruction concerning Witr before sleep and the form of the night prayer. > **"Perform Witr before you sleep, and the night prayer is two by two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : سونے سے پہلے وتر ادا کر لینا ‘ اور رات کی ( نفل ) نماز دو ‘ دو کر کے ادا کی جاتی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3590

Majma al-Zawaid #3590

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ described the form of the night prayer and the Witr at the end of the night. > **"The night prayer is two by two, and the Witr is one rakah at the end of the night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ رات کی نماز دو ‘ دو کر کے ادا کی جاتی ہے ‘ اور وتر رات کے آخری حصے میں ایک رکعت ہوتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اور وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ تاہم وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

3591

Majma al-Zawaid #3591

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ يُصَلِّي بِالنَّهَارِ مَثْنَى مَثْنَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ. وَفِيهِ: الْعَلَاءُ بْنُ هِلَالٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ would pray in the daytime two by two.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ دن کی ( نفل ) نماز دو ‘ دو کر کے ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علاء بن ہلال ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

3592

Majma al-Zawaid #3592

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَأْذَنُ امْرَأَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ وَلَا تَقُومُ مِنْ فِرَاشِهَا فَتُصَلِّي تَطَوُّعًا إِلَّا بِإِذْنِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Abbas رضي الله عنهما reports from the Prophet ﷺ concerning a woman admitting anyone into her husband's house and rising from her bed for voluntary prayer except by his permission. > **"A woman shall not permit anyone into her husband's house except by his permission, nor shall she rise from her bed to pray voluntarily except by his permission."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ‘ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ عورت ( کسی کو ) اپنے شوہر کے گھر میں آنے کی اجازت نہ دے ‘ البتہ اپنے شوہر کی اجازت کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ‘ اور وہ اپنے شوہر کے بستر سے اُٹھ کر ( نفل ) نماز ادا کرے نہ کرے ‘ البتہ اس کی اجازت کے ساتھ ایسا کر سکتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3593

Majma al-Zawaid #3593

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ وَاسْتَفْتَحَ صَلَاتَهُ وَكَبَّرَ قَالَ: "" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ""، ثُمَّ يَقُولُ: "" لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "" ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ: "" أَعُوذُ بِاللَّهِ السَّمِيعِ الْعَلِيمِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مَنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَنَفْثِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Said al-Khudri رضي الله عنه reports that when the Messenger of Allah ﷺ rose in the night and began his prayer with the takbir, he would glorify Allah with the appointed words of transcendence, repeat the declaration of unity three times, then seek refuge in Allah the All-Hearing, the All-Knowing from the accursed Satan, his pricking, his blowing and his spittle. > **"Glory be to You, O Allah, and with Your praise, and blessed is Your Name, and exalted is Your Grandeur, and there is no god besides You. There is no god but Allah, there is no god but Allah, there is no god but Allah. I seek refuge in Allah, the All-Hearing, the All-Knowing, from the accursed Satan, from his pricking and his blowing and his spittle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب رات کے وقت نوافل ادا کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے ‘ اور نماز کا آغاز کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تھے ‘ تو تکبیر کے بعد یہ پڑھتے تھے : ’’ تو ہر عیب سے پاک ہے ‘ اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ‘ تیرا اسم برکت والا ہے ‘ تیری بزرگی بلند و برتر ہے ‘ اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “۔ اُس کے بعد آپ تین مرتبہ «لا الہ الا اللہ» پڑھتے تھے ‘ اور پھر یہ پڑھتے تھے : ’’ میں سننے والے اور علم رکھنے والے ‘ اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ، مردود شیطان سے ‘ اس کے ٹھونگا مارنے ، پھونک مارنے ‘ لعاب ڈالنے سے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3594

Majma al-Zawaid #3594

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ مِنَ اللَّيْلِ كَبَّرَ ثَلَاثًا وَسَبَّحَ ثَلَاثًا وَهَلَّلَ ثَلَاثًا ثُمَّ يَقُولُ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ مَنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ وَشِرْكِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah al-Bahili رضي الله عنه reports that when the Messenger of Allah ﷺ entered prayer in the night he would magnify, glorify and declare unity three times each, then seek refuge in Allah from the accursed Satan, his pricking, his blowing and his association. > **"Allah is Greatest three times, and glory be to Allah three times, and there is no god but Allah three times. O Allah, I seek refuge in You from the accursed Satan, from his pricking and his blowing and his association."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب رات کو نماز پڑھنا شروع کرتے تھے ‘ تو تین مرتبہ تکبیر کہتے تھے ‘ تین مرتبہ «سبحان اللہ» کہتے تھے ، تین مرتبہ «لا الہ الا اللہ» پڑھتے تھے ‘ پھر یہ پڑھتے تھے : ’’ اے اللہ ! بے شک میں ‘ مردود شیطان سے ‘ اُس کے ٹھونگا مارنے ‘ پھونک مارنے اور شریک ہونے سے ‘ تیری پناہ مانگتا ہوں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

3595

Majma al-Zawaid #3595

عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى أَنْ يَرْفَعَ الرَّجُلُ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَبَعْدَهَا يُغَلِّطُ أَصْحَابَهُ وَهُمْ يُصَلُّونَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَفِيهِ الْحَارِثُ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ forbade a man to raise his voice with the Quran before the Isha prayer and after it, causing error to his companions while they were praying.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ آدمی عشاء سے پہلے ‘ یا اُس کے بعد بلند آواز میں قرأت کرے کہ اُس کے جو ساتھی نماز ادا کر رہے ہوں ‘ وہ انہیں غلطی کا شکار کر دے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حارث ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

3596

Majma al-Zawaid #3596

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «اعْتَكَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ قَالَ: فَبُنِيَ لَهُ بَيْتٌ مِنْ سَعَفٍ قَالَ: فَأَخْرَجَ رَأْسَهُ مِنْهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ فَقَالَ: "" أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ الْمُصَلِّيَ إِذَا صَلَّى فَإِنَّمَا يُنَاجِي رَبَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فَلْيَنْظُرْ بِمَا يُنَاجِيهِ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ. قُلْتُ: وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ الِاعْتِكَافُ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ observed retreat in the last ten days, for whom a shelter of palm branches was built, and that on one night he put his head out and addressed the people concerning private converse with the Lord and not raising voices over one another. > **"O people, when the worshipper prays he converses privately with his Lord, blessed and exalted, so let him consider what he converses with Him, and let none of you raise his voice over another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے آخری عشرے میں اعتکاف کیا ‘ آپ ﷺ کے لئے کھجور کے پتوں کا گھر ( یعنی حجرہ نما ) بنا دیا گیا ، ایک رات نبی اکرم ﷺ نے اُس میں سے سر باہر نکالا اور ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک نمازی شخص جب نماز ادا کر رہا ہوتا ہے ‘ تو وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے ‘ تو اُسے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ مناجات میں کیا پڑھ رہا ہے ؟ اور تم ایک دوسرے کے مقابلے میں آواز بلند نہ کرو ! ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح ‘‘ اس حدیث میں سے صرف اعتکاف کا ذکر ہے ۔

3597

Majma al-Zawaid #3597

وَعَنِ الْبَيَاضِيِّ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَى النَّاسِ وَهُمْ يُصَلُّونَ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ بِالْقِرَاءَةِ فَقَالَ: "" إِنَّ الْمُصَلِّيَ يُنَاجِي رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَلْيَنْظُرْ بِمَا يُنَاجِيهِ، وَلَا يَجْهَرْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَعْضٍ بِالْقُرْآنِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Bayadi رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ came out to the people while they were praying with their voices raised in recitation, and instructed them concerning private converse with the Lord and not raising voices over one another with the Quran. > **"The worshipper converses privately with his Lord Almighty, so let him consider what he converses with Him, and let none of you raise his voice over another with the Quran."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بیاضی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ لوگوں کے پاس تشریف لائے ‘ لوگ اُس وقت نماز ادا کر رہے تھے ‘ قرأت کرتے ہوئے اُن کی آوازیں بلند ہو چکی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نمازی ‘ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں مناجات کر رہا ہوتا ہے ‘ تو اُسے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ وہ کیسے مناجات کر رہا ہے ؟ اور تم لوگ قرآن پڑھتے ہوئے ‘ ایک دوسرے کے مقابلے میں آواز بلند نہ کرو ! ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3598

Majma al-Zawaid #3598

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ قَامَ يُصَلِّي فَجَهَرَ بِصَلَاتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا ابْنَ حُذَافَةَ لَا تُسْمِعْنِي وَسَمِّعْ رَبَّكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ حُذَافَةَ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurairah رضي الله عنه reports that Abdullah ibn Hudhafah رضي الله عنه rose to pray and raised his voice in his prayer, whereupon the Prophet ﷺ addressed him by name and commanded him concerning whom to make hear. > **"O son of Hudhafah, do not make me hear, but make your Lord hear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرنے لگے ‘ انہوں نے بلند آواز میں تلاوت شروع کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابن حذافہ ! تم مجھے نہ سناؤ ‘ تم اپنے پروردگار کو سناؤ ! ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ کہا ہے : یہ ابوسلمہ سے منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3599

Majma al-Zawaid #3599

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «كَانَ أَبُو بَكْرٍ يُخَافِتُ بِصَوْتِهِ إِذَا قَرَأَ، وَكَانَ عُمَرُ يَجْهَرُ بِقِرَاءَتِهِ وَكَانَ عَمَّارٌ إِذَا قَرَأَ يَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ السُّورَةِ فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: "" لِمَ تُخَافِتُ؟ "" قَالَ: إِنِّي لَأُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِي وَقَالَ لِعُمَرَ: "" لِمَ تَجْهَرُ بِقِرَاءَتِكَ؟ "" قَالَ: أُفْزِعُ الشَّيْطَانَ وَأُوقِظُ الْوَسْنَانَ وَقَالَ لِعَمَّارٍ: "" لِمَ تَأْخُذُ مِنْ هَذِهِ السُّورَةِ وَهَذِهِ السُّورَةِ؟ "" قَالَ: أَتَسْمَعُنِي أَخْلِطُ بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ؟ قَالَ: "" لَا "" قَالَ: فَكُلُّهُ طَيِّبٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ali رضي الله عنه reports that Abu Bakr رضي الله عنه would lower his voice in recitation, Umar رضي الله عنه would raise his voice in recitation, and Ammar رضي الله عنه would take from one surah and another, and that this was mentioned to the Prophet ﷺ, who questioned each of them and received their explanations, approving the soundness of Ammar's practice. > **"Why do you lower your voice? I make heard the One with Whom I converse privately. Why do you raise your voice in your recitation? I frighten Satan and awaken the drowsy. Why do you take from this surah and that surah? Do you hear me mixing into it what is not of it? No. Then all of it is good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جب تلاوت کرتے تھے ‘ تو آواز کو پست رکھتے تھے ‘ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بلند آواز میں تلاوت کیا کرتے تھے ‘ حضرت عمار رضی اللہ عنہ جب تلاوت کرتے تھے ‘ تو وہ ایک سورت کا کچھ حصہ پڑھ لیتے تھے ‘ پھر دوسری سورت پڑھ لیتے تھے ‘ اس بات کا ذکر نبی اکرم ﷺ کے سامنے کیا گیا ، تو آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم پست آواز میں تلاوت کیوں کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں اس ذات تک آواز پہنچا دیتا ہوں ، جس کی بارگاہ میں ، میں مناجات کر رہا ہوتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم بلند آواز میں قرأت کیوں کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں شیطان کو بھگاتا ہوں ‘ اور سوئے ہوئے کو بیدار کرتا ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : تم ایک سورت اور پھر دوسری سورت کیوں پڑھتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : کیا آپ نے کبھی مجھے سنا کہ جو الفاظ اُس کا حصہ نہ ہوں ، میں نے وہ شامل کر دیے ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : پھر یہ سب ( سورتیں ) پاکیزہ ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔