Majma al-Zawaid #3600
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: قِيلَ لِأَبِي بَكْرٍ: لِمَ تُخَافِتُ فِي قِرَاءَتِكَ؟ قَالَ: إِنِّي أُسْمِعُ مَنْ أُنَاجِي وَقِيلَ لِعُمَرَ: لِمَ تَجْهَرُ بِقِرَاءَتِكَ؟ قَالَ: أُوقِظُ الْوَسْنَانَ، وَقِيلَ لِرَجُلٍ آخَرَ: لِمَ تَخْلِطُ فِي قِرَاءَتِكَ؟ قَالَ: تَسْمَعُنِي أَزِيدُ فِيهِ مَا لَيْسَ فِيهِ؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَإِنَّهُ طَيِّبٌ أَخْلِطُ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ وَثَّقَهُ أَحْمَدُ، وَعَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَضَعَّفَهُ ابْنُ الْمَدِينِيِّ وَابْنُ مَعِينٍ.
EnglishUnverified translation
Ammar ibn Yasir رضي الله عنه reports that Abu Bakr رضي الله عنه was asked why he lowered his voice in recitation and answered that he made heard the One with Whom he conversed, and Umar رضي الله عنه was asked why he raised his voice and answered that he awakened the drowsy, and another man was asked why he mingled his recitation and answered by asking whether he was heard adding what was not in it, and being told no, he replied that it was good to mingle one part with another.
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : آپ پست آواز میں تلاوت کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اُس ذات کو سنا دیتا ہوں ، جس سے میں مناجات کر رہا ہوتا ہوں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا : آپ بلند آواز میں تلاوت کیوں کرتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں سوئے ہوئے کو بیدار کرتا ہوں ‘ ایک اور صاحب سے دریافت کیا گیا : آپ اپنی تلاوت ( میں مختلف سورتوں کو ) ملا کیوں دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : کیا آپ نے مجھے سنا ہے ؟ کہ میں نے اس میں کوئی ایسا اضافہ کیا ہو ؟ جو اس میں نہ ہو ؟ تو انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! تو انہوں نے جواب دیا : یہ پاکیزہ چیزیں ہیں ، جنہیں میں ایک دوسرے میں ملا دیتا ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ایوب ہے ‘ جسے امام احمد نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور عمرو بن علی کو ‘ علی بن مدینی اور یحیی بن معین نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔