Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 6 · Chapter 1

Book of Voluntary Prayers

Hadith 3629–3668

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3629

Majma al-Zawaid #3629

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «قَالَ لِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَدْ حُبِّبَ إِلَيْكَ الصَّلَاةُ فَخُذْ مِنْهَا مَا شِئْتَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ related what Jibrīl عليه السلام said to him concerning Ṣalāh. > **"Ṣalāh has been made beloved to you, so take from it as much as you wish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جبرائیل نے مجھ سے کہا : آپ کے نزدیک نماز کو محبوب بنایا گیا ہے ‘ تو آپ اس میں سے جتنی چاہیں ‘ اختیار کر لیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اس کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

3630

Majma al-Zawaid #3630

وَعَنْ سَفِينَةَ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَعَبَّدَ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ وَاعْتَزَلَ النِّسَاءَ حَتَّى صَارَ كَأَنَّهُ شَنٌّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَفِينَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُمَا، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَجَّاجِ قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ بِثِقَةٍ.

EnglishUnverified translation

Safīnah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ devoted himself to worship before his death and withdrew from women, until he became as though he were a worn-out waterskin.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ انتقال سے پہلے ( اہتمام کے ساتھ ) عبادت کرتے رہے ‘ اور خواتین سے لاتعلقی اختیار کی ، یہاں تک کہ آپ ﷺ یوں ہو جاتے ‘ جیسے بوسیدہ مشکیزہ ہو ( یعنی وہ کسی استعمال میں نہیں آتا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے محمد بن عبدالرحمن بن سفینہ کی ‘ اپنے والد کے حوالے سے ‘ اپنے دادا سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ میں نے کسی کو ان دونوں کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجاج ہے ، یحیی بن معین کہتے ہیں : وہ ثقہ نہیں ہے ۔

3631

Majma al-Zawaid #3631

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ لِكُلِّ نَبِيٍّ شَهْوَةً، وَإِنَّ شَهْوَتِي فِي قِيَامِ اللَّيْلِ إِذَا قُمْتُ فَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ خَلْفِي، وَإِنَّ اللَّهَ جَعَلَ لِكُلِّ نَبِيٍّ طُعْمَةً، وَإِنَّ طُعْمَتِي هَذَا الْخُمْسُ فَإِذَا قَضَيْتُ فَهُوَ لِوُلَاةِ الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ عَنْ أَبِيهِ، وَإِسْحَاقُ: لَيَّنَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَأَبُوهُ: وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Prophet ﷺ was once seated with the people around him, and he spoke of what Allah had appointed for every Prophet by way of longing and provision, of his own delight in standing by night, of none praying behind him when he stood, and of the Khums and its disposal after him. > **"Indeed Allah has appointed for every Prophet an object of longing, and my longing lies in standing in prayer by night; when I stand, let none pray behind me. And indeed Allah has appointed for every Prophet a provision, and my provision is this Khums; when I pass away, it belongs to those in authority after me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف فرما تھے ‘ لوگ آپ ﷺ کے اردگرد موجود تھے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کی دلچسپی کی چیز بنائی ہے ‘ اور میری دلچسپی کی چیز رات کے وقت نوافل ادا کرنا ہے ‘ جب میں نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہوؤں ، تو کوئی شخص میرے پیچھے کھڑا نہ ہو ‘ اور اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو کوئی عطیہ دیا ہے ‘ اور میرا عطیہ یہ خمس ہے ‘ جب میرا انتقال ہو جائے گا ‘ تو یہ میرے بعد والے حکمران کو ملے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے اسحاق بن عبداللہ بن کیسان نے نقل کیا ہے ۔ ابوحاتم نے اسے کمزور قرار دیا ہے ‘ اور اس کے باپ کو یحیی بن معین نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

3632

Majma al-Zawaid #3632

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَوَرَّمَتْ قَدَمَاهُ - أَوْ سَاقَاهُ - فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟! قَالَ: "" أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ stood in prayer until his feet — or, the narrator was unsure, his shins — swelled, and when he was asked about this despite the forgiveness of his past and future sins, he gave his well-known reply. > **"Shall I not be a grateful slave?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ( نوافل ادا کرتے ہوئے ) اتنا ( طویل ) قیام کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے پاؤں ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) آپ ﷺ کی پنڈلیاں ورم آلود ہو جاتی تھیں ، اس بارے میں آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی : کیا ایسا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟“ ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ ‘ امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3633

Majma al-Zawaid #3633

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى وَرِمَ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: "" أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُثْمَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ would pray at night until his feet swelled, and that when he was reminded that Allah had forgiven his past and future sins, he answered with his well-known reply. > **"Shall I not be a grateful slave?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ رات کے وقت ( نفل ) نماز ادا کرتے رہتے تھے ‘ یہاں تک کہ آپ کے پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے ‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عثمان ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔ ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3634

Majma al-Zawaid #3634

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ فَقِيلَ لَهُ: أَيْ رَسُولَ اللَّهِ تَفْعَلُ هَذَا وَقَدْ جَاءَكَ مِنَ اللَّهِ أَنْ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: "" أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟». قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ would pray until his feet swelled, and that when it was said to him that Allah had already forgiven his past and future sins, he answered with his well-known reply. > **"Shall I not be a grateful slave?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ( رات کے وقت نوافل ادا کرتے ہوئے اتنی طویل ) نماز ادا کرتے تھے کہ آپ ﷺ کے پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے ، آپ ﷺ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ ایسا کرتے ہیں ؟ جب کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس یہ بات آ چکی ہے کہ اُس نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں پروردگار کا شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی نے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ‘ ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3635

Majma al-Zawaid #3635

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُومُ اللَّيْلَ حَتَّى تَتَفَطَّرَ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيِسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: "" أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا؟». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ: رُبَّمَا أَخْطَأَ وَرَوَى عَنْهُ الْعُقَيْلِيُّ وَكَانَ يَزْعُمُ أَنَّهُ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Bashīr رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ would stand at night until his feet cracked, and that when he was reminded that Allah had forgiven his past and future sins, he answered with his well-known reply. > **"Shall I not be a grateful slave?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہتے تھے ‘ یہاں تک کہ آپ کے پاؤں پھول جاتے تھے ‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت نہیں کر دی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن حکم ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات ‘‘ میں کیا ہے ‘ اور یہ بات بیان کی ہے : یہ بعض اوقات غلطی کرتا ہے ‘ عقیلی نے اس سے روایات نقل کی ہیں ان کا یہ کہنا ہے : یہ ثقہ ہے ۔

3636

Majma al-Zawaid #3636

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ: "" أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا!». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو قَتَادَةَ الْحَرَّانِيُّ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfah رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ would pray until his feet swelled, and that when he was reminded that Allah had forgiven his past and future sins, he answered with his well-known reply. > **"Shall I not be a grateful slave?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحجیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ( رات کے وقت طویل نفل ) نماز ادا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ آپ کے پاؤں ورم آلود ہو جاتے تھے ‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت نہیں کر دی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں ؟ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوقتادہ حرانی ہے ‘ جسے امام احمد ‘ یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق ” ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ جبکہ ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

3637

Majma al-Zawaid #3637

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ أَنَّ «رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَسْتَاكُ مِنَ اللَّيْلِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، وَإِذَا قَامَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَا يَتَكَلَّمُ وَلَا يَأْمُرُ بِشَيْءٍ وَسَلَّمَ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ would use the Miswāk two or three times during the night, and that when he rose to pray at night he would pray four Rakʿahs without speaking or giving any instruction in between, offering the Salām after every two Rakʿahs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ رات میں دو ‘ یا تین مرتبہ مسواک کیا کرتے تھے ‘ جب آپ رات کی نماز ادا کرنے کے لئے اٹھتے تھے ‘ تو آپ چار رکعات یوں ادا کرتے تھے کہ درمیان میں کوئی کلام نہیں کرتے تھے ‘ اور کسی چیز کا حکم نہیں دیتے تھے ‘ لیکن دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3638

Majma al-Zawaid #3638

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ سِتَّ عَشْرَةَ رَكْعَةً سِوَى الْمَكْتُوبَةِ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ مِنْ زِيَادَاتِهِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ would pray sixteen Rakʿahs at night apart from the obligatory prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ رات کے وقت سولہ رکعات ادا کرتے تھے ‘ جو فرض نماز کے علاوہ ہوتی تھیں ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے اپنی ” زیادات ‘‘ میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3639

Majma al-Zawaid #3639

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى الْعِشَاءَ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرَ بِسَجْدَةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ بَعْدَ صَلَاتِهِ بِاللَّيْلِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ نَافِعُ بْنُ ثَابِتِ وَثَابِتٌ هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَلَمْ يَسْمَعْ نَافِعٌ مِنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَلَمْ يُدْرِكْهُ وَإِنَّمَا رَوَى عَنْ أَبِيهِ ثَابِتٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنه reports that when the Messenger of Allah ﷺ had prayed ʿIshāʾ, he would pray four Rakʿahs and then observe Witr with a single Rakʿah, continuing thus until he prayed after his night prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے ‘ تو اس کے بعد چار رکعات ادا کرتے تھے ‘ اور ایک وتر ادا کرتے تھے ‘ یہ آپ رات کی نماز کے بعد ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔‘ اس کی سند میں ایک راوی نافع بن ثابت ہے ( نافع کا والد ثابت ) حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ان کا بیٹا ہے ‘ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ’’ الثقات “ میں کیا ہے ‘ نافع نے اپنے دادا حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے سماع نہیں کیا ہے ‘ اور نہ ہی ان کا زمانہ پایا ہے ‘ اس نے اپنے والد ثابت کے حوالے سے روایت نقل کی ہے ۔

3640

Majma al-Zawaid #3640

وَعَنْ صَفْوَانَ بْنِ الْمُعَطَّلِ السُّلَمِيِّ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَرَمَقْتُ صَلَاتَهُ لَيْلَةً فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ نَامَ فَلَمَّا كَانَ نِصْفُ اللَّيْلِ اسْتَيْقَظَ فَتَلَا الْآيَاتِ الْعَشْرَ آخِرَ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ ثُمَّ تَسَوَّكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا أَدْرِي أَقِيَامُهُ أَمْ رُكُوعُهُ أَمْ سُجُودُهُ أَطْوَلُ؟ ثُمَّ انْصَرَفَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يَفْعَلُ كَمَا فَعَلَ أَوَّلَ مَرَّةٍ حَتَّى صَلَّى إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ṣafwān ibn al-Muʿaṭṭal al-Sulamī رضي الله عنه reports that while travelling with the Messenger of Allah ﷺ he watched his prayer one night: the Prophet ﷺ prayed the last ʿIshāʾ, then slept; at midnight he awoke, recited the last ten verses of Sūrah Āl ʿImrān, used the Miswāk, performed Wuḍūʾ, and stood to pray two Rakʿahs in which standing, bowing, and prostration were all prolonged beyond distinction. He then slept and repeated the same, continuing as at first until he had prayed eleven Rakʿahs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صفوان بن معطل سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہا تھا ‘ میں نے آپ کی رات کی نفل نماز کا جائزہ لیا ‘ آپ نے عشاء کی نماز ادا کی ‘ پھر آپ سو گئے جب نصف رات ہوئی ، تو آپ بیدار ہوئے آپ نے سورہ آل عمران کی دس آیات کی تلاوت کی ‘ پھر آپ نے مسواک کی ، پھر وضو کیا ، پھر آپ نے کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کی ‘ جس کے بارے میں مجھے اندازہ نہیں ہو سکا کہ آپ کے قیام ‘ رکوع اور سجود میں سے کون سا زیادہ طویل ہے ؟ پھر آپ نے نماز ختم کی ، پھر آپ سو گئے ‘ پھر آپ نے دوبارہ ایسا ہی کیا ‘ آپ مسلسل ایسا ہی کرتے رہے ‘ جس طرح آپ نے پہلی مرتبہ کیا تھا ‘ یہاں تک کہ آپ نے گیارہ رکعت ادا کر لیں ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے اور امام طبرانی نے کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن جعفر ہے ‘ جو علی بن مدینی کا والد ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3641

Majma al-Zawaid #3641

«وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا ذُكِرَ لَهَا أَنَّ نَاسًا يَقْرَؤُونَ الْقُرْآنَ فِي اللَّيْلَةِ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ!! فَقَالَتْ: أُولَئِكَ قَرَءُوا وَلَمْ يَقْرَءُوا كُنْتُ أَقُومُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةَ التَّمَامِ فَكَانَ يَقْرَأُ بِالْبَقَرَةِ وَآلِ عِمْرَانَ وَالنِّسَاءِ فَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا تَخْوِيفٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ وَاسْتَعَاذَ وَلَا يَمُرُّ بِآيَةٍ فِيهَا اسْتِبْشَارٌ إِلَّا دَعَا اللَّهَ وَرَغِبَ إِلَيْهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَجَاءَ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ: يَقْرَأُ أَحَدُهُمَا الْقُرْآنَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that when it was mentioned to her that some people complete the Qurʾān once or twice in a single night, she remarked that they had recited and yet not truly recited, and she described standing with the Messenger of Allah ﷺ through the night of completion while he recited al-Baqarah, Āl ʿImrān, and al-Nisāʾ, supplicating to Allah and seeking His refuge at every verse of warning, and supplicating to Allah and turning to Him in longing at every verse of glad tidings.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اُن کے سامنے یہ بات ذکر کی گئی : کچھ لوگ ایک رات میں پورا قرآن ایک مرتبہ یا دو مرتبہ پڑھ لیتے ہیں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اُن لوگوں نے تلاوت کی بھی ہے ‘ اور نہیں بھی کی ہے ‘ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ساری رات نوافل ادا کرتی رہتی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ ان میں سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران اور سورۂ نساء کی تلاوت کرتے تھے ‘ اور آپ ﷺ جب بھی کسی ایسی آیت کو پڑھتے تھے ‘ جس میں خوف دلانے کا ذکر ہوتا تھا ‘ تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے ‘ اور اس چیز کے حوالے سے پناہ مانگتے تھے ‘ اور جب بھی کوئی آیت پڑھتے تھے ‘ جس میں کوئی خوشخبری ہوتی تھی ، تو آپ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے تھے ‘ اور اس کی طرف سے رغبت کا اظہار کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ان دونوں میں سے ایک ‘ قرآن کو دو مرتبہ یا تین مرتبہ پڑھ لیتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3642

Majma al-Zawaid #3642

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ: مَا يُرِيدُ أَنْ يُفْطِرَ، وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: مَا يُرِيدُ أَنْ يَصُومَ، وَكَانَ يَقْرَأُ كُلَّ لَيْلَةٍ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: وَكَانَ يَقْرَأُ بِبَنِي إِسْرَائِيلَ وَالزُّمَرِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ would fast continuously until it was said he would never break his fast, and would break his fast continuously until it was said he would never fast, and that he would recite Banū Isrāʾīl and al-Zumar every night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ مسلسل ( نفلی ) روزے رکھتے رہتے تھے ‘ یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ اب آپ کوئی نفلی روزہ ترک نہیں کریں گے اور آپ کبھی نفلی روزہ ترک کر دیتے تھے ‘ یہاں تک کہ ہم یہ سوچتے تھے کہ اب آپ نفلی روزہ نہیں رکھیں گے ‘ آپ ﷺ پوری رات میں سورہ بنی اسرائیل اور سورت زمر کی تلاوت کرتے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں منقول ہے ‘ تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” آپ ﷺ سورت بنی اسرئیل اور سورت زمر کی تلاوت کرتے تھے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3643

Majma al-Zawaid #3643

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى نَزَلْنَا السُّقْيَا فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: مَنْ يَسْقِينَا فِي أَسْقِيَتِنَا؟ فَخَرَجْتُ فِي فِتْيَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ حَتَّى أَتَيْنَا الْمَاءَ الَّذِي بِالْأُثَايَةِ وَبَيْنَهُمَا قَرْيَبٌ مِنْ ثَلَاثَةَ عَشَرَ مِيلًا فَسَقَيْنَا فِي أَسْقِيَتِنَا حَتَّى إِذَا كَانَ بَعْدَ عَتَمَةٍ إِذَا رَجُلٌ يُنَازِعُهُ بَعِيرُهُ إِلَى الْحَوْضِ فَقَالَ: أَوْرِدْنَا فَإِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَوْرَدَ ثُمَّ أَخَذْتُ بِزِمَامِ نَاقَتِهِ فَأَنَخْتُهَا، فَقَامَ يُصَلِّي الْعَتَمَةَ وَجَابِرٌ فِيمَا ذُكِرَ إِلَى جَنْبِهِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَجْدَةً». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنه reports that on the occasion of Ḥudaybiyah they halted at al-Suqyā, where Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه asked who would fetch water in their skins; Jābir set out with some young men of the Anṣār to the water at al-Uthāyah, some thirteen miles off, and they filled their skins. After nightfall a man was struggling with his camel toward the trough seeking water, and he proved to be the Messenger of Allah ﷺ. Jābir took the halter of his she-camel and made it kneel. The Prophet ﷺ stood and prayed ʿIshāʾ with Jābir at his side, then prayed thirteen Rakʿahs after it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حدیبیہ کے موقع پر ہم آ رہے تھے ‘ یہاں تک کہ ہم نے ’’ سقیا “ کے مقام پر پڑاؤ کیا ‘ تو حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کہا : کون ہمارے مشکیزوں میں پانی لا کر دے گا ؟ تو میں انصار کے کچھ نوجوانوں کے ساتھ نکلا ‘ یہاں تک کہ ہم اس پانی کے پاس آ گئے جو ’’ اثایہ ‘‘ کے مقام پر ہے ‘ اس کے اور بستی کے درمیان تیرہ میل کا فاصلہ تھا ، ہم نے اپنے مشکیزوں میں پانی ڈال دیا ‘ یہاں تک کہ جب شام ہو گئی ‘ تو اسی دوران ایک شخص اپنے اونٹ کو حوض پر آنے سے روک رہا تھا ، اس نے کہا : ہم آ گئے ہیں ، تو وہ نبی اکرم ﷺ تھے ‘ آپ تشریف لائے ‘ میں نے آپ کی اونٹنی کی لگام کو پکڑا ‘ اور اُسے بٹھایا ‘ نبی اکرم ﷺ نے کھڑے ہو کر عشاء کی نماز ادا کی ، حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا ہے : وہ نبی اکرم ﷺ کے پہلو میں کھڑے ہو گئے ‘ اُس کے بعد نبی اکرم ﷺ نے تیرہ رکعات ادا کیں ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی شرحبیل بن سعد ہے ‘ اسے ابن حبان نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ اور ایک جماعت نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3644

Majma al-Zawaid #3644

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي رَكْعَةٍ مِنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ: "" لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that she heard the Prophet ﷺ saying in one Rakʿah of the night prayer the declaration of Divine Oneness. > **"Lā ilāha illā Anta."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو رات کی نفل نماز میں ایک رکعت میں یہ پڑھتے ہوئے سنا «لا الہ الا انت» ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ۔

3645

Majma al-Zawaid #3645

وَعَنْ جَسْرَةَ بِنْتِ دَجَاجَةَ أَنَّهَا انْطَلَقَتْ مُعْتَمِرَةً فَانْتَهَتْ إِلَى الرَّبَذَةِ فَسَمِعَتْ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: «قَامَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي فَصَلَّى بِالْقَوْمِ ثُمَّ تَخَلَّفَ أَصْحَابُهُ يُصَلُّونَ فَلَمَّا رَأَى قِيَامَهُمْ وَتَخَلُّفَهُمُ انْصَرَفَ إِلَى رَحْلِهِ، فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمَ قَدْ أَخْلَوُا الْمَكَانَ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَصَلَّى فَقُمْتُ خَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيَّ بِيَمِينِهِ فَقُمْتُ عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ جَاءَ ابْنُ مَسْعُودٍ فَقَامَ خَلْفِي وَخَلْفَهُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ بِشَمَالِهِ فَقَامَ عَنْ شِمَالِهِ، فَقُمْنَا ثَلَاثَتُنَا نُصَلِّي كُلُّ رَجُلٍ مِنَّا لِنَفْسِهِ وَيَتْلُو مِنَ الْقُرْآنِ مَا شَاءَ أَنْ يَتْلُوَ فَقَامَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ يُرَدِّدُهَا حَتَّى صَلَّى الْغَدَاةَ فَبَعْدَ أَنْ أَصْبَحْنَا أَوْمَأْتُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنْ يَسْأَلَهُ إِلَى مَا أَرَادَ إِلَى مَا صَنَعَ الْبَارِحَةَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: لَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ حَتَّى يُحَدِّثَ إِلَيَّ فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي قُمْتَ بِآيَةٍ مِنَ الْقُرْآنِ وَمَعَكَ الْقُرْآنُ لَوْ فَعَلَ هَذَا بَعْضُنَا وَجَدْنَا عَلَيْهِ كَثِيرًا قَالَ: "" دَعَوْتُ لِأُمَّتِي "" قَالَ: فَمَاذَا أُجِبْتَ، أَوْ مَاذَا رُدَّ عَلَيْكَ؟ قَالَ: "" أُجِبْتُ بِالَّذِي لَوِ اطَّلَعَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْهُمْ طَلْعَةً تَرَكُوا الصَّلَاةَ "" قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ: "" بَلَى "" فَانْطَلَقْتُ يَمِينًا قَرِيبًا مِنْ قَذْفَةٍ بِحَجَرٍ قَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّكَ إِنْ تَبْعَثْ إِلَى النَّاسِ بِهَذَا اتَّكَلُوا عَنِ الْعِبَادَةِ؟! فَنَادَاهُ أَنِ ارْجِعْ فَرَجَعَ وَتِلْكَ الْآيَةُ: {إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [المائدة: 118]». قُلْتُ: رَوَى النَّسَائِيُّ مِنْهُ أَنَّهُ قَامَ بِآيَةٍ حَتَّى أَصْبَحَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jasrah bint Dijājah reports that she set out for ʿUmrah and reached al-Rabadhah, where she heard Abū Dharr رضي الله عنه narrating that the Prophet ﷺ stood one night and led the people in prayer, then his Companions remained praying after him; seeing them standing and remaining behind, he withdrew to his lodging, and when he saw the place had emptied he returned and prayed. Abū Dharr stood behind him, and at a gesture with his right hand moved to his right; then Ibn Masʿūd رضي الله عنه came and stood behind them both, and at a gesture with his left hand moved to his left. The three prayed, each for himself, reciting of the Qurʾān whatever he wished, while the Prophet ﷺ stood repeating a single verse of the Qurʾān until he prayed the dawn prayer. In the morning Abū Dharr signalled to ʿAbdullāh ibn Masʿūd to ask him what he had intended by his deed of the night before, but Ibn Masʿūd refused to ask until the Prophet ﷺ spoke of it himself. Abū Dharr then asked him directly, by his father and mother, how he could stand the whole night upon one verse though the whole Qurʾān was with him, saying that had any of them done so they would have been reproached for it. The Prophet ﷺ explained that he had spent the night in supplication, and told of the answer he received and of Abū Dharr's request to convey the glad tidings. Abū Dharr set off a short distance, a stone's throw, when ʿUmar رضي الله عنه warned that the people would rely upon it and abandon worship, so Abū Dharr was called back and returned. The verse in question was the verse of Sūrah al-Māʾidah concerning His servants, His forgiveness, His might, and His wisdom. > **"I was supplicating for my Ummah. I was answered with that which, were many of them to glance upon it, they would abandon Ṣalāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جسره بنت دجاجہ بیان کرتی ہیں : وہ عمرہ کرنے کے لئے گئیں ‘ وہ ’’ ربذہ ‘‘ پہنچیں ، تو میں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ایک رات نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ‘ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھانا شروع کی ‘ آپ کے اصحاب آپ کے پیچھے نماز ادا کرتے رہے ‘ جب نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کے قیام اور ان کے پیچھے موجود ہونے کو ملاحظہ فرمایا ‘ تو آپ اپنے گھر تشریف لے گئے پھر جب آپ نے یہ دیکھا کہ لوگ اس جگہ سے چلے گئے ہیں ، تو آپ واپس اپنی جگہ پر آ گئے آپ نے نماز ادا کی ‘ میں آپ کے پیچھے کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا ‘ تو آپ نے اپنے دائیں دست مبارک کے ذریعے میری طرف اشارہ کیا ، تو میں آپ کے دائیں طرف آ کے کھڑا ہو گیا ، پھر عبداللہ بن مسعود آئے اور وہ میرے اور نبی اکرم ﷺ کے پیچھے کھڑے ہو گئے ‘ نبی اکرم ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ بائیں طرف آ جاؤ ! تو وہ نبی اکرم ﷺ کے بائیں طرف کھڑے ہو گئے ‘ تو ہم تینوں نے اس طرح کھڑے ہو کر نماز ادا کی کہ ہم میں سے ہر ایک انفرادی طور پر نماز ادا کر رہا تھا اور اس نے قرآن کا جو حصہ پڑھنا تھا وہ پڑھ رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ قرآن کی ایک آیت پڑھتے رہے ‘ اور اسے دُہراتے رہے ‘ جب آپ نے صبح کی نماز ادا کر لی ‘ تو میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو اشارہ کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کریں کہ نبی اکرم ﷺ نے گزشتہ رات جو کیا تھا ، اُس کا مقصد کیا تھا ؟ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نبی اکرم ﷺ سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھوں گا ‘ جب تک آپ خود بیان نہیں کر دیتے ‘ تو میں نے کہا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ قرآن کی ایک آیت تلاوت کرتے رہے ‘ حالانکہ آپ کو اور بھی قرآن آتا ہے ؟ اگر ہم میں سے کوئی ایک شخص ایسا کرتا ‘ تو ہم اس پر ناراضگی کا اظہار کرتے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں اپنی امت کے لئے دعا کرتا رہا ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر آپ کو کیا جواب ملا ؟ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے جو جواب ملا ‘ اگر لوگ اس پر مطلع ہو جائیں تو بہت سے لوگ نماز ہی ترک کر دیں ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سناؤں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ‘ وہ ابھی تھوڑی ہی دور گئے تھے ‘ اتنی دور کہ جتنا پتھر پھینکیں ، تو پتھر جاتا ہے ‘ اسی دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ اسے لوگوں کی طرف بھیج رہے ہیں ، وہ لوگ عبادت کو چھوڑ کر اسی پر اکتفاء کر لیں گے ‘ انہوں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو بلند آواز میں پکارا کہ تم واپس آ جاؤ ! وہ واپس آ گئے ‘ وہ یہ آیت تھی ( جس کی نبی اکرم ﷺ تلاوت کر رہے تھے : ) ’’ اگر تو انہیں عذاب دے ‘ تو یہ تیرے بندے ہیں اور اگر تو ان کی مغفرت کر دے ‘ تو بے شک تو غلبے والا ‘ حکمت والا ہے ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام نسائی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے : نبی اکرم ﷺ صبح ہونے تک ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3646

Majma al-Zawaid #3646

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَدَّدَ آيَةً حَتَّى أَصْبَحَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَلْمٍ النَّاجِي وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ repeated a single verse until morning came.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ صبح ہونے تک ایک ہی آیت بار ‘ بار پڑھتے رہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن سلم ناجی ہے ‘ میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

3647

Majma al-Zawaid #3647

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «مَا هَجَّرْتُ إِلَّا وَجَدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي رَكْعَتَيْنِ يُصَلِّي». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that whenever he came upon the Prophet ﷺ at dawn, he found him dividing Sūrah al-Baqarah between two Rakʿahs of prayer.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب میں جدا ہوا ‘ تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو پایا ‘ کہ آپ ﷺ نے سورت بقرہ کو دو رکعات میں تقسیم کر کے پڑھا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ وہ ثقہ ہے ‘ لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔

3648

Majma al-Zawaid #3648

وَعَنْ عَائِشَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ سُورَةَ الْبَقَرَةِ فِي رَكْعَتَيْنِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reports that the Messenger of Allah ﷺ would divide Sūrah al-Baqarah between two Rakʿahs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ سورت بقرہ کو دو رکعات میں تقسیم کرتے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3649

Majma al-Zawaid #3649

وَعَنْ أَنَسٍ: «وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا فَلَمَّا أَصْبَحَ قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَثَرَ الْوَجَعِ عَلَيْكَ بَيِّنٌ قَالَ: "" إِنِّي عَلَى مَا تَرَوْنَ قَدْ قَرَأَتُ الْبَارِحَةَ السَّبْعَ الطِّوَالَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ was found to show traces of exertion in the morning, and when this was remarked upon, he explained it by his night's recitation. > **"Given what you see of me, I recited last night the seven long Sūrahs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کوئی چیز ( یعنی تکلیف ) پائی ‘ جب صبح ہوئی ، تو عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ پر طبیعت کی خرابی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ گزشتہ رات میں نے سات طویل سورتوں کی تلاوت کی تھی ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

3650

Majma al-Zawaid #3650

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي فِي حُجْرَتِهِ فَجَاءَ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَصَلَّوْا بِصَلَاتِهِ قَالَ: فَدَخَلَ الْبَيْتَ ثُمَّ خَرَجَ فَعَادَ مِرَارًا، كُلُّ ذَلِكَ يُصَلِّي فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا مَعَكَ وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَمُدَّ فِي صَلَاتِكَ قَالَ: "" قَدْ عَلِمْتُ بِمَكَانِكُمْ وَعَمْدًا فَعَلْتُ ذَلِكَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ،، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضi الله عنه reports that the Prophet ﷺ would pray in his chamber when some of his Companions came and prayed following his prayer; he would enter the house and come out again repeatedly, praying each time. In the morning they told him they had prayed with him and wished he would prolong his prayer, and he explained his deliberate restraint. > **"I knew of your place, and I did that deliberately."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم ﷺ اپنے حجرے میں نماز ادا کر رہے تھے ‘ آپ کے اصحاب میں سے کچھ لوگ آئے ‘ اور آپ کی پیروی میں نماز ادا کرنے لگے ‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لے گئے ، پھر آپ ﷺ تشریف لائے ‘ ایسا کئی مرتبہ ہوا ‘ ہر مرتبہ آپ نماز ادا کرتے تھے ‘ جب صبح ہوئی ‘ تو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی تھی ‘ ہماری یہ خواہش تھی کہ آپ ﷺ اپنی نماز کو طول دیتے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہاری موجودگی کے بارے میں مجھے پتہ تھا ‘ لیکن میں نے جان بوجھ کے ایسا کیا ہے ( یعنی تمہیں نماز نہیں پڑھائی ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3651

Majma al-Zawaid #3651

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَسَوَّكُ مِنَ اللَّيْلِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا كُلَّمَا رَقَدَ فَاسْتَيْقَظَ اسْتَاكَ وَتَوَضَّأَ وَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ رَكْعَةً». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْمَدِينِيُّ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ would use the Miswāk two or three times at night: each time he slept and awoke, he would use the Miswāk, perform Wuḍūʾ, and pray two Rakʿahs or one Rakʿah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ رات میں ‘ دو یا تین مرتبہ مسواک کرتے تھے ‘ جب آپ سو جاتے تھے ‘ اور پھر بیدار ہوتے تھے ‘ تو آپ مسواک کرتے تھے ‘ وضو کرتے تھے ‘ دو رکعات یا ایک رکعت ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر مدینی ہے ‘ جسے ابن حبان نے ” ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ یحیی بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

3652

Majma al-Zawaid #3652

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقْرَأُ عَشْرَ آيَاتٍ مِنْ آخِرِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ فِي كُلِّ لَيْلَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُظَاهِرُ بْنُ أَسْلَمَ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ would recite ten verses from the end of Sūrah Āl ʿImrān every night.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ روزانہ رات کے وقت سورت آل عمران کی آخری دس آیات کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی مظاہر بن اسلم ہے ‘ جسے ابن حبان نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ، یحیی بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

3653

Majma al-Zawaid #3653

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْعَتَمَةَ ثُمَّ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ قَبْلَ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى بَيْتِهِ سَبْعَ رَكَعَاتٍ يُسَلِّمُ فِي الْأَرْبَعِ فِي كُلِّ ثِنْتَيْنِ، وَيُوتِرُ بِثَلَاثٍ يَتَشَهَّدُ فِي الْأُولَيَيْنِ مِنَ الْوِتْرِ تَشَهُّدَهُ فِي التَّسْلِيمِ وَيُوتِرُ بِالْمُعَوِّذَاتِ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَى بَيْتِهِ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ وَيَرْقُدُ فَإِذَا انْتَبَهَ مِنْ نَوْمِهِ قَالَ: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنَامَنِي فِي عَافِيَةٍ وَأَيْقَظَنِي فِي عَافِيَةٍ "" ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَتَفَكَّرُ ثُمَّ يَقُولُ: "" {رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ} [آل عمران: 191] "" فَيَقْرَأُ حَتَّى يَبْلُغَ: {إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ} [آل عمران: 194] ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَقُومُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ يُطِيلُ فِيهِمَا الْقِرَاءَةَ وَالرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ يُكْثِرُ فِيهِمَا الدُّعَاءَ حَتَّى إِنِّي لَأَرْقُدُ وَأَسْتَيْقِظُ، ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَضْطَجِعُ فَيُغْفِي، ثُمَّ يَنْصَرِفُ ثُمَّ يَتَكَلَّمُ بِمِثْلِ مَا تَكَلَّمَ فِي الْأُولَى ثُمَّ يَقُومُ فَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ هُمَا أَطْوَلُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، وَهُوَ فِيهِمَا أَشَدُّ تَضَرُّعًا وَاسْتِغْفَارًا حَتَّى أَقُولَ: هَلْ هُوَ مُنْصَرِفٌ؟ وَيَكُونُ ذَلِكَ إِلَى آخِرِ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيُغْفِي قَلِيلًا فَأَقُولُ: هَذَا غَفِيَ أَمْ لَا؟ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ فَيَقُولُ مِثْلَ مَا قَالَ فِي الْأُولَى ثُمَّ يَجْلِسُ فَيَدْعُو بِالسِّوَاكِ فَيَسْتَنُّ وَيَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَكَانَتْ هَذِهِ صَلَاتَهُ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً». قُلْتُ: لِعَائِشَةَ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها gives a detailed account of the Prophet's ﷺ night: he would pray ʿIshāʾ, then pray in the mosque before returning home, offering salutations every two Rakʿahs and observing Witr with three Rakʿahs in which he sat for Tashahhud after the first two as at the Salām, reciting the Muʿawwidhāt in the Witr. Returning home he would pray two Rakʿahs and sleep; upon waking he would praise Allah for granting him sleep and waking in well-being, raise his head to the sky in reflection, and recite from Sūrah Āl ʿImrān from His words concerning the creation not being in vain until His promise unfailing. He would then perform Wuḍūʾ and pray two long Rakʿahs with extended recitation, bowing, prostration, and abundant supplication, so that ʿĀʾishah would sleep and wake during them; then he would lie down and doze, rise and repeat the same words, and pray two Rakʿahs longer than the first with still more earnest entreaty and seeking of forgiveness, continuing thus until the end of the night. He would then doze briefly until the Muʾadhdhin came, repeat the same words, sit and call for the Miswāk, use it, perform Wuḍūʾ, pray two light Rakʿahs, and go out to Ṣalāh — thirteen Rakʿahs in all. > **"All praise belongs to Allah, who put me to sleep in well-being and awakened me in well-being. Our Lord, You have not created this in vain; glory be to You, so shield us from the punishment of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ عشاء کی نماز ادا کر لیتے تھے ، پھر آپ مسجد میں چھ رکعات ادا کرتے تھے جو گھر واپس آنے سے پہلے ادا کرتے تھے ، آپ ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیر دیتے تھے ‘ اور تین وتر ادا کرتے تھے ‘ وتر کی پہلی دو رکعات کے بعد آپ تشہد میں بیٹھتے تھے ، پھر جب سلام پھیرنا ہوتا تھا ، تب بھی آپ تشہد میں بیٹھتے تھے ، آپ وتر میں معوذات کی تلاوت کرتے تھے ‘ جب آپ گھر تشریف لاتے تھے ‘ تو دو رکعات ادا کرتے تھے پھر سو جاتے تھے پھر جب بیدار ہوتے تھے ‘ تو یہ پڑھتے تھے :’’ ہر طرح کی حمد ‘ اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ‘ جس نے مجھے عافیت میں نیند عطا کی اور عافیت میں بیدار کیا ‘‘ پھر آپ ﷺ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر غور و فکر کرتے تھے ‘ پھر یہ پڑھتے تھے : ” اے ہمارے پروردگار ! تو نے اسے فضول میں پیدا نہیں کیا ہے ‘ تو ہر عیب سے پاک ہے ‘ تو ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے ‘‘۔ آپ ﷺ یہ آیات تلاوت کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ یہ پڑھتے تھے : ’’ بے شک تو وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ہے “۔ پھر آپ وضو کرتے تھے ‘ پھر کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کرتے تھے ‘ جن میں آپ طویل قرأت ‘ رکوع اور سجود کرتے تھے ‘ آپ ان رکعات میں بکثرت دعا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ میں سو جاتی تھی ، پھر بیدار ہو جاتی تھی ، پھر نبی اکرم ﷺ نماز ختم کر کے لیٹ جاتے تھے ‘ اور سو جاتے تھے ‘ پھر آپ اٹھتے تھے ‘ پھر آپ اُسی طرح دعا پڑھا کرتے تھے ‘ جس طرح پہلی دفعہ میں پڑھتے تھے ‘ پھر آپ کھڑے ہو کر دو رکعات ادا کرتے تھے ‘ جو پہلی والی دو رکعات سے زیادہ طویل ہوتی تھیں ، اور آپ ان میں زیادہ گریہ وزاری اور زیادہ استغفار کیا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ میں یہ سوچتی کہ کیا آپ اس نماز کو ختم کریں گے ؟ ایسا رات کے آخر تک ہوتا رہتا تھا ، پھر آپ نماز ختم کرتے تھے ‘ اور تھوڑی دیر کے لئے سو جاتے تھے ‘ تو میں یہ سمجھتی کہ آپ سوئے بھی ہیں ‘ یا نہیں سوئے ؟ یہاں تک کہ مؤذن آپ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا تھا ، آپ پھر اُسی کی مانند کلمات پڑھتے تھے ‘ جو پہلی مرتبہ میں پڑھے تھے ‘ پھر آپ بیٹھ کے مسواک منگواتے تھے ‘ مسواک کرتے تھے ‘ وضو کرتے تھے ‘ پھر دو مختصر رکعت ادا کرتے تھے ( جو فجر کی دو سنتیں ہوتی تھیں ) پھر آپ ﷺ نماز کے لئے تشریف لے جاتے تھے ‘ تو آپ کی نماز تیرہ رکعات ہوتی تھیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں احادیث منقول ہیں ، جو اس روایت کے علاوہ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اُس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3654

Majma al-Zawaid #3654

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُصَلِّي فَصَلَّيْتُ بِصَلَاتِهِ مِنْ وَرَائِهِ وَهُوَ لَا يَعْلَمُ فَاسْتَفْتَحَ الْبَقَرَةَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيَرْكَعُ ثُمَّ مَضَى، قَالَ سِنَانُ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ كَانَ رُكُوعُهُ مِثْلَ قِيَامِهِ قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَلَا أَعْلَمْتَنِي؟ "" قَالَ حُذَيْفَةُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا إِنِّي لَأَجِدُهُ فِي ظَهْرِي حَتَّى السَّاعَةَ!؟ قَالَ: "" لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ وَرَائِي لَخَفَّفْتُ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْ أَوَّلِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سِنَانُ بْنُ هَارُونَ الْبُرْجُمِيُّ قَالَ ابْنُ مَعِينٍ: سِنَانُ بْنُ هَارُونَ أَخُو سَيْفٍ وَسِنَانُ أَحْسَنُهُمَا حَالًا، وَقَالَ مَرَّةً: سِنَانُ أَوْثَقُ مِنْ سَيْفٍ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ ابْنِ مَعِينٍ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه reports that he came to the Messenger of Allah ﷺ while he was praying and prayed following his prayer behind him without his knowledge. The Prophet ﷺ opened with al-Baqarah, and Ḥudhayfah expected him to bow and yet he carried on; Sinān, one of the narrators, added that he prayed four Rakʿahs with bowing like his standing. When Ḥudhayfah mentioned this to the Prophet ﷺ, he asked why he had not been told, and Ḥudhayfah swore by the One who sent him with the truth that he still felt it in his back even then. The Prophet ﷺ replied that his prayer would have been otherwise had he known. > **"Did you not inform me? Had I known you were behind me, I would have shortened."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ آپ نماز ادا کر رہے تھے ‘ میں نے آپ کے پیچھے کھڑے ہو کر آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرنا شروع کی ، آپ کو اس بات کا پتہ نہیں چلا ‘ آپ نے سورت بقرہ پڑھنا شروع کر دی ‘ میں نے یہ گمان کیا کہ آپ تھوڑی دیر بعد رکوع میں چلے جائیں گے ‘ لیکن آپ ﷺ مسلسل تلاوت کرتے رہے ‘ یہاں سنان نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے : میرے علم کے مطابق روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : انہوں نے یہ بیان کیا : نبی اکرم ﷺ نے چار رکعات ادا کیں ‘ اور آپ کا رکوع بھی ‘ قیام کی طرح ( طویل ) تھا ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے یہ بات ذکر کی ‘ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے ‘ مجھے اس وقت بھی اپنی کمر میں ( اتنے طویل قیام کی وجہ سے درد کی کیفیت ) محسوس ہو رہی ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے یہ پتہ ہوتا کہ تم میرے پیچھے کھڑے ہو ‘ تو میں مختصر نماز ادا کرتا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ابتدائی کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی سنان بن ہارون برجمی ہے ‘ یحیی بن معین کہتے ہیں : سنان بن ہارون ، سیف کا بھائی ہے ‘ اور ان دونوں میں سے سنان زیادہ بہتر حالت کا مالک ہے ‘ ایک مرتبہ انہوں نے یہ کہا ہے : سنان ‘ سیف سے زیادہ ثقہ ہے ‘ یحیی بن معین کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3655

Majma al-Zawaid #3655

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزِعَا فَاسْتَقَى مَاءً فَتَوَضَّأَ ثُمَّ قَرَأَ: {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} [البقرة: 164] إِلَى آخِرِ السُّورَةِ ثُمَّ افْتَتَحَ الْبَقَرَةَ فَقَرَأَهَا حَرْفًا حَرْفًا حَتَّى خَتَمَهَا ثُمَّ رَكَعَ فَقَالَ: "" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ "" ثُمَّ سَجَدَ فَقَالَ: "" سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى "" ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: "" رَبِّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَارْزُقْنِي وَاهْدِنِي ""، ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ آلَ عِمْرَانَ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ فَعَلَ كَمَا فَعَلَ فِي الْأُولَى ثُمَّ اضْطَجَعَ ثُمَّ قَامَ فَزِعًا فَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ فِي الْأُولَيَيْنِ فَقَرَأَ حَرْفًا حَرْفًا حَتَّى صَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ فَيَضْطَجِعُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، وَأَوْتَرَ بِثَلَاثٍ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ» - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَأَمَّا أَبُو حَاتِمٍ فَرَضِيَهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that he spent the night at the house of his maternal aunt Maymūnah رضي الله عنها. The Messenger of Allah ﷺ rose in alarm, called for water, and performed Wuḍūʾ. He recited from the verse concerning the creation of the heavens and the earth to the end of the Sūrah, then opened al-Baqarah and recited it letter by letter until he completed it. He bowed, prostrated, and sat between the two prostrations with the appointed words of glorification and supplication. He then stood for the second Rakʿah and recited Āl ʿImrān, bowing and prostrating as in the first. He lay down, then rose again in alarm and did as in the first two, reciting letter by letter, until he had prayed eight Rakʿahs, lying down between every two, then observed Witr with three, then prayed the two Rakʿahs of Fajr. > **"Glory be to my Lord, the Most Great. Glory be to my Lord, the Most High. My Lord, forgive me, have mercy upon me, grant me provision, and guide me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں رات بسر کی ‘ نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ ﷺ نے پانی طلب کیا ‘ وضو کیا ، پھر آپ نے یہ آیات تلاوت کیں :’’ بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ انہیں سورت کے آخر تک تلاوت کیا ، پھر آپ ﷺ نے سورت بقرہ پڑھنی شروع کی آپ ﷺ نے اس کے ایک ایک ‘ حرف کو پڑھا ‘ یہاں تک کہ وہ پوری سورت ختم کر دی ، پھر آپ رکوع میں چلے گئے ، پھر آپ نے «سبحان ربی العظیم» پڑھا ‘ پھر آپ سجدے میں گئے ، تو آپ نے «سبحان ربی الاعلی» پڑھا ‘ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر اٹھایا ‘ تو دو سجدوں کے درمیان یہ پڑھا : ” اے میرے پروردگار ! تو میری مغفرت کر دے ‘ مجھ پر رحم کر ‘ مجھے رزق عطا فرما ، مجھے ہدایت پر ثابت قدم رکھ ‘‘ پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے ، آپ نے دوسری رکعت میں سورت آل عمران کی تلاوت کی ‘ پھر آپ رکوع میں گئے اور سجدے میں گئے اور آپ نے ایسا ہی کیا ، جس طرح آپ نے پہلی رکعت میں کیا تھا ، پھر آپ لیٹ گئے پھر آپ اٹھے اور آپ نے ویسا ہی کیا ، جس طرح آپ نے پہلی دو رکعات میں کیا تھا ، آپ نے ایک ‘ ایک حرف کی تلاوت کی ‘ یہاں تک کہ آپ نے آٹھ رکعات ادا کر لیں ، آپ ہر دو رکعات کے بعد لیٹ جاتے تھے ‘ پھر آپ نے تین وتر ادا کیے ‘ پھر فجر کی دو رکعات ( یعنی سنتیں ) ادا کیں ‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے ‘ جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ’’ ضعیف ‘‘ قرار دیا ہے ‘ جہاں تک ابوحاتم کا تعلق ہے ‘ تو وہ اس سے راضی ہیں ۔

3656

Majma al-Zawaid #3656

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرَةَ فَاسْتَصْغَرَهَا [ثُمَّ] قَالَ [لِي]: انْطَلِقْ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَائِتِ فَقُلْ: إِنَّا قَوْمٌ نَعْمَلُ فَإِنْ كَانَ عِنْدَكَ أَسَنُّ مِنْهَا فَابْعَثْ بِهَا إِلَيْنَا؟ [فَأَتَيْتُ بِهَا] فَقَالَ: "" ابْنَ عَمِّي وَجِّهْهَا إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ ""، فَوَجَّهْتُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعِشَاءَ فَقَالَ: "" مَا تُرِيدُ أَنْ تَبِيتَ عِنْدَ خَالَتِكَ اللَّيْلَةَ قَدْ أَمْسَيْتَ؟ "" فَوَافَقْتُ لَيْلَتَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهَا فَعَشَّتْنِي وَوَطَّأَتْ لِي عَبَاءَةً بِأَرْبَعَةٍ فَافْتَرَشْتُهَا فَقُلْتُ: لَأَعْلَمَنَّ مَا يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللَّيْلَةَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا مَيْمُونَةُ! "" فَقَالَتْ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: "" مَا أَتَاكِ ابْنُ أُخْتِكِ؟ "" قَالَتْ: بَلَى، هُوَ هَذَا، قَالَ: "" أَفَلَا عَشَّيْتِيهِ إِنْ كَانَ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ "" قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: "" فَوَطَّأْتِ لَهُ؟ "" قَالَتْ: نَعَمْ فَمَالَ إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَضْطَجِعْ عَلَيْهِ وَاضْطَجَعَ حَوْلَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى الْفِرَاشِ فَمَكَثَ سَاعَةً فَسَمِعْتُهُ نَفَخَ فِي النَّوْمِ فَقُلْتُ: نَامَ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَيْقِظِ وَلَيْسَ بِقَائِمٍ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ قَامَ حَيْثُ قُلْتُ: ذَهَبَ الرُّبُعُ أَوِ الثُّلُثُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَتَى سِوَاكًا لَهُ وَمَطْهَرَةً فَاسْتَاكَ حَتَّى سَمِعْتُ صَرِيرَ ثَنَايَاهُ تَحْتَ السِّوَاكِ، [وَهُوَ يَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} [آل عمران: 190] ثُمَّ وَضَعَ السِّوَاكَ] ثُمَّ قَامَ إِلَى قِرْبَةٍ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَصُبَّ عَلَيْهِ فَخَشِيتُ أَنْ يَذَرَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ دَخَلَ مَسْجِدَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَقَرَأَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِقْدَارَ خَمْسِينَ آيَةً يُطِيلُ فِيهَا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ فَاضْطَجَعَ هَوْنًا فَنَفَخَ وَهُوَ نَائِمٌ فَقُلْتُ: لَيْسَ بِقَائِمٍ اللَّيْلَةَ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ أَوْ قَدَرُ ذَلِكَ قَامَ يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عَلَى قَدْرِ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ فَنَفَخَ فَقُلْتُ: ذَهَبَ بِهِ النَّوْمُ وَلَيْسَ بِقَائِمٍ حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ قَامَ حِينَ بَقِيَ سُدُسُ اللَّيْلِ أَوْ أَقَلُّ فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَافْتَتَحَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثُمَّ قَرَأَ بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ قَنَتَ فَرَكَعَ وَسَجَدَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَعَدَ حَتَّى إِذَا مَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَانِي فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: "" قُمْ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِنَائِمٍ "" فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ سَالِمٍ الْخَفَّافُ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ غَيْرُهُ: ضَعِيفٌ وَهُوَ رَجُلٌ صَالِحٌ وَلَكِنَّهُ دَفَنَ كُتُبَهُ فَلَا يَثْبُتُ حَدِيثُهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ had given his father a young she-camel as a gift, but his father found it too small and sent Ibn ʿAbbās back to the Prophet ﷺ to say that they were working people and to ask for an older one in its place. The Prophet ﷺ instructed him to direct it to the Ṣadaqah camels, which he did. He then joined the Prophet ﷺ in the mosque for ʿIshāʾ, after which the Prophet ﷺ asked whether he wished to spend the night at his aunt's house since evening had come, and Ibn ʿAbbās agreed to the Prophet's ﷺ own night there. He went to Maymūnah رضي الله عنها, who gave him supper and spread a cloak folded in four for his bedding, while he resolved to observe what the Messenger of Allah ﷺ did that night. The Prophet ﷺ entered, called out to Maymūnah, asked whether her nephew had come and whether she had given him supper and bedding, and she confirmed it. He inclined to his bed without lying upon it, laying his head upon the bedding nearby, and after a while Ibn ʿAbbās heard him breathing in sleep and supposed he would not rise that night. When a quarter or a third of the night had passed, the Prophet ﷺ rose, went to his Miswāk and water for Wuḍūʾ, and used the Miswāk until the rasping upon his teeth could be heard, reciting the verses concerning the creation of the heavens and the earth; then he put down the Miswāk, went to a waterskin, and loosened its tie. Ibn ʿAbbās wished to rise and pour for him but feared interrupting any part of his practice. After Wuḍūʾ the Prophet ﷺ entered his place of prayer and prayed four Rakʿahs, reciting some fifty verses in each with prolonged bowing and prostration, then returned to his resting place and lay down lightly, breathing in sleep, so that Ibn ʿAbbās supposed he would not rise until morning. When a third or half the night or thereabouts had passed, he rose and did the same, praying four Rakʿahs in like measure, then returned to his bed and breathed in sleep. When a sixth of the night or less remained, he rose, used the Miswāk, performed Wuḍūʾ, and opened with the Fātiḥah followed by al-Aʿlā, then bowed and prostrated; he stood again and recited the Fātiḥah with Qul Hūwa Allāhu Aḥad, then observed Qunūt, bowed, and prostrated; when he finished he sat until dawn broke, then called to Ibn ʿAbbās, who answered, and commanded him to rise. > **"Rise, for by Allah, you were not asleep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے والد کو ایک جوان اونٹنی تحفے میں دی ‘ میرے والد نے اسے کم عمر سمجھا ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : تم اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے جاؤ ‘ تم آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ عرض کرنا کہ ہم کام کاج کرنے والے لوگ ہیں ، اگر آپ کے پاس اس سے زیادہ عمر والی کوئی اونٹنی ہو ‘ تو وہ ہمیں بھجوا دیں ‘ میں وہ اونٹنی لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے میرے چچا کے بیٹے ! تم اسے صدقہ کے اونٹوں کی طرف لے جاؤ ‘ میں اسے وہاں لے گیا پھر میں مسجد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اور میں نے آپ کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کی ، آپ نے فرمایا : کیا تم آج رات اپنی خالہ کے ہاں نہیں ٹھہرو گے ؟ کیونکہ شام ہو چکی ہے ، تو اس رات میں نبی اکرم ﷺ کے ہاں ٹھہرنے کے لئے تیار ہو گیا ‘ میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر آیا ‘ انہوں نے مجھے کھانا دیا اور میرے لئے ایک عبا بچھا دی ‘ میں نے سوچا میں اس بات کا جائزہ لوں گا کہ نبی اکرم ﷺ رات کے وقت کس طرح عمل کرتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لائے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا : اے میمونہ ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارا بھانجا تمہارے پاس آ گیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! وہ یہاں موجود ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تمہارے پاس کچھ تھا ، تو تم نے اسے کھانے کے لئے دے دینا تھا ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں نے ایسا کر لیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کے لئے کچھ بچھایا ہے ‘ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ بچھونے سے ایک طرف ہو کر لیٹ گئے ، آپ اس پر نہیں لیٹے ، آپ اس کے ارد گرد لیٹ گئے ‘ اور آپ نے اپنا سر بچھونے پر رکھ دیا کچھ دیر گزری ، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نیند کے دوران خراٹے لینے لگے ‘ میں نے یہ سوچا کہ اب آپ سو گئے ہیں ‘ اور رات کو نوافل ادا نہیں کریں گے ‘ پھر میرے اندازے کے مطابق جب رات کا ایک چوتھائی حصہ ‘ یا ایک تہائی حصہ رخصت ہو چکا تھا ، اس وقت آپ اُٹھے آپ اپنی مسواک اور وضو کے پانی کے پاس تشریف لائے ‘ آپ نے مسواک کرنا شروع کی ‘ یہاں تک کہ مسواک کے نیچے میں نے آپ کے دانتوں کی حرکت کو سنا ‘ آپ یہ آیات تلاوت کر رہے تھے : ’’ بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ پھر آپ نے مسواک رکھی اور اُٹھ کر مشکیزے کی طرف گئے اور آپ نے اسے کھولا ‘ پہلے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اُٹھ کر آپ ﷺ کو وضو کرواتا ہوں ، لیکن پھر مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ ﷺ اپنے عمل میں سے کسی چیز کو ( میری وجہ سے ) ترک نہ کر دیں ، جب آپ نے وضو کر لیا ‘ تو آپ نماز کی جگہ پر تشریف لائے ، آپ نے چار رکعات ادا کیں ، آپ نے ہر رکعت میں تقریبا پچاس آیات کی تلاوت کی ، آپ نے ان آیات میں طویل ، رکوع اور سجود کیا ، پھر آپ اپنی جگہ پر آ گئے ‘ جہاں آپ پہلے موجود تھے ‘ اور وہاں آپ آرام سے لیٹ گئے اور سونے کے دوران خراٹے لینے لگے ‘ میں نے سوچا کہ اب آپ رات کے وقت نوافل ادا نہیں کریں گے ‘ یہاں تک کہ صبح ہو جائے گی ‘ جب ایک تہائی رات ‘ یا اس کا نصف ‘ یا اُس کے آس پاس کا حصہ گزر گیا ‘ تو پھر آپ نے ایسا ہی کیا ‘ آپ اپنی نماز کی جگہ پر تشریف لائے ، آپ نے چار رکعات ادا کیں ، جو اُسی طرح تھیں پھر اپنی لیٹنے کی جگہ پر آئے اور وہاں سو گئے اور خراٹے لینے لگے ‘ میں نے سوچا اب آپ کو نیند آ گئی ہے ‘ اب آپ صبح ہونے تک نہیں اٹھیں گے ‘ لیکن جب رات کا چھٹا حصہ ‘ یا اس سے کچھ کم حصہ باقی رہ گیا تو آپ اٹھے آپ نے وضو کیا ‘ آپ نے مسواک کی ‘ پھر سورت فاتحہ پڑھی ، پھر سورت الاعلیٰ کی تلاوت کی پھر رکوع میں گئے ، سجدہ کیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ‘ سورت فاتحہ پڑھی ‘ پھر آپ نے سورت الکافرون پڑھی ، پھر آپ رکوع میں چلے گئے سجدہ کیا ‘ پھر آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے سورت فاتحہ پڑھی اور سورت اخلاص پڑھی ، پھر آپ نے دعائے قنوت پڑھی ، پھر آپ نے رکوع کیا ‘ اور پھر آپ سجدے میں چلے گئے ( یعنی آپ نے وتر ادا کیے ) جب آپ فارغ ہوئے ‘ تو آپ تشریف فرما ہوئے ، یہاں تک کہ جب صبح صادق ہوئی ، تو آپ نے مجھے پکارا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُٹھ جاؤ ! اللہ کی قسم ! تم نہیں سوؤ گے ‘ میں اُٹھا میں نے وضو کیا ‘ اور آپ کے پیچھے نماز ادا کی ‘ آپ نے سورت فاتحہ اور سورت اخلاص کی تلاوت کی پھر آپ رکوع میں چلے گئے اور سجدے میں گئے ‘ پھر آپ دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے ، تو آپ نے سورت فاتحہ اور سورت الکافرون کی تلاوت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سالم خفاف ہے ‘ ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ دیگر حضرات نے یہ کہا ہے : یہ ضعیف ہے ‘ یہ ایک نیک شخص تھا ‘ لیکن اس کی کتابیں دفن ہو گئیں تھیں ، تو اس کی نقل کردہ حدیث ” ثبت ‘‘ نہیں ہے ۔

3657

Majma al-Zawaid #3657

«وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ أَبَاهُ بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي حَاجَةٍ قَالَ: فَوَجَدْتُهُ جَالِسًا مَعَ أَصْحَابِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أُكَلِّمَهُ فَلَمَّا صَلَّى الْمَغْرِبَ قَامَ يَرْكَعُ حَتَّى انْصَرَفَ مَنْ بَقِيَ فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى مَنْزِلِهِ وَتَبِعْتُهُ، فَلَمَّا سَمِعَ حِسِّي قَالَ: "" مَنْ هَذَا؟ "" قُلْتُ: ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ: "" ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ؟ "" قُلْتُ: ابْنُ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ قَالَ: "" مَرْحَبًا بِابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ مَا فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that his father sent him to the Messenger of Allah ﷺ with a need, and he found him seated with his Companions in the mosque and could not address him. After praying Maghrib the Prophet ﷺ stood offering voluntary Rakʿahs until all who remained in the mosque had departed, then went to his house with Ibn ʿAbbās following him. Hearing his footsteps, the Prophet ﷺ asked who it was, and upon learning it was Ibn ʿAbbās, the cousin of the Messenger of Allah, he welcomed him warmly. > **"Who is this? Welcome to the cousin of the Messenger of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : اُن کے والد نے انہیں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کسی کام کے سلسلے میں بھیجا ‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد میں بیٹھا ہوا پایا ‘ میں آپ ﷺ کے ساتھ بات چیت نہیں کر سکا ‘ جب آپ نے مغرب کی نماز ادا کر لی ‘ تو آپ اُٹھے آپ ﷺ نے نوافل ادا کرنے شروع کیے ‘ یہاں تک کہ مسجد میں موجود لوگ واپس چلے گئے ، آپ بھی اپنے گھر چلے گئے ‘ میں آپ کے پیچھے آیا ‘ جب آپ نے میری آہٹ محسوس کی ‘ تو دریافت کیا : کون ہے ؟ تو میں نے عرض کی : ابن عباس ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اللہ کے رسول کا چچا زاد ؟ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول کا چچا زاد ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کے رسول کے چچا زاد کو خوش آمدید ہے ! علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے اس کی مانند حدیث ذکر کی ہے ‘ جو ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔‘ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ‘ جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

3658

Majma al-Zawaid #3658

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحْيِي اللَّيْلَ بِثَمَانِ رَكَعَاتٍ رُكُوعُهُنَّ وَسُجُودُهُنَّ كَقِرَاءَتِهِنَّ وَيُسَلِّمُ بَيْنَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ وَقَدِ اتَّهَمَهُ أَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ would keep the night alive with eight Rakʿahs whose bowing and prostration were like their recitation, offering the Salām between every two Rakʿahs.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ رات کے وقت آٹھ رکعات ادا کرتے تھے ‘ جن کے رکوع اور سجدے ‘ اُن کی قرأت جتنے ( طویل ) ہوتے تھے ‘ آپ ہر دو رکعات کے بعد سلام پھیر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن ابومروان ہے ‘ جس پر ابوحاتم نے تہمت عائد کی ہے ۔

3659

Majma al-Zawaid #3659

وَعَنْ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الْخُزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا صَلَّى وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ صَلَّى صَلَاةً خَفِيفَةً تَامَّةَ الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَنَافِعٌ: ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Nāfiʿ ibn Khālid al-Khuzāʿī reports from his father رضي الله عنه that when the Messenger of Allah ﷺ prayed while the people were watching, he would pray a short prayer complete in its bowing and prostration.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بن خالد خزاعی بیان کرتے ہیں : میرے والد نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم ﷺ جب کسی ایسی جگہ نماز ادا کر رہے ہوتے تھے ‘ جہاں لوگ دیکھ رہے ہوتے تھے ‘ تو آپ ﷺ رکوع اور سجود مکمل کرتے تھے ، لیکن مختصر نماز ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ نافع نامی راوی کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

3660

Majma al-Zawaid #3660

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ قَالَ مِثْلَ حَدِيثِ مَالِكٍ «فِي صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً وَاضْطِجَاعُهُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، فِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn al-Ḥakam رضي الله عنه reports, in the manner of the narration of Mālik concerning the prayer of the Messenger of Allah ﷺ, eleven Rakʿahs and his lying upon his right side.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حکم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے مالک کی نقل کردہ روایت کی مانند روایت نقل کی ہے ‘ جو نبی اکرم ﷺ کی نماز کے بارے میں ہے کہ آپ ﷺ نے گیارہ رکعات ادا کی تھیں ، اور دائیں پہلو کے بل لیٹ گئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ثقہ ہیں ، کچھ رجال کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ‘ جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

3661

Majma al-Zawaid #3661

وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ غَزِيَّةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: يَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي حَتَّى يُصْبِحَ أَنَّهُ قَدْ تَهَجَّدَ، إِنَّمَا التَّهَجُّدُ: الْمَرْءُ يُصَلِّي الصَّلَاةَ بَعْدَ رَقْدَةٍ ثُمَّ الصَّلَاةَ بَعْدَ رَقْدَةٍ وَتِلْكَ كَانَتْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَلَهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥajjāj ibn Ghaziyah رضي الله عنه, a Companion of the Messenger of Allah ﷺ, reports that one of them supposes that standing in prayer through the night until morning constitutes Tahajjud, whereas Tahajjud is only prayer after a sleep, then prayer after a sleep — and such was the prayer of the Messenger of Allah ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حجاج بن غزیہ رضی اللہ عنہ ‘ جو نبی اکرم ﷺ کے صحابی ہیں ، وہ فرماتے ہیں : تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ جب کوئی شخص رات کو نوافل ادا کرتا رہے ‘ اور صبح ہونے تک مسلسل نماز ادا کرتا ہے ‘ تو اُس نے تہجد ادا کر لی ‘ حالانکہ تہجد ادا کرنے والا شخص وہ ہوتا ہے ‘ جو کچھ دیر سونے کے بعد نماز ادا کرے ‘ پھر کچھ دیر سونے کے بعد نماز ادا کرے ‘ نبی اکرم ﷺ کی نماز اسی طرح ہوتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ یہ صحیح سند کے ساتھ منقول ہے ‘ اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3662

Majma al-Zawaid #3662

وَعَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْمَازِنِيِّ قَالَ: أَيَحْسَبُ أَحَدُكُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي حَتَّى يُصْبِحَ أَنْ قَدْ تَهَجَّدَ، إِنَّمَا التَّهَجُّدُ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ رَقْدَةٍ ثُمَّ الصَّلَاةِ بَعْدَ رَقْدَةٍ، وَتِلْكَ كَانَتْ صَلَاةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِبَعْضِهِ وَفِي بَعْضِهَا: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَهَجَّدُ بَعْدَ نَوْمِهِ وَكَانَ يَسْتَنُّ قَبْلَ أَنْ يَتَهَجَّدَ» وَمَدَارُهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ كَاتِبِ اللَّيْثِ، قَالَ فِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبٍ، ابْنُ اللَّيْثِ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥajjāj ibn ʿAmr al-Māzinī رضي الله عنه reports that one of them supposes that standing in prayer until morning constitutes Tahajjud, whereas Tahajjud is prayer after a sleep, then prayer after a sleep — and such was the prayer of the Messenger of Allah ﷺ, who would use the Miswāk before his Tahajjud.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حجاج بن عمرو مازنی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم میں سے کوئی ایک شخص یہ سمجھتا ہے کہ جو شخص صبح ہونے تک مسلسل نماز ادا کرتا رہے اس نے تہجد ادا کر لی ‘ حالانکہ تہجد یہ ہوتی ہے کہ سونے کے بعد نماز ادا کی جائے ‘ پھر سونے کے بعد نماز ادا کی جائے ‘ یہ نبی اکرم ﷺ کی نماز کا طریقہ تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ سونے کے بعد ( بیدار ہو کر ) تہجد ادا کرتے تھے ‘ اور آپ تہجد سے پہلے مسواک کیا کرتے تھے ۔ اس روایت کا مدار عبداللہ بن صالح پر ہے ‘ جو لیث کا کاتب ہے ‘ اس کے بارے میں عبدالملک بن شعیب بن لیث نے یہ کہا ہے : یہ ثقہ اور مامون ہے ‘ امام احمد اور دیگر حضرات نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔

3663

Majma al-Zawaid #3663

عَنْ عُثْمَانَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ ثَلَاثًا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا ثُمَّ رَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لَا يُحَدِّثُ نَفْسَهُ فِيهِمَا إِلَّا بِخَيْرٍ غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلَهُ: "" إِلَّا بِخَيْرٍ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān رضي الله عنه reports that he performed Wuḍūʾ three times over and then related that the Messenger of Allah ﷺ performed Wuḍūʾ like his own, after which he described the reward of one who performs Wuḍūʾ likewise and prays two Rakʿahs entertaining nothing but good within them. > **"Whoever performs Wuḍūʾ like this Wuḍūʾ of mine, then prays two Rakʿahs in which he speaks to himself of nothing but good, his past sins are forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے تین ‘ تین مرتبہ وضو کیا ، پھر انہوں نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم ﷺ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے ، پھر دو رکعات ادا کرے اور اُن دو رکعات کے درمیان صرف بھلائی کے بارے میں سوچے ‘ تو اُس شخص کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح منقول ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” صرف بھلائی کے بارے میں ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3664

Majma al-Zawaid #3664

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ لَا يَسْهُو فِيهِنَّ غُفِرَ لَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ described the reward of one who performs Wuḍūʾ well and prays four Rakʿahs without lapsing in them. > **"Whoever performs Wuḍūʾ and perfects it, then prays four Rakʿahs in which he does not lapse, he is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص وضو کرتے ہوئے ‘ اچھی طرح وضو کرے ، پھر چار رکعات ادا کرے ‘ جن کے درمیان وہ سہو کا شکار نہ ہو ‘ تو اُس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابوالمخارق ہے ‘ اور وہ ضعیف ہے ۔

3665

Majma al-Zawaid #3665

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ صَلَّى غَيْرَ سَاهٍ وَلَا لَاهٍ كُفِّرَ عَنْهُ مَا كَانَ بِهِ مِنْ سَيِّئَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Rabīʿah ibn Qays reports that he heard ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه say that he heard the Messenger of Allah ﷺ describe the expiation of one who performs Wuḍūʾ well and prays without forgetfulness or heedlessness. > **"Whoever performs Wuḍūʾ and perfects his Wuḍūʾ, then prays without forgetfulness or heedlessness, what was upon him of evil deeds is expiated."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ربیعہ بن قیس بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : وہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص وضو کرتے ہوئے ‘ اچھی طرح وضو کرے ‘ پھر نماز ادا کرے ‘ جس میں سہو کا شکار نہ ہو ‘ اور لہو کا شکار نہ ہو ‘ تو اُس شخص کے گناہوں کو ختم کر دیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ‘ جن میں سے ایک سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3666

Majma al-Zawaid #3666

عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: صَحِبْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ أَتَعَلَّمُ مِنْهُ فَلِمَا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ: آذِنِ النَّاسَ بِمَوْتِي فَآذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِهِ، فَجِئْتُ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ [قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ آذَنْتُ النَّاسِ بِمَوْتِكَ، وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاهُ] قَالَ: أَخْرِجُونِي فَأَخْرَجْنَاهُ قَالَ: فَأَجْلِسُونِي فَأَجْلَسْنَاهُ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُتِمُّهُمَا أَعْطَاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مَا سَأَلَ مُعَجَّلًا أَوْ مُؤَخَّرًا» "". قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: [يَا أَيُّهَا النَّاسُ] إِيَّاكُمْ وَالِالْتِفَاتَ فِي الصَّلَاةِ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لِمُلْتَفِتٍ فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِي التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُنَّ فِي الْفَرَائِضِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مَيْمُونٌ أَبُو مُحَمَّدٍ قَالَ الذَّهَبِيُّ: لَا يُعْرَفُ.

EnglishUnverified translation

Yūsuf ibn ʿAbdillāh ibn Salām reports that he kept company with Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه to learn from him, and that when death approached him, Abū al-Dardāʾ asked that the people be informed. The house and its surroundings filled. He asked to be brought out and seated, then addressed the people with what he had heard from the Messenger of Allah ﷺ concerning two complete Rakʿahs after perfect Wuḍūʾ, adding his own warning against turning about in Ṣalāh and against allowing it in the obligatory prayers even if overcome in the voluntary. > **"Whoever performs Wuḍūʾ and perfects it, then prays two Rakʿahs and completes them, Allah, Mighty and Majestic, grants him whatever he asks, sooner or later. Beware of turning about in Ṣalāh, for there is no prayer for one who turns about; if you are overcome in the voluntary, then let it not be in the obligatory."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کے پاس رہا ‘ تاکہ اُن سے علم حاصل کرتا رہوں ، جب اُن کی وفات کا وقت قریب آیا ‘ تو انہوں نے فرمایا : لوگوں کو میرے قریب المرگ ہونے کی اطلاع دے دو ! میں نے لوگوں کو اطلاع دے دی ، میں آیا تو گھر بھر چکا تھا اور باہر بھی لوگ موجود تھے ‘ میں نے کہا : میں نے لوگوں کو آپ کے قریب المرگ ہونے کی اطلاع دیدی ہے ‘ تو گھر اور باہر لوگ بھر چکے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : تم مجھے باہر لے جاؤ ! ہم انہیں باہر لے آئے ‘ تو انہوں نے فرمایا : تم مجھے بٹھاؤ ! ہم نے انہیں بٹھا دیا ‘ انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص وضو کرتے ہوئے ‘ اچھی طرح وضو کرے اور پھر دو رکعات مکمل ادا کرے ‘ تو وہ اللہ تعالیٰ سے جو بھی چیز مانگے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ اُسے وہ چیز جلدی عطا کر دے گا ‘‘۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! نماز کے دوران ادھر ادھر توجہ کرنے سے بچو ! کیونکہ ادھر ادھر توجہ کرنے والے کی نماز نہیں ہوتی ہے ‘ اگر مجبوراً ایسا کرنا پڑے ‘ تو نفل میں ایسا کر لو ‘ فرض میں ایسا نہ کرنا ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی میمون ابومحمد ہے ‘ امام ذہبی کہتے ہیں : یہ معروف نہیں ہے ۔

3667

Majma al-Zawaid #3667

وَعَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي مَا أَعَمَلَكَ إِلَى هَذَا الْبَلَدِ؟ أَوْ مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، إِلَّا صِلَةُ مَا كَانَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ وَالِدِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ فَقَالَ: بِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا - شَكَّ سَهْلٌ - يُحْسِنُ فِيهِمَا الرُّكُوعَ وَالْخُشُوعَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ غَفَرَ لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا مَكْتُوبَةً أَوْ غَيْرَ مَكْتُوبَةٍ يُحْسِنُ فِيهَا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ» "" وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Yūsuf ibn ʿAbdillāh ibn Salām reports that he visited Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه in the illness in which he died. Abū al-Dardāʾ asked what had brought him to that land, and Yūsuf replied that it was only the bond between Abū al-Dardāʾ and his father ʿAbdullāh ibn Salām رضي الله عنه. Abū al-Dardāʾ declared it an evil hour for falsehood and then related what he had heard from the Messenger of Allah ﷺ concerning Wuḍūʾ, prayer of two or four Rakʿahs with excellence in bowing and humility — or, in another wording, obligatory or voluntary prayer with excellence in bowing and prostration — followed by seeking Allah's forgiveness. > **"Whoever performs Wuḍūʾ and perfects it, then stands and prays two or four Rakʿahs, performing well in them the bowing and humility, then seeks Allah's forgiveness, he is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یوسف بن عبداللہ بن سلام بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان کی اس بیماری کے دوران حاضر ہوا ‘ جس میں اُن کا انتقال ہوا تھا ، انہوں نے فرمایا : اے میرے بھتیجے ! تم یہاں کس کام کے سلسلے میں آئے ہو ؟ ( یہاں راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم کیوں آئے ہو ؟ تو یوسف بن عبداللہ نے کہا : میں صرف اُس تعلق کی وجہ سے آیا ہوں ‘ جو آپ کے اور میرے والد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے درمیان تھا ، تو حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جھوٹ بولنے کے لئے یہ گھڑی بری ہے ( یعنی یہ گھڑی جب میں دنیا سے رخصت ہو رہا ہوں ) میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص وضو کرتے ہوئے ‘ اچھی طرح وضو کرے ‘ پھر کھڑے ہو کر دو رکعات ‘ یا چار رکعات ادا کرے ( یہ شک سہل نامی راوی کو ہے ) وہ اُن دونوں رکعت میں اچھی طرح سے رکوع اور خشوع کرے ، پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے تو اُس کی مغفرت ہو جائے گی ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ پھر وہ کھڑا ہو کر دو یا چار رکعات ادا کرے ‘ خواہ وہ فرض ہوں یا نفل ہوں ، اور وہ اُن میں اچھی طرح رکوع و سجود کرے ‘‘۔ اس روایت کی سند حسن ہے ۔

3668

Majma al-Zawaid #3668

وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَجُلًا كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي حَاجَةٍ لَهُ فَكَانَ عُثْمَانُ لَا يَلْتَفِتُ إِلَيْهِ وَلَا يَنْظُرُ فِي حَاجَتِهِ فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَيْهِ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ ثُمَّ ائْتِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّي أَتَوَجَّهُ بِكَ إِلَى رَبِّي فَيَقْضِي لِي حَاجَتِي، وَتَذْكُرُ حَاجَتَكَ، وَرُحْ إِلَيَّ حِينَ أَرُوحُ مَعَكَ فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ فَصَنَعَ مَا قَالَ لَهُ ثُمَّ أَتَى بَابَ عُثْمَانَ فَجَاءَ الْبَوَّابُ حَتَّى أَخَذَ بِيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فَأَجْلَسَهُ مَعَهُ عَلَى الطِّنْفِسَةِ وَقَالَ: حَاجَتُكَ؟ فَذَكَرَ حَاجَتَهُ فَقَضَاهَا لَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ: مَا ذَكَرْتَ حَاجَتَكَ حَتَّى كَانَتْ هَذِهِ السَّاعَةُ، وَقَالَ: مَا كَانَتْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ فَائْتِنَا، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهِ فَلَقِيَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ فَقَالَ لَهُ: جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مَا كَانَ يَنْظُرُ فِي حَاجَتِي وَلَا يَلْتَفِتُ إِلَيَّ حَتَّى كَلَّمْتَهُ فِيَّ، فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: وَاللَّهِ مَا كَلَّمْتُهُ وَلَكِنْ «شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَاهُ رَجُلٌ ضَرِيرٌ فَشَكَا إِلَيْهِ ذَهَابَ بَصَرِهِ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَوَ تَصْبِرُ؟ "" فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ وَقَدْ شَقَّ عَلَيَّ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ائْتِ الْمِيضَأَةَ فَتَوَضَّأْ ثُمَّ صَلِّ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ ادْعُ بِهَذِهِ الْكَلِمَاتِ» فَقَالَ عُثْمَانُ بْنُ حُنَيْفٍ: فَوَاللَّهِ مَا تَفَرَّقْنَا وَطَالَ بِنَا الْحَدِيثُ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ كَأَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بِهِ ضَرَرٌ قَطُّ. قُلْتُ رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْ آخِرِهِ خَالِيًا عَنِ الْقِصَّةِ، وَقَدْ قَالَ الطَّبَرَانِيُّ عَقِبَهُ: وَالْحَدِيثُ صَحِيحٌ بَعْدَ ذِكْرِ طُرُقِهِ الَّتِي رُوِيَ بِهَا.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn Ḥunayf رضي الله عنه reports that a man repeatedly brought a need to ʿUthmān ibn ʿAffān رضي الله عنه without receiving attention, and upon complaining of this to ʿUthmān ibn Ḥunayf, he was instructed to perform Wuḍūʾ, pray two Rakʿahs in the mosque, supplicate through the Prophet ﷺ, the Prophet of Mercy, mentioning his need, and then come at the time of going to ʿUthmān. The man did so; the doorkeeper took him by the hand to ʿUthmān ibn ʿAffān, who seated him with himself upon his carpet, fulfilled his need, and reproached him for his delay while bidding him return with every need. When the man thanked ʿUthmān ibn Ḥunayf and supposed he had interceded for him, ʿUthmān ibn Ḥunayf swore he had not spoken to him, but recalled witnessing a blind man come to the Messenger of Allah ﷺ complaining of his lost sight. The Prophet ﷺ first offered him patience, but when the man explained he had no guide and found it grievous, he instructed him to perform Wuḍūʾ, pray two Rakʿahs, and supplicate with those words. ʿUthmān ibn Ḥunayf swore that they had not dispersed nor long conversed before the man returned as though never afflicted. > **"O Allah, I ask You and turn to You through our Prophet Muḥammad ﷺ, the Prophet of Mercy. O Muḥammad, I turn through you to my Lord, that He may fulfil my need for me. Would you be patient? Go to the place of Wuḍūʾ, perform Wuḍūʾ, then pray two Rakʿahs, then supplicate with these words."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص اپنے کسی کام کے سلسلے میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس آتا جاتا رہا ، لیکن حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف توجہ نہیں دی ‘ اور اس کی ضرورت کا جائزہ نہیں لیا ‘ اُس شخص کی ملاقات حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ہوئی اس نے اس بات کی شکایت حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کے سامنے کی ‘ تو حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تم وضو کے برتن کے پاس جاؤ وضو کرو ‘ پھر تم مسجد میں آؤ ‘ اُس میں دو رکعات ادا کرو ‘ اور پھر یہ پڑھو : ” اے اللہ ! میں اپنے نبی حضرت محمد ﷺ جو نبی رحمت ہیں ، اُن کے وسیلے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں ، اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اے حضرت محمد ! میں آپ کو اپنے پروردگار کی بارگاہ کی طرف متوجہ کرواتا ہوں ( کہ آپ میرے لئے یہ دعا کریں ) تاکہ پروردگار میری حاجت کو پورا کر دے ‘‘۔ ( پھر حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تم اپنے کام کا ذکر کرو اور پھر ادھر جب جاؤ گے ‘ تو میں بھی تمہارے ساتھ جاؤں گا ‘ وہ شخص چلا گیا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جو اُسے بتایا تھا ‘ وہ اُس نے کیا ، پھر وہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آیا ‘ تو دربان آیا ‘ اُس نے اس شخص کا ہاتھ پکڑا ‘ اور اسے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لے گیا ‘ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ساتھ اپنے بچھونے پر بٹھایا ‘ اور فرمایا : تمہیں کیا کام ہے ؟ اس شخص نے اپنی ضرورت کا ذکر کیا ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اُسے پورا کرنے کی ہدایت کی ، پھر اُس سے فرمایا تم نے اپنی ضرورت بتانے میں اتنی دیر کر دی ؟ پھر انہوں نے فرمایا : تمہیں جب بھی کوئی ضرورت ہو ‘ تو تم ہمارے پاس آ جایا کرو ‘ وہ شخص ان کے پاس سے نکلا ‘ تو اس کی ملاقات حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ سے ہوئی ‘ اس شخص نے اُن سے کہا : اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا کرے ‘ پہلے تو وہ میری ضرورت کی طرف غور و فکر ہی نہیں کرتے تھے ‘ اور میری طرف توجہ ہی نہیں کرتے تھے ‘ آپ نے اُن سے میرے بارے میں بات چیت کی ‘ تو انہوں نے ایسا کیا ‘ تو حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں نے ان کے ساتھ کوئی بات نہیں کی ‘ ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ‘ ایک نابینا شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اُس نے بینائی رخصت ہونے کی شکایت آپ ﷺ سے کی ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم صبر سے کام نہیں لیتے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے ساتھ لے کے چلنے والا کوئی نہیں ہے ‘ اور مجھے بڑی پریشانی ہوتی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم وضو کے برتن کے پاس جاؤ ‘ وضو کرو ‘ پھر دو رکعات ادا کرو ‘ پھر یہ دعا کرو ‘ حضرت عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ یہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! ابھی ہم وہاں سے اٹھے نہیں تھے ‘ اور گفتگو کیے ہوئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ وہ شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ تو یوں لگ رہا تھا کہ جیسے اُسے کوئی ضرر لاحق ہی نہیں تھا ( یعنی اس کی بینائی بالکل ٹھیک ہو چکی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا آخری حصہ نقل کیا ہے ‘ جو پورے واقعے کے علاوہ ہے ‘ امام طبرانی فرماتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے ‘ انہوں نے اس کے مختلف طرق ذکر کرنے کے بعد یہ بات بیان کی ہے ‘ جن طرق کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ۔