وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «أَهْدَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى أَبِي بَكْرَةَ فَاسْتَصْغَرَهَا [ثُمَّ] قَالَ [لِي]: انْطَلِقْ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَائِتِ فَقُلْ: إِنَّا قَوْمٌ نَعْمَلُ فَإِنْ كَانَ عِنْدَكَ أَسَنُّ مِنْهَا فَابْعَثْ بِهَا إِلَيْنَا؟ [فَأَتَيْتُ بِهَا] فَقَالَ: "" ابْنَ عَمِّي وَجِّهْهَا إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ ""، فَوَجَّهْتُهَا ثُمَّ أَتَيْتُهُ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْعِشَاءَ فَقَالَ: "" مَا تُرِيدُ أَنْ تَبِيتَ عِنْدَ خَالَتِكَ اللَّيْلَةَ قَدْ أَمْسَيْتَ؟ "" فَوَافَقْتُ لَيْلَتَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْتُهَا فَعَشَّتْنِي وَوَطَّأَتْ لِي عَبَاءَةً بِأَرْبَعَةٍ فَافْتَرَشْتُهَا فَقُلْتُ: لَأَعْلَمَنَّ مَا يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اللَّيْلَةَ، فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا مَيْمُونَةُ! "" فَقَالَتْ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: "" مَا أَتَاكِ ابْنُ أُخْتِكِ؟ "" قَالَتْ: بَلَى، هُوَ هَذَا، قَالَ: "" أَفَلَا عَشَّيْتِيهِ إِنْ كَانَ عِنْدَكِ شَيْءٌ؟ "" قَالَتْ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ: "" فَوَطَّأْتِ لَهُ؟ "" قَالَتْ: نَعَمْ فَمَالَ إِلَى فِرَاشِهِ فَلَمْ يَضْطَجِعْ عَلَيْهِ وَاضْطَجَعَ حَوْلَهُ وَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى الْفِرَاشِ فَمَكَثَ سَاعَةً فَسَمِعْتُهُ نَفَخَ فِي النَّوْمِ فَقُلْتُ: نَامَ وَلَيْسَ بِالْمُسْتَيْقِظِ وَلَيْسَ بِقَائِمٍ اللَّيْلَةَ، ثُمَّ قَامَ حَيْثُ قُلْتُ: ذَهَبَ الرُّبُعُ أَوِ الثُّلُثُ مِنَ اللَّيْلِ فَأَتَى سِوَاكًا لَهُ وَمَطْهَرَةً فَاسْتَاكَ حَتَّى سَمِعْتُ صَرِيرَ ثَنَايَاهُ تَحْتَ السِّوَاكِ، [وَهُوَ يَقْرَأُ هَؤُلَاءِ الْآيَاتِ {إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ} [آل عمران: 190] ثُمَّ وَضَعَ السِّوَاكَ] ثُمَّ قَامَ إِلَى قِرْبَةٍ فَحَلَّ شِنَاقَهَا فَأَرَدْتُ أَنْ أَقُومَ فَأَصُبَّ عَلَيْهِ فَخَشِيتُ أَنْ يَذَرَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ، فَلَمَّا تَوَضَّأَ دَخَلَ مَسْجِدَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فَقَرَأَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِقْدَارَ خَمْسِينَ آيَةً يُطِيلُ فِيهَا الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَكَانِهِ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ فَاضْطَجَعَ هَوْنًا فَنَفَخَ وَهُوَ نَائِمٌ فَقُلْتُ: لَيْسَ بِقَائِمٍ اللَّيْلَةَ حَتَّى يُصْبِحَ، فَلَمَّا ذَهَبَ ثُلُثُ اللَّيْلِ أَوْ نِصْفُهُ أَوْ قَدَرُ ذَلِكَ قَامَ يَصْنَعُ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ دَخَلَ مَسْجِدَهُ فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ عَلَى قَدْرِ ذَلِكَ ثُمَّ جَاءَ إِلَى مَضْجَعِهِ فَاتَّكَأَ عَلَيْهِ فَنَفَخَ فَقُلْتُ: ذَهَبَ بِهِ النَّوْمُ وَلَيْسَ بِقَائِمٍ حَتَّى يُصْبِحَ ثُمَّ قَامَ حِينَ بَقِيَ سُدُسُ اللَّيْلِ أَوْ أَقَلُّ فَاسْتَاكَ ثُمَّ تَوَضَّأَ فَافْتَتَحَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ ثُمَّ قَرَأَ بِ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ قَنَتَ فَرَكَعَ وَسَجَدَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَعَدَ حَتَّى إِذَا مَا طَلَعَ الْفَجْرُ نَادَانِي فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ: "" قُمْ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِنَائِمٍ "" فَقُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ فَصَلَّيْتُ خَلْفَهُ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ رَكَعَ وَسَجَدَ ثُمَّ قَامَ فِي الثَّانِيَةِ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَفِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ سَالِمٍ الْخَفَّافُ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ غَيْرُهُ: ضَعِيفٌ وَهُوَ رَجُلٌ صَالِحٌ وَلَكِنَّهُ دَفَنَ كُتُبَهُ فَلَا يَثْبُتُ حَدِيثُهُ.
EnglishUnverified translation
Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reports that the Messenger of Allah ﷺ had given his father a young she-camel as a gift, but his father found it too small and sent Ibn ʿAbbās back to the Prophet ﷺ to say that they were working people and to ask for an older one in its place. The Prophet ﷺ instructed him to direct it to the Ṣadaqah camels, which he did. He then joined the Prophet ﷺ in the mosque for ʿIshāʾ, after which the Prophet ﷺ asked whether he wished to spend the night at his aunt's house since evening had come, and Ibn ʿAbbās agreed to the Prophet's ﷺ own night there. He went to Maymūnah رضي الله عنها, who gave him supper and spread a cloak folded in four for his bedding, while he resolved to observe what the Messenger of Allah ﷺ did that night. The Prophet ﷺ entered, called out to Maymūnah, asked whether her nephew had come and whether she had given him supper and bedding, and she confirmed it. He inclined to his bed without lying upon it, laying his head upon the bedding nearby, and after a while Ibn ʿAbbās heard him breathing in sleep and supposed he would not rise that night. When a quarter or a third of the night had passed, the Prophet ﷺ rose, went to his Miswāk and water for Wuḍūʾ, and used the Miswāk until the rasping upon his teeth could be heard, reciting the verses concerning the creation of the heavens and the earth; then he put down the Miswāk, went to a waterskin, and loosened its tie. Ibn ʿAbbās wished to rise and pour for him but feared interrupting any part of his practice. After Wuḍūʾ the Prophet ﷺ entered his place of prayer and prayed four Rakʿahs, reciting some fifty verses in each with prolonged bowing and prostration, then returned to his resting place and lay down lightly, breathing in sleep, so that Ibn ʿAbbās supposed he would not rise until morning. When a third or half the night or thereabouts had passed, he rose and did the same, praying four Rakʿahs in like measure, then returned to his bed and breathed in sleep. When a sixth of the night or less remained, he rose, used the Miswāk, performed Wuḍūʾ, and opened with the Fātiḥah followed by al-Aʿlā, then bowed and prostrated; he stood again and recited the Fātiḥah with Qul Hūwa Allāhu Aḥad, then observed Qunūt, bowed, and prostrated; when he finished he sat until dawn broke, then called to Ibn ʿAbbās, who answered, and commanded him to rise. > **"Rise, for by Allah, you were not asleep."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے میرے والد کو ایک جوان اونٹنی تحفے میں دی ‘ میرے والد نے اسے کم عمر سمجھا ، انہوں نے مجھ سے فرمایا : تم اسے نبی اکرم ﷺ کے پاس لے جاؤ ‘ تم آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ عرض کرنا کہ ہم کام کاج کرنے والے لوگ ہیں ، اگر آپ کے پاس اس سے زیادہ عمر والی کوئی اونٹنی ہو ‘ تو وہ ہمیں بھجوا دیں ‘ میں وہ اونٹنی لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے میرے چچا کے بیٹے ! تم اسے صدقہ کے اونٹوں کی طرف لے جاؤ ‘ میں اسے وہاں لے گیا پھر میں مسجد میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اور میں نے آپ کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کی ، آپ نے فرمایا : کیا تم آج رات اپنی خالہ کے ہاں نہیں ٹھہرو گے ؟ کیونکہ شام ہو چکی ہے ، تو اس رات میں نبی اکرم ﷺ کے ہاں ٹھہرنے کے لئے تیار ہو گیا ‘ میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر آیا ‘ انہوں نے مجھے کھانا دیا اور میرے لئے ایک عبا بچھا دی ‘ میں نے سوچا میں اس بات کا جائزہ لوں گا کہ نبی اکرم ﷺ رات کے وقت کس طرح عمل کرتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لائے ‘ آپ ﷺ نے فرمایا : اے میمونہ ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تمہارا بھانجا تمہارے پاس آ گیا تھا ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! وہ یہاں موجود ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تمہارے پاس کچھ تھا ، تو تم نے اسے کھانے کے لئے دے دینا تھا ، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : میں نے ایسا کر لیا ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کے لئے کچھ بچھایا ہے ‘ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ بچھونے سے ایک طرف ہو کر لیٹ گئے ، آپ اس پر نہیں لیٹے ، آپ اس کے ارد گرد لیٹ گئے ‘ اور آپ نے اپنا سر بچھونے پر رکھ دیا کچھ دیر گزری ، میں نے آپ کو سنا کہ آپ نیند کے دوران خراٹے لینے لگے ‘ میں نے یہ سوچا کہ اب آپ سو گئے ہیں ‘ اور رات کو نوافل ادا نہیں کریں گے ‘ پھر میرے اندازے کے مطابق جب رات کا ایک چوتھائی حصہ ‘ یا ایک تہائی حصہ رخصت ہو چکا تھا ، اس وقت آپ اُٹھے آپ اپنی مسواک اور وضو کے پانی کے پاس تشریف لائے ‘ آپ نے مسواک کرنا شروع کی ‘ یہاں تک کہ مسواک کے نیچے میں نے آپ کے دانتوں کی حرکت کو سنا ‘ آپ یہ آیات تلاوت کر رہے تھے : ’’ بے شک آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔ پھر آپ نے مسواک رکھی اور اُٹھ کر مشکیزے کی طرف گئے اور آپ نے اسے کھولا ‘ پہلے میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اُٹھ کر آپ ﷺ کو وضو کرواتا ہوں ، لیکن پھر مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ ﷺ اپنے عمل میں سے کسی چیز کو ( میری وجہ سے ) ترک نہ کر دیں ، جب آپ نے وضو کر لیا ‘ تو آپ نماز کی جگہ پر تشریف لائے ، آپ نے چار رکعات ادا کیں ، آپ نے ہر رکعت میں تقریبا پچاس آیات کی تلاوت کی ، آپ نے ان آیات میں طویل ، رکوع اور سجود کیا ، پھر آپ اپنی جگہ پر آ گئے ‘ جہاں آپ پہلے موجود تھے ‘ اور وہاں آپ آرام سے لیٹ گئے اور سونے کے دوران خراٹے لینے لگے ‘ میں نے سوچا کہ اب آپ رات کے وقت نوافل ادا نہیں کریں گے ‘ یہاں تک کہ صبح ہو جائے گی ‘ جب ایک تہائی رات ‘ یا اس کا نصف ‘ یا اُس کے آس پاس کا حصہ گزر گیا ‘ تو پھر آپ نے ایسا ہی کیا ‘ آپ اپنی نماز کی جگہ پر تشریف لائے ، آپ نے چار رکعات ادا کیں ، جو اُسی طرح تھیں پھر اپنی لیٹنے کی جگہ پر آئے اور وہاں سو گئے اور خراٹے لینے لگے ‘ میں نے سوچا اب آپ کو نیند آ گئی ہے ‘ اب آپ صبح ہونے تک نہیں اٹھیں گے ‘ لیکن جب رات کا چھٹا حصہ ‘ یا اس سے کچھ کم حصہ باقی رہ گیا تو آپ اٹھے آپ نے وضو کیا ‘ آپ نے مسواک کی ‘ پھر سورت فاتحہ پڑھی ، پھر سورت الاعلیٰ کی تلاوت کی پھر رکوع میں گئے ، سجدہ کیا ، پھر آپ کھڑے ہوئے ‘ سورت فاتحہ پڑھی ‘ پھر آپ نے سورت الکافرون پڑھی ، پھر آپ رکوع میں چلے گئے سجدہ کیا ‘ پھر آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے سورت فاتحہ پڑھی اور سورت اخلاص پڑھی ، پھر آپ نے دعائے قنوت پڑھی ، پھر آپ نے رکوع کیا ‘ اور پھر آپ سجدے میں چلے گئے ( یعنی آپ نے وتر ادا کیے ) جب آپ فارغ ہوئے ‘ تو آپ تشریف فرما ہوئے ، یہاں تک کہ جب صبح صادق ہوئی ، تو آپ نے مجھے پکارا ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُٹھ جاؤ ! اللہ کی قسم ! تم نہیں سوؤ گے ‘ میں اُٹھا میں نے وضو کیا ‘ اور آپ کے پیچھے نماز ادا کی ‘ آپ نے سورت فاتحہ اور سورت اخلاص کی تلاوت کی پھر آپ رکوع میں چلے گئے اور سجدے میں گئے ‘ پھر آپ دوسری رکعت میں کھڑے ہوئے ، تو آپ نے سورت فاتحہ اور سورت الکافرون کی تلاوت کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سالم خفاف ہے ‘ ابن حبان نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ دیگر حضرات نے یہ کہا ہے : یہ ضعیف ہے ‘ یہ ایک نیک شخص تھا ‘ لیکن اس کی کتابیں دفن ہو گئیں تھیں ، تو اس کی نقل کردہ حدیث ” ثبت ‘‘ نہیں ہے ۔