وَعَنْ مَالِكِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: «قَدِمَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَهُوَ بِإِيلِيَاءَ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ فَطُلِبَ فَلَمْ يُوجَدْ -[أَوْ] قَالَ: فَطَلَبْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ - فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي بِبِرَازٍ مِنَ الْأَرْضِ قَالَ: فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: جِئْنَا لِنُحْدِثَ بِكَ عَهْدًا أَوْ نَقْضِيَ مِنْ حَقِّكَ قَالَ: فَعِنْدِي جَائِزَتُكُمْ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَكَانَ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا رِعَايَةُ الْإِبِلِ يَوْمًا فَكَانَ يَوْمِي الَّذِي أَرْعَى فِيهِ قَالَ: فَرَوَّحْتُ الْإِبِلَ وَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ طَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ، قَالَ: فَأَهْمَلْتُ الْإِبِلَ وَتَوَجَّهْتُ نَحْوَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: "" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُرِيدُ بِهِمَا وَجْهَ اللَّهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا "" فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ فَضَرَبَ رَجُلٌ عَلَى كَتِفِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: يَا ابْنَ عَامِرٍ مَا كَانَ قَبْلَهَا أَفْضَلُ، قُلْتُ: مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَمَالِكُ بْنُ قَيْسٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُ النَّاسِ.
EnglishUnverified translation
Malik ibn Qays reports that Uqbah ibn Amir رضي الله عنه came to Muawiyah رضي الله عنه while he was in Ilya, then soon departed and was sought but not found, so they came to him and found him praying in an open tract of land. When he asked what had brought them, they replied that they had come to renew their bond with him and fulfil his right. He replied that he had with him their reward, then recounted that they were once with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and each man was charged with tending the camels for a day. When his own day came, he pastured the camels, then came to the Prophet ﷺ while his Companions gathered around him as he spoke. He neglected the camels and turned toward him, arriving as he was saying that whoever performs wudu excellently then prays two rakahs seeking thereby the Face of Allah will be forgiven what preceded. He exclaimed Allahu Akbar, whereupon a man struck his shoulder. He turned to find Abu Bakr رضي الله عنه, who told him that what the Prophet ﷺ had said before that was even more excellent. When he asked what it was, Abu Bakr رضي الله عنه informed him that the Messenger of Allah ﷺ had said that whoever testifies that none is worthy of worship except Allah, his heart confirming his tongue, shall enter through whichever gate of Paradise he wishes. > **"Whoever performs wudu and perfects the wudu, then prays two rakahs seeking thereby the Face of Allah, Allah forgives him what preceded. Whoever testifies that none is worthy of worship except Allah, his heart confirming his tongue, shall enter through whichever of the gates of Paradise he wishes."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
مالک بن قیس بیان کرتے ہیں : حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ‘ جو ایلیاء میں موجود تھے ‘ تھوڑی دیر کے بعد وہ تشریف لے گئے ‘ انہیں تلاش کیا گیا ‘ تو وہ نہیں ملے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہم نے انہیں تلاش کیا ، تو ہم نے انہیں نہیں پایا ‘ پھر ہم ان کے پاس آئے وہ اس وقت ایک کھلی جگہ پر نماز ادا کر رہے تھے ‘ انہوں نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں آئے ہو ؟ لوگوں نے بتایا : ہم اس لئے آئے ہیں تاکہ آپ سے دوبارہ ملیں اور آپ کا جو حق ہے اس کو ادا کریں ( یعنی آپ سے استفادہ کریں ) ‘ انہوں نے فرمایا : میرے پاس تمہاری ضرورت کی چیز ہے ‘ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ‘ ہم میں سے ہر ایک شخص کے ذمہ اونٹ کی ایک دن کی دیکھ بھال لازم تھی ‘ جب میرا مخصوص دن آیا ، جس دن میں ، میں نے اونٹ کو چرانا تھا ، تو میں اونٹوں کو چرانے کے لئے لے گیا ‘ جب میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب آپ کے پاس آ جا رہے تھے ‘ اور آپ بات چیت کر رہے تھے ‘ میری توجہ اونٹوں سے ہٹ گئی اور نبی اکرم ﷺ کی طرف مبذول ہو گئی ‘ جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : ’’ جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے ‘ پھر دو رکعات نماز ادا کرے اور ان دونوں کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے کے گناہوں کی مغفرت کر دے گا ‘‘۔ میں نے اللہ اکبر کہا ، تو کسی صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ‘ انہوں نے فرمایا : اے عامر کے صاحبزادے ! اس سے پہلے نبی اکرم ﷺ نے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے ‘ میں نے دریافت کیا : اس سے پہلے کیا بات تھی ؟ انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرے ‘ وہ شخص جنت کے جس بھی دروازے میں سے چاہے گا ‘ اندر داخل ہو جائے گا “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس صحابی کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ‘ جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ مالک بن قیس نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے بعض حضرات نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔