Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 5 · Chapter 8

Book of the Two Eids

Hadith 3480–3519

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

3480

Majma al-Zawaid #3480

وَعَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ «عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَالُ لَهُ: أَبُو الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْوِتْرِ قَالَ: "" أَتُحِبُّ أَنْ أُوتِرَ نِصْفَ اللَّيْلِ؟ إِنِّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَهْبِطُ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْيَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ؟ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ارْتَفَعَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَثُوَيْرٌ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Thuwayr ibn Abi Faktah reported from a Companion of the Prophet ﷺ called Abu al-Khattab رضي الله عنه that he asked the Prophet ﷺ about Witr, and the Prophet ﷺ asked whether he would love to perform Witr at midnight, explaining that Allah descends from the highest heaven to the lowest heaven and calls for any asker, seeker of forgiveness, and supplicant until dawn rises, when He ascends. > **"Would you love for me to perform Witr at midnight? Indeed Allah, Mighty and Majestic, descends from the highest heaven to the lowest heaven and says: Is there any asker? Is there any seeker of forgiveness? Is there any supplicant? Until when dawn rises, He ascends."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثویر بن ابوفاختہ ‘ نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی ‘ جن کا نام حضرت ابوخطاب رضی اللہ عنہ تھا ، ان کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے وتر کے بارے میں سوال کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تم نصف رات کے وقت وتر ادا کرو ؟ بے شک اللہ تعالیٰ ( نصف رات کے وقت ) اوپر والے آسمان سے آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے ‘ اور یہ فرماتا ہے : کیا کوئی سوال کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے ؟ کیا کوئی دعا کرنے والا ہے ؟ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) ایسا صبح صادق تک ہوتا رہتا ہے ‘ جب صبح صادق ہو جائے ‘ تو وہ اوپر چلا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور ثویر نامی راوی ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3481

Majma al-Zawaid #3481

وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ: أَخْبِرْنَا مَتَى كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُوتِرُ؟ قَالَ: إِذَا بَقِيَ مِنَ اللَّيْلِ نَحْوٌ مِمَّا مَضَى مِنْهُ إِلَى صَلَاةِ الْمَغْرِبِ، فَسَأَلُوهُ عَنْ قِرَاءَتِهِ فَقَالَ: كَانَ يُسْمِعُ أَهْلَ الدَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Alqamah reported that a man came to Abdullah رضي الله عنه and asked when the Messenger of Allah ﷺ would perform Witr, and he replied that it was when there remained of the night about as much as had passed from it up to the Maghrib prayer. When they asked about his recitation, he said that he would let the people of the house hear it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بولا : آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم ﷺ وتر کب ادا کرتے تھے ؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب رات کا تقریباً اتنا حصہ باقی رہ جاتا تھا ‘ جتنا حصہ اُس سے پہلے مغرب کی نماز تک گزر چکا ہوتا تھا ‘ ان لوگوں نے نبی اکرم ﷺ کی قرأت کے بارے میں دریافت کیا : تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : وہ اتنی بلند ہوتی تھی کہ گھر کے افراد سن لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن محمد بن حسن ہے ‘ میں اُس سے واقف نہیں ہوں ۔

3482

Majma al-Zawaid #3482

وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ يُنَادِي بِهَا نِدَاءً: الْوِتْرُ (مَا بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ) صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ الَّتِي تُسَمُّونَ الْعَتْمَةَ وَصَلَاةِ الْفَجْرِ مَتَى أَوْتَرْتَ فَحَسَنٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Aswad ibn Hilal testified concerning Abdullah ibn Mas'ud رضي الله عنه that he heard him proclaim aloud that Witr is between the two prayers, the last Isha which they call Atamah and the Fajr prayer, and that whenever one performs Witr therein it is good. > **"Witr is between the two prayers. Whenever you perform Witr, it is good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود بن ہلال بیان کرتے ہیں : میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دے کر یہ بات کہتا ہوں کہ میں نے انہیں بلند آواز میں پکار کر یہ کہتے ہوئے سنا ہے : وتر دو نمازوں کے درمیان میں ادا کیے جائیں گے ‘ عشاء کی نماز جسے تم ’’ عتمہ ‘‘ کہتے ہو ‘ اور فجر کی نماز ( ان دو نمازوں کے درمیان میں ) تم جس وقت بھی وتر ادا کر لو گے ‘ یہ اچھا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3483

Majma al-Zawaid #3483

وَعَنْ عَبْدِ خَيْرٍ قَالَ: «كُنَّا فِي الْمَسْجِدِ فَخَرَجَ عَلَيْنَا عَلِيٌّ فِي آخِرِ اللَّيْلِ فَقَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الْوِتْرِ؟ فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "" أَوْتَرَ أَوَّلَ اللَّيْلِ، ثُمَّ أَوْتَرَ وَسَطَهُ، ثُمَّ أَوْتَرَ هَذِهِ السَّاعَةَ فَقُبِضَ وَهُوَ يُوتِرُ هَذِهِ السَّاعَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abd Khayr reported that they were in the mosque when Ali رضي الله عنه came out to them at the end of the night and asked where the questioner about Witr was. They gathered to him, and he informed them that the Messenger of Allah ﷺ performed Witr at the beginning of the night, then in its middle, then at this hour, and that he passed away while performing Witr at this hour. > **"The Messenger of Allah ﷺ performed Witr at the beginning of the night, then he performed Witr in its middle, then he performed Witr at this hour, and he passed away while performing Witr at this hour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدخیر بیان کرتے ہیں : ہم لوگ مسجد میں موجود تھے ‘ رات کے آخری حصے میں ، حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے ارشاد فرمایا : وتر کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ ہم آپ کے پاس اکھٹے ہو گئے ‘ تو آپ نے یہ بات ارشاد فرمائی کہ نبی اکرم ﷺ رات کے ابتدائی حصے میں بھی وتر ادا کر لیتے تھے ‘ اس کے درمیانی حصے میں بھی وتر ادا کر لیتے تھے ‘ اور اس گھڑی میں ( یعنی رات کے آخری حصے میں بھی ) وتر ادا کر لیتے تھے ‘ جب آپ ﷺ کا وصال ہوا ‘ تو آپ اس گھڑی میں وتر ادا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3484

Majma al-Zawaid #3484

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ كَانَ يَخْرُجُ حِينَ يُؤَذِّنُ ابْنُ الْتَيَّاحِ عِنْدَ الْفَجْرِ الْأَوَّلِ فَيَقُولُ: نِعْمَ سَاعَةُ الْوِتْرِ هَذِهِ وَيَتَأَوَّلُ هَذِهِ الْآيَةَ: {وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ} [التكوير: 18]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْجَفْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ali ibn Abi Talib رضي الله عنه would go out when Ibn al-Tayyah called the adhan at the first dawn and declare it an excellent hour for Witr, interpreting thereby the verse By the morning when it breathes. > **"What an excellent hour for Witr is this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ اس وقت نکلے ‘ جب صبح صادق کے وقت ‘ ابن تیاح نے انہیں بلایا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : وتر کی بہترین ساعت یہ ہے ‘ انہوں نے قرآن کے اس حکم پر عمل کرتے ہوئے ‘ یہ بات کہی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اور صبح کی قسم ہے ‘ جب اس کی روشنی آنے لگے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر جعفری ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3485

Majma al-Zawaid #3485

عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سُئِلَ عَنِ الْوِتْرِ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ أَوْتَرْتُ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ ثُمَّ أَرَدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ بِاللَّيْلِ شَفَعْتُ بِوَاحِدَةٍ مَا مَضَى مِنْ وِتْرِي ثُمَّ صَلَّيْتُ مَثْنَى مَثْنَى فَإِذَا قَضَيْتُ صَلَاتِي أَوْتَرْتُ بِوَاحِدَةٍ (إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أَنْ يُجْعَلَ آخِرَ صَلَاةِ اللَّيْلِ الْوِتْرُ). رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ وَهُوَ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umar رضي الله عنهما, when asked about Witr, explained that if he had performed Witr before sleeping and then wished to pray at night, he would add one rak'ah to make his prior Witr even, then pray two by two, and when he finished his prayer he would perform Witr with one, for the Messenger of Allah ﷺ commanded that the last prayer of the night be made Witr. > **"Make the last of your prayer by night Witr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے ‘ جب اُن سے وتر کے بارے میں سوال کیا گیا ‘ تو انہوں نے ارشاد فرمایا : اگر میں نے سونے سے پہلے وتر ادا کر لیے ہوں ‘ اور پھر میں رات کے وقت نماز ادا کرنے کا ارادہ کروں ‘ تو میں نے جو وتر ادا کیے تھے ‘ ایک رکعت کے ذریعے انہیں جفت کر لیتا ہوں ، پھر دو ‘ دو کر کے نماز ادا کرتا رہتا ہوں ‘ جب اپنی نماز مکمل کر لیتا ہوں تو ایک رکعت وتر ادا کر لیتا ہوں ، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ حکم دیا کہ رات کی نماز کا آخری حصہ وتر کو بنایا جائے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ‘ اور وہ تدلیس کرنے والا ہے ‘ اور وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

3486

Majma al-Zawaid #3486

وَعَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَقُولُ: إِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ ثُمَّ نَامَ فَقَامَ فَلْيَقْضِ وِتْرَهُ فَلْيُصَلِّ لَهَا أُخْرَى ثُمَّ لِيُوتِرْ بَعْدَ ذَلِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَعَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ فِيهِ كَلَامٌ لِاخْتِلَاطِهِ.

EnglishUnverified translation

Ata ibn al-Saib reported from more than one of the companions of Abdullah that Ibn Mas'ud رضي الله عنه used to say that when one of them has performed Witr and then slept and risen, he should annul his Witr by adding another rak'ah to it, then perform Witr again afterwards. > **"When one of you performs Witr and then sleeps and rises, let him make up his Witr by praying another with it, then let him perform Witr after that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عطاء بن سائب نے ‘ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے کئی شاگردوں کے حوالے سے ‘ یہ بات نقل کی ہے : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب کوئی شخص وتر ادا کرنے کے بعد سو جائے ‘ اور پھر وہ بیدار ہو تو ‘ اسے اپنے سابقہ وتر کو کالعدم کرنا چاہیے اور اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لینی چاہیے ‘ پھر اس کے بعد ( نوافل مکمل کرنے کے بعد ) وتر ادا کرنے چاہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ عطاء بن سائب نامی راوی کے بارے میں اس کے اختلاط کا شکار ہونے کے حوالے سے کلام کیا گیا ہے ۔

3487

Majma al-Zawaid #3487

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَقَالَ: "" إِنَّ هَذَا السَّفَرَ جُهْدٌ وَثِقَلٌ فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ فَإِنِ اسْتَيْقَظَ وَإِلَّا كَانَتَا لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban رضي الله عنه reported that they were with the Messenger of Allah ﷺ on a journey when he explained that the journey is toil and burden, and instructed that when one of them has performed Witr he should pray two rak'ahs, so that if he awakes it is well, and otherwise they stand for him. > **"Indeed this journey is toil and burden. When one of you performs Witr, let him bow two rak'ahs; if he awakes, well and good, otherwise they will be for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ یہ سفر مشقت اور بوجھ کا باعث ہے ‘ جب کوئی شخص وتر ادا کر لے ‘ تو اسے دو رکعات ادا کرنی چاہیں ، اگر وہ بیدار ہو گیا تو ٹھیک ہے ‘ ورنہ وہ دونوں اُس کے لئے ہوں گی “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح کاتب لیث ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3488

Majma al-Zawaid #3488

عَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَدْرَكَهُ الصُّبْحُ فَلَمْ يُوتِرْ فَلَا وِتْرَ لَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ صَالِحِ بْنِ مُعَاذٍ الْبَغْدَادِيِّ شَيْخِهِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Agharr al-Muzani رضي الله عنه reported from the Prophet ﷺ concerning one whom morning overtakes without having performed Witr. > **"Whoever is overtaken by morning without having performed Witr, there is no Witr for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اغر مزنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ جس شخص کو صبح ہو جائے ‘ اور اس نے وتر ادا نہ کیے ہوں ، تو اب اُس کے وتر نہیں ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے صالح بن معاذ بغدادی کے حوالے سے نقل کی ہے ‘ جو ان کے استاد ہیں ، میں اُن سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3489

Majma al-Zawaid #3489

وَعَنِ الْأَغَرِّ الْمُزَنِيِّ «أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَصْبَحْتُ وَلَمْ أُوتِرْ، فَقَالَ: "" إِنَّمَا الْوِتْرُ بِاللَّيْلِ ""، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي أَصْبَحْتُ وَلَمْ أُوتِرْ قَالَ: "" فَأَوْتِرْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ وَإِنْ كَانَ فِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ.

EnglishUnverified translation

Al-Agharr al-Muzani رضي الله عنه reported that a man came to the Prophet ﷺ and said that morning had come upon him while he had not performed Witr, and the Prophet ﷺ replied that Witr belongs to the night. When the man repeated his plea, the Prophet ﷺ instructed him to perform it. > **"Witr is only by night."** > **"Then perform Witr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اغرمزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! صبح ہو گئی اور میں وتر ادا نہیں کر پایا ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وتر رات میں ادا کیے جاتے ہیں ، اُس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! صبح ہو گئی اور میں وتر ادا نہیں کر پایا ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم وتر ادا کر لو ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ‘ اگرچہ اس کے بعض راویوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ لیکن وہ نقصان دہ نہیں ہے ۔

3490

Majma al-Zawaid #3490

وَعَنْ أَبِي نَهِيكٍ أَنَّ أَبَا الدَّرْدَاءِ كَانَ يَخْطُبُ النَّاسَ: أَنْ لَا وِتْرَ لِمَنْ أَدْرَكَ الصُّبْحَ، فَانْطَلَقَ رِجَالٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى عَائِشَةَ فَأَخْبَرُوهَا فَقَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصْبِحُ فَيُوتِرُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْطَبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Nuhayk reported that Abu al-Darda رضي الله عنه was addressing the people that there is no Witr for one whom morning overtakes, so a group of believers went to Aishah رضي الله عنها and informed her, and she replied that the Messenger of Allah ﷺ would enter the morning and then perform Witr.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونہیک بیان کرتے ہیں : حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : جس شخص کو صبح ( صادق ) ہو جائے اس کے وتر نہیں ہوتے ہیں ، اہل ایمان میں سے کچھ افراد سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ اور انہیں اس بارے میں بتایا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ صبح ( صادق ) کے وقت بھی وتر ادا کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کی سند حسن ہے ۔

3491

Majma al-Zawaid #3491

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ الْوِتْرُ بَعْدَ أَذَانِ الصُّبْحِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَوْتِرُوا قَبْلَ الْأَذَانِ "" قَالَ: وَكَانَ أَذَانُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ فَقَالُوا: الْوِتْرُ بَعْدَ الْأَذَانِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَوْتِرُوا قَبْلَ الْأَذَانِ "" فَقَالُوا الثَّالِثَةَ: الْوِتْرُ بَعْدَ الْأَذَانِ؟ فَقَالَ: "" أَوْتِرُوا بَعْدَ الْأَذَانِ "" رَخَّصَ لَهُمْ». قُلْتُ: لِأَبِي سَعِيدٍ حَدِيثٌ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي قَضَاءِ الْوِتْرِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Sa'id al-Khudri رضي الله عنه reported that it was said to the Messenger of Allah ﷺ whether Witr may follow the dawn adhan, and he twice instructed that Witr be performed before the adhan, the adhan of the Messenger of Allah ﷺ being after the rise of dawn. When they asked a third time, he permitted Witr after the adhan as a concession. > **"Perform Witr before the adhan."** > **"Perform Witr after the adhan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! صبح کی اذان کے بعد وتر ادا کیے جا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اذان سے پہلے وتر ادا کر لو ‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں صبح صادق ہو جانے کے بعد اذان دی جاتی تھی ، لوگوں نے عرض کی : اذان کے بعد وتر ادا کیے جا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اذان سے پہلے وتر ادا کر لو ‘ لوگوں نے تیسری مرتبہ عرض کی : اذان کے بعد وتر ادا کیے جا سکتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اذان کے بعد وتر ادا کر لو ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو رخصت عطا کی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث کو امام ابوداؤد نے وتر کی قضاء کے بارے میں روایت کیا ہے ‘ لیکن وہ اس حدیث کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

3492

Majma al-Zawaid #3492

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: كَانَ ابْنُ مَسْعُودٍ يُوتِرُ بَعْدَ الْفَجْرِ وَكَانَ أَبِي يُوتِرُ قَبْلَ الْفَجْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.

EnglishUnverified translation

Urwah ibn al-Zubayr reported that Ibn Mas'ud رضي الله عنه would perform Witr after dawn, while his father al-Zubayr رضي الله عنه would perform Witr before dawn.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صبح صادق ہو جانے کے بعد وتر ادا کرتے تھے ‘ اور میرے والد ( حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ) صبح صادق ہونے سے پہلے وتر ادا کر لیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

3493

Majma al-Zawaid #3493

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا أُبَالِي أَنْ يُثَوِّبَ لِصَلَاةِ الْفَجْرِ وَأَنَا فِي وَرْدِي لَمْ أُوتِرْ بَعْدُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَقَدْ أَفْتَى غَيْرُهُ بِذَلِكَ أَعْنِي: ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Urwah ibn Mas'ud stated that he would not mind if the call for the Fajr prayer were made while he was still engaged in his nightly portion and had not yet performed Witr. > **"I do not mind if the call for the Fajr prayer is made while I am in my nightly portion and have not yet performed Witr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن مسعود فرماتے ہیں : میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ فجر کی نماز کے لئے تثویب کہی جا رہی ہو اور میں اپنا ورد پڑھ رہا ہوں ‘ اور میں نے ابھی وتر ادا نہ کیے ہوں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ اور ان کے علاوہ دیگر حضرات نے بھی یہ فتوی دیا ہے ‘ میری مراد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہے ۔

3494

Majma al-Zawaid #3494

عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Khalid al-Juhani رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded prayer in houses and forbade taking them as graves. > **"Pray in your houses and do not take them as graves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اپنے گھروں میں نماز ادا کرو ! اور انہیں قبرستان نہ بناؤ ‘‘۔ یہ روایت امام احمد ‘ امام بزار نے ‘ اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3495

Majma al-Zawaid #3495

وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَجْعَلُوهَا عَلَيْكُمْ قُبُورًا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ used to enjoin prayer in houses and forbid making them as graves over oneself. > **"Pray in your houses and do not make them graves over you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں :’’ اپنے گھروں میں نماز ادا کرو ‘ تم انہیں اپنے لئے قبرستان نہ بناؤ ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

3496

Majma al-Zawaid #3496

وَعَنْ صُهَيْبِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «فَضْلُ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ عَلَى صَلَاتِهِ حَيْثُ يَرَاهُ النَّاسُ كَفَضْلِ الْمَكْتُوبَةِ عَلَى النَّافِلَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقُسَانِيُّ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ وَوَثَّقَهُ أَحْمَدُ.

EnglishUnverified translation

Suhayb ibn al-Nu'man رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ likened the superiority of a man's prayer in his house over his prayer where people see him to the superiority of the obligatory prayer over the voluntary. > **"The superiority of a man's prayer in his house over his prayer where people see him is like the superiority of the obligatory prayer over the voluntary."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت صہیب بن نعمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ آدمی کے اپنے گھر میں نماز ادا کرنے کو ‘ اُس کے ایسی جگہ نماز ادا کرنے ‘ جہاں اُسے لوگ دیکھ رہے ہوں ، پر اس طرح فضیلت حاصل ہے ‘ جو فرض نماز کو نفل نماز پر حاصل ہے “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصعب قرقسانی ہے ‘ اسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ‘ امام احمد نے اسے ” ثقہ ‘‘ کہا ہے ۔

3497

Majma al-Zawaid #3497

وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا، وَلَا تَتَّخِذُوا بَيْتِي عِيدًا وَصَلُّوا عَلَيَّ وَسَلِّمُوا فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ وَسَلَامَكُمْ تَبْلُغُنِي أَيْنَمَا كُنْتُمْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Hasan ibn Ali ibn Abi Talib رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded prayer in houses without taking them as graves, forbade taking his house as a festival, and commanded sending blessings and peace upon him, for such blessings and peace reach him wherever one may be. > **"Pray in your houses and do not take them as graves, and do not take my house as a festival. Send blessings and peace upon me, for your blessings and peace reach me wherever you are."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنے گھروں میں ( نفل ) نماز ادا کرو اور انہیں قبرستان نہ بناؤ اور میرے گھر کو عید نہ بنانا مجھ پر درود اور سلام بھیجنا تمہارا درود اور تمہار اسلام مجھ تک پہنچے گا ‘ خواہ تم جہاں کہیں بھی ہو “۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن نافع ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

3498

Majma al-Zawaid #3498

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: "" مَنْ آذَى وَلِيًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ الْفَرَائِضِ، وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، إِنَّ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ وَفَاتِهِ لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسِ بْنِ عُرْوَةَ، وَثَّقَهُ أَبُو زَرْعَةَ وَالْعِجْلِيُّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ وَضَعَّفَهُ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَزَادَ: "" «فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ عَيْنَهُ الَّتِي يُبْصِرُ بِهَا وَأُذُنَهُ الَّتِي يَسْمَعُ بِهَا وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا» "" وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَهُ هَارُونَ بْنَ كَامِلٍ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ. قُلْتُ: وَبَقِيَّةُ طُرُقِهِ فِي كِتَابِ الزُّهْدِ فِي بَابِ مَنْ آذَى وَلِيًّا.

EnglishUnverified translation

Aishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allah ﷺ conveyed the word of Allah, Mighty and Majestic, that whoever harms His ally has made war with Him lawful, that His servant draws near to Him with nothing like the obligatory deeds, and that the servant continues to draw near through voluntary deeds until He loves him, so that if he asks Him He gives him and if he calls upon Him He answers him, and that He does not hesitate concerning anything He does as He hesitates concerning the death of the believer, for he dislikes death and He dislikes grieving him, with the addition that when He loves him He becomes his eye with which he sees, his ear with which he hears, his hand with which he grasps, and his foot with which he walks. > **"Whoever harms a saint of Mine has made war with Me lawful. My servant does not draw near to Me with the like of the obligatory deeds, and My servant continues to draw near to Me with voluntary deeds until I love him. If he asks Me, I shall give him; if he calls upon Me, I shall answer him. And I have not hesitated concerning anything I do as I hesitate concerning his death, for he dislikes death and I dislike grieving him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میرے ولی کو اذیت پہنچاتا ہے ‘ وہ میرے ساتھ جنگ کو حلال کر لیتا ہے ‘ اور میرا بندہ فرائض جیسی کسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کرتا ‘ اور بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے ‘ تو میں اسے عطا کرتا ہوں ‘ اگر وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے ‘ تو میں اسے قبول کرتا ہوں ، اور مجھے کسی بھی چیز کے حوالے سے اتنا تردد نہیں ہوتا ‘ جتنا تردد بندے کی وفات سے ہوتا ہے ‘ کیونکہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے ‘ اور میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جو اسے بری لگتی ہے “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبدالوحد بن قیس بن عروہ ہے ‘ جسے ابوزرعہ ‘ عجلی اور دو روایات میں سے ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ‘ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ جب میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں ، تو میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ دیکھتا ہے ‘ اور اس کے کان بن جاتا ہوں ، جن کے ذریعے وہ سنتا ہے ‘ اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے ‘ اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ چلتا ہے ‘‘۔ باقی روایت حسب سابق ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ان ( یعنی امام طبرانی ) کے استاد ہارون بن کامل کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس روایت کے بقیہ طرق ‘ زہد سے متعلق کتاب میں ‘ باب : جو شخص ولی کو اذیت پہنچائے ‘ میں آئیں گے ۔

3499

Majma al-Zawaid #3499

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: مَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَأَكُونُ أَنَا سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ وَلِسَانَهُ الَّذِي يَنْطِقُ بِهِ وَقَلْبَهُ الَّذِي يَعْقِلُ بِهِ، فَإِذَا دَعَانِي أَجَبْتُهُ وَإِذَا سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ وَإِذَا اسْتَنْصَرَنِي نَصْرَتُهُ وَأَحَبُّ مَا تَعَبَّدَنِي عَبْدِي بِهِ النُّصْحُ لِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah رضي الله عنه reported from the Messenger of Allah ﷺ that Allah, Exalted is He, declares that His servant continues to draw near to Him through voluntary deeds until He loves him, whereupon He becomes his hearing with which he hears, his sight with which he sees, his tongue with which he speaks, and his heart with which he understands, so that when he calls upon Him He answers him, when he asks Him He gives him, and when he seeks His aid He aids him, and that the most beloved act by which His servant worships Him is sincere counsel toward Him. > **"My servant continues to draw near to Me with voluntary deeds until I love him. I become his hearing with which he hears, his sight with which he sees, his tongue with which he speaks, and his heart with which he understands. When he calls upon Me, I answer him; when he asks Me, I give him; when he seeks My aid, I aid him. And the most beloved act by which My servant worships Me is sincere devotion to Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ میں اُس سے محبت رکھنے لگتا ہوں ‘ اور میں اس کی سماعت بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ سنتا ہے ‘ اس کی بصارت بن جاتا ہوں ‘ جس کے ذریعے وہ دیکھتا ہے ‘ اس کی زبان بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ گفتگو کرتا ہے ‘ اس کا دل بن جاتا ہوں ‘ جس کے ذریعے وہ سمجھ بوجھ رکھتا ہے ‘ جب وہ مجھ سے دعا کرتا ہے ‘ تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں ‘ جب وہ مجھے سے کچھ مانگتا ہے ‘ تو میں اسے عطا کرتا ہوں ، جب وہ مجھ سے مدد مانگتا ہے ‘ تو میں اس کی مدد کرتا ہوں ، اور میرا بندہ جس چیز کے ذریعے میری عبادت کرتا ہے ‘ اس میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب چیز ‘ میرے لیے ( اعتقاد کا ) خالص ہونا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔

3500

Majma al-Zawaid #3500

وَلَهُ عِنْدَهُ فِي رِوَايَةٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَهَانَ لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْعَدَاوَةِ، ابْنَ آدَمَ لَنْ تُدْرِكَ مَا عِنْدِي إِلَّا بِأَدَاءِ مَا افْتَرَضْتُ عَلَيْكَ وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَحَبَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ» "" فَذَكَرَ مَعْنَاهُ. وَفِي الطَّرِيقَيْنِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration from the Prophet ﷺ it is reported that Allah Most High declares enmity against whoever humiliates His beloved servant, and that the son of Adam attains what is with Him only by fulfilling what He has made obligatory, while His servant continues to draw near to Him through supererogatory acts until He loves him, then the narrator mentioned the rest with the same meaning. > **"Whoever humiliates a Wali of Mine has openly declared war against Me. O son of Adam, you will never attain what is with Me except by fulfilling what I have made obligatory upon you, and My servant continues to seek My love through supererogatory deeds until I love him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان صحابی کے حوالے سے ‘ ایک روایت میں یہ بات مذکور ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میرے ولی کی توہین کرتا ہے ‘ وہ میرے ساتھ دشمنی کا اظہار کرتا ہے ‘ اے ابن آدم ! میرے پاس جو موجود ہے ‘ تم اس تک صرف اس چیز کو ادا کرنے کے ذریعے پہنچ سکتے ہو ‘ جو میں نے تم پر فرض قرار دی ہے ‘ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے میری محبت حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہتا ہے ‘ یہاں تک کہ میں اُس سے محبت کرنے لگتا ہوں “۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے : دونوں روایات کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3501

Majma al-Zawaid #3501

«وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فِي الشِّتَاءِ وَالْوَرَقِ يَتَهَاتَفُ فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ شَجَرَةٍ قَالَ: فَجَعَلَ ذَلِكَ الْوَرَقُ يَتَهَافَتُ فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ "" قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: "" إِنَّ الْعَبْدَ الْمُسْلِمَ لِيُصَلِّيَ الصَّلَاةَ يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ فَتَهَافَتُ عَنْهُ ذُنُوبُهُ كَمَا تَهَافَتَ هَذَا الْوَرَقُ عَنْ هَذَا الشَّجَرَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr رضي الله عنه reports that the Prophet ﷺ went out in winter while leaves were falling in gusts, so he took hold of a branch of a tree and its leaves began to fall, then he called out to him and explained that the Muslim servant who prays seeking thereby the Face of Allah has his sins fall away just as these leaves fall from this tree. > **"O Abu Dharr. Indeed the Muslim servant performs the prayer seeking thereby the Face of Allah, so his sins fall away from him just as these leaves fall from this tree."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سردی کے موسم میں تشریف لائے ‘ پتے گر رہے تھے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ایک درخت کی شاخ پکڑی تو اس کے پتے گرنے لگے ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسلمان بندہ جب نماز ادا کرتا ہے ‘ اور اس نماز کے ذریعے اس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہوتا ہے ، تو اس بندے کے گناہ یوں گرتے ہیں ، جس طرح اس درخت سے یہ پتے گر رہے ہیں ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3502

Majma al-Zawaid #3502

وَعَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ فَجَاءَ رَجُلٌ فَجَعَلَ يُصَلِّي وَيَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَلَا يَقْعُدُ فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا أَرَى هَذَا يَدْرِي يَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ عَلَى وِتْرٍ فَقَالُوا: أَلَا تَقُومُ إِلَيْهِ فَتَقُولُ لَهُ؟ قَالَ: فَقُمْتُ فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا أَرَاكَ تَنْصَرِفُ عَلَى شَفْعٍ أَوْ عَلَى وِتْرٍ قَالَ: وَلَكِنَّ اللَّهَ يَدْرِي، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ سَجَدَ لِلَّهِ سَجْدَةً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِهَا حَسَنَةً وَحَطَّ بِهَا عَنْهُ خَطِيئَةً وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً» "" فَقُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: أَبُو ذَرٍّ فَرَجَعْتُ إِلَى أَصْحَابِي فَقُلْتُ: جَزَاكُمُ اللَّهُ مِنْ جُلَسَاءِ شَرٍّ أَمَرْتُمُونِي أَنْ أُعَلِّمَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَفِي رِوَايَةٍ: فَرَأَيْتُهُ يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ فَقَالَ: مَا أَلَوْتُ أَنْ أُحْسِنَ، رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ رَكَعَ رَكْعَةً أَوْ سَجَدَ سَجْدَةً رُفِعَ بِهَا دَرَجَةً وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ بِأَسَانِيدَ، وَبَعْضُهَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Mutarrif reports that he sat with a group of Quraysh when a man came and began to pray with bowing and prostration without sitting, so he remarked that the man seemed heedless of whether he would finish upon an even or odd number, and the people urged him to admonish him. He thus approached him and questioned him, but the man replied that Allah knows, and informed him that he had heard the Messenger of Allah ﷺ promise a good deed recorded, a sin effaced, and a rank raised for every prostration for Allah. When asked who he was, he replied that he was Abu Dharr رضي الله عنه, whereupon Mutarrif returned to his companions and reproached them for ordering him to teach a Companion of the Prophet ﷺ. In another narration he saw him prolonging the standing and increasing bowing and prostration, and when he mentioned it the man replied that he was careful to excel, having heard the Messenger of Allah ﷺ promise elevation in rank and removal of sin for every bowing and prostration. > **"Whoever prostrates to Allah a single prostration, Allah records for him thereby a good deed, effaces thereby a sin, and raises thereby a rank."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مطرف بیان کرتے ہیں : میں قریش سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ اسی دوران ایک شخص آیا ‘ اس نے نماز ادا کرنا شروع کی ‘ وہ رکوع اور سجدے کر رہا تھا ، لیکن قعدہ نہیں کر رہا تھا ، میں نے کہا : اللہ کی قسم ! مجھے اس شخص کی سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ جفت تعداد کے بعد نماز ختم کرے گا ؟ یا طاق تعداد کے بعد کرے گا ؟ اُن لوگوں نے کہا : تم اُٹھ کے اُس کے پاس جا کر ‘ اُس سے یہ بات کہ دو ! مطرف کہتے ہیں : میں اُٹھا میں نے کہا : اے اللہ کے بندے ! تمہارے بارے میں مجھے یہ اندازہ نہیں ہو رہا کہ تم جفت رکعت کے بعد نماز ختم کرو گے ؟ یا طاق رکعت کے بعد کرو گے ؟ اس نے جواب دیا : لیکن اللہ تعالیٰ کو تو یہ بات پتہ ہے ‘ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کے لئے ایک سجدہ کرتا ہے ‘ اللہ تعالٰی اس سجدے کی وجہ سے اس کے لئے ایک نیکی نوٹ کرتا ہے ‘ اور اس سجدے کی وجہ سے اس کے ایک گناہ کو ختم کر دیتا ہے ‘ اور اس سجدے کی وجہ سے اس کے ایک درجے کو بلند کرتا ہے ‘‘۔ مطرف کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ کون ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : ابوذر میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آیا ‘ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ تمہیں ایسا بدلہ دے کہ جو برے ساتھیوں کو دیا جاتا ہے ‘ تم لوگوں نے مجھے یہ ہدایت کی تھی کہ میں نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب کو تعلیم دوں ؟ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میں نے ان کو دیکھا کہ وہ طویل قیام کر رہے تھے ‘ اور بکثرت رکوع و سجود کر رہے تھے میں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ‘ تو انہوں نے فرمایا : میں نے اچھے طریقے سے نماز ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی ہے ‘ کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ایک مرتبہ رکوع کرتا ہے ‘ یا ایک مرتبہ سجدہ کرتا ہے ‘ تو اس کے ذریعے اس کے درجے کو بلند کیا جاتا ہے ‘ اور اس کے ذریعے اس کے گناہ کو مٹا دیا جاتا ہے ‘‘۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ‘ امام بزار نے اس کی مانند روایات مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ‘ ان میں سے بعض کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

3503

Majma al-Zawaid #3503

وَعَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ مَوْلَى بَنِي مَخْزُومٍ عَنْ خَادِمِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٍ أَوِ امْرَأَةٍ قَالَ: كَانَ «النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّا يَقُولُ لِلْخَادِمِ: "" أَلَكَ حَاجَةٌ؟ "" قَالَ: حَتَّى كَانَ ذَاتَ يَوْمٍ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ حَاجَتِي قَالَ: "" وَمَا حَاجَتُكَ؟ "" قَالَ: حَاجَتِي أَنْ تَشْفَعَ لِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ! قَالَ: "" وَمَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا؟ "" قَالَ: رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ: "" إِمَّا لَا فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ziyad ibn Abi Ziyad, freedman of Banu Makhzum, reports from a servant of the Prophet ﷺ, whether a man or a woman, that the Prophet ﷺ used to ask the servant whether he had any need, until one day the servant replied that he did have a need. When asked what it was, the servant asked for his intercession on the Day of Resurrection. The Prophet ﷺ asked who had directed him to this, and the servant replied that his Lord Almighty had, whereupon the Prophet ﷺ consented but commanded him to assist in that through abundant prostration. > **"If it must be so, then help me for yourself through abundant prostration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

زیاد بن ابوزیاد ‘ جو زیاد ‘ بنو مخزوم کے غلام ہیں ‘ وہ نبی اکرم ﷺ کے خادم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ خادم کوئی مرد تھا ، یا خاتون تھیں ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ خادم سے یہ دریافت کرتے تھے : کہ کیا تمہیں کوئی کام ہے ؟ یہاں تک کہ ایک دن اس خادم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے ایک کام ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں کیا کام ہے ‘ اس خادم نے عرض کی : مجھے یہ ضرورت ہے کہ آپ قیامت کے دن میری شفاعت کریں ‘ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس بارے میں تمہاری رہنمائی کس نے کی ہے ؟ خادم نے جواب دیا : میرے پروردگار نے ‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ‘ لیکن تم بکثرت سجدوں کے ذریعے میری مدد کرنا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

3504

Majma al-Zawaid #3504

وَعَنْ أَبِي فَاطِمَةَ قَالَ: قَالَ لِي نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا أَبَا فَاطِمَةَ إِنْ أَرَدْتَ أَنْ تَلْقَانِي فَأَكْثِرِ السُّجُودَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Fatimah رضي الله عنه reports that the Prophet of Allah ﷺ said to him that if he desired to meet him in the Hereafter, he should increase in prostration. > **"O Abu Fatimah, if you wish to meet me, then increase in prostration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوفاطمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : اے ابوفاطمہ ! اگر تم مجھ سے ( آخرت میں ) ملنا چاہتے ہو ‘ تو بکثرت سجدے کرو ‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3505

Majma al-Zawaid #3505

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الصَّلَاةُ خَيْرُ مَوْضُوعٍ فَمَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ يَسْتَكْثِرَ فَلْيَسْتَكْثِرْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that prayer is the best of instituted deeds, so whoever is able to increase therein should do so. > **"Prayer is the best institution, so whoever is able to increase therein, let him increase."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ نماز بہترین چیز ہے ‘ جو شخص اس کو بکثرت ادا کر سکتا ہو اسے بکثرت ادا کرنی چاہیے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبد المنعم بن بشیر ہے ‘ اور وہ ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3506

Majma al-Zawaid #3506

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَبْرٍ فَقَالَ: "" مَنْ صَاحِبُ هَذَا الْقَبْرِ؟ "" فَقَالُوا: فُلَانٌ فَقَالَ: "" رَكْعَتَانِ أَحَبُّ إِلَى هَذَا مِنْ بَقِيَّةِ دُنْيَاكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ passed by a grave and asked who its occupant was. When the people named a certain man, he explained how precious even a brief prayer would now be to the deceased in comparison to all they still possess of the world. > **"Two rakahs are more beloved to this man than the remainder of your world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک قبر کے پاس سے ہوا ‘ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ قبر والا شخص کون ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : فلاں شخص ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کے نزدیک دو رکعات ادا کرنا ‘ تمہاری پوری دنیا سے زیادہ محبوب ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3507

Majma al-Zawaid #3507

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ: «كَانَ شَابٌّ يَخْدِمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَخِفُّ فِي حَوَائِجِهِ فَقَالَ: "" سَلْنِي حَاجَتَكَ "" فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ تَعَالَى لِي بِالْجَنَّةِ قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَتَنَفَّسَ فَقَالَ: "" نَعَمْ، وَلَكِنْ أَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نَاصِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn Samurah رضي الله عنه reports that a youth used to serve the Prophet ﷺ while concealing his own needs, so the Prophet ﷺ invited him to ask for his need. The youth asked him to supplicate to Allah Almighty for Paradise for him. The narrator states that the Prophet ﷺ raised his head, breathed, and agreed, but directed him to assist through abundant prostration. > **"Yes, but help me for yourself through abundant prostration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک نوجوان نبی اکرم ﷺ کی خدمت کرتا تھا اور اپنی ضروریات پوشیدہ رکھتا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : مجھ سے اپنی کسی ضرورت کو مانگ لو ! اس نے عرض کی : آپ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے جنت کی دعا کر دیں ‘ راوی کہتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنا سر اٹھایا سانس لی ‘ اور پھر ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے ‘ لیکن تم بکثرت سجدوں کے ذریعے میری مدد کرنا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ناصح بن عبداللہ تیمی ہے ‘ اور وہ انتہائی ’’ ضعیف ‘‘ ہے ۔

3508

Majma al-Zawaid #3508

وَعَنْ رَبِيعَةَ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: «كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَارِي فَإِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَوَيْتُ إِلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبِتُّ عِنْدَهُ فَلَا أَزَالُ أَسْمَعُهُ يَقُولُ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ سُبْحَانَ رَبِّي "" حَتَّى أَمَلَّ أَوْ تَغْلِبَنِي عَيْنِي فَأَنَامَ فَقَالَ يَوْمًا: "" يَا رَبِيعَةُ سَلْنِي فَأُعْطِيَكَ "" فَقُلْتُ: أَنْظِرْنِي حَتَّى أَنْظُرَ، وَتَذَكَّرْتُ أَنَّ الدُّنْيَا فَانِيَةٌ مُنْقَطِعَةٌ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَسْأَلُكَ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ أَنْ يُنَجِّيَنِي مِنَ النَّارِ وَيُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: "" مَنْ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ "" قَالَ: قُلْتُ: مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ وَلَكِنِّي عَلِمْتُ أَنَّ الدُّنْيَا مُنْقَطِعَةٌ فَانِيَةٌ وَأَنْتَ مِنَ اللَّهِ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَنْتَ مِنْهُ فَأَحْبَبْتُ أَنْ تَدْعُوَ اللَّهَ قَالَ: "" إِنِّي فَاعِلٌ فَأَعِنِّي بِكَثْرَةِ السُّجُودِ». قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Rabiah ibn Kab رضي الله عنه reports that he used to serve the Prophet ﷺ by day, and at night he would resort to the door of the Messenger of Allah ﷺ and spend the night there, continually hearing him glorify Allah with Subhan Allah and Subhan Rabbi until weariness or sleep overcame him. One day the Prophet ﷺ invited him to ask so that he might be granted. He requested respite to reflect, then recalled that the world is transient and severed, and asked the Messenger of Allah ﷺ to supplicate to Allah to save him from the Fire and admit him into Paradise. The Messenger of Allah ﷺ fell silent, then asked who had instructed him in this, and he replied that no one had, but that he knew the world to be fleeting while the Prophet ﷺ holds an eminent station with Allah, so he desired his supplication. The Prophet ﷺ promised to do so but commanded him to assist through abundant prostration. > **"Indeed I shall do so, but help me for yourself through abundant prostration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ربیعہ بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں دن کے وقت نبی اکرم ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا ‘ رات کے وقت میں نبی اکرم ﷺ کے دروازے کے پاس آ جاتا ‘ اور وہاں رات گزار دیتا تھا ، میں آپ کو ’’ «سبحان اللہ» «سبحان اللہ» «سبحان اللہ» «سبحان ربی» پڑھتے سنتا رہتا ‘ یہاں تک کہ میں تھک جاتا ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) میری آنکھ لگ جاتی ‘ اور میں سو جاتا ‘ ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ربیعہ ! تم مجھ سے مانگو ! میں تمہیں عطا کروں گا ‘ میں نے عرض کی : آپ مجھے موقع دیجے تاکہ میں غور کر لوں ، میں نے سوچا دنیا تو فنا ہونے والی ہے ‘ اور الگ ہو جانے والی ہے ‘ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے یہ مانگتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ وہ مجھے جہنم سے نجات عطا کر دے اور مجھے جنت میں داخل کر دے ‘ تو نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ، پھر آپ ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں کس نے یہ کہا ہے ؟ میں نے عرض کی : مجھے کسی نے یہ نہیں کہا ، لیکن مجھے اس بات کا پتہ ہے کہ دنیا الگ ہو جائے گی ‘ اور فنا ہو جائے گی ‘ اور آپ کو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جو مقام حاصل ہے ‘ وہ تو ہے ہی ‘ تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں ایسا کر دوں گا ‘ تم بکثرت سجدوں کے ذریعے میری مدد کرنا ‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ’’ ثقہ ‘‘ ہے ‘ لیکن تدلیس کرنے والا ہے ۔

3509

Majma al-Zawaid #3509

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَنَا أَوَّلُ مَنْ يُؤْذَنُ لَهُ بِرَفْعِ رَأْسِهِ فَأَرْفَعُ رَأْسِي فَأَعْرِفُ أُمَّتِي عَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي "" فَقِيلَ: كَيْفَ تَعْرِفُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ، وَذَرَارِيُّهُمْ نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَلَهُ طُرُقٌ رَوَاهَا أَحْمَدُ ذَكَرْتُهَا فِي الْبَعْثِ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that he will be the first to be permitted to raise his head on the Day of Resurrection, and that he will then recognise his Ummah to his right and his left. When asked how he would recognise them, he explained that they will be radiant with the traces of prostration, and their offspring will be their light before them. > **"I am the first for whom permission will be granted to raise his head, so I shall raise my head and recognise my Ummah to my right and to my left. They are radiant with the traces of prostration, and their offspring, their light shall be before them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں وہ پہلا فرد ہوؤں گا ‘ جسے ( قیامت کے دن ) سر اٹھانے کی اجازت دی جائے گی ، میں اپنا سر اٹھاؤں گا ‘ اور پھر اپنے دائیں اور بائیں موجود اپنی امت کے افراد کو پہچان لوں گا ‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ انہیں کیسے پہچانیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ سجدوں کے آثار کی وجہ سے چمکدار پیشانیوں والے ہوں گے ‘ اور اُن کے بال بچے اُن کا نور ہوں گے ‘ جو اُن کے آگے موجود ہوں گے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ‘ اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ‘ اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جنہیں امام احمد نے نقل کیا ہے ‘ میں نے یہ روایت ’’ دوبارہ زندہ کیے جانے ‘‘ سے متعلق باب میں ذکر کی ہے ۔

3510

Majma al-Zawaid #3510

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: مَا حَالٌ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ أَنْ يَجِدَ الْعَبْدَ فِيهِ مِنْ أَنْ يَجِدَهُ عَافِرًا وَجْهَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ أَبِي النُّجُودِ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah, meaning Ibn Masud رضي الله عنه, said that no state in which Allah finds His servant is more beloved to Allah than finding him with his face laid in dust before Him in prostration.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کوئی بھی حالت اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے کہ وہ بندے کو ایسی حالت میں پائے کہ اُس نے اپنا چہرہ خاک پر رکھا ہوا ہو ( یعنی سجدہ کیا ہوا ہو ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن ابونجود ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3511

Majma al-Zawaid #3511

«وَعَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَوْتُ إِلَيْهِ تَفَلُّتَ الْقُرْآنِ مِنِّي وَمَشَقَّتَهُ عَلَيَّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا تَحْمِلْ عَلَيْكَ مَا لَا تُطِيقُ وَعَلَيْكَ بِالسُّجُودِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ شَيْخِهِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَرَقِ بْنِ الْحِمْصِيِّ قَالَ الذَّهَبِيُّ: غَيْرُ مُعْتَمَدٍ.

EnglishUnverified translation

Abu Rayhanah رضي الله عنه reports that he came to the Messenger of Allah ﷺ and complained to him that the Quran slips away from him and that its memorisation is burdensome upon him, so the Messenger of Allah ﷺ forbade him to burden himself with what he cannot bear and enjoined prostration upon him. > **"Do not burden yourself with what you cannot bear, and upon you is prostration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوریحانہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ میں نے آپ کی خدمت میں یہ شکایت کی کہ مجھے قرآن یاد نہیں ہوتا ‘ اسے یاد کرنے میں مشقت پیش آتی ہے ‘ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے اوپر وہ بوجھ نہ لادو ‘ جس کی تم میں طاقت نہیں ہے ‘ تم پر سجدے کرنا لازم ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اپنے استاد ابراہیم بن محمد بن عرق بن حمصی سے نقل کی ہے ‘ امام ذہبی فرماتے ہیں : یہ غیر معتمد ہے ۔

3512

Majma al-Zawaid #3512

وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا أَذِنَ اللَّهُ لِعَبْدٍ فِي شَيْءٍ أَفْضَلَ مِنْ رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ، وَالْبِرُّ يَتَنَاثَرُ فَوْقَ رَأْسِ الْعَبْدِ مَا كَانَ فِي صَلَاةٍ، وَمَا تَقَرَّبَ عَبْدٌ إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - بِأَفْضَلَ مِمَّا خَرَجَ مِنْهُ - يَعْنِي الْقُرْآنَ -» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ.

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Nawfal reports that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah does not permit His servant anything more excellent than two rakahs or more, that righteousness showers over the head of the servant so long as he is in prayer, and that the servant draws nearest to Allah Almighty through nothing more excellent than what issued from Him, meaning the Quran. > **"Allah does not permit a servant anything more excellent than two rakahs or more, and righteousness scatters above the head of the servant so long as he is in prayer, and no servant draws nearer to Allah Almighty through anything more excellent than what issued from Him, meaning the Quran."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن نوفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کسی بھی بندے کی کسی بات کو اتنا پسند نہیں کرتا جتنی فضیلت دو رکعات ‘ یا اس سے زیادہ ( رکعات ) ادا کرنے کو حاصل ہے ‘ نیکی بندے کے سر پر چھڑکی جاتی رہتی ہے ‘ جب تک وہ نماز کی حالت میں رہتا ہے ‘ اور کوئی بھی بندہ اللہ تعالی کا قرب کسی ایسی چیز کے ذریعے حاصل نہیں کرتا ہے ‘ جو اس سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو ‘ جو چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کی مراد قرآن تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ‘ اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

3513

Majma al-Zawaid #3513

وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «اسْتَقِيمُوا وَلَنْ تُحْصُوا وَاعْلَمُوا أَنَّ أَفْضَلَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلَاةَ، وَلَنْ يُحَافِظَ عَلَى الصَّلَاةِ إِلَّا مُؤْمِنٌ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ: الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ» ".

EnglishUnverified translation

Salamah ibn al-Akwa رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that they should remain upright though they will never encompass all good, and know that the most excellent of their deeds is prayer, and that none preserves prayer but a believer. > **"Remain upright, though you will never encompass all, and know that the most excellent of your deeds is prayer, and none preserves prayer except a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم لوگ سیدھے رہو ‘ اور شمار نہ کرو ‘ اور یہ بات جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے زیادہ فضیلت نماز کی ہے ‘ اور نماز کو باقاعدگی کے ساتھ کوئی مؤمن ہی ادا کرے گا ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے ‘ اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔

3514

Majma al-Zawaid #3514

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " «اسْتَقِيمُوا وَنِعِمَّا إِنِ اسْتَقَمْتُمْ وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ الصَّلَاةُ» " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَادَةَ عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ.

EnglishUnverified translation

Ubadah ibn al-Samit رضي الله عنه reports from the Prophet ﷺ that they should remain upright, and how excellent it is if they do so, and that the best of their deeds is prayer. > **"Remain upright, and how excellent it is if you remain upright, and the best of your deeds is prayer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم لوگ مستقیم رہو ! اور یہ اچھی بات ہے اگر تم مستقیم رہو ‘ اور تمہارے اعمال میں سب سے بہتر نماز ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں محمد بن عبادہ کے حوالے سے ‘ اُن کے والد سے نقل کی ہے ‘ میں نے کسی کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

3515

Majma al-Zawaid #3515

وَعَنْ مَالِكِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: «قَدِمَ عُقْبَةُ بْنُ عَامِرٍ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَهُوَ بِإِيلِيَاءَ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ خَرَجَ فَطُلِبَ فَلَمْ يُوجَدْ -[أَوْ] قَالَ: فَطَلَبْنَاهُ فَلَمْ نَجِدْهُ - فَأَتَيْنَاهُ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي بِبِرَازٍ مِنَ الْأَرْضِ قَالَ: فَقَالَ: مَا جَاءَ بِكُمْ؟ قَالُوا: جِئْنَا لِنُحْدِثَ بِكَ عَهْدًا أَوْ نَقْضِيَ مِنْ حَقِّكَ قَالَ: فَعِنْدِي جَائِزَتُكُمْ، كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَكَانَ عَلَى كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا رِعَايَةُ الْإِبِلِ يَوْمًا فَكَانَ يَوْمِي الَّذِي أَرْعَى فِيهِ قَالَ: فَرَوَّحْتُ الْإِبِلَ وَانْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ طَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ، قَالَ: فَأَهْمَلْتُ الْإِبِلَ وَتَوَجَّهْتُ نَحْوَهُ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ وَهُوَ يَقُولُ: "" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يُرِيدُ بِهِمَا وَجْهَ اللَّهِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا كَانَ قَبْلَهَا "" فَقُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، قَالَ فَضَرَبَ رَجُلٌ عَلَى كَتِفِي فَالْتَفَتُّ فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ قَالَ: يَا ابْنَ عَامِرٍ مَا كَانَ قَبْلَهَا أَفْضَلُ، قُلْتُ: مَا كَانَ قَبْلَهَا؟ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ دَخَلَ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ شَاءَ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَمَالِكُ بْنُ قَيْسٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمٍ وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ بَعْضُ النَّاسِ.

EnglishUnverified translation

Malik ibn Qays reports that Uqbah ibn Amir رضي الله عنه came to Muawiyah رضي الله عنه while he was in Ilya, then soon departed and was sought but not found, so they came to him and found him praying in an open tract of land. When he asked what had brought them, they replied that they had come to renew their bond with him and fulfil his right. He replied that he had with him their reward, then recounted that they were once with the Messenger of Allah ﷺ on a journey, and each man was charged with tending the camels for a day. When his own day came, he pastured the camels, then came to the Prophet ﷺ while his Companions gathered around him as he spoke. He neglected the camels and turned toward him, arriving as he was saying that whoever performs wudu excellently then prays two rakahs seeking thereby the Face of Allah will be forgiven what preceded. He exclaimed Allahu Akbar, whereupon a man struck his shoulder. He turned to find Abu Bakr رضي الله عنه, who told him that what the Prophet ﷺ had said before that was even more excellent. When he asked what it was, Abu Bakr رضي الله عنه informed him that the Messenger of Allah ﷺ had said that whoever testifies that none is worthy of worship except Allah, his heart confirming his tongue, shall enter through whichever gate of Paradise he wishes. > **"Whoever performs wudu and perfects the wudu, then prays two rakahs seeking thereby the Face of Allah, Allah forgives him what preceded. Whoever testifies that none is worthy of worship except Allah, his heart confirming his tongue, shall enter through whichever of the gates of Paradise he wishes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مالک بن قیس بیان کرتے ہیں : حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ ‘ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ‘ جو ایلیاء میں موجود تھے ‘ تھوڑی دیر کے بعد وہ تشریف لے گئے ‘ انہیں تلاش کیا گیا ‘ تو وہ نہیں ملے ( راوی کو شک ہے ‘ شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہم نے انہیں تلاش کیا ، تو ہم نے انہیں نہیں پایا ‘ پھر ہم ان کے پاس آئے وہ اس وقت ایک کھلی جگہ پر نماز ادا کر رہے تھے ‘ انہوں نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں آئے ہو ؟ لوگوں نے بتایا : ہم اس لئے آئے ہیں تاکہ آپ سے دوبارہ ملیں اور آپ کا جو حق ہے اس کو ادا کریں ( یعنی آپ سے استفادہ کریں ) ‘ انہوں نے فرمایا : میرے پاس تمہاری ضرورت کی چیز ہے ‘ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ‘ ہم میں سے ہر ایک شخص کے ذمہ اونٹ کی ایک دن کی دیکھ بھال لازم تھی ‘ جب میرا مخصوص دن آیا ، جس دن میں ، میں نے اونٹ کو چرانا تھا ، تو میں اونٹوں کو چرانے کے لئے لے گیا ‘ جب میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، تو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب آپ کے پاس آ جا رہے تھے ‘ اور آپ بات چیت کر رہے تھے ‘ میری توجہ اونٹوں سے ہٹ گئی اور نبی اکرم ﷺ کی طرف مبذول ہو گئی ‘ جب میں آپ کے پاس آیا تو آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : ’’ جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے ‘ پھر دو رکعات نماز ادا کرے اور ان دونوں کے ذریعے وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا ارادہ کرے ‘ تو اللہ تعالیٰ اس کے پہلے کے گناہوں کی مغفرت کر دے گا ‘‘۔ میں نے اللہ اکبر کہا ، تو کسی صاحب نے میرے کندھے پر ہاتھ مارا میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے ‘ انہوں نے فرمایا : اے عامر کے صاحبزادے ! اس سے پہلے نبی اکرم ﷺ نے جو بات ارشاد فرمائی تھی وہ زیادہ فضیلت رکھتی ہے ‘ میں نے دریافت کیا : اس سے پہلے کیا بات تھی ؟ انہوں نے بتایا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ‘ اور اس کا دل اس کی زبان کی تصدیق کرے ‘ وہ شخص جنت کے جس بھی دروازے میں سے چاہے گا ‘ اندر داخل ہو جائے گا “۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس صحابی کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ‘ جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ‘ مالک بن قیس نامی راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے بعض حضرات نے اسے ’’ ثقہ ‘‘ قرار دیا ہے ۔

3516

Majma al-Zawaid #3516

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «تَكْفِيرُ كُلِّ لِحَاءٍ رَكْعَتَانِ» "". وَفِيهِ مَسْلَمَةُ بْنُ عَلِيٍّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah al-Bahili رضي الله عنه reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that the expiation of every heated dispute is two rakahs. > **"The expiation of every quarrel is two rakahs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ہر گناہ کا کفارہ ‘ دو رکعات ہیں “۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی ہے ‘ اور وہ متروک ہے ۔

3517

Majma al-Zawaid #3517

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُتِبَ عَلَيْنَا قِيَامُ اللَّيْلِ: {يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ - قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا} [المزمل: 1 - 2] فَقُمْنَا حَتَّى انْتَفَخَتْ أَقْدَامُنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الرُّخْصَةَ: {عَلِمَ أَنْ سَيَكُونُ مِنْكُمْ مَرْضَى} [المزمل: 20] إِلَى آخِرِ السُّورَةِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Jabir رضي الله عنه reports that standing in night prayer was prescribed upon them through the verses commanding the enwrapped one to stand the night except a little, so they stood until their feet swelled, whereupon Allah Blessed and Exalted sent down the concession at the end of the Surah, that He knows that some among them will be sick, until the end of the Surah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : پہلے ہم پر رات کی ( نفل ) نماز لازم قرار دی گئی تھی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے چادر اوڑھنے والے ! تم رات کے وقت قیام کرو ‘ صرف تھوڑے حصے میں نہ کرو ‘‘۔ تو ہم قیام کیا کرتے تھے ‘ یہاں تک کہ ہمارے پاؤں پھول جاتے تھے ‘ تو اللہ تعالیٰ نے رخصت کا حکم نازل کرتے ہوئے ( ارشاد فرمایا : ) ’’ وہ یہ جانتا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ بیمار ہوں گے ‘‘ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سورت کے آخر تک ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ‘ اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ‘ اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

3518

Majma al-Zawaid #3518

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «فَضْلُ صَلَاةِ اللَّيْلِ عَلَى صَلَاةِ النَّهَارِ كَفَضْلِ صَدَقَةِ السِّرِّ عَلَى صَدَقَةِ الْعَلَانِيَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abdullah رضي الله عنه reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the excellence of night prayer over day prayer is like the excellence of secret charity over open charity. > **"The excellence of night prayer over day prayer is like the excellence of secret charity over open charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ رات کی نماز کو ‘ دن کی نماز پر وہی فضیلت حاصل ہے ‘ جو پوشیدہ طور پر صدقہ کرنے کو ‘ اعلانیہ طور پر صدقہ کرنے پر فضیلت حاصل ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ‘ اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

3519

Majma al-Zawaid #3519

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحِينَ قَبْلَكُمْ، وَهُوَ قُرْبَةٌ إِلَى رَبِّكُمْ وَمُكَفِّرٌ لِلسَّيِّئَاتِ وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ: ثِقَةٌ مَأْمُونٌ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah al-Bahili رضي الله عنه reports from the Messenger of Allah ﷺ that they must hold fast to standing in night prayer, for it was the practice of the righteous before them, a means of nearness to their Lord, an expiation for evil deeds, and a deterrent from sin. > **"Upon you is standing in night prayer, for it was the practice of the righteous before you, and it is nearness to your Lord, an expiation for evil deeds, and a deterrent from sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں :’’ تم پر رات کے وقت قیام کرنا ( یعنی نوافل ادا کرنا ) لازم ہے ‘ کیونکہ یہ تم سے پہلے نیک لوگوں کا معمول ہے ‘ اور تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں قربت کے حصول کا باعث ہے ، یہ گناہوں کو ختم کرنے والا ہے ‘ اور گناہوں سے روکنے والا ہے ‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ‘ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے ‘ جو لیث کا کاتب ہے ‘ عبدالملک بن شعیب بن لیث کہتے ہیں : یہ ’’ ثقہ ‘‘ اور مامون ہے ‘ ائمہ کی ایک جماعت نے اس راوی کو ضعیف قرار دیا ہے ۔