Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 46 · Chapter 3

Book of the Description of Paradise

Hadith 18717–18756

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18717

Majma al-Zawaid #18717

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - كُلَّ يَوْمٍ لِلْجَنَّةِ: طِيبِي لِأَهْلِكِ، فَتَزْدَادُ طِيبًا، فَذَلِكَ الْبَرْدُ الَّذِي يَجِدُهُ النَّاسُ بَسَحَرٍ مِنْ ذَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah, the Mighty and Majestic, says each day to Paradise, sweeten yourself for your people, so it increases in sweetness, and that is the coolness people feel at dawn from it. > **"Allah says each day to Paradise, sweeten yourself for your people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ روزانہ جنت سے فرماتا ہے : تم اپنے اہل کے لئے خوشبودار ہو جاؤ ، تو اس کی خوشبو میں اضافہ ہو جاتا ہے اور یہ وہ ٹھنڈک ہے جو لوگ محسوس کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبدالغفار ہے اور وہ متروک ہے ۔

18718

Majma al-Zawaid #18718

وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ الْخُدْرِيِّ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Prophet ﷺ saying that in Paradise is what no eye has seen, no ear has heard, and what has never crossed the heart of a mortal. > **"In Paradise is what no eye has seen, no ear has heard, and what has never crossed the heart of a mortal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جنت میں ایسی نعمتیں ہیں ، جن کو کسی آنکھ نے دیکھا نہیں ، کسی کان نے سنا نہیں اور کسی انسان کے دل میں ان کا خیال بھی نہیں آیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، ہزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18719

Majma al-Zawaid #18719

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَنْزِلُ فِي ثَلَاثِ سَاعَاتٍ يَبْقَيْنَ مِنَ اللَّيْلِ، فَيَفْتَحُ الذِّكْرَ فِي السَّاعَةِ الْأُولَى لَمْ يَرَهُ غَيْرُهُ، فَيَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ مَا يَشَاءُ، ثُمَّ يَنْزِلُ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ إِلَى جَنَّةِ عَدْنٍ، وَهِيَ الَّتِي لَمْ يَرَهَا غَيْرُهُ وَلَمْ تَخْطُرْ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، لَا يَسْكُنُهَا مَعَهُ مِنْ بَنِي آدَمَ غَيْرُ ثَلَاثَةٍ: النَّبِيِّينَ، وَالصِّدِّيقِينَ، وَالشُّهَدَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ: طُوبَى لِمَنْ دَخَلَكِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ زِيَادَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Dardaʾ, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ that Allah, Blessed and Exalted is He, descends in the three hours remaining of the night, opening the remembrance in the first hour unseen by other than Him, effacing what He wills and confirming what He wills. Then He descends in the second hour to the Garden of Eden, unseen by other than Him and never crossing the heart of a mortal, wherein none of the children of Adam dwells with Him but three: the prophets, the truthful and the martyrs. Then He says, blessed is whoever enters you. > **"Blessed is whoever enters you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بیشک اللہ تعالیٰ رات کی تین گھڑیوں میں یقینی طور پر نزول کرتا ہے ، پہلی گھڑی میں وہ ذکر ( یعنی لوح محفوظ ) کو کھولتا ہے ، جس کو اس کے علاوہ اور کسی نے نہیں دیکھا ، اور پھر جو وہ چاہتا ہے ، اسے مٹا دیتا ہے اور جو وہ چاہتا ہے اسے برقرار رکھتا ہے ، پھر وہ دوسری گھڑی میں جنت عدن کی طرف نزول کرتا ہے اور وہ ایسی چیز ہے جسے اس کے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ، اس جنت میں پروردگار کے ساتھ اولاد آدم میں سے صرف تین قسم کے لوگ رہیں گے ، انبیاء صدیقین اور شہداء ، پھر وہ فرماتا ہے : ان لوگوں کے لئے مبارکباد ہے جو تم میں داخل ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زیادہ بن محمد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18720

Majma al-Zawaid #18720

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: أَعْدَدْتُ لِعِبَادِيَ الصَّالِحِينَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ الْقُرْقُسَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ بِغَيْرِ كَذِبٍ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah, the Mighty and Majestic, says, I have prepared for My righteous servants what no eye has seen, no ear has heard, and what has never crossed the heart of a mortal. > **"I have prepared for My righteous servants what no eye has seen, no ear has heard, and what has never crossed the heart of a mortal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ چیز ( یعنی جنت اور اس کی نعمتیں ) تیار کی ہے جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہے ، کسی کان نے سنی نہیں ہے اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصعب قرقسانی ہے اور وہ ضعیف ہے ، لیکن وہ جھوٹا نہیں ہے ۔

18721

Majma al-Zawaid #18721

وَبِسَنَدِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «مَا رَأَيْتُ مِثْلَ الْجَنَّةِ نَامَ طَالِبُهَا، وَلَا مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا» ".

EnglishUnverified translation

With the same chain he said that the Messenger of Allah ﷺ said he never saw the like of Paradise while its seeker sleeps, nor the like of the Fire while its fleer sleeps. > **"I never saw the like of Paradise while its seeker sleeps, nor the like of the Fire while its fleer sleeps."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میں نے جنت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی ، جس کا طلبگار سو جاتا ہو ، اور جہنم جیسی ( کوئی چیز نہیں دیکھی ) جس سے بچنے والا سو جاتا ہو ۔‘‘

18722

Majma al-Zawaid #18722

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْيَهُودِ: "" إِنِّي سَائِلُهُمْ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ، وَهِيَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ "". فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا: خُبْزَةٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْخُبْزُ مِنَ الدَّرْمَكِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said to the Jews that he would ask them about the soil of Paradise, which is white flour. When he asked them, they said it is bread, O father of al-Qasim, so the Prophet ﷺ said bread is from flour. > **"Bread is from flour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کے بارے میں فرمایا : ’’ میں اُن سے جنت کی مٹی کے بارے میں دریافت کروں گا جو سفید آٹے کی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا : اے ابوالقاسم ! روٹی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : روٹی ، آٹے سے ہی بنتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18723

Majma al-Zawaid #18723

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مَرَاغًا مِنْ مِسْكٍ مِثْلَ مَرَاغِ دَوَابِّكُمْ فِي الدُّنْيَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي وَالْكَبِيرِ الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that in Paradise is a meadow of musk like the meadows of their beasts in this world. > **"In Paradise is a meadow of musk like the meadows of your beasts in this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک جنت میں مشک کا بنا ہوا ( لوٹ پوٹ ہونے کے لئے ) میدان ہو گا ، جس طرح دنیا میں تمہارے جانوروں کے لیے ( لوٹ پوٹ ہونے کے لئے ) میدان ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

18724

Majma al-Zawaid #18724

عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ أَهْلُ الْجَنَّةِ يَتَزَاوَرُونَ عَلَى نَجَائِبَ بَيْضٍ كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ، وَلَيْسَ فِي الْجَنَّةِ [شَيْءٌ] مِنَ الْبَهَائِمِ إِلَّا الْإِبِلُ وَالطَّيْرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ نُوحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that the people of Paradise visit one another upon white riding camels as though rubies, and there is nothing in Paradise of beasts but camels and birds. > **"The people of Paradise visit one another upon white riding camels as though rubies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل جنت سفید اونٹنیوں پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے ملنے کے لیے جائیں گے ، جو گویا یاقوت ہوں گی ، جانوروں میں سے جنت میں اونٹوں اور پرندوں کے علاوہ اور کچھ نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر بن نوح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18725

Majma al-Zawaid #18725

«عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَاعِدَةَ قَالَ: كُنْتُ أُحِبُّ الْخَيْلَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ فِي الْجَنَّةِ خَيْلٌ؟ فَقَالَ: "" إِنْ أَدْخَلَكَ اللَّهُ الْجَنَّةَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ كَانَ لَكَ فِيهَا فَرَسٌ مِنْ يَاقُوتٍ، لَهُ جَنَاحَانِ يَطِيرُ بِكَ حَيْثُ شِئْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn Saʿidah, may Allah be pleased with him, reports that he loved horses and asked, O Messenger of Allah, are there horses in Paradise. The Prophet said, O ʿAbd al-Rahman, if Allah admits you to Paradise you shall have therein a horse of ruby with two wings flying with you wherever you wish. > **"If Allah admits you to Paradise you shall have therein a horse of ruby with two wings flying with you wherever you wish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ساعدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ، گھوڑوں کو پسند کرتا تھا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا جنت میں گھوڑھے ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عبدالرحمن ! اگر اللہ تعالیٰ نے تمہیں جنت میں داخل کر دیا تو اس میں تمہارے لیے یاقوت کا بنا ہوا گھوڑا ہو گا ، جس کے دو پر ہوں گے اور تم جہاں چاہو گے ، وہ تمہیں لے کر اڑ کر چلا جائے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18726

Majma al-Zawaid #18726

عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ: «جَاءَتِ الْيَهُودُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: أَخْبِرْنَا مَا أَوَّلُ مَا يَأْكُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ إِذَا دَخَلُوا؟ قَالَ: "" أَوَّلُ مَا يَأْكُلُونَ كَبِدُ الْحُوتِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْمَاعِيلَ بْنِ بَهْرَامٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Tariq ibn Shihab, may Allah be pleased with him, reports that the Jews came to the Prophet ﷺ and said, inform us what the people of Paradise eat first when they enter. He said the first they eat is the liver of the whale. > **"The first they eat is the liver of the whale."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ یہودی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا : آپ ہمیں یہ بتائیں کہ اہل جنت جب اس میں داخل ہو جائیں گے تو وہ سب سے پہلے کیا کھائیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جو چیز سب سے پہلے کھائیں گے ، وہ مچھلی کا جگر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسماعیل بن بہرام کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18727

Majma al-Zawaid #18727

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: مَا حَوْضُكَ الَّذِي تُحَدِّثُ عَنْهُ؟ قَالَ: "" كَمَا بَيْنَ الْبَيْضَاءِ إِلَى بُصْرَى، يُمِدُّنِي اللَّهُ فِيهِ بِكُرَاعٍ، لَا يَدْرِي إِنْسَانٌ [مِمَّنْ] خُلِقَ أَيْنَ طَرَفَاهُ؟ "". فَكَبَّرَ عُمَرُ، فَقَالَ: "" أَمَّا الْحَوْضُ فَيَرِدُ عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَيَمُوتُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَأَرْجُو أَنْ يُورِدَنِي الْكُرَاعَ فَأَشْرَبَ مِنْهُ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، ثُمَّ يَشْفَعُ كُلُّ أَلْفٍ لِسَبْعِينَ أَلْفًا، ثُمَّ يَحْثِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بِكَفَّيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ "". فَكَبَّرَ عُمَرُ، وَقَالَ: "" إِنَّ السَّبْعِينَ الْأُولَى يُشَفِّعُهُمُ اللَّهُ فِي آبَائِهِمْ، وَأَبْنَائِهِمْ، وَعَشَائِرِهِمْ، وَأَرْجُو أَنْ يَجْعَلَنِي اللَّهُ فِي إِحْدَى الْحَثَيَاتِ الْأَوَاخِرِ. فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيهَا فَاكِهَةٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ. وَفِيهَا شَجَرَةٌ تُدْعَى طُوبَى، طَابِقُ الْفِرْدَوْسِ ""، فَقَالَ: أَيُّ شَجَرِ أَرْضِنَا تُشْبِهُ؟ قَالَ: "" لَيْسَ تُشْبِهُ شَيْئًا مِنْ شَجَرِ أَرْضِكَ، وَلَكِنْ أَتَيْتَ الشَّامَ؟ "". قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" فَإِنَّهَا تُشْبِهُ شَجَرَةً بِالشَّامِ تُدْعَى الْجَوْزَةَ، تَنْبُتُ عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَنْتَشِرُ أَعْلَاهَا "". قَالَ: فَمَا عُظْمُ أَصْلِهَا؟ قَالَ: "" لَوِ ارْتَحَلَتْ جَذَعَةٌ مِنْ إِبِلِ أَهْلِكَ لَمَا قَطَعَتْهَا حَتَّى تَنْكَسِرَ تَرْقُوَتُهَا هَرَمًا "". قَالَ: فِيهَا عِنَبٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: مَا عُظْمُ الْعُنْقُودِ فِيهَا؟. قَالَ: "" مَسِيرَةُ شَهْرٍ لِلْغُرَابِ الْأَبْقَعِ، لَا يَنْثَنِي وَلَا يَفْتُرُ "". قَالَ: فَمَا عُظْمُ الْحَبَّةِ مِنْهُ؟ قَالَ: "" هَلْ ذَبَحَ أَبُوكَ تَيْسًا مِنْ غَنَمِهِ عَظِيمًا؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَسَلَخَ إِهَابَهَا فَأَعْطَاهُ أُمَّكَ، فَقَالَ: ادْبَغِي هَذَا، ثُمَّ أَفْرِي لَنَا مِنْهُ ذَنُوبًا نَرْوِي [بِهِ] مَاشِيَتَنَا؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَإِنَّ تِلْكَ الْحَبَّةَ تُشْبِعُنِي وَأَهْلَ بَيْتِي؟ "". فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" وَعَامَّةَ عَشِيرَتِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَفِي الْكَبِيرِ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُمَا، وَفِيهِ عَامِرُ بْنُ الْبَكَالِيُّ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with him, reports that a Bedouin came to the Messenger of Allah ﷺ and asked what his Basin he speaks of is. He said it is as between al-Baydaʾ and Busra, Allah extending me therein with a watering place whose ends no created man knows. ʿUmar magnified Allah, and the Prophet said as for the Basin, the poor emigrants who fought in the way of Allah and died in the way of Allah shall come to it, and he hoped the watering place would bring him to drink from it. The Messenger of Allah ﷺ said his Lord promised him to admit seventy thousand of his nation to Paradise without reckoning, then each thousand intercedes for seventy thousand, then his Lord, Blessed and Exalted is He, scoops three scoops with His Hands. ʿUmar magnified Allah and said the first seventy Allah shall let intercede for their fathers, sons and kin, and he hoped Allah would make him of the last scoops. The Bedouin asked, O Messenger of Allah, is there fruit therein. He said yes, and therein a tree called Tuba matching al-Firdaws. He asked which tree of their land it resembles. He said it resembles nothing of the trees of your land, but have you been to Syria. He said no, O Messenger of Allah. He said it resembles a tree in Syria called the walnut, growing upon a single trunk then spreading at its top. He asked how great is its root. He said were a young camel of your folk to set out, it would not traverse it before its collarbone broke with age. He asked, is there grape therein. He said yes. He asked how great is the cluster therein. He said a month's journey for a speckled crow neither bending nor tiring. He asked how great is its berry. He said, did your father ever slaughter a great he-goat of his sheep. He said yes. He said, did he flay its hide and give it to your mother, saying tan this, then cut for us therefrom a bucket to water our livestock. He said yes. He said, that berry would suffice me and my household. The Prophet ﷺ said, and most of your kin. > **"My Lord promised me to admit seventy thousand of my nation to Paradise without reckoning, then each thousand intercedes for seventy thousand, then my Lord scoops three scoops with His Hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے کہا : وہ حوض کیا ہے ؟ جس کے بارے میں آپ بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( وہ اتنا بڑا ہے ) جتنا بیضاء سے لے کر بصریٰ تک کا درمیانی فاصلہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کے حوالے سے مجھ پر یہ فضل کیا کہ وہ اتنا بڑا ہے کہ آدمی یہ اندازہ نہیں کر سکتا کہ اس کے دونوں کنارے کہاں تخلیق ہوئے ہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک حوض کا تعلق ہے ، تو اس پر غریب مہاجرین آئیں گے ، جنہوں نے اللہ کی راہ میں جنگ میں حصہ لیا ہو گا اور جو اللہ کی راہ میں انتقال کر گئے ہوں گے ، مجھے یہ امید ہے اس میں آسمان سے پانی نازل ہو گا اور میں اس میں سے پیوں گا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا ، اور پھر ان میں سے ہر ایک ہزار لوگ ، مزید ستر ہزار لوگوں کی شفاعت کریں گے ، پھر میرا پروردگار دونوں ہتھیلیاں ملا کر تین مرتبہ ( میری امت کے لوگوں کو جہنم سے نکالے گا ) ۔ اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور یہ کہا : پہلے والے ستر ہزار لوگوں کو اللہ تعالیٰ ان کے آباؤ اجداد ، ان کے بیٹوں اور ان کے خاندان کے افراد کے بارے میں شفاعت کرنے کی اجازت دے گا ، اور مجھے یہ امید ہے کہ وہ مجھے بعد والے تین لپوں ( یعنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر نکالنے ) میں شامل کرے گا ۔ دیہاتی نے کہا : یا رسول اللہ ! کیا اس میں پھل ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس میں ایک درخت ہو گا جس کا نام طوبیٰ ہے اور طابق الفردوس ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : وہ ہماری زمین کے کون سے درخت کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ تمہارے علاقے کے کسی درخت کے ساتھ مشابہت نہیں رکھتا ، کیا تم شام گئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ شام میں موجود ایک درخت کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے ، جس کا نام ’’ جوزہ ‘‘ ہے ، وہ ایک ہی تنے پر کھڑا ہوتا ہے اور پھر اس کا بالائی حصہ پھیل جاتا ہے ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : اس کی جڑ کتنی بڑی ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگر تمہارے گھر کا اونٹ کا بچہ ( اس کے نیچے چلنا شروع کرے ) تو وہ اس کو پار نہیں کر سکے گا ، اس سے پہلے ہی وہ بوڑھا ہو کے مر جائے گا ۔ اس دیہاتی نے دریافت کیا : کیا جنت میں انگور ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : اس کے گچھے کتنے بڑے ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک کوا ، جو مسلسل ایک ماہ تک اڑتا رہے ، اس دوران وہ وقفہ نہ کرے ۔ اس نے دریافت کیا : اس کا بیج ( یا ایک دانہ ) کتنا بڑا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہارے باپ نے اپنی بکریوں میں سے کوئی بڑا نر جانور ذبح کیا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر اس نے اس جانور کی کھال اتار کر وہ تمہاری ماں کو دے دی ہو ، اور یہ کہا ہو : تم اس کی دباغت کر کے اس کے ذریعے ڈول بنا لو ، تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنے جانوروں کو پانی پلا دیا کریں ، اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے کہا : تو وہ ایک دانہ ، مجھے اور میرے اہل خانہ کو سیر کر دے گا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بلکہ تمہارے خاندان کے زیادہ تر افراد کو بھی ( وہ ایک دانہ سیر کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، انہوں نے معجم کبیر میں اور امام احمد نے بھی اس روایت کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عامر بن بکالی ہے ، ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18728

Majma al-Zawaid #18728

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «عُرِضَتْ عَلَيَّ الْجَنَّةُ فَذَهَبْتُ أَتَنَاوَلُ مِنْهَا قِطْفًا أُرِيكُمُوهُ فَحِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا مَثَلُ الْحَبَّةِ مِنَ الْعِنَبِ؟ قَالَ: "" كَأَعْظَمِ دَلْوٍ فَرَتْ أُمُّكَ قَطُّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said Paradise was shown to him and he went to take a cluster to show them, but it was held back from him. A man asked, O Messenger of Allah, what is the likeness of a berry of grape. He said like the greatest bucket your mother ever pitched. > **"Paradise was shown to me and I went to take a cluster to show you, but it was held back from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا ، میں اس میں سے ایک گچھہ پکڑنے لگا تاکہ وہ تمہیں دکھاؤں ، تو میرے اور اس کے درمیان رکاوٹ آ گئی ، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! انگور کا ایک دانہ کیسا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس سب سے بڑے ڈول کی مانند ہو گا جو تمہاری ماں نے کبھی تیار کیا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18729

Majma al-Zawaid #18729

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً مُسْتَقِلَّةً عَلَى سَاقٍ وَاحِدٍ، عَرْضُ سَاقِهَا ثِنْتَانِ وَسَبْعُونَ [سَنَةٍ]» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that in Paradise is a tree standing independently upon a single trunk, its trunk seventy-two years wide. > **"In Paradise is a tree standing upon a single trunk, its trunk seventy-two years wide."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت میں ایک درخت ہو گا جو ایک تنے پر کھڑا ہو گا اور اس کے تنے کی چوڑائی 72 سال ( کی مسافت جتنی ) ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور طبرانی کی سند حسن ہے ۔

18730

Majma al-Zawaid #18730

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَبْدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْمَعُكَ تَذْكُرُ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً لَا أَعْلَمُ أَكْثَرَ شَوْكًا مِنْهَا - يَعْنِي الطَّلْحَ -. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَجْعَلُ مَكَانَ كُلِّ شَوْكَةٍ مِنْهَا خَصْوَةَ التَّيْسِ الْمَلْبُودِ - يَعْنِي الْخَصِيَّ - مِنْهَا سَبْعُونَ لَوْنًا مِنَ الطَّعَامِ، لَا يُشْبِهُ لَوْنٌ آخَرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿAbd al-Sulami, may Allah be pleased with him, reports that he sat with the Prophet ﷺ when a Bedouin came and said, O Messenger of Allah, I hear you mention in Paradise a tree I know none more thorny than, meaning the talh. The Messenger of Allah ﷺ said He makes in place of each thorn thereof a ram's testicle, shorn meaning castrated, with seventy kinds of food therein, no kind resembling another. > **"He makes in place of each thorn thereof a testicle of a shorn ram, with seventy kinds of food therein, no kind resembling another."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عبدسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک دیہاتی آ گیا ۔ اس نے کہا : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو جنت میں ایک درخت کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اور میرے علم کے مطابق کسی اور درخت میں اس سے زیادہ کانٹے نہیں ہوتے ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد ’’ طلح ‘‘ ( نامی کانٹے دار درخت ) تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کے ہر ایک کانٹے کی جگہ اس پر ، ایسا پھل لگا دے گا جو نر جانور کے ایسے خصیوں جیسا ہو گا جن پر بال موجود ہوں ، اس ( پھل ) میں 70 مختلف قسم کے کھانے کی چیز ( یا ذائقہ ) ہو گا ، جن میں سے ہر ایک دوسرے سے مختلف ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18731

Majma al-Zawaid #18731

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا نَزَعَ ثَمَرَةً مِنَ الْجَنَّةِ عَادَتْ مَكَانَهَا أُخْرَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عِيدَ فِي مَكَانِهَا مِثْلَاهَا، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that when a man plucks a fruit of Paradise, another returns in its place. > **"When a man plucks a fruit of Paradise, another returns in its place."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب آدمی جنت کا کوئی پھل اتارے گا تو اس کی جگہ دوسرا پھیل آ جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :” اس کی جگہ ، اس کی مانند دو گنا ( پھل آ جائے گا ) ۔‘‘ طبرانی کے رجال اور ہزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

18732

Majma al-Zawaid #18732

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةً يَسِيرُ الرَّاكِبُ [الْجَوَادَ] فِي ظِلِّهَا مِائَةَ سَنَةٍ، وَإِنَّ وَرَقَهَا لَيُخَمِّرُ الْجَنَّةَ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ: "" «وَإِنَّ وَرَقَهَا لَيُخَمِّرُ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ that in Paradise is a tree under whose shade a swift rider travels a hundred years, and its leaf covers Paradise. > **"In Paradise is a tree under whose shade a rider travels a hundred years, and its leaf covers Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت میں ایسا درخت ہو گا کہ تیز رفتار سوار اُس کے سائے میں ایک سو سال تک چلتا رہے گا ، اور اس کا ایک پتہ جنت کو ڈھانپ لے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے جس میں یہ الفاظ ہیں : اس کا پتہ جنت کو ڈھانپ لے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18733

Majma al-Zawaid #18733

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ طَيْرَ الْجَنَّةِ كَأَمْثَالِ الْبُخْتِ، تَرْعَى فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذِهِ لَطَيْرٌ نَاعِمَةٌ! فَقَالَ: "" أَكَلَتُهَا أَنْعَمُ مِنْهَا - قَالَهَا ثَلَاثًا - وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ مِمَّنْ يَأْكُلُ مِنْهَا [يَا أَبَا بَكْرٍ]». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَيَّارِ بْنِ حَاتِمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the birds of Paradise are like Bukht camels grazing among the trees of Paradise. Abu Bakr said, O Messenger of Allah, these must be blissful birds. The Prophet said their eaters are more blissful than them, saying it thrice, and he hoped to be of those who eat thereof, O Abu Bakr. > **"The birds of Paradise are like Bukht camels, and their eaters are more blissful than them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت کے پرندے بختی ( اونٹوں ) کی مانند ہوں گے اور وہ جنت کے درختوں میں سے کھائیں گے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ یہ تو نعمت ( میں رہنے ) والے پرندے ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اُن کو کھانے والے ، اُن سے زیادہ نعمت میں ہوں گے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، اور پھر یہ فرمایا : مجھے یہ امید ہے اے ابوبکر ! کہ تم اُن کو کھانے والوں میں سے ایک ہو گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سیار بن حاتم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18734

Majma al-Zawaid #18734

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «إِنَّكَ لَتَنْظُرُ إِلَى الطَّيْرِ فِي الْجَنَّةِ فَتَشْتَهِيهِ فَيَجِيءُ مَشْوِيًّا بَيْنَ يَدَيْكَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ عَطَاءٍ الْأَعْرَجُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that one looks at a bird in Paradise and desires it, and it comes roasted before him. > **"One looks at a bird in Paradise and desires it, and it comes roasted before him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں تم کسی پرندے کی طرف دیکھو گے ، تمہیں اس کی طلب محسوس ہو گی ، تو وہ بھنا ہوا تمہارے سامنے آ جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حمید بن عطاء اعرج ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18735

Majma al-Zawaid #18735

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: ثِيَابُنَا فِي الْجَنَّةِ نَنْسِجُهَا بِأَيْدِينَا، فَضَحِكَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: لِمَ تَضْحَكُونَ مِنَّا؟! جَافٍ يَسْأَلُ عَالِمًا فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَدَقْتَ يَا أَعْرَابِيُّ، وَلَكِنَّهَا ثَمَرَاتٌ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: مِمَّ تَضْحَكُونَ؟ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا وَلَكِنَّهَا تُخْلَقُ خَلْقًا، أَوْ تَنْشَقُّ عَنْهَا ثِمَارُ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مِمَّ تَضْحَكُونَ؟ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا؟ لَا يَا أَعْرَابِيُّ، وَلَكِنَّهَا تَنْشَقُّ عَنْهَا ثِمَارُ الْجَنَّةِ» "". وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيِّ، رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reports that a Bedouin came to the Prophet ﷺ and asked whether their garments in Paradise they weave with their hands, so the Companions of the Prophet ﷺ laughed. The Bedouin said, why do you laugh at us, a coarse one asking a learned one. The Prophet ﷺ said, you spoke the truth, O Bedouin, but they are fruits. In another wording the Bedouin said, at what do you laugh, at an ignorant one asking a learned one, and the Prophet ﷺ said, nay, but they are created a creation, or the fruits of the people of Paradise split open therewith. In another wording the Prophet ﷺ said, at what do you laugh, at an ignorant one asking a learned one. Nay, O Bedouin, but the fruits of Paradise split open therewith. > **"You spoke the truth, O Bedouin, but they are fruits."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے کہا : جنت میں ہم اپنے کپڑے اپنے ہاتھوں کے ذریعے تیار کریں گے ؟ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب اس بات پر ہنس پڑے ، اس دیہاتی نے کہا : آپ لوگ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ جبکہ ایک ناواقف شخص ، ایک عالم سے سوال کر رہا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے دیہاتی ! تم نے ٹھیک کہا ہے ، لیکن وہ ثمرات ہیں ( شاید یہ مراد ہے کہ جنت میں کپڑے درختوں کے ساتھ لگے ہوئے ہوں گے ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ دیہاتی نے کہا : آپ لوگ کس بات پر ہنس رہے ہیں ؟ ایک جاہل کے عالم سے سوال کرنے پر ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وہ مخصوص طریقے سے پیدا ہوں گے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اُن سے اہل جنت کے پھل نکلیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں بھی نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تم لوگ کس بات پہ ہنس رہے ہو ؟ ایک جاہل کے عالم سے سوال کرنے پر ؟ جی نہیں ! اے اعرابی ! بلکہ جنت کے پھل ان میں سے نکلیں گے ۔‘‘ امام ابویعلیٰ اور طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18736

Majma al-Zawaid #18736

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «وَقَامَ آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنَا عَنْ ثِيَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، أَخَلْقٌ يُخْلَقُ أَمْ نَسْجٌ يُنْسَجُ؟ فَضَحِكَ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مِمَّ تَضْحَكُونَ؟ مِنْ جَاهِلٍ يَسْأَلُ عَالِمًا أَيْنَ السَّائِلُ؟؟ "". قَالَ: "" أَنَا ذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ "". قَالَ: "" تَنْشَقُّ عَنْهَا ثِمَارُ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reports that another stood and asked, O Messenger of Allah, inform us of the garments of the people of Paradise, created already or woven. Some of the people laughed, so the Messenger of Allah ﷺ said, at what do you laugh, at an ignorant one asking a learned one, where is the asker. He said, here I am, O Messenger of Allah. He said, the fruits of Paradise split open therewith. > **"The fruits of Paradise split open therewith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک اور صاحب کھڑے ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں اہل جنت کے کپڑوں کے بارے میں بتائیے ، کیا یہ بنائے جا چکے ہیں ؟ یا یہ بنے جائیں گے ؟ تو حاضرین میں سے کچھ لوگ ہنس پڑے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ کس بات پر ہنسے ہو ؟ ایک جاہل کے عالم سے سوال کرنے پر ؟ سوال کرنے والا شخص کہاں ہے ؟ اس نے کہا : میں یہاں ہوں ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت کے پھل ان میں سے نکلیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18737

Majma al-Zawaid #18737

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the place of a whip in Paradise is better than this world and what is therein. > **"The place of a whip in Paradise is better than this world and what is therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں کوڑا ( یا چابک ) رکھنے کی جگہ ، دنیا اور اس میں موجود ( سب چیزوں ) سے بہتر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18738

Majma al-Zawaid #18738

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَمَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِمَّا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the place of a whip in Paradise is better than what is between heaven and earth. > **"The place of a whip in Paradise is better than what is between heaven and earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں کوڑا ( یا چابک ) رکھنے کی جگہ ، اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جو آسمان اور زمین کے درمیان ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18739

Majma al-Zawaid #18739

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «قِيدُ سَوْطِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلِهَا وَلَقَابُ قَوْسِ أَحَدِكُمْ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا وَلَنَصِيفُ امْرَأَةٍ مِنَ الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمِثْلَهَا مَعَهَا» "". قُلْتُ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا التَّضْعِيفُ؟ قَالَ: الْخِمَارُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the space of a whip of one of them in Paradise is better than this world and its like with it, the space of a bow of one of them in Paradise is better than this world and its like with it, and the veil of a woman of Paradise is better than this world and its like with it. When asked what the veil is, Abu Hurayrah said the headcover. > **"The space of a whip in Paradise is better than this world and its like, and the veil of a woman of Paradise is better than this world and its like."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں تم میں سے کسی ایک شخص کے کوڑا ( یا چابک ) رکھنے کی جگہ ، دنیا اور اس کی مانند ( مزید دنیا ) سے بہتر ہے اور جنت میں تم میں سے کسی ایک کی کمان کی جگہ ، دنیا اور اس کی مانند ( مزید دنیا ) سے بہتر ہے ، اور جنتی عورت کی اوڑھنی ، دنیا اور اس کی مانند ( مزید دنیا ) سے بہتر ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اے حضرت ابوہریرہ ! ’’ نصیف ‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اوڑھنی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18740

Majma al-Zawaid #18740

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَنَامُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" النَّوْمُ أَخُو الْمَوْتِ، وَأَهْلُ الْجَنَّةِ لَا يَنَامُونَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ was asked, O Messenger of Allah, do the people of Paradise sleep. The Messenger of Allah ﷺ said sleep is the brother of death, and the people of Paradise do not sleep. > **"Sleep is the brother of death, and the people of Paradise do not sleep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا اہل جنت سوئیں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : نیند موت کی بہن ہے اور اہل جنت نہیں سوئیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ہزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18741

Majma al-Zawaid #18741

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ قَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَبِّ، ائْذَنْ فِي الزَّرْعِ، فَيَأْذَنُ لَهُ فَيَبْذُرُ حَبَّةً، فَلَا يَلْتَفِتُ حَتَّى تَكُونَ كُلُّ سُنْبُلَةٍ اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا، ثُمَّ لَا يَبْرَحُ مَكَانَهُ حَتَّى يَكُونَ مِنْهُ رُكَامٌ أَمْثَالُ الْجِبَالِ "". فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَا تَجِدُ هَذَا الرَّجُلَ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا، فَضَحِكَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَالِدٍ الْمِصِّيصِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ that when the people of Paradise enter Paradise, a man shall stand and say, O my Lord, permit me to farm. He shall permit him, so he sows a seed and without turning away each ear becomes twelve cubits, then without leaving his place it becomes heaps like mountains. A Bedouin said, O Messenger of Allah, you shall find this man but Qurashi or Ansari, so the Prophet ﷺ laughed. > **"When the people of Paradise enter Paradise, a man shall say, O my Lord, permit me to farm, so he sows a seed and it becomes heaps like mountains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو ایک شخص کھڑا ہو گا اور کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے کھیتی باڑی کرنے کی اجازت دے ، پروردگار اسے اجازت دیدے گا ، وہ شخص بیج بوئے گا اور اسی وقت پودا تیار ہو جائے گا ، جس کی لمبائی بارہ ذراع ہو گی اور پھر اسی جگہ پر پہاڑوں جیسی بڑی فصل تیار ہو جائے گی ۔ اس پر ایک دیہاتی نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ اس شخص کو پائیں گے کہ وہ یا تو کوئی قریشی ہو گا یا انصاری ہو گا ، تو نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عبداللہ بن خالد مصیصی ہے اور وہ متروک ہے ۔

18742

Majma al-Zawaid #18742

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَا يَتَبَايَعُونَ، وَلَوْ تَبَايَعُوا مَا تَبَايَعُوا إِلَّا بِالْبَزِّ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ نُوحٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr al-Siddiq, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the people of Paradise do not trade, and had they traded they would trade but in cloth. > **"The people of Paradise do not trade, and had they traded they would trade but in cloth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت خرید و فروخت نہیں کریں گے ، اگر وہ خرید و فروخت کریں گے بھی ، تو صرف کپڑے کی کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن نوح ہے اور وہ متروک ہے ۔

18743

Majma al-Zawaid #18743

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «لَوْ أَذِنَ اللَّهُ فِي التِّجَارَةِ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ لَاتَّجَرُوا فِي الْبَزِّ وَالْعِطْرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَيُّوبَ السَّكُونِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that had Allah permitted trade for the people of Paradise, they would trade in cloth and perfume. > **"Had Allah permitted trade for the people of Paradise, they would trade in cloth and perfume."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر اللہ تعالیٰ اہل جنت کو تجارت کرنے کی اجازت دے گا ، تو وہ لوگ کپڑے اور عطر کی تجارت کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن ایوب سکونی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18744

Majma al-Zawaid #18744

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا أَبَا الْقَاسِمِ، تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ؟ قَالَ: " نَعَمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُعْطَى قُوَّةَ مِائَةِ رَجُلٍ فِي الْأَكْلِ، وَالشُّرْبِ، وَالشَّهْوَةِ، وَالْجِمَاعِ ". فَقَالَ الْيَهُودِيُّ: إِنَّ الَّذِي يَأْكُلُ وَيَشْرَبُ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ، وَالْجَنَّةُ مُطَهَّرَةٌ، قَالَ: حَاجَةُ أَحَدِهِمْ عَرَقٌ يَفِيضُ مِنْ جِلْدِهِ كَرِيحِ الْمِسْكِ، فَإِذَا بَطْنُهُ قَدْ ضَمُرَ» ".

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with him, reports that a Jew came to the Prophet ﷺ and said, O father of al-Qasim, do you claim the people of Paradise eat and drink therein. He said yes, by the One in Whose Hand is my soul, a man shall be given the strength of a hundred men in eating, drinking, desire and intercourse. The Jew said one who eats and drinks needs to relieve himself, while Paradise is pure. He said the need of one of them is sweat pouring from his skin like the scent of musk, then his belly slims. > **"A man shall be given the strength of a hundred men in eating, drinking, desire and intercourse, and his need is sweat like musk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہودیوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : اے ابوالقاسم ! آپ کا یہ کہنا ہے کہ اہل جنت اس میں کھائیں گے اور پیئں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ( جنت میں ہر ) شخص کو کھانے پینے شہوت اور صحبت کرنے کی صلاحیت کے حوالے سے ایک سو افراد کے جتنی قوت دی جائے گی ۔ اس یہودی نے کہا : جو شخص کچھ کھاتا ہے یا پیتا ہے ، اُسے قضائے حاجت کی ضرورت بھی پیش آتی ہے ، اور جنت تو پاک صاف ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( جنت میں ) کسی شخص کی قضائے حاجت پسینے کی شکل میں ہو گی ، جو اس کی جلد میں سے بہہ جائے گا اور مشک کی خوشبو کی مانند ہو گا اور پھر اس کا پیٹ ہلکا پھلکا ہو جائے گا ۔

18745

Majma al-Zawaid #18745

وَفِي رِوَايَةٍ: «بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْيَهُودِ يُقَالُ لَهُ: ثَعْلَبَةُ بْنُ الْحَارِثِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، فَقَالَ: "" وَعَلَيْكُمْ "". فَقَالَ الْيَهُودُ: تَزْعُمُ أَنَّ فِي الْجَنَّةِ طَعَامًا، وَشَرَابًا، وَأَزْوَاجًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" نَعَمْ تُؤْمِنُ بِشَجَرَةِ الْمِسْكِ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" وَتَجِدُهَا فِي كِتَابِكُمْ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" فَإِنَّ الْبَوْلَ وَالْجَنَابَةَ عَرَقٌ يَسِيلُ مِنْ تَحْتِ ذَوَائِبِهِمْ إِلَى أَقْدَامِهِمْ مِسْكًا». رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَأَحْمَدُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «يَا أَبَا الْقَاسِمِ، أَلَسْتَ تَزْعُمُ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَأْكُلُونَ فِيهَا وَيَشْرَبُونَ؟ وَقَالَ لِأَصْحَابِهِ: إِنْ أَقَرَّ لِي بِهَذِهِ خَصَمْتُهُ»، وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ثُمَامَةَ بْنِ عُقْبَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, while they were with the Prophet ﷺ, a Jew called Thaʿlabah ibn al-Harith came and said, peace upon you, O Muhammad, and he said, and upon you. The Jew said, do you claim there is food, drink and wives in Paradise. The Prophet ﷺ said yes, do you believe in the tree of musk. He said yes. He said, do you find it in your book. He said yes. He said, urine and impurity are sweat flowing from beneath their locks to their feet as musk. > **"Urine and impurity are sweat flowing from beneath their locks to their feet as musk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، اسی دوران یہودیوں سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، جس کا نام ثعلبہ بن حارث تھا ، اس نے کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ پر سلام ہو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم پر بھی ہو ، یہودی نے نبی اکرم ﷺ سے کہا : آپ کا یہ کہنا ہے ، جنت میں کھانا پینا اور بیویاں ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم مشک کے درخت پر ایمان رکھتے ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر پایا ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو پیشاب اور جنابت پینے کی شکل میں ہوں گے ، جو ان کے بالوں کے نیچے سے لے کر قدموں تک بہے گا اور مشک کی طرح ( خوشبودار ہو گا ) ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اور انہوں نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، یہ روایت امام احمد نے بھی نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اس شخص نے کہا : اے ابوالقاسم ! کیا آپ کا یہ کہنا نہیں ہے : اہل جنت اس میں کھائیں گے اور پیئں گے ، اس نے اپنے ساتھیوں سے یہ کہا تھا کہ اگر انہوں نے میرے سامنے اس بات کا اقرار کر لیا ، تو پھر میں ان کے ساتھ بحث کروں گا ......‘‘۔ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے احمد اور بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ثمامہ بن عقبہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18746

Majma al-Zawaid #18746

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قِيلَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُفْضِي إِلَى نِسَائِنَا فِي الْجَنَّةِ كَمَا نُفْضِي إِلَيْهِنَّ فِي الدُّنْيَا؟ قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُفْضِي بِالْغَدَاةَ الْوَاحِدَةَ إِلَى مِائَةِ عَذْرَاءَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ زَيْدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِيِّ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that it was said, O Messenger of Allah, shall we consummate with our women in Paradise as we consummate with them in this world. He said, by the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, a man shall consummate in a single morning with a hundred virgins. > **"By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, a man shall consummate in a single morning with a hundred virgins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا ہم جنت میں اپنی بیویوں کے ساتھ اسی طرح وظیفہ زوجیت ادا کریں گے ، جس طرح دنیا میں ان کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کرتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ، کوئی شخص ایک ہی صبح میں 100 بیویوں کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کر لے گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زید بن ابوحواری ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

18747

Majma al-Zawaid #18747

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَتَنَاكَحُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: " نَعَمْ. بِذَكَرٍ لَا يَمَلُّ، وَشَهْوَةٍ لَا تَنْقَطِعُ، دَحْمًا دَحْمًا» ".

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ was asked whether the people of Paradise marry. He said yes, with a member that never tires and a desire that never ceases, thrust upon thrust. > **"Yes, with a member that never tires and a desire that never ceases."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا : کیا اہل جنت ( یعنی میاں ، بیوی ) وظیفہ زوجیت ادا کریں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! مرد کی شرمگاہ ایسی ہو گی ، جس کا انتشار ختم نہیں ہو گا اور ایسی شہوت ہو گی ، جو منقطع نہیں ہو گی ، وہ بھرپور صحبت کرے گا ۔

18748

Majma al-Zawaid #18748

وَفِي رِوَايَةٍ: " «لَكِنْ لَا مَنِيَّ وَلَا مَنِيَّةَ» ".

EnglishUnverified translation

In another narration, but no semen and no death. > **"But no semen and no death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ «لا منی ولا منیۃ» ۔‘‘

18749

Majma al-Zawaid #18749

وَفِي رِوَايَةٍ: هَلْ يَنْكِحُ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: " «نَعَمْ وَيَأْكُلُونَ وَيَشْرَبُونَ» ". رَوَاهَا [كُلَّهَا] الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

In another narration, when asked whether the people of Paradise marry, he said yes, and they eat and drink. > **"Yes, and they eat and drink."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” کیا اہل جنت نکاح ( یعنی وظیفہ زوجیت ادا ) کریں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اور وہ کھائیں گے بھی اور پیئں گے بھی ۔‘‘ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں اور ان میں سے بعض کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18750

Majma al-Zawaid #18750

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: هَلْ يَمَسُّ أَهْلُ الْجَنَّةِ أَزْوَاجَهُمْ؟ قَالَ: "" نَعَمْ. بِذَكَرٍ لَا يَمَلُّ، وَفَرْجٍ لَا يَخْفَى، وَشَهْوَةٍ لَا تَنْقَطِعُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ was asked whether the people of Paradise touch their wives. He said yes, with a member that never tires, a part never hidden, and a desire that never ceases. > **"Yes, with a member that never tires and a desire that never ceases."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا : کیا اہل جنت اپنی بیویوں کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کریں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! یوں کہ مرد کی شرمگاہ کا انتشار ختم نہیں ہو گا اور عورت کی شرمگاہ حفی نہیں ہو گی ۔ اور شہوت منقطع نہیں ہو گی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

18751

Majma al-Zawaid #18751

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ، وَعِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ: قَالَ: «قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُفْضِي إِلَى نِسَائِنَا فِي الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ: " إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيُفْضِي فِي الْيَوْمِ الْوَاحِدِ إِلَى مِائَةِ عَذْرَاءَ» ". وَرِجَالُ هَذِهِ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ ثَوَابٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ بِغَيْرِ كَذِبٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration with him and with al-Tabarani, it was said, O Messenger of Allah, shall we consummate with our women in Paradise. He said, yes, by the One in Whose Hand is my soul, a man shall consummate in a single day with a hundred virgins. > **"Yes, by the One in Whose Hand is my soul, a man shall consummate in a single day with a hundred virgins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ اور امام طبرانی کی معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا ہم جنت میں اپنی بیویوں کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کریں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، آدمی ایک ہی دن میں 100 بیویوں کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کر لے گا ۔‘‘ اس دوسری روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ثواب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، پہلی روایت میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ، جھوٹا نہیں ہے ، اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18752

Majma al-Zawaid #18752

وَعَنْ أَنَسٍ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" يُزَوَّجُ الْعَبْدُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ زَوْجَةً "". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُطِيقُهَا؟ قَالَ: "" يُعْطَى قُوَّةَ مِائَةٍ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that the servant is married in Paradise to seventy wives. It was said, O Messenger of Allah, can he bear it. He said he is given the strength of a hundred. > **"The servant is married in Paradise to seventy wives, and he is given the strength of a hundred."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت میں آدمی کی شادی 70 بیویوں کے ساتھ کی جائے گی ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کیا آدمی اس کی طاقت رکھے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے 100 ( عورتوں کے ساتھ صحبت کرنے ) کی قوت عطا کی جائے گی ۔‘‘ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18753

Majma al-Zawaid #18753

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَهْلُ الْجَنَّةِ إِذَا جَامَعُوا نِسَاءَهُمْ عَادُوا أَبْكَارًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that when the people of Paradise consummate with their women, they return virgins. > **"When the people of Paradise consummate with their women, they return virgins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت جب اپنی بیویوں کے ساتھ وظیفہ زوجیت ادا کر لیں گے ، تو وہ عورتیں پھر کنواری ہو جائیں گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی معلیٰ بن عبدالرحمن واسطی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

18754

Majma al-Zawaid #18754

عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ حِدْيَمٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَشْرَفَتْ [إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ] لَمَلَأَتِ الْأَرْضَ رِيحَ مِسْكٍ، وَلَأَذْهَبَتْ ضَوْءَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُطَوَّلًا أَطْوَلَ مِنْ هَذَا، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَفِيهِمَا الْحَسَنُ بْنُ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿid ibn ʿAmir ibn Hidyam, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying that if a woman of the women of Paradise looked down upon the people of earth, she would fill the earth with the scent of musk and efface the light of the sun and moon. > **"If a woman of the women of Paradise looked down upon the earth, she would fill it with the scent of musk and efface the light of the sun and moon."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن عامر بن حدیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اگر اہل جنت کی خواتین میں سے کوئی عورت ، اہل زمین کی طرف جھانک لے تو تمام روئے زمین کو مشک کی خوشبو سے بھر دے گی ، اور وہ سورج اور چاند کی روشنی کو ماند کر دے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے نفلی صدقہ کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ، یہ روایت امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ، ایک راوی حسن بن عنبسہ وراق ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18755

Majma al-Zawaid #18755

«- وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: حُورٌ عِينٌ قَالَ: "" حُورٌ: بِيضٌ، عِينٌ: ضِخَامٌ، شَفْرُ الْحَوْرَاءِ بِمَنْزِلَةِ جَنَاحِ النَّسْرِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ} [الرحمن: 58] قَالَ: "" صَفَاؤُهُنَّ كَصَفَاءِ الدُّرِّ الَّذِي فِي الْأَصْدَافِ الَّذِي لَا تَمَسُّهُ الْأَيْدِي "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: {فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ} [الرحمن: 70] قَالَ: "" خَيْرَاتُ الْأَخْلَاقِ، حِسَانُ الْوُجُوهِ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ} [الصافات: 49] قَالَ: "" رِقَّتُهُنَّ كَرِقَّةِ الْجِلْدِ الَّذِي فِي دَاخِلِ الْبَيْضَةِ مِمَّا يَلِي الْقِشْرَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ: {عُرُبًا أَتْرَابًا} [الواقعة: 37]، قَالَ: "" هُنَّ اللَّاتِي قُبِضْنَ فِي دَارِ الدُّنْيَا عَجَائِزَ، رُمْصًا، شُمْطًا، خَلَقَهُنَّ اللَّهُ بَعْدَ الْكِبَرِ فَجَعَلَهُنَّ عَذَارَى "". قَالَ: "" عُرُبًا: مُعَشَّقَاتٍ، مُحَبَّبَاتٍ، أَتْرَابًا: عَلَى مِيلَادٍ وَاحِدٍ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ أَمِ الْحُورُ الْعِينُ؟ قَالَ: "" نِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ كَفَضْلِ الظِّهَارَةِ عَلَى الْبِطَانَةِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَبِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: "" بِصَلَاتِهِنَّ، وَصِيَامِهِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلْبَسَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وُجُوهَهُنَّ النُّورَ، وَأَجْسَادَهُنَّ الْحَرِيرَ، بِيضُ الْأَلْوَانِ، خُضْرُ الثِّيَابِ، صُفْرُ الْحُلِيِّ، مَجَامِرُهُنَّ الدُّرُّ، وَأَمْشَاطُهُنَّ الذَّهَبُ، يَقُلْنَ: أَلَا نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَمُوتُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فَلَا نَظْعَنُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ أَبَدًا، طُوبَى لِمَنْ كُنَّا لَهُ وَكَانَ لَنَا "". قُلْتُ: الْمَرْأَةُ مِنَّا تَتَزَوَّجُ الزَّوْجَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ تَمُوتُ فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَيَدْخُلُونَ مَعَهَا، مَنْ يَكُونُ زَوْجَهَا مِنْهُمْ؟ قَالَ: "" يَا أُمَّ سَلَمَةَ، [إِنَّهَا] تُخَيَّرُ فَتَخْتَارُ أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا "". قَالَ: "" فَتَقُولُ: أَيْ رَبِّ، إِنَّ هَذَا كَانَ أَحْسَنَهُمْ مَعِي خُلُقًا فِي دَارِ الدُّنْيَا فَزَوِّجْنِيهِ، يَا أُمَّ سَلَمَةَ ذَهَبَ حُسْنُ الْخُلُقِ بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ طَرِيقُ الْكَبِيرِ فِي سُورَةِ الرَّحْمَنِ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, wife of the Prophet ﷺ, may Allah be pleased with her, reports that she asked, O Messenger of Allah, inform me of the words of Allah, the Mighty and Majestic, wide-eyed maidens. He said fair, large-eyed, the eyelash of the maiden like the wing of an eagle. She asked of His words, as though rubies and coral. He said their purity like the purity of pearls in shells untouched by hands. She asked of His words, therein good and beautiful. He said good in character, beautiful in face. She asked of His words, as though sheltered eggs. He said their delicacy like the delicacy of the skin inside the egg next to the shell. She asked of His words, loving, of equal age. He said those seized in this world old, bleary, grey, Allah creating them after old age and making them virgins, loving, beloved, of one birth. She asked whether the women of this world are better or the wide-eyed maidens. He said the women of this world are better than the wide-eyed maidens as the outer garment over the lining. She asked why. He said by their prayer and fasting for Allah, the Mighty and Majestic, Allah clothing their faces with light and their bodies with silk, white in colour, green in dress, yellow in adornment, their censers pearls and their combs gold, saying, are we not the eternal who never die, the blissful who never despair, the resident who never depart, the content who never anger, blessed is whoever we are for and who is for us. She asked, a woman of us marries two, three or four husbands in this world, then dies and enters Paradise with them entering with her, whose wife shall she be. He said, O Umm Salamah, she is given choice and chooses the best of them in character, saying, O my Lord, this was best with me in character in this world so marry me to him. O Umm Salamah, good character has taken the good of this world and the Hereafter. > **"The women of this world are better than the wide-eyed maidens as the outer garment over the lining."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے :” حورعین ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ گوری چٹی حوریں ہوں گی ، بڑی بڑی آنکھوں والی ہونگی اور حور کی پلکیں باز کے پر جتنی ہونگی ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں مجھے بتائیے : ’’ یاقوت اور مرجان ہیں ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کی نفاست ، اس موتی کی مانند ہو گی جو صدف میں ہوتا ہے ، جسے ہاتھ نہ لگا ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ’’ ان میں خوب سیرت اور خوبصورت چہروں والی خواتین ہوں گی ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کے اخلاق بہتر ہوں گے اور چہرے خوبصورت ہوں گے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ’’ گویا کہ وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ اتنی باریک ہوں گی ، جس طرح وہ جلد باریک ہوتی ہے ، جو انڈے کے اندر ہوتی ہے اور چھلکے کے ساتھ ہوتی ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے :” وہ محبت کرنے والی اور ایک ہی عمر کی ہونگی ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ وہ خواتین ہیں ، جن کا دنیا میں انتقال بڑھاپے کے عالم میں ہوا ہو گا ، جبکہ وہ ایسی ہوں گی کہ ان کی آنکھوں میں میل ہو گا اور بال کھچڑی ہونگے اور پھر ان کے بڑھاپے کے بعد ، اللہ تعالیٰ انہیں یوں بنا دے گا کہ انہیں کنواری اور دلکش دلربا بنا دے گا ، ان سب کی عمریں ایک جتنی ہونگی ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دنیا کی خواتین زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ؟ یا حورعین زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دنیا کی خواتین ، حورعین سے زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ، جس طرح کی فضیلت ( لباس کے ) بیرونی حصے کو اندرونی حصے پر حاصل ہوتی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان خواتین کی نماز ، ان کا روزہ اور ان کا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ، اللہ تعالیٰ ان کے چہروں کو نور عطا کرے گا ، ان کے جسموں پر ریشمی کپڑے عطا کرے گا جو مختلف رنگوں کے ہوں گے ، زیور سبز رنگ کے ہوں گے ، انگیٹھیاں موتیوں کی ہوں گی ، کنگھیاں سونے کی ہوں گی ، وہ کہیں گی : خبردار ! ہم ہمیشہ رہیں گی ، ہمیں کبھی موت نہیں آئے گی ۔ ہم نعمتوں والی ہیں ، ہم کبھی غمگین نہیں ہوں گی ( یا پریشانی کا شکار نہیں ہوں گی ) ہم مقیم رہنے والی ہیں ، ہم کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی ، ہم راضی رہنے والی ہیں ، ہم کبھی ناراض نہیں ہوں گی ، اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس کے لئے ہم ہوں گی ، اور وہ ہمارے لئے ہو گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دنیا میں کوئی عورت ، دو یا تین ، یا چار شادیاں کرتی ہے ، پھر وہ انتقال کر کے جنت میں چلی جاتی ہے ، اور وہ افراد بھی جنت میں چلے جاتے ہیں ، جن کے ساتھ اُس عورت نے ( دنیا میں ) شادی کی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ام سلمہ ! اس عورت کو اختیار دیا جائے گا ، تو وہ اس شخص کو اختیار کرے گی ، جس نے اس کے ساتھ ( دنیا میں ) سب سے اچھا سلوک کیا ہو گا ، وہ یہ کہے گی : اے میرے پروردگار ! دنیا کی زندگی میں ، یہ شخص میرے ساتھ سب سے اچھے طریقے سے پیش آیا تھا ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ اے ام سلمہ ! اچھے اخلاق ، دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لے گئے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اس سے پہلے معجم کبیر کا طریق سورہ رحمان سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18756

Majma al-Zawaid #18756

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" حَدَّثَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ: يَدْخُلُ الرَّجُلُ عَلَى الْحَوْرَاءِ فَتَسْتَقْبِلُهُ بِالْمُعَانَقَةِ وَالْمُصَافَحَةِ "". قَالَ رَسُولُ اللَّهِ: "" فَبِأَيِّ بَنَانٍ تُعَاطِيهِ!، لَوْ أَنَّ بَعْضَ بَنَانِهَا بَدَا لَغَلَبَ ضَوْءُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، وَلَوْ أَنَّ طَاقَةً مِنْ شِعْرِهَا بَدَتْ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا، فَبَيْنَا هُوَ مُتَّكِئٌ مَعَهَا عَلَى أَرِيكَةٍ إِذْ أَشْرَفَ عَلَيْهِ نُورٌ مِنْ فَوْقِهِ، فَيَظُنُّ أَنَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَشْرَفَ عَلَى خَلْقِهِ، فَإِذَا حَوْرَاءُ تُنَادِيهِ: يَا وَلِيَّ اللَّهِ أَمَا لَنَا فِيكَ مِنْ دُولَةٍ؟ فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتِ يَا هَذِهِ؟ فَتَقُولُ: أَنَا مِنَ اللَّوَاتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ، فَيَتَحَوَّلُ عِنْدَهَا، فَإِذَا عِنْدَهَا مِنَ الْجَمَالِ وَالْكَمَالِ مَا لَيْسَ مَعَ الْأُولَى، فَبَيْنَا هُوَ مُتَّكِئٌ مَعَهَا عَلَى أَرِيكَتِهِ إِذْ أَشْرَفَ عَلَيْهِ نُورٌ مِنْ فَوْقِهِ، فَإِذَا حَوْرَاءُ أُخْرَى تُنَادِيهِ: يَا وَلِيَّ اللَّهِ أَمَا لَنَا فِيكَ مِنْ دُولَةٍ؟ فَيَقُولُ: وَمَنْ أَنْتِ؟ فَتَقُولُ: أَنَا مِنَ اللَّوَاتِي قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ، فَلَا يَزَالُ يَتَحَوَّلُ مِنْ زَوْجَةٍ إِلَى زَوْجَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ narrated to him that Jibril, peace be upon him, narrated that a man shall enter upon a maiden who meets him with embrace and handshake. With what fingers does he touch her, had part of her finger appeared its light would overcome the light of the sun and moon, and had a lock of her hair appeared it would fill between east and west with its fragrance. While he reclines with her upon a couch, a light dawns above him and he thinks Allah, the Mighty and Majestic, has looked upon His creation, but it is another maiden calling him, O friend of Allah, is there no turn for us with you. He asks who she is, and she says of those of whom Allah, Exalted is He, says, and with Us is more, so he moves to her, finding with her beauty and perfection not with the first. While he reclines with her upon his couch, a light dawns above him and another maiden calls him, O friend of Allah, is there no turn for us with you. He asks who she is, and she says of those of whom Allah, the Mighty and Majestic, says, no soul knows what is hidden for them of comfort of eyes as reward for what they did, and he keeps moving from wife to wife. > **"No soul knows what is hidden for them of comfort of eyes as reward for what they did."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ بات بتائی کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : آدمی حور کے پاس جائے گا ، تو وہ اس سے گلے مل کر اور مصافحہ کر کے اس کا استقبال کرے گی ، اس کی پوروں کا عالم کیا ہو گا ؟ کہ اگر وہ اس پور کا کچھ حصہ ظاہر کر دے ، تو اس کی روشنی ، سورج اور چاند کی روشنی پر غالب آ جائے ، اور اگر اس کے بال کا کچھ حصہ ظاہر ہو جائے تو وہ مشرق و مغرب کے درمیان ساری جگہ کو خوشبو کے ذریعے بھر دے ، وہ شخص اس حور کے ساتھ اپنے پلنگ پر بیٹھا ہوا ہو گا ، کہ اسی دوران اسے اوپر کی طرف نور محسوس ہو گا ، تو وہ یہ گمان کرے گا : شاید اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی طرف جھانکا ہے ، تو وہ اصل میں ایک اور حور ہو گی ، جو اسے پکار کر یہ کہے گی : اے اللہ کے دوست ! کیا آپ ہمیں خدمت کا موقع نہیں دیں گے ؟ وہ دریافت کرے گا : تم کون ہو ؟ اے خاتون ! وہ جواب دے گی : میں ان حوروں میں سے ہوں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ’’ اور ہمارے پاس مزید بھی ہے ۔‘‘ تو وہ شخص پہلی والی حور کے پاس سے اُٹھ کر دوسری کے پاس جائے گا ، اور دوسری کے پاس وہ خوبصورتی ہو گی ، جو پہلی والی کے پاس نہیں ہو گی ، پھر وہ دوسری والی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا ہو گا کہ ایک اور حور اسے پکار کر کہے گی : اے اللہ کے دوست ! کیا آپ ہمیں خدمت کا موقع نہیں دیں گے ؟ تو وہ جواب دے گا : اے خاتون ! تم کون ہو ؟ وہ جواب دے گی : میں ان حوروں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ’’ کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کے لئے ، آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا پوشیدہ رکھا گیا ہے ، جو اس چیز کی جزاء ہے ، جو وہ عمل کیا کرتے تھے ۔‘‘ تو وہ ایک جنتی بیوی سے دوسری بیوی کی طرف جاتا رہے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زربی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔