«- وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: حُورٌ عِينٌ قَالَ: "" حُورٌ: بِيضٌ، عِينٌ: ضِخَامٌ، شَفْرُ الْحَوْرَاءِ بِمَنْزِلَةِ جَنَاحِ النَّسْرِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: {كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ} [الرحمن: 58] قَالَ: "" صَفَاؤُهُنَّ كَصَفَاءِ الدُّرِّ الَّذِي فِي الْأَصْدَافِ الَّذِي لَا تَمَسُّهُ الْأَيْدِي "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ: {فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ} [الرحمن: 70] قَالَ: "" خَيْرَاتُ الْأَخْلَاقِ، حِسَانُ الْوُجُوهِ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: {كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ} [الصافات: 49] قَالَ: "" رِقَّتُهُنَّ كَرِقَّةِ الْجِلْدِ الَّذِي فِي دَاخِلِ الْبَيْضَةِ مِمَّا يَلِي الْقِشْرَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ: {عُرُبًا أَتْرَابًا} [الواقعة: 37]، قَالَ: "" هُنَّ اللَّاتِي قُبِضْنَ فِي دَارِ الدُّنْيَا عَجَائِزَ، رُمْصًا، شُمْطًا، خَلَقَهُنَّ اللَّهُ بَعْدَ الْكِبَرِ فَجَعَلَهُنَّ عَذَارَى "". قَالَ: "" عُرُبًا: مُعَشَّقَاتٍ، مُحَبَّبَاتٍ، أَتْرَابًا: عَلَى مِيلَادٍ وَاحِدٍ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ أَمِ الْحُورُ الْعِينُ؟ قَالَ: "" نِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ كَفَضْلِ الظِّهَارَةِ عَلَى الْبِطَانَةِ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَبِمَ ذَاكَ؟ قَالَ: "" بِصَلَاتِهِنَّ، وَصِيَامِهِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلْبَسَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وُجُوهَهُنَّ النُّورَ، وَأَجْسَادَهُنَّ الْحَرِيرَ، بِيضُ الْأَلْوَانِ، خُضْرُ الثِّيَابِ، صُفْرُ الْحُلِيِّ، مَجَامِرُهُنَّ الدُّرُّ، وَأَمْشَاطُهُنَّ الذَّهَبُ، يَقُلْنَ: أَلَا نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَمُوتُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فَلَا نَظْعَنُ أَبَدًا، أَلَا وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ أَبَدًا، طُوبَى لِمَنْ كُنَّا لَهُ وَكَانَ لَنَا "". قُلْتُ: الْمَرْأَةُ مِنَّا تَتَزَوَّجُ الزَّوْجَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ تَمُوتُ فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَيَدْخُلُونَ مَعَهَا، مَنْ يَكُونُ زَوْجَهَا مِنْهُمْ؟ قَالَ: "" يَا أُمَّ سَلَمَةَ، [إِنَّهَا] تُخَيَّرُ فَتَخْتَارُ أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا "". قَالَ: "" فَتَقُولُ: أَيْ رَبِّ، إِنَّ هَذَا كَانَ أَحْسَنَهُمْ مَعِي خُلُقًا فِي دَارِ الدُّنْيَا فَزَوِّجْنِيهِ، يَا أُمَّ سَلَمَةَ ذَهَبَ حُسْنُ الْخُلُقِ بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ طَرِيقُ الْكَبِيرِ فِي سُورَةِ الرَّحْمَنِ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Umm Salamah, wife of the Prophet ﷺ, may Allah be pleased with her, reports that she asked, O Messenger of Allah, inform me of the words of Allah, the Mighty and Majestic, wide-eyed maidens. He said fair, large-eyed, the eyelash of the maiden like the wing of an eagle. She asked of His words, as though rubies and coral. He said their purity like the purity of pearls in shells untouched by hands. She asked of His words, therein good and beautiful. He said good in character, beautiful in face. She asked of His words, as though sheltered eggs. He said their delicacy like the delicacy of the skin inside the egg next to the shell. She asked of His words, loving, of equal age. He said those seized in this world old, bleary, grey, Allah creating them after old age and making them virgins, loving, beloved, of one birth. She asked whether the women of this world are better or the wide-eyed maidens. He said the women of this world are better than the wide-eyed maidens as the outer garment over the lining. She asked why. He said by their prayer and fasting for Allah, the Mighty and Majestic, Allah clothing their faces with light and their bodies with silk, white in colour, green in dress, yellow in adornment, their censers pearls and their combs gold, saying, are we not the eternal who never die, the blissful who never despair, the resident who never depart, the content who never anger, blessed is whoever we are for and who is for us. She asked, a woman of us marries two, three or four husbands in this world, then dies and enters Paradise with them entering with her, whose wife shall she be. He said, O Umm Salamah, she is given choice and chooses the best of them in character, saying, O my Lord, this was best with me in character in this world so marry me to him. O Umm Salamah, good character has taken the good of this world and the Hereafter. > **"The women of this world are better than the wide-eyed maidens as the outer garment over the lining."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے :” حورعین ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ گوری چٹی حوریں ہوں گی ، بڑی بڑی آنکھوں والی ہونگی اور حور کی پلکیں باز کے پر جتنی ہونگی ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں مجھے بتائیے : ’’ یاقوت اور مرجان ہیں ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کی نفاست ، اس موتی کی مانند ہو گی جو صدف میں ہوتا ہے ، جسے ہاتھ نہ لگا ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ’’ ان میں خوب سیرت اور خوبصورت چہروں والی خواتین ہوں گی ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان کے اخلاق بہتر ہوں گے اور چہرے خوبصورت ہوں گے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ’’ گویا کہ وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ اتنی باریک ہوں گی ، جس طرح وہ جلد باریک ہوتی ہے ، جو انڈے کے اندر ہوتی ہے اور چھلکے کے ساتھ ہوتی ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے :” وہ محبت کرنے والی اور ایک ہی عمر کی ہونگی ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ وہ خواتین ہیں ، جن کا دنیا میں انتقال بڑھاپے کے عالم میں ہوا ہو گا ، جبکہ وہ ایسی ہوں گی کہ ان کی آنکھوں میں میل ہو گا اور بال کھچڑی ہونگے اور پھر ان کے بڑھاپے کے بعد ، اللہ تعالیٰ انہیں یوں بنا دے گا کہ انہیں کنواری اور دلکش دلربا بنا دے گا ، ان سب کی عمریں ایک جتنی ہونگی ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دنیا کی خواتین زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ؟ یا حورعین زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دنیا کی خواتین ، حورعین سے زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ، جس طرح کی فضیلت ( لباس کے ) بیرونی حصے کو اندرونی حصے پر حاصل ہوتی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان خواتین کی نماز ، ان کا روزہ اور ان کا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ، اللہ تعالیٰ ان کے چہروں کو نور عطا کرے گا ، ان کے جسموں پر ریشمی کپڑے عطا کرے گا جو مختلف رنگوں کے ہوں گے ، زیور سبز رنگ کے ہوں گے ، انگیٹھیاں موتیوں کی ہوں گی ، کنگھیاں سونے کی ہوں گی ، وہ کہیں گی : خبردار ! ہم ہمیشہ رہیں گی ، ہمیں کبھی موت نہیں آئے گی ۔ ہم نعمتوں والی ہیں ، ہم کبھی غمگین نہیں ہوں گی ( یا پریشانی کا شکار نہیں ہوں گی ) ہم مقیم رہنے والی ہیں ، ہم کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی ، ہم راضی رہنے والی ہیں ، ہم کبھی ناراض نہیں ہوں گی ، اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس کے لئے ہم ہوں گی ، اور وہ ہمارے لئے ہو گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دنیا میں کوئی عورت ، دو یا تین ، یا چار شادیاں کرتی ہے ، پھر وہ انتقال کر کے جنت میں چلی جاتی ہے ، اور وہ افراد بھی جنت میں چلے جاتے ہیں ، جن کے ساتھ اُس عورت نے ( دنیا میں ) شادی کی تھی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ام سلمہ ! اس عورت کو اختیار دیا جائے گا ، تو وہ اس شخص کو اختیار کرے گی ، جس نے اس کے ساتھ ( دنیا میں ) سب سے اچھا سلوک کیا ہو گا ، وہ یہ کہے گی : اے میرے پروردگار ! دنیا کی زندگی میں ، یہ شخص میرے ساتھ سب سے اچھے طریقے سے پیش آیا تھا ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ اے ام سلمہ ! اچھے اخلاق ، دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لے گئے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اس سے پہلے معجم کبیر کا طریق سورہ رحمان سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔