Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 46 · Chapter 4

Book of the Description of Paradise

Hadith 18757–18776

20 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18757

Majma al-Zawaid #18757

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوِ اطَّلَعَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى الْأَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا، وَلَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا، وَلَتَاجُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that if a woman of the women of Paradise looked down to earth, she would fill between them with fragrance and light it between them, and her crown upon her head is better than this world and what is therein. > **"If a woman of the women of Paradise looked down to earth, she would fill between them with fragrance and light, and her crown is better than this world and what is therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر اہل جنت کی خواتین میں سے کوئی ایک زمین کی طرف جھانک لے ، تو وہ ان دونوں کے درمیان موجود جگہ کو خوشبو سے بھر دے گی ، اور ان دونوں کے درمیان موجود جگہ کو روشنی سے بھر دے گی اور اس کے سر پر موجود اُس کا تاج دنیا اور اس میں موجود ( ساری چیزوں ) سے بہتر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

18758

Majma al-Zawaid #18758

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ الْمَرْأَةَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَيُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَالْعَظْمِ مِنْ تَحْتِ سَبْعِينَ حُلَّةً، كَمَا يُرَى الشَّرَابُ الْأَحْمَرُ فِي الزُّجَاجَةِ الْبَيْضَاءِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَسَقَطَ مِنْ إِسْنَادِهِ رَجُلَانِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that the marrow of the leg of a woman of the wide-eyed maidens is seen from behind flesh and bone beneath seventy garments, as red drink is seen in a white glass. > **"The marrow of her leg is seen from behind flesh and bone beneath seventy garments, as red drink in a white glass."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حورعین سے تعلق رکھنے والی عورت کی پنڈلی کا گودا ، گوشت اور ہڈی کے پار سے بھی نظر آ جائے گا ، جو ستر حلوں کے نیچے ہو گی ، جس طرح سفید شیشے میں موجود سرخ مشروب میں سے نظر آ جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں دو افراد کا ذکر ساقط ہے ۔

18759

Majma al-Zawaid #18759

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ عَبْدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا وَعِنْدَ رَأْسِهِ وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ ثِنْتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ، يُغَنِّيَانِ بِأَحْسَنِ صَوْتٍ سَمِعَهُ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ، وَلَيْسَ بِمَزَامِيرِ الشَّيْطَانِ، وَلَكِنْ بِتَحْمِيدِ اللَّهِ وَتَقْدِيسِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that no servant enters Paradise but at his head and feet are two of the wide-eyed maidens singing with the most beautiful voice heard by men or jinn, not with the pipes of Satan but with the praise and sanctification of Allah. > **"At his head and feet are two of the wide-eyed maidens singing with the most beautiful voice, with the praise and sanctification of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو بھی بندہ جنت میں داخل ہو گا ، جب وہ بیٹھے گا تو اس کے سرہانے کی طرف اور اس کے پائینتی کی طرف دو ، دو حورعین موجود ہو گی ، جو اتنی عمدہ آواز میں گائیں گی ، جو سب سے زیادہ خوبصورت آواز ، انسانوں یا جنات نے سنی ہو ، لیکن وہ شیطان کے مزامیر نہیں ہوں گے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی تقدیس ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18760

Majma al-Zawaid #18760

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ أَزْوَاجَ الْجَنَّةِ لَيُغَنِّينَ أَزْوَاجَهُنَّ بِأَحْسَنِ أَصْوَاتٍ سَمِعَهَا أَحَدٌ قَطُّ، إِنَّ مِمَّا يُغَنِّينَ: نَحْنُ الْخَيْرَاتُ الْحِسَانْ، أَزْوَاجُ قَوْمٍ كِرَامْ. يَنْظُرْنَ بِقُرَّةِ أَعْيَانْ. وَإِنَّ مِمَّا يُغَنِّينَ بِهِ: نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَمُتْنَهْ، نَحْنُ الْآمِنَاتُ فَلَا يَخَفْنَهْ، نَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فَلَا يَظْعَنَّهْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the wives of Paradise sing to their husbands with the most beautiful voices ever heard, among what they sing: we are the good and beautiful, wives of noble folk, looking with comfort of eyes, and among what they sing: we are the eternal who never die, the secure who never fear, the resident who never depart. > **"We are the eternal who never die, the secure who never fear, the resident who never depart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت کی بیویاں اپنے شوہروں کے لیے ایسی آواز میں گائیں گی ، جو سب سے زیادہ خوبصورت آواز کسی نے کبھی بھی سنی ہو ، وہ جو گائیں گی اُن میں یہ کلمات بھی ہیں : ’’ ہم خوبصورت چہروں والی ہیں اور معزز لوگوں کی بیویاں ہیں ، جو آنکھوں کی ٹھنڈک کے ہمراہ دیکھتی ہیں ۔‘‘ جو وہ گائیں گی ، اُن میں یہ کلمات بھی ہوں گے : ’’ ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں ، جنہیں موت نہیں آئے گی ، ہم امان میں رہنے والی ہیں ، جو خوف زدہ نہیں ہو گی ، ہم مقیم رہنے والی ہیں ، جو رخصت نہیں ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18761

Majma al-Zawaid #18761

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْحُورَ فِي الْجَنَّةِ يُغَنِّينَ يَقُلْنَ: نَحْنُ الْحُورُ الْحِسَانْ، هُدِينَا لِأَزْوَاجٍ كِرَامْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that the maidens in Paradise sing, saying, we are the beautiful maidens, guided to noble husbands. > **"We are the beautiful maidens, guided to noble husbands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت میں حور گائے گی اور یہ کہے گی : ’’ ہم خوبصورت حوریں ہیں ، جو معزز شوہروں کو تحفے کے طور پر دی گئی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18762

Majma al-Zawaid #18762

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَّكِئُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ سَنَةً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ، ثُمَّ تَأْتِيهِ امْرَأَتُهُ [فَتَضْرِبُ عَلَى مِنْكَبَيْهِ] فَيَنْظُرُ وَجْهَهُ فِي خَدِّهَا أَصْفَى مِنَ الْمِرْآةِ، وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا تُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، فَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَيَرُدُّ السَّلَامَ، وَيَسْأَلُهَا: مَنْ أَنْتِ؟ فَتَقُولُ: أَنَا مِنَ الْمَزِيدِ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا، أَدْنَاهَا مِثْلُ النُّعْمَانِ مِنْ طُوبَى، فَيُنْفِذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ، وَإِنَّ عَلَيْهَا مِنَ التِّيجَانِ إِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ]» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ that a man reclines in Paradise seventy years before moving, then his wife comes and strikes his shoulder, and he sees his face in her cheek clearer than a mirror. The least pearl upon her lights between east and west. She greets him and he returns greeting, asking who she is, and she says, I am of the increase. Upon her are seventy garments, the lightest like al-Nuʿman of Tuba, his sight piercing them to see the marrow of her leg behind that, and upon her crowns whose least pearl lights between east and west. > **"A man reclines in Paradise seventy years before moving, then his wife comes, and the least pearl upon her lights between east and west."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک آدمی جنت میں ٹیک لگا کے بیٹھے گا اور وہاں سے اُٹھنے سے پہلے ستر سال تک بیٹھا رہے گا ، پھر اس کی بیوی اس کے پاس آئے گی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے گی ، وہ شخص اس عورت کے رخسار میں اپنے چہرے کو دیکھ لے گا ، جو آئینے سے زیادہ صاف ہو گا ، اس عورت کے جسم پر موجود سب سے ہلکا موتی بھی ایسا ہو گا کہ وہ مشرق اور مغرب کے درمیان موجود ساری جگہ کو روشن کر دے ، وہ عورت اُس شخص کو سلام کرے گی ، وہ سلام کا جواب دے گا اور اس سے دریافت کرے گا : تم کون ہو ؟ وہ جواب دے گی : میں ’’ مزید ‘‘ میں سے ہوں ، عورت کے جسم پر ستر کپڑے ہوں گے ، جن میں سے سب سے ہلکا طوبی میں سے نعمان کی مانند ہو گا ، وہ شخص نگاہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھے گا تو ان کپڑوں کے پار سے اس کی پنڈلی کا گودا بھی اسے نظر آ جائے گا اور اس عورت کے سر پر تاج ہو گا ، جس کا سب سے ہلکا موتی بھی ، مشرق اور مغرب کے درمیان موجود ساری جگہ کو روشن کر سکے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

18763

Majma al-Zawaid #18763

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «خَلَقَ [اللَّهُ] الْحُورَ الْعِينِ مِنَ الزَّعْفَرَانِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا ضُعَفَاءُ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah created the wide-eyed maidens from saffron. > **"Allah created the wide-eyed maidens from saffron."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے حورعین کو زعفران سے پیدا کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند میں ضعیف راوی ہیں ۔

18764

Majma al-Zawaid #18764

عَنْ عَائِشَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَتْهُ عَجُوزٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ الْجَنَّةَ لَا تَدْخُلُهَا عَجُوزٌ "". فَذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ إِلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَقَدْ لَقِيتُ مِنْ كَلِمَتِكَ مَشَقَّةً وَشِدَّةً، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ ذَلِكَ كَذَلِكَ، إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَدْخَلَهُنَّ الْجَنَّةَ حَوَّلَهُنَّ أَبْكَارًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَسْعَدَةُ بْنُ الْيَسَعِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, reports that an old woman of the Ansar came to the Prophet ﷺ and asked, O Messenger of Allah, supplicate Allah to admit me to Paradise. The Prophet of Allah ﷺ said no old woman enters Paradise. The Prophet of Allah ﷺ went and prayed, then returned to ʿAʾishah, who said she met hardship from his words. The Messenger of Allah ﷺ said it is indeed so, for when Allah admits them to Paradise He transforms them into virgins. > **"No old woman enters Paradise, for when Allah admits them He transforms them into virgins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والی ایک بوڑھی خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے جنت میں داخل کر دے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت میں بوڑھی عورت داخل نہیں ہو گی ، پھر نبی اکرم ﷺ نماز ادا کرنے کے لیے تشریف لے گئے ، جب آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس واپس آئے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : آپ کی بات کی وجہ سے اُس خاتون کو بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی ہو گا ، اللہ تعالیٰ جب انہیں جنت میں داخل کرے گا تو انہیں جوان کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعدہ بن یسع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18765

Majma al-Zawaid #18765

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «الْجَنَّةُ مِائَةُ دَرَجَةٍ، مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مَسِيرَةُ خَمْسِمِائَةِ عَامٍ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" «خَمْسِمِائَةِ عَامٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said Paradise is a hundred degrees, between every two degrees five hundred years. > **"Paradise is a hundred degrees, between every two degrees five hundred years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں ایک سو درجے ہیں ، جن میں سے ہر دو درجوں کے درمیان ، پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں :’’ پانچ سو سال ‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18766

Majma al-Zawaid #18766

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِمَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَلَانَ الْكَلَامَ، وَتَابَعَ الصِّيَامَ، وَصَلَّى وَالنَّاسُ نِيَامٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُعَانِقٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik al-Ashʿari, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that in Paradise is a chamber whose outside is seen from its inside and its inside from its outside, prepared by Allah for whoever feeds food, softens speech, fasts continually, and prays while people sleep. > **"In Paradise is a chamber whose outside is seen from its inside and its inside from its outside, for whoever feeds food, softens speech, fasts continually, and prays while people sleep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں ایسے بالاخانے ہیں ، جن کا بیرونی حصہ اندر سے ، اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آ جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ اس کے لئے تیار کئے ہیں ، جو کھانا کھلاتا ہے ، نرمی سے بات کرتا ہے ، مسلسل روزے رکھتا ہے اور اُس وقت نماز ادا کرتا ہے ، جب لوگ سو رہے ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن معانق کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

18767

Majma al-Zawaid #18767

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرْفَةً يُرَى ظَاهِرُهَا مِنْ بَاطِنِهَا، وَبَاطِنُهَا مِنْ ظَاهِرِهَا "". فَقَالَ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ: لِمَنْ هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لِمَنْ أَلَانَ الْكَلَامَ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَبَاتَ لِلَّهِ قَائِمًا وَالنَّاسُ نِيَامٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي هَذَا الْمَعْنَى فِي فَضْلِ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that in Paradise is a chamber whose outside is seen from its inside and its inside from its outside. Abu Musa al-Ashʿari asked for whom, O Messenger of Allah. He said for whoever softens speech, feeds food, and stands for Allah by night while people sleep. > **"For whoever softens speech, feeds food, and stands for Allah by night while people sleep."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک جنت میں ایسے بالاخانے ہیں جن کا بیرونی حصہ اندر سے ، اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آتا ہے ۔‘‘ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کس کے لیے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کے لئے جو نرمی سے گفتگو کرے اور کھانا کھلائے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کھڑا ہو کر ( نماز ادا کرتے ہوئے ) رات گزار دے ، جبکہ لوگ سو رہے ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس مضمون کی کچھ احادیث ، نفلی نمازوں کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

18768

Majma al-Zawaid #18768

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْأَلُهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" سَلْ وَاسْتَفْهِمْ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فُضِّلْتُمْ عَلَيْنَا بِالصُّوَرِ، وَالْأَلْوَانِ، وَالنُّبُوَّةِ، أَفَرَأَيْتَ إِنْ آمَنْتُ بِمِثْلِ مَا آمَنْتَ بِهِ، وَعَمِلْتُ بِمِثْلِ مَا عَمِلْتَ بِهِ ; إِنِّي لَكَائِنٌ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّهُ لَيُرَى بَيَاضُ الْأَسْوَدِ فِي الْجَنَّةِ مِنْ مَسِيرَةِ أَلْفِ عَامٍ "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كُتِبَ لَهُ بِهَا عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ، وَمَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ كُتِبَ لَهُ بِهَا مِائَةُ أَلْفِ حَسَنَةٍ، وَأَرْبَعَةٌ وَعِشْرُونَ أَلْفَ حَسَنَةٍ "". فَقَالَ رَجُلٌ: كَيْفَ نَهْلِكُ بَعْدَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِالْعَمَلِ لَوْ وُضِعَ عَلَى جَبَلٍ لَأَثْقَلَهُ، فَتَقُومُ النِّعْمَةُ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ فَتَكَادُ تَسْتَنْفِدُ ذَلِكَ كُلَّهُ إِلَّا أَنْ يَتَطَاوَلَ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ، وَنَزَلَتْ [هَذِهِ السُّورَةُ]: هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا، إِلَى قَوْلِهِ: نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا "". قَالَ الْحَبَشِيُّ: وَإِنَّ عَيْنِي لَتَرَيَا عَيْنَكَ فِي الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَعَمْ "". فَاسْتَبْكَى الْحَبَشِيُّ حَتَّى فَاضَتْ نَفْسُهُ. فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُدَلِّيهِ فِي حُفْرَتِهِ بِيَدِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that a man came to the Messenger of Allah ﷺ asking, and the Prophet ﷺ said ask and seek understanding. He said, O Messenger of Allah, you are favoured over us in form, colour and prophethood, what if I believe as you believe and do as you do, shall I be with you in Paradise. He said yes. Then the Prophet ﷺ said, by the One in Whose Hand is my soul, the whiteness of the black shall be seen in Paradise from a thousand years. Then the Messenger of Allah ﷺ said whoever says there is no god but Allah, a covenant is written for him with Allah, and whoever says glory be to Allah and with His praise, a hundred and twenty-four thousand good deeds are written for him. A man asked how they perish after this, O Messenger of Allah. The Messenger of Allah ﷺ said a man shall come on the Day of Resurrection with deeds that would weigh a mountain, then a blessing of Allah stands and nearly exhausts it all unless Allah extends with His mercy, and this chapter was revealed: Has there come upon man a time when he was not a thing mentioned, until His saying, bliss and great dominion. The Abyssinian asked, shall my eyes see your eyes in Paradise. The Prophet ﷺ said yes, so the Abyssinian wept until his soul overflowed. Ibn ʿUmar said he saw the Messenger of Allah ﷺ lowering him into his grave with his hand. > **"By the One in Whose Hand is my soul, the whiteness of the black shall be seen in Paradise from a thousand years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حبشہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے آپ سے سوال کیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : تم سوال کرو اور فہم حاصل کرو ! اس نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ لوگوں کو ہم ( سیاہ فام لوگوں ) پر شکل و صورت ، رنگت اور نبوت کے حوالے سے فضیلت عطا کی گئی ہے ، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں بھی اسی طرح ایمان لے آتا ہوں ، جس طرح آپ ایمان رکھتے ہیں اور میں اس طرح عمل کرتا ہوں ، جس طرح آپ عمل کرتے ہیں ، تو کیا میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جنت میں سیاہ فام شخص کی سفیدی ایک ہزار سال کے فاصلے سے نظر آئے گی ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص لا الہ الا اللہ پڑھ لے گا ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کی وجہ سے اُس کے لئے ایک عہد نوٹ کر لیا جائے گا اور جو شخص « سبحان اللہ و بحمدہ » پڑھ لے گا ، اس کی وجہ سے اس کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار نیکیاں نوٹ کی جائیں گی ۔ ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! اس کے بعد ہم کیسے ہلاک ہو سکتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن ایک شخص ایسا عمل لے کر آئے گا کہ اگر اسے کسی پہاڑ پر رکھا جائے ، تو وہ اس کو بھی بوجھل محسوس ہو ، پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت کھڑی ہو گی ، اور تقریباً اس سارے اعمال کو ختم کر دے گی ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ذریعے فضل کر دے ، پھر یہ سورت نازل ہوئی : ’’ کیا انسان پر ایسا زمانہ نہیں آیا جب وہ کوئی ایسی چیز نہیں تھا جس کا ذکر کیا جاتا ۔‘‘ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ نعمتوں اور بڑی بادشاہی ۔‘‘ اس حبشی شخص نے کہا : جنت میں میری آنکھیں بھی وہی چیز دیکھیں گی ، جو آپ کی آنکھیں دیکھیں گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! تو وہ حبشی شخص رونے لگا ، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اُسے قبر میں اتارا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18769

Majma al-Zawaid #18769

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: «سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: "" {وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ} [التوبة: 72] "" قَالَ: "" قَصْرٌ فِي الْجَنَّةِ مِنْ لُؤْلُؤَةٍ، فِيهَا سَبْعُونَ دَارًا مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ، فِي كُلِّ دَارٍ سَبْعُونَ بَيْتًا مِنْ زُمُرُّدَةٍ خَضْرَاءَ، فِي كُلِّ بَيْتٍ سَبْعُونَ سَرِيرًا، عَلَى كُلِّ سَرِيرٍ سَبْعُونَ فِرَاشًا مِنْ كُلِّ لَوْنٍ، عَلَى كُلِّ فِرَاشٍ امْرَأَةٌ، فِي كُلِّ بَيْتٍ سَبْعُونَ مَائِدَةً، عَلَى كُلِّ مَائِدَةٍ سَبْعُونَ لَوْنًا مِنْ طَعَامٍ، فِي كُلِّ بَيْتٍ سَبْعُونَ وَصِيفًا وَوَصِيفَةً، يُعْطَى الْمُؤْمِنُ مِنَ الْقُوَّةِ مَا يَأْتِي عَلَى ذَلِكَ كُلِّهِ فِي غَدَاةٍ وَاحِدَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جِسْرُ بْنُ فَرْقَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImran ibn Husayn and Abu Hurayrah, may Allah be pleased with them both, report that they asked the Prophet ﷺ about His words, Exalted is He, and pleasant dwellings in the Gardens of Eden. He said a palace in Paradise of pearl, therein seventy houses of red ruby, in each house seventy rooms of green emerald, in each room seventy beds, upon each bed seventy spreads of every colour, upon each spread a woman, in each house seventy tables, upon each table seventy kinds of food, in each house seventy servants male and female, and the believer is given strength to cover all that in a single morning. > **"A palace in Paradise of pearl, therein seventy houses of red ruby, and the believer is given strength to cover all that in a single morning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا گیا :” اور جنات عدن میں پاکیزہ رہائش گاہیں ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جنت میں موتی سے بنا ہوا ایک محل ہو گا جس میں سرخ یاقوت کے بنے ہوئے ستر حصے ہوں گے ، ہر ایک حصے میں سبز زمرد سے بنے ہوئے ستر کمرے ہوں گے ، ہر کمرے میں ستر پلنگ ہوں گے ، ہر پلنگ پر ستر بچھونے ہوں گے جو مختلف رنگ کے ہوں گے ، اور ہر بچھونے پر ایک عورت موجود ہو گی ، ہر کمرے میں 70 دسترخوان ہوں گے ، ہر دسترخوان پر 70 مختلف قسم کے کھانے ہوں گے ، ہر کمرے میں ستر ملازم اور ملازمائیں ہوں گے ، اور مومن کو یہ طاقت عطا کی جائے گی کہ وہ ایک ہی صبح میں ان سب کے پاس جا سکے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جسر بن فرقد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18770

Majma al-Zawaid #18770

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ اشْتَاقُوا إِلَى الْإِخْوَانِ، فَيَجِيءُ سَرِيرُ هَذَا حَتَّى يُحَاذِيَ سَرِيرَ هَذَا، لِيَتَحَدَّثَانِ فَيَبْكِي هَذَا، وَيَبْكِي هَذَا، فَيَتَحَدَّثَانِ بِمَا كَانَا فِيهِ فِي الدُّنْيَا، فَيَقُولُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: يَا فُلَانُ، أَتَدْرِي أَيَّ يَوْمٍ غَفَرَ اللَّهُ لَنَا؟ يَوْمَ كُنَّا فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا، فَدَعَوْنَا فَغَفَرَ اللَّهُ لَنَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ دِينَارٍ، وَالرَّبِيعِ بْنِ صُبَيْحٍ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ، وَقَدْ وُثِّقَا.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that when the people of Paradise enter Paradise they long for their brethren, so the couch of one comes until facing the couch of another, conversing, each weeping, recalling what they were in in this world. One says to his companion, O so-and-so, do you know on which day Allah forgave us, the day we were in such and such place and supplicated, so Allah forgave us. > **"O so-and-so, do you know on which day Allah forgave us, the day we were in such and such place and supplicated, so Allah forgave us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو انہیں اپنے بھائیوں سے ملنے کا اشتیاق ہو گا ، تو ایک شخص کا پلنگ دوسرے شخص کے پلنگ کے پاس آ جائے گا ، وہ دونوں بات چیت کریں گے ، یہ بھی روئے گا اور وہ بھی روئے گا ، وہ دونوں اس بارے میں بات چیت کریں گے کہ وہ دنیا میں کیسے تھے ؟ ان دونوں میں سے ایک دوسرے سے یہ کہے گا : اے فلاں ! کیا تم جانتے ہو ؟ اللہ تعالیٰ نے کس دن ہماری مغفرت کی تھی ؟ اس دن جب ہم فلاں فلاں جگہ پر موجود تھے اور ہم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی تو اس نے ہماری مغفرت کر دی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن دینار اور ربیع بن صبیح کا معاملہ مختلف ہے اور وہ دونوں ضعیف ہیں ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔

18771

Majma al-Zawaid #18771

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَفِي يَدِهِ مِرْآةٌ بَيْضَاءُ، فِيهَا نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ يَا جِبْرِيلُ؟ قَالَ: هَذِهِ الْجُمُعَةُ يَعْرِضُهَا رَبُّكَ لِتَكُونَ لَكَ عِيدًا، وَلِقَوْمِكَ مِنْ بَعْدِكَ، تَكُونُ أَنْتَ الْأَوَّلَ، وَتَكُونُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى مِنْ بَعْدِكَ، قَالَ: مَا لَنَا فِيهَا؟ قَالَ: لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ، لَكُمْ فِيهَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا رَبَّهُ فِيهَا بِخَيْرٍ هُوَ لَهُ قَسَمٌ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ، وَلَيْسَ لَهُ بِقَسَمٍ إِلَّا دَخِرَ لَهُ مَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْهُ، أَوْ تَعَوَّذَ فِيهَا مِنْ شَرٍّ هُوَ مَكْتُوبٌ إِلَّا أَعَاذَهُ مِنْ أَعْظَمَ مِنْهُ. قُلْتُ: مَا هَذِهِ النُّكْتَةُ السَّوْدَاءُ فِيهَا؟ قَالَ: هَذِهِ السَّاعَةُ تَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَهُوَ سَيِّدُ الْأَيَّامِ عِنْدَنَا، وَنَحْنُ نَدْعُوهُ فِي الْآخِرَةِ يَوْمَ الْمَزِيدِ "". قَالَ: "" قُلْتُ: لِمَ تَدْعُونَهُ يَوْمَ الْمَزِيدِ؟ قَالَ: إِنَّ رَبَّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - اتَّخَذَ فِي الْجَنَّةِ وَادِيًا أَفْيَحَ مِنَ الْمِسْكِ أَبْيَضَ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ نَزَلَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ عِلِّيِّينَ عَلَى كُرْسِيِّهِ حَتَّى حَفَّ الْكُرْسِيَّ بِمَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، وَجَاءَ النَّبِيُّونَ حَتَّى يَجْلِسُوا عَلَيْهَا، ثُمَّ حَفَّ الْمَنَابِرَ بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ، ثُمَّ جَاءَ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ حَتَّى يَجْلِسُوا عَلَيْهَا، ثُمَّ يَجِيءُ أَهْلُ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسُوا عَلَى الْكَثِيبِ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حَتَّى يَنْظُرُوا إِلَى وَجْهِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: أَنَا الَّذِي صَدَقْتُكُمْ وَعْدِي، وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي، هَذَا مَحَلُّ كَرَامَتِي فَسَلُونِي. فَيَسْأَلُوهُ الرِّضَا فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: رِضَائِي أَحَلَّكُمْ دَارِي، وَأَنَالَكُمْ كَرَامَتِي، فَسَلُونِي. فَيَسْأَلُوهُ حَتَّى تَنْتَهِيَ رَغْبَتُهُمْ، فَيَفْتَحُ لَهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، إِلَى مِقْدَارِ مُنْصَرَفِ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ يَصْعَدُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - عَلَى كُرْسِيِّهِ فَيَصْعَدُ مَعَهُ الشُّهَدَاءُ وَالصِّدِّيقُونَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: وَيَرْجِعُ أَهْلُ الْغُرَفِ إِلَى غُرَفِهِمْ، دُرَّةٌ بَيْضَاءُ لَا قَصْمَ فِيهَا وَلَا فَصْمَ، أَوْ يَاقُوتَةٌ حَمْرَاءُ أَوْ زَبَرْجَدَةٌ خَضْرَاءُ، مِنْهَا غُرَفُهَا وَأَبْوَابُهَا مُطَّرِدَةٌ، فِيهَا أَنْهَارُهَا مُتَدَلِّيَةٌ، فِيهَا ثِمَارُهَا، فِيهَا أَزْوَاجُهَا وَخَدَمُهَا، فَلَيْسُوا إِلَى شَيْءٍ أَحْوَجَ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ لِيَزْدَادُوا فِيهِ كَرَامَةً، وَلِيَزْدَادُوا فِيهِ نَظَرًا إِلَى وَجْهِهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَلِذَلِكَ دُعِيَ يَوْمَ الْمَزِيدِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ فِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said Jibril, peace be upon him, came to him with a white mirror wherein a black speck. He asked, what is this, O Jibril. He said this is Friday, your Lord presents it that it be a festival for you and your people after you, you first with the Jews and Christians after you. He asked what is in it for them. He said therein is good, therein an hour whoever supplicates his Lord therein for good decreed for him is given it, and what is not decreed is stored for him greater, or seeks refuge therein from an ordained evil is protected from greater. He asked what is this black speck therein. He said it is the Hour occurring on Friday, master of days with them, called in the Hereafter the Day of Increase. He asked why they call it the Day of Increase. He said his Lord, the Mighty and Majestic, made in Paradise a wide valley of white musk, and when Friday comes He, Blessed and Exalted is He, descends from the highest upon His Kursi until the Kursi is ringed with pulpits of light, the prophets come and sit thereupon, then the pulpits ringed with chairs of gold, then the truthful and martyrs come and sit thereupon, then the people of Paradise come and sit upon the dunes. He, Blessed and Exalted is He, manifests to them so they look upon His Face, saying, I am Who kept My promise to you and completed My blessing upon you, this is the abode of My honour so ask Me. They ask Him contentment, and Allah, the Mighty and Majestic, says, My contentment lodged you in My abode and granted you My honour, so ask Me. They ask until their desires end, then He opens for them then what no eye has seen, no ear has heard, and what has never crossed the heart of a mortal, until the measure of people's dispersal on Friday. Then He, Blessed and Exalted is He, ascends upon His Kursi with the martyrs and truthful ascending with Him, and the people of the chambers return to their chambers, white pearls without crack or flaw, or red rubies or green peridots, wherefrom their chambers, their ever-flowing doors, their hanging rivers, their fruits, their wives and servants. They need nothing as they need Friday, to increase therein in honour and in looking upon His Face, Blessed and Exalted is He, wherefore it is called the Day of Increase. > **"I am Who kept My promise to you and completed My blessing upon you, this is the abode of My honour so ask Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جبرائیل میرے پاس آیا ، اس کے ہاتھ میں سفید آئینہ تھا ، جس میں ایک سیاہ نکتہ موجود تھا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ جمعہ ہے ، جسے آپ کے پروردگار نے آپ کے سامنے رکھا ہے تاکہ یہ آپ کے لئے اور آپ کے بعد آپ کی قوم کے لئے عید بن جائے ، آپ پہلے ہوں گے ، یہودی اور عیسائی آپ کے بعد ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا ہمارے لئے اس میں کیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : آپ کے لئے اس میں بھلائی ہے ، آپ کے لئے اس میں ایک مخصوص گھڑی ہے ، جو شخص اس گھڑی میں بھلائی کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے گا ، جو اس کے نصیب میں ہو ، تو اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دے گا اور اگر وہ چیز اس کے نصیب میں نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ اس دعا کو اس وقت کے لیے سنبھال کے رکھ لے گا ، جب اس شخص کو اس کی زیادہ ضرورت ہو گی ، یا اگر وہ شخص اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ کی ، کسی شر سے پناہ مانگے گا ، جو اس کے نصیب میں ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے زیادہ بڑے شر سے بچا لے گا ۔ میں نے دریافت کیا : اس میں موجود سیاہ نکتہ کیا ہے ؟ جبرائیل نے کہا : یہ قیامت ہے جو جمعہ کے دن قائم ہو گی اور ہمارے نزدیک یہ تمام دنوں کا سردار ہے اور ہم آخرت میں اسے ’’ یوم مزید ‘‘ کہتے ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : میں نے دریافت کیا : تم اسے ’’ یوم مزید ‘‘ کیوں کہتے ہو ؟ حضرت جبرائیل نے بتایا : آپ کے پروردگار نے جنت میں ایک وادی بنائی ہے ، جو مشک سے بھری ہوئی ہے اور سفید رنگ کی ہے ، جب جمعہ کا دن ہو گا تو آپ کا پروردگار ’’ علیین ‘‘ سے نزول کر کے کرسی پر آئے گا ، اُس کرسی کے اردگرد نور کے بنے ہوئے منبر ہوں گے ، انبیاء کرام تشریف لائیں گے اور ان پر بیٹھ جائیں گے ، پھر ان منبروں کے اردگرد سونے کی بنی ہوئی کرسیاں ہوں گی ، پھر صدیقین اور شہداء آئیں گے اور ان پر بیٹھ جائیں گے پھر اہل جنت آئیں گے اور ٹیلوں پر بیٹھ جائیں گے ، پھر ان کا پروردگار ان کے سامنے تجلی کرے گا اور وہ پروردگار کا دیدار کریں گے پروردگار فرمائے گا : میں وہ ہوں ، جس نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا اور تم پر اپنی نعمت کو میں نے مکمل کر دیا ہے ، یہ میری عطا کی ہوئی عزت کا گھر ہے ، تم مجھ سے مانگو ! تو وہ لوگ اس سے رضامندی مانگیں گے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میری رضامندی کی وجہ سے ہی میں نے تمہیں اپنی اس جگہ پر ٹھہرایا ہے اور تمہیں یہ عزت عطا کی ہے ، تم مجھ سے کچھ مانگو ! لوگ اس سے مانگیں گے ، یہاں تک کہ ان کی خواہشات ختم ہو جائیں گی ، پھر پروردگار ان کے سامنے وہ چیز کھولے گا جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہو گی ، کسی کان نے سنی نہیں ہو گی اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ہو گا ، اور ایسا اس وقت تک رہے گا جب لوگ جمعہ کے دن واپس جاتے ہیں ، پھر پروردگار اپنی کرسی پر اوپر چلا جائے گا ، اور اس کے ہمراہ شہداء اور صدیقین بھی چلے جائیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں :” بالاخانوں والے اپنے بالاخانوں کی طرف واپس چلے جائیں گے جو سفید موتی کے بنے ہوئے ہوں گے ، جن میں کوئی ٹوٹنا یا چیرا جانا نہیں ہو گا ، وہ یا سرخ یاقوت کے ، یا سبز زبرجد کے ہوں گے ، ان میں سے ان کے بالاخانے ہوں گے اور ان کے دروازے کھلے ہوں گے ان میں نہریں ہوں گی اور پھل لٹک رہے ہوں گے ، اس میں ان کی بیوی اور ان کے خدمت گار ہوں گے ، تو ان لوگوں کو جمعہ کے دن سے زیادہ اور کسی چیز کی احتیاج نہیں ہو گی ، کیونکہ اس دن میں ان کی کرامت میں اضافہ ہو گا ، اور کیونکہ اس دن وہ اپنے پروردگار کا مزید دیدار کریں گے ، اس وجہ سے اس دن کو ’’ یوم مزید ‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، طبرانی کی دو اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کی توثیق کی ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ہزار کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

18772

Majma al-Zawaid #18772

وَعَنْ حُذَيْفَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْيَمَانِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَتَانِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كَفِّهِ مِثْلُ الْمِرْآةِ فِي وَسَطِهَا لَمْعَةٌ سَوْدَاءُ، قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، مَا هَذِهِ؟ قَالَ: هَذِهِ الدُّنْيَا، صَفَاؤُهَا وَحُسْنُهَا. قُلْتُ: مَا هَذِهِ اللَّمْعَةُ السَّوْدَاءُ؟ قَالَ: هَذِهِ الْجُمُعَةُ، قُلْتُ: وَمَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟ قَالَ: يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ رَبِّكَ عَظِيمٌ، فَذَكَرَ شَرَفَهُ، وَفَضْلَهُ، وَاسْمَهُ فِي الْآخِرَةِ، فَإِنَّ اللَّهَ إِذَا صَيَّرَ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ، وَأَهْلَ النَّارِ إِلَى النَّارِ، وَلَيْسَ ثَمَّ لَيْلٌ وَلَا نَهَارٌ، قَدْ عَلِمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مِقْدَارَ تِلْكَ السَّاعَاتِ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ الَّتِي يَخْرُجُ أَهْلُ الْجُمُعَةِ إِلَى جُمُعَتِهِمْ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، اخْرُجُوا إِلَى دَارِ الْمَزِيدِ، فَيَخْرُجُونَ فِي كُثْبَانِ الْمِسْكِ "". قَالَ حُذَيْفَةُ: وَاللَّهِ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ دَقِيقِكُمْ. "" فَيَخْرُجُ غِلْمَانُ الْأَنْبِيَاءِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، وَتَخْرُجُ غِلْمَانُ الْمُؤْمِنِينَ بِكَرَاسِيَّ مِنْ يَاقُوتٍ، فَإِذَا قَعَدُوا وَأَخَذَ الْقَوْمُ مَجَالِسَهُمْ بَعَثَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - رِيحًا تُدْعَى: الْمُثِيرَةَ، فَتُثِيرُ عَلَيْهِمُ الْمِسْكَ الْأَبْيَضَ، فَتُدْخِلُهُ فِي ثِيَابِهِمْ، وَتُخْرِجُهُ مِنْ جُيُوبِهِمْ، فَلَا رِّيحُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ الطِّيبِ مِنَ امْرَأَةِ أَحَدِكُمْ، لَوْ دُفِعَ إِلَيْهَا طِيبُ أَهْلِ الدُّنْيَا، وَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: أَيْنَ عِبَادِيَ الَّذِينَ أَطَاعُونِي بِالْغَيْبِ وَصَدَّقُوا رُسُلِي؟ فَهَذَا يَوْمُ الْمَزِيدِ، يَجْتَمِعُونَ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ: إِنَّا قَدْ رَضِينَا، فَارْضَ عَنَّا. وَيَرْجِعُ إِلَيْهِمْ فِي قَوْلِهِ لَهُمْ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ، لَوْ لَمْ أَرْضَ عَنْكُمْ لَمْ أُسْكِنْكُمْ جَنَّتِي، فَهَذَا يَوْمُ الْمَزِيدِ، فَسَلُونِي. فَيَجْتَمِعُونَ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ: أَرِنَا وَجْهَكَ نَنْظُرْ إِلَيْهِ "". قَالَ: "" فَيَكْشِفُ اللَّهُ تَعَالَى - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - الْحُجُبَ، وَيَتَجَلَّى لَهُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَغْشَاهُمْ مِنْ نُورِهِ، فَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ قَضَى أَنْ لَا يَمُوتُوا لَاحْتَرَقُوا، ثُمَّ يُقَالُ لَهُمْ: ارْجِعُوا إِلَى مَنَازِلِكُمْ، فَيَرْجِعُونَ وَقَدْ خَفُوا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ، وَخَفِينَ عَلَيْهِمْ مِمَّا غَشِيَهُمْ مِنْ نُورِهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَلَا يَزَالُ النُّورُ يَتَمَكَّنُ حَتَّى يَرْجِعُوا إِلَى حَالِهِمْ أَوْ إِلَى مَنَازِلِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا، فَيَقُولُ لَهُمْ أَزْوَاجُهُمْ: لَقَدْ خَرَجْتُمْ مِنْ عِنْدِنَا بِصُوَرٍ وَرَجَعْتُمْ إِلَيْنَا بِغَيْرِهَا، فَيَقُولُونَ: تَجَلَّى لَنَا رَبُّنَا - عَزَّ وَجَلَّ - فَنَظَرْنَا إِلَى مَا خَفِينَا بِهِ عَلَيْكُمْ "". قَالَ: "" فَهُمْ يَتَقَلَّبُونَ فِي مِسْكِ الْجَنَّةِ وَنَعِيمِهَا فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, meaning Ibn al-Yaman, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said Jibril, peace be upon him, came to him with in his palm like a mirror with a black glint in its middle. He asked, O Jibril, what is this. He said this is the world, its clarity and beauty. He asked what is this black glint. He said this is Friday. He asked what is Friday. He said a mighty day of the days of your Lord, mentioning its honour, merit and name in the Hereafter, for when Allah settles the people of Paradise to Paradise and the people of the Fire to the Fire, with neither night nor day there, Allah, the Mighty and Majestic, knows the measure of those hours. When Friday comes at the time of Friday when its people go out to it, a caller calls, O people of Paradise, go out to the Abode of Increase, so they go out upon dunes of musk. Hudhayfah said, by Allah, whiter than your flour. The youths of the prophets emerge upon pulpits of light, the youths of the believers with chairs of ruby, and when they sit and take their places Allah, the Mighty and Majestic, sends a wind called al-Muthirah stirring white musk over them, entering their garments and leaving their pockets, no wind knowing that perfume better than the wife of one of them had she all the perfume of this world. Allah, the Mighty and Majestic, says, where are My servants who obeyed Me in the unseen and believed My messengers. This is the Day of Increase. They gather upon one word: we are content, so be content with us. He returns to them in His saying to them, O people of Paradise, had I not been content with you I would not have lodged you in My Paradise, so this is the Day of Increase, so ask Me. They gather upon one word: show us Your Face to look upon it. He unveils the veils and manifests to them, Blessed and Exalted is He, and His light envelops them, and had Allah not decreed they not die they would have burned. Then it is said, return to your dwellings, and they return hidden to their wives and hidden to them by His light, Blessed and Exalted is He, the light lingering until they return to their state or dwellings they were upon. Their wives say, you left us in one image and returned in another, and they say, our Lord, the Mighty and Majestic, manifested to us and we looked upon what we were hidden with from you. They turn in the musk of Paradise and its bliss every seven days. > **"O people of Paradise, go out to the Abode of Increase."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جبرائیل میرے پاس آیا ، اس کے ہاتھ میں آئینہ جیسی ایک چیز تھی ، جس کے درمیان میں ایک سیاہ داغ موجود تھا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ دنیا ، اس کی صفائی اور اس کی خوبصورتی ہے ، میں نے دریافت کیا : یہ سیاہ داغ کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ جمعہ ہے ، میں نے دریافت کیا : جمعہ کا دن کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ آپ کے پروردگار کے دنوں میں سے ایک عظیم دن ہے ، پھر اس نے اس کے شرف اور اس کی فضیلت اور آخرت میں اس کے نام کا ذکر کیا کہ جب اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت کی طرف اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف بھیج دے گا ، تو وہاں ( دنیا کی طرح کے ) رات دن نہیں ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ان گھڑیوں کا علم رکھتا ہو گا ، جب جمعہ کا دن آئے گا اور جمعہ ( کی نماز ) کا وقت ہو گا ، جس میں اہل جمعہ ، جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں ، اس وقت ایک منادی یہ اعلان کرے گا : اے اہل جنت ! نکل کر ’’ دارمزید ‘‘ کی طرف جاؤ ! تو وہ نکل کر مشک کے ٹیلوں پر آئیں گے ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! وہ تمہارے اس آٹے سے زیادہ سفید ہوں گے ، انبیاء کرام آ کر نور کے بنے ہوئے منبروں پر بیٹھ جائیں گے اور مومنین یاقوت کی بنی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ جائیں گے ، جب وہ لوگ بیٹھ جائیں گے اور لوگ اپنی اپنی جگہ پر آ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جس کا نام ’’ مثیرہ ‘‘ ہو گا ، وہ اُن پر سفید مشک کا چھڑکاؤ کرے گی اور وہ ان کے کپڑوں کے اندر داخل ہو جائے گی اور ان کے گریبانوں میں سے نکل جائے گی اور کوئی اس خوشبو کے بارے میں ، تم میں سے کسی ایک کی بیوی سے زیادہ علم نہیں رکھتا ہو گا ، جب اسے اہل دنیا کی خوشبو دی جائے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے بندے کہاں ہیں ؟ جنہوں نے غیب کے عالم میں میری اطاعت کی اور میرے رسولوں کی تصدیق کی یہ ’’ یوم مزید ‘‘ ہے تو وہ سب لوگ ایک بات پر اکٹھے ہوں گے ( یعنی وہ سب مل کر یہ کہیں گے : ) بے شک ہم راضی ہو گئے ہیں ، تو بھی ہم سے راضی ہو جا ! تو اللہ تعالیٰ ان سے یہ فرمائے گا : اے اہل جنت ! اگر میں تم سے راضی نہ ہوتا تو میں نے تمہیں اپنی جنت میں نہیں ٹھہرانا تھا ، یہ ’’ یوم مزید ‘‘ ہے ، تم لوگ مجھ سے مانگو ، تو وہ سب مل کر ایک ہی بات کہیں گے : تو ہمیں اپنا دیدار کرا دے ، تاکہ ہم تجھے دیکھ لیں ! نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ حجابات ہٹائے گا اور ان کے سامنے تجلی کرے گا اور اپنے نور کے ذریعے ان کو ڈھانپ لے گا اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات طے نہ ہو چکی ہوتی کہ وہ مریں گے نہیں ، تو وہ لوگ جل جاتے ، پھر ان سے کہا جائے گا : تم لوگ اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس چلے جاؤ ! وہ واپس چلے جائیں گے ، وہ اپنی بیویوں سے پوشیدہ رہیں گے اور ان کی بیویاں ان سے پوشیدہ رہیں گی ، کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے نور نے ڈھانپا ہوا ہو گا ، وہ نور مسلسل ان پر رہے گا ، یہاں تک کہ وہ لوگ اپنی پہلی حالت کی طرف واپس آ جائیں گے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ان کی بیوی ان سے کہے گی : جب تم ہمارے پاس سے گئے تھے اس وقت تمہاری شکل و صورت مختلف تھی اور اب مختلف ہو چکی ہے ، تو وہ کہیں گے : ہمارے پروردگار نے ہمارے سامنے تجلی کی تھی ، تو ہم نے اس کو دیکھا ہے ، جو تم سے مخفی رہا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو وہ ہر سات دنوں میں جنت کے مشک اور اس کی نعمتوں میں تبدیل ہوں گے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے اور وہ متروک ہے ۔

18773

Majma al-Zawaid #18773

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: "" «إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةَ الْجَنَّةَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَا عِبَادِي هَلْ تَسْأَلُونِي شَيْئًا فَأَزِيدَكُمْ؟ قَالُوا: يَا رَبَّنَا مَا خَيْرٌ مِمَّا أَعْطَيْتَنَا؟ قَالَ: رِضْوَانِي أَكْبَرُ» "" رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ بْنَ الْمُغِيرَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reports, raised to the Prophet ﷺ, that when the people of Paradise enter Paradise, Allah, the Mighty and Majestic, says, O My servants, do you ask Me anything that I increase you. They say, O our Lord, what is better than what You gave us. He says, My contentment is greater. > **"O My servants, do you ask Me anything that I increase you. My contentment is greater."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے میرے بندو ! کیا تم مجھ سے کوئی چیز مانگتے ہو ؟ تاکہ میں وہ تمہیں مزید دوں ، تو وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! جو کچھ تو نے ہمیں عطا کیا ہے ، اس سے زیادہ بہتر اور کیا ہو سکتا ہے ؟ تو پروردگار فرمائے گا : میری رضامندی سب سے بڑی ہے ۔ انہوں نے نبی اکرم ﷺ تک مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن مغیرہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

18774

Majma al-Zawaid #18774

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «إِنَّ الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ لَتُرَى غُرَفُهُمْ فِي الْجَنَّةِ كَالْكَوْكَبِ الطَّالِعِ الشَّرْقِيِّ أَوِ الْغَرْبِيِّ، فَيُقَالُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَيُقَالُ: هَؤُلَاءِ الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -» ".

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that those who love one another for Allah, their chambers in Paradise are seen like a rising star eastern or western. It is said, who are these. It is said, these are those who love one another for Allah, the Mighty and Majestic. > **"Those who love one another for Allah, their chambers in Paradise are seen like a rising star."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ ، اُن کے بالاخانے جنت میں یوں دکھائی دیں گے ، جیسے مشرق یا مغرب میں طلوع ہونے والا ستارہ ہوتا ہے ، کہا جائے گا : یہ کون لوگ ہیں؟ تو بتایا جائے گا : یہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18775

Majma al-Zawaid #18775

عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ، فَقَالَهَا فِي مَجْلِسِ ذِكْرٍ كَانَ كَالطَّابَعِ يُطْبَعُ عَلَيْهِ، وَمَنْ قَالَهَا فِي مَجْلِسِ لَغْوٍ كَانَتْ كَفَّارَةً لَهُ» ".

EnglishUnverified translation

Jubayr ibn Mutʿim, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said whoever says, glory be to Allah and with His praise, glory be to You O Allah and with Your praise, I testify there is no god but You, I seek Your forgiveness and repent to You, saying it in a gathering of remembrance it is like a seal stamped thereupon, and whoever says it in a gathering of idle talk it is an expiation for him. > **"Glory be to You O Allah and with Your praise, I testify there is no god but You, I seek Your forgiveness and repent to You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ پڑھ لے گا :’’ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر عیب سے پاک ہے اور میں اس کی حمد بیان کرتا ہوں ، تو پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے ، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر وہ محفل ذکر میں یہ کلمات پڑھ لے گا تو یہ مہر کی مانند ہوں گے جو اس محفل پر لگا دی گئی ہو گی ، اور جو شخص لغویات کی محفل میں ان کو پڑھ لے گا ، تو یہ اس کے لئے کفارہ بن جائیں گے ۔‘‘

18776

Majma al-Zawaid #18776

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «كَفَّارَةُ الْمَجْلِسِ أَنْ لَا يَقُومَ حَتَّى يَقُولَ: سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، تُبْ عَلَيَّ وَاغْفِرْ لِي، يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَإِنْ كَانَ فِي مَجْلِسِ لَغَطٍ كَانَ كَفَّارَةً لَهُ، وَإِنْ كَانَ مَجْلِسَ ذِكْرٍ كَانَ طَابَعًا عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ طُرُقُ هَذَا الْحَدِيثِ فِي الْأَذْكَارِ.

EnglishUnverified translation

In another narration, the expiation of a gathering is not to rise until saying, glory be to You O Allah and with Your praise, there is no god but You, turn to me and forgive me, saying it thrice. If in a gathering of clamour it is an expiation for him, and if a gathering of remembrance it is a seal thereupon. > **"Glory be to You O Allah and with Your praise, there is no god but You, turn to me and forgive me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ محفل کا کفارہ یہ ہے کہ آدمی اُٹھنے سے پہلے یہ کلمات پڑھ لے : ’’ تو ہر عیب سے پاک ہے ، اے اللہ ! اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے ، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، تو میری توبہ قبول کر لے اور میری مغفرت کر دے ۔‘‘ آدمی تین مرتبہ یہ کلمات پڑھ لے ، اگر وہ لغویات کی محفل ہو گی ، تو یہ ( کلمات ) اُس کے لئے کفارہ بن جائیں گے ، اور اگر وہ ذکر کی محفل ہو گی تو یہ ( کلمات ) اس پر مہر بن جائیں گے ۔‘‘ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق ’’ کتاب الاذکار ‘‘ میں گزر چکے ہیں ۔