Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 46 · Chapter 2

Book of the Description of Paradise

Hadith 18677–18716

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18677

Majma al-Zawaid #18677

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيْفَ أَنْتُمْ وَرُبْعُ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟ لَكُمْ رُبْعُهَا وَلِسَائِرِ النَّاسِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِهَا؟ "". فَقُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "" فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَثُلُثُهَا؟ "". قَالُوا: فَذَاكَ أَكْثَرُ [قَالَ: "" فَكَيْفَ أَنْتُمْ وَالشِّطْرُ؟ "" قَالُوا: فَذَلِكَ أَكْثَرُ]. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَهْلُ الْجَنَّةِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ، أَنْتُمْ مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ حُصَيْرَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said to them, how would you be with a quarter of Paradise, yours a quarter and the rest of mankind three quarters. They said Allah and His Messenger know best. He said, how would you be with a third. They said that is more. He said, how would you be with half. They said that is more. Then the Messenger of Allah ﷺ said that the people of Paradise on the Day of Resurrection are a hundred and twenty rows, eighty of them them. > **"The people of Paradise on the Day of Resurrection are a hundred and twenty rows, eighty of them you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا : ’’ اہل جنت کا چوتھا حصہ ہونے پر تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ تمہیں اس کا ایک چوتھائی مل جائے ، اور باقی سب لوگوں کو اس کا تین چوتھائی ملے ، ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا ایک تہائی ہونے پر تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ تو بہت زیادہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : نصف ہونے پر تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : یہ تو بہت زیادہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اور ان میں سے تمہاری اسّی صفیں ہوں گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ، امام ابویعلیٰ نے ، امام بزار نے امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن حصیرہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18678

Majma al-Zawaid #18678

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ، ثَمَانُونَ مِنْهَا أُمَّتِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports from the Messenger of Allah ﷺ that the people of Paradise are a hundred and twenty rows, eighty of them his nation. > **"The people of Paradise are a hundred and twenty rows, eighty of them my nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ، جن میں سے اسّی میری امت کی ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن یزید دمشقی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18679

Majma al-Zawaid #18679

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَهْلُ الْجَنَّةِ مِائَةٌ وَعِشْرُونَ صَفًّا، أَنْتُمْ ثَمَانُونَ صَفًّا، وَالنَّاسُ سَائِرُ ذَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ عِيسَى الْجُهَنِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿawiyah ibn Haydah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that the people of Paradise are a hundred and twenty rows, eighty of them them and the rest of that mankind. > **"The people of Paradise are a hundred and twenty rows, eighty of them you and the rest mankind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی ( جن میں سے ) تمہاری اسّی صفیں ہوں گی اور باقی صفیں دیگر تمام لوگوں کی ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن عیسیٰ جہنی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18680

Majma al-Zawaid #18680

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنْتُمْ ثُلُثُ أَهْلِ الْجَنَّةِ، أَوْ نِصْفُ أَهْلِ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that they are a third of the people of Paradise, or half of the people of Paradise. > **"You are a third of the people of Paradise, or half of the people of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اہل جنت کا ایک تہائی ، یا اہل جنت کا نصف ہو گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

18681

Majma al-Zawaid #18681

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ: «أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ مَرَّ عَلَى خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، فَسَأَلَهُ عَنْ أَلْيَنِ كَلِمَةٍ سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَلَا كُلُّكُمْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ عَلَى أَهْلِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ خَالِدِ بْنِ الدُّؤَلِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAli ibn Khalid reports that Abu Umamah, may Allah be pleased with him, passed by Khalid ibn Yazid ibn Muʿawiyah, who asked him for the gentlest word he heard from the Messenger of Allah ﷺ. Abu Umamah said he heard the Messenger of Allah ﷺ saying, verily all of you enter Paradise except one who strays from Allah as a camel strays from its folk. > **"Verily all of you enter Paradise except one who strays from Allah as a camel strays from its folk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن خالد بیان کرتے ہیں : حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا گزر خالد بن یزید بن معاویہ کے پاس سے ہوا ، خالد نے ان سے اس سب سے زیادہ نرم بات کے بارے میں دریافت کیا جو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو ، تو حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : خبردار ! تم سب جنت میں داخل ہو گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کرے جیسے اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن خالد دؤلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18682

Majma al-Zawaid #18682

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: لَا يَبْقَى أَحَدٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ السُّوءِ عَلَى أَهْلِهِ، فَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْنِي ; فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: {لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّى} [الليل: 15]، كَذَّبَ بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَتَوَلَّى عَنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, said that none of this nation remains but enters Paradise except one who strays from Allah as an evil camel strays from its folk, and whoever does not believe him, then Allah, Exalted is He, says, none shall enter it but the most wretched, who denied and turned away, denying what Muhammad ﷺ brought and turning from it. > **"None of this nation remains but enters Paradise except one who strays from Allah as a camel strays from its folk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس امت میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا ، مگر یہ کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ( یعنی اس امت کا ہر فرد جنت میں داخل ہو جائے گا ) البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کرے جس طرح اونٹ اپنے مالکان کے سامنے سرکشی کرتا ہے ، جو شخص میری بات کی تصدیق نہیں کرتا ، تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس میں صرف انتہائی بدنصیب ہی جائے گا ۔‘‘ یعنی وہ شخص اس چیز کی تکذیب کرے جو حضرت محمد ﷺ لے کر آئے تھے اور اس سے منہ پھیر لے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18683

Majma al-Zawaid #18683

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَتَدْخُلُنَّ الْجَنَّةَ كُلُّكُمْ أَجْمَعُونَ أَكْتَعُونَ، إِلَّا مَنْ شَرَدَ عَلَى اللَّهِ شِرَادَ الْبَعِيرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ يَسِيرٍ فِي بَعْضِهِمْ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْمَنَاقِبِ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ أَحَادِيثُ نَحْوُ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that they shall all enter Paradise, every one all together, except one who strays from Allah as a camel strays. > **"You shall all enter Paradise, every one all together, except one who strays from Allah as a camel strays."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سب کے سب جنت میں داخل ہو جاؤ گے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے سامنے یوں سرکشی کرے ، جیسے اونٹ سرکشی کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اگرچہ ان میں سے کچھ میں ، معمولی سا ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب المناقب میں ، اس امت کی فضیلت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

18684

Majma al-Zawaid #18684

«وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَاذَا رَدَّ عَلَيْكَ رَبُّكَ فِي الشَّفَاعَةِ؟ فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَوَّلُ مَنْ يَسْأَلُنِي عَنْ ذَلِكَ مِنْ أُمَّتِي لِمَا رَأَيْتُ مِنْ حِرْصِكَ عَلَى الْعِلْمِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا يُهِمُّنِي مِنَ انْقِضَاضِهِمْ عَلَى أَبْوَابِ الْجَنَّةِ أَهَمُّ عِنْدِي مِنْ تَمَامِ شَفَاعَتِي، وَشَفَاعَتِي لِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا، يُصَدِّقُ قَلْبُهُ لِسَانَهُ، وَلِسَانُهُ قَلْبَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُعَاوِيَةَ بْنِ مُعَتِّبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that he asked the Messenger of Allah ﷺ what his Lord answered him regarding intercession. The Prophet said, by the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, he thought he would be the first of his nation to ask him that for the eagerness for knowledge he saw in him. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, their thronging at the gates of Paradise concerns him no more than the completion of his intercession, and his intercession is for whoever testifies there is no god but Allah sincerely, his heart confirming his tongue and his tongue his heart. > **"My intercession is for whoever testifies there is no god but Allah sincerely, his heart confirming his tongue and his tongue his heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : شفاعت کے بارے میں آپ کا پروردگار آپ کو کیا جواب دے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مجھے یہ اندازہ تھا کہ میری امت میں سے ، تم سب سے پہلے مجھ سے اس بارے میں سوال کرو گے ، کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ تمہیں علم کے حصول کی شدید خواہش ہے ۔ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے ، ان کا جنت کے دروازوں پر ہجوم میرے نزدیک میری شفاعت سے زیادہ اہم نہیں ہے اور میری شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہو گی ، جو اخلاص کے ساتھ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور اس کا دل ، اس کی زبان کی تصدیق کرے اور اس کی زبان ، اس کے دل کی تصدیق کرے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف معاویہ بن معتب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18685

Majma al-Zawaid #18685

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ - يَعْنِي الْأَشْعَرِيَّ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ مِنْكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ مِثْلَ اللَّيْلِ الْأَسْوَدِ زُمْرَةً جَمِيعًا، تَخْبِطُونَ الْأَرْضَ، فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: لَمَا جَاءَ مَعَ مُحَمَّدٍ أَكْثَرُ مِمَّا جَاءَ مَعَ الْأَنْبِيَاءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik, meaning al-Ashʿari, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said, swearing by the One in Whose Hand is his soul, that Allah shall send forth of them on the Day of Resurrection to Paradise a company all together like the black night, trampling the earth, and the angels shall say, those who came with Muhammad are more than those who came with the prophets. > **"By the One in Whose Hand is my soul, Allah shall send forth of you to Paradise a company like the black night, and those who came with Muhammad are more than those who came with the prophets."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تم میں سے کچھ لوگوں کو جنت کی طرف یوں بھیجے گا کہ وہ گروہ کی شکل میں ، تاریک رات کی مانند ہوں گے ، تم لوگ زمین کو بھر دو گے اور فرشتے کہیں گے : حضرت محمد ﷺ کے ساتھ جتنے لوگ آئے ہیں وہ اُن سے زیادہ ہیں ، جتنے لوگ دیگر تمام انبیاء کے ساتھ آئے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18686

Majma al-Zawaid #18686

عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" وَعَدَنِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي مِائَةَ أَلْفٍ "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" وَهَكَذَا "" وَأَشَارَ بِيَدِهِ. قَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ زِدْنَا، قَالَ: "" وَهَكَذَا "". قَالَ عُمَرُ: قَطْكَ يَا أَبَا بَكْرٍ، قَالَ: "" مَا لَنَا وَلَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابٍ "". قَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ إِنْ شَاءَ يُدْخِلُ النَّاسَ الْجَنَّةَ كُلَّهُمْ بِحَفْنَةٍ [وَاحِدَةٌ]. قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَدَّقَ اللَّهُ عُمَرَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said his Lord, the Mighty and Majestic, promised him to admit a hundred thousand of his nation to Paradise. Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said, increase us, O Messenger of Allah, and he said, and like this, gesturing with his hand. Abu Bakr said, O Prophet of Allah, increase us, and he said, and like this. ʿUmar said, enough, O Abu Bakr, and Abu Bakr said, what is it to you, O son of al-Khattab. ʿUmar said, Allah if He wills can admit all mankind to Paradise with a single handful. The Prophet ﷺ said, ʿUmar spoke the truth. > **"My Lord promised me to admit a hundred thousand of my nation to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ایک لاکھ افراد کو جنت میں داخل کرے گا ۔‘‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے سے مزید کریں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اور اس طرح آپ ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات کہی ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ ہمارے لئے مزید کریں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اور اس طرح ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابوبکر ! آپ کے لئے اتنا کافی ہے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابن خطاب ! ہمارا اور تمہارا کیا واسطہ ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بے شک اللہ تعالیٰ اس پر قدرت رکھتا ہے کہ ایک ہی لپ ( یعنی دونوں ہتھیلیاں ملا کر جو بنایا جاتا ہے ) کے ذریعے تمام لوگوں کو جنت میں داخل کر دے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18687

Majma al-Zawaid #18687

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي أَرْبَعَمِائَةِ أَلْفٍ "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" وَهَكَذَا "" وَجَمَعَ كَفَّيْهِ»، فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah, the Mighty and Majestic, promised him to admit four hundred thousand of his nation to Paradise. Abu Bakr said, increase us, O Messenger of Allah, and he said, and like this, joining his palms, and then he mentioned the like of it. > **"Allah promised me to admit four hundred thousand of my nation to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے چار لاکھ افراد کو جنت میں داخل کرے گا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے مزید کروائیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا اور اس طرح ۔ آپ ﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر ( اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ) ...... اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18688

Majma al-Zawaid #18688

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا ". قَالُوا: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " لِكُلِّ رَجُلٍ سَبْعُونَ أَلْفًا ". قَالُوا: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَانَ عَلَى كَثِيبٍ فَحَثَا بِيَدَيْهِ، قَالُوا: زِدْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " هَذِهِ " فَحَثَا بِيَدَيْهِ، قَالُوا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَبْعَدَ اللَّهُ مَنْ دَخَلَ النَّارَ بَعْدَ هَذَا»، رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that seventy thousand of his nation enter Paradise. They said, increase us, O Messenger of Allah, and he said, with each man seventy thousand. They said, increase us, O Messenger of Allah, and he was upon a mound and scooped with his hands. They said, increase us, O Messenger of Allah, and he said, this, scooping with his hands. They said, O Prophet of Allah, Allah keep far whoever enters the Fire after this. > **"Seventy thousand of my nation enter Paradise, and with each man seventy thousand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری امت کے ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لئے مزید کریں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ہر ایک فرد کے ساتھ ، ستر ہزار لوگ ہوں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لئے مزید کریں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ ہو گا ، آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا لیں ، لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! اللہ تعالیٰ اُسے دور کرے جو اس کے بعد بھی جہنم میں داخل ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔

18689

Majma al-Zawaid #18689

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ [عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ] قَالَ: «سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - فَوَعَدَنِي أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَاسْتَزَدْتُهُ فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا، فَقُلْتُ: أَيْ رَبِّ، إِنْ لَمْ يَكُنْ هَؤُلَاءِ مُهَاجِرَ أُمَّتِي؟ قَالَ: إِذًا أُكْمِلُهُمْ لَكَ مِنَ الْأَعْرَابِ» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ that he asked his Lord, the Mighty and Majestic, Who promised him to admit seventy thousand of his nation to Paradise in the image of the moon on the night of fullness. He asked for more and He gave him with each thousand seventy thousand. He said, O my Lord, if these are not the emigrants of my nation. He said, then I shall complete them for you from the Bedouins. > **"My Lord promised me to admit seventy thousand of my nation to Paradise in the image of the moon on the night of fullness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی تو اس نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا کہ وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا ، جو چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے ، میں نے اس سے مزید کی درخواست کی ، تو اس نے مجھے مزید ، ہر ایک ہزار کے ساتھ ستر ہزار لوگ عطا کیے ، میں نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! اگر میری امت کے مہاجرین اتنی تعداد میں نہ ہوئے ؟ تو پروردگار نے فرمایا : میں دیہاتیوں کے ذریعے تمہارے لئے اس تعداد کو مکمل کر دوں گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے صحیح میں اختصار کے ساتھ ایک روایت منقول ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18690

Majma al-Zawaid #18690

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: «خُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُ رَجَّةَ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: آيَةٌ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي فَارِعٍ، فَخَرَجْتُ مُتَلَفِّعَةً بِقَطِيفَةٍ لِلزُّبَيْرِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يُصَلِّي بِالنَّاسِ. قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: "" وَقَدْ رَأَيْتُ خَمْسِينَ أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي مِثْلِ صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ "". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: "" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَنْزِلَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ "". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: مَنْ أَبِي؟ قَالَ: "" أَبُوكَ فُلَانٌ "" - لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ -». قُلْتُ: قِصَّةُ الْكُسُوفِ فِي الصَّحِيحِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Asmaʾ bint Abi Bakr, may Allah be pleased with them both, reports that the sun eclipsed in the time of the Messenger of Allah ﷺ and she heard the clamour of the people saying a sign, while they were at Fariʿ. She went out wrapped in a quilt of al-Zubayr until she entered upon ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, while the Messenger of Allah ﷺ stood praying with the people. Then she mentioned the hadith until he said, and I saw fifty or seventy thousand entering Paradise in the image of the moon on the night of fullness. A man stood and said, supplicate Allah to make me of them, and he said, O Allah, make him of them. O people, you shall not ask me of anything until I descend but I shall inform you of it. Then a man stood and said, who is my father. He said, your father is so-and-so, the one to whom he was ascribed. > **"I saw fifty or seventy thousand entering Paradise in the image of the moon on the night of fullness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا ، میں نے لوگوں کی گونج سنی ، وہ یہ کہہ رہے تھے : ایک نشانی ظاہر ہوئی ہے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم اس وقت ( مدینہ منورہ کے ایک قلعے ) ’’ فارع ‘‘ میں تھے ، میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی چادر اوڑھ کر نکلی اور عائشہ کے پاس آئی ، نبی اکرم ﷺ اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث روایت نقل کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے دیکھا ، پچاس ہزار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور وہ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے ، ایک صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے ، نبی اکرم ﷺ نے دعا کی ، اے اللہ ! تو اسے ان میں شامل کر دے ، اے لوگو ! میرے ( منبر سے ) نیچے اترنے سے پہلے تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کرو گے ، میں تمہیں اُس کے بارے میں بتا دوں گا ، ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے دریافت کیا : میرا باپ کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا باپ فلاں ہے ، یہ وہی شخص تھا ، جس کی طرف اس کی نسبت کی جاتی تھی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سورج گرہن کا واقعہ ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عباس بن عبداللہ بن زبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18691

Majma al-Zawaid #18691

وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي ثَلَاثَمِائَةِ أَلْفٍ "". فَقَالَ عُمَيْرٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زِدْنَا، فَقَالَ: "" هَكَذَا "". فَقَالَ عُمَيْرٌ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، زِدْنَا، فَقَالَ عُمَرُ: حَسْبُكَ يَا عُمَيْرُ! فَقَالَ: مَا لَنَا وَلَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ؟ وَمَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ الْجَنَّةَ؟ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّ اللَّهَ إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ النَّاسَ الْجَنَّةَ بِحَفْنَةٍ - أَوْ حَثْيَةٍ - وَاحِدَةٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَدَقَ عَمَرُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr ibn ʿUmayr, from his father, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that Allah, the Mighty and Majestic, promised him to admit three hundred thousand of his nation to Paradise. ʿUmayr said, O Prophet of Allah, increase us, and he said, like this. ʿUmayr said, O Prophet of Allah, increase us, and ʿUmar said, enough, O ʿUmayr. He said, what is it to you, O son of al-Khattab, what is it to you if Allah admits us to Paradise. ʿUmar said, Allah if He wills admits mankind to Paradise with a single handful or scoop. The Prophet ﷺ said, ʿUmar spoke the truth. > **"Allah promised me to admit three hundred thousand of my nation to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوبکر بن عمیر ، اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے تین لاکھ افراد کو جنت میں داخل کرے گا ۔‘‘ حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ ہمارے لئے مزید کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس طرح ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہمارے لئے مزید کریں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے عمیر ! تمہارے لئے اتنا کافی ہے ، حضرت عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے ابن خطاب ! ہمارا اور آپ کا کیا واسطہ ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل کر دے گا ، تو آپ کو کیا مسئلہ ہے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : بے شک اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی لپ کے ذریعے جنت میں داخل کر سکتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابوبکر بن عمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18692

Majma al-Zawaid #18692

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «أَكْثَرْنَا الْحَدِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ، ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ: "" عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأُمَمِهَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ النَّفَرُ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ، حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ كَبْكَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَأَعْجَبُونِي فَقُلْتُ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ فَقِيلَ: هَذَا أَخُوكَ مُوسَى مَعَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ "". قَالَ: "" فَقُلْتُ: فَأَيْنَ أُمَّتِي؟ فَقِيلَ لِي: انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ، فَقِيلَ لِي: أَرَضِيتَ؟ فَقُلْتُ: رَضِيتُ، رَبِّ "". قَالَ: "" فَقِيلَ لِي: إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ "". فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فِدًى لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي، إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ الْأَلْفِ فَافْعَلُوا، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الضِّرَابِ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ "". فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنَ السَّبْعِينَ، فَدَعَا لَهُ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: "" سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ "". ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا: مَنْ تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ الْأَلْفَ؟ فَقَالَ: قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ، ثُمَّ لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا حَتَّى مَاتُوا، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَالْبَزَّارُ أَتَمُّ مِنْهُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ، وَالْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that they spoke at length with the Messenger of Allah ﷺ one night, then came to him in the morning and he said that the prophets with their nations were shown to him that night. A prophet passed with three, a prophet with a band, a prophet with a company, a prophet with none, until Musa, peace be upon him, passed with a multitude of the Children of Israel, pleasing him. He asked who they were, and it was said, this is your brother Musa with the Children of Israel. He asked, where is my nation. It was said, look to your right, and the horizon was filled with the faces of men. It was said, are you pleased. He said, I am pleased, my Lord. It was said, with these are seventy thousand who enter Paradise without reckoning. The Prophet ﷺ said, may my father and mother be ransom for you, if you can be of the seventy thousand then do so, and if you fall short then be of the people of the hills, and if you fall short then be of the people of the horizon, for I saw there people mingling. ʿUkashah ibn Mihsan stood and said, supplicate Allah for me, O Messenger of Allah, to make me of the seventy, so he supplicated for him. Another man stood and said, supplicate Allah, O Messenger of Allah, to make me of them, and he said, ʿUkashah has preceded you in it. Then they discussed who the seventy thousand are, saying a people born in Islam who never associated anything with Allah until they died. That reached the Prophet ﷺ, who said they are those who do not cauterise, nor seek ruqyah, nor take omens, and upon their Lord they rely. > **"With these are seventy thousand who enter Paradise without reckoning, those who do not cauterise, nor seek ruqyah, nor take omens, and upon their Lord they rely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک رات ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس کافی دیر تک بات چیت کرتے رہے ، اگلے دن جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : گزشتہ رات میرے سامنے انبیاء اور ان کی امتیں پیش کیے گئے کوئی نبی گزرا ، اس کے ساتھ تین افراد تھے ، کوئی گزرا اُس کے ساتھ ایک جماعت تھی ، کسی کے ساتھ زیادہ تعداد تھی ، کسی کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا ، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام میرے پاس سے گزرے تو ان کے ساتھ بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت تھی ، وہ مجھے اچھی لگی ، میں نے کہا : یہ کون ہے ؟ تو بتایا گیا : یہ آپ کے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں ، میں نے کہا : میری امت کہاں ہے ؟ تو مجھ سے کہا گیا : آپ اپنے دائیں طرف دیکھیے ، جب میں نے دیکھا تو لوگوں کے چہروں سے افق بھر چکا تھا ، مجھ سے کہا گیا : آپ اپنے بائیں طرف دیکھیے ، میں نے دیکھا تو لوگوں کے چہروں کے ذریعے افق بھر چکا تھا ، مجھے کہا گیا : کیا آپ راضی ہو گئے ہیں ؟ میں نے کہا : اے میرے پروردگار ! میں راضی ہو گیا ہوں ، تو مجھ سے کہا گیا : ان لوگوں کے ہمراہ ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے ماں باپ تم لوگوں پر قربان ہوں ، اگر تم سے ہو سکے تو تم ان ستر ہزار افراد میں شامل ہونا اور اگر تم کوتاہی کے مرتکب ہو جاؤ تو اہل ظراب ( ٹیلے والوں ) میں شامل ہو جانا اور اگر تم مزید کوتاہی کے مرتکب ہو جاؤ تو تم افق والے لوگوں میں شامل ہو جانا ، کیونکہ میں نے وہاں لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ بہت زیادہ تعداد میں تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ستر ہزار افراد میں شامل کر دے ، نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے دعا کر دی ، پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم اس بارے میں بات چیت کرنے لگے کہ وہ ستر ہزار لوگ کون ہوں گے ؟ کچھ کا کہنا تھا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو زمانہ اسلام میں پیدا ہوئے اور پھر انہوں نے مرتے دم تک کسی کو اللہ کا شریک قرار نہیں دیا ، نبی اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ نہیں لگاتے ہوں گے ، جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہوں گے ، فال نہیں نکالتے ہوں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کو اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے اسے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے امام احمد اور امام بزار کی مختلف اسانید میں سے ، ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18693

Majma al-Zawaid #18693

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى آخِرِ الْوَقْتِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى، ثُمَّ قَالَ: "" رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنَّ الْأُمَمَ عُرِضَتْ عَلَيَّ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجِيءُ فِي خَمْسَةٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَرَأَيْتُ جَمَاعَةً كَثِيرَةً فَقُلْتُ: إِنَّهَا أُمَّتِي؟ فَقِيلَ: هَذِهِ أُمَّةُ مُوسَى. وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَبْيَضَ جَعْدًا، يَضْرِبُ إِلَى الْحُمْرَةِ، وَرَأَيْتُ - وَذَكَرَ كَلَامًا كَأَنَّ مَعْنَاهُ عَدَدٌ كَثِيرٌ - فَقِيلَ: إِنَّهَا أُمَّتُكَ، وَقِيلَ: إِنَّ لَكَ مَعَهُمْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ "". فَقَالَ عُكَاشَةُ الْأَسَدِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي فِي هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ، فَقَالَ: "" أَنْتَ مِنْهُمْ "". فَقَالَ آخَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: "" سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ "". فَقَالَ الْقَوْمُ: مَنْ تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَنْ رَقَّ قَلْبُهُ لِلْإِسْلَامِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَوْمٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَمْ يُشْرِكُوا، أَوْ لَمْ يَعْبُدُوا شَيْئًا إِلَّا اللَّهَ. وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ؟ "". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، السَّبْعِينَ الَّذِينَ ذَكَرْتَ مَنْ هُمْ؟ قَالَ: "" هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ: عُمَرَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ delayed the noon prayer to the end of its time, then came out and prayed, then said he saw in a dream that the nations were shown to him. A prophet came with five or more, then he saw a great multitude and thought it his nation, but it was said this is the nation of Musa. He saw ʿIsa son of Maryam, white, curly, inclining to redness, then he saw, mentioning words whose meaning was a great number, and it was said it is his nation, and that with them are seventy thousand who enter Paradise without reckoning or punishment. ʿUkashah al-Asadi said, O Messenger of Allah, make me among these seventy, and he said, you are of them. Another said, O Messenger of Allah, make me of them, and he said, ʿUkashah has preceded you in it. The people asked who the seventy are, some saying those whose hearts softened to Islam, others a people of believers who never associated nor worshipped aught but Allah, raising their voices. The Prophet ﷺ came out and asked what these voices are. They said, O Messenger of Allah, the seventy you mentioned, who are they. He said they are those who do not cauterise, nor seek ruqyah, nor take omens, and upon their Lord they rely. > **"With them are seventy thousand who enter Paradise without reckoning or punishment, those who do not cauterise, nor seek ruqyah, nor take omens, and upon their Lord they rely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ظہر کی نماز آخری وقت تک مؤخر کر دی ، پھر آپ تشریف لائے ، آپ نے نماز پڑھائی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں ، کوئی نبی پانچ افراد کے ساتھ آیا ، کوئی اس سے زیادہ کے ساتھ تھا ، پھر میں نے ایک بڑی جماعت کو دیکھا تو میں نے سوچا یہ میری امت ہو گی ، تو بتایا گیا : یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے ، پھر میں نے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھا ، وہ سفید رنگت کے سیدھے بالوں کے مالک شخص تھے ، ان کا رنگ سرخی مائل تھا ، اور میں نے دیکھا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد ایسے الفاظ ہیں ، جن کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ میں نے ایک بڑی تعداد کو دیکھا ، تو بتایا گیا : یہ آپ کی امت ہے ، اور یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے ہمراہ قیامت میں ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔‘‘ تو حضرت عکاشہ اسدی رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ان ستر ( ہزار ) لوگوں میں شامل کروا دیں ( یعنی میرے لیے اس بارے میں دعا کریں ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ان میں سے ایک ہو ، ایک اور صاحب بولے : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ان میں شامل کروا دیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے ۔ حاضرین نے ( بعد میں ایک دوسرے سے ) کہا : آپ لوگوں کی کیا رائے ہے کہ یہ ستر ہزار لوگ کون ہوں گے ؟ کسی نے کہا : یہ وہ ہوں گے جن کا دل اسلام کے لیے نرم ہو گا ، بعض نے کہا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو مومنین ہوں گے اور انہوں نے کبھی شرک نہیں کیا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کی ہو گی ، اُن لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں ، نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : یہ آوازیں کس وجہ سے تھیں ؟ لوگوں نے بتایا : یا رسول اللہ ! ہم ان ستر ہزار لوگوں کا ذکر کر رہے تھے کہ وہ کون ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ نہیں لگائیں گے اور جھاڑ پھونک نہیں کریں گے اور فال نہیں نکالیں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمر بن اسماعیل بن مجالد کے حوالے سے نقل کی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

18694

Majma al-Zawaid #18694

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ، فَقَالَ لَهُمْ: "" إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - خَيَّرَنِي بَيْنَ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَبَيْنَ الْخَبِيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي "". فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُخَبِّئُ ذَلِكَ رَبُّكَ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجَ، وَهُوَ يُكَبِّرُ، فَقَالَ: "" إِنَّ رَبِّي زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا، وَالْخَبِيئَةُ عِنْدَهُ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي الشَّفَاعَةِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Ayyub, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ came out to them one day and said to them that his Lord, the Mighty and Majestic, gave him the choice between seventy thousand entering Paradise without reckoning and the stored thing with Him for his nation. One of his Companions asked, O Messenger of Allah, will your Lord store that. The Messenger of Allah ﷺ entered, then came out magnifying Allah, saying his Lord increased him with each thousand seventy thousand, and the stored thing with Him. Then he mentioned the hadith, which is cited in intercession. > **"My Lord gave me the choice between seventy thousand entering Paradise without reckoning and the stored intercession for my nation, then increased me with each thousand seventy thousand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ان سے فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے اس بارے میں اختیار دیا ہے کہ ستر ہزار لوگ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہو جائیں ، یا پھر میری اُمت کے لئے پروردگار کے پاس ایک چیز ( یعنی شفاعت ) سنبھال کے رکھی جائے ، آپ کے اصحاب میں سے کسی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کا پروردگار اسے سنبھال کے رکھے گا ؟ نبی اکرم ﷺ گھر کے اندر تشریف لے گئے ، پھر آپ باہر تشریف لائے اور آپ تکبیر کہہ رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے ، اُن میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ ، مزید 70 ہزار بھی عطا کئے ہیں ، اور اپنے پاس سنبھال کے رکھی ہوئی چیز ( یعنی شفاعت ) بھی عطا کی ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو شفاعت سے متعلق باب میں مذکور ہے ، یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18695

Majma al-Zawaid #18695

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْطَأَ ذَاتَ لَيْلَةٍ عَنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، حَتَّى ذَهَبَ هَوْيًا مِنَ اللَّيْلِ، حَتَّى نَامَ بَعْضُ مَنْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ وَالنَّاسُ بَيْنَ نَائِمٍ، وَبَيْنَ مُصَلٍّ مُنْتَظِرٍ لِلصَّلَاةِ، فَقَالَ: "" أَمَا إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرُوهَا، لَوْلَا ضَعْفُ الْكَبِيرِ، وَبُكَاءُ الصَّغِيرِ، لَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى عَتَمَةٍ مِنَ اللَّيْلِ "". ثُمَّ قَالَ: "" يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ "". قَالَ: وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَذَاكَرْنَا السَّبْعِينَ بَيْنَنَا، أَتُرَاهُمُ الشُّهَدَاءَ؟ فَقَالَ بَعْضُنَا: هُمُ الشُّهَدَاءُ، وَقَالَ بَعْضُنَا: هُمُ الْمُؤْمِنُونَ. فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا تَذَاكَرُونَ؟ "". فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ: "" هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرِقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ was late one night for the evening prayer until much of the night had gone and some in the mosque slept. He came out with people between sleeping and praying awaiting the prayer, and said that people remain in prayer so long as they await it, and were it not for the weakness of the old and the weeping of the young he would have delayed the evening prayer to the depth of night. Then he said seventy thousand enter Paradise with no reckoning upon them. The Messenger of Allah ﷺ entered, and when he entered they discussed the seventy among themselves, whether they are the martyrs or the believers. The Messenger of Allah ﷺ came out and asked what they discussed. They informed him, and he said they are those who do not cauterise, nor seek ruqyah, nor take omens, and upon their Lord they rely. > **"Seventy thousand enter Paradise with no reckoning upon them, those who do not cauterise, nor seek ruqyah, nor take omens, and upon their Lord they rely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم ﷺ نے عشاء کی نماز میں تاخیر کر دی ، یہاں تک کہ رات کا ایک بڑا حصہ رخصت ہو گیا ، یہاں تک کہ مسجد میں موجود بعض لوگ سو گئے ، جب نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، تو کچھ لوگ سو رہے تھے اور کچھ نماز ادا کر رہے تھے اور وہ سب نماز کے منتظر تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگ جب تک نماز کے منتظر رہتے ہیں وہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتے ہیں ، اگر بڑی عمر کے لوگوں کی کمزوری اور بچوں کے رونے کا خیال نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز کو رات کا ایک حصہ گزرنے تک مؤخر کر دیتا ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ جنت میں ستر ہزار ایسے لوگ داخل ہوں گے ، جن سے حساب نہیں لیا جائے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لے گئے ، جب آپ گھر تشریف لے گئے ، تو ہم آپس میں بیٹھ کر ان ستر ہزار لوگوں کے بارے میں بات کرنے لگے کہ کیا وہ لوگ شہداء ہوں گے ؟ کچھ کا کہنا تھا : وہ شہداء ہوں گے ، کچھ کا کہنا تھا : وہ لوگ مومنین ہوں گے ، اسی دوران ، نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ، آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیا گفتگو کر رہے ہو ؟ ہم نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ وہ لوگ ہوں گے ، جو داغ نہیں لگاتے ہوں گے ، جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہوں گے ، فال نہیں نکالتے ہوں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے ۔‘‘ ’’ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18696

Majma al-Zawaid #18696

وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ، وَعَلَيْهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ، فَلَمْ يَعُدْهُ، فَدَخَلَ عَلَى ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنَ الْكَلَاعِيِّينَ عَائِدًا، فَقَالَ لَهُ ثَوْبَانُ: أَتَكْتُبُ؟ قَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ: اكْتُبْ، فَكَتَبَ لِلْأَمِيرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ: مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَّا بَعْدُ: فَلَوْ كَانَ لِمُوسَى وَعِيسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - مَوْلًى بِحَضْرَتِكَ لَعُدْتُهُ. ثُمَّ طَوَى الْكِتَابَ وَقَالَ لَهُ: أَبْلِغْهُ إِيَّاهُ، قَالَ: نَعَمْ. فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِكِتَابِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى ابْنِ قُرْطٍ، فَلَمَّا قَرَأَهُ قَامَ فَزِعًا، فَقَالَ النَّاسُ: مَا لَهُ؟ أَحَدَثَ أَمْرٌ؟ فَأَتَى ثَوْبَانَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَعَادَهُ، وَجَلَسَ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَ، فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِهِ، وَقَالَ: اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا «سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ.

EnglishUnverified translation

Shurayh ibn ʿUbayd reports that Thawban, may Allah be pleased with him, fell ill at Hims under its governor ʿAbdullah ibn Qurt al-Azdi, who did not visit him. A man of the Kalaʿis came visiting Thawban, who asked whether he could write. He said yes, so Thawban dictated for the commander ʿAbdullah ibn Qurt: from Thawban, freedman of the Messenger of Allah ﷺ, to proceed, had Musa and ʿIsa, peace be upon them, a freedman in your presence you would have visited him. Then he folded the letter and told him to deliver it, which he did to Ibn Qurt, who upon reading it rose alarmed. The people asked what was wrong, whether something new occurred. Ibn Qurt came to Thawban, visited him and sat with him a while, then rose, but Thawban seized his cloak and said sit until I narrate a hadith I heard from the Messenger of Allah ﷺ: seventy thousand of my nation shall enter Paradise with no reckoning upon them nor punishment, with each thousand seventy thousand. > **"Seventy thousand of my nation shall enter Paradise with no reckoning upon them nor punishment, with each thousand seventy thousand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شریح بن عبید بیان کرتے ہیں :’’ حمص ‘‘ میں حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے اس شہر کا گورنر عبداللہ بن قرط ازدی تھا ، وہ اُن کی عیادت کے لیے نہیں آیا ، ایک مرتبہ کلاعیین میں سے دو افراد حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے آئے تو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا تم لکھ سکتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لکھو ! پھر انہوں نے گورنر عبداللہ بن قرط کے لیے یہ تحریر لکھوائی :’’ یہ اللہ کے رسول کے غلام ، ثوبان کی طرف سے ہے ، امابعد ! اگر تمہارے علاقے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ، یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی غلام ہوتا تو تم نے اس کی عیادت کر لینی تھی ۔‘‘ پھر انہوں نے تحریر کو لپیٹ دیا اور اس سے فرمایا : تم یہ گورنر تک پہنچا دینا ، اس نے کہا : ٹھیک ہے ، پھر وہ شخص اس مکتوب کو لے کر گیا اور اس نے گورنر کے حوالے وہ کیا ، جب گورنر نے اسے پڑھا تو وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا ، لوگوں نے دریافت کیا : اس کو کیا ہوا ہے ؟ کیا کوئی نئی صورتحال سامنے آئی ہے ؟ گورنر ، حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، ان کی عیادت کی اور ان کے پاس گھڑی بھر بیٹھا رہا ، جب وہ اُٹھنے لگا تو حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس کی چادر پکڑ لی اور یہ فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! تاکہ میں تمہیں وہ حدیث سناؤں جو میں نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت کے ستر ہزار لوگ جنت میں یوں داخل ہوں گے کہ اُن سے حساب لیا جائے گا ، اور نہ انہیں کوئی عذاب ہو گا اور ان میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ مزید ستر ہزار ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔

18697

Majma al-Zawaid #18697

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ "". فَقَامَ عُكَاشَةُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ: "" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ "". فَسَكَتَ الْقَوْمُ، ثُمَّ قَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: لَوْ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْهُمْ. قَالَ: "" سَبَقَكُمْ بِهَا عُكَاشَةُ وَصَاحِبُهُ، أَمَا إِنَّكُمْ لَوْ قُلْتُمْ لَقُلْتُ، وَلَوْ قُلْتُ لَوَجَبَتْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَمَحْمُودُ بْنُ بَكْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid, meaning al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said seventy thousand of his nation enter Paradise with no reckoning upon them. ʿUkashah stood and said, O Messenger of Allah, supplicate Allah to make me of them, and he said, O Allah, make him of them. The people fell silent, then said to one another, had we said, O Messenger of Allah, supplicate Allah to make us of them. He said, ʿUkashah and his companion have preceded you in it, but had you said I would have said, and had I said it would have been binding. > **"Seventy thousand of my nation enter Paradise with no reckoning upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، یوں کہ ان سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا ، حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے ، تو نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : تو اس کو اُن میں شامل کر دے ! حاضرین خاموش ہو گئے ، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے : اگر ہم بھی یہ کہتے : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں ان میں شامل کر دے تو یہ مناسب ہوتا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس حوالے سے عکاشہ اور اس کا ساتھی تم پر سبقت لے گئے ہیں ، لیکن اگر تم کہتے ہو تو میں کہہ دیتا ، اور اگر میں کہہ دیتا تو واجب ہو جاتی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی محمود بن بکر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

18698

Majma al-Zawaid #18698

وَعَنِ الْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمَجْلِسِ، فَشَخَصَ بَصَرُهُ إِلَى رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ يَمْشِي، فَقَالَ: "" أَيَا فُلَانُ "". قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَلَا يُنَازِعُهُ الْكَلَامَ إِلَّا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ لَهُ: "" أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" أَتَقْرَأُ التَّوْرَاةَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" وَالْإِنْجِيلَ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. قَالَ: "" وَالْقُرْآنَ؟ "". قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ أَشَاءُ لَقَرَأْتُهُ، ثُمَّ نَاشَدَهُ: "" هَلْ تَجِدُنِي فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ؟ "". قَالَ: نَجِدُ مَثَلَكَ، وَمَثَلَ مَخْرَجِكَ، وَمَثَلَ هَيْئَتِكَ، فَكُنَّا نَرْجُو أَنْ يَكُونَ فِينَا، فَلَمَّا خَرَجْتَ خِفْنَا أَنْ تَكُونَ أَنْتَ هُوَ، فَنَظَرْنَا فَإِذَا أَنْتَ لَسْتَ هُوَ. قَالَ: "" وَلِمَ ذَاكَ؟ "". قَالَ: مَعَهُ مِنْ أُمَّتِهِ سَبْعُونَ أَلْفًا لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ وَلَا عَذَابٌ، وَإِنَّمَا مَعَكَ نَفَرٌ يَسِيرٌ. فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَنَا هُوَ، وَإِنَّهُمْ لَأُمَّتِي، وَإِنَّهُمْ لَأَكْثَرُ مِنْ سَبْعِينَ أَلْفًا وَسَبْعِينَ أَلْفًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Falatan ibn ʿAsim, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ was in a gathering when his gaze fixed upon a man walking in the mosque. He said, O so-and-so, and he answered, at your service, O Messenger of Allah, speaking nothing else but that. The Prophet asked, do you testify that I am the Messenger of Allah. He said no. The Prophet asked, do you read the Torah. He said yes. And the Gospel. He said yes. And the Qurʾan. He said, by the One in Whose Hand is my soul, had I wished I could read it. Then he adjured him, do you find me in the Torah and the Gospel. He said they find his likeness, his emergence and his appearance, and hoped it would be among them, but when he emerged they feared he was he, then looked and found he was not he. The Prophet asked why. He said with him of his nation are seventy thousand with no reckoning nor punishment, while with him is but a small company. The Prophet said, by the One in Whose Hand is my soul, I am indeed he, and they are indeed my nation, and they are indeed more than seventy thousand and seventy thousand. > **"By the One in Whose Hand is my soul, I am indeed he, and they are indeed my nation, and they are indeed more than seventy thousand and seventy thousand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فلتان بن عاصم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ محفل میں موجود تھے ، آپ نے ایک شخص کو دیکھا جو مسجد میں چلتا ہوا جا رہا تھا ، آپ نے فرمایا : اے فلاں ! اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں ، اس نے اور کوئی بات نہیں کی ، صرف یہ کہا : یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے اس سے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم تورات پڑھے ہوئے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : انجیل ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : قرآن ؟ اس نے کہا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر میں چاہوں تو اسے پڑھ سکتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے اسے اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کیا : کیا تم تورات اور انجیل میں میرا ذکر پاتے ہو ؟ اس نے کہا : آپ کی مانند کا اور آپ کی مانند کے نکلنے کا ، اور آپ کی مانند ہیئت کا ذکر پاتے ہیں ، ہمیں یہ امید تھی کہ وہ آخری نبی ہم میں سے ہوں گے ، لیکن جب آپ کا ظہور ہوا تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ وہ نہ ہوں ، جب ہم نے اس بارے میں تحقیق کی تو یہ بات سامنے آئی کہ آپ وہ نہیں ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اُس نے کہا : اُن ( آخری نبی ) کے ہمراہ ان کی امت کے ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے ، جن سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور جنہیں کوئی عذاب نہیں ہو گا ، اور آپ کے ساتھ تھوڑے سے لوگ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، وہ میں ہی ہوں اور وہ لوگ میری امت ہوں گے ، اور وہ لوگ ستر ہزار اور مزید ( 10 ) ( 7 ) ہزار سے بھی زیادہ تعداد میں ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18699

Majma al-Zawaid #18699

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَكْوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُبَارَكٌ أَبُو سُحَيْمٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that seventy thousand of his nation enter Paradise without reckoning, those who do not cauterise, nor brand, nor seek ruqyah, nor take omens, and upon their Lord they rely. > **"Seventy thousand of my nation enter Paradise without reckoning, those who do not cauterise, nor seek ruqyah, nor take omens, and upon their Lord they rely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری امت کے ستر ہزار لوگ حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، یہ وہ لوگ ہوں گئے جو داغ نہیں لگواتے ہوں گے ، داغ نہیں لگاتے ہوں گے ، جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہوں گے ، فال نہیں نکالتے ہوں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مبارک ابوسحیم ہے اور وہ متروک ہے ۔

18700

Majma al-Zawaid #18700

وَعَنْ رِفَاعَةَ بْنِ عَرَابَةَ قَالَ: «صَدَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أُنَاسٌ يَسْتَأْذِنُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ يَأْذَنُ لَهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا بَالُ شِقِّ الشَّجَرَةِ الَّتِي تَلِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْغَضَ إِلَيْكُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ؟ "". فَلَا تَرَى مِنَ الْقَوْمِ إِلَّا بَاكِيًا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّ الَّذِي يَسْتَأْذِنُكَ فِي نَفْسِي بَعْدَ هَذَا لَسَفِيهٌ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، وَقَالَ: "" أَشْهَدُ عِنْدَ اللَّهِ "" وَكَانَ إِذَا حَلَفَ قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ، ثُمَّ يُسَدِّدُ إِلَّا سَلَكَ [بِهِ فِي] الْجَنَّةَ، وَلَقَدْ وَعَدَنِي رَبِّي أَنْ يُدْخِلَ مِنْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ سَبْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلُوهَا حَتَّى تَبَوَّءُوا أَنْتُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ وَذَرَارِيكُمْ مَسَاكِنَ فِي الْجَنَّةِ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قُلْتُ: عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ يَسِيرٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Rifaʿah ibn ʿArabah, may Allah be pleased with him, reports that they set out with the Messenger of Allah ﷺ when people began seeking his permission to leave and he permitted them. The Messenger of Allah ﷺ said, what is it with the side of the tree toward the Messenger of Allah more hateful to you than the other side. None of the people was seen but weeping. Abu Bakr said that whoever seeks his permission after this is in his view foolish. The Messenger of Allah ﷺ stood, praised Allah and extolled Him, saying, I bear witness before Allah, and when he swore he said, by the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, none of you who believes in Allah then remains upright but shall be led in Paradise, and my Lord has promised me to admit of my nation seventy thousand to Paradise with no reckoning upon them nor punishment, and I hope they shall not enter it until you and the righteous of your wives and offspring take dwellings in Paradise. Then he mentioned the hadith. > **"By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad, none of you who believes in Allah then remains upright but shall be led in Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رفاعہ بن عرابہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ واپس آ رہے تھے ، لوگوں نے نبی اکرم ﷺ سے اجازت مانگنی شروع کی ، نبی اکرم ﷺ انہیں اجازت دینے لگے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا وجہ ہے ؟ کہ اللہ کے رسول ﷺ کی طرف والا درخت کا حصہ تم لوگوں کے نزدیک دوسرے حصے سے زیادہ ناپسندیدہ ہے ، راوی کہتے ہیں : تو سب لوگ رونے لگے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اب اس کے بعد جو شخص آپ سے اجازت مانگے گا ، میرے خیال میں وہ بیوقوف ہی ہو گا ، نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور ارشاد فرمایا : میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گواہی دیتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ جب حلف اٹھاتے تھے ، تو آپ یہ فرماتے تھے : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ، تم میں سے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتا ہو اور پھر وہ ٹھیک رہے تو اس کی وجہ سے اسے جنت میں چلایا جائے گا ، اور میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار لوگوں کو یوں جنت میں داخل کرے گا کہ ان سے کوئی حساب نہیں لیا جائے گا اور انہیں کوئی عذاب نہیں ہو گا اور مجھے یہ امید ہے کہ تم اس میں داخل نہیں ہو گے ، جب تک تم اور تمہاری ازواج اور اولاد میں سے نیک لوگ جنت میں اپنا ٹھکانہ نہیں بنا لیتے ......‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا معمولی سا حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، طبرانی اور بزار کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18701

Majma al-Zawaid #18701

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَيَبْعَثَنَّ اللَّهُ مِنْ مَدِينَةٍ بِالشَّامِ يُقَالُ لَهَا: حِمْصُ تِسْعِينَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ، مَا بَيْنَ الزَّيْتُونِ وَالْحَائِطِ وَالْبَرْتِ الْأَحْمَرِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying that Allah shall raise from a city in Syria called Hims ninety thousand with no reckoning upon them, between the olives and the wall and the red mound. > **"Allah shall raise from a city in Syria called Hims ninety thousand with no reckoning upon them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ شام میں ایک شہر ہے جس کا نام ’’ حمص ‘‘ ہے ، اللہ تعالیٰ اس میں سے نوے ہزار ایسے لوگوں کو زندہ کرے گا جن سے حساب نہیں لیا جائے گا ، اور وہ ( لوگ ) زیتون اور دیوار اور سرخ مٹی کے درمیان ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18702

Majma al-Zawaid #18702

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ فِي أَصْلَابِ أَصْلَابِ أَصْلَابِ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِي رِجَالًا وَنِسَاءً يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ "". ثُمَّ قَرَأَ: "" {وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [الجمعة: 3]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Prophet ﷺ saying that in the loins of the loins of the loins of men of his Companions are men and women who enter Paradise without reckoning, then he recited, and others of them who have not yet joined them, and He is the Mighty, the Wise. > **"In the loins of the loins of the loins of men of my Companions are men and women who enter Paradise without reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بیشک میرے اصحاب سے تعلق رکھنے والے افراد کی اولاد کی اولاد کی اولاد میں ایسے مرد اور عورتیں ہوں گے جو جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہوں گے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ اور ان میں سے بعد والے ، جو ان ( پہلے والوں ) سے نہیں ملے ، اور وہ ( پروردگار ) غلبے والا ، حکمت والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

18703

Majma al-Zawaid #18703

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ مِنْ أُمَّتِي أُمَّةً يُدْخِلُ اللَّهُ الْجَنَّةَ مِنْهُمْ سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ used to say that of his nation is a nation of whom Allah shall admit seventy thousand to Paradise without reckoning. > **"Of my nation is a nation of whom Allah shall admit seventy thousand to Paradise without reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ میری امت میں سے ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ جنت میں داخل کرے گا ، جن میں سے ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر ( جنت میں داخل ہوں گے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، یہ روایت امام بزار نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

18704

Majma al-Zawaid #18704

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قَامَتْ ثُلَّةٌ مِنَ النَّاسِ يَسُدُّونَ الْأُفُقَ، نُورُهُمْ كَالشَّمْسِ، فَيُقَالُ: النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ، فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، ثُمَّ تَقُومُ ثُلَّةٌ أُخْرَى تَسُدُّ مَا بَيْنَ الْأُفُقَيْنِ، نُورُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ "". فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ، فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، ثُمَّ تَقُومُ ثُلَّةٌ أُخْرَى تَسُدُّ مَا بَيْنَ الْأُفُقِ، نُورُهُمْ مِثْلُ كُلِّ كَوْكَبِ الشَّمْسِ، فَيُقَالُ: النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ، فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ [فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتَهُ]، ثُمَّ يَحْثِي حَثْيَتَيْنِ فَيُقَالُ: هَذَا لَكَ يَا مُحَمَّدُ، وَهَذَا مِنِّي لَكَ يَا مُحَمَّدُ، ثُمَّ يُوضَعُ الْمِيزَانُ وَيُؤْخَذُ فِي الْحِسَابِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that on the Day of Resurrection a company of men shall stand filling the horizon, their light like the sun, and it is said, the unlettered prophet, so every prophet strains toward it, then it is said, Muhammad and his nation. Then another company shall stand filling between the two horizons, their light like the moon on the night of fullness, and every prophet strains toward it, and it is said, Muhammad and his nation. Then another company shall stand filling between the horizon, their light like every star of the sun, and it is said, the unlettered prophet, so every prophet strains toward it, and it is said, Muhammad and his nation. Then He scoops two scoops and it is said, this for you, O Muhammad, and this from Me for you, O Muhammad, then the Balance is set and the reckoning taken. > **"On the Day of Resurrection a company shall stand filling the horizon, their light like the sun, and it is said, Muhammad and his nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب قیامت کا دن ہو گا تو لوگوں کا ایک گروہ کھڑا ہو گا ، وہ افق کو بھر دیں گے ، ان کا نور سورج کی مانند ہو گا ، تو کہا جائے گا : اُمی نبی ، ہر نبی اس گروہ کے لئے حرکت کرے گا ، تو کہا جائے گا : حضرت محمد ﷺ اور ان کی امت ، پھر ایک اور گروہ کھڑا ہو گا ، جو دو افقوں کے درمیان کی جگہ کو بھر دے گا ، اُن کا نور چودہویں رات کے چاند کی مانند ہو گا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر نبی اس کے لئے حرکت کرے گا ، تو کہا جائے گا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! اور ان کی امت ، پھر تیسرا گروہ کھڑا ہو گا ، جو افق کے درمیان کی جگہ کو بھر دے گا ، ان کا نور آسمان میں موجود ہر ستارے کی مانند ہو گا ، تو کہا جائے گا : اُمی نبی ، ہر نبی اس کے لیے حرکت کرے گا ، تو کہا جائے گا : حضرت محمد ( ﷺ ) اور ان کی امت ، پھر وہ ( یعنی پروردگار ) دو لپ بنائے گا ( یعنی اُن کو بھرے گا ) اور یہ کہا جائے گا : اے محمد ( ﷺ ) ! یہ تمہارے لیے ، اے محمد ( ﷺ ) یہ میری طرف سے تمہارے لئے ہے ، پھر میزان رکھا جائے گا اور حساب شروع ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18705

Majma al-Zawaid #18705

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: تَخْرُجُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثُلَّةٌ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ، فَتَسُدُّ الْأُفُقَ، نُورُهُمْ مِثْلُ نُورِ الشَّمْسِ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ، فَيَتَحَشْحَشُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ، فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ لَيْسَ عَلَيْهِمْ حِسَابٌ وَلَا عَذَابٌ، ثُمَّ تَخْرُجُ ثُلَّةٌ أُخْرَى غُرًّا مُحَجَّلِينَ، نُورُهُمْ مِثْلُ نُورِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، فَتَسُدُّ الْأُفُقَ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ، فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ، فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ تَخْرُجُ ثُلَّةٌ أُخْرَى [غَرٌّ مُحَجَّلُونَ] نُورُهُمْ مِثْلُ أَعْظَمِ كَوْكَبٍ فِي السَّمَاءِ، يَسُدُّ الْأُفُقَ نُورُهُمْ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ، فَيَتَحَسْحَسُ لَهَا كُلُّ نَبِيٍّ أُمِّيٍّ، فَيُقَالُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُهُ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، ثُمَّ يَجِيءُ رَبُّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - ثُمَّ يُوضَعُ الْمِيزَانُ وَالْحِسَابُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِيهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that on the Day of Resurrection a company bright and marked shall emerge filling the horizon, their light like the light of the sun, and a caller calls, the unlettered prophet, so every unlettered prophet strains toward it, then it is said, Muhammad and his nation, and they enter Paradise with no reckoning nor punishment. Then another company bright and marked shall emerge, their light like the light of the moon on the night of fullness, filling the horizon, and a caller calls, the unlettered prophet, so every unlettered prophet strains toward it, then it is said, Muhammad and his nation, and they enter Paradise without reckoning nor punishment. Then another company bright and marked shall emerge, their light like the greatest star in the sky, filling the horizon, and a caller calls, the unlettered prophet, so every unlettered prophet strains toward it, then it is said, Muhammad and his nation, and they enter Paradise without reckoning nor punishment. Then your Lord, the Mighty and Majestic, comes, and the Balance and reckoning are set. > **"They enter Paradise without reckoning nor punishment, then your Lord comes and the Balance and reckoning are set."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : قیامت کے دن چمکدار پیشانی والے لوگوں کا ایک گروہ آئے گا اور وہ افق کو بھر دیں گے ، ان کا نور سورج کے نور کی مانند ہو گا ، ایک منادی پکار کر کہے گا : اُمی نبی ، تو ہر امی نبی اس کے لیے حرکت کرے گا ، تو کہا جائے گا : حضرت محمد ﷺ اور ان کی امت ، اور وہ لوگ کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ پھر ایک اور گروہ نکلے گا جو چمکدار پیشانیوں کا مالک ہو گا اور ان کا نور چودھویں رات کے چاند کے نور کی مانند ہو گا ، وہ افق کو بھر دیں گے ، ایک منادی پکار کر کہے گا : امی نبی ، تو ہر امی نبی اس کے لیے حرکت کرے گا ، تو کہا جائے گا : حضرت محمد ﷺ اور ان کی امت ، اور وہ لوگ کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ پھر ایک اور گروہ نکلے گا ، وہ چمکدار پیشانیوں کے مالک ہوں گے ، ان کا نور آسمان میں موجود سب سے بڑے ستارے کی مانند ہو گا ان کا نور افق کو بھر دے گا ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : امی نبی ، تو ہر امی نبی اس کے لیے حرکت کرے گا ، تو کہا جائے گا : حضرت محمد ﷺ اور ان کی امت ، اور وہ لوگ کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ پھر تمہارا پروردگار آئے گا اور میزان رکھا جائے گا اور حساب ( شروع ہو گا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض افراد میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18706

Majma al-Zawaid #18706

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. إِلَى أَنْ قَالَ: «فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ، فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ "" ثُمَّ قَامَ آخَرُ فَقَالَ: أَنَا مِنْهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ» "" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ لِلثَّانِي: "" نَعَمْ "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى الْحَرَشِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports from the Prophet ﷺ that the nations were shown to him, and then he mentioned the hadith, until ʿUkashah ibn Mihsan stood and said, am I of them, O Messenger of Allah. He said yes, then another stood and said, am I of them, O Messenger of Allah. He said yes, and then he mentioned the hadith. > **"The nations were shown to me, and ʿUkashah stood and said, am I of them, and I said yes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میرے سامنے مختلف اُمتوں کو پیش کیا گیا ......‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ’’ تو حضرت عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں ان میں سے ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : کیا میں ان میں سے ہوں ؟ یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں !...... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت صحیح میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ، جس میں دوسرے فرد کے لئے نبی اکرم ﷺ کے لئے الفاظ ہیں : جی ہاں ! یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن موسیٰ حرشی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18707

Majma al-Zawaid #18707

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زِدْنَا، فَقَالَ: "" وَهَكَذَا "". فَقَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَدْخَلَهُمُ الْجَنَّةَ بِحَفْنَةٍ وَاحِدَةٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي أَبِي هِلَالٍ الرَّاسِبِيِّ قَلِيلٍ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said seventy thousand of his nation enter Paradise without reckoning. Abu Bakr said, O Messenger of Allah, increase us, and he said, and like this. ʿUmar said, O Abu Bakr, if Allah wills He admits them to Paradise with a single handful. > **"Seventy thousand of my nation enter Paradise without reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میری امت کے ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔‘‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمارے لئے مزید ( طلب ) کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اور اس طرح ہو گا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے حضرت ابوبکر ! اگر اللہ تعالیٰ چاہے ، تو ایک ہی لپ کے ذریعے ان لوگوں کو جنت میں داخل کر سکتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اگرچہ ابوہلال راسبی نامی راوی میں تھوڑا سا ضعف پایا جاتا ہے ۔

18708

Majma al-Zawaid #18708

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، ثُمَّ يَشْفَعُ كُلُّ أَلْفٍ لِسَبْعِينَ أَلْفًا» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ طَوِيلٌ وَيَأْتِي فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ عَامِرِ بْنِ زَيْدٍ الْبَكَالِيِّ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَجْرَحْهُ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn ʿAbd, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that his Lord promised him to admit seventy thousand of his nation to Paradise without reckoning, then each thousand intercedes for seventy thousand, and then he mentioned the hadith, a long one concerning the description of Paradise. > **"My Lord promised me to admit seventy thousand of my nation to Paradise without reckoning, then each thousand intercedes for seventy thousand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور پھر ان میں سے ہر ایک ہزار ، ستر ہزار لوگوں کے لیے شفاعت کریں گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو طویل روایت ہے اور آگے چل کر جنت کی صفت سے متعلق باب میں آئے گی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں عامر بن زید بکالی کے حوالے سے نقل کی ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے انہوں نے اس پر کوئی جرح بھی نہیں کی اور اس کی توثیق بھی نہیں کی ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18709

Majma al-Zawaid #18709

وَعَنْ أَبِي سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ رَبِّي وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَيَشْفَعُ كُلُّ أَلْفٍ لِسَبْعِينَ أَلْفًا، ثُمَّ يَحْثِي رَبِّي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ بِكَفَّيْهِ» "". قَالَ قَيْسٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي سَعْدٍ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ بِأُذُنَيَّ، وَوَعَاهُ قَلْبِي. وَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: وَذَلِكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ يَسْتَوْعِبُ مُهَاجِرِي أُمَّتِهِ، وَيُوَفِّي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بَقِيَّتَهُ مِنْ أَعْرَابِنَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَوْسَطِ: أَبُو سَعِيدٍ الْأَنْمَارِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿd al-Ansari, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that his Lord promised him to admit seventy thousand of his nation to Paradise without reckoning, and each thousand intercedes for seventy thousand, then his Lord scoops three scoops with His Hands. Qays said to Abu Saʿd, did you hear this from the Messenger of Allah ﷺ with your ears. He said yes, my ears heard and my heart retained it. Abu Saʿid said that, Allah willing, covers the emigrants of his nation, and Allah, the Mighty and Majestic, completes the rest from their Bedouins. > **"My Lord promised me to admit seventy thousand of my nation to Paradise without reckoning, and each thousand intercedes for seventy thousand, then my Lord scoops three scoops with His Hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعد انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بیشک میرے پروردگار نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا اور ہر ایک ہزار ، مزید ستر ہزار لوگوں کے لیے شفاعت کرے گا ، پھر میرے پروردگار کے دونوں ہتھیلیوں کو ملا کر تین لپ ہوں گے ( یعنی اُن کو بھر کر وہ جہنم میں سے لوگوں کو نکالے گا ) ۔‘‘ قیس کہتے ہیں : میں نے حضرت ابوسعد رضی اللہ عنہ دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی خود یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میرے کانوں نے یہ بات سنی ہے اور میرے دل نے اسے محفوظ رکھا ہے ۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر اللہ نے چاہا تو نبی اکرم ﷺ کی امت کے مہاجرین اس تعداد کو پورا کر دیں گے اور باقی بچ جانے والی تعداد کو اللہ تعالیٰ ہمارے دیہاتیوں کے ذریعے پورا کر دے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے معجم اوسط میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ابوسعید انماری ، اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18710

Majma al-Zawaid #18710

وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: «خُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُ رَجَّةَ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ: آيَةٌ، وَنَحْنُ فِي فَارِعٍ يَوْمَئِذٍ، فَخَرَجْتُ مُتَلَفِّعَةً بِقَطِيفَةٍ لِلزُّبَيْرِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ، قُلْتُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: "" وَقَدْ رَأَيْتُ خَمْسِينَ أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي مِثْلِ صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ "". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ: "" اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ، أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَنْزِلَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ "". فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: مَنْ أَبِي؟ فَقَالَ: "" أَبُوكَ فُلَانٌ». - لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ -. قُلْتُ: حَدِيثُ أَسْمَاءَ فِي الْكُسُوفِ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ: قَالَتْ: «رَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ، وَالصَّدَقَةِ، وَذِكْرِ اللَّهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكُمْ خَمْسِينَ أَلْفًا - أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا - يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ» "". فَذَكَرَ نَحْوَهُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Asmaʾ bint Abi Bakr, may Allah be pleased with them both, reports that the sun eclipsed in the time of the Messenger of Allah ﷺ and she heard the clamour of the people saying a sign, while they were at Fariʿ. She went out wrapped in a quilt of al-Zubayr until she entered upon ʿAʾishah, may Allah be pleased with her, while the Messenger of Allah ﷺ stood praying for the people. Then she mentioned the hadith until he said, and I saw fifty or seventy thousand entering Paradise in the image of the moon on the night of fullness. A man stood and said, supplicate Allah to make me of them, and he said, O Allah, make him of them. O people, you shall not ask me of anything until I descend but I shall inform you of it. A man stood and said, who is my father. He said, your father is so-and-so, the one to whom he was ascribed. Then the Prophet ﷺ ascended the pulpit and said, O people, the sun and moon are two signs of Allah, the Mighty and Majestic, not eclipsed for the death nor life of anyone, so when you see that hasten to prayer, charity and remembrance of Allah, and I saw of you fifty or seventy thousand entering Paradise without reckoning, and then he mentioned the like of it. > **"I saw fifty or seventy thousand entering Paradise in the image of the moon on the night of fullness, without reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا ، میں نے لوگوں کی آواز کی گونج سنی ، وہ کہہ رہے تھے : نشانی ( ظاہر ہوئی ہے ) ہم اس وقت ( مدینہ منورہ کے ایک قلعے ) ’’ فارع ‘‘ میں موجود تھے ، میں نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی چادر کو لپیٹا اور نکل کھڑی ہوئی ، میں عائشہ کے پاس آئی ، نبی اکرم ﷺ اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے پچاس ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر ہزار افراد کو دیکھا کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے ، تو چودہویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے ، ایک صاحب کھڑے ہوئے : انہوں نے عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے ، نبی اکرم ﷺ نے کہا : اے اللہ ! تو اس کو اُن میں شامل کر دے ( پھر آپ نے فرمایا : ) میرے منبر سے نیچے اترنے تک تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کرو گے ، میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا ، ایک شخص کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا : میرا باپ کون ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا باپ فلاں ہے ، آپ نے اسی شخص کا ذکر کیا ، جس کی طرف اس کی نسبت کی جاتی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سورج گرہن کے بارے میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! بے شک شخص سورج اور چاند ، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ دونوں کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، جب تم ان کو ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو نماز اور صدقہ اور اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ ، میں نے تم میں سے پچاس ہزار افراد ( رادی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر ہزار افراد کو دیکھا کہ وہ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

18711

Majma al-Zawaid #18711

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: «لَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا لَا يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: "" إِنِّي وَجَدْتُ رَبِّي مَاجِدًا كَرِيمًا، أَعْطَانِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَ السَّبْعِينَ الْأَلْفِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ سَبْعِينَ أَلْفًا، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمَّتِي لَا تَبْلُغُ هَذَا أَوْ تُكْمِلُ هَذَا، فَقَالَ: أُكْمِلُهُمْ لَكَ مِنَ الْأَعْرَابِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ، وَاضْطَرَبَ فِي اسْمِ صَحَابِيِّهِ فَقِيلَ: عَمْرُو بْنُ عُمَيْرٍ، وَقِيلَ: عُمَيْرُ بْنُ عَمْرٍو، وَقِيلَ: عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَقِيلَ: عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ، وَقِيلَ: عَمْرُو بْنُ بِلَالٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAmir ibn ʿUmayr, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ remained three days not coming out to a prescribed prayer, and when spoken to he said he found his Lord Majestic and Generous, granting him with each one of the seventy thousand who enter Paradise without reckoning another seventy thousand. He said his nation would not reach or complete this, so Allah said He would complete them for him from the Bedouins. > **"With each one of the seventy thousand who enter Paradise without reckoning, another seventy thousand, and I shall complete them for you from the Bedouins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ تین دن تک ٹھہرے رہے ، آپ فرض نماز کے لئے تشریف نہیں لائے ، آپ سے اس بارے میں بات چیت کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار کو بزرگی والا ، کرم کرنے والا پایا ہے ، اس نے مجھے ستر ہزار لوگ ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، ان میں سے ہر ایک کے ہمراہ مزید ( 10 ) ( 7 ) ہزار لوگ عطا کیے ہیں ، میں نے عرض کی : میری امت اس تعداد تک نہیں پہنچے گی ، یا اس کو مکمل کر دے گی ؟ تو اس نے فرمایا : میں دیہاتیوں کے ذریعے تمہارے لئے ان کو مکمل کر دوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور اس روایت میں صحابی کے نام کے بارے میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے ، ایک قول کے مطابق ان کا نام حضرت عمرو بن عمیر ہے اور ایک قول کے مطابق حضرت عمیر بن عمرو ہے اور ایک قول کے مطابق حضرت عمارہ بن عمیر ہے اور ایک قول کے مطابق حضرت عمرو بن حزم ہے اور ایک قول کے مطابق حضرت عمرو بن بلال ہے ۔

18712

Majma al-Zawaid #18712

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أُعْطِيتُ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وُجُوهُهُمْ كَالْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَقُلُوبُهُمْ عَلَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ، فَاسْتَزَدْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - فَزَادَنِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ سَبْعِينَ أَلْفًا» "". قَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -: فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ يَأْتِي عَلَى أَهْلِ الْقُرَى، وَيُصِيبُ مِنْ حَافَّاتٍ الْبَوَادِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِمَا الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ وَتَابِعِيُّهُ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr al-Siddiq, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said he was granted seventy thousand who enter Paradise without reckoning, their faces like the moon on the night of fullness and their hearts upon the heart of a single man. He asked his Lord, the Mighty and Majestic, for more, and He granted him with each one seventy thousand. Abu Bakr, may Allah be pleased with him, said he saw that this covers the people of the villages and reaches the edges of the deserts. > **"I was granted seventy thousand who enter Paradise without reckoning, their faces like the moon on the night of fullness and their hearts upon the heart of a single man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے ستر ہزار ایسے لوگ عطا کئے گئے ہیں جو حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، اُن کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے اور ان کے دل ، ایک فرد کے دل کی مانند ہوں گے ، میں نے اپنے پروردگار سے مزید مانگا تو اس نے مجھے ہر ایک کے ہمراہ مزید ستر ہزار عطا کر دیے ۔‘‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ چھوٹی بستیوں والوں اور ویرانوں میں بسنے والوں کو بھی شامل ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس کے تابعی کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18713

Majma al-Zawaid #18713

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " إِنَّ رَبِّي أَعْطَانِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ". فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ؟ قَالَ: " قَدِ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي مَعَ كُلِّ رَجُلٍ سَبْعِينَ أَلْفًا ". قَالَ عُمَرُ: فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ؟ قَالَ: " قَدِ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي هَكَذَا " وَفَرَّجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بَيْنَ يَدَيْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَبَسَطَ بَاعَيْهِ، وَحَثَا عَبْدُ اللَّهِ، وَقَالَ هِشَامٌ: وَهَذَا مِنَ اللَّهِ، لَا نَدْرِي مَا عَدَدُهُ» رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، [وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ] وَفِي أَسَانِيدِهِمُ الْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدٍ، وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدٍ هَذَا هُوَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَيْدٍ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ، وَأَنَّهُ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا سُلَيْمُ بْنُ عَمْرٍو النَّخَعِيُّ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، فَقَدْ رَوَى عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، وَبَاقِي إِسْنَادِهِ مُحْتَجٌّ بِهِمْ فِي الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn Abi Bakr, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said his Lord granted him seventy thousand of his nation who enter Paradise without reckoning. ʿUmar said, O Messenger of Allah, why did you not ask Him for more. He said, I did ask Him for more and He granted me with each man seventy thousand. ʿUmar said, why did you not ask Him for more. He said, I did ask Him for more and He granted me like this, and ʿAbdullah ibn Abi Bakr parted his hands, spreading his arms and scooping, while Hisham said this is from Allah whose number none knows. > **"My Lord granted me seventy thousand of my nation who enter Paradise without reckoning, and with each man seventy thousand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے پروردگار نے میری امت میں سے ستر ہزار ایسے لوگ مجھے عطا کیے ہیں ، جو حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مزید کی دعا کیوں نہیں کی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے مزید کی دعا کی ، تو اس نے مجھے ہر ایک فرد کے ہمراہ ستر ہزار لوگ عطا کر دیے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے مزید کے بارے میں دعا کیوں نہیں کی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے اس سے مزید مانگا ، تو اس نے مجھے اس طرح عطا کیا ۔ یہاں عبداللہ بن ابوبکر نامی راوی نے اپنے آگے کشادگی کی ، اور عبداللہ نے یہ کہا ہے : انہوں نے اپنے دونوں بازو پھیلا دیئے اور عبداللہ نے لپ بنایا ( یعنی دونوں ہتھیلیاں جوڑ لیں ) ہشام نے یہ کہا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کی تعداد کا پتہ نہیں چل سکتا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، ان کی اسانید میں یہ بات مذکور ہے : یہ قاسم بن مہران کے حوالے سے موسیٰ بن عبید سے منقول ہے اور موسیٰ بن عبید نامی یہ راوی ، خالد بن عبداللہ بن اسید کا غلام ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الشقات میں کیا ہے اور قاسم بن مہران کا ذکر امام ذہبی نے ’’ میزان الاعتدال ‘‘ میں کیا ہے ، اس کے حوالے سے صرف سلیم بن عمرو نخعی نے روایات نقل کی ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ، کیونکہ ہشام بن حسان نے اس سے یہ حدیث روایت کی ہے ، اس کی سند کے بقیہ رجال سے صحیح میں استدلال کیا گیا ہے ۔

18714

Majma al-Zawaid #18714

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا وَقَفَ الْعِبَادُ لِلْحِسَابِ جَاءَ قَوْمٌ وَاضِعِي سُيُوفِهِمْ عَلَى رِقَابِهِمْ تَقْطُرُ دَمًا، فَازْدَحَمُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَقِيلَ: مَنْ هَؤُلَاءِ؟ قِيلَ: الشُّهَدَاءُ كَانُوا أَحْيَاءً مُرْزَقِينَ، ثُمَّ نَادَى مُنَادٍ: لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ فَلْيَدْخُلِ [الْجَنَّةَ، ثُمَّ نَادَى الثَّالِثَةَ: لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ فَلْيَدْخُلِ الْجَنَّةَ، قَالَ: وَمَنْ ذَا الَّذِي أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ فَلْيَدْخُلِ] الْجَنَّةَ، فَقَامَ كَذَا وَكَذَا أَلْفًا فَدَخَلُوهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ يَسِيرٍ فِي بَعْضِهِمْ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ حُذَيْفَةَ وَغَيْرِهِ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْمَنَاقِبِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that when the servants stand for reckoning, a people shall come with their swords upon their necks dripping blood, crowding at the gate of Paradise. It will be said, who are these. It will be said, the martyrs who were alive and provided for. Then a caller shall call, let whoever has his reward upon Allah stand and enter Paradise, then call a third time, let whoever has his reward upon Allah stand and enter Paradise. Whoever has his reward upon Allah shall enter Paradise, so so many thousands shall stand and enter it without reckoning. > **"Let whoever has his reward upon Allah stand and enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بندے حساب کے لئے کھڑے ہوں گے تو کچھ لوگ آئیں گے ، جنہوں نے اپنی گردنوں پر تلواریں رکھی ہوئی ہوں گی اُن کے خون کے قطرے گر رہے ہوں گے ، وہ جنت کے دروازے پر ہجوم کریں گے ، دریافت کیا جائے گا : یہ کون ہیں ؟ تو بتایا جائے گا : یہ شہداء ہیں ، جو زندہ تھے اور جنہیں رزق دیا جاتا تھا ، پھر ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : وہ شخص کھڑا ہو جائے ، جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جنت میں داخل ہو جائے ، پھر وہ تیسری مرتبہ پکار کر یہ کہے گا : وہ شخص کھڑا ہو جائے ، جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور وہ جنت میں داخل ہو جائے ، وہ کہے گا : جو کوئی بھی ایسا ہے جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہو ، وہ جنت میں داخل ہو جائے ، تو اتنے ہزار ہزار لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ حساب کے بغیر اس میں داخل ہو جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہوا اور دیگر حضرات کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے جو کتاب المناقب کے آخر میں ، اس امت کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے ۔

18715

Majma al-Zawaid #18715

عَنْ أَبِي بَكْرٍ - يَعْنِي الصِّدِّيقَ - عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلَّمَ قَالَ: لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بَخِيلٌ، وَلَا خِبٌّ، وَلَا خَائِنٌ، وَلَا سَيِّئُ الْمَلَكَةِ، وَأَوَّلُ مَنْ يَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ الْمَمْلُوكُونَ إِذَا أَحْسَنُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَفِيمَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَوَالِيهِمْ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَقَدْ حَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr, meaning al-Siddiq, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that no miser enters Paradise, nor deceiver, nor traitor, nor one evil in mastery over slaves, and the first to knock at the gate of Paradise are slaves when they are upright between them and Allah, the Mighty and Majestic, and between them and their masters, and then he mentioned the hadith. > **"No miser enters Paradise, nor deceiver, nor traitor, nor one evil in mastery."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت میں کوئی کنجوس یا دھوکے باز ( یا ملاوٹ کرنے والا ) یا خیانت کرنے والا ، یا غلاموں کے ساتھ برا سلوک کرنے والا داخل نہیں ہو گا ، اور سب سے پہلے جنت کا دروازہ غلام کھٹکھٹائیں گے ، جبکہ وہ اپنے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان معاملات کو احسن طریقے سے سرانجام دیتے ہوں ، اور اپنے اور اپنے مالکان کے درمیان معاملات کو بھی ( احسن طریقے سے سرانجام دیتے ہوں ) ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، امام ترمذی نے اس سند کے حوالے سے اس کو حسن قرار دیا ہے ۔

18716

Majma al-Zawaid #18716

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَوَّلُ زُمْرَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وُجُوهُهُمْ عَلَى صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ، وَالَّذِينَ يَلُونَهُمْ كَأَحْسَنِ كَوْكَبٍ دُرِّيٍّ فِي السَّمَاءِ، وَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ زَوْجَتَانِ، عَلَى كُلِّ زَوْجَةٍ سَبْعُونَ حُلَّةً، يُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ كَمَا يُرَى الشَّرَابُ الْأَحْمَرُ فِي الزُّجَاجَةِ الْبَيْضَاءِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُ ابْنِ مَسْعُودٍ صَحِيحٌ، وَفِي إِسْنَادِ أَبِي سَعِيدٍ: عَطِيَّةُ، وَالْأَكْثَرُ عَلَى تَضْعِيفِهِ، وَرَوَى الْبَزَّارُ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ فَقَطْ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri and ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with them both, report that the Messenger of Allah ﷺ said that the first company to enter Paradise on the Day of Resurrection have faces in the image of the moon on the night of fullness, and those after them like the most beautiful brilliant star in the sky. Each of them has two wives, upon each wife seventy garments, the marrow of her leg seen from behind the flesh as red drink is seen in a white glass. > **"The first company to enter Paradise have faces in the image of the moon on the night of fullness, and the marrow of her leg is seen from behind the flesh as red drink in a white glass."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن جنت میں داخل ہونے والے پہلے گروہ کے چہرے چودہویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے اور ان کے بعد والے لوگ آسمان میں موجود سب سے زیادہ چمکدار ستارے کی مانند ہوں گے ، ان میں سے ہر ایک کی دو بیویاں ہوں گی اور ہر ایک بیوی کے جسم پر ستر حلے ہوں گے ، اور گوشت میں سے اس کی پنڈلی کا گودا نظر آئے گا ، جس طرح سفید شیشے میں ، سرخ شراب میں سے دکھائی دیتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی سند صحیح ہے ، حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے ، اکثر لوگوں نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، امام بزار نے صرف حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث روایت کی ہے ۔