Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 46 · Chapter 1

Book of the Description of Paradise

Hadith 18637–18676

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18637

Majma al-Zawaid #18637

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْجَنَّةُ لَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ وَلَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that Paradise is built of a brick of silver and a brick of gold, and its mortar is musk. > **"Paradise is a brick of silver and a brick of gold, and its mortar is musk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت میں ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی ہے اس کا ( یعنی اینٹوں کو جوڑنے کے لیے استعمال ہونے والا ) گارا ، مشک کا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18638

Majma al-Zawaid #18638

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «لَمَّا خَلَقَ اللَّهُ جَنَّةَ عَدْنٍ خَلَقَ فِيهَا مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ، ثُمَّ قَالَ لَهَا: تَكَلَّمِي. فَقَالَتْ: " قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ» ".

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports from the Prophet ﷺ that when Allah created the Garden of Eden, He created therein what no eye has seen, no ear has heard, and what has never crossed the heart of a mortal, then He said to it, speak, and it said, the believers have succeeded. > **"When Allah created the Garden of Eden, He created therein what no eye has seen, no ear has heard, and what has never crossed the heart of a mortal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو پیدا کیا تو اس نے اس جنت میں ایسی چیزیں پیدا کیں ، جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہیں ، کسی کان نے سنی نہیں ہیں اور کسی انسان کے دل میں ان کا خیال بھی نہیں آیا ، پھر اللہ تعالیٰ نے اُس جنت سے فرمایا : تم کلام کرو ! تو اس نے کہا : تحقیق مومنین کامیاب ہو گئے ۔‘‘

18639

Majma al-Zawaid #18639

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «خَلَقَ اللَّهُ جَنَّةَ عَدْنٍ [بِيَدِهِ]، وَدَلَّى فِيهَا ثِمَارَهَا، وَشَقَّ فِيهَا أَنْهَارَهَا، ثُمَّ نَظَرَ فِيهَا، فَقَالَ لَهَا: تَكَلَّمِي. فَقَالَتْ: قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ فَقَالَ: وَعِزَّتِي، لَا يُجَاوِرُنِي فِيكِ بَخِيلٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, Allah created the Garden of Eden with His Hand, hung its fruits therein and split its rivers therein, then looked at it and said to it, speak, and it said, the believers have succeeded. Then Allah said, by My might, no miser shall dwell beside Me in you. > **"By My might, no miser shall dwell beside Me in you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو اپنے دست مبارک سے پیدا کیا اور اس میں اُس کے پھل لٹکا دیے ، اور اس میں اس کی نہریں بہا دیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے اس جنت کی طرف دیکھا اور اس سے فرمایا : تم کلام کرو ! تو اس نے کہا : تحقیق مومنین کامیاب ہو گئے ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میری عزت کی قسم ہے ، کوئی بخیل تمہارے اندر میرا پڑوسی نہیں بنے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور طبرانی کی معجم اوسط میں دو اسناد میں سے ایک سند عمدہ ہے ۔

18640

Majma al-Zawaid #18640

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «سُئِلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الْجَنَّةِ، فَقَالَ: "" مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ يَحْيَا فِيهَا وَلَا يَمُوتُ، وَيَنْعَمُ فِيهَا وَلَا يَبْأَسُ، لَا تَبْلَى ثِيَابُهُ، وَلَا يَفْنَى شَبَابُهُ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا بِنَاؤُهَا؟ قَالَ: "" لَبِنَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، مِلَاطُهَا الْمِسْكُ، تُرَابُهَا الزَّعْفَرَانُ، حَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَّنَ التِّرْمِذِيُّ لِرِجَالِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ was asked about Paradise and said that whoever enters Paradise lives therein and never dies, enjoys bliss and never despairs, his garments never wear out and his youth never perishes. When asked what it is built of, he said a brick of gold and a brick of silver, its mortar musk, its soil saffron, and its pebbles pearls and rubies. > **"Whoever enters Paradise lives therein and never dies, enjoys bliss and never despairs, his garments never wear out and his youth never perishes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے جنت کے بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص جنت میں داخل ہو گا وہ اُس میں زندہ رہے گا اسے موت نہیں آئے گی ، وہ نعمتوں میں رہے گا ، وہ مایوس نہیں ہو گا ، اس کے کپڑے بوسیدہ نہیں ہوں گے ، اس کی جوانی ختم نہیں ہو گی ۔‘‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اس کی تعمیر کس چیز سے ہوئی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ایک اینٹ سونے کی ہے ، ایک اینٹ چاندی کی ہے اور اس کا گارا مشک کا ہے اور اس کی مٹی زعفران کی ہے اور اس کی کنکریاں موتیوں اور یاقوت کی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ایسی سند کے ساتھ نقل کی ہے جس کے رجال کو امام ترمذی نے حسن قرار دیا ہے ۔

18641

Majma al-Zawaid #18641

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «خَلَقَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - الْجَنَّةَ، لَبِنَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةً مِنْ فِضَّةٍ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that Allah, Blessed and Exalted is He, created Paradise, a brick of gold and a brick of silver, and its mortar is musk. > **"Allah created Paradise, a brick of gold and a brick of silver, and its mortar is musk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ نے جنت کو یوں بنایا ہے کہ ایک اینٹ سونے کی ہے ، ایک اینٹ چاندی کی ہے اور اس کا گارا مشک کا ہے ۔‘‘

18642

Majma al-Zawaid #18642

وَفِي رِوَايَةٍ: "" وَحَائِطُ الْجَنَّةِ لَبِنَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةً مِنْ فِضَّةٍ، وَمِلَاطُهَا الْمِسْكُ وَقَالَ لَهَا: تَكَلَّمِي، فَقَالَتْ: قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ، فَقَالَتِ الْمَلَائِكَةُ: طُوبَاكِ مَنْزِلَ الْمُلُوكِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ جَنَّةَ عَدْنٍ بِيَدِهِ، لَبِنَةً مِنْ ذَهَبٍ، وَلَبِنَةً مِنْ فِضَّةٍ» "". وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَأَبُو سَعِيدٍ لَا يَقُولُ هَذَا إِلَّا بِتَوْقِيفٍ.

EnglishUnverified translation

In another narration, the wall of Paradise is a brick of gold and a brick of silver, its mortar musk, and Allah said to it, speak, and it said, the believers have succeeded, so the angels said, blessed are you, abode of kings. In another wording, Allah created the Garden of Eden with His Hand, a brick of gold and a brick of silver, and the rest is similar. > **"The believers have succeeded, so blessed are you, abode of kings."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جنت کی دیواروں میں ایک اینٹ سونے کی ہے ، ایک اینٹ چاندی کی ہے اور اس کا گارا مشک کا ہے ، پروردگار نے اس سے فرمایا : تم کلام کرو ! تو اس نے یہ کہا :’’ تحقیق مومنین کامیاب ہو گئے ‘‘ فرشتوں نے کہا : تمہارے لئے مبارکباد ہے کہ تم بادشاہوں کے رہنے کی جگہ ہو !‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے ’’ مرفوع ‘‘ اور ’’ موقوف ‘‘ ( یعنی دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت عدن کو اپنے دست مبارک سے پیدا کیا ہے کہ اس کی ایک اینٹ سونے کی ہے اور ایک اینٹ چاندی کی ہے .....‘‘ باقی روایت حسب سابق ہے ۔ ’’ موقوف ‘‘ روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ یہ بات صرف اسی وقت بیان کر سکتے ہیں ، جب انہوں نے اسے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنا ہو ۔

18643

Majma al-Zawaid #18643

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْجَنَّةَ بَيْضَاءَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ زِيَادٍ: أَبُو الْمِقْدَامِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah created Paradise white. > **"Allah created Paradise white."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے جنت کو سفید بنایا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن زیاد ابومقدام ہے اور وہ متروک ہے ۔

18644

Majma al-Zawaid #18644

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ فِي الْجَنَّةِ لَمَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِيهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ that between the two leaves of a gate in Paradise is a journey of forty years. > **"Between the two leaves of a gate in Paradise is a journey of forty years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت کے دروازے کے دو کناروں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18645

Majma al-Zawaid #18645

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَنْتُمْ تُوفُونَ سَبْعِينَ أُمَّةً أَنْتُمْ آخِرُهَا، وَأَكْرَمُهَا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ أَرْبَعُونَ عَامًا، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهِ يَوْمٌ وَإِنَّهُ لَكَظِيظٌ» "". قُلْتُ: عِنْدَ التِّرْمِذِيِّ وَغَيْرِهِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿawiyah ibn Haydah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that they complete seventy nations, being the last and most honoured of them before Allah, the Mighty and Majestic, and between the two leaves of a gate of Paradise is forty years, and a day will come upon it when it is crowded. > **"You complete seventy nations, being the last and most honoured before Allah, and between the two leaves of a gate of Paradise is forty years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیده رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم لوگ ستر امتوں کی تعداد کو پورا کرنے والے ہو ، تم ان میں سے آخری ہو ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ معزز ہو اور جنت کے دروازے کے دونوں کناروں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے اور اس پر ایک ایسا دن بھی آئے گا جب اس پر ہجوم ہو چکا ہو گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور دیگر حضرات نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18646

Majma al-Zawaid #18646

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ مَا بَيْنَ الْمِصْرَاعَيْنِ فِي الْجَنَّةِ أَرْبَعُونَ عَامًا، وَلَيَأْتِيَنَّ يَوْمٌ يُزَاحَمُ عَلَيْهِ كَازْدِحَامِ الْإِبِلِ، وَرَدَتْ لِخَمْسٍ ظِمَاءً» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رُزَيْكُ بْنُ أَبِي رُزَيْكٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Salam, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that between the two leaves in Paradise is forty years, and a day will come when it is thronged as camels throng, returning thirsty on the fifth day. > **"Between the two leaves in Paradise is forty years, and a day will come when it is thronged as thirsty camels throng."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت کے دروازے کے دونوں کناروں کے درمیان چالیس سال کی مسافت کا فاصلہ ہے اور ایسا دن آئے گا جب اس پر یوں ہجوم ہو گا جیسے اونٹوں کا ہجوم ہوتا ہے ، جو پیاسے ہوں اور پانچویں دن ( پانی پینے کے لیے آئیں ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی رزیک بن ابورزیک ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18647

Majma al-Zawaid #18647

عَنْ أَبِي مُوسَى: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «جِنَانُ الْفِرْدَوْسِ أَرْبَعٌ» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said the gardens of al-Firdaws are four, and then the narrator mentioned the full hadith. > **"The gardens of al-Firdaws are four."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنات فردوس ، چار ہیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18648

Majma al-Zawaid #18648

وَعَنْ سَمُرَةَ - يَعْنِي ابْنَ جُنْدُبٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْفِرْدَوْسُ رَبْوَةُ الْجَنَّةِ، وَأَعْلَاهَا، وَأَوْسَطُهَا، وَمِنْهَا تُفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَزَادَ فِيهِ: "" «فَإِنْ سَأَلْتُمُ اللَّهَ تَعَالَى فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ» "". وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah, meaning Ibn Jundub, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that al-Firdaws is the hill of Paradise, its highest and its middle, and from it burst the rivers of Paradise. In an addition, if you ask Allah then ask Him for al-Firdaws. > **"Al-Firdaws is the hill of Paradise, its highest and its middle, and from it burst the rivers of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ فردوس جنت کا بلند سطح والا اور اس کا بالائی اور اس کا درمیانی حصہ ہے اور اسی میں سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ جب تم اللہ تعالیٰ سے مانگو تو اُس سے ( جنت ) الفردوس مانگو !‘‘۔ طبرانی کی اسانید میں سے ، ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18649

Majma al-Zawaid #18649

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنْ سَأَلْتُمُ اللَّهَ فَسَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿIrbad ibn Sariyah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that if they ask Allah, let them ask Him for al-Firdaws. > **"If you ask Allah, ask Him for al-Firdaws."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم نے اللہ تعالیٰ سے مانگنا ہو تو اُس سے فردوس مانگو ! کیونکہ وہ جنت کا بالائی حصہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18650

Majma al-Zawaid #18650

وَعَنْ سَمُرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ لَنَا: "" «إِنَّ الْفِرْدَوْسَ هِيَ رَبْوَةُ الْجَنَّةِ الْوُسْطَى الَّتِي هِيَ أَرْفَعُهَا وَأَحْسَنُهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ used to say to them that al-Firdaws is the middle hill of Paradise, its highest and most beautiful. > **"Al-Firdaws is the middle hill of Paradise, its highest and most beautiful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہم سے یہ فرماتے تھے : ’’ فردوس جنت کا بلند سطح والا درمیانی حصہ ہے ، جو سب سے بلند اور سب سے زیادہ خوبصورت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18651

Majma al-Zawaid #18651

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَلُوا اللَّهَ الْفِرْدَوْسَ ; فَإِنَّهَا سُرَّةُ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ أَهْلَ الْفِرْدَوْسِ لَيَسْمَعُونَ أَطِيطَ الْعَرْشِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that they should ask Allah for al-Firdaws, for it is the navel of Paradise, and the people of al-Firdaws hear the creaking of the Throne. > **"Ask Allah for al-Firdaws, for it is the navel of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ سے فردوس مانگو ! کیونکہ وہ جنت کا درمیانی حصہ ہے اور اہل فردوس ، عرش کی آواز سنیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

18652

Majma al-Zawaid #18652

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لِكُلِّ أَهْلِ عَمَلٍ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُدْعَوْنَ مِنْهُ بِذَلِكَ الْعَمَلِ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that for every people of a deed there is a gate of Paradise from which they are called by that deed, and then the narrator mentioned the full hadith. > **"For every people of a deed there is a gate of Paradise from which they are called by that deed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر عمل کرنے والوں کے لیے جنت کے دروازوں میں سے مخصوص دروازہ ہے ، اور ان لوگوں کو اس دروازے سے اس عمل کے حوالے سے بلایا جائے گا ......‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے اور ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

18653

Majma al-Zawaid #18653

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دُعِيَ الْإِنْسَانُ بِأَكْثَرِ عَمَلِهِ، فَإِنْ كَانَتِ الصَّلَاةُ أَفْضَلَ دُعِيَ بِهَا، وَإِنْ كَانَ صِيَامُهُ دُعِيَ بِهِ، وَإِنْ كَانَ الْجِهَادُ دُعِيَ بِهِ، ثُمَّ يَأْتِي بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ، يُدْعَى مِنْهُ الصَّائِمُونَ "". قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَثَمَّ أَحَدٌ يُدْعَى بِعَمَلَيْنِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ. أَنْتَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that on the Day of Resurrection a man is called by his greatest deed, if prayer was best he is called by it, if fasting then by it, if jihad then by it, then he comes to a gate of Paradise called al-Rayyan from which the fasting are called. Abu Bakr al-Siddiq, may Allah be pleased with him, asked whether anyone is called by two deeds, and he said yes, you. > **"On the Day of Resurrection a man is called by his greatest deed, and the fasting are called from a gate called al-Rayyan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب قیامت کا دن ہو گا تو انسان کو اس کے سب سے زیادہ عمل کے حوالے سے بلایا جائے گا ، اگر نماز زیادہ ہو گی ، تو اس کے حوالے سے بلایا جائے گا ، اگر روزہ زیادہ ہو گا ، تو اس کے حوالے سے بلایا جائے گا ، اگر جہاد زیادہ ہو گا ، تو اس کے حوالے سے بلایا جائے گا ، پھر آدمی جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر آئے گا ، جس کا نام ’’ ریان ‘‘ ہو گا ، اس میں سے روزہ داروں کو بلایا جائے گا ۔‘‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہاں کوئی ایسا فرد بھی ہو گا ؟ جسے دو عملوں کے حوالے سے بلایا جائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم ( ایسے فرد ) ہو گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18654

Majma al-Zawaid #18654

عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ إِلَّا بِجِوَازٍ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ [هَذَا]، كِتَابٌ مِنَ اللَّهِ لِفُلَانِ بْنِ فُلَانٍ، ادْخُلُوا جَنَّةً عَالِيَةً قُطُوفُهَا دَانِيَةٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Salman al-Farisi, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that none enters Paradise without a pass: in the Name of Allah, the Most Merciful, the Most Compassionate, this is a writ from Allah for so-and-so son of so-and-so, enter a lofty Paradise whose clusters hang near. > **"None enters Paradise without a pass: enter a lofty Paradise whose clusters hang near."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں کوئی شخص اجازت نامے کے ساتھ ہی داخل ہو گا ( جس میں یہ تحریر ہو گا : ) ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے ، جو بڑا مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے ، یہ فلاں بن فلاں کے لئے ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحریر ہے ، تم اسے جنت میں داخل کر دو ، جو بلند ہے اور جس کے گچھے لٹکے ہوئے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

18655

Majma al-Zawaid #18655

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ جُرْدًا، مُرْدًا، مُكَحَّلِينَ، بَنِي ثَلَاثِينَ سَنَةً»

EnglishUnverified translation

Muʿadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that he asked the Prophet ﷺ, or heard him saying, that the people of Paradise enter Paradise hairless, beardless, kohl-eyed, thirty years old. > **"The people of Paradise enter Paradise hairless, beardless, kohl-eyed, thirty years old."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : یا شاید انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے جسم پر کوئی بال نہیں ہو گا ، اُن کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور وہ تیس سال کی عمر کے ہوں گے ۔‘‘

18656

Majma al-Zawaid #18656

وَفِي رِوَايَةِ "" يُبْعَثُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْدًا مُرْدًا مُكَحَّلِينَ بَنِي ثَلَاثِينَ سَنَةٍ "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى حَسَنٌ مُتَّصِلٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, the believers are raised on the Day of Resurrection hairless, beardless, kohl-eyed, thirty years old. > **"The believers are raised hairless, beardless, kohl-eyed, thirty years old."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ قیامت کے دن جب اہل ایمان کو زندہ کیا جائے گا تو اُن کے جسم پر کوئی بال نہیں ہو گا ، ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور وہ تیس سال کی عمر کے ہوں گے ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں اور پہلی روایت کی سند حسن اور متصل ہے ۔

18657

Majma al-Zawaid #18657

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ جُرْدًا، مُرْدًا، مُكَحَّلِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the people of Paradise enter Paradise hairless, beardless, kohl-eyed. > **"The people of Paradise enter Paradise hairless, beardless, kohl-eyed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہوں گے تو اُن کے جسم پر کوئی بال نہیں ہو گا اور ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

18658

Majma al-Zawaid #18658

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ جُرْدًا، مُرْدًا، بِيضًا، جُعْدًا، مُكَحَّلِينَ، أَبْنَاءَ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ، وَهُمْ عَلَى خَلْقِ آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتُّونَ ذِرَاعًا فِي سَبْعَةِ أَذْرُعٍ» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ بَعْضُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the people of Paradise enter Paradise hairless, beardless, white, curly-haired, kohl-eyed, thirty-three years old, upon the form of Adam, sixty cubits by seven cubits. > **"The people of Paradise enter Paradise hairless, beardless, kohl-eyed, thirty-three years old, upon the form of Adam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت ، جب جنت میں داخل ہوں گے تو ان کے جسم پر کوئی بال نہیں ہو گا ، وہ سفید رنگ کے ہوں گے ، ان کے بال گھنگریالے ہوں گے ، ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور وہ تینتیس سال کی عمر کے ہوں گے اور ان کی جسامت حضرت آدم علیہ السلام کی جسامت کی طرح ، لمبائی میں ساٹھ ذراع اور چوڑائی میں سات ذراع ہو گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

18659

Majma al-Zawaid #18659

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَكَّ أَبُو خَيْثَمَةَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا صَغِيرًا أَوْ كَبِيرًا يُرَدُّونَ إِلَى سِتِّينَ سَنَةً فِي الْجَنَّةِ، لَا يَزِيدُونَ عَلَيْهَا أَبَدًا، وَكَذَلِكَ أَهْلُ النَّارِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ مُخَالِفٌ لِلثِّقَاتِ فِيمَا رَوَوْهُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid, may Allah be pleased with him, reports from the Messenger of Allah ﷺ, with doubt from Abu Khaythamah, that whoever dies of the people of this world, young or old, is returned to sixty years in Paradise, never exceeding it, and likewise the people of the Fire. > **"Whoever dies, young or old, is returned to sixty years in Paradise, never exceeding it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل دنیا میں سے جو شخص کمسنی میں یا بڑی عمر میں مرے گا ، جنت میں اُس کی عمر ساٹھ سال کر دی جائے گی ، اُس کی عمر اس سے زیادہ کبھی نہیں ہو گی ، اور اہل جہنم کا معاملہ بھی اسی طرح ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے صحیح سند کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور یہ روایت ثقہ راویوں کی نقل کردہ روایت کے برخلاف ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

18660

Majma al-Zawaid #18660

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كُلُّ أَهْلِ النَّارِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: لَوْ أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي! فَتَكُونُ عَلَيْهِ حَسْرَةً ". قَالَ: " وَكُلُّ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَرَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ: لَوْلَا أَنَّ اللَّهَ هَدَانِي! فَيَكُونُ لَهُ شُكْرًا» ".

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that every person of the Fire sees his seat in Paradise and says, if only Allah had guided me, so it becomes a regret upon him, and every person of Paradise sees his seat in the Fire and says, were it not that Allah guided me, so it becomes gratitude for him. > **"Every person of the Fire sees his seat in Paradise and says, if only Allah had guided me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جہنم میں سے ہر ایک جنت کا ٹھکانہ دیکھے گا اور یہ کہے گا : کاش اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی ہدایت نصیب کی ہوتی ۔ تو یہ چیز اس کے لیے حسرت کا باعث ہو گی ۔‘‘ اور اہل جنت میں سے ہر ایک جہنم کا ٹھکانہ دیکھے گا اور یہ کہے گا : اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے ہدایت نصیب نہ کی ہوتی ( تو میں نے جنت میں نہیں آنا تھا ) تو یہ چیز اس کی طرف سے شکر ادا کرنے کے طور پر ہو گی ۔

18661

Majma al-Zawaid #18661

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «لَا يَدْخُلُ أَحَدٌ النَّارَ إِلَّا رَأَى مَقْعَدَهُ مِنَ الْجَنَّةِ لَوْ أَحْسَنَ لِيَكُونَ عَلَيْهِ حَسْرَةً، وَلَا يَدْخُلُ أَحَدٌ الْجَنَّةَ إِلَّا رَأَى مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ لَوْ أَسَاءَ لِيَزْدَادَ شُكْرًا» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration, none enters the Fire but he sees his seat in Paradise, had he done good, that it be a regret upon him, and none enters Paradise but he sees his seat in the Fire, had he done evil, that his gratitude increase. > **"None enters the Fire but he sees his seat in Paradise, that it be a regret upon him, and none enters Paradise but he sees his seat in the Fire, that his gratitude increase."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : کوئی شخص جہنم میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گا جب تک وہ جنت کے ٹھکانے کو نہیں دیکھ لیتا کہ اگر اس نے بھلائی کی ہوتی ( تو اسے جنت میں وہ ٹھکانہ مل جاتا ) یہ اس لیے ہو گا تاکہ اس کو حسرت ہو اور کوئی شخص جنت میں اس وقت تک داخل نہیں ہو گا جب تک وہ جہنم کے ٹھکانے کو نہیں دیکھ لے گا کہ اگر اس نے برائی کی ہوتی ( تو اسے وہ ٹھکانہ نصیب ہونا تھا ) یہ اس لیے ہو گا تاکہ وہ زیادہ شکر کرے ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18662

Majma al-Zawaid #18662

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِلْيَهُودِ: "" إِنِّي سَائِلُهُمْ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ، وَهِيَ دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ "". فَسَأَلَهُمْ فَقَالُوا: خُبْزَةٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" الْخُبْزُ مِنَ الدَّرْمَكِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدٍ، وَوَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said to the Jews that he would ask them about the soil of Paradise, which is white flour. When he asked them, they said it is bread, O father of al-Qasim, so the Messenger of Allah ﷺ said bread is from flour. > **"I shall ask them about the soil of Paradise, which is white flour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کے بارے میں فرمایا : میں اُن سے جنت کی مٹی کے بارے میں سوال کروں گا ، وہ سفید آٹے کی ہے ، جب نبی اکرم ﷺ نے ان سے سوال کیا : تو انہوں نے کہا : اے ابوالقاسم ! وہ روٹی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : روٹی ، آٹے سے ہی بنتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مجالد کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کی توثیق کی ہے ۔

18663

Majma al-Zawaid #18663

عَنْ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي هَذَا الشِّعْبِ إِذْ قَالَ: " انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ شَيْئًا؟ ". فَقُلْنَا: نَرَى غِرْبَانًا مِنْهَا غُرَابٌ أَعْصَمُ، أَحْمَرُ الْمِنْقَارِ وَالرِّجْلَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَنْ كَانَ مِنْهُنَّ مِثْلَ هَذَا الْغُرَابِ فِي الْغِرْبَانِ» ".

EnglishUnverified translation

ʿUmarah ibn Khuzaymah reports that while they were with ʿAmr ibn al-ʿAs, may Allah be pleased with him, during a pilgrimage or lesser pilgrimage, ʿAmr said that while they were with the Messenger of Allah ﷺ in this mountain pass, the Prophet said, look, do you see anything. They said they saw crows, among them a pied crow with red beak and feet, so the Messenger of Allah ﷺ said that none of the women enters Paradise but she who is among them like this crow among crows. > **"None of the women enters Paradise but she who is among them like this crow among crows."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمارہ بن خزیمہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ حج یا شاید عمرہ کے موقع پر ہم لوگ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھے ، انہوں نے بتایا : ’’ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ اس گھاٹی میں موجود تھے ، اسی دوران آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ دیکھو ! کیا تم کچھ دیکھ رہے ہو ؟ ہم نے عرض کی : ہم کوے ( یعنی پرندے ) دیکھ رہے ہیں ، جن میں سے ایک پرندہ اعصم ہے ، جس کی چونچ اور دونوں پاؤں سرخ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں خواتین میں سے صرف وہ خواتین داخل ہوں گی ، جو دیگر عورتوں میں سے اس کی مانند ہوں گی ، جیسے یہ کوا ، دیگر کووں کے درمیان ہے ۔‘‘

18664

Majma al-Zawaid #18664

وَفِي رِوَايَةٍ: «كُنَّا مَعَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِي حَجٍّ أَوْ عُمْرَةٍ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ، إِذَا امْرَأَةٌ فِي هَوْدَجِهَا». فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration, they were with ʿAmr ibn al-ʿAs in a pilgrimage or lesser pilgrimage until at Marr al-Zahran there was a woman in her litter, and then he mentioned the like of it. > **"None of the women enters Paradise but she who is among them like this crow among crows."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ ایک مرتبہ حج یا شاید عمرہ کے موقع پر ہم لوگ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، جب ہم ’’ مرالظہران ‘‘ کے مقام پر پہنچے تو وہاں ہودج میں ایک عورت موجود تھی ......‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18665

Majma al-Zawaid #18665

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «آخِرُ رَجُلَيْنِ يَخْرُجَانِ مِنَ النَّارِ يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَجَوْتَنِي؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ، وَهُوَ أَشَدُّ حَسْرَةً. وَيَقُولُ لِلْآخَرِ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ هَلْ رَجَوْتَنِي؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، إِلَّا أَنِّي كُنْتُ أَرْجُوكَ "". قَالَ: "" فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَقِرَّنِي تَحْتَ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَآكُلَ مِنْ ثِمَارِهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا، ثُمَّ يَرْفَعُ لَهُ شَجَرَةً هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى، وَأَغْدَقُ مَاءً، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَقِرَّنِي تَحْتَهَا لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَأَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا [وَآكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا]، وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ [فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا] فَيُقِرُّهُ تَحْتَهَا، [وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا] ثُمَّ يَرْفَعُ لَهُ شَجَرَةً عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، وَأَغْدَقُ مَاءً، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، هَذِهِ [لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا فَ] أَقِرَّنِي تَحْتَهَا [فَأَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا وَآكُلُّ مِنْ ثَمَرِهَا، وَأَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ: ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدُنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا]، فَيُدْنِيهِ تَحْتَهَا وَيُعَاهِدُهُ أَلَّا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا. فَيَسْمَعُ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَلَا يَتَمَالَكُ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: سَلْ وَتَمَنَّ، فَيَسْأَلُ وَيَتَمَنَّى مِقْدَارَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ أَيَّامِ الدُّنْيَا، وَيُلَقِّنُهُ اللَّهُ مَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ، فَيَسْأَلُ وَيَتَمَنَّى، فَإِذَا فَرَغَ قَالَ: [ابْنَ آدَمَ] لَكَ مَا سَأَلْتَ "". قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: "" وَمِثْلُهُ مَعَهُ "". وَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: "" وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ "". فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: حَدِّثْ بِمَا سَمِعْتَ، وَأُحَدِّثُ بِمَا سَمِعْتُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنْ أَبِي سَعِيدٍ: "" «وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ» "". وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ مِثْلَهُ. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri and Abu Hurayrah, may Allah be pleased with them both, report that the Messenger of Allah ﷺ said concerning the last two men to leave the Fire: Allah says to one of them, O son of Adam, what have you prepared for this day, did you ever do good, did you ever hope in Me, and he says, no my Lord, so he is ordered to the Fire in utter regret. He says to the other, O son of Adam, what have you prepared for this day, did you ever do good, did you ever hope in Me, and he says, no my Lord, except that I hoped in You. Then a tree is raised for him and he says, O my Lord, settle me beneath this tree to shade in its shade, eat of its fruits and drink of its water, pledging not to ask for other than it, so He settles him beneath it. Then a tree better than the first with more abundant water is raised for him, and he says, O my Lord, settle me beneath it and I shall ask You for nothing else, to shade in its shade, eat of its fruit and drink of its water. Allah says, O son of Adam, did you not pledge not to ask Me for other than it, and he says, my Lord, this one and I shall ask for nothing else, so He settles him beneath it with a pledge. Then a tree at the gate of Paradise, better than the first two with more abundant water, is raised for him, and he says, O my Lord, settle me beneath it to shade in its shade, eat of its fruit and drink of its water, and Allah says, O son of Adam, did you not pledge not to ask Me for other than it, and he says, my Lord, this one and I shall ask for nothing else, so He draws him near beneath it with a pledge not to ask for other than it. Then he hears the voices of the people of Paradise and cannot restrain himself, saying, my Lord, admit me to Paradise. Allah, the Mighty and Majestic, says, ask and wish, so he asks and wishes for the measure of three days of this world, Allah teaching him what he knows not, and when he finishes He says, son of Adam, yours is what you asked. Abu Saʿid said, and the like thereof with it, and Abu Hurayrah said, and ten times the like thereof with it, and each told the other to narrate what he heard. > **"Ask and wish, so he asks and wishes, and his Lord says, yours is what you asked and the like thereof with it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آخری دو آدمی جو جہنم سے نکلیں گے ، اللہ تعالیٰ اُن دونوں میں سے ایک سے فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے اس دن کے لیے کیا تیاری کی ؟ کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کی؟ کیا تم نے مجھ سے کوئی امید رکھی ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں ! اے میرے پروردگار ! تو اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا اور اہل جہنم میں وہ سب سے زیادہ شدید حسرت کا شکار ہو گا ، اللہ تعالیٰ دوسرے شخص سے دریافت کرے گا : اے ابن آدم ! تم نے اس دن کے لیے کیا تیاری کی ؟ کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کا کام کیا ؟ کیا تم نے مجھ سے کوئی امید رکھی ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں اے میرے پروردگار ! ( میں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی ) تاہم میں تجھ سے امید رکھتا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اُس شخص کے سامنے ایک درخت آئے گا ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے اس درخت کے نیچے ٹھہرا دے تاکہ میں اس کے سائے میں آ جاؤں اور اس کے پھل کو کھاؤں اور اس کے پانی کو پی لوں ، وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ یہ عہد کرتا رہے گا کہ وہ اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگے گا ، اللہ تعالیٰ اسے اس درخت کے نیچے ٹھہرا دے گا ، پھر اس کے سامنے ایک اور درخت آئے گا ، جو پہلے والے درخت سے زیادہ خوبصورت ہو گا اور اس کا پانی زیادہ میٹھا ہو گا ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے اس ( دوسرے والے ) درخت کے نیچے ٹھہرا دے ، میں تجھ سے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگوں گا ، میں اس کے سائے میں آ جاؤں گا اور اس کے پھل کو کھاؤں گا اور اس کے پانی کو پی لوں گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے ابن آدم ! کیا تم نے میرے ساتھ یہ عہد نہیں کیا تھا کہ تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگو گے ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! میں اب اس کے علاوہ تجھ سے اور کچھ نہیں مانگوں گا تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس کے نیچے ٹھہرا دے گا ، اور اس سے یہ عہد لے گا کہ وہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگے گا ، پھر اس شخص کے سامنے جنت کے دروازے کے قریب ایک درخت آئے گا ، جو پہلے والے دونوں درختوں سے زیادہ خوبصورت ہو گا اور اس کا پانی زیادہ میٹھا ہو گا ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! میں تجھ سے اس کے علاوہ نہیں مانگوں گا ، تو مجھے اس کے نیچے ٹھہرا دے ، تاکہ میں اس کے سائے میں آ جاؤں اور اس کے پھل کو کھاؤں اور اس کے پانی کو پیوں ، تو پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! کیا تم نے مجھ سے یہ عہد نہیں کیا تھا کہ تم مجھ سے اس کے علاوہ کچھ نہیں مانگو گے ، تو وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! اس کے علاوہ میں تجھ سے کچھ نہیں مانگوں گا ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو اس درخت کے نیچے کر دے گا اور اس سے یہ عہد لے گا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں مانگے گا ، وہ شخص اہل جنت کی آوازیں سنے گا ، تو اسے خود پر قابو نہیں رہے گا اور وہ یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے جنت میں داخل کر دے ! ( جب وہ شخص جنت میں داخل ہو جائے گا تو پروردگار فرمائے گا تم مانگو ! اور تمنا کرو ! وہ شخص دنیا کے دنوں کے حساب سے تین دن تک مانگتا رہے گا اور تمنا کرتا رہے گا ، اللہ تعالیٰ اسے ان چیزوں کے بارے میں بھی تلقین کرے گا ، جن کے بارے میں اسے علم بھی نہیں تھا ، وہ مانگے گا اور تمنا کرے گا ، جب وہ فارغ ہو جائے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے جو مانگا وہ تمہیں ملا ! حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے یہاں یہ الفاظ نقل کئے ہیں :’’ اور اس کے ہمراہ اس کی مانند مزید ملا ۔‘‘ جبکہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :” اور اس کے ہمراہ اس کی مانند مزید دس گنا ملا ۔‘‘ ان دونوں میں سے ایک صاحب نے دوسرے سے کہا : آپ وہ بیان کریں جو آپ نے سنا ہے اور میں وہ بیان کروں گا ، جو میں نے سنا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :” اس کی مانند دس گنا ۔‘‘ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے بھی اس کی مانند الفاظ نقل کیے ہیں ۔ ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18666

Majma al-Zawaid #18666

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً إِنَّ لَهُ لَسَبْعَ دَرَجَاتٍ، وَهُوَ عَلَى السَّادِسَةِ فَوْقَهُ وَالسَّابِعَةِ، وَإِنَّ لَهُ لَثَلَاثَمِائَةِ خَادِمٍ، وَيُغْدَى عَلَيْهِ وَيُرَاحُ بِثَلَاثِمِائَةِ صَحْفَةٍ - وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: مِنْ ذَهَبٍ، فِي كُلِّ صَحْفَةٍ مَا لَيْسَ فِي الْأُخْرَى، وَإِنَّهُ لِيَلَذُّ أَوَّلَهُ كَمَا يَلَذُّ آخِرَهُ، وَإِنَّهُ لَيَقُولُ: يَا رَبِّ، لَوْ أَذِنْتَ لِي لَأَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ، وَسَقَيْتُهُمْ لَمْ يَنْقُصْ مِمَّا عِنْدِي شَيْءٌ، وَإِنَّ لَهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَاثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ زَوْجَةً، [سِوَى أَزْوَاجِهِ] وَإِنَّ الْوَاحِدَةَ مِنْهُنَّ لَتَأْخُذُ مَقْعَدَهَا قَدْرَ مِيلٍ مِنَ الْأَرْضِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the lowest of the people of Paradise in station has seven degrees, he upon the sixth with the seventh above him, three hundred servants, morning and evening brought three hundred platters of gold, each with what is not in the other, relishing the first as he relishes the last, saying, O my Lord, if You permitted me I would feed the people of Paradise and give them drink without diminishing what is with me, and of the wide-eyed maidens seventy-two wives besides his own wives, each taking a seat a mile of earth. > **"The lowest of the people of Paradise in station has seven degrees, three hundred servants, and seventy-two wives of the wide-eyed maidens."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے کم مقام کا مالک وہ شخص ہو گا ، جس کے سات درجات ہوں گے اور وہ چھٹے درجے پر ہو گا ، ساتواں درجہ اس کے اوپر ہو گا ، اس کے تین سو خادم ہوں گے ، اس کے پاس صبح و شام تین سو پیالے لائے جائیں گے ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) سونے کے بنے ہوئے پیالے لائے جائیں گے ، اور ہر پیالے میں دوسرے پیالے سے مختلف کھانا ہو گا ، اور وہ پہلے سے بھی اسی طرح لذت محسوس کرے گا ، جس طرح آخری سے لذت محسوس کرے گا اور وہ یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! اگر تو مجھے اجازت دے تو میں تمام اہل جنت کو کھانا کھلاؤں اور انہیں مشروب پلاؤں ، تو بھی میرے پاس جو کچھ موجود ہے ، اس میں کمی نہیں آئے گی اور اس شخص کو حورعین میں سے بہتر بیویاں ملیں گی جو اس کی دنیاوی بیویوں کے علاوہ ہوں گی ، اور ان میں سے ایک کے بیٹھنے کی جگہ زمین کے ایک میل جتنی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18667

Majma al-Zawaid #18667

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ حَظًّا - أَوْ نَصِيبًا - قَوْمٌ يُخْرِجُهُمُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ فَيَرْتَاحُ لَهُمُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنَّهُمْ كَانُوا لَا يُشْرِكُونَ بِاللَّهِ شَيْئًا، فَيَبْدُونَ بِالْعَرَاءِ، فَيَنْبُتُونَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ، حَتَّى إِذَا دَخَلَتِ الْأَرْوَاحُ فِي أَجْسَادِهِمْ قَالُوا: رَبَّنَا، كَالَّذِي أَخْرَجْتَنَا مِنَ النَّارِ، وَرَجَّعْتَ الْأَرْوَاحَ إِلَى أَجْسَادِنَا، فَاصْرِفْ وُجُوهَنَا عَنِ النَّارِ "". قَالَ: "" فَيَصْرِفُ وُجُوهَهُمْ عَنِ النَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the lowest of the people of Paradise in fortune are a people Allah brings out of the Fire, their Lord showing mercy to them as they associated nothing with Allah. They appear in the open and sprout as herbs sprout, until when the souls enter their bodies they say, our Lord, as You brought us out of the Fire and returned the souls to our bodies, turn our faces away from the Fire, so He turns their faces away from the Fire. > **"Our Lord, as You brought us out of the Fire, turn our faces away from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حصے کے اعتبار سے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، تاہم اس کا مفہوم یہی ہے ) اہل جنت میں سب سے کم مرتبہ کا مالک وہ ہو گا کہ کچھ لوگوں کو اللہ تعالیٰ جہنم سے نکالے گا ، اللہ تعالیٰ ان پر یہ مہربانی اس لیے کرے گا کیونکہ وہ کسی کو اللہ کا شریک قرار نہیں دیتے ہوں گے ، پھر وہ یوں اُگیں گے جیسے سبزی اُگتی ہے یہاں تک کہ جب ارواح ان کے جسموں میں داخل ہو جائیں گی ، تو وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! جس طرح تو نے ہمیں جہنم سے نکال دیا ہے اور ارواح کو ہمارے جسموں کی طرف لوٹا دیا ہے ، تو تُو ہمیں جہنم کی طرف سے پھیر دے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالی ان کے چہرے جہنم سے پھیر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18668

Majma al-Zawaid #18668

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ أَنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ حِلْيَةً عَدَلَتْ حِلَيَتُهُ عَلَيْهِ أَهْلَ الدُّنْيَا جَمِيعًا، لَكَانَ مَا يُعْطِيهِ اللَّهُ فِي الْآخَرِةَ أَفْضَلُ مِنْ حِلْيَةِ أَهْلِ الدُّنْيَا جَمِيعًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ: الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that if the adornment of the least of the people of Paradise were weighed against all the people of this world, what Allah gives him in the Hereafter would be better than the adornment of all the people of this world. > **"If the adornment of the least of the people of Paradise were weighed against all this world, what Allah gives him in the Hereafter would be better."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر اہل جنت کے سب سے کم تر فرد کے زیور کا تمام اہل دنیا کے زیورات کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس شخص کو جو زیور عطا کرے گا وہ تمام اہل دنیا کے زیورات سے زیادہ فضیلت رکھتا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18669

Majma al-Zawaid #18669

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً لَيَنْظُرُ فِي مُلْكِهِ أَلْفَيْ سَنَةٍ يُرَى أَقْصَاهُ كَمَا يُرَى أَدْنَاهُ، يَنْظُرُ إِلَى أَزْوَاجِهِ وَخَدَمِهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ وَفِي أَسَانِيدِهِمْ ثُوَيْرُ بْنُ أَبِي فَاخِتَةَ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports that the Prophet ﷺ said that the lowest of the people of Paradise in station looks over his dominion for two thousand years, seeing its farthest as its nearest, looking upon his wives and servants. > **"The lowest of the people of Paradise in station looks over his dominion for two thousand years, seeing its farthest as its nearest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت میں قدر و منزلت کے اعتبار سے سب سے کمتر شخص جو ہو گا وہ اپنی ملکیت میں دو ہزار سال ( کی مسافت ) تک نظر کر سکے گا اور وہ دور کے حصے کو بھی یوں دیکھ لے گا جس طرح نزدیکی حصے کو دیکھ سکے گا اور وہ اپنی بیویوں اور خدمت گاروں کو بھی دیکھ سکے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ان کی اسانید میں ایک راوی ثویر بن ابوفاختہ ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

18670

Majma al-Zawaid #18670

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ أَسْفَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَجْمَعِينَ دَرَجَةً لَمَنْ يَقُومُ عَلَى رَأْسِهِ عَشَرَةُ الْآفٍ، بِيَدِي كُلِّ وَاحِدٍ صَحِيفَتَانِ، وَاحِدَةٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَالْأُخْرَى مِنْ فِضَّةٍ، فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ لَوْنٌ لَيْسَ فِي الْأُخْرَى مِثْلُهُ، يَأْكُلُ مِنْ آخِرِهَا مِثْلَ مَا يَأْكُلُ مِنْ أَوَّلِهَا، يَجِدُ لِآخِرِهَا مِنَ الطِّيبِ وَاللَّذَّةِ مِثْلَ الَّذِي يَجِدُ لِأَوَّلِهَا، ثُمَّ يَكُونُ ذَلِكَ رِيحَ الْمِسْكِ الْأَذْفَرِ، لَا يَبُولُونَ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ، وَلَا يَتَمَخَّطُونَ، إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying that the lowest of all the people of Paradise in degree has ten thousand standing at his head, in the hand of each two platters, one of gold and one of silver, each with a dish not like the other, eating of the last as he eats of the first, finding in the last the same fragrance and delight as the first, then it becomes the scent of strong musk. They neither urinate nor defecate nor blow their noses, brethren upon couches facing one another. > **"The lowest of the people of Paradise in degree has ten thousand standing at his head, in the hand of each two platters, one of gold and one of silver."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اہل جنت میں جو سب سے کم مرتبہ کا شخص ہو گا اس کے سرہانے بھی دس ہزار ملازمین موجود ہوں گے جن میں سے ہر ایک کے ہاتھوں میں دو دو برتن ہوں گے ، ان میں سے ایک سونے کا ہو گا اور دوسرا چاندی کا ہو گا اور ان میں سے ہر ایک میں مختلف قسم کا کھانا ہو گا وہ شخص آخری برتن میں سے بھی اسی طرح کھائے گا ، جس طرح پہلے میں سے کھائے گا اور اسے آخری برتن میں سے بھی اسی طرح کی خوشبو اور لذت محسوس ہو گی جس طرح کی پہلے برتن میں سے محسوس ہوئی تھی ( یعنی زیادہ کھانے کی وجہ سے اس کی خوشبو یا لذت میں کمی نہیں ہو گی ) اور پھر وہ سب کھانا مشک اذفر کی طرح کی خوشبو میں تبدیل ہو جائے گا ، اہل جنت کو پیشاب یا پاخانہ کی حاجت نہیں ہو گی اور نہ انہیں بلغم تھوکنے کی ضرورت ہو گی ، وہ بھائی بھائی ہوں گے اور پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18671

Majma al-Zawaid #18671

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «قَدْ عَلِمْتُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا: رَجُلٌ كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ زَحْزِحْنِي عَنِ النَّارِ، وَلَا يَقُولُ: أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ، فَإِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، بَقِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ: يَا رَبِّ، مَا لِي هَهُنَا؟ قَالَ: ذَاكَ الَّذِي كُنْتَ تَسْأَلُنِي يَا ابْنَ آدَمَ، قَالَ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنَ الْجَنَّةِ، قَالَ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَمْ تَكُنْ تَسْأَلُنِي! قَالَ: فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهُ شَجَرَةً عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تَكُنْ تَسْأَلُنِي أَنْ أُزَحْزِحَكَ عَنِ النَّارِ؟ فَلَا يَزَالُ يَسْأَلُ حَتَّى يُقَالَ لَهُ: اذْهَبْ فَلَكَ مَا بَلَغَتْ قَدَمَاكَ، وَرَأَتْ عَيْنَاكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «هَذَا مَا كُنْتَ تَسْأَلُنِي يَا ابْنَ آدَمَ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَدَتْ لَهُ شَجَرَةٌ مِنْ بَابِ الْجَنَّةِ دَاخِلَةً الْجَنَّةَ، قَالَ: يَا رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا، وَأَسْتَظِلُّ فِي ظِلِّهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، لَمْ تَكُنْ تَسْأَلُنِي! قَالَ: يَا رَبِّ أَيْنَ مِثْلُكَ؟ فَلَمْ يَزَلْ يَرَى شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ شَيْءٍ، وَيَسْأَلُ حَتَّى يُقَالَ لَهُ: اذْهَبْ فَلَكَ مَا سَعَتْ قَدَمَاكَ، وَمَا رَأَتْ عَيْنَاكَ، فَيَسْعَى حَتَّى يَكَدَّ أَشَارَ بِيَدِهِ، قَالَ: هَذَا وَهَذَا، فَيُقَالُ لَهُ: هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ، فَيَرْضَى حَتَّى يَرَى أَنَّهُ أَعْطَاهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: لَوْ أُذِنَ لِي أَدْخَلْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ طَعَامًا، وَشَرَابًا، وَكِسْوَةً مِمَّا أَعْطَانِي اللَّهُ، وَلَا يَنُقُصُنِي ذَلِكَ شَيْئًا» "". وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAwf ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said he knew the last of the people of Paradise to enter: a man who used to say, O Allah, remove me from the Fire, without saying admit me to Paradise. When the people of Paradise enter Paradise and the people of the Fire enter the Fire, that man remains and says, O my Lord, why am I here. Allah says, that is what you asked Me, O son of Adam. He says, O my Lord, bring me near Paradise. Allah says, O son of Adam, you never asked Me. Then Allah raises for him a tree at the gate of Paradise, and he says, O my Lord, bring me near this tree to eat of its fruit and shade in its shade. Allah says, O son of Adam, did you not ask Me only to remove you from the Fire. He keeps asking until it is said to him, go, yours is what your feet reach and your eyes see. > **"O Allah, remove me from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے اُس شخص کے بارے میں پتا ہے جو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہو گا ، وہ ایک ایسا شخص ہو گا جو یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے جہنم سے دور کر دے ، وہ یہ نہیں کہے گا : تو مجھے جنت میں داخل کر دے ، جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم ، جہنم میں داخل ہو جائیں گے اور صرف وہ شخص باقی رہ جائے گا ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! کیا وجہ ہے کہ میں یہاں ہوں ؟ پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! یہ وہ چیز ہے جو تم نے مجھ سے مانگی تھی ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے جنت کے قریب کر دے ، پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے تو مجھ سے مانگنا نہیں تھا ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ جنت کے دروازے کے پاس اس کے لیے ایک درخت پیدا کرے گا ، وہ شخص یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں رہوں ، تو پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے تو صرف مجھ سے یہ سوال کیا تھا کہ میں تمہیں جہنم سے دور کر دوں ، وہ شخص مسلسل مانگتا رہے گا ، یہاں تک کہ اس سے کہا جائے گا : تم جاؤ ! تمہیں وہ سب ملتا ہے ، جہاں تک کہ تمہارے قدم پہنچیں گے اور جہاں تک تمہاری آنکھیں دیکھیں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! یہ وہ چیز ہے جو تم مجھ سے مانگ رہے تھے ، اسی دوران اس کے سامنے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت نظر آئے گا ، جو جنت کے اندرونی حصے میں ہو گا ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں آ جاؤں ، پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے تو مجھ سے ( مزید کچھ ) مانگنا نہیں تھا ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیری مثال کہاں ہے ، تو وہ شخص مسلسل یہی کرتا رہے گا کہ جب زیادہ بہتر چیز دیکھے گا تو وہ مانگنا شروع کر دے گا ، یہاں تک کہ اس سے یہ کہا جائے گا : تم جاؤ ! تمہیں وہ سب کچھ ملتا ہے ، جہاں تک تمہارے قدم جائیں اور جو تمہاری آنکھیں دیکھیں ، تو وہ دوڑے گا ، یہاں تک کہ وہ تھک جائے گا ، اور وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے کہے گا : یہ اور یہ ، تو اُسے کہا جائے گا : یہ تمہیں ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے ، تو وہ راضی ہو جائے گا ، یہاں تک کہ وہ یہ سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے ، وہ اہل جنت میں سے کسی کو عطا نہیں کیا ، وہ کہے گا : اگر مجھے اجازت دی جائے تو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے دیا ہے ، میں اُس میں سے اہل جنت کو کھانا ، مشروب اور لباس فراہم کروں ، پھر بھی جو کچھ میرے پاس ہے ، اس میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔‘‘ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18672

Majma al-Zawaid #18672

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ آخِرَ رَجُلٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ: رَجُلٌ يَتَقَلَّبُ عَلَى الصِّرَاطِ ظَهْرًا لِبَطْنٍ، كَالْغُلَامِ يَضْرِبُهُ أَبُوهُ، وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ يَعْجَزُ عَنْ عَمَلِهِ أَنْ يَسْعَى، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، بَلِّغْ بِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَنَجِّنِي مِنَ النَّارِ، فَيُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ: عَبْدِي، إِنْ نَجَّيْتُكَ مِنَ النَّارِ، وَأَدْخَلْتُكَ الْجَنَّةَ أَتَعْتَرِفُ لِي بِذُنُوبِكَ وَخَطَايَاكَ؟ فَيَقُولُ الْعَبْدُ: نَعَمْ يَا رَبِّ، وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ، لَئِنْ نَجَّيْتَنِي مِنَ النَّارِ لَأَعْتَرِفَنَّ لَكَ بِذُنُوبِي وَخَطَايَايَ، فَيَجُوزُ الْجِسْرَ، وَيَقُولُ الْعَبْدُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ: لَئِنِ اعْتَرَفْتُ بِذُنُوبِي وَخَطَايَايَ لَيَرُدُّنِي إِلَى النَّارِ، فَيُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ: عَبْدِي اعْتَرِفْ لِي بِذُنُوبِكَ وَخَطَايَاكَ أَغْفِرْهَا لَكَ، وَأُدْخِلْكَ الْجَنَّةَ، فَيَقُولُ الْعَبْدُ [لَا]: وَعَزَّتِكَ، مَا أَذْنَبْتُ ذَنْبًا قَطُّ، وَلَا أَخْطَأْتُ خَطِيئَةً قَطُّ، فَيُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ: عَبْدِي، إِنَّ لِي عَلَيْكَ بَيِّنَةً، فَيَلْتَفِتُ الْعَبْدُ يَمِينًا وَشِمَالًا، فَلَا يَرَى أَحَدًا فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَرِنِي بَيِّنَتَكَ، فَيُنْطِقُ اللَّهُ جِلْدَهُ بِالْمُحَقَّرَاتِ، فَإِذَا رَأَى ذَلِكَ الْعَبْدُ يَقُولُ: يَا رَبِّ عِنْدِي وَعَزَّتِكَ الْمُضْمَرَاتُ، فَيُوحِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَيْهِ: عَبْدِي، أَنَا أَعْرَفُ بِهَا مِنْكَ، اعْتَرِفْ لِي بِهَا أَغْفِرْهَا لَكَ، وَأُدْخِلْكَ الْجَنَّةَ، فَيَعْتَرِفُ الْعَبْدُ بِذُنُوبِهِ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ، يَقُولُ: هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً، فَكَيْفَ بِالَّذِي فَوْقَهُ؟!» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَضُعَفَاءُ فِيهِمْ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the last man to enter Paradise is one turning upon the bridge on back and belly, like a boy his father beats while he flees, unable by his deeds to hasten. He says, O my Lord, convey me to Paradise and save me from the Fire. Allah reveals to him, My servant, if I save you from the Fire and admit you to Paradise, will you confess to Me your sins and errors. The servant says, yes my Lord, by Your might and majesty, if You save me from the Fire I shall confess my sins and errors. He crosses the bridge, then says to himself, if I confess my sins and errors He will return me to the Fire. Allah reveals to him, My servant, confess to Me your sins and errors and I shall forgive them and admit you to Paradise. The servant says, nay, by Your might, I never committed a sin nor erred at all. Allah reveals to him, My servant, I have proof against you. The servant looks right and left, seeing no one, and says, O my Lord, show me Your proof. Allah makes his skin speak of minor sins, and seeing that the servant says, O my Lord, by Your might I have hidden ones. Allah, the Mighty and Majestic, reveals to him, My servant, I know them better than you, confess them and I shall forgive them and admit you to Paradise. The servant confesses his sins and He admits him to Paradise. Then the Messenger of Allah ﷺ laughed until his molars appeared, saying, this is the lowest of the people of Paradise in station, so how of those above him. > **"My servant, confess to Me your sins and errors and I shall forgive them and admit you to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص وہ ہو گا جو پل صراط پر یوں لوٹ رہا ہو گا ، جیسے کسی لڑکے کی اس کا باپ پٹائی کرے اور وہ لڑکا اس سے بھاگنا چاہتا ہو ، اس شخص کا عمل اسے اس قابل نہیں رہنے دے گا کہ وہ دوڑ سکے ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے جنت تک پہنچا دے اور مجھے جہنم سے نجات دیدے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! اگر میں نے تجھے جہنم سے نجات دیدی اور میں نے تجھے جنت میں داخل کر دیا ، تو کیا تو میرے سامنے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لے گا ؟ بندہ جواب دے گا : جی ہاں ! اے میرے پروردگار ! تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ہے ! اگر تو نے مجھے جہنم سے نجات عطا کر دی تو میں تیرے سامنے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لوں گا ، وہ پل صراط کو پار کر لے گا ، پھر وہ شخص یہ سوچے گا اگر میں نے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لیا ، تو اللہ تعالیٰ مجھے جہنم کی طرف واپس بھیج دے گا ، اللہ تعالیٰ اس بندے کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! تو میرے سامنے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لے تاکہ میں تیری مغفرت کر دوں اور تجھے جنت میں داخل کر دوں ، تو بندہ کہے گا : جی نہیں ! تیری عزت کی قسم ! میں نے کبھی کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا اور میں نے کبھی کوئی خطا نہیں کی ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! تمہارے خلاف میرے پاس ایک ثبوت ہے ، وہ بندہ اپنے دائیں بائیں دیکھے گا ، اُسے کوئی نظر نہیں آئے گا ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو اپنا ثبوت مجھے دکھا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی جلد کو گویائی عطا کرے گا ، تو وہ حقیر سمجھے جانے والے گناہوں کا اعتراف کرے گی ، جب بندہ یہ صورتحال دیکھے گا تو وہ یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیری عزت کی قسم میرے کچھ ایسے گناہ بھی ہیں ، جو پوشیدہ ہیں ، تو پروردگار اس کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! میں ان کے بارے میں تم سے زیادہ بہتر جانتا ہوں ، تم میرے سامنے ان کے حوالے سے اعتراف کر لو ، میں ان کے حوالے سے تمہاری مغفرت کر دوں گا اور تمہیں جنت میں داخل کر دوں گا ، تو بندہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر لے گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے ، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ اس شخص کا حال ہے جو اہل جنت میں سب سے کم تر مرتبہ کا ہو گا ، تو اس کا کیا حال ہو گا ؟ جو اس سے اوپر ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ان میں ضعیف راوی ہیں جن کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔

18673

Majma al-Zawaid #18673

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ: رَجُلٌ مَرَّ بِهِ رَبُّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ لَهُ: قُمْ. فَادْخُلِ الْجَنَّةَ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَابِسًا، فَقَالَ: وَهَلْ أَبْقَيْتَ لِي شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ. لَكَ مِثْلُ مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ أَوْ غَرَبَتْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هُبَيْرَةَ بْنِ مَرْيَمَ، وَهُوَ ثِقَةٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ طَوِيلٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ ذَكَرْتُهُ فِي بَابٍ جَامِعٍ فِي الْبَعْثِ، وَهُوَ أَبْيَنُ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that the last of the people of Paradise to enter is a man whose Lord, the Mighty and Majestic, passes by him and says to him, rise and enter Paradise. He turns to Him frowning and says, have You left anything for me. He says, yes, yours is the like of all the sun has risen and set upon. > **"Yours is the like of all the sun has risen and set upon."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ جنت میں داخل ہونے والا آخری فرد وہ ہو گا جس کے پاس سے اس کا پروردگار گزرے گا اور اس سے فرمائے گا : تم اُٹھو اور جنت میں داخل ہو جاؤ ، تو وہ ماتھے پر بل ڈال کر اس کی طرف متوجہ ہو گا اور کہے گا : کیا تو نے میرے لیے کوئی چیز باقی رہنے دی ہے ؟ پروردگار فرمائے گا : جی ہاں ! تمہیں اس کی مانند ملتا ہے ، جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہبیرہ بن یریم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ایک ’’ صحیح ‘‘ طویل حدیث گزر چکی ہے جسے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ، میں نے اُسے باب : دوبارہ زندہ کیے جانے ( سے متعلق روایات ) کا مجموعہ میں ذکر کیا ہے اور وہ ان روایات سے زیادہ واضح ہے ۔

18674

Majma al-Zawaid #18674

عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْبُلْهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Prophet ﷺ said that most of the people of Paradise are the simple-minded. > **"Most of the people of Paradise are the simple-minded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل جنت میں اکثریت سادہ لوح لوگوں کی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

18675

Majma al-Zawaid #18675

عَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُ «سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ مَنْ تَبِعَنِي مِنْ أُمَّتِي [يَوْمَ الْقِيَامَةِ] رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". قَالَ: فَكَبَّرْنَا. ثُمَّ قَالَ: "" أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا ثُلُثَ النَّاسِ "". قَالَ: فَكَبَّرْنَا، ثُمَّ قَالَ: "" أَرْجُو أَنْ يَكُونُوا الشَّطْرَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Prophet ﷺ saying that he hoped those of his nation who followed him on the Day of Resurrection would be a quarter of the people of Paradise, so they magnified Allah. Then he said he hoped they would be a third of mankind, so they magnified Allah, then he said he hoped they would be half. > **"I hope those of my nation who follow me will be a quarter of the people of Paradise, then a third, then half."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مجھے یہ امید ہے کہ میری امت میں سے جو لوگ میری پیروی کریں گے ، قیامت کے دن وہ اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ہم نے تکبیر کہی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ امید ہے کہ وہ لوگوں کا ( یعنی اہل جنت کا ) ایک تہائی حصہ ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : تو ہم نے تکبیر کہی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ امید ہے کہ وہ ( یعنی میری امت کے افراد ، اہل جنت کا ) نصف ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ہزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال اسی طرح ہیں ۔

18676

Majma al-Zawaid #18676

وَعَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ، أُمَّتِي مِنْهَا ثَمَانُونَ صَفًّا، وَسَائِرُ الْأُمَمِ أَرْبَعُونَ صَفًّا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abu Musa, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that the people of Paradise are a hundred and twenty rows, eighty of them his nation and forty the rest of the nations. > **"The people of Paradise are a hundred and twenty rows, eighty of them my nation and forty the rest of the nations."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی اور اُن میں سے میری امت کی اسّی صفیں ہوں گی اور باقی تمام امتوں کی چالیس صفیں ہوں گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔