Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 45 · Chapter 2

Book of the Description of Hell

Hadith 18608–18636

29 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18608

Majma al-Zawaid #18608

وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ حَيَّانَ التَّيْمِيِّ قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا، وَحُصَيْنُ بْنُ سَبْرَةَ، وَعُمَرُ بْنُ مُسْلِمٍ، إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَحَدَّثَنَا فِي مَجْلِسِهِ ذَلِكَ، قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ النَّارِ لَيُعَظَّمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ الضِّرْسُ مِنْ أَضْرَاسِهِ مِثْلَ أُحُدٍ. قُلْتُ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوَيلٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Yazid ibn Hayyan al-Taymi reports that he, Husayn ibn Sabrah and ʿUmar ibn Muslim went to Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with him, who narrated in that gathering that a man of the people of the Fire will be magnified for the Fire until a single molar of his is like Mount Uhud. > **"A man of the people of the Fire will be magnified for the Fire until a molar of his is like Uhud."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن حیان تمیمی بیان کرتے ہیں : میں ، حصین بن سبرہ اور عمر بن اسلم ، حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اس محفل کے دوران حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ حدیث بیان کی : ’’ اہل جہنم میں سے کوئی شخص جہنم کے لیے اتنا بڑا ہو گا کہ اُس کی داڑھوں میں سے کوئی ایک داڑھ اُحد پہاڑ کی مانند ہو گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18609

Majma al-Zawaid #18609

وَعَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: قَالَ ابْنُ الْعَبَّاسِ: أَتَدْرِي مَا سِعَةُ جَهَنَّمَ؟ قُلْتُ: لَا قَالَ: أَجَلْ وَاللَّهِ مَا تَدْرِي أَنَّ بَيْنَ شَحْمَةِ أُذُنِهِمْ وَبَيْنَ عَاتِقِهِ مَسِيرَةَ سَبْعِينَ خَرِيفًا، تَجْرِي مِنْهُ أَوْدِيَةُ الْقَيْحِ، قُلْتَ: أَنْهَارًا؟ قَالَ: بَلْ أَوْدِيَةً، فَذَكَرَ الَحْدِيثَ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَنْبَسَةِ بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Mujahid reports that Ibn al-ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, asked whether he knew the vastness of Hell. When he said no, Ibn ʿAbbas said that between their earlobes and shoulders is seventy autumns, with valleys of pus flowing therefrom. When asked whether they were rivers, he said rather valleys, and then he mentioned the hadith. > **"Do you know the vastness of Hell? Between their earlobes and shoulders is seventy autumns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ جہنم کی وسعت کتنی ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! تم یہ نہیں جانتے کہ اہل جہنم کے کانوں کی لو سے لے کر اس کی گردن کے درمیان کا فاصلہ ستر برس کا ہو گا اور اس میں پیپ اور خون کی وادیاں بہہ رہی ہوں گی ، میں نے کہا : کیا نہریں ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ وادیاں ...... اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عنبسہ بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18610

Majma al-Zawaid #18610

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: «وَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" ضِرْسُ الْكَافِرِ مِثْلُ أُحُدٍ، وَغِلَظُ جِلْدِهِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا بِذِرَاعِ الْجَبَّارِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ was asked and said that the molar of the disbeliever is like Mount Uhud, and the thickness of his skin forty cubits by the cubit of al-Jabbar. > **"The molar of the disbeliever is like Uhud, and the thickness of his skin forty cubits by the cubit of al-Jabbar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کافر کی داڑھ اُحد پہاڑ کی مانند ہو گی اور اس کی جلد کی موٹائی چالیس ذراع ہو گی ، جو جبار ( یعنی اللہ تعالیٰ ) کے ذراع کے حساب سے ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن منصور ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18611

Majma al-Zawaid #18611

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ [أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ] قَالَ: "" «أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنَ النَّارِ إِبْلِيسُ، فَيَضَعُهَا عَلَى حَاجِبِهِ - أَوْ حَاجِبَيْهِ - وَيَسْحَبُهَا مَنْ بَعْدَهُ وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ - أَوْ مِنْ خَلْفِهِ - وَهُوَ يُنَادِي: يَا ثُبُورَاهْ، وَيُنَادُونَ: يَا ثُبُورَهُمْ مَرَّتَيْنِ، حَتَّى يَقِفُوا عَلَى النَّارِ فَيَقُولُ: يَا ثُبُورَاهُ، وَيَقُولُونَ: يَا ثُبُورِهِمْ فَيُقَالُ لَهُمْ: لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا، وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the first to be clothed with a garment of the Fire is Iblis, who will place it upon his eyebrow and drag it after him while his offspring follow behind him, he crying O my destruction and they crying O their destruction twice, until they stand over the Fire, whereupon he says O my destruction and they say O their destruction, and it will be said to them, call not this day for one destruction but call for many destructions. > **"The first to be clothed with a garment of the Fire is Iblis, who will place it upon his eyebrow and drag it after him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ سب سے پہلے آگ کا حلہ ابلیس کو پہنایا جائے گا ، وہ اسے اپنی ’’ بھنو ‘‘ پر رکھے گا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بھنووں پر رکھے گا اور اپنے پیچھے کھینچ کر چلے گا ، اس کی ذریت اس کے بعد ہو گی ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے پیچھے ہو گی اور وہ پکار کر کہہ رہا ہو گا : ہائے بربادی ! اور اس کی ذریت کے لوگ دو مرتبہ کہیں گے : ہائے بربادی ، یہاں تک کہ وہ لوگ جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے ، تو ابلیس کہے گا : ہائے میری بربادی ، اور وہ لوگ کہیں گے : ہائے ہماری بربادی ، تو ان سے کہا جائے گا : آج تم ایک مرتبہ بربادی کا نہ کہو ، بلکہ تم بکثرت بربادی کا تذکرہ کرو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18612

Majma al-Zawaid #18612

وَعَنْ أَبِي سَعْدٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَقْبَلَتِ النَّارُ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَخَزَنَتُهَا يَكُفُّونَهَا وَهِيَ تَقُولُ: وَعِزَّةِ رَبِّي، لَيُخَلَّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي، أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدَةً. فَيَقُولُونَ: وَمَنْ أَزْوَاجُكَ؟ فَتَقُولُ: كُلُّ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ، فَتُخْرِجُ لِسَانَهَا فَتَلْتَقِطُهُمْ مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ، فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَوْفِهَا، ثُمَّ تَسْتَأْخِرُ، ثُمَّ تُقْبِلُ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَخَزَنَتُهَا يَكْفُّونَهَا، وَهِيَ تَقُولُ: وَعِزَّةِ رَبِّي، لَيُخَلَّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدَةً. فَيَقُولُونَ: وَمَنْ أَزْوَاجُكِ؟ فَتَقُولُ: كُلُّ جَبَّارٍ كَفُورٍ. فَتَلْتَقِطُهُمْ بِلِسَانِهَا مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ، فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَوْفِهَا، ثُمَّ تَسْتَأْخِرُ، ثُمَّ تُقْبِلُ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا، وَخَزَنَتُهَا يَكُفُّونَهَا، وَهِيَ تَقُولُ: وَعِزَّةِ رَبِّي، لَيُخَلَّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدَةً. فَيَقُولُونَ: وَمَنْ أَزْوَاجُكِ؟ فَتَقُولُ: كُلُّ جَبَّارٍ فَخُورٍ، فَتَلْتَقِطُهُمْ بِلِسَانِهَا فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَوْفِهَا، ثُمَّ تَسْتَأْخِرُ وَيَقْضِي اللَّهُ بَيْنَ الْعِبَادِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid, may Allah be pleased with him, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying that when Allah gathers mankind in one plain on the Day of Resurrection, the Fire will advance with parts riding upon parts, its keepers holding it back, while it says, by the might of my Lord, either leave me with my spouses or I shall envelop mankind all at once. They will say, who are your spouses. It will say, every arrogant tyrant, then it will extend its tongue and snatch them from among the people and hurl them into its belly, then withdraw. Then it will advance again with parts riding upon parts while its keepers hold it back, saying, by the might of my Lord, either leave me with my spouses or I shall envelop mankind all at once. They will say, who are your spouses. It will say, every tyrannical disbeliever, and snatch them with its tongue and hurl them into its belly, then withdraw. Then it will advance a third time saying likewise, and they will ask who its spouses are, and it will say, every tyrannical boaster, snatching them with its tongue and hurling them into its belly, then withdraw, and Allah will judge between the servants. > **"By the might of my Lord, either leave me with my spouses or I shall envelop mankind all at once."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا ، تو جہنم آئے گی ، جس کا ایک حصہ دوسرے پر سوار ہو رہا ہو گا اور اس کے نگران فرشتے اسے روک رہے ہوں گے اور وہ یہ کہہ رہی ہو گی : میرے پروردگار کی عزت کی قسم ہے ، یا تو میرے متعلقہ افراد میرے حوالے کر دیے جائیں ، ورنہ میں سب لوگوں کو ایک ساتھ گرفت میں لے لوں گی ، فرشتے دریافت کریں گے : تمہارے متعلقہ افراد کون ہیں ؟ تو وہ کہے گی : ہر متکبر سرکش ، پھر وہ اپنی زبان نکالے گی اور لوگوں کے درمیان میں سے ان لوگوں کو اچک لے گی اور انہیں اپنے پیٹ میں پھینک دے گی ، پھر وہ واپس آئے گی تو اس کا ایک حصہ دوسرے پر سوار ہو رہا ہو گا اور اس کے نگران فرشتے اسے روک رہے ہوں گے ، وہ کہے گی : میرے پروردگار کی عزت کی قسم ہے ، یا تو میرے متعلقہ افراد کو میرے حوالے کر دو ، یا پھر میں سب ہی لوگوں کو ایک ساتھ اپنی گرفت میں لے لوں گی ، فرشتے دریافت کریں گے : تمہارے متعلقہ افراد کون ہیں ؟ وہ جواب دے گی : ہر ناشکرا سرکش ، پھر وہ ان لوگوں کو دوسرے لوگوں کے درمیان میں سے اچک لے گی اور انہیں اپنے پیٹ میں ڈال دے گی ، پھر وہ واپس آئے گی تو اس کا ایک حصہ دوسرے پر سوار ہو رہا ہو گا ، اُس کے نگران فرشتے اسے روک رہے ہوں گے ، وہ کہے گی : میرے پروردگار کی عزت کی قسم ہے ، یا تو میرے متعلقہ افراد کو میرے حوالے کر دو ورنہ میں سب لوگوں کو ایک ساتھ اپنی لپیٹ میں لے لوں گی ، فرشتے دریافت کریں گے : تمہارے متعلقہ افراد کون ہیں ؟ وہ کہے گی : ہر متکبر ، فخر کرنے والا شخص ، پھر وہ اپنی زبان کے ذریعے انہیں پکڑ لے گی اور انہیں اپنے پیٹ میں ڈال دے گی ، پھر وہ پیچھے ہٹ جائے گی ، اور اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے تاہم ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔

18613

Majma al-Zawaid #18613

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتَكَلَّمُ بِلِسَانٍ طَلِقٍ ذَلِقٍ، لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرُ بِهِمَا، وَلَهَا لِسَانٌ تَكَلَّمُ بِهِ، فَتَقُولُ: إِنِّي أُمِرْتُ بِمَنْ جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ، وَبِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، وَبِمَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ، فَتَنْطَلِقُ بِهِمْ قَبْلَ سَائِرِ النَّاسِ بِخَمْسِمِائَةِ عَامٍ» ".

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that a neck will emerge from the Fire on the Day of Resurrection, speaking with an eloquent fluent tongue, having two eyes with which it sees and a tongue with which it speaks, saying it has been commanded to seize whoever ascribed another god with Allah, every obstinate tyrant, and whoever killed a soul without right, then it will carry them off five hundred years before the rest of mankind. > **"I have been commanded to seize whoever ascribed another god with Allah, every obstinate tyrant, and whoever killed a soul without right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن جہنم میں سے گردن نکلے گی اور فصیح و بلیغ زبان میں کلام کرے گی ، اس کی دو آنکھیں ہوں گی ، جن کے کے ذریعے وہ دیکھے گی اور اس کی ایک زبان ہو گی ، جس کے ذریعے وہ کلام کرے گی اور یہ کہے گی : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کا قائل تھا اور ہر سرکش متکبر کو اور جس نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو ( اس کو بھی گرفت میں لینے کا مجھے حکم دیا گیا ہے ) باقی سب لوگوں سے پانچ سو سال پہلے وہ انہیں لے کر چلی جائے گی ۔‘‘

18614

Majma al-Zawaid #18614

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «فَتَنْطَوِي عَلَيْهِمْ فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَهَنَّمَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration, it will fold over them and hurl them into Hell. > **"It will fold over them and hurl them into Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” وہ انہیں اپنی لپیٹ میں لے گی اور انہیں جہنم میں پھینک دے گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام احمد نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، طبرانی نے معجم اوسط میں اسے نقل کیا ہے ، طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18615

Majma al-Zawaid #18615

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ قَالَ: قُلْتُ لِبِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ: إِنَّ أَبَاكَ حَدَّثَنِي عَنْ جَدِّكَ، «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" إِنَّ فِي جَهَنَّمَ وَادِيًا، فِي الْوَادِي بِئْرٌ يُقَالُ لَهَا: هَبْهَبُ، حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُسْكِنَهَا كُلَّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Muhammad ibn Wasiʿ reports that he said to Bilal ibn Abi Burdah that his father narrated from his grandfather, from the Messenger of Allah ﷺ, that in Hell is a valley, and in the valley a well called Habhab, and it is binding upon Allah to lodge therein every obstinate tyrant. > **"In Hell is a valley, and in the valley a well called Habhab, and it is binding upon Allah to lodge therein every obstinate tyrant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن واسع بیان کرتے ہیں : میں نے بلال بن ابوبردہ سے کہا : آپ کے والد ( ابوبردہ ) نے مجھے آپ کے دادا ( حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے منقول یہ حدیث سنائی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جہنم میں ایک وادی ہے ، اُس وادی میں ایک کنواں ہے جس کا نام ’’ ہبہب ‘‘ ہے ، اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ ہر ظالم سرکش کو اس میں ٹھہرائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ازہر بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18616

Majma al-Zawaid #18616

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ سَفِيهٍ جَعْظَرِيٍّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said, asking whether he should inform them of the people of the Fire: every foolish, coarse person. > **"Shall I not inform you of the people of the Fire? Every foolish coarse person."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ، ہر بے وقوف بدتمیز شخص ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18617

Majma al-Zawaid #18617

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عِنْدَ ذِكْرِ النَّارِ: "" أَهْلِ النَّارِ كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ، مُسْتَكْبِرٍ، جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ، وَأَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr ibn al-ʿAs, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said at the mention of the Fire that the people of the Fire are every coarse, swaggering, arrogant hoarder and withholder, while the people of Paradise are the weak and overpowered. > **"The people of the Fire are every coarse, swaggering, arrogant hoarder and withholder, while the people of Paradise are the weak and overpowered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جہنم کے ذکر کے دوران نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : ’’ اہل جہنم ، ہر بدتمیز ، بدماغ ، متکبر ، ( مال کو ) بہت زیادہ جمع کرنے والا ، ( اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ) روکنے والا ، اور اہل جنت ( دنیا میں ) کمزور اور مغلوب لوگ ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18618

Majma al-Zawaid #18618

وَعَنِ ابْنِ غُنْمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ الْجَعْظَرِيُّ، وَالْعُتُلُّ الزَّنِيمُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ عُنْمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

EnglishUnverified translation

Ibn Ghunm reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the swaggering coarse one and the cruel ill-born shall not enter Paradise. > **"The swaggering coarse one and the cruel ill-born shall not enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن غنم روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں بددماغ ، بدتمیز ، جھگڑالو ، نطفہ حرام ، داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، ابن غنم نامی راوی نے نبی اکرم ﷺ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

18619

Majma al-Zawaid #18619

وَعَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ: بَلَغَنِي «عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ: "" يَا سُرَاقَةُ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ؟ "". قَالَ: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" أَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكَلُّ جَعْظَرِيٍّ، جَوَّاظٍ، مُسْتَكْبِرٍ، وَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَالضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ رَاوِيًا لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿUlayy ibn Rabah reports that it reached him from Suraqah ibn Malik, may Allah be pleased with him, that the Prophet ﷺ said to him, O Suraqah, shall I not inform you of the people of Paradise and the people of the Fire. He said, yes, O Messenger of Allah. The Prophet said, as for the people of the Fire, every coarse, swaggering, arrogant one, and as for the people of Paradise, the weak and overpowered. > **"O Suraqah, shall I not inform you of the people of Paradise and the people of the Fire?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن رباح بیان کرتے ہیں : حضرت سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ’’ اے سراقہ ! کیا میں تمہیں اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے تو ہر بددماغ ، بدتمیز ، متکبر ( شخص جہنمی ہے ) اور جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے تو کمزور اور مغلوب لوگ ( جنتی ہیں ) ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

18620

Majma al-Zawaid #18620

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَى قَوْمٍ فَقَبَضَهُ إِلَّا جَعَلَ بَعْدَهُ فَتْرَةً يَمْلَأُ مِنْ تِلْكَ الْفَتْرَةِ جَهَنَّمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَدَقَةِ بْنِ سَابِقٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that he heard the Messenger of Allah ﷺ saying that Allah never sent a prophet to a people and took him but made after him an interval, and from that interval He fills Hell. > **"Allah never sent a prophet to a people and took him but made after him an interval, and from that interval He fills Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو کسی قوم کی طرف مبعوث کیا اور جب اس نبی کو وفات دیدی تو اس کے بعد کچھ زمانہ ایسا رہا ، جس میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا ، اللہ تعالیٰ اس درمیانی زمانے کے لوگوں کے ذریعے جہنم کو بھر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صدقہ بن سابق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18621

Majma al-Zawaid #18621

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِآدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: قُمْ فَجَهِّزْ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى النَّارِ، وَوَاحِدًا إِلَى الْجَنَّةِ "". فَبَكَى أَصْحَابُهُ وَبَكَوْا، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ "". فَخَفَّفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Dardaʾ, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that Allah, the Mighty and Majestic, will say on the Day of Resurrection to Adam, peace be upon him, rise and dispatch of your offspring nine hundred and ninety nine to the Fire and one to Paradise. His Companions wept, then the Messenger of Allah ﷺ told them to raise their heads, swearing by the One in Whose Hand is his soul that his nation among the nations is but like a white hair upon the hide of a black bull, and that lightened it for them. > **"Rise and dispatch of your offspring nine hundred and ninety nine to the Fire and one to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حضرت آدم علیہ السلام سے یہ فرمائے گا : تم اُٹھو اور اپنی ذریت میں سے نو سو ننانوے افراد کو جہنم کی طرف بھجوا دو ! اور ایک فرد کو جنت کی طرف بھجواؤ ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب رونے لگے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : ’’ اپنے سر اٹھاؤ ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، دیگر امتوں کے مقابلے میں ، میری امت کی مثال یوں ہے ، جیسے سیاہ بیل کی کھال پر ، سفید بال موجود ہو ‘‘ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اس سے لوگوں کی طبیعت سنبھلی ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

18622

Majma al-Zawaid #18622

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَبْعَثُ مُنَادِيًا يُنَادِي: يَا آدَمُ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَأْمُرُكَ أَنْ تَبْعَثَ بَعْثًا مِنْ ذُرِّيَّتِكَ إِلَى النَّارِ، فَيَقُولُ آدَمُ: يَا رَبِّ، وَمِنْ كَمْ؟ "" قَالَ: "" فَيُقَالُ لَهُ: مِنْ كُلِّ مِائَةٍ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: مَنْ هَذَا النَّاجِي مِنَّا بَعْدَ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" هَلْ تَدْرُونَ؟ مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي صَدْرِ الْبَعِيرِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah, the Mighty and Majestic, will send a caller proclaiming, O Adam, Allah commands you to dispatch a contingent of your offspring to the Fire. Adam will say, O my Lord, how many. It will be said to him, of every hundred, ninety nine. A man among the people asked, who among us shall be saved after this, O Messenger of Allah. He asked whether they knew that they among mankind are but like a mole upon the chest of a camel. > **"Of every hundred, ninety nine to the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ایک منادی کو بھیجے گا جو یہ اعلان کرے گا : اے حضرت آدم ! اللہ تعالیٰ آپ کو یہ حکم دیتا ہے کہ آپ اپنی ذریت میں سے مخصوص لوگوں کو جہنم کی طرف بھجوا دیں ، حضرت آدم علیہ السلام دریافت کریں گے : اے میرے پروردگار ! کتنے لوگوں کو ؟ تو ان سے کہا جائے گا : ہر ایک سو میں سے ننانوے لوگوں کو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : حاضرین میں سے ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے بعد ہم میں سے کون نجات پائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ دیگر لوگوں کے مقابلے میں تمہاری مثال یوں ہے جیسے اونٹ کے سینے پر تل ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مسلم ہجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18623

Majma al-Zawaid #18623

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «تَلَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذِهِ الْآيَةَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ: "" {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ} [الحج: 1] "" إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَ: "" هَلْ تَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ ذَلِكَ؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "" ذَاكَ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: يَا آدَمُ، قُمْ فَابْعَثْ بَعْثًا إِلَى النَّارِ، فَيَقُولُ: وَمَا بَعْثُ النَّارِ؟ فَيَقُولُ: مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ، وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ "". فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا رُبْعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". ثُمَّ قَالَ: "" إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا شَطْرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اعْمَلُوا وَبَشِّرُوا، فَإِنَّكُمْ بَيْنَ خَلِيقَتَيْنِ لَمْ يَكُونَا مَعَ أَحَدٍ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ: يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَإِنَّمَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ - أَوْ قَالَ: الْأُمَمِ - كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، إِنَّمَا أُمَّتِي جُزْءٌ مِنْ أَلْفِ جُزْءٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ recited this verse while his Companions were with him, O mankind, fear your Lord, indeed the convulsion of the Hour is a tremendous thing, to the end of the verse, then asked whether they knew which day that is. They said Allah and His Messenger know best. He said it is the day Allah, the Mighty and Majestic, says, O Adam, rise and dispatch a contingent to the Fire. Adam asks, what is the contingent of the Fire. He says, of every thousand, nine hundred and ninety nine to the Fire and one to Paradise. That weighed heavily upon the people, so the Messenger of Allah ﷺ said he hoped they would be a quarter of the people of Paradise, then a third of the people of Paradise, then half of the people of Paradise, then said work and receive glad tidings, for they are between two creations that never accompany anyone but multiply him, Gog and Magog, and they among mankind are but like a mole upon the side of a camel or a mark upon the foreleg of a beast, his nation being but one part of a thousand parts. > **"Of every thousand, nine hundred and ninety nine to the Fire and one to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی ، آپ کے اصحاب اس وقت آپ کے پاس موجود تھے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے ) ’’ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو بے شک قیامت کا زلزلہ بڑی چیز ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے اسے آیت کے آخر تک تلاوت کیا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ وہ کیسا دن ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ ایک ایسا دن ہو گا ، جس میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے آدم ! اٹھو اور مخصوص لوگوں کو جہنم کی طرف بھیج دو ! وہ دریافت کریں گے : کتنے مخصوص لوگ ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے لوگ جہنم کی طرف جائیں گے اور ایک فرد جنت کی طرف جائے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : حاضرین پر یہ بات بہت گراں گزری تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے یہ امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو گے ، مجھے یہ امید ہے کہ تم لوگ اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو گے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ عمل کرو اور یہ خوشخبری حاصل کرو ! کہ تم لوگ دو قسم کی مخلوق کے درمیان ہو ، وہ جس کسی کے ساتھ ملیں گے اسے تعداد میں زیادہ کر دیں گے ، وہ یاجوج ماجوج ہیں ، دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) دیگر امتوں کے مقابلے میں تمہاری مثال یوں ہے جیسے اونٹ کے پہلو پر تل ہوتا ہے ، یا جیسے جانور کے بازو پر اُبھرا ہوا نشان ہوتا ہے ، بیشک میری اُمت ایک ہزار اجزاء میں سے ایک جزء ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18624

Majma al-Zawaid #18624

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «نَزَلَتْ: "" {يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ} [الحج: 1] "" إِلَى قَوْلِهِ: "" {عَذَابَ اللَّهِ شَدِيدٌ} [الحج: 2] "" عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ فَرَفَعَ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى ثَابَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ، فَقَالَ: "" أَتَدْرُونَ أَيَّ يَوْمٍ هَذَا؟ يَوْمَ يَقُولُ اللَّهُ لِآدَمَ: قُمْ فَابْعَثْ بَعْثًا إِلَى النَّارِ مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعُمِائَةٍ وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى النَّارِ، وَوَاحِدٌ إِلَى الْجَنَّةِ "". فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" سَدِّدُوا وَقَارِبُوا وَأَبْشِرُوا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَنْتُمْ فِي النَّاسِ إِلَّا كَالشَّامَةِ فِي جَنْبِ الْبَعِيرِ، أَوْ كَالرَّقْمَةِ فِي ذِرَاعِ الدَّابَّةِ، إِنَّ مَعَكُمْ لَخَلِيقَتَيْنِ مَا كَانَتَا فِي شَيْءٍ قَطُّ إِلَّا كَثَّرَتَاهُ: يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ، وَمَنْ هَلَكَ مِنْ كَفَرَةِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the verse, O mankind, fear your Lord, up to His saying, the punishment of Allah is severe, was revealed to the Prophet ﷺ while on a journey, and he raised his voice with it until his Companions gathered to him. He asked whether they knew which day this is, the day Allah says to Adam, rise and dispatch a contingent to the Fire, of every thousand nine hundred and ninety nine to the Fire and one to Paradise. That weighed heavily upon the Muslims, so the Prophet ﷺ said be upright, draw near and receive glad tidings, swearing by the One in Whose Hand is his soul that they among mankind are but like a mole upon the side of a camel or a mark upon the foreleg of a beast, and with them are two creations that never accompany anything but multiply it, Gog and Magog and those perished among the disbelievers of jinn and men. > **"Of every thousand, nine hundred and ninety nine to the Fire and one to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ’’ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو ......‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے :” لیکن اللہ تعالیٰ کا عذاب شدید ہو گا ۔‘‘ یہ آیت نبی اکرم ﷺ پر ایک سفر کے دوران نازل ہوئی ، نبی اکرم ﷺ نے آواز بلند کی ، یہاں تک کہ آپ کے اصحاب آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ وہ کیسا دن ہو گا ؟ اُس دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام سے یہ فرمائے گا : تم اُٹھو اور ہر ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے لوگوں کو جہنم کی طرف بھیج دو اور ایک فرد کو جنت کی طرف بھیجو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : مسلمانوں کو اس سے بڑی پریشانی ہوئی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم ٹھیک رہو ، میانہ روی اختیار کرو اور یہ خوشخبری حاصل کرو ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، دیگر لوگوں کے مقابلے میں تمہاری مثال یوں ہے ، جیسے اونٹ کے پہلو پر تل ہوتا ہے ، یا کسی جانور کے بازو پر ابھرا ہوا نشان ہوتا ہے ، تمہارے ساتھ دو قسم کی مخلوق ایسی ہے کہ وہ جس کسی کے ساتھ ملیں گے ، اُسے تعداد میں زیادہ کر دیں گے ، وہ یاجوج ماجوج ہیں اور جنات اور انسانوں سے تعلق رکھنے والے وہ کافر ہیں جو ہلاک ہو چکے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن مہدی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18625

Majma al-Zawaid #18625

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الْفُسَّاقَ أَهْلُ النَّارِ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنِ الْفُسَّاقُ؟ قَالَ: "" النِّسَاءُ "". قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَلَيْسَ أُمَّهَاتُنَا وَنِسَاؤُنَا وَأَزْوَاجُنَا وَبَنَاتُنَا؟ قَالَ: "" بَلَى. وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ، وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي رَاشِدٍ الْخَيْرَانِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn Shibl, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the wicked are the people of the Fire. When asked who the wicked are, he said, women. A man asked, O Messenger of Allah, are they not our mothers and sisters and wives and daughters. He said yes, but when they are given they are not grateful, and when they are tried they are not patient. > **"The wicked are the people of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمان بن شبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ فساق ، اہل جہنم ہیں ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! فساق کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : عورتیں ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ ہماری مائیں ، ہماری بہنیں اور ہماری بیویاں نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! لیکن جب انہیں کچھ دیا جائے تو وہ شکرگزار نہیں ہوتی ہیں ، اور جب انہیں آزمائش میں مبتلا کیا جائے تو وہ صبر نہیں کرتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوراشد خبرانی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18626

Majma al-Zawaid #18626

وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ: «أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّسَاءَ بِالصَّدَقَةِ، وَحَثَّهُنَّ عَلَيْهَا، وَقَالَ: "" تَصَدَّقْنَ فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ "". فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: لِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! قَالَ: "" لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتُسَوِّفْنَ الْخَيْرَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Hakim ibn Hizam, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ commanded women to give charity and urged them to it, saying give charity for you are most of the people of the Fire. A woman among them asked why, O Messenger of Allah. He said because they curse frequently, delay good, and deny their husbands. > **"Give charity, for you are most of the people of the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے خواتین کو صدقہ کرنے کا حکم دیا اور انہیں اس حوالے سے ترغیب دی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم خواتین صدقہ کرو ! کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے ، اُن میں سے ایک خاتون نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کیوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیونکہ تم ( خواتین ) بکثرت لعنت کرتی ہو اور بھلائی کے بارے میں ٹال مٹول کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18627

Majma al-Zawaid #18627

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بَابُ النَّارِ لَا يَدْخُلُهُ إِلَّا مَنْ يَشْفِي غَيْظَهُ بِسُخْطِ اللَّهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ قُدَامَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ شَيْبَةَ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ، وَقَدْ وُثِّقَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them both, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that none enters the gate of the Fire but one who quenches his anger through the displeasure of Allah. > **"None enters the gate of the Fire but one who quenches his anger through the displeasure of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جہنم کے دروازے میں صرف وہ شخص داخل ہو گا جس نے اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے ذریعے اپنے غصے کو ٹھنڈا کیا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے قدامہ بن محمد کے حوالے سے اسماعیل بن شیبہ سے نقل کی ہے اور وہ دونوں ضعیف ہیں ، ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18628

Majma al-Zawaid #18628

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا رَجُلٌ مُنْتَعِلٌ بِنَعْلَيْنِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ مَعَ أَجْزَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مِنَ النَّارِ إِلَى صَدْرِهِ مَعَ أَجْزَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ فِي النَّارِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ مَعَ أَجْزَاءِ الْعَذَابِ، وَمِنْهُمْ مَنْ قَدِ انْغَمَسَ فِيهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that the lightest of the people of the Fire in punishment is a man wearing two sandals of fire from which his brain boils along with the rest of the punishment, and among them is one in the Fire up to his chest with the rest of the punishment, and among them one in the Fire up to his collarbone with the rest of the punishment, and among them one submerged therein. > **"The lightest of the people of the Fire in punishment is a man wearing two sandals of fire from which his brain boils."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جہنم میں عذاب کے حوالے سے سب سے ہلکا عذاب اُس شخص کو ہو گا جس نے آگ کے جوتے پہنے ہوئے ہوں گے اور اُن کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا اور اس کے ہمراہ عذاب کے دیگر اجزاء بھی ہوں گے ، اُن میں سے کوئی ایسا شخص ہو گا جو سینے تک جہنم میں ہو گا اور اس کے ہمراہ عذاب کے اجزاء ہوں گے ، ان میں کوئی ایسا فرد ہو گا جو گردن تک جہنم میں ہو گا اور اس کے ہمراہ عذاب کے اجزاء ہوں گے اور کوئی ایسا شخص بھی ہو گا جو اُس میں ڈوبا ہوا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18629

Majma al-Zawaid #18629

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقِيلَ لَهُ: هَلْ نَفَعْتَ أَبَا طَالِبٍ بِشَيْءٍ؟ قَالَ: "" أَخْرَجْتُهُ مِنَ النَّارِ إِلَى ضِحْضَاحٍ مِنْهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ was asked whether he benefited Abu Talib in anything, and he said he brought him out of the Fire to its shallows. > **"I brought him out of the Fire to its shallows."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا ، آپ سے دریافت کیا گیا : کیا آپ نے جناب ابوطالب کو کوئی فائدہ پہنچایا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں انہیں جہنم سے نکال کر اُس کے اوپری حصے تک لے آیا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18630

Majma al-Zawaid #18630

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَدْنَى أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا الَّذِي لَهُ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ خَالِدِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reports from the Prophet ﷺ that the least of the people of the Fire in punishment is he who has two sandals of fire from which his brain boils. > **"The least of the people of the Fire in punishment is he who has two sandals of fire from which his brain boils."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل جہنم میں سب سے ہلکا عذاب اُس کو ہو گا جس نے آگ کے بنے ہوئے جوتے پہنے ہوں گے ، اور ان کی وجہ سے اس کا دماغ کھول رہا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف یزید بن خالد بن موہب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18631

Majma al-Zawaid #18631

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا عُذِّبَ بِهِ فِي الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِدْرِيسَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImran ibn Husayn, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever kills himself with a thing in this world will be punished with it in the Hereafter. > **"Whoever kills himself with a thing in this world will be punished with it in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص دنیا میں ، جس چیز کے ذریعے خودکشی کرے گا اُسے آخرت میں اسی چیز کے ذریعے عذاب دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ادریس ہے اور وہ متروک ہے ۔

18632

Majma al-Zawaid #18632

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" «وَاللَّهِ لَا يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ أَحَدٌ حَتَّى يَمْكُثَ فِيهَا أَحْقَابًا "". قَالَ: "" وَالْحِقْبُ بِضْعٌ وَثَمَانُونَ سَنَةً، كُلُّ سَنَةٍ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ يَوْمًا مِمَّا تَعُدُّونَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُسْلِمٍ الْخَشَّابُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them both, reports from the Prophet ﷺ that he swore by Allah that none leaves the Fire until he remains therein for ages, and an age is somewhat more than eighty years, each year three hundred and sixty days by their reckoning. > **"By Allah, none leaves the Fire until he remains therein for ages."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ کی قسم ! کوئی شخص جہنم میں سے اُس وقت تک نہیں نکلے گا جب تک وہ اُس میں ’’ احقاب ‘‘ تک نہیں ٹھہرا رہے گا ، آپ نے فرمایا : ایک ’’ حقب ‘‘ اَسّی سے کچھ زیادہ سال کا ہوتا ہے ، جن میں سے ہر ایک سال ، تین سو ساٹھ دن کا ہو گا ، جو تمہارے شمار کے حساب سے ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن مسلم خشاب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

18633

Majma al-Zawaid #18633

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يُؤْتَى بِالْمَوْتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ كَبْشٌ أَمْلَحُ، فَيُوقَفُ بَيْنَ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ!، فَيَقُولُونَ: لَبَّيْكَ رَبَّنَا. قَالَ: فَيُقَالُ: هَلْ تَعْرِفُونَ هَذَا؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ رَبَّنَا هَذَا الْمَوْتُ، فَيُذْبَحُ كَمَا تُذْبَحُ الشَّاةُ فَيَأْمَنُ هَؤُلَاءِ وَيَنْقَطِعُ رَجَاءُ هَؤُلَاءِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ نَافِعِ بْنِ خَالِدٍ الطَّاحِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that death will be brought on the Day of Resurrection like a black and white ram and stood between Paradise and the Fire, then a caller will call, O people of Paradise, and they will say, at Your service our Lord. It will be said, do you recognise this. They will say, yes our Lord, this is death, then it will be slaughtered as a sheep is slaughtered, so these will be secure and the hope of those will be cut off. > **"Death will be brought on the Day of Resurrection like a black and white ram and slaughtered as a sheep is slaughtered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا اور وہ کجلے دنبے کی مانند ہو گی ، اُسے جنت اور جہنم کے درمیان ٹھہرایا جائے گا ، پھر ایک منادی یہ اعلان کرے گا : اے اہل جنت ! وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم حاضر ہیں ، تو دریافت کیا جائے گا : کیا تم اسے پہچانتے ہو ؟ وہ جواب دیں گے : جی ہاں ! اے ہمارے پروردگار ! یہ موت ہے ، تو اُسے ذبح کر دیا جائے گا ، جیسے بکری کو ذبح کیا جاتا ہے ، تو یہ لوگ ( یعنی اہل جنت ) محفوظ ہو جائیں گے اور وہ لوگ ( یعنی اہل جہنم ) ان کی امید منقطع ہو جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے اسے نقل کیا ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نافع بن خالد طاحی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18634

Majma al-Zawaid #18634

«وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ، فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِمْ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَيْكُمْ يُخْبِرُكُمْ "" أَنَّ الْمَرَدَّ إِلَى اللَّهِ، إِلَى جَنَّةٍ أَوْ نَارٍ، خُلُودٌ بِلَا مَوْتٍ، وَإِقَامَةٌ بِلَا ظَعْنٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ فِيهِ: "" «فِي أَجْسَادٍ لَا تَمُوتُ» "". وَإِسْنَادُ الْكَبِيرِ جَيِّدٌ إِلَّا أَنَّ ابْنَ سَابِطٍ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا. قُلْتُ: الَّذِي سَقَطَ بَيْنَهُمَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيُّ كَمَا رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْإِيمَانِ، وَفِي طَرِيقِهِ مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ، وَقَالَ عَقِبَهُ: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ رِوَاتَهُ مَكْنُونٍ، وَمُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ الزَّنْجِيِّ إِمَامِ أَهْلِ مَكَّةَ وَمُفْتِيهِمْ، إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ قَدْ نَسَبَاهُ إِلَى أَنَّ الْحَدِيثَ لَيْسَ مِنْ صَنْعَتِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Muʿadh ibn Jabal, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ sent him to Yemen, and when he arrived he said, O people, I am the messenger of the Messenger of Allah ﷺ to you, informing you that the return is to Allah, to Paradise or to Fire, an eternity without death and a residence without departure, in bodies that do not die. > **"The return is to Allah, to Paradise or to Fire, an eternity without death and a residence without departure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے انہیں یمن کی طرف بھیجا ، جب وہ ان لوگوں کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : اے لوگو ! میں تم لوگوں کی طرف اللہ کے رسول ﷺ کا نمائندہ ہوں ، اور اللہ کے رسول ﷺ نے تمہیں یہ بات بتائی ہے : ’’ لوٹ کے اللہ کی طرف جانا ہے ، جنت کی طرف ، یا جہنم کی طرف ( جانا ہے ) ہمیشہ رہنے والی ایسی زندگی ، جو موت کے بغیر ہو گی ، اور ایسا رہنا جس میں روانگی نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ ایسے جسم ہوں گے ، جنہیں موت نہیں آئے گی ۔‘‘ معجم کبیر کی سند عمدہ ہے ، البتہ ابن ثابت نامی راوی نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان دونوں کے درمیان عمرو بن میمون اودی نامی راوی ساقط ہے جیسا کہ امام حاکم نے ’’ مستدرک ‘‘ میں ، کتاب الایمان کے آخر میں اسے روایت کیا ہے ، ان کے طریق میں ایک راوی مسلم بن خالد زنگی ہے ، عقبہ کہتے ہیں : یہ حدیث سند کے اعتبار سے صحیح ہے ، اس کے راوی اہل مکہ ہیں اور مسلم بن خالد زنگی ، اہل مکہ کا امام اور ان کا مفتی ہے ، تاہم شیخین ( یعنی امام بخاری اور امام مسلم ) اس بات کے قائل ہیں کہ یہ شخص علم حدیث کا عالم نہیں ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

18635

Majma al-Zawaid #18635

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ قِيلَ لِأَهْلِ النَّارِ: إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ [فِي النَّارِ] عَدَدَ كُلِّ حَصَاةٍ فِي الدُّنْيَا لَفَرِحُوا بِهَا، وَلَوْ قِيلَ لِأَهْلِ الْجَنَّةِ: إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ [فِي الْجَنَّةِ] عَدَدَ كُلِّ حَصَاةٍ [فِي النَّارِ] لَحَزِنُوا، وَلَكِنْ جَعَلَ لَهُمُ الْأَبَدَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ ظَهِيرٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah, meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reports that the Messenger of Allah ﷺ said that if it were said to the people of the Fire that they would remain therein for the number of every pebble in this world, they would rejoice at it, and if it were said to the people of Paradise that they would remain therein for the number of every pebble, they would grieve, but He has made for them eternity. > **"If it were said to the people of the Fire that they would remain for the number of every pebble, they would rejoice, but He has made for them eternity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر اہل جہنم سے یہ کہا جائے : تم جہنم میں اتنا عرصہ رہو گے ، جتنی دنیا میں کنکریاں ہوتی تھیں ، تو وہ اس پر بھی خوش ہو جائیں گے ، اور اگر اہل جنت سے یہ کہا جائے : تم جنت میں اتنا عرصہ رہو گے جتنی دنیا میں کنکریاں ہوتی تھیں ، تو وہ اس پر بھی غمگین ہو جائیں گے ، لیکن ( یعنی اللہ تعالیٰ نے ) ان کے لیے ہمیشہ رہنا طے کر دیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن ظہیر ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

18636

Majma al-Zawaid #18636

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: إِنَّ أَهْلُ النَّارِ يَدْعُونَ مَالِكًا فَلَا يُجِيبُهُمْ أَرْبَعِينَ عَامًا، ثُمَّ يَقُولُ: إِنَّكُمْ مَاكِثُونَ. ثُمَّ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِنْ عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ، فَلَا يُجِيبُهُمْ مِثْلَ الدُّنْيَا، ثُمَّ يَقُولُ: اخْسَئُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ. ثُمَّ يَيْأَسُ الْقَوْمُ فَمَا هُوَ إِلَّا الزَّفِيرُ، وَالشَّهِيقُ تُشْبِهُ أَصْوَاتُهُمْ أَصْوَاتَ الْحَمِيرِ، أَوَّلُهَا شَهِيقٌ وَآخِرُهَا زَفِيرٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them both, reports that the people of the Fire will call upon Malik and he will not answer them for forty years, then he will say, indeed you shall remain. Then they will call upon their Lord saying, our Lord, bring us out of it, and if we return then we are wrongdoers, and He will not answer them for the like of this world, then He will say, remain despised therein and speak not to Me. Then the people will despair, and there will be nothing but sighing and gasping, their voices resembling the voices of donkeys, its beginning a gasp and its end a sigh. > **"Remain despised therein and speak not to Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ اہل جہنم ( جہنم کے داروغہ ) ’’ مالک ‘‘ کو پکاریں گے ، وہ چالیس سال تک انہیں جواب نہیں دے گا ، پھر وہ کہے گا :’’ تم اس میں رہو گے ‘‘ پھر وہ ( یعنی اہل جہنم ) اپنے پروردگار کو پکاریں گے اور یہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو ہمیں اس سے نکال دے ، اگر ہم نے دوبارہ ایسا کیا تو ہم ظالم ہوں گے ۔‘‘ تو پروردگار انہیں جواب نہیں دے گا ، پھر وہ فرمائے گا : ’’ تم اس میں رسوا ہو کر رہو ، اور تم میرے ساتھ کلام نہ کرو ۔‘‘ پھر وہ لوگ مایوس ہو جائیں گے اور پھر صرف چیخ و پکار کے آغاز والی ، اور انتہائی ناپسندیدہ آواز ہو گی اور ان کی آواز گدھے کی آواز کے ساتھ مشابہت رکھتی ہو گی ، جس کا ابتدائی حصہ گھٹا گھٹا ہوتا ہے اور اختتامی حصہ انتہائی ناپسندیدہ ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔