وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَطَالَ بِنَا الْقِيَامَ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا صَلَّى خَفَّفَ فِي قِيَامِهِ، وَفِي ذَلِكَ نَسْمَعُ مِنْهُ يَقُولُ: "" يَا رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ؟! "". ثُمَّ أَهْوَى بِيَدِهِ لِيَتَنَاوَلَ شَيْئًا، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَكَعَ، ثُمَّ أَسْرَعَ بَعْدَ ذَلِكَ، فَلَمَّا سَلَّمَ جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَقَالَ: "" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّهُ قَدْ رَابَكُمْ طُولُ قِيَامِي "". قُلْنَا: أَجَلْ سَمِعْنَاكَ تَقُولُ: "" يَا رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ؟! "". قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا وُعِدْتُمْ فِي الْآخِرَةِ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ عُرِضَ عَلَيَّ حَتَّى النَّارُ، فَأَقْبَلَ عَلَيَّ مِنْهَا حَتَّى حَاذَى بِمَكَانِي، فَخِفْتُ أَنْ تَغْشَاكُمْ، فَقُلْتُ: يَا رَبِّ، وَأَنَا فِيهِمْ؟! فَصَرَفَهَا اللَّهُ عَنْكُمْ، فَأَقْبَلَتْ قِطَعًا كَأَنَّهَا الزَّرَابِيُّ، وَأَشْرَفْتُ فِيهَا إِشْرَافَةً، فَإِذَا فِيهَا عَمْرُو بْنُ حُرْثَانَ: أَخُو بَنِي غِفَارٍ مُنْكَبًّا عَلَى قَوْسِهِ فِي جَهَنَّمَ، وَإِذَا فِيهَا الْحِمْيَرِيَّةُ: صَاحِبَةُ الْقِطِّ الَّذِي رَبَطَتْهُ، فَلَمْ تُطْعِمْهُ وَلَمْ تَسْقِهِ، وَلَمْ تُسَرِّحْهُ يَبْتَغِي مَا يَأْكُلُ حَتَّى مَاتَ عَلَى ذَلِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَاللَّفْظُ لَهُ وَفِي الْكَبِيرِ طَرَفٌ مِنْهُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَكَذَلِكَ بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
EnglishUnverified translation
ʿUqbah ibn ʿAmir al-Juhani, may Allah be pleased with him, reports that they prayed with the Messenger of Allah ﷺ and he lengthened the standing, though he would usually shorten it, and they heard him saying, O my Lord, while I am among them. He then reached out his hand as if to grasp something, then bowed and hastened the remainder. After the greeting he sat and they sat around him, and he said he knew his long standing had troubled them. They confirmed they had heard him say, O my Lord, while I am among them. He swore by the One in Whose Hand is his soul that everything promised in the Hereafter had been shown to him, even the Fire, which advanced until it stood facing his place, so he feared it would envelop them and said, O my Lord, while I am among them, so Allah turned it away from them. It then came in pieces like heavy carpets, and he peered into it and saw in it ʿAmr ibn Hurthan, the brother of Banu Ghifar, fallen upon his bow in Hell, and the Himyari woman, the owner of the cat which she had tied without feeding or watering it nor letting it seek its food until it died. > **"O my Lord, while I am among them?"**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی ، آپ نے طویل قیام کیا ، نبی اکرم ﷺ جب نماز ادا کرتے تھے تو آپ مختصر قیام کیا کرتے تھے ، اس نماز کے دوران ہم نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا : اے میرے پروردگار ! میں ان کے درمیان موجود ہوں ، پھر آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا ، یوں جیسے آپ کوئی چیز پکڑنا چاہتے ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ رکوع میں چلے گئے ، اس کے بعد آپ نے جلدی نماز ادا کر لی ، جب آپ نے سلام پھیرا اور تشریف فرما ہوئے تو ہم بھی آپ کے اردگرد بیٹھ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے یہ بات پتا ہے کہ تم میرے طویل قیام کی وجہ سے پریشان تھے ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! اور ہم نے آپ کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : اے میرے پروردگار ! میں ان کے درمیان موجود ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، آخرت کے بارے میں تمہارے ساتھ جس بھی چیز کا وعدہ کیا گیا ، وہ میرے سامنے پیش کی گئی ، یہاں تک کہ جہنم کو بھی پیش کیا گیا ، تو اس میں سے کچھ میری طرف آیا ، یہاں تک کہ وہ میری جگہ کے مدمقابل آ گیا ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ تمہیں ہی نہ ڈھانپ لے ، تو اس وقت میں نے یہ کہا : اے میرے پروردگار ! میں ان کے درمیان موجود ہوں ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کو تم سے دور کر دیا ، اس کا ایک ٹکڑا آیا تھا جو بچھونے کی مانند تھا ، میں نے اس میں جھانک کر دیکھا تو اس میں عمرو بن حرثان موجود تھا ، جس کا تعلق بنو غفار سے تھا ، وہ جہنم میں اپنی کمان کے ساتھ ٹیک لگائے ہوئے تھا اور اس میں حمیر قبیلے سے تعلق رکھنے والی عورت بھی موجود تھی ، جو ایک بلی کی مالک تھی ، اس نے اس بلی کو باندھ دیا تھا ، وہ اس کو کھانے کے لئے اور پینے کے لیے کچھ نہیں دیتی تھی ، اور اسے کھلا بھی نہیں چھوڑتی تھی کہ وہ خود ہی کچھ کھا لیتی ، یہاں تک کہ وہ بلی اسی حالت میں مر گئی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں اور معجم کبیر میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، بکر بن سہل کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔