وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ عَبْدًا لَيُنَادِي فِي النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ: يَا حَنَّانُ، يَا مَنَّانُ، قَالَ: فَيَقُولُ اللَّهُ لِجِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: اذْهَبْ فَائْتِنِي بِعَبْدِي هَذَا. فَيَنْطَلِقُ جِبْرِيلُ فَيَجِدُ أَهْلَ النَّارِ مُنْكَبِّينَ يَبْكُونَ، فَيَرْجِعُ إِلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيُخْبِرُهُ، فَيَقُولُ: ائْتِنِي بِهِ ; فَإِنَّهُ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَيَجِيءُ بِهِ فَيُوقِفُهُ عَلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيَقُولُ: يَا عَبْدِي، كَيْفَ وَجَدْتَ مَكَانَكَ وَمَقِيلَكَ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، شَرُّ مَكَانٍ وَشَرُّ مَقِيلٍ، فَيَقُولُ: رُدُّوا عَبْدِي، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا كُنْتُ أَرْجُو إِذَا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ تُعِيدَنِي فِيهَا. فَيَقُولُ: دَعُوا عَبْدِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي ظِلَالٍ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
EnglishUnverified translation
Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that a servant shall surely call in the Fire a thousand years, O Ḥannān, O Mannān. Allāh will tell Jibrīl, peace be upon him, to bring this servant, and Jibrīl will find Fire's people fallen weeping, return reporting, be told he is in such a place, bring him to stand before his Lord, who will ask how he found his lodging. He will say, my Lord, worst lodging and rest, and He will command return. > **"A servant shall call a thousand years: O Ḥannān, O Mannān."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک ’’ یا حنان یا منان ‘‘ پکارتا رہے گا ، اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا : تم جاؤ اور میرے اس بندے کو میرے پاس لے کر آؤ ! حضرت جبرائیل علیہ السلام جائیں گے ، وہ اہل جہنم کو پائیں گے ، وہ سر جھکا کر ( یا اوندھے ہو کر ) رو رہے ہوں گے ، وہ ( یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام ) اپنے پروردگار کے پاس واپس آئیں گے اور اس کو یہ بات بتائیں گے ، تو پروردگار فرمائے گا : تم اُس ( بندے ) کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ فلاں فلاں مقام پر ہے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام اسے ساتھ لائیں گے اور اس کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑا کر دیں گے ، پروردگار دریافت کرے گا : اے میرے بندے ! تو نے اپنی جگہ اور ٹھکانے کو کیسا پایا ؟ وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! سب سے بری جگہ اور سب سے برا ٹھکانہ ، پروردگار فرمائے گا : میرے بندے کو واپس لے جاؤ ! وہ بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے یہ امید نہیں تھی کہ اگر تو مجھے اس میں سے نکال دے گا ، تو مجھے واپس اس میں بھیج دے گا ، تو پروردگار فرمائے گا : میرے بندے کو چھوڑ دو !“۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوظلال کا معاملہ مختلف ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔