Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 44 · Chapter 7

Book of Resurrection

Hadith 18545–18567

23 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18545

Majma al-Zawaid #18545

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يَشْفَعُ لِأَكْثَرَ مِنْ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ، وَإِنَّ مِنْ أُمَّتِي لَمَنْ يُعَظَّمُ لِلنَّارِ حَتَّى يَكُونَ رُكْنًا مِنْ أَرْكَانِهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Barzah, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say among his nation are those who intercede for more than Rabīʿah and Muḍar, and among his nation are those magnified for the Fire until a pillar thereof. > **"Among my nation are those interceding for more than Rabīʿah and Muḍar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری اُمت میں ایسا فرد بھی ہو گا جو ربیعہ اور مضر سے زیادہ تعداد میں لوگوں کی شفاعت کرے گا اور میری امت سے تعلق رکھنے والا ایسا فرد بھی ہو گا جو جہنم میں بڑا ہو گا یہاں تک کہ وہ جہنم کے ارکان میں سے ایک رکن ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18546

Majma al-Zawaid #18546

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ مُضَرَ، وَيَشْفَعُ الرَّجُلُ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ، وَيَشْفَعُ عَلَى قَدْرِ عَمَلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي غَالِبٍ قَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said there shall enter Paradise through one man of his nation more than the number of Muḍar, a man intercedes for his household, and intercedes according to his deeds. > **"Through one man shall enter more than Muḍar, each interceding by household and deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے ایک شخص کی شفاعت کی وجہ سے مضر قبیلہ کے لوگوں کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، کوئی شخص اپنے اہل خانہ کے بارے میں شفاعت کرے گا ، آدمی اپنے عمل کے حساب سے شفاعت کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوغالب کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18547

Majma al-Zawaid #18547

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يُعْرَضُ أَهْلُ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُفُوفًا، فَيَمُرُّ بِهِمُ الْمُؤْمِنُونَ فَيَرَى الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ الرَّجُلَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ عَرَفَهُ فِي الدُّنْيَا فَيَقُولُ: يَا فُلَانُ، أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ اسْتَغَثْتَنِي فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا؟ "". قَالَ: "" فَيَذْكُرُ ذَلِكَ الْمُؤْمِنُ، فَيَعْرِفُهُ فَيَشْفَعُ لَهُ إِلَى رَبِّهِ فَيُشَفِّعُهُ فِيهِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ said Fire's people shall be displayed in rows on the Day of Resurrection, and believers will pass them. A man of the Fire recognising a believer from the world will say, O so-and-so, do you remember when you sought my aid for such a need, and the believer will recall, recognise him, intercede to his Lord, and be granted for him. > **"The believer will recall a worldly favour and intercede, and be granted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن اہل جہنم کو صفوں کی شکل میں پیش کیا جائے گا ، مؤمنین اُن کے پاس سے گزریں گے تو اہل جہنم میں سے ایک شخص مؤمنین میں سے ایک شخص کو دیکھے گا ، جس سے وہ دنیا میں واقف تھا اور یہ کہے گا : اے فلاں ! کیا تمہیں یاد ہے ؟ فلاں دن تم نے فلاں فلاں کام کے سلسلے میں مجھ سے مدد لی تھی ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو مؤمن کو وہ بات یاد آ جائے گی ، وہ اُسے پہچان لے گا اور پھر وہ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں اس کی شفاعت کرے گا تو اس شخص کے بارے میں اس کی شفاعت قبول ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

18548

Majma al-Zawaid #18548

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْفَعُ لِلرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said a man shall surely intercede for two or three men. > **"A man shall surely intercede for two or three."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( قیامت کے دن ) کوئی شخص دو یا تین آدمیوں کی شفاعت کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18549

Majma al-Zawaid #18549

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «سَلَكَ رَجُلَانِ مَفَازَةً، أَحَدُهُمَا عَابِدٌ، وَالْآخَرُ بِهِ رَهَقٌ، فَعَطِشَ الْعَابِدُ حَتَّى سَقَطَ، فَجَعَلَ صَاحِبُهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ [وَمَعَهُ مِيضَأَةً فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ، فَيَجْعَلُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ]، وَهُوَ صَرِيعٌ فَقَالَ: وَاللَّهِ، لَئِنْ مَاتَ هَذَا الْعَبْدُ الصَّالِحُ عَطَشًا وَمَعِي مَاءٌ لَا أُصِيبُ مِنَ اللَّهِ خَيْرًا [أَبَدًا]، وَإِنْ سَقَيْتُهُ مَائِي لَأَمُوتَنَّ، فَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّهِ، وَعَزَمَ وَرَشَّ عَلَيْهِ مِنْ مَائِهِ وَسَقَاهُ مِنْ فَضْلِهِ "". قَالَ: "" فَقَامَ حَتَّى قَطَعَ الْمَفَازَةَ "". قَالَ: "" فَيُوقَفُ الَّذِي بِهِ رَهَقٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِلْحِسَابِ فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ فَتَسُوقُهُ الْمَلَائِكَةُ، فَيَرَى الْعَابِدَ، فَيَقُولُ: يَا فُلَانُ، أَمَا تَعْرِفُنِي؟ "" قَالَ: "" فَيَقُولُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا فُلَانٌ الَّذِي آثَرْتُكَ عَلَى نَفْسِي يَوْمَ الْمَفَازَةِ "". قَالَ: "" فَيَقُولُ: بَلَى. أَعْرِفُكَ "". قَالَ: "" فَيَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ: قِفُوا، وَيَجِيءُ حَتَّى يَقِفَ وَيَدْعُوَ رَبَّهُ فَيَقُولَ: يَا رَبِّ، قَدْ تَعْرِفُ يَدَهُ عِنْدِي، وَكَيْفَ آثَرَنِي عَلَى نَفْسِهِ، يَا رَبِّ، هَبْهُ لِي "". قَالَ: "" فَيَقُولُ: هُوَ لَكَ، وَيَأْخُذُ بِيَدِهِ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ ""». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي ظِلَالٍ الْقَسْمَلِيِّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported from the Messenger of Allāh ﷺ that two men crossed a desert, one a worshipper and the other burdened with sin. The worshipper thirsted until fallen, while his companion with a little water in a vessel looked upon him prostrate and swore by Allāh that if this righteous servant dies thirsty with water at hand he shall attain no good from Allāh, yet giving his water means his own death. So relying upon Allāh he resolved, sprinkled and gave him from his surplus, and he rose to cross the desert. He shall be halted for requital for that draught. > **"Relying upon Allāh he gave his surplus water, and shall be requited for that draught."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دو آدمی ایک ویرانے سے گزر رہے تھے ، ان دونوں میں سے ایک عبادت گزار تھا اور دوسرا گناہ گار تھا ، عبادت گزار کو شدید پیاس محسوس ہوئی ، یہاں تک کہ وہ گر گیا ، اس کے ساتھی نے اس کی طرف دیکھا اس کے ساتھی کے پاس ایک مشکیزہ تھا ، جس میں کچھ پانی موجود تھا ، وہ ساتھی اس کی طرف دیکھنے لگا کہ وہ گرا ہوا ہے ، اُس نے سوچا : اللہ کی قسم ! اگر یہ نیک آدمی پیاس کی وجہ سے مر گیا اور میرے پاس پانی ہوا تو مجھے اللہ تعالی کی طرف سے کبھی کوئی بھلائی نصیب نہیں ہو گی ، لیکن اگر میں نے اپنا پانی پلا دیا ، تو میں مر جاؤں گا ، اس نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ، پختہ ارادہ کیا اور اُس ( عبادت گزار ) پر اپنا پانی چھڑکا اور اسے بچا ہوا پانی پلا دیا ، وہ عبادت گزار اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے وہ ویرانہ عبور کر لیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : قیامت کے دن اُس گناہگار کو حساب کے لیے کھڑا کیا جائے گا اور پھر اسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا ، فرشتے اسے لے کے چل پڑیں گے ، وہ اس عبادت گزار کو دیکھے گا اور کہے گا : اے فلاں ! کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ وہ دریافت کرے گا : تم کون ہو ؟ وہ جواب دے گا : میں وہ فلاں شخص ہوں ، جس نے ویرانے سے گزرنے کے موقع پر تمہارے لیے ایثار کیا تھا ، تو وہ کہے گا : جی ہاں ! میں نے تمہیں پہچان لیا ہے ، پھر وہ فرشتوں سے کہے گا : تم ٹھہر جاؤ ! وہ وہاں ٹھہر جائے گا ، وہ ( عبادت گزار ) آئے گا اور کھڑا ہو کر اپنے پروردگار سے دعا کرنا شروع کرے گا اور کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو جانتا ہے اس نے مجھ پر جو احسان کیا تھا اور کیسے میرے لیے ایثار کیا تھا ؟ اے میرے پروردگار ! اس کو مجھے ہبہ کر دے ، تو پروردگار فرمائے گا : وہ تمہارا ہوا !۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو وہ عبادت گزار آئے گا اور اس شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کروا دے گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوظلال قسملی کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

18550

Majma al-Zawaid #18550

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ النَّارِ، فَيُنَادِيهِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ: يَا فُلَانُ، أَمَا تَعْرِفُنِي؟ قَالَ: لَا وَاللَّهِ، مَا أَعْرِفُكَ مَنْ أَنْتَ وَيْحَكَ؟! قَالَ: أَنَا الَّذِي مَرَرْتُ بِكَ فِي الدُّنْيَا فَاسْتَسْقَيْتَنِي شَرْبَةَ [مَاءٍ] فَسَقَيْتُكَ فَاشْفَعْ لِي بِهَا عِنْدَ رَبِّكَ "". قَالَ: "" فَدَخَلَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى رَبِّهِ فِي دَوْرِهِ فَقَالَ: يَا رَبِّ، إِنِّي أَشْرَفْتُ عَلَى [أَهْلِ] النَّارِ فَقَامَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَنَادَى: يَا فُلَانُ، أَمَا تَعْرِفُنِي؟ فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، لَا أَعْرِفُكَ وَمَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا الَّذِي مَرَرْتَ بِي فِي الدُّنْيَا فَاسْتَسْقَيْتَنِي فَسَقَيْتُكَ، فَاشْفَعْ لِي بِهَا عِنْدَ رَبِّكَ، فَشَفِّعْنِي يَا رَبِّ فِيهِ "". قَالَ: "" فَشَفَّعَهُ اللَّهُ فِيهِ، وَأَخْرَجَهُ مِنَ النَّارِ ""». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَبُو عَلِيِّ بْنُ أَبِي سَارَةَ (*)، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said a man of Paradise shall overlook the Fire's people, and a man of the Fire will call, O so-and-so, do you know me? He will say, no by Allāh, who are you, woe to you? He will say, I am he past whom you walked in the world and you asked me for a drink and I gave you, so intercede for me thereby with your Lord. That man will enter to his Lord in His abodes saying, my Lord, I overlooked the Fire and a man therein called me for a draught I once gave, so intercede for him. > **"I gave you a draught in the world, so intercede for me thereby with your Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت سے تعلق رکھنے والا ایک شخص جھانک کر اہل جہنم کی طرف دیکھے گا ، تو اہل جہنم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص پکار کر اسے کہے گا : اے فلاں ! کیا تم مجھے پہچانتے ہو ؟ جنتی کہے گا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! میں تمہیں نہیں پہچانا ، تم کون ہو ؟ تمہارا ستیاناس ہو ! وہ کہے گا : میں وہ شخص ہوں ، جو دنیا میں تمہارے پاس سے گزرا تھا ، تو تم نے مجھ سے پینے کے لئے پانی مانگا تھا ، تو میں نے تمہیں پلا دیا تھا ، اس کی وجہ سے تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں میری شفاعت کرو ! نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : وہ ( جنتی ) شخص اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہو گا جہاں اور بھی لوگ موجود ہوں گے ، وہ کہے گا : اے پروردگار ! میں نے اہل جہنم کی طرف جھانک کر دیکھا ، تو اہل جہنم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے پکار کر کہا : اے فلاں ! کیا تم مجھے پہچانتے نہیں ہو ؟ میں نے کہا : جی نہیں ! اللہ کی قسم ! میں نے تمہیں نہیں پہچانا ، تم کون ہو ؟ اس نے کہا : میں وہ شخص ہوں کہ تم دنیا میں میرے پاس سے گزرے تھے اور تم نے مجھ سے پینے کے لیے مانگا تھا تو میں نے تمہیں پلایا تھا ، تو اب اس کی وجہ سے تم اپنے پروردگار کی بارگاہ میں میری شفاعت کرو ، تو اے میرے پروردگار ! اس کے بارے میں ، تو میری شفاعت قبول فرما لے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو اللہ تعالیٰ اس ( جہنمی ) کے بارے میں اس ( جنتی ) کی شفاعت قبول کرے گا اور اُسے جہنم سے نکال دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن ابوسارہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

18551

Majma al-Zawaid #18551

عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شُفْعَةَ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" «يَقُولُ لِلْوِلْدَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ، فَيَقُولُونَ: يَا رَبَّنَا، يَدْخُلُ آبَاؤُنَا وَأُمَّهَاتُنَا [قَالَ: فَيَأْتُونَ]؟ قَالَ: فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: مَا لِي أَرَاهُمْ مُحْبَنْطِئِينَ، ادْخُلُوا الْجَنَّةَ "". قَالَ: "" فَيَقُولُونَ: يَا رَبِّ، آبَاؤُنَا [وَأُمَّهَاتِنَا]؟! قَالَ: فَيَقُولُ: ادْخُلُوا الْجَنَّةَ أَنْتُمْ وَآبَاؤُكُمْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شُرَحْبِيلَ، وَهُوَ ثِقَةٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْأَوْلَادِ وَوَفَاتِهِمْ، وَفِيمَنِ احْتَسَبَهُمْ فِي كِتَابِ الْجَنَائِزِ، وَتَرْبِيَةِ الْأَوْلَادِ وَالْأَيْتَامِ فِي كِتَابِ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ.

EnglishUnverified translation

Shuraḥbīl ibn Shufʿah reported from some Companions of the Prophet ﷺ that he heard the Prophet ﷺ say to the children on the Day of Resurrection, enter Paradise, and they will say, our Lord, shall our fathers and mothers enter? Allāh will say, why do I see them hesitating, enter Paradise, and they will repeat, our Lord, our fathers and mothers, so He will say, enter Paradise you and your parents. > **"Enter Paradise you and your parents."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شرحبیل بن شفعہ ، نبی اکرم ﷺ کے ایک صحابی کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن بچوں سے کہا جائے گا : تم جنت میں داخل ہو جاؤ ! تو وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ( ہم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے ) جب تک ہمارے آباء اور مائیں داخل نہیں ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو وہ آئیں گے ۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : کیا وجہ ہے ؟ میں ان کو دیکھ رہا ہوں کہ یہ رکے ہوئے ہیں ( پھر وہ ان سے فرمائے گا : ) تم جنت میں داخل ہو جاؤ ! تو وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے آباء اور ہماری مائیں ، تو پروردگار فرمائے گا : تم اور تمہارے آباء ( اور تمہاری مائیں ) جنت میں داخل ہو جاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شرحبیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اولاد اور اُن کی وفات کے بارے میں اور ان کے حوالے سے ثواب کی امید رکھنے کے بارے میں احادیث ، کتاب الجنائز میں گزر چکی ہیں ، جبکہ اولاد اور یتیموں کی تربیت کرنے سے متعلق باب میں ، نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق کتاب میں گزر چکی ہیں ۔

18552

Majma al-Zawaid #18552

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَصَبِيٌّ فِي الطَّرِيقِ، فَلَمَّا رَأَتْ أُمُّ الصَّبِيِّ الْقَوْمَ خَشِيَتْ عَلَى وَلَدِهَا أَنْ يُوطَأَ ; فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى وَتَقُولُ: ابْنِي ابْنِي، وَسَعَتْ فَأَخَذَتْهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ! قَالَ: فَخَفَّضَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" وَلَا، وَاللَّهُ مَا يُلْقِي حَبِيبَهُ فِي النَّارِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ passed with Companions and a boy on the road, and seeing the company the boy's mother feared trampling, rushing crying, my son, my son, seizing him. The company said, O Messenger of Allāh, she would never cast her son into Fire, so the Prophet ﷺ calmed them saying, no, by Allāh, He casts not His beloved into the Fire. > **"She would never cast her son into Fire, nor does Allāh cast His beloved therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اور آپ کے کچھ اصحاب کا گزر ہوا ، راستے میں ایک بچہ موجود تھا ، جب اس کی ماں نے ان لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا تو اسے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ بچہ پیروں تلے نہ آ جائے ، وہ دوڑتی ہوئی آئی ، وہ یہ کہہ رہی تھی : میرا بچہ ، میرا بچہ ، اُس نے دوڑ کے آ کے اس بچے کو پکڑ لیا ، لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں نہیں ڈالے گی راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ بھی اپنے محبوب بندوں کو آگ میں نہیں ڈالے گا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18553

Majma al-Zawaid #18553

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ سَبْيٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: - وَبَلَغَنِي: أَنَّ «رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ أَخَذُوا فَرْخَ طَيْرٍ، فَأَقْبَلَ أَحَدُ أَبَوَيْهِ حَتَّى سَقَطَ فِي أَيْدِي الَّذِي أَخَذَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا تَعْجَبُونَ لِهَذَا الطَّيْرِ؟ أَخَذَ فَرْخَهُ فَأَقْبَلَ حَتَّى سَقَطَ فِي أَيْدِيهِمْ، وَاللَّهِ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِخَلْقِهِ مِنْ هَذَا الطَّيْرِ بِفَرْخِهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَرِجَالُ إِحْدَاهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, may Allāh be pleased with him, reported that captives were brought to the Messenger of Allāh ﷺ, and among them a woman seeking her child, embracing and nursing him. The Prophet ﷺ asked whether she would cast him into Fire, and they said no, so he said Allāh is more merciful to His servants than she to her child. > **"Allāh is more merciful to His servants than this mother to her child."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ قیدی نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے ...... ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ’’ مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک غزوہ کے دوران سفر کر رہے تھے ، اسی دوران آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کسی پرندے کے بچے کو پکڑ لیا ، اُس بچے کے ماں باپ میں سے کوئی ایک آیا اور اس کے ہاتھ پر بیٹھ گیا ، جس نے اس بچے کو پکڑا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس پرندے پر حیران نہیں ہو رہے ہو ؟ اس کے بچے کو پکڑا گیا ، تو یہ آیا اور آ کر اس کے ہاتھ پر بیٹھ گیا ( جس نے اس کے بچے کو پکڑا تھا ) اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بارے میں اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، جتنا یہ پرندہ اپنے بچے پر رحم کرنے والا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18554

Majma al-Zawaid #18554

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَكُونُ قَوْمٌ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا، ثُمَّ يَرْحَمُهُمُ اللَّهُ فَيُخْرِجُهُمْ مِنْهَا، فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ، فَيَغْتَسِلُونَ فِي نَهْرٍ يُقَالُ لَهُ: الْحَيَوَانُ. يُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ: الْجَهَنَّمِيِّينَ، لَوْ ضَافَ أَحَدُهُمْ أَهْلَ الْجَنَّةِ لَعَرَّسَهُمْ وَأَطْعَمَهُمْ، وَسَقَاهُمْ، وَلَحَفَهُمْ "". وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ: "" وَلَزَوَّجَهُمْ لَا يَنْقُصُهُ ذَلِكَ شَيْئًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said peoples shall remain in Fire as long as Allāh wills, then Allāh will mercy them and bring them out to Paradise's lowest, washing in a river called Life. Paradise's people will name them the Hell-dwellers; were one to host Paradise's people he would wed, feed, water, and clothe them without diminishing his own. > **"They shall wash in the river of Life and be named the Hell-dwellers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : کچھ لوگ جہنم میں اُس وقت تک رہیں گے جب تک اللہ کو منظور ہو گا کہ وہ اس میں رہیں ، پھر اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائے گا اور انہیں اُس ( جہنم ) میں سے نکال دے گا ، وہ لوگ جنت کے قریب آئیں گے اور ایک نہر میں غسل کریں گے ، جس کا نام ’’ حیوان ‘‘ ہو گا ( جنت میں ) اہل جنت انہیں ’’ جہنمی ‘‘ کا نام دیں گے ( اور ان کا عالم یہ ہو گا ، جو جہنم سے نکل کر جنت میں آئیں گے ) کہ اگر ان میں سے کوئی ایک شخص چاہے تو تمام اہل دنیا کو مہمان بنا لے ، انہیں بستر فراہم کرے ، انہیں کھانا کھلائے ، انہیں پلائے ، انہیں لحاف فراہم کرنے ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں ) اور اُن کی شادیاں کروا دے ، تو بھی اس ( جہنم سے جنت میں آ جانے والے فرد کو ، جنت میں ملنے والی نعمتوں ) میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عطاء بن سائب کا معاملہ مختلف ہے ، وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

18555

Majma al-Zawaid #18555

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَيَتَمَجَّدَنَّ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى أُنَاسٍ لَمْ يَعْمَلُوا خَيْرًا قَطُّ، فَيُخْرِجُهُمْ مِنَ النَّارِ بَعْدَ مَا احْتَرَقُوا، فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ بَعْدَ شَفَاعَةِ مَنْ يَشْفَعُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh shall surely glorify Himself on the Day of Resurrection over peoples who never did good at all, bringing them out of the Fire burnt, admitting them to Paradise by His mercy after intercessors' intercession. > **"He shall bring out the burnt who never did good, by mercy after intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر بھی مہربانی کرے گا ، جنہوں نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی ہو گی اور انہیں جہنم سے نکال دے گا ، اس کے بعد کہ وہ جل چکے ہوں گے ، اور ( اللہ تعالیٰ ) اپنی رحمت کے وسیلے سے شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کے بعد انہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مولیٰ توامہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18556

Majma al-Zawaid #18556

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يُخْرَجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، فَيُسَمَّوْنَ: الْجَهَنَّمِيُّونَ فِي الْجَنَّةِ، فَيَدْعُونَ اللَّهَ تَعَالَى أَنْ يُحَوِّلَ عَنْهُمْ ذَلِكَ الِاسْمَ، فَيَمْحُوهُ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَإِذَا خَرَجُوا مِنَ النَّارِ» "". قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughīrah ibn Shuʿbah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said peoples shall emerge from the Fire into Paradise named the Hell-dwellers in Paradise. They will pray Allāh to remove that name, and Allāh will erase it from them, for emerging from the Fire the report was recalled. > **"They shall be named Hell-dwellers in Paradise until Allāh erases that name."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جہنم سے کچھ لوگ نکلیں گے اور جنت میں داخل ہو جائیں گے ، جنت میں انہیں ’’ جہنمی ‘‘ کا نام دیا جائے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں گے کہ ان کا یہ نام تبدیل کر دیا جائے ، تو اللہ تعالیٰ ان کا یہ نام مٹا دے گا جب وہ جہنم سے نکل آئے ہوں گے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18557

Majma al-Zawaid #18557

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: أَنَّهُمَا حَدَّثَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ وَفَرَغَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْ قَضَاءِ الْخَلْقِ فَيَبْقَى رَجُلَانِ، فَيُؤْمَرُ بِهِمَا إِلَى النَّارِ، فَيَلْتَفِتُ أَحَدُهُمَا، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ: رُدُّوهُ. فَيَرُدُّونَهُ فَيَقُولُ لَهُ: لِمَ الْتَفَتَّ؟ قَالَ: كُنْتُ أَرْجُو أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ "". قَالَ: "" فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - حَتَّى إِنِّي لَوْ أَطْعَمْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي شَيْئًا "". قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا ذَكَرَهُ يُرَى السُّرُورُ فِي وَجْهِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً.

EnglishUnverified translation

Faḍālah ibn ʿUbayd and ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said when the Day of Resurrection comes and Allāh finishes judging creation, two men will remain and be ordered to the Fire. One will glance back, so the Compeller will say return him, asking why he glanced. He will say he hoped He would admit him to Paradise, so he will be ordered to Paradise, saying Allāh gave him until were he to feed Paradise's people it would diminish nothing with him. > **"He glanced back hoping for Paradise, so he was ordered to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ اور حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ ، یہ دونوں حضرات بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب قیامت کا دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ مخلوق کا فیصلہ کر کے فارغ ہو جائے گا تو دو آدمی باقی رہ جائیں گے ، انہیں جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا ، اُن دونوں میں سے ایک مڑ کے دیکھے گا ، تو پروردگار فرمائے گا : اسے واپس لاؤ ! فرشتے اُسے واپس لائیں گے ، پروردگار اس سے دریافت کرے گا : تم نے مڑ کے کیوں دیکھا تھا ؟ وہ کہے گا : مجھے یہ امید تھی کہ تو مجھے جنت میں داخل کر دے گا ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو اس کو جنت میں لے جانے کا حکم ہو گا ( اور جنت میں اسے اتنی زیادہ نعمتیں نصیب ہوں گی ) وہ شخص کہے گا : اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنا کچھ عطا کیا ہے کہ اگر میں تمام اہل جنت کو کھانا کھلا دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اُس میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ جب یہ حدیث ذکر کرتے تھے تو آپ ﷺ کے چہرے سے خوشی کا اظہار ہوتا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض کو ضعیف قرار دیا گیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : آگے چل کر کچھ احادیث آئیں گی ، جو اس شخص کے بارے میں ہوں گی ، جو اہل جنت میں سب سے کم قدر و منزلت کا مالک ہو گا ۔

18558

Majma al-Zawaid #18558

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «آخِرُ مَنْ يَخْرُجُ مِنَ النَّارِ رَجُلَانِ، يَقُولُ اللَّهُ لِأَحَدِهِمَا: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا أَعْدَدْتَ لِهَذَا الْيَوْمِ؟ هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ أَوْ رَجَوْتَنِي؟ فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، فَيُؤْمَرُ بِهِ إِلَى النَّارِ، وَهُوَ أَشَدُّ أَهْلِ النَّارِ حَسْرَةً، وَيَقُولُ لِلْآخَرِ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ أَوْ رَجَوْتَنِي؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ، كُنْتُ أَرْجُو إِنْ أَخْرَجْتَنِي أَنْ لَا تُعِيدَنِي فِيهَا، وَهُوَ آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَزَادَ: "" هَلْ خِفْتَنِي؟ "". وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd and Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the last to emerge from the Fire are two men. Allāh will say to one, O son of Ādam, what did you prepare for this Day, any good ever or hope in Me? He will say no my Lord, so he will be ordered to the Fire, most remorseful of its people. To the other He will ask the same, and he will say yes my Lord, I hoped if You brought me out You would not return me therein, and he is the last to enter Paradise. > **"The last to emerge are two men, one remorseful to Fire and one hopeful to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جہنم سے نکلنے والوں میں سب سے آخر میں دو افراد ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ان دونوں میں سے ایک سے فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے اس دن کے لئے کیا تیاری کی تھی ؟ کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کی تھی ؟ کیا تم نے مجھ سے امید رکھی تھی ؟ وہ شخص جواب دے گا : جی نہیں ! اے میرے پروردگار ! اُسے جہنم کی طرف لے جانے کا حکم ہو گا اور وہ اہل جہنم میں سب سے زیادہ شدید حسرت کا شکار ہو گا ، وہ ( پروردگار ) دوسرے سے دریافت کرے گا : تم نے کبھی کوئی بھلائی کی تھی ؟ یا تم نے مجھ سے امید رکھی تھی ؟ تو وہ شخص کہے گا : جی ہاں ! اے میرے پروردگار ! مجھے یہ امید تھی کہ اگر تو نے مجھے ( جہنم سے ) نکال دیا ہے ، تو مجھے دوبارہ اس میں نہیں ڈالے گا ( راوی کہتے ہیں ) یعنی جنت میں داخل ہونے والا ، وہ آخری فرد ہو گا ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :” کیا تم مجھ سے ڈرے تھے ؟‘‘۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

18559

Majma al-Zawaid #18559

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ عَبْدًا لَيُنَادِي فِي النَّارِ أَلْفَ سَنَةٍ: يَا حَنَّانُ، يَا مَنَّانُ، قَالَ: فَيَقُولُ اللَّهُ لِجِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: اذْهَبْ فَائْتِنِي بِعَبْدِي هَذَا. فَيَنْطَلِقُ جِبْرِيلُ فَيَجِدُ أَهْلَ النَّارِ مُنْكَبِّينَ يَبْكُونَ، فَيَرْجِعُ إِلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيُخْبِرُهُ، فَيَقُولُ: ائْتِنِي بِهِ ; فَإِنَّهُ فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا، فَيَجِيءُ بِهِ فَيُوقِفُهُ عَلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيَقُولُ: يَا عَبْدِي، كَيْفَ وَجَدْتَ مَكَانَكَ وَمَقِيلَكَ؟ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، شَرُّ مَكَانٍ وَشَرُّ مَقِيلٍ، فَيَقُولُ: رُدُّوا عَبْدِي، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ مَا كُنْتُ أَرْجُو إِذَا أَخْرَجْتَنِي مِنْهَا أَنْ تُعِيدَنِي فِيهَا. فَيَقُولُ: دَعُوا عَبْدِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي ظِلَالٍ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that a servant shall surely call in the Fire a thousand years, O Ḥannān, O Mannān. Allāh will tell Jibrīl, peace be upon him, to bring this servant, and Jibrīl will find Fire's people fallen weeping, return reporting, be told he is in such a place, bring him to stand before his Lord, who will ask how he found his lodging. He will say, my Lord, worst lodging and rest, and He will command return. > **"A servant shall call a thousand years: O Ḥannān, O Mannān."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص جہنم میں ایک ہزار سال تک ’’ یا حنان یا منان ‘‘ پکارتا رہے گا ، اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمائے گا : تم جاؤ اور میرے اس بندے کو میرے پاس لے کر آؤ ! حضرت جبرائیل علیہ السلام جائیں گے ، وہ اہل جہنم کو پائیں گے ، وہ سر جھکا کر ( یا اوندھے ہو کر ) رو رہے ہوں گے ، وہ ( یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام ) اپنے پروردگار کے پاس واپس آئیں گے اور اس کو یہ بات بتائیں گے ، تو پروردگار فرمائے گا : تم اُس ( بندے ) کو میرے پاس لے کر آؤ ! وہ فلاں فلاں مقام پر ہے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام اسے ساتھ لائیں گے اور اس کے پروردگار کی بارگاہ میں کھڑا کر دیں گے ، پروردگار دریافت کرے گا : اے میرے بندے ! تو نے اپنی جگہ اور ٹھکانے کو کیسا پایا ؟ وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! سب سے بری جگہ اور سب سے برا ٹھکانہ ، پروردگار فرمائے گا : میرے بندے کو واپس لے جاؤ ! وہ بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے یہ امید نہیں تھی کہ اگر تو مجھے اس میں سے نکال دے گا ، تو مجھے واپس اس میں بھیج دے گا ، تو پروردگار فرمائے گا : میرے بندے کو چھوڑ دو !“۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوظلال کا معاملہ مختلف ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

18560

Majma al-Zawaid #18560

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ تَعْلَمُونَ قَدْرَ رَحْمَةِ اللَّهِ لَاتَّكَلْتُمْ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - عَلَيْهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said were you to know Allāh's mercy you would surely rely upon it. > **"Were you to know Allāh's mercy you would surely rely upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی مقدار ( یعنی اس کی عظمت اور وسعت کے بارے میں ) جان لو تو تم اُسی ( یعنی رحمت کی وسعت ) پر تکیہ کر لو ! ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18561

Majma al-Zawaid #18561

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ، رَحْمَةٌ مِنْهَا قَسَمَهَا بَيْنَ الْخَلَائِقِ، وَتِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي سَعَةِ رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى فِي كِتَابِ التَّوْبَةِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh created a hundred mercies, one divided among creation, and ninety-nine until the Day of Resurrection. > **"Allāh created a hundred mercies, one divided among creation and ninety-nine reserved."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک سو رحمتیں پیدا کی ہیں ، اُن میں سے ایک رحمت ، اس نے مخلوق کے درمیان تقسیم کی ہے اور ننانوے رحمتیں قیامت کے دن کے لیے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت کے بارے میں کچھ احادیث کتاب التوبہ میں گزر چکی ہیں ۔

18562

Majma al-Zawaid #18562

وَعَنِ الْحَسَنِ - يَعْنِي الْبَصْرِيَّ - قَالَ: بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " «إِنَّ لِلَّهِ مِائَةَ رَحْمَةٍ، وَإِنَّهُ قَسَّمَ رَحْمَةً وَاحِدَةً بَيْنَ أَهْلِ الْأَرْضِ فَوَسِعَتْهُمْ إِلَى آجَالِهِمْ، وَدَخَرَ عِنْدَهُ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ لِأَوْلِيَائِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» ".

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan al-Baṣrī reported that it reached him the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh holds a hundred mercies, dividing one among earth's people so it widened to their terms, storing ninety-nine with Him for His allies on the Day of Resurrection. > **"He divided one mercy to their terms and stored ninety-nine for His allies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بصری بیان کرتے ہیں : مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کی ایک سو رحمتیں ہیں ، اس نے ایک رحمت اہل زمین کے درمیان تقسیم کی ہے اور وہ اُن کی زندگی بھر کے لیے کافی ہے اور اس نے ننانوے رحمتیں ، قیامت کے دن اپنے دوستوں کے لئے محفوظ کر لی ہیں ۔‘‘

18563

Majma al-Zawaid #18563

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ. رَوَاهُ وَالَّذِي قَبْلَهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ the like thereof. > **"The like thereof concerning the hundred mercies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ یہ روایت اور اس سے پہلی روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، ان سب کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18564

Majma al-Zawaid #18564

وَرُوِيَ عَنْ جُلَاسٍ،

EnglishUnverified translation

It was also narrated through Jullās the like thereof, briefly. > **"The like thereof through Jullās."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

جلاس کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے ۔

18565

Majma al-Zawaid #18565

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ مِثْلَهُ. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Sīrīn reported the like thereof. > **"The like thereof from Muḥammad ibn Sīrīn."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

محمد بن سیرین کے حوالے سے اس کی مانند روایت منقول ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18566

Majma al-Zawaid #18566

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَرَحْمَةٌ بَيْنَ خَلْقِهِ يَتَرَاحَمُونَ بِهَا، وَادَّخَرَ لِأَوْلِيَائِهِ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُخَيِّسُ بْنُ تَمِيمٍ، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Ḥaydah, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that Allāh created a hundred mercies, one between His creation by which they mercy one another, storing ninety-nine for His allies. > **"One mercy by which creation mercies one another, and ninety-nine for His allies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیده رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے ایک سو رحمتیں پیدا کی ہیں ( جن میں سے ) ایک رحمت اس کی مخلوق کے درمیان ہے ، جس کی وجہ سے وہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، اور ننانوے رحمتیں اُس نے اپنے اولیاء کے لیے محفوظ رکھی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مخیس بن تمیم ہے اور وہ مجہول ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18567

Majma al-Zawaid #18567

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «قَسَّمَ رَبُّنَا رَحْمَتَهُ مِائَةَ جُزْءٍ، فَأَنْزَلَ مِنْهَا جُزْءًا فِي الْأَرْضِ، فَهُوَ الَّذِي يَتَرَاحَمُ بِهِ النَّاسُ، وَالطَّيْرُ، وَالْبَهَائِمُ، وَبَقِيَتْ عِنْدَهُ مِائَةُ رَحْمَةٍ، إِلَّا رَحْمَةً وَاحِدَةً لِعِبَادِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقِ بْنِ يَحْيَى.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said our Lord divided His mercy into a hundred parts, sending down one part to earth by which people, birds, and beasts mercy one another, with a hundred mercies remaining with Him but one part for His servants on the Day of Resurrection. > **"He sent down one part by which creatures mercy one another, with ninety-nine for That Day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہمارے پروردگار نے اپنی رحمت کو ایک سو اجزاء میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک جزء زمین میں نازل کر دیا ، اسی کی وجہ سے لوگ ، پرندے اور جانور ، ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، باقی ننانوے رحمتیں ( یعنی رحمت کے بقیہ ننانوے اجزاء ) پروردگار کے پاس ہیں ، جو قیامت کے دن اس کے بندوں کے لئے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اسحاق بن یحیی نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے ۔