Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 44 · Chapter 6

Book of Resurrection

Hadith 18505–18544

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18505

Majma al-Zawaid #18505

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ فَيُفْتَحُ لِي بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي، فَيُقَالُ لِي: ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَهْ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ. فَأَقُولُ: أُمَّتِي، فَيُقَالُ [لِي]: لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ "". قَالَ: "" ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ "". قَالَ: "" ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ، وَأَقُولُ: أُمَّتِي! فَيُقَالُ: لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ. ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ: أُمَّتِي، فَيُقَالُ [لِي]: لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا». قُلْتُ: لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he shall knock at Paradise's gate and a golden gate with silver ring will open, the greatest light meeting him, and he will fall prostrate, granted praise upon Allāh never granted before. Told to raise his head, ask and be given, speak and be heard, intercede and be granted, he will say, my nation, and be told his are those with a barley grain of faith. Then a second prostration for those with a mustard seed of faith, then a third likewise for even less. > **"I shall knock at Paradise's gate and prostrate, saying: My nation, my nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا ، وہ میرے لئے کھول دیا جائے گا ، وہ سونے سے بنا ہوا دروازہ ہو گا ، جس کی کنڈی چاندی کی بنی ہوئی ہو گی ، میرے سامنے سب سے بڑا نور آئے گا تو میں سجدے میں چلا جاؤں گا ، اس وقت اللہ تعالیٰ کی ثناء کے بارے میں ایسے کلمات مجھے القاء کئے جائیں گے جو مجھ سے پہلے کسی کو القاء نہیں کیے گئے ، پھر مجھ سے کہا جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم مانگو ، وہ دیا جائے گا ، تم کہو ، سنا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، شفاعت قبول کی جائے گی ، تو میں یہ کہوں گا : میری امت ، تو یہ کہا جائے گا : تمہیں وہ ملتا ہے جس کے دل میں ، جو کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر میں دوسری مرتبہ سجدے میں جاؤں گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر مجھے اس کی مانند کلمات القاء کیے جائیں گے ، پھر مجھ سے اس کی مانند بات کہی جائے گی اور میں یہ کہوں گا : میری امت ، مجھ سے کہا جائے گا : تمہیں وہ ملتا ہے جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ، پھر میں تیسری مرتبہ سجدے میں جاؤں گا ، پھر مجھ سے اس کی مانند بات کہی جائے گی ، پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور یہ کہوں گا : میری امت ، تو مجھ سے کہا جائے گا : تمہیں ہر وہ فرد ملتا ہے جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھا ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں اور دوسری کتابوں میں کچھ احادیث مذکور ہیں جو اس روایت کے علاوہ ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18506

Majma al-Zawaid #18506

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: حَدَّثَنِي نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنِّي لَقَائِمٌ أَنْتَظِرُ أُمَّتِي تَعْبُرُ الصِّرَاطَ، إِذْ جَاءَ عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - "". قَالَ: "" فَقَالَ: هَذِهِ الْأَنْبِيَاءُ أَتَتْكَ يَا مُحَمَّدُ، يَسْأَلُونَ - أَوْ قَالَ: يَجْتَمِعُونَ - إِلَيْكَ يَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُفَرِّقَ بَيْنَ جَمِيعِ الْأُمَمِ إِلَى حَيْثُ يَشَاءُ لِغَمِّ مَا هُمْ فِيهِ، فَالْخَلْقُ مُلْجَمُونَ فِي الْعَرَقِ، فَأَمَّا الْمُؤْمِنُ فَهُوَ عَلَيْهِ كَالزُّكْمَةِ، وَأَمَّا الْكَافِرُ فَيَتَغَشَّاهُ الْمَوْتُ "". قَالَ: "" قَالَ عِيسَى: انْتَظِرْ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكَ "". قَالَ: "" ذَهَبَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ تَحْتَ الْعَرْشِ فَلَقِيَ مَا لَمْ يَلْقَ مَلَكٌ مُصْطَفًى، وَلَا نَبِيٌّ مُرْسَلٌ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَنِ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ فَقُلْ لَهُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ "". قَالَ: "" فَشُفِّعْتُ فِي أُمَّتِي أَنْ أُخْرِجَ مِنْ كُلِّ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ إِنْسَانًا وَاحِدًا "". قَالَ: "" فَمَا زِلْتُ أَتَرَدَّدُ عَلَى رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - فَلَا أَقُومُ مِنْهُ مَقَامًا إِلَّا شُفِّعْتُ حَتَّى أَعْطَانِي اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ أَنْ قَالَ: "" [يَا مُحَمَّدُ] أَدْخِلْ مِنْ أُمَّتِكَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَوْمًا وَاحِدًا مُخْلِصًا، وَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet of Allāh ﷺ told him he shall stand awaiting his nation crossing the Bridge when ʿĪsā, peace be upon him, comes saying the prophets have come to him, O Muḥammad, gathering to him to pray Allāh separate all nations as He wills for the anguish they suffer, with creation bridled in sweat, upon the believer as a cold, upon the disbeliever engulfing as death. ʿĪsā will say wait until he returns, then the Prophet of Allāh ﷺ will go stand beneath the Throne meeting what no chosen angel met. > **"I shall stand awaiting my nation crossing the Bridge while creation is bridled in sweat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی ﷺ نے مجھے یہ بات بتائی ہے : ’’ میں کھڑا ہوا اپنی امت کا انتظار کروں گا ، جو پل صراط عبور کر رہی ہو گی ، اسی دوران حضرت عیسیٰ علیہ السلام آئیں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ یہ کہیں گے : یہ انبیاء آپ کے پاس آئے ہیں ، اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! اور وہ یہ سوال کرتے ہیں ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ آپ کے پاس اکٹھے ہوئے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہے ہیں کہ وہ اُمتوں کے اجتماع کو الگ الگ کر دے ، جہاں وہ چاہے کہ لوگ اس وقت شدید پریشانی کا شکار ہیں ، لوگ اس وقت پسینے میں ڈوبے ہوئے ہوں گے ، جہاں تک مومن کا تعلق ہے تو وہ اس کے لیے یوں ہو گا جیسے زکام ہوتا ہے اور جہاں تک کافر کا تعلق ہے تو موت نے اسے ڈھانپ لیا ہو گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے : آپ انتظار کریں ، جب تک میں آپ کے پاس واپس نہیں آتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اللہ کے نبی ﷺ جائیں گے اور عرش کے نیچے کھڑے ہو جائیں گے اور اس وقت انہیں اس صورتحال کا سامنا ہو گا ، جس کا سامنا کسی منتخب فرشتے یا کسی مرسل نبی نے نہیں کیا ، پھر اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام کی طرف وحی کرے گا : کہ تم حضرت محمد ( ﷺ ) کے پاس جاؤ اور ان سے یہ کہو : کہ تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم سوال کرو ، تمھیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول ہو گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو مجھے شفاعت میں یہ اختیار دیا جائے گا کہ میں ان میں سے ہر ننانوے میں سے ایک انسان کو نکال لوں ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں مسلسل اپنے پروردگار کے پاس آتا جاتا رہوں گا ، میں جب بھی اس کی بارگاہ میں کھڑا ہوؤں گا میری شفاعت قبول ہو گی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ مجھے اس میں سے یہ چیز عطا کرے گا کہ وہ فرمائے گا : اے محمد ( ﷺ ) اللہ کی مخلوق میں سے اپنی امت میں سے ، ہر اس شخص کو داخل کروا دو جو اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، جس نے اخلاص کے ساتھ ایک دن یہ گواہی دی ہو اور وہ اس حالت میں مر گیا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18507

Majma al-Zawaid #18507

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: «أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، فَجَلَسَ حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الضُّحَى ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ مَكَثَ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى الْأُولَى وَالْعَصْرَ وَالْمَغْرِبَ، كُلُّ ذَلِكَ لَا يَتَكَلَّمُ، حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى بَيْتِهِ، فَقَالَ النَّاسُ لِأَبِي بَكْرٍ: أَلَا تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا شَأْنُهُ؟ صَنَعَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ يَصْنَعْهُ قَطُّ! فَسَأَلَهُ فَقَالَ: "" نَعَمْ. عُرِضَ عَلَيَّ مَا هُوَ كَائِنٌ مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَأَمْرِ الْآخِرَةِ، فَجُمِعَ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ بِصَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَقَطَعَ النَّاسُ بِذَلِكَ حَتَّى انْطَلَقُوا إِلَى آدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالْعَرَقُ يَكَادُ يُلْجِمُهُمْ، قَالُوا: يَا آدَمُ، أَنْتَ أَبُو الْبَشَرِ، وَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا، قَالَ: لَقِيتُ مِثْلَ الَّذِي لَقِيتُمْ، انْطَلِقُوا إِلَى أَبِيكُمْ بَعْدَ أَبِيكُمْ، إِلَى نُوحٍ، {إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ} [آل عمران: 33] "". قَالَ: "" فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى نُوحٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُونَ: اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّنَا، فَأَنْتَ اصْطَفَاكَ اللَّهُ، وَاسْتَجَابَ لَكَ فِي دُعَائِكَ، وَلَمْ تَدَعْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، انْطَلِقُوا إِلَى إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - اتَّخَذَهُ خَلِيلًا. فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى إِبْرَاهِيمَ فَيَقُولُ: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، انْطَلِقُوا إِلَى مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - كَلَّمَهُ تَكْلِيمًا، فَيَقُولُ مُوسَى: - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، وَلَكِنِ انْطَلِقُوا إِلَى عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ; فَإِنَّهُ كَانَ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ، وَيُحْيِي الْمَوْتَى. فَيَقُولُ عِيسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: لَيْسَ ذَاكُمْ عِنْدِي، انْطَلِقُوا إِلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلْيَشْفَعْ لَكُمْ إِلَى رَبِّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - "". قَالَ: "" فَيَنْطَلِقُونَ فَيَأْتِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَبَّهُ، فَيَخِرُّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ، وَيَقُولُ - عَزَّ وَجَلَّ -: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ "". قَالَ: "" فَيَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَإِذَا نَظَرَ إِلَى رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - خَرَّ سَاجِدًا قَدْرَ جُمُعَةٍ أُخْرَى، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ "". قَالَ: "" فَيَذْهَبُ لِيَقَعَ سَاجِدًا، فَيَأْخُذُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِضَبْعَيْهِ، فَيَفْتَحُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْهِ مِنَ الدُّعَاءِ مَا لَا يَفْتَحُهُ عَلَى بَشَرٍ قَطُّ، يَقُولُ: رَبِّ خَلَقْتَنِي سَيِّدَ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلَ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ، حَتَّى إِنَّهُ لَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ أَكْثَرُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَأَيْلَةَ، ثُمَّ يُقَالُ: ادْعُوا الصِّدِّيقِينَ فَيَشْفَعُونَ، لِمَنْ أَرَادُوا "". قَالَ: "" فَإِذَا فَعَلَ الشُّهَدَاءُ ذَلِكَ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: أَنَا أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ، أَدْخِلُوا جَنَّتِي مَنْ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا "". قَالَ: "" فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، ثُمَّ يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: انْظُرُوا فِي النَّارِ هَلْ تَلْقَوْنَ أَحَدًا عَمِلَ خَيْرًا قَطُّ؟ "". قَالَ: "" فَيَجِدُونَ فِي النَّارِ رَجُلًا فَيَقُولُونَ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا. غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ أُسَامِحُ النَّاسَ فِي الْبَيْعِ [وَالشِّرَاءِ]، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: اسْمَحُوا لِعَبْدِي كَإِسْمَاحِهِ إِلَى عَبِيدِي. ثُمَّ يُخْرِجُونَ مِنَ النَّارِ رَجُلًا فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ عَمِلْتَ خَيْرًا قَطُّ؟ فَيَقُولُ: لَا. غَيْرَ أَنِّي [قَدْ] أَمَرْتُ وَلَدِي إِذَا أَنَا مِتُّ فَأَحْرِقُونِي بِالنَّارِ، ثُمَّ اطْحَنُونِي حَتَّى إِذَا كُنْتُ مِثْلَ الْكُحْلِ فَاذْهَبُوا بِي فِي الْبَحْرِ فَاذْرُونِي فِي الرِّيحِ، فَوَاللَّهِ لَا يَقْدِرُ عَلَيَّ رَبُّ الْعَالَمِينَ أَبَدًا، فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ: لِمَ فَعَلْتَ ذَلِكَ؟ قَالَ: مِنْ مَخَافَتِكَ! "". قَالَ: "" فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: انْظُرْ إِلَى مُلْكِ أَعْظَمِ مَلِكٍ، فَإِنَّ لَكَ مِثْلَهُ وَعَشَرَةَ أَمْثَالِهِ "". قَالَ: "" فَيَقُولُ: لِمَ تَسْخَرُ بِي وَأَنْتَ الْمَلِكُ؟! قَالَ: وَذَاكَ الَّذِي ضَحِكْتُ مِنْهُ مِنَ الضُّحَى» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ one morning prayed dawn, sat until forenoon laughing, then remained silent through Ẓuhr, ʿAṣr, Maghrib, and ʿIshāʾ, then rose home. People asked Abū Bakr to question this unprecedented conduct, so he asked and he said yes, there was shown to him what shall be of world and Hereafter: first and last gathered on one plain, and the terrors of judgment were detailed. > **"There was shown to me what shall be; first and last gathered on one plain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی ، پھر آپ تشریف فرما ہوئے ، یہاں تک کہ چاشت کا وقت ہو گیا تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دیئے پھر آپ اپنی جگہ پر رہے ، یہاں تک کہ آپ نے ظہر ، عصر اور مغرب کی نماز پڑھائی ، اس دوران آپ نے کوئی گفتگو نہیں کی ، یہاں تک کہ آپ نے عشاء کی نماز پڑھا دی ، پھر آپ اُٹھ کر اپنے گھر تشریف لے گئے ، لوگوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ نبی اکرم ﷺ سے یہ سوال نہیں کریں گے کہ آپ کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے آج جو طرز عمل اختیار کیا ہے وہ آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا ، حضرت ابوبکر ﷺ نے نبی اکرم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! دنیا کے معاملے سے متعلق اور آخرت کے معاملے سے متعلق جو کچھ بھی ہو گا ، وہ میرے سامنے پیش کیا گیا ، سب پہلے والے اور بعد والے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا جائے گا ، لوگ اس صورتحال سے پریشان ہو جائیں گے ، یہاں تک کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے ، پسینہ اتنا زیادہ ہو گا کہ انہیں لگام ڈال رہا ہو گا ، وہ کہیں گے : اے حضرت آدم ( علیہ السلام ) ! آپ ابوالبشر ہیں ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ، تو حضرت آدم علیہ السلام کہیں گے : مجھے بھی اسی صورتحال کا سامنا ہے جس کا سامنا تم لوگ کر رہے ہو ، تم اپنے دوسرے جدامجد حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ! ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے آدم ، نوح اور ابراہیم کی آل اور عمران کی آل کو تمام جہانوں میں سے منتخب کیا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور یہ کہیں گے : آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منتخب کیا اس نے آپ کی دعا کو مستجاب کیا اور اس نے روئے زمین پر کافروں کو بستا ہوا نہیں رہنے دیا ، تو حضرت نوح علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جاؤ کیونکہ اللہ تعالی نے انہیں خلیل بنایا ہے ، لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس جائیں گے تو وہ یہ کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کلام کیا ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم لوگ حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ پیدائشی اندھے ، برص ( یعنی پھلبہری ) کے مریض کو ٹھیک کر دیتے تھے اور مردے کو زندہ کر دیتے تھے ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، تم اولاد آدم کے سردار کے پاس جاؤ ! کیونکہ وہ پہلے فرد ہیں ، جن کے لیے قیامت کے دن زمین کو شق کیا گیا ، تم لوگ حضرت محمد ﷺ کے پاس جاؤ ! وہ تمہارے پروردگار کی بارگاہ میں تمہاری شفاعت کریں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ لوگ جائیں گے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنے پروردگار کے پاس آئیں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پروردگار یہ فرمائے گا : اُسے اجازت دو ! اور اُسے جنت کی خوشخبری دو !۔ ( شاید یہاں عربی عبارت میں کوئی کمی ہے ) ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر نبی اکرم ﷺ جائیں گے وہ سجدے میں چلے جائیں گے جو ایک ہفتے تک ہو گا ، پروردگار فرمائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ! تم کہو تمہیں سنا جائے گا ، تم شفاعت کرو تمھاری شفاعت قبول ہو گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آپ ﷺ اپنا سر اٹھائیں گے ، جب آپ اپنے پروردگار کی طرف دیکھیں گے تو پھر سجدے میں چلے جائیں گے جو مزید ایک ہفتے کے لیے ہو گا ، تو پروردگار فرمائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم کہو تمہیں سنا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول ہو گی ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : آپ پھر سجدے میں جانے لگیں گئے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام بازوؤں سے آپ کو پکڑ لیں گے ، اس وقت اللہ تعالیٰ دعا کے ایسے کلمات آپ کے لئے کشادہ کرے گا کہ وہ کلمات اس نے کسی بشر کے لئے کبھی نہیں کشادہ نہیں کیے ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ کہیں گے : اے میرے پروردگار ! تو نے مجھے اولاد آدم کا سردار بنایا ہے اور یہ بات میں فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، اور مجھے وہ پہلا فرد بنایا ہے جس کے لیے قیامت کے دن زمین کو شق کیا گیا ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) یہاں تک کہ اس حوض پر میرے پاس لوگ آئیں گے ، جو اس سے زیادہ بڑا ہے ، جتنا صنعاء اور ایلہ کے درمیان فاصلہ ہے ، پھر یہ کہا جائے گا : صدیقین کو بلاؤ ، وہ شفاعت کریں گے ، پھر یہ کہا جائے گا : انبیاء کو بلاؤ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر ایک نبی آئے گا ، اس کے ساتھ کچھ لوگ ہوں گے ، کوئی نبی آئے گا اس کے ساتھ پانچ یا چھ افراد ہوں گے ، کوئی نبی آئے گا ، جس کے ساتھ کوئی نہیں ہو گا ، پھر یہ کہا جائے گا : شہداء کو بلاؤ ! تو وہ جس کے بارے میں چاہیں گے اس کی شفاعت کریں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب شہداء ایسا کر لیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہوں ، تم میری جنت میں ہر اُس شخص کو داخل کر دو جو کسی کو میرا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم جہنم کا جائزہ لو ! کیا تمہیں کوئی ایسا شخص ملتا ہے جس نے کبھی کوئی بھلائی کی ہو ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر وہ ( یعنی فرشتے ) جہنم میں ایک شخص کو پائیں گے ، وہ دریافت کریں گے : کیا تم نے کبھی کوئی بھلائی کی ہے ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں ! البتہ میں خرید و فروخت کرتے ہوئے لوگوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اختیار کرتا تھا ، اللہ تعالٰی فرمائے گا : میرے بندے کے ساتھ نرمی کرو ! جس طرح یہ میرے بندوں کے ساتھ نرمی کیا کرتا تھا ۔ پھر وہ جہنم سے ایک شخص کو باہر نکالیں گے اور اس سے دریافت کریں گے : کیا تم نے بھی کوئی بھلائی کی ہے ؟ وہ جواب دے گا : جی نہیں ! البتہ یہ ہے کہ میں نے اپنی اولاد کو یہ حکم دیا تھا کہ جب میں مر جاؤں ، تو تم مجھے آگ کے ذریعے جلا دینا ، پھر تم مجھے پیس دینا یہاں تک کہ جب میں سرمے کی طرح ( راکھ ) ہو جاؤں تو تم مجھے سمندر میں لے جانا اور مجھے ہوا میں اُڑا دینا ، اللہ کی قسم ! تمام جہانوں کا پروردگار مجھے کبھی مشقت کا شکار نہیں کرے گا ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ جواب دے گا : تیرے خوف کی وجہ سے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم اس کا جائزہ لو ، جو سب سے بڑی مملکت ہے ، تمہیں اس کی مانند اور اس جیسا دس گنا مزید ملتا ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ شخص کہے گا : تو میرا مذاق کیوں اڑا رہا ہے ؟ جبکہ تو بادشاہ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس بات پر میں چاشت کے وقت ہنسا تھا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔

18508

Majma al-Zawaid #18508

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ: "" إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - خَيَّرَنِي بَيْنَ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ عَفْوًا بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَبَيْنَ الْخَبِيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي "". فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيَخْبَأُ ذَلِكَ رَبُّكَ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجَ وَهُوَ يُكَبِّرُ فَقَالَ: "" إِنَّ رَبِّي زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا، وَالْخَبِيئَةُ عِنْدَهُ "". فَقَالَ أَبُو رُهْمٍ: يَا أَبَا أَيُّوبَ، وَمَا تَظُنُّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَأَكَلَهُ النَّاسُ بِأَفْوَاهِهِمْ، فَقَالُوا: وَمَا أَنْتَ وَخَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟! فَقَالَ أَبُو أَيُّوبَ: دَعُوهُ، أُخْبِرْكُمْ عَنْ خَبِيئَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَمَا أَظُنُّ، بَلْ كَالْمُسْتَيْقِنِ: إِنَّ خَبِيئَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقُولَ: "" رَبِّ مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، مُصَدِّقًا لِسَانُهُ قَلْبَهُ، فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ نَاشِرٌ مِنْ بَنِي سَرِيعٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ told them his Lord gave him choice between seventy thousand entering Paradise pardoned without reckoning or the stored intercession with Him for his nation. Asked whether the Lord would store that, he entered then emerged magnifying Allāh, saying his Lord added with every thousand seventy thousand, plus the stored intercession. Abū Ruwaym asked Abū Ayyūb what he thought that store was, and people pressed him for answer. > **"My Lord gave me seventy thousand pardoned, with every thousand seventy thousand, plus the stored intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ان سے فرمایا : ’’ میرے پروردگار نے مجھے یہ اختیار دیا کہ ( یعنی میری امت کے ) ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہو جائیں ، جو معافی کے طور پر کسی حساب کے بغیر ہوں ، یا یہ ہو کہ پروردگار کے پاس میں اپنی امت کے لئے ( یعنی شفاعت ) کو سنبھال کے رکھ لوں ، نبی اکرم ﷺ کے بعض اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کا پروردگار اسے سنبھال کے رکھے گا ؟ نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لے گئے پھر آپ تشریف لائے تو آپ تکبیر کہہ رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے پروردگار نے مجھے مزید یہ چیز عطا کی ہے کہ ہر ایک ہزار کے ہمراہ ستر ہزار مزید ہوں گے اور اس کے پاس سنبھال کے رکھوائی گئی چیز ( یعنی شفاعت ) بھی ہے ۔ ابورہم نے کہا : اے حضرت ابوایوب ! نبی اکرم ﷺ کی سنبھال کے رکھوائی گئی چیز کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ لوگ اس کو اپنے منہ کے ذریعے کھا رہے ہیں ( شاید یہ مراد ہے کہ لوگ اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں ) لوگ یہ کہہ رہے ہیں : تمہارا اللہ کے رسول کی سنبھال کے رکھی گئی چیز کے ساتھ کیا واسطہ ؟ تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اُسے رہنے دو ! میں تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کی سنبھال کے رکھی گئی چیز کے بارے میں بتاتا ہوں ، جیسا کہ میرا گمان ہے ، بلکہ جیسا کہ یقین ہے ، نبی اکرم ﷺ کی سنبھال کے رکھی گئی چیز یہ ہے کہ آپ یہ کہیں گے : اے میرے پروردگار ! جو شخص اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اس کی زبان اس کے دل کی تصدیق کرتی ہے ، تو اُسے جنت میں داخل کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ناشر ہے جس کا تعلق بنو سریع سے ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی ابن لہیعہ ہے جس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

18509

Majma al-Zawaid #18509

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كَانَ لِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَادِمٌ تَخْدِمُهُ يُقَالُ لَهَا: بُرَّةُ، فَلَقِيَهَا رَجُلٌ فَقَالَ: يَا بُرَّةُ غَطِّي شُعَيْفَاتِكِ ; فَإِنَّ مُحَمَّدًا لَنْ يُغْنِيَ عَنْكِ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا، فَأَخْبَرَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ مُحْمَرَّةً وَجْنَتَاهُ، وَكُنَّا - مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ - نَعْرِفُ غَضَبَهَ بِجَرِّ رِدَائِهِ وَحُمْرَةِ وَجْنَتَيْهِ، فَأَخَذْنَا السِّلَاحَ ثُمَّ أَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مُرْنَا بِمَا شِئْتَ، فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَوْ أَمَرْتَنَا بِأُمَّهَاتِنَا، وَآبَائِنَا، وَأَوْلَادِنَا، لَأَمْضَيْنَا قَوْلَكَ فِيهِمْ. فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ: "" مَنْ أَنَا؟ "". قُلْنَا: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ: "" نَعَمْ. وَلَكِنْ مَنْ أَنَا؟ "". فَقُلْنَا: أَنْتَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ. قَالَ: "" أَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ دَاخِلٍ الْجَنَّةَ وَلَا فَخْرَ. مَا بَالُ قَوْمٍ يَزْعُمُونَ أَنَّ رَحِمِي لَا يَنْفَعُ؟ لَيْسَ كَمَا زَعَمُوا، إِنِّي لَأَشْفَعُ وَأُشَفَّعُ حَتَّى إِنَّ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ يَشْفَعُ فَيُشَفَّعُ، حَتَّى إِنَّ إِبْلِيسَ لَيَتَطَاوَلُ فِي الشَّفَاعَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ فِي عُبَيْدِ بْنِ إِسْحَاقَ الْعَطَّارِ، وَالْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdullāh, may Allāh be pleased with them, reported that the Household of the Messenger of Allāh ﷺ had a servant named Burrah, whom a man met saying, O Burrah, cover your hair, for Muḥammad shall avail you nothing with Allāh. She told the Prophet ﷺ, who emerged trailing his cloak with reddened cheeks, by which the Anṣār knew his anger, so they took arms and pledged obedience even against parents and children. He ascended the pulpit, praised Allāh, and affirmed his kinship and intercession avail, warning against violating his Household. > **"My kinship and intercession avail; whoever violates my Household violates me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی آل کی ایک خادمہ تھی جو آپ کی خدمت کیا کرتی تھی ، اُس کا نام ” برہ ‘‘ تھا ، ایک شخص اس خاتون سے ملا اور بولا : اے برہ ! تم اپنی لٹوں کو ڈھانپ کے رکھو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ، حضرت محمد ﷺ تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے ، اُس خادمہ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات بتائی ، نبی اکرم ﷺ اپنی چادر کو کھینچتے ہوئے تشریف لائے ، آپ کی کنپٹیاں سرخ ہو رہی تھیں ، راوی بیان کرتے ہیں : ہمیں انصار کو نبی اکرم ﷺ کے غصے کا اس بات سے پتہ چل گیا کہ آپ چادر گھسیٹتے ہوئے آ رہے ہیں ، اور آپ کی کنپٹیاں سرخ ہیں ، ہم نے ہتھیا لئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ جو چاہیں ، ہمیں حکم دیں ، اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اگر آپ ہمیں ہماری ماؤں ، ہمارے باپوں ، ہماری اولاد کے بارے میں حکم دیں گے ، تو ہم ان کے بارے میں بھی آپ کے فرمان پر عمل کریں گے ، نبی اکرم ﷺ منبر پر چڑھے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر ارشاد فرمایا : میں کون ہوں ؟ ہم نے عرض کی : آپ اللہ کے رسول ﷺ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ٹھیک ہے ، لیکن میں کون ہوں ؟ ہم نے عرض کی : آپ حضرت محمد ( ﷺ ) بن عبدالله بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ میں اولاد آدم کا سردار ہوں ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا اور میں قیامت کے دن سب سے پہلے اپنے سر سے مٹی جھاڑوں گا ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، اور میں جنت میں داخل ہونے والا پہلا فرد ہوؤں گا ، اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ میرے ساتھ رشتہ داری فائدہ نہیں دے گی ، ایسا نہیں ہے جیسا وہ لوگ گمان کرتے ہیں ، میں شفاعت کروں گا اور میری شفاعت قبول کی جائے گی ، یہاں تک کہ جس کی میں شفاعت کروں گا ، وہ شفاعت کرے گا تو اُس کی بھی شفاعت قبول کی جائے گی ، اور ( میری ) شفاعت کے حصول کے لئے ابلیس بھی اپنے آپ کو نمایاں کرنے کی کوشش کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ عبید بن اسحاق عطار اور قاسم بن محمد بن عبداللہ بن محمد بن عقیل نامی راویوں میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ۔

18510

Majma al-Zawaid #18510

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا جَمَعَ اللَّهُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فَقَضَى بَيْنَهُمْ وَفَرَغَ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَهُمْ، قَالَ الْمُؤْمِنُونَ: قَدْ قُضِيَ بَيْنَنَا [رَبُّنَا]، فَنُرِيدُ مَنْ يَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا، انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ ; فَإِنَّهُ أَبُونَا، وَخَلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِ وَكَلَّمَهُ، فَيَأْتُونَهُ فَيُكَلِّمُونَهُ أَنْ يَشْفَعَ لَهُمْ فَيَقُولُ: عَلَيْكُمْ بِنُوحٍ. فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَدُلُّهُمْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ فَيَدُلُّهُمْ عَلَى مُوسَى، فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَدُلُّهُمْ عَلَى عِيسَى، ثُمَّ يَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُ: أَدُلُّكُمْ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ، فَيَأْتُونِي فَيَأْذَنُ اللَّهُ لِي أَنْ أَقُومَ، فَيَثُورُ مَجْلِسِي مِنْ أَطْيَبِ رِيحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ، حَتَّى آتِيَ رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيُشَفِّعَنِي وَيَجْعَلَ لِي نُورًا مِنْ شَعْرِ رَأْسِي إِلَى ظُفْرِ قَدَمِي. ثُمَّ يَقُولُ الْكُفَّارُ: هَذَا قَدْ وَجَدَ الْمُؤْمِنُونَ مَنْ شَفَعَ لَهُمْ، فَمَنْ يَشْفَعُ لَنَا؟ فَيَقُولُونَ: مَا هُوَ غَيْرَ إِبْلِيسَ، هُوَ الَّذِي أَضَلَّنَا، فَيَأْتُونَهُ فَيَقُومُ فَيَثُورُ مَجْلِسَهُ أَنْتَنُ رِيحٍ شَمَّهَا أَحَدٌ، ثُمَّ يُورِدُهُمْ جَهَنَّمَ وَيَقُولُ عِنْدَ ذَلِكَ: "" وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدْتُكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir, may Allāh be pleased with him, reported from the Messenger of Allāh ﷺ that when Allāh gathers first and last, judges, and finishes judgment, the believers will say judgment is passed and they seek one to intercede to their Lord. They will go to Ādam, peace be upon him, as father created by Allāh's Hand and spoken to, but he will send them to Nūḥ, who will guide to Ibrāhīm, who to Mūsā, who to ʿĪsā, peace be upon them, who will say he guides them to the unlettered Prophet. They will come to him ﷺ, and Allāh will permit him to intercede. > **"They will go from Ādam to Nūḥ to Ibrāhīm to Mūsā to ʿĪsā, then to the unlettered Prophet for intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جب اللہ تعالیٰ سب پہلے والوں ، سب بعد والوں کو جمع کرے گا اور ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ، جب وہ ان کے درمیان فیصلہ کر کے فارغ ہو جائے گا تو مومنین یہ کہیں گے : ہمارے پروردگار نے ہمارے درمیان فیصلہ کر دیا ہے ، تو اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ کوئی شخص ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کرے ، تم لوگ ہمارے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کی طرف چلو ! کیونکہ وہ ہمارے جدامجد ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اپنے دست قدرت کے ذریعے انہیں پیدا کیا ہے اور ان کے ساتھ کلام کیا ہے ، وہ لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور ان کے ساتھ یہ بات چیت کریں گے کہ حضرت آدم علیہ السلام ان کی شفاعت کریں ، تو حضرت آدم علیہ السلام یہ کہیں گے : تم پر لازم ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ، وہ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، حضرت نوح علیہ السلام ان کی رہنمائی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف کریں گے ، وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام اُن کی رہنمائی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف کریں گے ، وہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کی رہنمائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف کریں گے ، پھر وہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ یہ کہیں گے : میں تمہاری رہنمائی ’’ امی نبی ‘‘ کی طرف کرتا ہوں ، تو وہ لوگ میرے پاس آئیں گے ، اللہ تعالیٰ مجھے اجازت دے گا کہ میں کھڑا ہو جاؤں ، تو میری محفل میں سب سے زیادہ پاکیزه ترین خوشبو پھیل جائے گی ، جو کسی بھی شخص نے سونگھی ہو ، یہاں تک کہ میں اپنے پروردگار کے پاس آ جاؤں گا ، وہ میری شفاعت قبول کرے گا ، وہ میرے لئے میرے سر کے بالوں سے لے کر میرے پاؤں کے ناخنوں تک نور بنائے گا ، پھر کافر یہ کہیں گے : مؤمن نے تو اس کو پا لیا ہے ، جو ان کی شفاعت کرے ، ہماری شفاعت کون کرے گا ؟ تو وہ کہیں گے : یہ کام صرف ابلیس کر سکتا ہے ، جس نے ہمیں گمراہ کیا تھا ، وہ لوگ اس کے پاس آئیں گے ، وہ کھڑا ہو گا ، تو اس کی محفل میں سب سے زیادہ بری بدبو پھیل جائے گی ، جو کسی شخص نے سونگھی ہو ، پھر وہ انہیں جہنم کے پاس لے جائے گا اس وقت وہ یہ کہے گا : جن کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ’’ اور جب فیصلہ ہو جائے گا تو شیطان کہے گا : بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے تمہارے ساتھ وعدہ کیا اور میں نے تمہارے ساتھ اس کی خلاف ورزی کی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18511

Majma al-Zawaid #18511

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَدْخُلُ مِنْ أَهْلِ هَذِهِ الْقِبْلَةِ النَّارَ مَنْ لَا يُحْصِي عَدَدَهُمْ إِلَّا اللَّهُ مَا عَصَوُا اللَّهَ وَاجْتَرَءُوا عَلَى مَعْصِيَتِهِ، وَخَالَفُوا طَاعَتَهُ، فَيُؤْذَنُ لِي فِي الشَّفَاعَةِ فَأُثْنِي عَلَى اللَّهِ سَاجِدًا كَمَا أُثْنِي عَلَيْهِ قَائِمًا، فَيُقَالُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالصَّغِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said countless of this qiblah none but Allāh numbers shall enter Fire for disobeying Allāh, daring disobedience, and opposing obedience. Then he ﷺ will be permitted intercession, praising Allāh prostrate as standing, and be told to raise his head, ask and be given, intercede and be granted. > **"Then I shall be permitted intercession; raise your head, ask and be given, intercede and be granted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس قبلہ کے ماننے والوں میں سے اتنے لوگ جہنم میں داخل ہوں گے ، جن کی تعداد کو اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی شمار نہیں کر سکتا ، اس کی وجہ یہ ہو گی کہ اُن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی ہو گی اور اس کی معصیت کے بارے میں جرأت کا اظہار کیا ہو گا اور اس کی فرمانبرداری کے برخلاف کیا ہو گا ، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی ، تو میں سجدے کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی ثناء بیان کروں گا ، جس طرح میں نے قیام کی حالت میں اُس کی ثناء بیان کی تھی ، تو مجھ سے کہا جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم مانگو ، تمہیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول کی جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18512

Majma al-Zawaid #18512

وَعَنْ عُبَادَةَ - يَعْنِي ابْنَ الصَّامِتِ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَسَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِغَيْرِ فَخْرٍ وَلَا رِيَاءٍ، وَمَا مِنَ النَّاسِ إِلَّا وَهُوَ تَحْتَ لِوَائِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَنْتَظِرُ الْفَرَجَ، وَإِنَّ مَعِي لِوَاءَ الْحَمْدِ، أَمْشِي وَيَمْشِي النَّاسُ مَعِي حَتَّى آتِيَ بَابَ الْجَنَّةِ، فَأَسْتَفْتِحُ فَيُقَالُ: مَنْ هَذَا؟ فَأَقُولُ: مُحَمَّدٌ، فَيُقَالُ: مَرْحَبًا بِمُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا رَأَيْتُ رَبِّي خَرَرْتُ لَهُ سَاجِدًا شُكْرًا لَهُ، فَيُقَالُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، قُلْ تُطَاعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ. فَيَخْرُجُ مَنْ قَدْ أُحْرِمَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَشَفَاعَتِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said by Him in Whose Hand is his soul he is surely master of mankind on the Day of Resurrection without boast or show, all mankind beneath his banner awaiting relief, with him the banner of praise. He will walk with people to Paradise's gate, seek opening, announce Muḥammad, be welcomed, and upon seeing his Lord fall thankful prostrate. Told to raise his head, speak and be obeyed, intercede and be granted, those enveloped by mercy and his intercession shall emerge. > **"I am master of mankind without boast, with the banner of praise, and intercession shall be granted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن میں لوگوں کا سردار ہوؤں گا اور یہ بات کسی فخر یا ریاکاری کے بغیر کہہ رہا ہوں ، اور قیامت کے دن سب لوگ میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے ، اور کشادگی کے منتظر ہوں گے ، میرے پاس ’’ لواء الحمد ‘‘ ہو گا ، میں چلتا ہوا جاؤں گا ، لوگ میرے ساتھ چلتے ہوئے جائیں گے ، یہاں تک کہ میں جنت کے دروازے کے پاس آ جاؤں گا اور میں دروازہ کھولنے کے لیے کہوں گا ، تو دریافت کیا جائے گا : کون ہے ؟ میں جواب دوں گا : محمد ( ﷺ ) تو کہا جائے گا : حضرت محمد ﷺ کو خوش آمدید ! جب میں اپنے پروردگار کو دیکھوں گا ، تو میں اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا ، یہ اُس کے شکر کے طور پر ہو گا ، تو کہا جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ! تم کہو ، تمہاری بات مانی جائے گی ، تم شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول ہو گی ( تو میری شفاعت کے نتیجے میں ) ہر وہ شخص جہنم سے نکل آئے گا ، جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور میری شفاعت پر یقین رکھتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اسحاق بن یحیی نامی راوی نے حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18513

Majma al-Zawaid #18513

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يُبْعَثُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَكُونُ أَنَا وَأُمَّتِي عَلَى تَلٍّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَيَكْسُونِي رَبِّي حُلَّةً خَضْرَاءَ، ثُمَّ يَأْذَنُ لِي فَأُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said people will be raised on the Day of Resurrection with him and his nation upon a hill. His Lord will clothe him in a green robe, then permit him to praise Him as He deserves, and that is the Praiseworthy Station. > **"He and his nation shall be upon a hill, and that is the Praiseworthy Station."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن لوگوں کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا ، تو میں اور میری اُمت قیامت کے دن ایک ٹیلے پر ہوں گے ، میرا پروردگار مجھے سبز حلہ پہنائے گا ، پھر وہ مجھے اجازت دے گا تو میں اُس کی شان کے مطابق اس کی ثناء بیان کروں گا ، یہ ’’ مقام ‘‘ محمود ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، معجم کبیر کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18514

Majma al-Zawaid #18514

وَعَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَنَا سَيِّدُ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَدْعُونِي رَبِّي فَأَقُولُ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، لَبَّيْكَ فِي صَانَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، عَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that he said he is master of mankind on the Day of Resurrection, his Lord shall call him and he will say, at Your service and blessed aid, good is in Your Hands, blessed and exalted are You, at Your service among those You shield, the guided is whom You guide, Your servant before You, no refuge nor escape from You but to You, blessed and exalted are You. > **"I am master of mankind; at Your service, no refuge from You but to You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن میں سب لوگوں کا سردار ہوؤں گا ، میرا پروردگار مجھے بلائے گا ، میں کہوں گا : میں حاضر ہوں ‘ سعادت تیری طرف سے حاصل ہوتی ہے ، بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے ، تو برکت والا ہے ، تو بلند و برتر ہے ، میں تیری مہربانی میں حاضر ہوں ، وہ ہدایت یافتہ ہے ، جسے تو نے ہدایت عطا کی ہو ، تیرا بندہ تیرے سامنے ہے ، تیرے مقابلے میں پناہ گاہ اور جائے نجات صرف تیری ذات ہے ، تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18515

Majma al-Zawaid #18515

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «يَجْمَعُ اللَّهُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، وَلَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ فَأَوَّلُ مَنْ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - يَتَكَلَّمُ مُحَمَّدٌ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ: "" لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، وَعَبْدُكَ بَيْنَ يَدَيْكَ، وَمِنْكَ وَإِلَيْكَ، لَا مَلْجَأَ وَلَا مَنْجَى مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، سُبْحَانَكَ رَبَّ الْبَيْتِ "". فَهَذَا قَوْلُهُ: "" عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَحْمُودًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah, may Allāh be pleased with him, reported that Allāh will gather people on one plain with no soul speaking, and the first, he thought, to speak will be Muḥammad ﷺ, saying, at Your service and blessed aid, good is in Your Hands and evil is not unto You, the guided is whom You guide, Your servant before You, from You and to You, no refuge nor escape from You but to You, blessed and exalted, glory to You Lord of the House. And this is His word that your Lord may raise you to the Praiseworthy Station. > **"The first to speak shall be Muḥammad ﷺ, and that is the Praiseworthy Station."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ سب لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا ، کوئی شخص کلام نہیں کر سکے گا ، سب سے پہلے حضرت محمد ﷺ کلام کریں گے اور وہ یہ کہیں گے : ’’ میں حاضر ہوں ، سعادت مندی تیری طرف سے حاصل ہوتی ہے ، بھلائی تیرے دست قدرت میں ہے ، برائی تیری طرف نہیں جا سکتی ، ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو نے ہدایت عطا کی ہو ، تیرا بندہ تیرے سامنے ہے ، تیری مدد سے ہے ، تیری طرف لوٹنے والا ہے ، تیرے مقابلے میں کوئی پناہ گاہ اور جائے نجات نہیں ہے ، صرف تیری ہی ذات ہے ، تو برکت والا ہے اور بلند و برتر ہے ، تو ہر عیب سے پاک ہے ، گھر ( یعنی خانہ کعبہ ) کے پروردگار !‘‘۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ’’ عنقریب تمہارا پروردگار تمہیں مقام محمود پر فائز کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18516

Majma al-Zawaid #18516

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَشْفَعُ لِأُمَّتِي حَتَّى يُنَادِيَنِي رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَقُولُ: قَدْ رَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ؟ فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، قَدْ رَضِيتُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَيْدٍ الْمَدَارِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he shall intercede for his nation until his Lord, blessed and exalted, calls to him, are you pleased O Muḥammad, and he will say, indeed my Lord, I am pleased. > **"I shall intercede until my Lord says: Are you pleased, O Muḥammad?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں اپنی امت کی شفاعت کروں گا ، یہاں تک کہ میرا پروردگار مجھے مخاطب کر کے فرمائے گا : اے محمد ! تم راضی ہو گئے ؟ میں عرض کروں گا : اے میرے پروردگار ! تحقیق میں راضی ہو گیا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن احمد بن زید مداری ہے اور میں اُس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ اُن میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18517

Majma al-Zawaid #18517

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُسْرٍ قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ بِفِنَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُلُوسٌ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا مُشْرِقَ الْوَجْهِ يَتَهَلَّلُ، فَقُمْنَا فِي وَجْهِهِ فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَرَّكَ اللَّهُ إِنَّهُ لَيَسُرُّنَا مَا نَرَى مِنْ إِشْرَاقِ وَجْهِكَ وَتَطَلُّقِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - أَتَانِي آنِفًا فَبَشَّرَنِي أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَعْطَانِيَ الشَّفَاعَةَ "". فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَفِي بَنِي هَاشِمٍ خَاصَّةً؟ قَالَ: "" لَا "". فَقُلْنَا: فِي قُرَيْشٍ خَاصَّةً؟ قَالَ: "" لَا "". فَقُلْنَا: فِي أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "" هِيَ فِي أُمَّتِي لِلْمُذْنِبِينَ الْمُثْقَلِينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ النَّصْرِيُّ مُتَأَخِّرٌ يَرْوِي عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Busr, may Allāh be pleased with him, reported that while they sat in the Prophet's courtyard he emerged radiant and cheerful, and they rejoiced at his brightness. The Messenger of Allāh ﷺ said Jibrīl, peace be upon him, just brought glad tidings that Allāh granted him intercession. Asked whether for Banū Hāshim or Quraysh particularly, he said no, then whether for his nation, he said it is for his nation, for burdened sinners. > **"Allāh granted me intercession for my nation, for burdened sinners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے گھر کے صحن میں ( شاید یہ مراد ہے آپ کے گھر کے باہر ) موجود تھے ، اسی دوران آپ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ کا چہرہ مبارک چمک رہا تھا اور جگمگا رہا تھا ، آپ کے چہرے کو دیکھ کر ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ آپ کو خوش رکھے ، آپ کے چہرے کی چمک اور خوشی دیکھ کر ہمیں بھی خوشی ہوئی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابھی جبرائیل میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے شفاعت عطا کی ہے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ بنو ہاشم کے بارے میں مخصوص ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! ہم نے دریافت کیا : کیا یہ قریش کے بارے میں مخصوص ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! ہم نے دریافت کیا : کیا آپ کی امت کے بارے میں ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ میری امت کے گناہ گار بوجھل لوگوں کے لئے ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد نصری ہے جو بعد کے زمانے کا ہے ، اس نے اوزاعی سے روایات نقل کی ہیں اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18518

Majma al-Zawaid #18518

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «نِعْمَ الرَّجُلُ أَنَا لِشِرَارِ أُمَّتِي "". فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنْ جُلَسَائِهِ: كَيْفَ أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّهِ، لِخِيَارِهِمْ؟ قَالَ: "" أَمَّا شِرَارُ أُمَّتِي فَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي، وَأَمَّا خِيَارُهُمْ فَيُدْخِلُهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِأَعْمَالِهِمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ جَمِيعُ بْنُ ثَوْبٍ الرَّجَمِيُّ، وَهُوَ بِفَتْحِ الْجِيمِ، وَكَسْرِ الْمِيمِ، عَلَى الْمَشْهُورِ، وَقِيلَ بِالتَّصْغِيرِ، قَالَ فِيهِ الْبُخَارِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَقَالَ النَّسَائِيُّ: مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ: رِوَايَاتُهُ تَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ ضَعِيفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that he is the best of men for the worst of his nation. Asked how for their best, he said as for their worst Allāh shall admit them to Paradise by his intercession, while their best Allāh shall admit by their deeds. > **"I am the best of men for the worst of my nation; they enter Paradise by my intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اپنی امت کے برے لوگوں کے لئے سب سے بہتر ’’ میں ‘‘ ہوں ۔‘‘ آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک صاحب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! ان کے بہتر لوگوں کے لیے آپ کیسے ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک میری امت کے برے لوگوں کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ میری شفاعت کی وجہ سے انہیں جنت میں داخل کرے گا ، جہاں تک نیک لوگوں کا تعلق ہے ، تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال کی وجہ سے انہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جمیع بن ثوب رحبی ہے اس میں جیم پر زبر ہے اور میم پر پیش ہے ، مشہور قول یہی ہے ، ایک قول کے مطابق یہ لفظ اسم تصغیر کے طور پر ہے ، امام بخاری نے اس راوی کے بارے میں یہ کہا ہے : یہ منکر الحدیث ہے ، امام نسائی نے کہا ہے : یہ متروک الحدیث ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18519

Majma al-Zawaid #18519

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ ذَاتَ يَوْمٍ: «شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي "". قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: السَّابِقُ بِالْخَيْرَاتِ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَالْمُقْتَصِدُ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَةِ اللَّهِ، وَالظَّالِمُ لِنَفْسِهِ وَأَهْلُ الْأَعْرَافِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الصَّنْعَانِيُّ، وَهُوَ وَضَّاعٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said one day his intercession is for grave sinners of his nation. Ibn ʿAbbās added the foremost in good enter Paradise without reckoning, the moderate by Allāh's mercy, and self-wrongers and the people of the Heights by Muḥammad's intercession ﷺ. > **"My intercession is for grave sinners; self-wrongers enter Paradise thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری شفاعت میری اُمت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہو گی ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : ’’ بھلائی کی طرف سبقت لے جانے والے لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، میانہ روی اختیار کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے اور اپنے اوپر ظلم کرنے والے لوگ اور اعراف میں رہنے والے لوگ ، حضرت محمد ﷺ کی شفاعت کی وجہ سے جنت میں داخل ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ اس صحابی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن سنانی ہے اور وہ حدیث ایجاد کرنے والا شخص ہے ۔

18520

Majma al-Zawaid #18520

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «خُيِّرْتُ بَيْنَ الشَّفَاعَةِ أَوْ يَدْخُلُ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ ; لِأَنَّهَا أَعَمُّ وَأَكْفَأُ، تَرَوْنَهَا لِلْمُتَّقِينَ؟ لَا. وَلَكِنَّهَا لِلْمُتَلَوِّثِينَ الْخَطَّائِينَ». قَالَ زِيَادٌ: أَمَا إِنَّهَا نَحْنُ وَلَكِنْ هَكَذَا حَدَّثَنَا الَّذِي حَدَّثَنَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «أَمَا إِنَّهَا لَيْسَتْ لِلْمُؤْمِنِينَ الْمُتَّقِينَ، وَلَكِنَّهَا لِلْمُذْنِبِينَ الْخَطَّائِينَ الْمُتَلَوِّثِينَ» "". وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ النُّعْمَانِ بْنِ قُرَادٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with them, reported from the Prophet ﷺ that he was given choice between intercession or half his nation in Paradise, and chose intercession as wider and more sufficient. Do you deem it for the God-fearing? No, but for stained sinners. Ziyād remarked it is yet for them, but thus narrated their narrator. > **"I chose intercession as wider; it is for stained sinners, not only the God-fearing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے شفاعت اور اس بات کے درمیان اختیار دیا گیا کہ میری امت کا نصف ( حصہ ) جنت میں داخل ہو جائے ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کیا ، کیونکہ وہ زیادہ عمومی اور زیادہ کفایت کرنے والی ہے ، کیا تم اس کے بارے میں یہ سمجھتے ہو ؟ کہ وہ صاف ستھرے ( یعنی پرہیزگار ) لوگوں کے لیے ہو گی ؟ جی نہیں ! بلکہ وہ یعنی گناہوں میں ملوث ہونے والے خطاکاروں کے لیے ہو گی ۔‘‘ زیاد کہتے ہیں : : اگرچہ ہم ایسے ہیں لیکن جس نے ہمیں یہ حدیث بیان کی ہے اس نے ہمیں یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ پرہیزگار مومنین کے لئے نہیں ہو گی بلکہ یہ گناہ گاروں خطاکاروں اور ( برائیوں میں ) ملوث ہونے والے لوگوں کے لیے ہو گی ۔‘‘ طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف نعمان بن قراد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18521

Majma al-Zawaid #18521

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said his intercession is for grave sinners of his nation. > **"My intercession is for grave sinners of my nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری شفاعت میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

18522

Majma al-Zawaid #18522

وَفِي رِوَايَةٍ فِيهِمَا: " «إِنَّمَا جُعِلَتِ الشَّفَاعَةُ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي» ". وَفِيهِ الْخَزْرَجُ بْنُ عُثْمَانَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a variant in both collections, intercession was appointed only for grave sinners of his nation. > **"Intercession was appointed only for grave sinners of my nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان دونوں میں ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ شفاعت کو میری امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے بنایا گیا ہے ۔‘‘ اس کی سند میں ایک راوی خزرج بن عثمان ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے ، ہزار کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18523

Majma al-Zawaid #18523

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنَّا نُمْسِكُ عَنِ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى سَمِعْنَا نَبِيَّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنِّي ادَّخَرْتُ شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". فَأَمْسَكْنَا عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا كَانَ فِي أَنْفُسِنَا، وَرَجَوْنَا لَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَرْبُ بْنُ سُرَيْجٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, reported that they withheld seeking pardon for grave sinners until they heard their Prophet ﷺ say he reserved his intercession for grave sinners of his nation on the Day of Resurrection. So they held back from much within themselves and hoped for them. > **"He reserved his intercession for grave sinners, so we hoped for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ’’ پہلے ہم کبیرہ گناہ کرنے والوں کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے باز رہتے تھے ، یہاں تک کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ میں نے اپنی شفاعت کو قیامت کے دن اپنی امت کے کبیرہ گناہ کرنے والوں ( کی شفاعت ) کے لیے سنبھال لیا ہے ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : تو ہم اس چیز سے باز آ گئے جو ہم پہلے طرز عمل اختیار کرتے تھے اور ہم نے ان لوگوں کے بارے میں امید رکھنا شروع کی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حرب بن سریج ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18524

Majma al-Zawaid #18524

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اعْمَلِي وَلَا تَتَّكِلِي ; فَإِنَّ شَفَاعَتِي لِلْهَالِكِينَ مِنْ أُمَّتِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ مَخْرَمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allāh be pleased with her, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said work and rely not, for his intercession is for the perishing of his nation. > **"Work and rely not, for my intercession is for the perishing of my nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم عمل کرو ! اور تم تکیہ نہ کرو ! بے شک میری شفاعت میری امت کے ہلاکت کا شکار ہونے والے ( یعنی گناہ گار لوگوں ) کے لئے ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن مخرم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18525

Majma al-Zawaid #18525

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَإِذَا رَجُلٌ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ بُرَيْدَةُ: يَا مُعَاوِيَةُ، أَتَأْذَنُ لِي فِي الْكَلَامِ؟ قَالَ: نَعَمْ. وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ يَتَكَلَّمُ بِمِثْلِ مَا قَالَ الْآخَرُ، فَقَالَ بُرَيْدَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أُشَفَّعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدَدَ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ وَمَدَرَةٍ». قَالَ: فَتَرْجُوهَا أَنْتَ يَا مُعَاوِيَةُ وَلَا يَرْجُوهَا عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -؟ رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ فِي أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيِّ ..

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allāh be pleased with him, reported that he visited Muʿāwiyah finding a man speaking, and sought leave to speak. Granted, though thought to echo the other, Buraydah said he heard the Messenger of Allāh ﷺ say he hopes to intercede on the Day of Resurrection as many as earth's trees and clods. He said, do you hope it O Muʿāwiyah, while ʿAlī, may Allāh be pleased with him, hopes it not? > **"I hope to intercede as many as earth's trees and clods."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو وہاں ایک شخص کلام کر رہا تھا ، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے حضرت معاویہ ! کیا آپ مجھے کلام کرنے کی اجازت دیں گے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں ! وہ یہ سمجھے کہ یہ بھی اسی طرح کلام کریں گے جس طرح دوسرا شخص کر رہا تھا ، حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مجھے یہ امید ہے کہ میں قیامت کے دن اتنی تعداد میں لوگوں کی شفاعت کروں گا جتنے زمین میں درخت اور پتھر ( یا ڈھیلے ہیں ) ۔‘‘ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اے معاویہ ! آپ کو اس ( شفاعت ) کی امید ہو گی ، تو کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اس کی امید نہیں ہو گی ؟ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ابواسرائیل ملائی نامی راوی میں بہت زیادہ ضعف پایا جاتا ہے ۔

18526

Majma al-Zawaid #18526

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَكَثِيرٌ الْحَجَرُ وَالشَّجَرُ؟ "". ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَشَفَاعَتِي أَكْثَرُ مِنَ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَهْلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ ask thrice, are stones and trees many? They said yes, and he said by Him in Whose Hand is his soul, his intercession is more than stones and trees. > **"By Him in Whose Hand is my soul, my intercession is more than stones and trees."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کیا پتھر اور درخت بکثرت ہیں ؟ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، تو ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میری شفاعت پتھروں اور درختوں سے زیادہ تعداد میں ( لوگوں کے لیے ) ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سہل بن عبداللہ بن بریدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18527

Majma al-Zawaid #18527

وَعَنْ أُنَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنِّي لَأُشَفَّعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي كُلِّ شَيْءٍ مِمَّا عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مِنْ حَجَرٍ وَمَدَرٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو صَاحِبُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَيُعْرَفُ بِالْقِلَّوْرِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Unays al-Anṣārī, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say he shall surely intercede on the Day of Resurrection in all upon earth's face of stone and clod. > **"I shall intercede in all upon earth's face of stone and clod."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انیس انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن میں ہر اس چیز ( کی تعداد جتنے افراد ) کی شفاعت کروں گا جو چیز روئے زمین پر موجود ہے ، جس کا تعلق درختوں اور پتھروں سے ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی احمد بن عمرو ہے جو علی بن مدینی کا شاگرد ہے اور قلوری کے نام سے معروف ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18528

Majma al-Zawaid #18528

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنِّي آتِي بَابَ جَهَنَّمَ فَأَضْرِبُ بَابَهَا فَيُفْتَحُ لِي، فَأَدْخُلُهَا فَأَحْمَدُ اللَّهَ مَحَامِدَ مَا حَمِدَهُ أَحَدٌ قَبْلِي مِثْلَهَا، وَلَا يَحْمَدُهُ أَحَدٌ بَعْدِي، ثُمَّ أُخْرِجُ مِنْهَا مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا، فَيَقُومُ إِلَيَّ أُنَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ فَيَنْتَسِبُونَ لِي، فَأَعْرِفُ نَسَبَهُمْ وَلَا أَعْرِفُ وُجُوهَهُمْ، وَأَتْرُكُهُمْ فِي النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ: عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الرَّازِيِّ، وَفِيهِ لِينٌ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he shall come to Hell's gate and strike it, and it will open for him. He will enter praising Allāh with praises none before or after matched, then bring out whoever said Lā ilāha illā Allāh sincerely. Men of Quraysh will rise claiming kinship, and he will know their lineage but not their faces, leaving them in the Fire. > **"I shall strike Hell's gate and bring out whoever said Lā ilāha illā Allāh sincerely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جہنم کے دروازے کے پاس آؤں گا اور اس کے دروازے کو کھٹکھٹاؤں گا ، وہ میرے لئے کھول دیا جائے گا ، میں اُس میں داخل ہو جاؤں گا ، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی حمد بیان کروں گا کہ اللہ تعالیٰ کی اس طرح سے حمد ، مجھ سے پہلے کسی نے بیان نہیں کی ہو گی ، اور نہ ہی میرے بعد کوئی اس طرح حمد بیان کرے گا ، پھر میں وہاں سے ہر اس شخص کو نکالوں گا جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھا ہو گا ، پھر قریش کے کچھ لوگ میرے سامنے کھڑے ہوں گے ، وہ میرے سامنے اپنا نسب بیان کریں گے ، میں ان کے نسب کو پہچان لوں گا ، لیکن میں ان کے چہروں کو نہیں پہچانوں گا اور میں انہیں جہنم میں چھوڑ دوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے انہوں نے اپنے استاد علی بن سعید رازی کے حوالے سے اس کو نقل کیا ہے جس میں کمزوری پائی جاتی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18529

Majma al-Zawaid #18529

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَفْتَقِدُ أَهْلُ الْجَنَّةِ نَاسًا كَانُوا يَعْرِفُونَهُمْ فِي الدُّنْيَا، فَيَأْتُونَ الْأَنْبِيَاءَ فَيَذْكُرُونَهُمْ فَيَشْفَعُونَ فِيهِمْ فَيُشَفَّعُونَ، يُقَالُ لَهُمُ: الطُّلَقَاءُ، وَكُلُّهُمْ طُلَقَاءُ يُصَبُّ عَلَيْهِمْ مَاءُ الْحَيَاةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Paradise's people will miss men they knew in the world, come to the prophets mentioning them, and they will intercede and be granted. They will be called the freed, all freed, with the water of life poured over them. > **"They will intercede for the missed and be granted; they are called the freed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت کچھ ایسے افراد کو غیر موجود پائیں گے جن سے وہ دنیا میں واقف تھے ، وہ انبیاء کے پاس آئیں گے اور ان لوگوں کا ذکر کریں گے اور ان لوگوں کے بارے میں شفاعت کریں گے تو اُن کی شفاعت قبول کی جائے گی اور ان لوگوں کو ’’ طلقاء ‘‘ کہا جائے گا وہ سب ’’ طلقاء ‘‘ ہوں گے ، اُن پر آب حیات ڈالا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18530

Majma al-Zawaid #18530

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ قَوْمٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قَدْ عُذِّبُوا فِي النَّارِ بِرَحْمَةِ اللَّهِ، وَشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said some Muslims once tormented in the Fire shall surely enter Paradise by Allāh's mercy and the intercession of intercessors. > **"Some Muslims once tormented in the Fire shall surely enter Paradise by mercy and intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں مسلمانوں کے کچھ لوگ داخل ہوں گے ، جنہیں جہنم میں عذاب دیا جا رہا ہو گا وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے اور شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کی وجہ سے ( جنت میں داخل ہوں گے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18531

Majma al-Zawaid #18531

وَعَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنَ النَّارِ، فَيُسَمَّوْنَ فِي الْجَنَّةِ الْجَهَنَّمِيِّينَ، فَيَدْعُونَ اللَّهَ أَنْ يُحَوِّلَ عَنْهُمْ ذَلِكَ الِاسْمَ، فَيَمْحُوهُ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَإِذَا خَرَجُوا مِنَ النَّارِ نَبَتُوا كَمَا يَنْبُتُ الرِّيشُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Mughīrah ibn Shuʿbah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said peoples shall emerge from the Fire and be named in Paradise the Hell-dwellers. They will pray Allāh to remove that name, and Allāh will erase it from them, for emerging from the Fire they sprout as feathers sprout. > **"They shall emerge from the Fire, be named Hell-dwellers, then Allāh will erase that name."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کچھ لوگ جہنم سے نکلیں گے ، جنت میں ان کا نام ” جہنمی ‘‘ رکھا جائے گا ، وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں گے کہ ان کا یہ نام تبدیل کر دیا جائے ، تو اللہ تعالیٰ ان کا یہ نام محو کر دے گا ، جب وہ لوگ جہنم سے نکلیں گے تو وہ یوں اُگیں گے جس طرح پر اگتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن اسحاق ہے اور وہ ضعیف ۔

18532

Majma al-Zawaid #18532

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ نَاسًا مِنْ أُمَّتِي يُعَذَّبُونَ بِذُنُوبِهِمْ، فَيَكُونُونَ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا، ثُمَّ يُعَيِّرُهُمْ أَهْلُ الشِّرْكِ فَيَقُولُونَ: مَا نَرَى مَا كُنْتُمْ فِيهِ مِنْ تَصْدِيقِكُمْ، وَإِيمَانِكُمْ نَفَعَكُمْ؟ فَلَا يَبْقَى مُوَحِّدٌ إِلَّا أَخْرَجَهُ اللَّهُ "". ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ». قُلْتُ: لِجَابِرٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بَسَّامٍ الصَّيْرَفِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdullāh, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said some of his nation shall be tormented for sins, remaining in Fire as long as Allāh wills, then pagans will taunt them saying their belief availed nothing. So no monotheist shall remain but Allāh will bring him out. Then the Messenger of Allāh ﷺ recited that disbelievers shall wish they were Muslims. > **"No monotheist shall remain in the Fire but Allāh will bring him out."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے کچھ لوگوں کو ان کے گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا جب تک اللہ کو منظور ہو گا ، وہ جہنم میں رہیں گے ، پھر مشرکین انہیں عار دلاتے ہوئے یہ کہیں گے : تم لوگوں نے جو تصدیق کی تھی اور جو تمہارا ایمان تھا ، ہمارا نہیں خیال کہ اس نے تمہیں کوئی فائدہ دیا ہے ؟ تو اس وقت ہر موحد کو اللہ تعالیٰ ( جہنم سے ) نکال دے گا ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ جن لوگوں نے کفر کیا وہ یہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مسلمان ہوتے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ احادیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہیں ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بسام صیرفی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18533

Majma al-Zawaid #18533

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ يَدْخُلُونَ النَّارَ بِذُنُوبِهِمْ، فَيَقُولُ لَهُمْ أَهْلُ اللَّاتِ وَالْعُزَّى: مَا أَغْنَى عَنْكُمْ قَوْلُكُمْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنْتُمْ مَعَنَا فِي النَّارِ؟ فَيَغْضَبُ اللَّهُ لَهُمْ، فَيُخْرِجُهُمْ (فَيَقْذِفُ بِهِمْ) فِي نَهْرِ الْحَيَاةِ، فَيَبْرَءُونَ مِنْ حَرْقِهِمْ كَمَا يَبْرَأُ الْقَمَرُ مِنْ كُسُوفِهِ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ: الْجَهَنَّمِيِّينَ "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا أَنَسُ، سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ أَنَسٌ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ». أَنَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said some of the people of Lā ilāha illā Allāh shall enter Fire for sins, and the people of al-Lāt and al-ʿUzzā will say their declaration availed nothing while with them in Fire. So Allāh will anger for them, bring them out and cast them into the river of life, healing their burns as the moon heals from eclipse. They will enter Paradise, with Paradise's people naming them the Hell-dwellers. Asked whether he heard this from the Messenger of Allāh ﷺ, he swore he did. > **"Allāh will anger for them, cast them into the river of life, and admit them to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ لا الہ الا اللہ کے ماننے والوں میں سے کچھ لوگ جہنم میں اپنے گناہوں کی وجہ سے داخل ہوں گے ، تو لات اور عزیٰ کے ماننے والے اُن سے یہ کہیں گے : تمہارا لا الہ الا اللہ کہنا ، تمہارے کس کام آیا ؟ جبکہ تم بھی ہمارے ساتھ جہنم میں ہو ، اللہ تعالیٰ ان ( کافر ) لوگوں پر غضبناک ہو گا اور ان ( یعنی گناہ گار اہل ایمان ) کو ( جہنم سے ) نکال دے گا اور انہیں نہر حیات میں ڈالے گا ، تو وہ جلنے کے اثر کے حوالے سے یوں ٹھیک ہو جائیں گے جس طرح چاند کا گرہن ختم ہوتا ہے ، پھر وہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ، تو اہل جنت انہیں ’’ جہنمی ‘‘ کا نام دیں گے ۔‘‘ ایک شخص نے کہا : اے حضرت انس ! کیا آپ نے خود یہ ( حدیث ) نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص جانتے بوجھتے ہوئے میری طرف جھوٹی بات منسوب کرے ، وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے ۔‘‘ ( پھر حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے ( یعنی وہ حدیث جو اس سے پہلے بیان ہو چکی ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18534

Majma al-Zawaid #18534

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ شَعِيرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَخْرِجُوا مِنَ النَّارِ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلَةٍ مِنْ إِيمَانٍ، ثُمَّ يَقُولُ: وَعِزَّتِي وَجَلَالِي، لَا أَجْعَلُ مَنْ آمَنَ بِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ أَوْ لَيْلٍ كَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي» "". قُلْتُ: لَهُ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ فِي الشَّفَاعَةِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ طَرِيفُ بْنُ شِهَابٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh, mighty and majestic, will say to bring out of the Fire whoever had a barley grain's weight of faith in his heart, then whoever had a mustard seed's weight of faith, then by His might and majesty He will not make one who believed in Him an hour of night or day as one who never believed. > **"Bring out whoever had a barley or mustard seed of faith; the momentary believer is not as the disbeliever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اس کو جہنم سے نکال دو ! جس کے دل میں جو کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ، پھر وہ فرمائے گا : اس کو جہنم سے نکال دو جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ، پھر وہ فرمائے گا : مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم ہے ، جس شخص نے دن یا رات کی گھڑی بھر کے لیے مجھ پر ایمان رکھا ہو ، میں اسے اس شخص کی مانند نہیں بناؤں گا ، جس نے مجھ پر ایمان نہیں رکھا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں شفاعت کے بارے میں ایک حدیث منقول ہے جو اس سے مختصر ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طریف بن شہاب ہے اور وہ متروک ہے ۔

18535

Majma al-Zawaid #18535

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «لَا تَزَالُ الشَّفَاعَةُ بِالنَّاسِ وَهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ حَتَّى إِنَّ إِبْلِيسَ الْأَبَالِسِ لَيَتَطَاوَلُ لَهَا رَجَاءَ أَنْ تُصِيبَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى صَاحِبُ الْبَصْرِيِّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, said intercession shall keep reaching people emerging from the Fire until even Iblīs, chief of devils, stretches toward it hoping to attain it. > **"Intercession shall keep reaching them until even Iblīs stretches hoping for it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ لوگوں کو شفاعت نصیب ہوتی رہے گی اور وہ جہنم سے نکلتے رہیں گے ، یہاں تک کہ ابلیس بھی اونچا ہو گا تاکہ اُسے بھی وہ ( یعنی شفاعت ) نصیب ہو جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ” موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن یحیی ہے جو بصری کا شاگرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18536

Majma al-Zawaid #18536

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يُوضَعُ لِلْأَنْبِيَاءِ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَجْلِسُونَ عَلَيْهَا، وَيَبْقَى مِنْبَرِي لَا أَجْلِسُ عَلَيْهِ، أَوْ لَا أَقْعُدُ عَلَيْهِ قَائِمًا بَيْنَ يَدَيْ رَبِّي [مُنْتَصِبًا بِأُمَّتِي] مَخَافَةَ أَنْ يَبْعَثَ بِي إِلَى الْجَنَّةِ وَتَبْقَى أُمَّتِي بَعْدِي، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي! أُمَّتِي! فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: يَا مُحَمَّدُ، مَا تُرِيدُ أَنْ أَصْنَعَ بِأُمَّتِكَ؟ فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، تُعَجِّلُ حِسَابَهُمْ، فَيُدْعَى بِهِمْ فَيُحَاسَبُونَ، فَمِنْهُمْ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِهِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَتِي، فَمَا أَزَالُ أَشْفَعُ حَتَّى أُعْطَى صِكَاكًا بِرِجَالٍ قَدْ بُعِثَ بِهِمْ إِلَى النَّارِ، حَتَّى إِنَّ مَالِكًا خَازِنَ النَّارَ لَيَقُولُ: يَا مُحَمَّدُ، مَا تَرَكْتَ لِغَضَبِ رَبِّكَ فِي أُمَّتِكَ مِنْ نِقْمَةٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said pulpits of light will be set for the prophets to sit upon, while his pulpit remains unseated, for he shall stand before his Lord occupied with his nation, fearing to be sent to Paradise while his nation remains behind. He will say, my Lord, my nation, my nation, and Allāh will ask what he wishes done for them. He will say, hasten their reckoning, so they will be summoned and reckoned: some entering Paradise by His mercy, some entering Fire then emerging by intercession. > **"My pulpit remains unseated while I stand for my nation; my Lord, my nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ انبیاء کے لیے نور کے منبر رکھے جائیں گے ، جن پر وہ بیٹھیں گے ، صرف میرا منبر باقی رہے گا ، میں اس پر نہیں بیٹھوں گا ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) میں اپنی امت کی خاطر اپنے پروردگار کے سامنے کھڑا رہوں گا ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں مجھے جنت میں نہ بھجوا دیا جائے اور میرے بعد میری امت باقی رہ جائے ، میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت ، میری امت ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اے محمد ! تم کیا چاہتے ہو کہ میں تمہاری امت کے ساتھ کیا کروں ؟ میں عرض کروں گا : اے میرے پروردگار ! تو ان کے حساب میں عدل کر ! پھر ان کو بلایا جائے گا اور ان کا حساب لیا جائے گا ، ان میں سے کوئی اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گا ، ان میں سے کوئی میری شفاعت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گا ، میں مسلسل شفاعت کرتا رہوں گا ، مجھے ایسے لوگ دیے جاتے رہیں گے جنہیں جہنم کی طرف بھجوایا گیا تھا ، یہاں تک کہ جہنم کا داروغہ ’’ مالک ‘‘ یہ کہے گا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ نے اپنی امت کے بارے میں اپنے پروردگار کے غضب کے لیے کوئی گنجائش نہیں رہنے دی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ثابت بنانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18537

Majma al-Zawaid #18537

وَعَنْ حُذَيْفَةَ - يَرْفَعُهُ - إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «يُخْرِجُ اللَّهُ قَوْمًا مُنْتِنِينَ قَدْ مَحَشَتْهُمُ النَّارُ بِشَفَاعَةِ الشَّافِعِينَ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فَيُسَمَّوْنَ الْجَهَنَّمِيِّينَ أَوِ الْجَهَنَّمِيُّونَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، قُلْتُ وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ نَحْوِ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah, may Allāh be pleased with him, raised to the Prophet ﷺ that Allāh will bring out peoples, foul and scorched by Fire, through intercessors' intercession. They will enter Paradise named the Hell-dwellers. > **"Foul scorched peoples shall be brought out by intercessors into Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ( یعنی جہنم سے ) نکالے گا جو بدبودار ہو چکے ہوں گے اور آگ نے انہیں راکھ کر دیا ہو گا ، وہ جنت میں داخل ہوں گے تو انہیں ’’ جہنمی ‘‘ کا نام دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے دو حوالوں سے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اللہ تعالیٰ کی رحمت سے متعلق باب میں اس نوعیت کی کچھ احادیث آگے آئیں گی ۔

18538

Majma al-Zawaid #18538

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ مِنْ أُمَّتِي أَهْلُ بَيْتِي، ثُمَّ الْأَقْرَبُ فَالْأَقْرَبُ مِنْ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ، ثُمَّ مَنْ آمَنَ بِي، وَاتَّبَعَنِي مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، ثُمَّ مِنْ سَائِرِ الْعَرَبِ، ثُمَّ الْأَعَاجِمُ، وَأَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ أُولُو الْفَضْلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the first he intercedes for of his nation are his Household, then nearest then nearest of Quraysh and the Anṣār, then Yemenis who believed and followed him, then remaining Arabs, then non-Arabs, and the first interceded are the virtuous. > **"The first I intercede for are my Household, then nearest of Quraysh and Anṣār."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اپنی امت میں سے ، میں سب سے پہلے جن کی شفاعت کروں گا وہ میرے اہل بیت ہیں اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ہیں ، جن کا تعلق قریش اور انصار سے ہے ، پھر وہ لوگ ہوں گے جو مجھ پر ایمان لائے اور جنہوں نے میری پیروی کی ، جن کا تعلق اہل یمن سے ہے ، پھر باقی تمام عربوں کی ، پھر عجمیوں کی اور سب سے پہلے میں فضیلت والے لوگوں کی شفاعت کروں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18539

Majma al-Zawaid #18539

وَعَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أَوَّلُ مَنْ أَشْفَعُ لَهُ مِنْ أُمَّتِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ، وَأَهْلُ مَكَّةَ، وَأَهْلُ الطَّائِفِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Malik ibn ʿAbbād ibn Jaʿfar reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say the first he intercedes for of his nation are the people of Madīnah, Makkah, and Ṭāʾif. > **"The first I intercede for are the people of Madīnah, Makkah, and Ṭāʾif."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالملک بن عباد بن جعفر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اپنی امت میں سے ، میں سب سے پہلے جس کی شفاعت کروں گا وہ اہل مدینہ اور اہل مکہ اور اہل طائف ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18540

Majma al-Zawaid #18540

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يُشَفِّعُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ جَمِيعِ ذُرِّيَّتِهِ فِي مِائَةِ أَلْفِ أَلْفٍ وَعَشَرَةِ آلَافِ أَلْفِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh will grant Ādam, peace be upon him, intercession on the Day of Resurrection for all his offspring, for a hundred thousand thousand and ten thousand thousand. > **"Allāh will grant Ādam intercession for myriads of his offspring."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت آدم علیہ السلام کی شفاعت کو قبول کرے گا جو اُن کی ساری اولاد میں سے ایک سو ہزار ، ہزار اور دس ہزار ، ہزار لوگوں کے بارے میں ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18541

Majma al-Zawaid #18541

وَعَنْ خَرَشَةَ بْنِ الْحُرِّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَقَالَ: «أَلَا أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا هُوَ فِي كِتَابِ اللَّهِ؟ فَذَكَرَ قَوْمًا يَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ آدَمُ: يَا رَبِّ، حَرَقَتْ بَنِيَّ فَيُخْرَجُونَ مِنْهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Kharashah ibn al-Ḥurr reported that arriving in Madīnah he met ʿAbdullāh ibn Salām, may Allāh be pleased with him, who offered a report in Allāh's Book, mentioning peoples emerging from the Fire while Ādam, peace be upon him, says, my Lord, my children are burnt, and they are brought out. > **"My Lord, my children are burnt, so they are brought out from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

خرشہ بن حر بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ آیا ، میری ملاقات حضرت عبداللہ بن سلام رجی اللہ عنہ سے ہوئی ، انھوں نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی حدیث بیان نہ کروں ؟ جس کا ذکر اللہ کی کتاب میں ہے ، پھر انہوں نے وہ حدیث بیان کی جس میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو جہنم سے نکلیں گے اور حضرت آدم علیہ السلام کہیں گے : اے میرے پروردگار ! میرے بچے جل رہے ہیں ، تو انہیں وہاں سے نکال دیا جائے گا ( یعنی حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد کو جہنم سے نکال دیا جائے گا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18542

Majma al-Zawaid #18542

عَنْ عُثْمَانَ - يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَوَّلُ مَنْ يَشْفَعُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الشُّهَدَاءُ، ثُمَّ الْمُؤَذِّنُونَ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارِ الْمُؤَذِّنِينَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَنْبَسَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأُمَوِيُّ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmān ibn ʿAffān, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that the first to intercede on the Day of Resurrection are the prophets, then the martyrs, then the callers to prayer. > **"The first to intercede are the prophets, then the martyrs, then the callers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن سب سے پہلے انبیاء کی ، پھر شہداء کی اور پھر مؤذنین کی شفاعت قبول ہو گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے ’’ مؤذنین ‘‘ کے تذکرے کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عنبسہ بن عبدالرحمن اموی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

18543

Majma al-Zawaid #18543

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الصِّيَامُ وَالْقُرْآنُ يَشْفَعَانِ فِي الْعَبْدِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَقُولُ الصِّيَامُ: أَيْ رَبِّ، مَنَعْتُهُ الطَّعَامَ وَالشَّهْوَةَ فَشَفِّعْنِي فِيهِ، وَيَقُولُ الْقُرْآنُ: مَنَعْتُهُ النَّوْمَ بِاللَّيْلِ فَشَفِّعْنِي فِيهِ "". قَالَ: "" فَيَشْفَعَانِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي ابْنِ لَهِيعَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said fasting and Qurʾān shall intercede for the servant on the Day of Resurrection. Fasting will say, my Lord, I barred him from food and desire, so grant me intercession for him. Qurʾān will say, I barred him from sleep at night, so grant me intercession for him. And they shall both intercede. > **"Fasting and Qurʾān shall intercede, saying: I barred him, so grant me intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ روزہ اور قرآن ، قیامت کے دن بندے کی شفاعت کریں گے ، روزہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! میں نے اسے کھانے سے اور نفسانی خواہش پوری کرنے سے روکے رکھا ، تو اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما لے ! قرآن کہے گا : میں نے اسے رات کے وقت سونے سے روکے رکھا ، تو اس کے بارے میں میری شفاعت قبول فرما لے ! نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو اُن دونوں کی شفاعت قبول ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، اگرچہ ابن لہیعہ نامی راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18544

Majma al-Zawaid #18544

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ لَيْسَ بِنَبِيٍّ مِثْلُ الْحَيَّيْنِ رَبِيعَةَ وَمُضَرَ "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوَمَا رَبِيعَةُ مِنْ مُضَرَ؟ قَالَ: "" إِنَّمَا أَقُولُ مَا أَقُولُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَيْسَرَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say there shall surely enter Paradise through one man not a prophet as many as the two tribes Rabīʿah and Muḍar. Asked whether Rabīʿah is of Muḍar, he said he says only what he says. > **"Through one man not a prophet shall enter as many as Rabīʿah and Muḍar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک شخص جو نبی نہیں ہو گا ، اُس کی شفاعت کی وجہ سے دو قبیلوں ربیعہ اور مضر کی تعداد میں لوگ جنت میں داخل ہوں گے ، ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ربیعہ ، مضر کا حصہ نہیں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جیسا میں نے کہا ہے ، ویسا ہی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال اور طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن میسرہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔