Majma al-Zawaid #18505
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَقْرَعُ بَابَ الْجَنَّةِ فَيُفْتَحُ لِي بَابٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَحَلْقَةٌ مِنْ فِضَّةٍ، فَيَسْتَقْبِلُنِي النُّورُ الْأَكْبَرُ، فَأَخِرُّ سَاجِدًا، فَأُلْقِي مِنَ الثَّنَاءِ عَلَى اللَّهِ مَا لَمْ يُلْقِ أَحَدٌ قَبْلِي، فَيُقَالُ لِي: ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَهْ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ. فَأَقُولُ: أُمَّتِي، فَيُقَالُ [لِي]: لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ شُعَيْرَةٍ مِنْ إِيمَانٍ "". قَالَ: "" ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّانِيَةَ "". قَالَ: "" ثُمَّ أُلْقِي مِثْلَ ذَلِكَ، وَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ، وَأَقُولُ: أُمَّتِي! فَيُقَالُ: لَكَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ. ثُمَّ أَسْجُدُ الثَّالِثَةَ، فَيُقَالُ لِي مِثْلُ ذَلِكَ، ثُمَّ أَرْفَعُ رَأْسِي فَأَقُولُ: أُمَّتِي، فَيُقَالُ [لِي]: لَكَ مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا». قُلْتُ: لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he shall knock at Paradise's gate and a golden gate with silver ring will open, the greatest light meeting him, and he will fall prostrate, granted praise upon Allāh never granted before. Told to raise his head, ask and be given, speak and be heard, intercede and be granted, he will say, my nation, and be told his are those with a barley grain of faith. Then a second prostration for those with a mustard seed of faith, then a third likewise for even less. > **"I shall knock at Paradise's gate and prostrate, saying: My nation, my nation."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جنت کا دروازہ کھٹکھٹاؤں گا ، وہ میرے لئے کھول دیا جائے گا ، وہ سونے سے بنا ہوا دروازہ ہو گا ، جس کی کنڈی چاندی کی بنی ہوئی ہو گی ، میرے سامنے سب سے بڑا نور آئے گا تو میں سجدے میں چلا جاؤں گا ، اس وقت اللہ تعالیٰ کی ثناء کے بارے میں ایسے کلمات مجھے القاء کئے جائیں گے جو مجھ سے پہلے کسی کو القاء نہیں کیے گئے ، پھر مجھ سے کہا جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم مانگو ، وہ دیا جائے گا ، تم کہو ، سنا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، شفاعت قبول کی جائے گی ، تو میں یہ کہوں گا : میری امت ، تو یہ کہا جائے گا : تمہیں وہ ملتا ہے جس کے دل میں ، جو کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر میں دوسری مرتبہ سجدے میں جاؤں گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر مجھے اس کی مانند کلمات القاء کیے جائیں گے ، پھر مجھ سے اس کی مانند بات کہی جائے گی اور میں یہ کہوں گا : میری امت ، مجھ سے کہا جائے گا : تمہیں وہ ملتا ہے جس کے دل میں رائی کے دانے کے وزن جتنا ایمان ہو ، پھر میں تیسری مرتبہ سجدے میں جاؤں گا ، پھر مجھ سے اس کی مانند بات کہی جائے گی ، پھر میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور یہ کہوں گا : میری امت ، تو مجھ سے کہا جائے گا : تمہیں ہر وہ فرد ملتا ہے جس نے اخلاص کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھا ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں اور دوسری کتابوں میں کچھ احادیث مذکور ہیں جو اس روایت کے علاوہ ہیں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔