Majma al-Zawaid #18465
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ، وَيُجَاءُ بِأَقْوَامٍ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ: مَا زَالُوا بَعْدَكَ مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ، اتَّقُوا النَّارَ، اتَّقُوا الْحُدُودَ، فَإِذَا مِتُّ تَرَكْتُكُمْ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ» "". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ عِنْدَهُمْ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say he is your forerunner at the Basin; whoever comes prospers, but peoples will be brought and seized to the left, so he will say, my Lord, and be told they kept turning apostate on their heels after him. > **"I am your forerunner; whoever comes prospers, but apostates are seized to the left."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جو شخص اس پر وارد ہو گا ، وہ کامیاب ہو جائے گا ، کچھ لوگوں کو لایا جائے گا ، پھر انہیں پکڑ کر بائیں طرف لے جایا جائے گا ، تو میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ کہا جائے گا : یہ لوگ تمہارے بعد ایڑیوں کے بل مرتد ہو گئے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہیں ڈب سے ( یعنی پہلو سے ) پکڑتا ہوں ، تم لوگ جہنم سے بچو ! تم لوگ حدود ( کی خلاف ورزی کرنے ) سے بچو ! جب میں مر جاؤں گا ، تو تمہیں چھوڑ جاؤں گا اور میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا .....‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔