Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 44 · Chapter 5

Book of Resurrection

Hadith 18465–18504

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18465

Majma al-Zawaid #18465

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَمَنْ وَرَدَ أَفْلَحَ، وَيُجَاءُ بِأَقْوَامٍ فَيُؤْخَذُ بِهِمْ ذَاتَ الشِّمَالِ فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، فَيُقَالُ: مَا زَالُوا بَعْدَكَ مُرْتَدِّينَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَا آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ، اتَّقُوا النَّارَ، اتَّقُوا الْحُدُودَ، فَإِذَا مِتُّ تَرَكْتُكُمْ وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ» "". وَذَكَرَ الْحَدِيثَ. وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِهِ عِنْدَهُمْ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say he is your forerunner at the Basin; whoever comes prospers, but peoples will be brought and seized to the left, so he will say, my Lord, and be told they kept turning apostate on their heels after him. > **"I am your forerunner; whoever comes prospers, but apostates are seized to the left."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جو شخص اس پر وارد ہو گا ، وہ کامیاب ہو جائے گا ، کچھ لوگوں کو لایا جائے گا ، پھر انہیں پکڑ کر بائیں طرف لے جایا جائے گا ، تو میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ کہا جائے گا : یہ لوگ تمہارے بعد ایڑیوں کے بل مرتد ہو گئے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہیں ڈب سے ( یعنی پہلو سے ) پکڑتا ہوں ، تم لوگ جہنم سے بچو ! تم لوگ حدود ( کی خلاف ورزی کرنے ) سے بچو ! جب میں مر جاؤں گا ، تو تمہیں چھوڑ جاؤں گا اور میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا .....‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18466

Majma al-Zawaid #18466

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَا عَلَى الْحَوْضِ أَنْظُرُ مَنْ يَرِدُ عَلَيَّ "". قَالَ: "" فَيُؤْخَذُ أُنَاسٌ مِنْ ذَوِيَّ فَأَقُولُ: يَا رَبِّ، أُمَّتِي! أُمَّتِي! "". قَالَ: "" فَيُقَالُ: وَمَا يُدْرِيكَ مَا عَمِلُوا بِعْدَكَ؟ مَا بَرِحُوا بَعْدَكَ يَرْجِعُونَ عَلَى أَعْقَابِهِمْ». قَالَ جَابِرٌ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «وَالْحَوْضُ مَسِيرَةُ شَهْرٍ، وَزَوَايَاهُ سَوَاءٌ، يَعْنِي: عَرْضُهُ مِثْلُ طُولِهِ، وَكِيزَانُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ، وَهُوَ أَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ، وَأَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdullāh, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he shall stand at the Basin watching who comes, and men of his own will be seized, so he will say, my Lord, my nation, my nation, and be told, what do you know of what they did after you; they kept turning on their heels after you. Jābir added that the Messenger of Allāh ﷺ said the Basin is a month's journey, its corners equal, length as width, cups as stars of the sky, more fragrant than musk, whiter than milk; whoever drinks never thirsts thereafter. > **"My nation, my nation; they kept turning on their heels after you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں حوض پر موجود ہوؤں گا اور اس بات کا جائزہ لوں گا کہ کون میرے پاس آتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھ سے فاصلے پر کچھ لوگوں کو پکڑ لیا جائے گا ( اور میرے پاس نہیں آنے دیا جائے گا ) تو میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت میری امت ! نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو یہ کہا جائے گا : تم نہیں جانتے کہ تمہارے بعد انہوں نے کیا عمل کیا تھا ؟ تمہارے بعد یہ مسلسل ایڑیوں کے بل پلٹتے رہے تھے ۔‘‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” حوض ( کی لمبائی ) ایک ماہ کی مسافت جتنی ہے اور اس کے دونوں گوشے بھی اسی طرح ہیں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : یعنی اس کی چوڑائی بھی اس کی لمبائی جتنی ہے ۔’’ اور اس کے کوزے آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں اور وہ ( یعنی اس کا مشروب ) مشک سے زیادہ خوشبو والا ، دودھ سے زیادہ سفید ہے ، جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18467

Majma al-Zawaid #18467

وَعَنْهُ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أَنَا فَرَطُكُمْ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ، فَإِذَا لَمْ تَرَوْنِي فَأَنَا عَلَى الْحَوْضِ قَدْرَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى مَكَّةَ، وَسَيَأْتِي رِجَالٌ وَنِسَاءٌ بِقِرَبٍ وَآنِيَةٍ فَلَا يَطْعَمُونَ شَيْئًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوعًا وَمَوْقُوفًا، وَفِي إِسْنَادِهِ الْمَرْفُوعِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مَرْفُوعًا، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَرَوَاهُ بِاخْتِصَارِ قَوْلِهِ: "" «فَلَا يَطْعَمُونَ مِنْهُ شَيْئًا» "". بِرِجَالِ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ كَذَلِكَ

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with them, also heard the Prophet ﷺ say he is your forerunner before you; if you do not see him, he is at the Basin spanning Aylah to Makkah, yet men and women shall come with skins and vessels and taste nothing. > **"I am your forerunner at the Basin between Aylah and Makkah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان ( یعنی حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میں تمہارے آگے تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جب تم مجھے نہیں دیکھو گے تو میں حوض پر ہوؤں گا ، جس کی مقدار ’’ ایلہ ‘‘ سے لے کر ’’ مکہ ‘‘ تک کے درمیانی فاصلے جتنی ہے ، عنقریب کچھ مرد اور عورتیں مشکیزے اور برتن لے کر آئیں گے ، لیکن وہ اس ( حوض ) میں سے کچھ بھی نہیں پی سکیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے مرفوع اور موقوف ( دونوں طرح سے ) نقل کی ہے ، مرفوع روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور موقوف روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مرفوع روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کی سند میں بھی ایک راوی ابن لہیعہ ہے انہوں نے اسے اختصار کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں :” وہ اس میں سے کچھ بھی نہیں پی سکیں گے ۔‘‘ یہ ’’ صحیح ‘‘ کے رجال سے منقول ہے ، امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔

18468

Majma al-Zawaid #18468

وَعَنْ سَمُرَةَ - يَعْنِي ابْنَ جُنْدُبٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَرِدُ عَلَيَّ قَوْمٌ مِمَّنْ كَانُوا مَعِي، فَإِذَا رَفَعُوا إِلَيَّ رُءُوسَهُمُ اخْتُلِجُوا دُونِي، فَلَأَقُولَنَّ: أَصْحَابِي! أَصْحَابِي! فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said peoples who were with him shall come, and when they raise their heads they will be snatched from him, so he will say, my companions, my companions, and be told he knows not what they innovated after him. > **"My companions, my companions; you know not what they innovated after you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کچھ لوگ میرے سامنے آئیں گے جو میرے ساتھ تھے ، جب ان کے سر میرے سامنے آئیں گے تو انہیں مجھ سے پہلے ہی روک لیا جائے گا ، میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میرے ساتھی ، میرے ساتھی ، تو کہا جائے گا : تم نہیں جانتے ، تمہارے بعد انہوں نے کیا نیا کام کیا تھا ؟‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18469

Majma al-Zawaid #18469

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "" لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ الْحَوْضَ رِجَالٌ مِمَّنَ صَحِبَنِي [وَرَآنِي حَتَّى إِذَا رُفِعُوا إِلَيَّ وَرَأَيْتُهُمْ اخْتَلَجُوا دُونِي، فَلَأَقُولَنَّ: رَبِّ أَصْحَابِي أَصْحَابِي] فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهُ كَرِجَالِ أَحْمَدَ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said men who accompanied and saw him shall surely come to the Basin, and when raised to him and seen they will be snatched from him, so he will say, my Lord, my companions, my companions, and be told he knows not what they innovated after him. > **"Men who accompanied me will be snatched from me; you know not what they innovated after you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حوض پر میرے سامنے کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو میرے ساتھ رہے اور انہوں نے مجھے دیکھا ، یہاں تک کہ جب وہ میرے سامنے آئیں گے اور میں انہیں دیکھوں گا تو انہیں مجھ سے پہلے ہی روک لیا جائے گا ، میں یہ ضرور کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میرے ساتھی ، میرے ساتھی ، تو یہ کہا جائے گا : تم نہیں جانتے ، تمہارے بعد انہوں نے کیا نیا کام کیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور ان میں سے ایک کے رجال امام احمد کے رجال کی مانند ہیں ۔

18470

Majma al-Zawaid #18470

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَأُلْفَيَنَّ مَا نُوزِعْتُ أَحَدًا مِنْكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَأَقُولُ: أُنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِي. فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ "". قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. قَالَ: "" لَسْتَ مِنْهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَشْعَرِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he shall surely find himself disputing for one of them at the Basin, saying they are of his companions, and be told he knows not what they innovated after him. Abū al-Dardāʾ asked him to pray Allāh not make him among them, and he said you are not among them. > **"You know not what they innovated after you; you are not among them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں یہ صورتحال نہ پاؤں کہ تم میں سے کسی ایک کو حوض پر میرے پاس نہ آنے دیا جائے اور میں یہ کہوں کہ یہ تو میرے ساتھیوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں ، تو یہ کہا جائے : آپ نہیں جانتے ، آپ کے بعد انہوں نے کیا نیا کام کیا تھا ۔‘‘ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ وہ مجھے اُن میں نہ بنائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اُن میں سے نہیں ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ اشعری کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18471

Majma al-Zawaid #18471

وَعَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَيُرْفَعَنَّ لِي رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِي، حَتَّى إِذَا رَأَيْتُهُمُ اخْتُلِجُوا دُونِي فَأَقُولُ: أَصْحَابِي! فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that men of his companions shall surely be raised to him, and when he sees them they will be snatched from him, so he will say, my companions, and be told he knows not what they innovated after him. > **"My companions; you know not what they innovated after you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میرے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ میرے سامنے آئیں گے ، یہاں تک کہ جب میں انہیں دیکھوں گا تو انہیں مجھ سے پہلے ہی روک لیا جائے گا ، میں کہوں گا : یہ میرے ساتھی ہیں ، تو یہ کہا جائے گا : آپ نہیں جانتے آپ کے بعد انہوں نے کیا نیا کام کیا تھا ؟‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18472

Majma al-Zawaid #18472

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَنَا فَرَطٌ لَكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ، فَلَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَرْضُهُ؟ قَالَ: "" مَا بَيْنَ أَيْلَةَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - إِلَى مَكَّةَ، فِيهِ مَكَاكِيُّ أَكْثَرُ مِنْ عَدَدِ النُّجُومِ، لَا يَتَنَاوَلُ مُؤْمِنٌ مِنْهَا فَيَضَعُهُ مِنْ يَدِهِ حَتَّى يَتَنَاوَلَهُ آخَرُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدَةُ بْنُ الْأَسْوَدِ، قَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَقَالَ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ: يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ إِذَا بَيَّنَ السَّمَاعَ مِنْ ثِقَةٍ، وَدُونَهُ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdullāh, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he is your forerunner at the Basin and shall multiply the nations through you, so do not return after him as disbelievers striking one another's necks. Asked its width, he said between Aylah and Makkah, with cups more numerous than stars; no believer takes one and lays it down but another takes it. > **"I am your forerunner and shall multiply nations through you, so do not strike one another's necks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا اور میں دوسری امتوں کے مقابلے میں تمہاری کثرت پر فخر کروں گا ، تو تم میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارتے پھرو ۔‘‘ ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس ( حوض ) کا حجم کتنا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جتنا ’’ ایلہ ‘‘ سے لے کر ’’ مکہ ‘‘ تک کا درمیانی فاصلہ ہے ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہوں گے ، مؤمن ان میں سے کوئی برتن پکڑے گا اور پھر وہ اسے رکھے گا نہیں کہ اس سے پہلے کوئی دوسرا اسے پکڑ لے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیدہ بن اسود ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے کتاب الثقات میں یہ بات بیان کی ہے : اس کی حدیث کا اعتبار کیا جائے گا ، جب یہ کسی ثقہ راوی سے سماع کی وضاحت کر دے ، اور اس کے بعد والا راوی بھی ثقہ ہو ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18473

Majma al-Zawaid #18473

وَعَنِ الْفَرَزْدَقِ قَالَ: «قَالَ لِي أَبُو هُرَيْرَةَ: يَا فَرَزْدَقُ، إِنِّي أَرَاكَ صَغِيرَ الْقَدَمَيْنِ، فَإِنْ أَمْكَنَكَ أَنْ يَكُونَ لَهُمَا عِنْدَ الْحَوْضِ مَكَانٌ فَافْعَلْ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " حَوْضِي مَا بَيْنَ عَمَّانَ وَأَيْلَةَ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، آنِيَتُهُ مِثْلُ عَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا» ".

EnglishUnverified translation

Al-Farazdaq reported that Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, told him, O Farazdaq, I see your feet small, so if you can secure for them a place by the Basin then do, for he heard the Messenger of Allāh ﷺ say his Basin is between ʿUmān and Aylah, its water whiter than milk and sweeter than honey, its vessels as numerous as stars; whoever drinks never thirsts ever. > **"My Basin is between ʿUmān and Aylah; whoever drinks never thirsts ever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

فرزدق بیان کرتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : اے فرزدق ! میں دیکھ رہا ہوں کہ تمہارے پاؤں چھوٹے ہیں ، اگر تمہارے لیے یہ ممکن ہو کہ حوض کے پاس ان دونوں کے لیے کوئی جگہ بنا سکتے ہو ، تو تم ایسا کر لینا ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میرا حوض ، عمان اور ایلہ کے درمیان فاصلے جتنا ہے ، اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا ہے ، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد جتنے ہیں ، جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔‘‘

18474

Majma al-Zawaid #18474

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «إِنَّ لِي حَوْضًا يَرِدُهُ عَلَيَّ أُمَّتِي كَمَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَيَثْرِبَ» "". قُلْتُ: لِأَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْفَرَزْدَقُ ضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

In a variant he said he has a Basin to which his nation shall come, spanning as between Ṣanʿāʾ and Yathrib. > **"I have a Basin spanning as between Ṣanʿāʾ and Yathrib."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ میرے حوض پر میری امت وارد ہو گی ، جو اتنا بڑا ہے جتنا صنعاء اور یثرب کے درمیان فاصلہ ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور فرزدق نامی راوی کو ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

18475

Majma al-Zawaid #18475

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ لِي حَوْضًا وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَيْهِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ: "" «وَأَنَا فَرَطُكُمْ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he has a Basin and is your forerunner thereon. > **"I have a Basin and am your forerunner thereon."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرا ایک حوض ہے اور میں اس پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے :” میں تمہارا پیشرو ہوؤں گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

18476

Majma al-Zawaid #18476

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَتَزْدَحِمَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى الْحَوْضِ ازْدِحَامَ الْإِبِلِ وَرَدَتْ لِخَمْسٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿIrbāḍ ibn Sāriyah, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ said this nation shall surely crowd at the Basin as camels crowd arriving after five days' thirst. > **"This nation shall crowd at the Basin as thirsty camels crowd."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ یہ امت حوض پر یوں ہجوم کرے گی ، جس طرح پانی پینے ، جس طرح پانی پینے کے لیے آنے والے اونٹوں کا ہجوم ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک حسن ہے ۔

18477

Majma al-Zawaid #18477

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ وَعَمَّانَ، أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ، أَكْوَابُهُ مِثْلُ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا. أَوَّلُ النَّاسِ عَلَيْهِ وُرُودًا صَعَالِيكُ الْمُهَاجِرِينَ "". قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ، الشَّحِبَةُ وُجُوهُهُمْ، الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ، لَا تُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ، وَلَا يَنْكِحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ، الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَلَا يَأْخُذُونَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ». قُلْتُ: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ، وَهَذَا عَلَى الصَّوَابِ مُوَافِقًا لِرِوَايَةِ النَّاسِ، وَالَّذِي فِي الصَّحِيحِ: "" كَمَا بَيْنَ جَرْبَى وَأَذْرَحَ "". وَهُمَا قَرْيَتَانِ إِحْدَاهُمَا إِلَى جَنْبِ الْأُخْرَى. وَقَالَ بَعْضُ مَشَايِخِنَا - وَهُوَ الشَّيْخُ الْعَلَّامَةُ: صَلَاحُ الدِّينِ الْعَلَائِيُّ -: إِنَّهُ سَقَطَ مِنْهُ، وَهُوَ: "" كَمَا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ جَرْبَى وَأَذْرَحَ "". وَإِنَّهُ وَقَعَ بِهَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَمْرِو بْنِ عُمَرَ الْأَحْمُوسِيِّ، عَنِ الْمُخَارِقِ بْنِ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَاسْمُ أَبِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَابِرٍ، وَقَدْ ذَكَرَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَشَيْخُ أَحْمَدَ: أَبُو الْمُغِيرَةِ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said his Basin spans as between ʿAdan and ʿUmān, cooler than snow, sweeter than honey, more fragrant than musk, with cups like stars; whoever drinks a draught never thirsts thereafter. The first to come shall be the poor emigrants: dishevelled heads, pale faces, soiled garments, gates unopened to them, marrying not the pampered, giving all dues upon them while taking not all dues for them. > **"The first to come to my Basin shall be the poor emigrants."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے ( اس کا مشروب ) برف سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے ، اس سے برتن آسمان کے ستاروں کی مانند ہیں جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ، اس حوض پر سب سے پہلے غریب مہاجرین آئیں گے ، حاضرین میں سے کسی نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جن کے بال بکھرے ہوئے ہوں گے ، جن کے چہرے متغیر ہوں گے ، ان کے کپڑے میلے ہوں گے ان کے لیے دروازے نہیں کھولے جاتے ہوں گے ، وہ خوشحال عورتوں کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتے ہوں گے ، جو ان کی ذمہ داری تھی وہ انہوں نے پوری کی ہو گی اور جو ان کا حق تھا وہ انہوں نے وصول نہیں کیا ہو گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، جو اس سیاق کے بغیر ہے اور یہ درست ہے اور لوگوں کی روایت کے مطابق ہے جبکہ ’’ صحیح ‘‘ میں جو روایت ہے اس میں یہ مذکور ہے :’’ جتنا جربی اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے ۔‘‘ حالانکہ یہ دونوں ایسی بستیاں ہیں ، جو ایک دوسرے کے پہلو میں ہیں ۔ ہمارے ایک استاد شیخ علامہ صلاح الدین العلائی نے فرمایا ہے : شاید اس میں سے ایک لفظ رہ گیا ہے ( اور اصل جملہ یوں ہونا چاہیے : ) جس طرح تم لوگوں کے اور جربی اور اذرح کے درمیان فاصلہ ہے ۔ یہ بات میں نے ان سے سنی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے عمرو بن عمر احموسیٰ کی مخارق بن ابومخارق کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے باپ کا نام عبداللہ بن جابر ہے ابن حبان نے ان دونوں کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے امام احمد کے استاد ابومغیرہ صحیح کے رجال میں سے ہیں ۔

18478

Majma al-Zawaid #18478

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «حَوْضِي كَمَا بَيْنَ عَدَنَ وَعَمَّانَ، فِيهِ أَكَاوِيبُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَإِنَّ مِمَّنْ يَرِدُهُ عَلَيَّ مِنْ أُمَّتِي الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ، الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ، لَا يُنْكَحُونَ الْمُنَعَّمَاتِ، وَلَا يَحْضُرُونَ السُّدَدَ - يَعْنِي أَبْوَابَ السُّلْطَانِ - الَّذِينَ يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَلَا يُعْطَوْنَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that his Basin spans as between ʿAdan and ʿUmān, with cups as numerous as stars; whoever drinks never thirsts thereafter. Among his nation coming to him shall be the dishevelled, soiled in garments, marrying not the pampered, attending not rulers' gates, giving all dues upon them while granted not all dues for them. > **"Whoever drinks never thirsts; the dishevelled who give all dues shall come to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میرا حوض اتنا ہے جتنا عدن اور عمان کے درمیان فاصلہ ہے ، اس میں آسمان کے ستاروں کی تعداد میں برتن ہیں ، جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ، میری امت کے جو لوگ اس حوض پر میرے پاس آئیں گے ان میں کچھ لوگ بکھرے ہوئے بالوں والے میلے کپڑوں والے ہوں گے جو خوشحال عورتوں کے ساتھ شادی نہیں کر سکتے اور نہ ہی بند دروازوں پر آ سکتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ حکمران کے دروازے پر نہیں آ سکتے ۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) انہوں نے وہ چیز ادا کر دی ہو گی جو ان کے ذمہ ہو گی اور انہیں وہ چیز نہیں دی گئی ہو گی جو ان کا حق ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے بعض رجال میں موجود ضعف کے باوجود اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18479

Majma al-Zawaid #18479

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «حَوْضِي أَذُودُ عَنْهُ النَّاسَ لِأَهْلِ بَيْتِي، إِنِّي لَأَضْرِبُهُمْ بِعَصَايَ هَذِهِ حَتَّى تَرْفَضَّ "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" لِأَهْلِ بَيْتِي ""». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Thawbān, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he shall drive people from his Basin for his Household, striking them with this staff of his until it overflows. > **"I shall drive people from my Basin for my Household with this staff."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اپنے حوض سے کچھ لوگوں کو پرے کروں گا ، اپنے اہل بیت کی خاطر ، میں اپنے عصا کے ذریعے ان لوگوں کو ماروں گا یہاں تک کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو ’’ صحیح ‘‘ میں بھی مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :” اپنے اہل بیت کی خاطر .....‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18480

Majma al-Zawaid #18480

وَعَنْ بُرَيْدَةَ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّهُ ذَكَرَ الْحَوْضَ فَقَالَ: "" تَرَى فِيهِ أَبَارِيقَ عَدَدَ نُجُومِ السَّمَاءِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَقَالَ: حَدِيثٌ غَرِيبٌ، قُلْتُ: وَفِيهِ عَائِذُ بْنُ بَشِيرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Buraydah, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that mentioning the Basin he said therein are seen pitchers as numerous as the stars of the sky. > **"In it are pitchers as numerous as the stars of the sky."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے حوض کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ’’ تم اس میں آسمان کے ستاروں کی تعداد میں برتن دیکھو گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کی سند میں ایک راوی عائذ بن بشیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18481

Majma al-Zawaid #18481

وَعَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ، فَضَرَبْتُ بِيَدِي فَإِذَا هِيَ مِسْكَةٌ ذَفِرَةٌ، وَإِذَا حَصَاهُ اللُّؤْلُؤُ، وَإِذَا حَافَّتَاهُ - أَظُنُّهُ قَالَ: - قِبَابٌ تَجْرِي عَلَى الْأَرْضِ جَرْيًا، لَيْسَ بِمَشْقُوقٍ». قُلْتُ: لِأَنَسٍ أَحَادِيثُ فِي الصَّحِيحِ فِي الْحَوْضِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he was given al-Kawthar, and striking with his hand found it strong fragrant musk, its pebbles pearl, and its banks, he thought domes, flowing upon the earth unsplit. > **"I was given al-Kawthar of fragrant musk, pearl pebbles, and domed banks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے کوثر عطا کیا گیا ، میں نے اپنا ہاتھ لگایا تو وہ مشک اذفر تھا اور اس کی کنکریاں موتیوں کی تھیں ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) اس کے دونوں کناروں پر خیمے ہیں ( اس کا پانی ) زمین پر بہتا ہے اور اس بہاؤ میں کوئی رکاوٹ ( یا وقفہ ) نہیں ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت انس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے کچھ احادیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہیں ، جو حوض کوثر کے بارے میں ہیں ، لیکن اس سیاق کے بغیر ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18482

Majma al-Zawaid #18482

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «حَوْضِي مَسِيرَةُ شَهْرٍ، زَوَايَاهُ سَوَاءٌ، أَكْوَابُهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَاؤُهُ أَبْيَضُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَارِثِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said his Basin is a month's journey, equal-sided, cups as numerous as stars, water whiter than snow, sweeter than honey, more fragrant than musk; whoever drinks a draught never thirsts thereafter. > **"My Basin is a month's journey; whoever drinks never thirsts thereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرے حوض کی مسافت ایک ماہ کی ہے اور اس کے دونوں کنارے برابر ہیں ، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہیں ، اس کا پانی برف سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے ، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالوہاب حارثی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18483

Majma al-Zawaid #18483

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «حَوْضِي مَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ، عَرْضُهُ كَطُولِهِ، يَغُتُّ فِيهِ مِيزَابَانِ [يَنْثَعِبَانَ] مِنَ الْجَنَّةِ، أَحَدُهُمَا مِنْ وَرِقٍ، وَالْآخَرُ مِنْ ذَهَبٍ، وَهُوَ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، أَبَارِيقُهُ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ حَتَّى يَدْخُلَ الْجَنَّةَ "".» قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي ذِكْرِ الْحَوْضِ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي أَثْنَاءِ حَدِيثٍ فِي إِمَاطَةِ الْأَذَى، وَقَتْلِ ابْنِ خَطَلٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ بِإِسْنَادَيْنِ، فِي أَحَدِهِمَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّشِيطِيُّ، وَفِي الْأُخْرَى صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Barzah, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say his Basin spans Aylah to Ṣanʿāʾ, width as length, into which two spouts pour from Paradise, one of silver and one of gold. It is whiter than milk, sweeter than honey, cooler than snow, with pitchers as numerous as stars; whoever drinks never thirsts until entering Paradise. > **"Two spouts pour into it from Paradise; whoever drinks never thirsts until Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میرا حوض ایلہ اور صنعاء کے درمیان ( فاصلے جتنا ) ہے ، اس کی چوڑائی اس کی لمبائی جتنی ہے ، اس میں دو پرنالوں سے مسلسل پانی گرتا رہتا ہے ، وہ دونوں پرنالے جنت سے آ رہے ہیں ، ان دونوں میں سے ایک چاندی کا ہے اور دوسرا سونے کا ہے ، وہ ( یعنی اس کا مشروب ) دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے ، اور اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد میں ہیں جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ پیاسا نہیں ہو گا ، یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہو جائے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس صحابی کے حوالے سے ایک حدیث مذکور ہے جو حوض کوثر کے بارے میں ہے لیکن اس کے علاوہ ہے ، وہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے ایک حدیث کے درمیان نقل کی ہے جو تکلیف دہ چیز ہٹانے کے بارے میں اور ابن خطل کو قتل کرنے کے بارے میں ہے ، اس کے رجال سے صحیح میں استدلال کیا گیا ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، انہوں نے اسے دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی سعید بن سلیمان نشیطی ہے اور دوسری میں ایک راوی صالح مری ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔

18484

Majma al-Zawaid #18484

وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «حَوْضِي مَا بَيْنَ أَيْلَةَ إِلَى صَنْعَاءَ، لَهُ مِيزَابَانِ: أَحَدُهُمَا مِنَ الذَّهَبِ، وَالْآخَرُ مِنْ فِضَّةٍ، آنِيَتُهُ عَدَدُ نُجُومِ السَّمَاءِ، أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَرِيحُهُ أَطْيَبُ مِنَ الْمِسْكِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Barāʾ ibn ʿĀzib, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said his Basin spans Aylah to Ṣanʿāʾ, with two spouts, one of gold and one of silver, vessels as numerous as stars, whiter than milk, sweeter than honey, more fragrant than musk; whoever drinks never thirsts ever. > **"Whoever drinks from it never thirsts ever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرا حوض ( اتنا بڑا ہے ) جتنا ایلہ سے لے کر صنعاء تک کا فاصلہ ہے ، اس کے دو پرنالے ہیں ان دونوں میں سے ایک سونے کا ہے اور دوسرا چاندی کا ہے ، اس کے برتن آسمان کے ستاروں کی تعداد جتنے ہیں ، وہ دودھ سے زیادہ سفید اور شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور اس کی خوشبو مشک سے زیادہ پاکیزہ ہے ، جو شخص اس میں سے پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سفیان بن وکیع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18485

Majma al-Zawaid #18485

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ صَاحِبُ حَوْضِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فِيهِ أَكْوَابٌ كَعَدَدِ نُجُومِ السَّمَاءِ، وَسَعَةُ حَوْضِي مَا بَيْنَ الْجَابِيَةِ إِلَى صَنْعَاءَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah and Jābir ibn ʿAbdullāh, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with him, is the keeper of his Basin on the Day of Resurrection, with cups as numerous as stars, and its expanse between al-Jābiyah and Ṣanʿāʾ. > **"ʿAlī is the keeper of my Basin, with cups as numerous as stars."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن علی بن ابوطالب میرے حوض کا نگران ہو گا ، اس ( حوض ) کے برتن ستاروں کی تعداد میں ہوں گے ، اور میرے حوض کی وسعت اتنی ہے جتنا جابیہ اور صنعاء کے درمیان فاصلہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں جن کی توثیق کی گئی ہے ۔

18486

Majma al-Zawaid #18486

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَامَ غَزْوَةِ تَبُوكَ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يُصَلِّي، فَاجْتَمَعَ [وَرَاءَهُ] رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَحْرُسُونَهُ، حَتَّى إِذَا صَلَّى [وَ] انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ لَهُمْ: "" لَقَدْ أُعْطِيتُ اللَّيْلَةَ خَمْسًا مَا أُعْطِيَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي، أَمَّا أَنَا فَأُرْسِلْتُ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ عَامَّةً وَكَانَ مَنْ قَبْلِي إِنَّمَا يُرْسَلُ إِلَى قَوْمِهِ وَنُصِرْتُ عَلَى الْعَدُوِّ بِالرُّعْبِ وَلَوْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ مَسِيرَةُ شَهْرٍ لَمُلِئَ مِنْهُ رُعْبًا وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ آكُلُهَا وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ أَكْلَهَا، كَانُوا يُحْرِقُونَهَا، وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسَاجِدَ وَطَهُورًا، أَيْنَمَا أَدْرَكَتْنِي الصَّلَاةُ تَمَسَّحْتُ وَصَلَّيْتُ، وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُعَظِّمُونَ ذَلِكَ، إِنَّمَا كَانُوا يُصَلُّونَ فِي كَنَائِسِهِمْ وَبِيَعِهِمْ، وَالْخَامِسَةُ هِيَ مَا هِيَ، قِيلَ لِي: سَلْ فَإِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ قَدْ سَأَلَ، فَأَخَّرْتُ مَسْأَلَتِي إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فِيهِ، فَهِيَ لَكُمْ، وَلِمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ""». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with them, reported that in the year of Tabūk the Messenger of Allāh ﷺ rose at night to pray while men of his Companions guarded him, and turning to them said he was granted that night five never granted before: sent to all mankind while those before were sent to their peoples, aided by dread across a month's journey, spoils made lawful to eat while those before magnified and burnt them, the earth made mosques and purification wherever prayer overtakes, and a fifth concerning intercession. > **"I was sent to all mankind, aided by dread, given spoils and the earth as mosque."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے سال نبی اکرم ﷺ رات کے وقت نماز ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے ، آپ کے پیچھے آپ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد اکٹھے ہو گئے ، وہ آپ کی حفاظت کرنے لگے ، جب نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی تو نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ ان حضرات کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے ان سے ارشاد فرمایا : ’’ آج رات مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئی ہیں ، جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے تو مجھے تمام بنی نوع انسان کی طرف عمومی طور پر مبعوث کیا گیا ہے ، مجھ سے پہلے کے انبیاء کو ان کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا اور دشمن کے خلاف رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے خواہ میرے اور اس ( یعنی دشمن ) کے درمیان ایک ماہ کی مسافت کا فاصلہ ہو اور میرے لئے مال غنیمت کو کھانا حلال قرار دیا گیا ہے ، مجھ سے پہلے کے لوگ اس کو کھانے کو بڑا ( گناہ ) سمجھتے تھے ، وہ لوگ اسے جلا دیا کرتے تھے ، میرے لیے تمام روئے زمین کو نماز ادا کرنے کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے ، جہاں بھی مجھے نماز کا وقت آ جائے گا ، میں تیمم کر کے نماز ادا کر سکتا ہوں ، مجھ سے پہلے کے لوگ اسے بڑا ( گناہ ) سمجھتے تھے ، وہ صرف اپنی عبادت گاہوں میں ہی نماز ادا کر سکتے تھے ، پانچویں چیز ، اس کے تو کیا کہنے ؟ مجھ سے کہا گیا : تم مانگو ! کیونکہ ہر نبی نے سوال کیا تھا ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) تو میں نے اپنے سوال کو قیامت کے دن کے لیے مؤخر کر دیا ، تو وہ ( سوال ، شفاعت کی شکل میں ) تم لوگوں کے لیے اور ہر اس شخص کے لیے ہو گا جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18487

Majma al-Zawaid #18487

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «فَقَدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابُهُ، وَكَانُوا إِذَا نَزَلُوا تَرَكُوهُ وَسَطَهُمْ، فَفَزِعُوا وَظَنُّوا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى اخْتَارَ لَهُ أَصْحَابًا غَيْرَهُمْ، فَإِذَا هُمْ بِخَيَالِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَبَّرُوا حِينَ رَأَوْهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَشْفَقْنَا أَنْ يَكُونَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - اخْتَارَ لَكَ أَصْحَابًا غَيْرَنَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَا. بَلْ أَنْتُمْ أَصْحَابِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَيْقَظَنِي فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي لَمْ أَبْعَثْ نَبِيًّا وَلَا رَسُولًا إِلَّا وَقَدْ سَأَلَنِي مَسْأَلَةً أَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا، فَسَلْ يَا مُحَمَّدُ تُعْطَ. فَقُلْتُ: مَسْأَلَتِي شَفَاعَةٌ لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ -: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الشَّفَاعَةُ؟ قَالَ: "" أَقُولُ: يَا رَبِّ، شَفَاعَتِي الَّتِي اخْتَبَأْتُ عِنْدَكَ، فَيَقُولُ الرَّبُّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: نَعَمْ. فَيُخْرِجُ رَبِّي - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - بَقِيَّةَ أُمَّتِي مِنَ النَّارِ فَيُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit, may Allāh be pleased with him, reported that the Companions once missed the Prophet ﷺ, for they left him mid-camp when halting, and feared Allāh had chosen others. Seeing his form they magnified Allāh and said they feared replacement, so the Messenger of Allāh ﷺ said no, rather you are his companions in world and Hereafter. Allāh awakened him saying no prophet or messenger asked a request but was given, and he was offered intercession for his nation. > **"No, you are my companions in world and Hereafter; I chose intercession for my nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے نبی اکرم ﷺ کو غیر موجود پایا ، وہ لوگ جب پڑاؤ کیا کرتے تھے تو نبی اکرم ﷺ کو اپنے درمیان میں ٹھہراتے تھے ، وہ لوگ پریشان ہو گئے ، انہوں نے یہ گمان کیا کہ شاید اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ کے لئے ان کے علاوہ کوئی اور اصحاب منتخب کر لیے ہیں ، اسی دوران نبی اکرم ﷺ سامنے سے تشریف لے آئے ، ان لوگوں نے جب نبی اکرم ﷺ کو دیکھا تو انہوں نے تکبیر کہی ، ان لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم پریشان ہو گئے تھے کہ کہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے ہمارے علاوہ کوئی اور اصحاب منتخب نہ کر لیے ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ تم لوگ ہی دنیا اور آخرت میں میرے اصحاب ہو ، اللہ تعالیٰ نے مجھے بیدار کیا اور ارشاد فرمایا : اے محمد ( ﷺ ) ! میں نے جس نبی اور رسول کو مبعوث کیا ، تو اس نے مجھ سے کوئی ایک مخصوص سوال کیا ، تو میں نے وہ چیز اسے دیدی ، اے محمد ( ﷺ ) ! تم بھی سوال کرو تمہیں بھی دیا جائے گا ، میں نے عرض کی : میرا سوال قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے ہے ۔‘‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ شفاعت کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں نے کہا : اے میرے پروردگار ! میری شفاعت وہ ہے جو میں تیرے پاس سنبھال کے رکھوا رہا ہوں ، تو پروردگار نے فرمایا : ٹھیک ہے ، تو پروردگار میری بقیہ امت کو جہنم سے نکال دے گا اور انہیں جنت میں داخل کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال ثقہ ہیں اگرچہ ان میں سے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18488

Majma al-Zawaid #18488

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَأَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا كَانَ الَّذِي يَلِيهِ الْمُهَاجِرُونَ. قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ. قَالَ: فَتَعَارَرْتُ بِاللَّيْلِ أَنَا وَمُعَاذٌ، فَنَظَرْنَا فَلَمْ نَرَهُ، قَالَ: فَخَرَجْنَا نَطْلُبُهُ إِذْ سَمِعْنَا هَزِيزًا كَهَزِيزِ الْأَرْحَاءِ، إِذْ أَقْبَلَ، فَلَمَّا أَقْبَلَ نَظَرَ فَقَالَ: "" مَا شَأْنُكُمْ؟! "". فَقَالُوا: انْتَبَهْنَا فَلَمْ نَرَكَ حَيْثُ كُنْتَ، خَشِينَا أَنْ يَكُونَ أَصَابَكَ شَيْءٌ ; فَجِئْنَا نَطْلُبُكَ. قَالَ: "" أَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ أَوْ شَفَاعَةٍ، فَاخْتَرْتُ لَهُمُ الشَّفَاعَةَ "". فَقُلْنَا: إِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَبِحَقِّ الصُّحْبَةِ لَمَا أَدْخَلْتَنَا فِي شَفَاعَتِكَ، فَدَعَا لَهُمَا. قَالَ: فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ، وَقَالُوا مِثْلَ مَقَالَتِنَا، وَكَثُرَ النَّاسُ فَقَالَ: "" إِنِّي جَاعِلٌ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal and Abū Mūsā, may Allāh be pleased with them, reported that when the Messenger of Allāh ﷺ halted, the emigrants stayed nearest him. One night he and Muʿādh awoke missing him, sought him hearing a hum like millstones, and he approached asking what ailed them. They said they feared harm had befallen him, so he said a comer in sleep gave him choice between half his nation entering Paradise or intercession, and he chose intercession. > **"I was given choice between half my nation in Paradise or intercession, and chose intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ جب ( کسی سفر کے دوران ) پڑاؤ کیا کرتے تھے تو مہاجرین آپ کے قریب رہتے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں : کہ ایک مرتبہ ہم نے پڑاؤ کیا ، نبی اکرم ﷺ سو گئے ہم بھی سو گئے ، رات کو کسی وقت میری اور معاذ کی کھلی ، ہم نے دیکھا تو ہمیں نبی اکرم ﷺ نظر نہیں آئے ، راوی کہتے ہیں : ہم آپ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ، اسی دوران ہم نے ایک آواز سنی ، جیسے چکی چلنے کی آواز ہوتی ہے ، اسی دوران آپ سامنے سے تشریف لے آئے ، آپ تشریف لا رہے تھے جب آپ نے دیکھا : تو دریافت کیا : تم لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ ان لوگوں نے بتایا : جب ہم بیدار ہوئے تو ہم نے آپ کو اس جگہ پر نہیں دیکھا ، جہاں آپ تھے ، تو ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے تو ہم آپ کی تلاش میں آئے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : خواب میں میرے پاس ایک ( فرشتہ یا پیغام ) آیا ، اس نے مجھے اختیار دیا کہ یا تو وہ ( یعنی پروردگار ) میری نصف امت کو جنت میں داخل کر دے گا ، یا شفاعت ہو ، تو میں نے ان لوگوں کے لیے شفاعت کو اختیار کر لیا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) ہم نے عرض کی : ہم اسلام کے حق اور ساتھی ہونے کے حق کے واسطے سے آپ سے یہ درخواست کرتے ہیں کہ آپ ہمیں بھی اپنی شفاعت میں شامل کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے لیے دعا کی ۔ راوی بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس اکٹھے ہوئے اور انہوں نے ہماری بات کی مانند گزارش کی ، جب لوگوں کی تعداد زیادہ ہو گئی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں ہر اس شخص کی شفاعت کروں گا جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کے مانند نقل کی ہے ۔

18489

Majma al-Zawaid #18489

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَ أَحْمَدَ: «فَقَالَا: ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنَا فِي شَفَاعَتِكَ، فَقَالَ: "" أَنْتُمْ وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا فِي شَفَاعَتِي» "". وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، وَلَكِنَّ أَبَا الْمَلِيحِ، وَأَبَا بُرْدَةَ لَمْ يُدْرِكَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ.

EnglishUnverified translation

In Aḥmad's variant they said, pray Allāh to place us in your intercession, and he said you and whoever dies associating nothing with Allāh are in his intercession. > **"You and whoever dies associating nothing with Allāh are in my intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام احمد کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں بھی اپنی شفاعت میں شامل کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اور جو شخص ایسی حالت میں مرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ، وہ میری شفاعت میں ہو گا ( یعنی اس کا مستحق ہو گا ) ۔‘‘ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن ابونجود کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے لیکن ابوملیح اور ابوبردہ ، ان دونوں نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

18490

Majma al-Zawaid #18490

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: «غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، فَعَرَّسَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْتَهَيْتُ فِي بَعْضِ اللَّيْلِ إِلَى مُنَاخِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[أَطْلُبُهُ] فَلَمْ أَجِدْهُ، فَخَرَجْتُ أَطْلُبُهُ بَارِزًا، فَإِذَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَطْلُبُ مَا أَطْلُبُ. قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذِ اتَّجَهَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْتَ بِأَرْضِ حَرْبٍ، وَلَا نَأْمَنُ عَلَيْكَ، فَلَوْلَا إِذْ بَدَتْ لَكَ حَاجَةٌ، قُلْتَ لِبَعْضِ أَصْحَابِكَ فَقَامَ مَعَكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنِّي سَمِعْتُ هَزِيزًا كَهَزِيزِ الرَّحَا، وَحَنِينًا كَحَنِينِ النَّحْلِ، وَأَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ ثُلُثُ أُمَّتِي الْجَنَّةِ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ، فَاخْتَرْتُ لَهُمْ شَفَاعَتِي، وَعَلِمْتُ أَنَّهَا أَوْسَعُ لَهُمْ "". قَالَ: فَقَالَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، فَدَعَا لَهُمَا، ثُمَّ إِنَّهُمَا انْتَهَيَا إِلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَخْبَرَاهُمْ بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. قَالَ: فَجَعَلُوا يَأْتُونَهُ وَيَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، فَيَدْعُو لَهُمْ، فَلَمَّا أَضَبَّ عَلَيْهِ الْقَوْمُ وَكَثُرُوا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهَا لِمَنْ مَاتَ، وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, may Allāh be pleased with him, reported that they campaigned with the Messenger of Allāh ﷺ on a journey, and at night he sought the Prophet's resting place missing him, finding another Companion seeking likewise. The Messenger of Allāh ﷺ came toward them and they said he was in hostile land unguarded, suggesting he take a companion when answering need. He told them of glad tidings of intercession granted that night. > **"I bring glad tidings of intercession granted this night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنگ میں حصہ لیا ، سفر کے دوران رات کے وقت ہم نے پڑاؤ کیا رات کے کسی وقت میں ، میں اُٹھ کر نبی اکرم ﷺ کی مخصوص جگہ کی طرف آیا ، میں نے آپ کو تلاش کیا لیکن میں نے آپ کو نہیں پایا ، میں آپ کی تلاش میں کھلی جگہ کی طرف چلا گیا ، وہاں نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کوئی صاحب موجود تھے وہ بھی اسی تلاش میں تھے جو میں تلاش کر رہا تھا ۔ راوی کہتے ہیں : ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران نبی اکرم ﷺ سامنے سے ہماری طرف آتے ہوئے تشریف لائے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ایک ایسی سرزمین پر ہیں جہاں جنگ چل رہی ہے ، ہم آپ کے حوالے سے اندیشے کا شکار تھے ، ایسا کیوں نہیں ہوا کہ اگر آپ کو کوئی ضرورت پیش آئی تھی ، تو آپ اپنے اصحاب میں سے کسی سے کہہ دیتے تو وہ آپ کے ساتھ اُٹھ کے چلا جاتا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے ایک آواز سنی جو چکی چلنے کی آواز کی مانند تھی ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ میں نے ایک بھنبھناہٹ سنی ، جو شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی مانند تھی ، میرے پروردگار کی طرف سے ایک پیغام رساں میرے پاس آیا اور اس نے مجھے یہ اختیار دیا : کہ یا تو پروردگار میری امت کے ایک تہائی حصے کو جنت میں داخل کر دے گا ، یا شفاعت ہو ، تو میں نے ان لوگوں کے لیے اپنی شفاعت کو اختیار کر لیا کیونکہ مجھے یہ علم ہے کہ یہ ان کے حق میں زیادہ گنجائش والی ہو گی ۔ راوی کہتے ہیں : ان دونوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت سے بہرہ مند افراد میں شامل کرے ، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے لیے دعا کی ، یہ دونوں جب نبی اکرم ﷺ کے اصحاب کے پاس پہنچے اور انہیں نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے بارے میں بتایا ، تو راوی بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آنے لگے اور یہ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں آپ کی شفاعت سے بہرہ مند افراد میں شامل کرے ، تو نبی اکرم ﷺ ان کے لئے دعا کر دیتے تھے جب لوگ یکے بعد دیگرے آنے لگے اور ان کی آمد بکثرت ہونے لگی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( وہ شفاعت ) ہر اس شخص کے لیے ہو گی ، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

18491

Majma al-Zawaid #18491

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: «فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا بِقَرِيبٍ مِنَ الصُّبْحِ نَزَلَ فَاجْتَمَعْنَا حَوْلَهُ، وَكَذَلِكَ كُنَّا نَفْعَلُ، فَعَقَلَ نَاقَتَهُ، ثُمَّ جَعَلَ خَدَّهُ عَلَى عِقَالِهَا، ثُمَّ نَامَ وَتَفَرَّقْنَا، فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَإِذَا أَنَا لَا أَرَاهُ فِي مَكَانِهِ، فَذَعَرَنِي ذَلِكَ، فَقُمْتُ فَإِذَا أَنَا أَسْمَعُ مِثْلَ هَزِيزِ الرَّحَاءِ مِنْ قِبَلِ الْوَادِي، إِذْ جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَبْشِرًا، [قَالَ]: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيْنَ كُنْتَ؟ قَالَ: " كَأَنَّهُ رَاعَكَ حِينَ لَمْ تَرَنِي فِي مَكَانِي؟ ". قُلْتُ: إِي وَاللَّهِ، قَدْ رَاعَنِي! قَالَ: " أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - آنِفًا، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ الشَّفَاعَةِ وَبَيْنَ أَنْ يَغْفِرَ لِنِصْفِ أُمَّتِي، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ ". فَنَهَضَ الْقَوْمُ إِلَيْهِ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْفَعْ لَنَا، قَالَ: " شَفَاعَتِي لَكُمْ ". فَلَمَّا أَكْثَرُوا عَلَيْهِ قَالَ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ» ". وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَقَدْ رَوَاهُ فِي الصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ.

EnglishUnverified translation

In a variant with him, they marched near dawn, halted and gathered about him as customary, he hobbled his camel, laid his cheek upon its hobble, slept, and dispersed. Raising his head one found him gone and feared, then heard like a mill's hum from the valley, and the Messenger of Allāh ﷺ came joyful with the choice of intercession. > **"He came joyful with the choice of intercession for his nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ صبح کے قریب نبی اکرم ﷺ نے پڑاؤ کیا ، ہم آپ کے اردگرد اکٹھے ہو گئے ، ہم اسی طرح کیا کرتے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی اوٹنی کو باندھا پھر آپ نے اپنا رخسار اس کی رسی پر رکھا اور آپ سو گئے ، ہم بھی ادھر ادھر بکھر گئے ، میں نے اپنا سر اٹھایا تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو آپ کی مخصوص جگہ پر نہ پایا ، میں اس پر گھبرا گیا ، میں اُٹھا میں نے نشیبی حصے کی طرف سے چکی چلنے کی سی آواز سنی اسی دوران نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ، آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار نمایاں تھے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کہاں تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : لگتا ہے تم نے مجھے میری جگہ پر نہیں دیکھا تو تم پریشان ہو گئے ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میں پریشان ہو گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابھی جبرائیل میرے پاس آئے تھے اور انہوں نے مجھے یہ اختیار دیا کہ یا شفاعت ہو ، یا ( پروردگار ) میری نصف امت کی مغفرت کر دے ، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔‘‘ اسی دوران لوگ بھی اُٹھ کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہماری بھی شفاعت کیجئے گا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری شفاعت تمہیں بھی نصیب ہو گی ، جب لوگ بکثرت آنے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اُس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت انہوں نے معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔

18492

Majma al-Zawaid #18492

وَعَنْ مُصْعَبٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ: «انْطَلَقَ غُلَامٌ مِنَّا فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي سَائِلُكَ سُؤَالًا، قَالَ: "" وَمَا هُوَ؟ "". قَالَ: أَسْأَلُكَ أَنْ تَجْعَلَنِي مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، قَالَ: "" مَنْ أَمَرَكَ هَذَا؟ "" أَوْ "" مَنْ عَلَّمَكَ هَذَا؟ "" أَوْ "" مَنْ دَلَّكَ عَلَى هَذَا؟ "". قَالَ: مَا أَمَرَنِي بِهِ أَحَدٌ إِلَّا نَفْسِي. قَالَ: "" فَإِنَّكَ مِمَّنْ أَشْفَعُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» [فَذَهَبَ الْغُلَامُ جَذْلَانَ يُخْبِرُ أَهْلِهِ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ: "" رُدُّوا عَلَيَّ الْغُلَامَ "" فَرَدُّوهُ كَئِيبًا مَخَافَةَ أَنْ يَكُونَ قَدْ حَدَثَ فِيهِ شَيْءٌ، قَالَ: "" أَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ بِكَثْرَةِ السِّجُودِ]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muṣʿab al-Aslamī reported that a youth came to the Prophet ﷺ asking to be placed among those he intercedes for on the Day of Resurrection. He asked who commanded, taught, or guided him to this, and he said none but himself. He said then you are among those he intercedes for that Day, and the youth went joyful to his family. When he turned, he said return the youth, and they returned him dejected fearing something new, and he said aid him against himself with abundant prostration. > **"You are among those I intercede for, so aid yourself with abundant prostration."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مصعب اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہمارا ایک لڑکا گیا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے کہا : میں آپ سے ایک سوال کرنا چاہتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : وہ کیا ؟ اس نے کہا : میں آپ سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ آپ مجھے بھی ان افراد میں شامل کریں ، جن کی آپ قیامت کے دن شفاعت کریں گے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں اس کا حکم کس نے دیا ہے ؟ یا تمہیں اس کی تعلیم کس نے دی ہے ؟ یا اس کے بارے میں تمہاری رہنمائی کس نے کی ہے ؟ ( یعنی یہ شک راوی کو ہے ) اس نے کہا : مجھے اس کے بارے میں کسی نے نہیں کہا ، یہ میرا اپنا خیال ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تو تم ان افراد میں سے ایک ہو ، جن کی میں قیامت کے دن شفاعت کروں گا ، پھر وہ لڑکا چلا گیا تاکہ اپنے اہل خانہ کو اس بارے میں بتائے ، جب وہ مڑ کر چلا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس لڑکے کو میرے پاس لے کے آؤ ! لوگو اسے واپس لے کر آئے ، تو وہ پریشان تھا اسے یہ اندیشہ تھا کہ کہیں اس کے بارے میں کوئی نیا حکم نہ آ گیا ہو ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم بکثرت سجود ( یعنی بکثرت نوافل ) کے ذریعے اپنی ذات کے بارے میں میری مدد کرنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18493

Majma al-Zawaid #18493

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: «سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَفَرًا، [فَنَزَلْنَا] حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَرِقَتْ عَيْنَايَ فَلَمْ يَأْتِنِي النَّوْمُ، فَقُمْتُ فَإِذَا لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ دَابَّةٌ إِلَّا وَاضِعَةً خَدَّهَا إِلَى الْأَرْضِ، وَأَرَى وَقْعَ كُلِّ شَيْءٍ فِي نَفْسِي [لَمَوْضِعُ مُؤَخِّرَةِ الرَّحْلِ]، فَقُلْتُ: لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَا أَكْلَأُ بِهِ اللَّيْلَةَ حَتَّى أُصْبِحَ. فَخَرَجْتُ أَتَخَلَّلُ الرِّحَالَ حَتَّى دَفَعْتُ إِلَى رَحْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي رَحْلِهِ، فَخَرَجْتُ أَتَخَلَّلُ الرِّحَالَ حَتَّى خَرَجْتُ مِنَ الْعَسْكَرِ، فَإِذَا أَنَا بِسَوَادٍ فَتَيَمَّمْتُ ذَلِكَ السَّوَادَ، فَإِذَا هُوَ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَقَالَا لِي: مَا الَّذِي أَخْرَجَكَ؟ فَقُلْتُ: الَّذِي أَخْرَجَكُمَا، فَإِذَا نَحْنُ بِغَيْطَةٍ مِنَّا غَيْرِ بَعِيدٍ، فَمَشَيْنَا إِلَى الْغَيْطَةِ فَإِذَا نَحْنُ نَسْمَعُ فِيهَا كَدَوِيِّ النَّحْلِ، وَتَخْفِيقِ الرِّيَاحِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " هَاهُنَا أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ؟ ". قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: " وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ؟ ". قُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: " وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ؟ ". قُلْنَا: نَعَمْ. فَخَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا نَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ وَلَا يَسْأَلُنَا عَنْ شَيْءٍ حَتَّى رَجَعَ إِلَى رَحْلِهِ، فَقَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِمَا خَيَّرَنِي رَبِّي آنِفًا؟ ". قُلْنَا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ ثُلُثَيْ أُمَّتِي الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الَّذِي اخْتَرْتَ؟ قَالَ: " اخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ ". قُلْنَا جَمِيعًا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ، قَالَ: " إِنَّ شَفَاعَتِي لِكُلِّ مُسْلِمٍ» ".

EnglishUnverified translation

ʿAwf ibn Mālik al-Ashjaʿī, may Allāh be pleased with him, reported that travelling with the Messenger of Allāh ﷺ, his eyes stayed sleepless at night. Rising, he saw no beast but cheek to earth, sensing every thing fallen at saddle-backs, and threading through, found the Prophet's bed empty and cold, crying to Allāh we belong to Him and return. Then the Prophet ﷺ came reporting the choice between half his nation in Paradise or intercession. > **"I was given choice between half my nation in Paradise or intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ سفر کر رہے تھے ، جب رات کا وقت ہوا تو نیند میری آنکھوں سے دور تھی ، مجھے نیند نہیں آ رہی تھی ، تو میں اٹھ کھڑا ہوا ، لشکر میں موجود ہر جانور نے اپنا رخسار زمین پر رکھا ہوا تھا ، میں نے سوچا میں نبی اکرم ﷺ کے پاس جاتا ہوں اور صبح ہونے تک رات بھر آپ کی حفاظت کرتا رہوں گا ، میں نکلا اور مختلف لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا نبی اکرم ﷺ کے پالان کے پاس آیا تو نبی اکرم ﷺ اپنے پالان میں نہیں تھے ، میں وہاں سے نکلا اور مختلف لوگوں کے پالانوں کے درمیان میں سے ہوتا ہوا لشکر سے باہر نکل آیا ، مجھے سامنے کوئی ہیولیٰ نظر آیا ، میں اس کی طرف بڑھا تو وہ حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ تھے ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا ہے : تم کیوں باہر آئے ہو ؟ میں نے کہا : اسی وجہ سے جس کی وجہ سے آپ دونوں باہر آئے ہیں ، ہمارے سامنے کشادہ میدان تھا ، جسے لوگ قضائے حاجت کے لئے استعمال کرتے تھے ، وہ زیادہ دور نہیں تھا ، ہم اس میدان کی طرف چل پڑے اسی دوران ہم نے وہاں سے آواز سنی جو شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی مانند تھی ، یوں جیسے ہوا چل رہی ہو ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا یہاں ابوعبیدہ بن جراح ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اور معاذ بن جبل ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اور عوف بن مالک ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لے آئے ، ہم نے آپ سے کوئی سوال نہیں کیا ، نہ ہی آپ نے ہم سے کوئی اور سوال کیا ، یہاں تک کہ آپ اپنے پالان کے پاس واپس تشریف لے آئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جو ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پروردگار نے مجھے اختیار دیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس نے مجھے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ میری امت کے دو تہائی حصے کو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل کر دے ، اس چیز اور شفاعت کے درمیان اختیار دیا ہے ، ہم نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! تو پھر آپ نے کیا اختیار کیا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔ ہم سب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ہمیں اپنی شفاعت سے بہرہ مند افراد میں شامل کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری شفاعت ہر مسلمان کے لئے ہو گی ۔

18494

Majma al-Zawaid #18494

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ عَوْفٍ أَيْضًا قَالَ: «نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَنْزِلًا، فَاسْتَيْقَظْتُ مِنَ اللَّيْلِ، فَإِذَا أَنَا لَا أَرَى فِي الْعَسْكَرِ شَيْئًا أَطْوَلَ مِنْ مُؤَخِّرَةِ رَحْلٍ قَدْ لَصِقَ كُلُّ إِنْسَانٍ وَبَعِيرُهُ بِالْأَرْضِ، فَقُمْتُ أَتَخَلَّلُ حَتَّى دَفَعْتُ إِلَى مَضْجَعِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِيهِ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَى الْفِرَاشِ فَإِذَا هُوَ بَارِدٌ، فَقُمْتُ أَتَخَلَّلُ النَّاسَ وَأَقُولُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. فَذَكَرَ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " خَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يُدْخِلَ نِصْفَ أُمَّتِي الْجَنَّةَ».

EnglishUnverified translation

In another variant from ʿAwf, halting with the Messenger of Allāh ﷺ, he awoke seeing nothing taller than a saddle-back, every man and camel clinging to earth. Reaching the Prophet's bed missing and cold, he threaded people crying to Allāh, then heard the like except he said he was given choice to admit half his nation to Paradise. > **"He was given choice to admit half his nation or intercede, and chose intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جگہ پر پڑاؤ کیا ، رات کے وقت میں بیدار ہوا تو مجھے پورے لشکر میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی تھی ، جو پالان کی پچھلی لکڑی سے زیادہ لمبی ہو ، ہر انسان اور اونٹ زمین کے ساتھ لگا ہوا تھا ، میں اُٹھا اور لوگوں کے درمیان میں سے گزرتا ہوا نبی اکرم ﷺ کے آرام کی جگہ کے پاس آیا تو آپ وہاں نہیں تھے میں نے اپنا ہاتھ آپ کے بستر پر رکھا تو وہ ٹھنڈا تھا ، میں اُٹھا اور لوگوں کے درمیان سے گزرتا ہوا ’’ انا للہ وانا الیہ راجعون ‘‘ پڑھنے لگا ۔‘‘ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اس نے مجھے یہ اختیار دیا کہ وہ میری امت کے نصف حصے کو جنت میں داخل کر دے ......‘‘۔

18495

Majma al-Zawaid #18495

وَفِي رِوَايَةٍ: جَعَلَ مَكَانَ أَبِي عُبَيْدَةَ أَبَا مُوسَى. قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In a variant Abū Mūsā was placed where Abū ʿUbaydah stood in the chain of the same report. > **"The same report with Abū Mūsā in place of Abū ʿUbaydah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی جگہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کا نام مذکور ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض کے رجال ثقہ ہیں ۔

18496

Majma al-Zawaid #18496

وَعَنْ أَبِي كَعْبٍ صَاحِبِ الْحَرِيرِ قَالَ: سَأَلْتُ النَّضْرَ بْنَ أَنَسٍ فَقُلْتُ: حَدِّثْنِي بِحَدِيثٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهِ، فَقَالَ: نَعَمْ. أُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ كُتِبَ إِلَيْنَا بِهِ مِنَ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ أَنَسٌ: احْفَظُوا هَذَا فَإِنَّهُ مِنْ كَنْزِ الْحَدِيثِ. قَالَ: «غَزَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَارَ ذَلِكَ الْيَوْمَ إِلَى اللَّيْلِ، فَلَمَّا كَانَ اللَّيْلُ نَزَلَ وَعَسْكَرَ النَّاسُ حَوْلَهُ، وَنَامَ هُوَ وَأَبُو طَلْحَةَ زَوْجُ أُمِّ سُلَيْمٍ، وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ أَرْبَعَةٌ، فَتَوَسَّدَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَ رَاحِلَتِهِ ثُمَّ نَامَ، وَنَامَ الْأَرْبَعَةُ إِلَى جَنْبِهِ، فَلَمَّا ذَهَبَ عَتَمَةٌ مِنَ اللَّيْلِ رَفَعُوا رُءُوسَهُمْ فَلَمْ يَجِدُوا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ رَاحِلَتِهِ، فَذَهَبُوا يَلْتَمِسُونَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقُوهُ مُقْبِلًا، فَقَالُوا: جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاكَ! أَيْنَ كُنْتَ، فَإِنَّا قَدْ فَزِعْنَا لَكَ إِذْ لَمْ نَرَكَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كُنْتُ نَائِمًا حَيْثُ رَأَيْتُمْ، فَسَمِعْتُ فِي نَوْمِي دَوِيًّا كَدَوِيِّ الرَّحَا - أَوْ هَزِيزِ الرَّحَا - فَفَزِعْتُ فِي مَنَامِي، فَوَثَبْتُ فَمَضَيْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكَ السَّاعَةَ لِأُخَيِّرَكَ: إِمَّا أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِكَ الْجَنَّةَ، وَإِمَّا الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ لِأُمَّتِي "". فَقَالَ النَّفَرُ الْأَرْبَعَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اجْعَلْنَا مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُمْ، فَقَالَ: "" وَجَبَتْ لَكُمْ "". ثُمَّ أَقْبَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالنَّفَرُ الْأَرْبَعَةُ حَتَّى اسْتَقْبَلَهُ عَشَرَةٌ، فَقَالُوا: أَيْنَ نَبِيُّنَا نَبِيُّ الرَّحْمَةِ؟ قَالَ: فَحَدَّثَهُمْ بِالَّذِي حَدَّثَ الْقَوْمَ، فَقَالُوا: - جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ - اجْعَلْنَا مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ: "" وَجَبَتْ لَكُمْ "". فَجَاءُوا جَمِيعًا إِلَى عُظْمِ النَّاسِ، فَنَادَوْا فِي النَّاسِ: هَذَا نَبِيُّنَا نَبِيُّ الرَّحْمَةِ، فَحَدَّثَهُمْ بِالَّذِي حَدَّثَ الْقَوْمَ، فَنَادَوْا بِأَجْمَعِهِمْ: - جَعَلَنَا اللَّهُ فِدَاءَكَ - جَعَلَنَا اللَّهُ مِمَّنْ تَشْفَعُ لَهُمْ، فَنَادَى ثَلَاثًا: "" إِنِّي أُشْهِدُ اللَّهَ، وَأُشْهِدُ مَنْ سَمِعَ: أَنَّ شَفَاعَتِي لِمَنْ يَمُوتُ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ قُرَّةَ بْنِ حَبِيبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Kaʿb the silk-merchant reported that he asked al-Naḍr ibn Anas to narrate a report by which Allāh benefits him concerning intercession and the Basin. > **"Narrate to me a report by which Allāh benefits me concerning intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوکعب بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے نصر سے کہا : آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مجھے نفع عطا کرے تو انہوں نے فرمایا : ٹھیک ہے میں تمہیں ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو انہوں نے مدینہ منورہ سے ہماری طرف لکھ کے بھیجی تھی ، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو محفوظ کر لینا کیونکہ یہ حدیث کے خزانوں میں سے ہے انہوں نے بتایا : ’’ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے ایک غزوہ میں شرکت کی ، آپ دن بھر سفر کرتے رہے یہاں تک کہ رات ہو گئی جب رات ہو گئی تو آپ نے پڑاؤ کیا لوگوں نے آپ کے اردگرد پڑاؤ کر لیا ، نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ جو سیده ام سلیم رضی اللہ عنہا کے شوہر ہیں ، اور فلاں اور فلاں یہ چار افراد تھے ، یہ سو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی سواری کے بازو کا تکیہ بنا لیا اور آپ سو گئے ، باقی چار افراد بھی آپ کے اردگرد سو گئے ، جب رات کا ایک حصہ گزر گیا اور ان لوگوں نے اپنا سر اٹھایا تو انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو نہیں دیکھا ( یہ حضرات آپ کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے ) یہاں تک کہ ان کا نبی اکرم ﷺ کا سامنا ہوا ، جو سامنے سے تشریف لا رہے تھے ان حضرات نے کہا : اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کرے آپ کہاں تھے ؟ ہم نے جب آپ کو نہیں دیکھا تو ہم آپ کے حوالے سے پریشان ہو گئے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں سو گیا تھا ، جیسا کہ تم نے دیکھا تھا ، نیند میں ، میں نے ایک آواز سنی جو چکی کی بھنبھناہٹ کی مانند تھی ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) چکی چلنے کی آواز کی مانند تھی ، میں گھبرا کر نیند سے بیدار ہو گیا ، میں اُٹھا اور چل پڑا جبرائیل میرے سامنے آئے اور انہوں نے یہ کہا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! بے شک اللہ تعالیٰ نے ابھی مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے تاکہ میں آپ کو اختیار دوں تو آپ ( دو میں سے کوئی ایک صورت ) اختیار کر لیں ، یا تو یہ ہے کہ آپ کی امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر قیامت کے دن شفاعت ہو ( نبی اکرم علی نے فرمایا : ) تو میں نے اپنی امت کے لئے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔‘‘ ان چاروں افراد نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ ہمیں بھی ان میں شامل کریں ، جن کی آپ شفاعت کریں گے ۔ پھر نبی اکرم ﷺ اور وہ چاروں افراد واپس آئے تو ان کا سامنا دس افراد سے ہوا ، انہوں نے دریافت کیا : ہمارے نبی ، جو نبی رحمت ہیں ، وہ کہاں تھے ؟ راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو بھی وہی بات بتائی جو پہلے دوسرے لوگوں کو بتا چکے تھے تو ان لوگوں نے بھی یہی عرض کی : اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کرے ، آپ ہمیں بھی ان میں شامل کریں جن کی آپ قیامت کے دن شفاعت کریں گے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : وہ تمہارے لئے واجب ہو گئی ، پھر یہ سب حضرات باقی دیگر لوگوں کے پاس آ گئے ، ان لوگوں نے باقی لوگوں میں یہ اعلان کیا کہ یہ ہمارے نبی ، جو نبی رحمت ہیں ، اس کے بعد انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے بارے میں باقی لوگوں کو بھی بتایا تو ان سب نے بلند آواز میں پکار کر کہا : اللہ تعالیٰ ہمیں آپ پر فدا کرے ، آپ ہمیں بھی ان میں شامل کریں ، جن کی آپ قیامت کے دن شفاعت کریں گے ، نبی اکرم ﷺ نے تین مرتبہ بلند آواز میں پکار کر یہ فرمایا : ’’ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اور جو سن رہا ہے ، اُسے بھی گواہ بنا کر یہ کہتا ہوں : کہ میری شفاعت ہر اس شخص کو نصیب ہو گی ، جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن قرہ بن حبیب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18497

Majma al-Zawaid #18497

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عُقَيْلٍ قَالَ: «انْطَلَقْتُ فِي وَفْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَيْنَاهُ فَأَنَخْنَا بِالْبَابِ، وَمَا فِي النَّاسِ أَبْغَضُ إِلَيْنَا مِنْ رَجُلٍ نَلِجُ عَلَيْهِ، فَمَا خَرَجْنَا حَتَّى مَا كَانَ فِي النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ رَجُلٍ دَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقَالَ قَائِلٌ مِنَّا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا سَأَلْتَ رَبَّكَ مُلْكًا كَمُلْكِ سُلَيْمَانَ؟ قَالَ: فَضَحِكَ ثُمَّ قَالَ: "" فَلَعَلَّ لِصَاحِبِكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَفْضَلُ مِنْ مُلْكِ سُلَيْمَانَ، إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا إِلَّا أَعْطَاهُ دَعْوَةً، مِنْهُمْ مَنِ اتَّخَذَ بِهَا دُنْيَاهُ فَأُعْطِيَهَا، وَمِنْهُمْ مَنْ دَعَا بِهَا عَلَى قَوْمِهِ إِذْ عَصَوْهُ فَأُهْلِكُوا بِهَا، وَإِنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي دَعْوَةً فَاخْتَبَأْتُهَا عِنْدَ رَبِّي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī ʿUqayl reported that he came in a delegation to the Messenger of Allāh ﷺ, halting at the door hating the man they would enter upon, and leaving loving him most among people. One asked why he did not ask his Lord for a kingdom like Sulaymān's, peace be upon him, so he laughed and said perhaps your companion holds better with Allāh than Sulaymān's kingdom. Every prophet was given a supplication, some taking worldly gain, some invoking against disobedient peoples unto ruin, while he reserved his for intercession. > **"Every prophet was given a supplication, and I reserved mine for intercession."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن ابوعقیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک وفد کے ہمراہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، ہم آپ کے پاس آئے ، ہم نے آپ کے دروازے پر سواریاں باندھیں ، اس وقت میرے نزدیک آپ سب سے ناپسندیدہ فرد تھے ، جب میں آپ کے پاس جانے لگا تھا ، لیکن جب ہم آپ کے پاس سے اٹھے تو آپ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ فرد تھے ، ہم میں سے کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنے پروردگار سے ایسی بادشاہی کیوں نہیں مانگتے جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی تھی ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہو سکتا ہے تمہارے آقا کے لئے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں وہ چیز ہو جو حضرت سلیمان علیہ السلام کی بادشاہی سے زیادہ فضیلت رکھتی ہو ، اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو مبعوث کیا اُسے ایک مخصوص دعا کا اختیار دیا ، ان انبیاء میں سے کسی نے اس مخصوص دعا کے ذریعے کوئی دنیاوی نتیجہ حاصل کرنا چاہا تو وہ انہیں دے دیا گیا ، اُن میں سے کسی نے اس مخصوص دعا کو اپنی قوم کے خلاف استعمال کیا جب اس قوم نے ان کی نافرمانی کی تھی ، تو اس دعا کی وجہ سے انھیں ہلاکت کا شکار کر دیا گیا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی ایک مخصوص دعا کا اختیار دیا تو میں نے وہ قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے اپنے پروردگار کے پاس سنبھال کے رکھوا دی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

18498

Majma al-Zawaid #18498

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «كُلُّ نَبِيٍّ قَدْ أُعْطِيَ عَطِيَّةً فَتَنَجَّزَهَا، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ عَطِيَّتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَأَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ لِكَثْرَةِ طُرُقِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said every prophet was given a gift and hastened it, but he reserved his gift as intercession for his nation. > **"Every prophet hastened his gift, but I reserved mine as intercession for my nation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نبی کو ایک ( ایک مخصوص دعا کے طور پر ) مخصوص عطیہ دیا گیا اور ہر نبی نے اس دعا کے نتیجے کو اختیار کر لیا ، البتہ میں نے اپنے مخصوص عطیہ کو اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کے رکھ لیا ۔‘‘ یہ روایت امام بزاز ، امام ابویعلیٰ اور امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے کیونکہ اس کے طریق بکثرت ہیں ۔

18499

Majma al-Zawaid #18499

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أُعْطِيتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ أَحَدٌ قَبْلِي: جُعِلَتْ لِيَ الْأَرْضُ طَهُورًا وَمَسْجِدًا، وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِنَبِيٍّ كَانَ قَبْلِي، وَنُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ عَلَى عَدُوِّي، وَبُعِثْتُ إِلَى كُلِّ أَحْمَرَ وَأَسْوَدَ، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِي ذَرٍّ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he was given five never granted before: the earth made purification and mosque, spoils made lawful never lawful to a prophet before, aided by dread a month against his enemy, sent to every red and black, and given intercession reaching whoever of his nation associates nothing with Allāh. > **"I was given five never granted before, and intercession reaching unassociating monotheists."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئی ہیں ، میرے لیے روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور نماز ادا کرنے کی جگہ قرار دے دیا گیا ، میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی نبی کے لیے حلال نہیں ہوا ، میرے دشمن کے خلاف ایک ماہ کی مسافت سے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ۔‘‘ مجھے ہر سرخ فام اور سیاہ فام ( یعنی تمام بنی نوع انسان ) کی طرف مبعوث کیا گیا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی جسے میں نے اپنی امت کے لیے مؤخر کر دیا اور وہ میری امت کے ہر اُس فرد کو نصیب ہو گی جو ایسی حالت میں مرے گا کہ وہ کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا یہ حصہ نقل کیا ہے : ’’ میرے لیے تمام روئے زمین کو طہارت کے حصول کا ذریعہ اور نماز ادا کرنے کی جگہ بنا دیا گیا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ مجاہد نامی راوی نے ’’ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

18500

Majma al-Zawaid #18500

وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أُعْطِيْتُ خَمْسًا لَمْ يُعْطَهُنَّ نَبِيٌّ قَبْلِي، بُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ، وَكَانَ مَنْ قَبْلِي يُبْعَثُ إِلَى قَوْمِهِ، وَجُعِلَتْ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا، وَنُصِرْتُ بِالْرُعْبِ أَمَامِي مَسِيرَةَ شَهْرٍ، وَأُحِلَّتْ لِيَ الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ فَأَخَّرْتَهَا لِأُمَّتِي فِهِيَ نَائِلَةٌ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ حَسَنَيْنِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي التَّيَمُّمِ، وَطُرُقٌ فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ فِي عُمُومِ بَعْثَتِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he was given five never granted to a prophet before: sent to red and black while those before were sent to their peoples, the earth made mosque and purification, aided by dread a month ahead, spoils made lawful to him never lawful before, and given intercession which he deferred for his nation, reaching whoever associates nothing with Allāh. > **"I was given five never granted before, and deferred intercession for whoever associates nothing with Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے پانچ چیزیں عطا کی گئی ہیں ، جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئی ہیں ، مجھے سرخ فام اور سیاہ فام ( یعنی تمام بنی نوع انسان ) کی طرف مبعوث کیا گیا ، مجھ سے پہلے کے ( انبیاء ) کو ان کی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا ، میرے لیے روئے زمین کو نماز ادا کرنے کی جگہ اور طہارت کے حصول کا ذریعہ قرار دیا گیا اور ایک ماہ کی مسافت سے میرے سامنے رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ، میرے لیے مال غنیمت کو حلال قرار دیا گیا جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور مجھے شفاعت عطا کی گئی ، جسے میں نے اپنی امت کے لیے مؤخر کر دیا تو وہ ہر اس شخص کو نصیب ہو گی جو کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار نہ دیتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے دو حسن اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق تیمم کے متعلق باب میں گزر چکے ہیں اور کچھ طرق نبوت کی علامات سے متعلق کتاب میں نبی اکرم ﷺ کی بعثت کی عمومیت سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔

18501

Majma al-Zawaid #18501

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رَأَيْتُ مَا تَعْمَلُ أُمَّتِي بَعْدِي، فَاخْتَرْتُ لَهُمُ الشَّفَاعَةَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ».

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allāh be pleased with her, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he saw what his nation would do after him, so he chose for them intercession on the Day of Resurrection. > **"I saw what my nation would do after me, so I chose intercession for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے دیکھا کہ میرے بعد میری امت کیا عمل کرے گی ( یا میری امت جو عمل کرے گی ) تو میں نے قیامت کے دن ان کے لئے شفاعت کو اختیار کر لیا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ اس روایت کے مختلف طرق کتاب الفتن میں گزر چکے ہیں ۔

18502

Majma al-Zawaid #18502

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَسْأَلُ النَّاسَ حَتَّى يَأْتِيَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَيْسَ فِي وَجْهِهِ مِزْعَةُ لَحْمٍ "". وَقَالَ: "" إِنَّ الشَّمْسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَدْنُو حَتَّى يَبْلُغَ الْعَرَقُ نِصْفَ الْأُذُنِ، فَبَيْنَا هُمْ كَذَلِكَ اسْتَغَاثُوا بِآدَمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ: لَسْتُ بِصَاحِبِ ذَاكَ، ثُمَّ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُ كَذَلِكَ، ثُمَّ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَشْفَعُ فَيَقْضِي اللَّهُ بَيْنَ الْخَلْقِ، فَيَمْشِي حَتَّى يَأْخُذَ بِحَلْقَةِ الْجَنَّةِ، فَيَوْمَئِذٍ يَبْعَثُهُ اللَّهُ مَقَامًا مَحْمُودًا يَحْمَدُهُ أَهْلُ الْجَمْعِ كُلُّهُمْ». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ مِنْ قَوْلِهِ: "" فَيَقْضِي اللَّهُ بَيْنَ الْخَلْقِ إِلَى آخِرِهِ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ مُطَّلِبِ بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَالِحٍ، وَكِلَاهُمَا قَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said a man will keep begging people until he comes on the Day of Resurrection with no morsel of flesh on his face. He also said the sun will draw near until sweat reaches half the ear, and while thus they will seek Ādam, peace be upon him, who will say he is not its man, then Mūsā likewise, then Muḥammad ﷺ, who will intercede and Allāh will judge creation. He will walk to grasp Paradise's ring, and that Day Allāh will raise him to the Praiseworthy Station praised by all the gathering. > **"Then Muḥammad ﷺ will intercede, grasp Paradise's ring, and be raised to the Praiseworthy Station."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی شخص لوگوں سے مسلسل مانگتا رہے گا یہاں تک کہ جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کے چہرے پر گوشت کا کوئی ٹکڑا نہیں ہو گا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا :’’ قیامت کے دن سورج قریب آ جائے گا ، یہاں تک کہ پسینہ نصف کان تک پہنچ رہا ہو گا ، لوگ اسی حالت میں ہوں گے ، اسی دوران وہ حضرت آدم علیہ السلام سے مدد چاہیں گے تو وہ کہیں گے : میں اس کا متعلقہ فرد نہیں ہوں ، پھر وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ( سے مدد چاہیں گے ) تو وہ بھی یہی کہیں گے ، پھر وہ حضرت محمد ﷺ ( سے مدد چاہیں گے ) تو وہ شفاعت کریں گے ، تو اللہ تعالیٰ مخلوق کے درمیان فیصلہ کرے گا ، پھر حضرت محمد ﷺ چلتے ہوئے جائیں گے ، یہاں تک کہ وہ جنت کے حلقے ( یعنی دروازے کی کنڈی ) کو پکڑ لیں گے ، اس دن اللہ تعالیٰ انہیں ’’ مقام محمود ‘‘ پر فائز کرے گا جس کے حوالے سے تمام اہل محشر ان کی تعریف کریں گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے جو یہ الفاظ ہیں :” تو اللہ تعالیٰ مخلوق کے درمیان فیصلہ کرے گا ......‘‘ اس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں مطلب بن شعیب کے حوالے سے عبداللہ بن صالح سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ ان دونوں میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18503

Majma al-Zawaid #18503

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «تُعْطَى الشَّمْسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَرَّ عَشْرِ سِنِينَ، ثُمَّ تُدْنَى مِنْ جَمَاجِمِ النَّاسِ. قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: فَيَأْتُونَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَقُولُونَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَنْتَ الَّذِي فَتَحَ اللَّهُ بِكَ، وَغَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، وَقَدْ تَرَى مَا نَحْنُ فِيهِ فَاشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ، فَيَقُولُ: "" أَنَا صَاحِبُكُمْ "". فَيَخْرُجُ يَحُوشُ النَّاسَ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى بَابِ الْجَنَّةِ، فَيَأْخُذُ بِحَلْقَةٍ فِي الْبَابِ مِنْ ذَهَبٍ فَيَقْرَعُ الْبَابَ، فَيَقُولُ: مَنْ هَذَا؟ فَيَقُولُ: "" مُحَمَّدٌ "". فَيُفْتَحُ لَهُ حَتَّى يَقُومَ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَيَسْجُدُ، فَيُنَادَى: ارْفَعْ رَأْسَكَ، سَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ. فَذَلِكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salmān, may Allāh be pleased with him, reported that the sun on the Day of Resurrection will be given ten years' heat then drawn near skulls. They will come to the Prophet ﷺ saying, O Prophet of Allāh, you by whom Allāh opened and forgave past and future sins, you see our plight, so intercede for us. He will say, I am your man, going forth herding people to Paradise's gate, grasping a golden ring and knocking. Asked who, he will say Muḥammad, and it will be opened until he stands before Allāh, prostrates, and is told to raise his head. > **"I am your man; I shall knock at Paradise's gate until opened for me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قیامت کے دن سورج کو دس سال کی گرمی دے دی جائے گی ، پھر وہ لوگوں کے سروں کے قریب آ جائے گا ، راوی کہتے ہیں اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر وہ بیان کرتے ہیں : ’’ پھر لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے اللہ کے نبی ! آپ وہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح عطا کی ، آپ کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ، ہم جس صورتحال کا شکار ہیں ، آپ اُسے ملاحظہ کر رہے ہیں ، تو آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کریں ، نبی اکرم ﷺ فرمائیں گے : تمہارا متعلقہ فرد ہوں ، پھر نبی اکرم ﷺ سب لوگوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوں گے ، یہاں تک کہ آپ جنت کے دروازے کے پاس آ جائیں گے ، آپ دروازے کی کنڈی کو پکڑیں گے ، جو سونے کی بنی ہوئی ہو گی اور اس کے ذریعے دروازہ کھٹکھٹائیں گے ( اندر سے دربان فرشتہ ) دریافت کرے گا : کون ہے ؟ آپ فرمائیں گے : محمد ( ﷺ ) تو آپ کے لئے قیامت کے دن اس کو کھول دیا جائے گا ، یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سامنے آئیں گے اور سجدے میں چلے جائیں گے تو پروردگار فرمائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تو مانگو تمھیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو تمھاری شفاعت قبول ہو گی ( حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے یا نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا : ) یہ ’’ مقام محمود ‘‘ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18504

Majma al-Zawaid #18504

وَعَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ نَبِيٌّ إِلَّا وَلَهُ دَعْوَةٌ قَدْ تَنَجَّزَهَا فِي الدُّنْيَا، وَإِنِّي اخْتَبَأْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَةً لِأُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَأَنَا سَيِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ، وَأَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ وَلَا فَخْرَ، بِيَدِي لِوَاءُ الْحَمْدِ، آدَمُ وَمَنْ دُونَهُ تَحْتَ لِوَائِي وَلَا فَخْرَ، وَيَطُولُ يَوْمُ الْقِيَامَةِ عَلَى النَّاسِ، وَيَشْتَدُّ حَتَّى يَقُولَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى آدَمَ أَبِي الْبَشَرِ يَشْفَعُ لَنَا إِلَى رَبِّنَا فَيَقْضِي بَيْنَنَا، فَيَنْطَلِقُونَ إِلَى آدَمَ فَيَقُولُونَ: يَا آدَمُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا، فَيَقُولُ آدَمُ: لَسْتُ هُنَاكَ، أُخْرِجْتُ مِنَ الْجَنَّةِ بِخَطِيئَتِي، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنِ ائْتُوا نُوحًا. فَيَأْتُونَ نُوحًا فَيَقُولُونَ: يَا نُوحُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَيَقْضِي بَيْنَنَا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي دَعَوْتُ دَعْوَةً أَغْرَقَتْ أَهْلَ الْأَرْضِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنِ ائْتُوا إِبْرَاهِيمَ خَلِيلَ الرَّحْمَنِ. فَيَأْتُونَ إِبْرَاهِيمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَيَقُولُونَ: يَا إِبْرَاهِيمُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا، فَيَقُولُ: لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي كَذَبْتُ فِي الْإِسْلَامِ ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ "" - قَوْلُهُ: إِنِّي سَقِيمٌ، وَقَوْلُهُ: بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا، "" وَاللَّهِ مَا أَرَادَ بِهِنَّ إِلَّا عِزَّةً لِدِينِ اللَّهِ "". - "" وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنِ ائْتُوا مُوسَى عَبْدًا اصْطَفَاهُ اللَّهُ بِرِسَالَتِهِ وَكَلَّمَهُ. فَيَأْتُونَ مُوسَى فَيَقُولُونَ: يَا مُوسَى، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي قَتَلْتُ نَفْسًا، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، وَلَكِنِ ائْتُوا عِيسَى رُوحَ اللَّهِ وَكَلِمَتَهُ. فَيَأْتُونَ عِيسَى فَيَقُولُونَ: يَا عِيسَى، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا، فَيَقُولُ: إِنِّي لَسْتُ هُنَاكُمْ، إِنِّي اتَّخَذْتُ إِلَهًا مِنْ دُونِ اللَّهِ، وَإِنَّهُ لَا يُهِمُّنِي الْيَوْمَ إِلَّا نَفْسِي، أَرَأَيْتُمْ لَوْ كَانَ مَتَاعٌ فِي وِعَاءٍ مَخْتُومٍ، أَكَانَ يُقْدَرُ عَلَى مَا فِيهِ حَتَّى يُفَضَّ الْخَاتَمُ؟ فَيَقُولُونَ: لَا. فَيَقُولُ: إِنَّ مُحَمَّدًا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَاتَمُ النَّبِيِّينَ وَقَدْ حَضَرَ، وَقَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ. فَيَأْتُونِي فَيَقُولُونَ: يَا مُحَمَّدُ، اشْفَعْ لَنَا إِلَى رَبِّكَ فَلْيَقْضِ بَيْنَنَا، فَأَقُولُ: أَنَا لَهَا حَتَّى يَأْذَنَ اللَّهُ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَرْضَى، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهَ أَنْ يَقْضِيَ بَيْنَ خَلْقِهِ نَادَى مُنَادٍ: أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ؟ أَيْنَ أَحْمَدُ وَأُمَّتُهُ؟ فَيَجِيئُونَ، فَنَحْنُ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ، آخِرُ مَنْ يُبْعَثُ، وَآخِرُ مَنْ يُحَاسَبُ، فَتُفْرِجُ لَنَا الْأُمَمُ عَنْ طَرِيقِنَا، فَنَمْضِي غُرًّا مُحَجَّلِينَ مِنْ آثَارِ الطُّهُورِ، فَتَقُولُ الْأُمَمُ: كَادَتْ هَذِهِ الْأُمَّةُ أَنْ تَكُونَ أَنْبِيَاءَ كُلَّهَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَأَحْمَدُ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَزَادَ أَحْمَدُ: "" «فَآتِي بَابَ الْجَنَّةِ، فَآخُذُ بِحَلْقَةِ الْبَابِ فَأَقْرَعُ [الْبَابَ]، فَيُقَالُ: مَنْ [أَنْتَ]؟ فَأَقُولُ: [أَنَا] مُحَمَّدٌ [فَيُفْتَحُ لِي]، فَآتِي رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَى كُرْسِيِّهِ أَوْ سَرِيرِهِ» - شَكَّ حَمَّادٌ - «فَأَخِرُّ لَهُ سَاجِدًا فَأَحْمَدُهُ بِمَحَامِدَ لَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ قَبْلِي، وَلَمْ يَحْمَدْهُ بِهَا أَحَدٌ بَعْدِي، فَيُقَالُ: يَا مُحَمَّدُ، ارْفَعْ رَأْسَكَ وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، [فَأَرْفَعُ رَأْسِي] فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أُمَّتِي! أُمَّتِي! فَيَقُولُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ كَذَا وَكَذَا» - لَمْ يَحْفَظْ حَمَّادٌ - ثُمَّ «أَعُودُ فَأَسْجُدُ، فَأَقُولُ مَا قُلْتُ، فَيُقَالُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ [وَسَلْ تُعْطَهْ]، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أُمَّتِي! أُمَّتِي! فَيُقَالُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ كَذَا وَكَذَا دُونَ الْأَوَّلِ، ثُمَّ أَعُودُ فَأَسْجُدُ فَأَقُولُ مِثْلَ ذَلِكَ فَيُقَالُ: ارْفَعْ رَأْسَكَ، وَقُلْ تُسْمَعْ، وَسَلْ تُعْطَهْ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ، فَأَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أُمَّتِي! أُمَّتِي! فَيُقَالُ: أَخْرِجْ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ كَذَا وَكَذَا دُونَ ذَلِكَ».

EnglishUnverified translation

Abū Naḍrah reported that he heard Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, address from Baṣrah's pulpit that the Messenger of Allāh ﷺ said every prophet had a supplication hastened in the world, but he reserved his as intercession for his nation on the Day of Resurrection. He is the master of Ādam's children without boast, first over whom the earth splits without boast, in his hand the banner of praise with Ādam and below beneath it without boast. The Day will lengthen and harden until people say go to Ādam, father of mankind, to intercede for judgment, and they will go to Ādam, then through the prophets, until reaching him ﷺ. > **"I reserved my supplication as intercession, and in my hand is the banner of praise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابونضرہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بصرہ کے منبر پر خطبہ دینے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نبی کے لئے ایک مخصوص دعا تھی جسے اس نے دنیا میں مخصوص نتیجے کے حصول کے لیے استعمال کر لیا اور میں نے اپنی مخصوص دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے سنبھال کے رکھ لیا ہے ، میں اولاد آدم کا سردار ہوں اور یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ( قیامت کے دن ) سب سے پہلے میرے لئے زمین کو شق کیا جائے گا اور یہ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ، میرے ہاتھ میں ’’ لواء الحمد ‘‘ ہو گا ، حضرت آدم علیہ السلام اور ان کے علاوہ سب میرے جھنڈے کے نیچے ہوں گے اور یہ فخر کے طور پر نہیں کہہ رہا ۔ قیامت کا دن لوگوں کے لئے طویل اور مشکل کا باعث ہو گا یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے یہ کہیں گے : تم ہمارے ساتھ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس چلو جو بنی نوع انسان کے جد امجد ہیں ، تاکہ وہ ہمارے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کریں اور وہ پروردگار ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، وہ لوگ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس جائیں گے اور یہ کہیں گے : اے حضرت آدم ! آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، تو حضرت آدم علیہ السلام کہیں گے ، میں یہ نہیں کر سکتا ، کیونکہ میری خطا کی وجہ سے مجھے جنت سے نکالا گیا تھا ، تو آج مجھے صرف اپنی ذات کے حوالے سے پریشانی ہے ، تم لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ ، لوگ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے حضرت نوح ( علیہ السلام ) ! آپ اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، تو حضرت نوح علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں نے ایک دعا کی تھی ، جس کی وجہ سے تمام اہل زمین ڈوب گئے ، تو آج مجھے صرف اپنی ذات کی فکر ہے ، تم لوگ حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کے پاس جاؤ ! وہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے حضرت ابراہیم ( علیہ السلام ) ! آپ اپنے پروردگار کے سامنے ہماری شفاعت کیجئے تاکہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، میں نے اسلام میں تین مرتبہ ذومعنی باتیں کی تھیں ( شاید راوی کہتے ہیں : ایک بات تو ان کا یہ کہنا ہے کہ میں بیمار ہوں ، ایک بات ان کا یہ کہنا ہے : بلکہ ان میں سے بڑے نے یہ کیا ہے اور ایک وہ بات جو انہوں نے بادشاہ سے کہی تھی ، جب وہ اس کے علاقے سے گزرے تھے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ کی قسم ! انہوں نے ان ذومعنی باتوں کے ذریعے مراد صرف اللہ کے دین کا غلبہ لیا تھا ( حضرت ابراہیم علیہ السلام کہیں گے : ) آج مجھے صرف اپنی فکر ہے ، تم لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو ایسے بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت کے لئے منتخب کیا اور ان کے ساتھ کلام کیا ، لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام ) ! آپ اپنے پروردگار کے سامنے ہماری شفاعت کیجئے کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا کیونکہ میں نے ایک شخص کو قتل کیا تھا ، تو آج مجھے صرف اپنی فکر ہے ، تم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ جو اللہ کی روح اور اس کا کلمہ ہیں ، وہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے حضرت عیسیٰ علیہ السلام ! آپ اپنے پروردگار کے سامنے ہماری شفاعت کیجئے کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے : میں یہ نہیں کر سکتا ، مجھے اللہ کو چھوڑ کر معبود بنا لیا گیا تھا ، تو آج مجھے صرف اپنی فکر ہے ، اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ اگر کوئی ایسا سامان ہو جو مہر بند ہو اور وہ کسی ایسے برتن میں ہو جس پر مہر لگائی گئی ہو تو کیا اس سامان کو نکالا جا سکتا ہے ، جب تک مہر کو توڑا نہ جائے ؟ لوگ جواب دیں گے : جی نہیں ! تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہیں گے : حضرت محمد ( ﷺ ) خاتم النبیین ہیں ، وہ موجود ہیں ، اللہ تعالیٰ نے ان کے گزشتہ اور آئندہ ذنب کی مغفرت کر دی ہوئی ہے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو وہ لوگ میرے پاس آئیں گے اور یہ کہیں گے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ اپنے پروردگار کے سامنے ہماری شفاعت کیجئے کہ وہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے ، تو میں یہ کہوں گا : میں اس کام کے لیے ہوں ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ جس کو چاہے گا اور جس سے راضی ہو گا ، اُسے اجازت دے گا ۔ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان فیصلہ کرنے کا ارادہ کرے گا تو ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : حضرت احمد ( ﷺ ) اور ان کی امت کہاں ہے ؟ حضرت احمد ( ﷺ ) اور ان کی امت کہاں ہیں ؟ تو وہ لوگ آئیں گے ، ہم پہلے والے ہیں اور آخر والے ہیں ، ہم آخر میں مبعوث ہونے والے ہیں اور وہ لوگ ہیں جن سے آخر میں حساب لیا جائے گا ، تو دیگر امتیں ہمارے لئے راستہ چھوڑ دیں گی اور ہم چلتے ہوئے جائیں گے ، طہارت کے آثار کی وجہ سے ہماری پیشانیاں چمک رہی ہوں گی ، دوسری امتیں یہ کہیں گی : یہ امت ( تعداد کے حوالے سے ) اس کے قریب ہے کہ جتنی دیگر تمام انبیاء کی امتیں ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام احمد نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ ہم جنت کے دروازے پر آئیں گے ، میں دروازے کی کنڈی پکڑوں گا اور دروازہ کھٹکھٹاؤں گا ، تو کہا جائے گا : آپ کون ہیں ؟ تو میں جواب دوں گا : میں محمد ( ﷺ ) ہوں ، تو میرے لئے دروازہ کھول دیا جائے گا ، میں اپنے پروردگار کی بارگاہ میں آؤں گا جو اپنی کرسی پر ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ اپنے پلنگ پر ہو گا ، میں اس کے سامنے سجدے میں گر جاؤں گا اور ایسے کلمات کے ہمراہ اس کی حمد بیان کروں گا کہ اس جیسے کلمات کے ذریعے مجھ سے پہلے کسی نے اس کی حمد بیان نہیں کی ہو گی اور ان کلمات کے ذریعے کوئی میرے بعد اس کی حمد بیان نہیں کرے گا ، پھر یہ کہا جائے گا : اے محمد ( ﷺ ) ! تم اپنا سر اٹھاؤ ، تو مانگو ، تمھیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو ، تمھاری شفاعت قبول ہو گی ، تو میں اپنا سر اٹھاؤں گا اور میں یہ کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت ، میری امت ، تو پروردگار فرمائے گا : تم اس شخص کو نکال دو جس کے دل میں یہ یہ ہو ۔ ( یہاں روایت کے الفاظ حماد نامی راوی کو یاد نہیں رہے ) ۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر میں واپس آؤں گا اور سجدے میں چلا جاؤں گا ، پھر میں کچھ کلمات پڑھوں گا تو یہ کہا جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ ، تم کہو سنا جائے گا ، تم مانگو تمھیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو تمھاری شفاعت قبول کی جائے گی ، تو میں یہ کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت ، میری امت ، تو یہ کہا جائے گا : تم اس کو نکال دو ، جس کے دل میں یہ اور یہ ہو ، یہ مقدار پہلے والی سے کم ہو گی ، پھر میں دوبارہ آؤں گا اور سجدے میں چلا جاؤں گا اس کی مانند کلمات پڑھوں گا تو یہ کہا جائے گا : تم اپنا سر اٹھاؤ اور تم کہو ، تمہاری بات کو سنا جائے گا ، تم مانگو تمھیں دیا جائے گا ، تم شفاعت کرو تمھاری شفاعت قبول ہو گی ، تو میں کہوں گا : اے میرے پروردگار ! میری امت ، میری امت ، تو یہ کہا جائے گا : تم اُس کو نکال لو ، جس کے دل میں یہ اور یہ ہو ، یہ مقدار پہلی والی سے بھی کم ہو گی ۔‘‘