Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 44 · Chapter 4

Book of Resurrection

Hadith 18425–18464

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18425

Majma al-Zawaid #18425

عَنْ أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَجْمَعُ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ مِنْ تَحْتِ الْعَرْشِ: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ عَفَا عَنْكُمْ، فَيَقُومُ النَّاسُ فَيَتَعَلَّقُ بَعْضُهُمْ بِبَعْضٍ فِي ظُلَامَاتٍ، ثُمَّ يُنَادِي مُنَادٍ: يَا أَهْلَ التَّوْحِيدِ، لِيَعْفُ بَعْضُكُمْ عَنْ بَعْضٍ وَعَلَيَّ الثَّوَابُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو عَاصِمٍ: الرَّبِيعُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ قَالَهُ أَبُو حَاتِمٍ.

EnglishUnverified translation

Umm Hāniʾ bint Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with her, reported from the Prophet ﷺ that Allāh will gather the first and last on one plain, then a caller beneath the Throne will call, O people of tawḥīd, Allāh has pardoned you. People will rise, some clinging to others over wrongs, then a caller will call, O people of tawḥīd, let some pardon others, and upon Me is the reward. > **"O people of tawḥīd, let some pardon others, and upon Me is the reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ تمام پہلے والوں اور تمام بعد والوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا پھر عرش کے نیچے سے ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : اے اہل توحید ! بیشک اللہ تعالیٰ نے تم سے درگزر کیا ہے ، پھر وہ لوگ کچھ زیادتیوں کے حوالے سے ایک دوسرے سے مطالبہ کریں گے تو منادی پکار کر کہے گا : اے اہل توحید ! تم ایک دوسرے کو معاف کر دو اور اس کا ثواب میرے ذمہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوعاصم ربیع بن اسماعیل ہے جو منکر الحدیث ہے یہ بات ابوحاتم نے کہی ہے ۔

18426

Majma al-Zawaid #18426

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا الْتَقَى الْخَلَائِقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَأُدْخِلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ، نَادَى مُنَادٍ: يَا أَهْلَ الْجَمْعِ، تَتَارَكُوا الْمَظَالِمَ بَيْنَكُمْ وَثَوَابُكُمْ عَلَيَّ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ سِنَانٍ: أَبُو عَوْنٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: عِنْدَهُ وَهْمٌ كَثِيرٌ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَمَحَلُّهُ الصِّدْقُ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي فَضْلِ الْعِلْمِ: أَنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى يَقُولُ لَهُمْ: إِنِّي لَمْ أَضَعْ عِلْمِي فِيكُمْ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أُعَذِّبَكُمْ، اذْهَبُوا فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ. وَحَدِيثٌ فِي الدَّيْنِ فِيمَنْ يَقْتَرِضُ وَيُتْلِفُ مَالَهُ فَإِنَّ اللَّهَ يُؤَدِّي عَنْهُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said when creatures meet on the Day of Resurrection and Paradise's people enter Paradise and Fire's people the Fire, a caller will call, O people of the gathering, forgo wrongs among you, and your reward is upon Me. > **"O people of the gathering, forgo wrongs among you, and your reward is upon Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن جب مخلوق اکٹھی ہو گی اور اہل جنت کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کر دیا جائے گا تو ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : اے اہل جمع ! تم آپس کی زیادتیوں کو چھوڑ دو ( یعنی معاف کر دو ! ) تمہارا ثواب میرے ذمہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حکم بن سنان ابوعون ہے ابوحاتم کہتے ہیں : اسے بہت زیادہ وہم لاحق ہوتا ہے ، یہ قوی نہیں ہے اس کا محل صدق ہے ، اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، ان کے علاوہ دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے علم کی فضیلت سے متعلق باب میں حدیث گزر چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ علماء سے فرمائے گا : ’’ میں نے اپنا علم تمہارے اندر اس لیے نہیں رکھا کہ میں یہ ارادہ رکھتا تھا کہ میں تمہیں عذاب دوں ، تم جاؤ ! میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔‘‘ اسی طرح ایک حدیث قرض کے بارے میں ہے ، جو شخص قرض لیتا ہے اور اس کا مال ضائع ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف سے ادائیگی کروا دے گا ۔

18427

Majma al-Zawaid #18427

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ أَحَدٌ إِلَّا بِرَحْمَةِ اللَّهِ "". قَالُوا: [يَا رَسُولَ اللَّهِ] وَلَا أَنْتَ؟! قَالَ: "" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ [بِرَحْمَتِهِ] "". وَقَالَ بِيَدِهِ فَوْقَ رَأْسِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said none shall enter Paradise but by Allāh's mercy. Asked, not even you, he said not even he, unless Allāh enfolds him in His mercy, gesturing with his hand above his head. > **"None shall enter Paradise but by Allāh's mercy, not even I unless He enfolds me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ تو روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر شخص صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے جنت میں داخل ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بھی ( اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بغیر داخل ) نہیں ( ہوں گے ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی نہیں ، البتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اپنے سر کے اوپر اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18428

Majma al-Zawaid #18428

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ "". قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! قَالَ: "" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ. فَسَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاغْدُوا وَرُوحُوا، وَشَيْءٌ مِنَ الدُّلْجَةِ، وَالْقَصْدَ الْقَصْدَ تَبْلُغُوا». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that none of you shall be saved by his deeds. Asked, not even you O Messenger of Allāh, he said not even he, unless Allāh enfolds him in mercy. So be sound, draw near, go forth morning and evening and part of the night, and aim steadily and you will reach. > **"None shall be saved by his deeds; be sound, draw near, and aim steadily."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم میں سے کسی ایک کو اس کا عمل نجات نہیں دے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے بھی نہیں ، البتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے ، تم صبح اور شام اور رات کے کچھ حصے میں ( نماز ادا کرو ) اور میانہ روی اختیار کرو ، میانہ روی اختیار کرو ، تم پہنچ جاؤ گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18429

Majma al-Zawaid #18429

وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا عَمَلُهُ "". قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! قَالَ: "" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ، وَلَوْ يُؤَاخِذُنِي أَنَا وَعِيسَى بِمَا جَنَى هَذَانِ لَأَوْبَقَنَا "". وَأَشَارَ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى. قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ مِنْ قَوْلِهِ: "" وَلَوْ يُؤَاخِذُنِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «وَلَوْ يُؤَاخِذُنِي بِمَا جَنَى هَؤُلَاءِ لَأَوْبَقَنِي». وَشَيْخُ الْبَزَّارِ أَبُو بَكْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَكَأَنَّهُ وَرَّاقُ ابْنُ أَبِي الدُّنْيَا، فَإِنَّهُ رَوَى عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ: إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُعَاوِيَةَ بْنِ ذَكْوَانَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ الْقَيْصَرَانِيُّ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, also reported that the Messenger of Allāh ﷺ said none shall be saved by his deeds. Asked, not even you, he said not even he, unless Allāh enfolds him in mercy and bounty, and were He to take him and ʿĪsā, peace be upon him, for what these two fingers earned, gesturing with forefinger and middle, they would perish. > **"None shall be saved by his deeds, not even I unless Allāh enfolds me in mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان صحابی کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسی شخص کو اس کا عمل نجات نہیں دلوائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے بھی نہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی خاص رحمت اور فضل کے ذریعہ ڈھانپ لیا ہے ، اگر وہ میرا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مواخذہ کرے ، اس چیز کے حوالے سے جس کا ارتکاب ان دو ( انگلیوں ) نے کیا ہے ، تو وہ ہمیں ہلاکت کا شکار کر دے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :” اگر وہ میرا مواخذہ کرے ......‘‘۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” اگر وہ اس کے حوالے سے میرا مواخذہ کرے ، جس کا ارتکاب انہوں نے کیا ہے تو وہ مجھے ہلاکت کا شکار کر دے ۔‘‘ امام بزار کے استاد ابوبکر سے میں واقف نہیں ہوں ، شاید یہ ابن ابودنیا کا وراق ہے ، کیونکہ اس نے محمد بن عبدالملک بن زنجویہ سے روایات نقل کی ہیں ، اسی طرح امام طبرانی کے استاد ابراہیم بن معاویہ بن ذکوان بن ابوسفیان قیصرانی کے حالات بیان کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عبدالملک بن زنجویہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18430

Majma al-Zawaid #18430

وَعَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «لَنْ يُنْجِيَ أَحَدًا مِنْكُمْ عَمَلُهُ "". قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّهِ؟! قَالَ: "" وَلَا أَنَا إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ: «مَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ يُدْخِلُهُ عَمَلُهُ الْجَنَّةَ "". فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: وَلَا أَنْتَ؟!» فَذَكَرَهُ. وَفِي أَسَانِيدِهِمْ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that none of you shall be saved by his deeds. Asked, not even you, he said not even he, unless Allāh enfolds him in mercy from Him. > **"None of you shall be saved by his deeds, not even I unless Allāh enfolds me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم میں سے کسی ایک کو اس کا عمل نجات نہیں دلوائے گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بھی نہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : مجھے بھی نہیں البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ذریعے مجھے ڈھانپ لیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ تم میں سے کسی ایک کو اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کروائے گا ، حاضرین میں سے کسی نے دریافت کیا : آپ کو بھی نہیں ؟...... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ان روایات کی اسانید میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، ان روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18431

Majma al-Zawaid #18431

وَعَنْ شَرِيكِ بْنِ طَارِقٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِعَمَلٍ "". قَالُوا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّهِ؟! قَالَ: "" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sharīk ibn Ṭāriq, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said none of you shall enter Paradise by deeds. Asked, not even you, he said not even he, unless Allāh enfolds him in mercy and bounty from Him. > **"None shall enter Paradise by deeds, not even I unless Allāh enfolds me in mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شریک بن طارق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ایک عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بھی نہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی نہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت اور فضل کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے حوالے سے نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18432

Majma al-Zawaid #18432

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا مِنْ أَحَدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِعَمَلِهِ "". قُلْنَا: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولُ اللَّهِ؟! قَالَ: وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِرَحْمَةٍ مِنْهُ "". وَوَضَعَ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ الْأَسَدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Usāmah ibn Sharīk, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say none enters Paradise by his deeds. Asked, not even you, he said not even he, unless Allāh enfolds him in mercy from Him, placing his hand upon his head. > **"None enters Paradise by deeds, not even I unless Allāh enfolds me in mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کوئی شخص اپنے عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گا ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بھی نہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی نہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ذریعے مجھے ڈھانپ لیا ہے ( یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے ) نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اپنے سر مبارک پر رکھ لیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مفضل بن صالح اسدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18433

Majma al-Zawaid #18433

وَعَنْ أَسَدِ بْنِ كُرْزٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَا أَسَدُ بْنَ كُرْزٍ، لَا تَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِعَمَلٍ، وَلَكِنْ بِرَحْمَةِ اللَّهِ "". قَالَ: وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! قَالَ: "" وَلَا أَنَا، إِلَّا أَنْ يَتَلَاقَنِي اللَّهُ - أَوْ يَتَغَمَّدَنِي - اللَّهُ مِنْهُ بِرَحْمَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Asad ibn Kurz, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said, O Asad ibn Kurz, you shall not enter Paradise by deeds but by Allāh's mercy. Asked, not even you, he said not even he, unless Allāh meets him with mercy from Him. > **"You shall not enter Paradise by deeds but by Allāh's mercy, nor I unless He enfolds me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسد بن کرز رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اسد بن کرز ! تم عمل کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہو گے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ( جنت میں داخل ہو گے ) انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ بھی نہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی نہیں ، البتہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنی رحمت کے ذریعے ڈھانپ لیا ہے ‘‘ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18434

Majma al-Zawaid #18434

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يُخْرَجُ لِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَةُ دَوَاوِينَ: دِيوَانٌ فِيهِ الْعَمَلُ الصَّالِحُ، وَدِيوَانٌ فِيهِ ذُنُوبُهُ، وَدِيوَانٌ فِيهِ النِّعَمُ مِنَ اللَّهِ عَلَيْهِ. فَيَقُولُ اللَّهُ لِأَصْغَرِ نِعْمَةٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - فِي دِيوَانِ النِّعَمِ: خُذِي ثَمَنَكِ مِنْ عَمَلِهِ الصَّالِحِ، فَتَسْتَوْعِبُ عَمَلَهُ الصَّالِحَ، ثُمَّ تَنَحَّى وَتَقُولُ: وَعَزَّتِكَ مَا اسْتَوْفَيْتُ، وَتَبْقَى الذُّنُوبُ وَالنِّعَمُ، وَقَدْ ذَهَبَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ كُلُّهُ، فَإِذَا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَرْحَمَ عَبْدًا قَالَ: يَا عَبْدُ، قَدْ ضَاعَفْتُ حَسَنَاتِكَ، وَتَجَاوَزْتُ عَنْ سَيِّئَاتِكَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - وَوَهَبْتُ لَكَ نِعَمِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحٌ الْمُرِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that three registers will be produced for man on the Day of Resurrection: righteous deeds, sins, and Allāh's blessings upon him. Allāh will tell the least blessing in its register to take its price from his righteous deeds, and it will consume them all, then withdraw saying, by Your might, I am unsatisfied, with sins and blessings remaining and all righteous deeds gone. When Allāh wills mercy upon a servant He will say, O servant, I have multiplied your good deeds, overlooked your sins, and gifted you My blessings. > **"The least blessing will consume all righteous deeds, then He gifts His blessings to whom He mercies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن ابن آدم کے لیے تین دیوان لائے جائیں گے ، ایک دیوان میں نیک عمل ہو گا ، ایک دیوان میں اس کے گناہ ہوں گے ، ایک دیوان میں اس پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا ذکر ہو گا ، اللہ تعالیٰ اپنی سب سے چھوٹی نعمت سے یہ فرمائے گا : ( راوی کہتے ہیں میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) نعمتوں والے دیوان میں ( موجود سب سے چھوٹی نعمتوں سے یہ فرمائے گا : ) تم اس کے نیک اعمال میں سے اپنی قیمت وصول کر لو ! تو وہ نعمت اس شخص کے سارے نیک عمل کو حاصل کر لے گی ، پھر وہ پیچھے ہٹے گی اور یہ کہے گی : تیری عزت کی قسم ! میں نے پوری وصولی نہیں کی ، پھر اس شخص کے گناہ اور نعمتیں باقی رہ جائیں گے ، کیونکہ اس کا نیک عمل تو سارا رخصت ہو چکا ہو گا ، جب اللہ تعالیٰ بندے پر رحم کرنے کا ارادہ کرے گا تو فرمائے گا : اے میرے بندے ! اللہ تعالیٰ نے تیری نیکیوں کو کئی گنا کر دیا ہے اور اس نے تیرے گناہوں سے درگزر کیا ہے ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) اور میں نے اپنی نعمتیں تمہیں ہبہ کر دی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18435

Majma al-Zawaid #18435

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْحَبَشَةِ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فُضِّلْتُمْ عَلَيْنَا بِالْأَلْوَانِ وَالنُّبُوَّةِ، أَفَرَأَيْتَ إِنْ آمَنْتُ بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ، وَعَمِلْتُ بِمِثْلِ مَا عَمِلْتَ بِهِ، إِنِّي لَكَائِنٌ مَعَكَ فِي الْجَنَّةِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَعَمْ "". ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ كَانَ لَهُ بِهَا عَهْدٌ عِنْدَ اللَّهِ، وَمَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِائَةَ حَسَنَةٍ "". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَهْلِكُ بَعْدَ هَذَا؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِعَمَلٍ، لَوْ وُضِعَ عَلَى جَبَلٍ لَأَثْقَلَهُ، فَتَقُومُ النِّعْمَةُ مِنْ نِعَمِ اللَّهِ فَتَكَادُ تَسْتَنْفِذُ ذَلِكَ كُلَّهُ لَوْلَا مَا يَتَفَضَّلُ اللَّهُ مِنْ رَحْمَتِهِ "". ثُمَّ نَزَلَتْ: "" {هَلْ أَتَى عَلَى الْإِنْسَانِ حِينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئًا مَذْكُورًا} [الإنسان: 1] "" إِلَى قَوْلِهِ: "" وَإِذَا {رَأَيْتَ ثَمَّ رَأَيْتَ نَعِيمًا وَمُلْكًا كَبِيرًا} [الإنسان: 20] "". فَقَالَ الْحَبَشِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلْ تَرَى عَيْنِي فِي الْجَنَّةِ مِثْلَ مَا تَرَى عَيْنُكَ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" نَعَمْ "". فَبَكَى الْحَبَشِيُّ حَتَّى فَاضَتْ نَفْسُهُ. قَالَ ابْنُ عُمَرَ: فَأَنَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُدَلِّيهِ فِي حُفْرَتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ عُتْبَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, reported that an Abyssinian man came to the Prophet ﷺ and said, O Messenger of Allāh, you are favoured over us by colour and prophethood; if I believe and act as you, shall I be with you in Paradise? The Prophet ﷺ said yes. Then he said whoever says Lā ilāha illā Allāh has a covenant with Allāh, and whoever says glory to Allāh has a hundred good deeds written. They asked how can we perish after this, and the Prophet ﷺ said by Him in Whose Hand is his soul a man will come on the Day of Resurrection with deeds that would weigh a mountain, yet a blessing's due will consume them, then sins remain. > **"Whoever says Lā ilāha illā Allāh has a covenant, yet a blessing's due may consume mountain-like deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حبشہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ لوگوں کو رنگت اور نبوت کے حوالے سے ہم پر فضیلت دی گئی ہے ، اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ کہ اگر میں اسی طرح ایمان لے آتا ہوں ، جس طرح آپ لوگ ایمان لائے ہیں اور اس طرح عمل کرتا ہوں ، جس طرح آپ عمل کرتے ہیں ، تو کیا میں جنت میں آپ کے ساتھ ہوؤں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو شخص لا الہ لا اللہ پڑھے گا تو اس کی وجہ سے اس کے لیے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک عہد ہو گا اور جو شخص سبحان اللہ پڑھے گا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک لاکھ نیکیاں نوٹ کرے گا ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے بعد ہم کیسے ہلاکت کا شکار ہو سکتے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، قیامت کے دن ایک شخص ایسا عمل لے کر آئے گا کہ اگر اسے پہاڑ پر رکھ دیا جائے تو وہ اس کو بھی بوجھل محسوس ہو ، پھر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت کھڑی ہو گی اور تقریباً اس سارے عمل کو ختم کر دے گی ، اگر اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کا فضل اس پر نہ کیا ، پھر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ کیا انسان پر ایسا زمانہ نہیں آیا جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہیں تھا ......‘‘۔ یہ آیت یہاں تک ہے :’’ اور جب تم ادھر دیکھو گے تو تم نعمتیں اور بڑی بادشاہی دیکھو گے ۔‘‘ اس حبشی شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا جنت میں میری آنکھیں بھی اس طرح دیکھیں گی ؟ جس طرح آپ کی آنکھیں دیکھیں گی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! وہ حبشی شخص رونے لگا ، یہاں تک کہ اس کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے خود سے قبر میں اتارا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن عتبہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔

18436

Majma al-Zawaid #18436

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَبْعَثُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَبْدًا لَا ذَنْبَ لَهُ فَيَقُولُ اللَّهُ: بِأَيِّ الْأَمْرَيْنِ أَحَبَّ إِلَيْكَ أَنْ أَجْزِيَكَ، بِعَمَلِكَ أَمْ بِنِعْمَتِي عِنْدَكَ؟ قَالَ: يَا رَبِّ، إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنِّي لَمْ أَعْصِكَ، قَالَ: خُذُوا عَبْدِي بِنِعْمَةٍ مِنْ نِعَمِي، فَمَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ إِلَّا اسْتَغْرَقَتْهَا تِلْكَ النِّعْمَةُ، فَيَقُولُ: رَبِّ، بِنِعْمَتِكَ وَرَحْمَتِكَ، فَيَقُولُ: بِنِعْمَتِي وَرَحْمَتِي». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْحِسَابِ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ, may Allāh be pleased with him, reported from the Messenger of Allāh ﷺ that Allāh will raise a servant without sin and Allāh will say whether he prefers requital by his deeds or by the blessing with him. He will say, my Lord, You know I never disobeyed You, so a blessing will be taken and consume every good deed, until he pleads, my Lord, by Your blessing and mercy, and He will say, by My blessing and mercy. > **"Shall I requite you by your deeds or by My blessing? By My blessing and mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ایک بندے کو اُٹھائے گا ، جس کا کوئی گناہ نہیں ہو گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : دونوں میں سے کون سی صورت تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ میں تمہارے عمل کے حساب سے تمہیں جزا دیدوں ؟ یا جو میری نعمت تمہیں ملی تھی ( اس کے حوالے سے حساب لوں ؟ ) وہ بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو یہ جانتا ہے کہ میں نے کبھی تیری نافرمانی نہیں کی ، پروردگار فرمائے گا : میرے بندے کو میری نعمتوں میں سے ایک نعمت کے عوض میں پکڑ لو ! تو اس کی ہر ایک نیکی کو وہ نعمت حاصل کر لے گی ، وہ بندہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! اپنی نعمت اور اپنی رحمت ( کے وسیلے سے مجھے معاف کر دے ! ) تو پروردگار فرمائے گا : میری نعمت اور میری رحمت ( کی بدولت تمہیں نجات ملتی ہے ) ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو اس سے پہلے حساب سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

18437

Majma al-Zawaid #18437

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا فِي السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ مَوْضِعُ قَدَمٍ، وَلَا شِبْرٌ، وَلَا كَفٌّ إِلَّا وَفِيهِ مَلَكٌ قَائِمٌ، وَمَلَكٌ رَاكِعٌ، أَوْ مَلَكٌ سَاجِدٌ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ قَالُوا جَمِيعًا: سُبْحَانَكَ مَا عَبَدْنَاكَ حَقَّ عِبَادَتِكَ، إِلَّا أَنَّا لَمْ نُشْرِكْ بِكَ شَيْئًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُرْوَةُ بْنُ مَرْوَانَ. قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَيْسَ بِقَوِيٍّ فِي الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said in the seven heavens there is no foot's place, span, or palm but an angel standing, bowing, or prostrating therein, and on the Day of Resurrection they will all say, glory to You, we worshipped You not as due, though we associated nothing with You. > **"Glory to You, we worshipped You not as due, though we associated nothing with You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ سات آسمانوں میں ایک قدم یا ایک بالشت یا ایک ہتھیلی جتنی جگہ ( بھی خالی نہیں ہے ، ہر جگہ پر ) کوئی فرشتہ قیام کی حالت میں ہے ، کوئی فرشتہ رکوع کی حالت میں ہے ، یا کوئی فرشتہ سجدے کی حالت میں ہے ، جب قیامت کا دن ہو گا تو وہ سب یہ کہیں گے : تو ہر عیب سے پاک ہے ، ہم نے تیری ویسے عبادت نہیں کی ، جو تیری عبادت کا حق تھا البتہ یہ ہے کہ ہم کسی کو تیرا شریک قرار نہیں دیتے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عروہ بن مروان ہے ، امام دارقطنی کہتے ہیں : یہ حدیث میں قوی نہیں ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18438

Majma al-Zawaid #18438

وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوْ أَنَّ رَجُلًا يَخِرُّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمِ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ هَرِمًا فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ تَعَالَى لَحَقَرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ فِي حَقِّ اللَّهِ تَعَالَى عَلَى الْعِبَادِ.

EnglishUnverified translation

ʿUtbah ibn ʿAbd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said were a man to fall upon his face from birth until aged death in Allāh's pleasure, he would deem it little on the Day of Resurrection. > **"Were a man prostrate from birth to aged death, he would deem it little that Day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عتبہ بن عبد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر کوئی شخص اپنی پیدائش کے دن سے لے کر ، بڑھاپے کے عالم میں مرنے کے دن تک اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے حصول کے لیے چہرے کے بل گر جائے ( شاید یہ مراد ہے کہ سجدے میں رہے ) تو قیامت کے دن وہ اس عمل کو بھی حقیر سمجھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ مدلس ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اس سے پہلے کتاب الایمان میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کے حقوق سے متعلق باب میں یہ روایت گزر چکی ہے ۔

18439

Majma al-Zawaid #18439

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنْ شِئْتُمْ أَنْبَأْتُكُمْ بِأَوَّلِ مَا يَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَبِأَوَّلِ مَا يَقُولُونَ؟ "". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ لِلْمُؤْمِنِينَ: هَلْ أَحْبَبْتُمْ لِقَائِي؟ فَيَقُولُونَ: نَعَمْ. يَا رَبَّنَا، فَيَقُولُ: لِمَ؟ فَيَقُولُونَ: رَجَوْنَا رَحْمَتَكَ وَعَفْوَكَ. فَيَقُولُ: فَقَدْ وَجَبَتْ لَكُمْ رَحْمَتِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِسَنَدَيْنِ أَحَدُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said shall he tell them the first words of Allāh to the believers on the Day of Resurrection and their first reply. They said yes, and he said Allāh will say to the believers, did you love meeting Me, and they will say yes our Lord. He will ask why, and they will say hoping His mercy and pardon, so He will say My mercy is now due to you. > **"Did you love meeting Me? My mercy is now due to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم لوگ چاہو تو میں تمہیں یہ بتا دیتا ہوں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سب سے پہلے کیا فرمائے گا ؟ اور وہ ( یعنی اہل ایمان ) سب سے پہلے کیا کہیں گے ؟ لوگوں نے کہا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ مومنین سے یہ فرمائے گا : کیا تم میری بارگاہ میں حاضر ہونا چاہتے تھے ؟ وہ لوگ جواب دیں گے : جی ہاں ! اے ہمارے پروردگار ! پروردگار فرمائے گا : کیوں ؟ وہ لوگ کہیں گے : ہمیں تیری رحمت اور تیری معافی کی امید تھی ، تو پروردگار فرمائے گا : میری رحمت تمہارے لئے واجب ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند حسن ہے ۔

18440

Majma al-Zawaid #18440

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ يَذْكُرُ الْحَبِيبُ حَبِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: "" يَا عَائِشَةُ، أَمَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ فَلَا: أَمَّا عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَثْقُلَ أَوْ يَخِفَّ فَلَا، وَأَمَّا عِنْدَ تَطَايُرِ الْكُتُبِ، فَإِمَّا أَنْ يُعْطَى بِيَمِينِهِ أَوْ يُعْطَى بِشِمَالِهِ فَلَا، وَحِينَ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَنْغَبِطُ عَلَيْهِمْ، وَيَقُولُ ذَلِكَ الْعُنُقُ: وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ، وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ: وُكِّلْتُ بِمَنِ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ، وَوُكِّلْتُ بِمَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ، وَوُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ، فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَطْرَحُهُمْ فِي غَمَرَاتِ جَهَنَّمَ، وَلِجَهَنَّمَ جِسْرٌ أَرَقُّ مِنَ الشَّعْرَةِ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ، عَلَيْهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ، تَأْخُذُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ، وَالنَّاسُ عَلَيْهِ كَالطَّرْفِ، وَكَالْبَرْقِ، وَكَالرِّيحِ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ، وَالرِّكَابِ، وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ: رَبِّ، سَلِّمْ! سَلِّمْ! فَتَمُوجُ: فَسَالِمٌ، وَمَخْدُوشٌ سَلِمَ، وَمُكَوَّرٌ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ». قُلْتُ: عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah, may Allāh be pleased with her, reported that she asked, O Messenger of Allāh, will a lover remember his beloved on the Day of Resurrection, and he said, O ʿĀʾishah, not at three: at the Balance until heavy or light, at the scattering of books to right or left, and when a neck emerges from the Fire enfolding people and proclaiming it is entrusted with three, entrusted with whoever claimed another god with Allāh, whoever disbelieved in the Day of Reckoning, and every obstinate tyrant, then casting them into Hell's depths. For Hell has a bridge thinner than a hair and sharper than a sword, with hooks and thorns seizing whom Allāh wills, while people cross like a glance, lightning, wind, and fine horses and mounts, and the angels say, Lord, grant safety, so some emerge sound, some scratched yet safe, and some rolled into Fire upon their faces. > **"None remembers his beloved at the Balance, at the scattering of books, and when the neck emerges from the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن کوئی حبیب ، اپنے حبیب کو یاد رکھے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! جہاں تک تین مقامات کا تعلق ہے تو ( وہاں ) نہیں ، میزان کے پاس جب تک وہ بوجھل یا ہلکا نہیں ہو جاتا تو وہاں نہیں ، جب نامہ اعمال دیے جائیں گے ، جو یا دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا یا بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ، تو وہاں نہیں ، اور جب جہنم میں سے ایک گردن نکلے گی ، وہ گردن یہ کہے گی : مجھے تین افراد کے لئے مقرر کیا گیا ہے ، مجھے تین افراد کے لئے مقرر کیا گیا ہے ، مجھے اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کی عبادت کرتا تھا ، مجھے اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے جو یوم حساب پر ایمان نہیں رکھتا تھا ، اور مجھے ہر ظالم سرکش کے لئے مقرر کیا گیا ہے ، پھر وہ انہیں لپیٹ میں لے گی اور انہیں جہنم کی گہرائی میں ڈال دے گی ، جہنم پر ایک پل ہو گا جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہو گا ، اس پر آنکڑے اور کنڈے ہوں گے جس کے بارے میں اللہ کو منظور ہو گا وہ اسے پکڑ لیں گے ، کچھ لوگ اس پل پر سے یوں گزریں گے جیسے پلک جھپکنا ہوتا ہے ، جیسے بجلی ہوتی ہے ، جیسے ہوا ہوتی ہے ، جیسے تربیت یافتہ گھوڑا ہوتا ہے ، جیسے سوار ہوتا ہے ( یعنی وہ لوگ مختلف قسم کی رفتار سے گزریں گے ) فرشتے یہ کہہ رہے ہوں گے : اے پروردگار ! سلامتی عطا کرنا ، اے پروردگار ! سلامتی عطا کرنا ، تو متوج سلامت رہے گا ، مخدوش سلامت رہے گا ، مکور چہرے کے بل جہنم میں جائے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18441

Majma al-Zawaid #18441

وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يُحْمَلُ النَّاسُ عَلَى الصِّرَاطِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَتَتَقَادَعُ بِهِمْ جَنَبَتَا الصِّرَاطِ تَقَادُعَ الْفَرَاشِ فِي النَّارِ، فَيُنَجِّي اللَّهُ تَعَالَى بِرَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ "". قَالَ: "" ثُمَّ يُؤْذَنُ لِلْمَلَائِكَةِ، وَالنَّبِيِّينَ، وَالشُّهَدَاءِ أَنْ يَشْفَعُوا فَيَشْفَعُونَ، وَيُخْرِجُونَ فَيَشْفَعُونَ، وَيُخْرِجُونَ. زَادَ عَفَّانُ مَرَّةً: - وَيَشْفَعُونَ وَيُخْرِجُونَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مَا يَزِنُ ذَرَّةً مِنْ إِيمَانٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ أَيْضًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakrah, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that people will be carried upon the Bridge on the Day of Resurrection, its sides tossing them as moths in fire, and Allāh by His mercy will save whom He wills. Then angels, prophets, and martyrs will be permitted to intercede, interceding and bringing out, interceding and bringing out, even whoever has an atom's weight of faith in his heart. > **"Its sides will toss them as moths, then intercessors will bring out even an atom of faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن لوگوں کو پل صراط پر لایا جائے گا اور اس پل کے دونوں پہلو ان لوگوں کو نیچے گرائیں گے جس طرح پتنگے آگ میں گرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ جس کے بارے میں چاہے گا اپنی رحمت کے وسیلے سے اسے نجات عطا کر دے گا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : پھر فرشتوں کو ، انبیاء کو ، شہداء کو شفاعت کرنے کی اجازت دی جائے گی وہ شفاعت کریں گے اور ( لوگوں کو جہنم سے ( نکالیں گے ، وہ شفاعت کریں گے اور ( لوگوں کو جہنم سے ) نکالیں گے ۔‘‘ ایک مرتبہ عفان نامی راوی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے :’’ وہ شفاعت کریں گے ( اور ایسے لوگوں کو جہنم سے ) نکالیں گے ، جن کے دل میں اتنا ایمان ہو ، جو ذرے کے وزن جتنا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ اس سے پہلے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت گزر چکی ہے ۔

18442

Majma al-Zawaid #18442

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «شِعَارُ أُمَّتِي إِذَا رَكِبُوا عَلَى الصِّرَاطِ: يَا لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَعُبْدُوسُ بْنُ مُحَمَّدٍ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with them, reported from the Messenger of Allāh ﷺ that his nation's cry when mounted upon the Bridge will be, O there is no god but You. > **"The cry of my nation upon the Bridge will be: O there is no god but You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب انہیں پل صراط پر لایا جائے گا تو میری امت کا شعار ( یعنی مخصوص نعرہ ، یا مخصوص کلمات ) ہو گا : اے وہ ذات ! کہ تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی عبدوس بن محمد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہیں ۔

18443

Majma al-Zawaid #18443

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَدْعُو النَّاسَ [يَوْمَ الْقِيَامَةِ] بِأَسْمَائِهِمْ سَتْرًا مِنْهُ عَلَى عِبَادِهِ، وَأَمَّا عِنْدَ الصِّرَاطِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي كُلَّ مُؤْمِنٍ نُورًا [وَكُلَّ مَؤْمِنَةٍ نُورًا]، وَكُلَّ مُنَافِقٍ نُورًا، فَإِذَا اسْتَوَوْا عَلَى الصِّرَاطِ سَلَبَ اللَّهُ نُورَ الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ، فَقَالَ الْمُنَافِقُونَ: {انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ} [الحديد: 13]، وَقَالَ الْمُؤْمِنُونَ: {رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا} [التحريم: 8]، فَلَا يَذْكُرُ عِنْدَ ذَلِكَ أَحَدٌ أَحَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ بِشْرٍ: أَبُو حُذَيْفَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh will call people on the Day of Resurrection by their names, veiling His servants, but at the Bridge He will grant every believing man and woman a light, and every hypocrite a light. When levelled upon the Bridge, Allāh will strip the hypocrites' light, so they will say, wait for us to borrow from your light, while believers say, our Lord, perfect our light, and none shall remember another then. > **"Each believer is given a light, then the hypocrites' light is stripped at the Bridge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے ناموں کے حوالے سے بلائے گا اور یہ اس کی طرف سے اپنے بندوں کے لئے پردے کے ساتھ ہو گا لیکن جہاں تک پل صراط کے پاس کا معاملہ ہے تو وہاں اللہ تعالیٰ ہر مومن مرد کو نور عطا کرے گا اور ہر مومن عورت کو نور عطا کرے گا اور ہر منافق کو نور عطا کرے گا ، لیکن جب وہ لوگ پل صراط پر آ جائیں گے تو اللہ تعالی منافق مردوں اور منافق عورتوں کا نور سلب کر لے گا ، تو منافقین یہ کہیں گے : ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ’’ ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نور میں سے کچھ حاصل کر لیں ۔‘‘ تو مومنین یہ کہیں گے : ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ’’ اے ہمارے پروردگار ! تو ہمارے لئے ہمارے نور کو مکمل کر دے ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) تو اس وقت کوئی کسی کا ذکر نہیں کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن بشر ابوحذیفہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

18444

Majma al-Zawaid #18444

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «يُوضَعُ الصِّرَاطُ عَلَى سَوَاءِ جَهَنَّمَ مِثْلَ حَدِّ السَّيْفِ الرَّهِفِ، مَدْحَضَةٌ مَزِلَّةٌ، عَلَيْهِ كَلَالِيبُ مِنْ نَارٍ تَخْطَفُ بِهَا، فَمُمْسَكٌ يَهْوِي فِيهَا، وَمَصْرُوعٌ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالْبَرْقِ فَلَا يَنْشَبُ ذَلِكَ أَنْ يَنْجُوَ، ثُمَّ كَالرِّيحِ فَلَا يَنْشَبُ ذَلِكَ أَنْ يَنْجُوَ، ثُمَّ كَجَرْيِ الْفَرَسِ، ثُمَّ كَسَعْيِ الرَّجُلِ، ثُمَّ كَرَمَلِ الرَّجُلِ، ثُمَّ كَمَشْيِ الرَّجُلِ، ثُمَّ يَكُونُ آخِرَهُمْ إِنْسَانًا رَجُلٌ قَدْ تُوجِبُهُ النَّارُ، وَلَقِيَ فِيهَا شَرًّا حَتَّى يُدْخِلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ وَسَلْ. فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَتَهْزَأُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ؟! فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ وَسَلْ. حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتْ مِنْهُ الْأَمَانِيُّ قَالَ: لَكَ مَا سَأَلْتَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ».

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, said the Bridge will be laid level over Hell like a sharp sword's edge, slippery and sliding, with hooks of fire snatching thereby. Some will be seized falling therein, some struck down, some passing like lightning to safety, then like wind, then a horse's run, a man's run, a man's trot, and a man's walk. The last will be a man whom Fire has earned and met with evil, until Allāh admits him to Paradise by mercy. Told to wish and ask, he will say, my Lord, do You mock me while Lord of might, and be told again to wish and ask, until his wishes end and he is told, yours is what you asked and its like with it. > **"Some will pass like lightning, like wind, like a horse's run, until the last is told: yours is what you asked and its like."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ پل صراط کو جہنم کے اوپر رکھا جائے گا جو تلوار کی دھار سے زیادہ باریک اور تیز ہو گا ، پرے کرنے والا اور پھسلانے والا ہو گا ، اس پر آگ کے بنے ہوئے آنکڑے ہوں گے جو اچک لیں گے ، تو پکڑنے والا اس میں گرے گا اور پچھاڑا گیا ہو گا ، ان میں سے کوئی برق کی مانند گزرے گا ، پھر جیسے ہوا ہوتی ہے ، پھر گھوڑے کے دوڑنے کی مانند ، پھر آدمی کے دوڑنے کی مانند ، پھر آدمی کے تیزی سے چلنے کی مانند ، پھر آدمی کے چلنے کی مانند ، پھر ان کے آخر میں ایسا انسان ہو گا جس پر جہنم واجب ہو چکی ہو گی ، وہ جہنم میں بری صورتحال کا سامنا کر چکا ہو گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے فضل کے ذریعے اسے جنت میں داخل کر دے گا تو اُسے کہا جائے گا : تم آرزو کرو اور مانگو ! وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! کیا تو میرا مذاق اڑا رہا ہے ؟ جبکہ تو رب العزت ہے ، تو اسے کہا جائے گا : تم آرزو کرو اور مانگو ! ( وہ شخص مانگنا شروع کرے گا ) یہاں تک کہ جب اس کی تمام آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو اُس سے کہا جائے گا : تم نے جو مانگا وہ تمہیں ملتا ہے اور اس کے ہمراہ اس کی مانند مزید ملتا ہے ۔‘‘

18445

Majma al-Zawaid #18445

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ. قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ أَحَادِيثُ غَيْرُ هَذَا مَرْفُوعَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah, may Allāh be pleased with him, added, and ten times its like with it. > **"And ten times its like with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اس کے ہمراہ اس کی مانند مزید دس گنا ملتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ احادیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہیں ، جو اس کے علاوہ ہیں اور مرفوع ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عاصم کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18446

Majma al-Zawaid #18446

وَعَنْ يَعْلَى بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «تَقُولُ النَّارُ لِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: جُزْ يَا مُؤْمِنُ، فَقَدْ أَطْفَأَ نُورُكَ لَهَبِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سُلَيْمُ بْنُ مَنْصُورِ بْنِ عَمَّارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Yaʿlā ibn Munabbih, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that the Fire will say to the believers on the Day of Resurrection, pass O believer, for your light has quenched my flame. > **"Pass O believer, for your light has quenched my flame."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یعلیٰ بن منبہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن آگ ( یا جہنم ) مومن سے یہ کہے گی : اے مومن ! تم گزر جاؤ ! کیونکہ تمہارا نور میرے شعلوں کو بجھا دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیم بن منصور بن عمار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18447

Majma al-Zawaid #18447

وَعَنْ أَبِي سُمَيْنَةَ قَالَ: «اخْتَلَفْنَا هَهُنَا فِي الْوُرُودِ، فَقَالَ بَعْضُنَا: لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا، فَلَقِيتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ. فَقُلْتُ: إِنَّا اخْتَلَفْنَا هَهُنَا فِي ذَلِكَ، فَقَالَ بَعْضُنَا: لَا يَدْخُلُهَا مُؤْمِنٌ، وَقَالَ بَعْضُنَا: يَدْخُلُونَهَا جَمِيعًا؟ فَأَهْوَى بِإِصْبُعَيْهِ إِلَى أُذُنَيْهِ، وَقَالَ: صَمْتًا إِنْ لَمْ أَكُنْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْوُرُودُ الدُّخُولُ، لَا يَبْقَى بَرٌّ وَلَا فَاجِرٌ إِلَّا دَخَلَهَا، فَتَكُونُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ بَرْدًا وَسَلَامًا كَمَا كَانَتْ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، حَتَّى إِنَّ لِلنَّارِ - أَوْ قَالَ: لِجَهَنَّمَ - ضَجِيجًا مِنْ بَرْدِهِمْ، ثُمَّ يُنَجِّي اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا، وَيَذَرُ الظَّالِمِينَ». قُلْتُ لِجَابِرٍ: حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ مَوْقُوفٌ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Sumaynah reported that they disputed here over the passing, some saying no believer enters it, others saying all enter then Allāh saves the God-fearing. So he met Jābir ibn ʿAbdullāh, may Allāh be pleased with them, who pointed to his ears and swore deafness if he had not heard the Messenger of Allāh ﷺ say the passing is the entering: none righteous or wicked but shall enter it, and it will be coolness and safety upon believers as it was upon Ibrāhīm, peace be upon him, until the Fire clamours from their coolness, then Allāh saves the God-fearing and leaves the wrongdoers therein. > **"The passing is the entering; it will be coolness and safety upon the believers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوسمینہ بیان کرتے ہیں : ہمارے درمیان ’’ ورود ‘‘ کے بارے میں اختلاف ہو گیا ، ہم میں سے کچھ کا یہ کہنا تھا کہ مومن جہنم میں داخل نہیں ہو گا اور کچھ کا یہ کہنا تھا ( کافر اور مومن ) سب اس میں داخل ہوں گے ، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگار لوگوں کو نجات عطا کر دے گا راوی کہتے ہیں : میری ملاقات حضرت جابر رضی اللہ عنہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے کہا : ہمارے درمیان ’’ ورود ‘‘ کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے ، انہوں نے فرمایا : سب لوگ اس پر وارد ہوں گے ، میں نے ان سے کہا : ہمارے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے ، ہم میں سے کچھ کا یہ کہنا ہے : مومن اس میں داخل نہیں ہو گا اور کچھ کا یہ کہنا ہے : ( کافر اور مومن ) سب اس میں داخل ہوں گے ، تو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اپنی دو انگلیاں اپنے دونوں کانوں کی طرف بڑھائیں اور فرمایا : یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو : ’’ ورود ‘‘ سے مراد داخل ہونا ہے ، ہر نیک اور گناہ گار شخص اس میں داخل ہو گا ، لیکن وہ اہل ایمان کے لیے ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو گی ، جس طرح وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لیے ( ٹھنڈک و سلامتی والی ) ہوئی تھی ، یہاں تک کہ ان ( اہل ایمان ) کی ٹھنڈک کی وجہ سے آگ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جہنم کی گونج ہو گی ، پھر اللہ تعالیٰ پرہیزگار لوگوں کو نجات عطا کر دے گا اور ظالموں کو اس میں گھٹنوں کے بل چھوڑ دے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے جو ’’ موقوف ‘‘ ہے اور اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18448

Majma al-Zawaid #18448

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّمَا حَرُّ جَهَنَّمَ عَلَى أُمَّتِي كَحَرِّ الْحَمَّامِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Hell's heat upon his nation is but like a bathhouse's heat. > **"Hell's heat upon my nation is but like a bathhouse's heat."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے لیے جہنم کی تپش یوں ہو گی ، جیسے حمام کی تپش ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

18449

Majma al-Zawaid #18449

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَيَأْتِيَنَّ عَلَى جَهَنَّمَ يَوْمٌ كَأَنَّهَا زَرْعٌ هَاجَ وَاحْمَرَّ، تَخْفِقُ أَبْوَابُهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said there shall surely come upon Hell a day when it is as withered reddened crops, its gates clattering. > **"There shall come upon Hell a day when it is as withered reddened crops."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جہنم پر ایک ایسا دن آئے گا جب وہ کھیتی کی طرح ہو گی ، وہ حرکت کرے گی اور سرخ ہو گی اور اس کے دروازے بج رہے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18450

Majma al-Zawaid #18450

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" قَدْ أُعْطِيتُ الْكَوْثَرَ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الْكَوْثَرُ؟ قَالَ: "" نَهْرٌ فِي الْجَنَّةِ عَرْضُهُ وَطُولُهُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ، لَا يَشْرَبُ مِنْهُ أَحَدٌ فَيَظْمَأُ، وَلَا يَتَوَضَّأُ مِنْهُ أَحَدٌ فَيَشْعَثُ، لَا يَشْرَبُهُ مَنْ أَخَفَرَ ذِمَّتِي وَلَا قَتَلَ أَهْلَ بَيْتِي». قُلْتُ: لِأَنَسٍ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي الْكَوْثَرِ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى بْنِ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَعَطِيَّةُ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that he visited the Messenger of Allāh ﷺ, who said he had been given al-Kawthar. Asked what it is, he said a river in Paradise its width and length between east and west, none drinks from it then thirsts, none performs ablution from it then is dishevelled, and none drinks who violated his covenant or killed his Household. > **"I have been given al-Kawthar, a river between east and west denied to covenant-breakers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے ( حوض ) کوثر عطا کر دیا گیا ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کوثر کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت میں ایک نہر ہے جس کی چوڑائی اور لمبائی اتنی ہے جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے ، اس میں سے جو شخص پی لے گا وہ بعد میں کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور اس میں سے جو شخص وضو کر لے گا وہ بعد میں کبھی میلا نہیں ہو گا ، لیکن اسے کوئی ایسا شخص نہیں پیے گا ، جس نے میری دی ہوئی پناہ کے خلاف ورزی کی ہو ، یا میرے اہل بیت کو قتل کیا ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت انس ﷺ کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک حدیث مذکور ہے جو حوض کوثر کے بارے میں ہے ، لیکن اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حماد بن یحیی بن مختار ہے اور وہ مجہول ہے اور ایک راوی عطیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18451

Majma al-Zawaid #18451

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «حَوْضِي مِنْ كَذَا إِلَى كَذَا، فِيهِ مِنَ الْآنِيَةِ عَدَدُ النُّجُومِ، أَطْيَبُ رِيحًا مِنَ الْمِسْكِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said his Basin stretches from one place to another, with vessels as numerous as stars, more fragrant than musk, sweeter than honey, cooler than snow, and whiter than milk; whoever drinks a draught never thirsts again. > **"My Basin has vessels as numerous as stars; whoever drinks never thirsts again."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرا حوض وہاں سے لے کر وہاں تک ہے ، جس کے پاس ستاروں کی تعداد میں برتن ہوں گے ( اس حوض کا مشروب ) مشک سے زیادہ پاکیزہ خوشبو والا ، شہد سے زیادہ میٹھا ، برف سے زیادہ ٹھنڈا اور دودھ سے زیادہ سفید ہو گا ، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ بعد میں کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور جو شخص اس میں سے نہیں پی پائے گا وہ بعد میں کبھی سیراب نہیں ہو گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، ان دونوں کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18452

Majma al-Zawaid #18452

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَوْعِدُكُمْ حَوْضِي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say, O company of Anṣār, your meeting place is my Basin. > **"O company of Anṣār, your meeting place is my Basin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے انصار کے گروہ ! تم سے ملنے کا وعدہ ( یا ملنے کی جگہ ) میرے حوض پر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18453

Majma al-Zawaid #18453

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ لِي نَهْرًا مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ إِلَى أَيْلَةَ، فِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ آنِيَةٌ، وَهُوَ أَبْرَدُ مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، وَأَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ شَرْبَةً لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، وَمَنْ لَمْ يَطْعَمْهُ لَمْ يَرْوَ أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he has a river between Ṣanʿāʾ and Aylah, with vessels as numerous as stars, cooler than snow, sweeter than honey, whiter than milk; whoever drinks a draught never thirsts thereafter, and whoever does not taste it is never quenched. > **"I have a river between Ṣanʿāʾ and Aylah; whoever drinks never thirsts thereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری ایک نہر ہے ( یعنی حوض ہے جو اتنا بڑا ہے ) جتنا ’’ صنعاء ‘‘ اور ’’ ایلہ ‘‘ کے درمیان فاصلہ ہے ، اس میں ستاروں کی تعداد جتنے برتن ہیں ( اس کا مشروب ) برف سے زیادہ ٹھنڈا ہو گا ، شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا ، دودھ سے زیادہ سفید ہو گا ، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا اسے اس کے بعد کبھی پیاس نہیں لگے گی اور جو شخص اس میں سے نہیں پی سکے گا وہ کبھی سیراب نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ متروک ہے ۔

18454

Majma al-Zawaid #18454

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ قَالَ: شَكَّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ فِي الْحَوْضِ، فَأَرْسَلَ إِلَى زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ فَسَأَلَهُ عَنِ الْحَوْضِ، فَحَدَّثَهُ حَدِيثًا مُؤَنَّقًا أَعْجَبَهُ، فَقَالَ لَهُ: سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا. وَلَكِنْ حَدَّثَنِيهِ أَخِي. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: تَقَدَّمَ لِزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ حَدِيثٌ فِي ذِكْرِ الْحَوْضِ فِي كِتَابِ الْعِلْمِ، فِي بَابِ مَنْ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Buraydah reported that ʿAbdullāh ibn Ziyād doubted the Basin, so he sent to Zayd ibn Arqam, may Allāh be pleased with him, asking about it, and he narrated an adorned report that pleased him. Asked whether he heard it from the Messenger of Allāh ﷺ, he said no, but his brother narrated it to him. > **"Zayd ibn Arqam narrated an adorned report on the Basin from his brother."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں : عبید بن زیاد کو حوض کوثر کے بارے میں شک ہوا ، اس نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور ان سے حوض کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے اسے اس کے بارے میں حدیث بیان کی ، جو اس کو اچھی لگی ، اس نے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم ﷺ کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ میرے بھائی نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ ایک حدیث جو حوض کوثر کے تذکرے کے بارے میں ہے ، وہ کتاب العلم میں ، باب نبی اکرم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔

18455

Majma al-Zawaid #18455

وَعَنْ يُحَنِّسَ: «أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِينَةَ تَزَوَّجَ خَوْلَةَ بِنْتَ قَيْسِ بْنِ فَهْدٍ الْأَنْصَارِيَّةَ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزُورُ حَمْزَةَ فِي بَيْتِهَا، وَكَانَتْ تُحَدِّثُ عَنْهُ [- صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -] أَحَادِيثَ، قَالَتْ: فَأَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ بَلَغَنِي عَنْكَ أَنَّكَ تُحَدِّثُ أَنَّ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَوْضًا مَا بَيْنَ كَذَا إِلَى كَذَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ. وَأَحَبُّ النَّاسِ عِنْدِي أَنْ يَرْوَى مِنْهُ قَوْمُكِ "". قَالَ: فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ بُرْمَةً فِيهَا خُبْزَةٌ أَوْ حَرِيزَةٌ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فِي الْبُرْمَةِ لِيَأْكُلَ فَأَحْرَقَتْ أَصَابِعَهُ، فَقَالَ: "" حَسِّ "". ثُمَّ قَالَ: "" ابْنُ آدَمَ إِنْ أَصَابَهُ الْبَرْدُ قَالَ: حَسِّ، وَإِنْ أَصَابَهُ الْحَرُّ قَالَ: حَسِّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَقَالَ: "" وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ - أَوْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ - إِلَيَّ أَنْ يَرِدَهُ "". وَقَالَ فِيهِ: فَقَدَّمْتُ إِلَيْهِ عَصِيدَةً. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Yuḥannis reported that Ḥamzah ibn ʿAbd al-Muṭṭalib, may Allāh be pleased with him, upon reaching Madīnah married Khawlah bint Qays ibn Fahd al-Anṣāriyyah of Banū al-Najjār, and the Messenger of Allāh ﷺ would visit Ḥamzah in her house, while she narrated reports from him ﷺ. She said the Messenger of Allāh ﷺ came to them and she asked whether he spoke of a Basin on the Day of Resurrection spanning such and such, and he said yes, with her people most beloved to him to drink from it. She then offered a pot with bread or porridge, and when the Messenger of Allāh ﷺ put his hand in to eat his fingers were burnt, so he said ḥass, then said man when struck by cold says ḥass, and when struck by heat says ḥass. > **"Yes, I have a Basin, and most beloved to drink from it are your people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحنس بیان کرتے ہیں : حضرت حمزه بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو انہوں نے سیدہ خولہ بنت قیس بن فہد انصاریہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی ، جو بنو نجار سے تعلق رکھتی تھیں ، نبی اکرم ﷺ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے گھر ان سے ملنے کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے ، تو اس خاتون نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے احادیث روایت کی ہیں ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے بارے میں مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ آپ نے یہ بات بیان کی ہے : قیامت کے دن آپ کا ایک حوض ہو گا جو فلاں جگہ سے لے کر فلاں جگہ جتنا بڑا ہو گا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اور میرے نزدیک اس میں سے سیراب ہونے کے حوالے سے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہے ۔ وہ خاتون بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ایک ہنڈیا پیش کی ، جس میں خبزہ یا خزیرہ نامی سالن تھا ۔ یہ شک راوی کو ہے ۔ نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک ہنڈیا پر رکھا تاکہ کھائیں ، تو آپ کی انگلیاں جل گئیں ، آپ نے فرمایا : اوہ ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : انسان کو جب کوئی چیز ٹھنڈی لگتی ہے تو وہ پھر بھی وہ کہتا ہے ’’ اوہ ‘‘ جب اسے گرم چیز لگتی ہے تو پھر بھی وہ ” اوہ ‘‘ کہتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اسے امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : آپ نے فرمایا : ’’ میرے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب ۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : اس پر وارد ہونے کے حوالے سے لوگوں میں میرے نزدیک محبوب ترین .....‘‘۔ اور اس روایت میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : اس خاتون نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ’’ عصیدہ ‘‘ پیش کیا ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18456

Majma al-Zawaid #18456

وَعَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ قَالَتْ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لَكَ حَوْضًا؟ قَالَ: "" نَعَمْ. وَأَحَبُّ عَلَيَّ مَنْ يَرِدُهُ قَوْمُكِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ حَكِيمٍ، وَقَالَ النَّاسُ: عَنْ خَوْلَةَ بِنْتِ قَيْسٍ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Khawlah bint Ḥakīm, may Allāh be pleased with her, reported that she asked, O Messenger of Allāh, do you have a Basin, and he said yes, with her people most beloved to him to come to it. > **"Yes, and most beloved to come to it are your people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ کا حوض ہو گا ؟ نہیں اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! اور وہاں آنے کے حوالے سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : ابوخالد احمد نے اسے اسی طرح سیدہ خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نقل کیا ہے ، جبکہ دیگر لوگوں کا یہ کہنا ہے : یہ سیدہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے حوالے سے منقول ہے ، ان دونوں روایات کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18457

Majma al-Zawaid #18457

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «جَاءَ ابْنَا مُلَيْكَةَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَا: أُمُّنَا كَانَتْ تُكْرِمُ الزَّوْجَ، وَتَعْطِفُ عَلَى الْوَلَدِ، وَتُقْرِي الضَّيْفَ، غَيْرَ أَنَّهَا وَأَدَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: "" أُمُّكُمَا فِي النَّارِ "". فَأَدْبَرَا وَالسُّوءُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا، فَأَمَرَ بِهِمَا فَرُدَّا - أَوْ فَرَجَعَا - وَالسُّرُورُ يُرَى فِي وُجُوهِهِمَا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ قَدْ حَدَثَ شَيْءٌ، فَقَالَ: "" أُمِّي مَعَ أُمِّكُمَا "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ: وَمَا يُغْنِي هَذَا عَنْ أُمِّهِ [شَيْئًا]، وَنَحْنُ نَطَأُ عَقِبَهُ! فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَلَمْ أَرَ رَجُلًا قَطُّ أَكْثَرَ سُؤَالًا مِنْهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[يَا رَسُولَ اللَّهِ]: هَلْ وَعَدَكَ فِيهَا أَوْ فِيهِمَا؟ قَالَ: فَظَنَّ أَنَّهُ مِنْ شَيْءٍ قَدْ سَمِعَهُ، قَالَ: "" مَا سَأَلْتُهُ رَبِّي، وَمَا أَطْمَعَنِي فِيهِ، وَإِنِّي لَأَقُومُ الْمَقَامَ الْمَحْمُودَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا ذَاكَ الْمَقَامُ الْمَحْمُودُ؟ قَالَ: "" ذَاكَ إِذَا جِيءَ بِكُمْ حُفَاةً، عُرَاةً، غُرْلًا، فَيَكُونُ أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى إِبْرَاهِيمَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: اكْسُوا خَلِيلِي، فَيُؤْتَى بِرَبْطَتَيْنِ بَيْضَاوَيْنِ فَيَلْبَسُهُمَا، ثُمَّ يَقْعُدُ مُسْتَقْبِلَ الْعَرْشِ، ثُمَّ أُوتَى بِكِسْوَتِي فَأَلْبَسُهَا، فَأَقُومُ عَنْ يَمِينِهِ مَقَامًا لَا يَقُومُهُ أَحَدٌ غَيْرِي يَغْبِطُنِي فِيهِ الْأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ "". قَالَ: "" وَيُفْتَحُ نَهْرٌ مِنَ الْكَوْثَرِ إِلَى الْحَوْضِ "". فَقَالَ الْمُنَافِقُ: إِنَّهُ مَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ إِلَّا عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ؟ قَالَ: "" حَالُهُ الْمِسْكُ، وَرَضْرَاضُهُ التُّومُ "". قَالَ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعْ كَالْيَوْمِ، قَلَّمَا جَرَى مَاءٌ قَطُّ عَلَى حَالٍ أَوْ رَضْرَاضٍ إِلَّا كَانَ لَهُ نَبْتُهُ. قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ لَهُ نَبْتٌ؟ قَالَ: "" نَعَمْ، قَضْبَانَ الذَّهَبِ "" قَالَ الْمُنَافِقُ: لَمْ أَسْمَعَ كَالْيَوْمِ، [فَإِنَّهُ]. قَلَّمَا نَبَتَ قَضِيبٌ إِلَّا أَنْ أَوْرَقَ إِلَّا كَانَ لَهُ ثَمَرٌ، قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَهَلْ مِنْ ثَمَرٍ؟ قَالَ "" نَعَمْ أَلْوَانُ الْجَوْهَرِ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، [إِنَّ] مَنْ شَرِبَ مِنْهُ مَشْرَبًا لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهُ، وَ [إِنَّ] مَنْ حُرِمَهُ لَمْ يَرْوَ بَعْدَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِي أَسَانِيدِهِمْ كُلِّهِمْ عُثْمَانُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the two sons of Mulaykah came to the Prophet ﷺ and said their mother honoured husbands, pitied children, and fed guests, yet buried a daughter alive in Jāhiliyyah. He said their mother is in the Fire, so they turned with evil upon their faces, then were called back with joy hoping something new had come, and he said my mother is with your mothers. A hypocrite remarked what avails this for his own mother while they tread his heels, so an Anṣārī, most questioning of the Prophet ﷺ, asked whether any promise concerned her. He thought it from something heard, and the Prophet ﷺ said he had not asked his Lord nor been given hope thereof, but he shall stand the Praiseworthy Station on the Day of Resurrection. Asked what it is, he said when you are brought barefoot, naked, uncircumcised, Ibrāhīm, peace be upon him, will be clothed first as the Friend, given two white wraps and seated facing the Throne, then he ﷺ will be clothed and stand at his right in a station none other holds, envied by first and last. A river will be opened from al-Kawthar to the Basin, whose bed is musk and pebbles garlic-like, questioned by the hypocrite yet affirmed with growth of golden rods and fruits of jewels, its water whiter than milk and sweeter than honey, whoever drinks never thirsting thereafter, and whoever is denied never quenched. > **"I shall stand the Praiseworthy Station, and whoever drinks from my Basin never thirsts thereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ملیکہ کے دو صاحبزادے ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان دونوں نے عرض کی : ہماری والدہ شوہر کا احترام کرتی تھی ، بچوں پر مہربان تھی ، مہمان نوازی کیا کرتی تھی ، تاہم انہوں نے زمانہ جاہلیت میں زندہ درگور کیا تھا ( یا شاید یہ مراد ہے کہ اس کا انتقال زمانہ جاہلیت میں ہو گیا تھا ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دونوں کی ماں جہنم میں جائے گی ، وہ دونوں واپس چلے گئے ، ان کے چہرے سے پریشانی کا اظہار ہو رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کے بارے میں حکم دیا تو انہیں واپس بلایا گیا ، وہ دونوں واپس آئے تو ان کے چہرے سے خوشی کے آثار محسوس ہو رہے تھے ، انہیں امید تھی کہ شاید اس بارے میں کوئی نیا حکم آ گیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میری ماں بھی ، تم دونوں کی ماں کے ساتھ ہو گی ۔ منافقین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا : یہ تو اپنی ماں کے کسی کام نہیں آ سکے اور ہم ان کی پیروی کرتے ہیں ، اس پر انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا ، راوی کہتے ہیں : میں نے اس شخص سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے سوال کرنے والا اور کوئی شخص نہیں دیکھا ، اُس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا آپ کے پروردگار نے آپ کے ساتھ ان کے بارے میں ۔ راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں :۔ ان دونوں ( یعنی آپ کے والدین ) کے بارے میں کوئی وعدہ کیا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : ان کا یہ گمان ہے کہ شاید اس نے اس بارے میں کچھ سن رکھا تھا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے اس بارے میں سوال نہیں کیا ، اور میرے پروردگار نے مجھے اس بارے میں کوئی امید نہیں دلائی ، البتہ قیامت کے دن میں مقام محمود پر فائز ہوؤں گا ۔ اس انصاری نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ’’ مقام محمود ‘‘ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تم لوگ برہنہ جسم ، برہنہ پاؤں اور ختنے کے بغیر حالت میں لائے جاؤ گے ، تو سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو لباس پہنایا جائے گا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے خلیل کو لباس پہناؤ ، تو دو سفید چادریں لائی جائیں گی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں پہن لیں گے ، پھر وہ عرش کے سامنے بیٹھ جائیں گے ، پھر میرا لباس لایا جائے گا اور میں اسے پہن لوں گا اور عرش کے دائیں طرف ایسی جگہ پر کھڑا ہوؤں گا جہاں میرے علاوہ اور کوئی کھڑا نہیں ہو سکتا اور اس حوالے سے پہلے والے اور بعد والے لوگ مجھ پر رشک کریں گے ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : کوثر سے حوض تک ایک نہر کھولی جائے گی ، ایک منافق نے کہا : نہر کا پانی تو صرف کالی سیاہ مٹی یا چھوٹی کنکریوں پر ہی بہہ سکتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کی مٹی مشک کی ہو گی اور اس کی کنکریاں موتیوں کی ہوں گی ، منافق نے کہا : میں نے آج کی طرح کی بات کبھی نہیں سنی ، جب بھی کوئی پانی مٹی پر یا کنکریوں پر بہتا ہوا جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں نباتات بھی اُگتے ہیں ، انصاری نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا اس نہر کے نباتات بھی ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! سونے کی چھڑیاں ( یعنی پودے ) ہوں گے ، منافق نے کہا : میں نے آج کی طرح کی بات کبھی نہیں سنی ، جب بھی نباتات ہوتے ہیں ، تو ان کے پتے بھی ہوتے ہیں اور ان کے پھل بھی ہوتے ہیں ، انصاری نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا اس کے پھل بھی ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! مختلف قسم کے جواہرات کی شکل میں ہوں گے ، اُس حوض کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ، شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا ، جو شخص اس میں سے ایک مرتبہ پی لے گا وہ اس کے بعد پیاسا نہیں ہو گا اور جو شخص اس سے محروم رہے گا وہ اس کے بعد کبھی سیراب نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان سب کی اسانید میں ایک راوی عثمان بن عمیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18458

Majma al-Zawaid #18458

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعِينَ أَلْفًا بِغَيْرِ حِسَابٍ "". فَقَالَ يَزِيدُ [بْنُ] الْأَخْنَسِ: وَاللَّهِ، مَا أُولَئِكَ فِي أُمَّتِكَ إِلَّا كَالذُّبَابِ الْأَصْهَبِ فِي الذِّبَّانِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَإِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ وَعَدَنِي سَبْعِينَ أَلْفًا، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا، وَزَادَنِي ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ "". قَالَ: فَمَا سَعَةُ حَوْضِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: "" مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عَمَّانَ، وَأَوْسَعُ، وَأَوْسَعُ "". يُشِيرُ بِيَدِهِ، قَالَ: "" فِيهِ مَثْعَبَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ "". قَالَ: فَمَا حَوْضُكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى [مَذَاقَةً] مِنَ الْعَسَلِ، وَأَطْيَبُ رَائِحَةً مِنَ الْمِسْكِ، مَنْ شَرِبَ مِنْهُ لَمْ يَظْمَأْ بَعْدَهَا أَبَدًا، وَلَمْ يَسْوَدَّ وَجْهُهُ أَبَدًا» "". قُلْتُ: عِنْدَ التِّرْمِذِيَّ وَابْنِ مَاجَهْ بَعْضُهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ، وَبَعْضُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الطَّبَرَانِيِّ: «فَمَا شَرَابُهُ؟ قَالَ: "" شَرَابُهُ أَبْيَضُ مِنَ اللَّبَنِ، وَأَحْلَى مَذَاقَةً مِنَ الْعَسَلِ» "".

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh promised to admit seventy thousand of his nation to Paradise without reckoning. Yazīd ibn al-Akhnas said they are but as a reddish fly among flies, so the Messenger of Allāh ﷺ said his Lord promised seventy thousand, with every thousand seventy thousand, plus three handfuls. Asked the Basin's extent, he said between ʿAdan and ʿUmān and wider, gesturing with his hand, with two spouts of gold and silver. Asked its drink, he said whiter than milk, sweeter than honey, more fragrant than musk; whoever drinks never thirsts thereafter nor blackens in face ever. > **"My Lord promised seventy thousand, with every thousand seventy thousand, plus three handfuls."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے ستر ہزار افراد کو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا ۔‘‘ اس پر حضرت یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کی قسم ! آپ کی امت میں اتنے لوگ تو یوں ہوں گے ، جس طرح مکھیوں کے درمیان سرخی مائل رنگت کی مکھی ہوتی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے میرے ساتھ ستر ہزار لوگوں کا وعدہ کیا ہے جن میں سے ہر ایک ہزار کے ساتھ مزید ستر ہزار لوگ ہوں گے ، اور اس نے اس کے ہمراہ تین لپ ( یعنی دونوں ہتھیلیوں کو ملا دینا ) مزید کا وعدہ کیا ہے ، اس شخص نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ کے حوض کی وسعت کتنی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جتنا عدن سے عمان تک کا درمیانی فاصلہ ہے ، بلکہ اس سے بھی زیادہ وسیع ہے ، اس سے بھی زیادہ وسیع ہے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، آپ نے فرمایا : اس میں سونے اور چاندی کے بنے ہوئے دو پرنالے ہیں ۔ اس شخص نے دریافت کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ کا حوض کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( اُس کا مشروب ) دودھ سے زیادہ سفید ہے اور وہ چکھنے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبو والا ہے ، جو شخص اُس میں سے پی لے گا وہ اس کے بعد کبھی پیاسا نہیں ہو گا اور اس کا چہرہ کبھی سیاہ نہیں ہو گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال اور طبرانی کی بعض اسانید کے رجال صحیح رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ اس نے دریافت کیا : اس کا مشروب کیسا ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کا مشروب دودھ سے زیادہ سفید اور ذائقے میں شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا ۔‘‘

18459

Majma al-Zawaid #18459

وَعَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى حَمْزَةَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ يَوْمًا فَلَمْ يَجِدْهُ، فَسَأَلَ امْرَأَتَهُ عَنْهُ - وَكَانَتْ مِنْ بَنِي النَّجَّارِ - فَقَالَتْ: خَرَجَ بِأَبِي أَنْتَ عَامِدًا نَحْوَكَ، فَكَأَنَّهُ أَخْطَأَكَ فِي بَعْضِ أَزِقَّةِ بَنِي النَّجَّارِ، أَفَلَا تَدْخُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَدَخَلَ فَقَدَّمَتْ إِلَيْهِ حَيْسًا، فَأَكَلَ مِنْهُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَنِيئًا لَكَ وَمَرِيئًا، لَقَدْ جِئْتَ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ آتِيَكَ فَأُهَنِّئَكَ وَأُمَرِّئَكَ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُمَارَةَ أَنَّكَ أُعْطِيتَ نَهْرًا فِي الْجَنَّةِ يُدْعَى الْكَوْثَرَ، قَالَ: "" أَجَلْ. وَعَرْصَتُهُ يَاقُوتٌ وَمَرْجَانٌ، وَزَبَرْجَدٌ وَلُؤْلُؤٌ "". قَالَتْ: أُحِبُّ أَنْ تَصِفَ لِي حَوْضَكَ بِصِفَةٍ أَسْمَعُهَا مِنْكَ، قَالَ: "" هُوَ مَا بَيْنَ أَيْلَةَ وَصَنْعَاءَ، فِيهِ أَبَارِيقُ مِثْلُ عَدَدِ النُّجُومِ، وَأَحَبُّ وَارِدِهَا عَلَيَّ قَوْمُكِ يَا بِنْتَ حَمْدٍ». - يَعْنِي الْأَنْصَارَ -. قُلْتُ: لَعَلَّهُ: يَا بِنْتَ قَهْدٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حَرَامُ بْنُ عُثْمَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Usāmah ibn Zayd, may Allāh be pleased with them, reported that the Prophet ﷺ visited Ḥamzah ibn ʿAbd al-Muṭṭalib one day and missed him, asking his wife of Banū al-Najjār, who said he had gone toward him missing him in their lanes, inviting him inside. She offered ḥays and he ate, and she congratulated him, for Abū ʿUmārah told her he was given a river in Paradise called al-Kawthar. He said yes, its expanse of ruby, coral, peridot, and pearl. She asked for a description of his Basin, and he said between Aylah and Ṣanʿāʾ, with pitchers as numerous as stars, and most beloved to come to it are your people, O daughter of Ḥamd, meaning the Anṣār. > **"My Basin is between Aylah and Ṣanʿāʾ, and most beloved to it are your people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے انہیں ( گھر میں ) نہیں پایا ، آپ نے ان کی اہلیہ سے ان کے بارے میں دریافت کیا ، اس خاتون کا تعلق بنو نجار سے تھا ، اس خاتون نے بتایا : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، وہ آپ کی طرف جانے کے لئے ہی نکلے تھے ، ہو سکتا ہے بنو نجار کی کسی گلی میں ان کا آپ سے سامنا نہ ہو پایا ہو ، یا رسول اللہ ! آپ اندر کیوں نہیں تشریف لاتے ؟ نبی اکرم ﷺ اندر تشریف لے گئے ، اس خاتون نے آپ کی خدمت میں ’’ حیس ‘‘ پیش کیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس میں سے کھایا ، اس خاتون نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کو بہت ، بہت مبارک ہو ، آپ تشریف لے آئے ہیں ، ورنہ میرا آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا اور آپ کو مبارکباد پیش کرنے کا ارادہ تھا ، حضرت ابوعمارہ رضی اللہ عنہ ( یعنی حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ) نے مجھے بتایا ہے کہ آپ کو جنت میں ایک نہر دی گئی ہے ، جس کا نام کوثر ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! اس کی زمین ( یا اس کے کنارے کی زمین ) یاقوت ، مرجان ، زبرجد اور موتیوں کی ہے ، اس خاتون نے عرض کی : میری یہ خواہش ہے کہ آپ اپنے حوض کی صفت میرے سامنے یوں بیان کریں کہ میں وہ آپ سے سن لوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ ایلہ اور صنعاء کے درمیانی فاصلے جتنا بڑا ہے ، اس کے برتن ستاروں کی تعداد جتنے ہیں اور وہاں آنے والوں میں ، میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تمہاری قوم ہے ، اے بنت حمد ! ( راوی کہتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی مراد یہ تھی کہ اے انصار سے تعلق رکھنے والی خاتون ! ) ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : شاید روایت کے درست الفاظ یہ ہیں :” اے بنت قہد !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حرام بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے ۔

18460

Majma al-Zawaid #18460

وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ الْغِفَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ، وَإِنَّكُمْ وَارِدُونَ [عَلَيَّ] الْحَوْضَ، حَوْضِي عَرْضُهُ مَا بَيْنَ صَنْعَاءَ وَبُصْرَى، وَفِيهِ عَدَدُ النُّجُومِ قِدْحَانٌ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ، وَإِنِّي سَائِلُكُمْ حِينَ تَرِدُونَ عَلَيَّ عَنِ الثَّقَلَيْنِ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا: السَّبَبُ الْأَكْبَرُ كِتَابُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - سَبَبٌ طَرَفُهُ بِيَدِ اللَّهِ، وَطَرَفُهُ بِأَيْدِيكُمْ، فَاسْتَمْسِكُوا بِهِ، وَلَا تَضِلُّوا وَلَا تُبَدِّلُوا، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي ; فَإِنَّهُ قَدْ نَبَّأَنِيَ الْعَلِيمُ الْخَبِيرُ: أَنَّهُمَا لَنْ يَنْقَضِيَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَفِيهِمَا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَنْمَاطِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ الْآخَرِ كَذَلِكَ غَيْرَ نَصْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَشَّاءِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah ibn Asīd al-Ghifārī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said, O people, I am your forerunner and you shall come to the Basin, its width between Ṣanʿāʾ and Buṣrā, with cups of gold and silver as numerous as stars. He shall ask them at its coming about the two weighty things, so see how you succeed him therein: the greater cause, Allāh's Book, a rope with one end in Allāh's Hand and one in theirs, so hold fast, neither straying nor altering, and his progeny, his Household, for the All-Knowing informed him they shall never end until reaching him at the Basin. > **"I am your forerunner at the Basin; hold to Allāh's Book and my Household until they reach me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اے لوگو ! میں تمہارا پیشرو ہوؤں گا اور تم حوض پر میرے پاس آؤ گے ، میرا حوض اتنا بڑا ہے جتنا صنعاء اور بصریٰ کے درمیان فاصلہ ہے ، اس کے پاس ستاروں کی تعداد میں چاندی اور سونے کے بنے ہوئے پیالے ہیں ، جب تم میرے پاس آؤ گے تو میں تم سے دو چیزوں کے بارے میں دریافت کروں گا ، تو تم لوگ اس بات کا دھیان رکھنا کہ میرے بعد تم ان دونوں کے بارے میں کیا کرتے ہو ؟ بڑا سبب اللہ کی کتاب ہے جس کا ایک کنارہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور ایک کنارہ تمہارے ہاتھ میں ہے ، تو تم اس کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا ، تم گمراہ نہ ہونا اور تم تبدیلی نہ کرنا ( اور دوسری چیز ) میری عترت ، میرے اہل بیت ہیں ، کیونکہ علم رکھنے والی اور خبر رکھنے والی ذات نے مجھے یہ بات بتائی ہے ، یہ دونوں ختم نہیں ہوں گے ، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض پر میرے پاس آ جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ان دونوں میں ایک راوی زید بن حسن انماطی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف کہا ہے ان دونوں میں سے ایک کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں اور دوسری کے بھی اسی طرح ہیں ، صرف نصر بن عبدالرحمن کا معاملہ مختلف ہے ، اگر اللہ نے چاہا تو وہ بھی ثقہ ہو گا ۔

18461

Majma al-Zawaid #18461

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ الْأَنْبِيَاءَ يَتَبَاهَوْنَ: أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَصْحَابًا مِنْ أُمَّتِهِ، فَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ يَوْمَئِذٍ أَكْثَرَهُمْ كُلِّهِمْ وَارِدَةً، وَإِنَّ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ يَوْمَئِذٍ قَائِمٌ عَلَى حَوْضٍ مَلْآنَ، مَعَهُ عَصًا يَدْعُو مَنْ عَرَفَ مِنْ أُمَّتِهِ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ سِيمَا يَعْرِفُهُمْ بِهَا نَبِيُّهُمْ ""». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَرْوَانُ بْنُ جَعْفَرٍ السَّمُرِيُّ، وَثَّقَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ، وَقَالَ الْأَزْدِيُّ: يَتَكَلَّمُونَ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundub, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said prophets will boast which has most companions from his nation, and he hopes to be the greatest in arrivals that Day. Each prophet will stand at a full basin with a staff, calling those he knows of his nation, and every nation has a mark by which its prophet knows them. > **"Prophets will boast of multitudes, and I hope to be greatest in arrivals."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ انبیاء کرام ایک دوسرے کے سامنے فخر کا اظہار کریں گے کہ ان کی امت میں سے کس کے ساتھی زیادہ ہیں ؟ تو مجھے یہ امید ہے کہ اس دن میرے ساتھی سب سے زیادہ ہوں گے ، اور وہ سب ( حوض پر میرے پاس ) آئیں گے ، اُس دن ان انبیاء کرام میں سے ہر ایک بھرے ہوئے حوض کے پاس کھڑا ہو گا ، اس کے پاس عصا ہو گا ، وہ اپنی امت کے جس فرد کو پہچانے گا اسے بلائے گا اور ہر امت کی مخصوص نشانی ہو گی ، جس کے ذریعے ان کا نبی انہیں پہچان لے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مروان بن جعفر سمری ہے جسے ابن ابوحاتم نے ثقہ قرار دیا ہے ازدی کہتے ہیں : لوگ اس کے بارے میں کلام کرتے ہیں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18462

Majma al-Zawaid #18462

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، مَنْ وَرَدَ عَلَيَّ وَشَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا [أَلَا]، لَيَرِدَنَّ عَلَيَّ أَقْوَامٌ أَعْرِفُهُمْ بِعِرْفَانٍ، ثُمَّ يُحَالُ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ: "" لَيَرِدَنَّ "". إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he is your forerunner at the Basin; whoever comes and drinks never thirsts again, yet peoples he recognises shall come and then be barred from him. > **"I am your forerunner at the Basin; whoever drinks never thirsts again."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جو شخص میرے پاس آ جائے گا اور پی لے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہو گا ، خبردار ! میرے سامنے کچھ ایسے لوگ آئیں گے ، جنہیں میں پہچانوں گا لیکن پھر میرے اور ان کے درمیان رکاوٹ آ جائے گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے تاہم اس میں ’’ لیردن ‘‘ ( میرے پاس آئیں گے ) سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18463

Majma al-Zawaid #18463

وَعَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ لِكُلٍّ فَارِطًا، وَإِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَمَنْ وَرَدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ وَشَرِبَ لَمْ يَظْمَأْ، وَمَنْ لَمْ يَظْمَأْ دَخَلَ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ الزَّمَعِيِّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَفِيهِ ضَعْفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl, may Allāh be pleased with him, also reported that the Messenger of Allāh ﷺ said every one has a forerunner, and he is your forerunner at the Basin; whoever comes to the Basin and drinks never thirsts, and whoever never thirsts enters Paradise. > **"Whoever comes to my Basin and drinks never thirsts, and enters Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان ( یعنی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر نبی پیشرو ہو گا اور میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جو شخص حوض پر میرے پاس آ جائے گا اور پی لے گا اسے پیاس نہیں لگے گی اور جسے پیاس نہیں لگے گی وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن یعقوب زمعی کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18464

Majma al-Zawaid #18464

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَا بَالُ رِجَالٍ يَقُولُونَ: إِنَّ رَحِمَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَنْفَعُ قَوْمَهُ؟ بَلَى وَاللَّهِ، إِنَّ رَحِمِي مَوْصُولَةٌ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَإِنِّي يَا أَيُّهَا النَّاسُ، فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، فَإِذَا جِئْتُمْ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، وَقَالَ آخَرُ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ، فَأَقُولُ: فَأَمَّا النِّسَبُ فَقَدْ عَرَفْتُهُ، وَلَكِنَّكُمْ أَحْدَثْتُمْ بَعْدِي وَارْتَدَدْتُمُ الْقَهْقَرَى». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say what is with men who claim the kinship of the Messenger of Allāh ﷺ avails not his people; indeed by Allāh his kinship is joined in world and Hereafter, and he is your forerunner at the Basin. When they come, one will say I am so-and-so son of so-and-so, and he will say lineages are known, but you innovated after me and turned back on your heels. > **"My kinship is joined in world and Hereafter, but you innovated after me and turned back."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ جو یہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول ﷺ کی رشتہ داری اُن کی قوم کو نفع نہیں دے گی ، جی ہاں ! اللہ کی قسم ! میرے ساتھ رشتہ داری کا تعلق ، دنیا اور آخرت میں جڑا رہے گا اور اے لوگو ! بیشک میں حوض پر تمہارا پیشرو ہوؤں گا ، جب تم لوگ آؤ گے تو کوئی شخص یہ کہے گا : یا رسول اللہ ! میں فلاں بن فلاں ہوں ، کوئی دوسرا یہ کہے گا : میں فلاں بن فلاں ہوں ، تو میں یہ کہوں گا : جہاں تک نسب کا تعلق ہے تو اس کو میں نے جان لیا ہے لیکن تم لوگوں نے میرے بعد نئی چیز پیدا کی اور اُلٹے قدموں پھر گئے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن محمد بن عقیل کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔