Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 9

Book of Asceticism

Hadith 17961–18000

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17961

Majma al-Zawaid #17961

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ صِيتٌ فِي السَّمَاءِ، فَإِنْ كَانَ صِيتُهُ حَسَنًا [وُضِعَ فِي الْأَرْضِ]، وَإِنْ كَانَ صِيتُهُ فِي السَّمَاءِ سَيِّئًا وُضِعَ فِي الْأَرْضِ» "". قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said every servant has repute in heaven which is then placed upon earth. > **"There is no servant except that he has repute in heaven. If his repute is good it is placed upon earth, and if his repute in heaven is evil it is placed upon earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر بندے کا آسمان میں ذکر ہوتا ہے ، اگر اس کا ذکر اچھا ہو تو اسے ( یعنی اس کے اچھے ذکر کو ) زمین میں رکھ دیا جاتا ہے اگر آسمان میں اس کا ذکر برا ہو تو اُسے بھی ( یعنی اس کے برے ذکر کو ) زمین میں رکھ دیا جاتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک روایت مذکور ہے جو اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17962

Majma al-Zawaid #17962

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالنَّبَاوَةِ أَوْ بِالنَّبَاءَةِ يَقُولُ: "" «يُوشِكُ أَنْ يَعْرِفُوا أَهْلَ الْجَنَّةِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ "". قَالُوا: بِمَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" بِالثَّنَاءِ الْحَسَنِ، وَالثَّنَاءِ السَّيِّئِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ عَرَفَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ at al-Nabāwah foretell distinction between the people of Paradise and Hell through praise. > **"It is imminent that the people of Paradise be distinguished from the people of Hell through good praise and evil praise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ” نباوہ ‘‘ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں :’’ نباۃ ‘‘ کے مقام پر ) نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ عنقریب اہل جہنم کے مقابلے میں اہل جنت کی شناخت ہو جائے گی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیسے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اچھی تعریف یا بری تعریف کے ذریعے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن عرفہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17963

Majma al-Zawaid #17963

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ وَإِذَا أَسَأْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ: قَدْ أَحْسَنْتَ، فَقَدْ أَحْسَنْتَ. وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ أَسَأْتَ، فَقَدْ أَسَأْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that a man asked the Prophet ﷺ how to know his good and evil, and was told by the testimony of neighbours. > **"When you hear your neighbours saying: You have done well, then you have done well. And when you hear them saying: You have done evil, then you have done evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ میں نے جو کام کیا ہے وہ اچھا ہے یا برا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم اپنے پڑوسیوں کو یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا ہے تو اس کا مطلب ہو گا تم نے اچھا کام کیا ہے ، اور جب تم انہیں یہ کہتے ہوئے سنو : تم نے برا کام کیا ہے ، تو اس کا مطلب ہو گا ، تم نے برا کام کیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17964

Majma al-Zawaid #17964

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ الْفِهْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَقَالُوا: مَرْحَبًا. فَمَرْحَبًا بِهِ يَوْمَ يَلْقَى رَبَّهُ. وَإِذَا أَتَى الرَّجُلُ الْقَوْمَ فَقَالُوا: قَحْطًا. فَقَحْطًا لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عُمَرَ الضَّرِيرِ الْأَكْبَرِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḍaḥḥāk ibn Qays al-Fihrī رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ linked people's greeting of welcome or rejection to the Day of Resurrection. > **"When a man comes to a people and they say: Welcome, then welcome to him on the day he meets his Lord. And when a man comes to a people and they say: Away, then away to him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ضحاک بن قیس فہری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور وہ لوگ یہ کہیں : خوش آمدید ! تو اس شخص کو اس وقت بھی خوش آمدید کہا جائے گا جس دن وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، اور جب کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور وہ لوگ کہیں : پرے رہو ! تو قیامت کے دن بھی اسے پرے کیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعمر ضریر اکبر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17965

Majma al-Zawaid #17965

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ قَالَ: "" مَنْ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَمْلَأَ اللَّهُ مَسَامِعَهُ مِمَّا يُحِبُّ "". قِيلَ: فَمَنْ أَهْلُ النَّارِ؟ قَالَ: "" مَنْ لَا يَمُوتُ حَتَّى يَمْلَأَ اللَّهُ مَسَامِعَهُ مِمَّا يَكْرَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْعَبَّاسِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ was asked who the people of Paradise and Hell are and answered by what fills their hearing before death. > **"Who is of the people of Paradise? One who does not die until Allah fills his hearing with what he loves. Who is of the people of Hell? One who does not die until Allah fills his hearing with what he hates."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اہل جنت کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ شخص جو اس وقت تک نہ مرے ، جب تک اللہ تعالی اس کی سماعتوں کو اس چیز کے ذریعے نہ بھر دے جو وہ پسند کرتا ہے ، عرض کی گئی : اہل جہنم کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : وہ شخص ، جو اُس وقت تک نہ مرے جب تک اللہ تعالٰی اس کی سماعتوں کو اس چیز کے ذریعے نہ بھر دے ، جسے وہ شخص ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عباس بن جعفر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17966

Majma al-Zawaid #17966

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَحَبِّكُمْ إِلَى اللَّهِ؟ "". قَالُوا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَظَنَنَّا أَنَّهُ يُسَمِّي رَجُلًا، قَالَ: "" إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَى اللَّهِ أَحَبُّكُمْ إِلَى النَّاسِ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَبْغَضِكُمْ إِلَى اللَّهِ؟ "". قُلْنَا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَظَنَنَّا أَنَّهُ يُسَمِّي أَحَدًا، فَقَالَ: "" إِنَّ أَبْغَضَكُمْ إِلَى اللَّهِ أَبْغَضُكُمْ إِلَى النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَيْدَةَ الْأَنْبَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ identified the most beloved and most hateful to Allah with those most beloved and hateful to people. > **"Shall I not inform you of the most beloved among you to Allah? The most beloved among you to Allah are the most beloved among you to people. Shall I not inform you of the most hateful among you to Allah? The most hateful among you to Allah are the most hateful among you to people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں اس کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ محبوب ہے ؟ لوگوں نے عرض کی یا رسول اللہ ! جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کسی شخص کا نام لیں گے ، آپ نے ارشاد فرمایا : تم میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہے جو لوگوں کے نزدیک زیادہ محبوب ہو ، کیا میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ شخص کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! راوی کہتے ہیں : ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید آپ کسی ایک شخص کا نام لیں گے ، آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ ہے جو لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن حیدہ انباری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17967

Majma al-Zawaid #17967

عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ فَيَقُولُ: يَا جِبْرِيلُ، إِنَّ عَبْدِي فُلَانًا يَلْتَمِسُ أَنْ يُرْضِيَنِي بِرِضَائِي عَلَيْهِ "". قَالَ: "" فَيَقُولُ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى فُلَانٍ، وَتَقُولُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، وَيَقُولُ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، حَتَّى يَقُولَ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، ثُمَّ يَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ "". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَهِيَ الْآيَةُ الَّتِي أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فِي كِتَابِهِ: "" {إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمَنُ وُدًّا} [مريم: 96] "". وَإِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ سُخْطَ اللَّهِ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: يَا جِبْرِيلُ، إِنَّ فُلَانًا يَسْتَسْخِطُنِي، أَلَا وَإِنَّ غَضَبِي عَلَيْهِ، فَيَقُولُ جِبْرِيلُ: غَضِبَ اللَّهُ عَلَى فُلَانٍ، وَتَقُولُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ، وَيَقُولُ مَنْ دُونَهُمْ حَتَّى يَقُولَهُ أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، ثُمَّ يَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Thawbān رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ described the servant seeking Allah's pleasure until Jibrīl and the heavens proclaim mercy for him, reciting the verse of affection, and the servant seeking Allah's anger until wrath descends. > **"The servant seeks the pleasure of Allah and continues thus until Allah says: O Jibrīl, My servant so-and-so seeks to please Me, and My pleasure is upon him. Then Jibrīl says: May the mercy of Allah be upon so-and-so, and the bearers of the Throne say it, and those next to them, until the inhabitants of the seven heavens say it, then it descends to earth. And this is the verse Allah sent down: Those who believe and do righteous deeds, the Most Merciful will appoint affection for them. And the servant seeks the anger of Allah until Allah says: O Jibrīl, so-and-so incurs My anger, and My wrath is upon him. Then Jibrīl says: Allah is wrathful with so-and-so, and the bearers of the Throne say it, and those beneath them, until the inhabitants of the seven heavens say it, then it descends to earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بندہ اللہ تعالیٰ کی رضامندی تلاش کرتا ہے اور وہ مسلسل ایسا کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : اے جبرائیل ! میرا فلاں بندہ یہ کوشش کر رہا ہے کہ وہ مجھے راضی کر دے ، تو میں اس سے راضی ہوں ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی رحمت فلاں شخص پر نازل ہو ، عرش کو اٹھانے والے فرشتے یہ بات کہتے ہیں ، ان کے ساتھ والے فرشتے یہ بات کہتے ہیں ، یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں کے رہنے والے یہ بات کہتے ہیں اور پھر یہ چیز زمین کی طرف اتار دی جاتی ہے ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ آیت ہے جو اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں تم پر نازل کی ہے : ’’ بے شک وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کئے ، عنقریب رحمان ان کے لئے محبت بنا دے گا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بعض اوقات کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے کام کرتا رہتا ہے تو اللہ تعالی یہ فرماتا ہے : اے جبرائیل ! فلاں شخص میری ناراضگی حاصل کرنا چاہتا ہے ، خبردار ! میرا غضب اس پر نازل ہو گا ، تو حضرت جبرائیل کہتے ہیں : اللہ تعالی کا غضب فلاں پر نازل ہو گا ، پھر حاملین عرش کہتے ہیں اور ان کے پاس والے یہ کہتے ہیں ، یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں والے یہ بات کہتے ہیں اور پھر یہ بات زمین کی طرف اتار دی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

17968

Majma al-Zawaid #17968

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الرُّؤَاسِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ارْضَ عَنِّي، قَالَ: فَأَعَرَضَ عَنِّي ثَلَاثًا قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الرَّبَّ لَيَتَرَضَّى فَيَرْضَى، قَالَ: "" فَرَضِيَ عَنِّي» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Mālik al-Ruʾāsī رضي الله عنه narrated that he asked the Prophet ﷺ for his pleasure, was turned from thrice, then reminded him that the Lord is entreated and accepts, whereupon he was pleased with him. > **"I came to the Prophet ﷺ and said: O Messenger of Allah, be pleased with me. He turned from me thrice. I said: O Messenger of Allah, the Lord is entreated and He accepts. So he was pleased with me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن مالک رؤاسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھ سے راضی ہو جائیں ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر پروردگار کو راضی کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ راضی ہو جاتا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ مجھ سے راضی ہو گئے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

17969

Majma al-Zawaid #17969

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " «إِنَّ اللَّهَ إِذَا رَضِيَ عَنِ الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَضْعَافٍ مِنَ الْخَيْرِ لَمْ يَعْمَلْهُ، وَإِذَا سَخِطَ عَلَى الْعَبْدِ أَثْنَى عَلَيْهِ سَبْعَةَ أَضْعَافٍ مِنَ الشَّرِّ لَمْ يَعْمَلْهُ» ".

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say Allah multiplies praise of the servant sevenfold beyond his deeds according to divine pleasure or anger. > **"When Allah is pleased with a servant He praises him sevenfold of good he did not do, and when He is wrathful with a servant He censures him sevenfold of evil he did not do."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری ﷺ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے راضی ہوتا ہے تو بھلائی کے حوالے سے اس کی سات گنا تعریف کرتا ہے ، جو بھلائی اس نے کی بھی نہیں ہوتی ، اور جب وہ کسی بندے پر ناراض ہوتا ہے تو برائی کے حوالے سے اس کا سات گنا ذکر کرتا ہے جو برائی اس نے کی بھی نہیں ہوتی ۔‘‘

17970

Majma al-Zawaid #17970

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «إِذَا أَحَبَّ وَإِذَا أَبْغَضَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" تِسْعَةَ أَضْعَافٍ "". وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

In another narration the wording is when He loves and when He hates, with ninefold instead of sevenfold. When He loves and when He hates, He praises ninefold.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” جب وہ محبت کرتا ہے ‘‘ اور یہ الفاظ ہیں :” جب وہ ناپسند کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ’’ نو گنا “ کے الفاظ نقل کئے ہیں ، اس کے رجال میں سے بعض کے ضعیف ہونے کے باوجود ، ان کی توثیق کی گئی ہے ۔

17971

Majma al-Zawaid #17971

عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: أُخْبِرْتُ أَنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ يَتَتَابَعُونَ فِي النَّارِ حَتَّى لَا يَبْقَ مِنْهُمْ حُرٌّ، وَلَا عَبْدٌ، وَلَا أَمَةٌ، وَإِنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ يَتَتَابَعُونَ فِي الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَبْقَى مِنْهُمْ حُرٌّ، وَلَا عَبْدٌ، وَلَا أَمَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقٍ كَبِيرٍ، وَلَمْ يَنْسُبْهُ إِلَى أَبِي جُحَيْفَةَ وَلَمْ أَعْرِفْ كَبِيرًا هَذَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfah رضي الله عنه narrated that he was informed that members of a household follow one another into Hell until none remain, and likewise into Paradise until none remain. Members of a household follow one another into Hell until no free person, slave, nor maid remains among them, and members of a household follow one another into Paradise until no free person, slave, nor maid remains among them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے یہ بات بتائی گئی ہے کہ کسی گھرانے کے لوگ یکے بعد دیگرے جہنم میں جائیں گے ، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آزاد یا غلام یا کنیز باقی نہیں بچے گا اور کسی گھرانے کے لوگ یکے بعد دیگرے جنت میں جائیں گے ، یہاں تک کہ ان میں سے کوئی آزاد یا غلام یا کنیز باقی نہیں بچے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے کثیر کے حوالے سے نقل کی ہے ، انہوں نے حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ تک اس کی نسبت بیان نہیں کی ہے اور میں اس کے زیادہ تر افراد سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17972

Majma al-Zawaid #17972

عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمِيرَةَ قَالَ: «انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَدَائِنِ فَإِذَا أَنَا بَرْجَلٍ عَلَيْهِ ثِيَابٌ خَلْقَانُ، وَمَعَهُ أَدِيمٌ أَحْمَرُ يَعْزِلُهُ، فَالْتَفَتَ فَنَظَرَ إِلَيَّ فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ: مَكَانَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ لِمَنْ كَانَ عِنْدِي: مَنْ هَذَا الرَّجُلُ؟ قَالُوا: هَذَا سَلْمَانُ، فَدَخَلَ بَيْتَهُ فَلَبِسَ ثِيَابًا بِيضًا، ثُمَّ أَقْبَلَ وَأَخَذَ بِيَدِي وَصَافَحَنِي وَسَاءَلَنِي، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، مَا رَأَيْتَنِي فِيمَا مَضَى، وَلَا رَأَيْتُكَ، وَلَا عَرَفْتَنِي، وَلَا عَرَفْتُكَ، قَالَ: بَلَى. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ عَرَفَ رُوحِي رُوحَكَ حِينَ رَأَيْتُكَ، أَلَسْتَ الْحَارِثَ بْنَ عَمِيرَةَ؟ قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ; فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا فِي اللَّهِ ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا فِي اللَّهِ اخْتَلَفَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ضَعِيفَةٍ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥārith ibn ʿUmayrah narrated that he went to al-Madāʾin, met Salmān رضي الله عنه in worn garments with red leather, was greeted by name though never seen before, and Salmān explained that his soul recognised his soul and cited the Prophet ﷺ on assembled souls. > **"Souls are assembled troops. Those among them that recognised one another in Allah harmonise, and those among them that were unacquainted in Allah differ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث بن عمیرہ بیان کرتے ہیں : میں مدائن آیا ، وہاں ایک شخص موجود تھا ، جس کے جسم پر پرانا سا لباس تھا ، اس کے پاس ایک سرخ چمڑا تھا ، جسے وہ صاف کر رہا تھا ، اس نے توجہ کی ، جب اس کی نظر مجھ پر پڑی تو اس نے مجھے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کیا : اے اللہ کے بندے ! تم اپنی جگہ پر رہو ، راوی کہتے ہیں : میں کھڑا ہو گیا ، میں نے اپنے پاس موجود شخص سے دریافت کیا : یہ کون صاحب ہیں ؟ اس نے جواب دیا : یہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہیں ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اپنے گھر میں گئے ، انہوں نے سفید لباس پہنا پھر وہ تشریف لائے ، انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر میرے ساتھ مصافحہ کیا اور مجھ سے حال احوال دریافت کیا ، میں نے کہا : اے ابوعبداللہ ! ماضی میں نہ تو کبھی آپ نے مجھے دیکھا ہے اور نہ میں نے آپ کو دیکھا ہے ، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسا ہی ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، جب میں نے تمہیں دیکھا تو میری روح نے تمہاری روح کو پہچان لیا ، کیا تم حارث بن عمیرہ نہیں ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ارواح ( عالم ارواح میں ) گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، ان میں سے جو ( عالم ارواح میں ) اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے ایک دوسرے سے متعارف تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں ، اور جو ( عالم ارواح میں ) اللہ تعالیٰ کی ذات کے حوالے سے ایک دوسرے سے ناآشنا تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے لاتعلق رہتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ضعیف اسانید کے ہمراہ نقل کی ہے ۔

17973

Majma al-Zawaid #17973

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ ; فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said souls are assembled troops in recognition and estrangement. > **"Souls are assembled troops. Those among them that recognised one another harmonise, and those among them that were unacquainted differ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ارواح گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، ان میں سے جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے متعارف تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں ، اور جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے ناآشنا تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے لاتعلق رہتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17974

Majma al-Zawaid #17974

وَعَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَتْ: «كَانَتِ امْرَأَةً بِمَكَّةَ مَزَّاحَةً، فَنَزَلَتْ عَلَى امْرَأَةٍ شَبَهًا لَهَا، فَبَلَغَ ذَاكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: صَدَقَ حِبِّي ; سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْأَرْوَاحُ جُنُودٌ مُجَنَّدَةٌ، فَمَا تَعَارَفَ مِنْهَا ائْتَلَفَ، وَمَا تَنَاكَرَ مِنْهَا اخْتَلَفَ» "". قَالَ: وَلَا أَعْلَمُ إِلَّا قَالَ فِي الْحَدِيثِ: وَلَا تُعْرَفُ تِلْكَ الْمَرْأَةُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ َوالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmrah bint ʿAbd al-Raḥmān narrated that a jesting woman of Makkah lodged with a woman like her, and when this reached ʿĀʾishah رضي الله عنها she declared her beloved ﷺ truthful and cited his saying on assembled souls. > **"Souls are assembled troops. Those among them that recognised one another harmonise, and those among them that were unacquainted differ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرہ بنت عبدالرحمن بیان کرتی ہیں : مکہ میں ایک خاتون تھی ، جس کے مزاج میں مزاح کا عنصر غالب تھا ، وہ اپنے جیسی ایک خاتون کے ہاں ٹھہری ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرمایا : میرے محبوب ﷺ نے سچ ارشاد فرمایا ہے ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ارواح گروہوں کی شکل میں رہتی تھیں ، ان میں سے جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے متعارف تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے مانوس ہوتی ہیں اور جو ( عالم ارواح میں ) ایک دوسرے سے ناآشنا تھیں ، وہ ( دنیا میں ) ایک دوسرے سے لاتعلق رہتی ہیں ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : وہ ( عورت ) اُس خاتون سے واقف نہیں تھی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17975

Majma al-Zawaid #17975

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمُؤْمِنُ يَأْلَفُ وَيُؤْلَفُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said the believer befriends and is befriended, and there is no good in one who does neither. > **"The believer befriends and is befriended, and there is no good in one who neither befriends nor is befriended."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مؤمن الفت رکھتا ہے اور اس سے الفت رکھی جاتی ہے اور اس شخص میں بھلائی نہیں ہے جو نہ الفت رکھتا ہو اور نہ اس سے الفت رکھی جائے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17976

Majma al-Zawaid #17976

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمُؤْمِنُ يَأْلَفُ وَيُؤْلَفُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said the believer befriends and is befriended, and there is no good in one who does neither. > **"The believer befriends and is befriended, and there is no good in one who neither befriends nor is befriended."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن الفت رکھتا ہے اور اس سے الفت رکھی جاتی ہے اور اس شخص میں بھلائی نہیں ہے جو نہ الفت رکھتا ہو اور نہ اس سے الفت رکھی جائے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17977

Majma al-Zawaid #17977

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْمُؤْمِنُ يَأْلَفُ وَيُؤْلَفُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ بَهْرَامٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said the believer befriends and is befriended, and there is no good in one who does neither. > **"The believer befriends and is befriended, and there is no good in one who neither befriends nor is befriended."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن الفت رکھتا ہے اور اس سے الفت رکھی جاتی ہے اور اس شخص میں بھلائی نہیں ہے جو نہ الفت رکھتا ہو اور نہ اس سے الفت رکھی جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن بہرام ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17978

Majma al-Zawaid #17978

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: الْمُؤْمِنُ يَأْلَفُ وَيُؤْلَفُ، وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ وَلَا يُؤْلَفُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَانِ الْبَابَانِ فِي كِتَابِ الْأَدَبِ، وَكَذَلِكَ بَابُ أَحْبِبْ حَبِيبَكَ هَوْنًا مَا عَسَى أَنْ يَكُونَ بَغِيضَكَ يَوْمًا مَا، وَكَذَلِكَ بَابُ تَنَقِّهِ وَتَوَقِّهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said the believer befriends and is befriended, and there is no good in one who does neither. The believer befriends and is befriended, and there is no good in one who neither befriends nor is befriended.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ مومن الفت رکھتا ہے اور اس سے الفت رکھی جاتی ہے اور اس شخص میں بھلائی نہیں ہے جو نہ الفت رکھتا ہو اور نہ اس سے الفت رکھی جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے یہ دو باب ، کتاب الادب میں گزر چکے ہیں ، اسی طرح یہ باب ہے : تم اپنے دوست کے ساتھ مناسب دوستی رکھو ، کیونکہ ہو سکتا ہے ، کبھی وہ تمہاری ناپسندیدگی کا شکار بن جائے ، اسی طرح یہ باب ہے :’’ تنقہ وتوقہ ۔‘‘

17979

Majma al-Zawaid #17979

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ أَرْوَاحَ الْمُؤْمِنِينَ لَتَلْتَقِي عَلَى مَسِيرَةِ يَوْمٍ، مَا رَأَى أَحَدٌ مِنْهُمْ صَاحِبَهُ قَطُّ» ".

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said the souls of believers meet across a day's journey though none has ever seen his companion. > **"The souls of believers meet across a day's journey, though none among them has ever seen his companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بیشک مومنین کی ارواح ایک دن کے فاصلے سے ایک دوسرے سے ملتی ہیں ، حالانکہ ان میں سے کسی ایک نے اپنے ساتھی کو کبھی نہیں دیکھا ہوتا ۔‘‘

17980

Majma al-Zawaid #17980

وَفِي رِوَايَةٍ «: "" لَيَلْتَقِيَانِ عَلَى مَسِيرَةِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

In another narration the wording is that they meet across a day and a night's journey. They meet across a day and a night's journey.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ وہ دونوں ایک دن اور ایک رات کی مسافت سے ایک دوسرے سے ملتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے بعض رجال میں ضعف پائے جانے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

17981

Majma al-Zawaid #17981

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا أَحَبَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا ذَا تُقًى». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ loved none but the pious. The Messenger of Allah ﷺ loved none but one possessed of taqwā.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ صرف پرہیزگار لوگوں سے محبت رکھتے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17982

Majma al-Zawaid #17982

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ مِنَ الْإِيمَانِ أَنْ يُحِبَّ الرَّجُلُ رَجُلًا لَا يُحِبُّهُ إِلَّا لِلَّهِ مِنْ غَيْرِ مَالٍ أَعْطَاهُ فَذَلِكَ الْإِيمَانُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتِ الْأَحَادِيثُ فِي الْحُبِّ لِلَّهِ وَالْبُغْضِ لِلَّهِ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said part of faith is loving a man only for Allah without wealth received. > **"Part of faith is that a man loves another man whom he loves only for Allah, without wealth given to him, for that is faith."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایمان میں یہ بات شامل ہے کہ آدمی دوسرے شخص کے ساتھ محبت رکھے اور وہ اس کے ساتھ صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھے ، کسی مال کی وجہ سے نہ رکھے ، جو دوسرے شخص نے اسے دیا ہو ، تو یہ چیز ایمان ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الایمان میں ، اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھنے اور اللہ تعالیٰ کی خاطر بغض رکھنے سے متعلق احادیث گزر چکی ہیں ۔

17983

Majma al-Zawaid #17983

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " «مَا أَحَبَّ عَبْدٌ عَبْدًا لِلَّهِ إِلَّا أَكْرَمَ رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ» - ".

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said loving a servant for Allah honours one's Lord. > **"No servant loves another servant for Allah except that he honours his Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ کے لئے کسی بندے سے محبت کرنا اپنے رب کی تعظیم ہے۔ جو بندہ بھی اللہ کے لئے دوسرے بندے سے محبت کرتا ہے وہ اپنے رب کی تعظیم کرتا ہے۔

17984

Majma al-Zawaid #17984

عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ: «أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ شَكَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَاجَتَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اصْبِرْ أَبَا سَعِيدٍ ; فَإِنَّ الْفَقْرَ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنْكُمْ أَسْرَعُ مِنَ السَّيْلِ مِنْ أَعْلَى الْوَادِي وَمِنْ أَعْلَى الْجَبَلِ إِلَى أَسْفَلِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ شِبْهُ الْمُرْسَلِ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Abī Saʿīd narrated that Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه complained of need to the Messenger of Allah ﷺ, who commanded patience and likened the haste of poverty toward his lovers to a torrent descending a valley or mountain. > **"Be patient, O Abū Saʿīd, for poverty hastens to whoever loves me among you swifter than a torrent from the top of a valley and from the top of a mountain to its foot."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن ابوسعید بیان کرتے ہیں : حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں اپنی حاجت مندی کی شکایت کی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوسعید ! تم صبر سے کام لو ! کیونکہ تم میں سے جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے اس کی طرف غربت ، اس سے زیادہ تیزی سے آتی ہے جیسے تیزی سے سیلابی پانی وادی کے اوپری حصے یا پہاڑ کے اوپر سے نیچے کی طرف آتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم یہ مرسل روایت کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے ۔

17985

Majma al-Zawaid #17985

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّكَ، فَقَالَ: "" اسْتَعِدَّ لِلْفَاقَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بَكْرِ بْنِ سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that a man came to the Prophet ﷺ declaring love for him, and was told to prepare for destitution. > **"Prepare for destitution."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ( فقر و ) فاقہ کے لیے تیار رہو !۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف بکر بن سلیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17986

Majma al-Zawaid #17986

عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: مَرَّ رَجُلٌ بِابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِنَّ هَذَا [الرَّجُلَ] يُحِبُّنِي، قَالُوا: وَمَا يُدْرِيكَ يَا أَبَا عَبَّاسٍ؟ قَالَ: لِأَنِّي أُحِبُّهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ: مُحَمَّدِ بْنِ قُدَامَةَ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Mujāhid narrated that a man passed by Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما, who said this man loves him, and when asked how he knew, replied because he loves him. This man loves me, for I love him.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مجاہد بیان کرتے ہیں : ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی الہ عنہما کے پاس سے گزرا تو انہوں نے کہا : شخص مجھ سے محبت کرتا ہے ، لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعباس ! آپ کو اس کا کیسے پتہ چلا ؟ انہوں نے فرمایا : کیونکہ میں بھی اس سے محبت کرتا ہوں ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد محمد بن قدامہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان اور دیگر حضرات نے اس کی توثیق کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17987

Majma al-Zawaid #17987

عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا مِنْ عَبْدَيْنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ يَسْتَقْبِلُ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فَيُصَافِحُهُ، وَيُصَلِّيَا عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا لَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَغْفِرَ لَهُمَا ذُنُوبَهُمَا، مَا تَقَدَّمَ مِنْهَا وَمَا تَأَخَّرَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ دُرُسْتُ بْنُ حَمْزَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said no two servants loving in Allah meet, shake hands, and send blessings upon the Prophet ﷺ except that they part forgiven for past and future sins. > **"No two servants love one another in Allah, one meets his companion and shakes his hand, and they send blessings upon the Prophet, except that they do not part until their sins are forgiven, past and future."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب بھی دو ایسے بندے ملتے ہیں ، جو ایک دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھتے ہوں ، تو ان دونوں میں سے ایک دوسرے کے سامنے آ کر اس کے ساتھ مصافحہ کرتا ہے ، اور وہ دونوں نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں ، تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے اُن کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی درست بن حمزہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17988

Majma al-Zawaid #17988

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ نَظَرَ إِلَى أَخِيهِ نَظَرَ مَوَدَّةٍ لَمْ يَكُنْ فِي قَلْبِهِ عَلَيْهِ إِحْنَةٌ، لَمْ يَطْرِفْ حَتَّى يُغْفَرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذُنُوبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سِوَارُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Prophet ﷺ said whoever looks at his brother with affection without rancour is forgiven past sins before his eyelid moves. > **"Whoever looks at his brother with a glance of affection, with no malice in his heart against him, does not blink before he is forgiven for his past sins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اپنے بھائی کی طرف محبت کی نظر سے دیکھتا ہے ، جبکہ اس کے دل میں اس بھائی کے لئے کوئی دشمنی نہ ہو ، تو اس شخص کے پلک جھپکنے سے پہلے اُس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت ہو جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔

17989

Majma al-Zawaid #17989

عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سَلِيطٍ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي أَزْفَلَةٍ مِنَ النَّاسِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: "" الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ. التَّقْوَى هَهُنَا "" وَأَشَارَ إِلَى صَدْرِهِ "" وَمَا تَوَادَّ رَجُلَانِ فِي اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيُفَرِّقُ بَيْنَهُمَا إِلَّا بِحَدَثٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا وَالْمُحْدِثُ شَرٌّ، وَالْمُحْدِثُ شَرٌّ، وَالْمُحْدِثُ شَرٌّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ وَفِيهُ ضَعْفٌ، رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

A man of Banū Salīṭ narrated that he came to the Prophet ﷺ among a crowd and heard him declare the Muslim the brother of the Muslim, point to his chest for taqwā, and warn that two loving in Allah part only through a new offence committed by one, and the offender is evil thrice over. > **"The Muslim is the brother of the Muslim; he neither wrongs him nor forsakes him. Taqwā is here. No two men love one another in Allah but they are separated only by an offence committed by one of them, and the offender is evil, the offender is evil, the offender is evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

بنو سلیط سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت کچھ لوگوں کے درمیان موجود تھے ، میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ مسلمان ، دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اُس پر ظلم نہیں کرتا ، وہ اسے رسوا نہیں کرتا ، تقویٰ یہاں ہوتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے اپنے سینہ مبارک کی طرف اشارہ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی اور پھر یہ فرمایا : ) جب بھی دو آدمی ایک دوسرے سے اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھتے ہیں ، تو ان دونوں کے درمیان علیحدگی ، کسی نئی پیدا ہونے والی چیز کی وجہ سے ہوتی ہے ، جس کا مرتکب اُن دونوں میں سے کوئی ایک ہوا ہوتا ہے اور نئی پیدا ہونے والی چیز ، شر ہوتی ہے اور نئی پیدا ہونے والی چیز ، شر ہوتی ہے اور نئی پیدا ہونے والی چیز ، شر ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے ، اس کی توثیق کی گئی ہے لیکن اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17990

Majma al-Zawaid #17990

وَعَنْ عُمَرَ: أَنَّ النَّبِيَّ كَانَ يَقُولُ " الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ " " يَقُولُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا تَوَادَّ اثْنَانِ فَيُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا إِلَّا بَذَنْبٍ يُحْدِثُهُ أَحَدُهُمَا

EnglishUnverified translation

ʿUmar رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ declared the Muslim the brother of the Muslim and swore that two loving ones are separated only by a sin committed by one of them. > **"The Muslim is the brother of the Muslim; he neither wrongs him nor forsakes him. By Him in Whose Hand is my soul, no two love one another but they are separated only by a sin committed by one of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہوتا ہے ، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا ، وہ اسے رسوا نہیں کرتا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، دو افراد ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں ، تو ان دونوں کے درمیان علیحدگی کسی گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے ، جس کا ارتکاب اُن دونوں میں سے کسی ایک نے کیا ہوتا ہے ۔‘‘

17991

Majma al-Zawaid #17991

عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ: «أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ وُلِدَ لَهُ غُلَامٌ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِجَبْهَتِهِ وَقَالَ هَكَذَا بِإِصْبَعِهِ، فَدَعَا فَخَرَجَتْ شَعْرَةٌ مِنْ جَبْهَتِهِ كَأَنَّهَا هُلْبَةُ فَرَسٍ، قَالَ: فَأَحَبَّ الْخَوَارِجَ، وَلَزِمَهُمْ، فَسَقَطَتِ الشَّعْرَةُ مِنْ جَبْهَتِهِ، فَأَخَذَهُ أَبُوهُ فَقَيَّدَهُ وَحَبَسَهُ، قَالَ: فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ: اتَّقِ اللَّهَ، أَلَيْسَ تَرَى أَنَّ بَرَكَةَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ وَقَعَتْ مِنْ جَبْهَتِكَ؟ قَالَ: فَمَا زِلْتُ أَعِظُهُ حَتَّى رَجَعَ عَنْ رَأْيِهِ وَأَبْغَضَهُمْ، فَنَبَتَتْ بَعْدُ تِلْكَ الشَّعْرَةُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl رضي الله عنه narrated that a Companion's newborn was brought to the Prophet ﷺ, who stroked his forehead and supplicated, whereupon hair like a horse's mane grew; when the boy loved the Khawārij and joined them the hair fell, his father bound and confined him, and after admonition he renounced them and the hair regrew. A Companion's boy was brought to the Prophet ﷺ, who stroked his forehead and supplicated so that hair grew like a horse's mane. He then loved the Khawārij and the hair fell from his forehead, so his father bound him until he renounced their view and hated them, whereupon the hair grew again.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے ہاں بچہ پیدا ہوا ، وہ صاحب اس بچے کو لے کر نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے اس کی پیشانی کو پکڑا اور اس پر اس طرح انگلیاں پھیریں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے دعا کی ، اس بچے کی پیشانی پر بعد میں یوں بال نکلے جیسے گھوڑے کی گردن پر بال ہوتے ہیں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ( یعنی بڑا ہو کر ) وہ بچہ خوارج سے محبت کرنے لگا اور ان کے ساتھ مل گیا ، تو اس کی پیشانی کے بال جھڑ گئے ، اس کے باپ نے اسے پکڑا اور اسے قید کر دیا ، راوی بیان کرتے ہیں : ایک دن میں اس لڑکے کے پاس آیا اور میں نے اس سے کہا : تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! کیا تم نے غور نہیں کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی برکت تمہاری پیشانی سے گر گئی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : میں مسلسل اسے نصیحت کرتا رہا ، یہاں تک کہ اس نے اپنی رائے سے رجوع کر لیا اور خوارج سے بغض رکھنے لگا ، تو بعد میں اس کے وہ بال واپس آ گئے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

17992

Majma al-Zawaid #17992

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «كُلُّ نَفْسٍ تُحْشَرُ عَلَى هَوَاهَا، فَمَنْ هَوَى الْكُفْرَ فَهُوَ مَعَ الْكَفَرَةِ، وَلَا يَنْفَعُهُ عِلْمُهُ شَيْئًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضُعَفَاءُ، وَقَدْ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said every soul is gathered upon its desire, so one desiring disbelief is with the disbelievers and his knowledge avails nothing. > **"Every soul is gathered upon its desire. Whoever desires disbelief is with the disbelievers, and his knowledge avails him nothing."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر شخص کا حشر اُس کی نفسانی خواہش کے مطابق ہو گا ، جس شخص کی خواہش کفر کی ہو گی وہ کافروں کے ساتھ ہو گا اور اس کا علم اُسے کوئی نفع نہیں دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔

17993

Majma al-Zawaid #17993

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «لَقِيَنِي النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخَذَ بِيَدِي ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا أُمَامَةَ، إِنَّ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ مَنْ يَلِينُ لَهُ قَلْبِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ met him, took his hand, and said among the believers are those for whom his heart softens. > **"O Abū Umāmah, among the believers are those for whom my heart softens."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی ملاقات مجھ سے ہوئی ، آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : اے ابوامامہ ! مؤمنین میں کچھ ایسے لوگ ہیں جن کے لئے میرا دل نرم ہو جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17994

Majma al-Zawaid #17994

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا تَحَابَّ رَجُلَانِ فِي اللَّهِ إِلَّا كَانَ أَحَبُّهُمَا إِلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَشَدَّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى، وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said of two loving in Allah, the dearer to Allah loves his companion more intensely. > **"No two men love one another in Allah except that the dearer of them to Allah is the one who loves his companion more intensely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بھی دو آدمی اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں ، تو ان دونوں میں سے اللہ تعالی کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے جو اپنے ساتھی سے زیادہ محبت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ابویعلیٰ اور بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے اس میں موجود ضعف کے باوجود ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کی توثیق کی ہے ۔

17995

Majma al-Zawaid #17995

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ - يَرْفَعُهُ - قَالَ: "" «مَا مِنْ رَجُلَيْنِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلَّا كَانَ أَحَبُّهُمَا إِلَى اللَّهِ أَشَدَّهُمَا حُبًّا لِصَاحِبِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْمُعَافَى بْنِ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه, in marfūʿ form, narrated that the Prophet ﷺ said of two loving in Allah behind absence, the dearer to Allah loves his companion more intensely. > **"No two men love one another in Allah behind absence except that the dearer of them to Allah is the one who loves his companion more intensely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) جب بھی دو آدمی غیر موجودگی میں ایک دوسرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھتے ہیں ، تو ان دونوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہوتا ہے جو اپنے ساتھی سے زیادہ محبت رکھتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف معافی بن سلیمان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17996

Majma al-Zawaid #17996

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ: «أَنَّهُ جَمَعَ قَوْمَهُ - قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: - ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ فَقَالَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اسْمَعُوا وَاعْقِلُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَنَازِلِهِمْ، وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ ". فَجَثَا رَجُلٌ مِنَ الْأَعْرَابِ مِنْ قَاصِيَةِ النَّاسِ، وَأَلْوَى بِيَدِهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَاسٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ عَلَى مَجَالِسِهِمْ وَقُرْبِهِمْ [مِنَ اللَّهِ]؟ انْعَتْهُمْ لَنَا حُلَّهُمْ لَنَا - يَعْنِي صِفْهُمْ لَنَا - شَكِّلْهُمْ لَنَا، فَسُرَّ وَجْهُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسُؤَالِ الْأَعْرَابِيِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: " هُمْ نَاسٌ مِنْ أَفْنَاءِ النَّاسِ، وَنَوَازِعِ الْقَبَائِلِ، لَمْ تَصِلْ بَيْنَهُمْ أَرْحَامٌ مُتَقَارِبَةٌ، تَحَابُّوا فِي اللَّهِ وَتَصَافَوْا، يَضَعُ اللَّهُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، فَيُجْلِسُهُمْ عَلَيْهَا، فَيَجْعَلُ وُجُوهَهُمْ نُورًا، وَثِيَابَهُمْ نُورًا، يَفْزَعُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يَفْزَعُونَ، وَهُمْ أَوْلِيَاءُ اللَّهِ الَّذِينَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ».

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashʿarī رضي الله عنه narrated that he gathered his people, and after prayer the Messenger of Allah ﷺ addressed them concerning servants neither prophets nor martyrs envied for their stations and nearness; a bedouin asked for their description, the Prophet's ﷺ face rejoiced, and he described them as diverse people without kinship loving purely in Allah, seated on pulpits of light with luminous faces and garments, fearless while people fear, and they are Allah's allies without fear or grief. > **"O people, hear, understand, and know that Allah has servants who are neither prophets nor martyrs, envied by prophets and martyrs for their stations and nearness to Allah. They are people from diverse regions and distant tribes, joined by no close kinship; they loved one another in Allah and were pure. Allah will place for them pulpits of light on the Day of Resurrection, seat them upon them, make their faces light and their garments light. People will fear on the Day of Resurrection while they do not fear, and they are the allies of Allah upon whom there is no fear nor do they grieve."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے اپنی قوم کو جمع کیا ......۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری روایت نقل کی ہے جس میں آگے چل کر وہ یہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو آپ ﷺ نے ہماری طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! سن لو اور سمجھ لو ! اور یہ بات جان لو کہ اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں جو نہ انبیاء ہوں گے نہ شہداء ہوں گے لیکن انبیاء اور شہداء اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُن کی قدر و منزلت اور ان کے قرب کے حوالے سے ان پر رشک کریں گے ، ایک دیہاتی شخص جو دور بیٹھا ہوا تھا وہ گھٹنوں کے بل اُٹھا اور اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے نبی اکرم ﷺ کی طرف اشارہ کیا اور گزارش کی : یا رسول اللہ ! کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے بیٹھنے کے مقام اور ان کے قرب کے حوالے سے انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ، آپ ان کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کریں ، ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کریں ، ان کی شکل و صورت ہمارے سامنے بیان کریں ، راوی بیان کرتے ہیں : اس دیہاتی کے سوال پر نبی اکرم ﷺ کا چہرہ مسرور ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ مختلف علاقوں اور مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں گے ، ان کے درمیان رشتہ داری کا کوئی تعلق نہیں ہو گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھیں گے اور ایک دوسرے سے تعلق رکھیں گے ، قیامت کے دن اللہ تعالی ان کے لئے نور کے منبر رکھوائے گا اور انہیں ان پر بٹھائے گا ، وہ ان کے چہروں کو نور بنا دے گا ، ان کے کپڑوں کو نور بنا دے گا ، قیامت کے دن ( دوسرے ) لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوں گے لیکن یہ لوگ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوں گے اور یہ اللہ کے وہ اولیاء ہوں گے ، جن پر کوئی خوف نہیں ہو گا اور وہ غمگین نہیں ہوں گے ۔‘‘

17997

Majma al-Zawaid #17997

وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ «: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ: "" {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ} [المائدة: 101] "" قَالَ: فَنَحْنُ نَسْأَلُهُ إِذْ قَالَ: "" إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ بِمَقْعَدِهِمْ، وَقُرْبِهِمْ مِنَ اللَّهِ» "". قَالَ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ. رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ: "" عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ مِنْ لُؤْلُؤٍ قُدَّامَ الرَّحْمَنِ "". وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

In another narration the reporter was with the Prophet ﷺ when the verse forbidding questions was revealed, then asked and was told of servants neither prophets nor martyrs envied for their seat and nearness, with addition of pulpits of light of pearl before the Most Merciful. > **"Allah has servants who are neither prophets nor martyrs, envied by prophets and martyrs for their seat and nearness to Allah, upon pulpits of light of pearl before the Most Merciful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ( راوی بیان کرتے ہیں ) میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’ اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے بارے میں دریافت نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر ہو جائیں تو تمہیں بری لگیں ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ سے دریافت کرنا شروع کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہوں گے ، جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے بیٹھنے کے مقام اور ان کے قرب کے حوالے سے انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ...... راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہیں اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ وہ رحمن کے آگے موتیوں سے بنے ہوئے نور کے منبروں پر ہوں گے ۔‘‘ اس روایت کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17998

Majma al-Zawaid #17998

وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوَشْبٍ قَالَ: «كَانَ فِينَا رَجُلٌ - مَعْشَرَ الْأَشْعَرِيِّينَ - قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَشَهِدَ مَعَهُ مَشَاهِدَهُ الْحَسَنَةَ الْجَمِيلَةَ، يُقَالُ لَهُ: مَالِكٌ، أَوِ ابْنُ مَالِكٍ - شَكَّ عَوْفٌ - فَأَتَانَا يَوْمًا فَقَالَ: أَتَيْتُكُمْ لِأُعَلِّمَكُمْ وَأُصَلِّيَ بِكُمْ كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِنَا، فَدَعَا بِحَفْنَةٍ عَظِيمَةٍ، فَجَعَلَ فِيهَا مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ دَعَانَا بِإِنَاءٍ صَغِيرٍ فَجَعَلَ يُفْرِغُ مِنَ الْإِنَاءِ الصَّغِيرِ عَلَى أَيْدِينَا، ثُمَّ قَالَ: أَسْبِغُوا الْآنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا صَلَاةً تَامَّةً وَجِيزَةً، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَقْوَامًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ بِمَكَانِهِمْ مِنَ اللَّهِ "". فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ حُجْرَةِ الْقَوْمِ أَعْرَابِيٌّ قَالَ: وَكَانَ يُعْجِبُنَا إِذَا شَهِدْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ فِينَا الْأَعْرَابِيُّ ; لِأَنَّهُمْ يَجْتَرِئُونَ أَنْ يَسْأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نَجْتَرِئُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِّهِمْ لَنَا، قَالَ: فَرَأَيْنَا وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَهَلَّلُ، ثُمَّ قَالَ: "" هُمْ نَاسٌ مِنْ قَبَائِلَ شَتَّى، يَتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ، [وَاللَّهِ] إِنَّ وُجُوهَهُمْ لَنُورٌ، وَإِنَّهُمْ لَعَلَى نُورٍ، لَا يَخَافُونَ إِذَا خَافَ النَّاسُ، وَلَا يَحْزَنُونَ إِذَا حَزِنُوا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَوْشَبٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

Shahr ibn Ḥawshab narrated that a Companion named Mālik taught them ablution and brief complete prayer as the Messenger of Allah ﷺ performed, then conveyed his saying about people neither prophets nor martyrs envied for their place; a bedouin asked for their names, the Prophet's ﷺ face shone, and he described them as diverse tribes loving in Allah with luminous faces upon light, fearless and griefless. > **"I know people who are neither prophets nor martyrs, envied by prophets and martyrs for their place with Allah. They are people from diverse tribes loving one another in Allah. Their faces are light and they are upon light. They do not fear when people fear, nor grieve when people grieve."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شہر بن حوشب بیان کرتے ہیں : ہمارے درمیان ، یعنی اشعر قبیلے کے لوگوں کے درمیان ایک صاحب تھے جو نبی اکرم ﷺ کے ساتھ رہے تھے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوات میں عمدہ طور پر حصہ لیا تھا ، ان صاحب کا نام حضرت مالک رضی اللہ عنہ یا شاید حضرت ابن مالک رضی اللہ عنہ تھا ۔ یہ شک عوف نامی راوی کو ہے ۔ ایک دن وہ ہمارے پاس تشریف لائے اور انہوں نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ تمہیں اس بات کی تعلیم دوں اور تمہیں نماز پڑھ کے دکھاؤں ، جس طرح نبی اکرم ﷺ ہمیں نماز پڑھایا کرتے تھے ، پھر انہوں نے ایک بڑا برتن منگوایا اس میں پانی ڈلوایا ، پھر انہوں نے ایک چھوٹا برتن منگوایا اور چھوٹے برتن کے ذریعے ہم پر پانی ڈالنا شروع کیا اور پھر یہ فرمایا : اب تم اچھی طرح وضو کرو ، پھر وہ کھڑے ہوئے اور انہوں نے ہمیں مکمل ، لیکن مختصر نماز پڑھائی ، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا : ’’ میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتا ہوں ، جو نہ انبیاء ہیں اور نہ شہداء ہیں ، لیکن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے مرتبے کے حوالے سے انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ۔‘‘ حاضرین میں سے ایک شخص ، جو ایک دیہاتی تھا ، اس نے کہا ۔ راوی کہتے ہیں : ہمیں یہ بات پسند تھی کہ جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود ہوں ، تو ہمارے درمیان کوئی دیہاتی بھی موجود ہو ، کیونکہ دیہاتی لوگ نبی اکرم ﷺ سے سوال کرنے کی جرأت کر لیتے تھے ، ہم سے یہ جرأت نہیں ہوتی تھی ، اس دیہاتی نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کیجیے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے چہرہ مبارک کو دیکھا کہ وہ جگمگانے لگا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوں گے ، جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے ، ان کے چہرے نور ہوں گے ، وہ نور پر ہوں گے ، جب ( دوسرے ) لوگ خوف کا شکار ہوں گے تو وہ خوف کا شکار نہیں ہوں گے ، جب ( دوسرے ) لوگ غمگین ہوں گے تو وہ غمگین نہیں ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

17999

Majma al-Zawaid #17999

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ لِلَّهِ جُلَسَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَنْ يَمِينِ الْعَرْشِ، وَكِلْتَا يَدَيِ اللَّهِ يَمِينٌ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، وُجُوهُهُمْ مِنْ نُورٍ، لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ، وَلَا شُهَدَاءَ، وَلَا صِدِّيقِينَ "". قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هُمْ؟ قَالَ: "" هُمُ الْمُتَحَابُّونَ بِجَلَالِ اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى» - "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said Allah has companions on the Day of Resurrection at the right of the Throne, though both His Hands are right, upon pulpits of light with faces of light, neither prophets, martyrs, nor truthful ones: those loving through Allah's majesty. > **"Allah has companions on the Day of Resurrection at the right of the Throne upon pulpits of light, their faces of light, neither prophets, martyrs, nor truthful ones. They are those loving one another through the majesty of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کچھ لوگوں کو عرش کے دائیں طرف بٹھائے گا ، ویسے اللہ تعالیٰ کے دونوں طرف ہی ’’ دائیں ‘‘ ہیں ، وہ انہیں نور کے بنے ہوئے منبروں پر بٹھائے گا ، ان لوگوں کے چہرے نور ہوں گے ، وہ انبیاء یا شہداء یا صدیقین نہیں ہوں گے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18000

Majma al-Zawaid #18000

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يَغْبِطُهُمُ الْأَنْبِيَاءُ وَالشُّهَدَاءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said Allah has servants neither prophets nor martyrs envied by prophets and martyrs on the Day of Resurrection. > **"Allah has servants who are neither prophets nor martyrs, envied by prophets and martyrs on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں ، جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، لیکن قیامت کے دن انبیاء اور شہداء ان پر رشک کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔