Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 10

Book of Asceticism

Hadith 18001–18040

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18001

Majma al-Zawaid #18001

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، يَفْزَعُ النَّاسُ وَلَا يَفْزَعُونَ، إِذَا أَرَادَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِأَهْلِ الْأَرْضِ عَذَابًا، ذَكَرَهُمْ فَصَرَفَ عَنْهُمُ الْعَذَابَ بِذِكْرِهِ إِيَّاهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say those loving in Allah stand in Allah's shade upon pulpits of light, fearless while people fear, and through their mention Allah averts punishment intended for earth's inhabitants. > **"Those loving one another in Allah are in Allah's shade on the Day of Resurrection, when there is no shade but His, upon pulpits of light. People will fear while they do not fear. When Allah intends punishment for earth's inhabitants, He remembers them and averts punishment from them through mentioning them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی خاطر ‘ ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ قیامت کے دن اللہ تعالی کے سائے میں ہوں گے ، جس دن اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا اور وہ لوگ نور کے بنے ہوئے منبروں پر ہوں گے ، جب ( دوسرے ) لوگ گھبراہٹ کا شکار ہوں گے تو وہ گھبراہٹ کا شکار نہیں ہوں گے ، جب اللہ تعالٰی اہل زمین کو عذاب دینے کا ارادہ کرتا ہے اور پھر ان ( اللہ تعالیٰ کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والوں ) کا خیال کرتا ہے ، تو اُن کی وجہ سے اہل زمین سے عذاب کو پھیر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18002

Majma al-Zawaid #18002

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا يُجْلِسُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، يَغْشَى وُجُوهَهُمُ النُّورُ حَتَّى يَفْرَغَ مِنْ حِسَابِ الْخَلَائِقِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said Allah seats servants on pulpits of light with light covering their faces until reckoning of creation ends. > **"Allah has servants whom He seats on the Day of Resurrection upon pulpits of light, with light covering their faces, until He finishes reckoning creation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں ، جنہیں وہ قیامت کے دن نور کے منبروں پر بٹھائے گا اور ان کے چہروں کو نور کے ذریعے ڈھانپ دے گا ایسا اس وقت تک رہے گا ، جب تک وہ مخلوق کے حساب سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

18003

Majma al-Zawaid #18003

وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَلَى كَرَاسِيَّ مِنْ يَاقُوتٍ حَوْلَ الْعَرْشِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ اللَّيْثِيُّ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Ayyūb رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said those loving in Allah stand upon chairs of ruby around the Throne. > **"Those loving one another in Allah stand upon chairs of ruby around the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والے لوگ عرش کے گرد یاقوت کی کرسیوں پر ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالعزیز لیثی ہے ، جس کے بہت زیادہ ضعیف ہونے کے باوجود اُس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18004

Majma al-Zawaid #18004

وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا تَحَابَّ اثْنَانِ فِي اللَّهِ إِلَّا وُضِعَ لَهُمَا كُرْسِيَّانِ فَأُجْلِسَا عَلَيْهِ حَتَّى يَفْرَغَ اللَّهُ مِنَ الْحِسَابِ» "". فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: صَدَقَ أَبُو عُبَيْدَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUbaydah ibn al-Jarrāḥ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said no two love in Allah except two chairs are placed and they are seated until Allah finishes reckoning, whereupon Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه confirmed him. > **"No two love one another in Allah except two chairs are placed for them and they are seated upon them until Allah finishes reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بھی دو آدمی اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کے لئے دو کرسیاں رکھوائے گا اور ان کرسیوں پر انہیں اس وقت تک بٹھا کے رکھا جائے گا ، جب تک اللہ تعالیٰ حساب سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔‘‘ اس پر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ کذاب ہے ۔

18005

Majma al-Zawaid #18005

وَعَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ عَلَى عَمُودٍ مِنْ يَاقُوتٍ، لَهُ خَيْمَةٌ مِنْ يَاقُوتَةٍ مُجَوَّفَةٍ، سِتِّينَ مِيلًا فِي السَّمَاءِ، لَهُ فِي كُلِّ نَاحِيَةٍ مِنْهَا أَزْوَاجٌ، لَا يَعْلَمُ بِهِ الْآخَرُونَ، وَإِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُشْرِفُ عَلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَمْلَأُ أَهْلَ الْجَنَّةِ نُورًا حَتَّى يَقُولَ أَهْلُ الْجَنَّةِ: مَا هَذَا الَّذِي قَدْ حَدَثَ؟! فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: مَا هَذَا الضَّوْءُ الَّذِي قَدْ حَدَثَ؟ فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: أَشْرَفَ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنَ الْمُتَحَابِّينَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that she heard the Messenger of Allah ﷺ say those loving in Allah stand upon a pillar of ruby with a hollow ruby tent sixty miles into heaven, with spouses in every direction unknown to others, and one overlooking fills Paradise with light. > **"Those loving one another in Allah stand upon a pillar of ruby with a tent of hollow ruby sixty miles into heaven, with spouses in every direction unknown to others. One of them overlooks the people of Paradise and fills them with light, until they ask what light has appeared, and it is said: A man from among those loving one another has overlooked you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ یاقوت کے ستون پر ہوں گے ان کا خیمہ کھوکھلے یاقوت سے بنا ہوا ہو گا جو ساٹھ میل اونچا ہو گا ، اس کے ہر ایک گوشے میں اس شخص کی بیویاں ہوں گی اور اس گوشے کے بارے میں دوسرے گوشے کے لوگ نہیں جانتے ہوں گے ، ان لوگوں میں سے کوئی ایک اہل جنت کی طرف جھانک کر دیکھے گا تو اہل جنت کو نور سے بھر دے گا یہاں تک کہ اہل جنت کہیں گے : یہ کیا چیز ہے ؟ جو سامنے آئی ہے ، تو ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے دریافت کرے گا : یہ کیا روشنی ہے ؟ جو سامنے آئی ہے ، تو دوسرا جواب دے گا : ایک دوسرے سے ( اللہ تعالیٰ کی خاطر ) محبت رکھنے والوں میں سے ایک شخص نے تم کو جھانک کر دیکھا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18006

Majma al-Zawaid #18006

وَعَنْ أَبِي بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ غُرَفًا يُرَى ظَوَاهِرُهَا مِنْ بَوَاطِنِهَا، وَبَوَاطُنُهَا مِنْ ظَوَاهِرِهَا، أَعَدَّهَا اللَّهُ لِلْمُتَحَابِّينَ فِيهِ، وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيهِ، وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَيْفٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Buraydah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said Paradise contains chambers whose outer is seen from inner and inner from outer, prepared for those loving, visiting, and spending in Allah. > **"In Paradise are chambers whose outer is seen from their inner and whose inner is seen from their outer, prepared by Allah for those loving in Him, visiting in Him, and spending in Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبریده رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت میں بالاخانے ہوں گے جن کا بیرونی حصہ اندر سے اور اندرونی حصہ باہر سے نظر آئے گا ، وہ اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں ، اس کے لیے ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والوں اور اس کی خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لیے تیار کیے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن سیف ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18007

Majma al-Zawaid #18007

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَعُمُدًا مِنْ يَاقُوتٍ، عَلَيْهَا غُرَفٌ مِنْ زَبَرْجَدٍ، لَهَا أَبْوَابٌ مُفَتَّحَةٌ، تُضِيءُ كَمَا يُضِيءُ الْكَوْكَبُ الدُّرِّيُّ "". قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ يَسْكُنُهَا؟ قَالَ: "" الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ، وَالْمُتَبَاذِلُونَ فِي اللَّهِ، وَالْمُتَلَاقُونَ فِي اللَّهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said Paradise contains ruby pillars bearing peridot chambers with open doors shining like a brilliant star, inhabited by those loving, spending, and meeting in Allah. > **"In Paradise are pillars of ruby bearing chambers of peridot with open doors, shining as the brilliant star shines. Who dwells in them? Those loving in Allah, spending in Allah, and meeting in Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جنت میں یاقوت کے ستون ہوں گے ، جن پر زبرجد کے بنے ہوئے بالاخانے ہوں گے ان کے کھلے ہوئے دروازے ہوں گے اور ان سے یوں روشنی باہر آئے گی جیسے چمکتے ہوئے ستارے کی روشنی ہوتی ہے راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ان میں کون ٹھہرے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والے لوگ ، اور اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والے لوگ ( ان میں ٹھہریں گے ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوحمید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18008

Majma al-Zawaid #18008

وَعَنْ أَبِي مُسْلِمٍ - يَعْنِي الْخَوْلَانِيَّ - قَالَ: «دَخَلْتُ مَسْجِدَ حِمْصَ، فَإِذَا فِيهِ حَلْقَةٌ فِيهَا اثْنَانِ وَثَلَاثُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ أَكْحَلُ، بَرَّاقُ الثَّنَايَا، مُحْتَبٍ، فَإِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ سَأَلُوهُ فَأَخْبَرَهُمْ فَانْتَهَوْا إِلَى قَوْلِهِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟! قَالُوا: [هَذَا] مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، فَقُمْتُ إِلَى الصَّلَاةِ فَأَرَدْتُ أَنْ أَلْقَى بَعْضَهُمْ فَلَمْ أَقْدِرْ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمُ انْصَرَفُوا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ دَخَلْتُ، فَإِذَا مُعَاذٌ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ، فَصَلَّيْتُ عِنْدَهُ، فَلَمَّا انْصَرَفَ جَلَسْتُ، بَيْنِي وَبَيْنَهُ السَّارِيَةُ، ثُمَّ احْتَبَيْتُ [فَلَبِثْتُ] سَاعَةً لَا أُكَلِّمُهُ وَلَا يُكَلِّمُنِي، ثُمَّ قُلْتُ: وَاللَّهِ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِغَيْرِ دِينٍ أُصِيبُهَا مِنْكَ، وَلَا قَرَابَةَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ. قَالَ: فَلِأَيِّ شَيْءٍ؟ قُلْتُ: لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ: فَنَثَرَ حَبْوَتِي، ثُمَّ قَالَ: فَأَبْشِرْ إِنْ كُنْتَ صَادِقًا، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ "". ثُمَّ خَرَجْتُ فَأَلْقَى عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتٍ، فَحَدَّثْتُهُ بِالَّذِي حَدَّثَنِي مُعَاذٌ فَقَالَ عُبَادَةُ رَحِمَ اللَّهُ مُعَاذًا: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَنَّهُ قَالَ: "" حَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَحَابِّينَ فِيَّ - يَعْنِي نَفْسَهُ - وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَنَاصِحِينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي عَلَى الْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ، عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ، يَغْبِطُهُمْ بِمَكَانِهِمُ النَّبِيُّونَ وَالصِّدِّيقُونَ» "". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ طَرَفًا مِنْ حَدِيثِ مُعَاذٍ وَحْدَهُ. رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَالْبَزَّارُ بَعْضَ حَدِيثِ عُبَادَةَ فَقَطْ، وَرِجَالُ عَبْدِ اللَّهِ وَالطَّبَرَانِيُّ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abū Muslim al-Khawlānī narrated that he entered the mosque of Ḥimṣ finding thirty-two Companions around the youthful Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه, declared love for Allah alone, was given glad tidings with the Prophet's ﷺ saying on lovers in Allah's shade envied by prophets and martyrs, then conveyed it to ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه who added the divine saying that His love is due for those loving, advising, visiting, and spending in Him upon pulpits of light envied by prophets and truthful ones. > **"Those loving one another in Allah are in Allah's shade on a day with no shade but His, envied by prophets and martyrs for their place. My love is due for those loving one another in Me, advising one another in Me, visiting one another in Me, and spending one another in Me, upon pulpits of light envied by prophets and truthful ones for their place."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومسلم خولانی بیان کرتے ہیں : میں "" حمص "" کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں ایک حلقہ موجود تھا ، جس میں بتیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم موجود تھے اور ان کے درمیان سرمگیں آنکھوں کے مالک ایک نوجوان فرد موجود تھے ، جن کے دانت چمکدار تھے ، وہ احتباء کے طور پر بیٹھے ہوئے تھے ، جب ان لوگوں کے درمیان کسی معاملے کے بارے میں اختلاف ہوتا تھا ، تو لوگ ان سے دریافت کرتے تھے اور وہ نوجوان صاحب انہیں بتاتے تھے ، سب لوگ ان کے قول کی طرف رجوع کر لیتے تھے ، میں نے دریافت کیا : یہ صاحب کون ہیں ؟ تو لوگوں نے بتایا : یہ حضرت معاذ بن جبل ہیں ؟ میں نماز ادا کرنے کے لئے چلا گیا ، میرا ارادہ تھا کہ میں ان میں سے کسی سے ملاقات کروں گا ، لیکن میری ان میں سے کسی سے بھی ملاقات نہیں ہو سکی ، وہ سب لوگ واپس چلے گئے ، اگلے دن میں مسجد میں آیا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ ایک ستون کے پاس نماز ادا کر رہے تھے ، میں نے ان کے پاس نماز ادا کی ، جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو میں بیٹھ گیا ، میرے اور ان کے درمیان ستون حائل تھا ، پھر میں احتباء کے طور پر بیٹھ گیا تھوڑی دیر گزر گئی ، اس دوران نہ میں نے ان سے کوئی بات کی ، نہ انہوں نے میرے ساتھ کوئی بات کی ، پھر میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں اور یہ کسی دنیاوی مقصد کی وجہ سے نہیں ہے ، جس کے بارے میں مجھے یہ امید ہو کہ میں آپ سے وہ چیز پا لوں گا اور نہ ہی میرے اور آپ کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے ، انہوں نے دریافت کیا : پھر ( یہ محبت ) کس وجہ سے ہے ؟ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کی خاطر انہوں نے احتباء کو ختم کیا اور پھر فرمایا : اگر تم سچ کہہ رہے ہو ، تو تم یہ خوشخبری قبول کرو : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ اس دن عرش کے سائے میں ہوں گے ، جب اس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا اور انبیائے کرام اور شہداء ان لوگوں کے مقام کے حوالے سے ان پر رشک کریں گے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : وہ وہاں سے نکلا ، میری ملاقات حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، میں نے انہیں وہ حدیث بیان کی جو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے مجھے بیان کی تھی ، تو حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو اپنے پروردگار کے حوالے سے یہ بات روایت کرتے ہوئے سنا ہے : پروردگار فرماتا ہے : ’’ میری محبت میری خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی ، راوی کہتے ہیں : یعنی اللہ تعالیٰ کی خاطر ( محبت رکھنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی ) اور میری محبت میری خاطر ایک دوسرے کی خیرخواہی کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی اور میری محبت میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لیے ثابت ہو گئی یہ لوگ نور کے بنے ہوئے منبروں پر موجود ہوں گے اور ان کے مقام کے حوالے سے انبیاء اور صدیقین ان پر رشک کریں گے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے صرف حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت عبداللہ بن احمد نے نقل کی ہے اور طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے امام بزار نے صرف حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ، عبداللہ اور طبرانی کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18009

Majma al-Zawaid #18009

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ قَالَ: جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ حَدِيثُ السِّنِّ، حَسَنُ الْوَجْهِ، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ. وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Aḥmad narrated abridged through Abū Idrīs, who sat in a gathering of twenty Companions of the Prophet ﷺ among them a young handsome youth, then mentioned the like abridged. Abū Idrīs sat in a gathering with twenty Companions of the Prophet ﷺ among them a young handsome youth, concerning those loving in Allah.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام احمد نے اختصار کے ساتھ ابوادریس کے حوالے سے نقل کی ہے وہ بیان کرتے ہیں : میں ایک محفل میں موجود تھا جس میں بیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے ان میں ایک نوجوان تھے جن کی عمر کم تھی اور چہرہ خوبصورت تھا ...... اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18010

Majma al-Zawaid #18010

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: " وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ ".

EnglishUnverified translation

In another narration with him the addition is those sitting together for Me. And those sitting together in Me.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” میری خاطر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے والوں .....‘‘۔

18011

Majma al-Zawaid #18011

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ رِجَالًا لَيْسُوا بِأَنْبِيَاءَ وَلَا شُهَدَاءَ، يُوضَعُ لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَنَابِرُ مِنْ نُورِ، وُجُوهِهِمْ مِنْ نُورِ، يُؤَمَّنُونَ مِنَ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ أُولَئِكَ؟ قَالَ: "" نُزَّاعُ الْقَبَائِلِ يَتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said there are men neither prophets nor martyrs granted pulpits and faces of light on the Day of Resurrection, secured from the greatest terror: tribal outcasts loving in Allah. > **"There are men who are neither prophets nor martyrs, for whom pulpits of light are placed on the Day of Resurrection, their faces of light, secured from the greatest terror. They are outcasts of tribes loving one another in Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کچھ لوگ ایسے ہیں ، جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء ہوں گے ، قیامت کے دن ان کے لیے نور کے منبر رکھے جائیں گے ان کے چہرے نور کے ہوں گے اور وہ لوگ بڑی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ لوگ کون ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے وہ لوگ ہوں گے ، جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18012

Majma al-Zawaid #18012

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: الْمُتَحَابُّونَ لِجَلَالِي فِي ظِلِّ عَرْشِي يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلِّي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُمَا جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿIrbāḍ ibn Sāriyah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ conveyed that Allah said those loving for His majesty stand in His Throne's shade when no shade but His exists. > **"Allah says: Those loving one another for My majesty stand in My Throne's shade on a day with no shade but Mine."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ’’ میرے جلال کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے لوگ ، اس دن میرے عرش کے سائے میں ہوں گے ، جب میرے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا “۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند عمدہ ہے ۔

18013

Majma al-Zawaid #18013

«وَعَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ السِّمْطِ أَنَّهُ قَالَ لِعَمْرِو بْنِ عَبْسَةَ: هَلْ أَنْتَ مُحَدِّثِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْسَ فِيهِ نِسْيَانٌ، وَلَا كَذِبٌ؟ قَالَ: نَعَمْ. سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: " قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: قَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَحَابُّونَ مِنْ أَجْلِي، وَقَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَزَاوَرُونَ مِنْ أَجْلِي، وَقَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَبَاذَلُونَ مِنْ أَجْلِي، وَقَدْ حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَصَادَقُونَ مِنْ أَجْلِي، مَا مِنْ مُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ يُقَدِّمُ اللَّهُ لَهُ ثَلَاثَةَ أَوْلَادٍ مِنْ صُلْبِهِ، لَمْ يَبْلُغُوا الْحِنْثَ إِلَّا أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمْ» ".

EnglishUnverified translation

Shuraḥbīl ibn al-Simṭ narrated that he asked ʿAmr ibn ʿAbasah رضي الله عنه for a hadith heard from the Messenger of Allah ﷺ without forgetfulness or falsehood, and was told the divine saying that His love is due for those loving, visiting, spending, and acting sincerely for His sake, and that no believing man or woman loses three prepubescent children of his loins except Allah admits him to Paradise by mercy toward them. > **"Allah says: My love is due for those loving one another for My sake, My love is due for those visiting one another for My sake, My love is due for those spending one another for My sake, and My love is due for those acting sincerely one another for My sake. No believing man or woman whose three children of his loins, not reaching puberty, precede him except Allah admits him to Paradise by His mercy toward them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شرحبیل بن سمط کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کریں گے ، جو آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہو اور اس میں کوئی بھول یا غلط بیانی نہ ہو ؟ حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے خلوص رکھتے ہیں ، جس بھی مومن مرد یا مومن عورت کی سگی اولاد میں سے تین بچے بالغ ہونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں چلے جائیں ( یعنی فوت ہو جائیں ) تو ان بچوں پر اپنی رحمت کے فضل کی وجہ سے اللہ تعالی اس ( مومن مرد یا مومن عورت ) کو جنت میں داخل کر دے گا ۔‘‘

18014

Majma al-Zawaid #18014

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَصَادَقُونَ مِنْ أَجْلِي، وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلَّذِينِ يَتَصَادَقُونَ مِنْ أَجْلِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَأَحْمَدُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration the wording affirms His love is due for those acting sincerely for His sake and those aiding for His sake. His love is due for those acting sincerely for His sake, and His love is due for those aiding one another for His sake.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے سے خلوص رکھتے ہیں اور میری محبت ان لوگوں کے لیے ثابت ہو گئی جو میری خاطر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور امام احمد نے اس کی مانند نقل کی ہے امام احمد کے رجال ثقہ ہیں ۔

18015

Majma al-Zawaid #18015

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَحَبَّ رَجُلًا لِلَّهِ فَقَدْ أَحَبَّهُ اللَّهُ، فَدَخَلَا جَمِيعًا الْجَنَّةَ، وَكَانَ الَّذِي أَحَبَّهُ لِلَّهِ أَرْفَعَ مَنْزِلَةً، أَلْحَقَ الَّذِي أَحَبَّهُ لِلَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَحَبَّ رَجُلًا لِلَّهِ فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّكَ لِلَّهِ، فَدَخَلَا جَمِيعًا الْجَنَّةَ، فَكَانَ الَّذِي أَحَبَّ أَرْفَعَ مَنْزِلَةً مِنَ الْآخَرِ أُلْحِقَ بِالَّذِي أَحَبَّ لِلَّهِ» "". وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said whoever loves a man for Allah is loved by Allah and both enter Paradise, with the lover higher in rank and the beloved joined to him. > **"Whoever loves a man for Allah, Allah loves him, and both enter Paradise together. The one who loved for Allah is higher in station, and the one loved for Allah is joined to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : "" جو شخص اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی شخص سے محبت رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت رکھتا ہے اور وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے ، جو شخص دوسرے سے اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھتا ہے ، وہ زیادہ بلند مرتبے میں ہو گا اور جس سے وہ محبت رکھتا ہے ، اس کا مرتبہ بعد کا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اللہ تعالی کی خاطر کسی شخص سے محبت رکھتا ہے اور یہ کہتا ہے : میں اللہ تعالیٰ کے لیے تم سے محبت رکھتا ہوں ، تو وہ دونوں جنت میں داخل ہوں گے اور محبت رکھنے والا شخص دوسرے کے مقابلے میں زیادہ بلند مرتبے پر ہو گا ، اور اس کے بعد اس شخص کا مرتبہ ہو گا ، جس سے وہ اللہ تعالیٰ کی خاطر محبت رکھتا ہے ۔‘‘ اس روایت کی سند حسن ہے ۔

18016

Majma al-Zawaid #18016

أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَتَزَاوَرُ أَهْلُ الْجَنَّةِ عَلَى نُوقٍ عَلَيْهَا الْحَشَايَا، فَيَزُورُ أَهْلُ عِلِّيِّينَ مَنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ، وَلَا يَزُورُ مَنْ أَسْفَلَ مِنْهُمْ أَهْلَ عِلِّيِّينَ إِلَّا الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ [فَإِنَّهُمْ] يَتَزَاوَرُونَ حَيْثُ شَاءُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بِشْرُ بْنُ نُمَيْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ described visitations among the people of Paradise upon camels with cushions, the higher visiting the lower, except those loving in Allah who visit wherever they will. > **"The people of Paradise visit one another upon camels bearing cushions. The people of ʿIlliyyīn visit those below them, while those below do not visit the people of ʿIlliyyīn, except those loving one another in Allah, for they visit wherever they will."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اہل جنت اونٹنیوں پر بیٹھ کر ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے جائیں گے ، ان اونٹیوں پر پالان ہوں گے ، تو بلند مرتبہ کے لوگ نیچے والے مرتبے کے لوگوں سے ملاقات کے لیے جائیں گے ، لیکن نیچے کے مرتبے والے لوگ اوپر کے مرتبے والے لوگوں سے ملاقات کے لیے نہیں جائیں گے ، البتہ ان لوگوں کا معاملہ مختلف ہے جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہوں ، کیونکہ وہ جنت میں جہاں چاہیں گے ، ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشر بن نمیر ہے اور وہ متروک ہے ۔

18017

Majma al-Zawaid #18017

وَبِسَنَدِهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ثَلَاثَةٌ فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ: رَجُلٌ حَيْثُ تَوَجَّهَ عَلِمَ أَنَّ اللَّهَ مَعَهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ إِلَى نَفْسِهَا فَتَرَكَهَا مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ أَحَبَّ لِجَلَالِ اللَّهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِسَنَدِ الَّذِي قَبْلَهُ.

EnglishUnverified translation

With the same chain, Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ mentioned three sheltered in Allah's shade when no shade but His exists. > **"Three are in the shade of Allah on the Day of Resurrection, when there is no shade but His: a man who, wherever he turns, knows Allah is with him; a man whom a woman invites to herself and he leaves her from fear of Allah; and a man who loves for the majesty of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسی سند کے ساتھ یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن تین لوگ اللہ تعالی کے سائے میں ہوں گے ، جس دن اس کے سائے کے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا ، ایک وہ شخص جو جہاں بھی ہو ، وہ اس بات کو جانتا ہو ( یعنی اس پر ایمان رکھتا ہو ) کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے ، ایک وہ شخص جسے کوئی عورت اپنی طرف بلائے اور وہ اللہ تعالی کے خوف سے اس عورت کو چھوڑ دے ، اور ایک وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی عظمت کی خاطر کسی ( دوسرے شخص ) سے محبت رکھتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اس سے پہلی والی روایت کی سند کے ہمراہ نقل کی ہے ۔

18018

Majma al-Zawaid #18018

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْوُدُّ الَّذِي يُتَوَارَثُ فِي أَهْلِ الْإِسْلَامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Rāfiʿ ibn Khadīj رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ described enduring affection. > **"Affection is what is inherited among the people of Islām."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ محبت وہ ہے جو اہل اسلام میں وراثت میں منتقل ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمر واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18019

Majma al-Zawaid #18019

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الْعَبْدُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say companionship follows love. > **"The servant is with whom he loves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بندہ اُس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام احمد کی سند حسن ہے ۔

18020

Majma al-Zawaid #18020

وَعَنْ عَلِيٍّ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمُلَائِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said companionship follows love. > **"A man is with whom he loves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آدمی اُس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18021

Majma al-Zawaid #18021

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ثَلَاثٌ هُنَّ حَقٌّ لَا يَجْعَلُ اللَّهُ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ، وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهَ عَبْدٌ فَيُوَلِّيهِ غَيْرُهُ، وَلَا يُحِبُّ رَجُلٌ قَوْمًا إِلَّا حُشِرَ مَعَهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ مَيْمُونٍ الْخَيَّاطِ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ affirmed three truths concerning share in Islām, allegiance, and gathering with the beloved. > **"Three are truth: Allah does not make one with a share in Islām like one with no share; no servant takes Allah as guardian and Allah entrusts him to another; and no man loves a people except he is gathered with them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین چیزیں ایسی ہیں جو حق ہیں ، اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو جس کا اسلام میں کوئی حصہ ہو ، اسے اس کی مانند نہیں بنایا ، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہ ہو ، اور جب بندہ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے غیر کے سپرد نہیں کرتا ، اور جب آدمی کسی قوم سے محبت رکھتا ہے ، تو اس کا حشر ان کے ساتھ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن محمود خیاط کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18022

Majma al-Zawaid #18022

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْخٌ كَبِيرٌ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: "" مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ "". فَقَالَ: لَا. وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَثِيرَ صَلَاةٍ وَلَا صِيَامٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: "" فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ "". قَالَ: فَوَثَبَ الشَّيْخُ فَبَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعَوْهُ فَعَسَى أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ». وَصَبَّ عَلَى بَوْلِهِ مَاءً. قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: "" «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» "". فَقَطْ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَمْعَانُ الْمَالِكِيُّ، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that an aged bedouin asked the Prophet ﷺ when the Hour is, was asked what he prepared, answered love of Allah and His Messenger ﷺ, was told he is with whom he loves, then rose and urinated in the mosque, whereupon the Prophet ﷺ ordered him left alone in hope he is among Paradise, and water was poured over it. > **"What have you prepared for it? You are with whom you love. Leave him, perhaps he is among the people of Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، وہ ایک عمر رسیدہ شخص تھا ، اس نے دریافت کیا : اے حضرت محمد ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے جواب دیا : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں نے نماز روزے کی شکل میں اس کے لئے کوئی زیادہ تیاری نہیں کی ہے ، البتہ یہ ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ تو تم اُس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر وہ شخص اُٹھ کر گیا اور مسجد ( کے کونے میں ) پیشاب کرنے لگا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے کرنے دو ! ہو سکتا ہے یہ اہل جنت میں سے ہو ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر اس کے پیشاب پر پانی بہا دیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : "" صحیح "" میں اس روایت میں سے صرف یہ حصہ مذکور ہے :” آدمی اس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سمعان مالکی ہے اور وہ مجہول ہے ، امام ابوزرعہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18023

Majma al-Zawaid #18023

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَيْضًا قَالَ: «أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - وَاللَّهِ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ هَذَا الْحَالِفُ عَلَى مَا حَلَفَ؟ "". فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: "" انْطَلِقْ ; فَإِنَّكَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ، وَعَلَيْكَ مَا اكْتَسَبْتَ، وَلَكَ مَا احْتَسَبْتَ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh رضي الله عنه also narrated that a bedouin thrice swore love for the Prophet ﷺ, was asked who swears thus, answered himself, and was told to proceed with recompense according to earning and expectation. > **"Proceed, for you are with whom you love. Upon you is what you earned, and for you is what you expected."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے اس نے تین مرتبہ یہ کلمات کہے ، اللہ کی قسم ! میں آپ سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ حلف اٹھانے والا شخص کون ہے ؟ جو ایک بات پر حلف اٹھا رہا ہے ، اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم جاؤ ! تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو ، جو تم نے ( گناہ ) کمایا ہے اس کا وبال تم پر ہو گا اور ( جس نیکی کے حوالے سے ) تم نے ثواب کی امید رکھی تھی اس کا اجر تمہیں ملے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔

18024

Majma al-Zawaid #18024

وَعَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ عَنِ السَّاعَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ "". فَقَالَ: حُبُّ اللَّهِ [عَزَّ وَجَلَّ] وَرَسُولِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّادٍ، أَوِ ابْنُ عُبَادَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَحَدِيثُ بَقِيَّةَ رِجَالُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Qatādah رضي الله عنه narrated that a man asked the Prophet ﷺ about the Hour, was asked what he prepared, answered love of Allah and His Messenger ﷺ, and was told he is with whom he loves. > **"What have you prepared for it? Love of Allah and His Messenger. Then you are with whom you love."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے آپ سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کی : اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” پھر تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عباد ، یا شاید ابن عبادہ ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اور اس روایت کے بقیہ رجال کی حدیث حسن ہوتی ہے ۔

18025

Majma al-Zawaid #18025

وَعَنْ أَبِي سَرِيحَةَ قَالَ: «سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ السَّاعَةِ، فَقَالَ: "" مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ "". فَقَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرًا، إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ. قَالَ: "" فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْقَاسِمِ الْأَنْصَارِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Sarīḥah رضي الله عنه narrated that a man asked the Messenger of Allah ﷺ about the Hour, confessed little preparation except love of Allah and His Messenger, and was told he is with whom he loves. > **"I have prepared little for it, except that I love Allah and His Messenger. Then you are with whom you love."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسریحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ سے قیامت کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کی : میں نے اس کے لئے بڑی تیاری نہیں کی ، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ پھر تم اس کے ساتھ ہو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفار بن قاسم انصاری ہے اور وہ کذاب ہے ۔

18026

Majma al-Zawaid #18026

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ - يَعْنِي الْخَطْمِيَّ - قَالَ: «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى السَّاعَةُ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ حَتَّى صَلَّى، ثُمَّ دَعَا فَوَجَدَهُ فِي دَارٍ مِنْ دُورِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لَهُ: "" لِمَ سَأَلْتَ عَنِ السَّاعَةِ؟ "". قَالَ: أَحْبَبْتُ أَنْ أَعْلَمَ مَتَى هِيَ. قَالَ: "" مَا أَعْدَدْتَ لَهَا؟ "". قَالَ: مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلَاةٍ، وَلَا صِيَامٍ، وَلَا صَدَقَةٍ، وَلَكِنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: "" فَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمُلَائِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Yazīd al-Khaṭmī رضي الله عنه narrated that a bedouin asked the Prophet ﷺ when the Hour is, received no answer until prayer, was found in a house of the Anṣār, questioned why he asked, confessed little prayer fasting or charity except love of Allah and His Messenger, and was told he is with whom he loves. > **"Why did you ask about the Hour? What have you prepared for it? Then you are with whom you love."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیامت کب آئے گی ؟ نبی اکرم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا ، یہاں تک کہ جب آپ نے نماز ادا کر لی تو آپ نے اسے بلایا آپ نے اسے انصار کے گھرانوں میں سے ایک گھرانے میں پایا ، آپ نے اس سے فرمایا : تم نے قیامت کے بارے میں کیوں سوال کیا ؟ اس نے جواب دیا : میں یہ چاہتا تھا کہ مجھے یہ پتا ہو کہ وہ کب آئے گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے ؟ اس نے عرض کی : میں نے اس کے لئے نماز ، روزے یا صدقے کی شکل میں زیادہ تیاری تو نہیں کی ، البتہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :’’ پھر تم اس کے ساتھ ہو گے ، جس سے تم محبت رکھتے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18027

Majma al-Zawaid #18027

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ قُدَامَةَ قَالَ: «هَاجَرَ أَبِي صَفْوَانُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهُ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَمَدَّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَمَسَحَ عَلَيْهَا، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ: إِنِّي أُحِبُّكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مَيْمُونٍ الْمُرَائِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Ṣafwān ibn Qudāmah narrated that his father Ṣafwān رضي الله عنه emigrated to the Prophet ﷺ, pledged upon Islām, extended his hand which the Prophet ﷺ stroked, declared love, and was told a man is with whom he loves. > **"I love you, O Messenger of Allah. A man is with whom he loves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن صفوان بن قدامہ بیان کرتے ہیں : میرے والد حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کی ، انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا ، انہوں نے اپنا ہاتھ نبی اکرم ﷺ کی طرف بڑھایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس پر اپنا دست مبارک پھیرا ، حضرت صفوان رضی اللہ عنہ نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے محبت کرتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی اُس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن میمون مرائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18028

Majma al-Zawaid #18028

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنُ مُضَرِّسٍ الطَّائِيِّ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زَيْدِ بْنِ الْحُرَيْشِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwah ibn Muḍarris al-Ṭāʾī رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said companionship follows love. > **"A man is with whom he loves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عروہ بن مضرس طائی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آدمی اس کے ساتھ ہو گا ، جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زید بن حریش کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18029

Majma al-Zawaid #18029

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said companionship follows love. > **"A man is with whom he loves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی اُس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحدر ہے اور وہ کذاب ہے ۔

18030

Majma al-Zawaid #18030

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لِامْرِئٍ مَا احْتَسَبَ، وَعَلَيْهِ مَا اكْتَسَبَ، وَالْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ، وَمَنْ مَاتَ عَلَى ذُنَابَيِ الطَّرِيقِ فَهُوَ مِنْ أَهْلِهِ» "". قُلْتُ: قَالَ صَاحِبُ النِّهَايَةِ: ذُنَابَيِ طَرِيقٍ يَعْنِي: عَلَى قَصْدِ الطَّرِيقِ، وَهُوَ أَصْلُ الذَّنْبِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ بَكْرٍ السَّكْسَكِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah al-Bāhilī رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say a man receives what he expects, bears what he earns, accompanies whom he loves, and whoever dies upon the middle of the path belongs to its people. > **"A man receives what he expects, bears what he earns, a man is with whom he loves, and whoever dies upon the middle of the path is among its people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آدمی کو اس چیز کا ثواب ملے گا ، جس کے ثواب کی اس نے امید رکھی ہو گی ، اور اس کا وبال اس پر ہو گا جو ( گناہ ) اس نے کمایا ہو گا اور آدمی اس کے ساتھ ہو گا جس سے وہ محبت رکھتا ہو گا اور جو شخص سیدھے راستے پر مرے گا ، وہ اس کے اہل میں سے ایک شمار ہو گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ النہایہ ‘‘ کے مصنف نے یہ بات بیان کی ہے :’’ ذنابی الطریق ‘‘ سے مراد درمیانہ ( یعنی سیدھا ) راستہ ہے اور وہ ’’ ذنب ‘‘ کی اصل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن بکر سکسکی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18031

Majma al-Zawaid #18031

وَعَنْ أَبِي قِرْصَافَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَحَبَّ قَوْمًا حَشَرَهُ اللَّهُ فِي زُمْرَتِهِمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abū Qirṣāfah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said love determines gathering. > **"Whoever loves a people, Allah gathers him among their company."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقر صافہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی قوم سے محبت رکھتا ہے ، اللہ تعالی اُس کا حشر اس ( قوم ) کے گروہ میں کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18032

Majma al-Zawaid #18032

وَعَنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: مَنْ أَحَبَّنَا لِلدُّنْيَا ; فَإِنَّ صَاحِبَ الدُّنْيَا يُحِبُّهُ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، وَمَنْ أَحَبَّنَا لِلَّهِ كُنَّا نَحْنُ وَهُوَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ كَهَاتَيْنِ - وَأَشَارَ بِإِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥusayn ibn ʿAlī رضي الله عنهما said that whoever loves them for this world is loved alike by righteous and wicked, but whoever loves them for Allah will be with them on the Day of Resurrection like two fingers, indicating with forefinger and middle. Whoever loves us for this world, the companion of this world is loved by righteous and wicked alike; whoever loves us for Allah, we and he on the Day of Resurrection will be like these two. > **"Whoever loves us for Allah, we and he on the Day of Resurrection will be like these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امام حسین بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ جو شخص دنیا کے لیے ہم سے محبت رکھے گا ، تو دنیا سے متعلق فرد کے ساتھ تو نیک اور گناہ گار ( ہر قسم کے لوگ ) محبت رکھتے ہیں اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے خاطر ہم سے محبت رکھے گا ، تو قیامت کے دن ہم اور وہ ان دو ( انگلیوں ) کی طرح ہوں گے ، انہوں نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے ذریعے اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے بعض رجال میں پائے جانے والے ضعف کے باوجود ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18033

Majma al-Zawaid #18033

عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ: «أَنَّ أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ أَتَى إِلَى أَبِي أُمَيَّةَ فِي مَنْزِلِهِ فَقَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ: إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلَّهِ "". وَقَدْ جِئْتُكَ فِي مَنْزِلِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Yazīd ibn Abī Ḥabīb narrated that Abū Sālim al-Jayshānī came to Abū Umayyah's house reporting he heard Abū Dharr رضي الله عنه heard the Messenger of Allah ﷺ command one loving his companion to visit him at home and inform him, declaring he came for that purpose. > **"When one of you loves his companion, let him come to him at his house and inform him that he loves him for Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یزید بن ابوحبیب بیان کرتے ہیں : ابوسالم جیشانی ، ابوامیہ کے پاس ان کے گھر آئے اور یہ بات بیان کی : میں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب کوئی شخص اپنے ساتھی سے محبت کرتا ہو ، تو وہ اس کے پاس اس کے گھر آئے اور اسے یہ بتا دے : کہ وہ اللہ تعالی کی خاطر اس نے محبت کرتا ہے ۔‘‘ ( پھر ابوسالم جیشانی نے کہا : ) میں اس لیے آپ کے گھر آیا ہوں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18034

Majma al-Zawaid #18034

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ قَالَ: «قُلْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: إِنِّي أُحِبُّ أَبَا ذَرٍّ، فَقَالَ: "" أَعْلَمْتَهُ بِذَلِكَ؟ "". قُلْتُ: لَا. قَالَ: "" فَأَعْلِمْهُ "". فَلَقِيتُ أَبَا ذَرٍّ فَقُلْتُ: إِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ، قَالَ: أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ، فَرَجَعْتُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ: "" أَمَا إِنَّ ذَلِكَ لِمَنْ ذَكَرَهُ أَجْرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Sarjis رضي الله عنه narrated that he told the Prophet ﷺ he loves Abū Dharr رضي الله عنه, was asked whether he informed him, ordered to inform him, did so and received reciprocal supplication, then reported back and was told mention carries reward. > **"Have you informed him of that? Inform him. Indeed that carries reward for whoever mentions it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن سرجس بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : میں ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے محبت کرتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم نے اسے یہ بات بتائی ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اسے بتاؤ ! راوی کہتے ہیں : میری ملاقات حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی تو میں نے کہا : میں اللہ تعالیٰ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں ، تو انہوں نے فرمایا : تم جس کی خاطر مجھ سے محبت کرتے ہو ، وہ ذات تم سے بھی محبت کرے ، راوی کہتے ہیں : میں واپس نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اس کا ذکر کرے گا ( یعنی جو شخص دوسرے کو یہ بات بتائے گا کہ میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تم سے محبت کرتا ہوں ، تو ) اُسے اجر ملے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18035

Majma al-Zawaid #18035

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلَّى عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّ هَذَا. قَالَ: "" هَلْ أَعْلَمْتَهُ؟ "". قُلْتُ: لَا. قَالَ: "" فَأَعْلِمْ ذَاكَ أَخَاكَ "". فَأَتَيْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَأَخَذْتُ بِمَنْكِبِهِ وَقُلْتُ: وَاللَّهِ، إِنِّي لَأُحِبُّكَ فِي اللَّهِ، وَقَالَ هُوَ: وَإِنِّي أُحِبُّكَ فِي اللَّهِ، وَقُلْتُ: لَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنِي أَنْ أُعْلِمَكَ لَمْ أَفْعَلْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْأَزْرَقِ بْنِ عَلِيٍّ، وَحَسَّانَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that while seated with the Prophet ﷺ a man greeted and departed, he declared love for him, was asked whether he informed him, ordered to inform his brother, then greeted him, seized his shoulder, swore love for Allah, received likewise, and explained he acted only by the Prophet's ﷺ command. > **"Have you informed him? Inform your brother of that. By Allah, I love you in Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں ، نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص آپ کے پاس آیا اس نے سلام کیا اور پھر وہ چلا گیا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم نے اسے بتایا ہے ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! آپ نے فرمایا : تم اپنے بھائی کو یہ بات بتاؤ ! راوی کہتے ہیں : میں اس شخص کے پاس آیا ، میں نے اسے سلام کیا پھر میں نے اس کا کندھا پکڑا اور یہ کہا : اللہ کی قسم ! میں اللہ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں ، تو ان صاحب نے کہا : میں بھی اللہ کی خاطر آپ سے محبت کرتا ہوں ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میں نے کہا : اگر نبی اکرم ﷺ نے مجھے اس بات کا حکم نہ دیا ہوتا کہ میں آپ کو اس بارے میں بتا دوں ، تو میں نے ایسا نہیں کرنا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ازرق بن علی اور حسان بن ابراہیم کا معاملہ مختلف ہے اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔

18036

Majma al-Zawaid #18036

وَعَنْ وَحْشِيِّ بْنِ حَرْبٍ قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَرَّ رَجُلٌ وَرَجُلٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أُحِبُّهُ لِلَّهِ. قَالَ: "" أَعْلَمْتَهُ ذَاكَ؟ "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" قُمْ فَأَعْلِمْهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِسَنَدَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Waḥshī ibn Ḥarb رضي الله عنه narrated that while seated with the Prophet ﷺ a passerby was declared beloved for Allah, and the speaker was asked whether he informed him, then commanded to rise and inform him. > **"Have you informed him of that? Rise and inform him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک شخص گزرا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں ( یعنی اس سے ، جو ابھی پاس سے گزرا ہے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے اسے یہ بات بتائی ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُٹھو اور ( جا کر ) اُسے یہ بتاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

18037

Majma al-Zawaid #18037

وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَبَدِ الْمَوَدَّةَ لِمَنْ وَادَدْتَ ; فَإِنَّهَا هِيَ أَثْبَتُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥumayd al-Sāʿidī رضي الله عنه narrated that he heard the Prophet ﷺ command expression of affection to strengthen it. > **"Express affection to one you befriend, for it is more firmly established."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس سے تم محبت کرتے ہو اس کے سامنے محبت کا اظہار کرو ، کیونکہ اس طرح محبت مضبوط ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18038

Majma al-Zawaid #18038

عَنِ الْحَارِثِ: أَنَّ عَلِيًّا سَأَلَ الْحَسَنَ عَنْ [أَشْيَاءَ مِنْ] أَمْرِ الْمُرُوءَةِ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّ مَا السَّدَادُ؟ قَالَ: يَا أَبَتِ السَّدَادُ رَفْعُ الْمُنْكَرِ بِالْمَعْرُوفِ. قَالَ: فَمَا الشَّرَفُ؟ قَالَ: اصْطِنَاعُ الْعَشِيرَةِ، وَحَمْلُ الْجَرِيرَةِ، وَمُوَافَقَةُ الْإِخْوَانِ، وَحِفْظُ الْجِيرَانِ. قَالَ: فَمَا الْمُرُوءَةُ؟ قَالَ: الْعَفَافُ وَإِصْلَاحُ الْمَالِ. قَالَ: فَمَا الدِّقَّةُ؟ قَالَ: النَّظَرُ فِي الْيَسِيرِ، وَمَنْعُ الْحَقِيرِ. قَالَ: فَمَا اللُّؤْمُ؟ قَالَ: إِحْرَازُ الْمَرْءِ نَفْسَهُ، وَبَذْلُهُ عُرْسَهُ. قَالَ: فَمَا السَّمَاحَةُ؟ قَالَ: الْبَذْلُ مِنَ الْعَسِيرِ وَالْيَسِيرِ. قَالَ: فَمَا الشُّحُّ؟ قَالَ: أَنْ تَرَى مَا أَنْفَقْتَهُ تَلَفًا. قَالَ: فَمَا الْإِخَاءُ؟ قَالَ: الْمُوَاسَاةُ [فِي الشِّدَّةِ وَالرَّخَاءِ]. قَالَ: فَمَا الْجُبْنُ؟ قَالَ: الْجُرْأَةُ عَلَى الصَّدِيقِ، وَالنُّكُولُ عَنِ الْعَدُوِّ. قَالَ: فَمَا الْغَنِيمَةُ؟ قَالَ: الرَّغْبَةُ فِي التَّقْوَى، وَالزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا، هِيَ الْغَنِيمَةُ الْبَارِدَةُ. قَالَ: فَمَا الْحِلْمُ؟ قَالَ: كَظْمُ الْغَيْظِ، وَمِلْكُ النَّفْسِ. قَالَ: فَمَا الْغِنَى؟ قَالَ: رِضَا النَّفْسِ بِمَا قَسَمَ اللَّهُ تَعَالَى لَهَا وَإِنْ قَلَّ، وَإِنَّمَا الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ. قَالَ: فَمَا الْفَقْرُ؟ قَالَ: شَرَهُ النَّفْسِ فِي كُلِّ شَيْءٍ. قَالَ: فَمَا الْمَنَعَةُ؟ قَالَ: شِدَّةُ الْبَأْسِ، وَمُنَازَعَةُ أَشَدِّ النَّاسِ. قَالَ: فَمَا الذُّلُّ؟ قَالَ: الْفَزَعُ عِنْدَ الْمَصْدُوقَةِ. قَالَ: فَمَا الْعِيُّ؟ قَالَ: الْعَبَثُ، وَكَثْرَةُ الْبُزَاقِ عِنْدَ الْمُخَاطَبَةِ. قَالَ: فَمَا الْجُرْأَةُ؟ قَالَ: لِقَاءُ الْأَقْرَانِ. قَالَ: فَمَا الْكُلْفَةُ؟ قَالَ: كَلَامُكَ فِيمَا لَا يَعْنِيكَ. قَالَ: فَمَا الْمَجْدُ؟ قَالَ: أَنْ تُعْطِيَ فِي الْغُرْمِ، وَتَعْفُوَ عَنِ الْجُرْمِ. قَالَ: فَمَا الْعَقْلُ؟ قَالَ: حِفْظُ الْقَلْبِ كُلَّمَا اسْتَوْدَعْتَهُ. قَالَ: فَمَا الْخُرْقُ؟ قَالَ: مُفَارَقَتُكَ إِمَامَكَ، وَرِفْعَتُكَ عَلَيْهِ كَلَامَكَ. قَالَ: فَمَا حُسْنُ الثَّنَاءِ؟ قَالَ: إِتْيَانُ الْجَمِيلِ، وَتَرْكُ الْقَبِيحِ. قَالَ: فَمَا الْحَزْمُ؟ قَالَ: طُولُ الْأَنَاةِ، وَالرِّفْقُ بِالْوُلَاةِ. قَالَ: فَمَا السَّفَهُ؟ قَالَ: [اتِّبَاعُ] الدَّنَاءَةِ وَمُصَاحَبَةُ الْغُوَاةِ. قَالَ: فَمَا الْغَفْلَةُ؟ قَالَ: تَرْكُكَ الْمَسْجِدَ، وَطَاعَةُ الْمُفْسِدِ. قَالَ: فَمَا الْحِرْمَانُ؟ قَالَ: تَرْكُكَ حَظَّكَ وَقَدْ عُرِضَ عَلَيْكَ. قَالَ: فَمَا الْأَحْمَقُ؟ قَالَ: الْأَحْمَقُ فِي مَالِهِ، الْمُتَهَاوِنُ فِي عِرْضِهِ. ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «لَا فَقْرَ أَشَدَّ مِنَ الْجَهْلِ، وَلَا مَالَ أَعَوْدَ مِنَ الْعَقْلِ، وَلَا وَحْشَةَ أَوْحَشَ مِنَ الْعُجْبِ، وَلَا اسْتِظْهَارَ أَوْفَقَ مِنَ الْمُشَاوَرَةِ، وَلَا عَقْلَ كَالتَّدْبِيرِ، وَلَا حَسَبَ كَحُسْنِ الْخُلُقِ، وَلَا وَرَعَ كَالْكَفِّ، وَلَا عِبَادَةَ كَالتَّفْكِيرِ، وَلَا إِيمَانَ كَالْحَيَاءِ وَالصَّبْرِ، وَآفَةُ الْحَدِيثِ الْكَذِبُ، وَآفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَآفَةُ الْحِلْمِ السَّفَهُ، وَآفَةُ الْعِبَادَةِ الْفَتْرَةُ، وَآفَةُ الظَّرْفِ الصَّلَفُ، وَآفَةُ الشَّجَاعَةِ الْبَغْيُ، وَآفَةُ السَّمَاحَةِ الْمَنُّ، وَآفَةُ الْجَمَالِ الْخُيَلَاءُ، وَآفَةُ الْحَسَبِ الْفَخْرُ» "". يَا بُنَيَّ، لَا تَسْتَخِفَّنَّ بِرَجُلٍ تَرَاهُ أَبَدًا، فَإِنْ كَانَ خَيْرًا مِنْكَ فَاحْسَبْ أَنَّهُ أَبَاكَ، وَإِنْ كَانَ مِثْلَكَ فَهُوَ أَخُوكَ، وَإِنْ كَانَ أَصْغَرَ مِنْكَ فَاحْسَبْ أَنَّهُ ابْنُكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو رَجَاءٍ الْحِنْطِيُّ، وَاسْمُهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥārith narrated that ʿAlī رضي الله عنه questioned al-Ḥasan رضي الله عنه concerning manliness: uprightness is repelling wrong through right; nobility is benefiting kin, bearing liabilities, agreeing with brothers, guarding neighbours; manliness is chastity and tending wealth; precision is regard for little and withholding contemptible; vileness is sparing oneself and offering one's family; generosity is spending in hardship and ease; avarice is deeming spent wealth lost; brotherhood is consolation in hardship and ease; cowardice is boldness toward friends and retreat from enemies; spoil is desire for taqwā and detachment, the cool spoil; forbearance is swallowing anger and mastering self; wealth is contentment with apportionment though little, for wealth is soul's wealth; poverty is soul's greed in everything; strength is might and contesting the mighty; humiliation is panic at truth; incapacity is frivolity and spitting when addressed; courage is meeting peers; burden is speech in what concerns not; glory is giving under liability and pardoning offence; intellect is guarding what the heart is entrusted; folly is abandoning one's leader and raising speech above him; good praise is doing beautiful and leaving ugly; prudence is prolonged deliberation and gentleness with rulers; foolishness is following the base and accompanying the errant; heedlessness is abandoning the mosque and obeying the corrupter; deprivation is abandoning one's offered share; the fool is foolish in wealth and negligent in honour. Then ʿAlī said he heard the Messenger of Allah ﷺ say no poverty is severer than ignorance, no wealth more profitable than intellect, no solitude drearier than conceit, no support more availing than consultation, no intellect like planning, no lineage like good character, no scrupulousness like restraint, no worship like reflection, no faith like modesty and patience, while the bane of speech is lying, of knowledge forgetting, of forbearance folly, of worship lassitude, of wit insolence, of courage transgression, of generosity reminding, of beauty vanity, of lineage boasting. Then he counselled his son never to belittle any man seen, deeming the better as father, the equal as brother, the younger as son. > **"No poverty is severer than ignorance, no wealth more profitable than intellect, no solitude drearier than conceit, no support more availing than consultation, no intellect like planning, no lineage like good character, no scrupulousness like restraint, no worship like reflection, and no faith like modesty and patience."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حارث بیان کرتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ سے کچھ ایسی چیزوں کے بارے میں سوال کیا ، جن کا تعلق مروت سے ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : اے میرے بیٹے ! ’’ سداد ‘‘ ( یعنی مستقیم رہنا اور میانہ روی ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اے ابا جان ! ’’ سداد ‘‘ یہ ہے کہ معروف کے ذریعے منکر کو پرے کیا جائے ۔ انہوں نے دریافت کیا : شرف کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : خاندان کے ساتھ بھلائی کرنا ( یعنی کسی دوسرے پر لازم ہونے والے ) جرمانے کی ادائیگی اپنے ذمہ لینا ، بھائیوں کی موافقت کرنا اور پڑوسیوں کا خیال رکھنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : مروت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : پاکدامنی اور مال کی اصلاح ۔ انہوں نے دریافت کیا : دقت ( یعنی باریک بینی ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تھوڑی چیز کے بارے میں غور و فکر کرنا اور حقیر چیز نہ دینا ۔ انہوں نے دریافت کیا :’’ لؤم ‘‘ ( یعنی کمینگی ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : آدمی کا اپنے آپ کو بچانا ۔ انہوں نے دریافت کیا :’’ سماحت ‘‘ ( یعنی مہربانی ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تنگدستی اور تھوڑا ہونے کے باوجود خرچ کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : کنجوسی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ کہ آپ نے جو خرچ کیا ہے ، اس کے بارے میں یہ سمجھیں کہ وہ ضائع ہو گیا ۔ انہوں نے دریافت کیا : بھائی چارہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تنگدستی اور خوشحالی ( یعنی ہر حال ) میں اچھا سلوک کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : بزدلی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : دوست کے خلاف جرأت کرنا اور دشمن ( کے مقابلے ) سے منہ پھیر لینا ۔ انہوں نے دریافت کیا : غنیمت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : تقویٰ میں رغبت رکھنا ، دنیا سے بے نیازی اختیار کرنا ، یہ ٹھنڈی غنیمت ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : بردباری کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : غصے کو پی جانا اور اپنے اوپر قابو رکھنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : خوشحالی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اللہ تعالی نے جو نصیب میں دیا ہے ، اس پر نفس کا راضی رہنا خواہ وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ، کیونکہ اصل خوشحالی ، نفس کی خوشحالی ہوتی ہے ۔ انہوں نے دریافت کیا : غربت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : کسی بھی چیز کے حوالے سے نفس کا سیر نہ ہونا ۔ انہوں نے دریافت کیا :’’ منعۃ ‘‘ ( یعنی غلبہ اور قوت اور روکنے کی صلاحیت ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : طاقتور ہونا اور مضبوط شخص کے ساتھ مقابلہ کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : ذلت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : سچی بات کے وقت گھبرا جانا ۔ انہوں نے دریافت کیا :’’ عی ‘‘ ہونا ( یعنی کلام کرنے سے عاجز ہونا ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : داڑھی کے ساتھ فضول کھیلنا اور گفتگو کے دوران اکثر تھوکنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : جرأت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اپنے ہم پلہ لوگوں سے ملنا ( یا لڑائی کے دوران اپنے ہم پلہ افراد کا سامنا کرنا ) ۔ انہوں نے دریافت کیا : کلفت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : آدمی کا لایعنی گفتگو کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : بزرگی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ کہ تم کسی کے ذمہ ادائیگی میں ( امداد کے طور پر ) دے دو ، اور کسی کے جرم سے درگزر کرو ۔ انہوں نے دریافت کیا : عقل کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : دل کا ہر اس چیز کو محفوظ رکھنا جو اس میں رکھی گئی ہو ۔ انہوں نے دریافت کیا :’’ خرق ‘‘ ( یعنی کسی چیز کو پھاڑ دینا ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : آدمی کا حکمران سے علیحدگی اختیار کرنا اور اس کے مقابلے میں اپنی بات کو بلند کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : اچھی تعریف کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : اچھا کام کرنا اور برے کام کو ترک کر دینا ۔ انہوں نے دریافت کیا : حزم ( یعنی احتیاط ) کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : زیادہ تر الگ تھلگ رہنا اور حکمرانوں کے ساتھ نرمی کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : بیوقوفی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : گھٹیا لوگوں کی پیروی کرنا اور گمراہ لوگوں کے ساتھ بیٹھنا ۔ انہوں نے دریافت کیا : غفلت کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : آدمی کا مسجد کو ترک کر دینا اور فساد پیدا کرنے والے کی اطاعت کرنا ۔ انہوں نے دریافت کیا محرومی کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : آدمی کا اپنے حصے کو ترک کر دینا ، جو اس کے سامنے پیش کیا گیا ہو ۔ انہوں نے دریافت کیا : احمق کون ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جو اپنے مال کے بارے میں حماقت کا مظاہرہ کرے اور اپنی عزت کو ہلکا کرے ۔ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جہالت سے زیادہ سخت فقر ( یعنی غربت ) اور کوئی نہیں ہے اور عقل سے زیادہ بہترین مال اور کوئی نہیں ہے ، اور خودپسندی سے زیادہ وحشت کا شکار کرنے والی چیز اور کوئی نہیں ہے ، اور مشورہ لینے سے زیادہ مناسب طریقہ اور کوئی نہیں ہے ، تدبیر کی مانند کوئی عقلمندی نہیں ہے ، اچھے اخلاق کی مانند کوئی حسب نہیں ہے ، احتیاط ( یا بچاؤ ) کی مانند کوئی پرہیزگاری نہیں ہے ، غور و فکر کی مانند کوئی عبادت نہیں ہے ، حیاء اور صبر کی مانند کوئی ایمان ( یعنی عمل ) نہیں ہے اور بات چیت کی آفت ، جھوٹ بولنا ہے اور علم کی آفت بھول جانا ہے ، بردباری کی آفت ، بیوقوفی ہے ، عبادت کی آفت ، وقفہ کرنا ہے ، ظرف کی آفت ، تکبر ہے ، بہادری کی آفت سرکشی ہے ، مہربانی کی آفت احسان جتانا ہے ، خوبصورتی کی آفت تکبر ہے اور حسب کی آفت فخر ہے ۔‘‘ پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم جب بھی جس بھی شخص کو دیکھو ، اسے کبھی بھی کمتر نہیں سمجھنا ، اگر وہ تم سے بہتر ہو ، تو تم یہ گمان کرنا کہ وہ تمہارے باپ کی جگہ ہے ، اگر وہ تمہارے جیسا ہو ، تو تم یہ گمان کرنا کہ وہ تمہارا بھائی ہے ، اور اگر وہ تم سے چھوٹا ہو ، تو تم یہ گمان کرنا کہ وہ تمہارے بیٹے کی جگہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابورجاء حنطی ہے ، اس کا نام محمد بن عبداللہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔

18039

Majma al-Zawaid #18039

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَنْ لَمْ تَكُنْ فِيهِ وَاحِدَةٌ مِنْ ثَلَاثٍ فَلَا يَعْتَدُّ بِشَيْءٍ مِنْ عَمَلٍ: تَقْوَى تَحْجِزُهُ عَنَ الْمَحَارِمِ، أَوْ حِلْمٍ يَكُفُّ بِهِ السَّفِيهَ، أَوْ خُلُقٌ يَعِيشُ بِهِ فِي النَّاسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: أَبُو حَاتِمٍ يَكْتُبُ حَدِيثَهُ، وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها narrated that she heard the Messenger of Allah ﷺ say whoever lacks one of three should count no deed: taqwā restraining from prohibitions, forbearance repelling the fool, or character for living among people. > **"Whoever lacks one of three should count no deed: taqwā restraining him from prohibitions, forbearance with which he repels the fool, or character with which he lives among people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جس شخص میں ، تین میں سے کوئی ایک چیز نہ ہو ، وہ عمل کے حوالے سے کوئی چیز شمار نہ کرے ، ایسا تقومی جو اسے حرام چیزوں کے ارتکاب سے روک دے ، ایسی بردباری جس کے ذریعے وہ کسی بے وقوف کا سامنا کر سکے یا وہ اخلاق ، جن کے ذریعے وہ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مسلم بن ہرمز ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا یہ قومی نہیں ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18040

Majma al-Zawaid #18040

عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «قَالَ رَبُّكُمْ: ابْنَ آدَمَ، تَفَرَّغْ لِعِبَادَتِي أَمْلَأْ قَلْبَكَ غِنًى، وَأَمْلَأْ يَدَيْكَ رِزْقًا، ابْنَ آدَمَ، لَا تُبَاعِدْ مِنِّي أَمْلَأْ قَلْبَكَ فَقْرًا، وَأَمْلَأْ يَدَيْكَ شُغْلًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَلَّامٌ الطَّوِيلُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Maʿqil ibn Yasār رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ conveyed his Lord's address commanding devotion to worship with fullness of heart and hands, warning distance brings poverty of heart and occupation of hands. > **"Your Lord says: Son of Ādam, devote yourself to My worship and I fill your heart with richness and your hands with provision. Son of Ādam, do not distance yourself from Me, lest I fill your heart with poverty and your hands with occupation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارا پروردگار فرماتا ہے : اے ابن آدم ! میری عبادت کے لیے فراغت اختیار کر لو ، میں تمہارے دل کو غنا سے بھر دوں گا ، اور تمہارے دونوں ہاتھوں کو رزق سے بھر دوں گا ، اے ابن آدم ! تم مجھ سے دوری اختیار نہ کرنا ، ورنہ میں تمہارے دل کو غربت سے بھر دوں گا اور تمہارے دونوں ہاتھوں کو مصروفیت سے بھر دوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلام طویل ہے اور وہ متروک ہے ۔