Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 11

Book of Asceticism

Hadith 18041–18080

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18041

Majma al-Zawaid #18041

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمِنْبَرِ وَالنَّاسُ حَوْلَهُ: "" أَيُّهَا النَّاسُ، اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَنَسْتَحْيِي مِنَ اللَّهِ تَعَالَى! فَقَالَ: مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُسْتَحْيِيًا فَلَا يَبِيتَنَّ لَيْلَةً إِلَّا وَأَجَلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَلْيَحْفَظِ الْبَطْنَ وَمَا وَعَى، وَالرَّأْسَ وَمَا حَوَى، وَلْيَذْكُرِ الْمَوْتَ وَالْبِلَى. وَلْيَتْرُكْ زِينَةَ الدُّنْيَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ addressed people around the pulpit commanding true modesty, and when a man claimed modesty, explained it as keeping the term before eyes nightly, guarding belly and head with what they contain, remembering death and decay, and abandoning adornment. > **"O people, be modest before Allah with true modesty. Whoever among you is modest should not spend a night except with his term before his eyes; let him guard the belly and what it holds, the head and what it contains; let him remember death and decay; and let him abandon the adornment of this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے منبر پر ارشاد فرمایا ، اس وقت آپ کے اردگرد لوگ موجود تھے : ’’ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ سے یوں حیاء کرو ، جو حیاء کرنے کا حق ہے ۔‘‘ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اللہ تعالیٰ سے حیاء کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے جو شخص حیاء کرنے والا ہو ، وہ رات نہ گزارے ، مگر یہ کہ اس کی اجل اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ہو اور وہ پیٹ اور جو پیٹ کے اندر ہے اور سر اور جو سر میں ہے ، اس کی حفاظت کرے اور وہ موت اور ( اپنے جسم کے ) بوسیدہ ہو جانے کو یاد کرے ، اور دنیا کی زینت ترک کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اسماعیل بن ابوحبیبہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

18042

Majma al-Zawaid #18042

وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اسْتَحْيُوا مِنَ اللَّهِ حَقَّ الْحَيَاءِ، احْفَظُوا الرَّأْسَ وَمَا حَوَى، وَالْبَطْنَ وَمَا وَعَى، وَاذْكُرُوا الْمَوْتَ وَالْبِلَى، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ ثَوَابُهُ جَنَّةُ الْمَأْوَى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥakam ibn ʿUmayr رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ commanded true modesty through guarding head and belly and remembering death and decay, promising the Garden of Refuge. > **"Be modest before Allah with true modesty. Guard the head and what it holds, the belly and what it contains, remember death and decay. Whoever does that, his reward is the Garden of Refuge."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالی سے یوں حیاء کرو ، جو حیاء کرنے کا حق ہے ، سر اور جو اس میں ہے ، پیٹ اور جو اس میں ہے ، ان کی حفاظت کرو ، موت اور بوسیدہ ہو جانے کو یاد رکھو ، جو شخص ایسا کرے گا ، اس کا ثواب جنت الماویٰ ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابراہیم قرشی ہے اور وہ متروک ہے ۔

18043

Majma al-Zawaid #18043

وَعَنْ أُمِّ الْوَلِيدِ بِنْتِ عُمَرَ قَالَتْ: «اطَّلَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ عَشِيَّةٍ فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَلَا تَسْتَحْيُونَ؟ "". قَالُوا: مِمَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" تَجْمَعُونَ مَا لَا تَأْكُلُونَ، وَتَبْنُونَ مَا لَا تُعَمِّرُونَ، وَتَأْمُلُونَ مَا لَا تُدْرِكُونَ. أَلَا تَسْتَحْيُونَ مِنْ ذَلِكَ؟» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Umm al-Walīd bint ʿUmar رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ looked out one evening asking people whether they feel no shame in gathering uneaten, building uninhabited, and hoping unattained. > **"O people, do you feel no shame? You gather what you do not eat, build what you do not inhabit, and hope for what you do not attain. Do you feel no shame at that?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام ولید بنت عمر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک شام نبی اکرم ﷺ نے متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! کیا تم حیاء نہیں کرتے ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کس سے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس کو جمع کرتے ہو جو تم نے کھانا نہیں ہو گا ، ایسی تعمیر کرتے ہو ، جسے تم نے ( ہمیشہ ) آباد نہیں رکھنا ، اس چیز کے بارے میں خواہش رکھتے ہو ، جس تک تم نہیں پہنچ پاؤ گے ، کیا تم اس سے حیاء نہیں کرتے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔

18044

Majma al-Zawaid #18044

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ الْأَزْدِيِّ: أَنَّهُ «قَالَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَوْصِنِي. قَالَ: "" أُوصِيكَ أَنْ تَسْتَحْيِيَ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - كَمَا تَسْتَحْيِي مِنَ الرَّجُلِ الصَّالِحِ مِنْ قَوْمِكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Yazīd al-Azdī رضي الله عنه narrated that he asked the Prophet ﷺ for counsel and was counselled to modesty before Allah as before a righteous man of his people. > **"I counsel you to be modest before Allah as you are modest before a righteous man of your people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن یزید ازدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں گزارش کی ، آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہیں یہ تلقین کرتا ہوں کہ تم اللہ تعالی سے یوں حیاء کرنا ، جس طرح تم اپنی قوم کے کسی نیک شخص سے حیاء کرتے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی ہے ، اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18045

Majma al-Zawaid #18045

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: [لَقَدْ] كَانَ أَحَدُنَا يَكُفُّ عَنِ الشَّيْءِ، وَهُوَ وَهِيَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ تَخَوُّفًا أَنْ يَنْزِلَ فِيهِ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه narrated that one of them would refrain from a thing, though he and it were under one garment, fearing a Qurʾānic ruling descend concerning it. One of us would refrain from a thing, though he and it were in one garment, fearing that something of the Qurʾān descend concerning it.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم میں سے کوئی ایک شخص کسی چیز سے رک جاتا تھا حالانکہ وہ شخص اور وہ چیز ایک ہی کپڑے میں ہوتے تھے ، وہ اس خوف کی وجہ سے رک جاتا تھا کہ کہیں اس کے بارے میں قرآن کا کوئی حکم نازل نہ ہو جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18046

Majma al-Zawaid #18046

عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ يُقَالُ: إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى: إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَاصْنَعْ مَا شِئْتَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ reported from the earliest prophetic speech concerning shamelessness. > **"It was said: Among what people retained from the earliest prophetic speech is: If you feel no shame, do as you wish."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ یہ بات کہی جاتی ہے : کہ لوگوں نے پہلی نبوت کے کلام میں سے جو چیز پائی ہے ، اُن میں سے ایک بات یہ ہے : ’’ جب تم حیاء نہیں کرتے ، تو پھر تم جو چاہو کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

18047

Majma al-Zawaid #18047

وَعَنْ شُوَيْفِعٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ لَمْ يَسْتَحْيِ بِمَا قَالَ أَوْ قِيلَ، فَهُوَ لِغَيْرِ رُشْدِهِ، وَلَدَتْهُ أُمُّهُ عَلَى غَيْرِ طُهْرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Shuwayfiʿ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said whoever feels no shame at what he says or is said lacks sound conduct and birth purity. > **"Whoever feels no shame at what he says or what is said is not upon sound conduct; his mother bore him without purity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شویفع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اس بارے میں حیاء نہیں کرتا ، جو اس نے کہا ہو ، یا جو کہا گیا ہو ، تو وہ سمجھ داری پر نہیں ہوتا ، اور اس کی ماں نے اسے غیر طہر حالت میں جنم دیا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18048

Majma al-Zawaid #18048

عَنْ سَخْبَرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أُعْطِيَ فَشَكَرَ، وَابْتُلِيَ فَصَبَرَ، وَظَلَمَ فَاسْتَغْفَرَ، وَظُلِمَ فَغَفَرَ "". ثُمَّ سَكَتَ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لَهُ؟ قَالَ: "" أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ، وَهُوَ مُهْتَدُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو دَاوُدَ الْأَعْمَى، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Sakhbarah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ described one given who thanks, tried who endures, wronging who seeks forgiveness, wronged who pardons, then fell silent, and when asked what is his, declared security and guidance. > **"Whoever is given and thanks, is tried and endures, wrongs and seeks forgiveness, is wronged and pardons. Those have security, and they are guided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سخبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کو دیا جائے ، تو وہ شکر کرے اور اگر آزمائش میں مبتلا کیا جائے تو وہ صبر کرے ، اگر وہ ظلم کرے تو مغفرت طلب کرے اور اگر اس پر ظلم کیا جائے تو وہ معاف کر دے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد نبی اکرم ﷺ خاموش ہو گئے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کو کیا ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں ، جن کے لئے امن ہو گا اور یہ لوگ ہدایت یافتہ ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوداؤد نابینا ہے اور وہ متروک ہے ۔

18049

Majma al-Zawaid #18049

وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الصَّبْرُ وَالِاحْتِسَابُ هُنَّ عِتْقُ الرِّقَابَ، وَيُدْخِلُ اللَّهُ صَاحِبَهُنَّ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْقُرَشِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥakam ibn ʿUmayr رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said patience and expectation emancipate necks and admit their people to Paradise without reckoning. > **"Patience and expectation are emancipation of necks, and Allah admits their people to Paradise without reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حکم بن عمیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ صبر کرنا اور ثواب کی امید رکھنا ، یہ گردنیں آزاد کرنا ہے اور یہ کام کرنے والوں کو اللہ تعالی کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن ابراہیم قرشی ہے اور وہ متروک ہے ۔

18050

Majma al-Zawaid #18050

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَرْبَعٌ لَا يُصَبْنَ إِلَّا بِعُجْبٍ: الصَّبْرُ، وَهُوَ أَوَّلُ الْعِبَادَةِ، وَالتَّوَاضُعُ، وَذِكْرُ اللَّهِ، وَقِلَّةُ الشَّيْءِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْعَوَّامُ بْنُ جُوَيْرِيَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ أَخْرَجَ لَهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ mentioned four attained only through wonder: patience which is the beginning of worship, humility, remembrance of Allah, and scarcity. > **"Four are attained only through wonder: patience, which is the beginning of worship; humility; remembrance of Allah; and scarcity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ چار چیزیں ایسی ہیں ، جو صرف حیرت انگیز ہونے کے طور پر ملتی ہیں ، صبر ، یہ عبادت کا آغاز ہے ، تواضع ، اللہ تعالیٰ کا ذکر اور چیز کا کم ہونا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عوام بن جویریہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام حاکم نے اس کے حوالے سے ’’ مستدرک ‘‘ میں روایت نقل کی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18051

Majma al-Zawaid #18051

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَا تَكُونُ زَاهِدًا حَتَّى تَكُونَ مُتَوَاضِعًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَعْقُوبُ: أَبُو يُوسُفَ، وَهُوَ كَذَّابٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي التَّوَاضُعِ فِي كِتَابِ الْأَدَبِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ conditioned detachment upon humility. > **"You are not detached until you are humble."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم اس وقت تک زاہد نہیں ہو سکتے ، جب تک تم متواضع نہیں ہوتے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یعقوب ابویوسف ہے اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : تواضع کے بارے میں کچھ احادیث کتاب الادب میں گزر چکی ہیں ۔

18052

Majma al-Zawaid #18052

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ وَمَا يَرَى أَحَدٌ مِنَّا أَنَّهُ أَحَقُّ بِالدِّينَارِ وَالدِّرْهَمِ مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ الدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ أَحَبُّ إِلَيْنَا مِنْ أَخِينَا الْمُسْلِمِ. قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَبَعْضُهَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that a time passed when none deemed himself more deserving of dīnār and dirham than his Muslim brother, then a time came when wealth grew dearer than the brother, and the rest of the report was mentioned. A time passed over us when none among us deemed himself more deserving of the dīnār and dirham than his Muslim brother. A time has passed over us when the dīnār and dirham are dearer to us than our Muslim brother.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم پر ایک ایسا زمانہ آیا تھا کہ ہم میں سے ہر ایک شخص یہ سمجھتا تھا کہ وہ دینار یا درہم کے بارے میں اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ حق دار نہیں ہے اور اب ہم پر ایسا زمانہ آ گیا ہے ، جس میں دینار اور درہم ہمارے نزدیک اپنے مسلمان بھائی سے زیادہ محبوب نہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض حسن ہیں ۔

18053

Majma al-Zawaid #18053

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمَى سَقِيمَهُ الْمَاءَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Rāfiʿ ibn Khadīj رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ likened Allah's shielding of the beloved servant from this world to shielding the sick from water. > **"When Allah loves a servant He shields him from this world as one of you shields his sick from water."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے یوں بچاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18054

Majma al-Zawaid #18054

وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ رَافِعٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَحْمِي أَحَدُكُمْ مَرِيضَهُ الْمَاءَ لِيُشْفَى» "". رَوَاهُ أَبُو يُعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn Rāfiʿ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ likened Allah's shielding of the beloved from this world to shielding the sick from water for healing. > **"When Allah loves a servant He shields him from this world as one of you shields his sick from water that he may heal."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن رافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب اللہ تعالی کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے یوں بچاتا ہے جس طرح تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بیمار کو پانی سے بچاتا ہے تاکہ وہ شفایاب ہو جائے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18055

Majma al-Zawaid #18055

وَعَنْ سَاعِدَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ حُذَيْفَةَ: «أَنَّ حُذَيْفَةَ كَانَ يَقُولُ: مَا مِنْ يَوْمٍ أَقَرَّ لِعَيْنِي وَلَا أَحَبَّ لِنَفْسِي مِنْ يَوْمٍ آتِي أَهْلِي فَلَا أَجِدُ عِنْدَهُمْ طَعَامًا، وَيَقُولُونَ: مَا نَقْدِرُ عَلَى قَلِيلٍ وَلَا كَثِيرٍ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ اللَّهَ أَشَدُّ حَمِيَّةً لِلْمُؤْمِنِ مِنَ الدُّنْيَا مِنَ الْمَرِيضِ أَهْلُهُ مِنَ الطَّعَامِ، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - أَشَدُّ تَعَاهُدًا لِلْمُؤْمِنِ بِالْبَلَاءِ مِنَ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ بِالْخَيْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Sāʿidah ibn Saʿd ibn Ḥudhayfah narrated that Ḥudhayfah رضي الله عنه said no day delighted his eyes and soul more than returning home to find no food great or small, and reported hearing the Messenger of Allah ﷺ say Allah shields the believer from this world more jealously than a patient's family from food, and tends him through trial more than a father his child in good. > **"Allah shields the believer from this world more jealously than a patient's family shields him from food, and Allah tends the believer through trial more than a father tends his child in good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ساعده بن سعد بن حذیفہ بیان کرتے ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ یہ فرماتے تھے : ’’ کوئی بھی دن میری آنکھوں کے لیے اس دن سے زیادہ ٹھنڈا اور میرے من کے لیے اس دن سے زیادہ پسندیدہ نہیں ہے جس دن میں اپنے گھر آؤں اور میں اپنے گھر والوں کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ پاؤں ، اور وہ یہ کہیں کہ ہمارے پاس تھوڑی یا زیادہ کوئی چیز نہیں ہے ، حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ مومن کو دنیا سے اس سے زیادہ سختی سے بچاتا ہے ، جتنا بیمار کے اہل خانہ اسے کھانے سے بچاتے ہیں اور مومن کی آزمائش میں اللہ تعالٰیٰ اس کا اس سے زیادہ خیال رکھتا ہے جتنا والد بھلائی کے ہمراہ اولاد کا خیال رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18056

Majma al-Zawaid #18056

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللَّهُمَّ مَنْ آمَنَ بِي وَصَدَّقَنِي، وَيَعْلَمُ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ، فَأَقْلِلْ مَالَهُ وَوَلَدَهُ، وَعَجِّلْ قَبْضَهُ. اللَّهُمَّ وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِي وَلَمْ يُصَدِّقْنِي، وَيَعْلَمْ أَنَّ مَا جِئْتُ بِهِ هُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِكَ ; فَأَكْثِرْ مَالَهُ، وَوَلَدَهُ، وَأَطِلْ عُمْرَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ supplicated that whoever believes him and knows his truth receive little wealth and offspring and hastened seizure, and whoever disbelieves though knowing receive abundance and long life. > **"O Allah, whoever believes in me, confirms me, and knows that what I brought is truth from You, lessen his wealth and offspring and hasten his seizure. O Allah, whoever disbelieves in me, denies me, though knowing that what I brought is truth from You, increase his wealth and offspring and lengthen his life."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! جو شخص مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے اور وہ یہ بات جان لے کہ میں جو لے کے آیا ہوں وہ تیری طرف سے آنے والا حق ہے ، تو اس شخص کے مال اور اولاد کو کم کر دینا اور اسے جلدی موت دے دینا ، اے اللہ ! اور جو شخص مجھ پر ایمان نہ لائے اور میری تصدیق نہ کرے اور وہ یہ بات جانتا ہو کہ میں جو لے کے آیا ہوں وہ تیری طرف سے آنے والا حق ہے ، تو اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر دینا اور اس کی عمر کو طویل کر دینا ۔‘‘ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے اور وہ متروک ہے ۔

18057

Majma al-Zawaid #18057

وَعَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللَّهُمَّ مَنْ آمَنَ بِكَ، وَشَهِدَ أَنِّي رَسُولُكَ فَحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ، وَسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ، وَأَقْلِلْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَنْ لَمْ يُؤْمِنْ بِكَ، وَيَشْهَدْ أَنِّي رَسُولُكَ فَلَا تُحَبِّبْ إِلَيْهِ لِقَاءَكَ، وَلَا تُسَهِّلْ عَلَيْهِ قَضَاءَكَ، وَكَثِّرْ لَهُ مِنَ الدُّنْيَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Faḍālah ibn ʿUbayd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ supplicated that believers witnessing his messengership receive love of meeting Allah, ease of decree, and little world, and disbelievers the opposite with abundance. > **"O Allah, whoever believes in You and testifies I am Your Messenger, endear meeting You to him, ease Your decree for him, and lessen this world for him. Whoever disbelieves in You and does not testify I am Your Messenger, do not endear meeting You to him, do not ease Your decree for him, and increase this world for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! جو شخص مجھ پر ایمان لائے اور وہ اس بات کی گواہی دے کہ میں تیرا رسول ہوں ، تو اپنی بارگاہ میں حاضری اس کے نزدیک محبوب کر دینا اور اپنے ( تقدیر کے ) فیصلے کو اس کے لیے آسان کر دینا ، اسے دنیا تھوڑی دینا اور جو شخص مجھ پر ایمان نہ لائے اور اس بات کی گواہی نہ دے کہ میں تیرا رسول ہوں ، تو اپنی بارگاہ میں حاضری اس کے نزدیک محبوب نہ کرنا اور اپنے ( تقدیر کے ) فیصلے کو اس کے لیے آسان نہ کرنا اور اسے دنیا بکثرت دینا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18058

Majma al-Zawaid #18058

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الزُّهْدُ فِي الدُّنْيَا يُرِيحُ الْقَلْبَ وَالْجَسَدَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَشْعَثُ بْنُ نِزَارٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said detachment rests heart and body. > **"Detachment in this world rests the heart and body."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا سے بے رغبتی ، دل اور جسم کو راحت دیتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن نزار ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال میں سے بعض کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔

18059

Majma al-Zawaid #18059

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «مَا تَزَيَّنَ الْأَبْرَارُ فِي الدُّنْيَا بِمِثْلِ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ الشَّاذْكُونِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say the righteous are adorned with nothing like detachment. > **"The righteous are not adorned in this world with anything like detachment in this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ نیک لوگ دنیا میں کسی ایسی چیز سے آراستہ نہیں ہوئے ، جو دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے کی مانند ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان شاذ کونی ہے اور وہ متروک ہے ۔

18060

Majma al-Zawaid #18060

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا رَأَيْتُمْ مَنْ يَزْهَدُ فِي الدُّنْيَا فَادْنُوَا مِنْهُ ; فَإِنَّهُ يَلْقَى الْحِكْمَةَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ هَارُونَ الْبَلْخِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Jaʿfar رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ commanded nearness to the detached for they receive wisdom. > **"When you see one detached in this world, draw near to him, for he receives wisdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم کسی کو دیکھو کہ وہ دنیا سے بے رغبت ہے ، تو اس کے قریب رہو ، کیونکہ اسے حکمت عطا کی گئی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہارون بلخی ہے اور وہ متروک ہے ۔

18061

Majma al-Zawaid #18061

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كَانَ فِي بِنِي إِسْرَائِيلَ تَاجِرٌ، وَكَانَ يُنْقِصُ مَرَّةً، وَيَزِيدُ أُخْرَى، فَقَالَ: مَا فِي هَذِهِ التِّجَارَةِ خَيْرٌ، لَأَلْتَمِسَنَّ تِجَارَةً هِيَ خَيْرٌ مِنْ هَذِهِ، فَبَنَى صَوْمَعَةً وَتَرَهَّبَ فِيهَا [وَكَانَ يُقَالُ لَهُ جُرَيْجٌ]» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ told of a merchant among Banū Isrāʾīl who gave short and excess by turns, deemed commerce void of good, sought better commerce, built a cell, adopted monastic life, and was called Jurayj. > **"Among Banū Isrāʾīl was a merchant who gave short at times and excess at others. He said: There is no good in this commerce; I shall seek commerce better than it. So he built a cell and adopted monastic life therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بنی اسرائیل میں ایک تاجر تھا ، وہ بھی کم ادائیگی کرتا تھا کبھی زیادہ کر دیتا تھا ، اس نے سوچا اس تجارت میں بھلائی نہیں ہے مجھے کوئی ایسی تجارت تلاش کرنی چاہیے ، جو اس سے بہتر ہو ، اس نے ایک عبادت خانہ تعمیر کیا اور اس میں رہبانیت کی زندگی گزارنے لگا ، اس کا نام جریج تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

18062

Majma al-Zawaid #18062

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَلَا إِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ، وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ، وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِنْكَ بِمَا فِي يَدَيِ اللَّهِ، وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَصَبْتَ بِهَا أَرْغَبَ مِنْكَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا بَقِيَتْ لَكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ: كَانَ صَدُوقًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ explained detachment is not prohibiting lawful nor wasting wealth, but trusting what is with Allah over what is in hand and preferring reward of calamity over its continuance. > **"Detachment in this world is not prohibiting the lawful nor wasting wealth. Rather detachment is that you trust what is in Allah's Hands more than what is in your hands, and that amid calamity you desire its reward more than its continuance for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ تیر کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ خبردار ! دنیا سے بے رغبتی کا اختیار کرنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ حلال چیز کو حرام قرار دے دیا جائے ، یا مال کو ضائع کر دیا جائے ، بلکہ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے سے مراد یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ تمہارے نزدیک اس سے زیادہ قابل اعتماد نہیں ہونا چاہیے ، جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور یہ کہ جب تم کسی مصیبت کا شکار ہو جاؤ تو تمہیں اس مصیبت کے ثواب کے حصول کی خاطر اس مصیبت میں دلچسپی ہونی چاہیے کہ کاش مصیبت تمہارے لئے باقی رہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن واقد ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا سے محمد بن مبارک کہتے ہیں : وہ صدوق ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18063

Majma al-Zawaid #18063

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ - قَالَ: «صَلَاحُ أَوَّلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِالزَّهَادَةِ وَالْيَقِينِ، وَهَلَاكُهَا بِالْبُخْلِ وَالْأَمَلِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنه narrated, in apparently marfūʿ form, that the soundness of this Ummah's first is through detachment and certainty, and its ruin through miserliness and hope. > **"The soundness of the first of this Ummah is through detachment and certainty, and its ruin is through miserliness and hope."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے اسے مرفوع حدیث کے طور پر نقل کیا ہے ، یعنی نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ اس امت کے ابتدائی حصے کی بہتری ، دنیا سے بے رغبتی اور یقین کے ذریعے ہو گی ، اور ان کی ہلاکت بخل اور امیدوں کی وجہ سے ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18064

Majma al-Zawaid #18064

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَا الْغِنَى؟ قَالَ: "" الْيَأْسُ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زِيَادٍ الْعِجْلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ was asked what richness is and answered despair of people's possessions. > **"He was asked: What is richness? He said: Despair of what is in people's hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا : خوشحالی کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جو کچھ لوگوں کے پاس ہے ، اس سے مایوس ہو جانا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن زیاد عجلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

18065

Majma al-Zawaid #18065

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ قَدْ أَلْقَاهَا أَهْلُهَا فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ passed a dead ewe cast by its owners and swore this world is lighter to Allah than it to them. > **"By Him in Whose Hand is my soul, this world is lighter to Allah than this is to its owners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک مردار بکری کے پاس سے ہوا ، جس کے مالکان نے اسے پھینک دیا تھا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ یعنی بکری اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مصعب ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18066

Majma al-Zawaid #18066

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِسَخْلَةٍ جَرْبَاءَ قَدْ أَخْرَجَهَا أَهْلُهَا، قَالَ: "" أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا؟ "". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو الْمُهَزِّمِ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ passed a mangy kid expelled by its owners, asked whether they deem it trifling, was answered yes, and declared this world lighter to Allah than it to them. > **"Do you deem this trifling to its owners? This world is lighter to Allah than this is to its owners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک خارش زدہ مردار بکری کے پاس سے ہوا ، جس کے مالکان نے اسے نکال دیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ ( بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ ( بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہزم ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18067

Majma al-Zawaid #18067

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ "". فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ "". فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تَجِدُونَهُ رَاعِيَ غَنَمٍ، أَوْ عَازِبًا عَنْ أَهْلِهِ "". فَلَمَّا هَبَطَ الْوَادِيَ مَرَّ عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ فَقَالَ: "" أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا؟ لَلدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ أَهْوَنُ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Rabīʿah al-Sulamī رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ travelled, heard a caller to prayer, repeated both testimonies after him, remarked the caller will be found a shepherd or estranged from family, then descended a valley, passed a discarded kid, and asked whether they deem it trifling, declaring this world lighter to Allah than it to them. > **"I testify there is no deity but Allah. I testify Muḥammad is Allah's Messenger. You will find him a shepherd or estranged from his family. Do you deem this trifling to its owners? This world is lighter to Allah than this is to its owners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ربیعہ اسلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سفر کر رہے تھے ، اسی دوران آپ نے ایک اذان دینے والے کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے ، مؤذن نے کہا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اسے یا تو چرواہا پاؤ گے یا یہ کوئی ایسا فرد ہو گا جو گھر سے دور ہو ۔ جب نبی اکرم ﷺ نشیبی علاقے کی طرف اُترے تو آپ نے ایک مردار بکری پائی جس کو پھینک دیا گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ؟ دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ ہے حیثیت ہے جتنی یہ ( بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18068

Majma al-Zawaid #18068

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِدِمْنَةِ قَوْمٍ فِيهَا سَخْلَةٌ مَيِّتَةٌ فَقَالَ: "" مَا لِأَهْلِهَا فِيهَا حَاجَةٌ "". فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ كَانَ لِأَهْلِهَا فِيهَا حَاجَةٌ مَا نَبَذُوهَا. فَقَالَ: "" وَاللَّهِ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ السَّخْلَةِ عَلَى أَهْلِهَا، فَلَا أَلْفِيَنَّهَا أَهْلَكَتْ أَحَدًا مِنْكُمْ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ passed a people's dunghill with a dead kid, asked whether its owners need it, was told had they needed it they would not discard it, then swore this world is lighter to Allah than it to them and warned against being ruined by it. > **"By Allah, this world is lighter to Allah than this kid is to its owners, so let me never find it has ruined anyone among you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک قوم کے کچرے کے پاس سے ہوا ، جہاں ایک مردار بکری موجود تھی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا اس کے مالکان کو اس کی ضرورت نہیں ہو گی ؟ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر اس کے مالکان کو اس کی ضرورت ہوتی تو انہوں نے اسے پھینکنا نہیں تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے ، جتنی یہ بکری اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے اور میں اس ( یعنی دنیا ) کو ایسی حالت میں ہرگز نہ پاؤں ، کہ اُس نے تم میں سے کسی کو ہلاکت کا شکار کر دیا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18069

Majma al-Zawaid #18069

وَعَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ فَقَالَ: "" لَلدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ أَهْوَنُ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ passed a dead ewe and declared this world lighter to Allah than it to its owners. > **"This world is lighter to Allah than this is to its owners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک مردار بکری کے پاس سے ہوا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے ، جتنی یہ ( یعنی بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18070

Majma al-Zawaid #18070

وَعَنْ أَبِي مُوسَى: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِسَخْلَةٍ أَتَى عَلَيْهَا: "" أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا؟ "". قَالُوا: نَعَمْ. يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا حِينَ أَلْقَوْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ وَهْبُ بْنِ يَحْيَى بْنِ زِمَامٍ الْعَلَّافُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ, upon a kid he came to, asked whether they deem it trifling when they cast it, was answered yes, and declared this world lighter to Allah than it to them when they cast it. > **"Do you deem this trifling to its owners when they cast it? This world is lighter to Allah than this is to its owners when they cast it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک مردار بکری کے پاس سے گزرے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ یہ اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت تھی ؟ اسی لئے انہوں نے اسے پھینک دیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ ( یعنی بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے جب انہوں نے اسے پھینک دیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وہب بن یحیی بن زمام علاف ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18071

Majma al-Zawaid #18071

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ مَنْزِلِهِ وَمَعَهُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَخَذَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، فَمَرَّ بِفِنَاءِ قَوْمٍ وَسَخْلَةٌ مَيِّتَةٌ مَطْرُوحَةٌ بِفِنَائِهِمْ، فَقَامَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَنْظُرُ إِلَيْهَا، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: " تَرَوْنَ هَذِهِ السَّخْلَةَ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا إِذْ طَرَحُوهَا؟ ". فَقَالُوا: نَعَمْ. يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ: " وَاللَّهِ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ السَّخْلَةِ عَلَى أَهْلِهَا إِذْ طَرَحُوهَا». هَكَذَا رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ left his house with companions, took a Madīnan path, passed a courtyard with a dead kid cast therein, stood beholding it, asked whether they deem it trifling when they cast it, was answered yes, and swore this world is lighter to Allah than it to them when they cast it. > **"Do you deem this kid trifling to its owners when they cast it? By Allah, this world is lighter to Allah than this kid is to its owners when they cast it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ تشریف لے جا رہے تھے ، آپ کے ساتھ آپ کے کچھ اصحاب بھی تھے ، آپ مدینہ منورہ کے ایک راستے سے گزر رہے تھے ، آپ کا گزر کسی کے گھر کے باہر والے حصے کے پاس سے ہوا تو وہاں ان لوگوں نے اپنی ایک مردار بکری باہر پھینکی ہوئی تھی ، نبی اکرم ﷺ اس کے پاس ٹھہر گئے اور اس کی طرف دیکھنے لگے ، پھر آپ اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ نے دریافت کیا : کیا تم یہ سمجھتے ہو ، یہ اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ، جبھی انہوں نے اس کو پھینک دیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! دنیا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ بکری اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ، جب انہوں نے اسے پھینک دیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اسی طرح معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18072

Majma al-Zawaid #18072

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: "" «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ السَّخْلَةِ عَلَى أَهْلِهَا، وَلَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ لَمْ يُعْطِهَا إِلَّا لِأَوْلِيَائِهِ وَأَحْبَابِهِ مِنْ خَلْقِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَابَلُتِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ swear this world is lighter to Allah than this kid to its owners, and had it equalled a mustard grain He would have given it only to His allies and beloved creation. > **"By Him in Whose Hand is my soul, this world is lighter to Allah than this kid is to its owners. Had this world equalled with Allah a mustard grain, He would have given it only to His allies and beloved among His creation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، بے شک دنیا اللہ تعالی کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ بکری اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے ، اگر اللہ تعالی کے نزدیک دنیا کی حیثیت رائی کے دانے کے وزن کے برابر ہوتی تو اللہ تعالی نے دنیا اپنی مخلوق میں سے صرف اپنے اولیاء اور اپنے محبوب بندوں کو ہی دینی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبداللہ بابلتی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18073

Majma al-Zawaid #18073

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَوْ كَانَتِ الدُّنْيَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّهِ جَنَاحَ بَعُوضَةٍ مَا أَعْطَى كَافِرًا مِنْهَا شَيْئًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said had this world equalled a gnat's wing with Allah, no disbeliever would be given aught thereof. > **"Had this world equalled with Allah a gnat's wing, He would not have given a disbeliever aught thereof."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر ہوتی تو اس نے دنیا میں سے کافر کو کوئی بھی چیز نہیں دینی تھی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی صالح مولیٰ توامہ ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18074

Majma al-Zawaid #18074

عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ الْفِهْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «وَاللَّهِ، مَا الدُّنْيَا مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا كَمَا يَجْعَلُ أَحَدُكُمْ إِصْبَعَهُ فِي الْيَمِّ، فَلْيَنْظُرْ بِمَ تَرْجِعُ!». قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" مِنْ أَوَّلِهَا إِلَى آخِرِهَا "". وَقَوْلُهُ: "" وَاللَّهِ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddād ibn Aws al-Fihrī رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ swear this world from first to last beside the Hereafter is like one placing a finger in the sea and observing what returns. > **"By Allah, this world from its first to its last beside the Hereafter is only like one of you placing his finger in the sea, so let him observe what it returns with."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ کی قسم ! دنیا اپنے آغاز سے لے کر اختتام تک آخرت کے مقابلے میں یوں ہے جیسے کوئی شخص دریا میں انگلی داخل کرے اور پھر اس بات کا جائزہ لے کہ وہ کس کے ہمراہ واپس آئی ہے ( یعنی اس پر دریا کا کتنا پانی لگ گیا ہے ؟)‘‘۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ اپنے آغاز سے لے کر اختتام تک ۔‘‘ اور یہ الفاظ ( بھی نہیں ہیں :) ’’ اللہ کی قسم ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احمد بن معاویہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18075

Majma al-Zawaid #18075

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ مَطْعَمَ ابْنِ آدَمَ جُعِلَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا وَإِنْ قَزَّحَهُ وَمَلَّحَهُ، فَانْظُرْ إِلَى مَا يَصِيرُ». رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عُتَيٍّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaʿb رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said human food, however seasoned and salted, is made a parable of this world, so observe what it becomes. > **"The food of the son of Ādam is made a parable of this world, however he seasons and salts it, so observe what it becomes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ انسان کے کھانے کو دنیا کے لئے مثال بنایا گیا ہے ، انسان اسے کتنا عمدہ اور مزیدار بناتا ہے اور تم یہ جائزہ لو کہ وہ آخر میں کیا بن جاتا ہے ؟‘‘۔ یہ روایت عبداللہ اور طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عتی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18076

Majma al-Zawaid #18076

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ: "" يَا ضَحَّاكُ، مَا طَعَامُكَ؟ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اللَّحْمُ وَاللَّبَنُ. قَالَ: "" ثُمَّ يَصِيرُ إِلَى مَاذَا؟ "". قَالَ: إِلَى مَا قَدْ عَلِمْتَ. قَالَ: "" فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى ضَرَبَ مَا يَخْرُجُ مِنِ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḍaḥḥāk ibn Sufyān رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ asked him what his food is, was told meat and milk, asked what it becomes, was told what he knows, then declared Allah made human excretion a parable of this world. > **"O Ḍaḥḥāk, what is your food? Then what does it become? Allah has made what exits from the son of Ādam a parable of this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ضحاک بن سفیان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : ’’ اے ضحاک ! تمہاری خوراک کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گوشت اور دودھ ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : پھر وہ کیا بن جاتا ہے ؟ انہوں نے عرض کی : وہی جو آپ جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ابن آدم میں سے جو کچھ نکلتا ہے ۔ اللہ تعالی نے اُسے دنیا کے لئے مثال کے طور پر بیان کیا ہے ( یا مثال بنایا ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید بن جدعان کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18077

Majma al-Zawaid #18077

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: «جَاءَ قَوْمٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُمْ: "" أَلْكُمْ طَعَامٌ؟ "". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" فَلَكُمْ شَرَابٌ؟ "". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" فَتُصَفُّونَهُ؟ "". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" وَتُبَرِّدُونَهُ؟ "". قَالُوا: نَعَمْ. قَالَ: "" فَإِنَّ مَعَادَهُمَا كَمَعَادِ الدُّنْيَا، يَقُومُ أَحَدُكُمْ إِلَى خَلْفِ بَيْتِهِ فَيُمْسِكُ عَلَى أَنْفِهِ مِنْ نَتْنِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salmān رضي الله عنه narrated that people came to the Messenger of Allah ﷺ, were asked whether they eat, drink, refine, and cool, answered yes, and were told the outcome of both is like this world: one rises behind his house holding his nose from its stench. > **"Have you food? Have you drink? Do you refine it? Do you cool it? Their outcome is like the outcome of this world: one of you rises behind his house holding his nose from its stench."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : کیا تم لوگ کھانا کھاتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ پیتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم لوگ اس کو بھونتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : پھر تم اس کو ٹھنڈا کرتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ ان دونوں کا جو انجام ہے ، وہ دنیا کے انجام کی مانند ہے ، تم میں سے کوئی ایک شخص اُٹھ اُٹھ کر اپنے گھر کے پیچھے جاتا ہے اور اس کی بدبو سے بچنے کے لئے اپنی ناک بند کر لیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18078

Majma al-Zawaid #18078

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الدُّنْيَا دَارُ مَنْ لَا دَارَ لَهُ، وَلَهَا يَجْمَعُ مَنْ لَا عَقْلَ لَهُ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ دُوَيْدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said this world is the abode of the homeless and hoarded by the mindless. > **"This world is the abode of one with no abode, and for it hoards one with no mind."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دنیا اُس کا ٹھکانہ ہے جس کا کوئی ٹھکانہ نہ ہو اور اس کو وہ جمع کرے گا ، جس میں عقل نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف دُوید کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18079

Majma al-Zawaid #18079

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ، وَسَنَتُهُ، فَإِذَا فَارَقَ الدُّنْيَا فَارَقَ السِّجْنَ وَالسَّنَةَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جُنَادَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said this world is the believer's prison and drought, and leaving it is leaving both. > **"This world is the prison of the believer and his drought. When he leaves this world he leaves prison and drought."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دنیا مومن کے لیے قید خانہ اور قحط سالی ہے ، جب وہ دنیا سے جدا ہوتا ہے تو قید خانے اور قحط سالی سے جدا ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالله بن جنادہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18080

Majma al-Zawaid #18080

عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِسَنَدَيْنِ أَحَدُهُمَا ضَعِيفٌ، وَالْآخَرُ فِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Prophet ﷺ said this world is the believer's prison and the disbeliever's paradise. > **"This world is the prison of the believer and the paradise of the disbeliever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک سند ضعیف ہے اور دوسری میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔