وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: «تَرَاءَيْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ، فَقَالَ لِي أَصْحَابُهُ: إِلَيْكِ يَا وَاثِلَةُ، أَيْ تَنَحَّ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعُوهُ فَإِنَّمَا جَاءَ يَسْأَلُ "". قَالَ: فَدَنَوْتُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِتُفْتِنَا مِنْ أَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ عَنْكَ مِنْ بَعْدِكَ، قَالَ: "" لِتُفْتِكَ نَفْسُكَ "". قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ؟! قَالَ: "" دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونُ "". قُلْتُ: وَكَيْفَ لِي بِعِلْمِ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" تَضَعُ يَدَكَ عَلَى فُؤَادِكَ ; فَإِنَّ الْقَلْبَ يَسْكُنُ لِلْحَلَّالِ، وَلَا يَسْكُنُ لِلْحَرَامِ، وَإِنَّ الْوَرِعَ الْمُسْلِمَ يَدَعُ الصَّغِيرَ مَخَافَةَ أَنْ يَقَعَ فِي الْكَبِيرِ "". قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: "" الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ "". قُلْتُ: فَمَنِ الْحَرِيصُ؟ قَالَ: "" الَّذِي يَطْلُبُ الْمَكْسَبَةَ مِنْ غَيْرِ حِلِّهَا "". قُلْتُ: فَمَنَ الْوَرِعُ؟ قَالَ: "" الَّذِي يَقِفُ عِنْدَ الشُّبْهَةِ "". قُلْتُ: فَمَنِ الْمُؤْمِنُ؟ قَالَ: "" مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَدِمَائِهِمْ "". قُلْتُ: فَمَنِ الْمُسْلِمُ؟ قَالَ: "" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ "". قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" كَلِمَةُ حُكْمٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
EnglishUnverified translation
Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه reported that he presented himself to the Prophet ﷺ in the mosque of Al-Khayf, and his Companions told him to move away from the face of the Prophet ﷺ, but the Prophet ﷺ said to leave him for he had come to ask. He drew near and asked him by his father and mother to give them a ruling to hold to after him. He told him to let his own soul give him ruling. When he asked how, he told him to leave what causes doubt for what does not cause doubt, even if the muftīs give fatwā. When he asked how to know, he told him to place his hand upon his heart, for the heart finds rest in the lawful and does not find rest in the unlawful, and the Godfearing Muslim leaves the minor out of fear of falling into the major. He asked about tribalism, greed, piety, faith, Islām, and the best jihād, and he answered that tribalism is helping one's people in injustice, the greedy is one who seeks gain unlawfully, the pious is one who stops at doubt, the believer is one whom people trust with their wealth and blood, the Muslim is one from whose tongue and hand the Muslims are safe, and the best jihād is a just word before a tyrannical ruler. > **"Leave what causes you doubt for what does not cause you doubt. The heart finds rest in the lawful and does not find rest in the unlawful. The best jihād is a just word before a tyrannical ruler."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسجد خیف میں ، میں نبی اکرم ﷺ کی زیارت کے لئے آیا تو آپ کے اصحاب نے مجھ سے فرمایا ہے : اے واثلہ ! ایک طرف ہو جاؤ ! ( یعنی نبی اکرم ﷺ کے آگے سے ہٹ جاؤ ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ یہ سوال کرنے کے لیے آیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں قریب ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ ہمیں احکام بیان کر دیں ، جنہیں ہم آپ کے بعد بھی اختیار کیے رکھیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے نفس کو تمہیں حکم بیان کرنا چاہیئے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو چیز تمہیں مشکوک لگے ، تم اُسے چھوڑ کر اُس کی طرف چلے جاؤ جو تمہیں مشکوک نہ لگے ، خواہ حکم بیان کرنے والے تمہیں جو بھی حکم بیان کریں ۔‘‘ میں نے دریافت کیا : مجھے اُس کا علم کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھنا ، کیونکہ دل حلال کے ذریعے سکون حاصل کرتا ہے ، وہ حرام کے ذریعے سکون حاصل نہیں کرتا اور پرہیزگار مسلمان صغیرہ گناہ کو بھی چھوڑ دیتا ہے ، اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ کبیرہ گناہ میں مبتلا نہ ہو جائے ۔‘‘ میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، عصبیت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ کہ آدمی ظلم میں اپنی قوم کی مدد کرے ۔ میں نے دریافت کیا : حریض کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو ناجائز طور پر آمدن حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ میں نے دریافت کیا : پرہیزگار کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو مشتبہ چیز سے رک جائے ۔ میں نے دریافت کیا : مومن کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس سے لوگ اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے محفوظ ہوں ۔ میں نے دریافت کیا : مسلمان کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں ۔ میں نے دریافت کیا : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ظالم حکمران کے سامنے صحیح بات کہنا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔