Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 12

Book of Asceticism

Hadith 18081–18120

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18081

Majma al-Zawaid #18081

وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَرَّاقُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Salmān رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say this world is the believer's prison and the disbeliever's paradise. > **"This world is the prison of the believer and the paradise of the disbeliever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ دنیا مومن کے لیے قید خانہ ہے اور کافر کے لیے جنت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن محمد وراق ہے اور وہ متروک ہے ، امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ۔

18082

Majma al-Zawaid #18082

وَعَنْ قَتَادَةَ بْنِ نُعْمَانَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «نَزَلَ عَلَيَّ جِبْرِيلُ بِأَحْسَنِ مَا كَانَ يَأْتِينِي صُورَةً، فَقَالَ: إِنَّ السَّلَامَ يُقْرِئُكَ السَّلَامَ يَا مُحَمَّدُ، وَيَقُولُ: إِنِّي أَوْحَيْتُ إِلَى الدُّنْيَا أَنْ تَمَرَّرِي، وَتَنَكَّدِي، وَتَضَيَّقِي، وَتَشَدَّدِي عَلَى أَوْلِيَائِي حَتَّى يُحِبُّوا لِقَائِي، وَتَوَسَّعِي، وَتَسَهَّلِي، وَطِيبِي لِأَعْدَائِي، حَتَّى يَكْرَهُوا لِقَائِي ; فَإِنِّي جَعَلْتُهَا سِجْنًا لِأَوْلِيَائِي، وَجَنَّةً لِأَعْدَائِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Qatādah ibn Nuʿmān ibn Zayd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said Jibrīl عليه السلام descended in fairest form conveying peace and Allah's revelation to this world to embitter, distress, straiten, and harden toward His allies that they love meeting Him, and to ease, widen, and sweeten toward His enemies that they hate meeting Him, for He made it a prison for allies and paradise for enemies. > **"Peace conveys peace to you, O Muḥammad, saying: I revealed to this world to embitter, distress, straiten, and harden toward My allies that they love meeting Me, and to widen, ease, and sweeten toward My enemies that they hate meeting Me. I made it a prison for My allies and a paradise for My enemies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قتادہ بن نعمان بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جبرائیل میرے پاس سب سے زیادہ خوبصورت شکل و صورت میں نازل ہوئے اور بولے : بے شک سلامتی عطا کرنے والی ذات نے آپ کو سلام بھیجا ہے ، اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! اور اس نے یہ فرمایا ہے : کہ میں نے دنیا کی طرف یہ وحی کی ہے کہ تم میرے دوستوں کے لئے کڑوی ، مشکلات والی ، تنگ اور سخت ہو جاؤ تاکہ وہ میری بارگاہ میں حاضری کو پسند کریں اور تم میرے دشمنوں کے لئے کشادگی والی ، آسانی والی اور پاکیزہ ہو جاؤ تاکہ وہ میری بارگاہ میں حاضری کو ناپسند کریں ، بے شک میں نے اسے ( یعنی دنیا کو ) اپنے دوستوں کے لیے قید خانہ اور اپنے دشمنوں کے لیے جنت بنایا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18083

Majma al-Zawaid #18083

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ أَصْبَحَ مُعَافًى فِي بَدَنِهِ، آمِنًا فِي سِرْبِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا. يَا ابْنَ آدَمَ، جُفَيْنَةٌ يَكْفِيكَ مِنْهَا مَا سَدَّ جَوْعَتَكَ، وَوَارَى عَوْرَتَكَ، وَإِنْ كَانَ بَيْتٌ يُوَارِيكَ فَذَاكَ، وَإِنْ كَانَتْ دَابَّةٌ تَرْكَبُهَا فَبَخٍ، فَلَقُ الْخُبْزِ، وَمَاءُ الْجَرِّ، وَمَا فَوْقَ الْإِزَارِ فَحِسَابٌ عَلَيْكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said whoever mornings sound in body, secure in self, with daily sustenance has the world gathered for him, then addressed son of Ādam concerning sufficiency of a bowl, garment, house, mount, and reckoning for bread, water, and surplus garment. > **"Whoever mornings sound in his body, secure in his self, with his day's sustenance, it is as though the world were gathered for him. O son of Ādam, a bowl suffices you with what repels your hunger and covers your nakedness; if a house shelters you, that suffices; if a mount carries you, excellent; but a morsel of bread, water of the jar, and what exceeds the waist-wrapper is reckoning upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ایسی حالت میں صبح کرتا ہے کہ وہ اپنے جسم کے حوالے سے عافیت والا ہو اور اپنے نفس کے حوالے سے محفوظ ( یا بے خوف ) ہو ، اس کے پاس اس دن کی خوراک موجود ہو تو گویا دنیا اس کے لیے سمیٹ دی گئی ، اے ابن آدم ! ایک چھوٹا پیالہ جو دنیا میں سے تمہارے لئے کفایت کر سکتا ہے جو تمہاری بھوک کو ختم کر دے اور وہ ( لباس ) جو تمہاری شرمگاہ کو ڈھانپ دے اور اگر گھر ہو جو تمہیں چھپا دے ، تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر سواری ہو جس پر تم سوار ہو جاؤ تو بہت عمدہ روٹی کا ٹکڑا ، پانی کا پیالہ اور تہبند سے زیادہ ( یعنی جو کچھ ہو ) ان کے بارے میں حساب دینا تم پر لازم ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18084

Majma al-Zawaid #18084

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الْأَمْنُ وَالْعَافِيَةُ نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ» "". قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said security and well-being are two blessings in which many are cheated. > **"Security and well-being are two blessings in which many people are cheated."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ امن اور عافیت دو ایسی نعمتیں ہیں کہ ان دونوں کے بارے میں بہت سے لوگ غبن کا شکار ہیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے "" صحیح "" میں ایک حدیث مذکور ہے جو تندرستی اور فراغت کے بارے میں ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض راویوں میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18085

Majma al-Zawaid #18085

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ أَصْبَحَ مُعَافًى فِي بَدَنِهِ، آمِنًا فِي سِرْبِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Prophet ﷺ said whoever mornings sound in body, secure in self, with daily sustenance has the world gathered for him. > **"Whoever mornings sound in his body, secure in his self, with his day's sustenance, it is as though the world were gathered for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص ایسی حالت میں صبح کرے کہ اس کے جسم میں عافیت ہو اور اس کے من میں امن ( یعنی دل میں بے خوفی ) ہو ، اس کے پاس اس دن کی خوراک موجود ہو تو گویا دنیا اس کے لئے سمیٹ دی گئی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن عابس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18086

Majma al-Zawaid #18086

وَعَنْ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ابْنَ آدَمَ، عِنْدَكَ مَا يَكْفِيكَ، وَأَنْتَ تَطْلُبُ مَا يُطْغِيكَ، لَا بِقَلِيلٍ تَقْنَعُ، وَلَا مِنْ كَثِيرٍ تَشْبَعُ. ابْنَ آدَمَ، إِذَا أَصْبَحْتَ آمِنًا فِي سِرْبِكَ، مُعَافًى فِي جَسَدِكَ، عِنْدَكَ قُوتُ يَوْمِكَ ; فَعَلَى الدُّنْيَا الْعَفَاءُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الدَّاهِرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ addressed son of Ādam possessing sufficiency yet seeking transgression, content with neither little nor sated with much, and declared if mornings secure, sound, with daily sustenance, then away with this world. > **"Son of Ādam, with you is what suffices you, yet you seek what makes you transgress. Neither with little are you content, nor with much are you sated. Son of Ādam, when you morning secure in yourself, sound in your body, with your day's sustenance, then away with this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابن آدم ! تمہارے پاس وہ چیز ہے جو تمہارے لئے کفایت کرتی ہے اور تم اس چیز کو حاصل کرنا چاہتے ہو جو تمہیں سرکشی کا شکار کر دے گی ، نہ تم تھوڑے پر قناعت کرتے ہو اور نہ زیادہ سے سیر ہوتے ہؤ ، اے ابن آدم ! جب تم ایسی حالت میں صبح کرو کہ تم دلی طور پر محفوظ ( یا بے خوف ) ہو اور اپنے جسم کے حوالے سے عافیت میں ہو ، تمہارے پاس اس دن کی خوراک موجود ہو تو دنیا پر ہلاکت ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر داہری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18087

Majma al-Zawaid #18087

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِلَيْكَ انْتَهَتِ الْأَمَانِي يَا صَاحِبَ الْعَافِيَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ addressed the Giver of well-being as the end of hopes. > **"To You end hopes, O Giver of well-being."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تو میری تمام تر امیدوں کا مرکز ہے ، اے عافیت عطا کرنے والے !“۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18088

Majma al-Zawaid #18088

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «نِعْمَتَانِ مَغْبُونٌ فِيهِمَا كَثِيرٌ مِنَ النَّاسِ: الصِّحَّةُ وَالْفَرَاغُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ الْحَكَمِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said many are cheated in health and leisure. > **"Two blessings in which many people are cheated: health and leisure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ دو نعمتیں ایسی ہیں ، جن کے بارے میں بہت سے لوگ غبن کا شکار ہیں ، تندرستی اور فراغت ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حمید بن حکم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18089

Majma al-Zawaid #18089

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَمَامُ الْبِرِّ؟ قَالَ: "" أَنْ تَعْمَلَ فِي السِّرِّ عَمَلَ الْعَلَانِيَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَنْعَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لَمْ يَتَعَمَّدِ الْكَذِبَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashʿarī رضي الله عنه narrated that he asked the Messenger of Allah ﷺ what perfects righteousness and was told to act in secret as in open. > **"What is the perfection of righteousness? That you act in secret as you act openly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! نیکی کی تکمیل کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ کہ تم پوشیدہ طور پر بھی ، علانیہ والا عمل کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد بن انعم ہے اور وہ ضعیف ہے لیکن وہ جان بوجھ کر غلط بیانی نہیں کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18090

Majma al-Zawaid #18090

وَعَنْ أَبِي عَامِرٍ السَّكُونِيِّ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَمَامُ الْبِرِّ؟ قَالَ: "" أَنْ تَعْمَلَ فِي السِّرِّ عَمَلَ الْعَلَانِيَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Abū ʿĀmir al-Sakūnī رضي الله عنه narrated that he asked the Messenger of Allah ﷺ what perfects righteousness and was told to act in secret as in open. > **"What is the perfection of righteousness? That you act in secret as you act openly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعامر سکونی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! نیکی کی تکمیل کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ کہ تم پوشیدہ طور پر بھی وہی عمل کرو جو علانیہ طور پر کرتے ہو “۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں بھی ایک راوی عبدالرحمن بن زیاد ہے ۔

18091

Majma al-Zawaid #18091

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: إِنِّي أَعْمَلُ عَمَلًا يُطَّلَعُ عَلَيْهِ فَيُعْجِبُنِي. قَالَ: "" لَكَ أَجْرَانِ: أَجْرُ السِّرِّ، وَأَجْرُ الْعَلَانِيَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that a man came to the Prophet ﷺ and said that he performs a deed which becomes known to others and this pleases him. The Prophet ﷺ told him that he receives two rewards, the reward of secrecy and the reward of openness. > **"You shall have two rewards, the reward of secrecy and the reward of openness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : میں ایک عمل کرتا ہوں ، جس کی اطلاع کسی کو مل جاتی ہے اور یہ چیز مجھے اچھی لگتی ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہیں دو اجر ملیں گے ، ایک پوشیدہ طور پر کرنے کا اجر اور ایک علانیہ کا اجر ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18092

Majma al-Zawaid #18092

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِذَا مَرَرْتُمْ عَلَى أَرْضٍ قَدْ هَلَكَ أَهْلُهَا فَأَغِذُّوا السَّيْرَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that he heard the Prophet ﷺ say that when they pass by a land whose people have perished, they should quicken their pace. > **"When you pass by a land whose people have perished, then hasten your pace."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جب تم کسی ایسی سرزمین سے گزرو ، جہاں کے رہنے والے ہلاکت کا شکار ہو گئے ہوں تو تم وہاں سے تیزی سے گزر جاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

18093

Majma al-Zawaid #18093

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَانَا يَوْمَ وَرَدَ حِجْرَ ثَمُودَ عَنْ رَكِيَّةٍ عِنْدَ جَانِبِ الْمَدِينَةِ أَنْ نَشْرَبَ مِنْهَا، وَنَسْقِيَ مِنْهَا، وَنَهَانَا أَنْ نَتَوَلَّجَ بُيُوتَهُمْ، وَنَبَّأَنَا أَنَّ وَلَدَ النَّاقَةِ ارْتَقَى فِي قَارَّةٍ سَمِعْتُ النَّاسَ يَدْعُونَهَا كَبَابَةَ، وَأَنَّ أَثَرَ وَلَدِ النَّاقَةِ مُبِينٌ فِي قُبُلِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Samurah ibn Jundab رضي الله عنه reported that when the Messenger of Allāh ﷺ came to Ḥijr of Thamūd, he forbade them from drinking from a well near the settlement and from giving its water to their animals, and he forbade them from entering their houses. He also informed them that the young camel ascended a hillock called Kabābah and that the trace of the young camel was clear on its front. > **"Do not drink from it nor give drink from it, and do not enter their houses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا گزر قوم ثمود کی بستی ’’ حجر ‘‘ کے پاس سے ہوا ، تو آپ نے ہمیں اس بات سے منع کر دیا کہ اس بستی کے باہر موجود کنویں سے ہم پانی پیئں یا اپنے جانوروں کو پلائیں اور آپ نے ہمیں اس بات سے بھی منع کر دیا کہ ہم ان کی آبادی میں داخل ہوں ( اگلے الفاظ شاید راوی کے ہیں : ) انہوں نے ہمیں بتایا : اس اونٹنی کا بچہ ایک چھوٹے ٹیلے پر چڑھ گیا تھا ، میں نے لوگوں کو سنا وہ اس ٹیلے کو ’’ کبابہ “ کا نام دیتے تھے ، اور اونٹنی کے بچے کے قدموں کے نشان اس ٹیلے پر سامنے کی طرف تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18094

Majma al-Zawaid #18094

وَعَنْ سَبْرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ نَزَلَ الْحِجْرَ: " مَنِ اعْتَجَنَ مِنْ هَذِهِ؟ " - يَعْنِي بِئْرَهُمْ - شَيْئًا فَلْيُلْقِهِ ". فَأَلْقَى ذُو الْعَجِينِ عَجِينَهُ، وَصَاحِبُ الْحَيْسِ حَيْسَهُ».

EnglishUnverified translation

Sabrah رضي الله عنه reported that when the Prophet ﷺ halted at Al-Ḥijr, he asked his Companions who had kneaded dough with its water, meaning their well, and commanded that whatever was made with it be thrown away. So the one with dough threw away his dough and the one with ḥays threw away his ḥays. > **"Whoever has kneaded anything with this water, let him throw it away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سبرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ کا گزر ’’ حجر ‘‘ نامی بستی کے پاس سے ہوا ، تو آپ نے اپنے اصحاب سے فرمایا : کس نے اس سے آٹا گوندھا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : یعنی وہاں کے کنویں کے پانی کے ذریعے ایسا کیا ہے ، جس نے ایسا کیا ہے وہ اس کو پھینک دے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو جس نے آٹا گوندھا تھا اس نے آٹا پھینک دیا ، جس نے حیسں بنایا تھا اس نے حیس پھینک دیا ۔

18095

Majma al-Zawaid #18095

وَفِي رِوَايَةٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِأَصْحَابِهِ حِينَ رَاحَ مِنَ الْحِجْرِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

It is reported in a narration that the Prophet ﷺ addressed his Companions when he departed from Al-Ḥijr, commanding them concerning the ruins and their water. > **"The Prophet ﷺ spoke to his Companions when he set out from Al-Ḥijr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا :’’ جب آپ ’’ حجر ‘‘ سے روانہ ہوئے .......‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

18096

Majma al-Zawaid #18096

وَعَنْ أَبِي كَبْشَةَ قَالَ: «لَمَّا كَانَتْ غَزْوَةُ تَبُوكَ تَسَارَعَ النَّاسُ إِلَى الْحِجْرِ لِيَدْخُلُوا فِيهِ ; فَنُودِيَ فِي النَّاسِ: أَنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةٌ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُمْسِكٌ بَعِيرَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: "" عَلَى مَا تَدْخُلُونَ؟ عَلَى قَوْمٍ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ؟! "". قَالَ: فَنَادَاهُ رَجُلٌ يَعْجَبُ مِنْهُمْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ!! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَعْجَبَ مِنْ ذَلِكَ؟ نَبِيُّكُمْ يُنْبِئُكُمْ بِمَا كَانَ قَبْلَكُمْ، وَمَا هُوَ كَائِنٌ بَعْدَكُمْ، اسْتَقِيمُوا وَسَدِّدُوا ; فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَعْبَأُ بِعَذَابِكُمْ شَيْئًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَأَحَدُهَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Kabshah رضي الله عنه reported that during the expedition of Tabūk the people hastened toward Al-Ḥijr to enter it, so it was announced that prayer is gathering. He came to the Messenger of Allāh ﷺ while he was holding his camel and saying why they would enter upon a people with whom Allāh is angry. A man called out in wonder, and the Messenger of Allāh ﷺ asked whether he should inform them of something more wondrous, that their Prophet informs them of what was before them and what shall be after them, so be upright and correct, for Allāh does not care for punishing them. > **"Upon what are you entering, upon a people with whom Allāh is angry? Your Prophet informs you of what was before you and what shall be after you, so be upright and correct."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوکبشہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ تبوک کے موقع پر لوگ تیزی کے ساتھ ’’ حجر ‘‘ نامی بستی کی طرف بڑھے تاکہ اس میں داخل ہو جائیں ، لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ سب لوگ اکٹھے ہو جائیں ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ نے اپنے اونٹ کو پکڑا ہوا تھا اور آپ یہ فرما رہے تھے : تم کہاں داخل ہونے لگے ہو ؟ ایک ایسی قوم پر ، جن پر اللہ تعالی نے غضب نازل کیا ؟ راوی کہتے ہیں : تو ایک شخص نے بلند آواز میں آپ کو پکارا : یا رسول اللہ ! یہ تو ان لوگوں کی طرف سے حیران کن بات ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو اس سے زیادہ حیران کن بات کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ تمہارے نبی ﷺ تمہیں اس چیز کے بارے میں بتاتے ہیں ، جو تم سے پہلے گزر چکی ہے اور اس کے بارے میں بھی بتاتے ہیں ، جو تمہارے بعد ہو گی تو تم لوگ سیدھے رہو اور ٹھیک رہو کیونکہ اللہ تعالی تمہیں عذاب دیتے ہوئے کوئی پرواہ نہیں کرے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک حسن ہے ۔

18097

Majma al-Zawaid #18097

عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّهُ قَالَ: «يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرْسِلُ رَاحِلَتِي وَأَتَوَكَّلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بَلْ قَيِّدْهَا وَتَوَكَّلْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَفِي أَحَدِهِمَا عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Umayyah رضي الله عنه reported that he asked the Messenger of Allāh ﷺ whether he should release his mount and trust in Allāh. The Messenger of Allāh ﷺ told him rather to tie it and then trust. > **"Rather tie it and trust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن امیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی سواری کو کھلا چھوڑ کر توکل کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بلکہ تم اسے باندھ کر توکل کرو !۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی عمرو بن عبداللہ بن امیہ ضمری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18098

Majma al-Zawaid #18098

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «طَلَبُ الْحَلَالِ فَرِيضَةٌ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ الثَّقَفِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that seeking the lawful is an obligation after the obligation. > **"Seeking the lawful is an obligation after the obligation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حلال تلاش کرنا فرض کے بعد فرض ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عباد بن کثیر ثقفی ہے اور وہ متروک ہے ۔

18099

Majma al-Zawaid #18099

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «طَلَبُ الْحَلَالِ وَاجِبٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that seeking the lawful is incumbent upon every Muslim. > **"Seeking the lawful is incumbent upon every Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حلال تلاش کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18100

Majma al-Zawaid #18100

وَعَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ، أُخْتِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ: «أَنَّهَا بَعَثَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَدَحِ لَبَنٍ عِنْدَ فِطْرِهِ وَهُوَ صَائِمٌ، وَذَلِكَ فِي طُولِ النَّهَارِ، وَشِدَّةِ الْحَرِّ، فَرَدَّ إِلَيْهَا رَسُولَهَا: "" أَنَّى لَكِ هَذَا اللَّبَنَ؟! "". قَالَتْ: مِنْ شَاةٍ لِي، قَالَ: فَرَدَّ إِلَيْهَا رَسُولَهَا: "" أَنَّى كَانَتْ لَكِ هَذِهِ الشَّاةُ؟ "". قَالَتِ: اشْتَرَيْتُهَا مِنْ مَالِي، فَأَخَذَهُ مِنْهَا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ فَقَالَتْ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بَعَثْتُ لَكَ بِاللَّبَنِ مَرْثِيَةً لَكَ مِنْ طُولِ النَّهَارِ، وَشِدَّةِ الْحَرِّ، فَرَدَدْتَ الرَّسُولَ فِيهِ، فَقَالَ لَهَا: "" بِذَلِكَ أُمِرَتِ الرُّسُلُ، أَلَّا تَأْكُلَ إِلَّا طَيِّبًا، وَلَا تَعْمَلَ إِلَّا صَالِحًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm ʿAbdillāh رضي الله عنها, the sister of Shaddād ibn Aws, reported that she sent a cup of milk to the Messenger of Allāh ﷺ at his breaking of the fast while he was fasting on a long and intensely hot day. He sent back her messenger asking whence the milk came, and she said from her ewe. He sent back asking whence the ewe came, and she said she had bought it with her own wealth, so he accepted it. The next day she came and asked why he had questioned her messenger though she sent it out of pity for the long hot day, and he told her that thus were the messengers commanded, to eat only what is pure and to do only what is righteous. > **"Thus were the messengers commanded, to eat only what is pure and to do only what is righteous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام عبداللہ رضی اللہ عنہا ، جو حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ کی بہن ہیں ، انہوں نے دودھ کا ایک پیالہ افطاری کے وقت نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں بھیجا ، نبی اکرم ﷺ نے روزہ رکھا ہوا تھا ، وہ ایک طویل اور شدید گرم دن تھا ، نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون کے قاصد کو اس کی طرف واپس بھیجا اور دریافت کیا : تمہارے پاس یہ دودھ کہاں سے آیا ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : یہ میری بکری کا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے قاصد اس خاتون کی طرف واپس بھیجا اور فرمایا : تمہارے پاس یہ بکری کہاں سے آئی ؟ اس خاتون نے بتایا : یہ میں نے اپنے مال کے ذریعے خریدی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے وہ دودھ قبول کر لیا ، اگلے دن وہ خاتون نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، سیدہ ام عبداللہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کی خدمت میں دودھ بھیجا تھا کیونکہ دن طویل تھا اور شدید گرم تھا اور آپ نے میرے بھیجے ہوئے فرد کو واپس کر دیا ؟ نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے فرمایا : ’’ رسولوں کو اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ صرف پاکیزہ چیز کھائیں اور صرف نیک عمل کریں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18101

Majma al-Zawaid #18101

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «تُلِيَتِ الْآيَةُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًا} [البقرة: 168]، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا سَعْدُ، أَطِبْ مَطْعَمَكَ تَكُنْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنَّ الْعَبْدَ يَقْذِفُ اللُّقْمَةَ الْحَرَامَ فِي جَوْفِهِ مَا يُتَقَبَّلُ مِنْهُ الْعَمَلُ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، وَأَيُّمَا عَبْدٍ نَبَتَ لَحْمُهُ مِنْ سُحْتٍ فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the verse, O people, eat of what is in the earth lawful and pure, was recited before the Messenger of Allāh ﷺ, so Saʿd ibn Abī Waqqāṣ رضي الله عنه stood and asked him to supplicate that Allāh make him one whose supplication is answered. The Prophet ﷺ told him to make his food pure and he would be one whose supplication is answered, and swore by Him in Whose Hand is the soul of Muḥammad that a servant casts an unlawful morsel into his belly and no deed is accepted from him for forty days, and whichever servant whose flesh grows from illicit gain, the Fire is worthier of him. > **"O Saʿd, make your food pure and you shall be one whose supplication is answered. The servant who casts an unlawful morsel into his belly shall have no deed accepted for forty days, and whatever flesh grows from illicit gain, the Fire is worthier of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کے پاس یہ آیت تلاوت کی : ’’ اے لوگو ! زمین میں جو کچھ ہے اس میں سے حلال پاکیزہ چیز کھاؤ ۔‘‘ تو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ مجھے ’’ مستجاب الدعوات ‘‘ بنا دے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے سعد ! تم اپنے کھانے کی چیزوں کو پاکیزہ رکھو ، تم ’’ مستجاب الدعوات ‘‘ بن جاؤ گے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے ، کوئی بندہ اپنے پیٹ میں حرام کا ایک لقمہ ڈالتا ہے اور چالیس دن تک اُس کی طرف سے کوئی عمل قبول نہیں ہوتا اور جس بندے کے گوشت کی نشوونما حرام کے ذریعے ہوتی ہے تو آگ ( یا جہنم ) اس کی زیادہ حقدار ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18102

Majma al-Zawaid #18102

عَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَطَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْعَالِيَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي بِأَشَدِّ شَيْءٍ فِي هَذَا الدِّينِ وَأَلْيَنِهِ، فَقَالَ: "" أَلْيَنُهُ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَشُدُّهُ يَا أَخَا الْعَالِيَةِ، الْأَمَانَةُ ; إِنَّهُ لَا دِينَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَلَا صَلَاةَ وَلَا زَكَاةَ لَهُ. يَا أَخَا الْعَالِيَةِ، إِنَّ مَنْ أَصَابَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَلَبِسَ جِلْبَابًا - يَعْنِي قَمِيصًا - لَمْ تُقْبَلْ صَلَاتُهُ حَتَّى يُنَحِّيَ ذَلِكَ الْجِلْبَابَ عَنْهُ ; إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَكْرَمُ وَأَجَلُّ يَا أَخَا الْعَالِيَةِ، مِنْ أَنْ يَقْبَلَ عَمَلَ رَجُلٍ أَوْ صَلَاتَهُ وَعَلَيْهِ جِلْبَابٌ مِنْ حَرَامٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو الْجَنُوبِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reported that they were sitting with the Messenger of Allāh ﷺ when a man from the people of Al-ʿĀliyah came and asked him to inform him of the hardest and the softest thing in this religion. He said its softest is the testimony that there is no god but Allāh and that Muḥammad is His servant and Messenger, and its hardest, O brother of Al-ʿĀliyah, is trust, for there is no religion for one without trust, nor prayer nor zakāh for him. He added that whoever obtains wealth unlawfully and wears a shirt with it, his prayer is not accepted until he removes that shirt, for Allāh the Blessed and Exalted is too Generous and Sublime to accept the deed or prayer of a man wearing unlawful clothing. > **"Its softest is the testimony that there is no god but Allāh and that Muḥammad is His servant and Messenger, and its hardest is trust. Allāh is too Generous to accept the deed of a man wearing an unlawful garment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اس دوران اہل عالیہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آیا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اس دین کی سب سے زیادہ سخت ( یعنی مشکل ) چیز اور سب سے زیادہ نرم ( یعنی آسان ) چیز کے بارے میں بتائیے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس کی سب سے نرم چیز اس بات کی گواہی دینا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، اور اسے عالیہ سے تعلق رکھنے والے فرد ! اس کی سب سے زیادہ سخت چیز امانت ہے ، اس شخص کا دین نہیں جس کی امانت نہ ہو ، نہ اس کی نماز ہے ، نہ اس کی زکوۃ ہے ، اے عالیہ سے تعلق رکھنے والے فرد ! جو شخص حرام طور پر مال حاصل کرے ، اور اس کے ذریعے قمیص پہنے ، تو اس کی نماز قبول نہیں ہو گی ، جب تک وہ اس قمیص کو اُتار نہیں دیتا ، اے عالیہ سے تعلق رکھنے والے فرد ! اللہ تعالیٰ کی شان اس سے بلند و برتر ہے کہ وہ کسی ایسے فرد کا عمل یا اس کی نماز قبول کرے ، جس کے جسم پر حرام کی قمیص ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوجنوب ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18103

Majma al-Zawaid #18103

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا خَرَجَ الْخَارِجُ حَاجًّا بِنَفَقَةٍ طَيِّبَةٍ، وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، وَنَادَى: لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، زَادُكَ حَلَالٌ، وَرَاحِلَتُكَ حَلَالٌ، وَحَجُّكَ مَبْرُورٌ غَيْرُ مَأْزُورٍ، وَإِذَا خَرَجَ بِالنَّفَقَةِ الْخَبِيثَةِ، فَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، فَنَادَى: لَبَّيْكَ، نَادَاهُ مُنَادٍ مِنَ السَّمَاءِ: لَا لَبَّيْكَ وَلَا سَعْدَيْكَ، زَادُكَ حَرَامٌ، وَنَفَقَتُكَ حَرَامٌ، وَحَجُّكَ غَيْرُ مَبْرُورٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْيَمَامِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that when one goes out for ḥajj with pure provision and puts his foot in the stirrup and calls, Labbayk Allāhumma Labbayk, a caller from heaven calls to him, Labbayk and Saʿdayk, your provision is lawful and your mount is lawful and your ḥajj is righteous without sin. But when he goes out with foul provision and puts his foot in the stirrup and calls Labbayk, a caller from heaven calls, No Labbayk nor Saʿdayk, your provision is unlawful and your spending is unlawful and your ḥajj is not righteous. > **"Your provision is lawful, your mount is lawful, and your ḥajj is righteous without sin. Your provision is unlawful, your spending is unlawful, and your ḥajj is not righteous."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی حج کرنے کے لیے نکلتا ہے اور اس کی رقم پاکیزہ ( یعنی حلال ) ہو ، تو جب وہ اپنا پاؤں رکاب میں رکھتا ہے اور پکار کر یہ کہتا ہے : میں حاضر ہوں ، اے اللہ ! میں حاضر ہوں ، تو آسمان سے ایک منادی پکار کر یہ کہتا ہے : تمہاری حاضری قبول ہوئی ، تمہیں شہادت نصیب ہوئی ، کیونکہ تمہارا زاد سفر حلال ہے ، تمہاری سواری حلال ہے ، تمہارا حج نیکی والا ہے اس میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ اور جب کوئی شخص ناجائز آمدن کے ذریعے نکلتا ہے اور اپنا پاؤں لگام میں رکھتا ہے اور بلند آواز میں پکار کر کہتا ہے : میں حاضر ہوں ، تو آسمان سے منادی یہ کہتا ہے : نہ تمہاری حاضری قبول ہے نہ تمہیں سعادتمندی نصیب ہوئی ، تمہارا زاد سفر حرام ہے ، تمہارا خرچ حرام ہے اور تمہارا حج نیکی والا نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد یمامی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18104

Majma al-Zawaid #18104

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يَسْلَمَ قَلْبُهُ، وَلَا يُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ "". قَالُوا: وَمَا بَوَائِقُهُ؟ قَالَ: "" غَشْمُهُ، وَظُلْمُهُ، وَلَا اكْتَسَبَ عَبْدٌ مَالًا حَرَامًا فَيَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلُ مِنْهُ، وَلَا يُنْفِقُهُ فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَدَعُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ. إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَمْحُو السَّيِّئَ بِالسَّيِّئِ، وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، وَالْخَبِيثُ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ، وَمَنِ اكْتَسَبَ مَالًا مِنْ غَيْرِ حِلِّهِ، فَوَضَعَهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ، فَذَاكَ الدَّاءُ الْعُضَالُ، وَمَنِ اكْتَسَبَ مَالًا فَوَضَعَهُ فِي حَقِّهِ فَمِثْلُ ذَلِكَ مِثْلُ الْغَيْثِ يَنْزِلُ» "". وَذَكَرَ كَلِمَةً ذَهَبَتْ عَنِّي. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that Allāh the Blessed and Exalted gives this world to whom He loves and whom He does not love, but He gives religion only to whom He loves. By Him in Whose Hand is his soul, no servant submits until his heart submits, and no servant believes until his neighbour is safe from his harms. They asked what his harms are, and he said his oppression and injustice. No servant earns unlawful wealth and gives charity with it but it is accepted, nor spends it but it is blessed, nor leaves it behind him except it becomes his provision to the Fire. Allāh does not efface evil with evil but effaces evil with good, and the foul does not efface the foul. Whoever earns wealth unlawfully and places it unlawfully, that is the incurable disease, and whoever earns wealth and places it rightly, his likeness is like rain that descends. Then the narrator mentioned a word which he forgot. > **"Allāh gives this world to whom He loves and whom He does not love, but He gives religion only to whom He loves. Allāh does not efface evil with evil, but effaces evil with good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالی دنیا اسے بھی دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے اور ( اُسے بھی دیتا ہے ) جسے وہ پسند نہیں کرتا ، لیکن وہ دین صرف اُسے دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے خدا کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا جب تک اس کا دل مسلمان نہ ہو اور بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا ، جب تک اس کا پڑوسی اس کی زیادتی سے محفوظ نہ ہو ، لوگوں نے دریافت کیا : اس کی زیادتی سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس کا زیادتی کرنا اور ظلم کرنا ، اگر بندہ حرام طور پر مال کما کر اسے صدقہ کرے تو وہ اس کی طرف سے قبول نہیں ہو گا اور اگر وہ اس میں سے خرچ کرے تو اس کے لیے اس میں برکت نہیں رکھی جائے گی ، اور اگر وہ اس مال کو اپنے پیچھے چھوڑ جائے تو وہ جہنم تک جانے کے لیے اس کا زاد سفر ہو گا ، بے شک اللہ تعالی برائی کو برائی کے ذریعے نہیں مٹاتا ہے بلکہ وہ برائی کو اچھائی کے ذریعے مٹاتا ہے ، خبیث چیز دوسری خبیث چیز کو نہیں مٹاتی ہے ، اگر کوئی شخص مال ناجائز طور پر کماتا ہے اور اسے ناحق طور پر خرچ کرتا ہے تو یہ ایک پیچیدہ بیماری ہے اور جو شخص مال جائز طریقے سے کماتا ہے اور اسے صحیح طور پر خرچ کرتا ہے تو اس کی مثال بارش کی مانند ہے جو نازل ہوتی ہے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے ایک کلمہ ذکر کیا تھا ، جو مجھے یاد نہیں رہا ۔

18105

Majma al-Zawaid #18105

«وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: "" مَنِ اشْتَرَى ثَوْبًا بِعَشَرَةِ دَرَاهِمَ، وَفِيهِ دِرْهَمٌ مِنْ حَرَامٍ لَمْ يَقْبَلِ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ صَلَاةً مَا دَامَ عَلَيْهِ "". قَالَ: ثُمَّ أَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي أُذُنَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: صَمْتًا إِنْ لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُهُ يَقُولُهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ هَاشِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَهَاشِمٌ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى أَنَّ بَقِيَّةَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that whoever buys a garment for ten dirhams in which one dirham is unlawful, Allāh the Mighty and Majestic shall not accept prayer from him while he wears it. He then put his two fingers into his ears and said may they be deaf if he had not heard the Prophet ﷺ say it. > **"Whoever buys a garment for ten dirhams in which one dirham is unlawful, Allāh shall not accept prayer from him while he wears it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جو شخص دس درہم کے عوض میں کوئی کپڑا خریدے اور ان میں سے ایک درہم حرام مال میں سے ہو تو وہ کپڑا جب تک اس کے جسم پر رہے گا اللہ تعالیٰ اس کی نماز قبول نہیں کرے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے اپنی دو انگلیاں دونوں کانوں میں داخل کیں اور فرمایا : یہ دونوں بہرے ہو جائیں اگر میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے نہ سنا ہو ۔ یہ روایت امام احمد نے ہاشم کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل کی ہے اور ہاشم نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ بقیہ نامی راوی مدلس ہے ۔

18106

Majma al-Zawaid #18106

وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَسَبَ مَالًا مِنْ حَرَامٍ، فَأَعْتَقَ مِنْهُ، وَوَصَلَ مِنْهُ رَحِمَهُ، كَانَ ذَلِكَ إِصْرًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṭufayl رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever earns wealth unlawfully and then frees a slave with it or joins kinship with it, that shall be a burden upon him. > **"Whoever earns wealth unlawfully, then frees a slave with it or joins kinship with it, that shall be a burden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص حرام طور پر مال کما کر اس کے ذریعے غلام آزاد کرے یا اس کے ذریعے صلہ رحمی کرے تو یہ گناہ ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18107

Majma al-Zawaid #18107

عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ سَعْدٍ أَنَّهَا قَالَتْ: «أَفْتِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ عَنِ السَّرِقَةِ. قَالَ: "" مَنْ أَكَلَهَا، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهَا سَرِقَةٌ فَقَدْ أُشْرِكَ فِي إِثْمِ سَرِقَتِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Maymūnah bint Saʿd رضي الله عنها reported that she asked the Messenger of Allāh ﷺ to give them a ruling about theft. He said that whoever eats it while knowing it is stolen has shared in the sin of its theft. > **"Whoever eats it while knowing it is stolen has shared in the sin of its theft."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ میمونہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ چوری کے بارے میں ہمیں حکم بیان کیجئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو اس ( یعنی چوری شدہ چیز ) کو کھاتا ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ یہ چوری کی ہے تو وہ شخص اُس چیز کی چوری کے گناہ میں شراکت دار ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18108

Majma al-Zawaid #18108

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَأَنْ يَأْخُذَ أَحَدُكُمْ حَبْلَهُ فَيَذْهَبُ إِلَى الْجَبَلِ فَيَحْتَطِبُ ثُمَّ يَأْتِي بِهِ فَيَحْمِلُهُ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعُهُ فَيَأْكُلُ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ النَّاسَ، وَلَأَنْ يَأْخُذَ تُرَابًا فَيَجْعَلَهُ فِي فِيهِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْعَلَ فِي فِيهِ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ» "". قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قِصَّةِ التُّرَابِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ swore by Him in Whose Hand is his soul that for one of them to take his rope and go to the mountain and gather firewood, then bring it carried upon his back and sell it and eat therefrom, is better for him than to ask people. And for him to take dust and place it in his mouth is better for him than to place in his mouth what Allāh has forbidden him. > **"For one of you to gather firewood and eat therefrom is better than to ask people, and for him to place dust in his mouth is better than to place in it what Allāh has forbidden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، تم میں سے کوئی ایک شخص رسی لے اور پہاڑ کی طرف چلا جائے ، وہاں لکڑیاں اکٹھی کرے ، پھر انہیں اپنی کمر پر لاد کر لائے اور انہیں فروخت کر کے ( اس آمدن کے ذریعے ) کھائے ، یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ لوگوں سے مانگے اور آدمی مٹی لے کر اسے اپنے منہ میں ڈال لے ، یہ اس کے لیے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنے منہ میں ایسی چیز ڈالے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر حرام قرار دی ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے تاہم اُس میں مٹی والا حصہ نہیں ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18109

Majma al-Zawaid #18109

عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ جَسَدٌ غُذِّيَ بِحَرَامٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَبِي يُعْلَى ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakr al-Ṣiddīq رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that no body nourished by the unlawful shall enter Paradise. > **"No body nourished by the unlawful shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایسا جسم جنت میں داخل نہیں ہو گا جسے حرام کے ذریعے غذا فراہم کی گئی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں اور ان میں سے بعض کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

18110

Majma al-Zawaid #18110

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ، النَّارُ أَوْلَى بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ أَيُّوبَ بْنِ سُوَيْدٍ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَهِيَ مُسْتَقِيمَةٌ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ خَلَفٍ الرَّمْلِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that no flesh grown from illicit gain shall enter Paradise, and the Fire is worthier of it. > **"No flesh grown from illicit gain shall enter Paradise, the Fire is worthier of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کی نشوونما حرام کے ذریعے ہوئی ہو ، جہنم اس کی زیادہ حقدار ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ایوب بن سوید کی ، ثوری سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ مستقیم ہے ابراہیم بن خلف رملی نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18111

Majma al-Zawaid #18111

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ نَبَتَ مِنْ سُحْتٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that no flesh grown from illicit gain shall enter Paradise. > **"No flesh grown from illicit gain shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایسا گوشت جنت میں داخل نہیں ہو گا ، جس کی نشوونما حرام کے ذریعے ہوئی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن قیس ہے اور وہ متروک ہے ۔

18112

Majma al-Zawaid #18112

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «اجْعَلُوا بَيْنَكُمْ وَبَيْنَ الْحَرَامِ سُتْرَةً مِنَ الْحَلَالِ» "". فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ: الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Bashīr رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say to place between themselves and the unlawful a veil of the lawful, and then he narrated the ḥadīth. > **"Place between yourselves and the unlawful a veil of the lawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اپنے اور حرام کے درمیان ، حلال کا سترہ بنا لو ‘‘...... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے جس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ امام طبرانی کے استاد مقدام بن داؤد کا معاملہ مختلف ہے اور اس میں موجود ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18113

Majma al-Zawaid #18113

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَالْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا شُبُهَاتٌ، مَنْ تَوَقَّاهُنَّ كُنَّ وِقَاءً لِدِينِهِ، وَمَنْ يُوقَعْ فِيهِنَّ يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَ الْكَبَائِرَ، كَالْمُرْتِعِ حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكُ أَنْ يُوَاقِعَهُ، لِكُلِّ مِلْكٍ حِمًى» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār ibn Yāsir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that the lawful is clear and the unlawful is clear, and between them are doubtful matters. Whoever avoids them, they become a protection for his religion, and whoever falls into them shall soon fall into major sins, like one who grazes around a sanctuary and soon enters it, for every king has a sanctuary. > **"The lawful is clear and the unlawful is clear, and between them are doubtful matters. Whoever avoids them protects his religion, and whoever falls into them shall soon fall into major sins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بے شک حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے اور ان دونوں کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں ، جو شخص ان سے احتیاط کرے گا تو یہ اس کے دین کے لیے تکمیل کا باعث ہو گا اور جو شخص ان میں مبتلا ہو جائے گا تو عنقریب وہ کبیرہ گناہوں میں بھی مبتلا ہو سکتا ہے جیسے چراگاہ کے اردگرد چرنے والا ، ممکن ہے چراگاہ کے اندر بھی داخل ہو جائے اور ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

18114

Majma al-Zawaid #18114

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «الْحَلَالُ بَيِّنٌ وَالْحَرَامُ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ شُبُهَاتٌ، فَمَنْ أُوقِعَ بِهِنَّ فَهُوَ قَمِنٌ أَنْ يَأْثَمَ، وَمَنِ اجْتَنَبَهُنَّ فَهُوَ أَوْفَرُ لِدِينِهِ، كَمُرْتِعٍ إِلَى جَنْبِ حِمًى، أَوْشَكَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ، وَلِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، وَحِمَى اللَّهِ الْحَرَامُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ سَابِقٌ الْجَزَرِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that the lawful is clear and the unlawful is clear, and between them are doubtful matters. Whoever is ensnared by them is liable to sin, and whoever avoids them is more preserving of his religion, like one grazing beside a sanctuary who is about to fall into it. Every king has a sanctuary, and the sanctuary of Allāh is what He has forbidden. > **"The lawful is clear and the unlawful is clear, and between them are doubtful matters. Every king has a sanctuary, and the sanctuary of Allāh is what He has forbidden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حلال واضح ہے اور حرام واضح ہے ، اور ان کے درمیان کچھ مشتبہ امور ہیں ، جو شخص اُن میں مبتلا ہو جائے تو وہ اس لائق ہو گا کہ وہ گناہگار ہو جائے اور جو شخص ان سے اجتناب کرے گا وہ اپنے دین کے لیے بہتر کرے گا جیسے چراگاہ کے پہلو میں چرنے والا ممکن ہے چراگاہ میں داخل ہو جائے ، ہر بادشاہ کی مخصوص چراگاہ ہوتی ہے ، اللہ تعالیٰ کی مخصوص چراگاہ ، اس کی حرام کی ہوئی اشیاء ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سابق جزری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18115

Majma al-Zawaid #18115

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: «تَرَاءَيْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَسْجِدِ الْخَيْفِ، فَقَالَ لِي أَصْحَابُهُ: إِلَيْكِ يَا وَاثِلَةُ، أَيْ تَنَحَّ عَنْ وَجْهِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعُوهُ فَإِنَّمَا جَاءَ يَسْأَلُ "". قَالَ: فَدَنَوْتُ، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِتُفْتِنَا مِنْ أَمْرٍ نَأْخُذُ بِهِ عَنْكَ مِنْ بَعْدِكَ، قَالَ: "" لِتُفْتِكَ نَفْسُكَ "". قَالَ: قُلْتُ: وَكَيْفَ لِي بِذَلِكَ؟! قَالَ: "" دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونُ "". قُلْتُ: وَكَيْفَ لِي بِعِلْمِ ذَلِكَ؟ قَالَ: "" تَضَعُ يَدَكَ عَلَى فُؤَادِكَ ; فَإِنَّ الْقَلْبَ يَسْكُنُ لِلْحَلَّالِ، وَلَا يَسْكُنُ لِلْحَرَامِ، وَإِنَّ الْوَرِعَ الْمُسْلِمَ يَدَعُ الصَّغِيرَ مَخَافَةَ أَنْ يَقَعَ فِي الْكَبِيرِ "". قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ مَا الْعَصَبِيَّةُ؟ قَالَ: "" الَّذِي يُعِينُ قَوْمَهُ عَلَى الظُّلْمِ "". قُلْتُ: فَمَنِ الْحَرِيصُ؟ قَالَ: "" الَّذِي يَطْلُبُ الْمَكْسَبَةَ مِنْ غَيْرِ حِلِّهَا "". قُلْتُ: فَمَنَ الْوَرِعُ؟ قَالَ: "" الَّذِي يَقِفُ عِنْدَ الشُّبْهَةِ "". قُلْتُ: فَمَنِ الْمُؤْمِنُ؟ قَالَ: "" مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى أَمْوَالِهِمْ وَدِمَائِهِمْ "". قُلْتُ: فَمَنِ الْمُسْلِمُ؟ قَالَ: "" مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ "". قُلْتُ: فَأَيُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" كَلِمَةُ حُكْمٍ عِنْدَ إِمَامٍ جَائِرٍ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه reported that he presented himself to the Prophet ﷺ in the mosque of Al-Khayf, and his Companions told him to move away from the face of the Prophet ﷺ, but the Prophet ﷺ said to leave him for he had come to ask. He drew near and asked him by his father and mother to give them a ruling to hold to after him. He told him to let his own soul give him ruling. When he asked how, he told him to leave what causes doubt for what does not cause doubt, even if the muftīs give fatwā. When he asked how to know, he told him to place his hand upon his heart, for the heart finds rest in the lawful and does not find rest in the unlawful, and the Godfearing Muslim leaves the minor out of fear of falling into the major. He asked about tribalism, greed, piety, faith, Islām, and the best jihād, and he answered that tribalism is helping one's people in injustice, the greedy is one who seeks gain unlawfully, the pious is one who stops at doubt, the believer is one whom people trust with their wealth and blood, the Muslim is one from whose tongue and hand the Muslims are safe, and the best jihād is a just word before a tyrannical ruler. > **"Leave what causes you doubt for what does not cause you doubt. The heart finds rest in the lawful and does not find rest in the unlawful. The best jihād is a just word before a tyrannical ruler."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسجد خیف میں ، میں نبی اکرم ﷺ کی زیارت کے لئے آیا تو آپ کے اصحاب نے مجھ سے فرمایا ہے : اے واثلہ ! ایک طرف ہو جاؤ ! ( یعنی نبی اکرم ﷺ کے آگے سے ہٹ جاؤ ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو ! کیونکہ یہ سوال کرنے کے لیے آیا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں قریب ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ ہمیں احکام بیان کر دیں ، جنہیں ہم آپ کے بعد بھی اختیار کیے رکھیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے نفس کو تمہیں حکم بیان کرنا چاہیئے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو چیز تمہیں مشکوک لگے ، تم اُسے چھوڑ کر اُس کی طرف چلے جاؤ جو تمہیں مشکوک نہ لگے ، خواہ حکم بیان کرنے والے تمہیں جو بھی حکم بیان کریں ۔‘‘ میں نے دریافت کیا : مجھے اُس کا علم کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنا ہاتھ اپنے دل پر رکھنا ، کیونکہ دل حلال کے ذریعے سکون حاصل کرتا ہے ، وہ حرام کے ذریعے سکون حاصل نہیں کرتا اور پرہیزگار مسلمان صغیرہ گناہ کو بھی چھوڑ دیتا ہے ، اس بات سے ڈرتے ہوئے کہ کہیں وہ کبیرہ گناہ میں مبتلا نہ ہو جائے ۔‘‘ میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، عصبیت کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ کہ آدمی ظلم میں اپنی قوم کی مدد کرے ۔ میں نے دریافت کیا : حریض کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو ناجائز طور پر آمدن حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ میں نے دریافت کیا : پرہیزگار کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو مشتبہ چیز سے رک جائے ۔ میں نے دریافت کیا : مومن کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس سے لوگ اپنے اموال اور اپنی جانوں کے حوالے سے محفوظ ہوں ۔ میں نے دریافت کیا : مسلمان کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں ۔ میں نے دریافت کیا : کون سا جہاد زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ظالم حکمران کے سامنے صحیح بات کہنا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ متروک ہے ۔

18116

Majma al-Zawaid #18116

وَعَنْ وَاثِلَةَ قَالَ: «قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، نَبِّئْنِي. قَالَ: "" إِنْ شِئْتَ أَنْبَأَتُكَ بِمَا جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْهُ، وَإِنْ شِئْتَ فَسَلْ "". قَالَ: بَلْ نَبِئْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ; فَإِنَّهُ أَطْيَبُ لِنَفْسِي، قَالَ: "" جِئْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْيَقِينِ وَالشَّكِّ "". قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ. قَالَ: "" فَإِنَّ الْيَقِينَ مَا اسْتَقَرَّ فِي الصَّدْرِ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَإِنْ أَفْتَاكَ الْمُفْتُونُ، دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ، فِإِنَّ الْخَيْرَ طُمَأْنِينَةٌ وَالشَّكَ رِيبَةٌ وَإِذَا شَكَكْتَ فَدَعْ» "". فَذَكَرَ نَحْوَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْكِنْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah رضي الله عنه reported that he said O Prophet of Allāh, inform me. He offered to inform him of what he came to ask or to let him ask, and he chose to be informed as it is more pleasing to his soul. He told him he had come to ask about certainty and doubt, which he confirmed. He told him certainty is what settles in the breast and the heart is tranquil with it, even if the muftīs give fatwā, and to leave what causes doubt for what does not, for good is tranquillity and doubt is suspicion, and when in doubt, leave it. Then he narrated similarly. > **"Certainty is what settles in the breast and the heart is tranquil with it. Leave what causes you doubt for what does not cause you doubt, for good is tranquillity and doubt is suspicion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ مجھے بتائیے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں تمہیں اُس چیز کے بارے میں بتا دیتا ہوں جس کئے بارے میں دریافت کرنے کے لئے تم آئے ہو ، اور اگر تم چاہو تو تم سوال کر لو ، میں نے عرض کی : بلکہ آپ مجھے بتائیے یا رسول اللہ ! کیونکہ یہ چیز میرے لئے زیادہ اطمینان کا باعث ہو گی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم یقین اور شک کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو ، میں نے عرض کی : ایسا ہی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یقین وہ ہے جو سینے میں جم جائے اور جس سے دل مطمئن ہو ، خواہ حکم بیان کرنے والے تمہیں جو بھی حکم بیان کریں ، تم اُس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں مبتلا کرے اور اُس کی طرف جاؤ جو تمہیں شک میں مبتلا نہ کرے ، کیونکہ بھلائی اطمینان ہوتا ہے اور شک بے اطمینانی ہوتی ہے ، جب تمہیں شک ہو تو تم چھوڑ دو ......‘‘ اُس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبداللہ کندی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18117

Majma al-Zawaid #18117

وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْأَسَدِيِّ قَالَ: «جِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا لَا أُرِيدُ أَنْ أَدَعَ مِنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ شَيْئًا إِلَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ فِي عِصَابَةٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَوْلَهُ، فَجَعَلْتُ أَتَخَطَّاهُمْ لِأَدْنُوَ مِنْهُ، فَانْتَهَرَنِي بَعْضُهُمْ فَقَالَ: إِلَيْكَ يَا وَابِصَةُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" دَعَوْا وَابِصَةَ، ادْنُ مِنِّي يَا وَابِصَةُ "". فَأَدْنَانِي حَيْثُ كُنْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ: "" أَتَسْأَلُنِي أَمْ أُخْبِرُكَ؟ "". فَقُلْتُ: لَا. بَلْ تُخْبِرُنِي. فَقَالَ: جِئْتَ تَسْأَلُ عَنَ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ "". قُلْتُ: نَعَمْ. فَجَمَعَ أَنَامِلَهُ فَجَعَلَ يَنْكُثُ بِهِنَّ فِي صَدْرِي وَقَالَ: "" الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إِلَيْهِ النَّفْسُ، وَاطْمَأَنَّ إِلَيْهِ الْقَلْبُ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ، وَإِنْ أَفْتَاكَ النَّاسُ وَأَفْتَوْكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Wābiṣah ibn Maʿbad al-Asadī رضي الله عنه reported that he came to the Messenger of Allāh ﷺ intending to ask about every matter of righteousness and sin. He found him among a group of Muslims and stepped over them to draw near, and some rebuked him to stay back. The Messenger of Allāh ﷺ said to leave Wābiṣah and to draw near, until he stood before him. He asked whether he should ask or be informed, and he chose to be informed. He told him he had come to ask about righteousness and sin, which he confirmed. Then he joined his fingers and tapped his breast with them, saying righteousness is what the soul and heart are tranquil with, and sin is what pricks the soul and wavers, even if people give fatwā after fatwā. > **"Righteousness is what the soul and the heart are tranquil with, and sin is what pricks the soul and wavers, even if people give you fatwā."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وابصہ بن معبد اسدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میرا ارادہ یہ تھا کہ میں ہر نیکی اور گناہ کے بارے میں آپ سے دریافت کروں گا ، جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ کچھ لوگوں کے درمیان موجود تھے جو آپ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے ، میں ان کو پھلانگ کر آپ کے قریب ہونے لگا تو ان میں سے کسی نے مجھے ڈانٹا اور یہ کہا : اے وابصہ ! اللہ کے رسول سے دور رہو ! میں نے کہا : میں یہ چاہتا ہوں کہ ان کے قریب ہو جاؤں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وابصہ کو رہنے دو ! اے وابصہ ! تم میرے قریب آ جاؤ ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے قریب آنے کا کہا ، یہاں تک کہ میں آپ کے سامنے آ گیا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم مجھ سے سوال کرو گے ؟ یا میں تمہیں بتا دوں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ آپ مجھے بتا دیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نیکی اور گناہ کے بارے میں سوال کرنے کے لئے آئے ہو ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! پھر نبی اکرم ﷺ نے اپنی پوریں اکٹھی کیں اور ان کے ذریعے میرے سینے پر ہاتھ مار کر فرمایا : ’’ نیکی وہ ہے جس کے بارے میں نفس مطمئن ہو اور جس کے بارے میں دل مطمئن ہو اور گناہ وہ ہے جو نفس میں کھٹکے اور نفس تردد کا شکار ہو ، خواہ لوگ تمہیں جو بھی حکم بیان کریں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے امام احمد نے اسے اختصار کے ساتھ اس صحابی کے حوالے سے نقل کیا ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

18118

Majma al-Zawaid #18118

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «قَالَ رَجُلٌ: مَا الْإِثْمُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" مَا حَاكَ فِي صَدْرِكَ فَدَعْهُ "". قَالَ: فَمَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ: "" مَنْ سَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ، وَسَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ فَهُوَ مُؤْمِنٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that a man asked what is sin, O Messenger of Allāh. He said what pricks in your breast, so leave it. He asked what is faith, and he said whoever is displeased by his evil deed and pleased by his good deed, he is a believer. > **"What pricks in your breast, leave it. Whoever is displeased by his evil deed and pleased by his good deed, he is a believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گناہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو چیز تمہارے سینے میں کھٹکے تم اُسے چھوڑ دو ، اس نے دریافت کیا : ایمان کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو اپنی برائی بری لگے اور اپنی اچھائی اچھی لگے وہ مومن ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام احمد نے ان صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18119

Majma al-Zawaid #18119

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «دَعْ مَا يَرِيبُكَ إِلَى مَا لَا يَرِيبُكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي رُومَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said to leave what causes doubt for what does not cause doubt. > **"Leave what causes you doubt for what does not cause you doubt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس چیز کو چھوڑ دو ! جو تمہیں شک میں مبتلا کرتی ہے اور اس کی طرف جاؤ ! جو تمہیں شک میں مبتلا نہ کرئے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابورومان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18120

Majma al-Zawaid #18120

عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ قَالَ: «دَخَلْتُ يَوْمًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدَهُمْ قِدْرٌ تَفُورُ لَحْمًا، فَأَعْجَبَتْنِي شَحْمَةٌ فَأَخَذْتُهَا فَازْدَرَدْتُهَا، فَاشْتَكَيْتُ عَلَيْهَا سَنَةً، ثُمَّ إِنِّي ذَكَرْتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" إِنَّهُ كَانَ فِيهَا نَفْسُ سَبْعَةِ أَنَاسِيَّ "". ثُمَّ مَسَحَ بَطْنِي فَأَلْقَيْتُهَا خَضْرَاءَ، فَوَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ، مَا اشْتَكَيْتُ حَتَّى السَّاعَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ الْأَنْصَارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Rāfiʿ ibn Khadīj رضي الله عنه reported that one day he entered upon the Messenger of Allāh ﷺ when a pot was boiling with meat. A piece of fat pleased him, so he took it and swallowed it, and suffered from it for a year. When he mentioned it to the Messenger of Allāh ﷺ, he said it had contained the portion of seven people. Then he wiped his belly and he cast it out green, and by Him Who sent him with the truth, he suffered no complaint until this hour. > **"It contained the portion of seven people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس وقت آپ کے گھر میں ایک ہنڈیا تھی ، جس میں گوشت پک رہا تھا ، مجھے اس کی خوشبو اچھی لگی ، میں نے اُسے لیا اور کھا لیا ، اس کی وجہ سے میں ایک سال بیمار رہا پھر میں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس میں سات افراد کی خوراک تھی ، پھر نبی اکرم ﷺ نے میرے پیٹ پر ہاتھ پھیرا تو میں نے سبز رنگ کی چیز قے کر دی ، اُس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، اس کے بعد سے لے کر آج تک مجھے کبھی شکایت نہیں ہوئی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ انصاری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔