Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 13

Book of Asceticism

Hadith 18121–18160

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18121

Majma al-Zawaid #18121

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنَّ مَثَلَ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ النَّحْلَةِ، أَكَلَتْ طَيِّبًا وَوَضَعَتْ طَيِّبًا، وَوَقَعَتْ فَلَمْ تَكْسِرْ وَلَمْ تُفْسِدْ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ تَقَدَّمَ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي سَبْرَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ swear by Him in Whose Hand is his soul that the likeness of the believer is like the bee, which eats what is pure and produces what is pure, and when it alights it neither breaks nor spoils. > **"The likeness of the believer is like the bee, which eats what is pure and produces what is pure, and when it alights it neither breaks nor spoils."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مومن کی مثال شہد کی مکھی کی مانند ہے جو پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور پاکیزہ چیز نکالتی ہے ، اور جب وہ گرتی ہے تو کچھ توڑتی نہیں ہے اور خراب نہیں کرتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے جو اس سے پہلے گزر چکی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوسبرہ کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

18122

Majma al-Zawaid #18122

وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّحْلَةِ لَا تَأْكُلُ إِلَّا طَيِّبًا، وَلَا تَضَعُ إِلَّا طَيِّبًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: "" أَطِبْ مَطْعَمَكَ تَكُنْ مُسْتَجَابَ الدَّعْوَةِ». فِي بَابِ فِيمَنْ أَكَلَ حَلَالًا أَوْ حَرَامًا.

EnglishUnverified translation

Abū Razīn al-ʿUqaylī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that the likeness of the believer is like the bee, which eats only what is pure and produces only what is pure. > **"The likeness of the believer is like the bee, which eats only what is pure and produces only what is pure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورزین عقیلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن کی مثال شہد کی مکھی کی مانند ہے جو صرف پاکیزہ چیز کھاتی ہے اور صرف پاکیزہ چیز نکالتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن نصیر ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا : ’’ تم اپنا کھانا پاکیزہ رکھو ا تم مستجاب الدعوات بن جاؤ گے ۔‘‘ یہ حدیث ’’ باب : اس شخص کا بیان جو حلال یا حرام کھائے ‘‘ میں گزری ہے ۔

18123

Majma al-Zawaid #18123

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَرْبَعٌ إِذَا كُنَّ فِيكَ فَلَا عَلَيْكَ مَا فَاتَكَ مِنَ الدُّنْيَا: حِفْظُ أَمَانَةٍ، وَصِدْقُ حَدِيثٍ، وَحُسْنُ خَلِيقَةٍ، وَعِفَّةٌ فِي طُعْمَةٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that there are four traits, when they are in a person then whatever he misses of this world does not harm him: guarding trust, truthful speech, good character, and chastity in food. > **"Guarding trust, truthful speech, good character, and chastity in food."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ چار چیزیں ہیں ، جب وہ تم میں ہوں گی تو تم پر کوئی حرج نہیں ہو گا ، خواہ دنیا میں سے جو بھی تمہیں نہ ملے ، امانت کی حفاظت ، سچ بولنا ، اچھے اخلاق اور کھانے میں احتیاط ( یعنی صرف حلال کھانا ) ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

18124

Majma al-Zawaid #18124

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيهِ اسْتَوْجَبَ الثَّوَابَ، وَاسْتَكْمَلَ الْإِيمَانَ: خُلُقٌ يَعِيشُ بِهِ فِي النَّاسِ، وَوَرَعٌ يَحْجِزُهُ عَنْ مَحَارِمِ اللَّهِ، وَحِلْمٌ يَرُدُّ بِهِ جَهْلَ الْجَاهِلِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that there are three traits, whoever has them renders reward due and completes faith: character by which he lives among people, piety which restrains him from the prohibitions of Allāh, and forbearance by which he repels the ignorance of the ignorant. > **"Character by which he lives among people, piety which restrains him from the prohibitions of Allāh, and forbearance by which he repels the ignorance of the ignorant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تین چیزیں جس شخص میں ہوں گئی وہ ثواب کو لازم کر لے گا اور ایمان کو مکمل کر لے گا ، ایسے ( عمدہ ) اخلاق جن کے ذریعے وہ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے ، ایسی پرہیزگاری ، جو اسے اللہ تعالی کی حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے بچا کے رکھے اور ایسی بردباری ، جس کے ذریعے وہ جاہل شخص کی جہالت کو پرے کرے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18125

Majma al-Zawaid #18125

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى نَاجَى مُوسَى بِمِائَةِ أَلْفٍ وَأَرْبَعِينَ أَلْفَ كَلِمَةٍ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَصَايَا كُلُّهَا، فَلَمَّا سَمِعَ مُوسَى كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ مَقَتَهُمْ مِمَّا وَقَعَ فِي مَسَامِعِهِ مِنْ كَلَامِ الرَّبِّ، وَكَانَ فِيمَا نَاجَهُ أَنْ قَالَ: يَا مُوسَى، لَمْ يَتَصَنَّعِ الْمُتَصَنِّعُونَ لِي بِمِثْلِ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا، وَلَمْ يَتَقَرَّبِ الْمُتَقَرِّبُونَ بِمِثْلِ الْوَرَعِ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ، وَلَا تَعَبَّدَنِي الْعَابِدُونَ بِمِثْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خِيفَتِي. فَقَالَ مُوسَى: يَا إِلَهَ الْبَرِيَّةِ كُلِّهَا، وَيَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهُمْ؟ وَمَاذَا جَزَيْتَهُمْ؟ قَالَ: يَا مُوسَى، أَمَّا الزَّاهِدُونَ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّهُمْ أَبَحْتُهُمْ جَنَّتِي يَتَبَوَّءُونَ حَيْثُ يَشَاءُونَ. وَأَمَّا الْوَرَعَةُ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْقَانِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا نَقَشْتُهُ وَفَتَّشْتُهُ عَمَّا كَانَ فِي يَدَيْهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ الْوَرِعِينَ، فَإِنِّي أَسَتَهِيبُهُمْ، وَأُجِلُّهُمْ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَأَمَّا الْبَكَّاءُونَ مِنْ خِيفَتِي فَلَهُمُ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى لَا يُشَارَكُونَ فِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جُوَيْبِرُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that Allāh the Exalted intimately addressed Mūsā عليه السلام with one hundred and forty thousand words in three days, all of them counsels. When Mūsā heard the speech of men he found them distasteful because of what had fallen upon his hearing of the speech of the Lord. Among what He confided was, O Mūsā, those who strive for Me have not striven with the like of renunciation in this world, nor have seekers drawn near with the like of piety from what I forbade them, nor have worshippers worshipped Me with the like of weeping from fear of Me. Mūsā asked, O God of all creation and Master of the Day of Judgement and Possessor of Majesty and Honour, what have You prepared for them and what is their recompense. He said, O Mūsā, as for the renunciants in this world, I have permitted them My Paradise to dwell wherever they wish. As for the pious from what I forbade them, there is no servant who meets Me on the Day of Resurrection but I examine and search what was in his hands, except the pious, for I honour them and admit them to Paradise without reckoning. As for those who weep from fear of Me, theirs is the highest companionship in which none share. > **"Those who strive have not striven with the like of renunciation in this world, nor have seekers drawn near with the like of piety from what I forbade, nor have worshippers worshipped Me with the like of weeping from fear of Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک لاکھ چالیس ہزار کلمات کے ذریعے خطاب کیا ، جو تین دن میں ہوا ، یہ سارا کلام ، وصایا ( یعنی تلقین اور ہدایات ) پر مشتمل تھا ، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بعد میں انسانوں کا کلام سنا تو وہ انہیں ناگوار گزرا ، کیونکہ ان کی سماعتوں میں پروردگار کا کلام آ چکا تھا ، پروردگار نے انہیں خطاب کے دوران جو فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی ، اس نے فرمایا : ’’ اے موسیٰ ! میری خاطر عمل کرنے والوں نے دنیا سے بے رغبتی جیسا کوئی عمل نہیں کیا ہو گا اور میرا قرب حاصل کرنے والوں نے ( ایسا کوئی عمل نہیں کیا ہو گا ) جو میری اُن پر حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے بچنے کی مانند ہو اور عبادت گزاروں نے میری عبادت ( ایسے کسی طریقے سے نہیں کی ہو گی ) جو میرے خوف سے رونے کی مانند ہو ۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے ساری مخلوق کے پروردگار ! اے روز جزاء کے مالک ! اے جلال اور اکرام والے ! تو نے اُن کے لیے کیا تیار کیا ہے اور تو انہیں کیا جزا دے گا ؟ تو پروردگار نے فرمایا : ’’ اے موسیٰ ! جہاں تک دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے والے لوگوں کا تعلق ہے تو میں نے ان کے لئے اپنی جنت کو مباح قرار دے دیا ہے وہ جہاں چاہیں گے وہاں ٹھکانہ بنا لیں گے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو اس چیز سے بچتے ہیں جو میں نے ان پر حرام قرار دی ہے تو قیامت کے دن جو بھی بندہ میری بارگاہ میں حاضر ہو گا ، میں اس سے تحقیق و تفتیش کروں گا ، اس چیز کے بارے میں ، جو اس کے ہاتھوں میں تھا ، البتہ پرہیزگار لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، میں اُن کی عزت افزائی کروں گا اور انہیں کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دوں گا ، جہاں تک میرے خوف کی وجہ سے رونے والے لوگوں کا تعلق ہے تو ان کے لیے رفیق اعلیٰ ہو گا ، جس میں کوئی اُن کا شراکت دار نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جویبر بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18126

Majma al-Zawaid #18126

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا أَعْجَبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْءٌ مِنَ الدُّنْيَا وَلَا أَعْجَبَهُ فِيهَا إِلَّا وَرَعَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ: أَحْمَدُ بْنُ الْقَاسِمِ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that nothing of this world nor what is in it pleased the Messenger of Allāh ﷺ except piety. > **"Nothing of this world pleased the Messenger of Allāh ﷺ except piety."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کو دنیا میں سے اور جو کچھ دنیا میں موجود ہے اس میں سے کوئی بھی چیز پسند نہیں تھی ، البتہ پرہیزگاری کا معاملہ مختلف ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اور امام طبرانی کے استاد احمد بن قاسم سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18127

Majma al-Zawaid #18127

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، ارْضَ بِمَا قُسِمَ لَكَ تَكُنْ غَنِيًّا، وَكُنْ وَرِعًا تَكُنْ أَعْبُدَ النَّاسِ، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِكَ تَكُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحْسِنْ مُجَاوَرَةَ مَنْ جَاوَرَكَ تَكُنْ مُسْلِمًا، وَإِيَّاكَ وَكَثْرَةَ الضَّحِكِ ; فَإِنَّهُ يُمِيتُ الْقَلْبَ، وَالْقَهْقَهَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ، وَالتَّبَسُّمُ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ: "" وَالْقَهْقَهَةُ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said, O Abā Hurayrah, be pleased with what is apportioned for you and you shall be rich, be pious and you shall be the most worshipful of people, love for people what you love for yourself and you shall be a believer, do good to your neighbour and you shall be a Muslim, and beware of much laughter, for it deadens the heart. Loud guffaw is from Satan and smiling is from Allāh the Mighty and Majestic. > **"Be pleased with what is apportioned for you and you shall be rich, be pious and you shall be the most worshipful of people, and beware of much laughter, for it deadens the heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوہریرہ ! جو تمہارے حصے میں آیا ہے تم اس سے راضی رہو ، تم خوشحال بن جاؤ گے ، تم پرہیزگار بن جاؤ ، تم سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤ گے ، تم لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو ، تم مومن بن جاؤ گے ، تم اپنے پڑوسی ( یا ساتھی ) کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، تم مسلمان بن جاؤ گے اور تم زیادہ ہنسنے سے بچو ، کیونکہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے اور قہقہہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے اور مسکرانا ، اللہ تعالی کی طرف سے ہوتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ مقل نہیں کئے ہیں :’’ قہقہہ ( یعنی اُس کے بعد سے لے کر آخر تک کے الفاظ نقل نہیں کئے ہیں ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18128

Majma al-Zawaid #18128

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ، وَأَبِي الدَّهْمَاءِ قَالَا: «أَتَيْنَا عَلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ فَقُلْنَا: هَلْ سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ. سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا أَبْدَلَكَ اللَّهُ بِهِ مَا هُوَ خَيْرٌ لَكَ مِنْهُ».

EnglishUnverified translation

Abū Qatādah and Abū al-Dahmāʾ رضي الله عنهما reported that they came to a man of the desert and asked whether he had heard anything from the Messenger of Allāh ﷺ. He said yes, he heard him say that a person never leaves a thing for Allāh the Mighty and Majestic but Allāh replaces it for him with what is better for him than it. > **"You never leave a thing for Allāh but Allāh replaces it for you with what is better for you than it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقتادہ اور ابودہماء بیان کرتے ہیں : ہم ایک دیہاتی کے پاس آئے ، ہم نے دریافت کیا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کی زبانی کوئی بات سنی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے آپ ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اگر تم اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز ترک کر دو گے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں تمہیں وہ چیز دے گا جو تمہارے لیے اس سے زیادہ بہتر ہو گی ۔‘‘

18129

Majma al-Zawaid #18129

وَفِي رِوَايَةٍ: «أَخَذَ بِيَدِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَقَالَ: "" إِنَّكَ لَنْ تَدَعَ شَيْئًا اتِّقَاءَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَّا أَعْطَاكَ اللَّهُ خَيْرًا مِنْهُ». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a narration, the Messenger of Allāh ﷺ took his hand and began teaching him of what Allāh the Blessed and Exalted had taught him, saying that a person never leaves a thing out of fear of Allāh the Mighty and Majestic but Allāh gives him better than it. > **"You never leave a thing out of fear of Allāh but Allāh gives you better than it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اس چیز کی تعلیم دینے لگے جو علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے جو چیز تم چھوڑ دو گے تو اللہ تعالی تمہیں اُس سے بہتر چیز عطا کر دے گا ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18130

Majma al-Zawaid #18130

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ قَدَرَ عَلَى طَمَعٍ مَنْ طَمَعِ الدُّنْيَا فَأَدَّاهُ، وَلَوْ شَاءَ لَمْ يُؤَدِّهِ، زَوَّجَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنَ الْحُورِ الْعِينِ حَيْثُ شَاءَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever has power over a worldly temptation and fulfils it faithfully, though had he wished he would not have fulfilled it, Allāh the Mighty and Majestic shall marry him to the maidens of Paradise wherever he wishes. > **"Whoever has power over worldly temptation and fulfils it faithfully, Allāh shall marry him to the maidens of Paradise wherever he wishes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص دنیاوی لالچ سے متعلق کسی پہلو پر قدرت رکھتا ہو اور وہ اسے ادا کر دے ، حالانکہ اگر وہ چاہتا تو اسے ادا نہ کرتا ، تو جس حورعین کے ساتھ وہ چاہے گا ، اُس کے ساتھ اللہ تعالی اس کی شادی کروا دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

18131

Majma al-Zawaid #18131

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنَ الشَّرِّ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ فِي دِينٍ، أَوْ دُنْيَا إِلَّا مَنْ عَصَمَ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ حُصَيْنٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that it suffices a man as evil that he be pointed at with fingers in religion or world, except whom Allāh protects. > **"It suffices a man as evil that he be pointed at with fingers in religion or world, except whom Allāh protects."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آدمی کے برا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ دین یا دنیا کے کسی حوالے سے انگلیوں کے ذریعے اُس کی طرف اشارہ کیا جائے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن حصین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18132

Majma al-Zawaid #18132

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" «كَفَى بِالْمَرْءِ مِنَ الْإِثْمِ أَنْ يُشَارَ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ "" قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ كَانَ خَيْرًا؟ قَالَ: "" وَإِنْ كَانَ خَيْرًا فَهُو شَرٌّ لَهُ إِلَّا مَنْ رَحِمَ اللَّهُ، وَإِنْ كَانَ شَرًّا فَهُوَ شَرٌّ لَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ: كَثِيرُ بْنُ مَرْوَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that it suffices a man as sin that he be pointed at with fingers. It was asked, O Messenger of Allāh, even if it be for good. He said even if it be for good, it is evil for him, except whom Allāh has mercy upon, and if it be for evil, then it is evil for him. > **"It suffices a man as sin that he be pointed at with fingers, even if it be for good, except whom Allāh has mercy upon."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی کے گناہگار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ انگلیوں کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کیا جائے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ بھلائی ہو ( جس کی وجہ سے اُس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہو ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اگرچہ وہ بھلائی ہو ، لیکن اس شخص کے حق میں یہ ( یعنی اس کی طرف اشارہ کیا جانا ) برا ہو گا ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے اور اگر وہ برائی ہو ( جس کی وجہ سے اُس کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہو ) تو وہ تو اُس کے لئے برا ہی ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن مروان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18133

Majma al-Zawaid #18133

وَعَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ قَالَ: صَحِبْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: أَوْصِنِي - رَحِمَكَ اللَّهُ -. فَقَالَ: احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثَ خِصَالٍ يَنْفَعْكَ اللَّهُ بِهِنَّ: إِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَعْرِفَ وَلَا تُعْرَفَ فَافْعَلْ، وَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَسْمَعَ وَلَا تَتَكَلَّمَ فَافْعَلْ، وَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَجْلِسَ وَلَا يُجْلَسَ إِلَيْكَ فَافْعَلْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Muḥayrīz reported that he accompanied Faḍālah ibn ʿUbayd رضي الله عنه, a Companion of the Messenger of Allāh ﷺ, and asked him to counsel him. He told him to remember three traits by which Allāh shall benefit him: if he can know without being known, let him do so; if he can listen without speaking, let him do so; and if he can sit without others sitting to him, let him do so. > **"If you can know without being known, do so; if you can listen without speaking, do so; and if you can sit without others sitting to you, do so."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن محیریز بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے صحابی حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ہوں ، میں نے کہا : آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ! اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے ! انہوں نے فرمایا : تم میری تین باتیں یاد رکھنا ! اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے تمہیں نفع دے گا : ’’ اگر تم سے یہ ہو سکے کہ تم معروف نہ ہو ، تو تم ایسا کر لینا ۔ اگر تم یہ کر سکتے ہو کہ تم سنو اور بات نہ کرو ، تو تم ایسا کر لینا ۔ اور اگر تم سے ایسا ہو سکے کہ تم ( کسی کے پاس جا کر ) بیٹھو ( لوگ تمہارے پاس نہ آئیں ) اور تمہارے پاس نہ بیٹھا جائے ، تو تم ایسا کر لینا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18134

Majma al-Zawaid #18134

عَنْ شُتَيْرِ بْنِ شَكَلٍ، وَعَنْ زُفَرَ، وَعَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، وَعَنْ سُلَيْكِ بْنِ مِسْحَلٍ قَالُوا: خَرَجَ عَلَيْنَا حُذَيْفَةُ وَنَحْنُ نَتَحَدَّثُ فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَتُكَلِّمُونَ كَلَامًا إِنْ كُنَّا لَنَعُدُّهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّفَاقَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Shutayr ibn Shakl, Zufar, Ṣilah ibn Zufar, and Sulayk ibn Misḥal reported that Ḥudhayfah رضي الله عنه came out to them while they were conversing and said that they utter speech which in the time of the Messenger of Allāh ﷺ they used to count as hypocrisy. > **"You utter speech which in the time of the Messenger of Allāh ﷺ we used to count as hypocrisy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شتیر بن شکل ، زفر ، صلہ بن زفر اور سلیک بن مسحل بیان کرتے ہیں : حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، ہم اس وقت بات چیت کر رہے تھے انہوں نے فرمایا : تم لوگ ایسا کلام کر جاتے ہو کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم اُسے منافقت شمار کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ لیث بن ابوسلیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ مدلس ہے ۔

18135

Majma al-Zawaid #18135

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: إِنْ كَانَ الرَّجُلُ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَصِيرُ بِهَا مُنَافِقًا، وَإِنِّي لَأَسْمَعُهَا مِنْ أَحَدِكُمْ فِي الْيَوْمِ فِي الْمَجْلِسِ عَشْرَ مَرَّاتٍ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه reported that a man in the time of the Messenger of Allāh ﷺ would utter a word and thereby become a hypocrite, whereas now he hears such from one of them ten times in a single sitting. > **"A man would utter a word in the time of the Messenger of Allāh ﷺ and thereby become a hypocrite, whereas I hear it ten times in one sitting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ درست فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ، بعض اوقات کوئی شخص ایسا کلام کرتا تھا کہ اس کے ذریعے وہ منافق ہو جاتا تھا اور اب ویسا کلام ، میں تم میں سے کسی ایک کی زبانی ایک محفل میں دس مرتبہ سن لیتا ہوں ۔

18136

Majma al-Zawaid #18136

وَفِي رِوَايَةٍ: أَرْبَعَ مَرَّاتٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ أَبُو الرُّقَادِ الْجُهَنِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In a narration, Ḥudhayfah رضي الله عنه said four times, meaning he hears such speech four times from one of them in a day in a sitting. > **"I hear it from one of you four times in a sitting."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : چار مرتبہ ( سن لیتا ہوں ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابورقاد جہنی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18137

Majma al-Zawaid #18137

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ كَذَا وَكَذَا خَرِيفًا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, reported that the Prophet ﷺ said that a man utters a word by which he falls into the Fire for so many autumns. > **"A man utters a word by which he falls into the Fire for so many autumns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آدمی کوئی بات کہتا ہے اور اُس ( بات ) کی وجہ سے وہ جہنم میں اتنے اتنے سال تک گرتا رہے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18138

Majma al-Zawaid #18138

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - يَرْفَعُهُ قَالَ: "" «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ لَا يُرِيدُ بِهَا بَأْسًا إِلَّا لِيُضْحِكَ بِهَا الْقَوْمَ، وَإِنَّهُ لَيَقَعُ مِنْهَا أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd, meaning al-Khudrī رضي الله عنه, reported in a raised narration that a man utters a word intending no harm thereby except to make people laugh, yet he falls thereby farther than the sky. > **"A man utters a word only to make people laugh, yet he falls thereby farther than the sky."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ آدمی کوئی بات کرتا ہے اور اس ( بات ) کے ذریعے اُس کا مقصد کوئی حرج والا نہیں ہوتا ، صرف اس کے ذریعے کچھ لوگوں کو ہنسانا مقصود ہوتا ہے لیکن اُس ( بات ) کی وجہ سے وہ اس سے زیادہ ( بلندی سے جہنم میں ) گرے گا جتنا آسمان کا فاصلہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال میں سے بعض کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ۔

18139

Majma al-Zawaid #18139

وَعَنْ أَمَةَ ابْنَةِ أَبِي الْحَكَمِ الْغِفَارِيَّةِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ الرَّجُلَ لَيَدْنُو مِنَ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قَيْدُ ذِرَاعٍ، فَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ فَيَتَبَاعَدُ مِنْهَا إِلَى أَبْعَدَ مِنْ صَنْعَاءَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Amatu, daughter of Abū al-Ḥakam al-Ghifārīyah رضي الله عنها, reported that she heard the Messenger of Allāh ﷺ say that a man draws near to Paradise until there remains between him and it only a cubit, then he utters a word and distances himself from it farther than Ṣanʿāʾ. > **"A man draws near to Paradise until there remains but a cubit between him and it, then he utters a word and distances himself farther than Ṣanʿāʾ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده امۃ بنت ابوالحکم غفاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ آدمی جنت کے قریب ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان میں ایک ذراع ( یعنی کہنی سے لے کر سب سے بڑی انگلی کے کنارے تک کی مقدار ) کا فاصلہ باقی رہ جاتا ہے پھر وہ کوئی ایسی بات کہتا ہے جس کی وجہ سے وہ جنت سے اس سے زیادہ دور ہو جاتا ہے جتنا ( یہاں سے ) صنعاء تک کا فاصلہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

18140

Majma al-Zawaid #18140

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَكَلَّمُ بِالْكَلِمَةِ يُضْحِكُ بِهَا جُلَسَاءَهُ، مَا يَنْقَلِبُ إِلَى أَهْلِهِ مِنْهَا بِشَيْءٍ يَنْزِلُ بِهَا أَبْعَدَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ رَجَاءٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said that a man utters a word to make his companions laugh, returning to his family with nothing from it, yet he descends thereby farther than from the sky to the earth. > **"A man utters a word to make his companions laugh, yet he descends thereby farther than from the sky to the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ آدمی کوئی بات کرتا ہے تاکہ اُس کے ذریعے اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو ہنسائے ، وہ وہاں سے کوئی چیز واپس لے کر نہیں لوٹتا ، لیکن وہ اس کلمے کی وجہ سے اس سے زیادہ بلندی سے گرے گا جتنا آسمان سے زمین تک کا فاصلہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن رجاء ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18141

Majma al-Zawaid #18141

عَنْ سِمَاكٍ قَالَ: «قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ: أَكُنْتَ تُجَالِسُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ. وَكَانَ طَوِيلَ الصَّمْتِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَرِيكٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Simāk reported that he asked Jābir ibn Samurah رضي الله عنه whether he used to sit with the Prophet ﷺ, and he said yes, and that he was long in silence. > **"He was long in silence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سماک بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا آپ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ بیٹھتے رہے ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ طویل خاموشی ( اختیار کیے رکھتے تھے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شریک کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18142

Majma al-Zawaid #18142

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَسْلَمَ فَلْيَلْزَمِ الصَّمْتَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْوَقَّاصِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever is pleased to remain safe, let him keep to silence. > **"Whoever is pleased to remain safe, let him keep to silence."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ وہ سلامت رہے ، اُسے خاموشی کو لازمی اختیار کرنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عبدالرحمن وقاصی ہے اور وہ متروک ہے ۔

18143

Majma al-Zawaid #18143

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ خَزَنَ لِسَانَهُ سَتَرَ اللَّهُ عَوْرَتَهُ، وَمَنْ كَفَّ غَضَبَهُ كَفَّ اللَّهُ عَنْهُ عَذَابَهُ، وَمَنِ اعْتَذَرَ إِلَى اللَّهِ قَبِلَ اللَّهُ مِنْهُ عُذْرَهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَزْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever guards his tongue, Allāh shall veil his faults; whoever restrains his anger, Allāh shall withhold His punishment from him; and whoever offers excuse to Allāh, Allāh shall accept his excuse. > **"Whoever guards his tongue, Allāh shall veil his faults; whoever restrains his anger, Allāh shall withhold His punishment; and whoever offers excuse to Allāh, Allāh shall accept his excuse."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان صحابی کے حوالے سے یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو شخص اپنی زبان کی حفاظت کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرے گا ، جو شخص اپنے غصے پر قابو پائے گا ، اللہ تعالیٰ اُس سے اپنا عذاب روک لے گا ، جو شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں معذرت پیش کرے گا ، اللہ تعالیٰ اُس کی معذرت قبول کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن سلیمان ازدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18144

Majma al-Zawaid #18144

وَعَنْ تَمِيمِ بْنِ يَزِيدَ مَوْلَى بَنِي زَمْعَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ "". فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا تُخْبِرُنَا بِهِمَا؟ ثُمَّ قَالَ: "" اثْنَتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ "". حَتَّى إِذَا كَانَتِ الثَّالِثَةُ حَبَسَهُ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: تَرَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُ أَنْ يُبَشِّرَنَا فَتَمْنَعُهُ؟ فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ. قَالَ: "" ثِنْتَانِ مَنْ وَقَاهُ اللَّهُ شَرَّهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ: مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا تَمِيمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Tamīm ibn Yazīd, freedman of Banū Zamʿah, reported from a man among the Companions of the Messenger of Allāh ﷺ that the Messenger of Allāh ﷺ addressed them one day saying, O people, there are two things, whoever is protected by Allāh from their evil shall enter Paradise. A man of the Anṣār stood and asked whether he would inform them, then he repeated it, until at the third time the Companions of the Messenger of Allāh ﷺ restrained him, saying he saw the Messenger of Allāh ﷺ intending to give glad tidings while he prevented him. He replied that he feared people would rely upon it. Then he said there are two things, whoever is protected by Allāh from their evil shall enter Paradise: what is between his jaws and what is between his legs. > **"Two things, whoever is protected by Allāh from their evil shall enter Paradise: what is between his jaws and what is between his legs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

تمیم بن یزید ، جو بنوزمعہ کے غلام ہیں ، وہ ایک صحابی کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! دو چیزیں ہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے اُن دونوں کے شر سے بچا لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ہمیں اُن دونوں کے بارے میں بتائیں گے نہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے پھر یہ ارشاد فرمایا : دو چیزیں ہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے شر سے بچا لیا ، وہ جنت میں داخل ہو گا راوی بیان کرتے ہیں : جب تیسری مرتبہ یہی مکالمہ ہوا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان صاحب کو روک دیا اور یہ کہا : تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ کے رسول ﷺ ہمیں کوئی خوشخبری سنانا چاہ رہے ہیں اور تم انہیں روک رہے ہو ، اس شخص نے کہا : مجھے یہ اندیشہ ہے کہ کہیں لوگ اس پر تکیہ نہ کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دو چیزیں ہیں ، جس کو اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کے شر سے بچا لیا وہ جنت میں جائے گا ، وہ چیز جو دو جبڑوں کے درمیان ہے ( یعنی زبان ) اور وہ چیز جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے ( یعنی شرمگاہ ) ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف تمیم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18145

Majma al-Zawaid #18145

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ وَفَرْجِهِ ; دَخَلَ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ وَأَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ، وَفِي رِجَالِ أَحْمَدَ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَالظَّاهِرُ أَنَّ الرَّاوِيَ الَّذِي سَقَطَ عَنْهُ أَحْمَدُ: هُوَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever guards what is between his jaws and his private part shall enter Paradise. > **"Whoever guards what is between his jaws and his private part shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان والی چیز ( یعنی زبان ) اور اپنی شرم گاہ کی حفاظت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، طبرانی اور ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ، احمد کے رجال میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، بظاہر یہ لگتا ہے کہ امام احمد نے جس راوی کا نام ذکر نہیں کیا ، وہ سلیمان بن یسار ہے ۔

18146

Majma al-Zawaid #18146

وَعَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أُحَدِّثُكَ ثِنْتَيْنِ مَنْ فَعَلَهُمَا دَخَلَ الْجَنَّةَ؟ "". قُلْنَا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" يَحْفَظُ الرَّجُلُ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ "". قَالَ: فَرَجَعْتُ أَنَا وَصَاحِبِي فَقُلْنَا: وَاللَّهِ إِنَّ هَذَا لَشَدِيدٌ، كَيْفَ يَسْتَطِيعُ الْمَرْءُ أَنْ يَحْفَظَ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ فَلَا يَتَكَلَّمُ إِلَّا بِخَيْرٍ؟ قَالَ: فَأَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ ذَكَرْتَ خَصْلَتَيْنِ شَدِيدَتَيْنِ، وَمَنْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَمْلِكَ لِسَانَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" فَسِتٌّ مَنْ فَعَلَهُنَّ دَخَلَ الْجَنَّةَ "". قُلْنَا: وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: "" مَنْ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، وَلَا يَزْنِي، وَلَا يَأْتِي بِبُهْتَانٍ يَفْتَرِيهِ "". فَأَتَمَّ الْآيَةَ كُلَّهَا فَكَانَتْ هَذِهِ أَشَدَّ مِنَ الْأُولَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ asked whether he should inform of two deeds, whoever does them shall enter Paradise. They said yes, O Messenger of Allāh. He said that a man guards what is between his jaws and what is between his legs. The narrator and his companion withdrew saying by Allāh this is hard, how can a man guard between his jaws and speak only good. They returned and said the two traits are hard and who can control his tongue. He then said there are six, whoever does them shall enter Paradise. They asked what they are, and he said whoever does not associate anything with Allāh, nor commits adultery, nor brings a slander which he fabricates, then he completed the verse, and this was harder than the first. > **"Let a man guard what is between his jaws and what is between his legs. Whoever does not associate with Allāh, nor commits adultery, nor brings a fabricated slander, shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں دو ایسی چیزوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کہ جو شخص انہیں کر لے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ، ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی اُس چیز کی حفاظت کرے ، جو اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے ( یعنی زبان ) اور اُس کی جو اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے ( یعنی شرمگاہ ) ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : میں اور میرا ساتھی واپس آئے ، ہم نے سوچا ، اللہ کی قسم ! یہ تو بہت مشکل ہے ، آدمی اس بات کی کیسے استطاعت رکھتا ہے کہ وہ دونوں جبڑوں کے درمیان موجود چیز کی حفاظت کرے اور صرف بھلائی کے بارے میں کلام کرے ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے دو ایسے امور ذکر کئے ہیں ، جو بہت مشکل ہیں یا رسول اللہ ! کون اس بات کی استطاعت رکھتا ہے کہ وہ اپنی زبان پر قابو رکھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : چھ کام ایسے ہیں ، جو شخص انہیں کر لے گا ، وہ جنت میں داخل ہو گا ، ہم نے دریافت کیا : وہ کون سے ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ شخص جو کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہرائے ، وہ زنا نہ کرے ، وہ جھوٹا الزام نہ لگائے ......‘‘۔ اس کے بعد آپ نے اس آیت کو مکمل تلاوت کیا ( راوی کہتے ہیں : ) تو یہ حکم پہلے والے سے بھی زیادہ مشکل تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18147

Majma al-Zawaid #18147

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «كُنَّا نَجْلِسُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ غِلْمَانٌ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا كَانَ أَطْوَلَ صَمْتًا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ إِذَا تَكَلَّمَ أَصْحَابُهُ فَأَكْثَرُوا الْكَلَامَ تَبَسَّمَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ زَكَرِيَّا الْعِجْلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashjaʿī reported from his father that they used to sit with the Prophet ﷺ while they were young lads, and he never saw a man longer in silence than the Messenger of Allāh ﷺ, and when his Companions spoke and spoke much, he would smile. > **"I never saw a man longer in silence than the Messenger of Allāh ﷺ, and when his Companions spoke much, he would smile."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومالک اشجعی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے رہتے تھے ، ہم سب نوجوان تھے میں نے ایسا کوئی فرد نہیں دیکھا جو اللہ کے رسول ﷺ سے زیادہ خاموش رہتا ہو ، آپ ﷺ کے اصحاب گفتگو کرتے ہوئے جب زیادہ گفتگو کرتے تھے تو آپ مسکرا دیتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ذکریا عجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18148

Majma al-Zawaid #18148

«وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ هُشَامٍ أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَخْبِرْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" امْلِكْ هَذَا "". وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ وَأَحَدُهُمَا جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥārith ibn Hishām رضي الله عنه reported that he asked the Messenger of Allāh ﷺ to inform him of a matter to hold fast to. The Messenger of Allāh ﷺ said to control this, pointing to his tongue. > **"Control this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں عرض کی : آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس پر قابو رکھو ! آپ ﷺ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے ( یہ بات ارشاد فرمائی ) ۔ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک عمدہ ہے ۔

18149

Majma al-Zawaid #18149

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَسَارَ عَلَى رَاحِلَتِهِ وَأَصْحَابِهِ مَعَهُمْ لَمْ يَتَقَدَّمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَسْأَلُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ يَوْمَنَا قَبْلَ يَوْمِكَ، أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ شَيْءٌ وَلَا يُرِينَا اللَّهُ ذَلِكَ، أَيُّ الْأَعْمَالِ نَعْمَلُهَا بَعْدَكَ؟ فَصَمَتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ "". قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" نِعْمَ الشَّيْءُ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَعَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ "". قَالَ: الصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ؟ قَالَ: "" نِعْمَ الشَّيْءُ الصِّيَامُ وَالصَّدَقَةُ، وَعَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ "". فَذَكَرَ مُعَاذٌ كُلَّ خَيْرٍ يَعْلَمُهُ، كُلُّ ذَلِكَ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَعَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَادَ بِالنَّاسِ أَمْلَكُ مِنْ ذَلِكَ، فَأَشَارَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى فِيهِ قَالَ: "" الصَّمْتُ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ "". قَالَ: وَهَلْ نُؤَاخَذُ بِمَا تَكَلَّمَتْ أَلْسِنَتُنَا؟! فَضَرَبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى فَخِذِ مُعَاذٍ ثُمَّ قَالَ: "" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ! "" وَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ "" وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي جَهَنَّمَ إِلَّا مَا نَطَقَتْ بِهِ أَلْسِنَتُهُمْ؟! فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ عَنْ شَرٍّ، قُولُوا خَيْرًا تَغْنَمُوا، وَاسْكُتُوا عَنْ شَرٍّ تَسْلَمُوا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الْجَنْبِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ went out one day riding his mount with his Companions, none advancing before him. Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه asked Allāh to make their day before his, and asked what deeds to do after him if something happened. The Messenger of Allāh ﷺ remained silent. He suggested jihād in the path of Allāh, and he said what a good thing jihād is, but people control more than that. He suggested fasting and charity, and he said what a good thing they are, but people control more than that. Muʿādh mentioned every good he knew, and each time the Messenger of Allāh ﷺ said people control more than that. When he asked what that control is, the Messenger of Allāh ﷺ pointed to his mouth and said silence except from good. He asked whether they are taken to account for what their tongues utter, so the Messenger of Allāh ﷺ struck the thigh of Muʿādh and said may his mother bereave him, and what throws people upon their nostrils in Hell except what their tongues utter. Whoever believes in Allāh and the Last Day, let him speak good or remain silent from evil, say good and gain, and remain silent from evil and be safe. > **"Silence except from good. What throws people upon their nostrils in Hell except what their tongues utter? Whoever believes in Allāh and the Last Day, let him speak good or remain silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت ﷺ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لائے ، آپ اپنی سواری پر چلتے ہوئے جا رہے تھے ، آپ کے ہمراہ آپ کے اصحاب تھے ، ان میں سے کوئی ایک بھی آپ سے آگے نہیں ہوتا تھا ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارا ( مرنے کا مخصوص ) دن ، آپ کے دن سے پہلے کر دے ، لیکن اگر کچھ ہو گیا ، ویسے اللہ تعالیٰ ہمیں وہ دن نہ دکھائے ، تو آپ کے بعد ہم کون سے اعمال پر عمل پیرا ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ، انہوں نے دریافت کیا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ نے فرمایا : اللہ کی راہ میں جہاد کرنا اچھی چیز ہے ، لیکن تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : روزہ رکھنا اور صدقہ کرنا ؟ آپ نے فرمایا : روزہ رکھنا اور صدقہ کرنا بھی اچھی چیز ہے لیکن تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ( راوی بیان کرتے ہیں : ) حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے ہر اس بھلائی کا ذکر کیا جس کا وہ علم رکھتے تھے اور ہر مرتبہ نبی اکرم ﷺ یہی فرماتے رہے : تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : تم لوگوں کے ساتھ وہ رویہ رکھو جس کا ( آدمی ) اس سے زیادہ مالک ہوتا ہے ( اس سے مراد کیا ہے ؟ ) تو نبی اکرم ﷺ نے اپنے منہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : خاموش رہنا ، البتہ بھلائی ( کے بارے میں بات کرنے ) کا حکم مختلف ہے ۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : ہماری زبانیں جو کلام کرتی ہیں ، کیا ان کے حوالے سے ہمارا مواخذہ کیا جائے گا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے زانوں پر ہاتھ مارا اور پھر یہ ارشاد فرمایا : ’’ تمہاری ماں تمہیں روئے ۔‘‘ اور جو بھی اللہ کو منظور تھا وہ آپ نے فرمایا ، اور پھر یہ فرمایا :’’ لوگوں کو جہنم میں اُن کے نتھنوں کے بل اوندھا کر کے صرف اس وجہ سے ڈالا جائے گا ، جو اُن کی زبانوں نے گفتگو کی ہو گی ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کرے یا برائی کے حوالے سے خاموش رہے ، تم لوگ بھلائی کی بات کرو ، تم غنیمت حاصل کرو گے اور برائی کے حوالے سے خاموش رہو ، تم سلامت رہو گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن مالک جنبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18150

Majma al-Zawaid #18150

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَيَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلْيَسَعْهُ بَيْتُهُ، وَلْيَبْكِ عَلَى خَطِيئَتِهِ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَيَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا لِيَغْنَمَ، أَوْ لِيَسْكُتْ عَنْ شَرٍّ فَيَسْلَمَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُفَيْرُ بْنُ مَعْدَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever believes in Allāh and the Last Day and testifies that he is the Messenger of Allāh, let his house suffice him and let him weep over his sin. And whoever believes in Allāh and the Last Day and testifies that he is the Messenger of Allāh, let him speak good to gain or remain silent from evil to be safe. > **"Let him speak good to gain, or remain silent from evil to be safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ، تو اس کا گھر اس کے لئے گنجائش والا ہونا چاہیے ( یعنی اُس کو زیادہ تر اپنے گھر میں رہنا چاہیے ) اور اُسے اپنے گناہوں پر رونا چاہیے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اور اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں اُسے بھلائی کی بات کرنی چاہیے تاکہ وہ غنیمت حاصل کرے ، یا برائی کے حوالے سے خاموش رہنا چاہیے تاکہ وہ سلامت رہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عفیر بن معدان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18151

Majma al-Zawaid #18151

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لِيَسَعْكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ عَلَى ذِكْرِ خَطِيئَتِكَ، وَامَلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said to let his house suffice him, to weep over remembrance of his sin, and to control his tongue. > **"Let your house suffice you, weep over remembrance of your sin, and control your tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارا گھر تمہارے لیے گنجائش والا ہونا چاہیے ، تم اپنے گناہوں کو یاد کر کے روؤ اور اپنی زبان پر قابو رکھو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

18152

Majma al-Zawaid #18152

وَعَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «طُوبَى لِمَنْ مَلَكَ لِسَانَهُ، وَوُسِعَهُ بَيْتُهُ، وَبَكَى عَلَى خَطِيئَتِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ، وَحَسُنَ إِسْنَادُهُ.

EnglishUnverified translation

Thawbān, freedman of the Messenger of Allāh ﷺ, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that glad tidings are for whoever controls his tongue and whose house suffices him and who weeps over his sin. > **"Glad tidings for whoever controls his tongue, whose house suffices him, and who weeps over his sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کے غلام حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کے لئے مبارکباد ہے جو اپنی زبان پر قابو رکھے ، اس کا گھر اس کے لئے گنجائش والا ہو اور وہ اپنے گناہوں پر روئے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18153

Majma al-Zawaid #18153

وَعَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ قَالَ: أَوْصَى ابْنُ مَسْعُودٍ أَبَا عُبَيْدَةَ ابْنَهُ بِثَلَاثِ كَلِمَاتٍ: أَيْ بُنَيَّ، أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ، وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ وَامْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ عُمَرَ قَالَ: حَدَّثَنِي آلُ عَبْدِ اللَّهِ: أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَوْصَى ابْنَهُ.

EnglishUnverified translation

Ismāʿīl ibn Abī Khālid reported that Ibn Masʿūd رضي الله عنه counselled his son Abū ʿUbaydah with three words: O my son, I counsel you with fear of Allāh, let your house suffice you, weep over your sin and restrain your tongue. > **"I counsel you with fear of Allāh, let your house suffice you, weep over your sin and restrain your tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسماعیل بن ابوخالد بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے ابوعبیدہ کو تین باتوں کی وصیت کی تھی : ’’ اے میرے بیٹے ! میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں اور تمہارا گھر تمہارے لیے گنجائش والا ہونا چاہیے اور تم اپنے گناہوں پر رونا اور اپنی زبان کو روکے رکھنا ( یعنی اس کو قابو میں رکھنا ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالملک بن عمر کا معاملہ مختلف ہے ، وہ کہتے ہیں : آل عبداللہ نے مجھے یہ بات بیان کی ہے ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنے صاحبزادے کو یہ وصیت کی تھی ۔

18154

Majma al-Zawaid #18154

وَعَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ ارْتَقَى الصَّفَا، فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ فَقَالَ: يَالِسَانِ قُلْ خَيْرًا تَغْنَمْ، وَاسْكُتْ عَنْ شَرٍّ تَسْلَمْ، مِنْ قَبْلِ أَنْ تَنْدَمَ، مِنْ قَبْلِ أَنْ تَنْدَمَ. ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «أَكْثَرُ خَطَايَ ابْنِ آدَمَ، فِي لِسَانِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Wāʾil reported from ʿAbdullāh that he ascended Al-Ṣafā, seized his tongue and said, O tongue, speak good and gain, remain silent from evil and be safe, before you regret, before you regret. Then he said he heard the Messenger of Allāh ﷺ say that most errors of the son of Ādam are in his tongue. > **"Most errors of the son of Ādam are in his tongue. O tongue, speak good and gain, remain silent from evil and be safe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابووائل نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : وہ صفا پہاڑ پر چڑھے ، پھر انہوں نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا : اے زبان ! تم بھلائی کی بات کرو ، تم غنیمت حاصل کر لو گی ، اور تم برائی کے حوالے سے خاموش رہو تم سلامت رہو گی ، اس سے پہلے کہ تم ندامت کا شکار ہو ، اس سے پہلے کہ تم ندامت کا شکار ہو ۔‘‘ پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ابن آدم کی زیادہ تر خطائیں اُس کی زبان کے حوالے سے ہوتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18155

Majma al-Zawaid #18155

«وَعَنْ أَسْوَدَ بْنِ أَصْرَمَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي. قَالَ: "" تَمْلِكُ يَدَكَ؟ "". قُلْتُ: فَمَاذَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ يَدِي؟ قَالَ: "" تَمْلِكُ لِسَانَكَ؟ "". قُلْتُ: فَمَاذَا أَمْلِكُ إِذَا لَمْ أَمْلِكْ لِسَانِي؟ قَالَ: "" لَا تَبْسُطْ يَدَكَ إِلَّا إِلَى خَيْرٍ، وَلَا تَقُلْ بِلِسَانِكَ إِلَّا مَعْرُوفًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Aswad ibn Aṣram رضي الله عنه reported that he asked the Messenger of Allāh ﷺ to counsel him. He asked whether he controls his hand, and he replied what would he control if not his hand. He asked whether he controls his tongue, and he replied what would he control if not his tongue. He then said not to stretch the hand except to good, nor to speak with the tongue except what is right. > **"Do not stretch your hand except to good, nor speak with your tongue except what is right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت اسود بن اصرم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اپنے ہاتھ کے مالک ہو ؟ ( یعنی کیا وہ تمہارے قابو میں ہے ؟ ) میں نے عرض کی : اگر میں اپنے ہاتھ پر قابو نہیں رکھوں گا ، تو کس پر قابو رکھوں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تمہیں اپنی زبان پر قابو ہے ؟ میں نے عرض کی : اگر میں اپنی زبان پر قابو نہیں رکھوں گا تو کس پر قابو رکھوں گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم اپنا ہاتھ صرف بھلائی کی طرف بڑھانا اور تم اپنی زبان کے ذریعے صرف نیکی کی بات کہنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18156

Majma al-Zawaid #18156

«وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكُلُّ مَا نَتَكَلَّمُ بِهِ يُكْتَبُ عَلَيْنَا؟ فَقَالَ: "" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ! وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟! إِنَّكَ لَنْ تَزَالَ سَالِمًا مَا سَكَتَّ، فَإِذَا تَكَلَّمْتَ كُتِبَ لَكَ أَوْ عَلَيْكَ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ مِنْ قَوْلِهِ: "" إِنَّكَ لَنْ تَزَالَ "". إِلَى آخِرِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that he asked whether all they speak is written against them. He said may his mother bereave him, and what throws people upon their nostrils in the Fire except the harvests of their tongues. A person remains safe while silent, but when he speaks it is written for him or against him. > **"What throws people upon their nostrils in the Fire except the harvests of their tongues? You remain safe while silent, but when you speak it is written for you or against you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم جو بھی کلام کرتے ہیں وہ ہمارے حوالے سے نوٹ کیا جاتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہاری ماں تمہیں روئے لوگوں کو جہنم میں ان کے نتھنوں کے بل اوندھا کر کے صرف اُن کی زبان کی ( باتوں ) کی وجہ سے ہی ڈالا جائے گا ، تم جب تک خاموش رہو گے اس وقت تک سلامت رہو گے اور جب تم کلام کرو گے تو وہ تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف نوٹ کیا جائے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے ان الفاظ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے :’’ تم اس وقت تک سلامت رہو گے ......‘‘ یہاں سے لے کر روایت کے آخر تک کے الفاظ انہوں نے نقل کیے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

18157

Majma al-Zawaid #18157

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَيْمَنُ امْرِئٍ وَأَشْأَمُهُ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAdī ibn Ḥātim رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that the most fortunate and the most unlucky part of a man is what is between his jaws. > **"The most fortunate and the most unlucky part of a man is what is between his jaws."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی کی سب سے زیادہ بابرکت اور سب سے زیادہ منحوس ( چیز ) وہ ہے جو اس کے دونوں جبڑوں کے درمیان ہے ( یعنی زبان ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18158

Majma al-Zawaid #18158

وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: "" أَمْسِكْ عَلَيْكَ هَذَا "". وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ، فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ: "" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ! هَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟!» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: إِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَمَتْنُهُ غَرِيبٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Yusr رضي الله عنه reported that a man asked the Messenger of Allāh ﷺ to guide him to a deed that admits him to Paradise. He said to restrain this, pointing to his tongue. The man repeated his question, and he said may his mother bereave him, and what throws people upon their nostrils in the Fire except the harvests of their tongues. > **"Restrain this. What throws people upon their nostrils in the Fire except the harvests of their tongues?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کسی ایسے عمل کے بارے میں میری رہنمائی کیجئے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس کو قابو میں رکھو ! آپ ﷺ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔ اس شخص نے آپ کے سامنے اپنا سوال دہرایا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہاری ماں تمہیں روئے ، لوگوں کو اُن کے نتھنوں کے بل جہنم میں صرف اُن کی زبان کی کھیتیوں کی وجہ سے ڈالا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ کہتے ہیں : اس کی سند حسن ہے اور اس کا متن غریب ہے ۔

18159

Majma al-Zawaid #18159

وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «قَالَ مُعَاذٌ: مُرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ، قَالَ: " آمِنْ بِاللَّهِ، وَقُلْ خَيْرًا يُكْتَبْ لَكَ، وَلَا تَقُلْ شَرًّا فَيُكْتَبَ عَلَيْكَ» ". قَالَ: وَإِنَّا لَنُؤَاخَذُ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟! فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh رضي الله عنه reported in a narration that he asked for a deed that admits him to Paradise. He said to believe in Allāh, to speak good so it is written for him, and not to speak evil lest it be written against him. When he asked whether they are taken to account for what they speak, he narrated similarly about the harvests of tongues. > **"Believe in Allāh, speak good so it is written for you, and do not speak evil lest it be written against you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کے بارے میں حکم دیں ، جو مجھے جنت میں داخل کروا دے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اللہ پر ایمان رکھو ! اور بھلائی کی بات کرو ، یہ تمہارے حق میں نوٹ کی جائے گی ، تم بری بات نہ کرنا ، ورنہ وہ تمھارے خلاف نوٹ کی جائے گی ، انہوں نے دریافت کیا : کیا ہم جو کلام کرتے ہیں اُس کے حوالے سے ہمارا مواخذہ کیا جائے گا ؟...... اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔

18160

Majma al-Zawaid #18160

«وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَقُولُ: "" لَمَكَانُكُمْ مِنَ الْجَنَّةِ "" - يَعْنِي مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، وَحَفِظَ مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that she heard the Messenger of Allāh ﷺ while addressing the people say that their place in Paradise is assured, meaning whoever guards what is between his jaws and guards what is between his legs. > **"Your place is in Paradise, whoever guards what is between his jaws and guards what is between his legs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو ، لوگوں کو خطبہ دینے کے دوران یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ جنت میں تمہارا مقام ہو گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : یعنی جو شخص اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان والی چیز یعنی زبان اور دونوں ٹانگوں کے درمیان والی چیز یعنی شرمگاہ کی حفاظت کرے گا ( اُس کا ٹھکانہ جنت ہو گا ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔