وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى نَاجَى مُوسَى بِمِائَةِ أَلْفٍ وَأَرْبَعِينَ أَلْفَ كَلِمَةٍ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَصَايَا كُلُّهَا، فَلَمَّا سَمِعَ مُوسَى كَلَامَ الْآدَمِيِّينَ مَقَتَهُمْ مِمَّا وَقَعَ فِي مَسَامِعِهِ مِنْ كَلَامِ الرَّبِّ، وَكَانَ فِيمَا نَاجَهُ أَنْ قَالَ: يَا مُوسَى، لَمْ يَتَصَنَّعِ الْمُتَصَنِّعُونَ لِي بِمِثْلِ الزُّهْدِ فِي الدُّنْيَا، وَلَمْ يَتَقَرَّبِ الْمُتَقَرِّبُونَ بِمِثْلِ الْوَرَعِ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ، وَلَا تَعَبَّدَنِي الْعَابِدُونَ بِمِثْلِ الْبُكَاءِ مِنْ خِيفَتِي. فَقَالَ مُوسَى: يَا إِلَهَ الْبَرِيَّةِ كُلِّهَا، وَيَا مَالِكَ يَوْمِ الدِّينِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، فَمَاذَا أَعْدَدْتَ لَهُمْ؟ وَمَاذَا جَزَيْتَهُمْ؟ قَالَ: يَا مُوسَى، أَمَّا الزَّاهِدُونَ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّهُمْ أَبَحْتُهُمْ جَنَّتِي يَتَبَوَّءُونَ حَيْثُ يَشَاءُونَ. وَأَمَّا الْوَرَعَةُ عَمَّا حَرَّمْتُ عَلَيْهِمْ ; فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ عَبْدٍ يَلْقَانِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَّا نَقَشْتُهُ وَفَتَّشْتُهُ عَمَّا كَانَ فِي يَدَيْهِ إِلَّا مَا كَانَ مِنَ الْوَرِعِينَ، فَإِنِّي أَسَتَهِيبُهُمْ، وَأُجِلُّهُمْ فَأُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَأَمَّا الْبَكَّاءُونَ مِنْ خِيفَتِي فَلَهُمُ الرَّفِيقُ الْأَعْلَى لَا يُشَارَكُونَ فِيهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جُوَيْبِرُ بْنُ سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that Allāh the Exalted intimately addressed Mūsā عليه السلام with one hundred and forty thousand words in three days, all of them counsels. When Mūsā heard the speech of men he found them distasteful because of what had fallen upon his hearing of the speech of the Lord. Among what He confided was, O Mūsā, those who strive for Me have not striven with the like of renunciation in this world, nor have seekers drawn near with the like of piety from what I forbade them, nor have worshippers worshipped Me with the like of weeping from fear of Me. Mūsā asked, O God of all creation and Master of the Day of Judgement and Possessor of Majesty and Honour, what have You prepared for them and what is their recompense. He said, O Mūsā, as for the renunciants in this world, I have permitted them My Paradise to dwell wherever they wish. As for the pious from what I forbade them, there is no servant who meets Me on the Day of Resurrection but I examine and search what was in his hands, except the pious, for I honour them and admit them to Paradise without reckoning. As for those who weep from fear of Me, theirs is the highest companionship in which none share. > **"Those who strive have not striven with the like of renunciation in this world, nor have seekers drawn near with the like of piety from what I forbade, nor have worshippers worshipped Me with the like of weeping from fear of Me."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ایک لاکھ چالیس ہزار کلمات کے ذریعے خطاب کیا ، جو تین دن میں ہوا ، یہ سارا کلام ، وصایا ( یعنی تلقین اور ہدایات ) پر مشتمل تھا ، جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بعد میں انسانوں کا کلام سنا تو وہ انہیں ناگوار گزرا ، کیونکہ ان کی سماعتوں میں پروردگار کا کلام آ چکا تھا ، پروردگار نے انہیں خطاب کے دوران جو فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی ، اس نے فرمایا : ’’ اے موسیٰ ! میری خاطر عمل کرنے والوں نے دنیا سے بے رغبتی جیسا کوئی عمل نہیں کیا ہو گا اور میرا قرب حاصل کرنے والوں نے ( ایسا کوئی عمل نہیں کیا ہو گا ) جو میری اُن پر حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے بچنے کی مانند ہو اور عبادت گزاروں نے میری عبادت ( ایسے کسی طریقے سے نہیں کی ہو گی ) جو میرے خوف سے رونے کی مانند ہو ۔‘‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے ساری مخلوق کے پروردگار ! اے روز جزاء کے مالک ! اے جلال اور اکرام والے ! تو نے اُن کے لیے کیا تیار کیا ہے اور تو انہیں کیا جزا دے گا ؟ تو پروردگار نے فرمایا : ’’ اے موسیٰ ! جہاں تک دنیا سے بے رغبتی اختیار کرنے والے لوگوں کا تعلق ہے تو میں نے ان کے لئے اپنی جنت کو مباح قرار دے دیا ہے وہ جہاں چاہیں گے وہاں ٹھکانہ بنا لیں گے ، جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جو اس چیز سے بچتے ہیں جو میں نے ان پر حرام قرار دی ہے تو قیامت کے دن جو بھی بندہ میری بارگاہ میں حاضر ہو گا ، میں اس سے تحقیق و تفتیش کروں گا ، اس چیز کے بارے میں ، جو اس کے ہاتھوں میں تھا ، البتہ پرہیزگار لوگوں کا معاملہ مختلف ہے ، میں اُن کی عزت افزائی کروں گا اور انہیں کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل کر دوں گا ، جہاں تک میرے خوف کی وجہ سے رونے والے لوگوں کا تعلق ہے تو ان کے لیے رفیق اعلیٰ ہو گا ، جس میں کوئی اُن کا شراکت دار نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جویبر بن سعید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔