Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 14

Book of Asceticism

Hadith 18161–18200

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18161

Majma al-Zawaid #18161

وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ حَفِظَ مَا بَيْنَ فُقْمَيْهِ وَفَخِذَيْهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي مُوسَى فِي هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

Abū Rāfiʿ رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that whoever guards what is between his jaws and his thighs shall enter Paradise. > **"Whoever guards what is between his jaws and his thighs shall enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص دونوں جبڑوں کے درمیان ( یعنی زبان ) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان ( یعنی شرمگاہ ) کی حفاظت کرے گا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ اس سے پہلے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث اس باب میں گزر چکی ہے ۔

18162

Majma al-Zawaid #18162

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ ضَمِنَ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ضَمِنْتُ لَهُ الْجَنَّةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever guarantees him what is between his jaws and his legs, he guarantees him Paradise. > **"Whoever guarantees me what is between his jaws and his legs, I guarantee him Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص مجھے اُس کی ضمانت دے جو دونوں جبڑوں کے درمیان ہے اور جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے ، میں اُسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔

18163

Majma al-Zawaid #18163

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي كِتَابِ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ فِي حَقِّ الضَّيْفِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever believes in Allāh and the Last Day, let him speak good or remain silent. > **"Whoever believes in Allāh and the Last Day, let him speak good or remain silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو ، اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے یا پھر خاموش رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق اس سے پہلے نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق کتاب میں ، مہمان کے حق سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں ۔

18164

Majma al-Zawaid #18164

وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَسْكُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ: إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيِّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Prophet ﷺ said that whoever believes in Allāh and the Last Day, let him not harm his neighbour; whoever believes in Allāh and the Last Day, let him speak good or remain silent; and whoever believes in Allāh and the Last Day, let him honour his guest. > **"Whoever believes in Allāh and the Last Day, let him not harm his neighbour, let him speak good or remain silent, and let him honour his guest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ پہنچائے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ بھلائی کی بات کرے یا پھر خاموش رہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت افزائی کرے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ابراہیم بن یحیی نیشاپوری کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18165

Majma al-Zawaid #18165

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «لَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبَا ذَرٍّ فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَلَا أَدُلَّكَ عَلَى خَصْلَتَيْنِ هُمَا خَفِيفَتَانِ عَلَى الظَّهْرِ، وَأَثْقَلُ فِي الْمِيزَانِ مِنْ غَيْرِهِمَا؟ "". قَالَ: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" عَلَيْكَ بِحُسْنِ الْخُلُقِ، وَطُولِ الصَّمْتِ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا عَمِلَ الْخَلَائِقُ بِمِثْلِهِمَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ شنارُ بْنُ الْحَكَمِ (*)، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ met Abū Dharr رضي الله عنه and asked whether he should guide him to two traits which are light upon the back and heavier in the scale than others. He said yes, O Messenger of Allāh. He said to hold to good character and long silence, for by Him in Whose Hand is his soul, no creatures have acted with the like of them. > **"Hold to good character and long silence, for by Him in Whose Hand is my soul, no creatures have acted with the like of them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ملاقات حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوذر ! کیا میں تمہاری رہنمائی دو ایسی خصلتوں کی طرف نہ کروں جو پشت کے لیے ہلکی ہیں ، لیکن میزان میں اُن دونوں کے علاوہ ( دیگر چیزوں ) سے وزنی ہوں گی ، انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم پر اچھے اخلاق اور طویل خاموشی اختیار کرنا لازم ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، مخلوق نے ان دونوں جیسا کوئی عمل نہیں کیا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بشار بن حکم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18166

Majma al-Zawaid #18166

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: "" الصَّلَاةُ عَلَى مِيقَاتِهَا "". قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" بِرُّ الوَالِدَيْنِ "" قُلْتُ: ثُمَّ مَاذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" أَنْ يَسْلَمَ النَّاسُ مِنْ لِسَانِكَ» "" ثُمَّ سَكَتَ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي. قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: "" الصَّلَاةُ لِمِيقَاتِهَا "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that he asked the Messenger of Allāh ﷺ which deeds are most excellent. He told him prayer at its appointed time, then kindness to parents, then that people be safe from his tongue. Then he fell silent, and had he asked more he would have been given more. > **"Prayer at its appointed time, then kindness to parents, then that people be safe from your tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ سے سوال کیا : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا عمل زیادہ فضیلت رکھتا ہے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نماز کو اس کے مخصوص وقت پر ادا کرنا ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! پھر کون سا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ کہ لوگ تمہاری زبان سے سلامت رہیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) پھر میں خاموش ہو گیا ، اگر میں آپ سے مزید دریافت کرتا تو آپ ﷺ مجھے مزید ( جواب ) ارشاد فرماتے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس میں سے ، صرف نماز کو اُس کے مخصوص وقت میں ادا کرنے والا حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمرو بن عبداللہ نخعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18167

Majma al-Zawaid #18167

وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِهِ، قَالَ: "" امْلِكْ عَلَيْكَ هَذَا "". وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ وِجَادَةُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥārith ibn Hishām رضي الله عنه reported that he asked the Messenger of Allāh ﷺ to inform him of a matter to hold fast to. He told him to control this, pointing to his tongue. > **"Control this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے میں بتائیے جسے میں مضبوطی سے تھام لوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اس پر قابو رکھو ! آپ ﷺ نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے یہ بات یعنی ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس میں ” وجادة “ ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18168

Majma al-Zawaid #18168

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ مِنْ أُمَّتِهِ: "" «اكْفُلُوا لِي بِسِتِّ خِصَالٍ، وَأَكْفُلُ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ "". قِيلَ: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" الصَّلَاةُ، وَالزَّكَاةُ، وَالْأَمَانَةُ، وَالْفَرْجُ، وَالْبَطْنُ، وَاللِّسَانُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ الطَّائِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said to those around him of his nation to guarantee him six traits and he would guarantee them Paradise. When asked what they are, he said prayer, zakāh, trust, the private part, the belly, and the tongue. > **"Guarantee me six traits and I shall guarantee you Paradise: prayer, zakāh, trust, the private part, the belly, and the tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اردگرد موجود اپنی امت کے افراد سے ارشاد فرمایا : تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ! امیں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ( وہ چیزیں ) کیا ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نماز ، زکوة ، امانت ، شرمگاہ ، پیٹ اور زبان ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن حماد طائی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18169

Majma al-Zawaid #18169

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «تَقَبَّلُوا لِي سِتًّا أَتَقَبَّلْ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ، قَالُوا مَا هِيَ؟ قَالَ: إِذَا حَدَّثَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَكْذِبْ، وَإِذَا وَعَدَ فَلَا يُخْلِفْ، وَإِذَا ائْتُمِنَ فَلَا يَخُنْ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ يَزِيدَ بْنَ سِنَانٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said to accept six from him and he would accept Paradise for them. When asked what they are, he said when one of them speaks let him not lie, when he promises let him not break it, when entrusted let him not betray, and to lower the gaze, restrain the hands, and guard the private parts. > **"When one of you speaks, let him not lie; when he promises, let him not break it; when entrusted, let him not betray; lower your gaze, restrain your hands, and guard your private parts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضٰ اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ! میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، لوگوں نے دریافت کیا : وہ کون سی ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب کوئی شخص بات کرے تو وہ جھوٹ نہ بولے ، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی نہ کرے ، جب اسے امین بنایا جائے تو خیانت نہ کرے ، تم اپنی نگاہیں جھکا کے رکھو ، اپنے ہاتھ روک کے رکھو اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ یزید بن سنان نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

18170

Majma al-Zawaid #18170

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اكْفُلُوا لِي بِسِتٍّ أَكْفُلْ لَكُمْ بِالْجَنَّةِ: إِذَا حَدَّثَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَكْذِبْ، وَإِذَا وَعَدَ فَلَا يُخْلِفْ، وَإِذَا ائْتُمِنَ فَلَا يَخُنْ، وَغُضُّوا أَبْصَارَكُمْ، وَاحْفَظُوا فُرُوجَكُمْ، وَكَفُّوا أَيْدِيَكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَيُقَالُ ابْنُ جُبَيْرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said to guarantee him six and he would guarantee them Paradise: when one of them speaks let him not lie, when he promises let him not break it, when entrusted let him not betray, and to lower the gaze, guard the private parts, and restrain the hands. > **"Guarantee me six and I shall guarantee you Paradise: do not lie when you speak, do not break when you promise, do not betray when entrusted, lower your gaze, guard your private parts, and restrain your hands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو ! میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں ، جب کوئی شخص بات کرے تو جھوٹ نہ بولے ، جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی نہ کرے ، جب اسے امین بنایا جائے تو خیانت نہ کرے ، تم اپنی نگاہیں جھکا رکھو ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو اور اپنے ہاتھ روک کے رکھو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضال بن زبیر اور ایک روایت کے مطابق ابن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18171

Majma al-Zawaid #18171

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَوْصِنِي، قَالَ: "" عَلَيْكَ بِتَقْوَى اللَّهِ ; فَإِنَّهَا جِمَاعُ كُلِّ خَيْرٍ، وَعَلَيْكَ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ; فَإِنَّهَا رَهْبَانِيَّةُ الْمُسْلِمِينَ، وَعَلَيْكَ بِذِكْرِ اللَّهِ وَتِلَاوَةِ كِتَابِهِ ; فَإِنَّهُ نُورٌ لَكَ فِي الْأَرْضِ، وَذِكْرٌ لَكَ فِي السَّمَاءِ، وَاخَزُنْ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ ; فَإِنَّكَ بِذَلِكَ تَغْلِبُ الشَّيْطَانَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ وُثِّقَ هُوَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd رضي الله عنه reported that a man came to the Messenger of Allāh ﷺ asking for counsel. He told him to hold to fear of Allāh for it gathers all good, to hold to jihād in the path of Allāh for it is the monasticism of the Muslims, to hold to remembrance of Allāh and recitation of His Book for it is light on earth and remembrance in heaven, and to guard the tongue except from good, for thereby he overcomes Satan. > **"Hold to fear of Allāh, for it gathers all good; hold to jihād, to remembrance of Allāh and His Book; and guard your tongue except from good, for thereby you overcome Satan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی تلقین کیجئے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم پر اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنا لازم ہے کیونکہ یہ ساری بھلائی کا مجموعہ ہے ، تم پر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا لازم ہے کیونکہ یہ مسلمانوں کی رہبانیت ہے ، تم پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا اور اس کی کتاب کی تلاوت کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ زمین میں تمہارے لئے نور ہو گا اور آسمان میں تمہارے لئے ذکر ہو گا ، تم اپنی زبان پر قابو رکھو ، البتہ بھلائی کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اس کے ذریعے تم شیطان پر غالب آ جاؤ گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ مدلس ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18172

Majma al-Zawaid #18172

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ كَثُرَ ضَحِكُهُ اسْتَخَفَّ بِحَقِّهِ، وَمَنْ كَثُرَتْ دُعَابَتُهُ ذَهَبَتْ جَلَالَتُهُ، وَمَنْ كَثُرَ مِزَاحُهُ ذَهَبَ وَقَارُهُ، وَمَنْ شَرِبَ الْمَاءَ عَلَى الرِّيقِ انْتَقَصَتْ قُوَّتُهُ، وَمَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقْطُهُ، وَمَنْ كَثُرَ سَقْطُهُ كَثُرَتْ خَطَايَاهُ، وَمَنْ كَثُرَتْ خَطَايَاهُ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضi الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever laughs much is lightened in his right, whoever jests much loses his majesty, whoever jokes much loses his dignity, whoever drinks water on an empty stomach weakens his strength, whoever speaks much errs much, whoever errs much sins much, and whoever sins much, the Fire is worthier of him. > **"Whoever speaks much errs much, whoever errs much sins much, and whoever sins much, the Fire is worthier of him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کا ہنسنا زیادہ ہو گا ، اُس کا حق ہلکا ہو جائے گا ، جس شخص کا ہنسی مذاق زیادہ ہو گا اس کی جلالت رخصت ہو جائے گی ، جس کا مزاح زیادہ ہو گا ، اس کا وقار رخصت ہو جائے گا ، جو شخص ( صبح کے وقت بیدار ہونے کے بعد ) خالی پیٹ پانی پیے گا ، اس کی قوت نصف رہ جائے گی ، جو شخص زیادہ بات کرے گا اس کی فضولیات بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی فضولیات زیادہ ہوں گی اس کے گناہ زیادہ ہوں گے اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے ، جہنم اس کے زیادہ لائق ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18173

Majma al-Zawaid #18173

وَعَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا أَحَنَفُ، مَنْ كَثُرَ ضَحِكُهُ قَلَّتْ هَيْبَتُهُ، وَمَنْ مَزَحَ اسْتُخِفَّ بِهِ، وَمَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقْطُهُ، وَمَنْ كَثُرَ سَقْطُهُ قَلَّ حَيَاؤُهُ، وَمَنْ قَلَّ حَيَاؤُهُ قَلَّ وَرَعُهُ، وَمَنْ قَلَّ وَرَعُهُ مَاتَ قَلْبُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ دُوَيْدُ بْنُ مُجَاشِعٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Aḥnaf ibn Qays reported that ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه told him that whoever laughs much loses awe, whoever jokes is deemed light, whoever speaks much errs much, whoever errs much loses modesty, whoever loses modesty loses piety, and whoever loses piety, his heart dies. > **"Whoever speaks much errs much, whoever errs much loses modesty, whoever loses modesty loses piety, and whoever loses piety, his heart dies."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

احنف بن قیس بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا : ’’ اے احنف ! جس کا ہنسنا زیادہ ہو گا ، اس کی ہیبت کم ہو گی ، جو مزاح کرے گا ، اس کو ہلکا سمجھا جائے گا جو زیادہ کلام کرے گا اس کی فضولیات بھی زیادہ ہوں گی اور جس کی فضولیات زیادہ ہوں گی اس کی حیاء کم ہو گی اور جس کی حیاء کم ہو گی اس کی پرہیزگاری کم ہو گی اور جس کی پرہیزگاری کم ہو گی ، اس کا دل مر جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی دوید بن مجاشع ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

18174

Majma al-Zawaid #18174

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِذَا رَأَيْتُمُ الرَّجُلَ الْعَبْدَ يُعْطِي زُهْدًا فِي الدُّنْيَا، وَقِلَّةَ النُّطْقِ فَاقْتَرِبُوا مِنْهُ ; فَإِنَّهُ يَلْقَى الْحِكْمَةَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ: أَحْمَدَ بْنِ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that when they see a servant given renunciation in this world and fewness of speech, to draw near him, for he is given wisdom. > **"When you see a servant given renunciation in this world and fewness of speech, draw near him, for he is given wisdom."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جسے دنیا سے بے رغبتی اور کم گوئی عطا کی گئی ہو تو اس کے قریب رہو ، کیونکہ اسے حکمت القاء کی گئی ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد احمد بن طاہر بن حرملہ کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

18175

Majma al-Zawaid #18175

وَعَنْ أَسْلَمَ: أَنَّ عُمَرَ اطَّلَعَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، وَهُوَ يَمُدُّ لِسَانَهُ فَقَالَ: مَا تَصْنَعُ يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟! فَقَالَ: إِنَّ هَذَا أَوْرَدَنِي الْمَوَارِدَ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْجَسَدِ إِلَّا يَشْكُو ذَرَبَ اللِّسَانِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَيَّانَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Aslam reported that ʿUmar saw Abū Bakr رضي الله عنه pulling his tongue and asked what he was doing, O successor of the Messenger of Allāh. He replied that it had brought him into perils, for the Messenger of Allāh ﷺ said there is nothing of the body but complains of the sharpness of the tongue. > **"There is nothing of the body but complains of the sharpness of the tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسلم بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنی زبان کو کھینچ رہے تھے ، انہوں نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس نے مجھے مختلف طرح کی صورتحال کا شکار کیا ہے ، اور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جسم کی ہر چیز زبان کی تیزی کی شکایت کرتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف موسیٰ بن محمد بن حیان کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

18176

Majma al-Zawaid #18176

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ كَثُرَ كَلَامُهُ كَثُرَ سَقْطُهُ، وَمَنْ كَثُرَ سَقْطُهُ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ، وَمَنْ كَثُرَتْ ذُنُوبُهُ كَانَتِ النَّارُ أَوْلَى بِهِ، فَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said that whoever speaks much errs much, whoever errs much sins much, and whoever sins much, the Fire is worthier of him. So whoever believes in Allāh and the Last Day, let him speak good or remain silent. > **"Whoever believes in Allāh and the Last Day, let him speak good or remain silent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو زیادہ کلام کرتا ہے اس کی لغزش زیادہ ہوتی ہے اور جس کی لغزش زیادہ ہو ، اس کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں اور جس کے گناہ زیادہ ہوں ، تو جہنم اس کی زیادہ حقدار ہے ، جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے بھلائی کی بات کہنی چاہیے یا پھر خاموش رہنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔

18177

Majma al-Zawaid #18177

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يَبْلُغُ الْعَبْدُ حَقِيقَةَ الْإِيمَانِ حَتَّى يَخْزُنَ مِنْ لِسَانِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ هِلَالٍ، ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ ضَعْفًا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زُهَيْرِ بْنِ عَبَّادٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that the servant does not attain the reality of faith until he guards his tongue. > **"The servant does not attain the reality of faith until he guards his tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بندہ ایمان کی حقیقت تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ زبان پر قابو نہیں رکھتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن ہلال ہے جس کا ذکر ابن ابی حاتم نے کیا ہے ، انہوں نے اس میں کسی ضعف کا ذکر نہیں کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زہیر بن عباد کا معاملہ مختلف ہے اور ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

18178

Majma al-Zawaid #18178

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَوْصِنِي، فَقَالَ: "" دَعْ قِيلَ وَقَالَ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that a man came to the Prophet ﷺ asking for counsel, and he told him to leave gossip, excessive questioning, and wasting wealth. > **"Leave gossip, excessive questioning, and wasting wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : آپ مجھے کوئی تلقین کیجیے ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیل و قال ، کثرت سوال اور مال ضائع کرنے کو چھوڑ دو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے اور وہ متروک ہے ۔

18179

Majma al-Zawaid #18179

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «لَا يُحِبُّ اللَّهُ إِضَاعَةَ الْمَالِ، وَلَا كَثْرَةَ السُّؤَالِ، وَلَا قِيلَ وَقَالَ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا فِي كِتَابِ الْعِلْمِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that Allāh does not love wasting wealth, nor excessive questioning, nor gossip. > **"Allāh does not love wasting wealth, nor excessive questioning, nor gossip."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ مال ضائع کرنے کو ، کثرت سوال کو اور قیل و قال کو پسند نہیں کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب العلم میں گزر چکی ہیں ۔

18180

Majma al-Zawaid #18180

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قُتِلَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَبَكَتْ عَلَيْهِ بَاكِيَةٌ، فَقَالَتْ وَاشَهِيدَاهُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَهْ، مَا يُدْرِيكِ أَنَّهُ شَهِيدٌ؟ وَلَعَلَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ، وَيَبْخَلُ بِمَا لَا يَنْقُصُهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عِصَامُ بْنُ طَلِيقٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that a man was killed in the time of the Messenger of Allāh ﷺ, and a wailing woman wept over him saying, O martyr. The Prophet ﷺ said be quiet, what makes her know he is a martyr, for perhaps he spoke of what did not concern him and was miserly with what would not diminish him. > **"What makes you know he is a martyr? Perhaps he spoke of what did not concern him and was miserly with what would not diminish him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ایک شخص قتل ہو گیا ، ایک خاتون نے اس پر روتے ہوئے یہ کہہ دیا : ہائے شہید ! راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : رک جاؤ ! تمہیں کیا پتا کہ یہ شہید ہے ؟ ہو سکتا ہے وہ ایسی باتیں کرتا ہو جو لایعنی ہوں اور وہ ایسی چیزوں کے حوالے سے بخل کرتا ہو ( جن کو خرچ کرنے سے ) اُس کے لیے کوئی کمی نہ ہوتی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی عصام بن طلیق ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18181

Majma al-Zawaid #18181

«وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: اسْتُشْهِدَ رَجُلٌ مِنَّا يَوْمَ أُحُدٍ، فَوُجِدَ عَلَى بَطْنِهِ صَخْرَةٌ مَرْبُوطَةٌ مِنَ الْجُوعِ، فَمَسَحَتْ أُمُّهُ التُّرَابَ عَنْ وَجْهِهِ وَقَالَتْ: هَنِيئًا لَكَ يَا بُنَيَّ الْجَنَّةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَمَا يُدْرِيكِ؟ لَعَلَّهُ كَانَ يَتَكَلَّمُ فِيمَا لَا يَعْنِيهِ، وَيَمْنَعُ مَا لَا يَضُرُّهُ» "". قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْأَسْلَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that a man of them was martyred on the day of Uḥud and found with a stone tied upon his belly from hunger. His mother wiped dust from his face and said congratulations to you, O my son, Paradise. The Prophet ﷺ asked what made her know, for perhaps he spoke of what did not concern him and withheld what would not harm him. > **"What makes you know? Perhaps he spoke of what did not concern him and withheld what would not harm him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ احد کے موقع پر ہم میں سے ایک شخص نے جام شہادت نوش کیا ، اس کے پیٹ پر ایک پتھر بندھا ہوا پایا گیا ، جو بھوک کی وجہ سے باندھا گیا تھا ، اس کی ماں نے اس کے چہرے سے مٹی پونچھتے ہوئے یہ کہا : اے میرے بیٹے ! تمہیں جنت مبارک ہو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ تمہیں کیسے پتا چلا ؟ ہو سکتا ہے یہ گفتگو کرتے ہوئے لایعنی گفتگو کرتا ہو اور ایسی چیز نہ دیتا ہو ( جس کو دے دینے سے ) اس کو کوئی ضرر لاحق نہ ہوتا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ اسلمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18182

Majma al-Zawaid #18182

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: أُنْذِرُكُمْ فُضُولَ الْكَلَامِ بِحَسْبِ أَحَدِكُمْ أَنْ يَبْلُغَ حَاجَتَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, said that he warns them against excess speech, and it suffices one of them to convey his need. > **"I warn you against excess speech; it suffices one of you to convey his need."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں تمہیں فضول گفتگو کرنے سے ڈراتا ہوں ، تم میں سے کسی ایک کے لئے اتنا کلام کر لینا کافی ہے ، جو اس کی حاجت کو بیان کر دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

18183

Majma al-Zawaid #18183

وَعَنْهُ قَالَ: أَكْثَرُ النَّاسِ خَطَايَا يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ خَوْضًا فِي الْبَاطِلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضي الله عنه said that the people with most sins on the Day of Resurrection are those most indulgent in falsehood. > **"The people with most sins on the Day of Resurrection are those most indulgent in falsehood."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ’’ قیامت کے دن لوگوں میں سے زیادہ گناہ اُس کے ہوں گے جو باطل کے بارے میں زیادہ غور و خوض ( یعنی گفتگو ) کرتا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18184

Majma al-Zawaid #18184

وَعَنْهُ قَالَ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، مَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ شَيْءٌ أَحْوَجُ إِلَى طُولِ سِجْنٍ مِنْ لِسَانٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd رضi الله عنه swore by Him besides Whom there is no god that there is nothing upon the face of the earth more in need of long imprisonment than the tongue. > **"There is nothing upon the earth more in need of long imprisonment than the tongue."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان ( یعنی حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ’’ اُس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، روئے زمین پر کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو زبان سے زیادہ طویل قید کی محتاج ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

18185

Majma al-Zawaid #18185

وَعَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُنَا بِحِفْظِ فُرُوجِنَا وَأَلْسِنَتِنَا، وَقَالَ: "" إِنَّهُمَا يُورِدَانِكُنَّ وَلَا يُصْدِرَانِكُنَّ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Umm ʿAṭiyyah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allāh ﷺ used to command them to guard their private parts and their tongues, and said that these two bring them in with no bringing out. > **"They bring you in with no bringing out."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں یہ حکم دیتے تھے کہ ہم اپنی شرمگاہوں اور اپنی زبانوں کی حفاظت کریں آپ ﷺ یہ فرماتے تھے : ’’ یہ دونوں تم خواتین کو ( جہنم کی طرف ) لے جائیں گے ، وہاں سے واپس نہیں لائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن عمرو بن جبلہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

18186

Majma al-Zawaid #18186

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: إِيَّاكُمْ وَصِعَابَ الْقَوْلِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَعَوْنٌ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه used to say to beware of difficult speech. > **"Beware of difficult speech."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :’’ مشکل باتیں کرنے سے بچو !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور عون نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

18187

Majma al-Zawaid #18187

«عَنْ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أُرْسِلُ رَاحِلَتِي وَأَتَوَكَّلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بَلْ قَيِّدْهَا وَتَوَكَّلْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طُرُقٍ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَعْقُوبَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Umayyah al-Ḍamrī رضي الله عنه reported that he asked whether to release his mount and trust. The Messenger of Allāh ﷺ told him rather to tie it and trust. > **"Rather tie it and trust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں اپنی سواری کو کھلا چھوڑ کر توکل کروں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بلکہ تم اُس کو باندھ کر توکل کرو !۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف حوالوں سے نقل کی ہے ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یعقوب بن عبداللہ بن عمرو بن امیہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18188

Majma al-Zawaid #18188

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةُ طَوَائِرَ، فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا لِغَدٍ؟ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that three birds were gifted to the Messenger of Allāh ﷺ, so he fed his servant one bird. The next day she brought it to him, and the Messenger of Allāh ﷺ asked whether he had not forbidden her to store anything for tomorrow, for Allāh brings the provision of every morrow. > **"Did I not forbid you to store anything for tomorrow? For Allāh brings the provision of every morrow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو تین پرندے ( یعنی ان کا گوشت ) تحفے کے طور پر پیش کئے گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان میں سے ایک پرندہ اپنی خادمہ کو کھانے کے لیے دیا ، اگلے دن وہ خادمہ اس پرندے کو لے آئی ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : ’’ کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا ؟ کہ کل کے لئے کوئی چیز سنبھال کے رکھو ، اللہ تعالیٰ روزانہ کا رزق عطا کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18189

Majma al-Zawaid #18189

عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنِ انْقَطَعَ إِلَى اللَّهِ كَفَاهُ اللَّهُ كُلَّ مَئُونَةٍ، وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ، وَمَنِ انْقَطَعَ إِلَى الدُّنْيَا، وَكِلَهُ اللَّهُ إِلَيْهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْأَشْعَثِ صَاحِبُ الْفُضَيْلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ: يُغَرِّبُ وَيُخْطِئُ وَيُخَالِفُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that whoever cuts himself off to Allāh, Allāh suffices him every need and provides him whence he does not reckon, and whoever cuts himself off to this world, Allāh entrusts him to it. > **"Whoever cuts himself off to Allāh, Allāh suffices him every need and provides him whence he does not reckon; and whoever cuts himself off to this world, Allāh entrusts him to it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص ( دنیا سے ) لاتعلقی اختیار کر کے اللہ تعالیٰ کی طرف چلا جاتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر ضرورت کے حوالے سے اُس کے لیے کفایت کرتا ہے اور اُسے وہاں سے رزق عطا کرتا ہے جہاں کے بارے میں اسے گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص مکمل طور پر دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے ، اللہ تعالی اسے دنیا کے سپرد کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن اشعث ہے جو فضیل کا شاگرد ہے اور وہ ضعیف ہے ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غریب روایات نقل کرتا ہے غلطی کر جاتا ہے اور دوسروں کے برخلاف نقل کرتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18190

Majma al-Zawaid #18190

وَعَنْ أُمِّ مَيْسَرَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ رَجُلًا؟ "". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ فَقَالَ: "" رَجُلٌ آخِذٌ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَنْظُرُ أَنْ يُغِيرَ، أَوْ يُغَارَ عَلَيْهِ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ النَّاسِ بَعْدَهُ رَجُلًا؟ "". قَالُوا: بَلَى. فَأَشَارَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْحِجَازِ فَقَالَ: "" رَجُلٌ فِي غَنِيمَةٍ، يُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَيُؤْتِي الزَّكَاةَ، يَعْلَمُ مَا حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى فِي مَالِهِ قَدِ اعْتَزَلَ النَّاسَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Maysarah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allāh ﷺ asked whether he should inform them of the best of people. They said yes, so he gestured toward the east and said a man holding the rein of his horse in the path of Allāh waiting to raid or be raided. Then he asked whether to inform of the next best, and gesturing toward the Ḥijāz said a man among his flock who establishes prayer, gives zakāh, knows the right of Allāh in his wealth, and has withdrawn from people. > **"The best of people is a man holding the rein of his horse in the path of Allāh. Then a man among his flock who establishes prayer, gives zakāh, and has withdrawn from people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام میسرہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں لوگوں میں سے سب سے بہتر فرد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : وہ شخص جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام تھام لیتا ہے اور اس بات کا جائزہ لیتا ہے کہ وہ حملہ کرے ؟ یا اس پر حملہ کیا جائے ؟ کیا میں تمہیں اس کے بعد والے سب سے بہتر فرد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے حجاز کی طرف اشارہ کر کے یہ ارشاد فرمایا : وہ شخص جو اپنی بھیڑ بکریوں کے درمیان موجود ہو اور نماز قائم کرے ، زکوۃ ادا کرے ، وہ اپنے مال میں اللہ تعالیٰ کے حق کا علم رکھتا ہو اور لوگوں سے الگ تھلگ رہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابن اسحق نامی راوی مدلس ہے ۔

18191

Majma al-Zawaid #18191

وَعَنْ عَدَسَةَ الطَّائِيِّ قَالَ: كُنْتُ بِشَرَافٍ، فَنَزَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ فَبَعَثَنِي إِلَيْهِ أَهْلِي بِأَشْيَاءَ، وَجَاءَ غِلْمَةٌ لَنَا كَانُوا فِي الْإِبِلِ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعٍ بِطَيْرٍ، فَذَهَبَ بِهِ إِلَيْهِ، فَلَمَّا ذَهَبْتُ بِهِ إِلَيْهِ سَأَلَنِي: مِنْ أَيْنَ جِئْتَنِي بِهَذَا الطَّيْرِ؟ قَالَ: قُلْتُ: جَاءَ غِلْمَانٌ لَنَا كَانُوا فِي الْإِبِلِ مِنْ مَسِيرَةِ أَرْبَعِ لَيَالٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوَدِدْتُ أَنِّي حَيْثُ صِيدَ لَا أُكَلِّمُ أَحَدًا بِشَيْءٍ، وَلَا يُكَلِّمُنِي حَتَّى أَلْحَقَ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَدَسَةَ الطَّائِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAdasah al-Ṭāʾī reported that he was at Sharāf when ʿAbdullāh came and his family sent him with things, and their lads brought game birds from four nights journey. When he brought them, ʿAbdullāh asked whence he brought the birds, and he told him. ʿAbdullāh then wished he were where it was hunted, speaking to none and none speaking to him, until he meets Allāh the Mighty and Majestic. > **"Would that I were where it was hunted, speaking to none and none speaking to me, until I meet Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عدسہ طائی بیان کرتے ہیں : میں ’’ شراف ‘‘ میں تھا ، حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آ کر ٹھہرے ، میرے اہل خانہ نے کچھ اشیاء کے ہمراہ مجھے ان کی طرف بھیجا ، ہمارے کچھ غلام جو ہمارے اونٹوں میں ( آبادی سے دور ) ہوتے تھے ، وہ چار دن کے فاصلے سے پرندے لے کے آئے ، جب میں ان پرندوں کا گوشت ان کے پاس لے کر گیا تو انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم یہ پرندے کہاں سے میرے پاس لے کے آئے ہو ؟ میں نے بتایا : ہمارے کچھ غلام ہیں جو ہمارے اونٹوں میں ہوتے ہیں ، وہ چار دن کے فاصلے سے اسے لے کر آئے ہیں ، تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ جہاں اس پرندے کا شکار ہوا ہے ( یعنی جو جگہ آبادی سے چار دن کے فاصلے پر موجود ہے ) میں وہاں رہتا ، جہاں میرے ساتھ کوئی بات کرنے والا نہ ہوتا ، یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو جاتا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عدسہ طائی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18192

Majma al-Zawaid #18192

«وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو: أَنَّهُ مَرَّ بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى بَابِهِ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يُحَدِّثُ نَفْسَهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: مَا شَأْنُكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ تُحَدِّثُ نَفْسَكَ؟! قَالَ: مَا لِي يُرِيدُ عَدُوُّ اللَّهِ أَنْ يَلْفِتَنِي عَمَّا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" تُكَابِدُ دَهْرَكَ فِي بَيْتِكَ، أَلَا تَخْرُجَ إِلَى الْمَجْلِسِ؟ "". وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ خَرَجَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ، وَمَنْ عَادَ مَرِيضًا كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ غَدَا إِلَى الْمَسْجِدِ أَوْ رَاحَ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُعَزِّرُهُ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَمَنْ جَلَسَ فِي بَيْتِهِ لَمْ يَغْتَبْ أَحَدًا بِسُوءٍ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - "". فَيُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَنِي عَدُوُّ اللَّهِ مِنْ بَيْتِي إِلَى الْمَجْلِسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ بِاخْتِصَارٍ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that he passed by Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه standing at his door gesturing as though speaking to himself. When asked, Muʿādh said the enemy of Allāh wishes to divert him from what he heard the Messenger of Allāh ﷺ say: to strive throughout life to remain in the house and not go out to gatherings. He also heard him say that whoever goes out in the path of Allāh is guaranteed by Allāh, whoever visits the sick is guaranteed by Allāh, whoever goes to the mosque morning or evening is guaranteed by Allāh, whoever enters to a ruler to aid him is guaranteed by Allāh, and whoever sits in his house backbiting none is guaranteed by Allāh. So the enemy of Allāh wishes to draw him from his house to the gathering. > **"Strive throughout your life to remain in your house. Whoever sits in his house backbiting none is guaranteed by Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ ان کا گزر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، جو اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے اور اپنے ہاتھ کے ذریعے یوں اشارہ کر رہے تھے جیسے اپنے آپ کے ساتھ باتیں کر رہے ہوں ، حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : اے ابوعبدالرحمن ! آپ کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ آپ اپنے آپ کے ساتھ باتیں کر رہے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں کیا کروں ، اللہ کا دشمن یہ چاہتا ہے کہ وہ مجھے اس کام کے حوالے سے پھسلا دے ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم ہمیشہ یہ بھرپور کوشش کرنا کہ اپنے گھر میں رہو اور نکل کر مجلس کی طرف نہ جاؤ ۔‘‘ اور میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے بھی سنا ہے : ’’ جو شخص اللہ کی راہ میں نکلتا ہے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ، جو شخص بیمار کی عیادت کرتا ہے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ، جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت مسجد کی طرف جاتا ہے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ، جو شخص حکمران کے پاس جاتا ہے تاکہ اس کی مدد کرے وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے اور جو شخص اپنے گھر میں بیٹھا رہتا ہے اور کسی کی برائی کے ہمراہ غیبت نہیں کرتا ، وہ اللہ کی پناہ میں ہوتا ہے ۔‘‘ ( پھر حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو اللہ کا دشمن یہ چاہتا ہے کہ مجھے میرے گھر سے نکال کر محفل کی طرف لے جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن لہیعہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔

18193

Majma al-Zawaid #18193

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّهُ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ مِنَ الْأُمَمِ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مُوَرِّقٌ، فَكَانَ مُتَعَبِّدًا، فَبَيْنَا هُوَ قَائِمٌ فِي صَلَاتِهِ ذَكَرَ النِّسَاءَ، وَاشْتَهَاهُنَّ وَانْتَشَرَ، حَتَّى قَطَعَ صَلَاتَهُ، فَغَضِبَ فَأَخَذَ قَوْسَهُ فَقَطَعَ وَتَرَهُ فَعَقَدَهُ بِخُصْيَتِهِ وَشَدَّهُ إِلَى عَقِبِهِ، ثُمَّ شَدَّ رِجْلَيْهِ فَانْتَزَعَهَا، ثُمَّ أَخَذَ طِمْرَيْهِ، وَنَعْلَيْهِ حَتَّى أَتَى أَرْضًا لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ، فَاتَّخَذَ عَرِيشًا ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، فَجَعَلَ كُلَّمَا أَصْبَحَ تَصَدَّعَتِ الْأَرْضُ، فَخَرَجَ لَهُ خَارِجٌ مِنْهَا مَعَهُ إِنَاءٌ فِيهِ طَعَامٌ، فَأَكَلَ حَتَّى شَبِعَ، ثُمَّ يَدْخُلُ، فَيَخْرُجُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ، فَيَشْرَبُ حَتَّى يَرْوَى، ثُمَّ يَدْخُلُ وَتَلْتَئِمُ الْأَرْضُ، فَإِذَا أَمْسَى فَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ "". قَالَ: "" وَمَرَّ النَّاسُ قَرِيبًا مِنْهُ، فَأَتَاهُ رَجُلَانِ مِنَ الْقَوْمِ فَمَرَّا بِهِ تَحْتَ جُنْحِ اللَّيْلِ، فَسَأَلَاهُ عَنْ قَصْدِهِمَا، فَسَمَتَ لَهُمَا بِيَدِهِ، قَالَ: هَذَا قَصْدُكُمَا حَيْثُ يُرِيدَانِ، فَسَارَا غَيْرَ بَعِيدٍ. قَالَ أَحَدُهُمَا: مَا يُسْكِنُ هَذَا الرَّجُلَ هَاهُنَا بِأَرْضٍ لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ؟ لَوْ رَجَعْنَا إِلَيْهِ حَتَّى نَعْلَمَ عِلْمَهُ "". قَالَ: "" فَرَجَعَا إِلَيْهِ، فَقَالَا لَهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، مَا يُقِيمُكَ بِهَذَا الْمَكَانِ بِأَرْضٍ لَا أَنِيسَ بِهَا وَلَا وَحْشَ؟! قَالَ: امْضِيَا لِشَأْنِكُمَا وَدَعَانِي، فَأَبَيَا، وَأَلَحَّا عَلَيْهِ، قَالَ: فَإِنِّي مُخْبِرُكُمَا عَلَى أَنَّ مَنْ كَتَمَ مِنْكُمَا عَنِّي أَكْرَمَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا، وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ أَظْهَرَ عَلَيَّ مِنْكُمَا أَهَانَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا، وَالْآخِرَةِ. قَالَا: نَعَمْ "". قَالَ: "" فَنَزَلَا، فَلَمَّا أَصْبَحَا خَرَّجَ الْخَارِجُ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَ الَّذِي كَانَ يُخْرِجُ مِنَ الطَّعَامِ وَمِثْلَيْهِ مَعَهُ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، ثُمَّ دَخَلَ فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ بِشَرَابٍ فِي إِنَاءٍ مِثْلِ الَّذِي كَانَ يَخْرُجُ بِهِ كُلَّ يَوْمِ وَمِثْلَيْهِ مَعَهُ، فَشَرِبُوا حَتَّى رَوُوا، ثُمَّ دَخَلَ، وَالْتَأَمَتِ الْأَرْضُ "". قَالَ: "" فَنَظَرَ أَحَدُهُمَا إِلَى صَاحِبِهِ، فَقَالَ: مَا يُعْجِلُنَا؟ هَذَا طَعَامٌ، وَشَرَابٌ وَقَدْ عَلِمْنَا سَمْتَنَا مِنَ الْأَرْضِ، امْكُثْ إِلَى الْعَشَاءِ. فَمَكَثَا، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ مِنَ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ مِثْلُ الَّذِي خَرَجَ أَوَّلَ النَّهَارِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: امْكُثْ بِنَا حَتَّى نُصْبِحَ، فَمَكَثَا. فَلَمَّا أَصْبَحَا خَرَجَ إِلَيْهِمَا مِثْلُ ذَلِكَ. ثُمَّ رَكِبَا فَانْطَلَقَا، فَأَمَّا أَحَدُهُمَا فَلَزِمَ بَابَ الْمَلِكِ حَتَّى كَانَ مِنْ خَاصَّتِهِ وَسُمَّرِهِ، وَأَمَّا الْآخَرُ فَأَقْبَلَ عَلَى تِجَارَتِهِ وَعَمَلِهِ، وَكَانَ ذَلِكَ الْمَلِكُ لَا يَكْذِبُ أَحَدٌ فِي زَمَانِهِ مِنْ أَهْلِ مَمْلَكَتِهِ كَذْبَةً يُعْرَفُ بِهَا إِلَّا صَلَبَهُ، فَبَيْنَمَا هُمْ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي السَّمَرِ يُحَدِّثُونَهُ مِمَّا رَأَوْا مِنَ الْعَجَائِبِ أَنْشَأَ ذَلِكَ الرَّجُلُ يُحَدِّثُ فَقَالَ: أَلَا أُحَدِّثُكَ أَيُّهَا الْمَلِكُ بِحَدِيثٍ مَا سَمِعْتَ أَعْجَبَ مِنْهُ قَطُّ؟ فَحَدَّثَ بِحَدِيثِ ذَلِكَ الرَّجُلِ الَّذِي رَأَى مِنْ أَمْرِهِ، قَالَ الْمَلِكُ: مَا سَمِعْتُ بِكَذِبٍ قَطُّ أَعْظَمَ مِنْ هَذَا، وَاللَّهِ، لَتَأْتِيَنِّي عَلَى مَا قُلْتَ بِبَيِّنَةٍ أَوْ لَأَصْلُبَنَّكَ، قَالَ: بَيِّنَتِي فُلَانٌ، قَالَ: رِضَاءٌ. ائْتُونِي بِهِ، فَلَمَّا أَتَاهُ قَالَ الْمَلِكُ: إِنَّ هَذَا يَزْعُمُ أَنَّكُمَا مَرَرْتُمَا بِرَجُلٍ، ثُمَّ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ الرَّجُلُ: أَيُّهَا الْمَلِكُ، أَوَ لَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا كَذِبٌ، وَهَذَا مَا لَا يَكُونُ؟ وَلَوْ أَنِّي حَدَّثْتُكَ بِهَذَا لَكَانَ عَلَيْكَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَصْلُبَنِي عَلَيْهِ. قَالَ: صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ، فَأَدْخَلَ الرَّجُلَ الَّذِي كَتَمَ عَلَيْهِ فِي خَاصَّتِهِ وَسُمَّرِهِ، وَأَمَرَ بِالْآخَرِ فَصُلِبَ "". فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَأَمَّا الَّذِي كَتَمَ عَلَيْهِ مِنْهُمَا ; فَقَدْ أَكْرَمَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَأَمَّا الَّذِي أَظْهَرُ عَلَيْهِ مِنْهُمَا فَقَدْ أَهَانَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا، وَهُوَ مُهِينُهُ فِي الْآخِرَةِ». ثُمَّ نَظَرَ بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْمُثَنَّى، سَمِعْتَ جَدَّكَ يُحَدِّثُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ قَالَ: نَعَمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ: مُحَمَّدِ بْنِ شُعَيْبٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ يَسِيرٍ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that among the nations before them was a man called Mawraq who was devoted in worship. While standing in prayer he thought of women and desired them until he broke his prayer. In anger he took his bow, cut its string, tied it to his testicles and pulled them to his heel, then bound his legs and tore them away. He took his two garments and sandals and came to a land with neither human nor beast, built a shelter, and stood praying. Each morning the earth split and one emerged with a vessel of food which he ate to satiety, then returned with a vessel of drink which he drank to quenching, then entered and the earth closed, and likewise in the evening. People passed nearby, and two men came at nightfall and asked him their way, which he indicated by hand. One wondered what keeps a man in a land with neither human nor beast, so they returned and pressed him. He told them he would inform them on condition that whoever conceals him Allāh honours in this world and the Hereafter, and whoever exposes him Allāh humiliates in this world and the Hereafter. They agreed and stayed. The next morning the provision came doubled, and they ate and drank to satiety, stayed till evening and till morning, then departed mounted. One kept to the king's door until he became his intimate, the other returned to trade. That king crucified whoever was known to lie. One night among his companions one told the marvel he had seen. The king demanded proof or crucifixion, and he named his fellow as witness. The fellow denied it as impossible lest he be crucified, so the king believed him and admitted the concealer to his intimates and crucified the revealer. Then the Messenger of Allāh ﷺ said as for the one who concealed him, Allāh honoured him in this world and the Hereafter, and as for the one who exposed him, Allāh humiliated him in this world and shall humiliate him in the Hereafter. Then Bakr ibn ʿAbdillāh al-Muzanī asked Abū al-Muthannā whether he heard his grandfather narrate this from the Messenger of Allāh ﷺ, and he said yes. > **"Whoever of you conceals me, Allāh shall honour him in this world and the Hereafter; and whoever exposes me, Allāh shall humiliate him in this world and the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سے پہلے جو امتیں گزری ہیں ان میں ایک شخص تھا جس کا نام ’’ مورق ‘‘ تھا ، وہ عبادت گزار شخص تھا ، ایک مرتبہ وہ نماز ادا کر رہا تھا ، اسی دوران اسے عورتوں کا خیال آیا اور اسے عورتوں کی شدید خواہش محسوس ہوئی وہ منتشر ہوا ، یہاں تک کہ اس نے اپنی نماز توڑ دی ، پھر اسے غصہ آیا اس نے اپنی کمان لی اس کا تار کاٹا اور اس کے ذریعے اپنے خصیوں کو باندھ کر انہیں پیچھے کی طرف کھینچ دیا پھر اس نے اپنی چادر اور جوتے پکڑے اور ایسی سرزمین پر آ گیا ، جہاں کوئی فرد نہیں تھا اور کوئی جانور نہیں تھا ، وہاں اس نے ایک چھپر بنایا اور کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگا صبح کے وقت زمین پھٹتی تھی ، اس میں سے کوئی باہر آتا تھا ، جس کے پاس ایک برتن ہوتا تھا ، جس میں کھانا موجود ہوتا تھا ’’ مورق ‘‘ وہ کھانا کھا لیتا تھا ، یہاں تک کہ سیر ہو جاتا تھا ، پھر وہ اندر چلا جاتا تھا ، پھر ایک برتن باہر آتا تھا ، جس میں مشروب ہوتا تھا ’’ مورق ‘‘ اس کو پیتا تھا ، یہاں تک کہ سیراب ہو جاتا تھا ، پھر وہ برتن اندر چلا جاتا تھا اور زمین بند ہو جاتی تھی ، جب شام ہوتی تھی ، تو پھر ایسا ہوتا تھا ۔ ایک مرتبہ اس کے پاس سے کچھ افراد گزرے ، ان میں سے دو افراد ’’ مورق ‘‘ کے پاس سے گزرے ، رات ہو چکی تھی ان دونوں نے اس سے دریافت کیا : ان کی مطلوبہ جگہ کہاں ملے گی ؟ تو اس نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا : تمہارا مطلوبہ مقام اس طرف ہے ، وہ لوگ تھوڑی ہی دور گئے تھے کہ ان میں سے ایک نے یہ کہا : یہ شخص یہاں کیسے رہا ہے ؟ جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی جانور ہے ، اگر ہم اس کے پاس واپس جائیں تو ہمیں اس صورتحال کا پتہ چل جائے گا ، وہ دونوں اس کے پاس واپس آئے ، ان دونوں نے اس سے کہا : اے اللہ کے بندے ! تم ایسی جگہ پر کیسے رہے ہو ؟ جہاں نہ کوئی انسان ہے اور نہ کوئی جانور ہے ، اس نے کہا : تم اپنے کام سے جاؤ اور مجھے چھوڑ دو ! لیکن ان دونوں نے یہ بات نہیں مانی اور اس کے سامنے گریہ و زاری کرتے رہے ، اس نے کہا : میں تمہیں اس شرط پر یہ بات بتاؤں گا کہ تم دونوں میں سے جو بھی میرا معاملہ پوشیدہ رکھے گا اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں عزت عطا کرے گا اور تم میں سے جس نے میرے معاملے کو ظاہر کیا ، اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت میں رسوا کرے گا ، ان دونوں نے کہا : ٹھیک ہے ۔ پھر وہ دونوں وہاں ٹھہر گئے ، جب صبح ہوئی تو زمین میں سے کوئی باہر آیا جیسے وہ پہلے کھانا لے کے آتا تھا ، اس طرح کی مانند مزید دو گنا کھانا لے کر آیا ، ان لوگوں نے کھانا کھایا یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے پھر وہ زمین کے اندر گیا اور ان کے لیے ایک برتن میں مشروب لے کے آیا ، جتنا مشروب وہ پہلے لے کر آتا تھا اس کے ہمراہ مزید دو گنا تھا ، ان لوگوں نے اسے پیا ، یہاں تک کہ وہ سیراب ہو گئے ، پھر وہ ( مشروب لانے والا ) اندر چلا گیا اور زمین مل گئی ۔ ان دونوں افراد میں سے ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر یہ کہا : ہمیں کونسا جلدی ہے ، یہاں کھانا اور مشروب مل رہا ہے اور ہم نے جہاں جانا ہے ، اس کا ہمیں پتا ہے ، ہم شام تک ادھر ہی رہتے ہیں ، وہ دونوں وہاں ٹھہر گئے ، شام کے وقت پھر ان کے لئے اسی طرح کا کھانا اور مشروب آیا ، جس طرح دن کے ابتدائی حصے میں آیا تھا ، ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا : ہم صبح ہونے تک ٹھہرے رہتے ہیں ، وہ دونوں ٹھہر گئے ، جب صبح ہوئی تو ان کے لئے پھر اسی طرح کھانا اور مشروب آیا ۔ پھر وہ دونوں سوار ہوئے اور وہاں سے روانہ ہو گئے ، ان دونوں میں سے ایک بادشاہ کا مقرب اور انتہائی قریبی ساتھی بن گیا دوسرا شخص اپنی تجارت اور کام کاج میں مصروف ہو گیا ، بادشاہ کا یہ معمول تھا کہ اس کی سلطنت میں جو بھی شخص جھوٹ بولتا تھا ، اور اس کا جھوٹ ثابت ہو جاتا تو بادشاہ اسے مصلوب کروا دیتا تھا ، ایک دن رات کے وقت بادشاہ کے مصاحب اس کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے اور انہوں نے جو حیران کن چیزیں دیکھی تھیں ان کا تذکرہ کر رہے تھے اسی دوران وہ شخص بولا : اسے بادشاہ سلامت ! کیا میں آپ کو ایسی بات نہ بتاؤں کہ آپ نے کبھی اس سے زیادہ حیران کن بات نہیں سنی ہو گی ؟ پھر اس شخص نے اس ( یعنی عبادت گزار مورق ) کا واقعہ سنایا اور اس کے پاس جو صورتحال دیکھی تھی وہ بیان کی ، تو بادشاہ نے کہا : میں نے اس سے زیادہ بڑا جھوٹ کبھی نہیں سنا ، اللہ کی قسم ! تم نے جو بیان کیا ہے ، یا تو تم اس کا ثبوت پیش کرو گے یا پھر میں تمہیں مصلوب کروا دوں گا ، اس شخص نے کہا : میرا گواہ فلاں شخص ہے ، بادشاہ نے کہا : ٹھیک ہے اُسے میرے پاس لے کے آؤ ، جب وہ دوسرا شخص بادشاہ کے پاس آیا تو بادشاہ نے کہا : اس شخص کا یہ کہنا ہے کہ تم دونوں ایک فرد کے پاس سے گزرے تھے اور پھر وہاں اس اس طرح کی صورت حال پیش آئی تھی ؟ تو دوسرے شخص نے کہا : اے بادشاہ ! کیا آپ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ یہ بات جھوٹ ہے اور یہ نہیں ہو سکتا ؟ اگر میں نے آپ کو یہ بات بیان کی ہوتی تو یہ آپ کا حق تھا کہ آپ اس کی وجہ سے مجھے مصلوب کروا دیتے ، بادشاہ نے کہا : تم نے سچ کہا ہے اور تم نے نیکی کا کام کیا ہے ، تو جس دوسرے شخص نے اس بات کو چھپایا تھا ، بادشاہ نے اُسے اپنے مقربین میں شامل کر لیا اور جس شخص نے ( یہ راز افشا کیا تھا ) بادشاہ نے اسے مصلوب کروا دیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” اُن دونوں میں سے جس نے اس کے معاملے کو پوشیدہ رکھا تھا ، اللہ تعالیٰ نے اسے دنیا اور آخرت میں عزت عطا کی اور ان دونوں میں سے جس نے اس کے معاملے کو ظاہر کیا تھا ، اللہ تعالی نے اُسے دنیا میں رسوائی کا شکار کیا اور وہ آخرت میں بھی اس کو رسوائی کا شکار کرے گا ۔‘‘ اس کے بعد بکر بن عبداللہ مزنی نامی راوی نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس کی طرف دیکھا اور بولے : اے ابومثنیٰ ! کیا آپ نے اپنے دادا ( یعنی حضرت انس رضی اللہ عنہ کو ) نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ حدیث روایت کرتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد محمد بن شعیب کے حوالے سے نقل کی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اگرچہ اس کے بعض راویوں میں معمولی سا ضعف پایا جاتا ہے ۔

18194

Majma al-Zawaid #18194

وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ: حَجَّ عُمَرُ عَامَ الرَّمَادَةِ سَنَةَ سِتَّ عَشْرَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ السُّقْيَا وَالْعَرَجِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ عَرَضَ لَهُ رَاكِبٌ عَلَى الطَّرِيقِ فَصَاحَ: أَيُّهَا الرَّكْبُ، أَفِيكُمُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: وَيْلَكَ، أَتَعْقِلُ؟! قَالَ: الْعَقْلُ سَاقَنِي إِلَيْكَ، أَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالُوا: تُوُفِّيَ، فَبَكَى وَبَكَى النَّاسُ مَعَهُ. فَقَالَ: مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ بَعْدَهُ؟ قَالُوا: ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، فَقَالَ: أَحْنَفُ بَنِي تَمِيمٍ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: فَهُوَ فِيكُمْ؟ قَالُوا: لَا. قَدْ تُوُفِّيَ، فَدَعَا، وَدَعَا النَّاسُ. فَقَالَ: مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ، قَالُوا: عُمَرُ. قَالَ: أَحْمَرُ بَنِي عَدِيٍّ؟ قَالُوا: نَعَمْ. هُوَ الَّذِي يُكَلِّمُكَ، فَقَالَ: فَأَيْنَ كُنْتُمْ عَنْ أَبْيَضِ بَنِي أُمَيَّةَ، أَوْ أَصْلَعِ بَنِي هَاشِمٍ؟ قَالُوا: قَدْ كَانَ ذَاكَ فَمَا حَاجَتُكَ؟ قَالَ: «لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبُو عُقَيْلٍ الْجُعَيْلِيُّ عَلَى رَدْهَةِ جُعَيْلٍ، فَأَسْلَمْتُ، وَبَايَعْتُ، وَشَرِبْتُ مَعَهُ شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ، شَرِبَ أَوَّلَهَا، وَسَقَانِي آخِرَهَا»، فَوَاللَّهِ، مَا زِلْتُ أَجِدُ شِبَعَهَا كُلَّمَا جُعْتُ، وَبَرْدَهَا كُلَّمَا عَطِشْتُ، وَرِيَّهَا كُلَّمَا ظَمِئْتُ إِلَى يَوْمِي هَذَا، ثُمَّ تَسَنَّمْتُ هَذَا الْجَبَلَ الْأَبْعَرَ أَنَا وَزَوْجَتِي وَبَنَاتٌ لِي، فَكُنْتُ فِيهِ أُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَأَصُومُ شَهْرًا فِي السَّنَةِ، وَأَذْبَحُ لِعَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، فَذَلِكَ مَا عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَتْ هَذِهِ السَّنَةُ، فَوَاللَّهِ، مَا بَقِيَتْ لَنَا شَاةٌ إِلَّا شَاةٌ وَاحِدَةٌ، بَغَتَهَا الذِّئْبُ الْبَارِحَةَ ; فَأَكَلَ بَعْضَهَا وَأَكَلْنَا بَعْضَهَا، فَالْغَوْثَ الْغَوْثَ! فَقَالَ عُمَرُ: أَتَاكَ الْغَوْثُ، أَصْبِحْ مَعَنَا بِالْمَاءِ. وَمَضَى عُمَرُ حَتَّى الْمَاءِ وَجَعَلَ يَنْتَظِرُ، وَأَخَّرَ الرَّوَاحَ مِنْ أَجْلِهِ، فَلَمْ يَأْتِ. فَدَعَا صَاحِبَ الْمَاءِ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا عُقَيْلٍ الْجُعَيْلِيَّ مَعَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ لَهُ وَزَوْجُهُ، فَإِذَا جَاءَكَ فَأَنْفِقْ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ رَاجِعًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمَّا قَضَى عُمَرُ حَجَّهُ وَرَجَعَ دَعَا صَاحِبَ الْمَاءِ فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَبُو عُقَيْلٍ؟ فَقَالَ: جَاءَنِي الْغَدَ يَوْمَ حَدَّثْتَنِي، فَإِذَا هُوَ مَوْعُوكٌ فَمَرِضَ عِنْدِي لَيَالٍ ثُمَّ مَاتَ، فَذَاكَ قَبْرُهُ. فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: لَمْ يَرْضَ اللَّهُ لَهُ فِتْنَتَكُمْ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَضَمَّ بَنَاتِهِ وَزَوْجَتَهُ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Aslam reported that ʿUmar performed ḥajj in the year of al-Ramādah, year sixteen, and between al-Suqyā and al-ʿAraj in the night a rider called out asking whether the Messenger of Allāh ﷺ was among the company. ʿUmar asked whether he was sane, and he said reason brought him, asking whether the Messenger of Allāh ﷺ had died. They said he had died, so he wept and the people wept. He asked who took charge after him, and they said the son of Abū Quḥāfah. He asked about the frail man of Banū Taym, and they said yes, then whether he was among them, and they said he had died, so he supplicated and the people supplicated. He asked who took charge after him, and they said ʿUmar, the red man of Banū ʿAdī, who was speaking to him. He asked why they had passed over the fair man of Banū Umayyah or the bald man of Banū Hāshim, and they asked his need. He said he is Abū ʿUqayl al-Juʿaylī, who met the Messenger of Allāh ﷺ at the hollow of Juʿayl, accepted Islām, pledged allegiance, and drank with him a drink of sawīq of which the Prophet drank first and gave him the last. By Allāh he still finds its satiety when hungry, its coolness when thirsty, and its quenching to this day. Then he settled on the mountain al-Abʿar with his wife and daughters, praying five prayers day and night, fasting a month each year, and sacrificing on the tenth of Dhū al-Ḥijjah, as the Messenger of Allāh ﷺ taught him. This year only one ewe remained, which a wolf attacked last night, eating part and they eating part, so help, help. ʿUmar told him help had come and to stay with them at the water. ʿUmar went to the water and delayed departure for him, but he did not come. He told the keeper of the water that Abū ʿUqayl al-Juʿaylī with three daughters and his wife would come, to spend upon him and his family until he returns. When ʿUmar completed ḥajj and returned, he asked after Abū ʿUqayl. He said he came the next day feverish, sickened some nights, then died, and that is his grave. ʿUmar turned to his companions saying Allāh did not approve for him their trial, then prayed over him among the people and took his daughters and wife under his care and spent upon them. > **"I met the Messenger of Allāh ﷺ, accepted Islām, pledged allegiance, and drank with him a drink whose satiety I still find. So help, help."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسلم بیان کرتے ہیں ’’ رمادہ ‘‘ کے سال ، یعنی سولہ ہجری میں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لئے گئے ، جب وہ نصف رات کے وقت ’’ سقیا ‘‘ اور ’’ عرج ‘‘ کے درمیان تھے تو راستے میں ایک سوار اُن کے سامنے آیا اس نے بلند آواز میں پکار کر کہا : اے سوارو ! کیا تمہارے درمیان اللہ کے رسول ﷺ موجود ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ! کیا تم عقل رکھتے ہو ؟ اس نے کہا : عقل ہی مجھے آپ کی طرف لے کر آئی ہے ، کیا نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو چکا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : ان کا وصال ہو چکا ہے ، وہ رونے لگا اس کے ساتھ لوگ بھی رونے لگے ، پھر اس نے دریافت کیا : اُن کے بعد کون شخص معاملے کا نگران بنا ؟ لوگوں نے بتایا : ابوقحافہ کے صاحبزادے ! اس نے کہا : وہ کمزور سے شخص ، جن کا تعلق بنو تیم سے ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : کیا وہ تمہارے درمیان موجود ہیں ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! ان کا بھی انتقال ہو گیا ہے ، اس نے دعا کی ، لوگوں نے بھی دعا کی ، اس نے دریافت کیا : اُن کے بعد معاملے کا نگران کون بنا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، اس نے کہا : بنو عدی سے تعلق رکھنے والے سرخ رنگ کے فرد ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! وہی تمہارے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں ، اس نے کہا : تم نے بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے ( کسی ) سفید رنگت کے فرد یا بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے ( کسی ) آگے سے گنجے فرد کو فتخب کیوں نہیں کیا ؟ لوگوں نے کہا : اب تو یہ ہو چکا ہے ( تم بتاؤ ) تمہیں کیا کام ہے ؟ اس نے کہا : میری ملاقات نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ’’ جعیل ‘‘ کی چٹان پر ہوئی تھی ، میں نے اسلام قبول کیا تھا اور بیعت کی تھی ، اور آپ کے ساتھ ستو پیا تھا ، جس کا ابتدائی حصہ نبی اکرم ﷺ نے پیا تھا اور اس کا آخری حصہ آپ ﷺ نے مجھے پلایا تھا ، اللہ کی قسم ! اس کے بعد جب بھی مجھے بھوک محسوس ہوتی ہے تو اس ستو پینے کی طاقت مجھے اپنے اندر محسوس ہوتی ہے اور جب بھی مجھے پیاس لگتی ہے تو اس کی ٹھنڈک مجھے محسوس ہوتی ہے اور جب بھی میں پیاسا ہوتا ہوں ، تو اس کی سیرابی مجھے محسوس ہوتی ہے اور ایسا آج کے دن تک ہوتا رہا ہے ، پھر میں نے اس پہاڑ کی چوٹی پر رہائش اختیار کر لی ، میں تھا ، میری بیوی تھی ، میری بیٹیاں تھیں ، میں وہاں روزانہ پانچ نمازیں ادا کرتا ہوں ، سال میں ایک مخصوص مہینے کے روزے رکھتا ہوں ، ذوالج کی دس تاریخ کو جانور ذبح کرتا ہوں ، یہ وہ امور ہیں جن کی تعلیم نبی اکرم ﷺ نے مجھے دی تھی ، یہاں تک کہ یہ سال آ گیا ، اللہ کی قسم ! میری بکریوں میں سے صرف ایک بکری بچی تھی اور اس کو بھی کل ایک بھیڑیا لے گیا ، اس بکری کا کچھ حصہ اس نے کھا لیا اور کچھ ہم نے کھا لیا تو اب مدد کی ضرورت ہے ، مدد کی ضرورت ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے پاس مدد آ جائے گی ، تم صبح تک ہمارے ساتھ پانی کے پاس رہو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ چلتے رہے ، یہاں تک کہ وہ پانی کے پاس پہنچ گئے ، وہ انتظار کرتے رہے ، انہوں نے اس شخص کی وجہ سے روانگی کو مؤخر کیا ، لیکن وہ نہیں آیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پانی کے مالک ( یا وہاں کے مقامی بڑے ) کو بلایا اور یہ فرمایا : ابوعقیل جعیلی کے ساتھ اس کی تین بیٹیاں ہیں اور اس کی بیوی ہے جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس پر اور اس کے اہل خانہ پر اور اس کی اولاد پر خرچ کرنا ، جب تک میں واپسی پر تمہارے پاس سے نہیں گزرتا ، اگر اللہ نے چاہا ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج کر لیا اور وہ واپس روانہ ہوئے ( راستے میں ) انہوں نے اس پانی کے مالک کو بلوایا اور دریافت کیا : ابوعقیل کے معاملے کا کیا بنا ؟ اس نے بتایا : جب آپ نے مجھے ہدایت کی تھی اس سے اگلے دن وہ میرے پاس آیا تھا ، اُسے بخار تھا وہ چند دن میرے پاس بیمار رہا پھر اس کا انتقال ہو گیا ، اُس کی قبر وہاں ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس آزمائش سے راضی نہیں ہوا ، جس کا سامنا تم لوگوں کو کرنا پڑا ، پھر وہ لوگوں کے ساتھ اس کی قبر پر گئے اور انہوں نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ، اُس کے بعد اس کی صاحبزادیوں اور بیوی کی کفالت انہوں نے اپنے ذمہ لی اور انہیں خرچ فراہم کرتے رہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18195

Majma al-Zawaid #18195

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ وَقَدْ عَلَتْ أَصْوَاتُهُمْ، وَاسْتَغْرَبُوا ضَحِكًا ; فَأَغْضَبَهُ ذَلِكَ فَقَالَ: "" مَا لِلضَّحِكِ خُلِقْتُمْ "". وَأَنْكَرَ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَنِ اللَّهِ - جَلَّ ذِكْرُهُ - فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكَ أَنْ تُيَسِّرَ وَلَا تُعَسِّرَ، وَتُبَشِّرَ وَلَا تُنَفِّرَ. فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَشَّرَهُمْ وَيَسَّرَ عَلَيْهِمْ، وَبَسَطَ مِنْهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ came out to the people of al-Ṣuffah whose voices were raised in excessive laughter, and it angered him. He said they were not created for laughter and reproached them. Then Jibrīl عليه السلام came from Allāh commanding him to make ease and not hardship, to give glad tidings and not repel. So the Messenger of Allāh ﷺ went out to them, gave them glad tidings, eased them, and was cheerful with them. > **"You were not created for laughter. Make ease and do not make hardship, give glad tidings and do not repel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اہل صفہ کے پاس تشریف لائے ، جن کی آوازیں بلند ہو چکی تھی اور وہ ہنس رہے تھے ، نبی اکرم ﷺ کو اس بات پر غصہ آ گیا ، آپ نے فرمایا : تمہیں ہنسنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا ہے ، آپ ﷺ نے اس حوالے سے ان پر انکار کیا ، حضرت جبرائیل اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے پاس آئے اور بولے : اللہ تعالیٰ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ آسانی فراہم کریں ، آپ تنگی کا شکار نہ کریں ، خوشخبری سنائیں ، آپ متنفر نہ کریں ۔ تو نبی اکرم ﷺ ان لوگوں کے پاس تشریف لائے آپ نے انہیں خوش خبری سنائی ، انہیں آسانی فراہم کی اور انہیں خوشی سے ملے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن یحیی مدنی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

18196

Majma al-Zawaid #18196

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِقَوْمٍ يَضْحَكُونَ فَقَالَ: "" تَضْحَكُونَ وَذِكْرُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ؟! "". قَالَ: فَمَا رُئِيَ أَحَدٌ مِنْهُمْ ضَاحِكًا حَتَّى مَاتَ، قَالَ: وَنَزَلَتْ: "" {نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ - وَأَنَّ عَذَابِي هُوَ الْعَذَابُ الْأَلِيمُ} [الحجر: 49 - 50]» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Zubayr رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ passed by people laughing and asked whether they laugh while the remembrance of Paradise and Hell is among them. None of them was seen laughing thereafter till death. Then was revealed: Inform My servants that I am the Forgiving, the Merciful, and that My punishment is the painful punishment. > **"Do you laugh while the remembrance of Paradise and Hell is among you? Inform My servants that I am the Forgiving, the Merciful, and that My punishment is the painful punishment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے ہوا جو ہنس رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ ہنس رہے ہو ؟ حالانکہ تمہارے سامنے جنت اور جہنم کا ذکر ہوتا ہے ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد ان لوگوں میں سے کسی کو بھی مرتے دم تک ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : یہ آیت نازل ہوئی : ’’ تم میرے بندوں کو یہ بتا دو ! کہ بے شک میں مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا ہوں اور میرا عذاب ، وہ دردناک عذاب ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18197

Majma al-Zawaid #18197

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ: «دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٌّ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ اللَّهَ أَوْحَى إِلَى نَبِيٍّ مِنْ أَنْبِيَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنْ قُلْ لِأَهْلِ طَاعَتِي مِنْ أُمَّتِكَ لَا يَتَّكِلُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ ; فَإِنِّي لَا أُقَاصُّ عِنْدَ الْحِسَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، ثُمَّ أَشَاءُ أَنْ أُعَذِّبَهُ إِلَّا عَذَّبْتُهُ. وَقُلْ لِأَهْلِ الْمَعَاصِي مِنْ أُمَّتِكَ: لَا يُلْقُونَ بِأَيْدِيهِمْ ; فَإِنِّي أَغْفِرُ الذُّنُوبَ الْعِظَامَ، وَلَا أُبَالِي، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ قَرْيَةٍ، وَلَا أَهْلِ مَدِينَةٍ، وَلَا أَرْضٍ، وَلَا رَجُلٍ بِخَاصَّةٍ، وَلَا امْرَأَةٍ يَكُونُ لِي عَلَى مَا أُحِبُّ ; فَأَكُونُ لَهُ عَلَى مَا يُحِبُّ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ عَمَّا أُحِبُّ إِلَى مَا أَكْرَهُ إِلَّا تَحَوَّلْتُ لَهُ عَمَّا يُحِبُّ إِلَى مَا يَكْرَهُ. وَإِنَّهُ لَيْسَ مَنْ أَهْلِ مَدِينَةٍ، وَلَا أَهْلِ أَرْضٍ، وَلَا رَجُلٍ بِخَاصَّةٍ، وَلَا امْرَأَةٍ يَكُونُ لِي عَلَى مَا أَكْرَهُ، ثُمَّ يَتَحَوَّلُ لِي عَمَّا أَكْرَهُ إِلَى مَا أُحِبُّ إِلَّا تَحَوَّلْتُ لَهُ عَمَّا يَكْرَهُ إِلَى مَا يُحِبُّ. لَيْسَ مِنِّي مَنْ تَطَيَّرَ، أَوْ تُطِيِّرَ لَهُ، أَوْ تَكَهَّنَ، أَوْ تُكِهِّنَ لَهُ، أَوْ سَحَرَ أَوْ سُحِرَ لَهُ. إِنَّمَا أَنَا وَخَلْقِي، وَكُلُّ خَلْقِي لِي» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِيسَى بْنُ مُسْلِمٍ الطُّهَوِيُّ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: لَيِّنٌ، وَقَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، يُكْتَبُ حَدِيثُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿAbd al-Raḥmān al-Sulamī reported that he entered the mosque while ʿAlī رضي الله عنه, Commander of the Faithful, was upon the minbar saying the Messenger of Allāh ﷺ said that Allāh revealed to a prophet among the prophets of Banū Isrāʾīl to tell the obedient of his nation not to rely upon their deeds, for He does not settle accounts on the Day of Resurrection and then wills to punish but punishes. And to tell the disobedient not to despair, for He forgives grave sins and does not care. There is no people of a village, city, land, nor a particular man or woman who is toward Him as He loves and He is toward them as they love, then turns from what He loves to what He hates, but He turns toward them from what they love to what they hate. And there is no people of a city, land, nor a particular man or woman who is toward Him as He hates, then turns toward Him from what He hates to what He loves, but He turns toward them from what they hate to what they love. None of Him is who takes omens or has omens taken, who soothsayes or has soothsaying done, who works magic or has magic worked. He is, and His creation, and all His creation belongs to Him. > **"Tell the obedient not to rely upon their deeds, and tell the disobedient not to despair, for He forgives grave sins. There is no one who turns toward Him but He turns toward him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا ، وہاں امیرالمؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر موجود تھے اور یہ ارشاد فرما رہے تھے : اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے انبیاء کرام میں سے ایک نبی کی طرف یہ وحی کی : کہ تم اپنی امت سے تعلق رکھنے والے میرے فرمانبردار بندوں سے یہ کہہ دو : کہ وہ لوگ اپنے اعمال پر تکیہ نہ کریں ، کیونکہ قیامت کے دن حساب کے وقت مجھ سے بدلہ نہیں لیا جائے گا ، پھر اگر میں انہیں عذاب دینا چاہوں گا تو عذاب دے دوں گا اور تم اپنی امت سے تعلق رکھنے والے گناہ گار لوگوں سے یہ کہہ دو : وہ اپنے ہاتھ نہ ڈالیں ، کیونکہ میں بڑے گناہوں کی مغفرت کر دوں گا اور میں اس کی پرواہ نہیں کروں گا ، جس بھی بستی کا یا شہر کا یا سرزمین کا رہنے والا کوئی فرد یا کوئی مخصوص آدمی یا عورت ، وہ میری خاطر وہ کام کرے جسے میں پسند کرتا ہوں تو میں اُس کے لیے ویسا ہو جاؤں گا جسے وہ پسند کرتا ہو گا ، لیکن جو میری پسند سے پھر کر اس طرف جائے گا جو مجھے ناپسند ہو تو میں اس کے لئے اس کی پسند سے تبدیل ہو کے اُس طرف ہو جاؤں گا جو اسے ناپسند ہو ، جس بھی شہر یا سرزمین کا فرد یا کوئی مخصوص مرد یا عورت ، وہ عمل کریں گے جو مجھے ناپسند ہو تو میں اُن کے لیے ویسا ہو جاؤں گا جو انہیں ناپسند ہو اور جس بھی بستی یا شہر کا کوئی فرد یا کوئی مخصوص مرد یا عورت ، وہ کام کرتے ہوں جو مجھے ناپسند ہو اور پھر وہ اس سے منتقل ہو کر وہ کام کریں ، جو مجھے پسند ہو تو میں ان کی ناپسندیدگی سے تبدیل ہو کے اس طرف ہو جاؤں گا جو انہیں پسند ہو ، اُس شخص کا میرے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے جو فال نکالتا ہے یا جس کے لئے فال نکالی جاتی ہے یا جو کہانت کرتا ہے یا اس کے لئے کہانت کی جاتی ہے یا جو جادو کرتا ہے یا اُس کے لیے جادو کیا جاتا ہے ، بے شک میں ہوں اور میری مخلوق ہے ، اور میری ساری مخلوق میری ملکیت ہے ۔‘‘ یہ روایت طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عیسیٰ بن مسلم طہوی ہے ابوزرعہ کہتے ہیں : یہ کمزور ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے اس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، ان شاء اللہ ۔

18198

Majma al-Zawaid #18198

وَعَنْ أَبِي مُدَيْنَةَ الدَّارِمِيِّ - وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ - قَالَ: كَانَ الرَّجُلَانِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا الْتَقَيَا لَمْ يَفْتَرِقَا حَتَّى يَقْرَأَ أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ: {وَالْعَصْرِ - إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ} [العصر: 1 - 2]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ عَائِشَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Madīnah al-Dārimī رضي الله عنه, who had companionship, reported that when two men among the Companions of the Prophet ﷺ met, they did not part until one recited to the other: By time, indeed man is in loss. > **"By time, indeed man is in loss."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومدینہ دارمی رضی اللہ عنہ ، جنہیں صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے دو افراد جب آپس میں ملتے تھے تو ان دونوں کے جدا ہونے سے پہلے اُن دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے سامنے یہ تلاوت کرتا تھا : ’’ زمانے کی قسم ہے ! بیشک انسان خسارے میں ہے .......‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف این عائشہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18199

Majma al-Zawaid #18199

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ، فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ: انْظُرُوا إِذَا أَنَا مِتُّ أَنْ تَحْرِقُوهُ حَتَّى تَدَعُوهُ حُمَمًا، ثُمَّ اطْحَنُوهُ، ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمٍ رَاحٍ. فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ، فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: أَيْ رَبِّ، مَخَافَتُكَ! قَالَ: فَغَفَرَ لَهُ بِهَا، وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُ أَبِي هُرَيْرَةَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي إِسْنَادِ ابْنِ سِيرِينَ مَنْ لَمْ يُسَمَّ. قُلْتُ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ، قَدْ ذَكَرْتُ ذَلِكَ كُلَّهُ فِي التَّوْبَةِ فِي بَابِ فِيمَنْ خَافَ مِنْ ذَنْبِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه and Ibn Sīrīn reported that the Prophet ﷺ said there was a man among those before them who never did any good except tawḥīd. When death approached he told his family to burn him when dead until coals, then grind him, then scatter him on a windy day. When they did so he stood in the grasp of Allāh, and Allāh the Mighty and Majestic asked what compelled him to what he did. He said fear of Thee, O Lord. So He forgave him for it, though he never did any good except tawḥīd. > **"O son of Ādam, what compelled you to what you did? Fear of Thee, O Lord. So He forgave him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں اور ابن سیرین ، نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سے پہلے کے لوگوں میں ایک شخص تھا ، جس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی تھی ، البتہ وہ توحید ( کے عقیدے ) پر قائم تھا ، جب اُس کا آخری وقت قریب آیا تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا : تم اس بات کا دھیان رکھنا ، جب میں مر جاؤں تو تم مجھے جلا دینا یہاں تک کہ میں کوئلہ بن جاؤں ، پھر تم مجھے پیس دینا اور پھر تیز ہوا والے دن میں اُس راکھ کو اڑا دینا ، جب وہ شخص مر گیا تو اس کے گھر والوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا ، جب وہ اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ابن آدم ! تم نے جو یہ کیا ہے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو پروردگار نے اس ( خوف ) کی وجہ سے اُس کی مغفرت کر دی ، حالانکہ اس نے توحید کا قائل ہونے کے علاوہ اور کوئی نیک عمل نہیں کیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور ابن سیرین کی سند میں ایسا شخص ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت کے حوالے سے منقول ہے میں نے وہ تمام روایات - کتاب التوبة باب : اُس شخص کا بیان جو اپنے گناہ سے خوفزدہ ہو ۔ میں نقل کر دی ہیں ۔

18200

Majma al-Zawaid #18200

وَعَنِ الْحَسَنِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَفَعَهُ قَالَ: " «لَا أَجْمَعُ عَلَى عَبْدِي خَوْفَيْنِ وَأَمْنَيْنَ، وَإِنْ أَخَفْتُهُ فِي الدُّنْيَا أَمَّنْتُهُ فِي الْآخِرَةِ، وَإِنْ أَمَّنْتُهُ فِي الدُّنْيَا أَخَفْتُهُ فِي الْآخِرَةِ» ".

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reported in a raised narration that the Prophet ﷺ said Allāh says He does not combine upon His servant two fears and two securities: if He frightens him in this world He grants him safety in the Hereafter, and if He grants him safety in this world He frightens him in the Hereafter. > **"I do not combine upon My servant two fears and two securities: if I frighten him in this world I grant him safety in the Hereafter, and if I grant him safety in this world I frighten him in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن ، نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) میں اپنے بندے پر دو قسم کے خوف یا دو قسم کے امن جمع نہیں کروں گا ، اگر میں اُسے دنیا میں خوف میں مبتلا کروں گا تو آخرت میں اُسے امان نصیب کروں گا اور اگر میں اُسے دنیا میں امان عطا کروں گا تو اُسے آخرت میں خوف کا شکار کروں گا ۔‘‘