وَعَنْ أَسْلَمَ قَالَ: حَجَّ عُمَرُ عَامَ الرَّمَادَةِ سَنَةَ سِتَّ عَشْرَةَ، حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ السُّقْيَا وَالْعَرَجِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ عَرَضَ لَهُ رَاكِبٌ عَلَى الطَّرِيقِ فَصَاحَ: أَيُّهَا الرَّكْبُ، أَفِيكُمُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: وَيْلَكَ، أَتَعْقِلُ؟! قَالَ: الْعَقْلُ سَاقَنِي إِلَيْكَ، أَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -؟ فَقَالُوا: تُوُفِّيَ، فَبَكَى وَبَكَى النَّاسُ مَعَهُ. فَقَالَ: مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ بَعْدَهُ؟ قَالُوا: ابْنُ أَبِي قُحَافَةَ، فَقَالَ: أَحْنَفُ بَنِي تَمِيمٍ؟ فَقَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: فَهُوَ فِيكُمْ؟ قَالُوا: لَا. قَدْ تُوُفِّيَ، فَدَعَا، وَدَعَا النَّاسُ. فَقَالَ: مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ مِنْ بَعْدِهِ، قَالُوا: عُمَرُ. قَالَ: أَحْمَرُ بَنِي عَدِيٍّ؟ قَالُوا: نَعَمْ. هُوَ الَّذِي يُكَلِّمُكَ، فَقَالَ: فَأَيْنَ كُنْتُمْ عَنْ أَبْيَضِ بَنِي أُمَيَّةَ، أَوْ أَصْلَعِ بَنِي هَاشِمٍ؟ قَالُوا: قَدْ كَانَ ذَاكَ فَمَا حَاجَتُكَ؟ قَالَ: «لَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَنَا أَبُو عُقَيْلٍ الْجُعَيْلِيُّ عَلَى رَدْهَةِ جُعَيْلٍ، فَأَسْلَمْتُ، وَبَايَعْتُ، وَشَرِبْتُ مَعَهُ شَرْبَةً مِنْ سَوِيقٍ، شَرِبَ أَوَّلَهَا، وَسَقَانِي آخِرَهَا»، فَوَاللَّهِ، مَا زِلْتُ أَجِدُ شِبَعَهَا كُلَّمَا جُعْتُ، وَبَرْدَهَا كُلَّمَا عَطِشْتُ، وَرِيَّهَا كُلَّمَا ظَمِئْتُ إِلَى يَوْمِي هَذَا، ثُمَّ تَسَنَّمْتُ هَذَا الْجَبَلَ الْأَبْعَرَ أَنَا وَزَوْجَتِي وَبَنَاتٌ لِي، فَكُنْتُ فِيهِ أُصَلِّي كُلَّ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ خَمْسَ صَلَوَاتٍ، وَأَصُومُ شَهْرًا فِي السَّنَةِ، وَأَذْبَحُ لِعَشْرِ ذِي الْحِجَّةِ، فَذَلِكَ مَا عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى دَخَلَتْ هَذِهِ السَّنَةُ، فَوَاللَّهِ، مَا بَقِيَتْ لَنَا شَاةٌ إِلَّا شَاةٌ وَاحِدَةٌ، بَغَتَهَا الذِّئْبُ الْبَارِحَةَ ; فَأَكَلَ بَعْضَهَا وَأَكَلْنَا بَعْضَهَا، فَالْغَوْثَ الْغَوْثَ! فَقَالَ عُمَرُ: أَتَاكَ الْغَوْثُ، أَصْبِحْ مَعَنَا بِالْمَاءِ. وَمَضَى عُمَرُ حَتَّى الْمَاءِ وَجَعَلَ يَنْتَظِرُ، وَأَخَّرَ الرَّوَاحَ مِنْ أَجْلِهِ، فَلَمْ يَأْتِ. فَدَعَا صَاحِبَ الْمَاءِ فَقَالَ: إِنَّ أَبَا عُقَيْلٍ الْجُعَيْلِيَّ مَعَهُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ لَهُ وَزَوْجُهُ، فَإِذَا جَاءَكَ فَأَنْفِقْ عَلَيْهِ وَعَلَى أَهْلِهِ وَوَلَدِهِ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ رَاجِعًا إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَلَمَّا قَضَى عُمَرُ حَجَّهُ وَرَجَعَ دَعَا صَاحِبَ الْمَاءِ فَقَالَ: مَا فَعَلَ أَبُو عُقَيْلٍ؟ فَقَالَ: جَاءَنِي الْغَدَ يَوْمَ حَدَّثْتَنِي، فَإِذَا هُوَ مَوْعُوكٌ فَمَرِضَ عِنْدِي لَيَالٍ ثُمَّ مَاتَ، فَذَاكَ قَبْرُهُ. فَأَقْبَلَ عُمَرُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: لَمْ يَرْضَ اللَّهُ لَهُ فِتْنَتَكُمْ، ثُمَّ قَامَ فِي النَّاسِ فَصَلَّى عَلَيْهِ، وَضَمَّ بَنَاتِهِ وَزَوْجَتَهُ، فَكَانَ يُنْفِقُ عَلَيْهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.
EnglishUnverified translation
Aslam reported that ʿUmar performed ḥajj in the year of al-Ramādah, year sixteen, and between al-Suqyā and al-ʿAraj in the night a rider called out asking whether the Messenger of Allāh ﷺ was among the company. ʿUmar asked whether he was sane, and he said reason brought him, asking whether the Messenger of Allāh ﷺ had died. They said he had died, so he wept and the people wept. He asked who took charge after him, and they said the son of Abū Quḥāfah. He asked about the frail man of Banū Taym, and they said yes, then whether he was among them, and they said he had died, so he supplicated and the people supplicated. He asked who took charge after him, and they said ʿUmar, the red man of Banū ʿAdī, who was speaking to him. He asked why they had passed over the fair man of Banū Umayyah or the bald man of Banū Hāshim, and they asked his need. He said he is Abū ʿUqayl al-Juʿaylī, who met the Messenger of Allāh ﷺ at the hollow of Juʿayl, accepted Islām, pledged allegiance, and drank with him a drink of sawīq of which the Prophet drank first and gave him the last. By Allāh he still finds its satiety when hungry, its coolness when thirsty, and its quenching to this day. Then he settled on the mountain al-Abʿar with his wife and daughters, praying five prayers day and night, fasting a month each year, and sacrificing on the tenth of Dhū al-Ḥijjah, as the Messenger of Allāh ﷺ taught him. This year only one ewe remained, which a wolf attacked last night, eating part and they eating part, so help, help. ʿUmar told him help had come and to stay with them at the water. ʿUmar went to the water and delayed departure for him, but he did not come. He told the keeper of the water that Abū ʿUqayl al-Juʿaylī with three daughters and his wife would come, to spend upon him and his family until he returns. When ʿUmar completed ḥajj and returned, he asked after Abū ʿUqayl. He said he came the next day feverish, sickened some nights, then died, and that is his grave. ʿUmar turned to his companions saying Allāh did not approve for him their trial, then prayed over him among the people and took his daughters and wife under his care and spent upon them. > **"I met the Messenger of Allāh ﷺ, accepted Islām, pledged allegiance, and drank with him a drink whose satiety I still find. So help, help."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
اسلم بیان کرتے ہیں ’’ رمادہ ‘‘ کے سال ، یعنی سولہ ہجری میں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ حج کرنے کے لئے گئے ، جب وہ نصف رات کے وقت ’’ سقیا ‘‘ اور ’’ عرج ‘‘ کے درمیان تھے تو راستے میں ایک سوار اُن کے سامنے آیا اس نے بلند آواز میں پکار کر کہا : اے سوارو ! کیا تمہارے درمیان اللہ کے رسول ﷺ موجود ہیں ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو ! کیا تم عقل رکھتے ہو ؟ اس نے کہا : عقل ہی مجھے آپ کی طرف لے کر آئی ہے ، کیا نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو چکا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : ان کا وصال ہو چکا ہے ، وہ رونے لگا اس کے ساتھ لوگ بھی رونے لگے ، پھر اس نے دریافت کیا : اُن کے بعد کون شخص معاملے کا نگران بنا ؟ لوگوں نے بتایا : ابوقحافہ کے صاحبزادے ! اس نے کہا : وہ کمزور سے شخص ، جن کا تعلق بنو تیم سے ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اس نے دریافت کیا : کیا وہ تمہارے درمیان موجود ہیں ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! ان کا بھی انتقال ہو گیا ہے ، اس نے دعا کی ، لوگوں نے بھی دعا کی ، اس نے دریافت کیا : اُن کے بعد معاملے کا نگران کون بنا ہے ؟ لوگوں نے بتایا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، اس نے کہا : بنو عدی سے تعلق رکھنے والے سرخ رنگ کے فرد ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! وہی تمہارے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں ، اس نے کہا : تم نے بنوامیہ سے تعلق رکھنے والے ( کسی ) سفید رنگت کے فرد یا بنو ہاشم سے تعلق رکھنے والے ( کسی ) آگے سے گنجے فرد کو فتخب کیوں نہیں کیا ؟ لوگوں نے کہا : اب تو یہ ہو چکا ہے ( تم بتاؤ ) تمہیں کیا کام ہے ؟ اس نے کہا : میری ملاقات نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ’’ جعیل ‘‘ کی چٹان پر ہوئی تھی ، میں نے اسلام قبول کیا تھا اور بیعت کی تھی ، اور آپ کے ساتھ ستو پیا تھا ، جس کا ابتدائی حصہ نبی اکرم ﷺ نے پیا تھا اور اس کا آخری حصہ آپ ﷺ نے مجھے پلایا تھا ، اللہ کی قسم ! اس کے بعد جب بھی مجھے بھوک محسوس ہوتی ہے تو اس ستو پینے کی طاقت مجھے اپنے اندر محسوس ہوتی ہے اور جب بھی مجھے پیاس لگتی ہے تو اس کی ٹھنڈک مجھے محسوس ہوتی ہے اور جب بھی میں پیاسا ہوتا ہوں ، تو اس کی سیرابی مجھے محسوس ہوتی ہے اور ایسا آج کے دن تک ہوتا رہا ہے ، پھر میں نے اس پہاڑ کی چوٹی پر رہائش اختیار کر لی ، میں تھا ، میری بیوی تھی ، میری بیٹیاں تھیں ، میں وہاں روزانہ پانچ نمازیں ادا کرتا ہوں ، سال میں ایک مخصوص مہینے کے روزے رکھتا ہوں ، ذوالج کی دس تاریخ کو جانور ذبح کرتا ہوں ، یہ وہ امور ہیں جن کی تعلیم نبی اکرم ﷺ نے مجھے دی تھی ، یہاں تک کہ یہ سال آ گیا ، اللہ کی قسم ! میری بکریوں میں سے صرف ایک بکری بچی تھی اور اس کو بھی کل ایک بھیڑیا لے گیا ، اس بکری کا کچھ حصہ اس نے کھا لیا اور کچھ ہم نے کھا لیا تو اب مدد کی ضرورت ہے ، مدد کی ضرورت ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے پاس مدد آ جائے گی ، تم صبح تک ہمارے ساتھ پانی کے پاس رہو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ چلتے رہے ، یہاں تک کہ وہ پانی کے پاس پہنچ گئے ، وہ انتظار کرتے رہے ، انہوں نے اس شخص کی وجہ سے روانگی کو مؤخر کیا ، لیکن وہ نہیں آیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پانی کے مالک ( یا وہاں کے مقامی بڑے ) کو بلایا اور یہ فرمایا : ابوعقیل جعیلی کے ساتھ اس کی تین بیٹیاں ہیں اور اس کی بیوی ہے جب وہ تمہارے پاس آئے تو تم اس پر اور اس کے اہل خانہ پر اور اس کی اولاد پر خرچ کرنا ، جب تک میں واپسی پر تمہارے پاس سے نہیں گزرتا ، اگر اللہ نے چاہا ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج کر لیا اور وہ واپس روانہ ہوئے ( راستے میں ) انہوں نے اس پانی کے مالک کو بلوایا اور دریافت کیا : ابوعقیل کے معاملے کا کیا بنا ؟ اس نے بتایا : جب آپ نے مجھے ہدایت کی تھی اس سے اگلے دن وہ میرے پاس آیا تھا ، اُسے بخار تھا وہ چند دن میرے پاس بیمار رہا پھر اس کا انتقال ہو گیا ، اُس کی قبر وہاں ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس آزمائش سے راضی نہیں ہوا ، جس کا سامنا تم لوگوں کو کرنا پڑا ، پھر وہ لوگوں کے ساتھ اس کی قبر پر گئے اور انہوں نے اس کی نماز جنازہ ادا کی ، اُس کے بعد اس کی صاحبزادیوں اور بیوی کی کفالت انہوں نے اپنے ذمہ لی اور انہیں خرچ فراہم کرتے رہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔