Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 15

Book of Asceticism

Hadith 18201–18240

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18201

Majma al-Zawaid #18201

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِنَحْوِهِ. رَوَاهُمَا الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ: مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ مَيْمُونٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الْمُرْسَلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ رِجَالُ الْمُسْنَدِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported a similar narration from the Prophet ﷺ concerning two fears and two securities. > **"I do not combine upon My servant two fears and two securities."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ، نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ یہ دونوں روایات امام بزار نے نقل کی ہیں ، انہوں نے یہ اپنے استاد محمد بن یحیی بن میمون کے حوالے سے نقل کی ہیں اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ’’ مرسل ‘‘ روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ’’ مسند ‘‘ روایت کے رجال بھی اسی طرح ہیں ، صرف محمد بن عمرو بن علقمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

18202

Majma al-Zawaid #18202

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَيْنَا فِي أَنْفُسِنَا مَا نُحِبُّ، فَإِذَا رَجَعْنَا إِلَى أَهْلِنَا وَخَالَطْنَاهُمْ أَنْكَرْنَا أَنْفُسَنَا! فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي فِي الْخَلَاءِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ بِأَجْنِحَتِهَا، وَلَكِنْ سَاعَةً وَسَاعَةً». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زُهَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الرَّازِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.؟ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَقَالَ: "" «لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ حَتَّى تُظِلَّكُمْ بِأَجْنِحَتِهَا عِيَانًا» "".

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Companions of the Messenger of Allāh ﷺ said that when they are with the Prophet ﷺ they find in themselves what they love, but when they return to their families and mix with them they find themselves changed. When they mentioned this to the Prophet ﷺ, he said had they remained as they are with him even in solitude, the angels would shake their hands with their wings, but it is an hour and an hour. > **"Had you remained as you are with me even in solitude, the angels would shake your hands with their wings, but it is an hour and an hour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب نے یہ بات بیان کی ہے : ’’ جب ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس ہوتے تھے تو ہم اپنے من میں وہ چیز محسوس کرتے تھے جو ہمیں اچھی لگتی تھی ، اور جب ہم اپنے اہل خانہ کی طرف واپس چلے جاتے تھے اور ان کے ساتھ گھل مل جاتے تھے تو ہمیں اپنے من کی کیفیت تبدیل محسوس ہوتی تھی ، اُن لوگوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگوں کی میرے پاس جو کیفیت ہوتی ہے ، اگر تنہائی میں ( یعنی مجھ سے دور ہو کر ) بھی ویسی ہی کیفیت ہو تو فرشتے اپنے پروں کے ذریعے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں ، لیکن وقت ، وقت ( کی کیفیت مختلف ہوتی ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زہیر بن محمد رازی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ تو فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں اور تم پر اپنے پروں کے ذریعے سایہ کریں ، جسے دیکھا جا سکے ۔‘‘

18203

Majma al-Zawaid #18203

وَعَنِ الْحَسَنِ قَالَ: كَانَ لِعُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ بَيْتٌ قَدْ أَخْلَاهُ لِلْحَدِيثِ، فَكُنَّا نَأْتِيهِ فِيهِ، وَكَانَ يَقُولُ: سَاعَةٌ لِلدُّنْيَا، وَسَاعَةٌ لِلْآخِرَةِ، وَاللَّهُ يَعْلَمُ أَيَّ السَّاعَتَيْنِ تَغْلِبُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reported that ʿUthmān ibn Abī al-ʿĀṣ had a house set apart for discourse, and they would come to him therein. He used to say an hour for this world and an hour for the Hereafter, and Allāh knows which of the two hours prevails. > **"An hour for this world and an hour for the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : حضرت عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کا گھر تھا ( یہاں شاید کمرہ مراد ہے ) جسے انہوں نے بات چیت کے لیے مخصوص کیا ہوا تھا ، وہ ایک پہر دنیاوی امور پر گفتگو کرتے تھے اور ایک بہر آخرت کے بارے میں گفتگو کرتے تھے ، اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان دونوں میں کون سا پہر غالب ہوتا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عثمان بن ابوصفوان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18204

Majma al-Zawaid #18204

عَنْ عَمَّارٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «كَفَى بِالْمَوْتِ وَاعِظًا، وَكَفَى بِالْيَقِينِ غِنًى» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الرَّبِيعُ بْنُ بَدْرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmār رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said death suffices as an admonisher and certainty suffices as wealth. > **"Death suffices as an admonisher and certainty suffices as wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ نصیحت کرنے والے کے طور پر موت کافی ہے اور خوشحالی کے لئے یقین کافی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ربیع بن بدر ہے اور وہ متروک ہے ۔

18205

Majma al-Zawaid #18205

وَعَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ بِمَجْلِسٍ، وَهُمْ يَضْحَكُونَ، قَالَ: "" أَكْثِرُوا مِنْ ذِكْرِ هَادِمِ اللَّذَّاتِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - فَإِنَّهُ مَا ذَكَرَهُ أَحَدٌ فِي ضِيقٍ مِنَ الْعَيْشِ إِلَّا وَسَّعَهُ عَلَيْهِ، وَلَا فِي سَعَةٍ إِلَّا ضَيَّقَهَا عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ passed by a gathering laughing and said to remember much the destroyer of pleasures. He thought he added that none remembers it in straitened livelihood but it expands him, nor in plenty but it straitens it upon him. > **"Remember much the destroyer of pleasures, for none remembers it in straitness but it expands him, nor in plenty but it straitens it upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر ایک محفل کے پاس سے ہوا ، جس میں لوگ ہنس رہے تھے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ لذتوں کو منہدم کر دینے والی موت کو کثرت کے ساتھ یاد کرو !‘‘۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص تنگی کے عالم میں اسے یاد کرے گا یہ اس کے لیے گنجائش پیدا کر دے گی اور جو گنجائش کے عالم میں اسے یاد کرے گا ، یہ اس کے لئے تنگی پیدا کر دے گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے ان صحابی کے حوالے سے معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

18206

Majma al-Zawaid #18206

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: «مَاتَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُثْنُونَ عَلَيْهِ، وَيَذْكُرُونَ مِنْ عِبَادَتِهِ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَاكِتٌ، فَلَمَّا سَكَتُوا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ كَانَ يُكْثِرُ ذِكْرَ الْمَوْتِ؟ "". قَالُوا: لَا. قَالَ: "" فَهَلْ كَانَ يَدَعُ كَثِيرًا مِمَّا يَشْتَهِي "". قَالُوا: لَا. قَالَ: "" مَا بَلَغَ صَاحِبُكُمْ كَثِيرًا مِمَّا تَذْهَبُونَ إِلَيْهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Sāʿidī رضي الله عنه reported that a man among the Companions of the Prophet ﷺ died, and the Companions praised him and mentioned his worship while the Messenger of Allāh ﷺ remained silent. When they fell silent, the Messenger of Allāh ﷺ asked whether he used to remember death much. They said no. He asked whether he used to leave much of what he desired. They said no. He said their companion did not attain much of what they ascribe. > **"Did he remember death much? Did he leave much of what he desired? Your companion did not attain much of what you ascribe."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک صاحب کا انتقال ہو گیا ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کی تعریف کرنا شروع کی اور اس کی عبادت کا ذکر کیا ، نبی اکرم ﷺ خاموش رہے ، جب لوگ خاموش ہو گئے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا وہ موت کا ذکر کثرت سے کرتا تھا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اسے جن چیزوں کی خواہش محسوس ہوتی تھی ، کیا وہ ان میں سے زیادہ تر چیزیں چھوڑ دیتا تھا ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارا ساتھی اس میں سے زیادہ تر نہیں پہنچا ، جس کی طرف تم جا رہے ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18207

Majma al-Zawaid #18207

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلٌ بِعِبَادَةٍ وَاجْتِهَادٍ، فَقَالَ: "" كَيْفَ ذِكْرُ صَاحِبِكُمْ لِلْمَوْتِ؟ "". قَالُوا: مَا نَسْمَعُهُ يَذْكُرُهُ. قَالَ: "" لَيْسَ صَاحِبُكُمْ هُنَاكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that a man was mentioned before the Prophet ﷺ for worship and striving, and he asked how is their companion's remembrance of death. They said they do not hear him mention it. He said their companion is not there. > **"How is your companion's remembrance of death? Your companion is not there."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سامنے ایک شخص کا عبادت اور اجتہاد ( یعنی عبادت میں بھرپور اہتمام ) کے حوالے سے ذکر کیا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارا وہ ساتھی موت کو کتنا یاد کرتا تھا ؟ لوگوں نے کہا : ہم نے اُسے موت کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پھر تمہارا ساتھی اتنے پائے کا نہیں ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

18208

Majma al-Zawaid #18208

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اللَّهُمَّ حَبِّبِ الْمَوْتَ إِلَى مَنْ يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُكَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashʿarī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said O Allāh, make death beloved to whoever knows that he is Thy Messenger. > **"O Allāh, make death beloved to whoever knows that I am Thy Messenger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو اُس شخص کے نزدیک موت کو محبوب کر دے جو یہ جانتا ہو کہ میں تیرا رسول ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18209

Majma al-Zawaid #18209

وَعَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُحَارِبِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَا طَارِقُ، اسْتَعِدَّ لِلْمَوْتِ قَبْلَ الْمَوْتِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ نَاصِحٍ. قَالَ أَحْمَدُ: كَانَ مِنْ أَكْذَبِ النَّاسِ.

EnglishUnverified translation

Ṭāriq ibn ʿAbdillāh al-Muḥāribī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said O Ṭāriq, prepare for death before death. > **"O Ṭāriq, prepare for death before death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طارق بن عبدالله محاربی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے طارق ! موت سے پہلے موت کے لئے تیاری کر لو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ناصح ہے ، امام احمد کہتے ہیں : وہ سب سے بڑا جھوٹا تھا ۔

18210

Majma al-Zawaid #18210

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا عَبْدُ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - وَهُوَ خَاثِرٌ فَقُلْنَا: مَا لَكَ؟ قَالَ: ذَهَبَ صَفْوُ الدُّنْيَا، وَلَمْ يَبْقَ إِلَّا الْكَدَرُ، وَالْمَوْتُ الْيَوْمَ تُحْفَةٌ لِكُلِّ مُسْلِمٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَأَحَدُهُمَا جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfah reported that ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, came out to them gloomy. When asked, he said the pure part of this world has gone and only the murk remains, and death today is a gift for every Muslim. > **"The pure part of this world has gone and only the murk remains, and death today is a gift for every Muslim."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوجحیفہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے ، اُن کا مزاج خوشگوار نہیں تھا ، ہم نے دریافت کیا : آپ کو کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : ’’ دنیا کا صاف حصہ رخصت ہو گیا ہے اور صرف اس کا گدلا حصہ باقی رہ گیا ہے ، اور آج موت ہر مسلمان کے لئے تحفے کی حیثیت رکھتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک عمدہ ہے ۔

18211

Majma al-Zawaid #18211

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، مَا مِنْ نَفْسٍ حَيَّةٍ إِلَّا الْمَوْتُ خَيْرٌ لَهَا إِنْ كَانَ بَرًّا، إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: وَمَا عِنْدَ اللَّهِ خَيْرٌ لِلْأَبْرَارِ. وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا ; فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ: وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ خَيْرٌ لِأَنْفُسِهِمْ إِنَّمَا نُمْلِي لَهُمْ لِيَزْدَادُوا إِثْمًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, swore by Him besides Whom there is no god that there is no living soul but death is better for it if righteous, for Allāh the Mighty and Majestic says what is with Allāh is better for the righteous. And if wicked, for Allāh says let not those who disbelieve think that Our respite is better for them; We only respire them to increase in sin. > **"There is no living soul but death is better for it: what is with Allāh is better for the righteous, and respite only increases the wicked in sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اُس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، آج جو بھی شخص زندہ ہے ، اُس کے حق میں موت بہتر ہے ، اگر وہ نیک ہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے ۔‘‘ اور اگر کوئی شخص گناہ گار ہو تو اللہ تعالی نے یہ فرمایا ہے : ’’ اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ ہرگز یہ گمان نہ کریں کہ ہم انہیں جو ڈھیل دے رہے ہیں وہ ان کے حق میں بہتر ہے ہم انہیں ڈھیل دے رہے ہیں تاکہ ان کے گناہ میں اضافہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یزید بن ابوزیاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ۔

18212

Majma al-Zawaid #18212

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اسْتَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ ; فَإِنَّهُ مَا ذَكَرَهُ أَحَدٌ فِي ضِيقٍ إِلَّا وَسَّعَهُ، وَلَا ذَكَرَهُ فِي سَعَةٍ إِلَّا ضَيَّقَهَا عَلَيْهِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said to remember much the severer of pleasures, for none remembers it in straitness but it expands him, nor remembers it in plenty but it straitens it upon him. > **"Remember much the severer of pleasures, for none remembers it in straitness but it expands him, nor in plenty but it straitens it upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لذتوں کو تیزی سے کاٹ دینے والی ( چیز یعنی موت ) کو کثرت سے یاد کرو ! کیونکہ جو شخص تنگی کے عالم میں اس کو یاد کرے گا یہ اس کے لیے گنجائش پیدا کر دے گی اور جو گنجائش کے عالم میں اس کو یاد کرے گا ، یہ اسے تنگی کا شکار کر دے گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18213

Majma al-Zawaid #18213

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «أَكْثِرُوا ذِكْرَ هَاذِمِ اللَّذَّاتِ - يَعْنِي الْمَوْتَ - ; فَإِنَّهُ مَا كَانَ فِي كَثِيرٍ إِلَّا قَلَّلَهُ، وَلَا قَلِيلٍ إِلَّا أَجْزَلَهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَنَسٍ فِي هَذَا الْبَابِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said to remember much the severer of pleasures, meaning death, for it was never in plenty but it lessened it, nor in little but it enriched it. > **"Remember much the severer of pleasures, meaning death, for it was never in plenty but it lessened it, nor in little but it enriched it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لذتوں کو تیزی سے کاٹ دینے والی ( چیز ، راوی کہتے ہیں : یعنی موت ) کو کثرت سے یاد کرو ! کیونکہ جو شخص کثرت میں ہو گا یہ ( یاد کرنا ) اُس کو قلت میں کر دے گا اور جو شخص قلت میں ہو گا ، یہ اسے کثرت میں کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے ۔

18214

Majma al-Zawaid #18214

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَاشِرَ عَشْرَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، مَنْ أَكْيَسُ النَّاسِ، وَأَحْزَمُ النَّاسِ؟ قَالَ: "" أَكْثَرُهُمْ ذِكْرًا لِلْمَوْتِ، وَأَكْثَرُهُمُ اسْتِعْدَادًا لِلْمَوْتِ، قَبْلَ نُزُولِ الْمَوْتِ أُولَئِكَ هُمُ الْأَكْيَاسُ، ذَهَبُوا بِشَرَفِ الدُّنْيَا، وَكَرَامَةِ الْآخِرَةِ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that he came to the Prophet ﷺ as tenth of ten, and a man of the Anṣār asked who is the shrewdest and most resolute of people. He said those who remember death most and prepare most for death before its descent; they are the shrewd, gone with the honour of this world and the nobility of the Hereafter. > **"The shrewdest are those who remember death most and prepare most for death before its descent; they are gone with the honour of this world and the nobility of the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، مجھ سمیت دس افراد تھے ، انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا ، اُس نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! کون سب سے زیادہ سمجھدار ہے ؟ اور کون سب سے زیادہ محتاط ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو سب سے زیادہ موت کو یاد کرنے والا ہو ، اور جس نے موت کے آنے سے پہلے موت کے لیے سب سے زیادہ تیاری کی ہو ، وہ لوگ ہی سمجھدار ہیں ، دنیا کا شرف اور آخرت کی کرامت ( یعنی عزت ) لے گئے ہیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18215

Majma al-Zawaid #18215

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ كُلَّ قَلْبٍ حَزِينٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that Allāh loves every sorrowful heart. > **"Allāh loves every sorrowful heart."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ ہر غمگین دل سے محبت کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

18216

Majma al-Zawaid #18216

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «عَلَيْكُمْ بِالْحُزْنِ ; فَإِنَّهُ مِفْتَاحُ الْقَلْبِ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ الْحُزْنُ؟ قَالَ: "" أَجِيعُوا أَنْفُسَكُمْ بِالْجُوعِ وَأَظْمِئُوهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said to hold to sorrow, for it is the key of the heart. When asked how is sorrow, he said to hunger themselves with hunger and thirst them. > **"Hold to sorrow, for it is the key of the heart. Hunger yourselves with hunger and thirst yourselves."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم پر غمگین رہنا لازم ہے کیونکہ یہ دل کی کنجی ہے ‘‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! غمگین کیسے ہوا جائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ بھوک کے ہمراہ اپنے آپ کو بھوکا رکھو اور خود کو پیاسا رکھو !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18217

Majma al-Zawaid #18217

عَنِ الْعَبَّاسِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِذَا اقْشَعَرَّ جِلْدُ الْعَبْدِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ ; تَحَاتَّتْ عَنْهُ خَطَايَاهُ كَمَا تَحَاتُّ عَنِ الشَّجَرَةِ الْبَالِيَةِ وَرَقُهَا» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ الْعَبَّاسِ وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿAbbās رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that when the skin of the servant shudders from fear of Allāh, his sins fall from him as leaves fall from a withered tree. > **"When the skin of the servant shudders from fear of Allāh, his sins fall from him as leaves fall from a withered tree."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے کسی بندے کی جلد پر کپکپی طاری ہوتی ہے تو اس کے گناہ یوں جھڑتے ہیں جیسے بوسیده درخت سے پتے جھڑتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک خاتون ام کلثوم بنت عباس ہیں اور میں اس خاتون سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18218

Majma al-Zawaid #18218

وَعَنِ الْعَبَّاسِ أَيْضًا قَالَ: «كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَهَاجَتِ الرِّيحُ، فَوَقَعَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ وَرَقٍ نَخِرٍ، وَبَقِيَ مَا كَانَ فِيهَا مِنْ وَرَقٍ أَخْضَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا مَثَلُ هَذِهِ الشَّجَرَةِ؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: "" مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ، إِذَا اقْشَعَرَّ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ وَقَعَتْ عَنْهُ ذُنُوبُهُ، وَبَقِيَتْ لَهُ حَسَنَاتُهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ هَارُونَ بْنِ أَبِي الْجَوْزَاءِ، عَنِ الْعَبَّاسِ، وَلَمْ أَعْرِفْ هَارُونَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الرُّومِيِّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Al-ʿAbbās رضي الله عنه also reported that they were sitting with the Messenger of Allāh ﷺ beneath a tree when the wind stirred and the decayed leaves fell while the green remained. The Messenger of Allāh ﷺ asked what is the likeness of this tree. They said Allāh and His Messenger know best. He said its likeness is the believer: when he shudders from fear of Allāh his sins fall from him and his good deeds remain. > **"Its likeness is the believer: when he shudders from fear of Allāh his sins fall from him and his good deeds remain."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک درخت کے نیچے موجود تھے ، ہوا چل پڑی ، اُس درخت کے خشک پتے گر گئے اور سبز پتے لگے رہ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس درخت کی مثال کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس کی مثال مومن کی مانند ہے ، جب اس ( مومن ) پر اللہ تعالیٰ کے خوف کی وجہ سے کپکپی طاری ہوتی ہے تو اس کے گناہ گر جاتے ہیں اور اس کی نیکیاں باقی رہ جاتی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ہارون بن ابوالجوزاء کی حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور میں ہارون سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ محمد بن عمر بن رومی نامی راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

18219

Majma al-Zawaid #18219

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «غَدَا أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: "" وَمَا ذَاكَ؟ "". قَالُوا: النِّفَاقُ النِّفَاقُ. قَالَ: "" أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟! "". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "" لَيْسَ ذَلِكَ النِّفَاقَ "". قَالَ: ثُمَّ عَادُوا الثَّانِيَةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْنَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ. قَالَ: "" وَمَا ذَاكَ؟ "". قَالُوا: النِّفَاقُ النِّفَاقُ. قَالَ: "" أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟ "". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "" لَيْسَ ذَاكَ النِّفَاقَ "". قَالَ: ثُمَّ عَادُوا الثَّالِثَةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالُوا: النِّفَاقُ النِّفَاقُ قَالَ "" أَلَسْتُمْ تَشْهَدُونَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ؟ "". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "" لَيْسَ ذَاكَ النِّفَاقَ "". قَالُوا: إِنَّا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ كُنَّا عَلَى حَالٍ، وَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ هَمَّتْنَا الدُّنْيَا وَأَهْلُونَا. قَالَ: "" لَوْ أَنَّكُمْ إِذَا خَرَجْتُمْ مِنْ عِنْدِي تَكُونُونَ عَلَى الْحَالِ الَّتِي تَكُونُونَ عَلَيْهِ لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ بِطُرُقِ الْمَدِينَةِ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ غَسَّانَ بْنِ بُرْزِينَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Companions of the Messenger of Allāh ﷺ came one morning saying they are ruined, by the Lord of the Kaʿbah. When asked why, they said hypocrisy, hypocrisy. He asked do they not testify that there is no god but Allāh alone without partner and that Muḥammad is His servant and Messenger. They said yes, and he said that is not hypocrisy. They returned a second and a third time with the same, and each time he answered likewise. Then they said when they are with him they are in one state, but when they leave him the world and their families preoccupy them. He said had they remained upon leaving him as they are with him, the angels would shake their hands in the roads of Madīnah. > **"That is not hypocrisy. Had you remained upon leaving me as you are with me, the angels would shake your hands in the roads of Madīnah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے اصحاب صبح کے وقت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رب کعبہ کی قسم ! ہم ہلاکت کا شکار ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : منافقت ، منافقت ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ؟ صرف وہی معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ منافقت نہیں ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر دوبارہ وہ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رب کعبہ کی قسم ! ہم ہلاکت کا شکار ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : منافقت ، منافقت ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، صرف وہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ منافقت نہیں ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر تیسری مرتبہ وہ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! رب کعبہ کی قسم ! ہم ہلاکت کا شکار ہو گئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا ہوا ؟ انہوں نے عرض کی : منافقت ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے ہو ؟ کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ منافقت نہیں ہے ۔ اُن لوگوں نے عرض کی : جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں ، تو ہماری ایک مخصوص حالت ہوتی ہے اور جب ہم آپ کے پاس سے اُٹھ کر چلے جاتے ہیں ، تو دنیا کے معاملات اور ہمارے گھر والوں کی پریشانیاں ہمیں لاحق ہو جاتی ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب تم میرے پاس سے چلے جاتے ہو ، اُس وقت بھی تمہاری وہی حالت رہے ، جو پہلے ( یعنی میرے پاس موجود رہنے کے دوران ) ہوتی ہے تو مدینہ کے راستوں میں فرشتے تمہارے ساتھ مصافحہ کریں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف غسان بن برزین کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18220

Majma al-Zawaid #18220

عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَنْ يَتَزَوَّدْ مِنَ الدُّنْيَا يَنْفَعْهُ فِي الْآخِرَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jarīr رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that whoever takes provision from this world, it benefits him in the Hereafter. > **"Whoever takes provision from this world, it benefits him in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص دنیا میں سے زاد حاصل کر لے گا وہ ( زاد ) اُسے آخرت میں نفع دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18221

Majma al-Zawaid #18221

عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِيمَا خَلَا مِنَ الْأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغْرِبِ الشَّمْسِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي الْكَبِيرِ: «كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالشَّمْسُ عَلَى قُعَيْقِعَانٍ بَعْدَ الْعَصْرِ، فَقَالَ: "" مَا أَعْمَارُكُمْ فِي أَعْمَارِ مَنْ مَضَى إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ هَذَا النَّهَارِ فِيمَا مَضَى مِنْهُ». وَرِجَالُ الصَّغِيرِ، وَالْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي أَحَدِ إِسْنَادَيِ الْكَبِيرِ شَرِيكٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضi الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that their term compared to past nations is like between the ʿAṣr prayer and sunset. In a version they were sitting with the Prophet ﷺ with the sun upon Quʿayqiʿān after ʿAṣr, and he said their lives compared to those who passed are like what remains of this day compared to what has passed of it. > **"Your term compared to past nations is like between the ʿAṣr prayer and sunset. Your lives compared to those who passed are like what remains of this day compared to what has passed of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم سے پہلے کی امتوں کے مقابلے میں تمہاری مدت یوں ہے جیسے عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا درمیانی وقت ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے تاہم انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : راوی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور سورج اُس وقت عصر کے بعد قیقعان ( نامی پہاڑ ) پر تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی عمروں کے مقابلے میں ، تمہاری عمریں یوں ہیں ، جس طرح گزرے ہوئے دن کے مقابلے میں باقی رہ جانے والا دن ہے ۔‘‘ معجم صغیر اور معجم اوسط کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور کبیر کی دو اسناد میں سے ایک سند میں ایک راوی شریک ہے جس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18222

Majma al-Zawaid #18222

وَعَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَطَبَ أَصْحَابَهُ ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ كَادَتِ الشَّمْسُ أَنْ تَغْرُبَ، فَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا شَفٌّ يَسِيرٌ، فَقَالَ: "" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا كَمَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ "". وَمَا نَرَى الشَّمْسَ إِلَّا يَسِيرًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ خَلَفِ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِيهِ، وَقَدْ وُثِّقَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ addressed his Companions one day when the sun was about to set with only a small edge remaining. He swore by Him in Whose Hand is his soul that what remains of this world compared to what has passed is like what remains of this day compared to what has passed of it, while they saw only a little of the sun. > **"By Him in Whose Hand is my soul, what remains of this world compared to what has passed is like what remains of this day compared to what has passed of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک دن اپنے اصحاب کو خطبہ دیا ، اس وقت سورج غروب ہونے کے قریب تھا اور تھوڑا سا وقت باقی رہ گیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، گزرے ہوئے کے مقابلے میں دنیا میں سے صرف اتنا حصہ باقی رہ گیا ہے جیسے گزرے ہوئے دن کے مقابلے میں تمہارا یہ دن باقی رہ گیا ہے ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : ہمیں تھوڑا سا سورج نظر آ رہا تھا ۔ یہ روایت امام بزار نے خلف بن موسیٰ کے حوالے سے اس کے والد سے نقل کی ہے اور ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18223

Majma al-Zawaid #18223

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَظَرَ إِلَى الشَّمْسِ عِنْدَ غُرُوبِهَا عَلَى أَطْرَافِ سَعَفِ النَّخْلِ، فَقَالَ: "" مَا بَقِيَ مِنَ الدُّنْيَا فِيمَا مَضَى مِنْهَا إِلَّا مِثْلُ مَا بَقِيَ مِنْ يَوْمِكُمْ هَذَا فِيمَا مَضَى مِنْهُ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ looked at the sun at its setting upon the edges of palm fronds and said what remains of this world compared to what has passed is like what remains of this day compared to what has passed of it. > **"What remains of this world compared to what has passed is like what remains of this day compared to what has passed of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : آپ ﷺ نے سورج کی طرف دیکھا جو کھجور کی شاخوں کے اوپر نظر آ رہا تھا اور غروب ہونے کے قریب تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ گزرے ہوئے حصے کے مقابلے میں دنیا اتنی باقی رہ گئی ہے جتنا تمہارا یہ دن گزرے ہوئے حصے کے مقابلے میں باقی رہ گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ہشام بن عبدالرحمن ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18224

Majma al-Zawaid #18224

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَلَا تَزْدَادُ مِنْهُمْ إِلَّا بُعْدًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ ثَبْتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the Hour has drawn near, yet they only grow more distant from it. > **"The Hour has drawn near, yet they only grow more distant from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت قریب آ چکی ہے لیکن لوگ اس سے زیادہ دور ہوتے جا رہے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور ثبت ہے ۔

18225

Majma al-Zawaid #18225

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ جَمِيعًا، إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُنِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ "". وَضَمَّ إِصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى». وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Buraydah رضي الله عنه reported that he heard the Prophet ﷺ say he and the Hour were sent together, and it almost preceded him. In a version he said he and the Hour were sent like these two, joining his forefinger and middle finger. > **"I and the Hour were sent together, and it almost preceded me. I and the Hour were sent like these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریده رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ مجھے اور قیامت کو اکٹھے مبعوث کیا گیا ہے ، قریب تھا کہ وہ مجھ سے سبقت لے جاتی ( یعنی وہ مجھ سے پہلے آ جاتی ) ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ مجھے اور قیامت کو ان دو کی طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18226

Majma al-Zawaid #18226

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُشِيرُ بِإِصْبُعَيْهِ، وَهُوَ يَقُولُ: "" بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn Samurah رضي الله عنه reported that he saw the Prophet ﷺ gesturing with his two fingers saying he and the Hour were sent like this from this. > **"I and the Hour were sent like this from this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے دو انگلیوں کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ’’ مجھے اور قیامت کو یوں مبعوث کیا گیا ہے جیسے یہ اور یہ ہے ( یعنی جیسے یہ دو انگلیاں ہیں ) ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18227

Majma al-Zawaid #18227

وَعَنْ وَهْبٍ السُّوَائِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَذِهِ مِنْ هَذِهِ إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُهَا "". أَوْ: "" إِنْ كَادَتْ لَتَسْبِقُنِي» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ: "" «لَتَسْبِقُنِي» "". فَقَطْ. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي خَالِدٍ الْوَالِبِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Wahb al-Suwāʾī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he and the Hour were sent like this from this, and it almost preceded it, or it almost preceded him. > **"I and the Hour were sent like this from this, and it almost preceded me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت وھب سوائی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے اور قیامت کو یوں مبعوث کیا گیا ہے جیسے یہ اور یہ ( یعنی یہ دو انگلیاں ) ہیں ، قریب ہے کہ وہ اس پر سبقت لے جاتی ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) قریب تھا کہ وہ ( یعنی قیامت ) مجھ پر سبقت لے جاتی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے صرف یہ الفاظ نقل کئے ہیں :’’ وہ مجھ پر سبقت لے جاتی ۔‘‘ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوخالد والبی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18228

Majma al-Zawaid #18228

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو نُعَيْمٍ: ضِرَارُ بْنُ صُرَدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he and the Hour were sent like these two. > **"I and the Hour were sent like these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے اور قیامت کو ان دو ( انگلیوں ) کی طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابونعیم ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18229

Majma al-Zawaid #18229

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ: عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he and the Hour were sent like these two. > **"I and the Hour were sent like these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھے اور قیامت کو ان دو ( انگلیوں ) کی طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبدالله بن محمد بن سعید بن ابومریم سے روایت کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18230

Majma al-Zawaid #18230

وَعَنْ أَبِي جُبَيْرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ الْأَنْصَارِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ هَكَذَا - وَجَمَعَ بَيْنَ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى - فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هَذِهِ هَذِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ. م وَرَوَاهُ عَنْ أَبِي جُبَيْرَةَ بْنِ الضَّحَّاكِ، عَنْ أَشْيَاخٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ. وَرِجَالُ هَذِهِ الطَّرِيقِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شِبْلٍ، أَوْ شُبَيْلِ بْنِ عَوْفٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Jubayrah ibn al-Ḍaḥḥāk al-Anṣārī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he and the Hour were sent thus, joining the forefinger and middle finger, and he preceded it as this precedes this. It is also narrated from elders of the Anṣār likewise. > **"I and the Hour were sent thus, and I preceded it as this precedes this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجبیره بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے اور قیامت کو اس طرح مبعوث کیا گیا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو ملا کر یہ بات ارشاد فرمائی ( اور پھر یہ فرمایا : ) ’’ تو میں اس ( یعنی قیامت ) پر اتنی سبقت لے گیا ، جس طرح اس ( انگلی ) نے اس ( دوسری انگلی ) پر ( سبقت ) لی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ روایت ابوجبیرہ بن ضحاک کے حوالے سے انصار کے کچھ بزرگوں کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے نقل کی ہے جو اس کی مانند ہے ۔ اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف شبل یا شاید شبیل بن عوف کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18231

Majma al-Zawaid #18231

وَرَوَى الْبَزَّارُ مِنْهُ: " «بُعِثْتُ فِي نَسَمِ السَّاعَةِ» " فَقَطْ.

EnglishUnverified translation

Al-Bazzār narrated thereof only that he was sent in the breath of the Hour. > **"I was sent in the breath of the Hour."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام بزار نے اس میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے : ’’ مجھے قیامت کے آغاز میں ( یعنی اُس کی ابتدائی نشانی کے طور پر ) مبعوث کیا گیا ہے ۔

18232

Majma al-Zawaid #18232

«وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسًا تَحْتَ شَجَرَةٍ، فَتَحَرَّكَتِ الشَّجَرَةُ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزِعًا، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ، فَقَالَ: "" ظَنَنْتُهَا الْقِيَامَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ الْأَعْمَشَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ كَمَا قِيلَ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ was sitting beneath a tree when it moved, so the Messenger of Allāh ﷺ rose startled. When asked, he said he thought it the Resurrection. > **"I thought it the Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک درخت کے نیچے تشریف فرما تھے ، درخت نے حرکت کی تو نبی اکرم ﷺ پریشانی کے عالم میں اُٹھ کھڑے ہوئے آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا : تو آپ نے ارشاد فرمایا : مجھے لگا کہ قیامت آ گئی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، صرف یہ ہے کہ اعمش نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے جیسا کہ یہ بات بیان کی گئی ہے ۔

18233

Majma al-Zawaid #18233

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «قَالَ إِنَّ فَاطِمَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - نَاوَلَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعَيرٍ، فَقَالَ: "" هَذَا أَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلَهُ أَبُوكِ مُنْذُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ: فَقَالَ: "" «مَا هَذِهِ؟ "". فَقَالَتْ: قُرْصٌ خَبَزْتُهُ فَلَمْ تَطِبْ نَفْسِي حَتَّى أَتَيْتُكَ بِهَذِهِ الْكِسْرَةِ». وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that Fāṭimah رضي الله عنها handed the Prophet ﷺ a piece of barley bread, and he said this is the first food his father has eaten in three days. In an addition he asked what is this, and she said a disc she baked and her soul was not content till she brought him this piece. > **"This is the first food your father has eaten in three days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جو کی روٹی کا ٹکڑا نبی اکرم ﷺ کو پکڑایا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ وہ پہلا کھانا ہے جو پچھلے تین دنوں میں تمہارا باپ کھانے لگا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : روٹی کا ٹکڑا ہے ، مجھے اطمینان نہیں ہوا ، جب تک میں یہ آپ کے پاس نہیں لے آئی ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔

18234

Majma al-Zawaid #18234

«وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ، مَا رَأَى مُنْخُلًا، وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مَنْخُولًا مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَى أَنْ قُبِضَ. قُلْتُ: كَيْفَ كُنْتُمْ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ؟ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ: أُفٍّ، أُفٍّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ رُومَانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها swore by Him Who sent Muḥammad with the truth that he never saw a sieve nor ate sifted bread since Allāh sent him till he was taken. When asked how they ate barley, she said they would blow, blow. > **"He never saw a sieve nor ate sifted bread since Allāh sent him till he was taken."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : اس ذات کی قسم ! جس نے حضرت محمد ﷺ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، نہ تو نبی اکرم ﷺ نے کبھی چھنا ہوا آٹا دیکھا ، اور آپ نے کبھی چھنے ہوئے آنے کی روٹی نہیں کھائی ، جب سے اللہ تعالی نے آپ کو مبعوث کیا تھا اُس وقت سے لے کر آپ کے وصال تک ( ایسا کبھی نہیں ہوا ) ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ لوگ جو کیسے کھاتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : ہم یہ کہتے تھے : اف اف ( یعنی ان میں پھونک مار لیتے تھے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن رومان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18235

Majma al-Zawaid #18235

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ يُنْخَلُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الدَّقِيقُ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ إِلَّا قَمِيصٌ وَاحِدٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِمَا سَعِيدُ بْنُ مَيْسَرَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه reported that flour was never sifted for the Messenger of Allāh ﷺ, nor had he but a single shirt. > **"Flour was never sifted for the Messenger of Allāh ﷺ, nor had he but a single shirt."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے لیے آٹے کو چھانا نہیں جاتا تھا اور آپ ﷺ کے استعمال میں صرف ایک قمیص ہوتی تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور ان دونوں میں ایک راوی سعید بن میسرہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18236

Majma al-Zawaid #18236

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «لَمْ يُنْخَلْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَقِيقٌ قَطُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نُفَيْعٌ: أَبُو دَاوُدَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضi الله عنها reported that flour was never sifted for the Messenger of Allāh ﷺ at all. > **"Flour was never sifted for the Messenger of Allāh ﷺ at all."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے لیے کبھی آٹے کو چھانا نہیں گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نفیع ابوداؤد ہے اور وہ متروک ہے ۔

18237

Majma al-Zawaid #18237

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الدُّنْيَا وَلَمْ يَشْبَعْ هُوَ وَلَا أَهْلُهُ مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf رضi الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ left this world without he or his family ever satiating with barley bread. > **"He left this world without he or his family ever satiating with barley bread."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ دنیا سے رخصت ہو گئے اور آپ نے اور آپ کے اہل خانہ نے کبھی بھی سیر ہو کر جو کی روٹی نہیں کھائی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18238

Majma al-Zawaid #18238

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ خَمِيصُ الْبَطْنِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ طَلْحَةُ الْبَصْرِيُّ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضi الله عنها reported that the Messenger of Allāh ﷺ died while empty-bellied. > **"He died while empty-bellied."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا اور آپ کا پیٹ خوراک سے خالی تھا ( یعنی آپ شکم سیر نہیں ہوتے تھے ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی طلحہ بصری ہے جو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کا غلام ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18239

Majma al-Zawaid #18239

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي يَوْمٍ شَبْعَتَيْنِ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ never satiated twice in a day till he left this world. > **"He never satiated twice in a day till he left this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے کبھی بھی ایک دن میں دو مرتبہ سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا ، یہاں تک کہ آپ ﷺ دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحمید بن سلیمان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18240

Majma al-Zawaid #18240

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «مَا كَانَ يَبْقَى عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خُبْزِ الشَّعِيرِ قَلِيلٌ وَلَا كَثِيرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضi الله عنها reported that nothing used to remain upon the table of the Messenger of Allāh ﷺ of barley bread, neither little nor much. > **"Nothing used to remain upon his table of barley bread, neither little nor much."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے دسترخوان پر جو کی روٹی باقی نہیں رہتی تھی ، خواہ تھوڑی ہو یا زیادہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔