Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 16

Book of Asceticism

Hadith 18241–18280

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18241

Majma al-Zawaid #18241

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: «مَا رُفِعَتْ مَائِدَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ بَيْنِ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَلَيْهَا فَضْلَةٌ مِنْ طَعَامٍ قَطُّ». 18242 وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ.

EnglishUnverified translation

It is reported in a narration that the table of the Messenger of Allāh ﷺ was never lifted from before him while any leftover food remained upon it. > **"The table of the Messenger of Allāh ﷺ was never lifted from before him while any leftover food remained upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ کے آگے سے جب بھی دسترخوان اٹھایا جاتا تھا تو اس پر کبھی بچا ہوا کھانا نہیں ہوتا تھا ۔‘‘ امام بزار نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔

18242

Majma al-Zawaid #18242

وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ.

EnglishUnverified translation

This report is a fragment noting that al-Bazzār narrated part of the preceding narration concerning the table of the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

امام بزار نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔

18243

Majma al-Zawaid #18243

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: وَاللَّهِ، «مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ غَدَاءٍ، وَعَشَاءٍ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه swore by Allāh that the Messenger of Allāh ﷺ never satiated from morning and evening meals until he met Allāh the Mighty and Majestic. > **"He never satiated from morning and evening meals until he met Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ نے ( کبھی بھی ایک ہی دن میں ) صبح اور رات کا کھانا سیر ہو کر نہیں کھایا ، یہاں تک کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔

18244

Majma al-Zawaid #18244

وَعَنْ عَثْمَةَ الْجُهَنِيِّ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنَّهُ لَيَسُوءُنِي الَّذِي أَرَى بِوَجْهِكَ، وَعَمَّا هُوَ؟ قَالَ: فَنَظَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِوَجْهِ الرَّجُلِ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ: "" الْجُوعُ "". فَخَرَجَ الرَّجُلُ يَعْدُو، أَوْ شَبِيهًا بِالْعَدْوِ، حَتَّى أَتَى بَيْتَهُ، فَالْتَمَسَ عِنْدَهُمُ الطَّعَامَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَخَرَجَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ فَأَجَّرَ نَفْسَهُ عَلَى كُلِّ دَلْوٍ يَنْزِعُهَا بِتَمْرَةٍ، حَتَّى جَمَعَ حَفْنَةً أَوْ كَفًّا مِنْ تَمْرٍ، ثُمَّ رَجَعَ بِالتَّمْرِ حَتَّى وَجَدَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَجْلِسِهِ لَمْ يَرُمْ فَوَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَقَالَ: كُلْ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا التَّمْرُ؟ "". فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنِّي لَأَظُنُّكَ تُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ "". قَالَ: أَجَلْ. وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، لَأَنْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي، وَوَلَدِي، وَأَهْلِي، وَمَالِي، قَالَ: "" أَمَّا لَا فَاصْطَبِرْ لِلْفَاقَةِ، وَأَعِدَّ لِلْبَلَاءِ تَجْفَافًا ; فَوَالَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ، لَهُمَا إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي أَسْرَعُ مِنْ هُبُوطِ الْمَاءِ مِنْ رَأْسِ الْجَبَلِ إِلَى أَسْفَلِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿUthmah al-Juhanī رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ came out to them one day and a man of the Anṣār met him saying it grieves him to see his face changed and asking the cause. The Prophet ﷺ looked at the man a while then said hunger. The man hurried home, found no food, went to Banū Qurayẓah and hired himself for a date per bucket drawn until he gathered a handful of dates. He returned to find the Prophet ﷺ still in his gathering, placed them before him and said eat, O Messenger of Allāh. The Prophet ﷺ asked whence the dates came, and when told said he deemed him to love Allāh and His Messenger. The man swore by Him Who sent him with the truth that he is dearer to him than himself, his child, his family and his wealth. He then told him to endure poverty with patience and prepare armour against trial, for by Him Who sent him with the truth, they hasten to whoever loves him faster than water descends from a mountaintop to its foot. > **"Endure poverty with patience and prepare armour against trial, for by Him Who sent me with the truth, they hasten to whoever loves me faster than water descends from a mountaintop to its foot."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمہ جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے آپ کی ملاقات ہوئی ، اُس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کے چہرے کی جو کیفیت ہے وہ مجھے اچھی نہیں لگ رہی ہے ، اس کی وجہ کیا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے لمحے بھر کے لئے اس شخص کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا : بھوک ، وہ شخص دوڑتا ہوا یا دوڑنے کے قریب تیزی سے چلتا ہوا گیا اور اپنے گھر آیا ، اُس نے اپنے گھر میں کھانے کے لئے کوئی چیز تلاش کی ، اُسے کوئی چیز نہیں ملی ، وہ بنو قریظہ کے محلے کی طرف گیا اور ایک کھجور کے عوض میں پانی کا ایک ڈول نکالنے کی مزدوری کی ، یہاں تک کے اس کے پاس مٹھی بھر کھجوریں اکٹھی ہو گئیں ، تو وہ اُن کھجوروں کو لے کر واپس آیا ، یہاں تک کہ اس نے نبی اکرم ﷺ کو پایا کہ آپ ﷺ اُسی محفل میں تشریف فرما تھے اور اُٹھے نہیں تھے ، اُس نے وہ کھجوریں نبی اکرم ﷺ کے آگے رکھ دیں اور عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کھائیے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں یہ کھجوریں کہاں سے ملی ہیں ؟ اُس نے آپ کو صورتحال کے بارے میں بتایا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتے ہو ، اس نے عرض کی : جی ہاں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ معبوث کیا ہے ، آپ میرے نزدیک میری اپنی جان ، میری اولاد ، میرے اہل خانہ اور میرے مال سے زیادہ محبوب ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر ایسا ہے تو تم فاقہ پر صبر کرنا اور آزمائش کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا ، اُس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، یہ دونوں مجھ سے محبت رکھنے والے کی طرف اس سے زیادہ تیزی سے آتے ہیں ، جتنی تیزی سے پہاڑ کے سرے سے پانی اُس کے نچلے حصے کی طرف جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

18245

Majma al-Zawaid #18245

«وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَرَأَيْتُهُ مُتَغَيِّرًا، فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ، مَا لِي أَرَاكَ مُتَغَيِّرًا؟! قَالَ: "" مَا دَخَلَ جَوْفِي مَا يَدْخُلُ جَوْفَ ذَاتِ كَبِدٍ مُنْذُ ثَلَاثٍ "". قَالَ: فَذَهَبْتُ فَإِذَا يَهُودِيٌّ يَسْقِي إِبِلًا لَهُ، فَسَقَيْتُ لَهُ عَلَى كُلِّ دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ، فَجَمَعْتُ تَمْرًا، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مِنْ أَيْنَ لَكَ يَا كَعْبُ؟ "". فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتُحِبُّنِي يَا كَعْبُ؟ "". قُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ، نَعَمْ. قَالَ: "" إِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مَعَادِنِهِ، وَإِنَّهُ سَيُصِيبُكَ بَلَاءٌ فَأَعِدَّ لَهُ تَجْفَافًا "". قَالَ: فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا فَعَلَ كَعْبٌ؟ "". قَالُوا: مَرِيضٌ، فَخَرَجَ يَمْشِي حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَقَالَ: "" أَبْشِرْ يَا كَعْبُ "". فَقَالَتْ أُمُّهُ: هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ يَا كَعْبُ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ هَذِهِ الْمُتَأَلِّيَةُ عَلَى اللَّهِ؟ "". قُلْتُ: هِيَ أُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" وَمَا يُدْرِيكِ يَا أُمَّ كَعْبٍ؟ لَعَلَّ كَعْبًا قَالَ مَا لَا يَنْفَعُهُ، وَمَنَعَ مَا لَا يُغْنِيهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn ʿUjrah رضي الله عنه reported that he came to the Prophet ﷺ and saw him changed, asking why he appeared changed. He said nothing that enters the belly of a living creature had entered his belly for three days. He went and found a Jew watering his camels, drew water for a date per bucket until he gathered dates, and brought them to the Prophet ﷺ. When asked whence they came and told, the Prophet ﷺ asked whether he loves him, and he said yes at the cost of his father. He told him poverty hastens to whoever loves him faster than a flood to its course, and trial shall befall him so let him prepare armour. Later the Prophet ﷺ missed him, was told he was ill, walked to visit him and said rejoice, O Kaʿb. His mother said congratulations, Paradise, O Kaʿb, so the Prophet ﷺ asked who is this woman swearing upon Allāh. When told she is his mother, he asked what makes her know, O mother of Kaʿb, for perhaps Kaʿb said what does not benefit him and withheld what would not suffice him. > **"Poverty hastens to whoever loves me faster than a flood to its course, and trial shall befall you so prepare armour for it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کو متغیر دیکھا ، میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، کیا وجہ ہے ؟ میں آپ کو متغیر دیکھ رہا ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : پچھلے تین دن سے میرے پیٹ میں کوئی ایسی چیز نہیں گئی جو کسی جاندار کے پیٹ میں جا سکتی ہو ، راوی کہتے ہیں : میں گیا ، ایک یہودی اپنے اونٹ کو پانی پلا رہا تھا میں نے ایک ڈول کے عوض میں ایک کجھور کے معاوضے کے تحت اسے پانی نکال کر دیا ، یہاں تک کہ جب میں نے کھجوریں جمع کر لیں ، تو میں انہیں لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے کعب ! یہ تمہیں کہاں سے ملی ہیں ؟ میں نے آپ کو بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے کعب ! کیا تم مجھ سے محبت رکھتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میرے والد آپ پر قربان ہوں ، جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مجھ سے محبت رکھنے والے کی طرف فقر اس سے زیادہ تیزی سے آتا ہے جتنی تیزی سے سیلاب اپنے معادن کی طرف بڑھتا ہے ، عنقریب تمہیں آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑے گا ، تو تم ان کے لیے تیار رہنا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں غیر موجود پایا تو دریافت کیا : کعب کا کیا حال ہے ؟ لوگوں نے بتایا : وہ بیمار ہیں ، نبی اکرم ﷺ پیدل تشریف لے گئے اور ان کے پاس آئے ، آپ ﷺ نے فرمایا : اے کعب ! تم خوش خبری قبول کرو ، ان کی والدہ نے کہا : اے کعب ! تمہیں جنت کی مبارکباد ہو ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ خاتون کون ہے ؟ جو اللہ تعالیٰ کی طرف ایک بات منسوب کر رہی ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میری والدہ ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ام کعب ! ہو سکتا ہے کہ کعب نے کوئی ایسی بات کی ہو جس کا اسے نفع نہ ہو ، اور ایسی چیز نہ دی ہو جس کی اسے ضرورت نہیں تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

18246

Majma al-Zawaid #18246

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: خَرَجْتُ فِي غَدَاةٍ شَاتِيَةٍ جَائِعًا، وَقَدْ أَوْبَقَنِي الْبَرْدُ، فَأَخَذْتُ ثَوْبًا مِنْ صُوفٍ قَدْ كَانَ عِنْدَنَا، ثُمَّ أَدْخَلْتُهُ فِي عُنُقِي، وَحَزَّمْتُهُ عَلَى صَدْرِي أَسْتَدْفِئُ بِهِ، وَاللَّهِ، مَا فِي بَيْتِي شَيْءٌ آكُلُ مِنْهُ، وَلَا كَانَ فِي بَيْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْءٌ يُبَلِّغُنِي ; فَخَرَجْتُ فِي بَعْضِ نَوَاحِي الْمَدِينَةِ، فَانْطَلَقْتُ إِلَى يَهُودِيٍّ فِي حَائِطٍ، فَاطَّلَعْتُ عَلَيْهِ مِنْ ثُغْرَةِ جِدَارِهِ، فَقَالَ: مَا لَكَ يَا أَعْرَابِيُّ؟ هَلْ لَكَ فِي دَلْوٍ بِتَمْرَةٍ؟ قُلْتُ: نَعَمْ. افْتَحْ لِيَ الْحَائِطَ، فَفَتَحَ لِي فَدَخَلْتُ، فَجَعَلْتُ أَنْزِعُ الدَّلْوَ وَيُعْطِينِي تَمْرَةً، حَتَّى مَلَأْتُ كَفَّيَّ. قُلْتُ: حَسْبِي مِنْكَ الْآنَ، فَأَكَلْتُهُنَّ، ثُمَّ جَرَعْتُ مِنَ الْمَاءِ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فِي الْمَسْجِدِ، وَهُوَ فِي عِصَابَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَطَلَعَ عَلَيْنَا مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ فِي بُرْدَةٍ لَهُ مَرْقُوعَةٍ بِفَرْوَةٍ، وَكَانَ أَنْعَمَ غُلَامٍ بِمَكَّةَ، وَأَرْفَهَهُ عَيْشًا، فَلَمَّا رَآهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ مَا كَانَ فِيهِ مِنَ النَّعِيمِ، وَرَأَى حَالَهُ الَّتِي هُوَ عَلَيْهَا فَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَبَكَى، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ إِذَا غُدِيَ عَلَى أَحَدِكُمْ بِحَفْنَةٍ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ، وَرِيحَ عَلَيْهِ بِأُخْرَى، وَغَدَا فِي حُلَّةٍ وَرَاحَ فِي أُخْرَى، وَسَتَرْتُمْ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ؟ "". قُلْنَا: بَلْ نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ ; نَتَفَرَّغُ لِلْعِبَادَةِ. قَالَ: "" بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ بَعْضَهُ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reported that he went out on a cold hungry morning, chilled by cold, wrapped a woollen garment he had about his neck and chest for warmth. By Allāh there was nothing in his house to eat nor in the house of the Prophet ﷺ to sustain him. He went to the outskirts of Madīnah to a Jew in a garden, peered through a breach, and was offered a date per bucket. He agreed, entered, drew buckets for dates till his palms filled, said enough, ate them, drank water, then came to the Messenger of Allāh ﷺ in the mosque among his Companions. Then Muṣʿab ibn ʿUmayr appeared in a patched cloak, though he had been the most pampered youth of Makkah in comfort. When the Prophet ﷺ saw him, he recalled his former bliss and beheld his present state, and his eyes overflowed with tears. Then he asked whether they are better today or when each is served a handful of bread and meat morning and evening, robed morning and evening, and their houses veiled as the Kaʿbah is veiled. They said they would be better then, free for worship. He said rather they are better today. > **"Are you better today, or when each of you is served bread and meat morning and evening, robed morning and evening, and your houses are veiled as the Kaʿbah is veiled? Rather you today are better."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ایک سرد صبح میں باہر نکلا ، میں اس وقت بھوکا تھا اور سردی کی شدت سے میرا برا حال تھا ، میں نے اپنے پاس موجود اونی کپڑا لیا تھا اور اسے اپنی گردن پر لپیٹ کر سینے پر لپیٹ لیا تھا ، تاکہ اس کے ذریعے مجھے گرمائش حاصل ہو ، اللہ کی قسم ! میرے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی ، جسے میں کھا سکتا اور نبی اکرم ﷺ کے گھر میں بھی کوئی چیز نہیں تھی جو آپ میری طرف بھجوا دیتے ، میں نکل کر مدینہ منورہ کے نواحی علاقے کی طرف گیا ، میں ایک یہودی کے باغ میں اس کے پاس آیا میں نے دیوار کے شگاف میں سے جھانک کر دیکھا تو اُس نے کہا : اے دیہاتی ! تمہیں کیا کام ہے ؟ کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو کہ ایک کھجور کے عوض میں پانی کا ایک ڈول نکال دو ؟ میں نے کہا : ٹھیک ہے ، تم میرے لیے باغ کا دروازہ کھولو ، اُس نے میرے لئے دروازہ کھولا ، میں اندر داخل ہوا ، میں ایک ڈول نکالتا تھا اور وہ مجھے ایک کھجور دے دیتا تھا ، یہاں تک کہ میری ہتھیلی بھر گئی ، میں نے کہا : میرے لئے اتنا کافی ہے ، میں نے انہیں کھایا ، پھر میں نے پانی پیا ، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آ گیا اور مسجد میں آپ کے پاس بیٹھ گیا ، آپ اس وقت اپنے چند صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ہمراہ موجود تھے ، اسی دوران مصعب بن عمیر ہمارے سامنے آئے ، انہوں نے چادر اوڑھی ہوئی تھی جس پر پیوند لگے ہوئے تھے ، حالانکہ مکہ میں وہ سب سے زیادہ ناز و نعمت میں رہنے والے اور سب سے زیادہ خوشگوار زندگی گزارنے والے نوجوان تھے ، جب نبی اکرم ﷺ نے انہیں ملاحظہ کیا تو آپ کو یہ خیال آ گیا کہ وہ پہلے کس طرح کی نعمتوں میں رہتے تھے اور اب ان کا کیا حال ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور آپ رونے لگے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ آج زیادہ بہتر ہو یا ( کل ) اُس وقت ( زیادہ بہتر ) ہو گے جب تم میں سے کسی ایک کے پاس صبح کے وقت روٹی اور گوشت کا ایک پیالہ لایا جائے گا اور شام کے وقت دوسرا پیالہ لایا جائے گا ، وہ صبح کے وقت ایک حلہ پہنے گا اور شام کے وقت دوسرا پہنے گا ، اور تم اپنے گھروں پر یوں پردے لٹکاؤ گے جس طرح خانہ کعبہ پر لٹکائے جاتے ہیں ۔‘‘ ہم نے عرض کی : ہم اُس وقت بہترین حالت میں ہوں گے ، کیونکہ ہم عبادت کے لئے فارغ ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ تم آج زیادہ بہتر حالت میں ہو ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18247

Majma al-Zawaid #18247

«وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ نَظَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَتْهُ قَدْ وَضَعَ حَجَرًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ إِزَارِهِ ; يُقِيمُ بِهِ صُلْبَهُ مِنَ الْجُوعِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه reported that on the day of the Trench he looked at the Messenger of Allāh ﷺ and found him with a stone placed between himself and his waist-wrapper, holding his back upright from hunger. > **"He had placed a stone between himself and his waist-wrapper, holding his back upright from hunger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ خندق کے موقع پر میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا آپ نے اپنے جسم اور اپنے تہبند کے درمیان ایک پتھر رکھا ہوا تھا ، آپ بھوک کے عالم میں اس کے ذریعے اپنے پشت کو سیدھا رکھ رہے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، اگرچہ اسماعیل بن عبدالملک میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

18248

Majma al-Zawaid #18248

«وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجْتُ فَأَتَيْتُ حَائِطًا. قَالَ: فَقَالَ: دَلْوٌ بِتَمْرَةٍ، قَالَ: فَدَلَّيْتُ حَتَّى مَلَأْتُ كَفَّيَّ، ثُمَّ أَتَيْتُ الْمَاءَ فَاسْتَعْذَبْتُ - يَعْنِي شَرِبْتُ - ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَطْعَمْتُهُ نِصْفَهُ، وَأَكَلْتُ نِصْفَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا إِلَّا أَنَّ مُجَاهِدًا لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَلِيٍّ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī رضي الله عنه reported that he went out to a garden where he was offered a date per bucket. He drew till his palms filled, drank sweet water, then came to the Prophet ﷺ, feeding him half and eating half himself. > **"He drew till his palms filled, then fed the Prophet ﷺ half and ate half himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نکلا اور ایک باغ میں آیا ، اس شخص نے کہا : ایک کھجور کے عوض میں ایک ڈول نکالنا ہو گا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں ڈول نکالتا رہا ، یہاں تک کہ میری ہتھیلی ( کھجوروں سے ) بھر گئی ، پھر میں پانی کے پاس آیا اور میں نے پانی پیا ، پھر میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے نصف کھجوریں آپ کو پیش کیں اور نصف کھجوریں میں نے کھا لیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ مجاہد نامی راوی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ۔

18249

Majma al-Zawaid #18249

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: «مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ عُبَيْدٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه reported that the family of Muḥammad ﷺ never satiated with seasoned wheat bread till he passed on his way ﷺ. > **"The family of Muḥammad ﷺ never satiated with seasoned wheat bread till he passed on his way."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت محمد ﷺ کی آل نے کبھی گندم کی روٹی ، سالن کے ساتھ سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن عبید ہے اور وہ متروک ہے ۔

18250

Majma al-Zawaid #18250

«وَعَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ: كُنْتُ بِالْإِسْكَنْدَرِيَّةِ عِنْدَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، فَذَكَرُوا مَا هُمْ فِيهِ مِنَ الْعَيْشِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الصَّحَابَةِ: لَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا شَبِعَ أَهْلُهُ مِنَ الْخُبْزِ الْغَلِيثِ». قَالَ مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ: يَعْنِي الشَّعِيرَ وَالسُّلْتَ إِذَا خُلِطَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUlayy ibn Rabāḥ reported that he was at Alexandria with ʿAmr ibn al-ʿĀṣ when they mentioned their livelihood, and a man of the Companions said the Messenger of Allāh ﷺ passed away while his family never satiated with ghalīth bread, meaning barley and sult mixed together. > **"He passed away while his family never satiated with ghalīth bread."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن رباح بیان کرتے ہیں : میں ’’ اسکندریہ ‘‘ میں حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، لوگوں نے اس بات کا ذکر چھیڑ دیا کہ وہ کس طرح کی صورتحال میں رہ رہے ہیں ؟ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک صاحب نے کہا : ’’ نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا اور آپ کے اہل خانہ نے غلیث ( یعنی گندم اور جو کو ملا کر بنائی گئی ) روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی ۔‘‘ موسیٰ بن علی کہتے ہیں : اس سے مراد جو اور سلت ( یہ بھی جو کی ایک قسم ہے ، جس میں چھلکا نہیں ہوتا اور یہ گندم کے مشابہ ہوتا ہے ) کو ملا کر ( روٹی پکانا ہے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18251

Majma al-Zawaid #18251

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ يَمُرُّ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هِلَالٌ ثُمَّ هِلَالٌ لَا يُوقَدُ فِي شَيْءٌ مِنَ بُيُوتِهِمُ النَّارُ، لَا لِخَبْزٍ، وَلَا لِطَبِيخٍ. قَالُوا: بِأَيِّ شَيْءٍ كَانُوا يَعِيشُونَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: الْأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ، وَالْمَاءُ. وَكَانَ لَهُمْ جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ - جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرًا - لَهُمْ مَنَائِحُ، يُرْسِلُونَ إِلَيْهِمْ شَيْئًا مِنْ لَبَنٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that crescent after crescent would pass over the family of the Messenger of Allāh ﷺ with no fire kindled in any of their houses, neither for bread nor cooking. When asked how they lived, he said by the two black ones, dates and water. They had neighbours of the Anṣār, may Allāh reward them well, with milch animals who would send them some milk. > **"Crescent after crescent would pass with no fire kindled in any of their houses. They lived by the two black ones, dates and water."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے گھر والوں پر پہلی کا ایک چاند آتا تھا ، پھر پہلی کا ایک اور چاند آ جاتا تھا اور اس دوران ان کے گھروں میں آگ نہیں جلائی گئی ہوتی تھی ، نہ روٹی پکانے کے لیے نہ کچھ اور پکانے کے لئے ۔ لوگوں نے دریافت کیا : اے حضرت ابوہریرہ ! پھر وہ لوگ گزارا کیسے کرتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : دو سیاہ چیزوں کے ذریعے ، یعنی کھجور اور پانی ، یا پھر یہ ہوتا تھا کہ ان کے انصاری پڑوسی تھے ، اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے ، ان کے جانور ہوتے تھے ، تو وہ کچھ دودھ ان کو ( یعنی نبی اکرم ﷺ کے گھر والوں کو ) بھجوا دیتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، امام بزار نے بھی یہ اسی طرح نقل کی ہے ۔

18252

Majma al-Zawaid #18252

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمِ وَجِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَلَى الصَّفَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا جِبْرِيلُ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا أَمْسَى لِآلِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سُفَّةٌ مِنْ دَقِيقٍ، وَلَا كَفٌّ مِنْ سَوِيقٍ "". فَلَمْ يَكُنْ كَلَامُهُ بِأَسْرَعَ مِنْ أَنْ سَمِعَ هَدَّةً مِنَ السَّمَاءِ أَفْزَعَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَرَ اللَّهُ الْقِيَامَةَ أَنْ تَقُومَ؟ "". قَالَ: لَا. وَلَكِنْ أَمَرَ اللَّهُ إِسْرَافِيلَ، فَنَزَلَ إِلَيْكَ حِينَ سَمِعَ كَلَامَكَ، فَأَتَاهُ إِسْرَافِيلُ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ سَمِعَ مَا ذَكَرْتَ، فَبَعَثَنِي بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْرِضَ عَلَيْكَ أُسَيِّرُ مَعَكَ جِبَالَ تِهَامَةَ زُمُرُّدًا، وَيَاقُوتًا، وَذَهَبًا، وَفِضَّةً فَعَلْتُ، فَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا مَلِكًا، وَإِنْ شِئْتَ نَبِيًّا عَبْدًا؟ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ جِبْرِيلُ أَنْ تَوَاضَعْ، فَقَالَ: "" بَلْ نَبِيًّا عَبْدًا» "". ثَلَاثًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ was one day with Jibrīl عليه السلام upon al-Ṣafā, and told him by Him Who sent him with the truth that the family of Muḥammad had neither a handful of flour nor a handful of sawīq by evening. No sooner had he spoken than he heard a rumble from heaven that startled him, and asked whether Allāh had commanded the Resurrection to rise. Jibrīl said no, but Allāh commanded Isrāfīl who descended upon hearing his words. Isrāfīl came and said Allāh heard what he mentioned and sent him with the keys of the treasuries of the earth, commanding him to offer to drive the mountains of Tihāmah with him as emerald, ruby, gold and silver if he wished, whether as a king-prophet or a servant-prophet. Jibrīl gestured to be humble, so he said a servant-prophet, thrice. > **"Rather a servant-prophet."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام صفا پہاڑی پر موجود تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے جبرائیل ! اس ذات کی قسم ! جس نے تمہیں حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، محمد ( ﷺ ) کے گھر والوں کے پاس نہ مٹھی بھر آٹا ہے اور نہ مٹھی بھر جو ہیں ، ابھی نبی اکرم ﷺ نے یہ بات کی ہی تھی کہ آسمان سے ایک گونج سنائی دی ، جس سے آپ پریشان ہو گئے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا اللہ تعالی نے قیامت کو قائم ہونے کا حکم دے دیا ہے ؟ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جی نہیں ! لیکن جب اللہ تعالیٰ نے آپ کا کلام سنا تو اس نے حضرت اسرافیل علیہ السلام کو حکم دیا تو وہ اتر کر آپ کی طرف آ رہے ہیں ، پھر حضرت اسرافیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : آپ نے جو بات کہی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اسے سن لیا ہے اور اس نے مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دے کر بھیجا ہے اور اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں آپ کے سامنے یہ پیشکش رکھوں ( کہ اگر آپ چاہیں ) تو میں تہامہ کے پہاڑوں کو زمرد ، یاقوت ، سونے اور چاندی کا بنا کر آپ کے ساتھ چلاؤں ، تو میں ایسا کر لیتا ہوں ، اگر آپ چاہیں ، تو بادشاہ نبی بن جائیں اور اگر آپ چاہیں تو عبد نبی بن جائیں ، تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپ کو اشارہ کیا کہ آپ تواضع اختیار کریں ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ میں ’’ عبد نبی ‘‘ ( بننا پسند کروں گا ) یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18253

Majma al-Zawaid #18253

وَعَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَقُولُ: «لَقَدْ أَصْبَحْتُمْ وَأَمْسَيْتُمْ تَرْغَبُونَ فِيمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزْهَدُ فِيهِ، أَصْبَحْتُمْ تَرْغَبُونَ فِي الدُّنْيَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَزْهَدُ فِيهَا، وَاللَّهِ مَا أَتَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةٌ مِنْ دَهْرِهِ إِلَّا كَانَ الَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ. قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: قَدْ رَأَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَلِفُ». وَقَالَ غَيْرُ يَحْيَى: «وَاللَّهِ، مَا مَرَّ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةٌ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا وَالَّذِي عَلَيْهِ أَكْثَرُ مِنَ الَّذِي لَهُ».

EnglishUnverified translation

ʿUlayy ibn Rabāḥ reported that he heard ʿAmr ibn al-ʿĀṣ say they morning and evening desire what the Messenger of Allāh ﷺ renounced, desiring this world while he renounced it. By Allāh no night of his life passed but what he owed exceeded what he owned. Some Companions of the Messenger of Allāh ﷺ said they saw him borrow. In another wording, no three days passed but what he owed exceeded what he owned. > **"You morning and evening desire what the Messenger of Allāh ﷺ renounced. No night passed but what he owed exceeded what he owned."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن رباح بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ آج تم صبح اور شام ایسی حالت میں کرتے ہو کہ اپنی دلچسپی کی چیز حاصل کر لیتے ہو ، اس ( دنیا ) میں سے جس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے زہد کا طریقہ اختیار کیا تھا ، تم ایسی حالت میں صبح کرتے ہو کہ تم دنیا میں رغبت رکھتے ہو ، اور نبی اکرم ﷺ دنیا سے بے رغبتی اختیار کرتے تھے ، اللہ کی قسم ! نبی اکرم ﷺ پر جو بھی رات آئی ، تو اس میں یہ صورتحال ہوتی کہ آپ کو جو ملنا ہوتا تھا آپ کے ذمہ اس سے زیادہ ہوتا تھا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بتایا : ہم نے نبی اکرم ﷺ کو اُدھار لیتے ہوئے دیکھا ہے ۔ یحیی کے علاوہ دیگر راویوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : نبی اکرم ﷺ پر کبھی بھی تین دن ایسے نہیں گزرے مگر یہ کہ جو آپ کو ملنا ہوتا تھا آپ کے ذمہ اس سے زیادہ ہوتا تھا ۔

18254

Majma al-Zawaid #18254

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ عَمْرٍو أَيْضًا أَنَّهُ قَالَ: «مَا أَبْعَدَ هَدْيَكُمْ مِنْ هَدْيِ نَبِيِّكُمْ، أَمَّا هُوَ فَكَانَ أَزْهَدَ النَّاسِ فِي الدُّنْيَا، وَأَمَّا أَنْتُمْ فَأَرْغَبُ النَّاسِ فِيهَا». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَى حَدِيثَ عَمْرٍو فَقَطْ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a narration from ʿAmr رضي الله عنه, he said how far is their guidance from the guidance of their Prophet, for he was the most renunciant of people in this world while they are the most desirous of it. > **"How far is your guidance from the guidance of your Prophet? He was the most renunciant of people in this world, while you are the most desirous of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ تمہارا طریق کار تمہارے نبی کے طریق کار سے کتنا دور ہے ؟ نبی اکرم ﷺ دنیا سے سب سے زیادہ بے رغبت تھے اور تم لوگ دنیا کی طرف سب سے زیادہ راغب ہو ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ، امام طبرانی نے صرف حضرت عمرو رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18255

Majma al-Zawaid #18255

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعْجِبُهُ مِنَ الدُّنْيَا ثَلَاثَةٌ: الطَّعَامُ، وَالنِّسَاءُ، وَالطِّيبُ، فَأَصَابَ ثِنْتَيْنِ، وَلَمْ يُصِبْ وَاحِدَةً، أَصَابَ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ، وَلَمْ يُصِبِ الطَّعَامَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that three things of this world pleased the Messenger of Allāh ﷺ: food, women and perfume. He obtained two and did not obtain one; he obtained women and perfume and did not obtain food. > **"He obtained women and perfume and did not obtain food."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کو دنیا میں سے تین چیزیں پسند تھیں ، کھانا ، خواتین اور خوشبو ، ان میں سے دو چیزیں آپ کو مل گئیں اور ایک چیز نہیں ملی ، خواتین اور خوشبو آپ کو مل گئیں اور کھانا آپ کو نہیں ملا ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18256

Majma al-Zawaid #18256

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا أَصَبْنَا مِنْ دُنْيَاكُمْ هَذِهِ إِلَّا نِسَاءَكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ مِنْ رِوَايَةِ زَكَرِيَّا بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ said they obtained nothing of this world of theirs except their women. > **"We obtained nothing of this world of yours except your women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہاری دنیا میں سے ہمیں صرف صرف خواتین ملی ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن ابراہیم ہے اس نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی ہے اور میں ان دونوں ( یعنی زکریا اور اس کے والد ) سے واقف نہیں ہوں ۔

18257

Majma al-Zawaid #18257

«وَعَنْ فَاطِمَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَاهَا يَوْمًا فَقَالَ: "" أَيْنَ أَبْنَائِي؟ "". - يَعْنِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا -. قَالَتْ: أَصْبَحْنَا وَلَيْسَ فِي بَيْتِنَا شَيْءٌ يَذُوقُهُ ذَائِقٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَذْهَبُ بِهِمَا ; فَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ يَبْكِيَا عَلَيْكِ وَلَيْسَ عِنْدَكِ شَيْءٌ، فَذَهَبَ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ. فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدَهُمَا يَلْعَبَانِ فِي شَرِيَّةٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا فَضْلٌ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ: "" يَا عَلِيُّ، أَلَا تَقْلِبُ ابْنَيَّ قَبْلَ أَنْ يَشْتَدَّ عَلَيْهِمَا الْحَرُّ؟ "". قَالَ عَلِيٌّ: أَصْبَحْنَا وَلَيْسَ فِي بَيْتِنَا شَيْءٌ، فَلَوْ جَلَسْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَتَّى أَجْمَعَ لِفَاطِمَةَ تَمَرَاتٍ. فَجَلَسَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى اجْتَمَعَ لِفَاطِمَةَ شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ، فَجَعَلَهُ فِي صُرَّتِهِ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَحَمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَدَهُمَا، وَعَلِيٌّ الْآخَرَ حَتَّى أَقْلَبَهُمَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Fāṭimah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allāh ﷺ came to her one day asking where are my two sons, meaning Ḥasan and Ḥusayn. She said they woke with nothing in the house for any taster, so ʿAlī said he would take them fearing they weep before her with nothing at hand, and went to a certain Jew. The Prophet ﷺ set out to him and found them playing in a heap with surplus dates before them. He said O ʿAlī, will you not bring back my two sons before the heat intensifies upon them. ʿAlī said they woke with nothing, so had he sat a while he would gather some dates for Fāṭimah. The Prophet ﷺ sat till some dates were gathered for Fāṭimah, placed in his bundle, then the Prophet ﷺ carried one and ʿAlī the other till they brought them back. > **"O ʿAlī, will you not bring back my two sons before the heat intensifies upon them?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : میرے دونوں بیٹے کہاں ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ کی مراد حسن اور حسین تھے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی : ہم نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ ہمارے گھر میں کوئی ایسی چیز نہیں تھی ، جسے کوئی چکھنے والا چکھ سکتا ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ان دونوں کو لے جاتا ہوں کیونکہ مجھے یہ اندیشہ ہے کہ یہ دونوں تمہارے سامنے روئیں گے اور تمہارے پاس کوئی چیز نہیں ہے ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ فلاں یہودی کی طرف گئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ اس طرف چلے گئے آپ نے ان دونوں کو پایا کہ وہ دونوں کھیل رہے تھے ، ان کے آگے اضافی کھجوریں پڑی ہوئی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے علی ! کیا تم میرے دونوں بیٹوں کو گرمی شدید ہونے سے پہلے واپس نہیں لے جاؤ گے ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ ہمارے گھر میں کوئی چیز نہیں تھی یا رسول اللہ ! اگر آپ تشریف فرما رہیں ، تاکہ میں فاطمہ کے لئے بھی کچھ کھجوریں اکٹھی کر لوں ، تو نبی اکرم ﷺ تشریف فرما ہو گئے یہاں تک کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لئے کچھ کھجوریں اکٹھی کیں اور انہیں تھیلی میں ڈال لیا ، پھر وہ آئے تو ان دونوں میں سے ایک کو نبی اکرم ﷺ نے اٹھا لیا اور دوسرے کو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اٹھا لیا اور ان دونوں کو لے کر آ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18258

Majma al-Zawaid #18258

وَعَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ بِلَالًا أَبْطَأَ عَنْ صَلَاةِ الصُّبْحِ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا حَبَسَكَ؟ "". قَالَ: مَرَرْتُ بِفَاطِمَةَ وَهِيَ تَطْحَنُ وَالصَّبِيُّ يَبْكِي، فَقُلْتُ لَهَا: إِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الرَّحَا، وَكَفَيْتِنِي الصَّبِيَّ، وَإِنْ شِئْتِ كَفَيْتُكِ الصَّبِيَّ، وَكَفَيْتِنِي الرَّحَا؟ قَالَتْ: أَنَا أَرْفَقُ بِابْنِي مِنْكَ، فَذَاكَ حَبَسَنِي. فَقَالَ: "" رَحِمْتَهَا - رَحِمَكَ اللَّهُ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا هَاشِمٍ صَاحِبَ الزَّعْفَرَانِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَنَسٍ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that Bilāl was late for dawn prayer, and the Prophet ﷺ asked what detained him. He said he passed by Fāṭimah grinding while the child wept, offered to suffice her the millstone if she sufficed him the child or vice versa. She said she is gentler with her son than him, and that detained him. He said may Allāh have mercy upon you for having mercy upon her. > **"You had mercy upon her, may Allāh have mercy upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو صبح کی نماز کے لیے آنے میں تاخیر ہو گئی ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے دریافت کیا : تمہیں کسی چیز نے روک لیا ؟ انہوں نے بتایا : میرا گزر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ( کے گھر ) کے پاس سے ہوا ، وہ چکی پیس رہی تھیں اور بچے رو رہے تھے ، میں نے کہا : آپ کی جگہ میں چکی پیس دیتا ہوں اور آپ بچے کو سنبھال لیں ، اور اگر آپ چاہیں تو میں بچے کو سنبھال لیتا ہوں اور آپ چکی پیس لیں ، انہوں نے کہا : اپنے بیٹے کے لئے میں تم سے زیادہ مہربان ہوں ( یعنی میں بچے کو سنبھال لیتی ہوں ، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے بتایا : ) تو اس وجہ سے مجھے دیر ہو گئی تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم نے اس پر رحم کیا ، اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ ابوهاشم نامی راوی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔

18259

Majma al-Zawaid #18259

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «سَمِعَ عَمَرَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ يَوْمًا عِنْدَ الظَّهِيرَةِ فَوَجَدَ أَبَا بَكْرٍ فِي الْمَسْجِدِ جَالِسًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَخْرَجَكَ فِي هَذِهِ السَّاعَةِ؟! "". قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَخْرَجَنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ الَّذِي أَخْرَجَكَ، ثُمَّ إِنْ عُمَرَ جَاءَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟! "". قَالَ: أَخْرَجَنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، الَّذِي أَخْرَجَكُمَا. فَقَعَدَ مَعَهُمَا، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحَدِّثُهُمَا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَلْ بِكُمَا مِنْ قُوَّةٍ فَتَنْطَلِقَانِ إِلَى هَذَا النَّخْلِ فَتُصِيبَانِ مِنْ طَعَامٍ وَشَرَابٍ؟ "". فَقُلْنَا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى أَتَيْنَا مَنْزِلَ مَالِكِ بْنِ التَّيِّهَانِ: أَبِي الْهَيْثَمِ الْأَنْصَارِيِّ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ أَيْدِينَا، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِمْ، وَأُمُّ أَبِي الْهَيْثَمِ تَسْمَعُ السَّلَامَ، تُرِيدُ أَنْ يَزِيدَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ السَّلَامِ. فَلَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَنْصَرِفَ خَرَجَتْ أُمُّ أَبِي الْهَيْثَمِ تَسْعَى فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ سَمِعْتُ سَلَامَكَ، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَزِيدَنَا مِنْ سَلَامِكَ. فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيْنَ أَبُو الْهَيْثَمِ؟ "". قَالَتْ: قَرِيبٌ ذَهَبَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ، ادْخُلُوا السَّاعَةَ يَأْتِي، فَبَسَطَتْ لَهُمْ بِسَاطًا تَحْتَ شَجَرَةٍ، حَتَّى جَاءَ أَبُو الْهَيْثَمِ مَعَ حِمَارِهِ، وَعَلَيْهِ قِرْبَتَانِ مِنْ مَاءٍ، فَفَرِحَ بِهِمْ أَبُو الْهَيْثَمِ، وَقَرُبَ يُحَيِّيهِمْ، فَصَعِدَ أَبُو الْهَيْثَمِ عَلَى نَخْلَةٍ فَصَرَمَ أَغْدَاقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" حَسْبُكَ يَا أَبَا الْهَيْثَمِ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَأْكُلُونَ مِنْ بُسْرِهِ، وَمِنْ رُطَبِهِ، وَتَذْنُوبِهِ، ثُمَّ أَتَاهُمْ بِمَاءٍ فَشَرِبُوا عَلَيْهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ "". ثُمَّ قَامَ أَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى شَاةٍ لِيَذْبَحَهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِيَّاكَ وَاللَّبُونَ "". ثُمَّ قَامَ أَبُو الْهَيْثَمِ فَعَجَنَ لَهُمْ. وَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ رُءُوسَهُمْ فَنَامُوا، فَاسْتَيْقَظُوا وَقَدْ أَدْرَكَ طَعَامُهُمْ، فَوَضَعَهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ ; فَأَكَلُوا وَشَبِعُوا. وَأَتَاهُمْ أَبُو الْهَيْثَمِ بِبَقِيَّةِ الْأَعْذَاقِ، فَأَصَابُوا مِنْهُ، وَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَعَا لَهُمْ بِخَيْرٍ، ثُمَّ قَالَ لِأَبِي الْهَيْثَمِ: "" إِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ قَدْ أَتَانَا رَقِيقٌ فَائْتِنَا "". قَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ: فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقِيقٌ أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسًا، فَكَاتَبْتُهُ عَلَى أَرْبَعِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَمَا رَأَيْتُ رَأْسًا كَانَ أَعْظَمَ بَرَكَةً مِنْهُ».

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that he heard ʿUmar say the Messenger of Allāh ﷺ went out one midday and found Abū Bakr sitting in the mosque. He asked what brought him at this hour, and he replied what brought thee. Then ʿUmar came and was asked the same, replying what brought them both. He sat with them and conversed, then asked whether they had strength to go to those palms for food and drink. They said yes, and set out to the house of Mālik ibn al-Tayyahān, Abū al-Haytham al-Anṣārī. The Messenger of Allāh ﷺ went ahead and sought permission, while the mother of Abū al-Haytham heard the greeting and wished him to increase it. When he turned to leave she hastened out saying she heard his greeting but wished more of it. He asked where is Abū al-Haytham, and she said he went to fetch sweet water; enter and he shall come. She spread a mat beneath a tree till Abū al-Haytham came with his donkey bearing two waterskins. He rejoiced, greeted, climbed a palm and cut clusters. The Messenger of Allāh ﷺ said enough, O Abā al-Haytham, but he said eat of its unripe, ripe and dried dates. Then he brought water and they drank. The Messenger of Allāh ﷺ said this is of the bliss they shall be asked about. Then Abū al-Haytham rose to slaughter a ewe, and the Messenger of Allāh ﷺ warned against the milch one. He kneaded for them, and the Messenger of Allāh ﷺ, Abū Bakr and ʿUmar laid their heads and slept till the food was ready, placed before them, and they ate to satiety. Abū al-Haytham brought the rest of the clusters and they partook. The Messenger of Allāh ﷺ greeted, supplicated good for them, then told Abū al-Haytham when captives come to approach him. > **"This is of the bliss you shall be asked about. Beware the milch one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : ( ایک مرتبہ ) نبی اکرم ﷺ دن چڑھے کے وقت گھر سے باہر تشریف لائے ، آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مسجد میں بیٹھے ہوئے پایا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم اس وقت کسی وجہ سے گھر سے باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں اُسی وجہ سے باہر آیا ہوں جس وجہ سے آپ باہر آئے ہیں ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے ابن خطاب ! تم اس وقت کس وجہ سے باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بھی اسی وجہ سے باہر آیا ہوں ، جس وجہ سے آپ دونوں باہر آئے ہیں ، پھر وہ ان دونوں کے ساتھ بیٹھ گئے ۔ نبی اکرم ﷺ اُن دونوں کے ساتھ بات چیت کرنے لگے ، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں سے فرمایا : کیا تم دونوں میں اتنی قوت ہے کہ تم دونوں اس باغ تک جا سکو ؟ وہاں کھانے اور پینے کے لئے کچھ مل جائے گا ، ہم نے عرض کی : ٹھیک ہے یا رسول اللہ ! پھر ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم حضرت مالک بن تیہان ابوالہیثم انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر آ گئے ، نبی اکرم ﷺ ہم سے آگے بڑھے ، آپ نے ان لوگوں سے اندر آنے کی اجازت طلب کی ، ابوالہیثم کی والدہ سلام کو سن رہی تھیں ، وہ یہ چاہتی تھیں کہ نبی اکرم ﷺ انہیں مزید سلام کریں ، جب نبی اکرم ﷺ نے واپس مڑنے کا ارادہ کیا تو ابوالہیثم کی والدہ دوڑتی ہوئی باہر آئیں ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کا سلام سن لیا تھا ، لیکن میں یہ چاہتی تھی کہ آپ کی طرف سے ہمارے لیے مزید سلام آئے ، نبی اکرم ﷺ نے اُس خاتون سے دریافت کیا : ابوالہیثم کہاں ہے ؟ اس خاتون نے جواب دیا : قریب ہی گئے ہیں ، یا رسول اللہ ! وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، آپ اندر آئیں وہ ابھی آ جائیں گے ، اس خاتون نے ایک درخت کے نیچے ان حضرات کے لئے ایک بچھونا بچھایا ، پھر حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اپنے گدھے کے ساتھ آ گئے ، اس گدھے پر پانی کے دو مشکیزے لدے ہوئے تھے ، حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ ان حضرات کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور انہیں آ کر سلام کیا ، پھر حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کھجور کے درخت پر چڑھے اور انہوں نے کچھ گچھے اتار لیے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ابوالہیثم ! اتنا کافی ہے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مختلف قسم کی کھجوریں کھائیں ، پھر وہ ان حضرات کے پاس پانی لے کر آئے ، ان حضرات نے وہ پانی پیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ نعمتیں ہیں ، جن کے بارے میں تم سے حساب لیا جائے گا ۔ پھر حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اٹھ کر بکری کی طرف بڑھے تاکہ اسے ذبح کریں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دودھ دینے والی نہ کرنا ، پھر حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اٹھے ، انہوں نے ان حضرات کے لیے آٹا گوندھا ، نبی اکرم ﷺ ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے سر رکھا اور سو گئے ، جب یہ حضرات بیدار ہوئے تو کھانا تیار ہو چکا تھا ، وہ انہوں نے ان حضرات کے سامنے رکھا تو ان حضرات نے سیر ہو کر کھانا کھایا ، پھر حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کھجوروں کے باقی گچھے لے آئے ، ان حضرات نے وہ کھائیں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے انہیں سلام کیا اور ان کے لیے دعائے خیر کی ، پھر آپ نے حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ سے فرمایا : جب تمہیں یہ اطلاع ملے کہ ہمارے پاس غلام آئے ہیں ، تو تم ہمارے پاس آنا ۔ حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے یہ اطلاع ملی کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس غلام آئے ہیں ، میں مدینہ منورہ آیا ، نبی اکرم ﷺ نے مجھے ایک غلام عطا کیا ، پھر میں نے اس کے ساتھ چالیس ہزار درہم کے عوض میں کتابت کا معاہدہ کیا ، میں نے اس سے زیادہ برکت والا کوئی وجود نہیں دیکھا ۔

18260

Majma al-Zawaid #18260

وَفِي رِوَايَةٍ: «قَالَتْ أُمُّ أَبِي الْهَيْثَمِ: لَوْ دَعَوْتَ لَنَا! قَالَ: "" أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ، وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارِ قِصَّةِ الْغُلَامِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كَذَلِكَ، وَفِي أَسَانِيدِهِمْ كُلِّهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيسَى: أَبُو خَلَفٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَالَ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ: أُمُّ الْهَيْثَمِ، وَقَالَ الْبَزَّارُ: أُمُّ أَبِي الْهَيْثَمِ.

EnglishUnverified translation

In a narration, the mother of Abū al-Haytham said had he but supplicated for them. He said fasters have broken fast with you, the righteous have eaten your food, and the angels have prayed upon you. > **"Fasters have broken fast with you, the righteous have eaten your food, and the angels have prayed upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ابوالہیثم کی والدہ نے کہا : اگر آپ ہمیں دعا دیں ( تو عنایت ہو گی ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : روزہ داروں نے تمہارے ہاں افطاری کی ہے ، نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا ہے اور فرشتوں نے تمہارے لئے دعائے رحمت کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اسے اختصار کے ساتھ غلام کے واقعے والا حصہ نقل کیا ہے ، یہ روایت امام طبرانی نے بھی اسی طرح نقل کی ہے ، ان سب کی اسانید میں ایک راوی عبداللہ بن عیسیٰ ابوخلف ہے اور وہ ضعیف ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے لفظ ’’ ام الہیثم ‘‘ نقل کیا ہے ، جبکہ امام بزار نے ’’ ابوالہیثم کی والدہ ‘‘ نقل کیا ہے ۔

18261

Majma al-Zawaid #18261

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ بِالْهَاجِرَةِ فَسَمِعَ بِذَاكَ عَمَرُ، فَخَرَجَ فَإِذَا هُوَ بِأَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟! فَقَالَ: أَخْرَجَنِي وَاللَّهِ، مَا أَجِدُ مِنْ حَاقِّ الْجُوعِ فِي بَطْنِي، فَقَالَ: أَنَا وَاللَّهِ، مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ. فَبَيْنَمَا هُمَا كَذَلِكَ إِذْ خَرَجَ عَلَيْهِمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟ "". فَقَالَا: أَخْرَجَنَا وَاللَّهِ، مَا نَجِدُ فِي بُطُونِنَا مَنْ حَاقِّ الْجُوعِ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" وَأَنَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، مَا أَخْرَجَنِي غَيْرُهُ "". فَقَامُوا فَانْطَلَقُوا حَتَّى أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، وَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ ذَكَرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَعَامًا أَوْ لَبَنًا، فَأَبْطَأَ يَوْمَئِذٍ فَلَمْ يَأْتِ لِحِينِهِ فَأَطْعَمَهُ أَهْلَهُ، وَانْطَلَقَ إِلَى نَخْلِهِ يَعْمَلُ فِيهِ، فَلَمَّا أَتَوْا بَابَ أَبِي أَيُّوبَ خَرَجَتِ امْرَأَتُهُ فَقَالَتْ: مَرْحَبًا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِمَنْ مَعَهُ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" فَأَيْنَ أَبُو أَيُّوبَ؟ "". قَالَتْ: يَأْتِيكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ السَّاعَةَ، فَرَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَصُرَ بِهِ أَبُو أَيُّوبَ، وَهُوَ يَعْمَلُ فِي نَخْلٍ لَهُ، فَجَاءَ يَشْتَدُّ حَتَّى أَدْرَكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: مَرْحَبًا بِنَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِمَنْ مَعَهُ. فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ بِالْحِينِ الَّذِي كُنْتَ تَجِيئُنِي فِيهِ فَرَدَّهُ. فَجَاءَ إِلَى عِذْقِ النَّخْلَةِ فَقَطَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا أَرَدْتَ إِلَى هَذَا؟ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَدْتُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ رُطَبِهِ، وَبُسْرِهِ، وَتَمْرِهِ، وَتَذْنُوبِهِ، وَلَأَذْبَحَنَّ لَكَ مَعَ هَذَا. قَالَ: "" إِنْ ذَبَحْتَ فَلَا تَذْبَحَنَّ ذَاتَ ذَرٍّ "". فَأَخَذَ عَنَاقًا، أَوْ جَدْيًا فَذَبَحَهُ، وَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: اخْتَبِزِي، وَأَطْبُخُ أَنَا، فَأَنْتِ أَعْلَمُ بِالْخُبْزِ. فَعَمَدَ إِلَى نِصْفِ الْجَدْيِ فَطَبَخَهُ، وَشَوَى نِصْفَهُ، فَلَمَّا أَدْرَكَ الطَّعَامُ، وَضَعَهُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابِهِ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْجَدْيِ فَوَضَعَهُ عَلَى رَغِيفٍ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا أَبَا أَيُّوبَ، أَبْلِغْ بِهَذَا إِلَى فَاطِمَةَ ; فَإِنَّهَا لَمْ تُصِبْ مِثْلَ هَذَا مُنْذُ أَيَّامٍ "". فَلَمَّا أَكَلُوا وَشَبِعُوا قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" خُبْزٌ، وَلَحْمٌ، وَبُسْرٌ، وَتَمْرٌ وَرُطَبٌ "". وَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، ثُمَّ قَالَ: "" هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". فَكَبُرَ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِذَا أَصَبْتُمْ مِثْلَ هَذَا، وَضَرَبْتُمْ بِأَيْدِيكُمْ، فَقُولُوا: بِسْمِ اللَّهِ، وَبَرَكَةِ اللَّهِ، فِإِذَا شَبِعْتُمْ فَقُولُوا الْحَمْدُ للَّهِ الَّذِي أَشْبَعَنَا وَأَزْوَانَا وَأَنْعَمَ وَأَفْضَلَ، فَإِنَّ هَذَا كَفَافٌ بِهَذَا "". وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَأْتِي أَحَدٌ إِلَيْهِ مَعْرُوفًا إِلَّا أَحَبَّ أَنْ يُجَازِيَهُ، فَقَالَ لِأَبِي أَيُّوبَ: "" ائْتِنَا غَدًا "". فَلَمْ يَسْمَعْ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَأْمُرُكَ أَنْ تَأْتِيَهُ، فَلَمَّا أَتَاهُ أَعْطَاهُ وَلِيدَةً، فَقَالَ: "" يَا أَبَا أَيُّوبَ، اسْتَوْصِ بِهَا خَيْرًا ; فَإِنَّا لَمْ نَرَ إِلَّا خَيْرًا مَا دَامَتْ عِنْدَنَا "". فَلَمَّا جَاءَ بِهَا أَبُو أَيُّوبَ قَالَ: مَا أَجِدُ لِوَصِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْرًا مِنْ أَنْ أُعْتِقَهَا، فَأَعْتَقَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ الْمَرْوَزِيُّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that Abū Bakr went out at midday, ʿUmar heard and went out to him asking what brought him. He swore it was the pangs of hunger in his belly, and ʿUmar swore likewise. While thus the Prophet ﷺ came out asking what brought them, and they swore it was hunger. The Prophet ﷺ swore by Him in Whose Hand is his soul that only that brought him. They rose to the door of Abū Ayyūb al-Anṣārī, who had mentioned food or milk to the Messenger of Allāh ﷺ but delayed that day, so his family fed it and he went to his palms to work. His wife welcomed the Messenger of Allāh ﷺ and those with him, and told them Abū Ayyūb would come presently. The Messenger of Allāh ﷺ turned back, Abū Ayyūb saw him working his palms, hastened till he met him, welcomed them, and said it was not the hour he used to come, then returned. He cut a cluster, and the Messenger of Allāh ﷺ asked why this. He wished them to eat of its unripe, ripe, dates and dried fruit, and to slaughter besides. He was told if slaughtering then not a milch one. He took a kid, slaughtered it, told his wife to bake while he cooked, being more skilled in bread. He cooked half the kid and grilled half, and when ready placed it before the Messenger of Allāh ﷺ and his Companions. The Messenger of Allāh ﷺ took of the kid upon a loaf and said O Abā Ayyūb, convey this to Fāṭimah, for she has not had the like for days. When they ate to satiety the Prophet ﷺ said bread, meat, unripe dates, dates and ripe dates, and his eyes filled with tears. Then he said this is of the bliss they shall be asked about on the Day of Resurrection. That weighed upon his Companions, so he said when they obtain the like and strike with their hands, let them say in the name of Allāh, and when satiated let them say praise belongs to Allāh Who satiated them. > **"O Abā Ayyūb, convey this to Fāṭimah, for she has not had the like for days. This is of the bliss you shall be asked about on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس دن چڑھے کے وقت باہر تشریف لائے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے میں سنا تو وہ بھی باہر آ گئے ، وہاں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ موجود تھے ، انہوں نے دریافت کیا : اے حضرت ابوبکر ! آپ اس وقت میں کیوں باہر آئے ہیں ؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اس وجہ سے باہر آیا ہوں کہ مجھے اپنے پیٹ میں شدید ترین بھوک محسوس ہو رہی ہے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے بولے : میں بھی اسی وجہ سے باہر آیا ہوں ، ابھی یہ دونوں حضرات اسی حالت میں تھے کہ نبی اکرم ﷺ بھی ان دونوں کے پاس تشریف لے آئے ، آپ ﷺ نے دریافت کیا : تم دونوں اس وقت میں کیوں باہر آئے ہو ؟ ان دونوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! ہم اپنے پیٹ میں محسوس ہونے والی شدید ترین بھوک کی وجہ سے باہر آئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میرا بھی یہی معاملہ ہے کہ مجھے اس کے علاوہ کوئی اور چیز باہر نہیں لائی ، پھر یہ حضرات اُٹھے اور چلتے ہوئے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آئے ، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے کھانے یا شاید دودھ کے بارے میں ذکر کیا تھا ، لیکن نبی اکرم ﷺ کو آنے میں تاخیر ہو گئی اور نبی اکرم ﷺ مخصوص وقت پر تشریف نہیں لائے تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وہ کھانا اپنے گھر والوں کو کھلایا اور اپنے کھجوروں کے باغ میں چلے گئے تاکہ وہاں کام کاج کریں ، جب یہ حضرات ، حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے دروازے پر پہنچے تو ان کی اہلیہ باہر آئیں اور بولیں : اللہ کے رسول ﷺ اور اُن کے ساتھ والے افراد کو خوش آمدید ! نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے دریافت کیا : ابوایوب کہاں ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : اے اللہ کے نبی ! وہ ابھی آپ کے پاس آ جاتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ واپس مڑ گئے ، حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھ لیا وہ اس وقت اپنے کھجوروں کے باغ میں کام کر رہے تھے ، وہ دوڑتے ہوئے نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے : نبی اکرم ﷺ کو اور آپ کے ساتھ والے افراد کو خوش آمدید ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اس وقت میں تشریف نہیں لاتے ہیں ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کو واپس لے گئے ، پھر وہ کھجوروں کا ایک خوشہ لے کر آئے اور اسے کاٹا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم اس کے بارے میں کیا ارادہ رکھتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ اس میں سے مختلف قسم کی کھجوریں کھائیں ، اس کے ہمراہ میں آپ کے لیے کوئی جانور ذبح کرتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تم نے ذبح کرنا ہے تو کسی دودھ دینے والے جانور کو ذبح نہ کرنا ، تو انہوں نے بکری کے ایک سال کے بچے کو ذبح کیا ، انہوں نے اپنی اہلیہ سے فرمایا : تم روٹی پکاؤ ، میں سالن تیار کرتا ہوں ، کیونکہ تم روٹی زیادہ بہتر پکا سکتی ہو ، پھر انہوں نے اس جانور کے بچے کے نصف حصے کو لیا اور اسے پکایا اور نصف حصے کو بھون لیا ، جب کھانا تیار ہوا تو وہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کے آگے رکھا ، نبی اکرم ﷺ نے ( کچھ ) گوشت لیا اور اسے روٹی پر رکھا اور پھر یہ فرمایا : اے ابوایوب ! یہ فاطمہ تک پہنچا دینا کیونکہ اسے کئی دن سے اس طرح کا کھانا نہیں ملا ، جب ان حضرات نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : روٹی ، گوشت بسر ، تمر ، رطب ( یعنی مختلف قسم کی کھجوریں ) پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے حساب لیا جائے گا ، راوی بیان کرتے ہیں : یہ بات آپ کے ساتھیوں کے لیے پریشانی کا باعث بنی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں اس طرح کی چیز نصیب ہو اور تم اپنے ہاتھ آگے بڑھاؤ ، تو یہ پڑھ لو : ’’ اللہ تعالیٰ کے نام سے برکت حاصل کرتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی ( عطا کی ہوئی ) برکت کے ہمراہ ‘‘ اور جب تم سیر ہو جاؤ تو یہ پڑھو : ’’ ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں سیر کر دیا اور ہمیں سیراب کر دیا اور نعمت عطا کی اور فضل کیا ۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) تو یہ اس کا بدلہ بن جائے گا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جو شخص آپ کے ساتھ کوئی اچھائی کرتا تھا ، آپ کو یہ بات پسند تھی کہ آپ اسے بدلہ دیں ، آپ نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے فرمایا : کل تم ہمارے پاس آنا ، انہوں نے یہ بات نہیں سنی ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے یہ کہا : نبی اکرم ﷺ آپ کو یہ ہدایت کر رہے ہیں کہ آپ ان کے پاس آئیں ، جب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں ( اگلے دن ) حاضر ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں ایک کنیز دی اور فرمایا : اے ابوایوب ! اس کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو ، کیونکہ یہ جب سے ہمارے پاس ہے ہم نے اس میں صرف بھلائی دیکھی ہے ۔ جب حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ اس کنیز کو لے کر آ گئے تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ کی تلقین کے حوالے سے مجھے اس سے بہتر صورت اور نہیں ملتی کہ میں اسے آزاد کر دوں تو انہوں نے اسے آزاد کر دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان مروزی ہے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18262

Majma al-Zawaid #18262

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي قُحَافَةَ، قَالَ: «فَاتَنِي الْعَشَاءُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ; فَجَعَلْتُ أَتَقَلَّبُ لَا يَأْتِينِي النَّوْمُ، فَقُلْتُ: لَوْ خَرَجْتُ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِي، فَفَعَلْتُ، ثُمَّ اسْتَنَدْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنْهُ، فَدَخَلَ عُمَرُ، فَلَمَّا رَآنِي أَنْكَرَنِي، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قُلْتُ: أَبُو بَكْرٍ. فَقَالَ: مَا أَخْرَجَكَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟! قُلْتُ: الْجُوعُ. قَالَ: وَأَنَا أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَأَى سَوَادَنَا أَنْكَرَهُ فَقَالَ مَنْ هَذَانِ؟ فَبَدَرَنِي عُمَرُ فَقَالَ: هَذَا أَبُو بَكْرٍ وَهَذَا عُمَرُ فَقَالَ: "" مَا أَخْرَجَكُمَا هَذِهِ السَّاعَةَ؟! "". فَأَخْبَرْنَاهُ الْخَبَرَ. فَقَالَ: "" وَأَنَا مَا أَخْرَجَنِي إِلَّا الَّذِي أَخْرَجَكُمَا، انْطَلِقَا بِنَا إِلَى الْوَاقِفِيِّ "". فَأَتَيْنَا الْبَابَ، فَاسْتَأْذَنَّا فَخَرَجَتِ الْمَرْأَةُ، قَالَ: "" أَيْنَ فَلَانٌ؟ "". قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ مِنْ حُشِّ بَنِي حَارِثَةَ، فَفَتَحَتِ الْبَابَ، فَدَخَلْنَا فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ قَدْ مَلَأَ قِرْبَةً عَلَى ظَهْرِهِ، عَلَّقَهَا عَلَى كِرْنَفَةٍ مِنْ كَرَانِيفِ النَّخْلِ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْنَا، فَقَالَ: مَرْحَبًا وَأَهْلًا، مَا زَارَ النَّاسَ خَيْرٌ مِنْ زَوْرٍ زَارُونِي اللَّيْلَةَ، ثُمَّ جَاءَ بِعِذْقِ بُسْرٍ، فَجَعَلْنَا نَنْتَقِي فِي الْقَمَرِ، وَنَأْكُلُ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ وَجَالَ فِي الْغَنَمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِيَّاكَ وَالْحَلُوبَ، أَوْ ذَاتَ الدَّرِّ "". فَذَبَحَ لَنَا شَاةً، وَسَلَخَهَا، وَقَطَّعَهَا فِي الْقِدْرِ، وَأَمَرَ الْمَرْأَةَ فَعَجَنَتْ وَخَبَزَتْ، ثُمَّ جَاءَ بِثَرِيدَةٍ وَلَحْمٍ فَأَكَلْنَا. ثُمَّ قَامَ إِلَى الْقِرْبَةِ وَقَدْ تَخَفَّقَتْهَا الرِّيحُ فَبَرَدَتْ، فَسَقَانَا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْرَجَنَا لَمْ يُخْرِجْنَا إِلَّا الْجُوعُ، ثُمَّ لَمْ نَرْجِعْ حَتَّى أَصَبْنَا هَذَا، هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". ثُمَّ قَالَ لِلْوَاقِعِيِّ: "" أَمَا لَكَ خَادِمٌ يَكْفِيكَ هَذَا؟ "". قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: "" فَانْظُرْ أَوَّلَ سَبْيٍ يَأْتِينِي فَائْتِنِي آمُرُ لَكَ بِخَادِمٍ "". فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ أَتَاهُ سَبْيٌ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: "" مَا جَاءَ بِكَ؟ "". قَالَ: مَوْعِدُكَ الَّذِي وَعَدْتَنِي، قَالَ: "" قُمْ، فَاخْتَرْ مِنْهُمْ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْ أَنْتَ الَّذِي تَخْتَارُ لِي، قَالَ: "" خُذْ هَذَا الْغُلَامَ، وَأَحْسِنْ إِلَيْهِ "". فَأَتَى امْرَأَتَهُ فَأَخْبَرَهَا بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا قَالَ لَهُ، فَقَالَتْ: فَقَدْ أَمَرَكَ أَنْ تُحْسِنَ إِلَيْهِ ; فَأَحْسِنْ إِلَيْهِ، فَقَالَ: وَمَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَتْ: أَنْ تُعْتِقَهُ. قَالَ: فَهُوَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ». قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ طَرَفًا مِنْهُ فِي ذَبْحِ ذَوَاتِ الدَّرِّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى أَتَمَّ مِنْهُ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ وَوُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that Abū Bakr ibn Abī Quḥāfah told him that dinner escaped him one night and he tossed sleepless, resolving to go to the mosque and pray what was decreed. He leaned in a corner, ʿUmar entered, recognised him and asked what brought him. He said hunger, and ʿUmar said what brought him is what brought thee. Soon the Messenger of Allāh ﷺ entered, saw their figures and asked who are these two. ʿUmar hastened saying Abū Bakr and ʿUmar. He asked what brought them, and they told him. He said only what brought them brought him, and to set out with him to al-Wāqifī. They sought permission, the woman said he went to fetch sweet water from the enclosure of Banū Ḥārithah, opened the door and they entered. Soon he came bearing a waterskin upon his back hung upon a palm stump, welcomed them warmly saying no visitors better ever visited him that night. He brought unripe dates which they picked in moonlight and ate, then took the blade and roamed the flock. The Messenger of Allāh ﷺ warned against the milch or possessor of milk. He slaughtered a ewe, skinned, cut into the pot, ordered the wife to knead and bake, then brought tharīd and meat and they ate. Then he went to the waterskin cooled by wind and gave them drink. The Messenger of Allāh ﷺ said praise belongs to Allāh Who brought them out with only hunger and they returned not till they obtained this; this is of the bliss they shall be asked about on the Day of Resurrection. Then he asked al-Wāqifī whether he has no servant to suffice him, and he said no. He told him when first captives come to approach him for a servant. Soon captives came and he asked what brought him. He cited his promise, was told to choose among them. He asked the Prophet ﷺ to choose for him, so he said take this lad and do good to him. He told his wife what the Messenger of Allāh ﷺ said, and she said he commanded good so do good. When asked what is good, she said to free him. So he is free for the sake of Allāh. > **"Praise belongs to Allāh Who brought us out with only hunger and we returned not till we obtained this; this is of the bliss you shall be asked about on the Day of Resurrection. Take this lad and do good to him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ حدیث بیان کی : ’’ ایک رات میں نے عشاء کی نماز ( باجماعت ) ادا نہیں کی ، میں کروٹیں بدلتا رہا لیکن مجھے نیند نہیں آئی ، میں نے سوچا اگر میں نکل کر مسجد چلا جاؤں ، وہاں جو میرے نصیب میں ہو وہ نماز ادا کروں ) تو یہ مناسب ہو گا ) میں نے ایسا ہی کیا اور پھر مسجد کے کونے میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔ اسی دوران حضرت عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے ، جب انہوں نے مجھے دیکھا تو وہ حیران ہوئے ، انہوں نے دریافت کیا : کون ہے ؟ میں نے جواب دیا : ابوبکر ، انہوں نے کہا : آپ اس وقت گھر سے باہر کیوں آئے ہیں ؟ میں نے جواب دیا : بھوک کی وجہ سے ، انہوں نے کہا : میں بھی اسی وجہ سے باہر آیا ہوں جس کی وجہ سے آپ باہر آئے ہیں ، تھوڑی دیر بعد نبی اکرم ﷺ اندر تشریف لائے ، جب آپ نے ہمارے ہیولے دیکھے تو آپ حیران ہوئے ، آپ نے دریافت کیا : یہ دو افراد کون ہیں ؟ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے پہل کی اور بولے : یہ حضرت ابوبکر ہیں اور یہ عمر ہے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم دونوں اس وقت گھر سے باہر کیوں آئے ہو ؟ ہم نے آپ کو صورتحال کے بارے میں بتایا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں بھی اسی کی وجہ سے باہر آیا ہوں ، جس کی وجہ سے تم دونوں باہر آئے ہو ، تم دونوں ہمارے ساتھ واقفی کی طرف چلو ۔‘‘ ہم ( ان صاحب کے ) دروازے پر آئے ، ہم نے اجازت طلب کی ، خاتون باہر آئیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : فلاں کہاں ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : وہ بنو حارثہ کے محلے سے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، اس خاتون نے دروازہ کھول دیا ، ہم اندر آ گئے ، تھوڑی دیر بعد وہ صاحب بھی آ گئے ، انہوں نے پانی کا بھرا ہوا مشکیزہ اپنی پشت پر لادا ہوا تھا ، انہوں نے وہ مشکیزہ کھجور کے درخت کی ایک شاخ سے لٹکایا ، پھر وہ ہماری طرف آئے اور بولے : خوش آمدید ! کسی بھی شخص کے گھر میں میرے مہمانوں سے بہتر مہمان نہیں آئے ہوں گے ، پھر وہ تازہ کھجوروں کا ایک خوشہ لے آیا ہم چاند کی روشنی میں کھجوریں چن کر کھانے لگے پھر اس نے چھری پکڑی اور بکریوں کے درمیان گھومنے لگا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : دودھ دینے والی بکری سے بچ کے رہنا ( یعنی اُسے ذبح نہ کرنا ، یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ اس نے ایک بکری ہمارے لئے ذبح کی ، اس کی کھال اتاری اسے ہنڈیا میں پکایا ، اس نے عورت کو حکم دیا اس عورت نے آٹا گوندھا اور روٹی پکائی ، پھر وہ شخص ثرید اور گوشت لے کر آیا ، ہم نے کھایا پھر وہ اٹھ کر مشکیزہ کی طرف گیا ، ہوا کی وجہ سے اُس کا پانی ٹھنڈا ہو چکا تھا ، اس نے ہمیں وہ پلایا پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں باہر نکالا ، ہم صرف بھوک کی وجہ سے باہر آئے تھے لیکن واپس جانے سے پہلے ہمیں یہ چیزیں نصیب ہو گئیں ، یہ ان نعمتوں میں سے ہیں جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے حساب لیا جائے گا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے واقفی ( یعنی میزبان شخص ) سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی خادم نہیں ہے ؟ جو تمہارے یہ کام کر سکے ، اس نے جواب دیا : جی نہیں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دھیان رکھنا ! ہمارے پاس اب سب سے پہلے جو قیدی آئیں گے تو تم میرے پاس آ جانا ، میں تمہیں کوئی خادم دینے کا حکم دے دوں گا ۔ تھوڑے عرصے بعد نبی اکرم ﷺ کے پاس قیدی آئے ، وہ صاحب نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کس سلسلے میں آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اُس وعدے کی وجہ سے جو آپ نے میرے ساتھ کیا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اُٹھو اور ان میں سے کسی کو منتخب کر لو ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لیے کسی کو اختیار کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم اس لڑکے کو لے لو اور اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، وہ صاحب اپنی بیوی کے پاس آئے اور اسے نبی اکرم ﷺ کے فرمان کے بارے میں بتایا اور جو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تھا ، اس کے بارے میں بتایا ، تو اس خاتون نے کہا : نبی اکرم ﷺ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ اس کے ساتھ بھلائی کریں ، تو آپ اس کے ساتھ بھلائی کر لیں ، انہوں نے دریافت کیا : کیا بھلائی کروں ؟ اس خاتون نے کہا : آپ اسے آزاد کر دیں ، ان صاحب نے کہا : پھر یہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے آزاد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ، جو دودھ دینے والی بکری کو ذبح کرنے ( سے روکنے سے متعلق ہے ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اسے اُس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبیداللہ بن موہب ہے ، جس کو جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، لیکن اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18263

Majma al-Zawaid #18263

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: «أَنَّ أَبَا بَكْرٍ خَرَجَ لَمْ يُخْرِجْهُ إِلَّا الْجُوعُ، وَأَنَّ عُمَرَ خَرَجَ لَمْ يُخْرِجْهُ إِلَّا الْجُوعُ، وَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ عَلَيْهِمَا وَأَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ: أَنَّهُ لَمْ يُخْرِجْهُمَا إِلَّا الْجُوعُ. فَقَالَ: "" انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ "". - رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ: أَبُو الْهَيْثَمِ بْنُ التَّيِّهَانِ - فَإِذَا هُوَ لَيْسَ فِي الْمَنْزِلِ ; ذَهَبَ يَسْتَسْقِي، فَرَحَّبَتِ الْمَرْأَةُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَبِصَاحِبَيْهِ، وَبَسَطَتْ لَهُمْ شَيْئًا فَجَلَسُوا عَلَيْهِ، فَسَأَلَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيْنَ انْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ؟ "". قَالَتْ: ذَهَبَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا مِنَ الْمَاءِ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ بِقِرْبَةٍ فِيهَا مَاءٌ، فَانْطَلَقَ فَعَلَّقَهَا، وَأَرَادَ أَنْ يَذْبَحَ لَهُمْ شَاةً، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَرِهَ ذَلِكَ، فَذَبَحَ لَهُمْ عَنَاقًا، ثُمَّ انْطَلَقَ فَجَاءَ بِكَبَائِسَ مِنَ النَّخْلِ ; فَأَكَلُوا مِنْ ذَلِكَ اللَّحْمِ، وَالْبُسْرِ، وَالرُّطَبِ، وَشَرِبُوا مِنَ الْمَاءِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا - إِمَّا أَبُو بَكْرٍ، وَإِمَّا عُمَرُ -: هَذَا مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي نُسْأَلُ عَنْهُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" الْمُؤْمِنُ لَا يُثَرَّبُ عَلَى شَيْءٍ أَصَابَهُ فِي الدُّنْيَا، إِنَّمَا يُثَرَّبُ عَلَى الْكَافِرِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that Abū Bakr went out with only hunger bringing him, ʿUmar went out with only hunger bringing him, and the Prophet ﷺ came out to them and they told him only hunger brought them. He said set out with him to the house of Abū al-Haytham ibn al-Tayyahān, a man of the Anṣār. He was away fetching water, his wife welcomed the Messenger of Allāh ﷺ and his two companions, spread something and they sat. He asked whither Abū al-Haytham went, and she said to fetch sweet water. Soon he came with a waterskin, hung it, intended to slaughter a ewe, and the Prophet ﷺ seemed to dislike it, so he slaughtered a kid. Then he brought clusters of palms, and they ate of that meat, unripe dates and ripe dates, and drank water. One of them, either Abū Bakr or ʿUmar, asked is this of the bliss they shall be asked about. The Prophet ﷺ said the believer is not reproached for what he obtains in this world; reproach is only upon the disbeliever. > **"Set out with me to the house of Abū al-Haytham. The believer is not reproached for what he obtains in this world; reproach is only upon the disbeliever."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر سے باہر تشریف لائے ، وہ صرف بھوک کی وجہ سے باہر آئے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی باہر آ گئے وہ بھی صرف بھوک کی وجہ سے باہر آئے تھے ، نبی اکرم ﷺ ان دونوں کے پاس تشریف لائے ، ان دونوں نے آپ کو صورتحال کے بارے میں بتایا کہ وہ دونوں بھوک کی وجہ سے باہر آئے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن تیہان کے گھر چلو ! راوی بیان کرتے ہیں : وہ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب تھے ، جن کا نام حضرت ابوالہیثم بن تیہان تھا ، وہ گھر میں نہیں تھے ، وہ پانی لینے کے لیے گئے ہوئے تھے ، اُن کی اہلیہ نے نبی اکرم ﷺ اور آپ کے دونوں ساتھیوں کو خوش آمدید کہا اور ان کے لئے کوئی چیز بچھا دی ، یہ حضرات اس پر تشریف فرما ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے اس خاتون سے دریافت کیا : ابوالہیثم کہاں گیا ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : وہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں ، تھوڑی دیر بعد وہ صاحب مشکیزہ لے کر آ گئے ، جس میں پانی موجود تھا ، وہ گئے ، انہوں نے مشکیزے کو لٹکایا ، انہوں نے ان حضرات کے لئے بکری ذبح کرنے کا ارادہ کیا ، نبی اکرم ﷺ نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو انہوں نے بکری کا بچہ ذبح کر لیا ، پھر وہ کھجوروں کے خوشے لے آئے ، اُن حضرات نے گوشت کھایا مختلف قسم کی کھجوریں کھائیں ، پانی پیا ، پھر ان دونوں صاحبان ( یعنی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما ) میں سے کسی ایک نے دریافت کیا : کیا یہ ان نعمتوں میں سے ہیں ؟ جن کے بارے میں ہم سے حساب لیا جائے گا ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مؤمن دنیا کی جو بھی چیز استعمال کرے گا اُس کی وجہ سے اس پر ملامت نہیں ہو گی ، کافر پر ملامت ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

18264

Majma al-Zawaid #18264

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ - وَكَانَ بَدْرِيًّا - قَالَ: «لَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُنَا فِي السَّرِيَّةِ، يَا بُنَيَّ، مَا لَنَا زَادٌ إِلَّا السَّلْفُ مِنَ التَّمْرِ، فَنُقَسِّمُهُ قَبْضَةً قَبْضَةً حَتَّى يَصِيرَ إِلَى تَمْرَةٍ تَمْرَةٍ، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، وَمَا عَسَى أَنْ تُغْنِيَ التَّمْرَةُ عَنْكُمْ؟ قَالَ: لَا تَقُلْ ذَاكَ يَا بُنَيَّ، فَبَعْدَ أَنْ فَقَدْنَاهَا فَاخْتَلَلْنَا إِلَيْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَكَانَ ثِقَةً.

EnglishUnverified translation

ʿĀmir ibn Rabīʿah رضي الله عنه, who was at Badr, told his son that the Messenger of Allāh ﷺ used to send them on detachments with no provision but a sack of dates, which they divided handful by handful till it came to date by date. When asked what a single date availed them, he said do not say that, O my son, for after they lost it they missed it sorely. > **"We had no provision but a sack of dates, divided handful by handful till it came to date by date; after we lost it we missed it sorely."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ ، جنہیں غزوہ بدر میں شرکت کا شرف حاصل ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں ایک جنگی مہم پر روانہ کیا ( حضرت عامر رضی اللہ عنہ نے راوی کو بتایا : ) اے میرے بیٹے ! اس وقت ہمارے پاس زاد سفر کے طور پر صرف کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا تھا ہم اسے ایک ایک مٹھی تقسیم کر لیتے تھے ، یہاں تک کہ وہ وقت بھی آ گیا کہ ہمارے حصے میں ایک ایک کھجور آتی تھی ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : اے ابا جان ! ایک کھجور کے ساتھ آپ کا گزارا کیسے ہوتا تھا ؟ انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم یہ بات نہ کرو ، بعد میں جب ہمیں وہ بھی نہیں ملتی تھی ، تو ہمیں اس کی قدر و قیمت کا احساس ہوا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ، امام بزار نے امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور وہ ثقہ ہے ۔

18265

Majma al-Zawaid #18265

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَخْرُجُ فِيهَا، ثُمَّ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" مَا أَخْرَجَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ "" فَقَالَ: أَخْرَجَنِي الْجُوعُ، قَالَ: "" وَأَنَا أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ "". ثُمَّ خَرَجَ عُمَرُ فَقَالَ: "" مَا أَخْرَجَكَ يَا عُمَرُ؟ "" قَالَ: أَخْرَجَنِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ الْجُوعُ. ثُمَّ سَارَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ "" فَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ قَالَتْ لَهُمُ امْرَأَتُهُ: إِنَّهُ انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ، فَدُورُوا إِلَى الْحَائِطِ، فَدَارُوا إِلَى الْحَائِطِ، فَفَتَحَتْ لَهُمْ بَابَ الْحَائِطِ. فَجاَءَ أَبُو الْهَيْثَمِ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: تَدْرِي مَنْ عِنْدَكَ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَتْ عِنْدَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ فَعَلَّقَ قِرْبَتَهُ عَلَى نَخْلَةٍ، ثُمَّ أَتَاهُمْ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ حَيَّا وَرَحَّبَ، ثُمَّ أَتَى مِخْرَفًا فَاخْتَرَفَ لَهُمْ رُطَبًا، فَأَتاَهُمْ بِهِ فَصَبَّهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ. ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْهَيْثَمِ أَهْوَى إِلَى غُنَيْمَةٍ لَهُ فِي نَاحِيَةِ الْحَائِطِ لِيَذْبَحَ لَهُمْ مِنْهَا شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "" أَمَّا ذَاتُ دَرٍّ فَلَا "" فَأَخَذَ شَاةً فَذَبَحَهَا وَسَلَخَهَا وَقَطَّعَهَا أَعْضَاءً ثُمَّ طَبَخَهَا بِالْمَاءَ وَالْمِلْحِ، ثُمَّ أَتَى امْرَأَتَهُ فَسَأَلَهَا، هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنْ شَعِيرٍ، كُنْتُ أُؤَخِّرُهُ، فَطَحَنَاهُ بَيْنَهُمَا فَعَجَنَتْهُ وَخَبَزَتْهُ، فَكَسَرَهُ أَبُو الْهَيْثَمِ وَأَكْفَأَ عَلَيْهِ ذَلَكَ اللَّحْمَ الَّذِي طَبَخَهُ، ثُمَّ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَأَكَلُوا ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمِ: "" يَا أَبَا الْهَيْثَمِ، أَمَا لَكَ مِنْ خَادِمٍ؟ "" قَالَ لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا لَنَا خَادِمٌ، قَالَ: "" إِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ قَدْ جَاءَنَا سَبْيٌ فَأْتِنَا نُخْدِمْكَ "". فَأَتَى رَسُولَ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ غُلَامَانِ - أَوْ قَالَ وَصِيفَانِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا أَبَا الْهَيْثَمِ اخْتَرْ مِنْهُمَا "" أَوْ قَالَ: "" تَخَايَرْ مِنْهُمَا "" قَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خِرْ لِي. فَاحْتَاطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَقَالَ: "" الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ يَا أَبَا الْهَيْثَمِ خُذْ هَذَا "" فَلَمَّا وَلَّى بِهِ أَبُو الْهَيْثَمِ قَالَ: "" يَا أَبَا الْهَيْثَمِ أَحْسِنْ إِلَيْهِ فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي "" قَالَ: نَعَمْ، نُطْعِمُهُ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُهُ مِمَّا نَلْبَسُ وَلَا نُكَلِّفُهُ مَا لَا يُطِيقُ. فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى أَهْلِهِ، فَفَرِحُوا بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا، وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنَا خَادِمًا يَخْدُمُنَا وَيُعِينُنَا عَلَى ضَيْعَتِنَا، فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَوْصَانِي بِهِ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: نَعَمْ، نُطْعِمُهُ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُهُ مِمَّا نَلْبَسُ وَلَا نُكَلِّفُهُ مَا لَا يُطِيقُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَوْصَانِي بِهِ فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، خَادِمٌ أَخْدَمَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ، تُرِيدُ أَنْ تُحْرِمَنَاهُ، فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ لِلْغُلَامِ: أَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ فَإِنْ شِئْتَ تُقِيمُ مَعَنَا نُطْعِمُكَ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُكَ مِمَّا نَلْبَسُ، وَلَا نُكَلِّفُكَ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا تُطِيقُ، وَإِنْ شِئْتَ فَاذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّيرِينِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ went out at an hour he did not usually go out, then Abū Bakr went out and was asked what brought him. He said hunger, and he said what brought thee brought me. Then ʿUmar went out and swore by Him Who sent him with the truth that hunger brought him. Then some of his Companions walked to the Messenger of Allāh ﷺ, who said set out with him to the house of Abū al-Haytham ibn al-Tayyahān. When they reached it his wife said he went to fetch sweet water; go round to the garden, and she opened its gate. Abū al-Haytham came, his wife asked whether he knows who is with him, and told him the Messenger of Allāh ﷺ and his Companions. He entered, hung his waterskin upon a palm, greeted, welcomed, brought fresh ripe dates and poured them before them. Then he turned to his small flock to slaughter a ewe, and the Messenger of Allāh ﷺ said not a milch one. He took a ewe, slaughtered, skinned, jointed, cooked with water and salt, asked his wife whether she has aught, and she said some barley she had stored. They ground it together, she kneaded and baked, Abū al-Haytham broke the bread and poured the cooked meat over it, and brought it to the Messenger of Allāh ﷺ and his Companions and they ate. Then the Messenger of Allāh ﷺ asked O Abā al-Haytham, hast thou no servant. He swore by Him Who sent him with the truth they have none. He told him when captives come to approach him for a servant. Captives came, Abū al-Haytham approached with two lads before him, and the Messenger of Allāh ﷺ told him to choose between them. Abū al-Haytham asked him to choose for him. The Messenger of Allāh ﷺ bared his forearms in care and said the consulted is entrusted; O Abā al-Haytham, take this one. As he turned away with him he said O Abā al-Haytham, do good to him for he was seen praying. He agreed to feed him of what they eat, clothe him of what they wear, and not burden him beyond capacity. Abū al-Haytham went to his family who rejoiced greatly at a servant to aid their estate. He told them the Messenger of Allāh ﷺ counselled him concerning him, his wife agreed to the same terms, then remarked glory be to Allāh, shall they be deprived of a servant Allāh and His Messenger granted them. So Abū al-Haytham told the lad he is free for the sake of Allāh; if he wishes to stay they feed and clothe him and burden him only what he can, and if he wishes to go whither he wills. > **"Not a milch one. The consulted is entrusted; O Abā al-Haytham, take this one. O Abā al-Haytham, do good to him, for I saw him praying."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک ایسی گھڑی میں باہر تشریف لے آئے جس میں آپ عام طور پر باہر نہیں آتے تھے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی باہر آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اُن سے دریافت کیا : اے ابوبکر ! تم کیوں باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں بھوک کی وجہ سے باہر آیا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی اسی کی وجہ سے باہر آیا ہوں ، جس کی وجہ سے تم باہر آئے ہو ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہر آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے عمر ! تم کیوں باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں بھوک کی وجہ سے باہر آیا ہوں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کی طرف روانہ ہوئے ، آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن تیہان کے گھر طرف چلو ! یہ حضرات گئے ، جب یہ حضرات ، حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے تو ان کی اہلیہ نے ان حضرات کو بتایا : وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہوئے ہیں ، آپ لوگ باغ کی طرف چلے جائیں ، یہ حضرات باغ کی طرف چلے گئے ، اس خاتون نے ان کے لیے باغ کا دروازہ کھول دیا ، پھر حضرت ابوالہیثم بھی آ گئے ، اُن کی اہلیہ نے ان سے کہا : کیا آپ جانتے ہیں آپ کے ہاں کون آیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! اس خاتون نے بتایا : اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے اصحاب تشریف لائے ہیں ، حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ ان حضرات کے پاس آئے انہوں نے مشکیزہ کجھور کے درخت کے ساتھ لٹکایا ، پھر ان حضرات کے پاس آ کر انہیں سلام کیا اور انہیں خوش آمدید کہا ، پھر وہ گئے اور ان کے لیے تازہ کھجوریں چن کر لائے اور وہ لا کر ان کے آگے رکھ دیں ، پھر حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ باغ کے کونے میں موجود اپنی بکریوں کی طرف بڑھے تاکہ ان میں سے کوئی بکری ذبح کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : دودھ دینے والی بکری کو ( ذبح ) نہ کرنا ، انہوں نے ایک بکری لی ، اُسے ذبح کیا اس کی کھال اتاری ، اس کے اعضاء کاٹے ، پھر اسے پانی اور نمک کے ہمراہ پکایا ، پھر وہ اپنی بیوی کے پاس گئے اور اس سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! ہمارے پاس تھوڑے سے جو ہیں ، جو میں نے سنبھال کے رکھے ہوئے تھے ، ان دونوں نے ان جو کو پیس لیا ، پھر اس خاتون نے آٹا گوندھا اور اس کی روٹی پکائی ، حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے ان روٹیوں کے ٹکڑے کیے ، ان پر وہ گوشت ڈالا جو انہوں نے پکایا تھا ، پھر وہ اس کو نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے پاس لے آئے ، اُن حضرات نے اسے کھا لیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : اے ابوالہیثم ! کیا تمہارے پاس کوئی خادم نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، ہمارے پاس خادم نہیں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں یہ اطلاع ملے کہ ہمارے پاس قیدی آئے ہیں ، تو تم ہمارے پاس آ جانا ، ہم تمہیں کوئی خدمتگار دے دیں گے ، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس وقت نبی اکرم ﷺ کے سامنے دو غلام موجود تھے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اختیار کر دیں ، نبی اکرم ﷺ نے احتیاط کی ، یہاں تک کہ آپ نے اپنی آستینیں چڑھا لیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ مؤتمن ہوتا ہے ، تم اس کو لے لو ، جب حضرت ابوالہیثم اس غلام کو ساتھ لے کر واپس جانے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ٹھیک ہے ، ہم اسے وہی کھلائیں گے جو ہم خود کھائیں گے اور وہی پہنائیں گے جو ہم خود پہنیں گے اور اسے ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی اس میں طاقت نہ ہو ۔ پھر حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اپنے گھر چلے گئے ، ان کے گھر والے اس غلام کی وجہ سے بہت خوش ہوئے انہوں نے کہا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں ایسا خدمتگار عطا کیا ہے جو ہماری خدمت کرے گا اور ہمارے کاموں میں ہماری مدد کرے گا ، تو حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں مجھے تلقین کی ہے ، اُن کی اہلیہ نے کہا : ٹھیک ہے ، ہم اسے وہی کھلائیں گے جو ہم خود کھاتے ہیں اور اس کو وہی پہننے کے لئے دیں گے جو ہم خود پہنتے ہیں اور اسے کسی ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی یہ طاقت نہ رکھتا ہو ، حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے اس کے بارے میں تلقین کی ہے ، اُن کی اہلیہ نے کہا : سبحان اللہ ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں خدمتگار دیا ہے اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے محروم کر دیں ؟ حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے کہا : تم اللہ کی رضا کے حصول کے لیے آزاد ہو ، اگر تم چاہو تو ہمارے ساتھ رہو ، ہم جو خود کھائیں گے اس میں سے تمہیں کھلائیں گے ، جو خود پہنیں گے اس میں سے تمہیں پہننے کے لئے دیں گے ، اور تمہیں کسی ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی تم میں طاقت نہ ہو اور اگر تم چاہو تو جہاں چاہو چلے جاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکار بن محمد سیرینی ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18266

Majma al-Zawaid #18266

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَفِيقٍ قَالَ: أَقَمْتُ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ بِالْمَدِينَةِ سَنَةً، فَقَالَ لِي ذَاتَ يَوْمٍ وَنَحْنُ عِنْدُ حُجْرَةِ عَائِشَةَ: لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا لَنَا ثِيَابٌ إِلَّا الْبُرُدُ الْمَتَعَتِّقَةُ، وَإِنَّهُ لَتَأْتِي عَلَى أَحَدِنَا الْأَيَّامُ مَا يَجِدُ طَعَامًا يُقِيمُ بِهِ صُلْبَهُ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لِيَأْخُذُ الْحَجَرَ فَيَشُدُّ بِهِ عَلَى أَخْمَصِ بَطْنِهِ، ثُمَّ يَشُدُّهُ بِثَوْبِهِ لِيُقِيمَ بِهِ صُلْبَهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Shafīq reported that he stayed with Abū Hurayrah in Madīnah a year, and one day by the room of ʿĀʾishah he told him he had seen them with no garments but worn cloaks, and days would pass upon them finding no food to hold their backs upright, till one would take a stone and bind it upon his belly with his garment to hold his back. > **"We had no garments but worn cloaks, and one would bind a stone upon his belly to hold his back upright."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن شفیق بیان کرتے ہیں : میں مدینہ منورہ میں ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک سال مقیم رہا ، ایک دن انہوں نے مجھ سے ارشاد فرمایا ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے پاس موجود تھے ، انہوں نے فرمایا : مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے ہمارے پاس مناسب کپڑے نہیں ہوتے تھے ، صرف پھٹی ہوئی چادر ہوتی تھی اور ہم پر کئی دن ایسے گزر جاتے تھے کہ کھانے کے لیے اتنا نہیں ملتا تھا جو پشت کو سیدھا رکھ سکے ، یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی ایک شخص پتھر لے کر اسے اپنے پیٹ پر کپڑے کے ذریعے باندھ لیتا تھا تاکہ اس کے ذریعے اپنی پشت کو قائم رکھ سکے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18267

Majma al-Zawaid #18267

وَعَنْهُ قَالَ: «إِنَّمَا كَانَ طَعَامُنَا مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التَّمْرَ وَالْمَاءَ، وَاللَّهِ، مَا كُنَّا نَرَى سَمْرَاءَكُمْ هَذِهِ، وَلَا نَدْرِي مَا هِيَ؟ وَإِنَّمَا كَانَ لِبَاسُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النِّمَارَ، يَعْنِي: بُرُدَ الْأَعْرَابِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه said their food with the Prophet of Allāh ﷺ was dates and water. By Allāh they never saw this wheat of theirs nor knew what it was. Their clothing with the Messenger of Allāh ﷺ was striped cloaks, meaning the cloaks of the bedouins. > **"Our food with the Prophet of Allāh ﷺ was dates and water, and our clothing was striped cloaks."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہمارا کھانا کھجور اور پانی ہوتا تھا ، اللہ کی قسم ! ہم نے تمہاری یہ گندم دیکھی ہی نہیں تھی ، ہمیں پتا ہی نہیں تھا یہ کیا ہوتی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہمارا لباس چادریں ہوتی تھیں ، راوی کہتے ہیں : یعنی جو دیہاتیوں کا لباس ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔

18268

Majma al-Zawaid #18268

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ قَالَ: قَالَ أَبِي: «لَقَدْ عَمَّرْنَا مَعَ نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ، ثُمَّ قَالَ: هَلْ تَدْرُونَ مَا الْأَسْوَدَانِ؟ قُلْتُ: لَا. قَالَ: الْأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ وَالْمَاءُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ بِسْطَامِ بْنِ مُسْلِمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿāwiyah ibn Qurrah reported from his father that they lived long with their Prophet ﷺ with no food but the two black ones. When asked whether they know what the two black ones are, he said dates and water. > **"We had no food but the two black ones: dates and water."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

معاویہ بن قرہ بیان کرتے ہیں : میرے والد نے فرمایا : ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایسا وقت گزارا ہے کہ ہماری خوراک صرف دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں ، پھر انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو ، دو سیاہ چیزوں سے مراد کیا ہے ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! انہوں نے فرمایا : کھجور اور پانی ۔ یہ روایت امام احمد ، امام بزار ، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف بسطام بن مسلم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18269

Majma al-Zawaid #18269

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلَانِ حَاجَتُهُمَا وَاحِدَةٌ، فَتَكَلَّمَ أَحَدُهُمَا فَوَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ فِيهِ أَخْلَافًا ; فَقَالَ لَهُ: "" أَلَا تَسْتَاكُ؟ "". فَقَالَ: إِنِّي لَأَفْعَلُ وَلَكِنْ لَمْ أَطْعَمْ طَعَامًا مُنْذُ ثَلَاثٍ، فَأَمَرَ بِهِ رَجُلًا، فَآوَاهُ وَقَضَى حَاجَتَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that two men with one need came to the Prophet of Allāh ﷺ, and one spoke. The Messenger of Allāh ﷺ perceived hunger-breath from his mouth and asked will he not use the tooth-stick. He said he does, but he has tasted no food for three days. So he commanded a man concerning him, who sheltered him and fulfilled his need. > **"Will you not use the tooth-stick?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس دو افراد آئے ، ان دونوں کی حاجت ایک ہی تھی ، ان میں سے ایک شخص نے گفتگو شروع کی ، تو نبی اکرم ﷺ کو اس کے منہ میں سے بدبو محسوس ہوئی ، آپ ﷺ نے اُس سے دریافت کیا : کیا تم مسواک نہیں کرتے ہو ؟ اس نے جواب دیا : کرتا ہوں ، لیکن میں نے تین دن سے کھانا نہیں کھایا ، نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں ایک شخص کو ہدایت کی ، وہ اسے اپنے ساتھ لے کر گیا اور اس نے اس کی حاجت پوری کی ۔ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام احمد کی سند عمدہ ہے ۔

18270

Majma al-Zawaid #18270

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «دَخَلْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَجَعَلَ يَأْكُلُ بُسْرًا أَخْضَرَ ; فَقَالَ: " كُلْ يَا ابْنَ عُمَرَ ". قُلْتُ: مَا أَشْتَهِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَا تَشْتَهِيهِ، إِنَّهُ لَأَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنْذُ أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ» ".

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that he entered with the Prophet ﷺ a garden of Madīnah, and he began eating green unripe dates, saying eat, O son of ʿUmar. When he said he does not desire them, he replied thou desirest them not, yet it is the first food the Messenger of Allāh ﷺ has eaten in four days. > **"Eat, O son of ʿUmar. It is the first food the Messenger of Allāh ﷺ has eaten in four days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ مدینہ منورہ کے ایک باغ میں داخل ہوا ، نبی اکرم ﷺ نے تازہ کھجوریں کھانا شروع کیں ، آپ ﷺ نے فرمایا : اے ابن عمر ! تم بھی کھاؤ ! میں نے عرض کی : یا رسول اللہ : مجھے ان کی طلب نہیں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہیں ان کی طلب نہیں ہے ، حالانکہ اللہ کے رسول ﷺ نے گزشتہ چار دن میں یہ پہلا کھانا کھایا ہے ۔

18271

Majma al-Zawaid #18271

وَفِي رِوَايَةٍ: "" «مُنْذُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

In a narration the wording is in three days, concerning the first food the Messenger of Allāh ﷺ had eaten. > **"It is the first food he has eaten in three days."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ گزشتہ تین دن میں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے اور وہ متروک ہے ۔

18272

Majma al-Zawaid #18272

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أَرْسَلَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا، فَأَمْسَكْتُ وَقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ قَالَتْ: فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَطَعْتُ - قَالَ: فَتَقُولُ لِلَّذِي تُحَدِّثُهُ: هَذَا عَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَزَادَ: فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، عَلَى مِصْبَاحٍ؟! قَالَتْ: لَوْ كَانَ عِنْدَنَا دُهْنُ مِصْبَاحٍ لَأَكَلْنَاهُ. وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the family of Abū Bakr sent them a goat's trotters by night, and she held while the Messenger of Allāh ﷺ cut, or she said he held and she cut. She told her narrator this was without a lamp. When asked about a lamp, she said had they oil for a lamp they would have eaten it. > **"Had we oil for a lamp we would have eaten it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے رات کے وقت ہمیں ایک بکری کا پایا بھیجا ( یا ٹانگ بھیجی ) تو میں نے اس کو پکڑ لیا اور نبی اکرم ﷺ نے اس کو کاٹا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم ﷺ نے اسے پکڑ لیا اور میں نے اسے کاٹا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : یہ ان دنوں کی بات ہے جب ( گھروں میں ) چراغ نہیں ہوتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : میں نے کہا : اے ام المومنین ! کیا چراغ نہیں تھا ؟ انہوں نے فرمایا : اگر ہمارے پاس چراغ کے لیے تیل ہوتا تو ہم اس کو کھا لیتے ۔ امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18273

Majma al-Zawaid #18273

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةُ طَوَائِرَ، فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهِ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَمْ أَنْهَكِ عَنْ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا لِغَدٍ؟ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ». "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالٍ: أَبِي الْمُعَلَّى، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that three birds were gifted to the Messenger of Allāh ﷺ, so he fed his servant a bird. The next day she brought it to him, and the Messenger of Allāh ﷺ asked whether he had not forbidden her to store aught for tomorrow, for Allāh brings the provision of every morrow. > **"Did I not forbid you to store aught for tomorrow? For Allāh brings the provision of every morrow."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو تین پرندے تحفے کے طور پر پیش کئے گئے ، آپ نے ایک پرندہ اپنی خادمہ کو کھانے کے لئے دے دیا ، اگلے دن وہ خادمہ اس پرندے کا گوشت لے آئی ، نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس بات سے منع نہیں کیا کہ کل کے لئے کوئی چیز بچا کے نہیں رکھنی ہے ؟ اللہ تعالی روزانہ کا رزق عطا کرتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے جال ہیں ، صرف ہلال ابومعلیٰ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18274

Majma al-Zawaid #18274

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنْ كَانَ السَّبْعَةُ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيَمُصُّونَ التَّمْرَةَ الْوَاحِدَةَ، وَأَكَلُوا الْخَبَطَ، حَتَّى وَرِمَتْ أَشْدَاقُهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خُلَيْدُ بْنُ دَعْلَجٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه reported that seven among the Companions of the Messenger of Allāh ﷺ would suck a single date, and ate tree-leaves till their jaws swelled. > **"Seven among the Companions would suck a single date, and ate tree-leaves till their jaws swelled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے سات اصحاب ایک کھجور چوستے تھے ، وہ لوگ پتے کھا لیتے تھے ، یہاں تک کہ ان کی باچھیں ورم آلود ہو گئی تھیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خلید بن دعلج ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18275

Majma al-Zawaid #18275

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَبِي عُبَيْدَةَ وَنَحْنُ سِتُّمِائَةِ رَجُلٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ ; نَتَلَقَّى عِيرَ قُرَيْشٍ، فَمَا وَجَدَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ زَادٍ إِلَّا جِرَابًا مِنْ تَمْرٍ، فَكَانَ يُعْطِينَا تَمْرَةً تَمْرَةً، كُلَّ يَوْمٍ نَمُصُّهَا ثُمَّ نَشْرَبُ عَلَيْهَا الْمَاءَ، فَوَجَدْنَا فَقْدَهَا حِينَ فَنِيَتْ، ثُمَّ أَقْبَلْنَا عَلَى الْخَبَطِ نَخْبِطُهُ بِعِصِيِّنَا وَنَشْرَبُ عَلَيْهِ الْمَاءَ». فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: «فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" هَلْ مَعَكُمْ مِنْهُ شَيْءٌ؟ "". - يَعْنِي لَحْمَ الْحُوتِ - فَقُلْنَا: نَعَمْ. قَالَ: "" فَأَطْعِمُونَا مِنْهُ "". فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهِ وَشِيقَةً فَأَكَلَهَا». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، وَهُوَ فِي الصَّحِيحِ، وَلَكِنَّهُ قَالَ: وَنَحْنُ ثَلَاثُمِائَةٍ، وَهُنَا قَالَ: سِتُّمِائَةٍ وَبِضْعَةَ عَشَرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbdillāh رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ sent them with Abū ʿUbaydah, six hundred and a few more, to meet the caravan of Quraysh. The Messenger of Allāh ﷺ found for them no provision but a sack of dates; he would give them date by date each day, which they sucked then drank water upon, missing them sorely when exhausted. Then they turned to tree-leaves, beating them with sticks and drinking water upon them. Then he narrated the ḥadīth, saying they came to the Messenger of Allāh ﷺ who asked whether they have aught thereof, meaning whale flesh. They said yes, he said then feed them thereof, so they sent him dried strips and he ate it. > **"Have you aught thereof? Then feed us thereof."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک جنگی مہم پر بھیجا ، ہم چھ سو سے کچھ زائد افراد تھے ، ہم نے قریش کے قافلے کا سامنا کرنا تھا ، ہمیں زاد سفر کے طور پر دینے کے لیے نبی اکرم ﷺ کو صرف کھجوروں کا ایک بڑا تھیلا دستیاب ہوا ، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں روز ایک ایک کھجور دیتے تھے جسے ہم چوس لیتے تھے اور اس کے بعد پانی پی لیتے تھے جب وہ ختم ہو گئیں ، تو ہمیں ان کی غیر موجودگی شدت سے محسوس ہوئی ، پھر ہم اپنی چھڑیوں کے ذریعے پتے اتار لیتے تھے اور ان کے بعد پانی پی لیتے تھے ‘...... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : جب ہم نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس اس میں سے ( یعنی بڑی مچھلی کے گوشت میں سے ) کوئی چیز ہے ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو اس میں سے ہمیں بھی کھلاؤ ! ( راوی کہتے ہیں : ) تو ہم نے آپ ﷺ کی خدمت میں اُس کا گوشت بھیجا تو وہ آپ نے کھا لیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : انہوں نے پوری طویل حدیث نقل کی ہے اور یہ روایت ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :’’ ہم تین سو افراد تھے ۔‘‘ اور یہاں یہ الفاظ ہیں :’’ چھ سو سے کچھ زائد افراد تھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی زمعہ بن صالح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18276

Majma al-Zawaid #18276

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُمَرَ قَالَ: «كَانَ الرَّجُلُ إِذَا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ بِالْمَدِينَةِ يَنْزِلُ عَلَيْهِ نَزَلَ بِأَصْحَابِ الصُّفَّةِ، وَكَانَ لِي بِهَا قُرَنَاءُ، فَكَانَ يَجْرِي عَلَيْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كُلَّ يَوْمَيْنِ اثْنَيْنِ مُدَّانِ مِنْ تَمْرٍ، فَبَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ الصَّلَوَاتِ إِذْ نَادَاهُ مُنَادٍ مِنْ أَصْحَابِهِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحْرَقَ التَّمْرُ بُطُونَنَا، وَتَخَرَّقَتْ عَنَّا الْخُنُفُ. فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الصَّلَاةَ، قَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ ذَكَرَ مَا لَقِيَ مِنْ قَوْمِهِ مِنَ الشِّدَّةِ، قَالَ: "" مَكَثْتُ أَنَا وَصَاحِبِي بِضْعَةَ عَشَرَ يَوْمًا مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا الْبَرِيرَ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى إِخْوَانِنَا مِنَ الْأَنْصَارِ، فَوَاسَوْنَا فِي طَعَامِهِمْ، وَعُظْمُ طَعَامِهِمُ التَّمْرُ وَاللَّبَنُ. وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، لَوْ أَجِدُ لَكُمُ الْخُبْزَ وَاللَّحْمَ لَأَطْعَمْتُكُمُوهُ، وَإِنَّهُ لَعَلَّهُ أَنْ تُدْرِكُوا زَمَانًا - أَوْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْكُمْ - يَلْبَسُونَ مِثْلَ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، يُغْدَى عَلَيْكُمْ وَيُرَاحُ بِالْجِفَانِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ: «كَانَ أَحَدُنَا إِذَا قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَكَانَ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ، فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَنَزَلْتُ الصُّفَّةَ، فَوَافَقْتُ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، فَكَانَ يُجْرِي عَلَيْنَا كُلَّ يَوْمٍ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُدَّيْنِ اثْنَيْنِ». وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عُثْمَانَ الْعُقَيْلِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ṭalḥah ibn ʿUmar reported that when a man came to the Messenger of Allāh ﷺ with no acquaintance in Madīnah to lodge with, he lodged with the people of al-Ṣuffah, among whom he had companions. There would come to them from the Messenger of Allāh ﷺ every two days two mudd of dates. While the Messenger of Allāh ﷺ was in a prayer, a caller of his Companions called O Messenger of Allāh, dates have burnt their bellies and coarse cloaks worn them out. When he finished prayer he stood, praised Allāh and extolled Him, then mentioned the hardship he met from his people, saying he and his companion spent above ten days with no food but wild lote fruit till they came to their brothers of the Anṣār who consoled them with food, mostly dates and milk. By Him besides Whom there is no god, had he bread and meat for them he would feed them, and a time shall come when they wear like the veils of the Kaʿbah and are served bowls morning and evening. > **"We spent above ten days with no food but wild lote fruit. Had I bread and meat for you I would feed you, and a time shall come when bowls are brought to you morning and evening."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب کوئی شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا اور اس کا مدینہ منورہ میں کوئی واقف نہ ہوتا ، جس کے پاس وہ ٹھہر سکے ، تو وہ اصحاب صفہ کے ساتھ ٹھہر جاتا تھا ، وہاں میرے بھی کچھ ساتھی ٹھہرے تھے ، وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ہمیں روزانہ دو دو مد کھجوریں لا دیتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نماز ادا کر رہے تھے اسی دوران آپ کے اصحاب میں سے کسی نے پکار کر آپ کو مخاطب کیا : یا رسول اللہ ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا ہے اور موٹے کپڑوں نے ہمارے جسموں کو جلا دیا ہے ، جب نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کی ، تو آپ کھڑے ہوئے ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر آپ نے اس بات کا ذکر کیا کہ آپ کو لوگوں کی طرف سے کس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ، آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں اور میرے ساتھی دس سے زیادہ دن ایسی حالت میں گزار دیتے تھے کہ ہمارے پاس کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں ہوتی تھی ، صرف پیلو کے درخت کا پھل ہوتا تھا ، یہاں تک کہ ہم اپنے انصاری بھائیوں کے پاس آ گئے تو انہوں نے کھانے کے حوالے سے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا ، ان کی خوراک زیادہ تر کھجور اور دودھ ہوتی تھی ، اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اگر مجھے تمہیں کھلانے کے لیے روٹی اور گوشت دستیاب ہو تو میں تمہیں وہ بھی کھلاؤں ، ایسا ہو گا کہ تم ایسا زمانہ پاؤ گے ( یہاں کچھ الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) کہ اس زمانے میں لوگ ایسے ( عمدہ قسم کے ) کپڑے پہنیں گے ، جیسے خانہ کعبہ کے پردے ہوتے ہیں اور صبح کے وقت اور شام کے وقت اُن کے پاس ( مختلف قسم کے کھانوں کے ) پیالے لائے جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس کے آغاز میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ ہم میں سے کوئی ایک جب مدینہ منورہ آتا تھا اور وہاں اس کا کوئی واقف کار ہوتا تھا تو وہ اس واقف شخص کے ہاں ٹھہر جاتا تھا اور اگر وہاں اس کا کوئی واقف نہیں ہوتا تھا تو وہ صفہ کے چبوترے پر ٹھہر جاتا تھا ، میں مدینہ منورہ آیا اور صفہ کے چبوترے پر ٹھہر گیا میرے ساتھ دو اور آدمی بھی وہاں ٹھہرے ہوئے تھے ، نبی اکرم ﷺ کی طرف سے ہمیں روزانہ دو مد ملتے تھے ۔‘‘ باقی کی روایت حسب سابق ہے ، امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عثمان عقیلی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18277

Majma al-Zawaid #18277

وَعَنْ فَضَالَةَ اللَّيْثِيِّ قَالَ: «قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَكَانَ مَنْ كَانَ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ عَلَى عَرِيفِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ عَرِيفٌ نَزَلَ الصُّفَّةَ، فَلَمْ يَكُنْ لِي عَرِيفٌ ; فَنَزَلْتُ الصُّفَّةَ، فَنَادَاهُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمْعَةِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحْرَقَ بُطُونَنَا التَّمْرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" تُوشِكُونَ أَنَّ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ يُغْدَى عَلَيْهِ بِالْجِفَانِ وَيُرَاحُ، وَتَكْتَسُونَ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Faḍālah al-Laythī رضي الله عنه reported that they came to the Messenger of Allāh ﷺ, whoever had acquaintance lodged with him and whoever had none lodged at al-Ṣuffah. Having none, he lodged at al-Ṣuffah. On Friday a man called O Messenger of Allāh, dates have burnt their bellies, so the Messenger of Allāh ﷺ said those of them who live shall soon be served bowls morning and evening and be clothed as the Kaʿbah is veiled. > **"Those of you who live shall soon be served bowls morning and evening and be clothed as the Kaʿbah is veiled."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے جس شخص کا کوئی واقف کار ہوتا تھا وہ اپنے واقف کے ہاں ٹھہر جاتا تھا اور جس کا کوئی واقف نہیں ہوتا تھا وہ صفہ پر ٹھہر جاتا تھا ، میرا کیونکہ وہاں کوئی واقف نہیں تھا اس لئے میں صفہ کے چبوترے پر ٹھہر گیا ، جمعہ کے دن ایک شخص نے بلند آواز میں نبی اکرم ﷺ کو مخاطب کر کے یہ کہا : یا رسول اللہ ! کھجوروں نے ہمارے پیٹوں کو جلا دیا ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے جو شخص زندہ رہ گیا ، تو وہ عنقریب ایسی صورتحال پائے گا کہ صبح و شام اس کے پاس ( مختلف قسم کے کھانوں کے ) پیالے لائے جائیں گے اور تم لوگ یوں لباس پہنو گے جس طرح خانہ کعبہ پر پردے لٹکائے جاتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18278

Majma al-Zawaid #18278

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «نَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْجُوعِ فِي وُجُوهِ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: "" أَبْشِرُوا فَإِنَّهُ سَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ يُغْدَى عَلَى أَحَدِكُمْ بِالْقَصْعَةِ مِنَ الثَّرِيدِ، وَيُرَاحُ عَلَيْهِ بِمِثْلِهَا "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ؟ قَالَ: "" بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ مِنْكُمْ يَوْمَئِذٍ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ saw hunger in the faces of his Companions and said rejoice, for a time shall come upon them when each is served a bowl of tharīd morning and evening. When asked whether they are better then, he said rather they today are better than they then. > **"Rejoice, for a time shall come when each of you is served a bowl of tharīd morning and evening. Rather you today are better than you then."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے اصحاب کے چہروں میں بھوک ملاحظہ کی تو ارشاد فرمایا : تم لوگ خوش خبری قبول کرو ، کیونکہ عنقریب تم پر ایسا زمانہ آئے گا جب تم میں سے کسی ایک کو ثرید کا پیالہ صبح کے وقت دیا جائے گا اور ویسا ہی شام کے وقت دیا جائے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس وقت زیادہ بہتر حالت میں ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : بلکہ تم آج اس وقت کے مقابلے میں زیادہ بہتر حالت میں ہو ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

18279

Majma al-Zawaid #18279

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ إِذَا غُذِيَ عَلَى أَحَدِكُمْ صَحِيفَةٌ وَرَاحَتْ أُخْرَى، وَغَدَا فِي حُلَّةٍ، وَرَاحَ فِي أُخْرَى، وَتَكْسُونَ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُكْسَى الْكَعْبَةُ؟ "". فَقَالَ رَجُلٌ: نَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ، قَالَ: "" بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي جَعْفَرٍ الْخَطْمِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Yazīd al-Khaṭmī reported that the Messenger of Allāh ﷺ asked whether they are better today or when each is served a dish morning and another evening, robed morning and evening, and their houses clothed as the Kaʿbah is clothed. A man said they would be better then, but he said rather they today are better. > **"Are you better today, or when each is served a dish morning and evening and robed morning and evening? Rather you today are better."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالله بن یزید خطمی رضی اللہ عنہ میں بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ آج زیادہ بہتر حالت میں ہو ؟ یا اس وقت ہو گے جب تم میں سے کسی ایک کے پاس صبح کے وقت ایک پیالہ لایا جائے گا اور شام کے وقت دوسرا لایا جائے گا ، صبح کے وقت ایک حلہ لایا جائے گا اور شام کے وقت دوسرا لایا جائے گا اور تم اپنے گھروں پر یوں پردے لٹکاؤ گے ، جس طرح خانہ کعبہ پر کپڑا لٹکایا جاتا ہے ۔ ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اس وقت بہتر حالت میں ہوں گے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ( جی نہیں ! ) بلکہ تم آج بہتر حالت میں ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابوجعفر خطمی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18280

Majma al-Zawaid #18280

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّهَا سَتُفْتَحُ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا حَتَّى تُنَجِّدُوا بُيُوتَكُمْ كَمَا تُنَجَّدُ الْكَعْبَةُ "". قُلْنَا: وَنَحْنُ عَلَى دِينِنَا الْيَوْمَ؟ قَالَ: "" وَأَنْتُمْ عَلَى دِينِكُمُ الْيَوْمَ "". قُلْنَا: فَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ خَيْرٌ أَمْ ذَلِكَ الْيَوْمَ؟ قَالَ: "" بَلْ أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ الْعَبَّاسِ الشِّبَامِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ said this world shall be opened upon them till they furnish their houses as the Kaʿbah is furnished. When asked while upon their religion today, he said while upon their religion today. When asked whether they are better then or today, he said rather they today are better. > **"This world shall be opened upon you till you furnish your houses as the Kaʿbah is furnished. Rather you today are better."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ عنقریب تمہارے لیے دنیا کو فتح کر دیا جائے گا ، یہاں تک کہ تم اپنے گھروں میں یوں پردے لٹکاؤ گے جس طرح خانہ کعبہ پر کپڑا لٹکایا جاتا ہے ۔‘‘ ہم نے عرض کی : ہم اپنے اسی دین پر ہوں گے جس پر آج ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اپنے اسی دین پر ہو گے جس پر آج ہو ، ہم نے عرض کی : تو ہم اس وقت زیادہ بہتر ہوں گے یا آج زیادہ بہتر ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ تم لوگ آج زیادہ بہتر ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عبدالجبار بن عباس شامی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔