وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ فِي سَاعَةٍ لَمْ يَكُنْ يَخْرُجُ فِيهَا، ثُمَّ خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - "" مَا أَخْرَجَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ؟ "" فَقَالَ: أَخْرَجَنِي الْجُوعُ، قَالَ: "" وَأَنَا أَخْرَجَنِي الَّذِي أَخْرَجَكَ "". ثُمَّ خَرَجَ عُمَرُ فَقَالَ: "" مَا أَخْرَجَكَ يَا عُمَرُ؟ "" قَالَ: أَخْرَجَنِي وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ الْجُوعُ. ثُمَّ سَارَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ: "" انْطَلِقُوا بِنَا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ "" فَانْطَلَقُوا، فَلَمَّا انْتَهَوْا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ قَالَتْ لَهُمُ امْرَأَتُهُ: إِنَّهُ انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ، فَدُورُوا إِلَى الْحَائِطِ، فَدَارُوا إِلَى الْحَائِطِ، فَفَتَحَتْ لَهُمْ بَابَ الْحَائِطِ. فَجاَءَ أَبُو الْهَيْثَمِ، فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ: تَدْرِي مَنْ عِنْدَكَ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَتْ عِنْدَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ، فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ فَعَلَّقَ قِرْبَتَهُ عَلَى نَخْلَةٍ، ثُمَّ أَتَاهُمْ فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ حَيَّا وَرَحَّبَ، ثُمَّ أَتَى مِخْرَفًا فَاخْتَرَفَ لَهُمْ رُطَبًا، فَأَتاَهُمْ بِهِ فَصَبَّهُ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ. ثُمَّ إِنَّ أَبَا الْهَيْثَمِ أَهْوَى إِلَى غُنَيْمَةٍ لَهُ فِي نَاحِيَةِ الْحَائِطِ لِيَذْبَحَ لَهُمْ مِنْهَا شَاةً، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "" أَمَّا ذَاتُ دَرٍّ فَلَا "" فَأَخَذَ شَاةً فَذَبَحَهَا وَسَلَخَهَا وَقَطَّعَهَا أَعْضَاءً ثُمَّ طَبَخَهَا بِالْمَاءَ وَالْمِلْحِ، ثُمَّ أَتَى امْرَأَتَهُ فَسَأَلَهَا، هَلْ عِنْدَكِ مِنْ شَيْءٍ؟ فَقَالَتْ: نَعَمْ، عِنْدَنَا شَيْءٌ مِنْ شَعِيرٍ، كُنْتُ أُؤَخِّرُهُ، فَطَحَنَاهُ بَيْنَهُمَا فَعَجَنَتْهُ وَخَبَزَتْهُ، فَكَسَرَهُ أَبُو الْهَيْثَمِ وَأَكْفَأَ عَلَيْهِ ذَلَكَ اللَّحْمَ الَّذِي طَبَخَهُ، ثُمَّ أَتَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ فَأَكَلُوا ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمِ: "" يَا أَبَا الْهَيْثَمِ، أَمَا لَكَ مِنْ خَادِمٍ؟ "" قَالَ لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا لَنَا خَادِمٌ، قَالَ: "" إِذَا بَلَغَكَ أَنَّهُ قَدْ جَاءَنَا سَبْيٌ فَأْتِنَا نُخْدِمْكَ "". فَأَتَى رَسُولَ اللَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ، فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ غُلَامَانِ - أَوْ قَالَ وَصِيفَانِ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" يَا أَبَا الْهَيْثَمِ اخْتَرْ مِنْهُمَا "" أَوْ قَالَ: "" تَخَايَرْ مِنْهُمَا "" قَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، خِرْ لِي. فَاحْتَاطَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ وَقَالَ: "" الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ يَا أَبَا الْهَيْثَمِ خُذْ هَذَا "" فَلَمَّا وَلَّى بِهِ أَبُو الْهَيْثَمِ قَالَ: "" يَا أَبَا الْهَيْثَمِ أَحْسِنْ إِلَيْهِ فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي "" قَالَ: نَعَمْ، نُطْعِمُهُ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُهُ مِمَّا نَلْبَسُ وَلَا نُكَلِّفُهُ مَا لَا يُطِيقُ. فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى أَهْلِهِ، فَفَرِحُوا بِهِ فَرَحًا شَدِيدًا، وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي رَزَقَنَا خَادِمًا يَخْدُمُنَا وَيُعِينُنَا عَلَى ضَيْعَتِنَا، فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَوْصَانِي بِهِ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: نَعَمْ، نُطْعِمُهُ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُهُ مِمَّا نَلْبَسُ وَلَا نُكَلِّفُهُ مَا لَا يُطِيقُ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَوْصَانِي بِهِ فَقَالَتْ: سُبْحَانَ اللَّهِ، خَادِمٌ أَخْدَمَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ، تُرِيدُ أَنْ تُحْرِمَنَاهُ، فَقَالَ أَبُو الْهَيْثَمِ لِلْغُلَامِ: أَنْتَ حُرٌّ لِوَجْهِ اللَّهِ فَإِنْ شِئْتَ تُقِيمُ مَعَنَا نُطْعِمُكَ مِمَّا نَأْكُلُ وَنُلْبِسُكَ مِمَّا نَلْبَسُ، وَلَا نُكَلِّفُكَ مِنَ الْعَمَلِ إِلَّا مَا تُطِيقُ، وَإِنْ شِئْتَ فَاذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَكَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ السِّيرِينِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
Ibn ʿUmar رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allāh ﷺ went out at an hour he did not usually go out, then Abū Bakr went out and was asked what brought him. He said hunger, and he said what brought thee brought me. Then ʿUmar went out and swore by Him Who sent him with the truth that hunger brought him. Then some of his Companions walked to the Messenger of Allāh ﷺ, who said set out with him to the house of Abū al-Haytham ibn al-Tayyahān. When they reached it his wife said he went to fetch sweet water; go round to the garden, and she opened its gate. Abū al-Haytham came, his wife asked whether he knows who is with him, and told him the Messenger of Allāh ﷺ and his Companions. He entered, hung his waterskin upon a palm, greeted, welcomed, brought fresh ripe dates and poured them before them. Then he turned to his small flock to slaughter a ewe, and the Messenger of Allāh ﷺ said not a milch one. He took a ewe, slaughtered, skinned, jointed, cooked with water and salt, asked his wife whether she has aught, and she said some barley she had stored. They ground it together, she kneaded and baked, Abū al-Haytham broke the bread and poured the cooked meat over it, and brought it to the Messenger of Allāh ﷺ and his Companions and they ate. Then the Messenger of Allāh ﷺ asked O Abā al-Haytham, hast thou no servant. He swore by Him Who sent him with the truth they have none. He told him when captives come to approach him for a servant. Captives came, Abū al-Haytham approached with two lads before him, and the Messenger of Allāh ﷺ told him to choose between them. Abū al-Haytham asked him to choose for him. The Messenger of Allāh ﷺ bared his forearms in care and said the consulted is entrusted; O Abā al-Haytham, take this one. As he turned away with him he said O Abā al-Haytham, do good to him for he was seen praying. He agreed to feed him of what they eat, clothe him of what they wear, and not burden him beyond capacity. Abū al-Haytham went to his family who rejoiced greatly at a servant to aid their estate. He told them the Messenger of Allāh ﷺ counselled him concerning him, his wife agreed to the same terms, then remarked glory be to Allāh, shall they be deprived of a servant Allāh and His Messenger granted them. So Abū al-Haytham told the lad he is free for the sake of Allāh; if he wishes to stay they feed and clothe him and burden him only what he can, and if he wishes to go whither he wills. > **"Not a milch one. The consulted is entrusted; O Abā al-Haytham, take this one. O Abā al-Haytham, do good to him, for I saw him praying."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ایک ایسی گھڑی میں باہر تشریف لے آئے جس میں آپ عام طور پر باہر نہیں آتے تھے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی باہر آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے اُن سے دریافت کیا : اے ابوبکر ! تم کیوں باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : میں بھوک کی وجہ سے باہر آیا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میں بھی اسی کی وجہ سے باہر آیا ہوں ، جس کی وجہ سے تم باہر آئے ہو ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ باہر آ گئے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے عمر ! تم کیوں باہر آئے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں بھوک کی وجہ سے باہر آیا ہوں ۔ پھر نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کی طرف روانہ ہوئے ، آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ ہمارے ساتھ ابوالہیثم بن تیہان کے گھر طرف چلو ! یہ حضرات گئے ، جب یہ حضرات ، حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے تو ان کی اہلیہ نے ان حضرات کو بتایا : وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لینے گئے ہوئے ہیں ، آپ لوگ باغ کی طرف چلے جائیں ، یہ حضرات باغ کی طرف چلے گئے ، اس خاتون نے ان کے لیے باغ کا دروازہ کھول دیا ، پھر حضرت ابوالہیثم بھی آ گئے ، اُن کی اہلیہ نے ان سے کہا : کیا آپ جانتے ہیں آپ کے ہاں کون آیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی نہیں ! اس خاتون نے بتایا : اللہ کے رسول ﷺ اور ان کے اصحاب تشریف لائے ہیں ، حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ ان حضرات کے پاس آئے انہوں نے مشکیزہ کجھور کے درخت کے ساتھ لٹکایا ، پھر ان حضرات کے پاس آ کر انہیں سلام کیا اور انہیں خوش آمدید کہا ، پھر وہ گئے اور ان کے لیے تازہ کھجوریں چن کر لائے اور وہ لا کر ان کے آگے رکھ دیں ، پھر حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ باغ کے کونے میں موجود اپنی بکریوں کی طرف بڑھے تاکہ ان میں سے کوئی بکری ذبح کر لیں ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : دودھ دینے والی بکری کو ( ذبح ) نہ کرنا ، انہوں نے ایک بکری لی ، اُسے ذبح کیا اس کی کھال اتاری ، اس کے اعضاء کاٹے ، پھر اسے پانی اور نمک کے ہمراہ پکایا ، پھر وہ اپنی بیوی کے پاس گئے اور اس سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ! ہمارے پاس تھوڑے سے جو ہیں ، جو میں نے سنبھال کے رکھے ہوئے تھے ، ان دونوں نے ان جو کو پیس لیا ، پھر اس خاتون نے آٹا گوندھا اور اس کی روٹی پکائی ، حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے ان روٹیوں کے ٹکڑے کیے ، ان پر وہ گوشت ڈالا جو انہوں نے پکایا تھا ، پھر وہ اس کو نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کے پاس لے آئے ، اُن حضرات نے اسے کھا لیا ۔ پھر نبی اکرم ﷺ نے اُن سے فرمایا : اے ابوالہیثم ! کیا تمہارے پاس کوئی خادم نہیں ہے ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، ہمارے پاس خادم نہیں ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تمہیں یہ اطلاع ملے کہ ہمارے پاس قیدی آئے ہیں ، تو تم ہمارے پاس آ جانا ، ہم تمہیں کوئی خدمتگار دے دیں گے ، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اس وقت نبی اکرم ﷺ کے سامنے دو غلام موجود تھے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کر لو ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ میرے لئے اختیار کر دیں ، نبی اکرم ﷺ نے احتیاط کی ، یہاں تک کہ آپ نے اپنی آستینیں چڑھا لیں ، آپ نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! جس سے مشورہ لیا جاتا ہے وہ مؤتمن ہوتا ہے ، تم اس کو لے لو ، جب حضرت ابوالہیثم اس غلام کو ساتھ لے کر واپس جانے لگے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوالہیثم ! اس کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ میں نے اسے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے ، حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ٹھیک ہے ، ہم اسے وہی کھلائیں گے جو ہم خود کھائیں گے اور وہی پہنائیں گے جو ہم خود پہنیں گے اور اسے ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی اس میں طاقت نہ ہو ۔ پھر حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اپنے گھر چلے گئے ، ان کے گھر والے اس غلام کی وجہ سے بہت خوش ہوئے انہوں نے کہا : ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جس نے ہمیں ایسا خدمتگار عطا کیا ہے جو ہماری خدمت کرے گا اور ہمارے کاموں میں ہماری مدد کرے گا ، تو حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں مجھے تلقین کی ہے ، اُن کی اہلیہ نے کہا : ٹھیک ہے ، ہم اسے وہی کھلائیں گے جو ہم خود کھاتے ہیں اور اس کو وہی پہننے کے لئے دیں گے جو ہم خود پہنتے ہیں اور اسے کسی ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی یہ طاقت نہ رکھتا ہو ، حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے مجھے اس کے بارے میں تلقین کی ہے ، اُن کی اہلیہ نے کہا : سبحان اللہ ! اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہمیں خدمتگار دیا ہے اور آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں اس سے محروم کر دیں ؟ حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ نے اس غلام سے کہا : تم اللہ کی رضا کے حصول کے لیے آزاد ہو ، اگر تم چاہو تو ہمارے ساتھ رہو ، ہم جو خود کھائیں گے اس میں سے تمہیں کھلائیں گے ، جو خود پہنیں گے اس میں سے تمہیں پہننے کے لئے دیں گے ، اور تمہیں کسی ایسے کام کا پابند نہیں کریں گے جس کی تم میں طاقت نہ ہو اور اگر تم چاہو تو جہاں چاہو چلے جاؤ ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بکار بن محمد سیرینی ہے ، جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور یحیی بن معین نے اسے ثقہ کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔