«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَنَّهُ أَتَى فَاطِمَةَ فَقَالَ لَهَا: إِنِّي لَأَشْتَكِي صَدْرِي مِمَّا أَمْدُرُ بِالْغَرْبِ ; فَقَالَتْ: وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَشْتَكِي يَدِي مِمَّا أَطْحَنُ بِالرَّحَى، فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ: ائْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلِيهِ يُخْدِمُكِ خَادِمًا، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا جَاءَ بِكِ؟ "". قَالَتْ: جِئْتُ لِأُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ قَالَتْ: وَاللَّهِ، مَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ هَيْبَتِهِ، فَانْطَلَقَا إِلَيْهِ جَمِيعًا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا جَاءَ بِكُمَا؟ لَقَدْ جَاءَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - بِكُمَا حَاجَةٌ "". فَقَالَ عَلِيٌّ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَكَوْتُ إِلَى فَاطِمَةَ مِمَّا أَمْدُرُ بِالْغَرْبِ، فَشَكَتْ إِلَيَّ يَدَيْهَا مِمَّا تَطْحَنُ بِالرَّحَى، فَأَتَيْنَاكَ لِتُخْدِمَنَا خَادِمًا مِمَّا آتَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ: "" لَا. وَلَكِنِّي أُنْفِقُ - أَوْ أُنْفِقُهُ - عَلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ الَّذِينَ تُطْوَى أَكْبَادُهُمْ مِنَ الْجُوعِ، لَا أَجِدُ مَا أُطْعِمُهُمْ "". قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَا وَأَخَذَا مَضَاجِعَهُمَا مِنَ اللَّيْلِ، أَتَاهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا فِي الْخَمِيلِ - وَالْخَمِيلُ: الْقَطِيفَةُ - وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَهَا بِهَا، وَبِوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ، وَكَانَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ حِينَ رَدَّهُمَا شَقَّ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا سَمِعَا حِسَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبَا لِيَقُومَا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَكَانَكُمَا "". ثُمَّ جَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى طَرَفِ الْخَمِيلِ، ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّكُمَا جِئْتُمَا لِأُخْدِمَكُمَا خَادِمًا، وَإِنِّي سَأَدُلُّكُمَا - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنَ الْخَادِمِ، تَحْمَدَانِ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَتُسَبِّحَانِ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا، وَتُسَبِّحَانِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدَانِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرَانِهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكَ مِائَةٌ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ» "". قُلْتُ: حَدِيثُ عَلِيٍّ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reported that he came to Fāṭimah complaining of his chest from drawing with the bucket, and she swore by Allāh she complains of her hand from grinding with the mill. ʿAlī told her to approach the Prophet ﷺ and ask him for a servant. She went, greeted him, and the Messenger of Allāh ﷺ asked what brought her. She said she came to greet him, and returning to ʿAlī said by Allāh awe of him kept her from speaking. They went together, and the Messenger of Allāh ﷺ asked what brought them, sure they had a need. ʿAlī said yes, complaining of drawing and grinding, asking for a servant of what Allāh granted him. He said no, but he spends upon the people of al-Ṣuffah whose livers are folded with hunger, finding nothing to feed them. When they returned and lay at night in the coverlet he had furnished her with a pillow stuffed with idhkhir, and the refusal weighed upon them, the Prophet ﷺ came upon hearing his footfall. When they rose he said stay in place, sat upon the edge of the coverlet, and said they came for a servant but he shall guide them to what is better than a servant: to praise Allāh ten times, glorify ten, magnify ten after every prayer, and when lying at night to glorify three and thirty, praise three and thirty, and magnify four and thirty, making a hundred. > **"Stay in your place. I shall guide you to what is better for you than a servant: praise Allāh ten times, glorify ten, and magnify ten after every prayer, and thirty-three and thirty-three and thirty-four when you lie at night."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا : بڑے ڈول کے ذریعے پانی نکالنے کی وجہ سے مجھے سینے میں درد محسوس ہو رہا ہے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم ! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے بھی ہاتھوں میں درد ہوتا ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا : تم نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤ اور نبی اکرم ﷺ سے کوئی خادم مانگ لو ، جو تمہاری خدمت کرے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس گئیں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیوں آئی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اللہ کے رسول ﷺ کو سلام کرنے کے لیے آئی تھی ، جب وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئیں ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نبی اکرم ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے آپ کے ساتھ بات نہیں کر سکی ، پھر وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دونوں کس وجہ سے آئے ہو ؟ تم دونوں کسی کام کے سلسلے میں آئے ہو گے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میں نے فاطمہ کے سامنے یہ شکایت کی کہ بڑے ڈول کے ذریعے پانی نکالنے کی وجہ سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور فاطمہ نے یہ کہا کہ اسے آنا پیسنے کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے تو ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو عطا کیا ہے اس میں سے آپ ہمیں کوئی خادم دیدیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جی نہیں ! میں یہ رقم اہل صفہ پر خرچ کروں گا ، جن کے جگر بھوک کی وجہ سے لپٹے رہتے ہیں اور مجھے انہیں کھلانے کے لئے کچھ دستیاب نہیں ہوتا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : یہ دونوں واپس آ گئے ، جب وہ دونوں رات کے وقت سونے کے لئے لیٹے تو نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں تشریف لے آئے وہ دونوں اس وقت لحاف میں تھے ، نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وہ لحاف جہیز میں دیا تھا اور ایک تکیہ دیا تھا ، جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی ۔ جب نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کی درخواست مسترد کی تھی ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بہت گراں گزری تھی ، جب ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ کی آہٹ محسوس کی تو وہ دونوں اُٹھنے لگے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اپنی جگہ پر رہو ! پھر نبی اکرم ﷺ لحاف کے کنارے پر بیٹھ گئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس لیے آئے تھے تاکہ میں تمہیں کوئی خدمتگار دیدوں ، میں تمہاری رہنمائی اس کی طرف کرتا ہوں جو تمہارے لئے خدمت گزار ملنے سے زیادہ بہتر ہے ، تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ الحمدللہ پڑھا کرو ، دس مرتبہ سبحان اللہ پڑھا کرو ، دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو ، اور جب رات کے وقت تم دونوں سونے کے لیے لیٹو تو 33 مرتبہ سبحان الله 33 مرتبہ الحمدلله 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو ، یہ ایک سو ہو جائیں گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس سے مختصر ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔