Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 17

Book of Asceticism

Hadith 18281–18304

24 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

18281

Majma al-Zawaid #18281

وَعَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: «أَكَلْتُ ثَرِيدًا وَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَجَشَّأْتُ عِنْدَهُ، فَقَالَ: "" يَا أَبَا جُحَيْفَةَ، إِنَّ أَطْوَلَ النَّاسِ جُوعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَكْثَرُهُمْ شِبَعًا فِي الدُّنْيَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Juḥayfah رضي الله عنه reported that he ate tharīd and came to the Prophet ﷺ belching before him. He said O Abā Juḥayfah, the longest in hunger on the Day of Resurrection are the most satiated in this world. > **"The longest in hunger on the Day of Resurrection are the most satiated in this world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ثرید کھایا ، پھر میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، مجھے آپ کے پاس ڈکار آ گیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اے ابوجحیفہ ! قیامت کے دن سب سے زیادہ طویل بھوکے وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں زیادہ سیر رہے ہوں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے دو استاد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

18282

Majma al-Zawaid #18282

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْأَقْمَرِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ يَعْرِضُ سَيْفًا لَهُ فِي رَحْبَةِ الْكُوفَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: مَنْ يَشْتَرِي مِنِّي سَيْفِي هَذَا؟ فَوَاللَّهِ، لَقَدْ جَلَوْتُ بِهِ غَيْرَ كُرْبَةٍ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَوْ أَنَّ عِنْدِي ثَمَنَ إِزَارٍ مَا بِعْتُهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn al-Aqmar reported from his father that he saw ʿAlī ibn Abī Ṭālib عرض a sword of his in the square of Kūfah saying who buys this sword of mine. By Allāh he had dispelled therewith many a distress from the face of the Messenger of Allāh ﷺ, and had he the price of a waist-wrapper he would not sell it. > **"Who buys this sword of mine? By Allāh I dispelled therewith many a distress from the face of the Messenger of Allāh ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن اقمر ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے کوفہ کے میدان میں اپنی تلوار لہرائی اور یہ فرمایا : کون مجھ سے میری یہ تلوار خریدے گا ؟ اللہ کی قسم ! میں نے اس کے ذریعے کئی مرتبہ نبی اکرم ﷺ کا دفاع کیا ہے اور اگر میرے پاس تہبند خریدنے کی رقم ہوتی تو میں نے اسے فروخت نہیں کرنا تھا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن حکم ہے اور وہ ضعیف ہیں ۔

18283

Majma al-Zawaid #18283

وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: «كُنَّا فِي غَزَاةٍ لَنَا، فَلَقِينَا أُنَاسًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَأَجْهَضْنَاهُمْ عَنْ مَلَّةٍ لَهُمْ فَوَقَعْنَا فِيهَا، فَجَعَلْنَا نَأْكُلُ مِنْهَا، وَكُنَّا نَسْمَعُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنَّ مَنْ أَكَلَ الْخُبْزَ سَمِنَ، فَلَمَّا أَكَلْنَا ذَلِكَ الْخَبْزَ شَرَعَ أَحَدُنَا يَنْظُرُ فِي عِطْفَيْهِ هَلْ سَمِنَ؟»

EnglishUnverified translation

Abū Barzah رضي الله عنه reported that they were on a raid of theirs when they met some polytheists and drove them from a bread of theirs, falling upon it and eating. They used to hear in Jāhiliyyah that whoever ate bread fattens, so when they ate that bread each began looking at his sides whether he had fattened. > **"They drove them from a bread and ate, each looking at his sides whether he had fattened."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ ایک جنگی مہم میں شریک تھے ، ہمارا سامنا مشرکین سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد سے ہوا ، ہم نے انہیں ایسی جگہ سے پسپا کر دیا جہاں روٹیاں پکائی جا رہی تھیں ، ہم ۔ نے وہ روٹیاں قبضے میں لیں اور انہیں کھانا شروع کر دیا ، ہم نے زمانہ جاہلیت میں یہ بات سن رکھی تھی کہ جو شخص وہ روٹی کھاتا ہے ، وہ موٹا ہو جاتا ہے ، جب ہم نے وہ روٹیاں کھا لیں ، تو ہم نے اپنے پہلوؤں کا جائزہ لیا کہ کیا وہ موٹے ہوئے ہیں ؟

18284

Majma al-Zawaid #18284

وَفِي رِوَايَةٍ: «كُنَّا يَوْمَ خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَجْهَضْنَاهُمْ عَنْ خُبْزَةٍ لَهُمْ مِنْ نَقِيٍّ». رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In a narration they were at Khaybar with the Messenger of Allāh ﷺ when they drove them from a loaf of theirs of fine flour. > **"They drove them from a loaf of fine flour at Khaybar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے ، ہم نے ان لوگوں کو ایک ایسی جگہ سے پسپا کر دیا جہاں چھنے ہوئے آنے کی روٹیاں موجود تھیں ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18285

Majma al-Zawaid #18285

وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْسٍ قَالَ: «كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ سَلْمَانَ عَلَى شَطِّ دِجْلَةَ، فَقَالَ: يَا أَخَا بَنِي عَبْسٍ، انْزِلْ فَاشْرَبْ، فَشَرِبْتُ، فَقَالَ: مَا نَقَصَ شَرَابُكَ مِنْ دِجْلَةَ؟ قُلْتُ: مَا عَسَى أَنْ يَنْقُصَ؟ قَالَ: فَإِنَّ الْعِلْمَ كَذَلِكَ يُؤْخَذُ مِنْهُ وَلَا يَنْقُصُ. ثُمَّ قَالَ: ارْكَبْ، فَمَرَرْنَا بِأَكْدَاسٍ مِنْ حِنْطَةٍ وَشَعِيرٍ، فَقَالَ: أَفَتَرَى هَذَا؟ فُتِحَ لَنَا، وَقُتِّرَ عَلَى أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِخَيْرٍ لَنَا وَشَرٍّ لَهُمْ؟ قُلْتُ: لَا أَدْرِي وَلَكِنِّي أَدْرِي شَرٌّ لَنَا، وَخَيْرٌ لَهُمْ، قَالَ: مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مُتَوَالِيَةٍ حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

A man of ʿAbs reported that he was travelling with Salmān upon the bank of the Tigris, who told him O brother of Banū ʿAbs, dismount and drink. When he drank he asked how much his drink diminished the Tigris. When he said what could it diminish, he said so is knowledge, taken without diminishing. Then he said mount, and they passed heaps of wheat and barley. He asked whether he sees this opened for them while straitened upon the Companions of Muḥammad ﷺ, for good for them and evil for them, or words to that effect. > **"Knowledge is taken without diminishing, as your drink does not diminish the Tigris."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبس قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ دریائے دجلہ کے کنارے چلتا ہوا جا رہا تھا ، انہوں نے فرمایا : اے بنو عبس سے تعلق رکھنے والے فرد ! نیچے اترو اور پی لو ! میں نے پی لیا ، پھر انہوں نے فرمایا : پی لو میں نے پی لیا ، انہوں نے فرمایا : تمہارے پینے نے دریائے دجلہ ( کے پانی ) میں کتنی کمی کی ہے ؟ میں نے کہا : شاید ہی کوئی کمی کی ہو ، انہوں نے فرمایا : علم بھی اسی طرح ہے ، اس میں سے لیا جاتا ہے لیکن وہ کم نہیں ہوتا ، پھر انہوں نے فرمایا : تم سوار ہو جاؤ ! پھر ہم گندم اور جو کے ڈھیروں کے پاس سے گزرے تو انہوں نے فرمایا : کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہ ہمارے لئے فتح ہے ؟ اور حضرت محمد ﷺ کے اصحاب کی زندگی مشکل تھی ، تو ہماری صورت حال بہتر ہے اور ان کی بری تھی ؟ میں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم ، انہوں نے فرمایا : لیکن مجھے معلوم ہے ، ہماری صورتحال بری ہے ان کی بہتر تھی ، پھر انہوں نے بتایا : ’’ نبی اکرم ﷺ نے کبھی بھی مسلسل تین دن تک سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا ، یہاں تک کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

18286

Majma al-Zawaid #18286

وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ: «كُنْتُ فِي بَعْضِ حُجَرِ نِسَاءِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ عِنْدَهَا، فَجَاءَ رَجُلٌ يَشْتَكِي إِلَيْهِ الْحَاجَةَ، فَقَالَ: "" اصْبِرْ، فَوَاللَّهِ، مَا فِي آلِ مُحَمَّدٍ شَيْءٌ مُنْذُ سَبْعٍ، وَلَا أُوقِدَ تَحْتَ بُرْمَةٍ لَهُمْ مُنْذُ ثَلَاثٍ، وَاللَّهِ، لَوْ سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ جِبَالَ تِهَامَةَ كُلَّهَا ذَهَبًا لَفَعَلَ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ فَرُّوخَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Umm Sulaym رضي الله عنها reported that she was in one of the rooms of the wives of the Prophet ﷺ while he was there, when a man came complaining of need. He said be patient, for by Allāh there is nothing in the family of Muḥammad for seven nights, nor has fire been kindled beneath their pot for three. By Allāh had he asked Allāh to make the mountains of Tihāmah all gold He would have done so. > **"Be patient, for by Allāh there is nothing in the family of Muḥammad for seven nights, nor has fire been kindled beneath their pot for three."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی ایک زوجہ محترمہ کے حجرے میں موجود تھی ، نبی اکرم ﷺ بھی اُس زوجہ محترمہ کے ہاں تھے ، اسی دوران ایک شخص آیا اور اس نے حاجت مند ہونے کی شکایت کی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم صبر سے کام لو ! اللہ کی قسم ! محمد ( ﷺ ) کے گھر والوں کے پاس پچھلے سات دنوں سے ( دینے کے لیے ) کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی پچھلے تین دنوں سے اُن کی ہنڈیا کے نیچے آگ جلی ہے ، اللہ کی قسم ! اگر میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگوں کہ وہ تہامہ کے تمام پہاڑوں کو سونے کا بنا دے ، تو وہ ایسا کر دے گا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن فروخ ہے جس میں بہت زیادہ ضعف ہونے کے باوجود ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18287

Majma al-Zawaid #18287

وَعَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: «أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَسْأَلُهُ، فَجَعَلَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ، وَأَنَا أَلُومُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَخَرَجْتُ فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنَتِي وَهِيَ تَحْتَ شُرَحْبِيلَ بْنِ حَسَنَةَ، فَوَجَدْتُ شُرَحْبِيلَ فِي الْبَيْتِ فَقُلْتُ: قَدْ حَضَرَتِ الصَّلَاةُ وَأَنْتَ فِي الْبَيْتِ؟! وَجَعَلْتُ أَلُومُهُ، فَقَالَ: يَا خَالَةُ لَا تَلُومِينِي ; فَإِنَّهُ كَانَ لِي ثَوْبٌ فَاسْتَعَارَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي كُنْتُ أَلُومُهُ مُنْذُ الْيَوْمِ، وَهَذِهِ حَالُهُ وَلَا أَشْعُرُ. فَقَالَ شُرَحْبِيلُ: مَا كَانَ إِلَّا دِرْعٌ رَقَعْنَاهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Shifāʾ bint ʿAbdillāh رضي الله عنها reported that she came to the Messenger of Allāh ﷺ asking, and he kept excusing himself while she reproached him. Prayer came, so she went out to her daughter under Shuraḥbīl ibn Ḥasanah, finding Shuraḥbīl at home. When she reproached him for staying home at prayer, he said O aunt, blame me not, for he had a garment which the Prophet ﷺ borrowed. > **"I had a garment which the Prophet ﷺ borrowed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی ، تاکہ آپ سے کچھ مانگوں ، نبی اکرم ﷺ میرے سامنے معذرت کرتے رہے اور میں اصرار کرتی رہی ، اسی دوران نماز کا وقت ہو گیا ، میں وہاں سے نکلی اور اپنی بیٹی کے پاس آ گئی ، جو شرحبیل بن حسنہ کی بیوی تھی ، میں نے شرحبیل کو گھر میں پایا ، میں نے کہا : نماز کا وقت ہو گیا ہے اور تم گھر میں موجود ہو ؟ میں نے اسے ملامت کرنی شروع کی ، اس نے کہا : اے خالہ جان ! آپ مجھے ملامت نہ کریں ، میرے پاس ( باہر پہن کے جانے کے لیے ) ایک ہی کپڑا تھا اور وہ نبی اکرم ﷺ نے عاریت کے طور پر مجھ سے لے لیا ہے ( راوی خاتون کہتی ہیں : ) میں نے سوچا ، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں ، میں تو آج ان کے سامنے اصرار کرتی رہی ہوں اور ان کی یہ حالت ہے اور مجھے اس کا پتہ بھی نہیں تھا ، تو شرحبیل نے بتایا ( جو کپڑا نبی اکرم ﷺ نے عاریت کے طور پر لیا ہے ) وہ ایک قمیص ہے ، جس پر ہم نے پیوند لگائے ہوئے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالوہاب بن ضحاک ہے اور وہ متروک ہے ۔

18288

Majma al-Zawaid #18288

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «إِنِّي لَأَعْلَمُ أَكْثَرَ مَالٍ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ تَعَالَى، قَدِمَ عَلَيْهِ فِي جُنْحِ اللَّيْلِ خَرِيطَةٌ فِيهَا ثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ وَصَحِيفَةٌ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيَّ - وَكَانَتْ لَيْلَتِي - ثُمَّ انْقَلَبَ بَعْدَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ فَصَلَّى فِي الْحُجْرَةِ فِي مُصَلَّاهُ، وَقَدْ مَهَّدْتُ لَهُ وَلِنَفْسِي، فَأَنَا أَنْتَظِرُ فَأَطَالَ، ثُمَّ خَرَجَ ثُمَّ رَجَعَ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى دُعِيَ لِصَلَاةِ الصُّبْحِ، فَصَلَّى ثُمَّ رَجَعَ، فَقَالَ: "" أَيْنَ تِلْكَ الْخَرِيطَةُ الَّتِي فَتَنَتْنِي الْبَارِحَةَ؟ "". فَدَعَا بِهَا فَقَسَّمَهَا. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ، فَقَالَ: "" كُنْتُ أُصَلِّي فَأُوتَى بِهَا، فَأَنْصَرِفُ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهَا، ثُمَّ أَرْجِعُ فَأُصَلِّي» "". قُلْتُ: تَقَدَّمَ لِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ فِي بَابِ الْإِنْفَاقِ، وَأَنَّهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشِيَ أَنْ يُتَوَفَّى قَبْلَ أَنْ يُقَسِّمَهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَبَعْضُهَا جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah رضي الله عنها reported that she knows best the most wealth that came to the Prophet ﷺ till Allāh took him: there came in the night a purse with eight hundred dirhams and a sheet, which he sent to her as it was her night. After the last ʿishāʾ he returned, prayed in his prayer place in the room while she prepared bedding for him and herself, waiting long. He kept going out and returning likewise till dawn call or summons, prayed and returned asking where is the purse that kept him in trial last night. He summoned it and divided it. When asked why he did what he never did, he said it came while praying; he finished, saw it, then resumed praying. > **"Where is the purse that kept me in trial last night?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے وصال تک آپ کے پاس جو سب سے زیادہ مال آیا ہے ، میں اس کے بارے میں جانتی ہوں ، ایک مرتبہ رات کے وقت آپ کے پاس ایک تھیلی آئی تھی ، جس میں آٹھ سو درہم تھے اور ایک صحیفہ تھا ، وہ آپ نے میری طرف بھجوا دیے کیونکہ وہ میری باری کی مخصوص رات تھی ، عشاء کی نماز کے بعد نبی اکرم ﷺ تشریف لے آئے ، آپ نے حجرہ میں اپنی نماز کی مخصوص جگہ پر نماز ادا کرنا شروع کی ، میں نے آپ کے لئے اور اپنے لئے بستر بچھا دیا تھا ، میں انتظار کرتی رہی ، آپ خاصی دیر نماز ادا کرتے رہے ، پھر آپ جائے نماز سے تشریف لائے ، پھر واپس چلے گئے ، مسلسل ایسا ہوتا رہا ، یہاں تک کہ صبح کی نماز کے لئے اذان ہو گئی ( یا آپ کو صبح کی نماز کے لیے بلا لیا گیا ) آپ نماز پڑھ کر واپس تشریف لائے تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ تھیلی کہاں ہے ؟ جس نے گزشتہ رات مجھے آزمائش کا شکار کیے رکھا ، نبی اکرم ﷺ نے اسے منگوایا اور اس رقم کو تقسیم کر دیا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا کام کیا ہے جو آپ پہلے نہیں کرتے تھے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں نماز ادا کر رہا تھا ، اسی دوران یہ آ گئے ، میں نے نماز ختم کی ، پھر ان کو دیکھا ، پھر دوبارہ نماز ادا کرنا شروع کر دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس حدیث کے مختلف طرق ، خرچ کرنے سے متعلق باب میں گزر چکے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ رقم تقسیم کرنے سے پہلے آپ کا وصال نہ ہو جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے بعض عمدہ ہیں ۔

18289

Majma al-Zawaid #18289

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللَّهَ ; فَإِنَّكُمْ إِنِ اتَّقَيْتُمُ اللَّهَ يُشْبِعْكُمْ مِنْ زَيْتِ الشَّامِ، وَقَمْحِ الشَّامِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd رضي الله عنه reported that he heard the Prophet ﷺ say O people, fear Allāh, for if you fear Allāh He shall satiate you with the oil of Syria and the wheat of Syria. > **"O people, fear Allāh, for if you fear Allāh He shall satiate you with the oil of Syria and the wheat of Syria."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے لوگو ! اللہ سے ڈرو ! کیونکہ اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو وہ عنقریب تمہیں شام کا زیتون کا تیل اور شام کی گندم سیر ہو کر کھانے کے لئے عطا کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالحسین بن عباس ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18290

Majma al-Zawaid #18290

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: أَنْتُمْ أَكْثَرُ صَلَاةً، وَأَكْثَرُ اجْتِهَادًا مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانُوا خَيْرًا مِنْكُمْ، قَالُوا: بِمَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ كَانُوا أَزْهَدَ فِي الدُّنْيَا، أَرْغَبَ فِي الْآخِرَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَارَةُ بْنُ يَزِيدَ صَاحِبُ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, said they pray more and strive more than the Companions of Muḥammad ﷺ, yet they were better than them. When asked why, O Abā ʿAbd al-Raḥmān, he said they were more renunciant in this world and more desirous of the Hereafter. > **"They were more renunciant in this world and more desirous of the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ حضرت محمد ﷺ کے اصحاب سے زیادہ ( نفلی ) نمازیں ادا کرتے ہو اور زیادہ اہتمام سے عبادت کرتے ہو لیکن وہ لوگ تم سے بہتر تھے ، لوگوں نے دریافت کیا : اے ابوعبدالرحمن ! وہ کیوں ؟ انہوں نے جواب دیا : کیونکہ وہ لوگ دنیا سے زیادہ بے رغبت تھے اور آخرت کی طرف زیادہ رغبت رکھتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمارہ بن یزید ہے جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا شاگرد ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18291

Majma al-Zawaid #18291

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ: قَالَ بِيعَ مَتَاعُ سَلْمَانَ، فَبَلَغَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Badhīmah reported that the goods of Salmān were sold, reaching fourteen dirhams. > **"The goods of Salmān were sold, reaching fourteen dirhams."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن بذیمہ بیان کرتے ہیں : حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کا سامان فروخت کیا گیا تو اس کی قیمت 14 درہم تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

18292

Majma al-Zawaid #18292

«وَعَنْ سَلْمَى - امْرَأَةِ أَبِي رَافِعٍ - قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالُوا: اصْنَعِي لَنَا طَعَامًا مِمَّا كَانَ يُعْجِبُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَكْلُهُ، قَالَتْ: يَا بَنِيَّ، إِذًا لَا تَشْتَهُونَهُ الْيَوْمَ، فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ شَعِيرًا فَطَحَنْتُهُ، وَنَسَفْتُهُ، وَجَعَلْتُ مِنْهُ خُبْزَةً، وَكَانَ أُدْمُهُ الزَّيْتَ، وَنَثَرْتُ عَلَيْهِ الْفُلْفُلَ، فَقَرَّبْتُهُ إِلَيْهِمْ وَقُلْتُ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُحِبُّ هَذَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ فَايِدٍ مَوْلَى ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Salmā, wife of Abū Rāfiʿ رضي الله عنها, reported that al-Ḥasan ibn ʿAlī, ʿAbdullāh ibn Jaʿfar and ʿAbdullāh ibn ʿAbbās came to her asking her to make food of what the Prophet ﷺ liked to eat. She said O my sons, ye shall not desire it today. She rose, took barley, ground, winnowed, made a loaf with oil as condiment, sprinkled pepper upon it, served them and said the Prophet ﷺ loved this. > **"The Prophet ﷺ loved this."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سیدہ سلمیٰ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہ ، حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما میرے ہاں آئے ، انہوں نے کہا : آپ ہمارے لئے بھی وہ کھانا تیار کریں ، جو کھانا نبی اکرم ﷺ پسند کرتے تھے ، اس خاتون نے کہا : اے میرے بیٹو ! آج تمہیں اس کی خواہش نہیں ہو گی ، وہ خاتون کہتی ہے : میں اُٹھی میں نے کچھ جو لیے ، اُنہیں پیسا ، انہیں چھانا اور ان کی روٹی پکائی ، روٹی کے ساتھ سالن کے طور پر زیتون کا تیل تھا ، میں نے اس پر کچھ مرچیں رکھ دیں ، پھر میں نے وہ کھانا اُن حضرات کے آگے رکھا ، میں نے کہا : نبی اکرم ﷺ اس کو پسند کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف فائد نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے جو حضرت ابورافع رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا غلام ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18293

Majma al-Zawaid #18293

«وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: لَوْ رَأَيْتَنَا وَنَحْنُ مَعَ نَبِيِّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَحَسِبْتَ أَنَّمَا رِيحُنَا رِيحُ الضَّأْنِ، إِنَّمَا لِبَاسُنَا الصُّوفُ، وَطَعَامُنَا الْأَسْوَدَانِ: التَّمْرُ وَالْمَاءُ». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā رضي الله عنه said had they seen them with their Prophet ﷺ they would deem their scent the scent of sheep, for their clothing was wool and their food the two black ones, dates and water. > **"Our clothing was wool and our food the two black ones, dates and water."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کاش تم ہمیں اس وقت دیکھتے جب ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ہوتے تھے تو تم یہ گمان کرتے کہ ہمارے اندر سے بھیڑوں کی بو آ رہی ہے ، کیونکہ ہمارا لباس اونی ہوتا تھا اور ہماری خوراک دو سیاہ چیزیں ، یعنی کھجور اور پانی ہوتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18294

Majma al-Zawaid #18294

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقَدَحٍ فِيهِ لَبَنٌ وَعَسَلٌ، فَقَالَ: "" شَرْبَتَيْنِ فِي شَرْبَةٍ، وَأُدْمَيْنِ فِي قَدَحٍ، لَا حَاجَةَ لِي بِهِ، أَمَا إِنِّي لَا أَزْعُمُ أَنَّهُ حَرَامٌ، أَكْرَهُ أَنْ يَسْأَلَنِي اللَّهُ عَنْ فُضُولِ الدُّنْيَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَتَوَاضَعُ لِلَّهِ، فَمَنْ تَوَاضَعَ لِلَّهِ رَفَعَهُ اللَّهُ، وَمَنْ تَكَبَّرَ وَضَعَهُ اللَّهُ، وَمَنِ اقْتَصَدَ أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ أَكْثَرَ ذِكْرَ الْمَوْتِ أَحَبَّهُ اللَّهُ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ مُوَرِّعٍ الْعَنْبَرِيُّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allāh ﷺ was brought a cup with milk and honey, and said two drinks in one drink and two condiments in one cup, he has no need of it. He does not deem it unlawful, but dislikes that Allāh ask him about the luxuries of this world on the Day of Resurrection. He humbles himself to Allāh; whoever humbles himself to Allāh, Allāh raises him; whoever is proud, Allāh abases him; whoever is moderate, Allāh enriches him; and whoever remembers death much, Allāh loves him. > **"Two drinks in one drink and two condiments in one cup, I have no need of it. I humble myself to Allāh; whoever humbles himself to Allāh, Allāh raises him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک پیالہ لایا گیا جس میں دودھ اور شہد موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک مشروب میں پینے کی دو چیزیں اور ایک پیالے میں دو طرح کے سالن ، مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ، میں یہ نہیں کہتا کہ یہ حرام ہے لیکن مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھ سے اضافی چیزوں کے بارے میں سوال کرے ، میں اللہ تعالیٰ کی خاطر تواضع اختیار کرتا ہوں ، جو شخص اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے سربلندی عطا کرتا ہے اور جو شخص تکبر کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے پست کر دیتا ہے ، جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالی اسے خوش حال کر دیتا ہے اور جو شخص موت کو زیادہ یاد کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے محبت رکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن مورع عنبری ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18295

Majma al-Zawaid #18295

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «إِنْ كَانَ لَتَمُرُّ بِآلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْأَهِلَّةُ مَا يُسْرَجُ فِي بَيْتِ وَاحِدٍ مِنْهُمْ سِرَاجٌ، وَلَا يُوقَدُ فِيهِ نَارٌ، وَإِنْ وَجَدُوا زَيْتًا ادَّهَنُوا بِهِ، وَإِنْ وَجَدُوا وَدَكًا أَكَلُوهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that new moons would pass over the family of the Messenger of Allāh ﷺ with no lamp lit in a single house of them nor fire kindled. If they found oil they anointed therewith, and if they found fat they ate it. > **"New moons would pass with no lamp lit nor fire kindled; if they found oil they anointed therewith, and if they found fat they ate it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے گھر والوں پر پہلی کے کئی چاند گزر جاتے تھے اور اس دوران اُن میں سے کسی ایک کے گھر میں ( رات کے وقت روشنی کرنے کے لئے ) چراغ نہیں جلایا گیا ہوتا تھا ، یا ( کھانا پکانے کے لئے ) آگ نہیں جلائی گئی ہوتی تھی ، اگر انہیں زیتون کا تیل ملتا تھا ، تو وہ اسے لگا لیتے تھے اور اگر چربی ملتی تھی ، تو وہ اسے کھا لیتے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن عطاء خراسانی ہے اور وہ ضعیف ہے دحیم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18296

Majma al-Zawaid #18296

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" «إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ، وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي الَّذِي يَلْحَقُنِي عَلَى مَا عَاهَدْتُهُ عَلَيْهِ» "". رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say the dearest to him and nearest from him is he who joins him upon what he covenanted him. > **"The dearest to me and nearest from me is he who joins me upon what I covenanted him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا جو مجھ سے اسی حالت میں آ کر ملے گا جس حالت پر میں مسلسل رہا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

18297

Majma al-Zawaid #18297

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِي ذَهَبٌ أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَمُوتُ يَوْمَ أَمُوتُ أَتْرُكُ مِنْهُ دِينَارًا إِلَّا دِينَارًا أُعِدُّهُ لِغَرِيمٍ إِنْ كَانَ "". فَمَاتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَا تَرَكَ دِينَارًا، وَلَا دِرْهَمًا، وَلَا عَبْدًا، وَلَا وَلِيدَةً، وَتَرَكَ دِرْعَهُ رَهْنًا بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ، وَابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Prophet ﷺ said it would not please him that Uḥud be gold for him spent in the path of Allāh, dying the day he dies leaving a dīnār thereof except a dīnār prepared for a creditor if any. So the Messenger of Allāh ﷺ died leaving neither dīnār nor dirham nor slave nor bondmaid, leaving his armour pawned for thirty ṣāʿ of barley. > **"It would not please me that Uḥud be gold for me spent in the path of Allāh, dying leaving a dīnār thereof except a dīnār prepared for a creditor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ احد پہاڑ میرے لیے سونے کا ہو جائے اور میں اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دوں ، اور پھر جس دن میرا انتقال ہو ، میں نے اس میں سے ایک دینار چھوڑ دیا ہو ( یعنی اس کو خرچ نہ کیا ہو ) البتہ اس دینار کا معاملہ مختلف ہے جو میں نے کسی قرض خواہ کے لیے رکھا ہو ، اگر وہ ( یعنی کوئی قرض ) ہو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ کا وصال ہو گیا اور آپ نے کوئی بھی دینار یا درہم یا غلام یا کنیز نہیں چھوڑے ، آپ ﷺ نے اپنی زرہ چھوڑی تھی جو کہ تیس صاع کے عوض میں رہن رکھی ہوئی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

18298

Majma al-Zawaid #18298

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى سَرِيرٍ مُزَمَّلٌ بِشَرِيطٍ، وَتَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَدَخَلَ عُمَرُ، فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - انْحِرَافَةً، فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبِهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا، وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَى ; فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ؟ "". قَالَ: وَاللَّهِ، مَا أَبْكِي أَنْ لَا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، وَهُمَا يَعِيثَانِ فِيمَا يَعِيثَانِ فِيهِ، وَأَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى؟ قَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ؟! "". فَقَالَ عُمَرُ: بَلَى. قَالَ: "" فَإِنَّهُ كَذَلِكَ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that he entered upon the Messenger of Allāh ﷺ lying upon a bed laced with cord, beneath his head a pillow of hide stuffed with fibre. Some of his Companions entered, and ʿUmar entered. The Messenger of Allāh ﷺ shifted, and ʿUmar saw no garment between his side and the cord, its mark upon his side, so he wept. The Prophet ﷺ asked what makes thee weep, O ʿUmar. He said by Allāh he weeps not unaware that he is nobler to Allāh than Kisrā and Caesar living in luxury while he, the Messenger of Allāh ﷺ, lies thus. The Prophet ﷺ asked is he not pleased that theirs be this world and ours the Hereafter. ʿUmar said yes, and he said so it is. > **"Are you not pleased that theirs be this world and ours the Hereafter? So it is."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت پلنگ پر لیٹے ہوئے تھے جو بان ( یا رسی ) سے بنا ہوا تھا ، آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا تکیہ تھا جس کے اندر پتے بھرے ہوئے تھے ، آپ کے کچھ اصحاب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ اندر آئے تو نبی اکرم ﷺ نے پہلو بدلا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ نبی اکرم ﷺ کے پہلو اور چارپائی کے بان کے درمیان کوئی کپڑا نہیں ہے اور اس وجہ سے بان کا نشان نبی اکرم ﷺ کے پہلو پر بن گیا ہے ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے ، نبی اکرم ﷺ نے اُن سے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ اے عمر ! حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نہ روتا اگر مجھے اس بات کا علم نہ ہوتا کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کسریٰ اور قیصر سے زیادہ معزز ہیں ، اور وہ ( یعنی قیصر و کسریٰ ) ہر طرح کی ناز و نعمت میں رہ رہے ہیں ، جبکہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور آپ کی یہ صورت حال ہے جو مجھے دکھائی دے رہی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ اُن لوگوں کے لئے دنیا ہو اور ہمارے لئے آخرت ہو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی میں اس سے راضی ہوں ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو ایسا ہی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے ایک جماعت نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

18299

Majma al-Zawaid #18299

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جِسْمِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا، فَقَالَ: " مَا لِي وَلِلدُّنْيَا! وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ، فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا» ". وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that ʿUmar entered upon the Messenger of Allāh ﷺ while he was upon a mat that marked his body, suggesting he take a softer bed. He said what has he to do with this world. By Him in Whose Hand is his soul, his likeness and the likeness of this world is but as a rider journeying on a hot day, shading beneath a tree a while, then departing and leaving it. > **"What have I to do with this world? My likeness and the likeness of this world is but as a rider shading beneath a tree a while, then departing and leaving it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت چٹائی پر تھے ، جس کا نشان آپ کے جسم پر بن گیا تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ کوئی بچھونا بچھا لیتے تو اس کا نشان نہیں بننا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میرا دنیا کے ساتھ کیا واسطہ ؟ اُس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میری اور دنیا کی مثال اُس سوار کی مانند ہے جو ایک گرم دن میں سفر کر رہا ہوتا ہے اور گھڑی بھر کے لیے کسی درخت کے سائے میں آ جاتا ہے اور پھر وہاں سے روانہ ہو جاتا ہے اور اُس ( درخت یا سائے ) کو وہیں چھوڑ جاتا ہے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہلال بن خباب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

18300

Majma al-Zawaid #18300

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ فِي غُرْفَةٍ كَأَنَّهَا بَيْتُ حَمَامٍ، وَهُوَ نَائِمٌ عَلَى حَصِيرٍ، قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِهِ، فَبِكَيْتُ فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ؟ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِسْرَى وَقَيْصَرُ يَطْوُونَ عَلَى الْخَزِّ وَالدِّيبَاجِ وَالْحَرِيرِ، وَأَنْتَ نَائِمٌ عَلَى هَذَا الْحَصِيرِ قَدْ أَثَّرَ بِجَنْبِكَ؟ فَقَالَ: "" فَلَا تَبْكِ يَا عَبْدَ اللَّهِ، فَإِنَّ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةَ، وَمَا أَنَا وَالدُّنْيَا، وَمَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَمَثَلِ رَاكِبٍ نَزَلَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، ثُمَّ سَارَ وَتَرَكَهَا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ قَائِدُ الْأَعْمَشِ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that he entered upon the Prophet ﷺ in an upper room as though a bathhouse, sleeping upon a mat that marked his side, so he wept. He asked what makes thee weep, O ʿAbdullāh. He said O Messenger of Allāh, Kisrā and Caesar recline upon brocade, dībāj and silk while thou sleepest upon this mat that marked thy side. He said weep not, O ʿAbdullāh, for theirs is this world and ours the Hereafter. What has he to do with this world; his likeness and the likeness of this world is but as a rider alighting beneath a tree, then journeying and leaving it. > **"Weep not, O ʿAbdullāh, for theirs is this world and ours the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت بالاخانے میں موجود تھے جو حمام کی طرح ( گرم ) تھا ، نبی اکرم ﷺ ایک چٹائی پر سوئے ہوئے تھے جس کا نشان آپ کے پہلو پر بن گیا تھا ، میں رو پڑا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عبداللہ ! تم کیوں رو رہے ہو ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسریٰ اور قیصر خز دیباج ، حریر ( یعنی ریشم کی مختلف قسموں ) پر چلتے ہیں اور آپ اس چٹائی پر سوئے ہوئے ہیں ، جس نے آپ کے پہلو پر نشان ڈال دیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے عبداللہ ! تم نہ روؤ ! کیونکہ ان لوگوں کے لئے دنیا ہے اور ہمارے لئے آخرت ہو گی ، میرا دنیا کے ساتھ کیا واسطہ ؟ میری اور دنیا کی مثال اُس سوار کی مانند ہے جو کسی درخت کے نیچے پڑاؤ کرتا ہے اور پھر روانہ ہو جاتا ہے اور اُسے وہیں چھوڑ جاتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن سعید ہے جو اعمش کو ساتھ لے کر چلتا تھا ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

18301

Majma al-Zawaid #18301

وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: «أَصَابَتْ إِصْبُعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَجَرَةٌ فَدَمِيَتْ، فَقَالَ: "" هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبُعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ؟ "" فَحُمِلَ فَوُضِعَ عَلَى سَرِيرٍ مُزَمَّلٍ بِخُوصٍ أَوْ شَرِيطٍ، وَوُضِعَ تَحْتَ رَأْسِهِ مِرْفَقَةٌ مِنْ أَدَمٍ، حَشْوُهَا لِيفٌ، فَأَثَّرَ الشَّرِيطُ فِي جَنْبِهِ، فَجَاءَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَبَكَى، فَقَالَ: "" مَا يُبْكِيكَ؟ "". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِسْرَى وَقَيْصَرُ يَجْلِسُونَ عَلَى سُرُرِ الذَّهَبِ، وَيَلْبَسُونَ الدِّيبَاجَ وَالْإِسْتَبْرَقَ؟ قَالَ: "" أَمَا تَرْضَوْنَ أَنَّ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَكُمُ الْآخِرَةَ؟!» "". قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ: "" «هَلْ أَنْتِ إِلَّا إِصْبُعٌ دَمِيتِ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا لَقِيتِ»؟ "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ زِيَادٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jundub رضي الله عنه reported that a tree struck the finger of the Prophet ﷺ and it bled, so he said art thou but a finger that bled and suffered in the path of Allāh. He was carried and laid upon a bed laced with palm fibre or cord, beneath his head a cushion of hide stuffed with fibre, and the cord marked his side. ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb came and wept. When asked what makes thee weep, he said O Messenger of Allāh, Kisrā and Caesar sit upon golden couches wearing dībāj and istabraq. He asked are they not pleased that theirs be this world and theirs the Hereafter. > **"Art thou but a finger that bled and suffered in the path of Allāh? Are you not pleased that theirs be this world and yours the Hereafter?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی ایک انگلی درخت کے ذریعے زخمی ہو گئی اور اس میں سے خون نکل آیا تو نبی اکرم ﷺ نے یہ کہا : ’’ تم صرف ایک انگلی ہو ، جس میں سے خون نکل آیا ہے اور تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ کو اٹھایا گیا اور آپ کو ایک ایسی چارپائی پر لٹایا گیا ، جو بان والی تھی ، آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا بنا ہوا تکیہ رکھا گیا جس میں پتے بھرے ہوئے تھے اس بان کا نشان آپ کے پہلو پر لگ گیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو وہ رونے لگے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسریٰ اور قیصر سونے کے پلنگوں پر بیٹھتے ہیں اور دیباج اور استبرق پہنتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو ؟ کہ اُن کو دنیا ملی ہے اور تمہیں آخرت مل جائے گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس میں سے یہ الفاظ منقول ہیں : ’’ تم صرف ایک انگلی ہو جس میں سے خون نکل آیا ہے اور تمہیں اللہ کی راہ میں اس صورت حال کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن زیاد ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18302

Majma al-Zawaid #18302

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَرِيرٌ مُشَبَّكٌ بِالْبُورِيِّ، وَعَلَيْهِ كِسَاءٌ أَسْوَدُ، فَأَجْلَسْنَاهُ عَلَى الْبُورِيِّ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَالِسٌ عَلَيْهِ، فَنَظَرَا فَرَأَيَا أَثَرَ السَّرِيرِ فِي جَنْبِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا يُبْكِيكُمَا؟ "". قَالَا: نَبْكِي لِأَنَّ هَذَا السَّرِيرَ قَدْ أَثَّرَتْ فِي جَنْبِكَ خُشُونَتُهُ، وَكِسْرَى وَقَيْصَرُ عَلَى فُرُشِ الْحَرِيرِ وَالدِّيبَاجِ! فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ عَاقِبَةَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ إِلَى النَّارِ، وَعَاقِبَةَ سَرِيرِي هَذَا إِلَى الْجَنَّةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى الْمَدَنِيُّ نَزِيلُ نَيْسَابُورَ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها reported that the Messenger of Allāh ﷺ had a bed latticed with palm stalks, over it a black cloak. They seated him upon the stalks, then Abū Bakr and ʿUmar entered with the Prophet ﷺ sitting thereon, seeing the bed's mark upon his side, so they wept. When the Prophet ﷺ asked what makes them weep, they said its roughness marked his side while Kisrā and Caesar lie upon silk and dībāj. The Messenger of Allāh ﷺ said the end of Kisrā and Caesar is to the Fire, and the end of this bed of his is to Paradise. > **"The end of Kisrā and Caesar is to the Fire, and the end of this bed of mine is to Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کا ایک پلنگ تھا ، جس میں بان لگا ہوا تھا ، آپ کے جسم پر سیاہ رنگ کی چادر تھی ، ہم نے آپ کو بان پر بٹھا دیا ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت بان کی چارپائی پر تشریف فرما تھے ، اُن دونوں حضرات نے دیکھا کہ بان کا نشان نبی اکرم ﷺ کے پہلو پر بن گیا ہے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے ، نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں سے دریافت کیا : تم دونوں کیوں رو رہے ہو ؟ ان دونوں نے عرض کی : ہم اس لئے رو رہے ہیں کیونکہ اس چارپائی کھردرے پن کا نشان آپ کے پہلو پر بن گیا ہے جبکہ کسریٰ اور قیصر ریشم اور دیباج کے بچھونوں پر ہوتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کسریٰ اور قیصر کا انجام جہنم ہے اور میرے اس پلنگ کا انجام جنت ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالعزیز بن یحیی مدنی نزیل نیشاپور ہے اور وہ کذاب ہے ۔

18303

Majma al-Zawaid #18303

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «هَجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نِسَاءَهُ - قَالَ شُعْبَةُ: أَحْسَبُهُ قَالَ: - شَهْرًا، قَالَ: فَأَتَاهُ عُمَرُ، وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ الْحَصِيرُ بِجَنْبِهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كِسْرَى - أَحْسَبُهُ قَالَ: قَيْصَرُ - يَشْرَبُونَ فِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ، وَأَنْتَ هَكَذَا؟ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّهُمْ عُجِّلَتْ لَهُمْ طَيِّبَاتُهُمْ فِي حَيَاتِهِمُ الدُّنْيَا» "". وَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «الشَّهْرُ تِسْعَةٌ وَعِشْرُونَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا "". وَكَسَرَ الْإِبْهَامَ فِي الثَّالِثَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ فَرَاهِيجَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه reported that the Messenger of Allāh ﷺ kept away from his wives for a month. ʿUmar came to him upon a mat that marked his side, saying Kisrā and Caesar drink in gold and silver while thou art thus. The Prophet ﷺ said their good things were hastened to them in their worldly life. The Prophet ﷺ also said the month is twenty-nine, thus and thus and thus, folding the thumb on the third. > **"Their good things were hastened to them in their worldly life. The month is twenty-nine, thus and thus and thus."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنی ازواج سے لاتعلقی اختیار کی ۔ شعبہ نامی راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ ہیں : ایک ماہ تک کے لئے لاتعلقی اختیار کی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ اس وقت چٹائی پر موجود تھے اور چٹائی کا نشان آپ کے پہلو پر بن گیا تھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کسریٰ اور قیصر سونے اور چاندی کے برتنوں میں پیتے ہیں اور آپ کی یہ صورت حال ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : انہیں ان کی نعمتیں دنیاوی زندگی میں جلدی دے دی گئی ہیں ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا : مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے ، اس طرح اور اس طرح اور اس طرح ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تیسری مرتبہ میں ، نبی اکرم ﷺ نے انگوٹھا بند رکھا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن فراہیچ ہے ، جسے ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے اور دوسرے لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

18304

Majma al-Zawaid #18304

«وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَنَّهُ أَتَى فَاطِمَةَ فَقَالَ لَهَا: إِنِّي لَأَشْتَكِي صَدْرِي مِمَّا أَمْدُرُ بِالْغَرْبِ ; فَقَالَتْ: وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَشْتَكِي يَدِي مِمَّا أَطْحَنُ بِالرَّحَى، فَقَالَ لَهَا عَلِيٌّ: ائْتِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلِيهِ يُخْدِمُكِ خَادِمًا، فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَلَّمَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا جَاءَ بِكِ؟ "". قَالَتْ: جِئْتُ لِأُسَلِّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَجَعَتْ إِلَى عَلِيٍّ قَالَتْ: وَاللَّهِ، مَا اسْتَطَعْتُ أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ هَيْبَتِهِ، فَانْطَلَقَا إِلَيْهِ جَمِيعًا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَا جَاءَ بِكُمَا؟ لَقَدْ جَاءَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - بِكُمَا حَاجَةٌ "". فَقَالَ عَلِيٌّ: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، شَكَوْتُ إِلَى فَاطِمَةَ مِمَّا أَمْدُرُ بِالْغَرْبِ، فَشَكَتْ إِلَيَّ يَدَيْهَا مِمَّا تَطْحَنُ بِالرَّحَى، فَأَتَيْنَاكَ لِتُخْدِمَنَا خَادِمًا مِمَّا آتَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ: "" لَا. وَلَكِنِّي أُنْفِقُ - أَوْ أُنْفِقُهُ - عَلَى أَهْلِ الصُّفَّةِ الَّذِينَ تُطْوَى أَكْبَادُهُمْ مِنَ الْجُوعِ، لَا أَجِدُ مَا أُطْعِمُهُمْ "". قَالَ: فَلَمَّا رَجَعَا وَأَخَذَا مَضَاجِعَهُمَا مِنَ اللَّيْلِ، أَتَاهُمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُمَا فِي الْخَمِيلِ - وَالْخَمِيلُ: الْقَطِيفَةُ - وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَهَا بِهَا، وَبِوِسَادَةٍ حَشْوُهَا إِذْخِرٌ، وَكَانَ عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ حِينَ رَدَّهُمَا شَقَّ عَلَيْهِمَا، فَلَمَّا سَمِعَا حِسَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَهَبَا لِيَقُومَا، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَكَانَكُمَا "". ثُمَّ جَاءَ حَتَّى جَلَسَ عَلَى طَرَفِ الْخَمِيلِ، ثُمَّ قَالَ: "" إِنَّكُمَا جِئْتُمَا لِأُخْدِمَكُمَا خَادِمًا، وَإِنِّي سَأَدُلُّكُمَا - أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا - عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنَ الْخَادِمِ، تَحْمَدَانِ اللَّهَ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ عَشْرًا، وَتُسَبِّحَانِ عَشْرًا، وَتُكَبِّرَانِ عَشْرًا، وَتُسَبِّحَانِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتَحْمَدَانِهِ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ، وَتُكَبِّرَانِهِ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ، فَذَلِكَ مِائَةٌ، إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا مِنَ اللَّيْلِ» "". قُلْتُ: حَدِيثُ عَلِيٍّ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib رضي الله عنه reported that he came to Fāṭimah complaining of his chest from drawing with the bucket, and she swore by Allāh she complains of her hand from grinding with the mill. ʿAlī told her to approach the Prophet ﷺ and ask him for a servant. She went, greeted him, and the Messenger of Allāh ﷺ asked what brought her. She said she came to greet him, and returning to ʿAlī said by Allāh awe of him kept her from speaking. They went together, and the Messenger of Allāh ﷺ asked what brought them, sure they had a need. ʿAlī said yes, complaining of drawing and grinding, asking for a servant of what Allāh granted him. He said no, but he spends upon the people of al-Ṣuffah whose livers are folded with hunger, finding nothing to feed them. When they returned and lay at night in the coverlet he had furnished her with a pillow stuffed with idhkhir, and the refusal weighed upon them, the Prophet ﷺ came upon hearing his footfall. When they rose he said stay in place, sat upon the edge of the coverlet, and said they came for a servant but he shall guide them to what is better than a servant: to praise Allāh ten times, glorify ten, magnify ten after every prayer, and when lying at night to glorify three and thirty, praise three and thirty, and magnify four and thirty, making a hundred. > **"Stay in your place. I shall guide you to what is better for you than a servant: praise Allāh ten times, glorify ten, and magnify ten after every prayer, and thirty-three and thirty-three and thirty-four when you lie at night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے ، انہوں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا : بڑے ڈول کے ذریعے پانی نکالنے کی وجہ سے مجھے سینے میں درد محسوس ہو رہا ہے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کی قسم ! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے بھی ہاتھوں میں درد ہوتا ہے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا : تم نبی اکرم ﷺ کے پاس جاؤ اور نبی اکرم ﷺ سے کوئی خادم مانگ لو ، جو تمہاری خدمت کرے ، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کے پاس گئیں انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو سلام کیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم کیوں آئی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : میں اللہ کے رسول ﷺ کو سلام کرنے کے لیے آئی تھی ، جب وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس واپس گئیں ، تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں نبی اکرم ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے آپ کے ساتھ بات نہیں کر سکی ، پھر وہ دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم دونوں کس وجہ سے آئے ہو ؟ تم دونوں کسی کام کے سلسلے میں آئے ہو گے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! میں نے فاطمہ کے سامنے یہ شکایت کی کہ بڑے ڈول کے ذریعے پانی نکالنے کی وجہ سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور فاطمہ نے یہ کہا کہ اسے آنا پیسنے کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے تو ہم آپ کے پاس اس لئے آئے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو عطا کیا ہے اس میں سے آپ ہمیں کوئی خادم دیدیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جی نہیں ! میں یہ رقم اہل صفہ پر خرچ کروں گا ، جن کے جگر بھوک کی وجہ سے لپٹے رہتے ہیں اور مجھے انہیں کھلانے کے لئے کچھ دستیاب نہیں ہوتا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : یہ دونوں واپس آ گئے ، جب وہ دونوں رات کے وقت سونے کے لئے لیٹے تو نبی اکرم ﷺ ان کے ہاں تشریف لے آئے وہ دونوں اس وقت لحاف میں تھے ، نبی اکرم ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو وہ لحاف جہیز میں دیا تھا اور ایک تکیہ دیا تھا ، جس میں اذخر نامی گھاس بھری ہوئی تھی ۔ جب نبی اکرم ﷺ نے ان دونوں کی درخواست مسترد کی تھی ، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بہت گراں گزری تھی ، جب ان دونوں نے نبی اکرم ﷺ کی آہٹ محسوس کی تو وہ دونوں اُٹھنے لگے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اپنی جگہ پر رہو ! پھر نبی اکرم ﷺ لحاف کے کنارے پر بیٹھ گئے ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : تم دونوں اس لیے آئے تھے تاکہ میں تمہیں کوئی خدمتگار دیدوں ، میں تمہاری رہنمائی اس کی طرف کرتا ہوں جو تمہارے لئے خدمت گزار ملنے سے زیادہ بہتر ہے ، تم ہر نماز کے بعد دس مرتبہ الحمدللہ پڑھا کرو ، دس مرتبہ سبحان اللہ پڑھا کرو ، دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو ، اور جب رات کے وقت تم دونوں سونے کے لیے لیٹو تو 33 مرتبہ سبحان الله 33 مرتبہ الحمدلله 34 مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو ، یہ ایک سو ہو جائیں گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ’’ صحیح ‘‘ اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے ، لیکن وہ اس سے مختصر ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عطاء بن سائب ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔