Majma al-Zawaid #17921
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَتَعِسَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ، وَتَعِسَ عَبْدُ الْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ مُنِعَ سَخِطَ، تَعِسَ وَانْتَكَسَ، وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتَقَشَ. طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ مُغْبَرَّةٍ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ، إِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ، وَإِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ». قُلْتُ: رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ: «طُوبَى لِعَبْدٍ». إِلَى آخِرِهِ. فَرَوَاهُ تَعْلِيقًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
EnglishUnverified translation
Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said wretched is the slave of the dīnār, the dirham, and fine garments, pleased when given and angry when withheld, miserable and overturned, with no relief when pierced by a thorn; and blessed is the servant holding his horse's bridle in Allah's path, dishevelled and dusty-footed, steadfast in guard or rearguard, whose intercession is unaccepted and whose permission is denied. > **"Wretched is the slave of the dīnār, wretched is the slave of the dirham, wretched is the slave of fine garments: if given he is pleased, if withheld he is angry; wretched and overturned, and when pierced by a thorn may he find no relief. Blessed is a servant holding the bridle of his horse in the path of Allah, dishevelled in head, dusty in feet: whether stationed in guard or in rearguard he remains there; if he intercedes he is not granted intercession, and if he seeks permission he is not permitted."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دینار کا بندہ برباد ہو جائے ، درہم کا بندہ برباد ہو جائے ، چادر کا بندہ برباد ہو جائے کہ اگر اس کو کچھ دے دیا جائے تو وہ راضی ہو جاتا ہے اور اگر نہ دیا جائے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے ، وہ برباد ہو جائے اور اوندھا ہو جائے اور اگر اسے کانٹا چبھے تو وہ نہ نکلے ، اور اس بندے کے لئے مبارکباد ہے جو اللہ کی راہ میں جانے کے لیے اپنے گھوڑے کی لگام پکڑتا ہے ، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں ، اس کے پاؤں غبار آلود ہوتے ہیں ، اگر اس نے پہرہ دینا ہو تو پہرہ دیتا ہے ( اس کی ظاہری دنیاوی حالت یہ ہوتی ہے ) اگر وہ سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہیں ہوتی ، اگر وہ اندر آنے کی اجازت مانگے تو اسے اجازت نہیں دی جاتی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بخاری نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں :’’ اس بندے کے لئے مبارکباد ہے ......‘‘۔ یہاں سے لے کر آخر تک کے الفاظ انہوں نے نقل نہیں کئے ہیں ، انہوں نے اس کو تعلیق کے طور پر نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔