Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 8

Book of Asceticism

Hadith 17921–17960

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17921

Majma al-Zawaid #17921

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «تَعِسَ عَبْدُ الدِّينَارِ، وَتَعِسَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ، وَتَعِسَ عَبْدُ الْخَمِيصَةِ، إِنْ أُعْطِيَ رَضِيَ، وَإِنْ مُنِعَ سَخِطَ، تَعِسَ وَانْتَكَسَ، وَإِذَا شِيكَ فَلَا انْتَقَشَ. طُوبَى لِعَبْدٍ آخِذٍ بِعِنَانِ فَرَسِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَشْعَثَ رَأْسُهُ مُغْبَرَّةٍ قَدَمَاهُ، إِنْ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ كَانَ فِي الْحِرَاسَةِ، وَإِنْ كَانَ فِي السَّاقَةِ كَانَ فِي السَّاقَةِ، إِنْ شَفَعَ لَمْ يُشَفَّعْ، وَإِنِ اسْتَأْذَنَ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ». قُلْتُ: رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ: «طُوبَى لِعَبْدٍ». إِلَى آخِرِهِ. فَرَوَاهُ تَعْلِيقًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said wretched is the slave of the dīnār, the dirham, and fine garments, pleased when given and angry when withheld, miserable and overturned, with no relief when pierced by a thorn; and blessed is the servant holding his horse's bridle in Allah's path, dishevelled and dusty-footed, steadfast in guard or rearguard, whose intercession is unaccepted and whose permission is denied. > **"Wretched is the slave of the dīnār, wretched is the slave of the dirham, wretched is the slave of fine garments: if given he is pleased, if withheld he is angry; wretched and overturned, and when pierced by a thorn may he find no relief. Blessed is a servant holding the bridle of his horse in the path of Allah, dishevelled in head, dusty in feet: whether stationed in guard or in rearguard he remains there; if he intercedes he is not granted intercession, and if he seeks permission he is not permitted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دینار کا بندہ برباد ہو جائے ، درہم کا بندہ برباد ہو جائے ، چادر کا بندہ برباد ہو جائے کہ اگر اس کو کچھ دے دیا جائے تو وہ راضی ہو جاتا ہے اور اگر نہ دیا جائے تو وہ ناراض ہو جاتا ہے ، وہ برباد ہو جائے اور اوندھا ہو جائے اور اگر اسے کانٹا چبھے تو وہ نہ نکلے ، اور اس بندے کے لئے مبارکباد ہے جو اللہ کی راہ میں جانے کے لیے اپنے گھوڑے کی لگام پکڑتا ہے ، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے ہوتے ہیں ، اس کے پاؤں غبار آلود ہوتے ہیں ، اگر اس نے پہرہ دینا ہو تو پہرہ دیتا ہے ( اس کی ظاہری دنیاوی حالت یہ ہوتی ہے ) اگر وہ سفارش کرے تو اس کی سفارش قبول نہیں ہوتی ، اگر وہ اندر آنے کی اجازت مانگے تو اسے اجازت نہیں دی جاتی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام بخاری نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں :’’ اس بندے کے لئے مبارکباد ہے ......‘‘۔ یہاں سے لے کر آخر تک کے الفاظ انہوں نے نقل نہیں کئے ہیں ، انہوں نے اس کو تعلیق کے طور پر نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17922

Majma al-Zawaid #17922

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ "". قُلْنَا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ ذِي طِمْرَيْنِ، لَا يُؤْبَهُ لَهُ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ "". قُلْنَا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" كُلُّ جَظٍّ، جَعْظٍ، مُسْتَكْبِرٍ "". قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْجَظُّ؟ قَالَ: "" الضَّخْمُ "". قُلْتُ: فَمَا الْجَعْظُ؟ قَالَ: "" الْعَظِيمُ فِي نَفْسِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ: عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ offered to inform them of the people of Paradise, every weak, lowly one in two worn garments, disregarded, whose oath Allah fulfils, and of the people of Hell, every jazza, jaʿẓa, and arrogant one; and when asked, he explained jazza as the bulky and jaʿẓa as the self-magnifying. > **"Shall I not inform you of the people of Paradise? Every weak, lowly one in two worn garments, disregarded, who, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it. Shall I not inform you of the people of Hell? Every jazza, jaʿẓa, arrogant one. Jazza is the bulky, and jaʿẓa is the one mighty in his own self."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر کمزور شخص جو کم تر حیثیت کا مالک ہو ، جس کا لباس عام سا ہو ، جس کی پرواہ نہ کی جاتی ہو ، لیکن اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر ’’ جظ ‘‘- ’’ جعظ ‘‘ ۔’’ متکبر ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ’’ جظ ‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جو بھاری بھرکم ہو ، میں نے دریافت کیا :’’ جعظ ‘‘ سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو خود کو بڑا سمجھتا ہو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں ، اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17923

Majma al-Zawaid #17923

وَعَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَا سُرَاقَةُ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَهْلِ النَّارِ؟ "". قُلْتُ: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" أَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ، جَوَّاظٍ، مُسْتَكْبِرٍ، وَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَالضُّعَفَاءُ، الْمَغْلُوبُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Surāqah ibn Mālik ibn Juʿshum رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ offered to inform him of the people of Paradise and Hell: the people of Hell are every coarse, insolent, arrogant one, while the people of Paradise are the weak and overpowered. > **"O Surāqah, shall I not inform you of the people of Paradise and the people of Hell? As for the people of Hell, they are every coarse, insolent, arrogant one. As for the people of Paradise, they are the weak and overpowered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے سراقہ ! کیا میں تمہیں اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے ، تو ہر خودپسند ، بدتمیز متکبر شخص ( جہنمی ہو گا ) جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے ، تو کمزور اور مغلوب لوگ ( جنتی ہوں گے ) ‘‘۔ یہ روایت طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17924

Majma al-Zawaid #17924

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَلَا أُنَبِّئُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ». قُلْتُ: بَلَى. قَالَ: «الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ offered to inform him of the people of Paradise, and said they are the weak and overpowered. > **"Shall I not inform you of the people of Paradise? They are the weak and overpowered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں بتاؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کمزور اور مغلوب لوگ ‘‘ یہ روایت طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17925

Majma al-Zawaid #17925

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكَ يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، بِأَهْلِ النَّارِ؟ "". قُلْتُ: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" كُلُّ جَعْظَرِيٍّ، جَوَّاظٍ، مُسْتَكْبِرٍ، جَمَّاعٍ مَنُوعٍ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ كُلُّ مِسْكِينٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ offered to inform him of the people of Hell, every coarse, insolent, arrogant hoarder who withholds, and of the people of Paradise, every poor one whose oath Allah fulfils. > **"Shall I not inform you, O Abū al-Dardāʾ, of the people of Hell? Every coarse, insolent, arrogant one, a hoarder, a withholder. Shall I not inform you of the people of Paradise? Every poor one who, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ اے ابودرداء ! کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا : ہر بدمزاج ، خودپسند متکبر شخص ( جو مال کو جمع کرنے والا ہو ( اور اللہ کی راہ میں ) دینے والا نہ ہو ، کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر غریب آدمی کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالی اسے پوری کروا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے اور وہ متروک ہے ۔

17926

Majma al-Zawaid #17926

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ "". قَالُوا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" كُلُّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ عُتُلٍّ جَوَّاظٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Thābit رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ offered to inform them of the people of Paradise, every weak, lowly one whose oath Allah fulfils, and of the people of Hell, every cruel, insolent one. > **"Shall I not inform you of the people of Paradise? Every weak, lowly one who, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it. Shall I not inform you of the people of Hell? Every cruel, insolent one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ہر کمزور ، کم تر حیثیت کا مالک شخص کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ، کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر بدتمیز ، برائی کی طرف تیزی سے جانے والا شخص ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17927

Majma al-Zawaid #17927

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «انْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ "". قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ، قُلْتُ: هَذَا، قَالَ لِي: "" انْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ "". قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ أَخْلَاقٌ. قُلْتُ: هَذَا! قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَهَذَا عِنْدَ اللَّهِ أَخْيَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلِ هَذَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ asked him to look at the highest man in the mosque, adorned in a ḥullah, then at the lowest man, in worn garments, and said the latter is better before Allah on the Day of Resurrection than the earth full of the former. > **"Look at the highest man in the mosque. Look at the lowest man in the mosque. This one is better before Allah on the Day of Resurrection than the earth full of the like of that one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’ تم اس بات کا جائزہ لو ! کہ مسجد میں سب سے زیادہ نمایاں حیثیت کا فرد کون ہے ؟ ( یعنی جو مالدار لگ رہا ہو ) میں نے جائزہ لیا ، تو وہاں ایک شخص موجود تھا ، جس نے حلہ پہنا ہوا تھا ، میں نے عرض کی : یہ ہے ، نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ مسجد میں سب سے کم تر حیثیت کا فرد کون ہے ؟ ( یعنی جو سب سے زیادہ غریب لگ رہا ہو ) میں نے جائزہ لیا تو وہاں ایک شخص تھا جس کا لباس پھٹا پرانا تھا ، میں نے عرض کی : یہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن یہ ( غریب ) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اُس ( امیر ) جیسے ‘ اتنے لوگوں سے بہتر ہو گا جو زمین کو بھر دیں ۔ یہ روایت امام احمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال اور امام بزار اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17928

Majma al-Zawaid #17928

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ لِلَّهِ ضَنَائِنَ مِنْ خَلْقِهِ، يُحْيِيهِمْ فِي عَافِيَةٍ، فَإِذَا تَوَفَّاهُمْ تَوَفَّاهُمْ إِلَى جَنَّتِهِ، أُولَئِكَ تَمُرُّ عَلَيْهِمُ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، وَهُمْ فِيهَا فِي عَافِيَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْصِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَقَدْ جَهِلَهُ الذَّهَبِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Prophet ﷺ said Allah has treasured ones among His creation whom He keeps alive in well-being and takes unto His Paradise at death, over whom tribulations pass like portions of dark night while they remain in well-being therein. > **"Allah has treasured ones among His creation. He keeps them alive in well-being, and when He takes them He takes them unto His Paradise. Tribulations pass over them like portions of the dark night, while they remain therein in well-being."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس کے کچھ مخصوص بندے ہیں ، جنہیں وہ عافیت کی زندگی دیتا ہے اور جب وہ انہیں موت دیتا ہے ، تو ہے ، جنت کی طرف لے جاتا ہے ، یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کے پاس سے تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند فتنے گزرتے ہیں ، لیکن یہ لوگ ان فتنوں میں عافیت کے ساتھ رہتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور مجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن عبداللہ حمصی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، امام ذہبی نے اسے مجہول قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17929

Majma al-Zawaid #17929

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَفَعَهُ - قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ؟ الضُّعَفَاءُ الْمَظْلُومُونَ. أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ؟ كُلُّ جَعْظَرِيٍّ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟ مَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا. أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشِرَارِكُمْ؟ الثَّرْثَارُونَ، الْمُتَشَدِّقُونَ، الْمُتَفَيْهِقُونَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا نَعْلَمُهُ يُرْوَى عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ يَزِيدَ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْبَرَاءَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ فَهُوَ ضَعِيفٌ، وَإِنْ كَانَ هُوَ الْبَرَاءَ بْنَ يَزِيدَ الْهَمَذَانِيَّ، فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه, in marfūʿ form, narrated that the Prophet ﷺ asked whether to inform them of the people of Paradise, the weak and wronged; of the people of Hell, every coarse one; of their best, those finest in character; and of their worst, the garrulous, the mouth-stretching, and the grandiloquent. > **"Shall I not inform you of the people of Paradise? The weak and wronged. Shall I not inform you of the people of Hell? Every coarse one. Shall I not inform you of the best among you? Those finest among you in character. Shall I not inform you of the worst among you? The garrulous, the mouth-stretching, the grandiloquent."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) "" کیا میں تمہیں اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ کمزور اور مظلوم لوگ ( جنتی ہوں گے ) کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر بدمزاج شخص ( یا زیادہ کھانے والا موٹا شخص جہنمی ہو گا ) کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جن کے اخلاق اچھے ہوں ، کیا میں تمہیں ‘ تمہارے بدترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ وہ لوگ جو مصنوعی طریقے سے منہ بنا کر تکبر آمیز انداز میں کلام کرتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ہمارے علم کے مطابق یہ روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی براء بن یزید ہے ، اگر تو یہ براء بن عبداللہ بن یزید ہے ، تو پھر یہ ضعیف ہے ، اور اگر یہ براء بن یزید ہمدانی ہے تو پھر ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

17930

Majma al-Zawaid #17930

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ مُوسَى بْنَ عِمْرَانَ مَرَّ بِرَجُلٍ، وَهُوَ يَضْطَرِبُ فَقَامَ يَدْعُو اللَّهَ لَهُ أَنْ يُعَافِيَهُ، فَقَالَ لَهُ: يَا مُوسَى، إِنَّهُ لَيْسَ الَّذِي يُصِيبُهُ خَبْطٌ مِنْ إِبْلِيسَ، وَلَكِنَّهُ جُوعُ نَفْسِهِ لِي فَهُوَ الَّذِي تَرَى، أَنْظُرُ إِلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّاتٍ، أَتَعَجَّبُ مِنْ طَاعَتِهِ فَمُرْهُ فَلْيَدْعُ لَكَ ; فَإِنَّ لَهُ عِنْدِي كُلَّ يَوْمٍ دَعْوَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said Mūsā ibn ʿImrān عليه السلام passed a trembling man and stood supplicating for his healing, whereupon he was told this was not possession by Satan but hunger of the soul for Allah, that Allah beholds him many times daily, marvels at his obedience, and grants him a daily answered supplication, so Mūsā should bid him supplicate for him. > **"O Mūsā, what befalls him is not possession by Satan, but hunger of his soul for Me, as you see. I behold him many times each day, marvelling at his obedience. Bid him supplicate for you, for he has with Me an answered supplication each day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا جو اضطراب کا شکار تھا ، حضرت موسیٰ علیہ السلام کھڑے ہو گئے اور اللہ تعالی سے یہ دعا کرنے لگے کہ وہ اسے عافیت عطا کر دے ، ان سے کہا گیا : اے موسیٰ ! یہ وہ فرد نہیں ہے جسے ابلیس کی طرف سے کوئی خبط لاحق ہو گیا ہو ، بلکہ اس نے اپنے آپ کو میرے لئے بھوکا رکھا ہے تو اب اس کا یہ حال ہے ، جو تم دیکھ رہے ہو ، میں روزانہ کئی مرتبہ اس کی طرف دیکھتا ہوں اور اس کی فرمانبرداری پر خوش ہوتا ہوں ، تم اسے کہو : کہ یہ تمہارے لئے دعا کرے ، کیونکہ میری بارگاہ کی طرف سے اسے روزانہ ایک مخصوص دعا کا حق حاصل ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17931

Majma al-Zawaid #17931

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ فِي بَعْضِ سِكَكِ الْمَدِينَةِ فَرَأَى رَجُلًا أَسْوَدَ مَيِّتًا، قَدْ رَمَوْا بِهِ فِي الطَّرِيقِ، فَسَأَلَ بَعْضَ مَنْ ثَمَّ عَنْهُ! فَقَالَ: "" مَمْلُوكُ مَنْ هَذَا؟ "". قَالُوا: مَمْلُوكٌ لِآلِ فُلَانٍ، فَقَالَ: "" أَكُنْتُمْ تَرَوْنَهُ يُصَلِّي؟ "". قَالُوا: كُنَّا نَرَاهُ أَحْيَانًا يُصَلِّي، وَأَحْيَانًا لَا يُصَلِّي، فَقَالَ: "" قُومُوا فَاغْسِلُوهُ، وَكَفِّنُوهُ "". فَقَامُوا فَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ، وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَبَّرَ قَالَ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ "". فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاتَهُ قَالَ لَهُ أَصْحَابُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِعْنَاكَ لَمَّا كَبَّرْتَ تَقُولُ: "" سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ "". فَلِمَ قُلْتَ سُبْحَانَ اللَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" كَادَتِ الْمَلَائِكَةُ أَنْ تَحُولَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ مِنْ كَثْرَةِ مَا صَلَّوْا عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ passed through a lane of Madīnah, saw a deceased Black man cast upon the road, asked whose slave he was and whether he was seen praying, commanded washing and shrouding, led his funeral prayer, and exclaimed glory be to Allah, explaining afterward that the angels had nearly intervened between them for their multitude praying over him. > **"Rise, wash him and shroud him. Glory be to Allah, glory be to Allah. The angels nearly intervened between me and him for their multitude praying over him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کا گزر مدینہ منورہ کی کسی گلی سے ہوا ، وہاں آپ نے ایک سیاہ فام شخص کی لاش دیکھی جسے راستے میں ڈال دیا گیا تھا ، آپ نے دریافت کیا : اس کا تعلق کن لوگوں سے ہے ؟ پھر آپ نے دریافت کیا : یہ کن کا غلام ہے ؟ لوگوں نے بتایا : آل فلاں کا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگوں نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : ہم بعض اوقات اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے اور بعض اوقات نہیں بھی دیکھتے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ اُٹھو ! اُسے غسل دو ! اُسے کفن دو ! وہ لوگ اُٹھے انہوں نے اسے غسل دیا انہوں نے اسے کفن دیا ، پھر نبی اکرم ﷺ کھڑے ہوئے آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ، جب آپ نے تکبیر کہی ، تو آپ نے کہا : سبحان اللہ ! سبحان اللہ ! جب نبی اکرم ﷺ نے نماز مکمل کر لی ، تو آپ کے اصحاب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم نے آپ کو سنا کہ جب آپ نے تکبیر کہی ، تو آپ نے فرمایا : سبحان الله ! سبحان اللہ ! آپ نے سبحان اللہ ! سبحان اللہ کیوں کہا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کی نماز جنازہ میں اتنے زیادہ فرشتے شریک ہوئے کہ قریب تھا کہ وہ میرے اور اس کے درمیان آ جاتے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17932

Majma al-Zawaid #17932

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «وَهُمْ يُصَّلُونَ وَيَدْعُونَ فَقَالَ: "" خُذُوا فِيمَا كُنْتُمْ فِيهِ "". وَقَالَ: "" أَبْشِرُوا - أَحْسَبُهُ قَالَ: - يَا مَعْشَرَ الْمُهَاجِرِينَ، بِالْفَوْزِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِمِائَةِ عَامٍ، حَتَّى إِنَّ الْغَنِيَّ يَوَدُّ لَوْ كَانَ سَائِلًا». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ غَيْرَ قَوْلِهِ: «حَتَّى إِنَّ الْغَنِيَّ يَوَدُّ أَنَّهُ كَانَ سَائِلًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ, while people were praying and supplicating, told them to remain in their state and gave glad tidings to the company of emigrants of triumph over the rich on the Day of Resurrection by five hundred years, until the rich will wish he had been a beggar. > **"Remain in what you are engaged in. Receive glad tidings, O company of emigrants, of triumph on the Day of Resurrection over the rich by five hundred years, until the rich will wish he had been a beggar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگ اس وقت نماز پڑھ چکے تھے اور دعا کر چکے تھے آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ جس صورتحال میں ہو اسے اختیار کیے رکھو ! آپ نے فرمایا : تم لوگ خوشخبری حاصل کرو ! میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : اے مہاجرین کے گروه ! ( تم یہ خوشخبری حاصل کرو ) کہ قیامت کے دن تم لوگ ، امیر لوگوں کے مقابلے میں پانچ سو سال پہلے ( جنت میں داخل ہونے کی ) کامیابی حاصل کر لو گے یہاں تک کہ مالدار شخص یہ آرزو کرے گا کہ کاش وہ مانگنے والا ہوتا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں : مالدار شخص یہ آرزو کرے گا کہ کاش وہ مانگنے والا ہوتا ‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔

17933

Majma al-Zawaid #17933

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِنَّ مُوسَى قَالَ: أَيْ رَبِّ، إِنَّ عَبْدَكَ الْمُؤْمِنَ تَقْتُرُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، قَالَ: فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ إِلَى الْجَنَّةِ فَيَنْظُرُ إِلَيْهَا فَيَقُولُ: يَا مُوسَى، هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ. فَيَقُولُ مُوسَى: وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ، لَوْ كَانَ أَقْطَعَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ يُسْحَبُ عَلَى وَجْهِهِ مُنْذُ [يَوْمِ] خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ لَمْ يَرَ بُؤْسًا قَطُّ "". قَالَ: "" ثُمَّ قَالَ مُوسَى: أَيْ رَبِّ، عَبْدُكَ الْكَافِرُ تُوَسِّعُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا، قَالَ: فَيُفْتَحُ لَهُ بَابٌ مِنَ النَّارِ فَيَقُولُ: يَا مُوسَى، هَذَا مَا أَعْدَدْتُ لَهُ. فَقَالَ مُوسَى: أَيْ وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ، لَوْ كَانَتْ لَهُ الدُّنْيَا مُنْذُ يَوْمَ خَلَقْتَهُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَكَانَ هَذَا مَصِيرَهُ، لَمْ يَرَ خَيْرًا قَطُّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَدَرَّاجٌ، وَقَدْ وُثِّقَا عَلَى ضَعْفٍ فِيهِمَا.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said Mūsā عليه السلام asked about the straitened believing servant and the eased disbelieving servant, whereupon Allah opened for each a door to Paradise and Hell respectively, and Mūsā swore by Allah's might that lifelong dragging upon the face would be as nothing beside such Paradise, and lifelong worldly possession as nothing beside such Hell. > **"O Mūsā, this is what I have prepared for him. By Your might and majesty, had he been severed in hands and feet and dragged upon his face since the day You created him until the Day of Resurrection, and this were his end, he would never have seen misery. O Mūsā, this is what I have prepared for him. By Your might and majesty, had the world been his since the day You created him until the Day of Resurrection, and this were his end, he would never have seen good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری ﷺ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیرے مومن بندے کا یہ حال ہوتا ہے کہ تو اس کو دنیا میں تنگی کا شکار کر دیتا ہے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ان کے لیے جنت کا دروازہ کھولا گیا انہوں نے جنت کو دیکھا ، پروردگار نے فرمایا : اے موسیٰ ! یہ میں نے اس ( غریب مومن ) کے لئے تیار کی ہے ، تو حضرت موسیٰ علیہا السلام نے عرض کی : تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ہے ، اگر اس کے دونوں بازو اور دونوں پاؤں کاٹ دیے جائیں اور پھر اس کی پیدائش کے دن سے لے کر قیامت کے دن تک اسے چہرے کے بل گھسیٹا جائے ، لیکن اس کا انجام یہ ہو ، تو اس شخص نے کبھی کوئی پریشانی نہیں دیکھی ۔ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : اے میرے پروردگار ! تو اپنے کافر بندے کو دنیا میں کشادگی نصیب کرتا ہے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ان کے لئے جہنم کا دروازہ کھولا گیا پروردگار نے فرمایا : اے موسیٰ ! یہ میں نے اس ( خوشحال کافر ) کے لئے تیار کی ہے ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ہے ! جس دن تو نے اس کو پیدا کیا تھا ، اس دن سے لے کر قیامت کے دن تک اگر اسے ساری دنیا بھی مل جائے اور اس کا انجام یہ ہو ، تو گویا اس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ اور ایک راوی دراج ہے اور ان دونوں میں پائے جانے والے ضعف کے باوجود ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔

17934

Majma al-Zawaid #17934

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «أَشْقَى الْأَشْقِيَاءِ مَنِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ فَقْرُ الدُّنْيَا، وَعَذَابُ الْآخِرَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ: فِي أَحَدِهِمَا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي مَالِكٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ أَبُو زُرْعَةَ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي الْأُخْرَى أَحْمَدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ حَرْمَلَةَ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say the most wretched of the wretched is he upon whom the poverty of this world and the punishment of the Hereafter gather. > **"The most wretched of the wretched is he upon whom gather the poverty of this world and the punishment of the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ سب سے زیادہ بدنصیب وہ شخص ہو گا ، جس پر دنیا کی غربت اور آخرت کا عذاب اکٹھے ہو جائیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ہمراہ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک سند میں ایک راوی خالد بن یزید بن عبدالرحمن بن ابومالک ہے جسے امام ابوزرعہ نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ دوسری سند میں ایک راوی احمد بن طاہر بن حرملہ ہے اور وہ کذاب ہے ۔

17935

Majma al-Zawaid #17935

عَنْ أَبِي عَسِيبٍ قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً فَمَرَّ بِي فَدَعَانِي، فَخَرَجْتُ إِلَيْهِ، ثُمَّ مَرَّ بِأَبِي بَكْرٍ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فَدَعَاهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، ثُمَّ مَرَّ بِعُمَرَ فَدَعَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ حَائِطًا لِبَعْضِ الْأَنْصَارِ فَقَالَ لِصَاحِبِ الْحَائِطِ: "" أَطْعِمْنَا [بُسْرًا] "". فَجَاءَ بِعِذْقٍ فَوَضَعَهُ، فَأَكَلَ [فَأَكَلَ] رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ، ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ بَارِدٍ فَشَرِبَ فَقَالَ: "" لَتُسْأَلُنَّ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ "". قَالَ: فَأَخَذَ عُمَرُ الْعِذْقَ فَضَرَبَ بِهِ الْأَرْضَ حَتَّى تَنَاثَرَ الْبُسْرُ قِبَلَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا لَمَسْئُولُونَ عَنْ هَذَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: "" نَعَمْ. إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ: خِرْقَةٍ كَفَّ بِهَا عَوْرَتَهُ، أَوْ كَسْرَةٍ سَدَّ بِهَا جَوْعَتَهُ، أَوْ جُحْرٍ يَنْدَخِلُ فِيهِ مِنَ الْحَرِّ وَالْقَرِّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿUsayb رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ went out at night, called him, Abū Bakr, and ʿUmar رضي الله عنهم, entered a garden of an Anṣārī, ate unripe dates with them and drank cold water, then said they will be asked about this on the Day of Resurrection; when ʿUmar struck the cluster to the ground and asked, he said yes, except for a rag covering nakedness, a morsel repelling hunger, or a shelter guarding against heat and cold. > **"You will surely be asked about this on the Day of Resurrection. Yes, except for three: a rag with which one covers his nakedness, a morsel with which one repels his hunger, or a shelter wherein one withdraws from heat and cold."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوعسیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ رات کے وقت باہر تشریف لائے ، آپ کا گزر میرے پاس سے ہوا آپ نے مجھے بلایا میں نکل کر آپ کے پاس آیا پھر آپ کا گزر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا آپ نے انہیں بلایا وہ نکل کر آپ کے پاس آ گئے پھر آپ کا گزر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا آپ نے انہیں بلایا ، وہ نکل کر آپ کے پاس آ گئے ، نبی اکرم ﷺ چلتے رہے ، یہاں تک کہ آپ ایک انصاری کے باغ میں داخل ہو گئے آپ نے باغ کے مالک سے کہا : ہمیں تازہ کھجوریں کھلاؤ وہ کھجوروں کا ایک گچھا لے کے آیا اور اس کو آگے رکھا ، نبی اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب نے انہیں کھانا شروع کیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ٹھنڈا پانی منگوایا وہ پیا گیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن تم سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا ۔‘‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے وہ گچھا پکڑا اور اسے زمین پر مارا ، یہاں تک کہ اس کی کھجوریں نبی اکرم ﷺ کی طرف بکھر گئیں ، پھر انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا قیامت کے دن ہم سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! البتہ تین چیزوں کا معاملہ مختلف ہے ، وہ کپڑا جس کے ذریعے آدمی اپنی شرمگاہ کو ڈھانپ لیتا ہے یا روٹی کا وہ ٹکڑا جس کے ذریعے وہ اپنی بھوک کو ختم کرتا ہے یا وہ مکان کہ گرمی یا سردی سے بچنے کے لئے جس میں وہ داخل ہوتا ہے ( یعنی اس میں رہتا ہے ) ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

17936

Majma al-Zawaid #17936

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا فَوْقَ الْإِزَارِ، وَظِلُّ الْحَائِطِ، وَجَرُّ الْمَاءِ، فَضْلٌ يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَوْ يُسْأَلُ عَنْهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ فِيهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمَرْوَزِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said that what exceeds the waist-wrapper, the shade of a wall, and drawn water is surplus for which the servant will be reckoned or questioned on the Day of Resurrection. > **"What exceeds the waist-wrapper, the shade of a wall, and drawn water is surplus for which the servant will be reckoned on the Day of Resurrection, or questioned about."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تہبند کے علاوہ جو لباس ہے ، دیوار کا سایہ اور پانی کا مٹکا ، یہ اضافی چیزیں ہیں ، قیامت کے دن بندے سے ان کے بارے میں حساب لیا جائے گا ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں ) ان کے بارے میں سوال کیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صبح کے رجال ہیں ، صرف قاسم بن محمد بن یحیی مروزی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17937

Majma al-Zawaid #17937

عَنْ عِصْمَةَ قَالَ: «جَاءَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَمُرُّ بِهَذِهِ الْأَسْوَاقِ فَنَنْظُرُ إِلَى هَذِهِ الْفَوَاكِهِ فَنَشْتَهِيهَا، وَلَيْسَ مَعَنَا نَاضٌّ نَشْتَرِي بِهِ، فَهَلْ لَنَا فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ؟ فَقَالَ: "" وَهَلِ الْأَجْرُ إِلَّا ذَلِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

ʿIṣmah رضي الله عنه narrated that some Companions came to the Prophet ﷺ and asked whether they earn reward when passing markets, desiring fruits without money to buy them, and he replied that reward is only in such restraint. > **"And is reward except in that?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عصمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ صحابہ کرام رضی الل عنہم ، نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم ان بازاروں سے گزرتے ہیں اور پھلوں کی طرف دیکھتے ہیں ، ہمیں ان کی خواہش محسوس ہوتی ہے ، لیکن ہمارے پاس رقم نہیں ہوتی ، جس کے ذریعے ہم خریداری کر سکیں ، تو کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا اجر صرف اسی کا ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

17938

Majma al-Zawaid #17938

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ تَدَّهِنَ الْأَغْنِيَاءُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ forbade humbling oneself before the rich. The Messenger of Allah ﷺ forbade humbling oneself before the rich.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اس بات سے منع کیا ہے کہ خوشحال لوگوں کے لئے تواضع اختیار کی جائے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن زبرقان ہے اور وہ متروک ہے ۔

17939

Majma al-Zawaid #17939

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا يَعْرِفُونَ النَّاسَ بِالتَّوَسُّمِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said Allah has servants who recognise people by discernment of marks. > **"Allah has servants who recognise people by discernment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں ، جو لوگوں کو ان کے چہروں سے پہچان لیتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17940

Majma al-Zawaid #17940

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اتَّقُوا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ ; فَإِنَّهُ يَنْظُرُ بِنُورِ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said to beware the insight of the believer, for he sees by the light of Allah. > **"Beware the insight of the believer, for he sees by the light of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مومن کی فراست سے بچ کے رہو ! کیونکہ وہ اللہ کے نور کی مدد سے دیکھتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17941

Majma al-Zawaid #17941

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: أَفَرَسُ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ: صَاحِبَةُ مُوسَى الَّتِي قَالَتْ: {يَاأَبَتِ اسْتَأْجِرْهُ إِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَأْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْأَمِينُ} [القصص: 26]، [قَالَ: وَمَا رَأَيْتِ مِنْ قُوَّتِهِ؟ قَالَتْ: جَاءَ إِلَى الْبِئْرِ وَعَلَيْهِ صَخْرَةٌ لَا يُقِلُّهَا كَذَا وَكَذَا، فَرَفَعَهَا] قَالَ: وَمَا رَأَيْتِ مِنْ أَمَانَتِهِ؟ قَالَتْ: كُنْتُ أَمْشِي أَمَامَهُ فَجَعَلَنِي خَلْفَهُ. وَصَاحِبُ يُوسُفَ حِينَ قَالَ: {أَكْرِمِي مَثْوَاهُ عَسَى أَنْ يَنْفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا} [يوسف: 21]. وَأَبُو بَكْرٍ حِينَ اسْتَخْلَفَ عُمَرَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said that the most discerning of people were three, citing the conduct of Mūsā عليه السلام at the well, the conduct of Yūsuf's عليه السلام master, and the succession of ʿUmar رضي الله عنه. The most discerning of people were three: the companion of Mūsā who said hire him for he is strong and trustworthy, for she saw him lift a rock requiring many men and place her behind him rather than before him; the companion of Yūsuf who said honour his abode that he may benefit us or we take him as a son; and Abū Bakr when he appointed ʿUmar as successor.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ سب سے زیادہ فراست کے مالک افراد تین ہیں : حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ والی خاتون ، جس نے یہ کہا تھا : ( جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں ہے : ) ’’ اے ابا جان ! آپ انہیں ملازم رکھ لیں کیونکہ یہ اچھے ملازم ہوں گے ، یہ طاقتور بھی ہیں اور امین بھی ۔‘‘ حضرت شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا : تمہیں کیسے پتہ چلا کہ یہ طاقتور ہے ؟ اس خاتون نے بتایا : یہ کنویں کے پاس آئے اس پر ایک بھاری پتھر رکھا ہوا تھا ، جسے اتنے اتنے لوگ مل کے ہلا سکتے تھے ، لیکن انہوں نے اس کو اٹھا لیا ، حضرت شعیب علیہ السلام نے دریافت کیا : اور اس کے امین ہونے کا تمہیں کیسے پتا چلا ؟ اس خاتون نے بتایا : میں ان کے آگے چلتی ہوئی جا رہی تھی ، تو انہوں نے مجھے اپنے پیچھے کر لیا ۔ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دوسرا سب سے زیادہ فراست والا فرد ) حضرت یوسف علیہ السلام کے واقعہ والا فرد ہے جس نے یہ کہا تھا : ( جس کے الفاظ قرآن نے ان الفاظ میں نقل کئے ہیں : ) ’’ تم اس کا دھیان رکھو ! ہو سکتا ہے یہ ہمیں نفع پہنچائے یا ہم اسے بیٹا بنا لیں ۔‘‘ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تیسرا سب سے زیادہ فراست والا فرد ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ، جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین مقرر کیا ۔‘‘

17942

Majma al-Zawaid #17942

وَفِي رِوَايَةٍ: مِنْ أَفْرَسِ النَّاسِ ثَلَاثَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِنْ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ هُوَ الْعَبْدِيَّ، وَإِنْ كَانَ هُوَ الثَّقَفِيَّ، فَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفٍ كَثِيرٍ فِيهِ.

EnglishUnverified translation

In another narration of the preceding report the wording is that among the most discerning of people are three. Among the most discerning of people are three.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ لوگوں میں سب سے زیادہ فراست والے افراد تین ہیں ‘.....‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں اگر محمد بن کثیر سے مراد عبدی ہو اگر وہ ثقفی ہو ، تو پھر اس میں موجود بہت زیادہ ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

17943

Majma al-Zawaid #17943

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قِيلَ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: صِفْ لَنَا أَهْلَ الْأَمْصَارِ، قَالَ: أَهْلُ الْحِجَازِ أَحْرَصُ النَّاسِ عَلَى فِتْنَةٍ، وَأَعْجَزُهُمْ عَنْهَا، وَأَهْلُ الْعِرَاقِ أَحْرَصُهُ عَلَى عِلْمٍ، وَأَبْعَدُهُ مِنْهُ، وَأَهْلُ الشَّامِ أَطْوَعُ النَّاسِ لِلْمَخْلُوقِ فِي مَعْصِيَةِ الْخَالِقِ، وَأَهْلُ مِصْرَ أَكْيَسُ النَّاسِ صَغِيرًا، وَأَحْمَقُهُ كَبِيرًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Zayd narrated that ʿAmr ibn al-ʿĀṣ رضي الله عنه was asked to describe the people of the cities and characterised the people of Ḥijāz, Iraq, Syria, and Egypt. The people of Ḥijāz are the most eager of people for tribulation and the most incapable regarding it; the people of Iraq are the most eager for knowledge and the farthest from it; the people of Syria are the most obedient of people to the creature in disobedience of the Creator; and the people of Egypt are the shrewdest of people when young and the most foolish when old.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن زید بیان کرتے ہیں : حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : آپ مختلف علاقوں کے لوگوں کے بارے میں ہمارے سامنے تبصرہ کریں ، تو انہوں نے فرمایا : ’’ حجاز کے لوگ فتنہ کے بارے میں سب سے زیادہ حریص ہیں اور اس کے حوالے سے سب سے زیادہ عاجز ہیں ۔ عراق کے لوگ علم کے بارے میں سب سے زیادہ حریص ہیں اور اس سے سب سے زیادہ دور ہیں ۔ شام کے لوگ خالق کی نافرمانی میں ، مخلوق کے سب سے زیادہ فرمانبردار ہیں ۔ مصر کے لوگ ، جب چھوٹے ہوں تو سب سے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں اور جب بڑے ہوں ، تو سب سے زیادہ احمق ہوتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

17944

Majma al-Zawaid #17944

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لِكُلِّ شَيْءٍ مَعْدِنٌ، وَمَعْدِنُ التَّقْوَى قُلُوبُ الْعَارِفِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَجَاءٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ described the mine of taqwā. > **"Everything has a mine, and the mine of taqwā is the hearts of those who know Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر چیز کا کوئی معدن ہوتا ہے اور تقوی کا معدن ‘ عارفین کے قلوب ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن رجاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17945

Majma al-Zawaid #17945

عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ مِنْ مُوجِبَاتِ وَلَايَةِ اللَّهِ ثَلَاثًا: إِذَا رَأَى حَقًّا مِنْ حُقُوقِ اللَّهِ لَمْ يُؤَخِّرْهُ إِلَى أَيَّامٍ لَا يُدْرِكُهَا، وَأَنْ يَعْمَلَ الْعَمَلَ الصَّالِحَ فِي الْعَلَانِيَةِ عَلَى قِوَامٍ مِنْ عَمَلِهِ فِي السَّرِيرَةِ، وَهُوَ يَجْمَعُ مَعَ مَا يُعَجِّلُ صَلَاحَ مَا يَأْمُلُ». قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «فَهَكَذَا وَلِيُّ اللَّهِ، وَعَقَدَ بِيَدِهِ ثَلَاثِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ mentioned three matters necessitating Allah's friendship and then described the wali of Allah while forming thirty with his hand. > **"Among what necessitates the friendship of Allah are three: when one sees a right from the rights of Allah he does not defer it to days he may not reach; that one performs righteous deeds openly upon the same standing as one's deeds in secret; and that one joins with what is hastened the welfare of what is hoped for. Such is the wali of Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اللہ کی دوستی کو واجب کرنے والی چیزیں تین ہیں ، جب آدمی اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے کوئی حق دیکھے ، تو اس کی ادائیگی کو ان دنوں تک مؤخر نہ کرے کہ جب وہ اس حق تک نہ پہنچ پائے اور یہ کہ آدمی علانیہ طور پر نیک عمل ، بالکل اسی طرح کرے ، جس طرح وہ پوشیدہ طور پر وہ عمل کرتا ہے ، اور یہ کہ اس کو جو کچھ ملتا ہے وہ اس کے ذریعے آخرت کی بہتری کی کوشش کرے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ اللہ کا ولی اسی طرح کا ہوتا ہے ‘‘ اور آپ نے تیس کا عدد بنا کر دکھایا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17946

Majma al-Zawaid #17946

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ فَقَالَ: "" كُلُّ تَقِيٍّ "". وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: {إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُونَ} [الأنفال: 34]». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ نُوحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ was asked who the family of Muḥammad are and answered with piety and recitation of a verse. > **"Every pious one. His allies are none but the pious."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ سے دریافت کیا گیا : آل محمد کون ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : ہر پرہیزگار شخص ، نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا : ( یعنی آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ) ’’ اس کے ساتھی صرف پرہیزگار لوگ ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی نوح بن ابی مریم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17947

Majma al-Zawaid #17947

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَزِيدُهُ ذَا شَرَفٍ عِنْدَهُ، وَلَا يَنْقُصُهُ إِلَّا التَّقْوَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْصُورُ بْنُ عُمَارَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي قَوْلِهِ: «كَرَمُ الْمُؤْمِنِ تَقْوَاهُ». وَأَحَادِيثُ فِي الْأَدَبِ فِي حَقِّ الْمُسْلِمِ، وَفِي أَثْنَائِهَا: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «التَّقْوَى هَهُنَا». وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى صَدْرِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that with the Messenger of Allah ﷺ no share of nobility increased or decreased a person except through taqwā. No share of nobility with the Messenger of Allah ﷺ increased or decreased anyone except through taqwā.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں شرف زیادہ ہونا ، یا کم ہونا صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہوتا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی منصور بن عمارہ ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کچھ احادیث گزر چکی ہیں ، جیسے نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے :’’ مومن کا کرم اس کا تقویٰ ہوتا ہے ۔‘‘ اسی طرح کتاب الادب میں ، مسلمان کے حق کے بارے میں روایات گزری ہیں اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا :” تقویٰ یہاں ہوتا ہے ‘‘ آپ نے اپنے مبارک سینے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔

17948

Majma al-Zawaid #17948

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوْ لَمْ تَكُونُوا تُذْنِبُونَ لَخَشِيتُ عَلَيْكُمْ مَا هُوَ أَكْبَرُ مِنْهُ: الْعُجْبُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ warned that freedom from sin could expose them to something greater. > **"Had you not committed sins, I would have feared for you what is greater than that: self-conceit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم گناہوں کا ارتکاب نہیں کرو گے تو مجھے تمہارے بارے میں اس چیز کے حوالے سے اندیشہ ہو گا ، جو اس سے زیادہ بڑی ( خرابی ) ہے ( اور وہ ) خودپسندی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17949

Majma al-Zawaid #17949

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «قَالَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي» "". قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَأَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ قَيْسٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْأَوْسَطِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِهِ: هَارُونَ بْنِ كَامِلٍ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ conveyed the divine warning against enmity toward His walī. > **"Allah says: Whoever shows enmity to a walī of Mine has made war with Me lawful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص میرے کسی ولی کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے وہ میرے ساتھ جنگ کو حلال قرار دے دیتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے روایت کے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، اسے امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن قیس ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا ہے امام احمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں اور معجم اوسط میں امام طبرانی کے رجال بھی ایسے ہیں ، صرف ان کے استاد ہارون بن کامل کا معاملہ مختلف ہے ۔

17950

Majma al-Zawaid #17950

وَعَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: مَنْ آذَى لِي وَلِيًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ فَرِيضَتِي، وَإِنَّهُ لَيَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْتُ رِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَلِسَانَهُ الَّذِي يَنْطِقُ بِهِ، وَقَلْبَهُ الَّذِي يَعْقِلُ بِهِ، وَإِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ، وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ كَتَرَدُّدِي عَنْ مَوْتِهِ، وَذَلِكَ أَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَنَا أَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Maymūnah, wife of the Prophet رضي الله عنها, narrated that the Messenger of Allah ﷺ conveyed Allah's declaration concerning harm to His walī, nearness through obligations and voluntary deeds, and the divine hesitation over the death of the beloved servant. > **"Allah says: Whoever harms a walī of Mine has made war with Me lawful. My servant draws near to Me with nothing like performance of My obligation, and he continues drawing near to Me through voluntary deeds until I love him. When I love him I become his leg with which he walks, his hand with which he grasps, his tongue with which he speaks, and his heart with which he understands. If he asks Me I give him, if he supplicates Me I answer him, and I do not hesitate over anything I do as I hesitate over his death, for he dislikes death and I dislike displeasing him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص میرے ولی کو اذیت پہنچاتا ہے وہ میرے ساتھ جنگ کو حلال قرار دے دیتا ہے اور میرا بندہ کسی ایسی چیز کے ذریعے میرا قرب حاصل نہیں کرتا ، جو میرے مقرر کردہ فرض کی ادائیگی جیسی ہوا اور بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں ، جن سے وہ چلتا ہے ، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ پکڑتا ہے ، اس کی زبان بن جاتا ہوں ، جس کے ذریعے وہ گفتگو کرتا ہے ، اس کا دل بن جاتا ہوں جس کے ذریعے وہ سمجھتا ہے ، اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کرتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے دعا مانگے تو میں وہ قبول کرتا ہوں ، مجھے کسی بھی کام کو کرنے کے بارے میں اتنا تردد نہیں ہوتا ، جتنا مجھے اپنے بندے کی موت کے حوالے سے تردد ہوتا ہے ، وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور جو چیز اسے بری لگے ، میں بھی اسے ناپسند کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

17951

Majma al-Zawaid #17951

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، «عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ جِبْرِيلَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - عَنِ اللَّهِ تَعَالَى قَالَ: "" مَنْ أَهَانَ لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْمُحَارَبَةِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ: أَبُو حَفْصٍ الدِّمَشْقِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated from the Prophet ﷺ, from Jibrīl عليه السلام, from Allah the Exalted, a warning against demeaning His walī. > **"Whoever demeans a walī of Mine has openly challenged Me to war."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص میرے ولی کی توہین کرتا ہے وہ مجھے جنگ کی دعوت دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سعید ابوحفص دمشقی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17952

Majma al-Zawaid #17952

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ نَاصَبَنِي بِالْمُحَارَبَةِ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ conveyed Allah's declaration against enmity toward His walī. > **"Allah says: Whoever shows enmity to a walī of Mine has set himself in combat with Me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص میرے ولی سے دشمنی رکھتا ہے وہ میرے ساتھ جنگ کرتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17953

Majma al-Zawaid #17953

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «يَقُولُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقَدْ نَاصَبَنِي بِالْمُحَارَبَةِ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ كَتَرَدُّدِي عَنْ مَوْتِ الْمُؤْمِنِ، يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ، وَرُبَّمَا سَأَلَنِي وَلِيِّيَ الْمُؤْمِنُ الْغِنَى فَأَصْرِفُهُ مِنَ الْغِنَى إِلَى الْفَقْرِ، وَلَوْ صَرَفْتُهُ إِلَى الْغِنَى لَكَانَ شَرًّا لَهُ، وَرُبَّمَا سَأَلَنِي وَلِيِّيَ الْمُؤْمِنُ الْفَقْرَ فَأَصْرِفُهُ إِلَى الْغِنَى، وَلَوْ صَرَفْتُهُ إِلَى الْفَقْرِ لَكَانَ شَرًّا لَهُ. إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - قَالَ: وَعِزَّتِي، وَجَلَالِي، وَعُلُوِّي، وَبَهَائِي، وَجَمَالِي، وَارْتِفَاعِ مَكَانِي، لَا يُؤْثِرُ عَبْدِي هَوَايَ عَلَى هَوَى نَفْسِهِ إِلَّا أَثْبَتُّ أَجَلَهُ عِنْدَ نَصْرِهِ، وَضَمِنَتْ لَهُ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ رِزْقَهُ، وَكُنْتُ لَهُ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَةِ كُلِّ تَاجِرٍ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ conveyed Allah's declaration concerning enmity toward His walī, hesitation over the believer's death, diversion between richness and poverty according to benefit, and the reward for preferring divine desire. > **"Allah says: Whoever shows enmity to a walī of Mine has set himself in combat with Me. I do not hesitate over anything I do as I hesitate over the death of the believer, for he dislikes death and I dislike displeasing him. Sometimes My believing walī asks Me for richness and I divert him from richness to poverty, for had I diverted him to richness it would have been evil for him; and sometimes My believing walī asks Me for poverty and I divert him to richness, for had I diverted him to poverty it would have been evil for him. By My might, majesty, exaltedness, splendour, beauty, and loftiness of station: no servant prefers My desire over his own desire except that I fix his term before his aid, heaven and earth guarantee his provision, and I stand for him beyond the commerce of every merchant."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص میرے ولی کے ساتھ دشمنی رکھتا ہے وہ میرے ساتھ جنگ کرتا ہے اور مجھے کسی بھی کام کو کرنے میں اتنا تردد نہیں ہوتا ، جتنا مومن کی موت کے حوالے سے تردد ہوتا ہے کیونکہ وہ موت کو ناپسند کرتا ہے اور میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جو اسے بری لگتی ہے ، بعض اوقات میرا مومن ولی مجھ سے خوشحالی مانگتا ہے اور میں اسے خوشحالی سے پھیر کر غربت کی طرف کر دیتا ہوں ، اگر میں اسے خوشحالی کی طرف کرتا تو یہ اس کے حق میں برا ہوتا ، اسی طرح بعض اوقات میرا کوئی مومن ولی مجھ سے غربت مانگتا ہے اور میں اسے خوشحالی کی طرف کر دیتا ہوں ، اگر میں اسے غربت کی طرف پھیرتا تو یہ اس کے حق میں برا ہوتا ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مجھے اپنی عزت ، اپنے جلال ، اپنے بلند مرتبے ، اپنی عظمت ، اپنے جمال ، اپنے مقام کی بلندی کی قسم ہے ! جب بھی میرا بندہ میری پسند کو اپنی خواہش پر ترجیح دیتا ہے تو میں اس کی اجل کو اس کی نگاہ کے پاس ثابت رکھتا ہوں اور زمین و آسمان اس کے لئے رزق کے ضامن ہو جاتے ہیں اور میں اس کے لئے ہر تاجر کی تجارت سے پرے ہو جاتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17954

Majma al-Zawaid #17954

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيَعْجَبُ مِنَ الشَّابِّ لَيْسَتْ لَهُ صَبْوَةٌ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿĀmir رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ described Allah's marvel at the youth without youthful inclination. > **"Allah marvels at a youth in whom there is no youthful folly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ اور روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ ایسے نوجوان کو پسند کرتا ہے جس کا لہو و لعب کی طرف میلان نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17955

Majma al-Zawaid #17955

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَا مِنْ نَاشِئٍ يَنْشَأُ فِي الْعِبَادَةِ حَتَّى يُدْرِكَهُ الْمَوْتُ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ أَجْرَ تِسْعَةٍ وَتِسْعِينَ صِدِّيقًا» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ الصَّفَّارُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ promised the reward of ninety-nine ṣiddīqs to the young one raised in worship until death overtakes him. > **"There is no young one raised in worship until death overtakes him except that Allah grants him the reward of ninety-nine ṣiddīqs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس نشوونما پانے والے کی نشوونما عبادت کرتے ہوئے ہوئی ہو ، یہاں تک کہ اسے موت آ جائے ، تو اللہ تعالی اسے ننانوے صدیقین کا اجر عطا کرے گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن عطیہ صفار ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

17956

Majma al-Zawaid #17956

عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «خَيْرُ شَبَابِكُمْ مَنْ تَشَبَّهَ بِكُهُولِكُمْ، وَشَرُّ كُهُولِكُمْ مَنْ تَشَبَّهَ بِشَبَابِكُمْ» "". رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ contrasted youth resembling elders with elders resembling youth. > **"The best of your youth are those who resemble your elders, and the worst of your elders are those who resemble your youth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تمہارے نوجوانوں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو بوڑھوں کے ساتھ مشابہت اختیار کریں ، اور تمہارے بوڑھوں میں سب سے برے وہ ہیں جو نوجوانوں کے ساتھ مشابہت اختیار کریں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17957

Majma al-Zawaid #17957

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «خَيْرُ شَبَابِكُمْ مَنْ تَشَبَّهَ بِكُهُولِكُمْ، وَشَرُّ كُهُولِكُمْ مَنْ تَشَبَّهَ بِشَبَابِكُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِمَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ contrasted youth resembling the middle-aged with the middle-aged resembling youth. > **"The best of your youth are those who resemble your elders, and the worst of your elders are those who resemble your youth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ عوام نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے نوجوانوں میں سب سے بہتر وہ ہیں جو تمہارے ادھیڑ عمر افراد کے ساتھ مشابہت اختیار کریں اور تمہارے ادھیڑ عمر افراد میں سب سے زیادہ برے وہ ہیں ، جو تمہارے نوجوانوں کے ساتھ مشابہت اختیار کریں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17958

Majma al-Zawaid #17958

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ اللَّهَ يُبْغِضُ ابْنَ سَبْعِينَ فِي هَيْئَةِ ابْنِ عِشْرِينَ فِي مِشْيَتِهِ وَمَنْظَرِهِ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ described Allah's dislike for a man of seventy in the gait and appearance of twenty. > **"Allah dislikes a son of seventy in the guise of a son of twenty in his gait and appearance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالی ستر سال کے ایسے فرد کو ناپسند کرتا ہے جو چلنے میں اور دیکھنے میں بیس سال کے فرد کا حلیہ اختیار کئے ہوئے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17959

Majma al-Zawaid #17959

عَنْ حُذَيْفَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْيَمَانِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ» "". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ غُرَابٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَضَعَّفَهُ بَعْضُهُمْ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah ibn al-Yamān رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ stated the ruling for imitation. > **"Whoever imitates a people is among them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی قوم کے ساتھ مشابہت اختیار کرتا ہے وہ ان میں سے ایک ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن غراب ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، بعض حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17960

Majma al-Zawaid #17960

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" «إِنَّ الْمِقَةَ مِنَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ شَرِيكٌ: هِيَ الْمَحَبَّةُ - وَالصِّيتُ مِنَ السَّمَاءِ، فَإِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ: إِنِّي أُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ [فَيُنَادِي جِبْرِيلُ: "" إِنَّ اللَّهَ يَمِقُ "" يَعْنِي: يُحِبُّ "" فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ "" "". قَالَ: "" فَتَنْزِلُ لَهُ الْمَحَبَّةُ فِي الْأَرْضِ، وَإِذَا أَبْغَضَ عَبْدًا قَالَ لِجِبْرِيلَ: إِنِّي أُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ "". قَالَ: "" فَيُنَادِي جِبْرِيلُ: إِنْ رَبَّكُمْ يُبْغِضُ فُلَانًا فَأَبْغِضُوهُ "". قَالَ: فَيَجْرِي لَهُ الْبُغْضُ فِي الْأَرْضِ» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا. قُلْتُ: قَدْ عَزَاهُ صَاحِبُ الْأَطْرَافِ، قُلْتُ: لَمْ أَجِدْهُ فِي الْأَطْرَافِ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ described affection from Allah and repute from heaven, and the proclamation of Jibrīl عليه السلام in love and hatred. > **"Affection is from Allah and repute is from heaven. When Allah loves a servant He says to Jibrīl: I love so-and-so, so love him. Then Jibrīl proclaims that Allah loves so-and-so, so love him. Then love for him descends upon earth. And when He hates a servant He says to Jibrīl: I hate so-and-so, so hate him. Then Jibrīl proclaims that your Lord hates so-and-so, so hate him. Then hatred for him proceeds upon earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مقۃ ‘ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے ۔ ( شریک نامی راوی کہتے ہیں : اس سے مراد محبت ہے ) اور ذکر آسمان سے آتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو وہ جبرائیل سے فرماتا ہے : میں فلاں سے محبت کرتا ہوں ، تو وہ اعلان کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے تو ( اے فرشتو ! ) تم بھی اس سے محبت کرو ! نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : پھر وہ محبت زمین میں نازل ہو جاتی ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کو ناپسند کرتا ہے تو وہ جبرائیل سے فرماتا ہے : میں فلاں شخص کو ناپسند کرتا ہوں ، تم بھی اسے ناپسند کرو : نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو حضرت جبرائیل اعلان کرتے ہیں : تمہارا پروردگار فلاں شخص کو ناپسند کرتا ہے ، تو تم بھی اسے ناپسند کرو : نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو اس شخص کے لیے زمین میں ناپسندیدگی جاری کر دی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے یہ روایت ” اطراف ‘‘ میں نہیں پائی ہے ۔