وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عَلَى الشَّامِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَعْطِ النَّاسَ أَعْطِيَاتِهِمْ، وَاغْزُ بِهِمْ، فَبَيْنَا هُوَ يُعْطِي النَّاسَ - وَذَلِكَ فِي آخِرِ النَّهَارِ - جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الرَّسَاتِيقِ فَقَالَ لَهُ: يَا مُعَاذُ، مُرْ لِي بِعَطَائِي فَإِنِّى بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ مِنْ مَكَانِ كَذَا فَلَعَلِّي آوِي إِلَى أَهْلِي قَبْلَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ، لَا أُعْطِيكَ حَتَّى أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ - ; سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْأَنْبِيَاءُ كُلُّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ بِأَلْفَيْ عَامٍ، وَفُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ عَامًا، وَإِنَّ أَهْلَ الْمَدَائِنِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَهْلِ الرَّسَاتِيقِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا، تَفْضُلُ الْمَدَائِنُ بِالْجُمُعَةِ، وَالْجَمَاعَاتِ، وَحِلَقِ الذِّكْرِ، وَإِذَا كَانَ بَلَاءٌ خُصُّوا بِهِ دُونَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَيْسَ بِذَاكَ تَفَرَّدَ بِأَشْيَاءَ، وَقَالَ ابْنُ يُونُسَ: كَانَ يَفْهَمُ وَيَحْفَظُ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ: حَافِظٌ رَحَّالٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
EnglishUnverified translation
ʿAbd al-Raḥmān ibn Ghunm narrated that ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه appointed Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه over Syria, commanding him to pay stipends and campaign, and as Muʿādh distributed late in the day a villager asked precedence before nightfall, but Muʿādh prioritised townspeople, citing that he heard the Messenger of Allah ﷺ say all prophets enter Paradise two thousand years before Dāwūd and Sulaymān عليهما السلام, the poor Muslims forty years before the rich, and townspeople forty years before villagers by virtue of Friday, congregations, circles of remembrance, and their exclusive exposure to tribulation. > **"All the prophets will enter Paradise two thousand years before Dāwūd and Sulaymān, and the poor Muslims will enter Paradise forty years before their rich, and the people of towns will enter Paradise forty years before the people of villages, for towns excel through Friday, congregations, and circles of remembrance, and when tribulation comes they are singled out by it apart from them."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط میں لکھا : کہ تم لوگوں کو ان کی تنخواہیں ادا کر دو اور پھر انہیں ساتھ لے کر جنگ میں حصہ لو ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ لوگوں کو ادائیگیاں کر رہے تھے ، یہ دن کے آخری حصے کی بات ہے ، اسی دوران دیہاتی علاقے کا رہنے والا ایک شخص ان کے پاس آیا ، اس نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا : اے حضرت معاذ ! آپ مجھے ادائیگی کرنے کا حکم جاری کر دیں ، کیونکہ میں فلاں دیہاتی علاقے کا رہنے والا شخص ہوں اور میں چاہتا ہوں ، میں رات ہونے سے پہلے اپنے گھر واپس چلا جاؤں ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں اس وقت تک ادائیگی نہیں کروں گا ، جب تک ان لوگوں کو ادائیگی نہیں کر دیتا ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی مراد شہر والے لوگ تھے ، پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تمام انبیاء کرام علیہم السلام ‘ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام سے دو ہزار سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور غریب مسلمان ، امیر مسلمانوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، اور شہروں کے رہنے والے لوگ ، دیہاتی علاقوں کے رہنے والوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، شہروں کو جمعہ ، اجتماعات ، ذکر کے حلقوں کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے اور اگر کوئی آزمائش ہو تو وہ بھی شہر میں آتی ہے دیہاتوں میں نہیں آتی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے , وہ کہتے ہیں : یہ روایت نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید بن بشیر ہے ، امام دارقطنی کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے اور کچھ روایات نقل کرنے میں منفرد ہے ، ابن یونس کہتے ہیں : یہ سمجھ بھی رکھتا تھا اور حافظہ بھی رکھتا تھا ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ حافظ ہے اور اس نے علم کی طلب میں سفر کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔