Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 7

Book of Asceticism

Hadith 17881–17920

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17881

Majma al-Zawaid #17881

عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «انْظُرْ أَرْفَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ "". قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ حُلَّةٌ، قُلْتُ: هَذَا، قَالَ: قَالَ لِي: "" انْظُرْ أَوْضَعَ رَجُلٍ فِي الْمَسْجِدِ "". قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ عَلَيْهِ أَخْلَاقٌ، قَالَ: قُلْتُ: هَذَا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَهَذَا عِنْدَ اللَّهِ أَخْيَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ مِلْءِ الْأَرْضِ مِثْلِ هَذَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ asked him to look at the most eminent man in the mosque, wearing a fine ḥullah, then at the lowliest man, wearing worn garments, and said the latter is better before Allah on the Day of Resurrection than the earth full of the former. > **"This one is better before Allah on the Day of Resurrection than the earth full of the like of that one."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم مسجد میں موجود سب سے بلند حیثیت کے مالک شخص کا جائزہ لو ! راوی کہتے ہیں : میں نے دیکھا تو وہاں ایک شخص موجود تھا جس کے جسم پر حلہ ( یعنی قیمتی لباس ) تھا ‘ میں نے کہا : یہ ہے ‘ نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا : تم مسجد میں موجود ‘ سب سے کم تر حیثیت کے شخص کا جائزہ لو ! راوی کہتے ہیں : میں نے دیکھا تو وہاں ایک شخص موجود تھا ، جس کے جسم پر بوسیدہ لباس تھا ‘ میں نے عرض کی : یہ ہے ‘ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن یہ ( غریب شخص ) اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ‘ اُس ( خوشحال شخص ) جیسے ‘ اتنے لوگوں سے بہتر ہو گا ، جو زمین کو بھر دیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17882

Majma al-Zawaid #17882

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «خَرَجْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَدُهُ فِي يَدِي، فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ رَثِّ الْهَيْئَةِ، قَالَ: "" أَبُو فُلَانٍ مَا بَلَغَ بِكَ مَا أَرَى؟ "". قَالَ: السَّقَمُ وَالضُّرُّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" أَلَا أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ يُذْهِبُ اللَّهُ عَنْكَ السَّقَمَ وَالضُّرَّ؟ "". قَالَ: [لَا] مَا يَسُرُّنِي بِهِمَا أَنِّي شَهِدْتُ مَعَكَ بَدْرًا وَأُحُدًا، قَالَ: فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -[ثُمَّ] قَالَ: "" وَهَلْ يُدْرِكُ أَهْلُ بَدْرٍ وَأَهْلُ أُحُدٍ مَا يُدْرِكُ الْفَقِيرُ الْقَانِعُ؟ "". قَالَ: فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَا فَعَلِّمْنِي؟ قَالَ: فَقَالَ: "" قُلْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ: تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ، وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا "". قَالَ: فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَدْ حَسُنَتْ حَالِي فَقَالَ: "" مَهْيَمْ؟ "". قَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَزَلْ أَقُولُ الْكَلِمَاتِ الَّتِي عَلَّمْتَنِيهِنَّ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَفِيهِ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ، وَلَكِنَّ حَرْبَ بْنَ مَيْمُونٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that he walked with the Messenger of Allah ﷺ, hand in hand, until they came upon a man of wretched appearance who complained of sickness and hardship; the Prophet ﷺ offered him words that remove such affliction, the man preferred them over witnessing Badr and Uḥud, and the Prophet ﷺ taught Abū Hurayrah those words of reliance and glorification, after which Abū Hurayrah's condition improved. > **"I place my trust in the Living who never dies. Praise belongs to Allah who has taken no son, has no partner in dominion, has no helper out of humiliation, and magnify Him with great magnification."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اور نبی اکرم ﷺ نکلے ‘ آپ ﷺ کا دست مبارک میرے ہاتھ میں تھا ، ایک شخص آپ کے پاس آیا ، جس کا حلیہ خراب تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابوفلاں ! تمہارا یہ حال کیسے ہو گیا ؟ جو میں دیکھ رہا ہوں ، اُس نے کہا : بیماری اور غربت کی وجہ سے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں ان کلمات کی تعلیم نہیں دی تھی ؟ جن کی وجہ سے اللہ تعالی تم سے بیماری اور غربت کو دور کر دیتا ؟ اس نے کہا : جی نہیں ! اُن دونوں ( یعنی بیماری اور غربت ) کے بدلے میں مجھے یہ بھی پسند نہیں ہے کہ میں نے آپ کے ساتھ غزوہ بدر اور غزوہ اُحد میں شرکت کی ہوتی ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ ہنس پڑے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا اہل بدر اور اہل احد اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں ، جہاں قناعت کرنے والا غریب آدمی پہنچتا ہے ؟ راوی کہتے ہیں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ الٹا عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اُن کی تعلیم دیجئے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! تم یہ پڑھو : «تَوَكَّلْتُ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ شَرِيكٌ فِي الْمُلْكِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ وَلِيٌّ مِنَ الذُّلِّ، وَكَبِّرْهُ تَكْبِيرًا» ’’ میں نے اُس زندہ ذات پر توکل کیا ، جسے موت نہیں آئے گی ، ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو اولاد سے پاک ہے اور بادشاہی میں اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور وہ کمزور نہیں ہوتا کہ اُسے کسی مددگار کی ضرورت ہو اور تم بھرپور طریقے سے اُس کی کبریائی بیان کرو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ میرے پاس تشریف لائے ، تو میری حالت بہتر ہو چکی تھی ، آپ ﷺ نے دریافت کیا : اس کی وجہ کیا ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں مسلسل وہ کلمات پڑھتا رہتا ہوں ، جو آپ نے مجھے تعلیم دیے تھے ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کی کمزور توثیق کی گئی ہے اور ایک راوی حرب بن میمون ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17883

Majma al-Zawaid #17883

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ سَأَلَ عَنِّي أَوْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَيَّ فَلْيَنْظُرْ إِلَى أَشْعَثَ شَاحِبٍ مُشَمِّرٍ لَمْ يَضَعْ لَبِنَةً عَلَى لَبِنَةٍ، وَلَا قَصَبَةً عَلَى قَصَبَةٍ، رُفِعَ لَهُ عِلْمٌ فَشَمَّرَ إِلَيْهِ الْيَوْمَ الْمِضْمَارُ، وَغَدًا السِّبَاقُ، وَالْغَايَةُ الْجَنَّةُ أَوِ النَّارُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾishah رضي الله عنها narrated that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever asks about him or wishes to behold him should look to the dishevelled, pale, diligent one who lays no brick upon brick nor reed upon reed, for whom the banner is raised and who hastens toward it, for today is the training ground, tomorrow the race, and the goal is Paradise or Hell. > **"Whoever asks about me, or is pleased to look upon me, let him look to the dishevelled, pale one, girded for striving, who has laid no brick upon brick nor reed upon reed; a banner is raised for him and he hastens toward it. Today is the training ground, tomorrow the race, and the goal is Paradise or Hell."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص میرے بارے میں دریافت کرتا ہے ‘‘ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ میری طرف دیکھے ، تو اُسے ایسے شخص کی طرف دیکھنا چاہیے جس کے بال بکھرے ہوئے ہوں ، اس کی رنگت متغیر ہو ، وہ بھرپور عبادت کرنے والا ہو ( یا اس کے پاس مناسب لباس نہ ہو ) اس نے کسی اینٹ پر اینٹ نہ رکھی ہو اور کسی بانس پر بانس نہ رکھا ہو ( یعنی کوئی تعمیر نہ کی ہو ) اس کے سامنے پرچم بلند ہو تو وہ کمر ہمت باندھ کر اس کی طرف چلا جائے ، آج کا دن ، تیاری کا دن ہے اور کل کا دن نتیجے کا ہے اور آخری انجام ، جنت یا جہنم ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17884

Majma al-Zawaid #17884

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا، وَطَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ: "" يَأْتِي قَوْمٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نُورُهُمْ كَنُورِ الشَّمْسِ "". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: نَحْنُ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" لَا. وَلَكُمْ خَيْرٌ كَثِيرٌ، وَلَكِنَّهُمُ الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ يُحْشَرُونَ مِنْ أَقْطَارِ الْأَرْضِ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَزَادَ فِي الْكَبِيرِ: ثُمَّ قَالَ: «طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ، طُوبَى لِلْغُرَبَاءِ "". قِيلَ: وَمَنِ الْغُرَبَاءُ؟ قَالَ: "" نَاسٌ صَالِحُونَ قَلِيلٌ فِي نَاسٍ سُوءٌ كَثِيرٌ، مَنْ يَعْصِيهِمْ أَكْثَرُ مِمَّنْ يُطِيعُهُمْ».

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما narrated that while with the Messenger of Allah ﷺ after sunrise, the Prophet ﷺ said a people will come on the Day of Resurrection with light like the sun; when Abū Bakr رضي الله عنه asked if they were they, he said they have abundant good but those are the poor emigrants gathered from the ends of the earth. > **"A people will come on the Day of Resurrection whose light is like the light of the sun. They are the poor emigrants who will be gathered from the ends of the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن میں نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ، سورج نکل آیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن کچھ لوگ آئیں گے ، جن کا نور ، سورج کے نور کی مانند ہو گا ۔‘‘ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا وہ ہم ہوں گے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تمہارے لئے بہت زیادہ بھلائی ہے ، لیکن وہ غریب مہاجرین ہوں گے جو زمین کے مختلف حصوں سے اکٹھے کیے جائیں گئے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے انہوں نے معجم کبیر میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں :’’ غریب لوگوں کے لیے مبارکباد ہے ! غریب لوگوں کے لیے مبارکباد ہے ! عرض کی گئی : غریب لوگوں سے مراد کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ نیک لوگ ، جو تھوڑے ہوں اور بہت سے برے لوگوں کے درمیان موجود ہوں ، ان کی فرمانبرداری کرنے والوں کے مقابلے میں ، اُن کی نافرمانی کرنے والے لوگ زیادہ ہوں ۔‘‘

17885

Majma al-Zawaid #17885

وَفِي رِوَايَةٍ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ: نَحْنُ هُمْ؟ وَلَهُ فِي الْكَبِيرِ أَسَانِيدُ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration of the preceding report, Abū Bakr and ʿUmar رضي الله عنهما asked whether they were those radiant poor emigrants. In one narration, Abū Bakr and ʿUmar asked: Are we they?

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم اُن میں سے ہیں ؟""۔ اس روایت کی معجم کبیر میں مختلف اسانید منقول ہیں ، ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17886

Majma al-Zawaid #17886

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «هَلْ تَدْرُونَ أَوَّلَ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "" [أَوَّلُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ] الْفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرُونَ الَّذِينَ تُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً، فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ مَلَائِكَتِهِ: ائْتُوهُمْ فَحَيُّوهُمْ، فَتَقُولُ الْمَلَائِكَةُ: نَحْنُ سُكَّانُ سَمَائِكَ، وَخِيرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ، أَفَتَأْمُرُنَا أَنْ نَأْتِيَ هَؤُلَاءِ فَنُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ؟! قَالَ: إِنَّهُمْ كَانُوا عِبَادًا يَعْبُدُونِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا، وَتُسَدُّ بِهِمُ الثُّغُورُ، وَتُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، وَيَمُوتُ أَحَدُهُمْ وَحَاجَتُهُ فِي صَدْرِهِ لَا يَسْتَطِيعُ لَهَا قَضَاءً "". قَالَ: "" فَتَأْتِيهِمُ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ ذَلِكَ، فَيَدْخُلُونَ عَلَيْهِمْ مِنْ كُلِّ بَابٍ: سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنَعِمَ عُقْبَى الدَّارِ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِ الْمَلَائِكَةِ: وَسُكَّانُ سَمَاوَاتِكَ: «وَإِنَّكَ تُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ قَبْلَنَا». وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr ibn al-ʿĀṣ رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ asked who first enters Paradise, then described the poor emigrants by whom frontiers are secured and hardships averted, who die with their needs unfulfilled in their breasts, whom Allah commands the angels to greet, and whom the angels will enter upon from every gate with salutations for their patience. > **"Do you know the first of Allah's creation to enter Paradise? They are the poor emigrants by whom the frontiers are secured, by whom hardships are averted, and one of them dies while his need remains in his breast, unable to fulfil it. Allah will say to whomever He wills among His angels: Go to them and greet them. The angels will come to them and enter upon them from every gate: Peace be upon you for what you endured with patience, and excellent is the final abode."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم یہ جانتے ہو ؟ کہ اللہ کی مخلوق میں سے کون سب سے پہلے جنت میں داخل ہو گا ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ کی مخلوق میں سے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والے لوگ ، غریب مہاجرین ہوں گے ، جن کے ذریعے شگافوں کو بند کیا جاتا ہو گا اور جن کے ذریعے ناپسندیدہ صورتحال سے بچا جاتا ہو گا ، اُن میں سے کوئی ایک مرے گا ، تو اس کی حاجت اس کے سینے میں ہی رہ جائے گی ، وہ اس کو پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا ہو گا ، اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں میں سے جن کے بارے میں چاہے گا انہیں یہ فرمائے گا : تم اُن کے پاس جاؤ اور انہیں سلام کہو ! فرشتے عرض کریں گے : ہم تیرے آسمان کے باسی ہیں اور تیری مخلوق میں تیرے بہترین بندے ہیں ، کیا تو ہمیں یہ حکم دے رہا ہے کہ ہم ان کے پاس جا کر انہیں سلام کریں ؟ پروردگار فرمائے گا : یہ میرے ایسے بندے ہیں جو میری عبادت کرتے رہے ، انہوں نے کسی کو میرا شریک قرار نہیں دیا ، ان کے ذریعے شگاف بند کیے جاتے تھے ، ناپسندیدہ صورتحال سے بچا جاتا تھا ، ان میں سے کوئی ایک شخص جب مرتا تھا ، تو اس کی حاجت اس کے سینے میں ہی رہ گئی ہوتی تھی ، وہ اس کو پوری کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو وہ فرشتے اس وقت ان لوگوں کے پاس آئیں گے ، وہ ہر دروازے سے اُن پر داخل ہوں گے اور یہ کہیں گے :’’ تم پر سلام ہو ، اس چیز کی وجہ سے جو تم نے صبر سے کام لیا اور آخرت کا ٹھکانہ عمدہ ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے "" صحیح "" میں ایک روایت مذکور ، ہے جو اس کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے روایت کے ان الفاظ :” ہم تیرے آسمان کے باسی ہیں ۔‘‘ کے بعد یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” تو ہم سے پہلے انہیں جنت میں داخل نہیں کرے گا ‘‘ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔

17887

Majma al-Zawaid #17887

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ أَوَّلَ ثُلَّةٍ تَدْخُلُ [الْجَنَّةَ] الِفُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ يُتَّقَى بِهِمُ الْمَكَارِهُ، وَإِذَا أُمِرُوا سَمِعُوا وَأَطَاعُوا، وَإِذَا كَانَتْ لِرَجُلٍ مِنْهُمْ حَاجَةٌ إِلَى السُّلْطَانِ لَمْ تُقْضَ [لَهُ] حَتَّى يَمُوتَ، وَهِيَ فِي صَدْرِهِ، وَاللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - يَدْعُو يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْجَنَّةَ فَتَأْتِي بِزُخْرُفِهَا وَزِينَتِهَا فَيَقُولُ: إِنَّ عِبَادِيَ الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي، وَقُتِلُوا وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَجَاهَدُوا [فِي سَبِيلِي]، ادْخُلُوا الْجَنَّةَ، فَيَدْخُلُونَهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ فِيهِ: «ادْخُلُوا الْجَنَّةَ بِلَا عَذَابٍ، وَلَا حِسَابٍ، وَتَأْتِي الْمَلَائِكَةُ فَيَسْجُدُونَ وَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، نَحْنُ نُسَبِّحُكَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ، وَنُقَدِّسُ لَكَ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ آثَرْتَهُمْ عَلَيْنَا؟! فَيَقُولُ اللَّهُ - جَلَّ ذِكْرُهُ -: عِبَادِي الَّذِينَ قَاتَلُوا فِي سَبِيلِي، وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي، فَتَدْخُلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ مِنْ كُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَى الدَّارِ». وَرِجَالُ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عُشَّانَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say the first company to enter Paradise are the poor emigrants who ward off hardships, hear and obey when commanded, and die with their needs before rulers unfulfilled, whom Allah will call into an adorned Paradise without reckoning while the angels glorify Allah and greet them from every gate. > **"The first company to enter Paradise are the poor emigrants by whom hardships are averted. When they are commanded they hear and obey, and when one of them has a need before authority it remains unfulfilled until he dies with it in his breast. Allah will call Paradise on the Day of Resurrection, it will come with its splendour and adornment, and He will say: My servants who fought in My path, were killed and harmed in My path and strove in My path, enter Paradise. So they will enter it without reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جنت میں داخل ہونے والا پہلا گروہ غریب مہاجرین کا ہو گا ، جن کے ذریعے ناپسندیدہ صورتحال سے بچا جائے گا ، جب انہیں حکم دیا جائے تو وہ اطاعت و فرمانبرداری سے کام لیں گے ، جب ان میں سے کسی فرد کو کسی حکمران سے کوئی کام ہو گا تو اس کا وہ کام پورا نہیں ہو گا یہاں تک کہ وہ شخص مر جائے گا اور وہ حاجت اس کے سینے میں رہ جائے گی ، قیامت کے دن اللہ تعالی جنت کو بلائے گا تو وہ اپنی آرائش و زیبائش کے ہمراہ آئے گی ، اللہ تعالی فرمائے گا : میرے کچھ بندے ہیں ، جنہوں نے میری راہ میں جنگ میں حصہ لیا اور وہ شہید ہو گئے ، انہیں میری خاطر اذیت پہنچائی گئی ، انہوں نے میری راہ میں جہاد کیا ( پھر ان بندوں سے کہا جائے گا : ) تم لوگ جنت میں داخل ہو جاؤ ! تو وہ کسی حساب اور عذاب کے بغیر اس میں داخل ہو جائیں گے ...... اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ’’ تم کسی عذاب اور حساب کے بغیر جنت میں داخل ہو جاؤ ! پھر فرشتے آئیں گے اور سجدے میں چلے جائیں گے اور یہ عرض کریں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہم رات دن تیری تسبیح بیان کرتے ہیں ، تیری پاکی کا اعتراف کرتے ہیں ۔ یہ لوگ کون ہیں ؟ جنہیں تو نے ہم پر ترجیح دی ہے ، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ میرے وہ بندے ہیں ، جنہوں نے میری راہ میں جنگ میں حصہ لیا ، انہیں میری راہ میں اذیت پہنچائی گئی ، تو فرشتے ہر دروازے سے اُن پر داخل ہوں گے اور یہ کہیں گے : ’’ تم پر سلام ہو ! اُس کی وجہ سے ، جو تم نے صبر سے کام لیا ، اور آخرت کا ٹھکانہ عمدہ ہے ۔‘‘ امام طبرانی کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعشانہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17888

Majma al-Zawaid #17888

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِخَمْسِمِائَةِ عَامٍ "". قُلْنَا: وَمَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: "" هُمُ الَّذِينَ إِذَا كَانَ مَهْلِكٌ بُعِثُوا، وَإِذَا كَانَ مَغْنَمٌ بَعَثُوا غَيْرَهُمْ، الَّذِينَ يُحْجَبُونَ عَلَى أَبْوَابِ السُّلْطَانِ». قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَزَيْدٌ الْعَمِّيُّ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said the poor Muslims enter before their rich by five hundred years, describing them as those sent forth at destruction, kept back at spoils, and turned away at the doors of rulers. > **"The poor Muslims will enter before their rich by five hundred years. They are those who, when there is destruction, are sent forth, and when there is booty, others are sent; those who are turned back at the doors of rulers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ غریب مسلمان ، خوشحال مسلمانوں سے ، پانچ سو سال پہلے ( جنت میں ) داخل ہوں گے ، ہم نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہوں گے ؟ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جب ہلاکت والی صورتحال ہو تو انہیں بھیج دیا جائے گا اور جب مال غنیمت حاصل ہونے کا امکان ہو ، تو دوسروں کو بھیج دیا جائے گا ، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں حکمران کے دروازے پر نہیں آنے دیا جائے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن فضل بن عیاض ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اور ایک راوی زید عمی ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17889

Majma al-Zawaid #17889

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ حَوْضِي مَا بَيْنَ عَدَنَ إِلَى عُمَانَ، أَكْوَابُهُ عَدَدُ النُّجُومِ، مَاؤُهُ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنَ الثَّلْجِ، وَأَحْلَى مِنَ الْعَسَلِ، أَوَّلُ مَنْ يَرِدُهُ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صِفْهُمْ لَنَا، قَالَ: "" شُعْثُ الرُّءُوسِ، دَنَسُ الثِّيَابِ، الَّذِينَ لَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، وَلَا تُفْتَحُ لَهُمُ السُّدَدُ، الَّذِينَ يُعْطُونَ مَا عَلَيْهِمْ، وَلَا يُعْطَوْنَ مَا لَهُمْ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي ذِكْرِ الْحَوْضِ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Thawbān رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ described his Ḥawḍ from ʿAdan to ʿUmān, its cups as numerous as stars, its water whiter than snow and sweeter than honey, to which the poor emigrants will come first, dishevelled, dusty-clothed, withheld from luxurious marriages and closed doors, fulfilling their duties without receiving their dues. > **"My Ḥawḍ extends from ʿAdan to ʿUmān. Its cups are as numerous as the stars, its water whiter than snow and sweeter than honey. The first to reach it are the poor emigrants: dishevelled heads, soiled garments, who do not marry women of luxury, for whom doors are not opened, who render what is due upon them and are not given what is due to them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میرا حوض ’’ عدن ‘‘ سے لے کر ’’ عمان ‘‘ تک کے درمیانی فاصلے جتنا ہو گا اور اس کے پیالے ستاروں کی تعداد جتنے ہوں گے اس کا پانی برف سے زیادہ سفید ہو گا اور شہد سے زیادہ میٹھا ہو گا اور اس پر سب سے پہلے غریب مہاجرین آئینگے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کا حلیہ ہمارے سامنے بیان کریں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ان کے بال بکھرے ہوئے ہوں گے ، کپڑے میلے کچیلے ہوں گے ، وہ خوشحال عورتوں کے ساتھ شادی نہیں کر سکیں گے ان کے لیے دروازے نہیں کھولے جائیں گے وہ اپنا فرض ادا کر دیں گے لیکن انہیں ان کا حق نہیں ملے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ، حوض کے تذکرہ کے بارے میں ایک روایت ’’ صحیح ‘‘ میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

17890

Majma al-Zawaid #17890

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ: «وَأَكْثَرُ النَّاسِ وُرُودًا عَلَيْهِ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ». بَدَلَ: «أَوَّلُ مَنْ يَرِدُهُ». وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration from the same narrator, instead of the first to reach the Ḥawḍ, the wording is that most of those who come to it are the poor emigrants. Most of those who come to it are the poor emigrants.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ وہاں آنے والوں میں زیادہ تعداد غریب مہاجرین کی ہو گی ‘‘ یہ الفاظ ان الفاظ کی جگہ ہیں :” اس پر سب سے پہلے آنے والے ‘.......۔ دوسری روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17891

Majma al-Zawaid #17891

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُؤْمِنِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِأَرْبَعِمِائَةِ عَامٍ "". قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ الْحَسَنَ يَذْكُرُ "" بِأَرْبَعِينَ عَامًا "". فَقَالَ: عَنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" بِأَرْبَعِمِائَةِ عَامٍ حَتَّى يَقُولَ الْغَنِيُّ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ عَيْلًا "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَمِّهِمْ لَنَا بِأَسْمَائِهِمْ. قَالَ: "" هُمُ الَّذِينَ إِذَا كَانَ مَكْرُوهٌ بُعِثُوا لَهُ، وَإِذَا كَانَ نَعِيمٌ بَعَثُوا لَهُ سِوَاهُمْ، وَهُمُ الَّذِينَ يُحْجَبُونَ عَنِ الْأَبْوَابِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ زَيْدِ بْنِ أَبِي الْحَوَارِيِّ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Ṣiddīq narrated from the Companions of the Prophet ﷺ, from the Prophet ﷺ, that the poor believers enter Paradise four hundred years before the rich, until the rich man wishes he had been destitute, and described them as those sent forth at hardship, set aside at comfort, and veiled from doors. > **"The poor believers will enter Paradise four hundred years before the rich, until the rich man says: Would that I had been destitute. They are those who, when there is hardship, are sent forth to it, and when there is blessing, others are sent for it, and they are those who are veiled from doors."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوصدیق ‘ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے ، نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ غریب اہل ایمان ، خوشحال افراد سے ، چار سو سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ۔‘‘ ( بعد کے زمانے کے ) راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : حسن نے تو یہ روایت ذکر کرتے ہوئے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :’’ چالیس سال پہلے .......‘‘۔ تو ابوصدیق نے کہا : صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے یہ بات منقول ہے :’’ چار سو سال پہلے ، یہاں تک کہ خوشحال شخص یہ آرزو کرے گا کہ کاش میں ( دنیا میں ) تنگدست ہوتا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ان کے نام ہمارے سامنے بیان کیجئے ! نبی اکرم صلی ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے کہ جب ناپسندیدہ صورتحال ہو گی ، تو انہیں اس کے لیے بھیج دیا جائے گا اور جب نعمتوں کا وقت آئے گا اس وقت دوسرے لوگوں کو ان کے لیے بھیج دیا جائے گا ، اور یہ وہ لوگ ہوں گے ، جنہیں دروازوں پر نہیں آنے دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف زید بن ابوحواری کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود ، اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

17892

Majma al-Zawaid #17892

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «تَدْخُلُ فُقَرَاءُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا "". فَقِيلَ: صِفْهُمْ لَنَا. فَقَالَ: "" الدَّنِسَةُ ثِيَابُهُمْ، الشَّعِثَةُ رُءُوسُهُمْ، الَّذِينَ لَا يُؤْذَنُ لَهُمْ عَلَى السُّدَّاتِ، وَلَا يَنْكِحُونَ الْمُتَنَعِّمَاتِ، تُوَكَّلُ بِهِمْ مَشَارِقُ الْأَرْضِ وَمَغَارِبُهَا، يُعْطُونَ كُلَّ الَّذِي عَلَيْهِمْ، وَلَا يُعْطَوْنَ كُلَّ الَّذِي لَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that he heard the Prophet ﷺ say the poor of his Ummah enter Paradise forty autumns before the rich, describing them as soiled in garments, dishevelled in heads, denied entry at gates, unable to marry women of luxury, through whom the east and west are sustained, rendering all dues upon them while not receiving all dues owed to them. > **"The poor of my Ummah will enter Paradise forty autumns before their rich: soiled in garments, dishevelled in heads, who are not admitted at gates, who do not marry women of luxury, through whom the east and west of the earth are sustained, who render all that is upon them and are not given all that is theirs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ میری امت کے غریب لوگ ، خوشحال لوگوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، عرض کی گئی : ان کی صفت ہمارے سامنے بیان کریں ! تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان کے کپڑے میلے کچیلے ہوں گے ، ان کے بال بکھرے ہوئے ہوں گے ، انہیں اندر نہیں آنے دیا جائے گا ، وہ خوشحال عورتوں سے شادی نہیں کر سکیں گے ، اُن کے وسیلے سے زمین کے مشرقی اور مغربی حصوں میں کھایا جائے گا ، وہ اپنے تمام فرائض سرانجام دیں گے ، لیکن انہیں اُن کے تمام حقوق نہیں ملیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

17893

Majma al-Zawaid #17893

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَدْخُلُ فُقَرَاءُ أُمَّتِي قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا، أَوْ بِأَرْبَعِينَ سَنَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي كَامِلٍ الْمَوْصِلِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said the poor of his Ummah enter before their rich by forty autumns, or forty years. > **"The poor of my Ummah will enter before their rich by forty autumns, or by forty years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے غریب لوگ ، اس کے خوشحال لوگوں سے ، چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ( یہاں سال کے لئے استعمال ہونے والے لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابوکامل موصلی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17894

Majma al-Zawaid #17894

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «تَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِنِصْفِ يَوْمٍ "". قُلْتُ: وَمَا نِصْفُ يَوْمٍ؟ قَالَ: {إِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ} [الحج: 47]. قَالَ: "" وَيَدْخُلُونَ جَمِيعًا عَلَى صُورَةِ آدَمَ "". قُلْتُ: وَمَا كَانَتْ صُورَةُ آدَمَ؟ قَالَ: "" كَانَ اثْنَيْ عَشَرَ ذِرَاعًا طُولُهُ فِي السَّمَاءِ، وَسِتًّا عَرْضًا "". قُلْتُ: أَيُّ ذِرَاعٍ؟ قَالَ: "" الذِّرَاعُ طُولُ الرَّجُلِ الطَّوِيلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ التَّيْمِيُّ مَوْلَاهُمْ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say the poor Muslims enter half a day — a day with one's Lord like a thousand years — before the rich, and that they all enter in the image of Ādam, whose stature is twelve cubits tall and six wide by the cubit of a tall man. > **"The poor Muslims will enter before their rich by half a day. And they will all enter in the image of Ādam: twelve cubits tall in the sky and six wide, by the cubit of a tall man."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ غریب مسلمان ، خوشحال مسلمانوں سے ، نصف دن پہلے ( جنت میں ) داخل ہوں گے ، راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : نصف دن کتنا ہو گا ؟ آپ نے فرمایا : ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ’’ تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کی مانند ہے ‘‘ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے تو ان سب کا قد و قامت حضرت آدم علیہ السلام جتنا ہو گا ، میں نے دریافت کیا : حضرت آدم علیہ السلام کا قد و قامت کتنا تھا ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اُن کا قد بارہ ذراع ( یعنی کہنی سے لے کے درمیانی بڑی انگلی کے کنارے تک کی مقدار ) لمبا تھا اور چھ ذراع چوڑا تھا ، میں نے دریافت کیا : کون سا ذراع ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جتنا لمبا ’’ ذراع ‘‘ طویل شخص کا ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عدی بن فضل تیمی ہے جو ان لوگوں کے ساتھ نسبت ولاء رکھتا ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17895

Majma al-Zawaid #17895

وَعَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْرُجُ إِلَيْنَا فِي الصُّفَّةِ وَعَلَيْهِ الْحَوْتَكِيَّةُ فَقَالَ: "" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا ذُخِرَ لَكُمْ مَا حَزِنْتُمْ عَلَى مَا زُوِيَ عَنْكُمْ، وَلَتَفْتَحُنَّ فَارِسَ وَالرُّومَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿIrbaḍ ibn Sāriyah رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ came out to the people of al-Ṣuffah wearing a small turban and said that had they known what is stored for them they would not grieve over what is withheld, and that Persia and Rome would be opened. > **"Had you known what is stored for you, you would not have grieved over what has been withheld from you, and Persia and Rome will surely be opened."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ’’ صفہ ‘‘ کے چبوترے پر ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے عمامہ شریف باندھا ہوا تھا ، آپ نے فرمایا : ’’ اگر تم یہ بات جان لو ! کہ تمہارے لئے کیا کچھ سنبھال کے رکھا گیا ہے ؟ تو تم ان چیزوں کے حوالے سے غمگین نہ ہو ، جو تم سے لپیٹ کے رکھی گئی ہیں ، عنقریب فارس اور روم تمہارے لیے فتح ہو جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17896

Majma al-Zawaid #17896

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: «مَا أَنَا مُتَخَلِّفٌ عَنِ الْعَنَقِ الْأَوَّلِ بَعْدَ الَّذِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" تَجِيءُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى كُورِهِمْ، فَيُقَالُ لَهُمْ: قِفُوا لِلْحِسَابِ، فَيَقُولُونَ: مَا أَعْطَيْتُمُونَا شَيْئًا تُحَاسِبُونَا عَلَيْهِ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ بِأَرْبَعِينَ سَنَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn ʿĀmir رضي الله عنه said he would never remain behind from the first expedition after hearing the Messenger of Allah ﷺ say the poor Muslims will come on the Day of Resurrection upon their saddles, be told to halt for reckoning, reply that they were given nothing to be reckoned for, and enter Paradise forty years before people. > **"The poor Muslims will come on the Day of Resurrection upon their saddles. It will be said to them: Halt for reckoning. They will say: You gave us nothing to reckon us for. So they will enter Paradise forty years before people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں کبھی کسی پہلی مہم سے پیچھے نہیں رہا ، اس کے بعد کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ قیامت کے دن غریب مسلمان آئینگے ، اُن سے کہا جائے گا : حساب دینے کے لیے رک جاؤ ! وہ کہیں گے : ہمیں ایسی چیز ہی نہیں دی گئی ، جس کے حوالے سے تم ہم سے حساب لو ‘‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : وہ ( غریب لوگ ، دوسرے لوگوں سے چالیس سال پہلے ، جنت میں داخل ہو جائیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

17897

Majma al-Zawaid #17897

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ قَالَ: «أَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ: إِنَّا مُسْتَعْمِلُوكَ عَلَى هَؤُلَاءِ تَسِيرُ بِهِمْ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ فَتُجَاهِدُ بِهِمْ، قَالَ: فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا قَالَ فِيهِ: قَالَ سَعِيدٌ: مَا أَنَا بِمُتَخَلِّفٍ عَنِ الْعَنَقِ الْأَوَّلِ بَعْدَ إِذْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ فَقُرَّاءَ الْمُسْلِمِينَ يُزَفُّونَ كَمَا تُزَفُّ الْحَمَامُ "". قَالَ: "" فَيُقَالُ لَهُمْ: قِفُوا لِلْحِسَابِ، فَيَقُولُونَ: وَاللَّهِ، مَا تَرَكْنَا شَيْئًا نُحَاسَبُ بِهِ. فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ -: صَدَقَ عِبَادِي، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِينَ عَامًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Sābiṭ narrated that ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه appointed Saʿīd ibn ʿĀmir over an expedition toward enemy land, whereupon Saʿīd recalled hearing the Messenger of Allah ﷺ say the poor Muslims will be herded like doves, told to halt for reckoning, swear by Allah they left nothing to be reckoned for, be declared truthful by Allah, and enter Paradise seventy years before people. > **"The poor Muslims will be herded like doves are herded. It will be said to them: Halt for reckoning. They will say: By Allah, we left nothing to be reckoned for. Allah will say: My servants have spoken truthfully. So they will enter Paradise seventy years before people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن سابط بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا کہ میں تمہیں ان لوگوں کا امیر مقرر کر رہا ہوں ، تم انہیں لے کر دشمن کی سرزمین کی طرف جاؤ اور ان کے ہمراہ جہاد کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے طویل حدیث ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں کسی بھی پہلی مہم سے پیچھے نہیں رہوں گا ، اس کے بعد کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک غریب مسلمان یوں سمٹ کر جائیں گے جیسے کبوتر سمٹ کر جاتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ان لوگوں سے یہ کہا جائے گا : تم لوگ حساب کے لیے ٹھہر جاؤ ! تو وہ کہیں گے : اللہ کی قسم ! ہم نے ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی تھی جس کے حوالے سے ہم سے حساب لیا جائے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے بندوں نے سچ کہا ہے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو وہ لوگ ، دوسرے لوگوں سے ستر سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گئے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

17898

Majma al-Zawaid #17898

وَذَكَرَ بَعْدَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ. وَفِي إِسْنَادَيْهِمَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرٍ بِنَحْوِهِ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

After the preceding report, the like of it was also narrated from Saʿīd ibn ʿĀmir, from the Prophet ﷺ, in similar wording. The like of it was narrated from Saʿīd ibn ʿĀmir, from the Prophet ﷺ.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس کے بعد انہوں نے اسے حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے نقل کیا ہے اور یہ کہا ہے : یہ اس کی مانند ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی یزید بن ابوزیاد ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، ان دونوں کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے اس کی مانند نقل کی ہے ۔

17899

Majma al-Zawaid #17899

وَعَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ: «كُنْتُ فِي أَصْحَابِ الصُّفَّةِ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا وَمَا مِنَّا إِنْسَانٌ عَلَيْهِ ثَوْبٌ تَامٌّ، وَأَخَذَ الْعَرَقُ فِي جُلُودِنَا طُرُقًا مِنَ الْغُبَارِ وَالْوَسَخِ، إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" لِتُبَشَّرْ فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ "". إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ عَلَيْهِ شَارَةٌ حَسَنَةٌ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَتَكَلَّمُ بِكَلَامٍ إِلَّا كَلَّفَتْهُ نَفْسُهُ أَنْ يَأْتِيَ بِكَلَامٍ يَعْلُو كَلَامَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ هَذَا وَضَرَبَهُ، يَلْوُونَ أَلْسِنَتَهُمْ كَلَيِّ الْبَقَرِ بِلِسَانِهَا الْمَرْعَى، كَذَلِكَ يَلْوِي اللَّهُ تَعَالَى أَلْسِنَتَهُمْ وَوُجُوهَهُمْ فِي النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Wāthilah ibn al-Asqaʿ رضي الله عنه narrated that he was among the people of al-Ṣuffah, none with a complete garment and sweat streaked with dust and grime, when the Messenger of Allah ﷺ came and announced glad tidings for the poor emigrants; then a well-adorned man came who vied to outdo the Prophet's speech, and after he left the Prophet ﷺ said Allah dislikes such as him who twist their tongues like cattle twist theirs upon pasture, and Allah will likewise twist their tongues and faces in Hell. > **"Let the poor emigrants receive glad tidings. Allah does not love this one and his like, who twist their tongues as cattle twist their tongues upon pasture; likewise Allah will twist their tongues and faces in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اصحاب صفہ میں تھا ، مجھے اپنے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ ہم میں سے کسی شخص کے جسم پر مکمل لباس نہیں ہوتا تھا اور ہمارے چمڑے کے لباس پر غبار اور میل کچیل کے ہمراہ پسینہ بھی آ جایا کرتا تھا ، ایک دن نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : غریب مہاجرین کے لیے خوشخبری ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : اسی دوران ایک شخص جو ظاہری حلیے سے خوشحال لگ رہا تھا وہ آ گیا ، نبی اکرم ﷺ جو بھی بات کرتے تھے تو وہ شخص یہ کوشش کرتا تھا کہ اس کی بات نبی اکرم ﷺ کی بات سے زیادہ نمایاں ہو ، جب وہ شخص واپس چلا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص اور اس جیسے لوگوں کو ناپسند کرتا ہے جو لوگوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اپنی زبان کو یوں موڑ لیتے ہیں جس طرح چراگاہ میں گائے اپنی زبان کو موڑتی ہے اور جہنم میں ، اللہ تعالی ان کی زبانوں اور ان کے چہروں کو موڑ دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17900

Majma al-Zawaid #17900

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الْأَغْنِيَاءَ [وَالنِّسَاءَ]». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ looked into Paradise and saw most of its people were the poor, and looked into Hell and saw most of its people were the rich and women. > **"I looked into Paradise and saw most of its people were the poor, and I looked into Hell and saw most of its people were the rich and women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے جنت کا جائزہ لیا تو میں نے اہل جنت میں اکثریت غریبوں کی دیکھی ، میں نے جہنم کا جائزہ لیا ، تو میں نے اہل جہنم میں اکثریت خوشحال لوگوں اور عورتوں کی دیکھی “۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17901

Majma al-Zawaid #17901

وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اطَّلَعْتُ فِي الْجَنَّةِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا الضُّعَفَاءَ وَالْفُقَرَاءَ، وَاطَّلَعْتُ فِي النَّارِ فَرَأَيْتُ أَكْثَرَ أَهْلِهَا النِّسَاءَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الضَّحَّاكِ بْنِ يَسَارٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿImrān ibn Ḥuṣayn رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ looked into Paradise and saw most of its people were the weak and poor, and looked into Hell and saw most of its people were women. > **"I looked into Paradise and saw most of its people were the weak and the poor, and I looked into Hell and saw most of its people were women."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں نے جنت کا جائزہ لیا ، تو میں نے اہل جنت میں اکثریت کمزور لوگوں اور غریبوں کی دیکھی ، اور میں نے جہنم کا جائزہ لیا ، تو میں نے اہل جہنم میں اکثریت عورتوں کی دیکھی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ضحاک بن یسار کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

17902

Majma al-Zawaid #17902

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ فِيهَا خَشَفَةً بَيْنَ يَدِي فَقُلْتُ: مَا هَذَا؟ قَالَ: بِلَالٌ. فَمَضَيْتُ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْمُهَاجِرُونَ، وَذَرَارِيُّ الْمُسْلِمِينَ، وَلَمْ أَرَ فِيهَا أَحَدًا أَقَلَّ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ وَالنِّسَاءِ، قِيلَ لِي: أَمَّا الْأَغْنِيَاءُ فَهُمْ هَهُنَا [بِالْبَابِ] يُحَاسَبُونَ وَيُمَحَّصُونَ، وَأَمَّا النِّسَاءُ فَأَلْهَاهُمُ الْأَحْمَرَانِ: الذَّهَبُ وَالْحَرِيرُ "". قَالَ: "" ثُمَّ خَرَجْنَا مِنْ أَحَدِ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ، فَلَمَّا كُنْتُ عِنْدَ الْبَابِ أُتِيتُ بِكِفَّةٍ فَوُضِعْتُ فِيهَا، وَوُضِعَتْ أُمَّتِي [فِي كِفَّةٍ] فَرَجَحْتُ بِهَا، ثُمَّ أُتِيَ بِأَبِي بَكْرٍ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعَتْ فِي كِفَّةٍ، فَرَجَحَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ جِيءَ بِعُمَرَ فَوُضِعَ فِي كِفَّةٍ، وَجِيءَ بِجَمِيعِ أُمَّتِي فَوُضِعُوا، فَرَجَحَ عُمَرُ، وَعُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي رَجُلًا رَجُلًا فَجَعَلُوا يَمُرُّونَ، فَاسْتَبْطَأْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، ثُمَّ جَاءَ بَعْدَ الْإِيَاسِ فَقُلْتُ: عَبْدَ الرَّحْمَنِ! فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ [وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ] مَا خَلَصْتُ إِلَيْكَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنِّي لَا أَخْلُصُ إِلَيْكَ أَبَدًا إِلَّا بَعْدَ الْمُشِيبَاتِ، قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قَالَ: مِنْ كَثْرَةِ مَالِي أُحَاسَبُ فَأُمَحَّصُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِمَا مُطَرِّحُ بْنُ يَزِيدَ، وَعَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ، وَهُمَا مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِمَا، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ أَحَدُ أَصْحَابِ بَدْرٍ وَالْحُدَيْبِيَةِ، وَأَحَدُ الْعَشَرَةِ الْمَشْهُودِ لَهُمْ بِالْجَنَّةِ، وَهُمْ مِنْ أَفْضَلِ الصَّحَابَةِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ entered Paradise, heard footsteps before him and was told they were Bilāl's رضي الله عنه, saw most of its people were emigrants and offspring of Muslims and fewest were the rich and women, the rich being detained for reckoning and sifting while women were distracted by gold and silk; then at a gate of Paradise he outweighed his Ummah in the balance, as did Abū Bakr and ʿUmar رضي الله عنهما after him, while ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf رضي الله عنه came late, saying his abundant wealth had long detained him in reckoning and sifting. > **"I entered Paradise and heard footsteps before me. I asked: What is this? He said: Bilāl. I passed on, and most of the people of Paradise were the emigrants and the offspring of the Muslims, and I saw therein none fewer than the rich and women. As for the rich, they are here at the gate, being reckoned and sifted, and as for women, the two red things distracted them: gold and silk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں جنت میں داخل ہوا ، میں نے اپنے آگے کوئی آہٹ سنی ، میں نے دریافت کیا : یہ کس کی ہے ؟ اس ( فرشتے ) نے بتایا : حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی ہے ، میں چلتا رہا ، تو اہل جنت میں اکثریت غریب مہاجرین اور مسلمانوں کے بچوں کی تھی ، اور وہاں سب سے کم تعداد خوشحال لوگوں اور عورتوں کی تھی ، مجھے بتایا گیا کہ جہاں تک خوشحال لوگوں کا تعلق ہے تو وہ دروازے پر رکے ہوئے ہیں ، ان سے حساب لیا جا رہا ہے اور تفتیش کی جا رہی ہے ، جہاں تک عورتوں کا تعلق ہے تو دو سرخ چیزوں ، یعنی سونے اور ریشم نے انہیں غافل کر دیا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ پھر ہم جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازے سے باہر آئے ، جب میں دروازے کے پاس موجود تھا تو ایک ترازو لایا گیا ، مجھے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری امت کو دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو میرا پلڑا وزنی تھا پھر ابوبکر کو لایا گیا اور اسے ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری پوری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو ابوبکر کا پلڑا وزنی تھا پھر عمر کو لا کر ایک پلڑے میں رکھا گیا اور میری پوری امت کو لا کر دوسرے پلڑے میں رکھا گیا تو عمر کا پلڑا وزنی تھا پھر میری امت کے ایک ، ایک فرد کو پیش کیا گیا ، وہ لوگ گزرتے رہے ، عبدالرحمن کو آنے میں تاخیر ہو گئی ، وہ اس وقت آیا جب اس کے حوالے سے مایوسی ہو چکی تھی ، میں نے کہا : اے عبدالرحمن ! ( تم کہاں رہ گئے تھے ؟ ) اس نے کہا : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے ، میں خلاصی پا کر اس وقت آپ کے پاس آیا ہوں ، جب میں یہ گمان کر رہا تھا کہ میں کبھی بھی نجات پا کر آپ کے پاس نہیں آ سکوں گا ، سوائے اس کے کہ ( حساب دیتے ہوئے ) بوڑھا ہو جاؤں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کسی چیز کا ؟ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اپنے مال کے زیادہ ہونے کا مجھ سے حساب لیا جاتا رہا اور تفتیش کی جاتی رہی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ایک راوی مطرح بن یزید ہے اور ایک راوی علی بن یزید ہے اور ان دونوں کے ضعیف ہونے پر اتفاق پایا جاتا ہے ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ ان حضرات میں سے ایک ہیں ، جنہیں غزوہ بدر ، صلح حدیبیہ میں شرکت کا شرف حاصل ہے اور یہ ان دس افراد میں سے ایک ہیں ، جن کے بارے میں جنت کی گواہی دی گئی ، اور یہ فضیلت رکھنے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک ہیں ۔

17903

Majma al-Zawaid #17903

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: «اسْتَعْمَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ عَلَى الشَّامِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنْ أَعْطِ النَّاسَ أَعْطِيَاتِهِمْ، وَاغْزُ بِهِمْ، فَبَيْنَا هُوَ يُعْطِي النَّاسَ - وَذَلِكَ فِي آخِرِ النَّهَارِ - جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الرَّسَاتِيقِ فَقَالَ لَهُ: يَا مُعَاذُ، مُرْ لِي بِعَطَائِي فَإِنِّى بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الرُّسْتَاقِ مِنْ مَكَانِ كَذَا فَلَعَلِّي آوِي إِلَى أَهْلِي قَبْلَ اللَّيْلِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ، لَا أُعْطِيكَ حَتَّى أُعْطِيَ هَؤُلَاءِ - يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ - ; سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الْأَنْبِيَاءُ كُلُّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ دَاوُدَ وَسُلَيْمَانَ بِأَلْفَيْ عَامٍ، وَفُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ عَامًا، وَإِنَّ أَهْلَ الْمَدَائِنِ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَهْلِ الرَّسَاتِيقِ بِأَرْبَعِينَ عَامًا، تَفْضُلُ الْمَدَائِنُ بِالْجُمُعَةِ، وَالْجَمَاعَاتِ، وَحِلَقِ الذِّكْرِ، وَإِذَا كَانَ بَلَاءٌ خُصُّوا بِهِ دُونَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَيْسَ بِذَاكَ تَفَرَّدَ بِأَشْيَاءَ، وَقَالَ ابْنُ يُونُسَ: كَانَ يَفْهَمُ وَيَحْفَظُ، وَقَالَ الذَّهَبِيُّ: حَافِظٌ رَحَّالٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Ghunm narrated that ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb رضي الله عنه appointed Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه over Syria, commanding him to pay stipends and campaign, and as Muʿādh distributed late in the day a villager asked precedence before nightfall, but Muʿādh prioritised townspeople, citing that he heard the Messenger of Allah ﷺ say all prophets enter Paradise two thousand years before Dāwūd and Sulaymān عليهما السلام, the poor Muslims forty years before the rich, and townspeople forty years before villagers by virtue of Friday, congregations, circles of remembrance, and their exclusive exposure to tribulation. > **"All the prophets will enter Paradise two thousand years before Dāwūd and Sulaymān, and the poor Muslims will enter Paradise forty years before their rich, and the people of towns will enter Paradise forty years before the people of villages, for towns excel through Friday, congregations, and circles of remembrance, and when tribulation comes they are singled out by it apart from them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن غنم بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو شام کا گورنر مقرر کیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں خط میں لکھا : کہ تم لوگوں کو ان کی تنخواہیں ادا کر دو اور پھر انہیں ساتھ لے کر جنگ میں حصہ لو ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ لوگوں کو ادائیگیاں کر رہے تھے ، یہ دن کے آخری حصے کی بات ہے ، اسی دوران دیہاتی علاقے کا رہنے والا ایک شخص ان کے پاس آیا ، اس نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا : اے حضرت معاذ ! آپ مجھے ادائیگی کرنے کا حکم جاری کر دیں ، کیونکہ میں فلاں دیہاتی علاقے کا رہنے والا شخص ہوں اور میں چاہتا ہوں ، میں رات ہونے سے پہلے اپنے گھر واپس چلا جاؤں ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں اس وقت تک ادائیگی نہیں کروں گا ، جب تک ان لوگوں کو ادائیگی نہیں کر دیتا ، حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی مراد شہر والے لوگ تھے ، پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ تمام انبیاء کرام علیہم السلام ‘ حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام سے دو ہزار سال پہلے جنت میں داخل ہو جائیں گے ، اور غریب مسلمان ، امیر مسلمانوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، اور شہروں کے رہنے والے لوگ ، دیہاتی علاقوں کے رہنے والوں سے چالیس سال پہلے جنت میں داخل ہوں گے ، شہروں کو جمعہ ، اجتماعات ، ذکر کے حلقوں کی وجہ سے فضیلت حاصل ہے اور اگر کوئی آزمائش ہو تو وہ بھی شہر میں آتی ہے دیہاتوں میں نہیں آتی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے , وہ کہتے ہیں : یہ روایت نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن سعید بن بشیر ہے ، امام دارقطنی کہتے ہیں : یہ اتنے پائے کا نہیں ہے اور کچھ روایات نقل کرنے میں منفرد ہے ، ابن یونس کہتے ہیں : یہ سمجھ بھی رکھتا تھا اور حافظہ بھی رکھتا تھا ، امام ذہبی کہتے ہیں : یہ حافظ ہے اور اس نے علم کی طلب میں سفر کیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17904

Majma al-Zawaid #17904

وَعَنْ أُمَيَّةَ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَسِيدٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَفْتِحُ بِصَعَالِيكِ الْمُسْلِمِينَ».

EnglishUnverified translation

Umayyah ibn Khālid ibn ʿAbdillāh ibn Usayd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ used to seek opening through the poor Muslims. The Messenger of Allah ﷺ used to seek opening through the poor Muslims.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت امیہ بن خالد بن عبداللہ بن اسید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ غریب مسلمانوں کے وسیلے سے فتح طلب کیا کرتے تھے ۔

17905

Majma al-Zawaid #17905

وَفِي رِوَايَةٍ: «يَسْتَنْصِرُ بِصَعَالِيكِ الْمُسْلِمِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another narration, the wording is that he used to seek aid through the poor Muslims. He used to seek aid through the poor Muslims.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :"" غریب مسلمانوں کے وسیلے سے مدد طلب کیا کرتے تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17906

Majma al-Zawaid #17906

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا، وَتَوَّفَنِي مِسْكِينًا، وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَشَيْخُ الطَّبَرَانِيِّ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْأَوْزَاعِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbādah ibn al-Ṣāmit رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ supplicated to live as a poor man, die as a poor man, and be gathered among the poor. > **"O Allah, keep me alive as a poor man, cause me to die as a poor man, and gather me among the company of the poor."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اللہ ! تو مجھے غریب ہونے کے طور پر زندہ رکھنا ، مجھے غریب ہونے کے طور پر موت دینا اور ( قیامت کے دن ) مجھے غریبوں کے گروہ میں اٹھانا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے امام طبرانی کے استاد اور عبیداللہ بن زیاد اوزاعی نامی راوی ، ان دونوں سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17907

Majma al-Zawaid #17907

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: «أَمَرَنِي خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِسَبْعٍ: بِحُبِّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوِّ مِنْهُمْ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ دُونِي، وَلَا أَنْظُرَ إِلَى مَنْ هُوَ فَوْقِي، وَأَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا أَسْأَلَ أَحَدًا شَيْئًا، وَأَمَرَنِي أَنْ أَقُولَ الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَمَرَنِي أَنْ لَا يَأْخُذَنِي فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ، وَأَمَرَنِي أَنْ أُكْثِرَ مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ; فَإِنَّهُنَّ مِنْ كَنْزٍ تَحْتَ الْعَرْشِ».

EnglishUnverified translation

Abū Dharr رضي الله عنه narrated that his beloved ﷺ commanded him with seven: love of the poor and nearness to them, looking to those below and not above, maintaining kinship though it turns away, asking nothing of anyone, speaking truth though bitter, fearing no blame in Allah's cause, and abundant utterance of lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh, for these are from a treasure beneath the Throne. > **"My beloved commanded me with seven: love of the poor and nearness to them; to look to one below me and not to one above me; to maintain kinship though it turns away; to ask no one for anything; to speak the truth though it be bitter; to fear in Allah's cause no blame of any blamer; and to say abundantly: There is no power nor strength except through Allah, for they are from a treasure beneath the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میرے خلیل علیہ السلام نے مجھے سات چیزوں کا حکم دیا تھا : ’’ غریبوں سے محبت رکھنا اور ان کے قریب رہنا ، آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں اپنے سے نیچے والے کی طرف دیکھوں اپنے سے اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں اور آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں صلہ رحمی کروں اگرچہ میرے ساتھ اچھا سلوک نہ ہو رہا ہو اور آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں کسی سے کوئی چیز نہ مانگوں اور آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں حق بات کہوں ، اگرچہ وہ کڑوی ہو اور آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی میں پرواہ نہ کروں ، اور آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں کثرت کے ساتھ « ’’ لا حول ولا قوۃ الا باللہ ‘‘» پڑھوں ، کیونکہ یہ عرش کے نیچے موجود خزانوں میں سے ہے ۔‘‘

17908

Majma al-Zawaid #17908

وَفِي رِوَايَةٍ: «وَأَمَرَنِي أَنْ أَرْحَمَ الْمَسَاكِينَ وَأُجَالِسَهُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another narration of Abū Dharr's report, the wording includes the command to be merciful to the poor and to sit with them. He commanded me to be merciful to the poor and to sit with them.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ آپ نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں غریبوں پر رحم کروں اور اُن کے ساتھ اُٹھتا بیٹھتا رہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔

17909

Majma al-Zawaid #17909

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَلَا أُعَلِّمُكُمْ خَمْسًا: حُبَّ الْمَسَاكِينِ وَالدُّنُوَّ مِنْهُمْ، وَانْظُرُوا إِلَى مَنْ هُوَ أَسْفَلَ مِنْكُمْ، وَلَا تَنْظُرُوا إِلَى مَنْ فَوْقَكُمْ، وَصِلُوا الرَّحِمَ وَإِنْ أَدْبَرَتْ، وَقُولُوا الْحَقَّ وَإِنْ كَانَ مُرًّا، وَأَكْثِرُوا مِنْ قَوْلِ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَرِيرُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَجَلِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ offered to teach five: love of the poor and nearness to them, looking to those below and not above, maintaining kinship though it turns away, speaking truth though bitter, and abundant utterance of lā ḥawla wa lā quwwata illā billāh. > **"Shall I not teach you five: love of the poor and nearness to them; look to one below you and do not look to one above you; maintain kinship though it turns away; speak the truth though it be bitter; and say abundantly: There is no power nor strength except through Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں پانچ باتوں کی تعلیم نہ دوں ؟ غریبوں سے محبت رکھنا اور ان کے قریب رہنا ، اور تم لوگ اس کا جائزہ لو جو تم سے نیچے ہو ، اس کی طرف نہ دیکھو جو تم سے اوپر ہو ، اور تم صلہ رحمی کرو ، اگرچہ تمہارے ساتھ ایسا نہ ہو رہا ہو ، اور تم حق بات کہو ، اگرچہ وہ کڑوی ہو اور تم کثرت کے ساتھ ’’ « لا حول ولا قوة الا بالله »‘‘ پڑھو ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جریر بن ایوب بجلی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

17910

Majma al-Zawaid #17910

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَفَعَهُ - قَالَ: «إِنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ لَيَقِلُّ طُعْمُهُمْ فَتَسْتَنِيرُ بُيُوتُهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُطَّلِبِ الْعِجْلِيُّ، ضَعَّفَهُ الْعُقَيْلِيُّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه, in marfūʿ form, narrated that the Prophet ﷺ said the food of a household may be little while their houses shine with light. > **"The food of a household may be little, yet their houses shine with light."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ کسی گھر والوں کا کھانا کم ہوتا ہے اور اُن کے گھر نورانی ہوتے ہیں ۔‘‘ یہی روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مطلب عجلی ہے جسے عقیلی نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17911

Majma al-Zawaid #17911

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ بَيْنَ أَيْدِيكُمْ عَقَبَةً كَئُودًا لَا يَنْجُو مِنْهَا إِلَّا كُلُّ مُخِفٍّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَسَدِ بْنِ مُوسَى بْنِ مُسْلِمٍ الصَّغِيرِ، وَهُمَا ثِقَتَانِ. وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَبِي ذَرٍّ فِي الْبَابِ الَّذِي قَبْلَ هَذَا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said that before them lies a formidable pass from which none is saved except everyone lightly laden. > **"Before you lies a formidable pass from which none is saved except everyone lightly laden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء ہی روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی ہم نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے آگے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے ، اس سے وہی نجات پائے گا ، جو ہلکا پھلکا ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسد بن موسیٰ اور موسیٰ بن مسلم صغیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں ۔ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ، اس سے پہلے والے باب میں گزر چکی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17912

Majma al-Zawaid #17912

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا، وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِ أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ: "" يَا أَبَا ذَرٍّ، أَعَلِمْتَ أَنَّ بَيْنَ أَيْدِينَا عَقَبَةً كَئُودًا لَا يَصْعَدُهَا إِلَّا الْمُخِفُّونَ "". فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمِنَ الْمُخِفِّينَ أَنَا أَمْ مِنَ الْمُثْقِلِينَ؟ فَقَالَ: "" عِنْدَكَ طَعَامُ يَوْمٍ؟ "". قَالَ: نَعَمْ. وَطَعَامُ غَدٍ؟ قَالَ: "" نَعَمْ. وَطَعَامُ بَعْدَ غَدٍ؟ "". قَالَ: لَا. قَالَ: "" لَوْ كَانَ عِنْدَكَ طَعَامُ ثَلَاثٍ كُنْتَ مِنَ الْمُثْقِلِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جُنَادَةُ بْنُ مَرْوَانَ قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ came out holding Abū Dharr's hand and said before them lies a formidable pass ascended only by the lightly laden; when a man asked whether he was lightly or heavily laden, the Prophet ﷺ asked about food for one day, for tomorrow, and for the day after, and said possession of three days' food would place him among the heavily laden. > **"O Abū Dharr, do you know that before us lies a formidable pass which none ascends except the lightly laden? Do you have food for a day? And food for tomorrow? And food for the day after? Had you food for three days, you would be among the heavily laden."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے ابوذر ! کیا تم یہ بات جانتے ہو ؟ کہ ہمارے آگے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے اور اس پر وہی لوگ چڑھ سکیں گے ، جن کے ( سامان کا وزن کم ہو گا ، ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں ( سامان کے حوالے سے ) تھوڑے وزن والوں میں ہوں ؟ یا زیادہ وزن والوں میں ہوں ؟ نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہارے پاس ایک دن کا کھانا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کل کے دن کا کھانا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : پرسوں کے دن کا کھانا ہے ؟ اس نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر تمہارے پاس تین دن کا کھانا ہو ، تو تم ( سامان کے حوالے سے ) وزن والوں میں سے ہو گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جنادہ بن مروان ہے ، ابوحاتم کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17913

Majma al-Zawaid #17913

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْتَقَى مُؤْمِنَانِ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ، مُؤْمِنٌ غَنِيٌّ، وَمُؤْمِنٌ فَقِيرٌ، كَانَا فِي الدُّنْيَا، فَأُدْخِلَ الْفَقِيرُ الْجَنَّةَ، وَحُبِسَ الْغَنِيُّ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُحْبَسَ، ثُمَّ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَلَقِيَهُ الْفَقِيرُ فَقَالَ: يَا أَخِي، مَاذَا حَبَسَكَ؟ وَاللَّهِ، لَقَدْ حُبِسْتَ حَتَّى خِفْتُ عَلَيْكَ، فَيَقُولُ: يَا أَخِي، إِنِّي حُبِسْتُ بَعْدَكَ حَبْسًا فَظِيعًا كَرِيهًا، وَمَا وَصَلْتُ إِلَيْكَ حَتَّى سَالَ مِنِّي مِنَ الْعَرَقِ مَا لَوْ وَرَدَهُ أَلْفُ بَعِيرٍ كُلُّهَا آكِلَةُ حِمْضٍ لَصَدَرْنَ عَنْهُ رُوَاءً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ دُوَيْدٌ غَيْرُ مَنْسُوبٍ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنْ سُفْيَانَ فَقَدْ ذَكَرَهُ الْعِجْلِيُّ فِي كِتَابِ الثِّقَاتِ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُسْلِمِ بْنِ بَشِيرٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said two believers, rich and poor, who lived in the world will meet at the gate of Paradise; the poor enters while the rich is detained as Allah wills, then enters and is met by the poor asking what detained him, and he replies he was terribly detained until sweat poured from him enough to quench a thousand camels feeding on salty herbage. > **"Two believers will meet at the gate of Paradise: a rich believer and a poor believer who lived in the world. The poor will be admitted to Paradise, and the rich detained as long as Allah wills to detain him. Then he will be admitted, and the poor will meet him and say: O my brother, what detained you? By Allah, you were detained until I feared for you. He will say: O my brother, after you I was detained in a dreadful, hateful detention, and before reaching you sweat poured from me such that had a thousand camels, all feeding on salty herbage, come to it, they would have left quenched."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جنت کے دروازے پر دو مؤمن ایک دوسرے سے ملیں گے ، ایک خوشحال مومن ہو گا اور ایک غریب مومن ہو گا ، وہ دنیا میں ( ایسے ) رہے ہوں گے ، غریب کو جنت میں داخل کر دیا جائے گا ، اور خوش حال شخص کو جب تک اللہ کو منظور ہو گا ، روک کر رکھا جائے گا پھر اسے بھی جنت میں داخل کر دیا جائے گا ، غریب کی اس سے ملاقات ہو گی تو وہ کہے گا : اے میرے بھائی ! تمہیں کس چیز نے روک دیا تھا ؟ تم اتنی دیر تک رکے رہے کہ اللہ کی قسم ! مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ ہونے لگا ، تو خوشحال شخص کہے گا : اے میرے بھائی ! تمہارے بعد مجھے ایسے طریقے سے روکا گیا ، جو خوفزدہ کرنے والا اور ناپسندیدہ تھا ، اور تم تک پہنچنے سے پہلے ( یعنی حساب دینے کے دوران ) میرا اتنا پسینہ بہہ گیا کہ اگر اس کے پاس ایک ہزار ایسے اونٹ آتے جو نمکین جڑی بوٹیاں کھاتے ہیں ، تو وہ اس پسینے کو پی کر سیراب ہو کر واپس جاتے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی دوید ہے ، جس کا اسم منسوب بیان نہیں کیا گیا ہے ، اگر تو یہ وہ شخص ہے جس سے سفیان نے روایت نقل کی ہے ، تو عجلی نے اس کا ذکر کتاب الثقات میں کیا ہے اور اگر یہ اس کے علاوہ کوئی اور ہے تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سلم بن بشیر کا معاملہ ختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17914

Majma al-Zawaid #17914

عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَكْثَرُ أَهْلِ الْجَنَّةِ الْبُلْهُ».

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said most of the people of Paradise are the simple-hearted, whose nature inclines to good and who are heedless of evil. > **"Most of the people of Paradise are the simple-hearted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اہل جنت میں اکثریت سادہ لوح لوگوں کی ہو گی ‘‘ ( یہاں متن میں استعمال ہونے والے لفظ ’’ البلہ ‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اس کی فطرت میں بھلائی ہو اور وہ برائی سے غافل ہو ، ایک قول کے مطابق اس سے مراد یہ ہے کہ اس کا سینہ صاف ہو اور وہ لوگوں کے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہو ) ۔

17915

Majma al-Zawaid #17915

وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «رُبَّ ضَعِيفٍ مُتَضَعِّفٍ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

The Messenger of Allah ﷺ said that many a weak, lowly man, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it. > **"Many a weak, lowly man, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے : ’’ کوئی کمزور اور کم تر حیثیت کا مالک شخص ایسا ہو سکتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے نام کی قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالی اسے پوری کروا دے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلامہ بن روح ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے ۔

17916

Majma al-Zawaid #17916

عَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةٍ قَالَ: "" أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِشَرِّ عِبَادِ اللَّهِ؟ الْفَظُّ الْمُسْتَكْبِرُ. أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ عِبَادِ اللَّهِ؟ الضَّعِيفُ الْمُسْتَضْعَفُ ذِي الطِّمْرَيْنِ، لَا يُؤْبَهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfah رضي الله عنه narrated that while with the Prophet ﷺ at a funeral, the Prophet ﷺ asked whether to inform them of Allah's worst servants, the harsh and arrogant, and of Allah's best servants, the weak, lowly one in two worn garments, disregarded, whose oath Allah would fulfil. > **"Shall I not inform you of the worst servants of Allah? The harsh, the arrogant. Shall I not inform you of the best servants of Allah? The weak, lowly one in two worn garments, disregarded, who, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں شریک تھے آپ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں اللہ کے بدترین بندوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر بدمزاج اور متکبر شخص ۔ کیا میں تمہیں اللہ کے بہترین بندوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ ہر کمزور اور کم تر حیثیت کا مالک شخص ، جس کا لباس عام سا ہوتا ہے ، اس کی پرواہ نہیں کی جاتی ، لیکن ( اس کا حال یہ ہوتا ہے ) اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن جابر ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17917

Majma al-Zawaid #17917

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ وَأَهْلِ الْجَنَّةِ، أَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ؟ فَكُلُّ ضَعِيفٍ مُسْتَضْعَفٍ ذِي طِمْرَيْنِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ، وَأَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ، جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ذِي تَبَعٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَحَدِيثُهُ يُعْتَضَدُ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ offered to inform them of the people of Hell and Paradise: the people of Paradise are every weak, lowly one in two worn garments whose oath Allah fulfils, while the people of Hell are every coarse, insolent hoarder who withholds and is followed by retinues. > **"Shall I not inform you of the people of Hell and the people of Paradise? As for the people of Paradise, they are every weak, lowly one in two worn garments who, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it. As for the people of Hell, they are every coarse, insolent one, a hoarder, a withholder, with followers."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ کیا میں تمہیں اہل جہنم اور اہل جنت کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے تو ہر کمزور اور کم تر حیثیت کا مالک شخص ، جس کا لباس عام سا ہو ( اور اس کا حال یہ ہوتا ہے ) اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالی اسے پوری کروا دے جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے ، تو ہر موٹا تازہ شخص ( جو مال کو ) بہت زیادہ جمع کرنے والا ہو ( اور اللہ کی راہ میں وہ مال ) نہ دینے والا ہو ، جس کے خادم ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کی نقل کردہ حدیث مضبوط ہوتی ہے ۔

17918

Majma al-Zawaid #17918

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «رُبَّ أَشْعَثَ أَغْبَرَ، ذِي طِمْرَيْنِ، مُصَفَّحٍ عَنْ أَبْوَابِ النَّاسِ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى التَّيْمِيُّ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ

EnglishUnverified translation

Anas رضي الله عنه narrated that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that many a dishevelled, dusty one in two worn garments, turned away from people's doors, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it. > **"Many a dishevelled, dusty one in two worn garments, turned away from people's doors, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بکھرے ہوئے بالوں والے ، عام سے لباس والے ، جنہیں لوگوں کے دروازوں سے پرے کر دیا جاتا ہو ، ان میں کئی ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن موسیٰ تیمی ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17919

Majma al-Zawaid #17919

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَفَعَهُ - قَالَ: «رُبَّ ذِي طِمْرَيْنِ لَا يُؤْبَهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جَارِيَةَ بْنِ هَرَمٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه, in marfūʿ form, narrated that the Prophet ﷺ said that many a man in two worn garments, disregarded, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it. > **"Many a man in two worn garments, disregarded, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ عام سے لباس والا فرد ، جس کی پرواہ نہ کی جاتی ہو ، ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف جاریہ بن ھرم کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے ضعیف ہونے کے باوجود ابن حبان نے اس کی توثیق کی ہے ۔

17920

Majma al-Zawaid #17920

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ مِنْ أُمَّتِي مَنْ لَوْ جَاءَ أَحَدُكُمْ يَسْأَلُهُ دِينَارًا لَمْ يُعْطِهِ، وَلَوْ سَأَلَهُ دِرْهَمًا لَمْ يُعْطِهِ، وَلَوْ سَأَلَهُ فِلْسًا لَمْ يُعْطِهِ، وَلَوْ سَأَلَ اللَّهَ الْجَنَّةَ أَعْطَاهُ إِيَّاهَا، ذِي طِمْرَيْنِ لَا يُؤْبَهُ لَهُ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Thawbān رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said that among his Ummah are those to whom none would give a dīnār, dirham, or even a fals if asked, yet were they to ask Allah for Paradise He would grant it: one in two worn garments, disregarded, whose oath Allah fulfils. > **"Among my Ummah are those who, were one of you to come asking one of them for a dīnār, he would not give it; were he to ask for a dirham, he would not give it; were he to ask for a fals, he would not give it; yet were he to ask Allah for Paradise, He would grant it to him: one in two worn garments, disregarded, who, were he to swear by Allah, Allah would fulfil it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت میں ایسے لوگ بھی ہوں گے کہ اگر ان میں سے کوئی شخص کسی کے پاس جا کر اس سے ایک دینار مانگے ، تو دوسرا شخص اسے نہیں دے گا ، اگر وہ اس سے ایک درہم مانگ لے ، تو دوسرا شخص اسے نہیں دے گا ، اگر وہ اس سے ایک سکہ مانگ لے تو دوسرا شخص اسے نہیں دے گا ، لیکن اگر وہ اللہ تعالٰی سے جنت مانگے ، تو اللہ تعالیٰ وہ اسے عطا کر دے گا ، وہ عام سے لباس والا فرد ہو گا جس کی پرواہ نہیں کی جاتی ہو گی ، لیکن اگر وہ اللہ کے نام پر قسم اٹھا لے ، تو اللہ تعالیٰ اسے پوری کروا دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔