Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 6

Book of Asceticism

Hadith 17841–17880

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17841

Majma al-Zawaid #17841

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَرَمُ الرَّجُلِ دِينُهُ، وَمُرُوءَتُهُ عَقْلُهُ، وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ وَلَفْظُهُ: «حَسَبُ الْمَرْءِ مَالُهُ، وَكَرَمُهُ تَقْوَاهُ». وَقَالَ: «الْحَسَبُ الْمَالُ، وَالْكَرَمُ التَّقْوَى».

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ said a man's nobility is his religion, his manhood his intellect, and his lineage his character; while al-Bazzār's wording has a man's lineage is his wealth and his nobility his piety — lineage is wealth and nobility is piety. > **"A man's nobility is his religion, his manhood his intellect, and his lineage his character."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ آدمی کا کرم ، اُس کا دین ہے اس کی مروت ، اُس کی عقل ہے ، اور اُس کا حسب ، اس کا اخلاق ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، یہ امام بزار نے بھی نقل کی ہے اور ان کے الفاظ یہ ہیں : ’’ آدمی کا حسب اس کا مال ہے اور اس کا کرم ، اس کی پرہیزگاری ہے ۔‘‘ اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے :” حسب ، مال ہے ، اور کرم ، تقویٰ ہے ۔‘‘

17842

Majma al-Zawaid #17842

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ التَّبَقُّرِ فِي الْأَهْلِ وَالْمَالِ». فَقَالَ أَبُو حَمْزَةَ - وَهُوَ جَلِيسٌ عِنْدَهُ -: نَعَمْ. حَدَّثَنِي أَخْرَمُ الطَّائِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَكَيْفَ بِأَهْلِ بَرَاذَانَ وَأَهْلِ بِالْمَدِينَةِ، وَأَهْلِ كَذَا؟ قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لِأَبِي التَّيَّاحِ: مَا التَّبَقُّرُ؟ قَالَ: الْكَثْرَةُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَفِيهَا رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, said the Messenger of Allāh ﷺ forbade them from amassing in family and wealth; Abū Ḥamza, seated with him, said yes, Akhram al-Ṭāʾī narrated from his father, from ʿAbd Allāh, from the Prophet ﷺ; ʿAbd Allāh then asked what of the people of Barādhān, Madīna and elsewhere; Shuʿba asked Abū al-Tayyāḥ what amassing is, and he said abundance. > **"The Messenger of Allāh ﷺ forbade us from amassing in family and wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم اپنے اہل خانہ اور مال کے بارے میں کثرت کے حصول کے خواہشمند ہوں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابوحمزہ ، جو اس وقت ان ( محدث ) کے پاس موجود تھے ، انہوں نے کہا : جی ہاں ! اخرم طائی نے اپنے والد کے حوالے سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ، نبی اکرم ﷺ سے منقول یہ حدیث مجھے بیان کی ہے ، اور انہوں نے یہ بھی بیان کیا ہے : تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تو براذان والوں کا کیا بنے گا ؟ مدینہ والوں کا کیا بنے گا ؟ اور فلاں والوں کا کیا بنے گا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے ابوتیاح سے دریافت کیا : لفظ ’’ تبقر “ کا مطلب کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : کثرت ( کا طلبگار ہونا ) ۔ یہ روایت امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ان میں ایک شخص ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

17843

Majma al-Zawaid #17843

وَعَنْ شَقِيقٍ قَالَ: دَخَلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَقَالَ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنِّي أَخْشَى أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، إِنِّي مِنْ أَكْثَرِ قُرَيْشٍ مَالًا بِعْتُ أَرْضًا لِي بِأَرْبَعِينَ أَلْفَ دِينَارٍ. فَقَالَتْ: يَا بُنَيَّ، أَنْفِقْ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَلَهُ طُرُقٌ تَقَدَّمَتْ.

EnglishUnverified translation

Shaqīq reported that ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allāh be pleased with him, entered upon Umm Salama, may Allāh be pleased with her, saying O Mother of the Believers, he fears he has perished, for he is among Quraysh's wealthiest, having sold land of his for forty thousand dīnārs; she said O son, spend — and mentioned the report. > **"O Mother of the Believers, I fear I have perished, for I am among Quraysh's wealthiest."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شقیق بیان کرتے ہیں : حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لائے اور بولے : اے ام المؤمنین ! مجھے یہ اندیشہ ہے کہ میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں گا ، کیونکہ میں قریش میں سے سب سے زیادہ مالدار ہوں ، میں نے اپنی زمین چالیس ہزار دینار کے عوض میں فروخت کی ہے ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کرو !...... اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جو پہلے گزر چکے ہیں ۔

17844

Majma al-Zawaid #17844

عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ وَلَا أَمَةٍ إِلَّا وَلَهُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ: فَخَلِيلٌ يَقُولُ: أَنَا مَعَكَ، فَخُذْ مَا شِئْتَ، وَدَعْ مَا شِئْتَ، فَذَلِكَ مَالُهُ. وَخَلِيلٌ يَقُولُ: أَنَا مَعَكَ، فَإِذَا أَتَيْتَ بَابَ الْمَلِكِ تَرَكْتُكَ، فَذَلِكَ خَدَمُهُ وَأَهْلُهُ. وَخَلِيلٌ يَقُولُ: أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ، وَحَيْثُ خَرَجْتَ، فَذَلِكَ عَمَلُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِي الْأَوْسَطِ، وَلَفْظُهُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَثَلُ الرَّجُلِ وَمَثَلُ الْمَوْتِ كَمَثَلِ رَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ: فَقَالَ الْأَوَّلُ: هَذَا مَالِي فَخُذْ مَا شِئْتَ، وَأَعْطِ مَا شِئْتَ، وَدَعْ مَا شِئْتَ. وَقَالَ الْآخَرُ: أَنَا مَعَكَ أَخْدِمُكَ، فَإِذَا مُتَّ تَرَكْتُكَ، وَقَالَ الْآخَرُ: أَنَا مَعَكَ أَدْخُلُ مَعَكَ، وَأَخْرُجُ مَعَكَ، إِنْ مِتَّ وَإِنْ حَيِيتَ. فَأَمَّا الَّذِي قَالَ: هَذَا مَالِي فَخُذْ مَا شِئْتَ، وَدَعْ مَا شِئْتَ، فَهُوَ مَالُهُ. وَالْآخَرُ عَشِيرَتُهُ، وَالْآخَرُ عَمَلُهُ، يَدْخُلُ مَعَهُ وَيَخْرُجُ مَعَهُ حَيْثُ كَانَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِهِ فِي الْكَبِيرِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Nuʿmān ibn Bashīr, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that no servant or maid but has three friends: a friend saying I am with you, take what you will and leave what you will — that is his wealth; a friend saying I am with you, but when you reach the king's gate I leave you — those are his servants and family; and a friend saying I am with you wherever you enter and wherever you exit — that is his deed; and in al-Ṭabarānī's Middle wording the parable of the man and death is like a man with three friends: the first says this is my wealth, take and give and leave as you will; the second says I serve you, but when you die I leave you; the third says I am with you, entering and exiting with you, dead or alive — the first is his wealth, the second his kin, the third his deed entering and exiting with him wherever he is. > **"No servant but has three friends: wealth saying take what you will, family leaving you at the king's gate, and deeds with you wherever you enter and exit."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ہر بندے اور بندی ( یعنی ہر مرد اور عورت ) کے تین دوست ہوتے ہیں ، ایک دوست یہ کہتا ہے : میں تمہارے ساتھ ہوں ، تم جو چاہو حاصل کر لو ، اور جو چاہو چھوڑ دو ، یہ اس کا مال ہے ایک دوست کہتا ہے : میں تمہارے ساتھ ہوں ، جب تم بادشاہ کے دروازے پر جاؤ گے ، تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا ، یہ اُس کے خدمت گزار اور اس کے اہل خانہ ہیں اور ایک دوست یہ کہتا ہے : تم جہاں داخل ہو گے اور جہاں سے نکلو گے ، میں تمہارے ساتھ رہوں گا ، یہ اُس کا عمل ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی اور موت کی مثال اُس شخص کی مانند ہے ، جس کے تین دوست ہوں ، پہلا یہ کہے : یہ میرا مال ہے ، تم جو چاہو لے لو ، جو چاہو دے دو ، جو چاہو چھوڑ دو ، دوسرا یہ کہے : میں تمہارے ساتھ ہوں ، میں تمہاری خدمت کرتا رہوں گا ، لیکن جب تم مر جاؤ گے تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا ، تیسرا یہ کہے : میں تمہارے ساتھ رہوں گا تمہارے ساتھ اندر جاؤں گا ، تمہارے ساتھ باہر آؤں گا ، خواہ ( تم ) مر جاؤ ، یا تم زندہ رہو ، جہاں تک اس کا تعلق ہے ، جس نے یہ کہا تھا : کہ یہ میرا مال ہے ، تم اس میں سے جو چاہو لے لو اور جو چاہو چھوڑ دو ، تو یہ اس شخص کا مال ہے ، اور دوسرا ( دوست ) آدمی کا خاندان ہے ، اور تیسرا دوست آدمی کا عمل ہے ، کہ آدمی جہاں بھی ہو گا وہ اس کے ساتھ اندر جائے گا اور اس کے ساتھ باہر آئے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور کبیر میں اس کی اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17845

Majma al-Zawaid #17845

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْ عَبْدٍ إِلَّا وَلَهُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ: فَأَمَّا خَلِيلٌ يَقُولُ: مَا أَنْفَقْتَ فَلَكَ، وَمَا أَمْسَكْتَ فَلَيْسَ لَكَ، فَذَلِكَ مَالُهُ، وَأَمَّا خَلِيلٌ فَيَقُولُ: أَنَا مَعَكَ، فَإِذَا أَتَيْتَ بَابَ الْمَلِكِ تَرَكْتُكَ وَرَجَعْتُ، فَذَلِكَ أَهْلُهُ، وَخَلِيلٌ يَقُولُ: أَنَا مَعَكَ حَيْثُ دَخَلْتَ، وَحَيْثُ خَرَجْتَ، فَذَلِكَ عَمَلُهُ، فَيَقُولُ: إِنْ كُنْتَ لَأَهْوَنَ الثَّلَاثَةِ عَلَيَّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said no servant but has three friends: a friend saying what you spend is yours and what you withhold is not yours — that is his wealth; a friend saying I am with you, but when you reach the king's gate I leave you and return — that is his family; and a friend saying I am with you wherever you enter and wherever you exit — that is his deed, saying you were the lightest of the three to me. > **"What you spend is yours and what you withhold is not yours; I am with you wherever you enter and wherever you exit — you were the lightest of the three to me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر شخص کے تین دوست ہوتے ہیں ، ایک دوست کہتا ہے : جو تم خرچ کرو گے وہ تمہارا ہوا ، اور جو تم خرچ نہیں کرو گے ، وہ تمہارا نہیں ہو گا ، یہ اس شخص کا مال ہے ، ایک دوست کہتا ہے : میں تمہارے ساتھ ہوں ، جب تم بادشاہ کے دروازے پر آؤ گے ، تو میں تمہیں چھوڑ دوں گا اور واپس چلا جاؤں گا ، یہ اس شخص کے اہل خانہ ہیں ، اور ایک دوست یہ کہتا ہے : میں تمہارے ساتھ رہوں گا ، جب تم اندر جاؤ گے ، یا جب تم باہر آؤ گے ، یہ اس شخص کا عمل ہے ، تو آدمی کہتا ہے : تم ان تینوں میں ، میرے نزدیک سب سے زیادہ ہلکے تھے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عمران قطان کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ، ویسے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

17846

Majma al-Zawaid #17846

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ لِأَحَدِكُمْ يَوْمَ يَمُوتُ ثَلَاثَةُ أَخِلَّاءَ، مِنْهُمْ مَنْ يَمْنَعُهُ مَا سَأَلَهُ، فَذَلِكَ مَالُهُ، وَمِنْهُمْ خَلِيلٌ يَنْطَلِقُ مَعَهُ حَتَّى يَلِجَ الْقَبْرَ، وَلَا يُعْطِيَهُ شَيْئًا وَلَا يَمْنَعَهُ، فَأُولَئِكَ قَرَائِنُهُ، وَمِنْهُمْ خَلِيلٌ يَقُولُ: أَنَا مَعَكَ حَيْثُ ذَهَبْتَ، وَلَسْتُ بِمُفَارِقِكَ، فَذَلِكَ عَمَلُهُ، إِنْ كَانَ خَيْرًا أَوْ شَرًّا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ.

EnglishUnverified translation

Samura ibn Jundub, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said each of you on the day he dies has three friends: one withholding what he asks — that is his wealth; a friend going with him until he enters the grave, giving and withholding nothing — those are his kin; and a friend saying I am with you wherever you go, never parting from you — that is his deed, whether good or evil. > **"Each of you on the day he dies has three friends: wealth withholding what he asks, kin going with him to the grave, and deeds with him wherever he goes, never parting from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم میں سے کوئی ایک شخص جب مرتا ہے ، تو اس کے تین ساتھی ہوتے ہیں ، اُن میں سے ایک ایسا ہوتا ہے کہ آدمی اس سے جو مانگتا ہے ، وہ انکار کر دیتا ہے ، یہ اس کا مال ہے ، ان میں سے ایک ساتھی ایسا ہوتا ہے جو آدمی کے ساتھ چلتا ہوا جاتا ہے ، یہاں تک کہ آدمی قبر میں داخل ہو جاتا ہے ، وہ ساتھی اس آدمی کو کچھ نہیں دیتا اور نہ ہی کچھ منع کرتا ہے ، یہ اس کے رشتے دار ہیں ، ان میں سے ایک ساتھی یہ کہتا ہے : تم جہاں بھی جاؤ گے میں تمہارے ساتھ رہوں گا ، میں تم سے جدا نہیں ہوؤں گا ، یہ اس شخص کا عمل ہے ، خواہ وہ بھلا ہو یا برا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

17847

Majma al-Zawaid #17847

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَثَلُ ابْنِ آدَمَ وَمَالِهِ، وَأَهْلِهِ، وَعَمَلِهِ، كَرَجُلٍ لَهُ ثَلَاثَةُ إِخْوَةٍ، أَوْ ثَلَاثَةُ أَصْحَابٍ: فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَنَا مَعَكَ حَيَاتَكَ، فَإِذَا مِتَّ فَلَسْتُ مِنْكَ، وَلَسْتَ مِنِّي، وَقَالَ الْآخَرُ: أَنَا مَعَكَ، فَإِذَا بَلَغْتَ تِلْكَ الشَّجَرَةَ فَلَسْتُ مِنْكَ، وَلَسْتَ مِنِّي، وَقَالَ الْآخَرُ: أَنَا مَعَكَ حَيًّا وَمَيِّتًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the parable of the son of Ādam with his wealth, family and deeds is a man with three brothers or companions: one says I am with you in your life, but when you die I am neither of you nor you of me; another says I am with you, but when you reach that tree I am neither of you nor you of me; and the third says I am with you alive and dead. > **"I am with you alive and dead."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ابن آدم ، اُس کے مال ، اس کے اہل خانہ اور اس کے عمل کی مثال ، ایسے شخص کی مانند ہے ، جس کے تین بھائی ہوں ، ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جس کے تین ساتھی ہوں ، اُن میں سے ایک کہے : میں تمہاری زندگی میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن جب تم مر جاؤ گے تو میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا اور تمہارا میرے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہو گا ، دوسرا یہ کہے : میں تمہارے ساتھ ہوں ، جب تم اس درخت تک پہنچ جاؤ گے ، تو میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا اور تمہارا مجھ سے کوئی واسطہ نہیں ہو گا ، اور تیسرا یہ کہے : میں زندگی اور موت ( ہر حال میں ) تمہارے ساتھ ہوں “۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17848

Majma al-Zawaid #17848

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا عَالَ مَنِ اقْتَصَدَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِي أَسَانِيدِهِمْ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said whoever economises never falls into poverty. > **"Whoever economises never falls into poverty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ تنگدست نہیں ہوتا جو میانہ روی اختیار کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان کی اسانید میں ایک راوی ابراہیم بن مسلم ہجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17849

Majma al-Zawaid #17849

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا عَالَ مُقْتَصِدٌ قَطُّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said an economiser never falls into poverty. > **"An economiser never falls into poverty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میانہ روی اختیار کرنے والا ، کبھی تنگدست نہیں ہوتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

17850

Majma al-Zawaid #17850

وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا أَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْغِنَى! مَا أَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ! وَأَحْسَنَ الْقَصْدَ فِي الْعِبَادَةِ!». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ سَعِيدِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ حَبِيبٍ، وَمُسْلِمٌ هَذَا لَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ إِلَّا ابْنَ حِبَّانَ فِي تَرْجَمَةِ سَعِيدٍ الرَّاوِي عَنْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfa, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said how excellent is moderation in wealth, how excellent is moderation in poverty, and excellent is moderation in worship. > **"How excellent is moderation in wealth, how excellent is moderation in poverty, and excellent is moderation in worship."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ خوشحالی میں میانہ روی اختیار کرنا کتنی اچھی بات ہے ، غربت میں میانہ روی اختیار کرنا کتنی اچھی بات ہے ، عبادت میں میانہ روی اختیار کرنا کتنی اچھی بات ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے سعید بن حکیم کی مسلم بن حبیب کے حوالے سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور مسلم نامی اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ، البتہ ابن حبان نے سعید نامی شخص کے حالات میں اس کا ذکر کیا ہے ، جو اس سے روایت نقل کرنے والا فرد ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17851

Majma al-Zawaid #17851

وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: «تَمَشَّى مَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ، وَهُوَ صَائِمٌ، فَأَجْهَدَهُ الصَّوْمُ، فَحَلَبْنَا لَهُ نَاقَةً لَنَا فِي قَعْبٍ، وَصَبَبْنَا عَلَيْهِ عَسَلًا نُكْرِمُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ فِطْرِهِ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ نَاوَلْنَاهُ الْقَعْبَ، فَلَمَّا ذَاقَهُ قَالَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: "" مَا هَذَا؟! "" قُلْنَا: لَبَنًا وَعَسَلًا، أَرَدْنَا نُكْرِمُكَ بِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - "" أَكْرَمَكَ اللَّهُ بِمَا أَكْرَمْتَنِي». أَوْ دَعْوَةً هَذِهِ مَعْنَاهَا، ثُمَّ قَالَ: «مَنِ اقْتَصَدَ أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ بَذَرَ أَفْقَرَهُ اللَّهُ، وَمَنْ تَوَاضَعَ رَفَعَهُ اللَّهُ، وَمَنْ تَجَبَّرَ قَصَمَهُ اللَّهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مِمَّنْ أَعْرِفُهُ اثْنَانِ.

EnglishUnverified translation

Ṭalḥa ibn ʿUbayd Allāh, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ walked with them at Mecca while fasting, and fasting exhausted him, so they milked a camel of theirs into a bowl and poured honey over it to honour the Messenger of Allāh ﷺ at his breaking; at sunset they handed him the bowl, and upon tasting he gestured as if saying what is this; they said milk and honey to honour him — honour may Allāh honour him, or a supplication to that meaning — then he said whoever economises, Allāh enriches him; whoever squanders, Allāh impoverishes him; whoever is humble, Allāh raises him; and whoever tyrannises, Allāh crushes him. > **"Whoever economises, Allāh enriches him; whoever squanders, Allāh impoverishes him; whoever is humble, Allāh raises him; and whoever tyrannises, Allāh crushes him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے ساتھ پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، آپ ﷺ نے روزہ رکھا ہوا تھا ، روزے کی وجہ سے آپ کو مشکل تھی ، ہم نے آپ کے لیے اپنی اونٹنی کا دودھ ایک پیالے میں دوہ لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ کی افطاری کے اہتمام کے لیے ہم نے اس میں شہد ملا دیا ، جب سورج غروب ہوا تو وہ پیالہ ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ، جب آپ نے اسے چکھا تو آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : دودھ اور شہد ہے ، ہم نے اس کے ذریعے آپ کے لئے اہتمام کرنا چاہا تھا ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ تمہاری عزت افزائی کرے ، جس طرح تم نے میری عزت افزائی کی ہے ۔‘‘ یا اس کی مانند کوئی اور دعائیہ کلمات آپ ﷺ نے ارشاد فرمائے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے خوش حال کر دیتا ہے ، جو شخص فضول خرچی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے غریب کر دیتا ہے ، جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے بلندی نصیب کرتا ہے ، جو شخص تکبر کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں دو افراد ایسے ہیں ، جن سے میں واقف ہوں ۔

17852

Majma al-Zawaid #17852

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كَانَ يَقْدَمُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْمٌ لَيْسَتْ لَهُمْ مَعَارِفُ، فَيَأْخُذُ الرَّجُلُ بِيَدِ الرَّجُلِ، وَالرَّجُلُ بِيَدِ الرَّجُلَيْنِ، وَالرَّجُلُ بِيَدِ الثَّلَاثَةِ عَلَى قَدْرِ طَاقَتِهِ، فَأَخَذَ خَتَنِي بِيَدِ رَجُلَيْنِ، فَخَلَوْتُ بِهِ فَلُمْتُهُ فَقُلْتُ: تَأْخُذُ رَجُلَيْنِ وَعِنْدَكَ مَا عِنْدَكَ؟! فَقَالَ: إِنَّ عِنْدَنَا رِزْقًا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ، فَانْطَلَقْ حَتَّى أُرِيَكَ، فَانْطَلَقْتُ فَأَرَانِي شَيْئًا مِنْ بُرٍّ فَقَالَ: هَذَا عِنْدَنَا، فَقُلْتُ: مِنْ أَيْنَ لَكَ هَذَا؟ قَالَ: اشْتَرَيْنَاهُ مِنَ الْعِيرِ الَّتِي قَدِمَتْ أَمْسِ، وَأَرَانِي مِثْلَ جَنْوَةِ الْبَعِيرِ تَمْرًا، وَقَالَ: هَذَا عِنْدَنَا، وَأَرَانِي جَرَّةً فِيهَا وَدَكٌ وَقَالَ: وَهَذَا دِهَانٌ وَإِدَامٌ، ثُمَّ غَدَا بِهِمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ رَاحَ بِهِمَا، وَقَدْ أَطْعَمَهُمَا وَدَهَنَهُمَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنِّي أَرَى صَاحِبَيْكَ حَسَنَيِ الْحَالِ، كَمْ تُطْعِمُهُمَا كُلَّ يَوْمٍ مِنْ وَجْبَةٍ؟ "". قَالَ: وَجْبَتَيْنِ، قَالَ: "" وَجْبَتَيْنِ؟ فَلَوْلَا كَانَتْ وَاحِدَةً». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir ibn ʿAbd Allāh, may Allāh be pleased with them both, reported that peoples used to come to the Prophet ﷺ without acquaintances, so a man would take a man's hand, another two men's, another three men's, according to capacity; his brother-in-law took two men, so he drew aside and blamed him saying you take two men with what you have; he said they had provision from Allāh — come and see — showing wheat bought from yesterday's caravan, dates like a camel's calf, and a jar of fat for oil and condiment; then he took them morning or evening to the Messenger of Allāh ﷺ, having fed and oiled them, so the Messenger of Allāh ﷺ said he saw his two companions in good state — how many meals do you feed them daily? He said two meals; he said two meals — why not one? > **"Two meals? Why not one?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ لوگ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو گئے ، ان کے لئے کھانے پینے کا بندوبست کرنے کی گنجائش نہیں تھی ، تو کسی شخص نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑ لیا ، کسی نے دو افراد کا ہاتھ پکڑ لیا ، کسی نے تین افراد کا ہاتھ پکڑ لیا ، ہر شخص نے اپنی گنجائش کے مطابق کسی کو ساتھ لے لیا ، میرے بہنوئی نے دو آدمیوں کا ہاتھ پکڑ لیا ، میں انہیں الگ لے کے گیا اور میں نے انہیں ملامت کرتے ہوئے یہ کہا : آپ نے دو آدمیوں کو لے لیا ہے ، حالانکہ آپ کے پاس پہلے ہی تھوڑا سا ( مال ) ہے ، انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے ہمیں رزق نصیب ہوا ہے ، تم چلو ! میں تمہیں دکھاتا ہوں ، میں چل پڑا ، تو انہوں نے مجھے تھوڑی سی گندم دکھائی ، انہوں نے کہا : یہ ہمارے پاس ہے ، میں نے دریافت کیا : یہ آپ کے پاس کہاں سے آئی ہے ؟ انہوں نے بتایا : یہ میں نے اس قافلے سے خریدی ہے ، جو گزشتہ شام آیا تھا ، پھر انہوں نے مجھے کھجوروں کا ڈھیر دکھایا اور بولے : یہ بھی ہمارے پاس ہیں ، پھر انہوں نے مجھے ایک مٹکا دکھایا ، جس میں چربی موجود تھی ، انہوں نے کہا : یہ تیل اور سالن ہے ، پھر اگلے دن صبح وہ دونوں کو ساتھ لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس گئے ، انہوں نے ان دونوں مہمانوں کو کھانا بھی کھلایا تھا اور تیل بھی لگایا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : میرا خیال ہے تمہارے دونوں ساتھی اچھے حال میں ہیں ، تم انہیں روزانہ کتنا اناج کھانے کے لئے دیتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : دو وجبہ ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : دو وجبہ ؟ ایک وجبہ کیوں نہیں ؟ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17853

Majma al-Zawaid #17853

عَنْ أَبِي حَسَبَةَ: مُسْلِمِ بْنِ أَكْيَسَ، مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ: «ذَكَرَ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ يَبْكِي فَقَالَ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ؟ فَقَالَ: نَبْكِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ يَوْمًا مَا يَفْتَحُ اللَّهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَيَفِيءُ عَلَيْهِمْ حَتَّى ذَكَرَ الشَّامَ فَقَالَ: "" إِنْ يُنْسَأْ فِي أَجْلِكَ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ، فَحَسْبُكَ مِنَ الْخَدَمِ ثَلَاثَةٌ: خَادِمٌ يَخْدِمُكَ، وَخَادِمٌ يُسَافِرُ مَعَكَ، وَخَادِمٌ يَخْدِمُ أَهْلَكَ وَيَرُدُّ عَلَيْهِمْ. وَحَسْبُكَ مِنَ الدَّوَابِّ ثَلَاثَةٌ: دَابَّةٌ لِرِحَلِكَ، وَدَابَّةٌ لِنَقْلِكَ، وَدَابَّةٌ لِغُلَامِكَ "". ثُمَّ هَذَا أَنَا أَنْظُرُ إِلَى بَيْتِي قَدِ امْتَلَأَ رَقِيقًا، وَأَنْظُرُ إِلَى مِرْبَطِي قَدِ امْتَلَأَ دَوَابَّ وَخَيْلًا، فَكَيْفَ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ هَذَا وَقَدْ أَوْصَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّ أَحَبَّكُمْ إِلَيَّ، وَأَقْرَبَكُمْ مِنِّي مَنْ لَقِيَنِي عَلَى مِثْلِ الْحَالِ الَّذِي فَارَقَنِي عَلَيْهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Ḥasaba Muslim ibn Akays, freedman of ʿAbd Allāh ibn ʿĀmir, reported from Abū ʿUbayda ibn al-Jarrāḥ, may Allāh be pleased with him, that one who entered upon him found him weeping and asked what makes you weep, O Abū ʿUbayda; he said he wept because the Messenger of Allāh ﷺ once mentioned what Allāh would open for Muslims and bestow upon them, mentioning Syria, saying were your term prolonged, O Abū ʿUbayda, three servants suffice you — a servant serving you, a servant travelling with you, and a servant serving your family and returning to them — and three mounts suffice you — a mount for your baggage, a mount for your transport, and a mount for your lad; and now he looked at his house filled with slaves and his stable filled with mounts and horses — so how shall he meet the Messenger of Allāh ﷺ after this, when the Messenger of Allāh ﷺ enjoined that the dearest and nearest to him are those meeting him upon the state they parted from him. > **"Three servants suffice you and three mounts suffice you; the dearest and nearest to me are those meeting me upon the state they parted from me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوحسبہ مسلم بن اکیس ، جو عبداللہ بن عامر کے غلام ہیں ، انہوں نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے : ایک شخص نے یہ بات بتائی ہے : وہ ایک مرتبہ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہیں روتے ہوئے پایا ، اس نے دریافت کیا : اے حضرت ابوعبیدہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ہم اس بات پر رو رہے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ذکر کی کہ اللہ تعالیٰ کیسے مسلمانوں کو فتح نصیب کرے گا اور انہیں مال فے عطا کرے گا ، یہاں تک کہ نبی اکرم ﷺ نے شام کا ذکر کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا : ’’ اے ابوعبیدہ ! اگر تمہاری عمر طویل ہوئی ، تو تمہارے لئے تین خدمت گزار کافی ہوں گے ، ایک وہ خادم ، جو تمہاری خدمت کرے ، ایک وہ خادم ، جو تمہارے ساتھ سفر پر جائے اور ایک وہ خادم ، جو تمہارے اہل خانہ کی خدمت کرے اور ان کی دیکھ بھال کرے ، اور تمہارے لیے تین جانور کافی ہوں گے ، ایک جانور تمہاری سواری کے لیے ، ایک جانور تمہارے سامان کے لئے اور ایک جانور تمہارے غلام کے لئے ۔‘‘ ( پھر حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) اور اب میں اپنے گھر کو دیکھ رہا ہوں کہ غلاموں سے بھرا ہوا ہے ، اور میں اپنے اصطبل کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ جانوروں اور گھوڑوں سے بھرا ہوا ہے ، تو اس کے بعد میں کس طرح نبی اکرم ﷺ سے ملوں گا ؟ جب کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ تلقین کی تھی : ’’ تم میں سے میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور میرے سب سے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا ، جو اس حال میں رہے گا جس حال میں ، وہ مجھ سے جدا ہوا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17854

Majma al-Zawaid #17854

وَعَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ قَالَ: «عَادَ خَبَّابًا نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالُوا: أَبْشِرْ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ، تَرِدُ عَلَى مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْحَوْضَ؛ فَقَالَ: فَكَيْفَ بِهَذَا! وَأَشَارَ إِلَى أَعْلَى الْبَيْتِ وَأَسْفَلِهِ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" إِنَّمَا يَكْفِي أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Yaḥyā ibn Jaʿda reported that some Companions of the Messenger of Allāh ﷺ visited Khabbāb, may Allāh be pleased with him, saying rejoice, O Abū ʿAbd Allāh, you shall meet Muḥammad ﷺ at the Pond; he asked how, pointing to his house's top and bottom, when the Messenger of Allāh ﷺ said only a rider's provision of the world suffices one of you. > **"Only a rider's provision of the world suffices one of you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یحیی بن جعدہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے کچھ اصحاب ، حضرت خباب رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لئے گئے ، أن حضرات نے کہا : اے ابوعبداللہ ! آپ کو مبارک ہو ، آپ حضرت محمد ﷺ کے پاس حوض ( کوثر ) پر جائیں گے ، تو حضرت خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے ہوتے ہوئے کیسے ہو سکتا ہے ؟ انہوں نے گھر کے اوپر والے اور نیچے والے حصے کی طرف اشارہ کر کے یہ بات کہی ، جبکہ نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم میں سے کسی ایک کے لئے ، دنیا میں سے اتنی چیز کفایت کرتی ہے ، جتنا کسی سوار ( یعنی مسافر ) کا زاد سفر ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن جعدہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17855

Majma al-Zawaid #17855

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «دَخَلْتُ عَلَى سَلْمَانَ فَرَأَيْتُ بَيْتَهُ رَثًّا، فَقُلْتُ لَهُ فِي ذَلِكَ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهِدَ إِلَيَّ: "" أَنْ يَكُونَ زَادُكَ مِنَ الدُّنْيَا كَزَادِ الرَّاكِبِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَسَنِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْجَعْدِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that he entered upon Salmān, may Allāh be pleased with him, and saw his house bare, so he spoke of it, and Salmān said the Messenger of Allāh ﷺ covenanted to him that his provision of the world be as a rider's provision. > **"Let your provision of the world be as a rider's provision."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے ان کے گھر کو دیکھا کہ وہاں سامان کم تھا ، میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے مجھے یہ تلقین کی تھی : ’’ دنیا میں ، تمہارا ساز و سامان ، سوار ( یعنی مسافر ) کے زاد سفر کی مانند ہونا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن یحیی بن جعد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17856

Majma al-Zawaid #17856

وَعَنْ ثَوْبَانَ قَالَ: «قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا يَكْفِينِي مِنَ الدُّنْيَا؟ قَالَ: "" مَا سَدَّ جَوْعَتَكَ، وَوَارَى عَوْرَتَكَ، وَإِنْ كَانَ لَكَ بَيْتٌ يُظِلُّكَ فَذَاكَ، وَإِنْ كَانَتْ لَكَ دَابَّةٌ فَبَخٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Thawbān, may Allāh be pleased with him, reported that he asked O Messenger of Allāh, what suffices him of the world; he said what fills your hunger and covers your nakedness; if you have a house shading you, then that, and if you have a mount, then excellent. > **"What fills your hunger and covers your nakedness suffices you; if you have a house shading you, then that."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دنیا میں سے کتنی چیز میرے لئے کافی ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو تمہاری بھوک کو ختم کر دے ، تمہاری شرمگاہ کو ڈھانپ دے اور اگر تمہیں گھر مل جائے ، جو تم پر سایہ کرے ، تو اچھا ہے اور اگر تمہیں سواری بھی مل جائے ، تو کیا کہنے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

17857

Majma al-Zawaid #17857

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ بَذِيمَةَ قَالَ: بِيعَ مَتَاعُ سَلْمَانَ فَبَلَغَ أَرْبَعَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ، إِلَّا أَنَّ عَلِيَّ بْنَ بَذِيمَةَ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ، فَإِنْ كَانَتْ تَرِكَتُهُ تَأَخَّرَتْ فَهُوَ مُتَّصِلٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Badhīma reported that Salmān's goods were sold and reached fourteen dirhams. > **"Salmān's goods were sold and reached fourteen dirhams."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علی بن بذیمہ بیان کرتے ہیں : حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا سامان فروخت کیا گیا ، تو اس کی قیمت 14 درہم تھی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند عمدہ ہے البتہ یہ ہے کہ علی بن بذیمہ نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

17858

Majma al-Zawaid #17858

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: «كُنَّا مَعَ أَبِي بَكْرٍ فَاسْتَسْقَى، فَأُتِيَ بِمَاءٍ وَعَسَلٍ، فَلَمَّا وَضَعَهُ عَلَى يَدِهِ بَكَى وَانْتَحَبَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّ بِهِ شَيْئًا، وَلَا نَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَلَمَّا فَرَغَ قُلْنَا: يَا خَلِيفَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا حَمَلَكَ عَلَى هَذَا الْبُكَاءِ؟! قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ رَأَيْتُهُ يَدْفَعُ عَنْ نَفْسِهِ شَيْئًا، وَلَا أَرَى شَيْئًا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الَّذِي أَرَاكَ تَدْفَعُ لَا أَرَى شَيْئًا؟! قَالَ: "" الدُّنْيَا تَطَوَّلَتْ لِي، فَقُلْتُ: إِلَيْكَ عَنِّي، فَقَالَتْ لِي: أَمَا إِنَّكَ لَسْتَ بِمُدْرِكِي "". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَشَقَّ عَلَيَّ، وَخَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ خَالَفْتُ أَمْرَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَحِقَتْنِي الدُّنْيَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زَيْدٍ الزَّاهِدُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ الْجُمْهُورِ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَقَالَ: يُعْتَبَرُ حَدِيثُهُ إِذَا كَانَ فَوْقَهُ ثِقَةٌ، وَدُونَهُ ثِقَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam, may Allāh be pleased with him, reported that they were with Abū Bakr, may Allāh be pleased with him, when he asked for drink and was brought water and honey; placing it upon his hand he wept and sobbed until they thought something ailed him, asking nothing; when finished they asked O Caliph of the Messenger of Allāh ﷺ, what made you weep; he said once with the Messenger of Allāh ﷺ he saw him warding something from himself though he saw nothing, so he asked O Messenger of Allāh, what do I see you warding though I see nothing; he said the world extended to him, so he said away from me, and it said to him you shall never attain me; Abū Bakr said it distressed him, fearing he had opposed the Messenger's ﷺ command and the world had reached him. > **"The world extended to me, so I said: away from me; and it said to me: you shall never attain me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے ، انہوں نے پینے کے لیے کچھ مانگا تو پانی اور شہد لایا گیا ، جب وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں پکڑایا گیا ، تو وہ رو پڑے ، اور شدید روئے ، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ شاید انہیں کوئی چیز لاحق ہوئی ہے ، حالانکہ ہم نے ان سے کسی چیز کے بارے میں نہیں پوچھا تھا ، جب وہ فارغ ہوئے ، تو ہم نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ! آپ روئے کیوں ؟ انہوں نے فرمایا : ’’ ایک مرتبہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھا اسی دوران میں نے آپ کو دیکھا کہ جیسے آپ کسی چیز کو پرے کر رہے ہیں ، لیکن مجھے کوئی چیز دکھائی نہیں دی ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ وہ کیا چیز ہے جس کو آپ پرے کر رہے ہیں اور مجھے تو کچھ نظر نہیں آ رہا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا میری طرف آئی ، تو میں نے کہا : مجھ سے دور رہو ، تو اس نے مجھ سے کہا : آپ میرے دام میں نہیں آئیں گے ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، تو یہ چیز مجھ پر گراں گزری اور مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کے طرز عمل کے برخلاف تو نہیں کیا اور دنیا مجھے لاحق ہو گئی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن زید زاہد ہے اور وہ جمہور کے نزدیک ضعیف ہے ، ابن حبان میں اس کا تذکرہ کتاب الثقات میں کیا ہے اور یہ بات کہی ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث کا اعتبار کیا جائے گا جبکہ اس کے اوپر والا راوی ثقہ ہوں اور اس کے نیچے والا راوی ثقہ ہو ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17859

Majma al-Zawaid #17859

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ يَرْفَعُهُ قَالَ: «يُنَادِي مُنَادٍ: دَعُوا الدُّنْيَا لِأَهْلِهَا، دَعُوا الدُّنْيَا لِأَهْلِهَا، دَعُوا الدُّنْيَا لِأَهْلِهَا، مَنْ أَخَذَ مِنَ الدُّنْيَا أَكْثَرَ مِمَّا يَكْفِيهِ أَخَذَ جِيفَةً، وَهُوَ لَا يَشْعُرُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.، وَفِيهِ هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, raised to the Prophet ﷺ that a herald calls: leave the world to its people, leave the world to its people, leave the world to its people; whoever takes of the world more than suffices him takes carrion unknowingly. > **"Leave the world to its people; whoever takes of the world more than suffices him takes carrion unknowingly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ ایک منادی یہ اعلان کرتا ہے : دنیا کو ، اہل دنیا کے لئے چھوڑ دو ! دنیا کو اہل دنیا کے لئے چھوڑ دو ! دنیا کو اہل دنیا کے لئے چھوڑ دو ! جو شخص اپنے بنیادی ضرورت سے زیادہ دنیا لیتا ہے ، وہ مردار کو لیتا ہے اور اُسے اس کا شعور بھی نہیں ہوتا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ کہتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17860

Majma al-Zawaid #17860

عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: «كَانَتْ نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَضْبَاءُ لَا تُسْبَقُ، فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ عَلَى قَعُودٍ فَسَبَقَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" حَقٌّ عَلَى اللَّهِ لَا يَرْتَفِعُ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا وَضَعَهُ». قَالَ مَعْنُ بْنُ عِيسَى: كَانَ مَالِكٌ لَا يُسْنِدُهُ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا يَوْمًا نَشِيطًا فَحَدَّثَنَاهُ بِهِ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الْبَزَّارِ: أَحْمَدَ بْنِ الرَّبِيعِ، فَإِنِّي لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn al-Musayyab reported that the Messenger's ﷺ camel al-ʿAḍbāʾ was unbeaten, until a Bedouin on a young camel outran her, so the Messenger of Allāh ﷺ said it is binding upon Allāh that nothing of the world rises except He lowers it; Maʿn ibn ʿĪsā said Mālik would not chain it, until one day he came out brisk and narrated it from al-Zuhrī, from Saʿīd, from Abū Hurayra. > **"It is binding upon Allāh that nothing of the world rises except He lowers it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی ’’ عضباء ‘‘ سے دوڑ میں آگے نہیں نکلا جا سکتا تھا ، ایک دفعہ ایک دیہاتی اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور نبی اکرم ﷺ کی اونٹنی سے دوڑ میں آگے نکل گیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ دنیا میں سے جو بھی چیز بلند ہو ، اللہ تعالیٰ اسے پست کر دے ۔‘‘ معن بن عیسیٰ بیان کرتے ہیں : امام مالک اس کی سند بیان نہیں کرتے تھے ، ایک دن وہ ہمارے پاس تشریف لائے ان کا مزاج خوشگوار تھا ، تو انہوں نے ہمیں یہ روایت زہری کے حوالے سے ، سعید بن مسیب کے حوالے سے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہونے کے طور پر بیان کی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام بزار کے استاد احمد بن ربیع کا معاملہ مختلف ہے ، میں ان سے واقف نہیں ہوں ۔

17861

Majma al-Zawaid #17861

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَرَزَ بَيْنَ يَدَيْهِ غَرْزًا، ثُمَّ غَرَزَ إِلَى جَنْبِهِ آخَرُ، ثُمَّ غَرَزَ الثَّالِثُ فَأَبْعَدَهُ، ثُمَّ قَالَ: "" هَلْ تَدْرُونَ مَا هَذَا؟ "". قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: "" هَذَا الْإِنْسَانُ، وَهَذَا أَجَلُهُ، وَهَذَا أَمَلُهُ، يَتَعَاطَى الْأَمَلَ، يَخْتَلِجُهُ الْأَجَلُ دُونَ ذَلِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ عَلِيٍّ الرِّفَاعِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ planted a peg before him, then another beside it, then a third far off, asking do you know what this is; they said Allāh and His Messenger know best; he said this is man, this his term, and this his hope — he pursues hope while his term snatches him before it. > **"This is man, this his term, and this his hope — he pursues hope while his term snatches him before it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنے آگے ایک ( لکڑی ) گاڑ دی ، پھر آپ نے اس کے ساتھ ایک اور ( لکڑی ) گاڑ دی ، پھر آپ نے ایک اور ( لکڑی ) گاڑ دی ، لیکن اس کو ذرا دور رکھا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ جانتے ہو ؟ یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : اللہ تعالیٰ اور اُس کا رسول ﷺ بہتر جانتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ انسان ہے ، یہ اُس کی موت ہے اور یہ اس کی اُمیدیں ( یعنی خواہشات ) ہیں ، یہ امیدیں ( یعنی خواہشات ) یکے بعد دیگرے آتی رہتی ہیں ، اور اُن کے درمیان میں ، اُن ( کے ختم یا پورے ہونے ) سے پہلے ہی موت آ جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن علی رفاعی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ شخص ثقہ ہے ۔

17862

Majma al-Zawaid #17862

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ - قَالَ: «صَلَاحُ أَوَّلِ هَذِهِ الْأُمَّةِ بِالزَّهَادَةِ وَالْيَقِينِ، وَهَلَاكُهَا بِالْبُخْلِ وَالْأَمَلِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عِصْمَةُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with them both, raised to the Prophet ﷺ as far as he knew that the righteousness of this nation's first is by asceticism and certainty, and its ruin by miserliness and hope. > **"The righteousness of this nation's first is by asceticism and certainty, and its ruin is by miserliness and hope."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ اس اُمت کے ابتدائی حصے کی بہتری زہد اور یقین کے ذریعے ہو گی ، اور ان کی ہلاکت ، بخل اور خواہشات کے ذریعے ہو گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن متوکل ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

17863

Majma al-Zawaid #17863

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَهِيَ لَا تَزْدَادُ مِنْهُمْ إِلَّا بُعْدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the Hour has drawn near while they only grow more distant from it. > **"The Hour has drawn near while they only grow more distant from it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت قریب آ رہی ہے اور لوگ اُس سے دور ہوتے جا رہے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17864

Majma al-Zawaid #17864

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اقْتِرَابُ السَّاعَةِ أَنْ تَكُونَ السَّنَةُ كَالشَّهْرِ، وَالشَّهْرُ كَالْجُمُعَةِ، وَالْجُمُعَةُ كَالْيَوْمِ، وَالْيَوْمُ كَالسَّاعَةِ، وَالسَّاعَةُ كَضَرَمَةِ نَارٍ، وَلَيَنَامَنَّ أَحَدُكُمْ وَأَجَلُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، عَنْ شَيْخِهِ: الْمِقْدَامِ بْنِ دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَقَدْ قِيلَ: إِنَّهُ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the nearness of the Hour is that the year be as the month, the month as the week, the week as the day, the day as the hour, and the hour as a blaze of fire; and one of you shall sleep with his term between his eyes. > **"The nearness of the Hour is that the year be as the month, the month as the week, the week as the day, the day as the hour, and the hour as a blaze of fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ قیامت قریب آئے گی تو ایک سال ، ایک مہینے کی مانند ہو گا ، ایک مہینہ ، ایک ہفتے کی مانند ہو گا ، ایک ہفتہ ، ایک دن کی مانند ہو گا ، ایک دن ، ایک پہر کی مانند ہو گا اور ایک پہر ، آگ کے انگارے ( یا چنگاری ) کی مانند ہو گا ، تم میں سے کوئی ایک شخص سوئے گا اور اس کی موت ، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ہو گی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد مقدام بن داؤد کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے یہ بات کہی گئی ہے : کہ اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17865

Majma al-Zawaid #17865

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا طَلَعَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبِهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ يُسْمِعَانِ أَهْلَ الْأَرْضِ إِلَّا الثَّقَلَيْنِ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ، مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَزَادَ: «وَلَا آبَتْ شَمْسٌ قَطُّ إِلَّا بُعِثَ بِجَنْبِهَا مَلَكَانِ يُنَادِيَانِ: اللَّهُمَّ أَعْطِ مُنْفِقًا خَلَفًا، وَأَعْطِ مُمْسِكًا تَلَفًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «اللَّهُمَّ مَنْ أَنْفَقَ فَأَعْطِهِ خَلَفًا، وَمَنْ أَمْسَكَ فَأَعْطِهِ تَلَفًا». وَرِجَالُ أَحْمَدَ، وَبَعْضُ رِجَالِ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ said no sun ever rises except that two angels are sent beside it calling, heard by earth's people except the two heavy ones: O people, come to your Lord — what is little and suffices is better than what is much and distracts; and no sun ever sets except that two angels are sent beside it calling: O Allāh, grant the spender replacement and grant the hoarder ruin — while al-Ṭabarānī's Middle wording has O Allāh, whoever spends grant him replacement, and whoever withholds grant him ruin. > **"O people, come to your Lord — what is little and suffices is better than what is much and distracts; O Allāh, grant the spender replacement and grant the hoarder ruin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بھی سورج طلوع ہوتا ہے ، تو اُس کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں ، جو اعلان کرتے ہیں : اور دو گروہوں ( یعنی جنات اور انسانوں ) کے علاوہ تمام اہل زمین کو اُن ( فرشتوں ) کی آواز آتی ہے ( وہ یہ کہتے ہیں : ) ’’ اے لوگو ! اپنے پروردگار کی طرف آ جاؤ ! جو چیز تھوڑی ہو اور کفایت کر جائے ، وہ اُس سے زیادہ بہتر ہے ، جو زیادہ ہو اور غافل کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے اس میں یہ الفاظ زاند نقل کیے ہیں : ’’ جب سورج غروب ہوتا ہے تو اس کے ہمراہ دو فرشتوں کو بھیجا جاتا ہے ، جو بلند آواز میں یہ کہتے ہیں : اے اللہ ! ( اپنی راہ میں ) خرچ کرنے والے کو اُس کی جگہ مزید عطا فرما ! اور ( اپنی راہ میں ) خرچ نہ کرنے والے ( کے مال کو ) ضائع کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ اے اللہ ! جو خرچ کرے ، تو اُس کی جگہ اسے عطا فرما ، اور جو خرچ نہ کرے ، اُس ( کے مال ) کو ضائع کر دے ۔‘‘ امام احمد کے رجال اور طبرانی کی معجم کبیر میں اسانید کے بعض رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17866

Majma al-Zawaid #17866

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ - أُرَاهُ عَنْ أَبِيهِ، شَكَّ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْأَعْوَادِ، وَهُوَ يَقُولُ: «مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى». رَوَاهُ أَبُو يُعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَدَقَةَ بْنِ الرَّبِيعِ، وَهُوَ ثِقَةٌ ..

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn Abī Saʿīd — with doubt whether he reported it from his father Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه — said that he heard the Prophet ﷺ upon the pulpit saying that sufficiency outweighs distracting abundance. > **"What is little and suffices is better than what is much and distracts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالرحمن بن ابوسعید بیان کرتے ہیں : ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ روایت اپنے والد کے حوالے سے نقل کی ہے ، یہ شک ابوعبداللہ نامی راوی کو ہے ) وہ ( یعنی حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ ) کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو منبر پر یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو چیز تھوڑی ہو اور کفایت کر جائے ، وہ اُس سے بہتر ہے ، جو زیادہ ہو اور غافل کر دے ۔‘‘ یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صدقہ بن ربیع کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17867

Majma al-Zawaid #17867

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكُمْ، مَا قَلَّ وَكَفَى خَيْرٌ مِمَّا كَثُرَ وَأَلْهَى. يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّمَا هِيَ نَجْدَانِ: نَجْدُ خَيْرٍ، وَنَجْدُ شَرٍّ، فَمَا جُعِلَ نَجْدُ الشَّرِّ أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنْ نَجْدِ الْخَيْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ حَدِيثِ فَضَالٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، وَفَضَالٌ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāmah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ called the people to their Lord, contrasting sufficiency with distraction and the path of good with the path of evil. > **"O people, come to your Lord. What is little and suffices is better than what is much and distracts. O people, there are only two paths: a path of good and a path of evil, yet the path of evil has not been made dearer to you than the path of good."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! اپنے پروردگار کی طرف آ جاؤ ! جو چیز تھوڑی ہو اور کفایت کر جائے ، وہ اُس سے بہتر ہے جو زیادہ ہو اور غافل کر دے ، اے لوگو ! یہ دو طرح کا سامان ہے ، بھلائی کا سامان اور شر کا سامان ، تو شر کے سامان کو تمہارے نزدیک ، بھلائی کے سامان سے زیادہ محبوب نہیں بنایا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے فضال کی ، حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور فضال نامی راوی ضعیف ہے ۔

17868

Majma al-Zawaid #17868

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قَلَّ مَالُهُ، وَكَثُرَتْ عِيَالُهُ، وَحَسُنَتْ صَلَاتُهُ، وَلَمْ يَغْتَبِ الْمُسْلِمِينَ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَهُوَ مَعِي كَهَاتَيْنِ».

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ described the one whose wealth is little, whose dependents are many, whose prayer is excellent, and who does not backbite the Muslims, indicating his closeness to him on the Day of Resurrection like two fingers. > **"Whoever has little wealth, many dependents, excellent prayer, and does not backbite the Muslims, will come on the Day of Resurrection with me like these two."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کا مال کم ہو اور اُس کے زیر کفالت لوگ زیادہ ہوں ، اور اس کی نماز عمدہ ہو ، اور وہ مسلمانوں کی غیبت نہ کرتا ، تو جب وہ قیامت کے دن آئے گا تو وہ میرے ساتھ ان دو ( یعنی انگلیوں ) کی طرح ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلمہ بن علی خشنی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17869

Majma al-Zawaid #17869

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «عَلَيْكُمْ بِالْقَنَاعَةِ، فَإِنَّ الْقَنَاعَةَ مَالٌ لَا يَنْفَدُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ enjoined contentment as imperishable wealth. > **"Hold fast to contentment, for contentment is wealth that never perishes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم پر قناعت اختیار کرنا لازم ہے ، بے شک قناعت ، ایسا مال ہے جو ختم نہیں ہوتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17870

Majma al-Zawaid #17870

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ جَاعَ أَوِ احْتَاجَ فَكَتَمَهُ النَّاسَ، وَأَفْضَى بِهِ إِلَى اللَّهِ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَفْتَحَ لَهُ قُوتَ سَنَةٍ مِنْ حَلَالٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ الْحِصْنِيُّ، ضَعَّفَهُ الدَّارَقُطْنِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ promised a year of lawful sustenance to whoever endures hunger or need without complaining to people and entrusts his affair to Allah. > **"Whoever hungers or falls into need, conceals it from people, and entrusts it to Allah, it becomes binding upon Allah to open for him a year's lawful sustenance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص بھوکا ہو یا محتاج ہو اور وہ لوگوں سے اُس چیز کو چھپائے ، اور اس کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اُسے حلال طریقے سے ایک سال کی خوراک عطا کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن رجاء حصنی ہے جسے امام دارقطنی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔

17871

Majma al-Zawaid #17871

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا صَبَرَ أَهْلُ ثَلَاثَةٍ عَلَى جُهْدٍ إِلَّا أَتَاهُمُ اللَّهُ بِرِزْقٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ said that no household endures severe hardship with patience except that Allah brings them provision. > **"No household endures hardship with patience except that Allah brings them provision."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس گھر کے افراد تین دن تک بھوک پر صبر کرتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ انہیں رزق نصیب کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17872

Majma al-Zawaid #17872

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ بِمَالِهِ، أَوْ فِي نَفْسِهِ فَكَتَمَهَا، وَلَمْ يَشْكُهَا إِلَى النَّاسِ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما narrated that the Messenger of Allah ﷺ promised forgiveness to whoever is afflicted in wealth or self, conceals it, and does not complain of it to people. > **"Whoever is afflicted by calamity in his wealth or in himself, conceals it, and does not complain of it to people, it becomes binding upon Allah to forgive him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کو اپنے مال یا جان کے بارے میں کوئی مصیبت لاحق ہو ، اور وہ اُس کو چھپا لے اور لوگوں کے سامنے اس کی شکایت نہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس شخص کی مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17873

Majma al-Zawaid #17873

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى أَهْلِهِ، فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ مِنَ الْحَاجَةِ خَرَجَ إِلَى الْبَرِّيَّةِ، فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ قَامَتْ إِلَى الرَّحَا فَوَضَعَتْهَا، وَإِلَى التَّنُّورِ فَسَجَرَتْهُ، ثُمَّ قَالَتِ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا، فَنَظَرَتْ فَإِذَا الْجَفْنَةُ قَدِ امْتَلَأَتْ. قَالَ: وَذَهَبَتْ إِلَى التَّنُّورِ فَوَجَدَتْهُ مُمْتَلِئًا، قَالَ: فَرَجَعَ الزَّوْجُ وَقَالَ: أَصَبْتُمْ بَعْدِي شَيْئًا؟ قَالَتِ امْرَأَتُهُ: نَعَمْ. مِنْ رَبِّنَا، قَامَ إِلَى الرَّحَا فَرَفَعَهَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَمَا إِنَّهُ لَوْ لَمْ يَرْفَعْهَا لَمْ تَزَلْ تَدُورُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَقَالَ: «فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: اللَّهُمَّ ارْزُقْنَا مَا نَطْحَنُ، وَمَا نَعْجِنُ، وَنَخْبِزُ، فَإِذَا الْجَفْنَةُ مَلْأَى خُبْزًا، وَالرَّحَا تَطْحَنُ، وَالتَّنُّورَ مَلْأَى جُنُوبَ شِوَاءٍ، فَجَاءَ زَوْجُهَا فَقَالَ: عِنْدَكُمْ شَيْءٌ؟ قَالَتْ: رِزْقُ اللَّهِ - أَوْ قَدْ رَزَقَ اللَّهُ - فَرَفَعَ الرَّحَا، فَكَنَسَ حَوْلَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ تَرَكَهَا لَطَحَنَتْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الْبَزَّارِ، وَشَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ، وَهُمَا ثِقَتَانِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that a needy man left his house for the open land, whereupon his wife set the millstone, kindled the oven, and supplicated for provision, and Allah filled the bowl and the oven; when her husband lifted the millstone, the matter was mentioned to the Prophet ﷺ, who said it would have continued turning until the Day of Resurrection had he not lifted it. > **"Had he not lifted it, it would have continued turning until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص اپنے گھر آیا جب اس نے گھر والوں کی بھوک کو دیکھا تو باہر چلا گیا ، جب اس کی بیوی نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے چکی رکھی تنور جلایا اور پھر یہ کہا : اے اللہ ! تو ہمیں رزق نصیب فرما ! جب اس عورت نے نظر کی تو پیالہ بھرا ہوا تھا ، وہ عورت تنور کی طرف گئی ، تو اس نے اس کو بھی بھرا ہوا پایا ، عورت کا شوہر واپس آیا ، اس نے دریافت کیا : کیا میرے بعد تمہیں کوئی چیز ملی ہے ؟ اس کی بیوی نے کہا : جی ہاں ! ہمارے پروردگار کی طرف سے ملی ہے ، وہ شخص چکی کے پاس گیا اور اس نے اُسے اٹھا لیا ( یعنی اس کو گھومنے سے روک دیا ) پھر اس نے اس بات کا تذکر نبی اکرم ﷺ کے سامنے کیا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر یہ شخص اُس کو نہ اُٹھاتا ( یعنی نہ روکتا ) تو وہ قیامت کے دن تک گھومتی رہتی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ’’ اس کی بیوی نے کہا : اے اللہ ! تو ہمیں وہ عطا فرما دے جسے ہم پیس لیں اور جس کو گوندھ لیں اور جس کی روٹی پکا لیں ، تو وہ برتن روٹیوں سے بھر گیا اور چکی آٹا پیسنے لگی اور تنو بھی بھنے ہوئے گوشت سے بھر گیا ، اس عورت کا شوہر آیا اور اس نے دریافت کیا : تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : اللہ تعالیٰ نے رزق عطا کیا ہے ، اس شخص نے چکی کو اٹھایا اور اس کے اردگرد جھاڑو دی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر یہ اُس کو رہنے دیتا ، تو وہ قیامت کے دن تک پیستی رہتی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے اور ان کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام بزار اور امام طبرانی کے استادوں کا معاملہ مختلف ہے اور وہ دونوں ثقہ ہیں ۔

17874

Majma al-Zawaid #17874

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ وَامْرَأَةٌ لَهُ فِي السَّلَفِ الْخَالِي، لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ، فَجَاءَ الرَّجُلُ مِنْ سَفَرِهِ فَدَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ جَائِعًا، قَدْ أَصَابَتْهُ مَسْغَبَةٌ شَدِيدَةٌ، فَقَالَ لِامْرَأَتِهِ: عِنْدَكَ شَيْءٌ؟ قَالَتْ: أَبْشِرْ قَدْ أَتَاكَ رِزْقُ اللَّهِ، فَاسْتَحَثَّهَا وَقَالَ: ابْتَغِي وَيْحَكِ، إِنْ كَانَ عِنْدَكِ شَيْءٌ، فَقَالَتْ: نَعَمْ. هُنَيْهَةً نَرْجُو رَحْمَةَ اللَّهِ، حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيْهِ الطَّوْلُ قَالَ: وَيْحَكِ قُومِي، فَابْتَغِي إِنْ كَانَ عِنْدَكِ خُبْزٌ فَائْتِينِي بِهِ ; فَإِنِّي قَدْ أَبْلَغْتُ وَجَهِدْتُ، قَدْ أَبْلَغْتُ وَجَهِدْتُ، فَقَالَتْ: نَعَمْ. الْآنَ نَنْضَحُ التَّنُّورَ فَلَا تَعْجَلْ، فَلَمَّا أَنْ سَكَتَ عَنْهَا [سَاعَةً] وَتَحَيَّنَتْ أَيْضًا أَنْ يَقُولَ [لَهَا]: قَالَتْ هِيَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهَا: لَوْ قُمْتُ فَنَظَرْتُ إِلَى تَنُّورِي، فَقَامَتْ فَوَجَدَتْ تَنُّورَهَا مَلْآنَ جُنُوبَ الْغَنَمِ، وَرَحْيَتُهَا تَطْحَنُ، فَقَامَتْ إِلَى الرَّحَى فَنَقَضَتْهَا، وَاسْتَجَرَتْ مَا فِي التَّنُّورِ مِنْ جُنُوبِ الْغَنَمِ. فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي الْقَاسِمِ بِيَدِهِ، عَنْ قَوْلِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ أَخَذَتْ مَا فِي رَحْيَتِهَا وَلَمْ نَنْقُضْهَا لَطَحَنَتْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayrah رضي الله عنه narrated that a man of earlier times returned from travel hungry and severely famished, his wife delayed him with hope in Allah's mercy, then found her oven filled with roasted lamb and her millstone grinding; she stopped the stone and removed the meat, and the Prophet ﷺ said that had she left what was in her millstone without breaking it, it would have ground until the Day of Resurrection. > **"Had she taken what was in her millstone and not broken it, it would have ground until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک شخص اور اس کی بیوی خالی گھر میں تھے ان کے پاس ( کھانے کے لئے ) کوئی بھی چیز نہیں تھی وہ شخص سفر سے آیا تھا وہ اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ بھوکا تھا اسے شدید بھوک لگی ہوئی تھی اس نے اپنی بیوی سے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ اس عورت نے جواب دیا : جی ہاں ! آپ یہ خوشخبری قبول کریں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو رزق دیا ہے ، اس شخص نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو ، اگر تمہارے پاس کوئی چیز ہے تو مجھے لا کر دو ! اس عورت نے کہا : اچھا تھوڑی دیر ہمیں اللہ کی رحمت سے امید ہے ، جب زیادہ دیر گزر گئی ، تو اس شخص نے کہا : تمہارا ستیاناس ہو ، تم اُٹھو اور اگر روٹی ہے تو میرے لیے لے کر آؤ ، کیونکہ مجھے شدید بھوک لاحق ہو چکی ہے ، اس عورت نے کہا : اچھا میں نے ابھی تنور جلایا ہے ، آپ جلدی نہ کریں ، جب کچھ دیر تک اس شخص نے اس عورت کو کچھ نہیں کہا ، اور پھر وہ وقت ہوا کہ وہ عورت کو کچھ کہتا ، تو اس عورت نے سوچا اگر میں اُٹھ کر اپنے تنور کا جائزہ لوں ، تو یہ مناسب ہو گا ، وہ اٹھی تو اس نے اپنے تنور کو پایا کہ اس میں بکری کے پہلو کا گوشت بھرا ہوا تھا ، اور عورت کی چکی آٹا پیس رہی تھی ، وہ چکی کے پاس گئی ، اس نے اس چکی کو روکا اور تنور میں سے بکری کے پہلو کا گوشت نکالا ۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں حضرت ابوالقاسم ﷺ کی جان ہے ، نبی اکرم ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : اگر وہ عورت اس چکی کو نہ روکتی ، تو وہ چکی قیامت کے دن تک آٹا پیستی رہتی ۔‘‘

17875

Majma al-Zawaid #17875

عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَحَدُ بَنِي سُلَيْمٍ - وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ رَأَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَبْتَلِي عَبْدَهُ بِمَا أَعْطَاهُ، فَمَنْ رَضِيَ بِمَا قُسِمَ لَهُ، بَارَكَ اللَّهُ [لَهُ] فِيهِ وَوَسِعَهُ، وَمَنْ لَمْ يَرْضَ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-ʿAlāʾ ibn al-Shikhkhīr narrated from a man of Banū Sulaym, whom he believed had seen the Prophet ﷺ, that Allah tests His servant through what He has given him, blessing and expanding it for whoever is content with his portion and withholding blessing from whoever is discontent. > **"Allah tests His servant through what He has given him. Whoever is content with what has been apportioned for him, Allah blesses it for him and expands it, and whoever is not content is not blessed therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوالعلاء بن شخیر بیان کرتے ہیں : بنو سلیم سے تعلق رکھنے والے ، ایک صاحب نے مجھے یہ روایت بیان کی اور ان کے بارے میں میرا یہ خیال ہے کہ ان صاحب نے نبی اکرم ﷺ کی زیارت کی ہوئی ہے ( انہوں نے یہ بات بیان کی : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ بے شک اللہ تعالیٰ بندے کو جو عطا کرتا ہے ، اس کے حوالے سے وہ اس کو آزماتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ نے اُس کے حصے میں جو مقرر کیا ہو ، اگر وہ بندہ اُس سے راضی ہو تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اس چیز میں برکت رکھ دیتا ہے ، اور اس شخص کو گنجائش نصیب کرتا ہے ، اور اگر وہ شخص راضی نہ ہو ، تو اس کے لئے برکت نہیں رکھی جاتی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17876

Majma al-Zawaid #17876

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ لَيَبْتَلِي الْعَبْدَ، لِيَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُ، فَإِنْ رَضِيَ بُورِكَ لَهُ، وَإِنْ لَمْ يَرْضَ لَمْ يُبَارَكْ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ الْمَازِنِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn al-Shikhkhīr رضي الله عنه narrated that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah tests the servant to manifest his conduct, blessing him if he is content and withholding blessing if he is not. > **"Allah indeed tests the servant to see how he acts. If he is content, he is blessed therein, and if he is not content, he is not blessed therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ بندے کو آزماتا ہے تاکہ اس بات کو ظاہر کرے کہ بندہ کیسا عمل کرتا ہے ؟ اگر بندہ راضی ہو ، تو اس کے لئے برکت رکھی جاتی ہے اور اگر بندہ راضی نہ ہو ، تو اس کے لئے برکت نہیں رکھی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعید بن راشد مازنی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17877

Majma al-Zawaid #17877

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: يَا حَبَّذَا الْمَكْرُوهَاتُ: الْمَوْتُ وَالْفَقْرُ، [وَايْمُ اللَّهِ، مَا هُوَ إِلَّا الْغِنَي وَالْفَقْرُ] وَمَا أُبَالِي بِأَيِّهِمَا ابْتُلِيتُ، [لِأَنَّ حَقَّ اللَّهِ فِي كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَاجِبٌ] إِنْ كَانَ الْغِنَى إِنَّ فِيهِ الْعَطْفَ، وَإِنْ كَانَ الْفَقْرُ إِنَّ فِيهِ لَلصَّبْرَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه said how excellent are the disliked things, death and poverty, for he would not care by which of richness or poverty he is tested, since Allah's due stands in each: kindness in richness and patience in poverty. How excellent are the disliked things: death and poverty. By Allah, it is only richness and poverty, and I do not care by which of the two I am tested, for the due of Allah is binding in each one of them: in richness there is kindness, and in poverty there is patience.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ناپسندیدہ چیزوں کے کیا کہنے ؟ موت اور غربت ، اللہ کی قسم ! خوشحالی اور غربت میں سے ، میں یہ پرواہ نہیں کروں گا کہ مجھے ان دونوں میں سے ، کس کے حوالے سے آزمائش کا شکار کیا جاتا ہے ؟ کیونکہ ان دونوں میں سے ہر ایک صورت حال میں ، اللہ تعالیٰ کا حق واجب ہوتا ہے ، اگر خوشحالی ہو ، تو اس میں مہربانی لازم ہوتی ہے اور اگر غربت ہو ، تو اس میں صبر لازم ہوتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

17878

Majma al-Zawaid #17878

وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: مَا يَضُرُّ امْرَأً مُسْلِمًا عَلَى أَيِّ حَالٍ أَصْبَحَ عَلَيْهَا، أَوْ أَمْسَى لَا تَكُونُ حَزَازَةً فِي نَفْسِهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه also said that no harm befalls a Muslim in whatever state he begins the morning or evening, so long as there is no rancour in his soul. No harm befalls a Muslim person in whatever state he begins the morning or evening, so long as there is no rancour in his soul.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کے حوالے سے یہ روایت بھی منقول ہے : وہ فرماتے ہیں : ’’ مسلمان شخص کو کوئی نقصان نہیں ہوتا ، خواہ اُس کی جو بھی حالت ہو ، اُس کے من میں ( کوئی غصہ یا ) تکلیف نہیں ہوتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

17879

Majma al-Zawaid #17879

عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «اثْنَتَانِ يَكْرَهُهُمَا ابْنُ آدَمَ: الْمَوْتُ، وَالْمَوْتُ خَيْرٌ مِنَ الْفِتْنَةِ، وَيَكْرَهُ قِلَّةَ الْمَالِ، وَقِلَّةُ الْمَالِ أَقَلُّ لِلْحِسَابِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Maḥmūd ibn Labīd رضي الله عنه narrated that the Prophet ﷺ said that the son of Ādam dislikes two things, though death is better than tribulation and little wealth entails less reckoning. > **"There are two things the son of Ādam dislikes: death, though death is better than tribulation; and he dislikes scarcity of wealth, though scarcity of wealth entails less reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دو چیزیں ایسی ہیں ، جنہیں انسان ناپسند کرتا ہے ، موت حالانکہ موت ، فتنے سے بہتر ہے ، اور وہ مال کے کم ہونے کو ناپسند کرتا ہے ، جبکہ مال کم ہو گا ، تو حساب بھی کم دینا پڑے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17880

Majma al-Zawaid #17880

وَعَنْ أَبِي أَسْمَاءَ: أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَبِي ذَرٍّ، وَهُوَ بِالرَّبَذَةِ وَعِنْدَهُ امْرَأَةٌ لَهُ، سَوْدَاءُ بَشِعَةٌ لَيْسَ عَلَيْهَا أَثَرُ الْمَجَاسِدِ، وَلَا الْخَلُوقِ، فَقَالَ: أَلَا تَنْظُرُونَ إِلَى مَا تَأْمُرُنِي بِهِ هَذِهِ السُّوَيْدَاءُ؟ تَأْمُرُنِي أَنْ آتِيَ الْعِرَاقَ، فَإِذَا أَتَيْتُ الْعِرَاقَ مَالُوا عَلَيَّ بِدُنْيَاهُمْ، وَإِنَّ خَلِيلِي - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّ دُونَ جِسْرِ جَهَنَّمَ طَرِيقًا ذَا دَحْضٍ وَمَزَلَّةٍ، وَإِنَّا إِنْ نَأْتِ عَلَيْهِ وَفِي أَحْمَالِنَا اقْتِدَارٌ أَوِ اضْطِمَارٌ أَحْرَى أَنْ نَنْجُوَ مِنْ أَنْ نَأْتِيَ عَلَيْهِ وَنَحْنُ مَوَاقِيرُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ أَنَسٍ، وَأَبِي الدَّرْدَاءِ فِي أَوَاخِرِ الْبَابِ بَعْدَ هَذَا.

EnglishUnverified translation

Abū Asmāʾ narrated that he visited Abū Dharr رضي الله عنه at al-Rabadhah, where Abū Dharr said his wife urged him toward Iraq while its people incline toward the world, whereas his beloved ﷺ had covenanted with him that before the bridge of Hell lies a slippery and treacherous path, and crossing it light-laden offers greater hope of salvation than crossing it heavily burdened. Before the bridge of Hell there is a path full of slipping and stumbling, and that we come upon it while our loads allow sufficiency or leanness gives greater hope of salvation than coming upon it while heavily laden.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواسماء بیان کرتے ہیں : وہ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جو ’’ ربذہ ‘‘ کے مقام پر موجود تھے ، اُن کے پاس ایک سیاہ فام خاتون بیٹھی ہوئی تھی ، جو خراب حلیے میں تھی ، اس نے کوئی زعفران یا خوشبو نہیں لگائی ہوئی تھی ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا تم لوگ دیکھ نہیں رہے ؟ کہ یہ سیاہ فام عورت مجھے کیا کہتی ہے ؟ یہ مجھے کہتی ہے کہ میں عراق چلا جاؤں ، اگر میں عراق چلا جاتا ہوں ، تو وہاں کے لوگ تو اپنی دنیا کی طرف مائل ہو چکے ہیں اور میرے خلیل علیہ السلام نے مجھے یہ بات بتائی تھی کہ جہنم کے پل سے پہلے ایک راستہ ہے ، جس میں پھسلن اور خرابی ہے اور جب ہم اُس راستے پر آئیں گے ، تو ہمارا وزن کم ہو ، تو نجات کے حصول کے لیے یہ ( تھوڑا وزن ہونا ) اس سے زیادہ موزوں ہو گا کہ جب ہم وہاں پہنچیں تو ہم بوجھل ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث آگے چل کر آخری ابواب میں آئے گی ۔