وَعَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ: «تَمَشَّى مَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَكَّةَ، وَهُوَ صَائِمٌ، فَأَجْهَدَهُ الصَّوْمُ، فَحَلَبْنَا لَهُ نَاقَةً لَنَا فِي قَعْبٍ، وَصَبَبْنَا عَلَيْهِ عَسَلًا نُكْرِمُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ فِطْرِهِ، فَلَمَّا غَابَتِ الشَّمْسُ نَاوَلْنَاهُ الْقَعْبَ، فَلَمَّا ذَاقَهُ قَالَ بِيَدِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: "" مَا هَذَا؟! "" قُلْنَا: لَبَنًا وَعَسَلًا، أَرَدْنَا نُكْرِمُكَ بِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - "" أَكْرَمَكَ اللَّهُ بِمَا أَكْرَمْتَنِي». أَوْ دَعْوَةً هَذِهِ مَعْنَاهَا، ثُمَّ قَالَ: «مَنِ اقْتَصَدَ أَغْنَاهُ اللَّهُ، وَمَنْ بَذَرَ أَفْقَرَهُ اللَّهُ، وَمَنْ تَوَاضَعَ رَفَعَهُ اللَّهُ، وَمَنْ تَجَبَّرَ قَصَمَهُ اللَّهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مِمَّنْ أَعْرِفُهُ اثْنَانِ.
EnglishUnverified translation
Ṭalḥa ibn ʿUbayd Allāh, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ walked with them at Mecca while fasting, and fasting exhausted him, so they milked a camel of theirs into a bowl and poured honey over it to honour the Messenger of Allāh ﷺ at his breaking; at sunset they handed him the bowl, and upon tasting he gestured as if saying what is this; they said milk and honey to honour him — honour may Allāh honour him, or a supplication to that meaning — then he said whoever economises, Allāh enriches him; whoever squanders, Allāh impoverishes him; whoever is humble, Allāh raises him; and whoever tyrannises, Allāh crushes him. > **"Whoever economises, Allāh enriches him; whoever squanders, Allāh impoverishes him; whoever is humble, Allāh raises him; and whoever tyrannises, Allāh crushes him."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمارے ساتھ پیدل چلتے ہوئے جا رہے تھے ، آپ ﷺ نے روزہ رکھا ہوا تھا ، روزے کی وجہ سے آپ کو مشکل تھی ، ہم نے آپ کے لیے اپنی اونٹنی کا دودھ ایک پیالے میں دوہ لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ کی افطاری کے اہتمام کے لیے ہم نے اس میں شہد ملا دیا ، جب سورج غروب ہوا تو وہ پیالہ ہم نے آپ کی خدمت میں پیش کیا ، جب آپ نے اسے چکھا تو آپ نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے دریافت کیا : یہ کیا ہے ؟ ہم نے عرض کی : دودھ اور شہد ہے ، ہم نے اس کے ذریعے آپ کے لئے اہتمام کرنا چاہا تھا ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے : روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اللہ تعالیٰ تمہاری عزت افزائی کرے ، جس طرح تم نے میری عزت افزائی کی ہے ۔‘‘ یا اس کی مانند کوئی اور دعائیہ کلمات آپ ﷺ نے ارشاد فرمائے ، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ جو شخص میانہ روی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے خوش حال کر دیتا ہے ، جو شخص فضول خرچی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے غریب کر دیتا ہے ، جو شخص تواضع اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے بلندی نصیب کرتا ہے ، جو شخص تکبر کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں دو افراد ایسے ہیں ، جن سے میں واقف ہوں ۔