Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 4

Book of Asceticism

Hadith 17761–17800

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17761

Majma al-Zawaid #17761

وَفِي رِوَايَةٍ: «مَا بَيْنَ الْخَمْسَةِ إِلَى السَّبْعَةِ أَوِ الثَّمَانِيَةِ إِلَى التِّسْعَةِ أُنْفِقُهَا». رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In another wording: between five and seven, or eight and nine — I shall spend them. > **"Between five and seven, or eight and nine — I shall spend them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ وہ پانچ سے لے کر سات تک تھے ‘‘ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ’’ آٹھ سے لے کر نو تک تھے ، جنہیں خرچ کرنا تھا ۔‘‘ یہ تمام روایات امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں اور ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17762

Majma al-Zawaid #17762

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: «كُنْتُ مَعَ أَبِي ذَرٍّ فَخَرَجَ عَطَاؤُهُ وَمَعَهُ جَارِيَةٌ لَهُ، قَالَ: فَجَعَلَتْ تَقْضِي حَوَائِجَهُ، فَفَضَلَ مِنْهَا سَبْعَةٌ، فَأَمَرَهَا أَنْ تَشْتَرِيَ بِهَا فُلُوسًا، قَالَ: قُلْتُ: لَوْ أَخَّرْتَهُ لِلْحَاجَّةِ تَنُوبُكَ، أَوْ لِلضَّيْفِ يَنْزِلُ بِكَ، قَالَ: إِنَّ خَلِيلِي عَهِدَ إِلَيَّ أَنَّ: أَيُّمَا ذَهَبٍ أَوْ فِضَّةٍ أُوَلِّي عَلَيْهِ فَهُوَ جَمْرٌ عَلَى صَاحِبِهِ حَتَّى يُفْرِغَهُ إِفْرَاغًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ» -. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn al-Ṣāmit reported that he was with Abū Dharr, may Allāh be pleased with him, when his stipend came with his slave-girl attending to his needs, leaving seven, which he ordered her to exchange for coppers; asked why not reserve it for need or guest, he said his close friend covenanted to him that any gold or silver one holds over is ember upon its owner until he pours it forth in Allāh's path. > **"My close friend covenanted to me that any gold or silver one holds over is ember upon its owner until he pours it forth in Allāh's path."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، انہیں تنخواہ ملی ، اُن کے ساتھ ان کی کنیز تھی ، اس کنیز نے ادائیگیاں کرنی شروع کر دیں ، تو سات باقی بچ گئے ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے اس کنیز کو یہ ہدایت کی : کہ وہ ان کے ذریعہ سکے خریدے ، راوی کہتے ہیں : میں نے کہا : اگر آپ انہیں کسی پیش آنے والی ضرورت کے لئے یا کسی آنے والے مہمان کے لیے سنبھال کے رکھ لیں ، تو یہ مناسب ہو گا ، حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے خلیل علیہ السلام ( یعنی نبی اکرم ﷺ ) نے مجھے یہ تلقین کی تھی ، جس شخص کو سونا یا چاندی ملتا ہے ، تو وہ اپنے متعلقہ فرد کے لئے انگارہ ہوتا ہے ، جب تک وہ شخص اُسے اللہ کی راہ میں تقسیم نہیں کر دیتا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17763

Majma al-Zawaid #17763

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: «أَكْثَرُ مَا أَتَى بِهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخَرِيطَةٍ فِيهَا ثَمَانُمِائَةِ دِرْهَمٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُوسَى بْنِ جُبَيْرٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salama, may Allāh be pleased with her, reported that the most the Messenger of Allāh ﷺ brought was a purse containing eight hundred dirhams. > **"The most the Messenger of Allāh ﷺ brought was a purse containing eight hundred dirhams."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ کے پاس جو سب سے زیادہ رقم آئی وہ ایک تھیلی تھی جس میں آٹھ سو درہم تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف موسیٰ بن زبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17764

Majma al-Zawaid #17764

وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ دِرْهَمَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيَّتَانِ، صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ: عَبْدُ اللَّهِ، وَقَالَ: دِينَارًا أَوْ دِرْهَمًا. وَالْبَزَّارُ كَذَلِكَ، وَفِيهِ عُتَيْبَةُ الضَّرِيرُ، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAlī, may Allāh be pleased with him, reported that a man of the Bench died leaving two dīnārs or two dirhams, so the Messenger of Allāh ﷺ said two brands — pray for your companion. > **"Two brands — pray for your companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا انتقال ہو گیا ، اس نے دو دینار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو درہم چھوڑے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والے دو ہیں ، تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو ۔ یہ روایت امام احمد نے اور ان کے صاحبزادے عبداللہ نے نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :” دینار یا شاید درہم ۔‘‘ امام بزار نے بھی اسے اسی طرح نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عتیبہ ضریر ہے اور وہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17765

Majma al-Zawaid #17765

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَوَجَدُوا فِي شَمْلَتِهِ دِينَارَيْنِ، فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" كَيَّتَانِ صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh, meaning Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that a man of the Bench died and two dīnārs were found in his wrap, so they mentioned it to the Prophet ﷺ who said two brands — pray for your companion. > **"Two brands — pray for your companion."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا انتقال ہو گیا ، لوگوں نے اس کے کپڑے میں دو دینار پائے ، انہوں نے اس بات کا ذکر نبی اکرم ﷺ سے کیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ، تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو ! یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن بہدلہ ہے جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17766

Majma al-Zawaid #17766

وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ: «لَحِقَ بِالنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبْدٌ أَسْوَدُ فَمَاتَ، فَأُوذِنَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" انْظُرُوا هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ "". فَقَالُوا: تَرَكَ دِينَارَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيَّتَانِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Also from Ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, that a black servant joined the Prophet ﷺ then died, so the Prophet ﷺ was informed and asked to see whether he left anything; they said two dīnārs, so the Prophet ﷺ said two brands. > **"Two brands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان صحابی کے حوالے سے یہ روایت بھی منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک سیاہ فام غلام آ کر نبی اکرم ﷺ سے ملا ، اس کا انتقال ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ کو اس کے بارے میں بتایا گیا ، تو آپ نے فرمایا : تم لوگ اس بات کا جائزہ لو ! کہ کیا اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ لوگوں نے بتایا : دو دینار ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن بہدلہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

17767

Majma al-Zawaid #17767

وَعَنْ سَلَمَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْأَكْوَعِ - قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأُتِيَ بِجَنَازَةٍ، ثُمَّ أُتِيَ بِأُخْرَى قَالَ: "" هَلْ تَرَكَ مِنْ دَيْنٍ؟ "". قَالُوا: لَا. قَالَ: "" فَهَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟ "". قَالُوا: نَعَمْ. ثَلَاثَةُ الدَّنَانِيرِ، قَالَ: فَقَالَ بِإِصْبَعِهِ ثَلَاثَ كَيَّاتٍ». رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Salama, meaning Ibn al-Akwaʿ, may Allāh be pleased with him, reported that he sat with the Prophet ﷺ when one bier came, then another; he asked whether the deceased left debt, they said no; whether he left anything, they said yes, three dīnārs; so he gestured with his finger: three brands. > **"Three brands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران ایک جنازہ لایا گیا ، پھر ایک اور جنازہ لایا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس نے کوئی قرض چھوڑا ہے ؟ ( یعنی ایسا قرض جو ادا کرنا اس کے ذمہ ہو ؟ ) لوگوں نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اس نے کوئی چیز چھوڑی ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تین دینار ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے اپنی انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے فرمایا کہ یہ داغ لگانے والی تین چیزیں ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17768

Majma al-Zawaid #17768

وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ تَرَكَ دِينَارًا فَهُوَ كَيَّةٌ». وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَيَعْتَضِدُ حَدِيثُهُ بِمَا تَقَدَّمَ مِنْ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Prophet ﷺ say whoever leaves a dīnār, it is a brand. > **"Whoever leaves a dīnār, it is a brand."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ایک دینار چھوڑے ، تو یہ داغ لگانے والی ایک چیز ہے ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس سے پہلے والی حدیث اس کو مضبوط کرتی ہے ، جس کے مختلف طرق گزر چکے ہیں ، اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17769

Majma al-Zawaid #17769

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْحِمْصِيِّ قَالَ: «تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ، فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ دِينَارٌ ; فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيَّةٌ "". قَالَ: ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ فَوُجِدَ فِي مِئْزَرِهِ دِينَارَانِ، فَقَالَ: "" يَعْنِي كَيَّةٌ أَوْ كَيَّتَانِ».

EnglishUnverified translation

Abū Umāma al-Ḥimṣī, may Allāh be pleased with him, reported that a man of the Bench died and a dīnār was found in his waist-wrap, so the Messenger of Allāh ﷺ said a brand; then another died and two dīnārs were found, so he said a brand or two brands. > **"A brand — a brand or two brands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ حمصی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اہل صفہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے تہبند میں سے ایک دینار ملا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی ایک چیز ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ایک اور شخص کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے تہبند میں سے دو دینار ملے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔

17770

Majma al-Zawaid #17770

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجُلٍ تُوُفِّيَ وَتَرَكَ دِينَارًا أَوْ دِينَارَيْنِ فَقَالَ: يَعْنِي كَيَّةً أَوْ كَيَّتَانِ. رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ بَعْضِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

In another wording from him the Messenger of Allāh ﷺ said concerning a man who died leaving one or two dīnārs: a brand or two brands. > **"A brand or two brands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اُن کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : جس شخص کا انتقال ہوا تھا ، اور اس نے ایک دینار یا شاید دو دینار چھوڑے تھے ، اس کے بارے میں نبی اکرم ﷺ نے یہ فرمایا تھا : یہ داغ لگانے والی ایک چیز ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو چیزیں ہیں ۔ یہ تمام روایات امام احمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ، جن میں سے بعض کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف شہر بن حوشب کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

17771

Majma al-Zawaid #17771

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ أَعْرَابِيًّا غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَيْبَرَ، فَأَصَابَهُ مِنْ سَهْمِهِ دِينَارَانِ، فَأَخْذَهُمَا الْأَعْرَابِيُّ فَجَعَلَهُمَا فِي عَبَاءَتِهِ فَخَيَّطَ عَلَيْهِمَا وَلَفَّ عَلَيْهِمَا، فَمَاتَ الْأَعْرَابِيُّ فَوُجِدَ الدِّينَارَانِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" كَيَّتَانِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَقَدِ اعْتُضِدَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported that a Bedouin raided with the Messenger of Allāh ﷺ at Khaybar and received two dīnārs from his share, which he sewed and wrapped in his cloak; when he died the two dīnārs were found and mentioned to the Messenger of Allāh ﷺ, who said two brands. > **"Two brands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نے ، نبی اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ خیبر میں شرکت کی ، اس کے حصے میں دو دینار آئے ، دیہاتی نے وہ لے کر انہیں اپنی عبا میں رکھ کر انہیں اوپر سے سی دیا اور اس کو موڑ دیا ، پھر اس دیہاتی کا انتقال ہو گیا ، پھر وہ دونوں دینار مل گئے ، اس کا تذکرہ نبی اکرم ﷺ سے کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو چیزیں ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، یہ روایت مضبوط ہو جاتی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17772

Majma al-Zawaid #17772

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى عَلَى رَجُلِ تَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" كَيَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ prayed over a man who left two or three dīnārs, and the Prophet ﷺ said two brands or three. > **"Two brands or three."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ایک شخص کی نماز جنازہ پڑھائی ، اُس شخص نے دو یا شاید تین دینار چھوڑے تھے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہ داغ لگانے والی دو ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) تین چیزیں ہیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، یہ روایت امام بزار نے حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

17773

Majma al-Zawaid #17773

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «أُتِيَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَحْنُ عِنْدَهُ فَقِيلَ لَهُ: تُوُفِّيَ فُلَانٌ وَتَرَكَ دِينَارَيْنِ أَوْ دِرْهَمَيْنِ، فَقَالَ: "" كَيَّتَانِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ فِي صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ فِي آخِرِ الزَّكَاةِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported that Allāh's Prophet ﷺ was brought news while they were with him that so-and-so died leaving two dīnārs or two dirhams, so he said two brands. > **"Two brands."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، اسی دوران کوئی شخص آیا اور آپ کو یہ بتایا گیا کہ فلاں شخص کا انتقال ہو گیا ہے اور اس نے دو دینار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) دو درہم چھوڑے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : داغ لگانے والی دو چیزیں ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شریک بن عبداللہ نخعی ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس مضمون سے متعلق کچھ روایات کتاب الزکوۃ کے آخر میں ، نفلی صدقہ کے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

17774

Majma al-Zawaid #17774

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «أَهْدَيْتُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ طَوَائِرَ، فَأَطْعَمَ خَادِمَهُ طَائِرًا، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ بِهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَمْ أَنْهَكِ أَنْ تَرْفَعِي شَيْئًا لِغَدٍ ; فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَأْتِي بِرِزْقِ كُلِّ غَدٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that he gifted the Prophet ﷺ three birds, who fed his servant one bird; next day she brought them, so the Messenger of Allāh ﷺ asked had he not forbidden her to store anything for tomorrow, for Allāh brings the provision of each morrow. > **"Did I not forbid you to store anything for tomorrow, for Allāh brings the provision of each morrow?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کو تین پرندے تحفے کے طور پر دیے گئے ، آپ نے ایک پرندہ اپنی خادمہ کو کھانے کے لئے دے دیا ، اگلے دن وہ خادمہ اس پرندے کا گوشت لے کر آئی ، تو نبی اکرم ﷺ نے اس سے فرمایا : کیا میں نے تمہیں اس سے منع نہیں کیا تھا ؟ کہ تم نے کل کے لیے کوئی چیز نہیں رکھنی ہے ، اللہ تعالیٰ ہر آنے والی کل کا رزق عطا کر دے گا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

17775

Majma al-Zawaid #17775

وَعَنْ بِلَالٍ قَالَ: «دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعِنْدِي شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ: " مَا هَذَا؟ ". فَقُلْتُ: ادَّخَرْنَاهُ لِشِتَائِنَا. فَقَالَ: " مَا تَخَافُ أَنْ تَرَى لَهُ بُخَارًا فِي جَهَنَّمَ؟».

EnglishUnverified translation

Bilāl, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ entered while he had dates, asking what they were; he said stored for their winter, so he said do you not fear seeing its steam in Hell. > **"Do you not fear seeing its steam in Hell?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بلال رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ گھر تشریف لائے ، میرے پاس کچھ کھجوریں تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ میں نے عرض کی : یہ ہم نے رات کے کھانے کے لئے سنبھال کے رکھی تھیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں یہ خوف نہیں ہوا کہ تم اس کی وجہ سے جہنم میں بخار ( یعنی تپش ) کو دیکھ لو گے ۔

17776

Majma al-Zawaid #17776

وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَطْعِمْنَا يَا بِلَالُ، تَمْرًا "". فَقَبَضْتُ لَهُ قَبَضَاتٍ، فَقَالَ: "" زِدْنَا بِلَالُ "". فَزِدْتُهُ ثَلَاثًا فَقُلْتُ: لَمْ يَبْقَ شَيْءٌ إِلَّا شَيْءٌ ادَّخَرْتُهُ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ مَالٍ. وَفِي رِوَايَةِ الطَّبَرَانِيِّ الْأُولَى وَالْبَزَّارِ: مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زَبَالَةَ، وَفِي الثَّانِيَةِ: طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ، قَالَ الْبَزَّارُ: الصَّوَابُ فِيهِ عَنْ مَسْرُوقٍ ; أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى بِلَالٍ.

EnglishUnverified translation

In another wording the Messenger of Allāh ﷺ said feed us dates, O Bilāl, so he scooped handfuls, and he said more, O Bilāl, and he added three, saying nothing remained except what he stored for the Prophet ﷺ, so he said spend, O Bilāl, and fear no lessening from the Owner of the Throne. > **"Spend, O Bilāl, and fear no lessening from the Owner of the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے بلال ! ہمیں کھانے کے لیے کھجوریں دو ، تو انہوں نے کچھ مٹھیاں آپ کو دیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے بلال ! ہمیں مزید دو ! حضرت بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے تین مرتبہ آپ کو مزید دیں ، پھر میں نے عرض کی : اب صرف وہ چیز باقی رہ گئی ہے ، جو میں نے نبی اکرم ﷺ کے لیے سنبھال کے رکھی ہے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے بلال ! تم خرچ کرو ، اور عرش والی ذات کی طرف سے کسی کمی کا اندیشہ نہ رکھو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کو اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ اُن کے پاس مال کا ڈھیر تھا ۔‘‘ امام طبرانی کی پہلی روایت میں اور امام بزار کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ ہے اور دوسری روایت میں ایک راوی طلحہ بن زید قرشی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ، امام بزار کہتے ہیں : اس میں درست یہ ہے کہ مسروق سے یہ روایت منقول ہے : نبی اکرم ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ......۔

17777

Majma al-Zawaid #17777

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بِلَالٍ، وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ «: "" مَا هَذَا يَا بِلَالُ؟ "". قَالَ: أُعِدُّ ذَلِكَ لِأَضْيَافِكَ، فَقَالَ: "" أَمَا تَخْشَى أَنْ يَكُونَ لَهُ دُخَانٌ فِي نَارِ جَهَنَّمَ، أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ entered upon Bilāl, may Allāh be pleased with him, finding heaps of dates, asking what they were, O Bilāl; he said prepared for his guests, so he said do you not fear their smoke in Hell's fire — spend, O Bilāl, and fear no lessening from the Owner of the Throne. > **"Spend, O Bilāl, and fear no lessening from the Owner of the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : اے بلال ! یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : یہ میں نے آپ کے مہمانوں کے لیے تیار رکھی ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ نہیں ہوا ؟ کہ اس کی وجہ سے جہنم میں دھواں ہو سکتا ہے ؟ اے بلال ! تم خرچ کرو ، اور عرش والی ذات کی طرف سے کسی کمی کا اندیشہ نہ رکھو ! یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ، البتہ امام طبرانی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں :’’ کیا تمہیں اس سے ڈر نہیں لگا کہ کہ یہ تمہارے لئے بخار ( یعنی تپش ) بن جائے ۔‘‘

17778

Majma al-Zawaid #17778

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ: "" مَا هَذَا؟ "". قَالَ: أَدَّخِرُهُ، قَالَ: "" أَمَا تَخْشَى أَنْ تَرَى لَهُ بُخَارًا فِي نَارِ جَهَنَّمَ، أَنْفِقْ بِلَالُ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ entered upon Bilāl finding heaps of dates, asking what they were; he said he stores them, so he said do you not fear seeing their steam in Hell's fire — spend, O Bilāl, and fear no lessening from the Owner of the Throne. > **"Spend, O Bilāl, and fear no lessening from the Owner of the Throne."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، اس وقت ان کے پاس کھجوروں کا ڈھیر موجود تھا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ انہوں نے عرض کی : یہ میں نے سنبھال کے رکھی ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں اس بات سے ڈر نہیں لگتا ؟ کہ تم اس کی وجہ سے جہنم کی آگ میں بخار ( یعنی تپش ) دیکھو ، تم عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ رکھو ۔ یہ روایت امام بزار ، امام ابویعلیٰ نے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17779

Majma al-Zawaid #17779

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: «مَا عِنْدِي شَيْءٌ أُعْطِيكَ، وَلَكِنِ اسْتَقْرِضْ حَتَّى يَأْتِيَنَا شَيْءٌ فَنُعْطِيكَ "". فَقَالَ عُمَرُ: مَا كَلَّفَكَ اللَّهُ هَذَا، أَعْطَيْتَ مَا عِنْدَكَ، فَإِذَا لَمْ يَكُنْ عِنْدَكَ فَلَا تُكَلَّفُ، قَالَ: فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَوْلَ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - حَتَّى عُرِفَ فِي وَجْهِهِ. فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي وَأُمِّي أَنْتَ، فَأَعْطِ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا. قَالَ: فَتَبَسَّمَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" بِهَذَا أُمِرْتُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: يُخْطِئُ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, may Allāh be pleased with him, reported that a man came to the Prophet ﷺ saying he had nothing to give, but borrow until something comes and they give him; ʿUmar said Allāh did not burden him thus — give what you have, and when you have not, you are not burdened; the Messenger of Allāh ﷺ disliked ʿUmar's words until seen in his face, so the man said O Messenger of Allāh, may father and mother be ransom for you, give and fear no lessening from the Owner of the Throne; the Prophet ﷺ smiled and said by this he was commanded. > **"Give and fear no lessening from the Owner of the Throne — by this I was commanded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ( اس نے آپ سے کچھ مانگا ) تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے پاس ابھی دینے کے لئے کچھ نہیں ہے ، تم قرض لے لو ، جب ہمارے پاس کچھ آئے گا ، تو ہم تمہیں ادائیگی کر دیں گے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس کا پابند نہیں کیا ہے ، آپ کے پاس اگر ہو تو عطا کر دیں ، اور جب آپ کے پاس نہ ہو ، تو آپ تکلف سے کام نہ لیں ، راوی بیان کرتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی بات نبی اکرم ﷺ کو پسند نہیں آئی اور اس کا اندازہ آپ کے چہرہ مبارک سے ہو گیا ، تو ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ عطا کرتے رہیں اور عرش والی ذات کی طرف سے کسی کمی کا اندیشہ نہ رکھیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ مسکرا دیے اور آپ نے ارشاد فرمایا :’’ مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم حنینی ہے جسے جمہور نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ۔

17780

Majma al-Zawaid #17780

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ كُلَّمَا صَلَّى صَلَاةً جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ كَلَّمَهُ وَإِلَّا قَامَ، فَحَضَرْتُ الْبَابَ يَوْمًا فَقُلْتُ: يَا يَرْفَأُ، فَخَرَجَ وَإِذَا عُثْمَانُ بِالْبَابِ، فَخَرَجَ يَرْفَأُ، فَقَالَ: قُمْ يَا ابْنَ عَفَّانَ، قُمْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ وَعِنْدَهُ صُبُرٌ مِنْ مَالٍ. فَقَالَ: إِنِّي نَظَرْتُ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَرَأَيْتُكُمَا مِنْ أَكْثَرِ أَهْلِهَا عَشِيرَةً، فَخُذَا هَذَا الْمَالَ فَاقْسِمَاهُ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ فَضْلٌ فَرُدَّا، قُلْتُ: وَإِنْ كَانَ نُقْصَانًا زِدْتَنَا؟ فَقَالَ: شِنْشِنَةُ مِنْ أَخْشَنَ، قَدْ عَلِمْتُ «أَنَّ مُحَمَّدًا وَأَهْلَهُ كَانُوا يَأْكُلُونَ الْقِدَّ»، قُلْتُ: بَلَى. وَاللَّهِ، لَوْ فَتَحَ اللَّهُ هَذَا عَلَى مُحَمَّدٍ لَصَنَعَ فِيهِ غَيْرَ مَا صَنَعْتَ، فَغَضِبَ وَانْتَشَجَ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَضْلَاعُهُ، وَقَالَ: إِذًا صَنَعَ فِيهِ مَاذَا؟ قُلْتُ: إِذًا أَكَلَ وَأَطْعَمَنَا، فَسُرِّيَ عَنْهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, may Allāh be pleased with him, after each prayer sat for people, and one day Ibn ʿAbbās and ʿUthmān, may Allāh be pleased with them, entered to find heaps of wealth; ʿUmar said he saw them among Madīna's largest clans and told them to take and divide it, returning surplus; asked whether he would add if deficient, he said a trace from a rough one, recalling that Muḥammad and his household ate dried meat; Ibn ʿAbbās swore had Allāh opened this for Muḥammad he would have dealt otherwise, so ʿUmar grew angry until his ribs shook, asking how, and he said he would have eaten and fed them, whereupon his anger lifted. > **"Had Allāh opened this for Muḥammad, he would have eaten and fed us."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جب بھی نماز ادا کر لیتے تھے تو لوگوں کے لئے بیٹھ جاتے تھے ، جس کو اُن سے کوئی کام ہوتا تھا ، اس کے ساتھ وہ بات چیت کر لیتے تھے ، ورنہ اُٹھ جاتے تھے ، ایک دن میں ان کے دروازے پر آیا ، میں نے کہا : پر یرفا ! وہ ( خادم ) نکل کر باہر آیا ، دروازے پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، پھر یرفا باہر آیا اور اس نے کہا : اے ابن عفان ! آپ اُٹھ جائیں ، اے ابن عباس ! آپ اُٹھ جائیں ( یعنی آپ دونوں اندر تشریف لے آئیں ) ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ان کے پاس مال کا ڈھیر موجود تھا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اہل مدینہ کا جائزہ لیا ، تو میں نے یہ دیکھا کہ تم دونوں کے خاندان کے ( تمہارے زیر کفالت افراد ) زیادہ ہیں ، تو تم دونوں یہ مال لے لو اور اسے تقسیم کر لو ! اگر اس میں سے بیچ گیا ، تو وہ تم دونوں واپس کر دینا ، میں نے کہا : اگر یہ کم ہوا تو آپ ہمیں مزید دیں گے ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پرانا کھردرا مشکیزہ ، میں یہ بات جانتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ اور اُن کے اہل خانہ تھوڑی سی مقدار کھایا کرتے تھے ، میں نے کہا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! اگر اللہ تعالیٰ نے اتنی فتوحات حضرت محمد ﷺ کو عطا کی ہوتیں ، تو انہوں نے اس بارے میں اس سے مختلف طرز عمل اختیار کرنا تھا جو آپ نے اختیار کیا ہے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور ان کا جسم لرزنے لگا ، انہوں نے فرمایا : نبی اکرم ﷺ نے کیا کرنا تھا ؟ میں نے کہا : آپ ﷺ نے خود بھی کھانا تھا اور ہمیں بھی کھلانا تھا ، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غصہ ختم ہو گیا ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17781

Majma al-Zawaid #17781

وَعَنِ الْحَسَنِ: «أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ لَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمَالُ الَّذِي لَا يَكُونُ عَلَيَّ فِيهِ تَبِعَةٌ مِنْ ضَيْفٍ، أَوْ عِيَالٍ وَإِنْ كَثُرُوا؟ قَالَ: "" نِعْمَ الْمَالُ الْأَرْبَعُونَ، وَإِنْ كَثُرَتْ فَسِتُّونَ، وَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينَ - يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا - إِلَّا مَنْ أَعْطَى فِي رِسْلِهَا وَنَجْدَتِهَا، وَأَفْقَرَ ظَهْرَهَا، وَأَطْرَقَ فَحْلَهَا، وَنَحَرَ سَمِينَهَا، وَمَنَحَ غَزِيرَتَهَا، وَأَطْعَمَ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَكْرَمَ هَذِهِ الْأَخْلَاقُ وَأَحْسَنَهَا! قَالَ: "" كَيْفَ تَصْنَعُ بِالْمَنِيحَةِ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: لَأَمْنَحُ كُلَّ سَنَةٍ مِائَةً، قَالَ: "" كَيْفَ تَصْنَعُ بِالْإِفْقَارِ؟ "". قَالَ: إِنِّي لَا أُفْقِرُ الْبِكْرَ الضَّرْعَ، وَلَا النَّابَ الْمُدَبَّرَةَ. قَالَ: "" كَيْفَ تَصْنَعُ بِالطَّرُوقَةِ؟ "". قُلْتُ: تَغْدُوَ الْإِبِلَ وَيَغْدُوَ النَّاسُ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِرَأْسِ بَعِيرٍ فَذَهَبَ بِهِ. قَالَ: "" مَالُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مَالُ مُوَالِيكَ؟ "". قُلْتُ: لَا. بَلْ مَالِي، قَالَ: "" فَمَا لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ أَعْطَيْتَ فَأَمْضَيْتَ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَكَذَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ، لَئِنْ بَقِيتُ لَأُقِلَّنَّ عَدَدَهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُرْسَلًا، وَقَدْ رَوَاهُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ مُتَّصِلًا، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي مَنَاقِبِهِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥasan reported that when Qays ibn ʿĀṣim came to the Messenger of Allāh ﷺ he said this is the chief of the desert folk; Qays asked O Messenger of Allāh, what wealth bears no liability for guest or dependents however many? He said excellent wealth is forty, and if many then sixty, and woe to owners of hundreds — thrice — except whoever gives from its milk and aid, lends its back, offers its stallion, slaughters its fat, grants its rich-milked, and feeds the content and the petitioner; Qays admired such morals and was asked how he deals with gifts, lending, and studding, replying he grants a hundred yearly, lends neither young milch nor worn old, and lets camels go out with people so whoever wills takes a head; asked whether his wealth or his clients' is dearer, he said his own, so he was told one has of his wealth only what he eats and consumes, wears and wears out, or gives and sends forth; Qays asked is it so, he said yes, and Qays swore if he lived he would reduce their number. > **"One has of his wealth only what he eats and consumes, wears and wears out, or gives and sends forth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حسن بیان کرتے ہیں : حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ دیہاتی علاقوں کا سردار ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس مال کا کیا ہو گا ؟ جس کے بارے میں مجھ پر کوئی ضرر ہو ، جس کا واسطہ مہمان یا عیال سے ہو ، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اچھا مال چالیس ( دینار یا درہم ہیں اور اگر وہ زیادہ ہو جائے ، تو ساٹھ ہو جائیں لیکن دو سو والوں کے لئے بربادی ہے ، یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( اور پھر یہ فرمایا : ) البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو تنگی اور خوشحالی ( ہر حال ) میں خرچ کرتا ہے ، اپنی سواری استعمال کے لئے دیتا ہے ، نر جانور کو جفتی کے لئے دیتا ہے ، صحت مند جانور کو قربان کرتا ہے اور اس کا دودھ عطیہ کے طور پر دیتا ہے اور قانع اور فقیر کو کھلاتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اخلاق کتنے معزز اور کتنے عمدہ ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم عطیہ کیسے دیتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں ہر سال ایک سو ( جانور ) عطیہ کے طور پر دیتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم عارضی طور پر سواری کے استعمال کے لیے جانور کیسے دیتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : میں دودھ دینے والا جوان جانور ، یا عمر رسیدہ اونٹنی نہیں دیتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : جفتی کے لیے جانور کیسے دیتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : میرے اونٹ جاتے ہیں لوگ بھی جاتے ہیں ، جو شخص جس اونٹ کا چاہتا ہے ، سر پکڑ کر اسے لے جاتا ہے ، نبی اکرم ﷺ ہم نے دریافت کیا : تمہارا مال تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ یا تمہارے موالی کا مال ( تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ ) میں نے جواب دیا : جی نہیں ! بلکہ میرا مال ( میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے مال میں سے ، تمہارا حصہ وہ ہے جسے تم کھا کر فنا کر دو ، یا پہن کر پرانا کر دو یا ( اللہ کی راہ میں ) دے کر آگے بھیج دو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا اس طرح ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! اگر میں زندہ رہ گیا تو میں ان کی تعداد میں ضرور کمی کروں گا ( یعنی اپنے مال کو اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کروں گا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے انہوں نے اسے متصل روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، لیکن بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور یہ روایت ان کے مناقب سے متعلق باب میں مذکور ہے ۔

17782

Majma al-Zawaid #17782

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مَحَقَ الْإِسْلَامُ مَحْقَ الشُّحِّ شَيْءٌ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said nothing erodes Islam with erosion like stinginess. > **"Nothing erodes Islam with erosion like stinginess."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اسلام کو کوئی بھی چیز اس طرح نہیں مٹاتی ہے جس طرح ( اسلام کو ) بخل مٹاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔

17783

Majma al-Zawaid #17783

وَعَنْ أَبِي الْقَيْنِ: «أَنَّهُ مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَهُ تَمْرٌ عَلَى رَحْلِهِ، فَقَامَ إِلَيْهِ عَمُّهُ، فَأَرَادَ أَنْ يَأْخُذَ مِنْهُ قَبْضَةً لِيَضَعَهَا بَيْنَ يَدَيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَبَطَّحَ عَلَى التَّمْرِ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" اللَّهُمَّ زِدْهُ شُحًّا "". قَالَ: فَكَانَ مِنْ أَشَحِّ النَّاسِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ: أَحَدُهُمَا مُتَّصِلٌ وَهَذَا مَتْنُهُ. وَالْآخَرُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جَمْهَانَ أَنَّ مَوْلَاهُ أَبَا الْقَيْنِ، مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «فَأَهْوَى إِلَيْهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَأْخُذَ مِنْهُ قَبْضَةً يَنْثُرُهَا بَيْنَ يَدَيْ أَصْحَابِهِ». وَرِجَالُ الْمُرْسَلِ وَالْمُسْنَدِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَعِيدِ بْنِ جَمْهَانَ وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَفِيهِ خِلَافٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي السَّخَاءِ وَالْبُخْلِ فِي كِتَابِ صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Qayn reported that he passed the Messenger of Allāh ﷺ with dates upon his mount when his uncle rose to take a handful to place before the Prophet ﷺ, but he sprawled over the dates, so the Prophet ﷺ said O Allāh, increase him in stinginess — and he became among the most miserly of people. > **"O Allāh, increase him in stinginess."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوالقین رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے ، ان کے پاس کچھ کھجوریں تھیں ، اُن کے چچا اُٹھ کر ان کی طرف گئے ان کے چچا کا ارادہ یہ تھا کہ اُن سے مٹھی بھر کھجوریں لے کر نبی اکرم ﷺ کے آگے رکھ دیں گے ، لیکن ان صاحب نے کھجوروں کو سمیٹ لیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! اس کے بخل میں اضافہ فرما ! راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ سب سے زیادہ بخیل شخص تھے ۔ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں میں سے ایک متصل ہے اور یہ اس کا متن ہے ۔ دوسری روایت سعید بن جمہان کے حوالے سے منقول ہے :” اُن کے آقا حضرت ابوالقین رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے پاس سے گزرے ......‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :’’ نبی اکرم ﷺ نے اُن کی طرف ہاتھ بڑھایا تاکہ ان سے مٹھی بھر کھجوریں لے کر وہ اپنے اصحاب کے آگے رکھ دیں ۔‘‘ ’’ مرسل ‘‘ روایت کے رجال اور ’’ مسند ‘‘ روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف سعید بن جمہان کا معاملہ مختلف ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ویسے اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے نفلی صدقہ سے متعلق کتاب میں ، سخاوت اور کنجوسی کے بارے میں احادیث گزر چکی ہیں ۔

17784

Majma al-Zawaid #17784

وَعَنْ نَافِعٍ قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَجُلًا يَقُولُ: «الشَّحِيحُ أَعْذَرُ مِنَ الظَّالِمِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَذَبْتَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" الشَّحِيحُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Nāfiʿ reported that Ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them both, heard a man say the miser is more excusable than the wrongdoer, so Ibn ʿUmar said you lie; he heard the Messenger of Allāh ﷺ say the miser shall not enter Paradise. > **"The miser shall not enter Paradise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

نافع بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا : کنجوس آدمی ظالم سے زیادہ معذور ( یعنی قابل معافی ) ہوتا ہے ، تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی الہ عنہما نے فرمایا : تم نے غلط کہا ہے میں نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ کنجوس جنت میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن مسلمہ قعنبی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17785

Majma al-Zawaid #17785

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ جَدِّي فِي غَنَمٍ كَثِيرَةٍ تُرْضِعُهُ أُمُّهُ فَتَرْوِيهِ، فَانْفَلَتَ يَوْمًا فَرَضَعَ الْغَنَمَ كُلَّهَا، ثُمَّ لَمْ يَشْبَعُ، فَقِيلَ: إِنَّ مِثْلَ هَذَا قَوْمٌ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدِكُمْ يُعْطَى الرَّجُلُ مِنْهُمْ مَا يَكْفِي الْقَبِيلَةَ أَوِ الْأُمَّةَ، ثُمَّ لَا يَشْبَعُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا إِلَّا أَنَّ عَطَاءَ بْنَ السَّائِبِ، اخْتَلَطَ قَبْلَ مَوْتِهِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿAmr, may Allāh be pleased with them both, reported from the Prophet ﷺ that his young goat among many sheep was suckled by its mother satisfying it, then broke loose one day and suckled the whole flock yet was not sated; so it was said the like of this are peoples coming after you, one man given what suffices a tribe or nation yet never sated. > **"The like of this are peoples coming after you: one man among them is given what suffices a tribe or a nation, yet he is never sated."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک بکری کا بچہ تھا ، جو بہت سی بکریوں کے درمیان موجود تھا ، اس کی ماں اسے دودھ پلاتی تھی اور وہ سیر ہو جاتا تھا ، ایک دن وہ چلا گیا ، اس نے ساری بکریوں کا دودھ پیا لیکن پھر بھی وہ سیر نہیں ہوا ، تو یہ بات کہی گئی : یہ ان لوگوں کی مثال ہے جو تمہارے بعد آئیں گے ، اُن میں سے کسی شخص کو اتنا کچھ دیا جائے گا ، جو ایک قبیلے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک اُمت کے لئے کافی ہو گا ، لیکن وہ شخص پھر بھی سیر نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، صرف عطاء بن سائب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ مرنے سے پہلے اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

17786

Majma al-Zawaid #17786

عَنْ جَابِرٍ - يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى وَادِيَيْنِ وَلَوْ أَنَّ لَهُ وَادِيَيْنِ لَتَمَنَّى ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَيَعْتَضِدُ حَدِيثُهُ بِمَا يَأْتِي، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir, meaning Ibn ʿAbd Allāh, may Allāh be pleased with them both, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said were the son of Ādam to have a valley of wealth he would wish for two valleys, and were he to have two he would wish for a third, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust. > **"Were the son of Ādam to have a valley of wealth he would wish for two valleys, and were he to have two he would wish for a third, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبدالله علی روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو ، تو وہ دو وادیوں ( کا مالک ہونے ) کی تمنا کرے گا اور اگر اس کی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری کی آرزو کرے گا ، ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اسے وہ حدیث مضبوط کرتی ہے ، جو آگے آ رہی ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17787

Majma al-Zawaid #17787

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِي نَخْلٍ تَمَنَّى مِثْلَهُ، ثُمَّ تَمَنَّى مِثْلَهُ، حَتَّى يَتَمَنَّى أَوْدِيَةً، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى وَالْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say were the son of Ādam to have a valley of palms he would wish for its like, then its like, until he wished for valleys, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust. > **"Were the son of Ādam to have a valley of palms he would wish for its like, then its like, until he wished for valleys, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اگر ابن آدم کی کھجوروں کی ایک وادی ہو ، تو وہ اُس جیسی ( اور ملنے ) کی تمنا کرے گا ، پھر وہ اس جیسی ( اور ملنے ) کی تمنا کرے گا ، یہاں تک کہ وہ کہ کئی وادیوں ( کا مالک بننے ) کی تمنا کرے گا ، ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے ۔ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17788

Majma al-Zawaid #17788

وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: «لَقَدْ كُنَّا نَقْرَأُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ ذَهَبٍ وَفِضَّةٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِمَا آخَرَ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمْ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam, may Allāh be pleased with him, said they used to recite in the Prophet's ﷺ time: were the son of Ādam to have two valleys of gold and silver he would seek another to them, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust, and Allāh turns to whoever turns. > **"Were the son of Ādam to have two valleys of gold and silver he would seek another to them, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust, and Allāh turns to whoever turns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ہم یہ پڑھا کرتے تھے : ’’ اگر ابن آدم کی سونے اور چاندی کی دو وادیاں ہوں ، تو وہ اُن کے ہمراہ ایک اور کا طلب گار ہو گا ، ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے امام طبرانی اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے اور ان کے رجال ثقہ ہیں ۔

17789

Majma al-Zawaid #17789

وَعَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: «قُلْتُ لِعَائِشَةَ: هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ شَيْئًا إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ؟ قَالَتْ: كَانَ إِذَا دَخَلَ الْبَيْتَ تَمَثَّلَ يَقُولُ: "" لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ فَمَهُ إِلَّا التُّرَابُ، وَمَا جَعَلْنَا الْمَالَ إِلَّا لِإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «إِنَّمَا جَعَلْنَا الْمَالَ لِتُقْضَى بِهِ الصَّلَاةُ، وَتُؤْتَى بِهِ الزَّكَاةُ». فَكُنَّا نَرَى أَنَّهُ مِمَّا نُسِخَ مِنَ الْقُرْآنِ. وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَقَدِ اخْتَلَطَ، وَلَكِنَّ يَحْيَى الْقَطَّانُ لَا يَرْوِي عَنْهُ مَا حَدَّثَ بِهِ فِي اخْتِلَاطِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Masrūq reported that he asked ʿĀʾisha, may Allāh be pleased with her, whether the Messenger of Allāh ﷺ said anything upon entering the house; she said upon entering he would cite verse saying: were the son of Ādam to have two valleys of wealth he would seek a third, and nothing fills his mouth except dust; wealth was made only for establishing prayer and giving zakāt, and Allāh turns to whoever turns. > **"Were the son of Ādam to have two valleys of wealth he would seek a third, and nothing fills his mouth except dust; wealth was made only for establishing prayer and giving zakāt, and Allāh turns to whoever turns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

مسروق بیان کرتے ہیں : میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا ، نبی اکرم ﷺ جب گھر تشریف لاتے تھے تو کیا آپ کچھ کہتے تھے ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : آپ مثال بیان کرنے کے طور پر یہ فرماتے تھے : ’’ اگر ابن آدم کی مال کی دو دادیاں ہوں ، تو وہ تیسری وادی کا طلب گار ہو گا ، اور اس کے منہ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے ، ہم نے مال اس لئے مقرر کیا ہے تاکہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے اور اللہ تعالیٰ اس شخص کی توبہ کو قبول کرتا ہے ، جو توبہ کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ ہم نے مال اس لیے بنایا ہے ، تاکہ اس کے ذریعے نماز ادا کی جائے اور اس کے ذریعے زکوۃ دی جائے ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : ہم یہ سمجھتے تھے کہ یہ کلمات قرآن کے منسوخ ہونے والے حصے میں سے ہیں ۔ یہ روایت امام بزار نے بھی نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا اور یحیی القطان اس کے حوالے سے ایسی روایت نقل نہیں کرتے ہیں جو اس نے اختلاط کا شکار ہونے کے دوران بیان کی تھی ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

17790

Majma al-Zawaid #17790

وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ: "" لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا، وَلَوْ أُعْطِيَ ثَانِيًا لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صُبَيْحٍ أَبِي الْعَلَاءِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Burayda, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Prophet ﷺ recite in prayer: were the son of Ādam to have a valley of gold he would seek a second to it, and were he given a second he would seek a third to it, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust, and Allāh turns to whoever turns. > **"Were the son of Ādam to have a valley of gold he would seek a second to it, and were he given a second he would seek a third to it, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust, and Allāh turns to whoever turns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو نماز میں یہ پڑھتے ہوئے سنا ہے : ’’ اگر ابن آدم کی سونے کی ایک وادی ہو ، تو وہ اس کے ہمراہ دوسری کا طلب گار ہو گا ، اگر اسے دوسری دیدی جائے ، تو وہ اس کے ہمراہ تیسری کا طلب گار ہو گا ، ابن آدم کے پیٹ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صبیح ابوالعلاء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17791

Majma al-Zawaid #17791

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: «إِنَّ الرَّجُلَ لَا تَمْتَلِئُ نَفْسُهُ مِنَ الْمَالِ حَتَّى يَمْتَلِئَ مِنَ التُّرَابِ، وَلَوْ كَانَ لِأَحَدِكُمْ وَادٍ مَلْآنَ مَا بَيْنَ أَعْلَاهُ إِلَى أَسْفَلِهِ أَحَبَّ أَنْ يُمْلَأَ لَهُ وَادٍ آخَرُ، فَإِنْ مُلِئَ لَهُ الْوَادِي الْآخَرُ فَانْطَلَقَ فَوَجَدَ وَادِيًا آخَرَ قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ لَوِ اسْتَطَعْتُ لَمَلَأْتُكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَلَفْظُهُ: كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا: «إِنَّ أَحَدَكُمْ لَوْ كَانَ لَهُ وَادٍ مَلْآنُ مِنْ أَعْلَاهُ إِلَى أَسْفَلِهِ أَحَبَّ أَنْ يُمْلَأَ لَهُ وَادٍ آخَرُ». وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ. وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَفِي إِسْنَادِ الْبَزَّارِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Samura ibn Jundub, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ used to say a man's soul is never filled with wealth until it is filled with dust; were one of you to have a valley filled from top to bottom he would love another valley to be filled for him, and were the other filled and he set out and found another valley he would say by Allāh, had he been able he would fill it. > **"A man's soul is never filled with wealth until it is filled with dust; were one of you to have a valley filled from top to bottom he would love another valley to be filled for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آدمی کا نفس ، مال کے حوالے سے اس وقت تک نہیں بھرتا ، جب تک وہ مٹی سے نہیں بھر جاتا ، اگر تم میں سے کسی ایک کی ایسی دادی ہو ، جو اوپر سے لے کر نیچے تک بھری ہوئی ہو ، تو وہ شخص یہ خواہش کرے گا کہ اس کے لیے ایک اور بھری ہوئی وادی ہو ، اگر اسے ایک اور بھری ہوئی وادی مل جائے ، اور وہ ایک اور وادی کو پائے ، تو یہ کہے گا : اللہ کی قسم ! اگر میرے بس میں ہوتا ، تو میں نے تمہیں بھر دینا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان کے الفاظ یہ ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ ہم سے یہ فرمایا کرتے تھے : تم میں سے کسی ایک شخص کی ، اگر نیچے سے اوپر تک بھری ہوئی وادی ہو ، تو وہ شخص یہ پسند کرے گا کہ اس کے لیے ایک اور بھری ہوئی وادی ہو ‘‘ باقی روایت حسب سابق ہے ، طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور بزار کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

17792

Majma al-Zawaid #17792

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ الْعَوْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd, meaning al-Khudrī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said were the son of Ādam to have a valley of wealth he would seek a second to it, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust. > **"Were the son of Ādam to have a valley of wealth he would seek a second to it, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر ابن آدم کی مال کی ایک وادی ہو ، تو وہ اس کے ہمراہ دوسری کا طلب گار ہو گا ، ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ عوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17793

Majma al-Zawaid #17793

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى إِلَيْهِمَا الثَّالِثَ، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَامِدِ بْنِ يَحْيَى الْبَلْخِيِّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said were the son of Ādam to have two valleys of wealth he would wish for a third to them, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust, and Allāh turns to whoever turns. > **"Were the son of Ādam to have two valleys of wealth he would wish for a third to them, and nothing fills the son of Ādam's belly except dust, and Allāh turns to whoever turns."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر ابن آدم کی مال کی دو وادیاں ہوں ، تو وہ ان کے ہمراہ تیسری کا خواہشمند ہو گا ، ابن آدم کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ، جو توبہ کر لیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حامد بن یحیی بلخی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17794

Majma al-Zawaid #17794

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ لَتَمَنَّى وَادِيًا ثَالِثًا، وَمَا جُعِلَ الْمَالُ إِلَّا لِإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَلَا يُشْبِعُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Umāma, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that were the son of Ādam to have two valleys he would wish for a third valley; wealth was made only for establishing prayer and giving zakāt; nothing satiates the son of Ādam except dust, and Allāh turns to whoever turns. > **"Were the son of Ādam to have two valleys he would wish for a third; wealth was made only for establishing prayer and giving zakāt; nothing satiates the son of Ādam except dust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر ابن آدم کی دو وادیاں ہوں ، تو وہ تیسری وادی کا خواہش مند ہو گا ، مال کو صرف اس لئے رکھا گیا ہے تاکہ نماز قائم کی جائے اور زکوۃ ادا کی جائے ، ابن آدم کو صرف مٹی سیر کر سکتی ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کر لیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے اور وہ ضعیف اور کذاب ہے ۔

17795

Majma al-Zawaid #17795

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَوْ سِيلَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَتَمَنَّى إِلَيْهِمَا ثَالِثًا، وَلَا يُشْبِعُ ابْنَ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمُسَيِّبُ بْنُ وَاضِحٍ، وَقَدْ وُثِّقَ وَضُعِّفَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَلِهَذَا الْحَدِيثِ طُرُقٌ ذَكَرْتُهَا فِي التَّفْسِيرِ فِي سُورَةِ (لَمْ يَكُنْ) فَإِنَّ تِلَاوَةَ مَا زِيدَ فِيهَا، وَمَا كَانَ قُرْآنًا وَنُسِخَتْ تِلَاوَتُهُ فِيهَا أَيْضًا.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn ʿIyāḍ al-Ashʿarī, may Allāh be pleased with him, reported from Allāh's Prophet ﷺ that were two valleys of wealth poured forth for the son of Ādam he would wish for a third to them, and nothing satiates the son of Ādam except dust, and Allāh turns to whoever turns. > **"Were two valleys of wealth poured forth for the son of Ādam he would wish for a third to them, and nothing satiates the son of Ādam except dust."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عیاض اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر ابن آدم کو مال کی دو وادیاں دیدی جائیں ، تو وہ ان کے ہمراہ تیسری کی تمنا کرے گا ، ابن آدم کو صرف مٹی سیر کر سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کر لیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسیب بن واضح ہے ، جس کی توثیق بھی کی گئی ہے اور اسے ضعیف بھی قرار دیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس روایت کے مختلف طرق ہیں ، جنہیں میں نے سورہ لم یکن کی تفسیر میں ذکر کیا ہے ۔

17796

Majma al-Zawaid #17796

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا رَأَيْتَ اللَّهَ يُعْطِي الْعَبْدَ مَا يُحِبُّ، وَهُوَ مُقِيمٌ عَلَى مَعَاصِيهِ ; فَإِنَّمَا ذَلِكَ مِنْهُ لَهُ اسْتِدْرَاجٌ». ثُمَّ نَزَعَ بِهَذِهِ الْآيَةِ: {فَلَمَّا نَسُوا مَا ذُكِّرُوا بِهِ فَتَحْنَا عَلَيْهِمْ أَبْوَابَ كُلِّ شَيْءٍ حَتَّى إِذَا فَرِحُوا بِمَا أُوتُوا أَخَذْنَاهُمْ بَغْتَةً فَإِذَا هُمْ مُبْلِسُونَ فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ} [الأنعام: 44]. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ عَنْ شَيْخِهِ: الْوَلِيدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْمِصْرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUqba ibn ʿĀmir al-Juhanī, may Allāh be pleased with him, reported from the Messenger of Allāh ﷺ that when you see Allāh giving the servant what he loves while he persists in His disobedience, that is but gradual seizure from Him; then he cited the verse: When they forgot what they were reminded of, We opened upon them the gates of everything until, when they rejoiced in what they were given, We seized them suddenly and they were in despair, and the root of the wrongdoing people was cut off, and praise belongs to Allāh, Lord of the worlds. > **"When you see Allāh giving the servant what he loves while he persists in His disobedience, that is but gradual seizure from Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم یہ دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے کسی بندے کو وہ چیز عطا کی ہے ، جسے وہ پسند کرتا ہے اور وہ بندہ پھر بھی گناہوں پر کاربند رہتا ہے ، تو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شخص کے لئے استدراج ہے ، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ جب وہ اس چیز کو بھول گئے ، جو انہیں نصیحت کی گئی تھی ، تو ہم نے اُن پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے ، یہاں تک کہ جب وہ اُن چیزوں سے خوش ہونے لگے ، جو انہیں دی گئی تھیں ، تو ہم نے اچانک اُن کی ( عذاب کی شکل میں ) پکڑ کی ، تو وہ مایوس ہو کر رہ گئے ، تو اس قوم کی جڑ کاٹ دی گئی ، جنہوں نے ظلم کیا تھا ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اپنے استاد ولید بن عباس مصری کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17797

Majma al-Zawaid #17797

عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «قَالَ الشَّيْطَانُ - لَعَنَهُ اللَّهُ -: لَنْ يَسْلَمَ مِنِّي صَاحِبُ الْمَالِ مِنْ إِحْدَى ثَلَاثٍ، أَغْدُو عَلَيْهِ بِهِنَّ وَأَرُوحُ بِهِنَّ: أَخْذُهُ مِنْ غَيْرِ حِلِّهِ، وَإِنْفَاقُهُ فِي غَيْرِ حَقِّهِ، وَأُحَبِّبُهُ إِلَيْهِ فَيَمْنَعُهُ مِنْ حَقِّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Satan, may Allāh curse him, says the wealthy companion shall never be safe from him in one of three, with which he comes morning and evening: taking it from unlawful means, spending it in unlawful right, and making it beloved to him so he withholds its right. > **"The wealthy companion shall never be safe from me in one of three: taking it from unlawful means, spending it in unlawful right, and making it beloved to him so he withholds its right."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شیطان یہ کہتا ہے : مالدار شخص تین میں سے کسی ایک چیز کے حوالے سے مجھ سے محفوظ نہیں رہتا ، میں صبح و شام وہ چیزیں اس کے پاس لے کے جاتا ہوں ، وہ مال کو ناجائز طریقے سے حاصل کرتا ہے ، اسے ناحق طور پر خرچ کرتا ہے ، اور میں مال کو اس کے نزدیک محبوب کر دیتا ہوں ، تو وہ اس مال کا حق ادا نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17798

Majma al-Zawaid #17798

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ إِبْلِيسَ يَبْعَثُ أَشَدَّ أَصْحَابِهِ وَأَقْوَى أَصْحَابِهِ إِلَى مَنْ يَصْنَعُ الْمَعْرُوفَ فِي مَالِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ مَنْصُورٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Iblīs sends his fiercest and strongest companions against whoever does good with his wealth. > **"Iblīs sends his fiercest and strongest companions against whoever does good with his wealth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ شیطان اپنے سب سے زیادہ مضبوط اور سب سے زیادہ قوی ساتھی کو اس شخص کی طرف بھیجتا ہے ، جو اپنے مال کے حوالے سے بھلائی کا کام کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالحکیم بن منصور ہے اور وہ متروک ہے ۔

17799

Majma al-Zawaid #17799

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَيْسَ عَدُوَّكَ الَّذِي إِنْ قَتَلْتَهُ كَانَ نُورًا، وَإِنْ قَتَلَكَ دَخَلْتَ الْجَنَّةَ، وَلَكِنَّ أَعْدَى عَدُّوِكَ وَلَدُكَ، الَّذِي خَرَجَ مِنْ صُلْبِكَ، ثُمَّ أَعْدَى عَدُوِّكَ مَالُكَ الَّذِي مَلَكَتْ يَمِينُكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik al-Ashʿarī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said your enemy is not he who, if you kill him is light, and if he kills you you enter Paradise; rather your fiercest foe is your child who came from your loins, then your fiercest foe is your wealth which your right hand possesses. > **"Your fiercest foe is your child who came from your loins, then your fiercest foe is your wealth which your right hand possesses."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تمہارا دشمن وہ نہیں ہے کہ جسے اگر تم قتل کر دو ، تو یہ چیز تمہارے لئے نور بن جائے ، یا اگر وہ تمہیں قتل کر دے ، تو تم جنت میں داخل ہو جاؤ ، بلکہ تمہاری سب سے بڑی دشمن ، تمہاری اولاد ہے جو تمہاری پشت سے نکلی ہے ، اور تمہارا سب سے بڑا دشمن تمہارا مال ہے ، جس کے تم مالک ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17800

Majma al-Zawaid #17800

وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ هَذَا الدِّينَارَ وَالدِّرْهَمَ أَهْلَكَا مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، وَلَا أَرَاهُمَا إِلَّا مُهْلِكِيكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ بِنَحْوِ هَذَا فِي كِتَابِ الزَّكَاةِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said this dīnār and dirham destroyed those before you, and he does not see them but destroying you. > **"This dīnār and dirham destroyed those before you, and I do not see them but destroying you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہم نے ارشاد فرمایا : ’’ یہ دینار اور درہم ، ان دونوں نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاکت کا شکار کر دیا ، اور ان دونوں کے بارے میں میری یہ رائے ہے کہ یہ تمہیں بھی ہلاکت کا شکار کر دیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کتاب الزکوة میں گزر چکی ہے جو اسی نوعیت کی ہے ۔