وَعَنِ الْحَسَنِ: «أَنَّ قَيْسَ بْنَ عَاصِمٍ لَمَّا قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ "". فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمَالُ الَّذِي لَا يَكُونُ عَلَيَّ فِيهِ تَبِعَةٌ مِنْ ضَيْفٍ، أَوْ عِيَالٍ وَإِنْ كَثُرُوا؟ قَالَ: "" نِعْمَ الْمَالُ الْأَرْبَعُونَ، وَإِنْ كَثُرَتْ فَسِتُّونَ، وَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينَ - يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا - إِلَّا مَنْ أَعْطَى فِي رِسْلِهَا وَنَجْدَتِهَا، وَأَفْقَرَ ظَهْرَهَا، وَأَطْرَقَ فَحْلَهَا، وَنَحَرَ سَمِينَهَا، وَمَنَحَ غَزِيرَتَهَا، وَأَطْعَمَ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَكْرَمَ هَذِهِ الْأَخْلَاقُ وَأَحْسَنَهَا! قَالَ: "" كَيْفَ تَصْنَعُ بِالْمَنِيحَةِ؟ "". قَالَ: قُلْتُ: لَأَمْنَحُ كُلَّ سَنَةٍ مِائَةً، قَالَ: "" كَيْفَ تَصْنَعُ بِالْإِفْقَارِ؟ "". قَالَ: إِنِّي لَا أُفْقِرُ الْبِكْرَ الضَّرْعَ، وَلَا النَّابَ الْمُدَبَّرَةَ. قَالَ: "" كَيْفَ تَصْنَعُ بِالطَّرُوقَةِ؟ "". قُلْتُ: تَغْدُوَ الْإِبِلَ وَيَغْدُوَ النَّاسُ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِرَأْسِ بَعِيرٍ فَذَهَبَ بِهِ. قَالَ: "" مَالُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مَالُ مُوَالِيكَ؟ "". قُلْتُ: لَا. بَلْ مَالِي، قَالَ: "" فَمَا لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ، أَوْ أَعْطَيْتَ فَأَمْضَيْتَ "". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَكَذَا؟ قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ، لَئِنْ بَقِيتُ لَأُقِلَّنَّ عَدَدَهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مُرْسَلًا، وَقَدْ رَوَاهُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ مُتَّصِلًا، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي مَنَاقِبِهِ.
EnglishUnverified translation
Al-Ḥasan reported that when Qays ibn ʿĀṣim came to the Messenger of Allāh ﷺ he said this is the chief of the desert folk; Qays asked O Messenger of Allāh, what wealth bears no liability for guest or dependents however many? He said excellent wealth is forty, and if many then sixty, and woe to owners of hundreds — thrice — except whoever gives from its milk and aid, lends its back, offers its stallion, slaughters its fat, grants its rich-milked, and feeds the content and the petitioner; Qays admired such morals and was asked how he deals with gifts, lending, and studding, replying he grants a hundred yearly, lends neither young milch nor worn old, and lets camels go out with people so whoever wills takes a head; asked whether his wealth or his clients' is dearer, he said his own, so he was told one has of his wealth only what he eats and consumes, wears and wears out, or gives and sends forth; Qays asked is it so, he said yes, and Qays swore if he lived he would reduce their number. > **"One has of his wealth only what he eats and consumes, wears and wears out, or gives and sends forth."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حسن بیان کرتے ہیں : حضرت قیس بن عاصم رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ دیہاتی علاقوں کا سردار ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس مال کا کیا ہو گا ؟ جس کے بارے میں مجھ پر کوئی ضرر ہو ، جس کا واسطہ مہمان یا عیال سے ہو ، خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اچھا مال چالیس ( دینار یا درہم ہیں اور اگر وہ زیادہ ہو جائے ، تو ساٹھ ہو جائیں لیکن دو سو والوں کے لئے بربادی ہے ، یہ بات آپ ﷺ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ( اور پھر یہ فرمایا : ) البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو تنگی اور خوشحالی ( ہر حال ) میں خرچ کرتا ہے ، اپنی سواری استعمال کے لئے دیتا ہے ، نر جانور کو جفتی کے لئے دیتا ہے ، صحت مند جانور کو قربان کرتا ہے اور اس کا دودھ عطیہ کے طور پر دیتا ہے اور قانع اور فقیر کو کھلاتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اخلاق کتنے معزز اور کتنے عمدہ ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم عطیہ کیسے دیتے ہو ؟ میں نے عرض کی : میں ہر سال ایک سو ( جانور ) عطیہ کے طور پر دیتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تم عارضی طور پر سواری کے استعمال کے لیے جانور کیسے دیتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : میں دودھ دینے والا جوان جانور ، یا عمر رسیدہ اونٹنی نہیں دیتا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : جفتی کے لیے جانور کیسے دیتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : میرے اونٹ جاتے ہیں لوگ بھی جاتے ہیں ، جو شخص جس اونٹ کا چاہتا ہے ، سر پکڑ کر اسے لے جاتا ہے ، نبی اکرم ﷺ ہم نے دریافت کیا : تمہارا مال تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ یا تمہارے موالی کا مال ( تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ ) میں نے جواب دیا : جی نہیں ! بلکہ میرا مال ( میرے نزدیک زیادہ محبوب ہے ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہارے مال میں سے ، تمہارا حصہ وہ ہے جسے تم کھا کر فنا کر دو ، یا پہن کر پرانا کر دو یا ( اللہ کی راہ میں ) دے کر آگے بھیج دو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا اس طرح ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تو انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! اگر میں زندہ رہ گیا تو میں ان کی تعداد میں ضرور کمی کروں گا ( یعنی اپنے مال کو اللہ کی راہ میں ضرور خرچ کروں گا ) ۔ یہ روایت امام بزار نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے انہوں نے اسے متصل روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے ، لیکن بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور یہ روایت ان کے مناقب سے متعلق باب میں مذکور ہے ۔