عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «قَالَ أَخِي مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: يَا رَبِّ، أَرِنِي الَّذِي كُنْتَ أَرَيْتَنِي فِي السَّفِينَةِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: يَا مُوسَى، إِنَّكَ سَتَرَاهُ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى أَتَاهُ الْخَضِرُ، وَهُوَ فِي طِيبِ الرِّيحِ، وَحُسْنِ ثِيَابِ الْبَيَاضِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ، إِنَّ رَبَّكَ يَقْرَأُ عَلَيْكَ: السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ قَالَ مُوسَى: هُوَ السَّلَامُ، وَإِلَيْهِ السَّلَامُ، وَمِنْهُ السَّلَامُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الَّذِي لَا أُحْصِي نِعَمَهُ، وَلَا أَقْدِرُ عَلَى شُكْرِهِ، إِلَّا بِمَعُونَتِهِ، ثُمَّ قَالَ مُوسَى: أُرِيدُ أَنْ تُوصِيَنِي بِوَصِيَّةٍ يَنْفَعُنِي اللَّهُ بِهَا بَعْدَكَ، قَالَ الْخَضِرُ: يَا طَالِبَ الْعِلْمِ، إِنَّ الْقَائِلَ أَقَلُّ مَلَالَةً مِنَ الْمُسْتَمِعِ، فَلَا تُمِلَّ جُلَسَاءَكَ إِذَا حَدَّثَتْهُمْ، وَاعْلَمْ أَنَّ قَلْبَكَ وِعَاءٌ، فَانْظُرْ بِمَا تَحْشُو بِهِ وِعَاءَكَ، وَاعْرِفِ الدُّنْيَا، وَانْبِذْهَا وَرَاءَكَ ; فَإِنَّهَا لَيْسَتْ لَكَ بِدَارٍ، وَلَا لَكَ فِيهَا قَرَارٌ، وَإِنَّهَا جُعِلَتْ بُلْغَةً لِلْعِبَادِ لِيَتَزَوَّدُوا مِنْهَا لِلْمَعَادِ، وَيَا مُوسَى، وَطِّنْ نَفْسَكَ عَلَى الصَّبْرِ تَلْقَ الْحِلْمَ، وَأَشْعِرْ قَلَبَكَ التَّقْوَى تَنَلِ الْعِلْمَ، وَرُضْ نَفْسَكَ عَلَى الصَّبْرِ تَخْلُصْ مِنَ الْإِثْمِ. يَا مُوسَى، تَفَرَّغْ لِلْعِلْمِ إِنْ كُنْتَ تُرِيدُهُ ; فَإِنَّمَا الْعِلْمُ لِمَنْ تَفَرَّغَ لَهُ، وَلَا تَكُنْ هَكَّارًا بِالْمَنْطِقِ مِهْذَارًا، إِنَّ كَثْرَةَ الْمَنْطِقِ تَشِينُ الْعُلَمَاءَ، وَتُبْدِي مَسَاوِئَ الْخَفَاءِ، وَلَكِنَّ عَلَيْكَ بِذِي اقْتِصَادٍ ; فَإِنَّ ذَلِكَ مِنَ التَّوْفِيقِ وَالسَّدَادِ، وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِ، وَاحْلُمْ عَنِ السُّفَهَاءِ ; فَإِنَّ ذَلِكَ فَضْلُ الْحُكَمَاءِ، وَزَيْنُ الْعُلَمَاءِ. إِذَا شَتَمَكَ الْجَاهِلُ فَاسْكُتْ عَنْهُ سِلْمًا، وَجَانِبْهُ حَزْمًا ; فَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنْ جَهْلِهِ عَلَيْكَ، وَشَتْمِهِ إِيَّاكَ أَعْظَمُ وَأَكْثَرُ. يَا ابْنَ عِمْرَانَ، إِنَّكَ لَا تَرَى أُوتِيَتْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا ; فَإِنَّ الِانْدِلَاقَ وَالتَّعَسُّفَ مِنَ الِاقْتِحَامِ وَالتَّكَلُّفِ. يَا ابْنَ عِمْرَانَ، لَا تَفْتَحَنَّ بَابًا لَا تَدْرِي مَا غَلْقُهُ، وَلَا تَغْلِقَنَّ بَابًا لَا تَدْرِي مَا فَتْحُهُ. يَا ابْنَ عِمْرَانَ، مَنْ لَا يَنْتَهِي مِنَ الدُّنْيَا نَهْمَتُهُ، وَلَا تَنْقَضِي مِنْهَا رَغْبَتُهُ، كَيْفَ يَكُونُ عَابِدًا؟ مَنْ يُحَقِّرُ حَالَهُ، وَيَتَّهِمُ اللَّهَ بِمَا قَضَى لَهُ كَيْفَ يَكُونُ زَاهِدًا؟ هَلْ يَكُفُّ عَنِ الشَّهَوَاتِ مَنْ قَدْ غَلَبَ هَوَاهُ، وَيَنْفَعُهُ طَلَبُ الْعِلْمِ وَالْجَهْلِ قَدْ حَوَّلَهُ ; لِأَنَّ سَفَرَهُ إِلَى آخِرَتِهِ، وَهُوَ مُقْبِلٌ عَلَى دُنْيَاهُ. يَا مُوسَى، تَعَلَّمْ مَا تَعْلَمَنَّ لِتَعْمَلَ بِهِ، وَلَا تَعَلَّمْهُ لِتُحَدِّثَ بِهِ، فَيَكُونُ عَلَيْكَ بَوْرُهُ، وَيَكُونُ لِغَيْرِكَ نَوْرُهُ. يَا ابْنَ عِمْرَانَ، اجْعَلِ الزُّهْدَ وَالتَّقْوَى لِبَاسَكَ، وَالْعِلْمَ وَالذِّكْرَ كَلَامَكَ، وَأَكْثِرْ مِنَ الْحَسَنَاتِ ; فَإِنَّكَ مُصِيبٌ السَّيِّئَاتِ، وَزَعْزِعْ بِالْخَوْفِ قَلْبَكَ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُرْضِي رَبَّكَ، وَاعْمَلْ خَيْرًا ; فَإِنَّكَ لَا بُدَّ عَامِلٌ سِوَاهُ. قَدْ وُعِظْتَ إِنْ حَفِظْتَ. فَتَوَلَّى الْخَضِرُ وَبَقِيَ مُوسَى حَزِينًا مَكْرُوبًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَّارُ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ، وَذَكَرَ أَنَّهُ أَخْطَأَ فِي وَصْلِهِ، وَالصَّوَابُ فِيهِ: عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.
EnglishUnverified translation
ʿUmar ibn al-Khaṭṭāb, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said his brother Mūsā, peace be upon him, asked O Lord, show me the one You showed me at the ship, and Allāh revealed O Mūsā, you shall see him, and soon al-Khaḍir came to him in sweet fragrance and fine white garments, greeting him as Mūsā son of ʿImrān and conveying his Lord's peace and mercy; Mūsā replied He is Peace, to Him is peace, from Him is peace, and praise belongs to the Lord of the worlds whose blessings he cannot count nor thank except by His aid; then Mūsā asked for a counsel by which Allāh would benefit him after him, so al-Khaḍir said O seeker of knowledge, the speaker tires less than the listener, so do not bore your companions when you speak; know your heart is a vessel, so see with what you fill it; know the world and cast it behind you, for it is no home for you nor place of rest, but made as provision for servants to take from it to the return; O Mūsā, settle yourself upon patience and you shall meet forbearance, fill your heart with piety and you shall attain knowledge, train yourself upon patience and you shall escape sin; O Mūsā, devote yourself to knowledge if you want it, for knowledge belongs to whoever devotes himself to it; do not be loquacious and babbling, for much speech disgraces scholars and exposes hidden faults, but keep to moderation, for that is guidance and rightness; turn from the ignorant and forbear the foolish, for that is the merit of the wise and adornment of scholars; when the ignorant reviles you, remain silent in peace and avoid him firmly, for what remains of his ignorance against you and his reviling is greater; O son of ʿImrān, you see you were given but little knowledge, for plunging recklessly comes of presumption and affectation; do not open a door whose closing you do not know, nor close a door whose opening you do not know; how can one be a worshipper whose greed for the world never ends and whose desire never ceases; how can one be ascetic who belittles his state and accuses Allāh of what He decreed for him; can one restrain lusts when desire has overcome him, and can seeking knowledge benefit him when ignorance has turned him, while his journey is to the Hereafter yet he faces his world; O Mūsā, learn what you learn to act upon it, not to narrate it, lest its ruin be upon you and its light for another; O son of ʿImrān, make asceticism and piety your garment, knowledge and remembrance your speech, multiply good deeds for you shall meet evil deeds, shake your heart with fear for that pleases your Lord, and do good for you must do other than it; you have been admonished if you preserve it; then al-Khaḍir departed and Mūsā remained grieved and distressed. > **"Know your heart is a vessel, so see with what you fill it; know the world and cast it behind you; learn what you learn to act upon it, not to narrate it."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میرے بھائی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تو مجھے وہ دکھا دے ، جو تو نے مجھے کشتی میں دکھایا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف یہ وحی کی : اے موسیٰ ! تم عنقریب اسے دیکھ لو گے ، تھوڑی دیر بعد حضرت خضر علیہ السلام ان کے پاس آ گئے ان کی خوشبو عمدہ تھی اور انہوں نے صاف سفید لباس پہنا ہوا تھا ، انہوں نے کہا : اے موسیٰ بن عمران ! تم پر سلام ہو ، تمہارے پروردگار نے بھی تمہیں سلام کہا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت تم پر نازل ہو ، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : وہ سلامتی عطا کرنے والا ہے ، سلامتی اسی کی طرف لوٹتی ہے اور اس کی طرف سے ملتی ہے ، اور ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، جس کی نعمتوں کا ، میں شمار نہیں کر سکتا اور جس کے شکر کی ، میں قدرت نہیں رکھتا ، البتہ اس کی مدد کے ساتھ ( اس کا شکر ادا کیا جا سکتا ہے ) پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے کوئی ایسی نصیحت کیجئے ، جس کے حوالے سے اللہ تعالیٰ آپ کے بعد بھی مجھے نفع عطا کرے ، تو حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا : اے علم کے طلب گار ! کہنے والا شخص ، سننے والے کے مقابلے میں اکتاہٹ کا کم شکار ہوتا ہے ، تو تم اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ جب بات چیت کرو ، تو انہیں اکتاہٹ کا شکار نہ کرنا ۔ اور تم یہ بات جان لو ! کہ تمہارا دل ایک برتن ہے ، تو تم اس بات کا جائزہ لیتے رہنا کہ تم اپنے برتن میں کیا بھر رہے ہو ؟ تم دنیا کی معرفت حاصل کر لو ، اور اسے پس پشت ڈال دو ، کیونکہ وہ تمہارے رہنے کی جگہ نہیں ہے ، نہ تم نے اس میں ٹھکانہ اختیار کرنا ہے ، اسے تو بندوں کے لئے سامان بنایا گیا ہے ، تاکہ وہ اس میں سے آخرت کے لیے زاد سفر حاصل کر لیں ۔ اے موسیٰ ! تم اپنے آپ کو صبر پر برقرار رکھنا ، تم حکمت پا لو گے اور اپنے دل کو تقویٰ کا شعور دینا ، تم علم تک پہنچ جاؤ گے ، اپنے نفس کو صبر پر گامزن رکھنا ، تم گناہ سے خلاصی حاصل کو لو گے ۔ اے موسیٰ ! علم کے لیے فارغ رہنا ، اگر تم علم کے حصول کا ارادہ رکھتے ہو ، کیونکہ علم اسے نصیب ہوتا ہے ، جو اس کے لئے فارغ رہتا ہے ۔ اور تم گفتگو کرتے ہوئے ، خود پسندی کے اظہار اور فضول گوئی کرنے والے نہ ہونا ، کیونکہ زیادہ بولنا علماء کے لئے بے عزتی کا باعث ہوتا ہے ، اور بیوقوفی کی مانند ہوتا ہے ، تم پر میانہ روی اختیار کرنا لازم ہے ، کیونکہ یہ چیز توفیق اور درست رہنے کا حصہ ہے ۔ تم جاہل شخص سے پہلو تہی کرنا ، بے وقوفوں کے مقابلے میں بردباری کا مظاہرہ کرنا ، کیونکہ یہ چیز داناؤں کی فضیلت ہے اور علماء کی زینت ہے ۔ جب کوئی جاہل تمہیں برا کہے ، تو تم سلامتی اور بچاؤ کے ہمراہ اس کے جواب میں خاموش رہنا ، اور احتیاط کے ساتھ اس سے پہلو تہی کرنا ، کیونکہ اس کا تمہارے خلاف جہالت کا مظاہرہ کرنا اور اس کا تمہیں برا کہنا ، ان میں سے جو باقی رہے گا ، وہ زیادہ بڑا اور زیادہ تعداد میں ہو گا ۔ اے ابن عمران ! تم ایک چیز کا خیال رکھنا کہ تمہیں جو علم دیا گیا ہے ، وہ تھوڑا سا ہے ، سختی اور شدت ، زیادتی اور تکلف میں سے ہے ۔ اے ابن عمران ! تم کوئی ایسا دروازہ نہ کھولنا ، جس کے بارے میں تم یہ نہ جانتے ہو کہ اُس کو بند کیسے کیا جائے گا ؟ اور تم کوئی ایسا دروازہ بند نہ کرنا ، جس کے بارے میں تم یہ نہ جانتے ہو کہ اُسے کھولا کیسے جائے گا ؟ اے ابن عمران ! اور دنیا میں جس کی دلچسی کی کوئی آخری حد نہ ہو ، اور جس کی رغبت تک ختم نہ ہوتی ہو ، وہ کیسے عبادت گزار ہو سکتا ہے ؟ جو شخص اپنے حال کو حقیر سمجھتا ہو ، اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں جو فیصلہ دیا ہو ، اس کے حوالے سے تہمت عائد کرتا ہو ، وہ زاہد کیسے ہو سکتا ہے ؟ کیا وہ شخص نفسانی خواہشات کی پیروی سے رک سکتا ہے ؟ جس کی نفسانی خواہش اس پر غالب ہو ، کیا علم کا حصول اس شخص کو نفع دے سکتا ہے جسے جہالت نے تبدیل کر دیا ہو ؟ کیونکہ اس کا سفر آخرت کی طرف ہے ، اور وہ تو دنیا کی طرف متوجہ ہے ۔ اے موسیٰ بن عمران ! تم وہ علم حاصل کرنا ، جس کے ذریعے مقصد ، اس پر عمل کرنا ہو ، تم علم اس لیے حاصل نہ کرنا ، تاکہ اس کے حوالے سے گفتگو کرو ، ورنہ اس کا نقصان تمہارے ذمہ ہو گا ، اور اس کا نور دوسروں کو مل جائے گا ۔ اے ابن عمران ! تم زہد اور تقویٰ کو اپنا لباس بنا لو ! تم ذکر اور علم کو اپنا کلام بنا لو ، اور تم کثرت کے ساتھ نیکیاں کرو ، کیونکہ تم سے گناہ بھی سرزد ہو سکتا ہے ، تم خوف کے ہمراہ اپنے دل کو پریشان رکھو ، یہ چیز تمہارے پروردگار کو راضی کر دے گی ، تم بھلائی کا کام کرو ، کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ تم اس کے علاوہ بھی کچھ کر لو ، میں نے نصیحت کر دی ہے ، اگر تم حفاظت کرو گے ( تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ) ۔ پھر حضرت خضر علیہ السلام واپس چلے گئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام غمگین اور پریشان رہ گئے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی وقار ہے ، جسے ایک سے زیادہ افراد نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ ’’ کتاب الثقات ‘‘ میں کیا ہے ، انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ اس راوی نے اس روایت کو ’’ موصول ‘‘ روایت کے طور پر نقل کرنے میں غلطی کی ہے ، درست یہ ہے : کہ یہ روایت سفیان ثوری سے منقول ہے : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے ..... اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔