Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 2

Book of Asceticism

Hadith 17681–17720

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17681

Majma al-Zawaid #17681

وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" لَوْ أَنَّ رَجُلًا خَرَّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمَ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ هَرَمًا فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَحَقَّرَهُ ذَلِكَ الْيَوْمَ، وَلَوَدَّ أَنَّهُ رُدَّ إِلَى الدُّنْيَا كَيْمَا يَزْدَادَ مِنَ الْأَجْرِ وَالثَّوَابِ "". رَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Abī ʿUmayra, a Companion of the Prophet ﷺ, said as a stopped report that were a man to fall upon his face from birth until death in old age seeking Allāh's pleasure, he would deem it little on that Day and wish to be returned to the world to increase in reward. > **"He would deem it little on that Day and wish to be returned to the world to increase in reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن ابوعمیرہ رضی اللہ عنہ ، جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے ہیں ، وہ فرماتے ہیں : ’’ اگر کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کی رضامندی کی خاطر ، اس کی پیدائش کے دن سے لے کر ، بڑھاپے کی حالت میں ، اس کے انتقال کے دن تک ، چہرے کے بل گھسیٹا جائے ، تو اس ( یعنی قیامت کے ) دن وہ اس کو بھی حقیر سمجھے گا اور یہ خواہش کرے گا کہ اسے دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے وہ ایسا اس لئے چاہے گا ، تاکہ اس کے اجر و ثواب میں اضافہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے موقوف روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17682

Majma al-Zawaid #17682

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَالْكِبَرَ ; فَإِنَّ الْكِبَرَ يَكُونُ فِي الرَّجُلِ، وَإِنَّ عَلَيْهِ الْعَبَاءَةَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them both, reported from the Messenger of Allāh ﷺ to beware of pride, for pride may dwell in a man even when a mere cloak is upon him. > **"Beware of pride, for pride may dwell in a man even when a mere cloak is upon him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم تکبر سے بچو ! کیونکہ تکبر آدمی میں ہوتا ہے ، اگرچہ اس کے جسم پر پرانا سا لباس ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

17683

Majma al-Zawaid #17683

وَعَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ فِي جَهَنَّمَ وَادِيًا يُقَالُ لَهُ: هَبْهَبُ، حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُسْكِنَهُ كُلَّ جَبَّارٍ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي ذَمِّ الْكِبْرِ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ فِي الْكَبَائِرِ، وَفِي كِتَابِ الزِّينَةِ.

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that in Hell there is a valley called Habhab, and it is binding upon Allāh to lodge every tyrant in it. > **"In Hell there is a valley called Habhab; it is binding upon Allāh to lodge every tyrant in it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام ” ہبہب ‘‘ ہے ، اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ ہر متکبر کو اُس میں ٹھہرائے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ازہر بن سنان ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب الایمان میں ، کبیرہ گناہوں سے متعلق باب میں اور کتاب الزینہ میں تکبر کی مذمت کے بارے میں ، بہت سی احادیث گزر چکی ہیں ۔

17684

Majma al-Zawaid #17684

وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ مَعْقِلٍ: أَنَّهُ سَمِعَ وَهْبًا يَخْطُبُ النَّاسَ عَلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ: احْفَظُوا مِنِّي ثَلَاثًا: إِيَّاكُمْ وَهَوًى مُتَّبَعًا، وَقَرِينَ السُّوءِ، وَإِعْجَابَ الْمَرْءِ بِنَفْسِهِ. رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Ṣamad ibn Maʿqil reported that he heard Wahb addressing people on the pulpit saying remember three things from me: beware of followed desire, an evil companion, and a man's admiration of himself. > **"Beware of followed desire, an evil companion, and a man's admiration of himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالصمد بن معقل بیان کرتے ہیں : انہوں نے وہب کو منبر پر لوگوں کو خطبہ دینے کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ میری تین باتیں یاد رکھنا ! نفسانی خواہش کی پیروی ، برے دوست ، اور خود پسندی سے بچ کے رہنا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

17685

Majma al-Zawaid #17685

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَرْبَعَةٌ مِنَ الشَّقَاءِ: جُمُودُ الْعَيْنِ، وَقَسْوَةُ الْقَلْبِ، وَطُولُ الْأَمَلِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الدُّنْيَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ هَانِئُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said four things belong to wretchedness: a tearless eye, a hard heart, prolonged hope, and greed for the world. > **"Four belong to wretchedness: a tearless eye, a hard heart, prolonged hope, and greed for the world."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ چار چیزیں بدنصیبی کا حصہ ہیں ، آنکھ کا جامد ہونا ، دل کا سخت ہونا ، امید کا لمبا ہونا اور دنیا کے بارے میں لالچ ہونا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ہانی بن متوکل ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17686

Majma al-Zawaid #17686

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ جُلَسَائِنَا خَيْرٌ؟ قَالَ: "" مَنْ ذَكَّرَكُمُ اللَّهَ رُؤْيَتُهُ، وَزَادَ فِي عَمَلِكُمْ مَنْطِقُهُ، وَذَكَّرَكُمْ فِي الْآخِرَةِ عَمَلُهُ». رَوَاهُ أَبُو يُعْلَى، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ حَسَّانَ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that it was asked O Messenger of Allāh, which of our companions are best, and he said the one whose sight reminds you of Allāh, whose speech increases you in deeds, and whose work reminds you of the Hereafter. > **"The one whose sight reminds you of Allāh, whose speech increases you in deeds, and whose work reminds you of the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! ہمارے ساتھیوں میں کون بہتر ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس کو دیکھنا ، تمہیں اللہ کی یاد دلا دے ، اور جس کی گفتگو ، تمہارے عمل میں اضافہ کروا دے ، اور جس کا عمل تمہیں آخرت کی یاد دلا دے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن حدثان ہے ، جس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17687

Majma al-Zawaid #17687

عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ - قَالَ: «إِذَا ذُكِّرْتُمْ بِاللَّهِ فَانْتَهُوا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Abī Saʿīd al-Maqburī reported from Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, with doubt whether raised to the Prophet ﷺ, that when you are reminded by Allāh, then desist. > **"When you are reminded by Allāh, then desist."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن ابوسعید مقبری نے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، میرا خیال ہے انہوں نے اسے مرفوع روایت کے طور پر نقل کیا ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ) ’’ جب تمہیں اللہ تعالیٰ کی یاد دلائی جائے ( یا اللہ تعالیٰ کے حوالے سے نصیحت کی جائے ) تو تم باز آ جاؤ ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید بن ابوسعید ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17688

Majma al-Zawaid #17688

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَيْسَ شَيْءٌ إِلَّا، وَهُوَ أَطْوَعُ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنِ ابْنِ آدَمَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Burayda, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said there is nothing but that it is more obedient to Allāh, blessed and exalted, than the son of Ādam. > **"There is nothing but that it is more obedient to Allāh than the son of Ādam."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر چیز ، ابن آدم سے زیادہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبردار ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17689

Majma al-Zawaid #17689

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ مَلَائِكَةَ اللَّهِ يَعْرِفُونَ بَنِي آدَمَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - وَيَعْرِفُونَ أَعْمَالَهُمْ، فَإِذَا نَظَرُوا إِلَى عَبْدٍ يَعْمَلُ بِطَاعَةِ اللَّهِ ذَكَرُوهُ بَيْنَهُمْ، وَسَمَّوْهُ، وَقَالُوا: أَفْلَحَ اللَّيْلَةَ فُلَانٌ، نَجَا اللَّيْلَةَ فُلَانٌ. وَإِذَا نَظَرُوا إِلَى عَبْدٍ يَعْمَلُ بِمَعْصِيَةِ اللَّهِ، ذَكَرُوهُ بَيْنَهُمْ، وَسَمَّوْهُ، وَقَالُوا: هَلَكَ فُلَانٌ اللَّيْلَةَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh's angels know the sons of Ādam and their deeds, so when they see a servant working in obedience to Allāh they mention him among themselves by name saying tonight so-and-so has prospered, tonight so-and-so is saved, and when they see a servant working in disobedience they mention him by name saying tonight so-and-so has perished. > **"When they see a servant working in obedience to Allāh they say: tonight so-and-so has prospered; and when they see a servant working in disobedience they say: tonight so-and-so has perished."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے فرشتے اولاد آدم کو پہچانتے ہیں ، راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے ، آپ نے یہ بھی فرمایا : اور ان کے اعمال کو پہچانتے ہیں ، جب وہ کسی بندے کو دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے متعلق عمل کر رہا ہے ، تو وہ نام لے کر آپس میں اس کا ذکر کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں : گزشتہ رات فلاں بندہ کامیاب ہو گیا ، گزشتہ رات فلاں نے نجات پا لی ، اور جب فرشتے کسی ایسے بندے کو دیکھتے ہیں ، جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے متعلق عمل کرتا ہے ، تو وہ فرشتے آپس میں اس کا ذکر کرتے ہوئے ، اس کا نام لے کر یہ کہتے ہیں : گزشتہ رات فلاں شخص ہلاکت کا شکار ہو گیا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17690

Majma al-Zawaid #17690

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَهْلًا ; فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - شَدِيدُ الْعِقَابِ، فَلَوْلَا صِبْيَانٌ رُضَّعٌ، وَرِجَالٌ رُكَّعٌ، وَبَهَائِمُ رُتَّعٌ، صُبَّ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ صَبًّا - أَوْ أُنْزِلَ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ -». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «لَوْلَا شَبَابٌ خُشَّعٌ، وَشُيُوخٌ رُكَّعٌ، وَأَطْفَالٌ رُضَّعٌ، وَبَهَائِمُ رُتَّعٌ، لَصُبَّ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ صَبًّا، ثُمَّ لَرَضَّ رَضًّا "". وَقَالَ: "" مَهْلًا عَنِ اللَّهِ مَهْلًا». وَأَبُو يَعْلَى أَخْصَرُ مِنْهُ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَيْثَمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that he said slowly, for Allāh is severe in punishment, and were it not for nursing infants, bowing men and grazing beasts, punishment would be poured upon you — or sent down upon you — while al-Ṭabarānī's wording mentions humble youths, bowing elders, nursing children and grazing beasts, that punishment would be poured then crushed. > **"Slowly, for Allāh is severe in punishment; were it not for nursing infants, bowing men and grazing beasts, punishment would be poured upon you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دھیان رکھنا ! اللہ تعالیٰ زبردست سزا دینے والا ہے ، اگر دودھ پیتے بچے نہ ہوتے ، رکوع کرنے والے ( یعنی عبادت گزار ) بڑے نہ ہوتے ، اور چرنے والے جانور نہ ہوتے ، تو تم لوگوں پر عذاب انڈیل دیا جانا تھا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم پر عذاب نازل ہو جانا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی معجم اوسط میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ اگر خشوع رکھنے والے نوجوان نہ ہوتے ، اور رکوع کرنے والے بوڑھے نہ ہوتے ، اور دودھ پیتے بچے نہ ہوتے ، اور چرنے والے جانور نہ ہوتے ، تو تم پر عذاب بہا دیا جانا تھا ، اور پھر کچل دیا جانا تھا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے بارے میں دھیان رکھنا ، دھیان رکھنا ( یعنی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ذریعے اس کے عذاب کو دعوت نہ ہو ) ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اس سے زیادہ مختصر روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن خیثم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17691

Majma al-Zawaid #17691

وَعَنْ مُسَافِعٍ الدِّيلِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوْلَا عِبَادٌ لِلَّهِ رُكَّعٌ، وَصِبْيَةٌ رُضَّعٌ، وَبَهَائِمُ رُتَّعٌ، لَصُبَّ عَلَيْكُمُ الْعَذَابُ صَبًّا، ثُمَّ رَضَّ رَضًّا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدِ بْنِ عَمَّارٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Musāfiʿ al-Dīlī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said were it not for Allāh's bowing servants, nursing children and grazing beasts, punishment would be poured upon you, then crushed. > **"Were it not for Allāh's bowing servants, nursing children and grazing beasts, punishment would be poured upon you, then crushed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت مسافع دیلی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر اللہ تعالیٰ کے رکوع کرنے والے ( یعنی عبادت گزار ) بندے نہ ہوتے ، اور دودھ پیتے بچے نہ ہوتے اور چرنے والے جانور نہ ہوتے ، تو تم پر عذاب انڈیل دیا جانا تھا اور پھر کچل دیا جانا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سعد بن عمار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17692

Majma al-Zawaid #17692

عَنِ الْحَكَمِ بْنِ مِينَاءَ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعُمَرَ: "" اجْمَعْ لِي مَنْ هَهُنَا مِنْ قُرَيْشٍ "". فَجَمَعَهُمْ ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتَخْرُجُ إِلَيْهِمْ أَمْ يَدْخُلُونَ؟ قَالَ: "" بَلْ أَخْرُجُ إِلَيْهِمْ "". فَخَرَجَ فَقَالَ: "" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، هَلْ فِيكُمْ غَيْرُكُمْ؟ "". قَالُوا: لَا. إِلَّا بَنُو أَخَوَاتِنَا، قَالَ: "" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ "". ثُمَّ قَالَ: "" يَا مَعْشَرَ قُرَيْشٍ، اعْلَمُوا أَنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِالنَّبِيِّ الْمُتَّقُونَ، فَانْظُرُوا لَا يَأْتِي النَّاسُ بِالْأَعْمَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَتَأْتُونَ بِالدُّنْيَا تَحْمِلُونَهَا، فَأَصُدُّ عَنْكُمْ بِوَجْهِي "". ثُمَّ قَرَأَ: "" {إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيمَ لَلَّذِينَ اتَّبَعُوهُ وَهَذَا النَّبِيُّ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِينَ} [آل عمران: 68]». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مُرْسَلًا، وَفِيهِ أَبُو الْحُوَيْرِثِ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḥakam ibn Mīnāʾ reported that the Prophet ﷺ told ʿUmar to gather those present of Quraysh, so he gathered them and asked whether he should go out or they enter, and he went out saying O company of Quraysh, is there any stranger among you, and they said none except sons of our sisters, so he said the son of a people's sister is of them, then said know that the most deserving of the Prophet are the pious, so take care lest people come with deeds on Resurrection Day while you come carrying the world and he turns his face from you, then recited that the most deserving of Ibrāhīm are those who followed him, this Prophet and those who believed, and Allāh is the Guardian of the believers. > **"O company of Quraysh, know that the most deserving of the Prophet are the pious; take care lest people come with deeds on the Day of Resurrection while you come carrying the world, and I turn my face from you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حکم بن میناء بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا : یہاں قریش کے افراد کو میرے لئے اکٹھا کرو ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو اکٹھا کیا ، پھر انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ ان کے پاس تشریف لے جائیں گے ؟ یا وہ لوگ اندر آ جائیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : بلکہ میں ان کے پاس جاؤں گا ، پھر آپ باہر تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا : اے قریش کے گروہ ! کیا تمہارے درمیان کوئی ایسا فرد ہے ، جو تمہارے علاوہ ہو ؟ انہوں نے عرض کی : جی نہیں ! البتہ ہمارا ایک بھانجا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : قوم کا بھانجا ، اُن کا ایک فرد ہوتا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے قریش کے گروہ ! تم لوگ یہ بات جان لو ! لوگوں میں سے ، نبی کے سب سے زیادہ قریب ، پرہیزگار لوگ ہیں ، تو تم لوگ اس بات کا جائزہ لو ! کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ قیامت کے دن لوگ اعمال لے کے آئیں اور تم لوگ دنیا لے کر آؤ ، جسے تم نے اٹھایا ہوا ہو ، اور میں تم سے منہ پھیر لوں ، پھر نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ لوگوں میں سے ، ابراہیم کے سب سے زیادہ قریب وہ ہیں ، جنہوں نے اس کی پیروی کی ، اور یہ نبی ہیں اور ایمان والے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا مددگار ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوالحویرث ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17693

Majma al-Zawaid #17693

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «قَالَ: يَا بَنِي قُصَيٍّ، يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، أَنَا النَّذِيرُ، وَالْمَوْتُ الْمُغِيرُ، وَالسَّاعَةُ الْمَوْعِدُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ضِمَامِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported from the Messenger of Allāh ﷺ that he said O sons of Quṣayy, O sons of ʿAbd Manāf, I am the warner, death is the raider, and the Hour is the appointment. > **"O sons of Quṣayy, O sons of ʿAbd Manāf, I am the warner, death is the raider, and the Hour is the appointment."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے اولاد قصی ! اے اولاد ہاشم ! اے اولاد عبد مناف ! ’’ میں ڈرانے والا ہوں ، اور موت برباد کر دینے والی ہے ، اور قیامت طے شدہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ضمام بن اسماعیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17694

Majma al-Zawaid #17694

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَا ابْنَ آدَمَ اعْمَلْ كَأَنَّكَ تَرَى وَعُدَّ نَفْسَكَ مَعَ الْمَوْتَى، وَإِيَّاكَ وَدَعْوَةَ الْمَظْلُومِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said O son of Ādam, act as if you see, count yourself among the dead, and beware the supplication of the oppressed. > **"O son of Ādam, act as if you see, count yourself among the dead, and beware the supplication of the oppressed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے ابن آدم ! تم یوں عمل کرو ، جیسے تمہیں دیکھا جا رہا ہے ، اور تم اپنا شمار مرحومین کے ساتھ کرو ، اور مظلوم کی بددعا سے بچ کے رہنا !‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

17695

Majma al-Zawaid #17695

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ، اعْلَمُوا أَنَّ الْمَعَادَ إِلَى اللَّهِ، ثُمَّ إِلَى الْجَنَّةِ، أَوْ إِلَى النَّارِ، وَإِنَّهُ إِقَامَةٌ لَا ظَعْنٌ، وَخُلُودٌ لَا مَوْتٌ، فِي أَجْسَادٍ لَا تَمُوتُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا إِلَّا أَنَّ ابْنَ سَابِطٍ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: عَنِ ابْنِ سَابِطٍ قَالَ: قَامَ فِينَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that he said I am Allāh's messenger to you, know that the return is to Allāh, then to Paradise or to Fire, and it is a stay without departure and eternity without death, in bodies that do not die. > **"Know that the return is to Allāh, then to Paradise or to Fire; it is a stay without departure and eternity without death, in bodies that do not die."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں تمہاری طرف اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں ، تم لوگ یہ بات جان لو ! کہ لوٹ کر اللہ تعالیٰ کی طرف جانا ہے ، اور پھر جنت یا جہنم کی طرف جانا ہو گا ، وہ ایک ایسی اقامت ہے جہاں سے منتقل نہیں ہوا جائے گا ، ایسا ہمیشہ رہنا ہے ، جہاں موت نہیں ہو گی ، جہاں جسم نہیں مریں گے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، البتہ سابط نامی راوی نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، تاہم انہوں نے سابط کے بیٹے کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے درمیان کھڑے ہوئے .......۔

17696

Majma al-Zawaid #17696

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْيَوْمَ الرِّهَانُ وَغَدًا السِّبَاقُ، وَالْغَايَةُ الْجَنَّةُ أَوِ النَّارُ، وَالْهَالِكُ مَنْ دَخَلَ النَّارَ. أَنَا الْأَوَّلُ وَأَبُو بَكْرٍ الْمُصَلِّي، وَعُمَرُ الثَّالِثُ، وَالنَّاسُ بَعْدِي عَلَى السَّبْقِ، الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ أَصْرَمُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ، وَفِي إِسْنَادِ الْأَوْسَطِ الْوَلِيدُ بْنُ الْفَضْلِ الْعَنْزِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said today is training and tomorrow the race, with the goal Paradise or Fire, and the ruined is whoever enters the Fire; I am first, Abū Bakr the next, ʿUmar third, and people after me by precedence, first then first. > **"Today is training and tomorrow the race, and the goal is Paradise or Fire; the ruined is whoever enters the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم علی ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ آج دوڑ میں حصہ لینے کا دن ہے اور کل نتیجہ کا دن ہو گا ، اور انجام جنت یا جہنم ہو گی ، وہ شخص ہلاکت کا شکار ہو گا ، جو جہنم میں داخل ہو گا ، میں سبقت لے جانے والا ہوں ، ابوبکر اس کے بعد والا ہے ، عمر اس کے بعد والا ہے ، اور دوسرے لوگ درجہ بدرجہ ہمارے پیچھے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اصرم بن حوشب ہے اور وہ متروک ہے ، معجم اوسط کی سند میں ایک راوی ولید بن فضل عنزی ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

17697

Majma al-Zawaid #17697

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يُعْطِي الدُّنْيَا مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَا يُعْطِي الدِّينَ إِلَّا مَنْ أَحَبَّ، فَمَنْ أَعْطَاهُ اللَّهُ الدِّينَ فَقَدْ أَحَبَّهُ. وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَا يُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّى يَسْلَمَ قَلْبُهُ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَلَا يُؤْمِنُ حَتَّى يَأْمَنَ جَارُهُ بَوَائِقَهُ "". قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا بَوَائِقُهُ؟ قَالَ: "" غَشْمُهُ، وَظُلْمُهُ، وَلَا يَكْسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَيُنْفِقُ فِيهِ، فَيُبَارَكُ لَهُ فِيهِ، وَلَا يَتَصَدَّقُ بِهِ فَيُقْبَلُ مِنْهُ، وَلَا يَتْرُكُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ إِلَّا كَانَ زَادَهُ إِلَى النَّارِ. إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَمْحُو السَّيِّئِ بِالسَّيِّئِ وَلَكِنْ يَمْحُو السَّيِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِيثَ لَا يَمْحُو الْخَبِيثَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh has divided your characters among you as He divided your provisions, and gives the world to whom He loves and whom He does not love, but gives religion only to whom He loves, so whomsoever Allāh gives religion has loved him; and by Him in whose Hand is his soul, no servant submits until his heart and tongue submit to Allāh, nor believes until his neighbour is safe from his wrongs, and when asked what his wrongs are said his tyranny and injustice; and no servant earns wealth unlawfully then spends it but it is blessed, nor gives it in charity but it is accepted, nor leaves it behind except as provision to the Fire; for Allāh does not erase evil with evil but erases evil with good, and the impure does not erase the impure. > **"Allāh has divided your characters among you as He divided your provisions; Allāh does not erase evil with evil but erases evil with good, and the impure does not erase the impure."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان اخلاق اسی طرح تقسیم کیے ہیں ، جس طرح اس نے تمہارے درمیان رزق تقسیم کیا ہے ، اللہ تعالیٰ دنیا اس شخص کو بھی دیتا ہے ، جسے وہ پسند کرتا ہے ، اور اسے بھی دیتا ہے جسے وہ پسند نہیں کرتا ہے ، لیکن وہ دین صرف اس کو دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے ، تو جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے دین عطا کیا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے پسند کرتا ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، بندہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوتا ، جب تک اس کا دل اور اس کی زبان اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار نہ ہو جائیں ، اور بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہوتا ، جب تک اس کا پڑوی اس کی زیادتیوں سے محفوظ نہ ہو ، راوی کہتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کی زیادتیوں سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کا دھوکہ دینا ، اس کا ظلم کرنا ۔‘‘ ’’ ( نبی اکرم ﷺ نے یہ بھی فرمایا : ) جو بندہ حرام طور پر مال کما کر ، اس میں سے خرچ کرتا ہے ، اس بندے کے لیے اس مال میں برکت نہیں رکھی جاتی ہے اور اگر وہ اس کو صدقہ کرتا ہے ، تو اس کی طرف سے وہ قبول نہیں ہوتا ہے ، اور اگر وہ اس مال کو اپنے پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے ، تو وہ مال جہنم کی طرف جانے کے لیے اس کا زاد سفر ہوتا ہے ، بے شک اللہ تعالیٰ برائی کو ، برائی کے ذریعے نہیں مٹاتا ہے بلکہ وہ اچھائی کے ذریعے برائی کو مٹاتا ہے ، خبیث چیز ، خبیث کو نہیں مٹاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

17698

Majma al-Zawaid #17698

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - فِيمَا يَعْلَمُ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِيَّاكُمْ وَمُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ ; فَإِنَّ مِثْلَ مُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ كَقَوْمٍ نَزَلُوا بَطْنَ وَادٍ، فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، حَتَّى أَنْضَجُوا خُبْزَتَهُمْ، وَإِنَّ مُحَقِّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكُهُ». وَقَالَ أَبُو حَازِمٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: - قَالَ أَبُو ضَمْرَةَ: وَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ - قَالَ: "" «مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَهَاتَيْنِ "". وَفَرَّقَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ الْوُسْطَى وَالَّتِي تَلِي الْإِبْهَامَ، ثُمَّ قَالَ: "" مَثَلِي وَمَثَلُ السَّاعَةِ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَعَثَهُ قَوْمُهُ طَلِيعَةً، فَلَمَّا خَشِيَ أَنْ يُسْبَقَ أَلَاحَ بِثَوْبِهِ: أَتَيْتُمْ أَتَيْتُمْ "". ثُمَّ يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَنَا ذَاكَ» "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd, may Allāh be pleased with him, as known to Anas ibn ʿIyāḍ, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said beware of belittled sins, for their likeness is a people camping in a valley bottom, each bringing a stick until they bake their bread, and when their owner is seized for them they destroy him; and Abū Ḥāzim reported, through Abū Ḍamra from Sahl, that the Prophet ﷺ separated his middle finger from the one next to the thumb saying my likeness and the Hour are like these two, and like a man sent by his people as a scout who, fearing to be overtaken, waves his garment crying they have come to you, they have come to you, then said I am he. > **"Beware of belittled sins; when their owner is seized for them they destroy him. My likeness and the Hour are like these two — I am the warner."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

انس بن عیاض نامی راوی کا یہ کہنا ہے : حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم حقیر گناہوں کے ارتکاب سے بچ کے رہو ، کیونکہ حقیر گناہوں کی مثال ، ان لوگوں کی مانند ہے ، جو کسی وادی کے نشیبی حصے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، پھر ایک شخص ایک لکڑی لے کر آتا ہے ، ایک شخص ایک لکڑی لے کر آتا ہے ، یہاں تک کہ وہ ( ان لکڑیوں کو جلا کر ) روٹی پکا لیتے ہیں ، حقیر گناہوں کو کرنے والے کی بھی ، جب ان گناہوں کے حوالے سے گرفت ہو گی ، تو وہ گناہ اس شخص کو ہلاکت کا شکار کر دیں گے ۔‘‘ ابوحازم بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ابوضمرہ نامی راوی بیان کرتے ہیں ، میرا خیال ہے یہ روایت ، حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول ہے ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ میری اور قیامت کی مثال ، ان دو کی مانند ہے ‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی کو الگ کر کے ( یعنی ان دونوں انگلیوں کے ذریعے اشارہ کر کے ) یہ بات ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : ’’ میری اور قیامت کی مثال ، اُس شخص کی مانند ہے ، جسے اس کی قوم صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے آگے بھیجتی ہے ، اور جب اس شخص کو یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں ( خطرہ اُس کی قوم تک ) اس سے پہلے نہ پہنچ جائے ، تو وہ اپنا کپڑا لہرا کر یہ کہتا ہے : ( خطرہ ) تم تک پہنچنے والا ہے ، تم تک پہنچنے والا ہے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں وہ فرد ہوں “۔ یہ پوری روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17699

Majma al-Zawaid #17699

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «يَا بَنِي هَاشِمٍ، يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، يَا صَفِيَّةُ، عَمَّةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَا فَاطِمَةُ، بِنْتَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا أَعْرِفَنَّ مَا جَاءَ النَّاسُ غَدًا يَحْمِلُونَ الْآخِرَةَ، وَجِئْتُمْ تَحْمِلُونَ الدُّنْيَا، إِنَّمَا أَوْلِيَائِي مِنْكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْمُتَّقُونَ، إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ كَمَثَلِ رَجُلٍ مُسْتَصْبِحٍ فِي قَوْمِهِ أَتَاهُمْ فَقَالَ: يَا قَوْمِ، أَتَيْتُمْ غَشَيْتُمْ، وَاصَبَاحَاهُ، أَنَا النَّذِيرُ، وَالْمَوْتُ الْمُغِيرُ، وَالسَّاعَةُ الْمَوْعِدُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْوَقَارُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said O Banū Hāshim, O Banū ʿAbd al-Muṭṭalib, O Ṣafiyya aunt of the Messenger of Allāh ﷺ, O Fāṭima daughter of Muḥammad ﷺ, let me not find that people come tomorrow carrying the Hereafter while you come carrying the world; my allies among you on Resurrection Day are the pious; my likeness and yours is a man kindling light among his people who cries O people, you have been come upon, morning danger, I am the warner, death the destroyer, the Hour the appointment. > **"Let me not find that people come tomorrow carrying the Hereafter while you come carrying the world; my allies among you on the Day of Resurrection are the pious."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے بنو ہاشم ! اے بنو عبدالمطلب ! اے صفیہ ! جو اللہ کے رسول کی پھوپھی ہیں ، اے محمد کی صاحبزادی فاطمہ ! میں یہ صورتحال نہ پاؤں کہ کل ( قیامت کے دن ) لوگ آئیں ، تو انہوں نے آخرت اٹھائی ہوئی ہو ، اور تم آؤ ، تو تم نے دنیا اٹھائی ہوئی ہو ، قیامت کے دن تم میں سے میرے ساتھی پرہیزگار لوگ ہوں گے ، میری اور تمہاری مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جو اپنی قوم میں آ کر ان سے یہ کہتا ہے : اے میری قوم ! خطرہ تمہارے سر پر پہنچنے والا ہے ، خطرے کی بات ہے ، میں ڈرانے والا ہوں ، موت برباد کر دینے والی ہے ، اور قیامت کا وعدہ ہے ( یعنی قیامت طے شدہ ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن یحیی وقار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17700

Majma al-Zawaid #17700

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى نَاقَتِهِ الْعَضْبَاءِ - وَلَيْسَتْ بِالْجَدْعَاءِ - فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، كَأَنَّ الْمَوْتَ فِيهَا عَلَى غَيْرِنَا كُتِبَ، وَكَأَنَّ الْحَقَّ فِيهَا عَلَى غَيْرِنَا وَجَبَ، وَكَأَنَّمَا نُشَيِّعُ مِنَ الْمَوْتَى سُفُرٌ عَمَّا قَلِيلٍ إِلَيْنَا رَاجِعُونَ، نُبَوِّئُهُمْ أَجْدَاثَهُمْ، وَنَأْكُلُ تُرَاثَهُمْ كَأَنَّكُمْ مُخَلَّدُونَ بَعْدَهُمْ، قَدْ نَسِيتُمْ كُلَّ وَاعِظَةٍ، وَأَمِنْتُمْ كُلَّ جَائِحَةٍ. طُوبَى لِمَنْ شَغَلَهُ عَيْبُهُ عَنْ عُيُوبِ النَّاسِ، وَتَوَاضَعَ لِلَّهِ فِي غَيْرِ مَنْقَصَةٍ، وَأَنْفَقَ مِنْ مَالٍ جَمَعَهُ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَخَالَطَ أَهْلَ الْفِقْهِ، وَجَانَبَ أَهْلَ الشَّكِّ وَالْبِدْعَةِ، وَصَلُحَتْ عَلَانِيَتُهُ، وَعَزَلَ النَّاسَ عَنْ شَرِّهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ النَّصْرُ بْنُ مُحْرِزٍ (*) وَغَيْرُهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ addressed them upon his she-camel al-ʿAḍbāʾ — not al-Jadʿāʾ — saying O people, it is as if death therein is decreed for others, truth therein obligatory upon others, as if the dead we escort are travellers soon returning to us, lodging them in graves and consuming their inheritance as if immortal after them, having forgotten every admonition and felt safe from every calamity; blessed is whoever is busied by his own fault from people's faults, humbles himself for Allāh without deficiency, spends from wealth gathered without disobedience, mixes with the learned, avoids doubters and innovators, keeps his outward sound, and isolates people from his evil. > **"It is as if death therein is decreed for others and truth therein obligatory upon others; blessed is whoever is busied by his own fault from people's faults."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنی اونٹنی ’’ عضباء ‘‘ پر ’’ جدعاء ‘‘ پر نہیں ، موجود رہتے ہوئے ، ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! ( یوں محسوس ہوتا ہے ) جیسے موت ہمارے علاوہ پر لازم قرار دی گئی ہے ، اور حق ہمارے علاوہ پر واجب ہوا ہے ، اور جن مردوں ( کے جنازوں ) کے ساتھ ہم چلتے ہیں ، وہ تھوڑا سا سفر ہے ، پھر ہم ان کو قبروں میں رکھ دیں گے اور ان کی وراثت کھا لیں گے ، اور گویا تم نے ان کے بعد ہمیشہ زندہ رہنا ہے ، تم نصیحت کرنے والی ہر چیز بھول چکے ہو ، اور ہلاک کرنے والی ہر چیز سے ( خود کو ) محفوظ سمجھے ہوئے ہو ، اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس کے ذاتی عیوب اُسے لوگوں کی عیب چینی سے محفوظ رکھیں ، اور وہ کوئی کمی کیے بغیر اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرے ، اور وہ اس مال میں سے خرچ کرے ، جو اس نے معصیت کے علاوہ ( یعنی حلال طریقے سے ) کمایا ہو ، وہ اہل علم کے ساتھ میل جول رکھے ، اور شک کرنے والوں اور بدعتیوں سے لاتعلق رہے ، اُس کا ظاہر ٹھیک ہو ، اور وہ اپنی ذات کے شر کے حوالے سے ، لوگوں سے الگ تھلگ رہے ( یعنی لوگ اس کے شر سے محفوظ ہوں ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نضر بن محرز ہے اور اس کے علاوہ دیگر ضعیف راوی بھی ہیں ۔

17701

Majma al-Zawaid #17701

وَعَنْ رَكْبٍ الْمِصْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «طُوبَى لِمَنْ تَوَاضَعَ فِي غَيْرِ مَنْقَصَةٍ، وَذَلَّ فِي نَفْسِهِ مِنْ غَيْرِ مَسْكَنَةٍ، وَأَنْفَقَ مَالًا جَمَعَهُ فِي غَيْرِ مَعْصِيَةٍ، وَرَحِمَ أَهْلَ الذُّلِّ وَالْمَسْكَنَةِ، وَخَالَطَ أَهْلَ الْفِقْهِ وَالْحِكْمَةِ. طُوبَى لِمَنْ طَابَ كَسْبُهُ، وَصَلُحَتْ سَرِيرَتُهُ، وَكَرُمَتْ عَلَانِيَتُهُ، وَعَزَلَ عَنِ النَّاسِ شَرَّهُ. طُوبَى لِمَنْ عَمِلَ بِعِلْمِهِ، وَأَنْفَقَ الْفَضْلَ مِنْ مَالِهِ، وَأَمْسَكَ الْفَضْلَ مِنْ قَوْلِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ نَصِيحٍ الْعَنْسِيِّ عَنْ رَكْبٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Rakb al-Miṣrī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said blessed is whoever is humble without deficiency, abases himself without misery, spends wealth gathered without disobedience, shows mercy to the lowly and needy, and mixes with the learned and wise; blessed is whoever has pure earnings, sound inward, noble outward, and isolates people from his evil; blessed is whoever acts upon his knowledge, spends the surplus of his wealth, and withholds the surplus of his speech. > **"Blessed is whoever is humble without deficiency, has pure earnings, a sound inward and a noble outward, acts upon his knowledge, spends the surplus of his wealth, and withholds the surplus of his speech."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رکب مصری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جو کسی نقص کے بغیر تواضع اختیار کرے ، اور کسی ذلت کے بغیر خود کو عاجز سمجھے ، اور اس مال کو خرچ کرے ، جو اس نے معصیت کے علاوہ ( یعنی جائز طریقے سے کمایا ہو ) وہ غریب اور معمولی لوگوں پر رحم کرے ، علم اور حکمت والے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے ، اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جس کی کمائی پاکیزہ ہو ، جس کا باطن ٹھیک ہو ، جس کا ظاہر معزز ہو ، اور وہ لوگوں کو اپنے شر سے بچا کے رکھے ، اس شخص کے لیے مبارکباد ہے ، جو اپنے علم کے مطابق عمل کرے اور اپنے اضافی مال کو ( اللہ تعالیٰ کی راہ میں ) خرچ کر دے ، اور غیر ضروری گفتگو سے پرہیز کرے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نصیح عنسی کے حوالے سے حضرت رکب مصری رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے اور میں اس ( یعنی نصیح عنسی ) سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17702

Majma al-Zawaid #17702

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «أَتَى رَجُلٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنِي حَدِيثًا وَاجْعَلْهُ مُوجَزًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" صَلِّ صَلَاةَ مُوَدِّعٍ ; فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ لَا تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ، أْيَسْ مِمَّا فِي أَيْدِي النَّاسِ تَكُنْ غَنِيًّا، وَإِيَّاكَ وَمَا يُعْتَذَرُ مِنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them both, reported that a man came to the Prophet ﷺ asking for a brief report, so the Prophet ﷺ told him to pray the prayer of one departing, for though he does not see Him, He sees him; to despair of what is in people's hands and be rich; and to avoid what requires apology. > **"Pray the prayer of one departing, for though you do not see Him, He sees you; despair of what is in people's hands and you shall be rich; and beware what requires apology."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی بات ارشاد فرمائیے ، اور وہ مختصر ہو ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم نماز یوں ادا کرو ، جیسے رخصت ہونے لگے ہو ، کیونکہ اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو ، تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے ، اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے ، اُس کے حوالے سے مایوس ہو جاؤ ، تم خوشحال ہو جاؤ گے اور تم ہر ایسی چیز سے بچ کے رہو ، جس کے حوالے سے معذرت کرنی پڑے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17703

Majma al-Zawaid #17703

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا بَالُ أَقْوَامٍ يُشَرِّفُونَ الْمُتْرَفِينَ، وَيَسْتَخِفُّونَ بِالْعَابِدِينَ، وَيَعْمَلُونَ بِالْقُرْآنِ مَا وَافَقَ أَهْوَاءَهُمْ، وَمَا خَالَفَ أَهْوَاءَهُمْ تَرَكُوهُ، فَعِنْدَ ذَلِكَ يُؤْمِنُونَ بِبَعْضِ الْكِتَابِ وَيَكْفُرُونَ بِبَعْضٍ، يَسْعَوْنَ فِيمَا يُدْرِكُونَ بِغَيْرِ سَعْيٍ مِنَ الْقَدَرِ الْمَقْدُورِ، وَالْأَجَلِ الْمَكْتُوبِ، وَالرِّزْقِ الْمَقْسُومِ، وَلَا يَسْعَوْنَ فِيمَا لَا يُدْرَكُ إِلَّا بِالسَّعْيِ مِنَ الْجَزَاءِ الْمَوْفُورِ، وَالسَّعْيِ الْمَشْكُورِ، وَالتِّجَارَةِ الَّتِي لَا تَبُورُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ يَزِيدَ الرَّفَّاءُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said what is with people that they honour the luxurious, belittle worshippers, act upon the Qurʾān where it suits their desires and abandon what opposes them, thus believing in part of the Book and disbelieving in part, striving for what is attained without striving — the decreed decree, written term and apportioned provision — while not striving for what is attained only by striving: the ample recompense, the thanked striving, and the trade that never perishes. > **"What is with people that they honour the luxurious and belittle worshippers, acting upon the Qurʾān where it suits their desires and abandoning what opposes them?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ لوگوں کا کیا معاملہ ہے ؟ کہ وہ مالداروں میں دلچسپی رکھتے ہیں ، اور عبادت گزاروں کو کمتر سمجھتے ہیں ، وہ قرآن کے ان احکام پر عمل کرتے ہیں ، جو ان کی خواہشات کے مطابق ہوں اور جو ان کی خواہشات کے برخلاف ہوں ، اسے چھوڑ دیتے ہیں ، تو ایسی صورتحال میں وہ کتاب کے کچھ حصے پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے کچھ حصے کا انکار کرتے ہیں ، وہ ایسی چیز کے بارے میں کوشش کرتے ہیں ، جسے کوشش کے بغیر حاصل کیا جا سکتا ہے ، جس کا تعلق ، طے شدہ تقدیر اور تحریر ( یا لازم ) کی گئی مخصوص مدت اور تقسیم کئے گئے رزق کے ساتھ ہے ، لیکن وہ اس چیز کے بارے میں کوشش نہیں کرتے ، جسے صرف کوشش کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے ، جن کا تعلق بھرپور جزاء ، قبول کی گئی کوشش اور اس تجارت کے ساتھ ہے ، جس میں نقصان نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن یزید رفاء ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17704

Majma al-Zawaid #17704

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «سُعِّرَتِ النَّارُ، وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ، يَا أَهْلَ الْحُجُرَاتِ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ: قَائِدُ الْأَعْمَشِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ: يُخْطِئُ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Prophet ﷺ say the Fire has been stoked and Paradise brought near, O people of the chambers, if you knew what I know you would laugh little and weep much. > **"The Fire has been stoked and Paradise brought near; O people of the chambers, if you knew what I know you would laugh little and weep much."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جہنم کو دہکا دیا گیا ہے اور جنت کو آراستہ کر دیا گیا ہے ، اے حجروں میں رہنے والو ! اگر تمہیں اس چیز کا پتہ چل جائے ، جس کا مجھے علم ہے ، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن سعید ہے ، جو اعمش کو ساتھ لے کر چلتا تھا اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں : یہ غلطی کر جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ، اور اس کے بعض راویوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

17705

Majma al-Zawaid #17705

وَعَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ قَالَ: «خَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ غَدَاةٍ فَقَالَ: "" سُعِّرَتِ النَّارُ لِأَهْلِ النَّارِ، وَجَاءَتِ الْفِتَنُ كَقِطَعِ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Umm Maktūm, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ came out one morning saying the Fire has been stoked for its people and trials come like pieces of dark night; if you knew what I know you would laugh little and weep much. > **"The Fire has been stoked for its people and trials come like pieces of dark night; if you knew what I know you would laugh little and weep much."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہنم کو اہل جہنم کے لیے دہکا دیا گیا ہے ، اور ایسے فتنے آ رہے ہیں ، جو تاریک رات کے ٹکڑوں کی مانند ہوں گے ، جو میں جانتا ہوں ، اگر وہ تم جان لو ، تو تم تھوڑا ہنسا کرو ، اور زیادہ رویا کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17706

Majma al-Zawaid #17706

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا، وَلَخَرَجْتُمْ إِلَى الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُونَ إِلَى اللَّهِ، لَا تَدْرُونَ تَنْجُونَ أَوْ لَا تَنْجُونَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ مِنْ طَرِيقِ ابْنَةِ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِيهَا، وَلَمْ أَعْرِفْهَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that if you knew what he knows you would laugh little and weep much, and would go out to the open roads crying out to Allāh, not knowing whether you shall be saved or not. > **"If you knew what I know you would laugh little and weep much, and would go out to the open roads crying out to Allāh, not knowing whether you shall be saved or not."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو میں جانتا ہوں ، اگر وہ تم جان لو ، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو ، اور تم ویرانوں کی طرف نکل جاؤ ، تاکہ تم اللہ کی بارگاہ میں گریہ و زاری کرو ، تم نہیں جانتے کہ تم نجات پاؤ گے یا تم نجات نہیں پاؤ گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند روایت حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کے حوالے سے ، ان کے والد سے نقل کی ہے اور میں اس صاحبزادی سے واقف نہیں ہوں ، طبرانی کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17707

Majma al-Zawaid #17707

وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Samura ibn Jundub, may Allāh be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ used to say if you knew what I know you would laugh little and weep much. > **"If you knew what I know you would laugh little and weep much."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو میں جانتا ہوں ، اگر وہ تم جان لو ، تو تم تھوڑا ہنسا کرو اور زیادہ رویا کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور امام بزار کی سند ضعیف ہے ۔

17708

Majma al-Zawaid #17708

عَنْ كُلَيْبِ بْنِ حَزْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «يَا قَوْمِ، اطْلُبُوا الْجَنَّةَ، وَاهْرَبُوا مِنَ النَّارِ جُهْدَكُمْ ; فَإِنَّ الْجَنَّةَ لَا يَنَامُ طَالِبُهَا، وَالنَّارَ لَا يَنَامُ هَارِبُهَا. أَلَا وَإِنَّ الْآخِرَةَ مُحَفَّفَةً الْيَوْمَ بِالْمَكَارِهِ، وَإِنَّ الدُّنْيَا مُحَفَّفَةٌ بِالشَّهَوَاتِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ عَنْهُ، وَفِيهِ مُعَلَّى بْنُ الْأَشْدَقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.

EnglishUnverified translation

Kulayb ibn Ḥazn, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say O people, seek Paradise and flee the Fire with your utmost effort, for the seeker of Paradise does not sleep nor does the fleer from the Fire; the Hereafter today is veiled in hardships and the world is veiled in lusts. > **"O people, seek Paradise and flee the Fire with your utmost effort; the Hereafter today is veiled in hardships and the world is veiled in lusts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کلیب بن حزن رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے لوگو ! اپنی بھرپور کوشش کے ساتھ جنت طلب کرو اور اپنی بھرپور کوشش کے ساتھ جہنم سے بچو ، کیونکہ جنت ایسی چیز ہے جس کا طلبگار سوتا نہیں ہے ، اور جہنمی ایسی چیز ہے ، جس سے بچنے کی کوشش کرنے والا سوتا نہیں ہے ، خبردار ! آج ( یعنی دنیا میں ) ناپسندیدہ چیزوں کے ذریعے آخرت کو ڈھانپا گیا ہے ، اور دنیا کو نفسانی خواہشات کے ذریعے ڈھانپا گیا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے معجم اوسط میں اس کو اس صحابی کے حوالے سے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یعلیٰ بن اشدق ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔

17709

Majma al-Zawaid #17709

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا رَأَيْتُ مِثْلَ الْجَنَّةِ، نَامَ طَالِبُهَا. وَلَا مِثْلَ النَّارِ نَامَ هَارِبُهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said he never saw the like of Paradise whose seeker sleeps, nor the like of the Fire whose fleer sleeps. > **"I never saw the like of Paradise whose seeker sleeps, nor the like of the Fire whose fleer sleeps."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے جنت جیسی کوئی چیز نہیں دیکھی کہ جس کا طلبگار سو جاتا ہو ، اور جہنم جیسی چیز نہیں دیکھی ، جس سے بچنے کی کوشش کرنے والا سو جاتا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17710

Majma al-Zawaid #17710

عَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ: «يَا كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، الصَّلَاةُ قُرْبَانٌ، وَالصِّيَامُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ. يَا كَعْبُ بْنُ عُجْرَةَ، النَّاسُ غَادِيَانِ، النَّاسُ غَادِيَانِ: فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمَوْبِقٌ رَقَبَتَهَا، وَمُبْتَاعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقٌ رَقَبَتَهُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقِ بْنِ أَبِي إِسْرَائِيلَ، وَهُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ.

EnglishUnverified translation

Jābir, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say to Kaʿb ibn ʿUjra that prayer is devotion, fasting a shield, and charity extinguishes sin as water extinguishes fire; O Kaʿb ibn ʿUjra, people go out in two mornings, people go out in two ways: one selling himself and destroying his neck, and one buying himself and freeing his neck. > **"O Kaʿb ibn ʿUjra, prayer is devotion, fasting is a shield, and charity extinguishes sin as water extinguishes fire; people go out in two ways: one selling himself and destroying his neck, and one buying himself and freeing his neck."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ’’ اے کعب بن عجرہ ! نماز قربت کے حصول کا باعث ہے ، روزہ ڈھال ہے ، صدقہ گناہ کو یوں بجھا دیتا ہے ، جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے ۔ اے کعب بن عجرہ ! لوگ دو طرح کی صورت حال میں ، صبح کرتے ہیں ، لوگ دو طرح کی صورت حال میں صبح کرتے ہیں ، ایک شخص اپنے آپ کو فروخت کر کے خود کو غلام بنوا لیتا ہے اور کوئی شخص اپنے آپ کو خرید کر خود کو آزاد کروا لیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن ابواسرائیل کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ اور مامون ہے ۔

17711

Majma al-Zawaid #17711

وَعَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، إِذَا كَانَ عَلَيْكَ أُمَرَاءُ مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ ; فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَا أَنَا مِنْهُ، وَلَا يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ. يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، إِنَّهُ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ لَحْمٌ وَلَا دَمٌ نَبَتَا مِنْ سُحْتٍ ; فَالنَّارُ أَوْلَى بِهِ. يَا كَعْبُ بْنَ عُجْرَةَ، النَّاسُ غَادِيَانِ وَرَائِحَانِ: فَغَادٍ فِي فِكَاكِ رَقَبَتِهِ فَمُعْتِقُهَا، وَغَادٍ فَمَوْبِقُهَا. يَا كَعْبُ، الصَّلَاةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّدَقَةُ تُذْهِبُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يَذْهَبُ الْجَلِيدُ عَلَى الصَّفَا». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Kaʿb ibn ʿUjra, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said O Kaʿb ibn ʿUjra, when rulers come, whoever enters upon them, confirms their lies and aids their injustice is not of him nor he of him, and shall not come to the Pond, while whoever enters without confirming lies or aiding injustice is of him and he of him; O Kaʿb, no flesh or blood grown from unlawful wealth enters Paradise, the Fire is worthier of it; O Kaʿb, people go out morning and evening: one freeing his neck and one destroying it; O Kaʿb, prayer is a proof and charity removes sin as ice melts upon smooth rock. > **"Whoever enters upon them and confirms their lies and aids their injustice is not of me nor am I of him; no flesh grown from unlawful wealth enters Paradise; prayer is a proof and charity removes sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے کعب بن عجرہ ! جب تم پر ایسے حکمران آ جائیں کہ جو شخص ان کے پاس آئے ، اور وہ ان کے جھوٹ کے بارے میں ان کی تصدیق کرے ، اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد کرے ، تو اس شخص کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا ، اور وہ شخص حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا ، اور جو شخص ان کے پاس جائے اور ان کے جھوٹ کے بارے میں ان کی تصدیق نہ کرے اور ان کے ظلم کے بارے میں ان کی مدد نہ کرے ، تو اس شخص کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا ۔‘‘ اے کعب بن عجرہ ! جنت میں ایسا گوشت ، یا خون داخل نہیں ہو گا ، جن کی نشوونما حرام کے ذریعے ہوئی ہو ، جہنم اُن کی زیادہ حقدار ہو گی ۔ اے کعب بن عجرہ ! لوگ دو طرح کی حالت میں صبح کرتے ہیں ، کوئی شخص اپنی گردن کو آزاد کروا کے اُسے آزاد کر دیتا ہے اور کوئی اسے غلام بنوا لیتا ہے ۔ اے کعب ! نماز ، برہان ہے اور صدقہ ، گناہ کو یوں ختم کر دیتا ہے ، جس طرح جما ہوا قطرہ ، ہموار جگہ سے پھسل جاتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

17712

Majma al-Zawaid #17712

عَنْ أَنَسٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَعِظُ أَصْحَابَهُ، فَإِذَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمُرُّونَ فَجَاءَ أَحَدُهُمْ فَجَلَسَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَضَى الثَّانِي قَلِيلًا ثُمَّ جَلَسَ، وَمَضَى الثَّالِثُ عَلَى وَجْهِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِهَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ؟ أَمَّا الَّذِي جَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْنَا، فَإِنَّهُ تَابَ فَتَابَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأَمَّا الَّذِي مَضَى قَلِيلًا ثُمَّ جَلَسَ، فَإِنَّهُ اسْتَحْيَا فَاسْتَحْيَا اللَّهُ مِنْهُ، وَأَمَّا الَّذِي مَضَى عَلَى وَجْهِهِ، فَإِنَّهُ اسْتَغْنَى فَاسْتَغْنَى اللَّهُ عَنْهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ was admonishing his Companions when three men passed: one came and sat with the Prophet ﷺ, the second went a little then sat, the third went on his way, so the Messenger of Allāh ﷺ asked shall he not inform them of the three: the one who came and sat repented and Allāh turned to him, the one who went a little then sat was shy and Allāh was shy of him, and the one who went on disdained and Allāh dispensed with him. > **"Shall I not inform you of these three? The one who came and sat repented and Allāh turned to him; the one who was shy, Allāh was shy of him; and the one who disdained, Allāh dispensed with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ اپنے اصحاب کو وعظ کر رہے تھے ، اسی دوران وہاں سے تین افراد گزرے ، ان میں سے ایک شخص آیا ، اور نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھ گیا ، دوسرا شخص تھوڑا آگے گیا اور پھر وہ بیٹھ گیا ، اور تیسرا شخص چلتا چلا گیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ان تین افراد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، جو آیا اور ہمارے پاس بیٹھ گیا ، تو اس نے توبہ کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی توبہ کو قبول کیا ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، جو تھوڑا آگے گیا اور پھر بیٹھ گیا ، تو اس شخص نے حیا کی اور اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے حیا کی ، جہاں تک اس شخص کا تعلق ہے ، جو چلتا چلا گیا ، تو اس نے لاتعلقی کا اظہار کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے بے نیازی اختیار کی ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

17713

Majma al-Zawaid #17713

عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ لِرَبِّكُمْ فِي أَيَّامِ دَهْرِكُمْ نَفَحَاتٍ، فَتَعَرَّضُوا لَهَا ; لَعَلَّ أَحَدَكُمْ أَنْ يُصِيبَهُ مِنْهَا نَفْحَةٌ لَا يَشْقَى بَعْدَهَا أَبَدًا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَمَنْ عَرَفْتُهُمْ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Muḥammad ibn Maslama, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said your Lord has breezes in the days of your time, so expose yourselves to them, for perhaps one of you shall be struck by a breeze after which he never suffers misery. > **"Your Lord has breezes in the days of your time, so expose yourselves to them, for perhaps one of you shall be struck by a breeze after which he never suffers misery."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ہر وقت میں ، تمہارے پروردگار کی رحمت کے جھونکے ہوتے ہیں ، تو تم ان کے درپے ہوا کرو ، ہو سکتا ہے تم میں سے کسی ایک کو ان میں سے کوئی جھونکا نصیب ہو جائے ، اور وہ ( شخص ) اُس کے بعد کبھی بد نصیب نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں اور جن سے میں واقف ہوں ، اُن کی توثیق کی گئی ہے ۔

17714

Majma al-Zawaid #17714

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «افْعَلُوا الْخَيْرَ دَهْرَكُمْ، وَتَعَرَّضُوا لِنَفَحَاتِ رَحْمَةِ اللَّهِ، فَإِنَّ لِلَّهِ نَفَحَاتٍ مَنْ رَحِمَتِهِ، يُصِيبُ بِهَا مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ، وَسَلُوا اللَّهَ أَنْ يَسْتُرَ عَوْرَاتِكُمْ، وَأَنْ يُؤَمِّنَ رَوْعَاتِكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِيسَى بْنِ مُوسَى بْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said do good throughout your time and expose yourselves to the breezes of Allāh's mercy, for Allāh has breezes from His mercy striking whom He wills among His servants, and ask Allāh to cover your faults and secure your fears. > **"Do good throughout your time and expose yourselves to the breezes of Allāh's mercy, and ask Allāh to cover your faults and secure your fears."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم ہمیشہ بھلائی کرتے رہو اور اپنے پروردگار کی رحمت کے جھونکوں کے درپے رہو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ، اپنی رحمت کے جھونکے نصیب کرتا ہے ، تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ وہ تمہارے پوشیدہ معاملات کی پردہ پوشی کرے اور تمہیں پریشانیوں سے محفوظ رکھے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عیسیٰ بن موسیٰ بن ایاس بن بکیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17715

Majma al-Zawaid #17715

عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: «مَا أَنْكَرْتُمْ مِنْ زَمَانِكُمْ فَبِمَا غَيَّرْتُمْ مِنْ أَعْمَالِكُمْ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا فَوَاهًا وَاهًا، وَإِنْ يَكُ شَرًّا فَآهًا آهًا». هَكَذَا سَمِعْتُ مِنْ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allāh be pleased with him, said as a stopped report heard from your Prophet ﷺ that whatever you dislike in your time is due to what you changed in your deeds: if good, then wāhan wāhan in admiration, and if evil, then āhan āhan in grief. > **"Whatever you dislike in your time is due to what you changed in your deeds: if good, then wāhan wāhan; and if evil, then āhan āhan."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ تم اپنے زمانے کے حوالے سے جس چیز کو منکر قرار دیتے ہو ، تو وہ چیز تمہارے اعمال کی تبدیلی ہے ، اگر وہ اچھی ہے ، تو کیا کہنے ؟ اور اگر وہ بری ہے ، تو پھر افسوس کی بات ہے ۔‘‘ میں نے تمہارے نبی ﷺ کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17716

Majma al-Zawaid #17716

وَعَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا لَا تُعْرَفُ، وَيُوشِكُ الْعَازِبُ أَنْ يَئُوبَ إِلَى أَهْلِهِ فَمَسْرُورٌ، وَمَكْظُومٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Thawbān, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that you perform deeds unknown, and soon the absent one shall return to his family, either joyful or grieved. > **"You perform deeds unknown, and soon the absent one shall return to his family, either joyful or grieved."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم لوگ ایسے عمل کرو گے ، جو معروف نہیں ہونگے اور ایسا ہو گا کہ کوئی شخص طویل عرصے بعد ، اپنے گھر واپس آئے ، تو وہ خوش ہو ، یا پھر غصے پر قابو پائے ہوئے ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن عبدالحمید حمانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17717

Majma al-Zawaid #17717

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَامِكُمْ، وَلَا إِلَى أَحْسَابِكُمْ، وَلَا إِلَى أَمْوَالِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ، فَمَنْ كَانَ لَهُ قَلْبٌ صَالِحٌ تَحَنَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَإِنَّمَا أَنْتُمْ بَنُو آدَمَ، وَأَحَبُّكُمْ إِلَيَّ أَتْقَاكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَيَّاشٍ، وَفِيهِ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh, mighty and majestic, does not look to your bodies, nor your lineages, nor your wealth, but looks to your hearts; whoever has a sound heart, Allāh shows him mercy; you are but sons of Ādam, and the most beloved of you to Him is the most pious. > **"Allāh does not look to your bodies, nor your lineages, nor your wealth, but looks to your hearts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے جسموں کی طرف ، یا تمہارے حسب کی طرف ، یا تمہارے اعمال کی طرف نہیں دیکھتا ہے ، بلکہ وہ تمہارے دلوں کی طرف دیکھتا ہے ، تو جس شخص کا دل نیک ہوتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس پر مہربان ہوتا ہے ، تم لوگ اولاد آدم ہو ، اور تم میں سے میرے نزدیک زیادہ محبوب وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عیاش ہے اور اس میں ضعیف ہونا پایا جاتا ہے ۔

17718

Majma al-Zawaid #17718

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ مَعَهُ بِوَصِيَّةٍ، ثُمَّ الْتَفَتَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ: "" إِنَّ أَهْلَ بَيْتِي هَؤُلَاءِ يَرَوْنَ أَنَّهُمْ أَوْلَى النَّاسِ بِي، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، إِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْكُمُ الْمُتَّقُونَ، مَنْ كَانُوا، وَحَيْثُ كَانُوا. اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أُحِلُّ لَهُمْ فَسَادَ مَا أَصْلَحْتَ، وَايْمُ اللَّهِ، لَتُكْفَأُ أُمَّتِي عَنْ دِينِهَا كَمَا يُكْفَأُ الْإِنَاءُ فِي الْبَطْحَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ set out with him giving counsel, then turned toward Madīna and said that these members of his household deem themselves most deserving of him, but it is not so; his allies among them are the pious, whoever and wherever they are; O Allāh, he does not permit them to corrupt what He set right; and by Allāh, his nation shall be overturned from its religion as a vessel is overturned in the open plain. > **"My allies among you are the pious, whoever they are and wherever they are."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ چلتے ہوئے تشریف لائے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف رخ کیا اور یہ ارشاد فرمایا : ” میرے گھر والے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ لوگوں میں ، میرے سب سے زیادہ قریب ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ، تم میں سے پرہیزگار لوگ میرے قریبی ساتھی ہیں ، خواہ وہ جو بھی ہوں اور جہاں بھی ہوں ، اے اللہ ! میں اُن کے لئے یہ چیز حلال قرار نہیں دیتا کہ وہ اسے خراب کریں ، جسے تو نے ٹھیک کیا ہے ، اللہ کی قسم ! میری اُمت اپنے دین کے حوالے سے یوں اوندھی ہو جائے گی ، جس طرح میدان میں برتن کو اوندھا کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17719

Majma al-Zawaid #17719

وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ عَبْدَانِ: أَحَدُهُمَا يُطِيعُكَ، وَلَا يَخُونُكَ، وَلَا يَكْذِبُكَ، وَالْآخَرُ يَخُونُكَ، وَيَكْذِبُكُ، الَّذِي يُطِيعُكَ وَلَا يَكْذِبُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمِ الَّذِي يَخُونُكَ وَيَكْذِبُكَ؟ "". قُلْتُ: لَا. بَلِ الَّذِي لَا يَخُونُنِي، وَلَا يَكْذِبُنِي، وَيَصْدُقُنِي الْحَدِيثَ أَحَبُّ إِلَيَّ. قَالَ: "" كَذَاكُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Aḥwaṣ reported from his father, may Allāh be pleased with them, that he came to the Prophet ﷺ who asked him: had you two slaves, one obeying you, neither betraying nor lying to you, and another betraying and lying to you, which is dearer — the obedient truthful one or the treacherous liar? He replied the one who neither betrays nor lies but tells the truth is dearer, so he said: such are you with your Lord. > **"Such are you with your Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواحوص نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ؟ کہ اگر تمہارے دو غلام ہوں ، اُن دونوں میں سے ایک تمہاری فرمانبرداری کرتا ہو اور تمہارے ساتھ خیانت نہ کرتا ہو ، اور تمہارے ساتھ جھوٹ نہ بولتا ہو ، جبکہ دوسرا تمہارے ساتھ خیانت بھی کرتا ہو ، اور تمہارے ساتھ جھوٹ بھی بولتا ہو ، تو جو تمہاری فرمانبرداری کرتا ہے اور تمہارے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا ہے ، وہ تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہو گا ؟ یا وہ ہو گا جو تمہارے ساتھ خیانت بھی کرتا ہے اور تمہارے ساتھ جھوٹ بھی بولتا ہے ، میں نے عرض کی : جی نہیں ! بلکہ وہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہو گا ، جو میرے ساتھ خیانت نہیں کرتا اور میرے ساتھ جھوٹ نہیں بولتا ، اور میرے ساتھ سچ بولتا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ایسے ہی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔

17720

Majma al-Zawaid #17720

وَفِي رِوَايَةٍ عِنْدَهُ أَيْضًا: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ: «يَا عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، غُلَامُكَ الَّذِي يُطِيعُكَ وَيَتَّبِعُ أَمْرَكَ، أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ غُلَامُكَ الَّذِي لَا يُطِيعُكَ وَلَا يَتَّبِعُ أَمْرَكَ؟ "". قَالَ: بَلْ. غُلَامِيَ الَّذِي يُطِيعُنِي وَيَتَّبِعُ أَمْرِي، قَالَ: فَكَذَاكُمْ أَنْتُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ الرِّوَايَةِ الْأُولَى ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In another version with al-Ṭabarānī the Prophet ﷺ said to him O ʿAwf ibn Mālik, is your lad who obeys you and follows your command dearer to you, or your lad who neither obeys nor follows your command? He said the obedient one, so he said: such are you with your Lord. > **"Such are you with your Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ان کی نقل کردہ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : ” اے عوف بن مالک ! تمہارا وہ غلام ، جو تمہاری فرمانبرداری کرتا ہے ، تمہارے حکم کی پیروی کرتا ہے ، وہ تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہو گا ، یا تمہارا وہ غلام زیادہ محبوب ہو گا ؟ جو تمہاری اطاعت نہیں کرتا اور تمہارے حکم کی پیروی نہیں کرتا ؟ انہوں نے عرض کی : بلکہ میرا وہ غلام ، جو میری اطاعت کرتا ہے اور میرے حکم کی پیروی کرتا ہے ( وہ میرے نزدیک زیادہ محبوب ہو گا ) نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تو تم لوگ بھی اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ، اسی طرح ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور پہلی روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔