Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 43 · Chapter 1

Book of Asceticism

Hadith 17641–17680

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17641

Majma al-Zawaid #17641

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «بَيْنَمَا رَجُلٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ كَانَ فِي مُلْكِهِ، فَتَفَكَّرَ فَعَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مُنْقَطِعٌ عَنْهُ، وَأَنَّهُ قَدْ شَغَلَهُ عَنْ عِبَادَةِ رَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَتَسَرَّبَ فَانْسَابَ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنْ قَصْرِهِ فَأَصْبَحَ فِي مَمْلَكَةِ غَيْرِهِ، فَأَتَى سَاحِلَ الْبَحْرِ، فَكَانَ بِهِ يَضْرِبُ اللَّبِنَ بِالْآجُرِّ، وَيَأْكُلُ وَيَتَصَدَّقُ بِالْفَضْلِ، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى رَقِيَ أَمْرُهُ إِلَى مَلِكِهِمْ، وَعِبَادَتُهُ، وَفَضْلُهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَلِكُهُمْ أَنْ يَأْتِيَ فَأَبَى، ثُمَّ أَعَادَ عَلَيْهِ، فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ، وَقَالَ: مَا لَهُ وَمَا لِي؟ قَالَ: فَرَكِبَ الْمَلِكُ فَلَمَّا رَآهُ الرَّجُلُ وَلَّى هَارِبًا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ الْمَلِكُ رَكَضَ فِي أَثَرِهِ فَلَمْ يُدْرِكْهُ، قَالَ: فَنَادَاهُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ مِنِّي بَأْسٌ، فَأَقَامَ حَتَّى أَدْرَكَهُ فَقَالَ: مَنْ أَنْتَ - رَحِمَكَ اللَّهُ -؟! قَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ صَاحِبُ مُلْكِ كَذَا وَكَذَا، تَفَكَّرْتُ فِي أَمْرِي فَعَلِمْتُ أَنَّ مَا أَنَا فِيهِ مُنْقَطِعٌ، وَأَنَّهُ قَدْ شَغَلَنِي عَنْ عِبَادَةِ رَبِّي، فَتَرَكْتُهُ وَجِئْتُ هَهُنَا، أَعْبُدُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ: مَا أَنْتَ بِأَحْوَجَ إِلَى مَا صَنَعْتَ مِنِّي. قَالَ: ثُمَّ نَزَلَ عَنْ دَابَّتِهِ، وَسَيَّبَهَا فَتَبِعَهُ، فَكَانَا جَمِيعًا يَعْبُدَانِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - فَدَعَوُا اللَّهَ أَنْ يُمِيتَهُمَا جَمِيعًا. قَالَ: فَمَاتَا. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَوْ كُنْتَ بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ لَأَرَيْتُكُمْ قُبُورَهُمَا بِالنَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يُعْلَى بِنَحْوِهِ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْمَسْعُودِيُّ، وَقَدِ اخْتَلَطَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ described a king among those before you who reflected that his dominion would end and had distracted him from worshipping his Lord, so he slipped from his palace one night into another kingdom and settled on the seacoast making bricks, eating from his labour and giving the surplus in charity until his worship reached the local king, who summoned him twice and was refused, then rode out himself while the man fled until assured of safety, whereupon he revealed his identity and the second king abandoned his mount and joined him, and both worshipped Allāh until they prayed to die together and died, and Ibn Masʿūd said if he were at Rumaylat Miṣr he would show their graves by the description of the Prophet ﷺ. > **"I reflected upon my affair and knew that what I possessed would end and had distracted me from worshipping my Lord, so I left it and came here to worship my Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ تم لوگوں سے پہلے کے زمانے میں ایک شخص تھا ، وہ اپنی حکومت میں تھا ، اس نے غور و فکر کیا تو اسے یہ بات پتہ چلی کہ یہ چیز اس سے جدا ہو جائے گی اور اس حکومت نے اسے اس کے پروردگار کی عبادت سے مشغول ( یعنی غافل ) رکھا ہوا ہے ، اس نے طے کیا اور ایک رات اپنے محل سے نکل کھڑا ہوا ، پھر وہ کسی اور ریاست میں پہنچ گیا ، وہ سمندر کے ساحل پر آیا اور وہاں اینٹیں بنانے کی مزدوری کرنے لگا ، وہ کھانا کھا لیتا تھا اور اضافی رقم صدقہ کر دیتا تھا ، وہ مسلسل اسی حالت میں رہا ، یہاں تک کہ اس کی عبادت اور فضیلت کے بارے میں اطلاع ، وہاں کے بادشاہ تک پہنچ گئی ، وہاں کے بادشاہ نے اسے پیغام بھیج کر بلوایا لیکن اس نے انکار کر دیا ، بادشاہ نے پھر پیغام بھیجا ، اس نے پھر انکار کر دیا ، اس کا یہ کہنا تھا : میرا بادشاہ کے ساتھ کیا واسطہ ہے ؟ وہ بادشاہ خود سوار ہو کر آیا ، جب اس شخص نے اس بادشاہ کو دیکھا ، تو وہ بھاگ کھڑا ہوا ، جب بادشاہ نے یہ صورتحال دیکھی تو اس نے بھی اس کے پیچھے گھوڑا دوڑا دیا ، بادشاہ اس تک نہیں پہنچ سکا ، تو اس نے بلند آواز میں پکار کر اس سے یہ کہا : اے اللہ کے بندے ! تمہیں میری طرف سے کوئی نقصان نہیں ہو گا ، تو وہ شخص ٹھہر گیا ، بادشاہ اس کے پاس آیا اور اس نے دریافت کیا : تم کون ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اس نے بتایا : میں فلاں بن فلاں ہوں ، جو فلاں ملک کا بادشاہ تھا ، میں نے اپنے معاملے کے بارے میں غور و فکر کیا ، تو مجھے یہ بات پتہ چلی کہ جو چیز میرے پاس ہے وہ چھن جائے گی اور اس چیز ( یعنی حکومت ) نے مجھے اپنے پروردگار کی عبادت سے مشغول رکھا ہوا ہے ، تو میں نے اس ( یعنی حکومت ) کو چھوڑ دیا اور یہاں آ گیا تاکہ اپنے پروردگار کی عبادت کرتا رہوں ، بادشاہ نے کہا : تم نے جو کیا ہے اس حوالے سے تم اس کے مجھ سے زیادہ محتاج نہیں ہو ، پھر بادشاہ اپنی سواری سے اترا ، اس نے اپنی سواری کو چھوڑ دیا اور اس شخص کے پیچھے ہو لیا ، پھر وہ دونوں اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے ، ان دونوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی : کہ اُن دونوں کو ایک ساتھ موت آئے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو ان دونوں کا انتقال ہو گیا ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں مصر کے چھوٹے ٹیلے کے پاس ہوتا تو تمہیں ان دونوں افراد کی قبریں دکھاتا ، جو اس صفت کے مطابق تھیں ، جو نبی اکرم ﷺ نے ہمارے سامنے بیان کی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے جو اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ۔

17642

Majma al-Zawaid #17642

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ اسْتَخْلَفُوا خَلِيفَةً عَلَيْهِمْ بَعْدَ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ يُصَلِّي ذَاتَ لَيْلَةٍ فَوْقَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فِي الْقَمَرِ، فَذَكَرَ أُمُورًا كَانَ صَنَعَهَا، فَخَرَجَ فَتَدَلَّى بِسَبَبٍ فَأَصْبَحَ السَّبَبُ مُعَلَّقًا فِي الْمَسْجِدِ وَقَدْ ذَهَبَ "". قَالَ: "" فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى قَوْمًا عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ، فَوَجَدَهُمْ يَضْرِبُونَ لَبِنًا، - أَوْ يَصْنَعُونَ لَبِنًا - فَسَأَلَهُمْ: كَيْفَ تَأْخُذُونَ عَلَى هَذَا اللَّبِنِ؟ "". قَالَ: "" فَأَخْبَرُوهُ، فَلَبَّنَ مَعَهُمْ، فَكَانَ يَأْكُلُ مِنْ عَمَلِ يَدِهِ، فَإِذَا كَانَ حِينُ الصَّلَاةِ قَامَ يُصَلِّي، فَرَفَعَ ذَلِكَ الْعُمَّالُ إِلَى دِهْقَانِهِمْ: أَنَّ فِينَا رَجُلًا يَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَأَبَى أَنْ يَأْتِيَهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ إِنَّهُ جَاءَ يَسِيرُ عَلَى دَابَّتِهِ، فَلَمَّا رَآهُ فَرَّ، فَاتَّبَعَهُ فَسَبَقَهُ فَقَالَ: انْتَظِرْنِي أُكَلِّمْكَ، فَقَامَ حَتَّى كَلَّمَهُ، فَأَخْبَرَهُ خَبَرَهُ، فَلَمَّا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ مَلِكًا، وَأَنَّهُ فَرَّ مِنْ رَهْبَةِ رَبِّهِ، قَالَ: إِنِّي لَأَظُنُّنِي لَاحِقٌ بِكَ "". قَالَ: "" فَاتَّبَعَهُ فَعَبْدَا اللَّهَ حَتَّى مَاتَا بِرُمَيْلَةِ مِصْرَ "". قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ أَنِّي كُنْتُ ثَمَّ لَاهْتَدَيْتُ إِلَى قَبْرَيْهِمَا بِصِفَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الَّذِي وَصَفَ لَنَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that the Children of Isrāʾīl appointed a successor after Mūsā, peace be upon him, who prayed one moonlit night above Bayt al-Maqdis, recalled his deeds, descended by a rope that remained hanging in the mosque by morning, journeyed to people on the seashore making bricks, joined them for wages, ate from his handiwork, prayed at prayer times until the workers reported him to their overseer, refused three summons, fled when the overseer rode out, then stopped at his plea, told him he had been a king fleeing awe of his Lord, so the overseer said he would join him, and they worshipped Allāh until they died at Rumaylat Miṣr, and Ibn Masʿūd said he could find their graves by the Prophet's ﷺ description. > **"I was a king, and I fled out of awe of my Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ’’ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ایک فرد کو اپنا خلیفہ مقرر کیا ، اسے اپنے کیے ہوئے بعض کاموں کے بارے میں خیال آیا ، تو وہ نکلا اس نے ایک رسی لٹکائی ، اگلے دن صبح وہ رسی مسجد میں لٹکی ہوئی تھی اور وہ شخص جا چکا تھا ، وہ شخص گیا ، یہاں تک کہ وہ سمندر کے کنارے موجود ایک قوم کے پاس آیا ، اس نے ان لوگوں کو پایا کہ وہ اینٹیں اُٹھا رہے تھے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس نے انہیں پایا کہ وہ اینٹیں بنا رہے تھے ، اس نے ان سے دریافت کیا : تم لوگ اینٹوں کا کیا معاوضہ وصول کرتے ہو ؟ ان لوگوں نے اسے بتایا ، تو وہ بھی ان کے ساتھ اینٹیں بنانے لگا ، وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے کام کر کے اس کی کمائی کھاتا تھا اور جب نماز کا وقت ہو جاتا تھا ، تو وہ کھڑا ہو کر نماز ادا کرنے لگتا تھا ، ان مزدوروں نے اپنے زمیندار کو اس بارے میں بتایا کہ ہمارے درمیان ایک فرد ہے ، جو ایسا ایسا کرتا ہے ، زمیندار نے اس شخص کو پیغام بھیجا ، لیکن اس نے جانے سے انکار کر دیا ، ایسا تین مرتبہ ہوا ، پھر وہ زمیندار اپنی سواری پر سوار ہو کر اس کے پاس آیا ، اس شخص نے جب زمیندار کو دیکھا تو بھاگ کھڑا ہوا ، زمیندار اس کے پیچھے گیا ، لیکن وہ فرد آگے نکل گیا ، زمیندار نے اس سے کہا : تم ٹھہر جاؤ ! میں تمہارے ساتھ بات کرنا چاہتا ہوں ، وہ شخص رک گیا ، زمیندار نے اس کے ساتھ بات چیت کی ، اس شخص نے اس زمیندار کو اپنی صورت حال کے بارے میں بتایا ، جب اس نے یہ بتایا کہ میں ایک بادشاہ تھا اور میں نے اپنے پروردگار کے خوف کی وجہ سے سب کچھ چھوڑ دیا ہے ، تو زمیندار نے کہا : اپنے بارے میں میرا یہ گمان ہے کہ مجھے بھی تمہارے ساتھ مل جانا چاہیے ، تو زمیندار اس کے ساتھ ہو لیا اور پھر وہ دونوں مرتے دم تک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے ، یہاں تک کہ مصر میں ایک چھوٹے ٹیلے کے پاس اُن دونوں کا انتقال ہوا ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اگر میں وہاں ہوتا تو اُن دونوں کی قبر کے بارے میں رہنمائی کرتا ، جو نبی اکرم ﷺ کے بیان کیے ہوئے نقشے کے مطابق ہوتی ۔ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17643

Majma al-Zawaid #17643

عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ «فِي قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: "" {الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ - إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ} [يوسف: 1 - 2] "" الْآيَةَ. قَالَ: نَزَلَ الْقُرْآنُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَتَلَاهُ عَلَيْهِمْ زَمَانًا، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ قَصَصْتَ عَلَيْنَا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْنَا: الر تِلْكَ آيَاتُ الْكِتَابِ الْمُبِينِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا. الْآيَةَ. فَتَلَاهُ عَلَيْهِمْ زَمَانًا، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ حَدَّثْتَنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ: "" {اللَّهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ الْحَدِيثِ كِتَابًا مُتَشَابِهًا} [الزمر: 23] "" الْآيَةَ. كُلُّ ذَلِكَ يُؤْمَرُونَ بِالْقُرْآنِ. قَالَ خَلَّادٌ: وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ ذَكَّرَتْنَا. فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: "" {أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ} [الحديد: 16] ""». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ نَحْوَهُ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ عَمْرٍو الْعَنْقَزِيُّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَهُوَ غَيْرُ خَلَّادٍ، هَذَا أَقْدَمُ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Abī Waqqāṣ, may Allāh be pleased with him, reported concerning the verse Alif Lām Rā, those are the verses of the clear Book, We sent it down as an Arabic Qurʾān, We relate to you the best of stories, that the Qurʾān came down upon the Messenger of Allāh ﷺ and he recited it to them for a time, so they said O Messenger of Allāh, if only you would narrate stories to us, and Allāh sent down that opening, then they said if only you would speak to us, and Allāh sent down Allāh has sent down the best discourse, a Book resembling itself, and in each case they were commanded to hold to the Qurʾān, and Khallād added that others reported they said if only you would remind us, so Allāh sent down Has not the time come for those who believe that their hearts submit to the remembrance of Allāh and the truth sent down. > **"We relate to you the best of stories."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ’’ الٓرٰ ، یہ کتاب مبین کی آیات ہیں ، بے شک ہم نے عربی میں قرآن نازل کیا ہے ، تاکہ تم سمجھ بوجھ حاصل کرو ، ہم تمہارے سامنے عمدہ ترین واقعہ بیان کریں گے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ پر یہ نازل ہوا ، آپ ایک طویل عرصے تک لوگوں کے سامنے یہ واقعہ سناتے رہے ، پھر لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں کوئی بات سنائیں ، تو یہ مناسب ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل کیا : ’’ الٓرٰ ، یہ کتاب مبین کی آیات ہیں ، بے شک ہم نے عربی میں قرآن نازل کیا ہے ......‘‘۔ نبی اکرم ﷺ ایک طویل عرصے تک لوگوں کے سامنے یہ تلاوت کرتے رہے ، پھر لوگوں نے کہا : یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں کوئی بات بیان کریں ، تو یہ مناسب ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ نازل کیا : ’’ اللہ تعالیٰ نے سب سے خوبصورت بات نازل کی ہے ، جو کتاب ( کی شکل میں ) ہے ، ( جو نظم وغیرہ کے حوالے سے ) ایک دوسرے سے مشابہت رکھنے والے ( مضامین پر مشتمل ہے ) ۔‘‘ یعنی ہر صورتحال میں لوگوں کو قرآن کے بارے میں حکم دیا گیا ۔ خلاد نامی راوی بیان کرتے ہیں : دیگر لوگوں نے یہ بات زائد نقل کی ہے : لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں نصیحت کریں ، تو یہ مناسب ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ’’ کیا ایمان والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے ، اور جو حق نازل ہوا ہے ، اس کے لیے جھک جائیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عمرو عنقزی ہے جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف خلاد صفار کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے اور یہ خلاد بن مسلم کے علاوہ ہے ، یہ مقدم ہے ۔

17644

Majma al-Zawaid #17644

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: «جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، عِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَجْزِيٌّ بِهِ، وَأَحْبِبْ مَنْ شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْلَمْ أَنَّ شَرَفَ الْمُؤْمِنِ صَلَاتُهُ بِاللَّيْلِ، وَعِزَّهُ اسْتِغْنَاؤُهُ عَنِ النَّاسِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd al-Sāʿidī, may Allāh be pleased with him, reported that Jibrīl came to the Prophet ﷺ and addressed him as Muḥammad, commanding him to live as he wills for he shall die, to act as he wills for he shall be recompensed, to love whom he wills for he shall part from him, and to know that the honour of the believer lies in night prayer and his dignity in independence from people. > **"Live as you wish, for you shall die; act as you wish, for you shall be recompensed for it; love whom you wish, for you shall part from him; and know that the honour of the believer is his prayer by night, and his dignity is his independence from people."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور بولے : اے حضرت محمد ( ﷺ ) ! آپ جتنا چاہیں زندہ رہیں ، لیکن آپ نے مرنا ہے ، آپ جو چاہیں عمل کر لیں ، آپ کو اس کا بدلہ دیا جائے گا ، آپ جس سے چاہیں محبت رکھیں آپ کو اس سے جدا ہونا ہو گا اور آپ یہ بات جان لیں کہ مؤمن کا شرف اس کی رات کی نفل نماز میں ہے ، اور اس کی عزت ، لوگوں سے اس کی بے نیازی میں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17645

Majma al-Zawaid #17645

وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «قَالَ لِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ -: أَحْبِبْ مَنْ شِئْتَ فَإِنَّكَ مُفَارِقُهُ، وَاعْمَلْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مُلَاقِيهِ، وَعِشْ مَا شِئْتَ فَإِنَّكَ مَيِّتٌ». وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَوْجَزَ لِي جِبْرِيلٌ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فِي الْخُطْبَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAlī ibn Abī Ṭālib, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Jibrīl, peace be upon him, told him to love whom he wills for he shall part, to act as he wills for he shall meet it, and to live as he wills for he shall die, and the Messenger of Allāh ﷺ added that Jibrīl had made the sermon concise for him. > **"Love whom you wish, for you shall part from him; act as you wish, for you shall meet it; and live as you wish, for you shall die."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جبرائیل نے مجھ سے کہا : آپ جس سے چاہیں محبت رکھیں ، آپ نے اس سے جدا ہونا ہو گا ، آپ جو چاہیں عمل کریں ، آپ نے اس کا ( یعنی اس کے بدلے کا ) سامنا کرنا ہو گا اور آپ جتنا چاہیں زندہ رہیں ، آپ کو مرنا ہو گا ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں : خطاب کرتے ہوئے ، جبرائیل نے مجھے مختصر بات کہی ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17646

Majma al-Zawaid #17646

عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «بَشِّرْ هَذِهِ الْأُمَّةَ بِالسَّنَاءِ وَالرِّفْعَةِ، وَالدِّينِ وَالنَّصْرِ وَالتَّمْكِينِ فِي الْأَرْضِ. - وَهُوَ يَشُكُّ فِي الثَّالِثَةِ - قَالَ: فَمَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ عَمَلَ الْآخِرَةِ لِلدُّنْيَا لَمْ يَكُنْ لَهُ فِي الْآخِرَةِ نَصِيبٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُهُ مِنْ طُرُقٍ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ubayy ibn Kaʿb, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ gave this nation glad tidings of splendour, eminence, religion, victory and establishment on earth, with doubt about the third item, and then warned that whoever among them performs a deed of the Hereafter for the world shall have no share in the Hereafter. > **"Give this nation glad tidings of splendour, eminence, religion, victory and establishment on earth; yet whoever among them performs a deed of the Hereafter for the world shall have no share in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابی بن کعب روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اس امت کو چمک ، بلندی ، دین ، مدد ، زمین میں حکومت کی خوشخبری دیدو ( تیسری چیز کے بارے میں راوی کو شک ہے ) اُن لوگوں میں سے ، جو شخص آخرت سے متعلق عمل کو ، دنیا کے لئے کرے گا ، اُس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور ان کے صاحبزادے نے مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17647

Majma al-Zawaid #17647

وَعَنِ الْجَارُودِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ طَلَبَ الدُّنْيَا بِعَمَلِ الْآخِرَةِ طُمِسَ وَجْهُهُ، وَمُحِقَ ذِكْرُهُ، وَأُثْبِتَ اسْمُهُ فِي النَّارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Al-Jārūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said whoever seeks the world through a deed of the Hereafter shall have his face effaced, his remembrance erased, and his name established in the Fire. > **"Whoever seeks the world through a deed of the Hereafter, his face shall be effaced, his remembrance erased, and his name established in the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جارود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص آخرت سے متعلق عمل کے ذریعے ، دنیا طلب کرے گا ، اس کے چہرے کو بجھا دیا جائے گا اور اس کے ذکر کو مٹا دیا جائے گا اور اس کا نام جہنم میں ثبت کر دیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17648

Majma al-Zawaid #17648

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ تَزَيَّنَ بِعَمَلِ الْآخِرَةِ، وَهُوَ لَا يُرِيدُهَا، وَلَا يَطْلُبُهَا لُعِنَ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرَضِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say whoever beautifies himself with a deed of the Hereafter while neither intending it nor seeking it shall be cursed in the heavens and the earths. > **"Whoever adorns himself with a deed of the Hereafter while he neither intends it nor seeks it shall be cursed in the heavens and the earths."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص آخرت سے متعلق عمل کے ذریعے آراستگی اختیار کرے اور وہ آخرت کا ارادہ نہ رکھتا ہو ، یا وہ آخرت کا طلبگار نہ ہو ، تو آسمانوں اور زمینوں میں اُس پر لعنت کی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

17649

Majma al-Zawaid #17649

وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يُؤْمَرُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِنَاسٍ مِنَ النَّاسِ إِلَى الْجَنَّةِ حَتَّى إِذَا دَنَوْا مِنْهَا، وَاسْتَنْشَقُوا رِيحَهَا، وَنَظَرُوا إِلَى قُصُورِهَا، وَمَا أَعَدَّ اللَّهُ لِأَهْلِهَا فِيهَا، نُودُوا: أَنِ اصْرِفُوهُمْ عَنْهَا لَا نَصِيبَ لَهُمْ فِيهَا، فَيَرْجِعُونَ بِحَسْرَةٍ مَا رَجَعَ الْأَوَّلُونَ بِمِثْلِهَا، فَيَقُولُونَ: رَبَّنَا، لَوْ أَدْخَلْتَنَا النَّارَ قَبْلَ أَنْ تُرِيَنَا مَا أَرَيْتَنَا مِنْ ثَوَابِكَ، وَمَا أَعْدَدْتَ فِيهَا لِأَوْلِيَائِكَ ; كَانَ أَهْوَنَ عَلَيْنَا، قَالَ: ذَاكَ أَرَدْتُ بِكُمْ، كُنْتُمْ إِذَا خَلَوْتُمْ بَارَزْتُمُونِي بِالْعَظَائِمِ، وَإِذَا لَقِيتُمُ النَّاسَ لَقِيتُمُوهُمْ مُخْبِتِينَ تُرَاؤُونَ النَّاسَ بِخِلَافِ مَا تُعْطُونِي مِنْ قُلُوبِكُمْ، هِبْتُمُ النَّاسَ وَلَمْ تَهَابُونِي، أَجْلَلْتُمُ النَّاسَ وَلَمْ تُجِلُّونِي، وَتَرَكْتُمْ لِلنَّاسِ وَلَمْ تَتْرُكُوا لِي، فَالْيَوْمَ أُذِيقُكُمْ أَلِيمَ الْعَذَابِ مَعَ مَا حَرَمْتُكُمْ مِنَ الثَّوَابِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو جُنَادَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAdī ibn Ḥātim, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said that on the Day of Resurrection some people shall be ordered toward Paradise until they draw near, smell its fragrance, see its palaces and what Allāh prepared for its people, then shall be called to turn away for they have no share in it, and shall return with unmatched regret, saying O our Lord, had You entered us into the Fire before showing us Your reward it would have been easier, and Allāh shall say that was His intent for them, for in solitude they confronted Him with grave sins, met people humbly showing them what opposed their hearts, feared and honoured people rather than Him, abandoned for people rather than Him, so today He shall make them taste painful punishment along with deprivation of reward. > **"You would confront Me in solitude with grave sins, and meet people humbly, showing people what opposed what you gave Me from your hearts; you feared people and did not fear Me, honoured people and did not honour Me, abandoned for people and did not abandon for Me; so today I shall make you taste painful punishment along with what I have denied you of reward."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن کچھ لوگوں کو جنت کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا ، یہاں تک کہ جب وہ لوگ اس کے قریب پہنچ جائیں گے ، اور اس کی خوشبو کو محسوس کریں گے اور اس کے محلات کو دیکھیں گے اور اس میں موجود ان چیزوں کو دیکھیں گے ، جو اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کے لیے تیار کی ہیں ، تو انہیں پکار کر یہ کہا جائے گا : تم اس ( جنت کے قریب کے مقام ) سے پھر جاؤ ! ان لوگوں کا اس جنت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا ، تو وہ لوگ ایسی حسرت کے ہمراہ پلٹ جائیں گے ، کہ پہلے کے لوگ اس طرح کی حسرت کے ہمراہ واپس نہیں گئے ہونگے ، وہ لوگ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! تو نے اپنا جو ثواب ہمیں دکھایا ہے ، اور اس میں تو نے اپنے دوستوں کے لئے جو کچھ تیار کیا ہے ، اگر تو وہ ہمیں دکھانے سے پہلے ، تو ہمیں جہنم میں داخل کر دیتا ، تو یہ ہمارے لئے زیادہ آسان ہونا تھا ، پروردگار فرمائے گا : میں تمہارے بارے میں یہی ارادہ رکھتا تھا ، جب تم لوگ خلوت میں ہوتے تھے ، تو تم بڑی بڑی باتوں کے ذریعے مجھے للکارتے تھے ، اور جب تم لوگوں سے ملتے تھے تو تم تواضع کا اظہار کرتے تھے ، تم لوگوں کے سامنے اس چیز کا دکھاوا کرتے تھے جو اس چیز کے برخلاف تھی ، جو تم اپنے دلوں کے حوالے سے مجھے دیتے تھے ، تم لوگوں سے ڈرتے رہے اور تم مجھ سے نہیں ڈرے ، تم نے لوگوں کا احترام کیا اور تم نے میرا احترام نہیں کیا ، تم نے لوگوں کے لئے ترک کر دیا اور میرے لئے ترک نہیں کیا ، آج میں تمہیں دردناک عذاب چکھاؤں گا اور یہ اس کے ہمراہ ہو گا ، جو میں نے تمہیں ثواب سے محروم رکھا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی ابوجنادہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17650

Majma al-Zawaid #17650

وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: جِئْتُ أَبِي فَقَالَ لِي: «أَيْنَ كُنْتَ؟ فَقُلْتُ: وَجَدْتُ أَقْوَامًا مَا رَأَيْتُ خَيْرًا مِنْهُمْ، يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَيَرْعَدُ أَحَدُهُمْ حَتَّى يُغْشَى عَلَيْهِ مِنْ خَشْيَةِ اللَّهِ، فَقَعَدْتُ مَعَهُمْ، قَالَ: لَا تَقْعُدْ مَعَهُمْ بَعْدَهَا، فَرَآنِي كَأَنَّهُ لَمْ يَأْخُذْ ذَلِكَ فِي، فَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَصْحَابُهُ يَتْلُونَ الْقُرْآنَ، فَلَا يُصِيبُهُمْ هَذَا، أَفَتَرَاهُمْ أَخْشَعُ لِلَّهِ مِنْ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ؟! فَرَأَيْتُ أَنَّ ذَلِكَ كَذَلِكَ فَتَرَكْتُهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُصْعَبِ بْنِ ثَابِتٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀmir ibn ʿAbd Allāh ibn al-Zubayr reported that he came to his father and told him he had found people unsurpassed in goodness who remembered Allāh until one trembled as if fainting from fear of Allāh, and had sat with them, so his father told him not to sit with them again, and seeing hesitation said he had seen the Messenger of Allāh ﷺ and his Companions recite the Qurʾān without such seizures, asking whether those people were more fearful of Allāh than Abū Bakr and ʿUmar, whereupon ʿĀmir saw the point and left them. > **"I saw the Messenger of Allāh ﷺ and his Companions recite the Qurʾān and this did not seize them; do you deem them more fearful of Allāh than Abū Bakr and ʿUmar?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عامر بن عبداللہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے پاس آیا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : تم کہاں تھے ؟ میں نے جواب دیا : میں نے کچھ لوگوں کو پایا ہے ، میں نے ان سے بہتر لوگ نہیں دیکھے ، وہ لوگ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ، یہاں تک کہ ان میں سے کسی کے جسم پر یوں کپکپی طاری ہوتی ہے کہ یوں لگتا ہے ، جیسے اللہ کے خوف کی وجہ سے اُس پر بیہوشی طاری ہو جائے گی ، میں ان لوگوں کے ساتھ بیٹھ گیا ، میرے والد نے فرمایا : اب کے بعد تم ان کے ساتھ نہ بیٹھنا ، پھر انہوں نے مجھے ملاحظہ کیا اور انہیں محسوس ہوا کہ شاید میں نے ان کی بات کو توجہ نہیں دی ، تو انہوں نے فرمایا : ’’ میں نے حضرت نبی اکرم ﷺ کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے دیکھا ہے ، لیکن ان کی اس طرح کی صورتحال نہیں ہوتی تھی ، تو کیا تم یہ سمجھتے ہو ؟ کہ یہ لوگ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں : جب میں نے جائزہ لیا تو ایسا ہی تھا ، تو میں نے انہیں چھوڑ دیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مصعب بن ثابت ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17651

Majma al-Zawaid #17651

وَعَنِ ابْنِ غَنْمٍ قَالَ: «لَمَّا دَخَلْنَا مَسْجِدَ الْجَابِيَةِ أَنَا وَأَبُو الدَّرْدَاءِ، أَلْفَيْنَا عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ، فَأَخَذَ يَمِينِي بِشِمَالِهِ، وَشَمَالَ أَبِي الدَّرْدَاءِ بِيَمِينِهِ، فَخَرَجَ يَمْشِي بَيْنَنَا وَنَحْنُ نَنْتَجِي، وَاللَّهُ أَعْلَمُ مَا نَتَنَاجَى، فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ: لَئِنْ طَالَ بِكُمَا عُمْرُ أَحَدِكُمَا أَوْ كِلَاكُمَا لَتُوشِكَانِ أَنْ تَرَيَا الرَّجُلَ مَنْ ثَبَجِ - يَعْنِي مِنْ وَسَطِ - الْمُسْلِمِينَ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ أَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ، فَأَحَلَّ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلِهِ، أَوْ قَرَأَهُ عَلَى لِسَانِ أَخِيهِ قِرَاءَةً عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعَادَهُ وَأَبْدَاهُ، وَأَحَلَّ حَلَالَهُ، وَحَرَّمَ حَرَامَهُ، وَنَزَلَ عِنْدَ مَنَازِلَهُ، لَا يَحُوزُ فِيكُمْ إِلَّا كَمَا يَحُوزُ رَأْسُ الْحِمَارِ الْمَيِّتِ، قَالَ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ طَلَعَ عَلَيْنَا شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ، وَعَوْفُ بْنُ مَالِكٍ، فَجَلَسَا إِلَيْهِ. فَقَالَ شَدَّادٌ: إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ، لَمَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مِنَ الشَّهْوَةِ الْخَفِيَّةِ وَالشِّرْكِ "". فَقَالَ عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، وَأَبُو الدَّرْدَاءِ: اللَّهُمَّ غَفْرًا، أَوَ لَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ حَدَّثَنَا: "" أَنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ يُعْبَدَ فِي جَزِيرَةِ الْعَرَبِ؟!. فَأَمَّا الشَّهْوَةُ الْخَفِيَّةُ فَقَدْ عَرَفْنَاهَا، هَا هِيَ شَهَوَاتُ الدُّنْيَا مِنْ نِسَائِهَا وَشَهَوَاتُهَا، فَمَا هَذَا الشِّرْكُ الَّذِي تُخَوِّفُنَا بِهِ يَا شَدَّادُ؟! فَقَالَ شَدَّادُ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ رَأَيْتُمْ أَنَّ رَجُلًا يُصَلِّي لِرَجُلٍ، أَوْ يَصُومُ لِرَجُلٍ، أَوْ يَتَصَدَّقُ لَهُ، أَتَرَوْنَ أَنَّهُ قَدْ أَشْرَكَ؟ قَالُوا: نَعَمْ وَاللَّهِ، إِنَّهُ مَنْ صَلَّى لِرَجُلٍ أَوْ صَامَ لَهُ أَوْ تَصَدَّقَ لَهُ لَقَدْ أَشْرَكَ. فَقَالَ شَدَّادٌ: فَإِنِّي قَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ صَامَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ، وَمَنْ تَصَدَّقَ يُرَائِي فَقَدْ أَشْرَكَ. فَقَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَ ذَلِكَ: أَفَلَا يَعْمِدُ اللَّهُ إِلَى مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُهُ مِنْ ذَلِكَ الْعَمَلِ كُلِّهِ فَيَقْبَلُ مَا خَلَصَ لَهُ، وَيَدَعُ مَا أُشْرِكَ بِهِ؟! قَالَ شَدَّادٌ عِنْدَ ذَلِكَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَالَ: أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ لِمَنْ أَشْرَكَ بِي، مَنْ أَشْرَكَ بِي شَيْئًا ; فَإِنَّ حَشْدَهُ عَمَلَهُ قَلِيلَهُ وَكَثِيرَهُ لِشَرِيكِهِ الَّذِي أَشْرَكَ بِهِ، أَنَا عَنْهُ غَنِيٌّ». قُلْتُ: عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ طَرَفٌ مِنْهُ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn Ghannam reported that he and Abū al-Dardāʾ entered the mosque of al-Jābiya, met ʿUbāda ibn al-Ṣāmit, may Allāh be pleased with them, who walked between them holding their hands while they conversed privately, and warned that long life would show a man from the midst of the Muslims reciting the Qurʾān as upon the tongue of Muḥammad ﷺ, repeating it, declaring its lawful and unlawful and abiding by its stations, yet counting among them like the head of a dead donkey, then Shaddād ibn Aws and ʿAwf ibn Mālik arrived and Shaddād said his greatest fear for people was what he heard from the Messenger of Allāh ﷺ about hidden lust and shirk, and when ʿUbāda and Abū al-Dardāʾ asked for pardon and recalled that Satan had despaired of worship in Arabia and that worldly lusts were known, Shaddād asked whether prayer, fasting or charity done for a man was shirk and they swore it was, so he reported the Prophet ﷺ said whoever prays, fasts or gives charity for show has committed shirk, and when ʿAwf asked whether Allāh would not accept the sincere portion, Shaddād reported the Prophet ﷺ said Allāh declares He is the best partner for one who associates with Him, leaving all his work, little and much, to the partner, being free of it. > **"Whoever prays for show has committed shirk, whoever fasts for show has committed shirk, and whoever gives charity for show has committed shirk; Allāh says: I am the best partner for whoever associates with Me — whoever associates anything with Me, his work, little and much, belongs to the partner he associated, and I am free of it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابن غنم بیان کرتے ہیں : میں اور حضرت ابودرداء ’’ جابیہ ‘‘ کی مسجد میں داخل ہوئے ، ہم نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو پایا ، انہوں نے اپنے بائیں ہاتھ کے ذریعے میرا دایاں ہاتھ پکڑ لیا اور اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے حضرت ابوورداء رضی اللہ عنہ کا بایاں ہاتھ پکڑ لیا ، اور پھر وہ ہمارے درمیان چلتے ہوئے باہر تشریف لے آئے ، ہم آپس میں سرگوشی میں بات چیت کرتے رہے ، اللہ بہتر جانتا ہے کہ ہم سرگوشی میں کیا بات کرتے رہے ، اسی دوران حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تم دونوں کی ، یا تم دونوں میں سے کسی ایک کی عمر طویل ہوئی ، تو تم دیکھو گے کہ مسلمانوں کے درمیانی طبقے کا کوئی فرد ، حضرت محمد ﷺ کی زبانی نازل ہونے والے قرآن کو شروع سے لے کر آخر تک پڑھے گا ، وہ اس کے حلال کو حلال قرار دے گا اور اس کے حرام کو حرام قرار دے گا ، اس کی منازل کا تعین کرے گا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ حضرت محمد ﷺ کی زبانی نازل ہونے والے قرآن کو اپنے بھائی کی زبان کے ذریعے پڑھے گا اس کو دُہرائے گا ، اس کے حلال کو حلال قرار دے گا اور اس کے حرام کو حرام قرار دے گا ، وہ اس کی منازل پر ٹھہرے گا لیکن وہ تمہارے درمیان اس طرح نرمی سے رہے گا جس طرح مردار گدھے کا سر ہوتا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ابھی ہم اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران ہمارے سامنے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ اور حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے ، وہ دونوں ان کے پاس آ کر بیٹھ گئے ، حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لوگو ! مجھے تمہارے بارے میں سب سے زیادہ اندیشہ اس حوالے سے ہے ، جو میں نے تمہارے نبی کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ خفیہ شہوت اور شرک ۔‘‘ حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اور حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ ! تجھ سے مغفرت کا سوال ہے ( پھر اُن دونوں حضرات نے فرمایا : ) کیا اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں یہ بات بیان نہیں کی ہے : ’’ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ جزیرہ عرب میں اس کی عبادت کی جائے ۔‘‘ جہاں تک خفیہ شہوت کا تعلق ہے ، تو اس سے ہم واقف ہیں ، اس سے مراد دنیا میں سے خواتین اور ان کی خواہشات مراد ہیں ، لیکن وہ پوشیدہ شرک کیا ہے ؟ جس کے بارے میں آپ کو ہمارے حوالے سے اندیشہ ہے ، اے شداد ! تو حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس بارے میں تمہاری کیا رائے ہے ، اگر تم کسی ایسے شخص کو دیکھو جو کسی شخص کی خاطر نماز پڑھ رہا ہے ، یا کسی شخص کی خاطر روزہ رکھ رہا ہے ، یا اس شخص کی خاطر صدقہ کر رہا ہو ، تو کیا تم لوگ یہ سمجھو گے کہ اس نے شرک کیا ہے ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم ! جو شخص کسی انسان کے لیے نماز پڑھتا ہے ، یا اس کے لیے روزہ رکھتا ہے ، یا اس کے لیے صدقہ کرتا ہے ، تو وہ شرک کا مرتکب ہوتا ہے ، تو حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص دکھاوے کے لیے نماز پڑھتا ہے ، وہ شرک کرتا ہے ، جو شخص دکھاوے کے لیے روزہ رکھتا ہے ، وہ شرک کرتا ہے ، جو شخص دکھاوے کے لیے صدقہ کرتا ہے ، وہ شرک کرتا ہے ۔‘‘ اس پر حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے یہ کہا : کیا ایسا نہیں ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس عمل کا جائزہ لے گا ، جس کے ذریعے اس کی ذات کی رضا مراد لی جاتی ہے ، اور اس میں سے جو خالص ہو گا ، اُسے قبول کر لے گا اور جس میں شرک ہو گا ، اُسے چھوڑ دے گا ، اس پر حضرت شداد رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : جو شخص میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہے ، اس کے لیے میں بہترین حصہ دار ہوں ، جو شخص کسی کو میرا شریک ٹھہراتا ہے ، تو اس کا عمل خواہ تھوڑا ہو یا زیادہ ہو ، وہ اس شراکت دار کے لئے ہوتا ہے ، جس کو اس نے میرا شریک ٹھہرایا ہے ، میں اس عمل سے بے نیاز ہوتا ہوں ۔‘‘ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شہر بن حوشب ہے ، جسے امام احمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17652

Majma al-Zawaid #17652

وَعَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ: أَنَا خَيْرُ شَرِيكٍ، فَمَنْ أَشْرَكَ مَعِيَ شَرِيكًا فَهُوَ لِشَرِيكِي. يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَخْلِصُوا أَعْمَالَكُمْ لِلَّهِ ; فَإِنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَا يَقْبَلُ مِنَ الْأَعْمَالِ إِلَّا مَا خَلَصَ لَهُ، وَلَا تَقُولُوا: هَذَا لِلَّهِ وَلِلرَّحِمِ ; فَإِنَّهَا لِلرَّحِمِ وَلَيْسَ لِلَّهِ مِنْهَا شَيْءٌ، وَلَا تَقُولُوا: هَذَا لِلَّهِ وَلِوُجُوهِكُمْ ; فَإِنَّهَا لِوُجُوهِكُمْ وَلَيْسَ لِلَّهِ فِيهَا شَيْءٌ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ: إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُجَشِّرٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Al-Ḍaḥḥāk ibn Qays, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said Allāh, blessed and exalted, declares He is the best partner, so whoever associates a partner with Him, the deed belongs to His partner, then commanded people to purify their deeds for Allāh, for He accepts only what is pure for Him, and not to say this is for Allāh and for kinship, for it shall be for kinship with nothing for Allāh, nor this is for Allāh and for your faces, for it shall be for their faces with nothing for Allāh. > **"O people, purify your deeds for Allāh, for Allāh accepts of deeds only what is pure for Him; do not say: this is for Allāh and for kinship, for it belongs to kinship and nothing of it belongs to Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے :” میں ‘‘ سب سے بہتر شراکت دار ہوں ، جو شخص کسی کو میرا شریک ٹھہراتا ہے ، تو وہ عمل میرے شریک کے لئے ہو گا ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اے لوگو ! عمل کو اللہ تعالیٰ کیلئے خالص کرو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف انہی اعمال کو قبول کرتا ہے ، جو اس کے لئے خالص ہوں ، اور تم یہ نہ کہو : کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے اور رشتہ داری کے تعلق کے لیے ہے ، کیونکہ وہ رشتہ داری کے تعلق کے لیے شمار ہو گا ، اس میں سے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز نہیں ہو گی ، اور تم یہ نہ کہو : کہ یہ اللہ تعالیٰ کے لیے اور تم لوگوں کے لیے ہے ، کیونکہ وہ تم لوگوں کے لیے شمار ہو گا ، اس میں اللہ تعالیٰ کے لئے کچھ نہیں ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ابراہیم بن مجشر سے نقل کی ہے ، جسے ابن حبان اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17653

Majma al-Zawaid #17653

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَحْسَنَ الصَّلَاةَ حَيْثُ يَرَاهُ النَّاسُ، وَأَسَاءَهَا حَيْثُ يَخْلُو فَتِلْكَ اسْتِهَانَةٌ اسْتَهَانَ بِهَا رَبَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said whoever perfects prayer where people see him and ruins it in solitude commits a belittling by which he belittles his Lord, blessed and exalted. > **"Whoever perfects prayer where people see him and ruins it in solitude, that is a belittling by which he belittles his Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اس وقت اچھی طرح نماز ادا کرے ، جب لوگ اسے دیکھ رہے ہوں اور اس وقت بری طرح نماز ادا کرے ، جب وہ تنہا ہو ، تو یہ توہین ہے ، اس کے ذریعے وہ اپنے پروردگار کی توہین کا مرتکب ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مسلم ہجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17654

Majma al-Zawaid #17654

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يُجَاءُ بِابْنِ آدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ بَذَجٌ - وَرُبَّمَا قَالَ: - كَأَنَّهُ حَمَلٌ، يَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَنَا خَيْرُ قَسِيمٍ، انْظُرْ إِلَى عَمَلِكَ الَّذِي عَمِلْتَهُ لِي، فَأَنَا أَجْزِيكَ بِهِ، وَانْظُرْ إِلَى عَمَلِكَ الَّذِي عَمِلْتَهُ لِغَيْرِي فَيُجَازِيكَ عَلَى الَّذِي عَمِلْتَ لَهُ». رَوَاهُ أَبُويَعْلَى، وَفِيهِ مُدَلِّسُونَ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the son of Ādam shall be brought on the Day of Resurrection as if a bundle — or perhaps a load — and Allāh shall say O son of Ādam, I am the best divider, look at your work done for Me and I shall reward you for it, and look at your work done for other than Me and let him reward you for what you did for him. > **"O son of Ādam, I am the best divider; look at your work you did for Me and I shall reward you for it, and look at your work you did for other than Me and let him reward you for what you did for him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن ابن آدم کو لایا جائے گا ، یوں جیسے وہ ’’ بذج “ ہو ( بعض اوقات راوی یہ لفظ نقل کرتے ہیں : ) جیسے وہ ’’ حمل “ ہو ( دونوں الفاظ کا مطلب بوجھ یا سامان ہے ) پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! میں بہترین حصہ دار ہوں ، تم اپنے اس عمل کا جائزہ لو ! جو تم نے میرے لئے کیا ، میں تمہیں اس کا بدلہ دے دوں گا ، اور تم اپنے اس عمل کا جائزہ لو ، جو تم نے میرے غیر کے لیے کیا تھا ، تو وہ تمہیں اس کا بدلہ دے گا ، جو عمل تم نے اس کے لئے کیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں مدلس راوی ہیں ۔

17655

Majma al-Zawaid #17655

وَعَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: «كُنَّا نَعُدُّ الرِّيَاءَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشِّرْكَ الْأَكْبَرَ». قُلْتُ: لَهُ حَدِيثٌ فِي الرِّيَاءِ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرُ هَذَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ. وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَعْلَى بْنِ شَدَّادٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddād ibn Aws, may Allāh be pleased with him, reported that in the time of the Messenger of Allāh ﷺ they counted showing off as the gravest shirk, while al-Bazzār's wording has it as the lesser shirk. > **"We used to count showing off in the time of the Messenger of Allāh ﷺ as shirk."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت شداد بن اوس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ، ہم ریاکاری کو بڑا شرک شمار کرتے تھے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ریاکاری کے بارے میں ایک حدیث مذکور ہے ، جسے امام ابن ماجہ نے نقل کیا ہے اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” چھوٹا شرک “۔ ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یعلیٰ بن شداد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17656

Majma al-Zawaid #17656

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا كَانَ آخِرُ الزَّمَانِ صَارَتْ أُمَّتِي ثَلَاثَ فِرَقٍ: فِرْقَةٌ تَعْبُدُ اللَّهَ خَالِصًا، وَفِرْقَةٌ تَعْبُدُ اللَّهَ رِيَاءً، وَفِرْقَةٌ يَعْبُدُونَ اللَّهَ لِيَسْتَأْكِلُوا بِهِ النَّاسَ». قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي كِتَابِ الْبَعْثِ فِي الْحِسَابِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْعَطَّارُ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said when the last age comes his nation shall become three groups: a group worshipping Allāh purely, a group worshipping Allāh for show, and a group worshipping Allāh to devour people thereby, and the rest of the report is given in full in the book of resurrection under reckoning. > **"When the last age comes, my nation shall become three groups: a group worshipping Allāh purely, a group worshipping Allāh for show, and a group worshipping Allāh to devour people thereby."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب آخری زمانہ آئے گا ، تو میری امت تین گروہوں میں تقسیم ہو جائے گی ، ایک گروہ خالص طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، ایک گروہ ریاکاری کے طور پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گا ، اور ایک گروہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس لیے کرے گا ، تاکہ اس کے ذریعے لوگوں کا ( مال ) کھائے ۔‘‘ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جو دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق کتاب میں ، حساب سے متعلق باب میں ، مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن اسحاق عطار ہے اور وہ متروک ہے ۔

17657

Majma al-Zawaid #17657

وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَيْكُمُ الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا الشِّرْكُ الْأَصْغَرُ؟ قَالَ: "" الرِّيَاءُ. يُقَالُ لِمَنْ يَفْعَلُ ذَلِكَ إِذَا جَاءَ النَّاسُ بِأَعْمَالِهِمْ: اذْهَبُوا إِلَى الَّذِينَ كُنْتُمْ تُرَاؤُونَ فَاطْلُبُوا ذَلِكَ عِنْدَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبِ بْنِ خَالِدٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Rāfiʿ ibn Khadīj, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said the thing he fears most for them is the lesser shirk, and when asked what it was said it is showing off, and it shall be said to its people when men come with their deeds to go to those they showed off to and seek it with them. > **"The most fearful thing I fear for you is the lesser shirk — showing off. It shall be said to whoever does that when people come with their deeds: go to those you used to show off to, and seek it with them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم لوگوں کے بارے میں ، مجھے سب سے زیادہ اندیشہ چھوٹے شرک کے حوالے سے ہے ، لوگوں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! چھوٹے شرک سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ریاکاری ، جو شخص ایسا کرے گا ، جب لوگ اپنے اعمال لے کے آئیں گے ، تو اس سے کہا جائے گا : تم ان کی طرف چلے جاؤ ، جن کے لیے تم دکھاوا کیا کرتے تھے اور ان کا اجر ان سے طلب کرو !‘‘۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن شبیب بن خالد کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17658

Majma al-Zawaid #17658

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ فِي جَهَنَّمَ لَوَادِيًا تَسْتَعِيذُ جَهَنَّمُ مِنْ ذَلِكَ الْوَادِي فِي كُلِّ يَوْمٍ أَرْبَعَمِائَةِ مَرَّةٍ، أُعِدَّ ذَلِكَ الْوَادِي لِلْمُرَائِينَ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَامِلِ كِتَابِ اللَّهِ، وَالْمُتَصَدِّقِينَ فِي غَيْرِ ذَاتِ اللَّهِ، وَالْحَاجِّ إِلَى بَيْتِ اللَّهِ، وَالْخَارِجِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ: يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدَوَيْهِ، عَنْ أَبِيهِ وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported from the Prophet ﷺ that in Hell there is a valley from which Hell itself seeks refuge four hundred times each day, prepared for the show-offs among the nation of Muḥammad ﷺ: the bearer of Allāh's Book, those giving charity for other than Allāh, the pilgrim to Allāh's House, and the one going out in Allāh's path. > **"In Hell there is a valley from which Hell seeks refuge four hundred times each day, prepared for the show-offs among the nation of Muḥammad ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جہنم میں ایک وادی ہے ، جہنم بھی روزانہ چار سو مرتبہ اس وادی سے پناہ مانگتی ہے ، وہ وادی حضرت محمد ﷺ کی امت سے تعلق رکھنے والے ، دکھاوا کرنے والے لوگوں کے لئے بنائی گئی ہے ، جو اللہ تعالیٰ کے غیر کے لئے ، اللہ کی کتاب کا علم حاصل کرتے ہیں ( یا اللہ تعالیٰ کے غیر کے لیے ) صدقہ کرتے ہیں ، بیت اللہ کا حج کرتے ہیں ، اور ( غیر کے لیے ) اللہ کی راہ میں نکلتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد یحیی بن عبداللہ بن عبدویہ کے حوالے سے ، ان کے والد سے نقل کی ہے اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17659

Majma al-Zawaid #17659

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الدُّنْيَا مَلْعُونَةٌ مَلْعُونٌ مَا فِيهَا، إِلَّا مَا ابْتُغِيَ بِهِ وَجْهُ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ خِدَاشُ بْنُ الْمُهَاجِرِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Dardāʾ, may Allāh be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that the world is cursed and what is in it is cursed, except what is sought thereby of the Face of Allāh, mighty and majestic. > **"The world is cursed, and what is in it is cursed, except what is sought thereby of the Face of Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دنیا ملعون ہے اور اس میں موجود ہر چیز ملعون ہے ، البتہ اس کا معاملہ مختلف ہے ، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کی جائے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خداش بن مہاجر ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

17660

Majma al-Zawaid #17660

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ يُكَنَّى أَبَا يَزِيدَ، قَالَ: «كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنِ ابْنِ آدَمَ مَجْرَى الدَّمِ وَالرُّوحِ، فَبَكَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ، سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ، وَصَغَّرَهُ، وَحَقَّرَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَاللَّفْظُ لَهُ، وَالْأَوْسَطُ بِنَحْوِهِ وَقَالَ: «سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ سَامِعَ خَلْقِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ بِاخْتِصَارِ قَوْلِ ابْنِ عُمَرَ، وَقَالَ فِيهِ: فَذَرَفَتْ عَيْنَا عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ. وَسَمَّى الطَّبَرَانِيُّ الرَّجُلَ، وَهُوَ خَيْثَمَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَبِهَذَا الِاعْتِبَارِ رِجَالُ أَحْمَدَ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Murra reported from an elder called Abū Yazīd that he sat with ʿAbd Allāh ibn ʿAmr and ʿAbd Allāh ibn ʿUmar, may Allāh be pleased with them, when Ibn ʿUmar said Satan flows through the son of Ādam like blood and spirit, so Ibn ʿAmr wept and said he heard the Messenger of Allāh ﷺ say whoever publicises his deed to people, Allāh shall publicise him before the hearing of His creation, and belittle and abase him. > **"Whoever publicises his deed to people, Allāh shall publicise him before the hearing of His creation, and belittle him and abase him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عمرو بن مرہ بیان کرتے ہیں : ایک بزرگ نے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے ، اُن بزرگ کی کنیت ابویزید تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اسی دوران یہ بات چل نکلی کہ شیطان انسان کی خون کی رگوں میں اور روح کی جگہ ( یعنی پورے وجود میں ) دوڑتا ہے ، تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رو پڑے اور انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اپنے عمل کے حوالے سے لوگوں کے سامنے شہرت کا طلبگار ہو گا ، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا اور اسے چھوٹا اور حقیر بنا دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، روایت کے لیے الفاظ ان کی نقل کردہ ہیں ، انہوں نے معجم اوسط میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو اپنی مخلوق کے سامنے ظاہر کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور اس میں انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے ۔ امام طبرانی نے اس بزرگ کا نام بیان کیا ہے ، ان کا نام خیثمہ بن عبدالرحمن ہے ، اس بنیاد پر امام احمد کے رجال اور امام طبرانی کی معجم کبیر میں اسانید میں سے ، ایک سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17661

Majma al-Zawaid #17661

عَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللَّهُ بِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَسَانِيدُهُمْ حَسَنَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Bakra, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said whoever seeks repute, Allāh shall make him reputed, and whoever shows off, Allāh shall show him. > **"Whoever seeks repute, Allāh shall make him reputed, and whoever shows off, Allāh shall show him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص شہرت چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا اور جو شخص دکھاوا کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے دکھاوے کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ، امام بزار نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ان کی اسانید حسن ہیں ۔

17662

Majma al-Zawaid #17662

وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ رَاءَى اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ قَامَ مَقَامَ سُمْعَةٍ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAwf ibn Mālik al-Ashjaʿī, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Prophet ﷺ say whoever stands in a station of showing off, Allāh shall show him, and whoever stands in a station of seeking repute, Allāh shall make him reputed. > **"Whoever stands in a station of showing off, Allāh shall show him, and whoever stands in a station of seeking repute, Allāh shall make him reputed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ریاکاری کے مقام پر کھڑا ہو گا ، اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری کو ظاہر کر دے گا اور جو شخص شہرت کے مقام پر کھڑا ہو گا ، اللہ تعالیٰ اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17663

Majma al-Zawaid #17663

وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَقُومُ فِي الدُّنْيَا مَقَامَ سُمْعَةٍ وَرِيَاءٍ إِلَّا سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ عَلَى رُؤُوسِ الْخَلَائِقِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal, may Allāh be pleased with him, reported from the Messenger of Allāh ﷺ that no servant stands in the world in a station of repute and show except that Allāh shall make him reputed before the heads of creation on the Day of Resurrection. > **"No servant stands in the world in a station of repute and show except that Allāh shall make him reputed before the heads of creation on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو بندہ دنیا میں شہرت اور دکھاوے کے مقام پر کھڑا ہو گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کے سامنے اُس کی اس چیز کو ظاہر کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17664

Majma al-Zawaid #17664

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ الْخُزَاعِيِّ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً ; فَإِنَّهُ فِي مَقْتِ اللَّهِ حَتَّى يَجْلِسَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عِيَاضٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Qays al-Khuzāʿī, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said whoever stands for show and repute remains under Allāh's wrath until he sits down. > **"Whoever stands for show and repute remains under Allāh's wrath until he sits down."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن قیس خزاعی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص دکھاوے اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہو گا ، وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی میں رہے گا ، جب تک وہ بیٹھ نہیں جاتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عیاض ہے اور وہ متروک ہے ۔

17665

Majma al-Zawaid #17665

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ رَاءَى رَاءَى اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ تَخَشَّعَ لِلَّهِ تَوَاضُعًا رَفَعَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا مِنْ طَرِيقِ أَبِي رَزِينٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn Masʿūd, may Allāh be pleased with him, said as a stopped report that whoever seeks repute, Allāh shall make him reputed, and whoever shows off, Allāh shall show him on the Day of Resurrection, and whoever humbles himself for Allāh in modesty, Allāh shall raise him on the Day of Resurrection. > **"Whoever seeks repute, Allāh shall make him reputed; whoever shows off, Allāh shall show him on the Day of Resurrection; and whoever humbles himself for Allāh in modesty, Allāh shall raise him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ جو شخص شہرت کا طلبگار ہو گا ، اللہ تعالیٰ ( قیامت کے دن ) اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا اور جو شخص دکھاوا کرے گا ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے دکھاوے کو ظاہر کر دے گا ، اور جو شخص تواضع اختیار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے لیے خشوع اختیار کرے گا ، اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن سربلندی نصیب کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو ابورزین نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور میں اس ( یعنی ابورزین ) سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17666

Majma al-Zawaid #17666

وَعَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ قَامَ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ ; رَاءَى اللَّهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ قَامَ بِأَخِيهِ مَقَامَ رِيَاءٍ وَسُمْعَةٍ أَقَامَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَسَمَّعَ بِهِ». وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ، وَالْبَزَّارُ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū Hind al-Dārī, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Messenger of Allāh ﷺ say whoever stands in a station of show and repute, Allāh shall show him and make him reputed on the Day of Resurrection. > **"Whoever stands in a station of show and repute, Allāh shall show him and make him reputed on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہند داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص ریاکاری اور شہرت کے مقام پر کھڑا ہو گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی ریاکاری اور شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جو شخص اپنے بھائی کو ریاکاری اور شہرت کی جگہ پر کھڑا کرے گا ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے کھڑا کرے گا اور اس کی شہرت کی خواہش کو ظاہر کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام احمد اور امام بزار کے رجال اور امام طبرانی کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17667

Majma al-Zawaid #17667

وَعَنْ أَبِي هِنْدٍ الدَّارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنْ رَاءَى بِاللَّهِ لِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ بَرِئَ مِنْهُ اللَّهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abū Hind al-Dārī, may Allāh be pleased with him, reported that he heard the Prophet ﷺ say whoever shows off with Allāh for other than Allāh, Allāh shall disown him. > **"Whoever shows off with Allāh for other than Allāh, Allāh shall disown him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہند داری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ سے متعلق ( عمل کا ) ’’ غیر اللہ ‘‘ کے لئے دکھاوا کرے گا ، وہ اللہ تعالیٰ سے لاتعلق ہو جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17668

Majma al-Zawaid #17668

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الشِّرْكُ أَخْفَى فِي أُمَّتِي مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ عَلَى الصَّفَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ أَعْيَنَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha, may Allāh be pleased with her, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said shirk is more hidden in his nation than the crawling of an ant upon smooth rock. > **"Shirk is more hidden in my nation than the crawling of an ant upon smooth rock."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت میں شرک ، اس سے زیادہ خفی ہو گا ، جیسے کوئی چیونٹی کسی چٹان پر رینگتی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالاعلی بن اعین ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17669

Majma al-Zawaid #17669

عَنْ أَبِي عَلِيٍّ - رَجُلٍ مِنْ بَنِي كَاهِلٍ - قَالَ: «خَطَبَنَا أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ ; فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ. فَقَامَ إِلَيْهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَزْنٍ، وَقَيْسُ بْنُ الْمُضَارِبِ، فَقَالَا: وَاللَّهِ، لَتَخْرُجَنَّ مِمَّا قُلْتَ، أَوْ لَنَأْتِيَنَّ عُمَرَ مَأْذُونًا لَنَا، أَوْ غَيْرَ مَأْذُونٍ. فَقَالَ: بَلْ أَخْرُجُ مِمَّا قُلْتُ، خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ فَقَالَ: "" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا هَذَا الشِّرْكَ ; فَإِنَّهُ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ "". فَقَالَ لَهُ مَنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ: وَكَيْفَ نَتَّقِيهِ، وَهُوَ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟! قَالَ: "" قُولُوا: اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ نُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا نَعْلَمُهُ، وَنَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا نَعْلَمُهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَلِيٍّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

Abū ʿAlī, a man of Banū Kāhil, reported that Abū Mūsā al-Ashʿarī, may Allāh be pleased with him, addressed them saying O people, fear this shirk for it is more hidden than an ant's crawling, whereupon ʿAbd Allāh ibn Ḥazn and Qays ibn al-Muḍārib demanded proof or they would complain to ʿUmar, with or without permission, so Abū Mūsā cited the Messenger of Allāh ﷺ addressing them one day with the same warning, and when asked how to guard against what is more hidden than an ant's crawling, taught them to say O Allāh, we seek refuge in You from knowingly associating anything with You, and seek Your forgiveness for what we do not know. > **"O Allāh, we seek refuge in You from associating anything with You that we know, and we seek Your forgiveness for what we do not know."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعلی ، جن کا تعلق بنو کاہل سے ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! اس شرک سے بچنے کی کوشش کرو ، کیونکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ خفی ہے ، تو عبداللہ بن حزن اور قیس بن مضارب ان کے سامنے کھڑے ہوئے ، اور ان دونوں نے یہ کہا : اللہ کی قسم ! یا تو آپ اپنی کہی ہوئی بات کا ثبوت پیش کریں گے ، یا پھر ہم حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جائیں گے ، خواہ ہمیں اجازت ملے یا ہمیں اجازت نہ ملے ، حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں اپنی کہی ہوئی بات کا ثبوت دیتا ہوں ، ایک دن نبی اکرم ﷺ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اے لوگو ! اس شرک سے بچ کے رہنا ، کیونکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ خفی ہے ، تو جس کے بارے میں اللہ کو منظور تھا اس شخص نے آپ کی خدمت میں عرض کی : ہم اُس سے کیسے بچ سکتے ہیں ؟ جبکہ یہ چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ خفی ہے ، یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ’’ اے اللہ ! بے شک ہم اس بات سے تیری پناہ مانگتے ہیں کہ ہم علم رکھتے ہوئے کسی کو ( تیرا ) شریک قرار دیں اور اس حوالے سے تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں ، جس کے بارے میں ہمیں علم نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ابوعلی کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

17670

Majma al-Zawaid #17670

وَعَنْ حُذَيْفَةَ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ - «إِمَّا حَضَرَ حُذَيْفَةُ ذَلِكَ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَإِمَّا أَخْبَرَهُ أَبُو بَكْرٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" الشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ "". قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَهَلَ الشِّرْكُ إِلَّا مَا عُبِدَ مِنْ دُونِ اللَّهِ، أَوْ مَا دُعِيَ مَعَ اللَّهِ؟! - شَكَّ عَبْدُ الْمَلِكِ - قَالَ: "" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا صِدِّيقُ، الشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِقَوْلٍ يُذْهِبُ صِغَارَهُ وَكِبَارَهُ - أَوْ صَغِيرَهُ وَكَبِيرَهُ -؟ "". قُلْتُ: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" تَقُولُ كُلَّ يَوْمٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ شَيْئًا وَأَنَا أَعْلَمُهُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ، وَالشِّرْكُ أَنْ تَقُولَ: أَعْطَانِي اللَّهُ وَفُلَانٌ، وَالنِّدُّ أَنْ يَقُولَ الْإِنْسَانُ: لَوْلَا فُلَانٌ قَتَلَنِي فُلَانٌ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، وَلَيْثٌ مُدَلِّسٌ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ إِنْ كَانَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَوِ الَّذِي رَوَى عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، فَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُمَا فَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ḥudhayfa reported from Abū Bakr, may Allāh be pleased with them — either Ḥudhayfa attended it from the Prophet ﷺ or Abū Bakr informed him — that the Prophet ﷺ said shirk among you is more hidden than an ant's crawling, and when they asked whether shirk is anything but worshipping or calling upon other than Allāh, he said may your mother mourn you, O Ṣiddīq, shirk among you is more hidden than an ant's crawling, then offered words removing its small and great: to say three times daily O Allāh, I seek refuge in You from knowingly associating anything with You, and seek forgiveness for what I do not know, and explained that shirk includes saying Allāh and so-and-so gave me, and a rival is one's saying had it not been for so-and-so, so-and-so would have killed me. > **"Say three times daily: O Allāh, I seek refuge in You from knowingly associating anything with You, and I seek Your forgiveness for what I do not know."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ، شاید حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی اُس وقت نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھے ، یا شاید حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ بات بتائی کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ تم میں شرک چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ پوشیدہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! شرک تو صرف وہ ہوتا ہے کہ جو اللہ کو چھوڑ کر کسی کی عبادت کی جائے ( عبدالملک نامی راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اللہ کے ہمراہ کسی اور کو پکارا جائے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے صدیق ! تمہاری ماں تمہیں روئے ، تم لوگوں میں شرک چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ پوشیدہ ہو گا ، کیا میں تمہیں اس کلمے کے بارے میں بتاؤں جو چھوٹے اور بڑے ( شرک کو ) رخصت کر دے گا ( یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، لیکن اس کا مفہوم یہی ہے ) میں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم روزانہ تین مرتبہ یہ پڑھا کرو : ” اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں جانتے بوجھتے ہوئے کسی کو تیرا شریک قرار دوں اور اس چیز کے حوالے سے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، جس کا مجھے علم نہ ہو ۔‘‘ ’’ شرک ‘‘ یہ ہے کہ تم یہ کہو : اللہ تعالیٰ نے اور فلاں نے مجھے دیا ۔ ’’ ند ‘‘ یہ ہے : کہ انسان یہ کہے : اگر فلاں نہ ہوتا ، تو فلاں نے مجھے قتل کر دینا تھا ۔ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے لیث بن ابوسلیم کی ابومحمد کے حوالے سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، لیث نامی راوی مدلس ہے ، اور ابومحمد نامی راوی اگر تو وہ ہے ، جو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتا ہے ، یا اگر وہ ہے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کرتا ہے ، تو پھر ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اگر یہ ان دونوں کے علاوہ کوئی اور ہے ، تو میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

17671

Majma al-Zawaid #17671

وَعَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: «شَهِدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ أَبِي بَكْرٍ - أَوْ حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: "" الشِّرْكُ فِيكُمْ أَخْفَى مِنْ دَبِيبِ النَّمْلِ "". ثُمَّ قَالَ: "" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى مَا يُذْهِبُ صَغِيرَ ذَلِكَ وَكَبِيرَهُ؟ قُلِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُشْرِكَ بِكَ وَأَنَا أَعْلَمُ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَا أَعْلَمُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ شَيْخِهِ: عَمْرِو بْنِ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيِّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Maʿqil ibn Yasār, may Allāh be pleased with him, reported that he attended the Prophet ﷺ with Abū Bakr — or Abū Bakr informed him from the Prophet ﷺ — that shirk among you is more hidden than an ant's crawling, then asked shall I not guide you to what removes its small and great: to say O Allāh, I seek refuge in You from associating with You while I know, and seek Your forgiveness for what I do not know. > **"Say: O Allāh, I seek refuge in You from associating with You while I know, and I seek Your forgiveness for what I do not know."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ نبی اکرم ﷺ کے پاس موجود تھا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں مجھے یہ بات بتائی : آپ ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگوں میں شرک چیونٹی کے رینگنے سے زیادہ خفی ہے ، پھر آپ نے فرمایا : کیا میں اس چیز کے بارے میں تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ جو اس ( شرک کے ) چھوٹے یا بڑے ( یعنی ہر قسم کے شرک ) کو رخصت کر دے گی ، تم یہ پڑھو : ” اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں تیرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤں اور میں اس کا علم رکھتا ہوؤں ، اور میں اس حوالے سے تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اپنے استاد عمرو بن حصین عقیلی کے حوالے سے نقل کی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17672

Majma al-Zawaid #17672

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِصْمَةَ بْنِ فَاتِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ تَحَبَّبَ إِلَى النَّاسِ بِمَا يُحِبُّونَ وَبَارَزَ اللَّهَ تَعَالَى ; لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd Allāh ibn ʿIṣma ibn Fātik, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said whoever endears himself to people by what they love while defying Allāh shall meet Allāh on the Day of Resurrection while He is angry with him. > **"Whoever endears himself to people by what they love while defying Allāh shall meet Allāh on the Day of Resurrection while He is angry with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عصمہ بن فاتک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص لوگوں کی پسند کے حوالے سے ان کے نزدیک پسندیدہ ہونا چاہے گا ، اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے برخلاف کرے گا ، تو قیامت کے دن ، جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا “۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17673

Majma al-Zawaid #17673

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ تَحَبَّبَ إِلَى النَّاسِ بِمَا يُحِبُّونَ، وَبَارَزَ اللَّهَ بِمَا يَكْرَهُ، لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said whoever endears himself to people by what they love while defying Allāh with what He hates shall meet Allāh while He is angry with him. > **"Whoever endears himself to people by what they love while defying Allāh with what He hates shall meet Allāh while He is angry with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص لوگوں کی پسند کے حوالے سے ، ان کے نزدیک پسندیدہ ہونا چاہے گا ، اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف کرے گا ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17674

Majma al-Zawaid #17674

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَسْخَطَ اللَّهَ فِي رِضَا النَّاسِ سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأَسْخَطَ عَلَيْهِ مَنْ أَرْضَاهُ فِي سُخْطِهِ، وَمَنْ أَرْضَى اللَّهَ فِي سُخْطِ النَّاسِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَأَرْضَى عَنْهُ مَنْ أَسْخَطَهُ فِي رِضَاهُ، حَتَّى يُزَيِّنَهُ وَيُزَيِّنَ قَوْلَهُ، وَعَمَلَهُ فِي عَيْنِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجَفْرِيِّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ الذَّهَبِيُّ فِي آخِرِ تَرْجَمَةِ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيِّ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās, may Allāh be pleased with them both, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said whoever angers Allāh for people's pleasure, Allāh shall be angry with him and shall anger with him those he pleased in His anger, and whoever pleases Allāh amid people's anger, Allāh shall be pleased with him and shall please with him those angered in His pleasure, until He beautifies him and his word and deed in their eyes. > **"Whoever angers Allāh for people's pleasure, Allāh shall be angry with him and shall anger with him those he pleased; and whoever pleases Allāh amid people's anger, Allāh shall be pleased with him and shall please with him those he angered."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص لوگوں کی رضامندی میں ، اللہ تعالیٰ کو ناراض کرے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا اور جس کو اُس نے اللہ کی ناراضگی میں راضی کرنے کی کوش کی تھی ، اس کو بھی اس شخص پر ناراض کر دے گا ، اور جو شخص لوگوں کی ناراضگی میں ، اللہ تعالیٰ کو راضی کرے گا ، اللہ تعالی اس سے راضی ہو جائے گا اور جو شخص اللہ کی رضامندی میں ، اس سے ناراض ہوا تھا ، اللہ تعالیٰ اُسے بھی اس شخص سے راضی کر دے گا ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ دوسرے شخص کی نظر میں ، اس کو اور اس کے قول اور عمل کو آراستہ کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یحیی بن سلیمان جعفری کا معاملہ مختلف ہے ، امام ذہبی نے یحیی بن سلیمان جعفی کے حالات کے آخر میں اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

17675

Majma al-Zawaid #17675

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ طَلَبَ مَحَامِدَ النَّاسِ بِمَعَاصِي اللَّهِ، عَادَ حَامِدُهُ ذَامًّا». قُلْتُ: لَهُ عِنْدَ التِّرْمِذِيَّ: «مَنِ الْتَمَسَ رِضَا النَّاسِ بِسُخْطِ اللَّهِ ; سَخِطَ اللَّهُ عَلَيْهِ، وَأَسْخَطَ النَّاسَ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقِ قُطْبَةَ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha, may Allāh be pleased with her, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said whoever seeks people's praise through disobedience to Allāh, his praiser shall turn into a blamer. > **"Whoever seeks people's praise through disobedience to Allāh, his praiser shall turn into a blamer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے ذریعے لوگوں کی تعریف حاصل کرنا چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اس کی تعریف کرنے والے کو ، اس کی مذمت کرنے والا بنا دے گا ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے : ’’ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے ذریعے لوگوں کی رضامندی حاصل کرنا چاہے گا ، اللہ تعالیٰ اس پر ناراض ہو گا ، اور لوگوں کو بھی اس سے ناراض کر دے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے قطبہ بن علاء کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث پہلے گزر چکی ہیں ۔

17676

Majma al-Zawaid #17676

عَنْ جُنْدَبِ بْنِ سُفْيَانَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا أَسَرَّ عَبْدٌ سَرِيرَةً إِلَّا أَلْبَسَهُ اللَّهُ رِدَاءَهَا، إِنْ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنْ شَرًّا فَشَرٌّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ حَامِدُ بْنُ آدَمَ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Jundub ibn Sufyān, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said no servant conceals a hidden state except that Allāh clothes him with its cloak: if good then good, and if evil then evil. > **"No servant conceals a hidden state except that Allāh clothes him with its cloak: if good then good, and if evil then evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب بن سفیان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو بندہ پوشیدہ معاملے کو جیسا رکھتا ہے ، اللہ تعالیٰ اسے ویسی ہی چادر پہنا دیتا ہے ، اگر بھلا ہو تو بھلی ، اور اگر برا ہو تو بری ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حامد بن آدم ہے اور وہ کذاب ہے ۔

17677

Majma al-Zawaid #17677

«عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: قُلْتُ لِرَجُلٍ: هَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَوَاللَّهِ، لَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَاهَدَ هَذَا الْيَوْمَ فَخَطَبَ، فَقَالَ: " وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: هَلُمَّ فَلْنَجْعَلْ يَوْمَنَا هَذَا لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ". فَمَا زَالَ يَقُولُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنَّ الْأَرْضَ سَاخَتْ بِي».

EnglishUnverified translation

Abū Mūsā, may Allāh be pleased with him, reported that he said to a man come, let us devote this day of ours to Allāh, mighty and majestic, and it was as if the Messenger of Allāh ﷺ witnessed that day, for he addressed the people saying among them is one who says come, let us devote this day of ours to Allāh, and kept repeating it until Abū Mūsā wished the earth would swallow him. > **"Among them is one who says: come, let us devote this day of ours to Allāh."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ایک شخص سے کہا : آؤ ! ہم اپنے اس دن کو اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کر لیتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : تو یوں ہوا کہ جیسے نبی اکرم ﷺ اس موقع پر موجود تھے ، اُس دن آپ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ کوئی شخص یہ کہہ دیتا ہے : آؤ ! ہم اپنے اس دن کو اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص کر لیتے ہیں ۔‘‘ آپ ﷺ مسلسل اس جملے کو دہراتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کہ میں زمین میں دفن ہو جاؤں ۔

17678

Majma al-Zawaid #17678

وَفِي رِوَايَةٍ: فَمَا زَالَ يُرَدِّدُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي أَسِيخُ فِي الْأَرْضِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ ثَابِتًا الْبُنَانِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي مَنْ سَمِعَ حِطَّانَ، وَلَمْ يُسَمِّهِ.

EnglishUnverified translation

In another wording Abū Mūsā reported that the Prophet ﷺ kept repeating that phrase until he wished he could sink into the earth. > **"He kept repeating it until I wished I could sink into the earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : آپ مسلسل اس جملے کو دہراتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے یہ آرزو کی کہ میں زمین میں گڑ جاؤں ۔ یہی روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ ثابت بنانی نے یہ بات کہی ہے : مجھے اس شخص نے یہ بات بتائی ہے : کہ جس نے حطان کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے ، انہوں نے اس شخص کا نام بیان نہیں کیا ۔

17679

Majma al-Zawaid #17679

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ يَعْمَلُ فِي صَخْرَةٍ صَمَّاءَ لَيْسَ لَهَا بَابٌ وَلَا كُوَّةٌ، يَخْرُجُ عَمَلُهُ لِلنَّاسِ كَائِنًا مَا كَانَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Saʿīd al-Khudrī, may Allāh be pleased with him, reported from the Messenger of Allāh ﷺ that were one of you to act inside a deaf rock with neither door nor window, his deed would emerge to people, whatever it was. > **"Were one of you to act inside a deaf rock with neither door nor window, his deed would emerge to people, whatever it was."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر کوئی شخص کسی بہری ( یعنی ہر طرف سے بند ) چنان میں ، کوئی عمل کرے ، جس ( چٹان ) کا کوئی دروازہ ، یا کوئی کھڑکی نہ ہو ، تو بھی اس کا عمل لوگوں کے لیے نکل آئے گا ، خواہ وہ عمل جیسا بھی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔

17680

Majma al-Zawaid #17680

عَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَوْ أَنَّ رَجُلًا يَخِرُّ عَلَى وَجْهِهِ مِنْ يَوْمَ وُلِدَ إِلَى يَوْمِ يَمُوتُ فِي مَرْضَاةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - ; لَحَقَّرَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUtba ibn ʿAbd, may Allāh be pleased with him, reported that the Messenger of Allāh ﷺ said were a man to fall upon his face from the day he was born until the day he dies seeking Allāh's pleasure, he would deem it little on the Day of Resurrection. > **"Were a man to fall upon his face from the day he was born until the day he dies seeking Allāh's pleasure, he would deem it little on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عبد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ اگر کسی شخص کو اس کی پیدائش کے دن سے لے کر ، اُس کے مرنے کے دن تک ، چہرے کے بل گرایا جاتا رہے ، تاکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضامندی حاصل ہو ، تو قیامت کے دن وہ شخص اس کو بھی حقیر سمجھے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔