وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زَمْعَةَ الْبَلَوِيَّ - «وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ - بَايَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَهَا، وَأَتَى يَوْمًا مَسْجِدَ الْفُسْطَاطِ، فَقَامَ فِي الرَّحْبَةِ، وَقَدْ كَانَ بَلَغَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بَعْضُ التَّشْدِيدِ، فَقَالَ: لَا تُشَدِّدُوا عَلَى النَّاسِ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَبْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَذَهَبَ إِلَى رَاهِبٍ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ سَبْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: لَا. فَقَتَلَ الرَّاهِبَ. ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى رَاهِبٍ آخَرَ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: لَا. فَقَتَلَهُ. ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الثَّالِثِ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا مِنْهُمْ رَاهِبَانِ، فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: لَقَدْ عَمِلْتَ شَرًّا، وَلَئِنْ قُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِغَفُورٍ رَحِيمٍ لَقَدْ كَذَبْتُ، فَتُبْ إِلَى اللَّهِ. فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَا أُفَارِقُكَ بَعْدَ قَوْلِكَ، فَلَزِمَهُ عَلَى أَنْ لَا يَعْصِيَهُ، فَكَانَ يَخْدِمُهُ فِي ذَلِكَ، فَهَلَكَ رَجُلٌ وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ قَبِيحٌ، فَلَمَّا دُفِنَ قَعَدَ عَلَى قَبْرِهِ فَبَكَى بُكَاءً شَدِيدًا، ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ، وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ حَسَنٌ، فَلَمَّا دُفِنَ قَعَدَ عَلَى قَبْرِهِ فَضَحِكَ ضَحِكًا شَدِيدًا فَأَنْكَرَ أَصْحَابُهُ ذَلِكَ فَاجْتَمَعُوا إِلَى رَأْسِهِمْ فَقَالُوا: كَيْفَ يَأْوِي إِلَيْكَ هَذَا قَاتِلُ النُّفُوسِ وَقَدْ صَنَعَ مَا رَأَيْتَ؟! فَوَقَعَ فِي نَفْسِهِ وَأَنْفُسِهِمْ، فَأَتَى إِلَى صَاحِبِهِمْ مَرَّةً مِنْ ذَلِكَ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَا تَأْمُرُنِي؟ فَقَالَ: اذْهَبْ فَأَوْقِدْ تَنُّورًا، فَفَعَلَ ثُمَّ أَتَاهُ، فَأَخْبَرَهُ: أَنْ قَدْ فَعَلَ. فَقَالَ: اذْهَبْ فَأَلْقِ نَفْسَكَ فِيهَا، فَلَهَا عَنْهُ الرَّاهِبُ، وَذَهَبَ الْآخَرُ فَأَلْقَى نَفْسَهُ فِي التَّنُّورِ، ثُمَّ اسْتَفَاقَ الرَّاهِبُ فَقَالَ: إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ الرَّجُلَ قَدْ أَلْقَى نَفْسَهُ فِي التَّنُّورِ بِقَوْلِي، فَذَهَبَ فَوَجَدَهُ حَيًّا فِي التَّنُّورِ يَعْرَقُ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَخْرَجَهُ مِنَ التَّنُّورِ فَقَالَ: مَا يَنْبَغِي أَنْ تَخْدِمَنِي، وَلَكِنْ أَنَا أَخْدِمُكَ، أَخْبِرْنِي عَنْ بُكَائِكَ عَنِ الْمُتَوَفَّى الْأَوَّلِ، وَعَنْ ضَحِكِكَ عَنِ الْآخَرِ. قَالَ: أَمَّا الْأَوَّلُ فَلَمَّا دُفِنَ رَأَيْتُ مَا يَلْقَى بِهِ مِنَ الشَّرِّ، فَذَكَرْتُ ذُنُوبِي فَبَكَيْتُ. وَأَمَّا الْآخَرُ فَرَأَيْتُ مَا يَلْقَى بِهِ مِنَ الْخَيْرِ فَضَحِكْتُ. وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْ عُظَمَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
EnglishUnverified translation
Abu Qays, freedman of Banu Jumah, reported that he heard Abu Zamʿah al-Balawi — among the companions of the Tree who pledged to the Prophet ﷺ beneath it — stand in the courtyard of the Fustat mosque, having heard of some strictness from ʿAbdullah ibn ʿAmr, and say not to be strict with people, for he heard the Messenger of Allah ﷺ say that a man of the Children of Israel killed ninety-seven souls, went to a monk asking for repentance and was refused, so he killed him; then he killed a second monk after confessing ninety-eight; then he confessed ninety-nine including two monks to a third, who said he had done evil, but to say Allah is not Forgiving, Merciful would be a lie, so he should repent; the man refused to part from him, served him without disobeying, wept intensely at the burial of an ill-praised man upon seeing his evil recompense and laughed intensely at the burial of a well-praised man upon seeing his good recompense, was questioned by his companions, was tested by command to kindle an oven and cast himself therein, obeyed while the monk heedlessly turned away, was found alive sweating in the oven, was taken out by the hand, and thereafter became among the great men of the Children of Israel. > **"To say Allah is not Forgiving, Merciful would be a lie, so repent to Allah — and thereafter he became among the great men of the Children of Israel."**
اردو ترجمہ · UrduUnverified translation
ابوقیس ، جو بنو جمح کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوزمعہ بلوی رضی اللہ عنہ کو سنا ہے ، یہ بیعت رضوان میں شرکت کا شرف رکھتے ہیں اور انہوں نے درخت کے نیچے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی تھی ، وہ ایک دن ” فسطاط ‘‘ کی مسجد میں تشریف لائے اور صحن میں کھڑے ہو گئے ، انہیں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات پتہ چلی تھی کہ وہ بعض مسائل میں سختی کرتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : تم لوگوں کو سختی کا شکار نہ کرو ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک شخص نے بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے 97 افراد کو قتل کر دیا ، پھر وہ ایک راہب کے پاس گیا اور بولا : میں نے 97 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا : جی نہیں ! اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا ، پھر وہ ایک اور راہب کے پاس گیا اور بولا : میں نے 98 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے بھی یہ جواب دیا : جی نہیں ! اس شخص نے اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ تیسرے راہب کے پاس گیا اور بولا : میں نے 99 افراد کو قل کیا ہے ، جن میں سے دو راہب بھی تھے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا : تم نے برا کام کیا ہے ، لیکن اگر میں یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا نہیں ہے ، تو میری یہ بات غلط ہو گی ، تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو ! اس شخص نے کہا : تمہاری اس بات کے بعد اب میں تم سے جدا نہیں ہوؤں گا ، اس کے بعد وہ اس راہب کے ساتھ رہنے لگا ، اس شرط پر کہ وہ اس کی نافرمانی نہیں کرے گا ، وہ اس کی خدمت کرتا رہا ، یہاں تک کہ ایک دن ایک شخص مر گیا ، اس کی مذمت بیان کی گئی تھی ، جب اس شخص کو دفن کر دیا گیا ، تو وہ ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) اس کی قبر پر بیٹھ کبر بہت رویا ، پھر ایک اور شخص کا انتقال ہوا ، اس کی تعریفیں کی گئی تھیں ، جب اس شخص کو دفن کیا گیا ، تو ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) اس کی قبر پر بیٹھا اور بہت زیادہ ہنسا ، اس کے ساتھیوں کو اس پر اعتراض ہوا ، وہ لوگ اپنے سربراہ کے پاس اکٹھے ہوئے اور بولے : یہ ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) آپ کے پاس کیسے رہ سکتا ہے ؟ جبکہ اس نے کئی لوگوں کو قتل کیا ہوا ہے ، اور اب اس نے جو کچھ کیا ہے ، وہ آپ نے دیکھ لیا ہے ، تو اس راہب کے اور اس کے ساتھیوں کے دل میں اس شخص کے حوالے سے الجھن پیدا ہوئی ، ایک مرتبہ وہ شخص ان کے سربراہ کے پاس آیا ، اس کے ساتھ اس کا ساتھی بھی تھا ، اس نے اس کے ساتھ بات چیت کی ، اس شخص نے راہب سے دریافت کیا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ راہب نے کہا : تم جاؤ اور تنور دہکاؤ ! اس شخص نے ایسا ہی کیا ، پھر اس نے آ کر راہب کو اس بارے میں بتایا کہ وہ ایسا کر چکا ہے ، اس راہب نے کہا : تم جاؤ اور خود کو اس تنور میں ڈال دو ! راہب اس شخص کے حوالے سے غافل ہوا ، وہ شخص گیا اور اس نے خود کو تنور میں ڈال دیا ، پھر جب راہب کو یاد آیا ، تو اس نے کہا : میرا خیال ہے ، اس شخص نے میرے کہنے پر ، اپنے آپ کو تنور میں ڈال دیا ہو گا ، پھر وہ راہب گیا ، تو اس نے اس شخص کو پایا کہ وہ تنور میں زندہ موجود ہے ، اور اسے پسینہ آ رہا ہے ، راہب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے تنور سے باہر نکالا اور بولا : اب یہ مناسب نہیں ہے کہ تم میری خدمت کرو ، بلکہ اب میں تمہاری خدمت کروں گا ، لیکن تم مجھے یہ بتاؤ ! کہ تم پہلے فوت ہونے والے شخص پر روئے کیوں تھے ؟ اور دوسرے والے پر ہنسے کیوں تھے ؟ اس شخص نے بتایا : جہاں تک پہلے فرد کا تعلق ہے ، تو جب اسے دفن کیا گیا تو میں نے دیکھا کہ جو بری صورتحال اس پر ڈالی جا رہی ہے ، تو مجھے اپنے گناہوں کا خیال آ گیا اور میں رونے لگا ، جہاں تک دوسرے فرد کا تعلق ہے ، تو میں نے دیکھا کہ اس پر بھلائی ڈالی جا رہی ہے ، تو میں ہنسنے لگا ، وہ شخص بعد میں بنی اسرائیل کے اکابرین ( یعنی بڑے عبادت گزاروں ) میں ایک شمار ہوا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔