Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 42 · Chapter 4

Book of Repentance

Hadith 17575–17614

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17575

Majma al-Zawaid #17575

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ لِلْقُلُوبِ صَدَأً كَصَدَأِ الْحَدِيدِ، وَجَلَاؤُهَا الِاسْتِغْفَارُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَزَادَ فِيهِ: «قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا جَلَاؤُهَا؟ قَالَ: "" الِاسْتِغْفَارُ». وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ سَلَمَةَ الطَّبَرَانِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that hearts rust like iron rusts, and their polish is seeking forgiveness. > **"Hearts rust like iron rusts, and their polish is seeking forgiveness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس طرح لوہے کو زنگ لگتا ہے ، اس طرح دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے ، اور دلوں کی جلا کا طریقہ مغفرت طلب کرنا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس میں انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں :” لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اُن ( دلوں ) کی جلا کا طریقہ کیا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مغفرت طلب کرنا ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی ولید بن سلمہ طبرانی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

17576

Majma al-Zawaid #17576

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ صَاحِبَ الشِّمَالِ لَيَرْفَعُ الْقَلَمَ سِتَّ سَاعَاتٍ عَنِ الْعَبْدِ الْمُسْلِمِ الْمُخْطِئِ، أَوِ الْمُسِيءِ ; فَإِنْ نَدِمَ وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ مِنْهَا أَلْقَاهَا، وَإِلَّا كُتِبَتْ وَاحِدَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported from the Messenger of Allah ﷺ that the companion of the left raises the pen six hours from the erring or offending Muslim servant; if he regrets and seeks Allah's forgiveness for it, it is discarded, otherwise one is recorded. > **"The companion of the left raises the pen six hours from the erring Muslim servant; if he regrets and seeks forgiveness it is discarded, otherwise one is recorded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بائیں طرف والا فرشتہ خطاکار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) برائی کرنے والے ، مسلمان بندے سے قلم کو چھ پہر تک اٹھائے رکھتا ہے ( یعنی وہ چھ پہر تک اس کی برائی نوٹ نہیں کرتا ) اگر وہ بندہ ندامت کا شکار ہو ، اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کے حوالے سے مغفرت مانگ لے تو وہ اس گناہ کو نوٹ نہیں کرتا ، ورنہ وہ اسے ایک گناہ کے طور پر نوٹ کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17577

Majma al-Zawaid #17577

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «صَاحِبُ الْيَمِينِ أَمِينٌ عَلَى صَاحِبِ الشِّمَالِ، فَإِذَا عَمِلَ الْعَبْدُ حَسَنَةً كَتَبَهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَإِنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَأَرَادَ صَاحِبُ الشِّمَالِ أَنْ يَكْتُبَهَا قَالَ لَهُ صَاحِبُ الْيَمِينِ: أَمْسِكْ عَنْهَا، فَيُمْسِكُ عَنْهَا ; فَإِنِ اسْتَغْفَرَ لَمْ تُكْتَبْ، وَإِنْ سَكَتَ كُتِبَتْ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ الزُّبَيْرِ، وَهُوَ كَذَّابٌ، وَلَكِنَّهُ مُوَافِقٌ لِمَا قَبْلَهُ، وَلَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ زَائِدٌ غَيْرَ أَنَّ الْحَسَنَةَ يَكْتُبُهَا بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا، وَقَدْ دَلَّ الْقُرْآنُ وَالسُّنَّةُ عَلَى ذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the companion of the right is trusted over the companion of the left: when the servant does a good deed he records it tenfold, and when he does an evil deed and the companion of the left wishes to record it, the companion of the right tells him to hold back, so he holds back; if he seeks forgiveness it is not recorded, and if he remains silent it is recorded against him. > **"The companion of the right is trusted over the companion of the left; when evil is done he says, hold back — if he seeks forgiveness it is not recorded, otherwise it is recorded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ دائیں طرف والا فرشتہ بائیں طرف والے فرشتے پر امین ہوتا ہے ، جب بندہ کوئی نیکی کرتا ہے تو دائیں طرف والا فرشتہ اسے دس گنا ( نیکیوں ) کے طور پر نوٹ کرتا ہے ، اور اگر بندہ کسی برائی کا ارتکاب کرے ، اور بائیں طرف والا فرشتہ اسے نوٹ کرنے لگے ، تو دائیں طرف والا فرشتہ اس سے یہ کہتا ہے : تم اس کو نوٹ کرنے سے رک جاؤ ، تو وہ ( بائیں طرف والا فرشتہ ) اس برائی کے حوالے سے رُک جاتا ہے ، اگر بندہ مغفرت طلب کر لے ، تو اس برائی کو نوٹ نہیں کیا جاتا ، اور اگر بندہ خاموش رہے ( یعنی مغفرت طلب نہ کرے ) تو اس کے خلاف ( اس برائی کو ایک برائی کے طور پر ) نوٹ کیا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن زبیر ہے ، اور وہ کذاب ہے ، لیکن یہ روایت اس سے پہلے والی روایت کے موافق ہے ، اور اس میں کوئی بھی چیز اضافی نہیں ہے ، صرف یہ بات اضافی ہے کہ نیکی کو دس گنا نوٹ کیا جاتا ہے ، اور قرآن و سنت اس بات پر دلالت کرتے ہیں ( کہ ایسا ہوتا ہے ) ۔

17578

Majma al-Zawaid #17578

وَعَنْ أُمِّ عِصْمَةَ الْعَوْصِيَّةِ - امْرَأَةٍ مِنْ قَيْسٍ - قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْ عَبْدٍ يَعْمَلُ ذَنْبًا إِلَّا وَقَفَ الْمَلَكُ الْمُوَكَّلُ بِإِحْصَاءِ ذُنُوبِهِ ثَلَاثَ سَاعَاتٍ، فَإِنِ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ مِنْ ذَنْبِهِ ذَلِكَ فِي شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ السَّاعَاتِ لَمْ يُوقَفْ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو مَهْدِيٍّ سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Umm ʿIsmah al-ʿAwsiyyah, a woman of Qays, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that no servant commits a sin but the angel charged with counting his sins pauses three hours; if he seeks Allah's forgiveness for that sin within those hours, it will not be held against him on the Day of Resurrection. > **"No servant commits a sin but the angel pauses three hours; if he seeks forgiveness within them, it will not be held against him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیده ام عصمہ عوصیہ ، جن کا تعلق قیس قبیلے سے ہے ، وہ بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے لئے مامور فرشتہ اس گناہ کو نوٹ کرنے سے تین پہر تک رکا رہتا ہے ، اگر وہ بندہ ان گھڑیوں ( یعنی تین پہر ) کے دوران اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی مغفرت طلب کر لے تو قیامت کے دن وہ گناہ اس کے ذمہ عائد نہیں کیا جائے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومہدی سعید بن سنان ہے اور وہ متروک ہے ۔

17579

Majma al-Zawaid #17579

عَنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ أَحَبَّ أَنْ تَسُرَّهُ صَحِيفَتُهُ ; فَلْيُكْثِرْ فِيهَا مِنَ الِاسْتِغْفَارِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

al-Zubayr, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever wishes his record to gladden him should increase seeking forgiveness therein. > **"Whoever wishes his record to gladden him should increase seeking forgiveness therein."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جو شخص یہ پسند کرتا ہو کہ اسے اس کا صحیفہ خوش کرے ، تو اس شخص کو اس صحیفے میں کثرت کے ساتھ استغفار شامل کرنا چاہیے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17580

Majma al-Zawaid #17580

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا مِنْ حَافِظَيْنِ يَرْفَعَانِ إِلَى اللَّهِ مَا حَفِظَا فِي يَوْمٍ، فَيَرَى اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَوَّلِ الصَّحِيفَةِ وَفِي آخِرِهَا اسْتِغْفَارًا إِلَّا قَالَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى -: قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي مَا بَيْنَ طَرَفَيِ الصَّحِيفَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ تَمَّامُ بْنُ نَجِيحٍ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that no two guardian angels raise to Allah what they guarded in a day, with Allah seeing seeking forgiveness at the start of the record and at its end, but Allah, Blessed and Exalted, says He has forgiven His servant what lies between the two ends of the record. > **"No two angels raise a day's record with seeking forgiveness at its start and end but Allah says: I have forgiven My servant what lies between them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ دونوں محافظ فرشتے ایک دن میں جو نوٹ کرتے ہیں ، اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں ، اگر اللہ تعالیٰ اس صحیفے کے آغاز میں اور اختتام پر استغفار دیکھ لے ، تو اللہ تعالیٰ یہ فرماتا ہے : ’’ اس صحیفے کے دونوں کناروں کے درمیان میں موجود اُمور کے حوالے سے ، میں نے اپنے بندے کی مغفرت کر دی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی تمام بن نجیح ہے جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، جبکہ امام بخاری اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17581

Majma al-Zawaid #17581

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً».

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that he seeks Allah's forgiveness seventy times in a day. > **"I seek Allah's forgiveness seventy times in a day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک ’’ میں ‘‘ ایک دن میں ، اللہ تعالیٰ سے ستر مرتبہ مغفرت طلب کرتا ہوں ۔‘‘

17582

Majma al-Zawaid #17582

وَفِي رِوَايَةٍ: «إِنِّي لَأَتُوبُ». مَكَانَ: «إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ كُلِّهِ، وَرَوَى مَعَهُ: «إِنِّي لَأَتُوبُ» أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُ: «إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ» حَسَنٌ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَبِي يَعْلَى فِي حَدِيثِ: «إِنِّي لَأَتُوبُ إِلَى اللَّهِ» رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In one narration, the Prophet ﷺ said, I repent, in place of, I seek forgiveness. > **"I repent to Allah in a day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں :’’ میں مغفرت طلب کرتا ہوں ‘‘ کی جگہ ’’ میں توبہ کرتا ہوں “ کے الفاظ ہیں ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں ، ان کے ساتھ امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی انہیں نقل کیا اور ’’ میں مغفرت طلب کرتا ہوں ‘‘ کے الفاظ والی روایت کی سند حسن ہے ، اور ’’ میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں “ کے الفاظ والی روایت میں امام احمد اور امام ابویعلیٰ کی دو استاد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17583

Majma al-Zawaid #17583

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ سَبْعِينَ مَرَّةً».

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that he seeks Allah's forgiveness and repents to Him seventy times. > **"I seek Allah's forgiveness and repent to Him seventy times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں ستر مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔‘‘

17584

Majma al-Zawaid #17584

وَفِي رِوَايَةٍ: «أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِينَ مَرَّةً».

EnglishUnverified translation

In one narration, more than seventy times. > **"I seek Allah's forgiveness and repent more than seventy times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ ستر مرتبہ سے زیادہ ۔‘‘

17585

Majma al-Zawaid #17585

وَفِي رِوَايَةٍ: «مِائَةَ مَرَّةٍ». رَوَاهَا كُلَّهَا الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَسَانِيدُهَا حَسَنَةٌ.

EnglishUnverified translation

In one narration, one hundred times. > **"I seek Allah's forgiveness and repent one hundred times."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :’’ 100 مرتبہ ۔‘‘ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں اور ان کی سند حسن ہے ۔

17586

Majma al-Zawaid #17586

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: «أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرُؤٌ ذَرِبُ اللِّسَانِ، وَأَكْثَرُ ذَلِكَ عَلَى أَهْلِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ؟! إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ مِائَةَ مَرَّةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ سُلَيْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that a man came to the Messenger of Allah ﷺ and said he was sharp-tongued, most of it against his family, so the Messenger of Allah ﷺ said, where are you from seeking forgiveness? He himself seeks Allah's forgiveness one hundred times in a day and night. > **"Where are you from seeking forgiveness? I seek Allah's forgiveness one hundred times in a day and night."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ایک بدزبان شخص ہوں اور میری زیادہ تر بدزبانی اپنے اہل خانہ کے خلاف ہوتی ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم استغفار کیوں نہیں کرتے ہو ؟ ’’ میں ‘‘ ایک دن اور ایک رات میں ، ایک سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن سلیم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17587

Majma al-Zawaid #17587

وَعَنْ أَبِي مُوسَى: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ» "". قُلْتُ: رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ: «مِائَةَ مَرَّةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ said that he seeks Allah's forgiveness and repents to Him one hundred times in a day. > **"I seek Allah's forgiveness and repent to Him one hundred times in a day."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ میں دن میں ، ایک سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے تاہم انہوں نے لفظ ’’ 100 مرتبہ ‘‘ نقل نہیں کیا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17588

Majma al-Zawaid #17588

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ دَلَهْمٍ: «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، عَلِّمْنِي عَمَلًا أَدْخُلُ بِهِ الْجَنَّةَ، قَالَ: "" لَا تَغْضَبْ وَلَكَ الْجَنَّةُ "". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، زِدْنِي. قَالَ: "" اسْتَغْفِرِ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ ; يَغْفِرِ اللَّهُ لَكَ ذَنْبَ سَبْعِينَ عَامًا "". قَالَ: لَيْسَ لِي سَبْعُونَ عَامًا، قَالَ: "" فَلِأَبِيكَ "". قَالَ: لَيْسَ لِأَبِي سَبْعُونَ عَامًا، قَالَ: "" فَلِأَهْلِ بَيْتِكَ "". قَالَ: لَيْسَ لِأَهْلِ بَيْتِي سَبْعُونَ عَامًا. قَالَ: "" فَلِجِيرَانِكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Rahman ibn Dalham reported that a man said, O Messenger of Allah, teach me a deed by which I enter Paradise, and he said not to become angry and Paradise is his; he asked for more, so he told him to seek Allah's forgiveness seventy times in a day before the sun sets, and Allah will forgive him the sin of seventy years; he said he had no seventy years, so he said then for his father; he said his father had no seventy years, so he said then for his household; he said his household had no seventy years, so he said then for his neighbours. > **"Seek Allah's forgiveness seventy times before sunset and Allah will forgive you seventy years — or your father, your household, or your neighbours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن دلہم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کی تعلیم دیجئے جس کے ذریعے میں جنت میں داخل ہو جاؤں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم غضبناک نہ ہونا ، تمہیں جنت مل جائے گی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے مزید کچھ بتائیے ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم سورج غروب ہونے سے پہلے دن میں ، ستر مرتبہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرنا ، اللہ تعالیٰ تمہارے 70 سال کے گناہوں کی مغفرت کر دے گا ، اس نے کہا : میرے تو ستر سال کے گناہ نہیں ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے باپ کے ( بھی گناہوں کی مغفرت کر دے گا ) اس نے کہا : میرے باپ کے بھی ستر سال کے گناہ نہیں ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے گھر والوں کے ( گناہوں کی مغفرت کر دے گا ) اس نے کہا : میرے گھر والے ہی نہیں ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تو تمہارے پڑوسیوں کے ( گناہوں کی مغفرت کر دے گا ) ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17589

Majma al-Zawaid #17589

عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «تُفْتَحُ أَبْوَابُ السَّمَاءِ نِصْفَ اللَّيْلِ، فَيُنَادِي مُنَادٍ: هَلْ مِنْ دَاعٍ فَيُسْتَجَابُ لَهُ؟ هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَيُعْطَى؟ هَلْ مِنْ مَكْرُوبٍ فَيُفَرَّجُ عَنْهُ؟ فَلَا يَبْقَى مُسْلِمٌ يَدْعُو بِدَعْوَةٍ إِلَّا اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ، إِلَّا زَانِيَةٌ تَسْعَى بِفَرْجِهَا أَوْ عَشَّارٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUthman ibn Abi al-ʿAs al-Thaqafi, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that the gates of heaven open at midnight, and a caller calls whether there is any supplicant to be answered, any asker to be given, any distressed to be relieved, and no Muslim supplicates with a supplication but Allah answers him — except an adulteress who traffics with her private part, or a tax-collector. > **"The gates of heaven open at midnight: is there any supplicant to be answered, asker to be given, distressed to be relieved? Every Muslim is answered except an adulteress or a tax-collector."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان بن ابوالعاص تقفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ نصف رات کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، اور منادی پکار کر یہ کہتا ہے : کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو ؟ کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے ؟ کیا کوئی پریشان حال ہے کہ اس کی پریشانی ختم کر دی جائے ؟ تو اس وقت جو بھی مسلمان جو دعا کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول کرتا ہے ، البتہ زنا کرنے والی ایسی عورت جو زنا کی کمائی کھاتی ہے ، اور بھتہ وصول کرنے والے شخص ( ان دونوں ) کا معاملہ مختلف ہے ( یعنی اُس گھڑی میں ان دونوں کی دعا قبول نہیں ہوتی ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17590

Majma al-Zawaid #17590

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَسْتَغْفِرَ بِالْأَسْحَارِ سَبْعِينَ مَرَّةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ commanded them to seek forgiveness seventy times in the pre-dawn hours. > **"Seek forgiveness seventy times in the pre-dawn hours."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ’’ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم سحری کے وقت ستر مرتبہ استغفار کیا کریں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن ابوجعفر ہے اور وہ متروک ہے ۔

17591

Majma al-Zawaid #17591

عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ لِمَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، إِنَّكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، وَأَنْتَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ». قُلْتُ: لَهُ فِي الصَّحِيحِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ». إِلَى آخِرِهِ. وَهَذَا: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَغْفِرُكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ بُرَيْدَةَ قَالَ: حُدِّثْتُ عَنِ الْأَشْعَرِيِّ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa, may Allah be pleased with him, heard the Messenger of Allah ﷺ say, O Allah, I seek Your forgiveness for what I sent ahead and delayed, kept secret and declared; You are the Advancer and the Delayer, and You are over all things Powerful. > **"O Allah, I seek Your forgiveness for what I sent ahead and delayed, kept secret and declared; You are the Advancer and the Delayer, over all things Powerful."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : ’’ اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اس کی ، جو میں نے پہلے کیا ، اس کی جو میں بعد میں کروں گا ، اس کی جو میں نے پوشیدہ طور پر کیا ، اس کی جو میں نے علانیہ طور پر کیا ، بے شک تو آگے کرنے والا ہے ، اور تو پیچھے کرنے والا ہے ، اور تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ’’ صحیح ‘‘ میں ایک روایت مذکور ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اے اللہ ! تو میری مغفرت کر دے ، اس کے حوالے سے ، جو میں نے پہلے کیا ......‘‘۔ اس کے بعد سے لے کر آخر تک الفاظ ہیں اور یہاں یہ الفاظ ہیں :’’ اے اللہ ! میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ......‘‘۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، البتہ ابن بریدہ نے یہ کہا ہے : مجھے اشعری کے حوالے سے یہ روایت بیان کی گئی ہے ۔

17592

Majma al-Zawaid #17592

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَفَعَ الْحَدِيثَ - أَنَّهُ قَالَ: «مَنْ قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ ; كُتِبَتْ كَمَا قَالَهَا، ثُمَّ عُلِّقَتْ بِالْعَرْشِ لَا يَمْحُوهَا ذَنْبٌ عَمِلَهُ صَاحِبُهَا، حَتَّى يَلْقَى اللَّهَ وَهِيَ مَخْتُومَةٌ كَمَا قَالَهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مَالِكُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَالِكٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them, raising the narration, said that whoever says glory be to Allah and with His praise, I seek Allah's forgiveness and repent to Him, it is written as he said it, then hung upon the Throne, no sin of its speaker effacing it, until he meets Allah with it sealed as he said it. > **"Whoever says: Glory be to Allah and with His praise, I seek Allah's forgiveness and repent to Him — it is written, hung upon the Throne, sealed until he meets Allah."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : ( نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ) ’’ جو شخص یہ پڑھتا ہے : ’’ میں اللہ تعالیٰ کی پاکی کا اعتراف کرتا ہوں ، اس کی حمد کے ہمراہ ، اور میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ، اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو ان کلمات کو اسی طرح نوٹ کر لیا جاتا ہے جس طرح اس نے پڑھے ہوں اور پھر عرش کے ساتھ لٹکا دیا جاتا ہے ، ان کو پڑھنے والے شخص نے ، جو بھی گناہ کیا ہو ، ایسا کوئی بھی گناہ ان کلمات کو مٹاتا نہیں ہے ، یہاں تک کہ جب وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو ان کلمات پر مہر لگی ہوئی ہو گی ( اور اس شخص کو ان کا اجر و ثواب عطا کیا جائے گا ) ۔

17593

Majma al-Zawaid #17593

وَعَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ أَوْفَى كَلِمَةٍ عِنْدَ اللَّهِ أَنْ يَقُولَ الْعَبْدُ: اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي، وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، أَيْ رَبِّ فَاغْفِرْ لِي ذَنْبِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Malik al-Ashʿari, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the most fulfilling word with Allah is for the servant to say, O Allah, You are my Lord and I am Your servant, I wronged myself and confessed my sin, and none forgives sins but You, so O my Lord forgive my sin. > **"O Allah, You are my Lord and I am Your servant, I wronged myself and confessed my sin, and none forgives sins but You, so forgive my sin."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابومالک اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ بھرپور کلمہ یہ ہے کہ بندہ یہ کہے : ’’ اے اللہ ! بے شک تو میرا پروردگار ہے ، اور میں تیرا بندہ ہوں ، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے ، میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں ، اور گناہوں کی مغفرت ، صرف تو ہی کر سکتا ہے ، اے میرے پروردگار ! تو میرے گناہوں کی مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن اسماعیل بن عیاش ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17594

Majma al-Zawaid #17594

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَا يَقُولُ رَجُلٌ: أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ; إِلَّا غُفِرَ لَهُ، وَإِنْ كَانَ فَرَّ مِنَ الزَّحْفِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, said that no man says, I seek Allah's forgiveness, besides Whom none is worthy of worship, the Living, the Sustainer, and I repent to Him, three times, but he is forgiven, even if he fled from battle. > **"No man says: I seek Allah's forgiveness besides Whom none is worthy of worship, the Living, the Sustainer, and I repent to Him — three times — but he is forgiven, even if he fled from battle."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جو شخص تین مرتبہ یہ پڑھتا ہے : ’’ میں اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگتا ہوں ، جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ زندہ ہے اور بذات خود قائم ہے ، اور میں اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں ۔‘‘ تو اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اگرچہ وہ میدان جنگ سے فرار ہوا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17595

Majma al-Zawaid #17595

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَيَرْفَعُ الدَّرَجَةَ لِلْعَبْدِ الصَّالِحِ فِي الْجَنَّةِ فَيَقُولُ: يَا رَبِّ، أَنَّى لِي هَذِهِ؟! فَيَقُولُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah raises a rank for the righteous servant in Paradise, and he asks, O my Lord, how is this mine? So He says, through your child's seeking forgiveness for you. > **"Allah raises a rank for the righteous servant in Paradise, and he asks how; He says: Through your child's seeking forgiveness for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ جنت میں کسی نیک بندے کے درجے کو بلند کرے گا ، وہ بندہ دریافت کرے گا : اے میرے پروردگار ! یہ مجھے کس وجہ سے ملا ہے ؟ تو پروردگار فرمائے گا : تمہاری اولاد کے ، تمہارے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عاصم بن بہدلہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

17596

Majma al-Zawaid #17596

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «يَتْبَعُ الرَّجُلَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْحَسَنَاتِ أَمْثَالُ الْجِبَالِ، فَيَقُولُ: أَنَّى هَذَا؟! فَيُقَالُ: بِاسْتِغْفَارِ وَلَدِكَ لَكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ قَدْ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that mountains of good deeds follow a man on the Day of Resurrection, and he asks how this is, so it is said, through your child's seeking forgiveness for you. > **"Mountains of good follow a man and he asks how; it is said: Through your child's seeking forgiveness for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ قیامت کے دن ایک شخص کے پیچھے پہاڑوں جیسی نیکیاں آئیں گی ، وہ شخص دریافت کرے گا : یہ کہاں سے آئی ہیں ؟ تو اسے کہا جائے گا : تمہاری اولاد کے ، تمہارے لیے دعائے مغفرت کرنے کی وجہ سے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں کچھ ضعیف راوی ہیں ، جن کی توثیق کی گئی ہے ۔

17597

Majma al-Zawaid #17597

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ مَالٌ يَتَصَدَّقُ بِهِ ; فَلْيَسْتَغْفِرْ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ; فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever has no wealth to give in charity should seek forgiveness for the believing men and women, for it is charity. > **"Whoever has no wealth to give in charity should seek forgiveness for the believing men and women, for it is charity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کے پاس اتنا مال نہ ہو کہ وہ اس کو صدقہ کر سکے ، اُسے مومن مردوں اور مومن خواتین کے لئے دعائے مغفرت کرنی چاہیے ، کیونکہ یہ بھی صدقہ ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17598

Majma al-Zawaid #17598

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنِ اسْتَغْفَرَ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ حَسَنَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, heard the Messenger of Allah ﷺ say that whoever seeks forgiveness for the believing men and women, Allah records for him a good deed for every believing man and woman. > **"Whoever seeks forgiveness for the believing men and women, Allah records for him a good deed for every believing man and woman."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص مومن مردوں اور مومن خواتین کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ ہر ایک مومن مرد اور مومن عورت کے بدلے میں ، اُس شخص کے لیے ایک نیکی نوٹ کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17599

Majma al-Zawaid #17599

وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ قَالَ كُلَّ يَوْمٍ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ; أُتْحِفَ بِهِ مِنْ كُلِّ مُؤْمِنٍ حَسَنَةً». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Umm Salamah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever says each day, O Allah forgive me and the believing men and women, is gifted a good deed from every believer. > **"Whoever says each day: O Allah forgive me and the believing men and women — is gifted a good deed from every believer."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص روزانہ یہ پڑھتا ہے : ’’ اے اللہ ! تو میری اور مومن مردوں کی اور مومن خواتین کی مغفرت کر دے ۔‘‘ ( نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : ) تو ہر ایک مومن کی طرف سے ، اُس شخص کو تحفے کے طور پر ایک نیکی دی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17600

Majma al-Zawaid #17600

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «مَنِ اسْتَغْفَرَ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً، أَوْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً - أَحَدَ الْعَدَدَيْنِ - كَانَ مِنَ الَّذِينَ يُسْتَجَابُ لَهُمْ، وَيُرْزَقُ بِهِمْ أَهْلُ الْأَرْضِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاتِكَةِ وَقَالَ فِيهِ: حُدِّثْتُ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، وَعُثْمَانُ هَذَا وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ الْمُسَمِّينَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda', may Allah be pleased with him, heard the Messenger of Allah ﷺ say that whoever seeks forgiveness for the believing men and women each day twenty-seven times — or twenty-five times, one of the two numbers — shall be among those whose prayers are answered and through whom the people of earth are sustained. > **"Whoever seeks forgiveness for the believing men and women each day twenty-seven times shall be among the answered, through whom earth is sustained."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص روزانہ 27 مرتبہ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) 25 مرتبہ ( ان دونوں میں سے کوئی ایک عدد ہے ، جو شخص روزانہ اتنی مرتبہ ) مومن مردوں اور مومن خواتین کے لئے دعائے مغفرت کرتا ہے ، تو وہ ان لوگوں میں شامل ہو جاتا ہے ، جن کی دعا مستجاب ہوتی ہے ، اور جن کی وجہ سے اہل زمین کو رزق دیا جاتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن ابوعاتکہ ہے ، اس روایت میں اس نے یہ کہا ہے : مجھے سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کے حوالے سے یہ حدیث بیان کی گئی ہے ، عثمان نامی اس راوی کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور جمہور نے اسے ضعیف کہا ہے ، اس روایت کی سند میں جو دیگر راوی ذکر کیے گئے ہیں وہ ثقہ ہیں ۔

17601

Majma al-Zawaid #17601

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: «كُنَّا نُمْسِكُ عَنِ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى سَمِعْنَا نَبِيَّنَا - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ. وَقَالَ: "" أَخَّرْتُ شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ. قُلْتُ: قَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَائِلِ التَّوْبَةِ: بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُذْنِبِينَ مِنْ أَهْلِ التَّوْحِيدِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them, reported that they used to withhold seeking forgiveness for major sinners until they heard their Prophet ﷺ say that Allah does not forgive shirk but forgives less than that for whom He wills, and say that he stored his intercession for the major sinners on the Day of Resurrection. > **"Allah does not forgive shirk but forgives less than that for whom He wills; and I stored my intercession for the major sinners on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے ہم کبیرہ گناہ کے مرتکب افراد کے لیے دعائے مغفرت نہیں کرتے تھے ، یہاں تک کہ ہم نے اپنے نبی ﷺ کو یہ تلاوت کرتے ہوئے سنا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے ، اور وہ اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ۔‘‘ اور نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے : ’’ بے شک میں نے اپنی شفاعت کو قیامت کے دن کبیرہ گناہوں کے مرتکب افراد کے لیے موخر کیا ہے ( یعنی سنبھال کے رکھا ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے کتاب التوبہ کے آغاز میں یہ باب گزر چکا ہے ، باب : اہل توحید سے تعلق رکھنے والے گناہگار افراد کے بارے میں ، جو کچھ منقول ہے ۔

17602

Majma al-Zawaid #17602

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ وَعَدَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَى عَمَلٍ ثَوَابًا فَهُوَ مُنْجِزُهُ لَهُ، وَمَنْ وَعَدَهُ اللَّهُ عَلَى عَمَلٍ عِقَابًا، فَهُوَ مِنْهُ بِالْخِيَارِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُهَيْلُ بْنُ أَبِي حَزْمٍ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whatever reward Allah promises for a deed, He will fulfil it, but whatever punishment Allah promises for a deed, He may waive it. > **"Whatever reward Allah promises for a deed He will fulfil; whatever punishment He promises for a deed He may waive."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس شخص کے ساتھ ، اللہ تعالیٰ کسی عمل کے حوالے سے ثواب کا وعدہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو پورا کرے گا ، اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے کسی عمل کے ارتکاب پر کوئی وعید سنائی ہو ، تو اس وعید کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ کو اختیار ہے ( یعنی اگر اللہ چاہے گا ، تو اس شخص کو اس وعید کے مطابق سزا دے گا اور اگر چاہے گا ، تو اس کی مغفرت کر دے گا ) ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سہیل بن ابوحزم ہے ، جس کے ضعیف ہونے کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17603

Majma al-Zawaid #17603

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ عَذَّبَهُ، وَإِنْ شَاءَ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ غَفَرَ لَهُ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يَغْفِرَ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ جَابِرُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْجُدِّيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever commits a sin knowing that Allah, if He wills, punishes him, and if He wills forgives him, it becomes binding upon Allah to forgive him. > **"Whoever commits a sin knowing that Allah may punish or forgive him, it becomes binding upon Allah to forgive him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص گناہ کا ارتکاب کرے اور وہ یہ بات جانتا ہو ( یعنی اس بات پر یقین رکھتا ہو ) کہ اگر اللہ تعالیٰ اسے عذاب دینا چاہے ، تو اسے عذاب دیدے گا اور اگر اس کی مغفرت کرنا چاہے ، تو اس کی مغفرت کر دے گا ، تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ اس شخص کی مغفرت کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جابر بن مرزوق جدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17604

Majma al-Zawaid #17604

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَذْنَبَ ذَنْبًا، فَعَلِمَ أَنَّ اللَّهَ قَدِ اطَّلَعَ عَلَيْهِ ; غُفِرَ لَهُ وَإِنْ لَمْ يَسْتَغْفِرْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَرَاسَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever commits a sin knowing that Allah observed him is forgiven, even if he did not seek forgiveness. > **"Whoever commits a sin knowing that Allah observed him is forgiven, even if he did not seek forgiveness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص کسی گناہ کا مرتکب ہو اور وہ یہ بات جانتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس سے واقف ہے تو اس شخص کی مغفرت ہو جاتی ہے ، اگرچہ اس نے مغفرت طلب نہ کی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن ہراسہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

17605

Majma al-Zawaid #17605

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا فَقَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ - جَلَّ ذِكْرُهُ - لَا يَتَعَاظَمُهُ ذَنْبٌ غَفَرَهُ: إِنَّ رَجُلًا كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ قَتَلَ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَأَتَى رَاهِبًا فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ لَهُ: قَدْ أَسْرَفْتَ، فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَتَلَهُ. ثُمَّ أَتَى رَاهِبًا آخَرَ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: لَا. قَدْ أَسْرَفْتَ، فَقَامَ إِلَيْهِ فَقَتَلَهُ. ثُمَّ أَتَى رَاهِبًا آخَرَ قَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ مِائَةَ نَفْسٍ هَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: قَدْ أَسْرَفْتَ، وَمَا أَدْرِي وَلَكِنْ هَهُنَا قَرْيَتَانِ: قَرْيَةٌ يُقَالُ لَهَا: نَصْرَةُ، وَالْأُخْرَى يُقَالُ لَهَا: كَفْرَةُ، فَأَمَّا نَصْرَةُ فَيَعْمَلُونَ عَمَلَ الْجَنَّةِ، لَا يَثْبُتُ فِيهَا غَيْرُهُمْ، وَأَمَّا كَفْرَةُ فَيَعْمَلُونَ عَمَلَ أَهْلِ النَّارِ، لَا يَثْبُتُ فِيهَا غَيْرُهُمْ، فَانْطَلِقْ إِلَى أَهْلِ نَصْرَةَ، فَإِنْ ثَبَتَّ فِيهَا، وَعَمِلْتَ مِثْلَ أَهْلِهَا، فَلَا تَشُكُّ فِي تَوْبَتِكَ. فَانْطَلَقَ يُرِيدُهَا حَتَّى إِذَا كَانَ بَيْنَ الْقَرْيَتَيْنِ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ، فَسَأَلَتِ الْمَلَائِكَةُ رَبَّهَا عَنْهُ، فَقَالَ: انْظُرُوا أَيُّ الْقَرْيَتَيْنِ كَانَ أَقْرَبَ فَاكْتُبُوهُ مِنْ أَهْلِهَا. فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى نَصْرَةَ بِقِيدِ أُنْمُلَةٍ، فَكُتِبَ مِنْ أَهْلِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمَ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَوَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr, may Allah be pleased with them, reported that the Messenger of Allah ﷺ came out one day and said that no sin He forgives is too great for Allah, Exalted in remembrance: a man among those before them killed ninety-eight souls, came to a monk asking if there was repentance for him, and was told he had transgressed excessively, so he rose and killed him; then he came to another monk confessing ninety-nine killings, was told no, he had transgressed, so he killed him; then he came to another confessing one hundred killings, was told he had transgressed but he did not know, yet there were two villages — Nasrah whose people do the deeds of Paradise admitting none else, and Kafrah whose people do the deeds of Hell admitting none else — so he should go to Nasrah, and if he remained there doing their deeds, he should not doubt his repentance; he set out until death seized him between the two villages, the angels asked their Lord, and He told them to see which village he was nearer and record him among its people, and they found him nearer to Nasrah by a fingertip's span, so he was recorded among its people. > **"No sin He forgives is too great for Allah; go to the people of Nasrah, remain among them doing their deeds, and do not doubt your repentance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لائے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے لیے کسی بھی گناہ کی مغفرت کر دینا بڑی بات نہیں ہے ، تم سے پہلے زمانے میں ایک شخص تھا جس نے 98 افراد کو قتل کیا تھا ، وہ ایک راہب کے پاس گیا اور بولا : میں نے 98 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے اس سے کہا : تم نے بڑی زیادتی کی ( یعنی تمہارے لئے توبہ کی گنجائش نہیں ہے ) وہ شخص اُٹھ کر راہب کے پاس گیا اور اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ ایک اور راہب کے پاس گیا اور بولا : میں نے 99 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا : جی نہیں ! تم نے بڑی زیادتی کی ہے ، وہ شخص اُٹھ کر اس کی طرف بڑھا اور اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ ایک اور راہب کے پاس گیا اور بولا : میں نے 100 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا : تم نے بڑی زیادتی کی ہے ، مجھے نہیں معلوم ( کہ اس کا حکم کیا ہو گا ؟ ) البتہ یہ ہے کہ یہاں دو بستیاں ہیں ، ایک بستی کا نام ’’ بصرہ ‘‘ ہے اور دوسری بستی کا نام ’’ کفرہ ‘‘ ہے ، جہاں تک ’’ بصرہ “ نامی بستی کا تعلق ہے ، تو وہاں کے رہنے والے لوگ اہل جنت کا سا عمل کرتے ہیں اور اس بستی میں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں رہ سکتا جہاں تک ’’ کفرہ ‘‘ نامی بستی کا تعلق ہے ، تو وہاں کے لوگ اہل جہنم کے سے عمل کرتے ہیں ، اور وہاں ان کے علاوہ کوئی اور نہیں رہ سکتا ، تو تم ’’ بصرہ ‘‘ کے رہنے والوں کی طرف چلے جاؤ ، اگر تم وہاں ٹھہر گئے ، اور وہاں کے لوگوں کی مانند عمل کرنے لگے ، تو تمہیں اپنی توبہ کے بارے میں کوئی شک نہیں ہو گا ، وہ شخص اس بستی کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوا ، جب وہ دونوں بستیوں کے درمیان پہنچا ، تو اُسے موت نے آ لیا ، فرشتوں نے اپنے پروردگار سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا : تو پروردگار نے فرمایا : تم اس بات کا جائزہ لو کہ وہ دونوں بستیوں میں سے کون سی بستی کے زیادہ قریب ہے ؟ اور پھر اسے اس بستی والوں میں نوٹ کر لینا ، تو فرشتوں نے اس شخص کو پایا کہ وہ چند پوروں کے فاصلے جتنا ’’ بصرہ ‘‘ نامی بستی کے زیادہ قریب تھا ، تو اس کا شمار اُس بستی والوں میں کیا گیا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن زیاد بن انعم کا معاملہ مختلف ہے ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور ایک سے زیادہ افراد نے اسے ثقہ کہا ہے ۔

17606

Majma al-Zawaid #17606

وَعَنْ أَبِي عَبْدِ رَبٍّ: أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَلَى الْمِنْبَرِ يُحَدِّثُ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسُلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ رَجُلًا أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ فَلَقِيَ رَجُلًا فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا كُلُّهُمْ ظُلْمًا فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: لَا. فَقَتَلَهُ. وَأَتَى آخَرَ فَقَالَ: إِنَّ الْآخَرَ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ كُلَّهَا ظُلْمًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: إِنْ حَدَّثْتُكَ عَلَى أَنَّ اللَّهَ لَا يَتُوبُ عَلَى مَنْ تَابَ كَذَبْتُكَ، هَهُنَا قَوْمٌ يَتَعَبَّدُونَ فَائْتِهِمْ تَعَبَّدِ اللَّهَ مَعَهُمْ. فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِمْ، فَمَاتَ عَلَى ذَلِكَ، فَاجْتَمَعَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ، فَبَعَثَ اللَّهُ إِلَيْهِمْ مَلَكًا فَقَالَ: قِيسُوا مَا بَيْنَ الْمَكَانَيْنِ فَأَيُّهُمْ أَقْرَبُ فَهُوَ مِنْهُمْ، فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى دَيْرِ التَّوَّابِينَ بِأُنْمُلَةٍ فَغُفِرَ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عَبْدِ رَبٍّ، وَهُوَ ثِقَةٌ. وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

Abu ʿAbd Rabb reported that he heard Muʿawiyah ibn Abi Sufyan, may Allah be pleased with them, upon the minbar narrate that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that a man who wronged himself met another and confessed killing ninety-nine souls unjustly, asking if there was repentance, and was told no, so he killed him; then he met another confessing one hundred unjust killings, and was told that to say Allah does not turn to one who repents would be a lie, but there were a people worshipping, so he should join them in worshipping Allah; he set out, died upon that, the angels of mercy and punishment gathered, Allah sent an angel telling them to measure between the two places and assign him to whichever he was nearer, and they found him nearer to the monastery of the repentant by a fingertip, so he was forgiven. > **"To say Allah does not turn to one who repents would be a lie; join the worshippers — and he was found nearer to the monastery of the repentant by a fingertip, so he was forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوعبد رب بیان کرتے ہیں : انہوں نے حضرت معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو منبر پر یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک شخص نے اپنے اوپر ظلم کیا ( یعنی گناہ کا ارتکاب کیا ) اس کی ملاقات دوسرے شخص سے ہوئی ، تو پہلے شخص نے بتایا کہ اس نے 99 قتل کیے ہیں ، اور وہ سب ظلم کے طور پر کیے ہیں ، تو کیا میرے لئے توبہ کی گنجائش ہے ؟ دوسرے شخص نے جواب دیا : جی نہیں ! پہلے شخص نے اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ پہلا شخص ایک اور فرد کے پاس آیا ، اس نے بتایا کہ میں نے 100 قتل کیے ہیں اور وہ سب ظلم کے طور پر کیے ہیں ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس فرد نے کہا : اگر میں تمہیں یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ قبول نہیں کرتا ہے ، تو میں تمہیں یہ غلط کہوں گا ، یہاں کچھ لوگ ہیں ، جو عبادت کرتے ہیں ، تو ان کے پاس جاؤ اور ان کے ہمراہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو ، وہ شخص ان لوگوں کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوا ، راستے میں وہ مر گیا ، رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے اکٹھے ہوئے ( کہ اس کو اپنے قبضے میں لیں ) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک فرشتہ بھیجا ، اس فرشتے نے یہ کہا : تم دونوں جگہوں کے درمیان والے حصے کو ناپ لو ، یہ دونوں میں سے ، جس کے زیادہ قریب ہو گا ، ان میں سے ایک شمار ہو گا ، تو انہوں نے یہ بات پائی کہ وہ شخص توبہ کرنے والوں کے عبادت خانے کے چند پوروں جتنا زیادہ قریب تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبد رب کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ نے بھی اس کی مانند نقل کی ہے ۔

17607

Majma al-Zawaid #17607

وَعَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى بَنِي جُمَحٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زَمْعَةَ الْبَلَوِيَّ - «وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ - بَايَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَحْتَهَا، وَأَتَى يَوْمًا مَسْجِدَ الْفُسْطَاطِ، فَقَامَ فِي الرَّحْبَةِ، وَقَدْ كَانَ بَلَغَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو بَعْضُ التَّشْدِيدِ، فَقَالَ: لَا تُشَدِّدُوا عَلَى النَّاسِ ; فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ سَبْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا، فَذَهَبَ إِلَى رَاهِبٍ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ سَبْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: لَا. فَقَتَلَ الرَّاهِبَ. ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى رَاهِبٍ آخَرَ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ ثَمَانِيًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: لَا. فَقَتَلَهُ. ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الثَّالِثِ فَقَالَ: إِنِّي قَتَلْتُ تِسْعًا وَتِسْعِينَ نَفْسًا مِنْهُمْ رَاهِبَانِ، فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ تَوْبَةٍ؟ فَقَالَ: لَقَدْ عَمِلْتَ شَرًّا، وَلَئِنْ قُلْتُ: إِنَّ اللَّهَ لَيْسَ بِغَفُورٍ رَحِيمٍ لَقَدْ كَذَبْتُ، فَتُبْ إِلَى اللَّهِ. فَقَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَا أُفَارِقُكَ بَعْدَ قَوْلِكَ، فَلَزِمَهُ عَلَى أَنْ لَا يَعْصِيَهُ، فَكَانَ يَخْدِمُهُ فِي ذَلِكَ، فَهَلَكَ رَجُلٌ وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ قَبِيحٌ، فَلَمَّا دُفِنَ قَعَدَ عَلَى قَبْرِهِ فَبَكَى بُكَاءً شَدِيدًا، ثُمَّ تُوُفِّيَ آخَرُ، وَالثَّنَاءُ عَلَيْهِ حَسَنٌ، فَلَمَّا دُفِنَ قَعَدَ عَلَى قَبْرِهِ فَضَحِكَ ضَحِكًا شَدِيدًا فَأَنْكَرَ أَصْحَابُهُ ذَلِكَ فَاجْتَمَعُوا إِلَى رَأْسِهِمْ فَقَالُوا: كَيْفَ يَأْوِي إِلَيْكَ هَذَا قَاتِلُ النُّفُوسِ وَقَدْ صَنَعَ مَا رَأَيْتَ؟! فَوَقَعَ فِي نَفْسِهِ وَأَنْفُسِهِمْ، فَأَتَى إِلَى صَاحِبِهِمْ مَرَّةً مِنْ ذَلِكَ وَمَعَهُ صَاحِبٌ لَهُ فَكَلَّمَهُ، فَقَالَ لَهُ: مَا تَأْمُرُنِي؟ فَقَالَ: اذْهَبْ فَأَوْقِدْ تَنُّورًا، فَفَعَلَ ثُمَّ أَتَاهُ، فَأَخْبَرَهُ: أَنْ قَدْ فَعَلَ. فَقَالَ: اذْهَبْ فَأَلْقِ نَفْسَكَ فِيهَا، فَلَهَا عَنْهُ الرَّاهِبُ، وَذَهَبَ الْآخَرُ فَأَلْقَى نَفْسَهُ فِي التَّنُّورِ، ثُمَّ اسْتَفَاقَ الرَّاهِبُ فَقَالَ: إِنِّي لَأَظُنُّ أَنَّ الرَّجُلَ قَدْ أَلْقَى نَفْسَهُ فِي التَّنُّورِ بِقَوْلِي، فَذَهَبَ فَوَجَدَهُ حَيًّا فِي التَّنُّورِ يَعْرَقُ، فَأَخَذَ بِيَدِهِ فَأَخْرَجَهُ مِنَ التَّنُّورِ فَقَالَ: مَا يَنْبَغِي أَنْ تَخْدِمَنِي، وَلَكِنْ أَنَا أَخْدِمُكَ، أَخْبِرْنِي عَنْ بُكَائِكَ عَنِ الْمُتَوَفَّى الْأَوَّلِ، وَعَنْ ضَحِكِكَ عَنِ الْآخَرِ. قَالَ: أَمَّا الْأَوَّلُ فَلَمَّا دُفِنَ رَأَيْتُ مَا يَلْقَى بِهِ مِنَ الشَّرِّ، فَذَكَرْتُ ذُنُوبِي فَبَكَيْتُ. وَأَمَّا الْآخَرُ فَرَأَيْتُ مَا يَلْقَى بِهِ مِنَ الْخَيْرِ فَضَحِكْتُ. وَكَانَ بَعْدَ ذَلِكَ مِنْ عُظَمَاءِ بَنِي إِسْرَائِيلَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Qays, freedman of Banu Jumah, reported that he heard Abu Zamʿah al-Balawi — among the companions of the Tree who pledged to the Prophet ﷺ beneath it — stand in the courtyard of the Fustat mosque, having heard of some strictness from ʿAbdullah ibn ʿAmr, and say not to be strict with people, for he heard the Messenger of Allah ﷺ say that a man of the Children of Israel killed ninety-seven souls, went to a monk asking for repentance and was refused, so he killed him; then he killed a second monk after confessing ninety-eight; then he confessed ninety-nine including two monks to a third, who said he had done evil, but to say Allah is not Forgiving, Merciful would be a lie, so he should repent; the man refused to part from him, served him without disobeying, wept intensely at the burial of an ill-praised man upon seeing his evil recompense and laughed intensely at the burial of a well-praised man upon seeing his good recompense, was questioned by his companions, was tested by command to kindle an oven and cast himself therein, obeyed while the monk heedlessly turned away, was found alive sweating in the oven, was taken out by the hand, and thereafter became among the great men of the Children of Israel. > **"To say Allah is not Forgiving, Merciful would be a lie, so repent to Allah — and thereafter he became among the great men of the Children of Israel."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقیس ، جو بنو جمح کے غلام ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت ابوزمعہ بلوی رضی اللہ عنہ کو سنا ہے ، یہ بیعت رضوان میں شرکت کا شرف رکھتے ہیں اور انہوں نے درخت کے نیچے نبی اکرم ﷺ کی بیعت کی تھی ، وہ ایک دن ” فسطاط ‘‘ کی مسجد میں تشریف لائے اور صحن میں کھڑے ہو گئے ، انہیں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات پتہ چلی تھی کہ وہ بعض مسائل میں سختی کرتے ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : تم لوگوں کو سختی کا شکار نہ کرو ، کیونکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک شخص نے بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والے 97 افراد کو قتل کر دیا ، پھر وہ ایک راہب کے پاس گیا اور بولا : میں نے 97 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا : جی نہیں ! اس شخص نے اس راہب کو بھی قتل کر دیا ، پھر وہ ایک اور راہب کے پاس گیا اور بولا : میں نے 98 افراد کو قتل کیا ہے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے بھی یہ جواب دیا : جی نہیں ! اس شخص نے اسے بھی قتل کر دیا ، پھر وہ تیسرے راہب کے پاس گیا اور بولا : میں نے 99 افراد کو قل کیا ہے ، جن میں سے دو راہب بھی تھے ، کیا تم میرے لئے توبہ کی گنجائش پاتے ہو ؟ اس راہب نے کہا : تم نے برا کام کیا ہے ، لیکن اگر میں یہ کہوں کہ اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا ، رحم کرنے والا نہیں ہے ، تو میری یہ بات غلط ہو گی ، تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرو ! اس شخص نے کہا : تمہاری اس بات کے بعد اب میں تم سے جدا نہیں ہوؤں گا ، اس کے بعد وہ اس راہب کے ساتھ رہنے لگا ، اس شرط پر کہ وہ اس کی نافرمانی نہیں کرے گا ، وہ اس کی خدمت کرتا رہا ، یہاں تک کہ ایک دن ایک شخص مر گیا ، اس کی مذمت بیان کی گئی تھی ، جب اس شخص کو دفن کر دیا گیا ، تو وہ ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) اس کی قبر پر بیٹھ کبر بہت رویا ، پھر ایک اور شخص کا انتقال ہوا ، اس کی تعریفیں کی گئی تھیں ، جب اس شخص کو دفن کیا گیا ، تو ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) اس کی قبر پر بیٹھا اور بہت زیادہ ہنسا ، اس کے ساتھیوں کو اس پر اعتراض ہوا ، وہ لوگ اپنے سربراہ کے پاس اکٹھے ہوئے اور بولے : یہ ( تائب ہونے والا قاتل شخص ) آپ کے پاس کیسے رہ سکتا ہے ؟ جبکہ اس نے کئی لوگوں کو قتل کیا ہوا ہے ، اور اب اس نے جو کچھ کیا ہے ، وہ آپ نے دیکھ لیا ہے ، تو اس راہب کے اور اس کے ساتھیوں کے دل میں اس شخص کے حوالے سے الجھن پیدا ہوئی ، ایک مرتبہ وہ شخص ان کے سربراہ کے پاس آیا ، اس کے ساتھ اس کا ساتھی بھی تھا ، اس نے اس کے ساتھ بات چیت کی ، اس شخص نے راہب سے دریافت کیا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ راہب نے کہا : تم جاؤ اور تنور دہکاؤ ! اس شخص نے ایسا ہی کیا ، پھر اس نے آ کر راہب کو اس بارے میں بتایا کہ وہ ایسا کر چکا ہے ، اس راہب نے کہا : تم جاؤ اور خود کو اس تنور میں ڈال دو ! راہب اس شخص کے حوالے سے غافل ہوا ، وہ شخص گیا اور اس نے خود کو تنور میں ڈال دیا ، پھر جب راہب کو یاد آیا ، تو اس نے کہا : میرا خیال ہے ، اس شخص نے میرے کہنے پر ، اپنے آپ کو تنور میں ڈال دیا ہو گا ، پھر وہ راہب گیا ، تو اس نے اس شخص کو پایا کہ وہ تنور میں زندہ موجود ہے ، اور اسے پسینہ آ رہا ہے ، راہب نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے تنور سے باہر نکالا اور بولا : اب یہ مناسب نہیں ہے کہ تم میری خدمت کرو ، بلکہ اب میں تمہاری خدمت کروں گا ، لیکن تم مجھے یہ بتاؤ ! کہ تم پہلے فوت ہونے والے شخص پر روئے کیوں تھے ؟ اور دوسرے والے پر ہنسے کیوں تھے ؟ اس شخص نے بتایا : جہاں تک پہلے فرد کا تعلق ہے ، تو جب اسے دفن کیا گیا تو میں نے دیکھا کہ جو بری صورتحال اس پر ڈالی جا رہی ہے ، تو مجھے اپنے گناہوں کا خیال آ گیا اور میں رونے لگا ، جہاں تک دوسرے فرد کا تعلق ہے ، تو میں نے دیکھا کہ اس پر بھلائی ڈالی جا رہی ہے ، تو میں ہنسنے لگا ، وہ شخص بعد میں بنی اسرائیل کے اکابرین ( یعنی بڑے عبادت گزاروں ) میں ایک شمار ہوا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17608

Majma al-Zawaid #17608

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: كَانَتْ قَرْيَتَانِ: إِحْدَاهُمَا صَالِحَةٌ، وَالْأُخْرَى ظَالِمَةٌ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِنَ الْقَرْيَةِ الظَّالِمَةِ يُرِيدُ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ، فَأَتَاهُ الْمَوْتُ حَيْثُ شَاءَ اللَّهُ، فَاخْتَصَمَ فِيهِ الْمَلَكُ وَالشَّيْطَانُ، فَقَالَ الشَّيْطَانُ: وَاللَّهِ، مَا عَصَانِي قَطُّ، فَقَالَ الْمَلَكُ: إِنَّهُ خَرَجَ يُرِيدُ التَّوْبَةَ، فَقُضِيَ بَيْنَهُمَا أَنْ يُنْظَرَ إِلَى أَيِّهِمَا أَقْرَبُ، فَوَجَدُوهُ أَقْرَبَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ بِشِبْرٍ، فَغُفِرَ لَهُ. قَالَ مَعْمَرٌ: وَسَمِعْتُ مَنْ يَقُولُ: قَرَّبَ اللَّهُ إِلَيْهِ الْقَرْيَةَ الصَّالِحَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ الَّذِي أَمَرَ وَلَدَهُ: أَنْ يُحْرِقُوهُ إِذَا مَاتَ، فِي بَابِ مَنْ خَافَ مِنْ ذُنُوبِهِ، فِي أَوَائِلِ كِتَابِ التَّوْبَةِ، وَتَأْتِي لَهُ طَرِيقٌ عَجِيبَةٌ فِي أَبْوَابِ الشَّفَاعَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reported that there were two villages, one righteous and one unjust, and a man left the unjust village intending the righteous one, death seized him where Allah willed, the angel and Satan disputed over him — Satan swearing he never disobeyed him, the angel saying he left intending repentance — so it was decreed to see which he was nearer, and they found him nearer to the righteous village by a span, so he was forgiven; and Maʿmar added that he heard it said Allah drew the righteous village near to him. > **"He left intending repentance and was found nearer to the righteous village by a span, so he was forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ دو بستیاں تھیں ، ان میں سے ایک نیک تھی اور دوسری ظالم تھی ، ایک شخص نیک بستی کی طرف جانے کے ارادے کے ساتھ ظالم بستی سے نکلا ، جہاں اللہ کو منظور تھا ، وہاں اُسے موت نے آ لیا ، اس کے بارے میں فرشتے اور شیطان کے درمیان جھگڑا ہو گیا ، شیطان نے کہا : اللہ کی قسم ! اس نے کبھی میری نافرمانی نہیں کی ، فرشتے نے کہا : لیکن یہ توبہ کے ارادے سے نکلا تھا ، تو ان دونوں کے درمیان یہ فیصلہ دیا گیا کہ اس بات کا جائزہ لیا جائے کہ وہ دونوں بستیوں میں سے کون سی بستی کے زیادہ قریب تھا ؟ تو فرشتوں نے یہ بات پائی کے وہ نیک بستی کے ایک بالشت زیادہ قریب تھا ، تو اس شخص کی مغفرت ہو گئی ۔‘‘ معمر بیان کرتے ہیں : میں نے کسی کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے :’’ اللہ تعالیٰ نے اسے نیک بستی کے قریب کر دیا تھا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے وہ حدیث گزر چکی ہے ، جس میں یہ مذکور ہے : ’’ ایک شخص نے اپنی اولاد کو یہ تلقین کی تھی کہ جب وہ مر جائے تو وہ اولاد اسے جلا دے ۔‘‘ یہ کتاب التوبہ کے آغاز میں ، اس باب میں ذکر ہوئی ہے ، باب : جو شخص اپنے گناہوں سے خوفزدہ ہو ۔ اس روایت کا ایک اور عجیب طریق شفاعت سے متعلق ابواب میں آئے گا ، اگر اللہ نے چاہا ۔

17609

Majma al-Zawaid #17609

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: «مَرَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَنَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، وَصَبِيٌّ فِي الطَّرِيقِ، فَلَمَّا رَأَتْ أَمُّهُ الْقَوْمَ خَشِيَتْ عَلَى وَلَدِهَا أَنْ يُوطَأَ، فَأَقْبَلَتْ تَسْعَى وَتَقُولُ: ابْنِي، ابْنِي، وَسَعَتْ فَأَخَذَتْهُ، فَقَالَ الْقَوْمُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُلْقِيَ ابْنَهَا فِي النَّارِ، قَالَ: فَخَفَضَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" وَلَا اللَّهُ يُلْقِي حَبِيبَهُ فِي النَّارِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Prophet ﷺ passed with some companions while a child was on the road, and when his mother saw the company she feared he would be trampled, so she rushed crying, my son, my son, and seized him, whereupon the people said she would never cast her son into the Fire, so the Prophet ﷺ calmed them and said that neither does Allah cast His beloved into the Fire. > **"She would never cast her son into the Fire — and neither does Allah cast His beloved into the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ اور آپ کے کچھ اصحاب کا گزر ہوا ، راستے میں ایک بچہ موجود تھا ، جب اس بچے کی ماں نے دیکھا کہ کچھ لوگ آ رہے ہیں ، تو اسے اپنے بچے کے بارے میں یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں ، وہ لوگ اس بچے کو روند نہ دیں ، تو وہ عورت دوڑتی ہوئی آئی اور وہ یہ کہہ رہی تھی : میرا بیٹا ، میرا بیٹا ، اس نے تیزی سے آ کر اس بچے کو پکڑ لیا ، حاضرین نے کہا : یا رسول اللہ ! یہ عورت اپنے بیٹے کو آگ میں نہیں ڈالے گی ، نبی اکرم ﷺ نے ان لوگوں کو پرسکون کیا اور ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ بھی اپنے محبوب بندے کو آگ میں نہیں ڈالے گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17610

Majma al-Zawaid #17610

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ: «خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ يَوْمٍ، فَإِذَا هُوَ بِصَبِيٍّ يَبْكِي، فَقَالَ: "" يَا عُمَرُ، ضُمَّ الصَّبِيَّ ; فَإِنَّهُ ضَالٌّ "". فَجَاءَتْ أُمُّهُ فَأَخَذَتِ ابْنَهَا، فَجَعَلَتْ تَضُمُّهُ إِلَيْهَا، وَتَرْشُفُهُ وَتَبْكِي، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتَرَوْنَ هَذِهِ رَحِيمَةً بِوَلَدِهَا؟ "". فَقَالُوا: نَعَمْ. فَقَالَ: "" وَاللَّهِ، لَلَّهُ أَرْحَمُ بِالْمُسْلِمِينَ مِنْ هَذِهِ بِوَلَدِهَا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ فَائِدٌ: أَبُو الْوَرْقَاءِ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ. وَيَأْتِي حَدِيثُ عُمَرَ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْبَعْثِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Abi Awfa, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ came out one day to find a weeping lost child, told ʿUmar to gather him, then his mother came, took him, clasped and kissed him while weeping, so the Prophet ﷺ asked whether they deemed her merciful to her child, and they said yes, whereupon he said that by Allah, Allah is more merciful to the Muslims than she is to her child. > **"Do you deem her merciful to her child? By Allah, Allah is more merciful to the Muslims than she is to her child."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابواوفیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم ﷺ تشریف لے جا رہے تھے ، راستے میں ایک بچہ نظر آیا ، جو رو رہا تھا ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے عمر ! اس بچے کو پکڑ لو ، کیونکہ یہ گمشدہ ہے ، اسی دوران اس بچے کی ماں آ گئی اور اس نے اس بچے کو لے لیا ، اس نے بچے کو اپنے ساتھ چمٹا لیا اور اسے ہلاتے ہوئے چومنے لگی اور رونے لگی ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ یہ اپنے بچے کے بارے میں رحم کرنے والی ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ مسلمانوں پر اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، جتنی یہ عورت اپنے بچے کے لئے ( رحم کرنے والی ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فائد ابوالورقاء ہے اور وہ متروک ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے منقول ایک حدیث ، دوبارہ زندہ کیے جانے سے متعلق کتاب کے آخر میں آئے گی ۔

17611

Majma al-Zawaid #17611

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَا خَلَقَ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ شَيْءٍ إِلَّا وَخَلَقَ مَا يَغْلِبُهُ، وَخَلَقَ رَحْمَتَهُ تَغْلِبُ غَضَبَهُ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah, Blessed and Exalted, created nothing but He created what overcomes it, and He created His mercy to overcome His anger. > **"Allah created nothing but He created what overcomes it, and He created His mercy to overcome His anger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے جو بھی چیز پیدا کی ہے ، تو اس نے کوئی ایسی چیز بھی پیدا کی ہے ، جو اس ( پہلی والی ) پر غالب آ جائے ، اس نے اپنی رحمت کو پیدا کیا ہے ، جو اس کے غضب پر غالب آ جائے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے ، جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17612

Majma al-Zawaid #17612

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «قُلْتُ: يَا جِبْرِيلُ، أَيُصَلِّي رَبُّكَ - جَلَّ ذِكْرُهُ وَتَعَالَى جَدُّهُ -؟ قَالَ: نَعَمْ. قُلْتُ: مَا صَلَاتُهُ؟ قَالَ: سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ، سَبَقَتْ رَحْمَتِي غَضَبِي». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said he asked Jibril whether his Lord — Exalted in remembrance, Sublime in grandeur — prays, and he said yes; he asked what His prayer is, and he said: Glory, Holiness — My mercy preceded My anger. > **"Glory, Holiness — My mercy preceded My anger."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! کیا تمہارا پروردگار صلوۃ پڑھتا ہے ، اس کا ذکر جلیل القدر ہے ، اور اس کی بزرگی بلند و برتر ہے ، جبرائیل نے جواب دیا : جی ہاں ! میں نے دریافت کیا : اس کی صلوٰۃ کیا ہے ؟ جبرائیل نے جواب دیا : ’’ ہر عیب سے پاک ہے ، پاکیزگی والا ہے ، میری رحمت میرے غضب پر سبقت لے گئی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17613

Majma al-Zawaid #17613

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَوْ تَعْلَمُونَ قَدْرَ رَحْمَةِ اللَّهِ لَاتَّكَلْتُمْ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - عَلَيْهَا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that if they knew the measure of Allah's mercy, they would rely upon it. > **"If you knew the measure of Allah's mercy, you would rely upon it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی مقدار کے بارے میں جان لو ، تو تم اس پر تکیہ کر لو ۔‘‘ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17614

Majma al-Zawaid #17614

وَعَنْ جُنْدُبٍ قَالَ: «جَاءَ أَعْرَابِيٌّ فَأَنَاخَ رَاحِلَتَهُ، ثُمَّ عَقَلَهَا، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى رَاحِلَتَهُ، فَأَطْلَقَ عِقَالَهَا، ثُمَّ رَكِبَهَا ثُمَّ نَادَى: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا، لَا تُشْرِكْ فِي رَحْمَتِنَا أَحَدًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟ أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ؟ "". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "" لَقَدْ حَظَرْتَ، رَحْمَةُ اللَّهِ وَاسِعَةٌ، إِنِ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - خَلَقَ مِائَةَ رَحْمَةٍ، فَأَنْزَلَ رَحْمَةً يَتَعَاطَفُ بِهَا الْخَلَائِقُ: جِنُّهَا، وَإِنْسُهَا، وَبَهَائِمُهَا، وَعِنْدَهُ تِسْعَةٌ وَتِسْعُونَ، أَتَقُولُونَ هُوَ أَضَلُّ أَمْ بَعِيرُهُ؟». قُلْتُ: رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ. رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي أُبَيٍّ عَبْدِ اللَّهِ الْجُشَمِيِّ، وَلَمْ يُضَعِّفْهُ أَحَدٌ.

EnglishUnverified translation

Jundub, may Allah be pleased with him, reported that a Bedouin alighted, hobbled his mount, and after the Messenger of Allah ﷺ prayed, he untied it, mounted, and called, O Allah, have mercy on me and Muhammad, associating none in our mercy, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said, do you say he is more astray or his camel? Did you not hear what he said? They said yes, so he said he had confined the vast mercy of Allah, for Allah created one hundred mercies, sent down one by which creatures — jinn, men, and beasts — show mutual kindness, keeping ninety-nine with Him; do you say he is more astray or his camel? > **"You confined the vast mercy of Allah: He created one hundred mercies, sent down one by which creatures show kindness, keeping ninety-nine with Him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی آیا ، اس نے اپنی سواری کو بٹھایا ، پھر اسے باندھ دیا ، جب نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ، تو وہ شخص اپنی سواری کے پاس آیا اس کی بندش کو کھولا اس پر سوار ہوا ، اور پھر اس نے بلند آواز میں کہا : اے اللہ ! تو مجھ پر اور حضرت محمد ( ﷺ ) پر رحم فرما اور ہم پر رحم کرنے میں ، کسی کو شریک نہ کرنا ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم لوگ کیا سمجھتے ہو ؟ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ ؟ کیا تم نے سنا نہیں ؟ جو اس نے کہا ہے ، لوگوں نے جواب دیا : جی ہاں ! ( یعنی ہم نے اس کی بات سنی ہے ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم نے اللہ تعالیٰ کی وسیع رحمت کو تنگ کر دیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے رحمت کے 100 حصے بنائے ہیں اور ان میں سے ایک حصہ نازل کیا ہے ، جس کی وجہ سے مخلوق ، یعنی جنات ، انسان ، جانور وغیرہ ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، اور رحمت کے ننانوے حصے اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں ، تو تم لوگ کیا سمجھتے ہو ؟ یہ زیادہ گمراہ ہے یا اس کا اونٹ ؟""۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابوعبداللہ جشمی کا معاملہ مختلف ہے ، ویسے کسی نے اسے ضعیف قرار نہیں دیا ہے ۔