Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 42 · Chapter 3

Book of Repentance

Hadith 17535–17574

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17535

Majma al-Zawaid #17535

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «الْمُؤْمِنُ وَاهٍ رَاقِعٌ، فَسَعِيدٌ مَنْ هَلَكَ عَلَى رَقَعِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ: وَمَعْنَى وَاهٍ: يَعْنِي مُذْنِبٌ، وَرَاقِعٌ: يَعْنِي تَائِبٌ مُسْتَغْفِرٌ. وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the believer is frail yet mending — sinning then repenting and seeking forgiveness — so blessed is he who perishes upon his mending. > **"The believer is frail yet mending; blessed is he who perishes upon his mending."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ مومن گناہ گار ہوتا ہے ، اور مغفرت بھی طلب کر لیتا ہے ، تو وہ شخص خوش نصیب ہے جو مغفرت طلب کرنے کے بعد انتقال کرتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ امام طبرانی فرماتے ہیں : لفظ ” واہ ‘‘ کا مطلب ” گناہگار ‘‘ ہونا ہے اور لفظ ’’ راقع ‘‘ کا مطلب توبہ کرنے والا اور مغفرت طلب کرنے والا ہوتا ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی سعید بن خالد خزاعی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17536

Majma al-Zawaid #17536

عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ مَثَلَ الَّذِي يَعْمَلُ السَّيِّئَاتِ ثُمَّ يَعْمَلُ الْحَسَنَاتِ، كَمَثَلِ رَجُلٍ كَانَتْ عَلَيْهِ دِرْعٌ ضَيِّقَةٌ قَدْ خَنَقَتْهُ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً فَانْفَكَّتْ حَلْقَةٌ، ثُمَّ عَمِلَ حَسَنَةً أُخْرَى فَانْفَكَّتْ أُخْرَى حَتَّى يَخْرُجَ إِلَى الْأَرْضِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUqbah ibn ʿAmir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the example of one who does evil deeds then does good deeds is like a man wearing a tight coat of mail that chokes him, then each good deed loosens a ring, then another, until it falls to the ground. > **"One who does evil then good is like a man in a choking coat of mail, each good deed loosening a ring until it falls to the ground."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص پہلے برائی کرتا ہے اور پھر نیکی کر لیتا ہے ، اس کی مثال ایسے شخص کی مانند ہے ، جس کے جسم پر ایسی زرہ موجود ہو جو تنگ ہو جس نے اس کا گلا گھونٹا ہوا ہو ، پھر جب وہ نیکی کرتا ہے تو اس کا ایک حلقہ ڈھیلا ہو جاتا ہے ، پھر وہ دوسری نیکی کرتا ہے ، تو دوسرا حلقہ ڈھیلا ہو جاتا ہے ، یہاں تک کہ وہ زرہ زمین کی طرف گر جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

17537

Majma al-Zawaid #17537

وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «مَنْ أَحْسَنَ فِيمَا بَقِيَ غُفِرَ لَهُ مَا مَضَى، وَمَنْ أَسَاءَ فِيمَا بَقِيَ أُخِذَ بِمَا مَضَى وَبِمَا بَقِيَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Dharr, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever does good in what remains of life, what passed is forgiven him, but whoever does evil in what remains is seized for what passed and what remains. > **"Whoever does good in what remains is forgiven what passed; but whoever does evil in what remains is seized for what passed and what remains."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو شخص باقی کی ( زندگی ) میں بھلائی کر لے ، اس کی گزشتہ ( زندگی ) کے حوالے سے اس کی مغفرت ہو جائے گی ، اور جو شخص باقی کی زندگی میں برائی کرے گا ، اُس کے گزشتہ ( زندگی کے اعمال ) اور باقی کی ( زندگی کے اعمال ) کے حوالے سے ، اُس کی گرفت کی جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17538

Majma al-Zawaid #17538

وَعَنْ أَبِي طَوِيلٍ شَطْبٍ الْمَمْدُودِ، «أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: أَرَأَيْتَ مَنْ عَمِلَ الذُّنُوبَ كُلَّهَا فَلَمْ يَتْرُكْ مِنْهَا شَيْئًا، وَهُوَ فِي ذَلِكَ لَمْ يَتْرُكْ حَاجَّةً وَلَا دَاجَّةً إِلَّا أَتَاهَا، فَهَلْ لِذَلِكَ مِنْ تَوْبَةٍ؟ قَالَ: "" فَهَلْ أَسْلَمْتَ؟ "". قَالَ: فَأَمَّا أَنَا فَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنَّكَ رَسُولُ اللَّهِ، قَالَ: "" تَفْعَلُ الْخَيْرَاتِ، وَتَتْرُكُ السَّيِّئَاتِ، فَيَجْعَلُهُنَّ اللَّهُ لَكَ خَيْرَاتٍ كُلَّهُنَّ "". قَالَ: وَغَدَرَاتِي وَفَجَرَاتِي؟! قَالَ: "" نَعَمْ "". قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ حَتَّى تَوَارَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «تَعْمَلُ الْخَيْرَاتِ، وَتَسْبُرُ السَّبَرَاتِ». وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ هَارُونَ أَبِي نَشِيطٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Tawil Shatb al-Mamdud, may Allah be pleased with him, reported that he came to the Prophet ﷺ and asked about one who committed every sin, leaving none, small or great, without committing it — is there repentance for him? He asked whether he had embraced Islam, and he testified that none is worthy of worship but Allah and that he is Allah's Messenger, so he told him to do good deeds and abandon evil deeds, and Allah would turn them all into good for him; he asked, even my betrayals and enormities? He said yes, whereupon the man cried Allah is Greatest and kept crying it until he disappeared. > **"Do good deeds and abandon evil deeds, and Allah will turn them all into good for you — even your betrayals and enormities."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوطویل شطب ممدود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو شخص سارے گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے ، اور وہ ان میں سے کوئی گناہ نہیں چھوڑتا ، اس حوالے سے وہ ہر چھوٹے بڑے گناہ کا ارتکاب کر لیتا ہے ، تو کیا اس کے لئے توبہ کی گنجائش ہو گی ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا تم نے اسلام قبول کر لیا ہے ؟ انہوں نے کہا : جہاں تک میری ذات کا تعلق ہے ، تو میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے اور آپ ، اللہ کے رسول ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم بھلائی کے کام کرو ، برائی کے کام ترک کر دو ، اللہ تعالیٰ ان سب برائیوں کو تمہارے لئے نیکیاں بنا دے گا ، ان صاحب نے دریافت کیا : میری عہد شکنیوں اور میری زیادتیوں کو بھی ( اللہ تعالیٰ نیکیوں میں تبدیل کر دے گا ؟ ) نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! ان صاحب نے کہا : اللہ اکبر ! اور پھر وہ مسلسل تکبیر کہتے رہے ، یہاں تک کہ نگاہوں سے اوجھل ہو گئے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور امام بزار نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ تم بھلائی کے کام کرو اور غور و فکر کرتے رہو ۔‘‘ امام بزار کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف محمد بن ہارون ابونشیط کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17539

Majma al-Zawaid #17539

عَنْ ثَوْبَانَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ الْعَبْدَ لَيَلْتَمِسُ مَرْضَاةَ اللَّهِ تَعَالَى، فَلَا يَزَالُ بِذَلِكَ فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لِجِبْرِيلَ: إِنَّ فُلَانًا عَبْدِي يَلْتَمِسُ أَنْ يُرْضِيَنِي، أَلَا وَإِنَّ رَحْمَتِي عَلَيْهِ. فَيَقُولُ جِبْرِيلُ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى فُلَانٍ، وَيَقُولُهَا حَمَلَةُ الْعَرْشِ، وَيَقُولُهَا مَنْ حَوْلَهُمْ حَتَّى يَقُولَهَا أَهْلُ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ، ثُمَّ يَهْبِطُ إِلَى الْأَرْضِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مَيْمُونِ بْنِ عَجْلَانَ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Thawban, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that when a servant persistently seeks Allah's pleasure, Allah says to Jibril that so-and-so seeks to please Him and His mercy is upon him, so Jibril proclaims mercy upon him, then the bearers of the Throne and those around them, until the inhabitants of the seven heavens proclaim it, then it descends to earth. > **"So-and-so seeks to please Me, and My mercy is upon him — proclaimed by Jibril, the bearers of the Throne, the seven heavens, then earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ بیشک بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کرتا ہے اور وہ مسلسل اس کام میں مصروف رہتا ہے ، اللہ تعالیٰ حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے : میرا فلاں بندہ مجھے راضی کرنا چاہتا ہے ، خبردار ! اس پر میری رحمت ہے ، حضرت جبرائیل علیہ السلام کہتے ہیں : اللہ تعالیٰ کی رحمت فلاں شخص پر نازل ہو ، پھر عرش کو اُٹھانے والے فرشتے یہی بات کہتے ہیں ، اور ان کے آس پاس موجود فرشتے یہی بات کہتے ہیں ، یہاں تک کہ ساتوں آسمانوں کے رہنے والے یہی بات کہتے ہیں ، پھر وہ بات زمین کی طرف اتار دی جاتی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف میمون بن عجلان کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17540

Majma al-Zawaid #17540

وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ الرُّؤَاسِيِّ قَالَ: «أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَعْرَضَ عَنِّي ; فَقُلْتُ: إِنَّ الرَّبَّ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - لَيَتَرَضَّى فَيَرْضَى، فَارْضَ عَنِّي، فَرَضِيَ عَنِّي». رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ رِوَايَةِ طَارِقٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَالِكٍ، وَطَارِقٌ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُوَثِّقْهُ، وَلَمْ يُجَرِّحْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn Malik al-Ru'asi, may Allah be pleased with him, reported that he came to the Prophet ﷺ who turned away from him, so he said that the Lord, Blessed and Exalted, accepts excuses and is pleased, so be pleased with him, and he was pleased with him. > **"The Lord accepts excuses and is pleased, so be pleased with me — and he was pleased with him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن مالک رؤاسبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا ، تو میں نے عرض کی : اگر پروردگار کو راضی کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ راضی ہو جاتا ہے ، تو آپ بھی مجھ سے راضی ہو جائیں ، راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ مجھ سے راضی ہو گئے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے طارق کے حوالے سے ، عمرو بن مالک سے نقل کیا ہے ، طارق نامی شخص کا ذکر ابن ابوحاتم نے کیا ہے ، انہوں نے نہ تو اس کی توثیق کی ہے اور نہ ہی اس پر جرح کی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17541

Majma al-Zawaid #17541

عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ عَلَى الْعَبَّاسِ، وَهُوَ يَشْتَكِي فَتَمَنَّى الْمَوْتَ فَقَالَ: " يَا عَبَّاسُ، عَمَّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا تَمَنَّ الْمَوْتَ، إِنْ كُنْتَ مُحْسِنًا تَزْدَادُ إِحْسَانًا إِلَى إِحْسَانِكَ خَيْرًا لَكَ، وَإِنْ كُنْتَ مُسِيئًا اسْتَغْنَيْتَ خَيْرًا لَكَ، لَا تَمَنَّ الْمَوْتَ».

EnglishUnverified translation

Umm al-Fadl, may Allah be pleased with her, reported that the Prophet ﷺ visited al-ʿAbbas while he was ill and wishing for death, so he said, O ʿAbbas, uncle of the Messenger of Allah ﷺ, do not wish for death: if you are a doer of good, increasing good upon your good is better for you, and if you are a doer of evil, being granted respite to seek pardon is better for you; do not wish for death. > **"O ʿAbbas, do not wish for death: if you are good, more good is better for you; if you are evil, respite to seek pardon is better for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ ام فضل رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، جو بیمار تھے ، انہوں نے موت کی آرزو کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اے حضرت عباس ! اے اللہ کے رسول کے چچا ! آپ موت کی آرزو نہ کریں ، کیونکہ اگر آپ اچھائی کرنے والے ہوں گے ( تو طویل عمر ہونے کی صورت میں ) آپ کی اچھائیوں میں مزید اضافہ ہو گا ، اور یہ آپ کے حق میں بہتر ہے اور اگر آپ برائی کرنے والے ہوں گے ، تو آپ کو مہلت دیدی جائے اور آپ رجوع ( یعنی توبہ ) کر لیں ، تو یہ آپ کے حق میں زیادہ بہتر ہو گا ، تو آپ موت کی آرزو ہرگز نہ کریں ۔

17542

Majma al-Zawaid #17542

وَفِي رِوَايَةٍ: «إِنْ كُنْتَ مُسِيئًا ; فَإِنْ تُؤَخِّرْ تُسْتَعْتَبْ مِنْ إِسَاءَتِكَ خَيْرٌ لَكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ ; فَإِنْ كَانَتْ هِيَ الْقُرَشِيَّةُ أَوِ الْفِرَاسِيَّةُ فَقَدِ احْتُجَّ بِهَا فِي الصَّحِيحِ، وَإِنْ كَانَتِ الْخَثْعَمِيَّةَ فَلَمْ أَعْرِفْهَا.

EnglishUnverified translation

In one narration, the Prophet ﷺ said that if he is a doer of evil, being delayed so he may seek pardon for his evil is better for him. > **"If you are a doer of evil, being delayed so you may seek pardon for your evil is better for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ اگر آپ برائی کرنے والے ہوں ، آپ کو مہلت دے دی جائے ، اور آپ اپنی برائی سے رجوع کر لیں ، تو یہ آپ کے حق میں زیادہ بہتر ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ہند بنت حارث نامی خاتون کا معاملہ مختلف ہے ، اگر تو یہ ’’ قریشیہ ‘‘ یا ’’ فراسیہ ‘‘ ہے ، تو ’’ صحیح ‘‘ میں اس سے استدلال کیا گیا ہے ، اور اگر یہ ’’ خثعمیہ ‘‘ ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

17543

Majma al-Zawaid #17543

وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «لَا تُمَنَّوُا الْمَوْتَ ; فَإِنَّ هَوْلَ الْمُطَّلَعِ شَدِيدٌ، وَإِنَّ مِنَ السَّعَادَةِ أَنْ يَطُولَ عُمْرُ الْعَبْدِ، وَيَرْزُقَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - الْإِنَابَةَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Jabir ibn ʿAbdillah, may Allah be pleased with them, reported that the Messenger of Allah ﷺ said not to wish for death, for the terror of what lies ahead is severe, and part of felicity is that a servant's life be long and Allah grant him turning back to Him. > **"Do not wish for death, for the terror ahead is severe; part of felicity is long life with Allah granting repentance."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ موت کی آرزو نہ کرو ، کیونکہ مطلع ( شاید اس سے مراد ، مرنے کے بعد والی زندگی ہے ، یا قیامت مراد ہے ) کی ہولناکی شدید ہے ، اور سعادت مندی میں یہ بات شامل ہے کہ بندے کی عمر طویل ہو ، اور اللہ تعالیٰ اسے رجوع ( یعنی توبہ کی توفیق ) نصیب کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17544

Majma al-Zawaid #17544

وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: «جَلَسْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْنَا وَرَقَقْنَا، فَبَكَى سَعْدٌ فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، فَقَالَ: يَا لَيْتَنِي مُتُّ! فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" يَا سَعْدُ، أَعِنْدِي تَتَمَنَّى الْمَوْتَ؟ "". فَرَدَّدَ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ: "" يَا سَعْدُ، إِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلْجَنَّةِ فَمَا طَالَ عُمْرُكَ، وَحَسُنَ مِنْ عَمَلِكَ، فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَزَادَ فِيهِ: «وَإِنْ كُنْتَ خُلِقْتَ لِلنَّارِ، فَبِئْسَ الشَّيْءُ تَتَعَجَّلُ إِلَيْهِ».، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ يَزِيدَ الْأَلْهَانِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Umamah, may Allah be pleased with him, reported that they sat with the Messenger of Allah ﷺ who exhorted them until Saʿd wept profusely and wished he were dead, so the Prophet ﷺ said, O Saʿd, do you wish for death in my presence? — repeating it thrice — then said, O Saʿd, if you were created for Paradise, then the longer your life and the better your deeds, the better for you. > **"O Saʿd, if you were created for Paradise, the longer your life and the better your deeds, the better for you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، آپ نے ہمیں وعظ و نصیحت کی ، دلوں کو نرم کرنے والی باتیں بیان کیں ، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ رونے لگے اور بہت روئے ، انہوں نے کہا : اے کاش ! میں مر چکا ہوتا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے سعد ! کیا تم میری موجودگی میں موت کی آرزو کر رہے ہو ؟ یہ مکالمہ تین مرتبہ ہوا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ اے سعد ! اگر تم جنت کے لیے پیدا ہوئے ہو ، تو تمہاری عمر جتنی بھی طویل ہو گی ، تمہارا عمل جتنا بھی اچھا ہو گا ، وہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہو گا ۔‘‘ یہی روایت امام احمد ، امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور انھوں نے اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : ’’ اور اگر تم جہنم کے لیے پیدا کیے گئے ہو تو وہ ایک بری چیز ہے ، جس کی طرف تم جلدی چلے جاؤ گے ۔‘‘ اس روایت کی سند میں ایک راوی علی بن یزید الہانی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17545

Majma al-Zawaid #17545

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخَيْرِكُمْ؟ ". قَالُوا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا، وَأَحْسَنُكُمْ أَعْمَالًا».

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ asked whether he should inform them of the best among them, and they said yes, so he said the best among them are the longest-lived with the best deeds. > **"Shall I inform you of the best among you? The longest-lived among you with the best deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تم لوگوں کو تمہارے سب سے بہتر فرد کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں ، جن کی عمریں طویل ہوں ، اور اعمال اچھے ہوں ۔‘‘

17546

Majma al-Zawaid #17546

وَفِي رِوَايَةٍ: «أَحْسَنُكُمْ أَخْلَاقًا». بَدَلَ: "" أَعْمَالًا "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In one narration, the Prophet ﷺ said the best in manners, in place of the best in deeds. > **"The best among you are the longest-lived with the best manners."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں :’’ اچھے اعمال ‘‘ کی جگہ یہ الفاظ ہیں :’’ جن کے اخلاق اچھے ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17547

Majma al-Zawaid #17547

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟ "". قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" خِيَارُكُمْ أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا، إِذَا سَدَّدُوا». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ asked whether he should inform them of the best, and they said yes, so he said the best are the longest-lived, when they remain upright. > **"The best among you are the longest-lived, when they remain upright."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جن کی عمریں طویل ہوں اور وہ ٹھیک رہیں ( یعنی نیکی پر عمل کرتے رہیں اور برائی سے بچتے رہیں ) ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17548

Majma al-Zawaid #17548

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ: «أَنَّ رَجُلًا قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ؟ قَالَ: "" مَنْ طَالَ عُمْرُهُ، وَحَسُنَ عَمَلُهُ "". قَالَ: فَأَيُّ النَّاسِ شَرٌّ؟ قَالَ: "" مَنْ طَالَ عُمْرُهُ، وَسَاءَ عَمَلُهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr, may Allah be pleased with him, reported that a man asked which people are best, and the Prophet ﷺ said one whose life is long and deeds are good; he asked which people are worst, and he said one whose life is long and deeds are evil. > **"The best of people is one whose life is long and deeds are good; the worst is one whose life is long and deeds are evil."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! لوگوں میں کون زیادہ بہتر ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جس کی عمر طویل ہو اور اس کا عمل اچھا ہو ، اس نے دریافت کیا : لوگوں میں کون شخص زیادہ برا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جس کی عمر طویل ہو ، اور اس کا عمل برا ہو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17549

Majma al-Zawaid #17549

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟ "". قَالُوا: بَلَى. قَالَ: "" خِيَارُكُمْ أَحَاسِنُكُمْ أَخْلَاقًا، وَأَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا». قُلْتُ: رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ غَيْرَ قَوْلِهِ: «أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ asked whether he should inform them of the best, and they said yes, so he said the best are the finest in manners and the longest in years. > **"The best among you are the finest in manners and the longest in years."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں ، جن کے اخلاق زیادہ اچھے ہوں اور جن کی عمریں زیادہ طویل ہوں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ترمذی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کئے ہیں :’’ جن کی عمریں زیادہ طویل ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف مبارک بن فضالہ کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

17550

Majma al-Zawaid #17550

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ؟ "". قَالُوا: بَلَى. يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: "" أَطْوَلُكُمْ أَعْمَارًا فِي الْإِسْلَامِ إِذَا سَدَّدُوا». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUbadah ibn al-Samit, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that he asked whether he should inform them of the best, and they said yes, so he said the longest-lived in Islam, when they remain upright. > **"The best among you are the longest-lived in Islam, when they remain upright."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جن کی عمریں اسلام میں طویل ہوں اور وہ ٹھیک راہ پر ہوں ( یعنی وہ نیکیاں کرتے رہیں اور برائیوں سے بچتے رہیں ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوامیہ بن یعلیٰ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17551

Majma al-Zawaid #17551

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِنَّ لِلَّهِ عِبَادًا يَضِنُّ بِهِمْ عَنِ الْفَنَاءِ، وَيُطِيلُ أَعْمَارَهُمْ فِي حُسْنِ الْعَمَلِ، وَيُحَسِّنُ أَرْزَاقَهُمْ، وَيُحْيِيهِمْ فِي عَافِيَةٍ، وَيَقْبِضُ أَرْوَاحَهُمْ فِي عَافِيَةٍ عَلَى الْفُرُشِ، وَيُعْطِيهِمْ مَنَازِلَ الشُّهَدَاءِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ الْوَرَّاقُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah has servants whom He spares from perishing, prolongs their lives in good deeds, grants them wholesome provision, keeps them alive in well-being, takes their souls in well-being upon their beds, and grants them the stations of martyrs. > **"Allah has servants whom He spares from perishing, prolongs their lives in good deeds, grants them wholesome provision, keeps them in well-being, takes them in well-being, and grants them the stations of martyrs."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے ہیں ، جنہیں اللہ تعالیٰ موت نہیں دینا چاہتا ، اللہ تعالیٰ اچھے عمل میں ، اُن کی عمریں طویل کرتا ہے اور انہیں عمدہ رزق عطا فرماتا ہے ، اور عافیت والی زندگی عطا کرتا ہے ، اور عافیت کی حالت میں بستر پر ان کی روح قبض کرتا ہے ، اور انہیں شہداء کا مقام عطا کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن محمد واسطی وراق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17552

Majma al-Zawaid #17552

وَعَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ قَالَ: «قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ: يَا طَاعُونُ، خُذْنِي إِلَيْكَ، فَقَالُوا: أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" كُلَّمَا طَالَ عُمْرُ الْمُسْلِمِ كَانَ لَهُ خَيْرًا؟ "". قَالَ: بَلَى». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Shaddad Abu ʿAmmar reported that ʿAwf ibn Malik, may Allah be pleased with him, said, O plague, take me to you, whereupon they said, did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say that the longer a Muslim's life, the better for him? He replied, yes indeed. > **"Did you not hear the Messenger of Allah ﷺ say that the longer a Muslim's life, the better for him? Yes indeed."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

شداد ابوعمار بیان کرتے ہیں : حضرت عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے طاعون ! تو مجھے اپنی گرفت میں لے ! لوگوں نے کہا : کیا آپ نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے :” مسلمان کی عمر جتنی بھی لمبی ہو ، یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہوتا ہے ‘‘ تو انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نہاس بن قہم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17553

Majma al-Zawaid #17553

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: «كَانَ رَجُلَانِ مِنْ بَلِيٍّ - حَيٍّ مِنْ قُضَاعَةَ - أَسْلَمَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَاسْتُشْهِدَ أَحَدُهُمَا، وَأُخِّرَ الْآخَرُ سَنَةً، قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ: فَرَأَيْتُ الْجَنَّةَ، فَرَأَيْتُ الْمُؤَخَّرَ مِنْهُمَا أُدْخِلَ الْجَنَّةَ قَبْلَ الشَّهِيدِ، فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِكَ، فَأَصْبَحْتُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَوْ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" أَلَيْسَ قَدْ صَامَ بَعْدَهُ رَمَضَانَ، وَصَلَّى سِتَّةَ آلَافِ رَكْعَةٍ، وَكَذَا وَكَذَا رَكْعَةً صَلَاةَ سُنَّةٍ؟». قُلْتُ: هَذَا مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ كَمَا تَرَاهُ، إِنَّمَا لِطَلْحَةَ فِيهِ رُؤْيَةُ الْمَنَامِ، وَلِطَلْحَةَ حَدِيثٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that two men of Bali, a clan of Qudaʿah, embraced Islam with the Messenger of Allah ﷺ; one was martyred and the other lived a year longer, and Talhah ibn ʿUbaydillah, may Allah be pleased with him, saw in a dream that the latter entered Paradise before the martyr, marvelled at that, and mentioned it to the Prophet ﷺ in the morning, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said, did he not fast Ramadan after him, pray six thousand rakʿahs and so many voluntary prayers? > **"Did he not fast Ramadan after him, pray six thousand rakʿahs and so many voluntary prayers?"**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : قضاعہ قبیلے کی ایک شاخ ’’ بلی ‘‘ سے تعلق رکھنے والے دو افراد ، نبی اکرم ﷺ کے دست اقدس پر مسلمان ہوئے ، ان دونوں میں سے ایک نے جام شہادت نوش کر لیا اور دوسرا فرد اس کے ایک سال بعد تک زندہ رہا ، پھر ( اس کا بھی انتقال ہو گیا ) حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے خواب میں ، جنت کو دیکھا کہ ان دونوں میں سے جس شخص کا انتقال بعد میں ہوا تھا اسے شہید سے پہلے جنت میں داخل کیا گیا ، میں اس بات پر حیران ہوا ، اگلے دن صبح میں نے نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) نبی اکرم ﷺ کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا گیا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ کیا اس ( بعد میں انتقال کرنے والے فرد ) نے اُس ( پہلے شہید ہو جانے والے فرد ) کے بعد رمضان کے روزے نہیں رکھے ، اور چھ ہزار رکعات ادا نہیں کیں ، اور اتنی اتنی سنت رکعات ادا نہیں کیں ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، جیسا کہ آپ اسے ملاحظہ فرما رہے ہیں اور اس میں یہ ذکر ہوا ہے کہ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے خواب دیکھا تھا ۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17554

Majma al-Zawaid #17554

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ: «أَنَّ نَفَرًا مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ثَلَاثَةً أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمُوا، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "" مَنْ يَكْفِينِيهِمْ؟ "". قَالَ طَلْحَةُ: أَنَا، قَالَ: فَكَانُوا عِنْدَ طَلْحَةَ، فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْثًا، فَخَرَجَ فِيهِ أَحَدُهُمْ فَاسْتُشْهِدَ، ثُمَّ بَعَثَ بَعْثًا آخَرَ فَخَرَجَ فِيهِ آخَرُ فَاسْتُشْهِدَ، ثُمَّ مَاتَ الثَّالِثُ عَلَى فِرَاشِهِ. قَالَ طَلْحَةُ: فَرَأَيْتُ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةَ الَّذِينَ كَانُوا عِنْدِي فِي الْجَنَّةِ، فَرَأَيْتُ الْمَيِّتَ عَلَى فِرَاشِهِ أَمَامَهُمْ، وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَخِيرًا يَلِيهِ، وَرَأَيْتُ الَّذِي اسْتُشْهِدَ أَوَّلَهُمْ آخِرَهُمْ. قَالَ: فَدَخَلَنِي مِنْ ذَلِكَ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، قَالَ: فَقَالَ: "" وَمَا أَنْكَرْتَ مِنْ ذَلِكَ؟ لَيْسَ أَحَدٌ أَفْضَلَ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ مُؤْمِنٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ لِتَسْبِيحِهِ، وَتَكْبِيرِهِ، وَتَهْلِيلِهِ». قُلْتُ: لِطَلْحَةَ حَدِيثٌ رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ فِي التَّعْبِيرِ غَيْرَ هَذَا. رَوَاهُ أَحْمَدُ فَوَصَلَ بَعْضَهُ، وَأَرْسَلَ أَوَّلَهُ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ فَقَالَا: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ طَلْحَةَ، فَوَصَلَاهُ بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُهُمْ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Shaddad reported that three men of Banu ʿUdhrah came to the Prophet ﷺ and embraced Islam, and the Messenger of Allah ﷺ asked who would host them, so Talhah, may Allah be pleased with him, took them in; the Prophet ﷺ sent an expedition in which one went and was martyred, then another expedition in which the second was martyred, then the third died upon his bed; Talhah saw the three in Paradise in a dream, with the one who died upon his bed foremost, then the later martyr, then the earliest martyr last, which perplexed him, so he mentioned it to the Prophet ﷺ, who said, what do you find strange? None is more excellent with Allah than a believer granted long life in Islam for his glorification, exaltation, and declaration of unity. > **"What do you find strange? None is more excellent with Allah than a believer granted long life in Islam for his glorification, exaltation, and declaration of unity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن شداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنو عذرہ سے تعلق رکھنے والے تین افراد نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : کون شخص ان کے بارے میں میری کفایت کرے گا ؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں وہ لوگ حضرت طلحہ کے ہاں ٹھہر گئے ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک جنگی مہم روانہ کی ، ان میں سے ایک شخص اس میں شریک ہوا اور اس نے جام شہادت نوش کر لیا ، پھر نبی اکرم ﷺ نے ایک اور جنگی مہم روانہ کی ، تو ان میں سے دوسرا شخص اس میں شریک ہوا اور اس نے بھی جام شہادت نوش کر لیا ، ان میں سے تیسرا فرد بستر مرگ پر فوت ہوا ۔ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ان تینوں افراد کو خواب میں دیکھا کہ وہ جنت میں میرے پاس موجود ہیں ، میں نے دیکھا کہ جو شخص بستر مرگ پر فوت ہوا تھا ، وہ اُن سے آگے ہے اور اس کے بعد اس شخص کا مرتبہ ہے ، جو بعد میں شہید ہوا تھا ، اور جو سب سے پہلے شہید ہوا تھا ، اس کا مرتبہ سب سے بعد میں تھا ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں اس حوالے سے الجھن کا شکار ہوا ، میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تمہیں اس پر کس حوالے سے حیرانگی ہے ؟ اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی بھی فرد ، اس مؤمن سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتا ، جسے مسلمان ہونے کے عالم میں زندگی دی گئی ہو ، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی پاکی ، اس کی کبریائی اور اس کی معبودیت بیان کرے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کو امام ابن ماجہ نے ’’ کتاب التعبیر ‘‘ میں نقل کیا ہے ، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے اس کے کچھ حصے کو ’’ موصول ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور اس کے ابتدائی حصے کو ’’ مرسل ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ، ان دونوں کا یہ کہنا ہے ، یہ عبداللہ بن شداد کے حوالے سے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے ، تو ان دونوں نے اسے اس کی مانند موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، اور ان کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

17555

Majma al-Zawaid #17555

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - رَفَعَ الْحَدِيثَ قَالَ: «الْمَوْلُودُ حَتَّى يَبْلُغَ الْحِنْثَ مَا عَمِلَ مِنْ حَسَنَةٍ كُتِبَتْ لِوَالِدِهِ - أَوْ لِوَالِدَيْهِ - وَمَا عَمِلَ مِنْ سَيِّئَةٍ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ وَلَا عَلَى وَالِدَيْهِ، فَإِذَا بَلَغَ الْحِنْثَ جَرَى عَلَيْهِ الْقَلَمُ، أُمِرَ الْمَلَكَانِ اللَّذَانِ مَعَهُ أَنْ يَحْفَظَا، وَأَنْ يُشَدِّدَا، فَإِذَا بَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ أَمَّنَهُ اللَّهُ مِنَ الْبَلَايَا الثَّلَاثَةِ: الْجُنُونِ، وَالْجُذَامِ، وَالْبَرَصِ، فَإِذَا بَلَغَ الْخَمْسِينَ خَفَّفَ اللَّهُ مِنْ حِسَابِهِ، فَإِذَا بَلَغَ السِّتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ، فَإِذَا بَلَغَ السَّبْعِينَ أَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، فَإِذَا بَلَغَ الثَّمَانِينَ كَتَبَ اللَّهُ لَهُ حَسَنَاتِهِ، وَتَجَاوَزَ عَنْ سَيِّئَاتِهِ، فَإِذَا بَلَغَ التِّسْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَشَفَّعَهُ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ، وَكَانَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ، فَإِذَا بَلَغَ أَرْذَلَ الْعُمُرِ لِكَيْلَا يَعْلَمَ بَعْدَ عَلَمٍ شَيْئًا، كَتَبَ اللَّهُ لَهُ مِثْلَ مَا كَانَ يَعْمَلُ فِي صِحَّتِهِ مِنَ الْخَيْرِ، فَإِذَا عَمِلَ سَيِّئَةً لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْهِ».

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, raising it as marfuʿ, reported that the child until puberty has his good deeds recorded for his parent — or parents — while his evil is recorded against neither him nor his parents; when he reaches puberty the Pen runs and the two angels with him are commanded to guard strictly; when he reaches forty in Islam Allah secures him from three afflictions — madness, leprosy, and vitiligo; at fifty Allah lightens his reckoning; at sixty Allah grants him turning to Him in what He loves; at seventy the inhabitants of heaven love him; at eighty Allah records his good and overlooks his evil; at ninety Allah forgives his past and future sins, lets him intercede for his household, and he becomes Allah's captive on earth; and at extreme old age, when he knows nothing after knowledge, Allah records for him the like of the good he did in health, while no evil is recorded against him. > **"When he reaches forty in Islam Allah secures him from madness, leprosy, and vitiligo; at fifty his reckoning is lightened; at sixty he is granted repentance; at seventy heaven loves him; at eighty his evil is overlooked; at ninety he is forgiven and intercedes; and in extreme old age his former good is still recorded."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ’’ مرفوع ‘‘ حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بچہ جب تک بالغ نہیں ہو جاتا ، وہ جو بھی اچھائی کرتا ہے ، اس کا اجر اس کے باپ ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ اس کے ماں باپ کے لیے نوٹ کیا جاتا ہے ، اور بچہ جو بھی برائی کرتا ہے ، وہ برائی نہ اُس بچے کے خلاف نوٹ کی جاتی ہے ، نہ اس کے ماں باپ کے خلاف نوٹ کی جاتی ہے ، جب وہ بچہ بالغ ہو جاتا ہے ، تو اس پر قلم کے احکام جاری ہوتے ہیں ، اور اس کے ساتھ موجود محافظ فرشتوں کو یہ حکم دیا جاتا ہے کہ وہ حفاظت کریں اور سختی سے کام لیں ، پھر جب وہ فرد مسلمان ہونے کے عالم میں چالیس سال کی عمر تک پہنچ جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے تین قسم کی آزمائشوں سے محفوظ کر دیتا ہے ، جنون ، جذام اور برص ، جب وہ پچاس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے حساب میں تخفیف کر دیتا ہے ، جب وہ 60 سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف رجوع نصیب کرتا ہے ، جیسے وہ پسند کرتا ہے ، جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں ، جب وہ اسی سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیاں نوٹ کرواتا ہے اور اس کی برائیوں سے درگزر کرتا ہے ، جب وہ 90 سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور اسے اپنے اہل خانہ کے بارے میں شفاعت نصیب کرتا ہے ، اور وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کا قیدی ہوتا ہے ، اور جب وہ رذیل ترین عمر تک پہنچ جاتا ہے ، تاکہ وہ علم ہو جانے کے بعد لاعلم ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کی مانند اجر و ثواب نوٹ کرتا ہے ، جو بھلائی کا عمل وہ تندرستی کے زمانے میں کیا کرتا تھا ، لیکن وہ جو برائی کرتا تھا ، اس کو نوٹ نہیں کیا جاتا ۔‘‘

17556

Majma al-Zawaid #17556

وَفِي رِوَايَةٍ عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُعَمَّرُ فِي الْإِسْلَامِ». فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ: «فَإِذَا بَلَغَ السَّبْعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ أَحَبَّهُ اللَّهُ، وَأَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ».

EnglishUnverified translation

In one narration from Anas, the Messenger of Allah ﷺ said that no Muslim granted long life in Islam — then like the preceding — and that when he reaches seventy years in Islam, Allah loves him and the inhabitants of heaven love him. > **"When he reaches seventy years in Islam, Allah loves him and the inhabitants of heaven love him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس مسلمان کو اسلام میں ( یعنی مسلمان ہونے کے عالم میں ) عمر عطا کی جائے ( اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ) جب وہ اسلام میں ستر سال کا ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے ، اور آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں ۔‘‘

17557

Majma al-Zawaid #17557

وَفِي رِوَايَةٍ: «إِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ أَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ وَأَهْلُ الْأَرْضِ».

EnglishUnverified translation

In one narration, when he reaches seventy years in Islam, the inhabitants of heaven and earth love him. > **"When he reaches seventy years in Islam, the inhabitants of heaven and earth love him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جب وہ اسلام میں ستر سال کا ہو جائے تو آسمان والے اور زمین والے اُس سے محبت کرتے ہیں ۔

17558

Majma al-Zawaid #17558

وَفِي رِوَايَةٍ: «فَإِذَا بَلَغَ السِّتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَى اللَّهِ بِمَا يُحِبُّ اللَّهُ، فَإِذَا بَلَغَ السَّبْعِينَ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَكَانَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ، وَشُفِّعَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ». رَوَاهَا كُلَّهَا أَبُو يَعْلَى بِأَسَانِيدَ.

EnglishUnverified translation

In one narration, when he reaches sixty Allah grants him turning to Allah in what Allah loves, and when he reaches seventy Allah forgives his past and future sins, he becomes Allah's captive on earth, and he is granted intercession for his household. > **"At sixty Allah grants him turning in what He loves; at seventy He forgives his past and future sins, he becomes Allah's captive on earth, and intercedes for his household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ جب وہ 60 سال کا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ اپنی پسند کے مطابق اسے اللہ کی طرف رجوع کرنا نصیب کرتا ہے ، جب وہ ستر سال کا ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور وہ اللہ کی زمین میں اللہ کا قیدی ہوتا ہے ، اور اس کے اہل خانہ کے بارے میں اس کی شفاعت قبول ہو گی ۔‘‘ یہ تمام روایات امام ابویعلیٰ نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں ۔

17559

Majma al-Zawaid #17559

وَرَوَاهُ أَحْمَدُ مَوْقُوفًا بِاخْتِصَارٍ، وَقَالَ فِيهِ: " فَإِذَا بَلَغَ السِّتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَابَةً يُحِبُّهُ عَلَيْهَا ".

EnglishUnverified translation

Ahmad narrated it briefly as mawquf, with the wording that when he reaches sixty Allah grants him a turning to Him for which He loves him. > **"When he reaches sixty, Allah grants him a turning to Him for which He loves him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام احمد نے اختصار کے ساتھ ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ جب وہ 60 سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے رجوع نصیب کرتا ہے اور اس وجہ سے اس ( بندے ) سے محبت کرتا ہے ۔

17560

Majma al-Zawaid #17560

وَرَوَى بَعْدَهُ بِسَنَدِهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: مِثْلَهُ. وَرِجَالُ إِسْنَادِ ابْنِ عُمَرَ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ فِي بَعْضِهِمْ كَثِيرٍ، وَفِي أَحَدِ أَسَانِيدِ أَبِي يَعْلَى يَاسِينُ الزَّيَّاتُ، وَفِي الْآخَرِ يُوسُفُ بْنُ أَبِي ذَرَّةَ، وَهُمَا ضَعِيفَانِ جِدًّا. وَفِي الْآخَرِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْفُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، وَهُوَ لَيِّنٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ هَذِهِ الطَّرِيقِ ثِقَاتٌ. وَفِي إِسْنَادِ أَنَسٍ الْمَوْقُوفِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

He then narrated with his chain to ʿAbdullah ibn ʿUmar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with them, from the Prophet ﷺ the like thereof. > **"Like the preceding narration on the stages of long Muslim life, through Ibn ʿUmar."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اس کے بعد انہوں نے اپنی سند کے ساتھ ، حضرت عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما والی روایت کی سند کے رجال میں سے ، بعض کے ضعیف ہونے کے باوجود ان کی توثیق کی گئی ہے ، امام ابویعلیٰ کی مختلف اسانید میں سے ایک میں ایک راوی یاسین زیات ہے ، ایک سند میں ایک راوی یوسف بن ابوذرہ ہے ، اور یہ دونوں انتہائی ضعیف ہیں ، ایک سند میں ایک راوی ابوعبیدہ بن فضیل بن عیاض ہے ، اور وہ کمزور ہے ، اس طریق کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے منقول ” موقوف ‘‘ روایت کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17561

Majma al-Zawaid #17561

وَعَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «مَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - أَرْبَعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ أَنْوَاعًا مِنَ الْبَلَايَا: الْجُذَامَ، وَالْبَرَصَ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ فِي حَدِيثِهِ: كَفَّ اللَّهُ عَنْهُ أَنْوَاعًا مِنَ الْبَلَاءِ وَالْجُذَامَ، وَالْبَرَصَ وَحَنْقَ الشَّيْطَانِ، وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ خَمْسِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ لَيَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ».

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that whoever Allah grants forty years in Islam, Allah diverts from him kinds of afflictions — leprosy and vitiligo, and in ʿAbd al-Malik's wording Allah restrains kinds of affliction including leprosy, vitiligo, and Satan's rage — and whoever Allah grants fifty years in Islam, Allah eases his reckoning. > **"Whoever Allah grants forty years in Islam, Allah diverts afflictions from him; and whoever He grants fifty years in Islam, Allah eases his reckoning."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جس کو اللہ تعالیٰ اسلام میں ، چالیس سال کی زندگی دیدے ( یعنی جو مسلمان ہونے کے عالم میں 40 سال کا ہو جائے ) اللہ تعالیٰ اس سے مختلف قسم کی آزمائشوں کو پھیر دیتا ہے ، جیسے جذام اور برص ۔ ( یہاں عبدالملک نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) اللہ تعالیٰ اس سے مختلف قسم کی آزمائشوں کو روک دیتا ہے جسے جذام اور برص اور شیطان کا غضب ، اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں 50 سال کی زندگی دیدے ، اللہ تعالیٰ اس سے آسان حساب لے گا ۔‘‘

17562

Majma al-Zawaid #17562

وَفِي رِوَايَةٍ: «هَوَّنَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْحِسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سِتِّينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ بِمَا يُحِبُّ اللَّهُ، وَقَالَ أَبُو ضَمْرَةَ: "" رَزَقَهُ اللَّهُ تَعَالَى حُسْنَ الْإِنَابَةِ إِلَيْهِ "" وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ سَبْعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ أَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ وَأَهْلُ الْأَرْضِ، وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ ثَمَانِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ مَحَا اللَّهُ سَيِّئَاتِهِ، وَكَتَبَ حَسَنَاتِهِ». قَالَ أَنَسٌ فِي حَدِيثِهِ: «كَتَبَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ، وَلَمْ يَكْتُبْ سَيِّئَاتِهِ، وَمَنْ عَمَّرَهُ اللَّهُ تِسْعِينَ سَنَةً فِي الْإِسْلَامِ غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذُنُوبَهُ، وَكَانَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي أَرْضِهِ، وَشَفِيعًا لِأَهْلِ بَيْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». قَالَ أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ: «وَشُفِّعَ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In one narration, Allah eases his reckoning on the Day of Resurrection; whoever Allah grants sixty years in Islam, Allah grants him turning to Him in what Allah loves — in Abu Damrah's wording, Allah grants him fine turning to Him — and whoever He grants seventy years in Islam, heaven and earth love him; whoever He grants eighty years in Islam, Allah effaces his evil and records his good — in Anas's wording, Allah records his good and does not record his evil — and whoever He grants ninety years in Islam, Allah forgives his sins, he becomes Allah's captive on earth and an intercessor for his household on the Day of Resurrection — in Anas ibn ʿIyad's wording, he is granted intercession for his household. > **"At sixty Allah grants him turning in what He loves; at seventy heaven and earth love him; at eighty his evil is effaced and his good recorded; at ninety he is forgiven, Allah's captive on earth, interceding for his household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اُس کے لیے حساب کو آسان کر دے گا اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں 60 سال کی زندگی دیدے ، اللہ تعالیٰ اسے اس چیز کی طرف رجوع کی توفیق نصیب کرے گا ، جسے اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے ۔ ( یہاں ابوضمرہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) ۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف اچھے طریقے سے رجوع کرنے کی توفیق نصیب کرے گا ، اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں ستر سال کی زندگی عطا کر دے ، آسمان والے اور زمین والے اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں ، اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں 80 سال کی زندگی عطا کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کی برائیوں کو مٹا دے گا اور اس کی نیکیوں کو نوٹ کر لے گا ۔‘‘ ( انس نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) ’’ اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو نوٹ کرے گا اور اس کی برائیوں کو نوٹ نہیں کرے گا اور جسے اللہ تعالیٰ اسلام میں نوے سال کی زندگی عطا کر دے ، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کی مغفرت کر دے گا اور وہ زمین میں اللہ تعالیٰ کا اسیر ہو گا ، اور قیامت کے دن اپنے اہل خانہ کی شفاعت کرنے والا ہو گا ۔‘‘ ( انس بن عیاض نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) ’’ قیامت کے دن اس کے اہل خانہ کے بارے میں ، اس کی شفاعت قبول کی جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17563

Majma al-Zawaid #17563

وَعَنْ عُثْمَانَ - يَعْنِي ابْنَ عَفَّانَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «الْعَبْدُ الْمُسْلِمُ إِذَا بَلَغَ خَمْسِينَ سَنَةً خَفَّفَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ، وَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ، وَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً أَحَبَّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، فَإِذَا بَلَغَ ثَمَانِينَ سَنَةً ثَبَّتَ اللَّهُ حَسَنَاتِهِ، وَمَحَا سَيِّئَاتِهِ، فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ سَنَةً غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ وَمَا تَأَخَّرَ، وَشَفَّعَهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فِي أَهْلِ بَيْتِهِ، وَكُتِبَ فِي السَّمَاءِ أَسِيرَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَزْرَةُ بْنُ قَيْسٍ الْأَزْدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUthman — meaning Ibn ʿAffan, may Allah be pleased with him — reported from the Prophet ﷺ that when the Muslim servant reaches fifty, Allah lightens his reckoning, and when he reaches sixty Allah grants him turning to Him, and when he reaches seventy the inhabitants of heaven love him, and when he reaches eighty Allah confirms his good and effaces his evil, and when he reaches ninety Allah forgives his past and future sins, grants him intercession for his household, and it is written in heaven that he is Allah's captive on earth. > **"At fifty his reckoning is lightened; at sixty he is granted repentance; at seventy heaven loves him; at eighty his good is confirmed and his evil effaced; at ninety he is forgiven, interceding for his household, Allah's captive on earth."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ مسلمان بندہ ، جب پچاس سال کی عمر تک پہنچ جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو ہلکا کر دیتا ہے ( شاید یہ مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے نیکی کا کام کرنا آسان کر دیتا ہے ) اور جب وہ 60 سال کی عمر تک پہنچتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف رجوع کی توفیق عطا کرتا ہے ، اور جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے ، تو آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں اور جب وہ اسّی سال کا ہو جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کو برقرار رکھتا ہے ، اور اس کی برائیوں کو مٹا دیتا ہے ، اور جب وہ 90 سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گذشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ اس کے اہل خانہ کے بارے میں اس کی شفاعت کو قبول کرتا ہے ، اور اس کے لئے آسمان میں یہ نوٹ کر لیا جاتا ہے : یہ زمین میں اللہ کا قیدی ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عزرہ بن قیس ازدی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17564

Majma al-Zawaid #17564

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «إِذَا بَلَغَ الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ خَمْسِينَ سَنَةً صَرَفَ اللَّهُ عَنْهُ ثَلَاثَةَ أَنْوَاعٍ مِنَ الْبَلَاءِ: الْجُنُونَ، وَالْجُذَامَ، وَالْبَرَصَ، فَإِذَا بَلَغَ سِتِّينَ رَزَقَهُ اللَّهُ الْإِنَابَةَ إِلَيْهِ، فَإِذَا بَلَغَ سَبْعِينَ سَنَةً مُحِيَتْ سَيِّئَاتُهُ، وَكُتِبَتْ حَسَنَاتُهُ، فَإِذَا بَلَغَ تِسْعِينَ سَنَةً غَفَرَ اللَّهُ لَهُ ذَنْبَهُ، مَا تَقَدَّمَ مِنْهُ وَمَا تَأَخَّرَ، وَكَانَ أَسِيرَ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، وَشَفِيعًا لِأَهْلِ بَيْتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ، وَلَكِنَّ رِجَالَهُ ثِقَاتٌ، إِنْ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ سِبْطَ ابْنِ سَعْدٍ الْقَرَظِ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ هُوَ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَجَاهِيلُ كَمَا قَالَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Abi Bakr al-Siddiq reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when the Muslim reaches fifty, Allah diverts three kinds of affliction — madness, leprosy, and vitiligo; when he reaches sixty Allah grants him turning to Him; when he reaches seventy his evil is effaced and his good recorded; when he reaches ninety Allah forgives his past and future sins, he becomes Allah's captive on earth and an intercessor for his household. > **"At fifty three afflictions are diverted; at sixty he is granted repentance; at seventy his evil is effaced and his good recorded; at ninety he is forgiven, Allah's captive on earth, interceding for his household."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب مسلمان شخص پچاس سال کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے تین قسم کی آزمائشیں پھیر دیتا ہے ، جنون ، جذام اور برص ، جب وہ 60 سال کا ہو جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی طرف رجوع کرنے کی توفیق نصیب کرتا ہے ، جب وہ ستر سال کا ہو جاتا ہے ، تو اس کے گناہ مٹا دیئے جاتے ہیں اور اس کی نیکیاں نوٹ کی جاتی ہیں ، جب وہ 90 سال کا ہو جاتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ اور آئندہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے ، اور وہ زمین میں اللہ کا قیدی ہوتا ہے اور وہ اپنے اہل خانہ کے بارے میں شفاعت کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے عبداللہ بن عمرو بن عثمان کی ، حضرت عبداللہ بن ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور انہوں نے ان کا زمانہ نہیں پایا ہے ، تاہم اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، اگر محمد بن عمار انصاری ، حضرت سعد القرظ رضی اللہ عنہ کا پوتا ہو ، اور بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ وہی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں مجہول راوی ہیں ، جیسا کہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔

17565

Majma al-Zawaid #17565

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا بَلَغَ الْعَبْدُ سِتِّينَ سَنَةً فَقَدْ أَعْذَرَ اللَّهُ إِلَيْهِ فِي الْعُمْرِ وَأَبْلَغَ إِلَيْهِ فِي الْعُمْرِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when a servant reaches sixty, Allah has excused him regarding age and granted him full age. > **"When a servant reaches sixty, Allah has excused him regarding age and granted him full age."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بندہ ساٹھ سال کا ہو جائے ، تو اللہ تعالیٰ نے اُسے عمر کے بارے میں عذر فراہم کر دیا اور اسے بھرپور عمر عطا کر دی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17566

Majma al-Zawaid #17566

عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَعْمَارُ أُمَّتِي مَا بَيْنَ السِّتِّينَ إِلَى السَّبْعِينَ، وَأَقَلُّهُمُ الَّذِينَ يَبْلُغُونَ ثَمَانِينَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ شَيْخُ هُشَيْمٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Anas, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that the ages of his ummah are between sixty and seventy, and few among them reach eighty. > **"The ages of my ummah are between sixty and seventy, and few among them reach eighty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کی ( اوسط ) عمریں ، ساٹھ سے ستر سال کے درمیان ہوں گی ، اور ان میں کم ہی لوگ ایسے ہوں گے ، جو اسّی سال تک پہنچیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ہشیم کا ایک استاد ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17567

Majma al-Zawaid #17567

وَعَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ «قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَدِّثْنَا عَنْ أَعْمَارِ أُمَّتِكَ؟ قَالَ: "" مَا بَيْنَ الْخَمْسِينَ إِلَى السِّتِّينَ "". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَبْنَاءُ السَّبْعِينَ؟ قَالَ: "" قَلَّ مَنْ يَبْلُغُهَا مِنْ أُمَّتِي، رَحِمَ اللَّهُ أَبْنَاءَ السَّبْعِينَ، وَرَحِمَ اللَّهُ أَبْنَاءَ الثَّمَانِينَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Hudhayfah, may Allah be pleased with him, said he asked the Messenger of Allah ﷺ about the ages of his ummah, and he said between fifty and sixty; they asked about those of seventy, and he said few of his ummah reach it; may Allah have mercy on those of seventy, and may Allah have mercy on those of eighty. > **"The ages of my ummah are between fifty and sixty; few reach seventy; may Allah have mercy on those of seventy and those of eighty."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اپنی امت کی عمروں کے بارے میں ہمیں بتائیے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : وہ 50 سے 60 سال کے درمیان ہوں گی ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ستر سال کی عمر والے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : میری اُمت کا جو فرد اس عمر تک پہنچ جائے ، تو اللہ تعالیٰ ستر سال والوں پر رحم کرے اور اللہ تعالیٰ اسّی سال والوں پر رحم کرے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17568

Majma al-Zawaid #17568

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: «أَقَلُّ أُمَّتِي الَّذِينَ يَبْلُغُونَ السَّبْعِينَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، قُلْتُ: لَعَلَّهُ "" التِّسْعِينَ "". فَإِنَّ هَذَا مِنَ النُّسْخَةِ الَّتِي كَتَبْتُ مِنْهَا لَمْ تُقَابَلْ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that few of his ummah are those who reach seventy. > **"Few of my ummah are those who reach seventy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری امت کے کم ہی لوگ ستر سال تک پہنچیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : شاید روایت میں درست لفظ ’’ 90 سال ‘‘ ہے جو نسخہ ہمارے پاس موجود ہے ، یہ جہاں سے نقل کیا گیا ہے ، اس میں تقابل نہیں کیا گیا ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔

17569

Majma al-Zawaid #17569

عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَا يَتَمَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ إِلَّا أَنْ يَثِقَ بِعَمَلِهِ ; فَإِنْ رَأَيْتُمْ فِي الْإِسْلَامِ سِتَّ خِصَالٍ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ، وَإِنْ كَانَتْ نَفْسُكَ فِي يَدِكَ فَأَرْسِلْهَا: إِضَاعَةَ الدَّمِ، وَإِمَارَةَ الصِّبْيَانِ، وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ، وَإِمَارَةَ السُّفَهَاءِ، وَبَيْعَ الْحُكْمِ، وَنَشْوٌ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAmr ibn ʿAbasah, may Allah be pleased with him, reported from the Messenger of Allah ﷺ that none should wish for death unless he trusts in his deeds; but if you see six traits in Islam, then wish for death, and if your soul is in your hand then release it: squandering of blood, rule of children, multitude of police, rule of fools, sale of judgment, and youths who take the Qur'an as flutes. > **"None should wish for death unless he trusts in his deeds; but if you see squandered blood, rule of children, many police, rule of fools, sold judgments, and youths taking the Qur'an as flutes — then wish for death."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم میں سے کوئی بھی شخص موت کی آرزو نہ کرے ، البتہ اگر اسے اپنے عمل پر بھروسہ ہو ، تو حکم مختلف ہے ، جب تم اسلام میں چھے قسم کی چیزیں دیکھو ، تو تم موت کی آرزو کرنا اور تمہاری جان تمہارے ہاتھ میں ہوں ، تو تم اسے چھوڑ دینا ، خون کو ضائع کیا جانا ، بچوں کی حکومت ، شرطیں زیادہ لگانا ، بیوقوفوں کی حکمرانی ، عدالتی فیصلے کو فروخت کرنا ، اور ایسے کم عمر لوگوں کا سامنے آنا ، جو قرآن کو گا کر پڑھیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک ایسی جماعت ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17570

Majma al-Zawaid #17570

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ، وَلَا يَدْعُو بِهِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ قَدْ وَثِقَ بِعَمَلِهِ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported from the Messenger of Allah ﷺ that none should wish for death nor supplicate for it before it comes, unless he has trusted in his deeds. > **"None should wish for death nor supplicate for it before it comes, unless he has trusted in his deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ایک موت کی آرزو ہرگز نہ کرے ، اور نہ ہی اس کے آنے سے پہلے ، اس کے بارے میں دعا کرے ، البتہ اگر اسے اپنے عمل پر بھروسہ ہو ، تو حکم مختلف ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ مدلس ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17571

Majma al-Zawaid #17571

وَعَنْ أَبِي الْمُعَلَّى قَالَ: «قَالَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ: يَا طَاعُونُ، خُذْنِي إِلَيْكَ. فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: بِمَ تَقُولُ هَذَا؟ وَقَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" أَلَا لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ ""؟. قَالَ: قَدْ سَمِعْتُ مَا سَمِعْتُمْ، وَلَكِنِّي أُبَادِرُ سِتًّا: بَيْعَ الْحُكْمِ، وَكَثْرَةَ الشُّرَطِ، وَإِمَارَةَ الصِّبْيَانِ، وَسَفْكَ الدِّمَاءِ، وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ، وَنَشْوٌ يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَبُو الْمُعَلَّى لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Muʿalla reported that al-Hakam al-Ghifari, may Allah be pleased with him, said, O plague, take me to you, whereupon a man said, why do you say this when you heard the Messenger of Allah ﷺ say that none should wish for death? He replied that he heard what they heard, but he hastens before six: sale of judgment, multitude of police, rule of children, shedding of blood, severing of kinship, and youths in the last age who take the Qur'an as flutes. > **"I hasten before six: sold judgments, many police, rule of children, shed blood, severed kinship, and youths who take the Qur'an as flutes."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابومعلیٰ بیان کرتے ہیں : حضرت حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا : اے طاعون ! تو مجھے اپنی گرفت میں لے ، حاضرین میں سے ایک صاحب نے ان سے کہا : آپ یہ بات کیوں کہہ رہے ہیں ؟ کیا آپ نے اللہ کے رسول ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ’’ خبردار ! تم میں سے کوئی ایک موت کی آرزو ہرگز نہ کرے ۔‘‘ تو حضرت حکم غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے بھی اسی طرح سنا ہے ، جس طرح تم لوگوں نے سنا ہے ، لیکن میں چھ قسم کی چیزوں کے سامنے آنے سے پہلے ، دنیا سے رخصت ہو جانا چاہتا ہوں ، عدالتی فیصلے کو فروخت کیا جانا ، شرطوں کا زیادہ لگنا ، بچوں کی حکومت ، خون بہایا جانا ، رشتہ داری کے حقوق کو پامال کیا جانا ، اور آخری زمانے میں ایسے لوگوں کا سامنے آنا ، جو قرآن کو گائیکی بنا لیں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ابومعلیٰ نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17572

Majma al-Zawaid #17572

عَنْ يُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: «أَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ فَقَالَ لِي: يَا ابْنَ أَخِي، مَا أَعْمَلَكَ إِلَى هَذَا الْبَلَدِ؟ وَمَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا إِلَّا صِلَةٌ بَيْنَكَ وَبَيْنَ وَالِدِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ. فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: بِئْسَ سَاعَةُ الْكَذِبِ هَذِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: "" مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ أَوْ أَرْبَعًا - شَكَّ سَهْلٌ - يُحْسِنُ فِيهَا الرُّكُوعَ وَالْخُشُوعَ، ثُمَّ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ غَفَرَ لَهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Yusuf ibn ʿAbdillah ibn Salam, may Allah be pleased with them, reported that he visited Abu al-Darda', may Allah be pleased with him, in the illness in which he died, and he asked what brought him to this land; he replied only the bond between him and his father ʿAbdullah ibn Salam, so Abu al-Darda' said this was a poor hour for falsehood, and that he heard the Messenger of Allah ﷺ say that whoever performs ablution well, then stands to pray two or four rakʿahs — Sahl doubted — perfecting bowing and humility therein, then seeks Allah's forgiveness, is forgiven. > **"Whoever performs ablution well, prays two or four rakʿahs with bowing and humility, then seeks Allah's forgiveness, is forgiven."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ کا انتقال ، جس بیماری کے دوران ہوا ، اس کے دوران میں ان سے ملنے کے لیے گیا ، انہوں نے مجھ سے دریافت کیا : اے میرے بھتیجے ! تمہیں اس شہر میں کیا کام ہے ، اور تم یہاں کیوں آئے ہو ؟ راوی کہتے ہیں : میں نے جواب دیا : ایسی کوئی بات نہیں ہے ، میں صرف اس تعلق کی وجہ سے یہاں آیا ہوں ، جو آپ کے اور میرے والد حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے درمیان تھا ، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ گھڑی ( یعنی وہ گھڑی ، جب میں دنیا سے رخصت ہونے والا ہوں ) جھوٹ بولنے کے لیے بری گھڑی ہے ( یعنی ایسے وقت میں جھوٹ نہیں بولا جا سکتا اور میں تمہیں ، جو بات بیان کرنے لگا ہوں ، وہ بالکل سچ ہے ) میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ جو شخص وضو کرتے ہوئے اچھی طرح وضو کرے ، پھر وہ کھڑا ہو کر دو ، یا چار رکعات ادا کرے ( یہ شک سہیل نامی راوی کو ہے ) اور اس دوران اچھے طریقے سے رکوع اور خشوع کرے ، پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17573

Majma al-Zawaid #17573

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ لِرَبِّهِ - عَزَّ وَجَلَّ -: وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ لَا أَبْرَحُ أُغْوِي بَنِي آدَمَ مَا دَامَتِ الْأَرْوَاحُ فِيهِمْ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ: فَبِعِزَّتِي وَجَلَالِي، لَا أَبْرَحُ أَغْفِرُ لَهُمْ مَا اسْتَغْفَرُونِي». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ، وَقَالَ: «لَا أَبْرَحُ أُغْوِي عِبَادَكَ». وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيْ أَحْمَدَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيْ أَبِي يَعْلَى.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid al-Khudri, may Allah be pleased with him, heard the Messenger of Allah ﷺ say that Iblis said to his Lord that by His might and majesty he would never cease misleading the children of Adam while souls remained in them, so his Lord said that by His might and majesty He would never cease forgiving them while they sought His forgiveness. > **"By Your might and majesty I shall never cease misleading them while souls remain in them. By My might and majesty I shall never cease forgiving them while they seek My forgiveness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ابلیس نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں عرض کی : مجھے تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ہے ، میں مسلسل اولاد آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا ، جب تک اُن کی روحیں ان کے جسموں میں ہیں ، تو پروردگار نے اس سے فرمایا : مجھے اپنی عزت اور اپنے جلال کی قسم ہے ، وہ جب تک مجھ سے مغفرت مانگتے رہیں گے ، میں مسلسل ان کی مغفرت کرتا رہوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” میں مسلسل تیرے بندوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا رہوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام احمد کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، امام ابویعلیٰ کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال بھی اسی طرح ہیں ۔

17574

Majma al-Zawaid #17574

وَعَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «عَلَيْكُمْ بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَالِاسْتِغْفَارِ ; فَإِنَّ إِبْلِيسَ قَالَ: أَهْلَكْتُ النَّاسَ بِالذُّنُوبِ فَأَهْلَكُونِي بِلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَالِاسْتِغْفَارِ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ أَهْلَكْتُهُمْ بِالْأَهْوَاءِ، وَهُمْ يَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ مُهْتَدُونَ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُثْمَانُ بْنُ مَطَرٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Bakr, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ to hold to none is worthy of worship but Allah and seeking forgiveness, for Iblis said he ruined people with sins while they ruined him with none is worthy of worship but Allah and seeking forgiveness, so when he saw that he ruined them with desires while they deemed themselves guided. > **"Hold to none is worthy of worship but Allah and seeking forgiveness; Iblis ruins with sins, is ruined by unity and seeking forgiveness, then ruins with desires while they deem themselves guided."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم پر لازم ہے کہ ’’ لا الہ الا اللہ ‘‘ پڑھتے رہو اور مغفرت طلب کرتے رہو ، کیونکہ ابلیس نے یہ کہا ہے : میں گناہوں کے ذریعے لوگوں کو ہلاکت کا شکار کرتا ہوں ، اور وہ ’’ لا إله إلا الله ‘‘ پڑھنے اور مغفرت طلب کرنے کے ذریعے مجھے ہلاکت کا شکار کر دیتے ہیں ، جب میں انہیں اس صورتحال میں دیکھتا ہوں ، تو میں انہیں نفسانی خواہشات کے ذریعے ہلاکت کا شکار کر دیتا ہوں ، اور وہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عثمان بن مطر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔