Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 42 · Chapter 1

Book of Repentance

Hadith 17455–17494

40 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17455

Majma al-Zawaid #17455

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَقِيَ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا، وَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ، طَيِّبًا بِهَا نَفْسُهُ، مَحْتَسِبًا وَسَمِعَ وَأَطَاعَ فَلَهُ الْجَنَّةُ - أَوْ دَخَلَ الْجَنَّةَ - وَخَمْسٌ لَيْسَ لَهُنَّ كَفَّارَةٌ: الشِّرْكُ بِاللَّهِ وَقَتْلُ النَّفْسِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَبَهْتُ الْمُؤْمِنِ، وَالْفِرَارُ مِنَ الزَّحْفِ أَوْ يَمِينٌ صَابِرَةٌ يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا بِغَيْرِ حَقٍّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever meets Allah, Mighty and Majestic, associating nothing with Him, pays the zakah of his wealth with a willing soul seeking reward, and listens and obeys, then Paradise is for him — or he said, he shall enter Paradise — while five sins have no expiation: associating partners with Allah, killing a soul unjustly, slandering a believer, fleeing from the battlefield, or a binding oath by which one wrongfully seizes wealth. > **"Whoever meets Allah associating nothing with Him, pays his zakah willingly seeking reward, and listens and obeys, then Paradise is for him; and five have no expiation: shirk, unjust killing, slandering a believer, fleeing from battle, or a binding oath seizing wealth unjustly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو ، کہ وہ کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراتا ہو ، اور اپنے من کی خوشی کے ساتھ اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے ، اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے ، اطاعت و فرمانبرداری سے کام لے ، تو اُسے جنت نصیب ہو گی ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) وہ جنت میں داخل ہو گا ، اور پانچ کام ایسے ہیں ، جن کا کوئی کفارہ نہیں ہے ، کسی کو اللہ تعالیٰ کا شریک قرار دینا ، کسی جان کو ناحق طور پر قتل کرنا ، مؤمن پر بہتان لگانا ، میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) جھوٹی قسم اٹھانا ، جس کے ذریعے آدمی کسی کا مال ناحق طور پر ہتھیا لے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17456

Majma al-Zawaid #17456

وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَائِشَةَ: "" يَا عَائِشَةُ، {إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا} [الأنعام: 159]، هُمْ أَصْحَابُ الْبِدَعِ، وَأَصْحَابُ الْأَهْوَاءِ، لَيْسَ لَهُمْ تَوْبَةٌ، أَنَا مِنْهُمْ بَرِيءٌ، وَهُمْ مِنِّي بَرَاءٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ بَقِيَّةٌ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿUmar ibn al-Khattab, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to ʿA'ishah, may Allah be pleased with her, concerning those who divided their religion and became sects, that they are the people of innovation and desires, they have no repentance, and he is free of them and they are free of him. > **"O ʿA'ishah, those who divided their religion and became sects are the people of innovation and desires; they have no repentance. I am free of them and they are free of me."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : ’’ اے عائشہ ! بے شک وہ لوگ ، جنہوں نے اپنے دین میں فرقہ بندی اختیار کی ، وہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے ، وہ لوگ بدعت کے پیروکار اور نفسانی خواہشات کے پیروکار تھے ، اُن کے لئے توبہ کی گنجائش نہیں ہے ، میں اُن سے لاتعلق ہوں ، اور وہ مجھ سے لاتعلق ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17457

Majma al-Zawaid #17457

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ حَجَبَ التَّوْبَةَ عَنْ كُلِّ صَاحِبِ بِدْعَةٍ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هَارُونَ بْنِ مُوسَى الْفَرْوِيَّ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Malik, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that Allah has veiled repentance from every adherent of innovation. > **"Allah has veiled repentance from every adherent of innovation."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کو ، ہر بدعتی سے محجوب کر دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ہارون بن موسیٰ فروی کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17458

Majma al-Zawaid #17458

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَلَكَ الْمُقَذِّرُونَ»، قُلْتُ: ذَكَرَ صَاحِبُ النِّهَايَةِ أَنَّهُمُ الَّذِينَ يَأْتُونَ الْقَاذُورَاتِ مِنَ الذُّنُوبِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿA'ishah, may Allah be pleased with her, reported that the Prophet ﷺ said that those who commit foul deeds are destroyed, meaning those who commit filthy sins. > **"Destroyed are those who commit foul sins."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ گندگی کرنے والے ، ہلاکت کا شکار ہو گئے ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ النہایہ ‘‘ کے مصنف نے یہ بات بیان کی ہے : اس سے مراد وہ لوگ ہیں ، جو گندے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ، معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سعید مقبری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

17459

Majma al-Zawaid #17459

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: "" «إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ ; فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ يُهْلِكْنَهُ "". وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا: "" كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا أَرْضَ فَلَاةٍ، فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ فَيَجِيءُ بِالْعُودِ، وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ، حَتَّى جَمَعُوا سَوَادًا، وَأَجَّجُوا نَارًا، وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا» "". رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمْرَانَ بْنِ دَاوَدَ الْقِطَّانِ، وَقَدْ وُثِّقَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to beware of despised minor sins, for they gather against a man until they destroy him, and he struck the example of people camping in a desert who each bring a stick until they gather a pile, kindle a fire, and cook what they placed therein. > **"Beware of despised minor sins, for they gather against a man until they destroy him, like travellers who each bring a stick until they kindle a fire and cook their food."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ حقیر گناہوں سے بچ کے رہو ! کیونکہ وہ کسی شخص کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں ، یہاں تک کہ اسے ہلاکت کا شکار کر دیتے ہیں ۔‘‘ پھر نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کے سامنے ایک مثال بیان کی : جیسے کچھ لوگ کسی ویرانے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، کھانا تیار کرنے کا وقت ہوتا ہے ، ایک شخص جاتا ہے ایک لکڑی لے آتا ہے ، دوسرا شخص جاتا ہے دوسری لکڑی لے آتا ہے ، یہاں تک کہ وہ بہت سی لکڑیاں اکٹھی کر لیتے ہیں ، آگ جلاتے ہیں اور اس پر کچھ پکا لیتے ہیں ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، صرف عمران بن داؤد قطان کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

17460

Majma al-Zawaid #17460

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِنَّ الشَّيْطَانَ قَدْ يَئِسَ أَنْ تُعْبَدَ الْأَصْنَامُ فِي أَرْضِ الْعَرَبِ، وَلَكِنَّهُ سَيَرْضَى مِنْكُمْ بِدُونِ ذَلِكَ بِالْمُحَقَّرَاتِ، وَهِيَ الْمُوبِقَاتُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، اتَّقُوا الْمَظَالِمَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ; فَإِنَّ الْعَبْدَ يَجِيءُ بِالْحَسَنَاتِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَرَى أَنَّهَا سَتُنْجِيهِ، فَمَا زَالَ عَبْدٌ يَقُومُ يَقُولُ: يَا رَبِّ، ظَلَمَنِي عَبْدُكَ مُظْلِمَةً فَيَقُولُ: امْحُوَا مِنْ حَسَنَاتِهِ، مَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى مَا تَبْقَى لَهُ حَسَنَةٌ مِنَ الذُّنُوبِ، وَإِنَّ مِثْلَ ذَلِكَ كَسَفَرٍ نَزَلُوا بِفَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ لَيْسَ مَعَهُمْ حَطَبٌ، فَتَفَرَّقَ الْقَوْمُ لِيَحْطِبُوا، فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ حَطَبُوا فَأَعْظَمُوا النَّارَ وَطَبَخُوا مَا أَرَادُوا، وَكَذَلِكَ الذُّنُوبُ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُسْلِمٍ الْهَجَرِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah — meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him — reported from the Prophet ﷺ that Satan has despaired of idols being worshipped in Arabia, but he will settle for despised minor sins which destroy on the Day of Resurrection, so avoid injustices as much as possible, for a servant will come with good deeds thinking they will save him, yet claimants will say his Lord wronged them, and his good deeds will be erased until none remain, like travellers without firewood who scatter, gather wood, kindle a great fire, and cook; so are sins. > **"Satan has despaired of idols being worshipped in Arabia, but he will settle for despised sins which destroy on the Day of Resurrection; avoid injustices as much as you can."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ شیطان اس بات سے مایوس ہو چکا ہے کہ عرب کی سرزمین پر بتوں کی عبادت کی جائے ، البتہ وہ تمہاری طرف سے اس سے کم چیز یعنی حقیر گناہوں سے بھی راضی ہو جائے گا ، اور وہ گناہ قیامت کے دن ہلاکت کا شکار کرنے والے ہوں گے ، تم سے جہاں تک ہو سکے ، ظلم کرنے سے بچو ! کیونکہ قیامت کے دن کوئی بندہ نیکیاں لے کر آئے گا اور وہ یہ سمجھے گا کہ یہ نیکیاں اسے نجات دلا دیں گی ، لیکن پھر کوئی بندہ کھڑا ہو کر یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیرے بندے نے میرے ساتھ زیادتی کی تھی ، تو پروردگار فرمائے گا : اس کی نیکیاں مٹا دو ! ایسا مسلسل ہوتا رہے گا ، یہاں تک کہ اس شخص کی کوئی بھی نیکی باقی نہیں رہے گی ، اس کی مثال یوں ہے ، جیسے کچھ لوگ سفر کرنے کے دوران کسی ویرانے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، ان کے پاس لکڑیاں نہیں ہوتی ہیں ، وہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کے لئے ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں ، یہاں تک کہ لکڑی کی اکٹھی کر لیتے ہیں اور بہت سی آگ جلا لیتے ہیں ، اور جو ان کا ارادہ ہو وہ پکا لیتے ہیں ، تو گناہوں کی مثال بھی اسی طرح ہے ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن مسلم ہجری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

17461

Majma al-Zawaid #17461

وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ: إِنَّ مَثَلَ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ سَفَرٍ، نَزَلُوا بِأَرْضٍ قَفْرٍ مَعَهُمْ طَعَامٌ وَلَا يُصْلِحُهُمْ إِلَّا النَّارُ، فَتَفَرَّقُوا فَجَعَلَ هَذَا يَأْتِي بِالرَّوْثَةِ، وَهَذَا يَأْتِي بِالْعَظْمِ، وَيَجِيءُ هَذَا بِالْعُودِ، حَتَّى جَمَعُوا مِنْ ذَلِكَ مَا أَصْلَحُوا طَعَامَهُمْ، وَكَذَلِكَ صَاحَبُ الْمُحَقَّرَاتِ يَكْذِبُ الْكَذِبَةَ، وَيُذْنِبُ الذَّنْبَ، وَيَجْمَعُ مِنْ ذَلِكَ مَا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُبَّ عَلَى وَجْهِهِ فِي نَارِ جَهَنَّمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مَوْقُوفًا بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him, said that the example of despised sins is like travellers halting in a barren land with food that needs fire, so they scatter and one brings dung, another a bone, another a stick, until they gather enough to prepare their food; likewise the committer of minor sins tells a lie here and commits a sin there, gathering what may throw him face-first into Hell. > **"The committer of minor sins gathers lie upon sin until they cast him face-first into Hell, like travellers gathering fuel until they can cook their food."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ حقیر گناہوں کی مثال ، ایسے مسافر لوگوں کی مانند ہے ، جو کسی ویرانے میں پڑاؤ کرتے ہیں ، ان کے پاس کھانے کے لیے اناج ہوتا ہے ، لیکن وہ اناج صرف آگ کے ذریعے تیار ہو سکتا ہے ، تو وہ لوگ ادھر ادھر بکھر جاتے ہیں ، کوئی شخص مینگنی لے کے آتا ہے ، کوئی ہڈی لے کے آتا ہے ، کوئی لکڑی لے کے آتا ہے ، یہاں تک کہ وہ اتنی چیزیں اکٹھی کر لیتے ہیں کہ انہیں آگ لگا کر اپنا کھانا تیار کر سکیں ، تو حقیر گناہ کرنے والے کی مثال بھی اسی طرح ہے ، کبھی وہ جھوٹ بول لیتا ہے ، کبھی کوئی اور گناہ کر لیتا ہے ، اور جب یہ سب اکٹھے ہوتے ہیں ، تو ہو سکتا ہے کہ وہ اسے چہرے کے بل جہنم کی آگ میں پھینکوا دیں ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17462

Majma al-Zawaid #17462

وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ ; فَإِنَّمَا مَثَلُ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا بَطْنَ وَادٍ فَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، وَجَاءَ ذَا بِعُودٍ، حَتَّى حَمَلُوا مَا أَنْضَجُوا بِهِ خُبْزَهُمْ، وَإِنَّ مُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ مَتَى يُؤْخَذْ بِهَا صَاحِبُهَا تُهْلِكْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ مِنْ طَرِيقَيْنِ، وَرِجَالُ إِحْدَاهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

Sahl ibn Saʿd, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to beware of despised sins, for their example is like people halting in a valley, each bringing a stick until they carry enough to bake their bread; and when their owner is seized for them, they destroy him. > **"Beware of despised sins, for they are like sticks gathered one by one until bread can be baked; when their owner is seized for them, they destroy him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ حقیر گناہوں سے بچ کے رہو ! کیونکہ حقیر گناہوں کی مثال ، ان لوگوں کی مانند ہے ، جو کسی وادی میں پڑاؤ کرتے ہیں ، ایک شخص ایک لکڑی لے کر آتا ہے ، دوسرا شخص دوسری لکڑی لے کر آتا ہے ، یہاں تک کہ اتنی لکڑیاں ہو جاتی ہیں کہ ان کے ذریعے وہ اپنی روٹی پکا سکتے ہیں ، تو حقیر گناہوں کی مثال بھی اسی طرح ہے ( کہ جب وہ بہت زیادہ اکٹھے ہو جائیں ) اور ان کے مرتکب شخص کی گرفت کی جائے ، تو وہ اس شخص کو ہلاکت کا شکار کر دیں گے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، امام طبرانی نے اس کو تینوں کتابوں میں دو حوالوں سے نقل کیا ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالوہاب بن عبدالحکم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17463

Majma al-Zawaid #17463

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ جُنَادَةَ قَالَ: «لَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ حُنَيْنٍ نَزَلْنَا قَفْرًا مِنَ الْأَرْضِ لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" اجْمَعُوا، مَنْ وَجَدَ شَيْئًا فَلْيَأْتِ بِهِ، وَمَنْ وَجَدَ عَظْمًا أَوْ سِنًّا فَلْيَأْتِ بِهِ ""، قَالَ: فَمَا كَانَ إِلَّا سَاعَةٌ حَتَّى جَعَلْنَاهُ رُكَامًا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" أَتَرَوْنَ هَذَا؟ فَكَذَلِكَ تُجْمَعُ الذُّنُوبُ عَلَى الرَّجُلِ مِنْكُمْ كَمَا جَمَعْتُمْ هَذَا، فَلْيَتَّقِ اللَّهَ رَجُلٌ، فَلَا يُذْنِبُ صَغِيرَةً وَلَا كَبِيرَةً ; فَإِنَّهَا مُحْصَاةٌ عَلَيْهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نُفَيْعٌ أَبُو دَاوُدَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Saʿd ibn Junadah, may Allah be pleased with him, said that when the Messenger of Allah ﷺ finished Hunayn they camped on barren land with nothing in it, so the Prophet ﷺ said to gather whatever each found, even a bone or fragment, and within an hour they made a heap, whereupon the Prophet ﷺ said, Do you see this? So sins gather against a man just as you gathered this; so let a man fear Allah and commit neither minor nor major sin, for they are recorded against him. > **"Do you see this heap? So sins gather against a man; let him fear Allah and commit neither minor nor major sin, for they are recorded against him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت سعد بن جنادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ غزوہ حنین سے فارغ ہوئے ، تو ہم نے ایک ویران جگہ پر پڑاؤ کیا وہاں کوئی چیز موجود نہیں تھی ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم لوگ جمع کرو ! جسے جو چیز ملے ، وہ لے آئے ، جسے ہڈی ملے یا کوئی اور چیز ملے ، وہ اسے لے آئے ، راوی بیان کرتے ہیں : تھوڑی ہی دیر میں ایک ڈھیر اکٹھا ہو گیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ اسے دیکھ رہے ہو ؟ اسی طرح گناہ تم میں سے کسی ایک شخص کے خلاف اکٹھے ہو جاتے ہیں ، جس طرح تم نے اس کو اکٹھا کیا ہے ، تو آدمی کو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے ، اور چھوٹا یا بڑا کوئی گناہ نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ وہ اس شخص کے خلاف شمار ہوں گے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نفیح ابوداؤد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17464

Majma al-Zawaid #17464

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ أَعْمَالًا لَهِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ، كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمُوبِقَاتِ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abu Saʿid — meaning al-Khudri, may Allah be pleased with him — said that people do deeds finer in their eyes than a hair, which they used to count among the destructive sins in the time of the Messenger of Allah ﷺ. > **"You do deeds finer in your eyes than a hair, which we counted among the destructive sins in the time of the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : تم لوگ ایسے اعمال کرتے ہو کہ وہ تمہاری نگاہوں میں بال سے زیادہ ہلکے ہوتے ہیں ، اور نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ، ہم لوگ انہیں ہلاکت کا شکار کرنے والے اعمال شمار کرتے تھے ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17465

Majma al-Zawaid #17465

وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ قَرَضٍ - أَوْ قَرَظٍ - قَالَ: إِنَّكُمْ لَتَعْمَلُونَ الْيَوْمَ أَعْمَالًا هِيَ أَدَقُّ فِي أَعْيُنِكُمْ مِنَ الشَّعْرِ، كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْمُوبِقَاتِ. قَالَ حُمَيْدٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي قَتَادَةَ: فَكَيْفَ لَوْ أَدْرَكَ زَمَانَنَا هَذَا؟ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: لَكَانَ لِذَلِكَ أَقْوَلَ. رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَقَالَ: عُبَادَةُ، وَالطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: عَبَّادُ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ. وَبَعْضُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ، وَالطَّبَرَانِيُّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUbadah ibn Qarad — or Qaraz, may Allah be pleased with him — said that people today do deeds finer in their eyes than a hair, which they counted among the destructive sins in the time of the Messenger of Allah ﷺ, whereupon Humayd asked Abu Qatadah what he would say if he saw their time, and he replied he would say it even more emphatically. > **"You do deeds finer than a hair in your eyes, which we counted among the destructive sins in the time of the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبادہ بن قرص رضی اللہ عنہ ۔ ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ لفظ ہے : ) ۔ قرط فرماتے ہیں : ’’ آج کل تم ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نگاہوں میں بال سے زیادہ باریک ( یعنی ہلکے ) ہوتے ہیں ، اور نبی اکرم ﷺ کے زمانہ اقدس میں ، ہم لوگ انہیں ہلاکت کا شکار کرنے والے اعمال شمار کرتے تھے ۔‘‘ حمید کہتے ہیں : میں نے ابوقتادہ سے دریافت کیا : اگر وہ ہمارا زمانہ پا لیتے ، تو پھر کیا کہتے ؟ ابوقتادہ نے کہا : پھر تو یہ بات زیادہ موزوں ہونی تھی ۔ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، انہوں نے لفظ ’’ عبادہ ‘‘ نقل کیا ہے ، جبکہ امام طبرانی نے اس میں لفظ ” عباد ‘‘ نقل کیا ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، امام احمد اور امام طبرانی کی اسانید کے بعض رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17466

Majma al-Zawaid #17466

وَعَنْ جَابِرٍ: أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرٍّ - أَوْ هِرَّةٍ - رَبَطَتْهُ حَتَّى مَاتَ وَلَمْ تُرْسِلْهُ فَيَأْكُلَ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ، فَوَجَبَتْ لَهَا النَّارُ بِذَلِكَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ حَسَنُ الْحَدِيثِ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, heard the Messenger of Allah ﷺ say that a woman was punished for a cat — or she-cat — which she tied until it died, never releasing it to eat from the vermin of the earth, so Hell became due for her thereby. > **"A woman was punished for a cat she tied until it died, never releasing it to eat from the vermin of the earth, so Hell became due for her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ ایک عورت کو ، ایک بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ۔ ( یہاں بلی کے لئے استعمال ہونے والے لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ۔ اس عورت نے اسے باندھ دیا ، یہاں تک کہ وہ مر گئی ، اس عورت نے اسے چھوڑا نہیں ، تاکہ وو بلی خود زمین سے کچھ کھا لیتی ، تو اس عمل کی وجہ سے اُس عورت کے لئے جہنم واجب ہو گئی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ حسن الحدیث ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17467

Majma al-Zawaid #17467

وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: «كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَتْ: أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَسْقِهَا، فَقَالَ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: هَلْ تَدْرِي مَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ؟ إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ كَانَتْ كَافِرَةً، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ، فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAlqamah reported that they were with ʿA'ishah, may Allah be pleased with her, when Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, entered, and she asked if he was the one who narrates that a woman was punished for a cat she tied, neither feeding nor watering it, and he said he heard it from the Prophet ﷺ, so she asked whether he knew that woman was a disbeliever besides her deed, for a believer is too honourable to Allah to be punished for a cat, and told him to consider how he narrates from the Messenger of Allah ﷺ. > **"A believer is too honourable to Allah to be punished for a cat; consider how you narrate from the Messenger of Allah ﷺ."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس موجود تھے ، اسی دوران حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی تشریف لے آئے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : آپ ہی وہ فرد ہیں ، جو یہ حدیث بیان کرتے ہیں : کہ ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ، اس عورت نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور وہ اس بلی کو کھانے کے لئے ، یا پینے کے لئے کچھ نہیں دیتی تھی ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : میں نے یہ بات ان کی ( یعنی نبی اکرم ﷺ کی زبانی سنی ہے ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ وہ عورت کیا تھی ؟ اپنے اس طرز عمل کے ہمراہ وہ عورت کافر بھی تھی ، اور مؤمن اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ معزز ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بلی کی وجہ سے اُسے عذاب دے ، جب آپ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے کوئی حدیث روایت کریں ، تو اس بات کا جائزہ لے لیا کریں کہ آپ کیا روایت کر رہے ہیں ؟ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17468

Majma al-Zawaid #17468

وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «لَوْ غُفِرَ لَكُمْ مَا تَأْتُونَ إِلَى الْبَهَائِمِ لَغُفِرَ لَكُمُ الْكَثِيرُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ مَرْفُوعًا كَمَا تَرَاهُ، وَرَوَاهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللَّهِ مَوْقُوفًا، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

Abu al-Darda', may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that if what they do to animals were forgiven them, much else would be forgiven them. > **"If what you do to animals were forgiven you, much else would be forgiven you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ تم لوگ جانوروں کے ساتھ جو سلوک کرتے ہو ، اگر اُس حوالے سے تمہاری مغفرت ہو گئی ، تو تمہاری بہت سی ( دوسری کوتاہیوں کی بھی ) مغفرت ہو جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے ’’ مرفوع ‘‘ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جیسا کہ آپ اسے ملاحظہ فرما رہے ہیں ، جبکہ ان کے صاحبزادے عبداللہ نے اسے ’’ موقوف ‘‘ روایت کے طور پر نقل کیا ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17469

Majma al-Zawaid #17469

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ «قَالَ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: "" ارْحَمُوا تُرْحَمُوا، وَاغْفِرُوا يُغْفَرْ لَكُمْ، وَيْلٌ لِأَقْمَاعِ الْقَوْلِ، وَيْلٌ لِلْمُصِرِّينَ الَّذِينَ يُصِرُّونَ عَلَى مَا فَعَلُوا، وَهُمْ يَعْلَمُونَ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حِبَّانَ بْنِ يَزِيدَ الشَّرْعِيِّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ كَذَلِكَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn ʿAmr ibn al-ʿAs, may Allah be pleased with them, reported that the Prophet ﷺ said from the minbar to show mercy so mercy is shown, to forgive so forgiveness is granted, and woe to the funnels of speech and woe to the persistent who persist in what they did knowingly. > **"Show mercy and you will be shown mercy; forgive and you will be forgiven; woe to the persistent who persist in what they did knowingly."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ ﷺ نے منبر پر یہ ارشاد فرمایا : ’’ تم لوگ رحم کرو ! تم پر رحم کیا جائے گا ، تم لوگ بخش دو ! تمہاری مغفرت ہو جائے گی ، ان لوگوں کے لئے بربادی ہے ، جو باتوں کو سنبھال کے نہیں رکھتے ہیں ، اور اصرار کرنے والوں کے لئے بربادی ہے ، جو اپنے کئے ہوئے پر اصرار کرتے ہیں ، اور وہ اس بات کا علم رکھتے ہیں ( کہ جو وہ کر رہے ہیں ، وہ غلط ہے ) ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف حبان بن زید شرعبی کا معاملہ مختلف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ، امام طبرانی نے یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے ۔

17470

Majma al-Zawaid #17470

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ: «أَنَّ رَجُلًا لَقِيَ امْرَأَةً كَانَتْ بَغِيًّا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، فَجَعَلَ يُلَاعِبُهَا حَتَّى بَسَطَ يَدَهُ إِلَيْهَا فَقَالَتْ: مَهْ، فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَذْهَبَ الشِّرْكَ - قَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: ذَهَبَ بِالْجَاهِلِيَّةِ، وَجَاءَ بِالْإِسْلَامِ، فَوَلَّى الرَّجُلُ فَأَصَابَ وَجْهَهُ الْحَائِطُ فَشَجَّهُ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: "" أَنْتَ عَبْدٌ أَرَادَ اللَّهُ بِكَ خَيْرًا، إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدٍ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُ عَيْرٌ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: «بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَهُوَ يُبَايِعُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، وَإِنِّي لَرَافِعٌ أَغْصَانَهَا عَنْ رَأْسِهِ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ يُسِيلُ وَجْهُهُ دَمًا، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَلَكْتُ، وَقَالَ: "" وَمَا أَهْلَكَكَ؟ ""، قَالَ: إِنِّي خَرَجْتُ مِنْ مَنْزِلِي فَإِذَا أَنَا بِامْرَأَةٌ فَأَتْبَعْتُهَا بَصَرِي فَأَصَابَ وَجْهِيَ الْجِدَارُ، فَأَصَابَنِي مَا تَرَى». وَالْبَاقِي بِنَحْوِهِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَكَذَلِكَ أَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah ibn Mughaffal, may Allah be pleased with him, reported that a man met a woman who had been immoral in Jahiliyyah and began flirting until he stretched his hand to her, but she said to stop, for Allah has removed polytheism and Jahiliyyah and brought Islam, so the man turned away, struck his face on a wall and cut it, then came to the Prophet ﷺ and informed him, whereupon he said he was a servant for whom Allah intended good, for when Allah intends good for a servant He hastens the punishment of his sin, and when He intends evil He withholds it until He recompenses him on the Day of Resurrection like Mount ʿAyr. > **"You are a servant for whom Allah intended good; when Allah intends good for a servant He hastens his punishment in this world, and when He intends evil He withholds it until the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کی ملاقات ایک ایسی عورت سے ہوئی ، جو زمانہ جاہلیت میں فاحشہ عورت تھی ، وہ شخص اس عورت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگا ، یہاں تک کے اس شخص نے اپنا ہاتھ اس عورت کی طرف بڑھایا ، تو اس عورت نے کہا : رُک جاؤ ! کیونکہ اللہ تعالیٰ نے شرک کو رخصت کر دیا ہے ۔ ( یہاں عفان نامی راوی نے ایک مرتبہ یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ) ۔ زمانہ جاہلیت رخصت ہو گیا ہے ، اور اسلام آ گیا ہے ، وہ شخص مڑ گیا ، اس کا چہرہ دیوار پر لگا اور وہ شخص زخمی ہو گیا ، پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم ایک ایسے بندے ہو ، کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے بارے میں بھلائی کا ارادہ کیا ہے ، جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کے گناہ کی سزا ، اسے جلدی ( یعنی دنیا میں ) ہی دے دیتا ہے ، اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں برائی کا ارادہ کر لے ، تو اسے اس کے گناہ پر روکے رکھتا ہے ، یہاں تک کہ قیامت کے دن اس کو اس کا پورا بدلہ دے گا ، اور وہ ’’ عیر ‘‘ نامی پہاڑ کی مانند ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ ہم نبی اکرم ﷺ کے ساتھ موجود تھے ، آپ درخت کے نیچے بیعت لے رہے تھے ، میں آپ کے سر سے درخت کی ٹہنیاں اٹھائے ہوئے تھا ، اسی دوران ایک شخص آیا ، جس کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں ہلاکت کا شکار ہو گیا ہوں ، نبی اکرم ﷺ نے دریافت کیا : تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کیا ہے ؟ اس نے بتایا : میں اپنے گھر سے نکلا ، تو میرا سامنا ایک عورت سے ہوا ، میری نگاہ مسلسل اسی پر مرکوز رہی ، یہاں تک کہ میرا چہرہ دیوار سے لگا اور مجھے وہ چوٹ لگ گئی ، جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں .......۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت ذکر کی ہے ۔ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، امام طبرانی کی دو اسانید میں سے ایک اسی طرح ہے ۔

17471

Majma al-Zawaid #17471

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسِيلُ وَجْهُهُ دَمًا فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَتْبَعْتُ بَصَرِي امْرَأَةً، فَلَقِيَنِي جِدَارٌ فَصَنَعَ بِي مَا تَرَى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ بِعَبْدِهِ خَيْرًا عَجَّلَ لَهُ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدِهِ شَرًّا أَمْسَكَ عَلَيْهِ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَأَنَّهُ عِيرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them, reported that a man came to the Prophet ﷺ with blood flowing from his face and said he had followed a woman with his gaze until a wall struck him, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said that when Allah intends good for His servant He hastens the punishment of his sin in this world, and when He intends evil He withholds it until the Day of Resurrection, when it will be like Mount ʿAyr. > **"When Allah intends good for His servant He hastens his punishment in this world, and when He intends evil He withholds his sin until the Day of Resurrection, when it will be like Mount ʿAyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا ، اس کے چہرے پر خون بہہ رہا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنی نگاہ ایک عورت پر مرکوز رکھی ہوئی تھی ، اسی دوران مجھے دیوار لگ گئی اور میرے ساتھ وہ ہوا ، جو آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ جب اپنے کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کے گناہ کی سزا اسے دنیا میں جلدی دے دیتا ہے ، اور جب کسی بندے کے بارے میں برائی کا ارادہ کر لے تو اس کے گناہ کو اس کے لیے روک لیتا ہے ، یہاں تک کہ قیامت کے دن وہ اس کو پورا بدلہ دے گا ، اور وہ ( گناہ ) ’’ عیر ‘‘ پہاڑ کی مانند ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن محمد بن عبیداللہ عرزمی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17472

Majma al-Zawaid #17472

وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ: «أَنَّ رَجُلًا مَرَّتْ بِهِ امْرَأَةٌ فَأَحْدَقَ بَصَرَهُ إِلَيْهَا، فَمَرَّ بِجِدَارٍ فَمَرَسَ وَجْهُهُ، فَأَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَوَجْهُهُ يُسِيلُ دَمًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا عَجَّلَ عُقُوبَةَ ذَنْبِهِ فِي الدُّنْيَا، وَإِذَا أَرَادَ بِهِ غَيْرَ ذَلِكَ أَمْهَلَ عَلَيْهِ بِذُنُوبِهِ حَتَّى يُوَافَى بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَأَنَّهُ عِيرٌ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAmmar ibn Yasir, may Allah be pleased with him, reported that a woman passed by a man who fixed his gaze upon her, then he passed by a wall which scraped his face, so he came to the Messenger of Allah ﷺ with blood flowing and confessed what he had done, whereupon the Messenger of Allah ﷺ said that when Allah intends good for a servant He hastens his punishment in this world, but when He intends otherwise He grants respite for his sins until they are fully recompensed on the Day of Resurrection, like Mount ʿAyr. > **"When Allah intends good for a servant He hastens his punishment in this world, and when He intends otherwise He grants him respite until the Day of Resurrection, when it will be like Mount ʿAyr."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کے پاس سے ، ایک عورت گزری ، وہ مسلسل اس عورت کی طرف دیکھتا رہا اس شخص کا گزر ایک دیوار کے پاس سے ہوا ( یعنی وہ شخص ایک دیوار سے ٹکرایا ) اور اس کا چہرہ زخمی ہو گیا ، جب وہ شخص نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو اس کے چہرے سے خون بہہ رہا تھا ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اس کام کا ارتکاب کیا ہے ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے بارے میں بھلائی کا ارادہ کر لے ، تو اس کے گناہ کی سزا دنیا میں اسے جلدی دے دیتا ہے ، اور جب کسی بندے کے بارے میں ، اس کے علاوہ ارادہ کرے تو اس کے گناہوں کے بارے میں اسے مہلت دیتا ہے ، یہاں تک کہ قیامت کے دن اُسے پورا بدلہ عطا کرے گا ، جو ’’ عیر ‘‘ پہاڑ کی مانند ہو گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17473

Majma al-Zawaid #17473

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «شَكَا نَبِيٌّ مِنَ الْأَنْبِيَاءِ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ: يَا رَبِّ، يَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ عَبِيدِكَ يُؤْمِنُ بِكَ، وَيَعْمَلُ بِطَاعَتِكَ، تَزْوِي عَنْهُ الدُّنْيَا، وَتَعْرِضُ لَهُ الْبَلَاءَ، وَيَكُونُ الْعَبْدُ مِنْ عَبِيدِكَ يَكْفُرُ بِكَ، وَيَعْمَلُ بِمَعَاصِيكَ، فَتَزْوِي عَنْهُ الْبَلَاءَ، وَتَعْرِضُ لَهُ الدُّنْيَا! فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ: إِنَّ الْعِبَادَ وَالْبِلَادَ لِي، وَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُنِي، وَيُهَلِّلُنِي، وَيُكَبِّرُنِي، فَأَمَّا عَبْدِي الْمُؤْمِنُ فَلَهُ سَيِّئَاتٌ فَأَزْوِي عَنْهُ الدُّنْيَا، وَأَعْرِضُ لَهُ الْبَلَاءَ ; حَتَّى يَأْتِيَنِي فَأَجْزِيَهُ بِحَسَنَاتِهِ، وَأَمَّا عَبْدِي الْكَافِرُ فَلَهُ حَسَنَاتٌ، فَأَزْوِي عَنْهُ الْبَلَاءَ، وَأَعْرِضُ لَهُ الدُّنْيَا ; حَتَّى يَأْتِيَنِي فَأَجْزِيهِ بِسَيِّئَاتِهِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ خُلَيْدٍ الْحَنَفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that a prophet complained to his Lord that a believing, obedient servant is denied the world and exposed to trials, while a disbelieving, disobedient servant is spared trials and given the world, so Allah revealed to him that all servants and lands belong to Him and all things glorify Him, and that the believing servant has sins for which his Lord withholds the world and sends trials so he comes with only good deeds to reward, while the disbelieving servant has good deeds for which his Lord withholds trials and spreads the world before him so he comes with only evil deeds to repay. > **"As for My believing servant who has sins, I withhold the world from him and send him trials until he comes to Me to be rewarded for his good deeds; and as for My disbelieving servant who has good deeds, I withhold trials from him and spread the world before him until he comes to Me to be repaid for his evil deeds."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ایک نبی نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے یہ کہا : اے میرے پروردگار ! تیرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہوتا ہے ، جو تجھ پر ایمان رکھتا ہے اور تیری اطاعت والے کام کرتا ہے ، اور تو اس سے دنیا کو دور کر دیتا ہے ، اور تو اس کو آزمائش میں مبتلا کر دیتا ہے ، جبکہ تیرا ایک اور بندہ ایسا ہوتا ہے ، جو تیرا کفر کرتا ہے ، تیری نافرمانی کے کام کرتا ہے ، لیکن تو اس سے آزمائش کو دور رکھتا ہے ، اور اس کے سامنے دنیا رکھ دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس نبی کی طرف یہ وحی کی : سارے بندے اور سارے شہر ( یعنی ساری دنیا ) میری ملکیت ہیں ، اور ہر چیز میری تسبیح یا تحلیل یا تکبیر بیان کرتی ہے ، جہاں تک میرے مومن بندے کا تعلق ہے ، تو اس کے کچھ گناہ ہوتے ہیں ، میں اس سے دنیا لپیٹ لیتا ہوں اور اس کے سامنے آزمائش ڈال دیتا ہوں ، یہاں تک کہ جب وہ میری بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو میں اس کی نیکیوں کا اسے بدلہ دے دوں گا ، جہاں تک میرے کافر بندے کا تعلق ہے ، تو اس کی کچھ اچھائیاں ہوتی ہیں ، تو میں اس سے آزمائش کو لپیٹ لیتا ہوں ، اور اس کے سامنے دنیا ڈال دیتا ہوں ، یہاں تک کہ جب وہ میری بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو میں اس کی برائیوں کا بدلہ اسے دوں گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن خلید خفی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17474

Majma al-Zawaid #17474

عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا كَثُرَتْ ذُنُوبُ الْعَبْدِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَا يُكَفِّرُهَا ; ابْتَلَاهُ اللَّهُ بِالْحُزْنِ لِيُكَفِّرَهَا عَنْهُ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

ʿA'ishah, may Allah be pleased with her, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that when a servant's sins multiply and he has nothing to expiate them, Allah afflicts him with grief in order to expiate them from him. > **"When a servant's sins multiply and he has nothing to expiate them, Allah afflicts him with grief to expiate them from him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بندے کے گناہ زیادہ ہو جائیں اور اس کا کوئی ایسا عمل نہ ہو ، جو ان گناہوں کا کفارہ بن سکتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کو غم میں مبتلا کر دیتا ہے ، تاکہ وہ غم اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17475

Majma al-Zawaid #17475

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّ أُمَّتِي مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرُونَ ""، قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنِ الْمُجَاهِرُونَ؟ قَالَ: "" الَّذِي يَعْمَلُ الْعَمَلَ بِاللَّيْلِ فَيَسْتُرُهُ رَبُّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - ثُمَّ يُصْبِحُ فَيَقُولُ: يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، فَيَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عَنْهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَوْنُ بْنُ عُمَارَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Qatadah al-Ansari, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that all his ummah will be pardoned except the open proclaimers, and when asked who they are, he said it is one who does a deed by night which his Lord covers, then in the morning says to someone that he did such-and-such last night, thereby uncovering Allah's covering from himself. > **"All my ummah will be pardoned except the open proclaimers: one who does a deed by night which his Lord covers, then in the morning says, O so-and-so, I did such-and-such last night, thereby uncovering Allah's covering from himself."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ میری ساری اُمت کو معافی مل جائے گی ، البتہ کھلے عام کرنے والوں کا معاملہ مختلف ہے ، عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کھلے عام کرنے والے لوگ کون ہیں ؟ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ شخص جو رات کے وقت کوئی ( برا ) عمل کرتا ہے ، اور اس کا پروردگار اس کی پردہ پوشی کر لیتا ہے ، لیکن وہ شخص صبح کے وقت اُٹھ کر یہ کہتا ہے : اے فلاں ! میں نے گزشتہ رات یہ عمل کیا تھا ، تو وہ شخص اپنے آپ سے ، اللہ تعالیٰ کے پردے کو ہٹا دیتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عون بن عمارہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17476

Majma al-Zawaid #17476

عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا فَعَيَّرَهُ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَبَحُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Musa, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ that no sin which Allah covers for a servant in this world will He use to disgrace him on the Day of Resurrection. > **"No sin which Allah covers for a servant in this world will He use to disgrace him on the Day of Resurrection."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں : ’’ جب اللہ تعالیٰ دنیا میں کسی بندے کے کسی گناہ کی پردہ پوشی کر لے ، تو قیامت کے دن ، وہ اس بندے کو اس گناہ کے حوالے سے شرمندگی کا شکار نہیں کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن سعید ابح ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17477

Majma al-Zawaid #17477

وَعَنْ عَلْقَمَةَ الْمُزَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا سَتَرَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ ذَنْبًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ.

EnglishUnverified translation

ʿAlqamah al-Muzani reported from his father that the Messenger of Allah ﷺ said that no sin which Allah covers for a servant in this world but Allah will cover it for him in the Hereafter. > **"No sin which Allah covers for a servant in this world but Allah will cover it for him in the Hereafter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

علقمہ مزنی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے کسی گناہ کی دنیا میں پردہ پوشی کرے ، تو آخرت میں بھی اس بندے کی اس ( گناہ ) کے حوالے سے پردہ پوشی کرے گا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17478

Majma al-Zawaid #17478

عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ، وَمَنْ لَا يَغْفِرُ لَا يُغْفَرُ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَتُبْ لَمْ يُتَبْ عَلَيْهِ»، قُلْتُ: فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ: «مَنْ لَمْ يَتُبْ لَمْ يُتَبْ عَلَيْهِ». وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Jabir, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever does not show mercy will not be shown mercy, whoever does not forgive will not be forgiven, and whoever does not repent will not be turned to. > **"Whoever does not show mercy will not be shown mercy; whoever does not forgive will not be forgiven; and whoever does not repent will not be turned to."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت جریر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو رحم نہیں کرتا ، اس پر رحم نہیں کیا جاتا ، جو معاف نہیں کرتا ، اس کی مغفرت نہیں ہوتی ، جو توبہ نہیں کرتا اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی ۔‘‘ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ صحیح ‘‘ میں اس روایت کا ایک حصہ مذکور ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام احمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں یہ الفاظ ہیں :” جو توبہ نہیں کرتا اس کی توبہ قبول نہیں ہوتی ۔‘‘ امام احمد کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17479

Majma al-Zawaid #17479

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ لَا يَرْحَمُ لَا يُرْحَمُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَأَحَدُهُمَا حَسَنٌ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ صَحِيحَةٌ فِي الرَّحْمَةِ، فِي الْبِرِّ وَالصِّلَةِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that whoever does not show mercy will not be shown mercy. > **"Whoever does not show mercy will not be shown mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جو رحم نہیں کرتا ، اُس پر رحم نہیں کیا جاتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، اور ان دونوں میں سے ایک حسن ہے ، یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس موضوع سے متعلق کچھ صحیح احادیث نیکی اور صلہ رحمی سے متعلق کتاب میں ، رحمت سے متعلق باب میں گزر چکی ہیں ۔

17480

Majma al-Zawaid #17480

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اسْمَحْ يُسْمَحْ لَكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ مَهْدِيِّ بْنِ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيِّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ. وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbas, may Allah be pleased with them, reported that the Messenger of Allah ﷺ said to show leniency and leniency will be shown to you. > **"Show leniency and leniency will be shown to you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم مہربانی کرو ! تم پر مہربانی کی جائے گی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے اپنے استاد مہدی بن جعفر رملی کے حوالے سے نقل کی ہے ، اس کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور اس کے بارے میں کلام بھی کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17481

Majma al-Zawaid #17481

عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تُنْزِلُوا عِبَادِيَ الْعَارِفِينَ، الْمُوَحِّدِينَ، الْمُذْنِبِينَ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّذِي أُنْزِلُهُمْ بِعِلْمِي فِيهِمْ، وَلَا تَكَلَّفُوا مِنْ ذَلِكَ مَا لَمْ تُكَلَّفُوا، وَلَا تُحَاسِبُوا الْعِبَادَ دُونَ رَبِّهِمْ - عَزَّ وَجَلَّ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ نُفَيْعُ بْنُ الْحَارِثِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

Zayd ibn Arqam, may Allah be pleased with him, reported that the Messenger of Allah ﷺ said, conveying from Allah, not to place His knowing, monotheist, sinful servants in Paradise or Hell until He Himself places them according to His knowledge of them, nor to take upon themselves what was not imposed, nor to judge servants instead of their Lord, Mighty and Majestic. > **"Do not place My knowing, monotheist, sinful servants in Paradise or Hell until I place them according to My knowledge; do not take on what was not imposed on you, and do not judge servants instead of their Lord."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ ( اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ) تم لوگ میرے ان بندوں کو جو عارف ہیں ، توحید کے قائل ہیں اور گناہگار ہیں ، انہیں جنت یا جہنم میں نہ ٹھہراؤ ! یہاں تک کہ میں اُن کے بارے میں اپنے علم کے مطابق انہیں ٹھہراؤں گا ، اور تم اس حوالے سے اس چیز کا خود کو پابند نہ بناؤ ، جس کا تمہیں مکلف نہیں کیا گیا ہے ، اور لوگوں کے پروردگار کو چھوڑ کر اُن لوگوں کو محاسبہ نہ کرو ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی نفیع بن حارث ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17482

Majma al-Zawaid #17482

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتِ الْمُوجِبَاتُ مِثْلَ قَوْلِهِ: {إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا} [النساء: 10]، وَمِثْلَ قَوْلِهِ: {الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا} [البقرة: 275]، وَمِثْلَ قَوْلِهِ: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ} [النساء: 93]، قَالَ: كُنَّا نَشْهَدُ عَلَى مَنْ فَعَلَ شَيْئًا مِنْ هَذَا أَنَّهُ فِي النَّارِ، فَلَمَّا نَزَلَ قَوْلُهُ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ} [النساء: 48] كَفَفْنَا عَنِ الشَّهَادَةِ، وَخِفْنَا عَلَيْهِمْ بِمَا أَوْجَبَهُ اللَّهُ لَهُمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو عِصْمَةَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them, reported that when decisive verses were revealed, such as those concerning devouring orphans' wealth unjustly, devouring usury, and intentionally killing a believer whose recompense is Hell, they used to testify that whoever did any of these was in the Fire, but when Allah revealed that He does not forgive shirk but forgives less than that for whom He wills, they refrained from testifying and both hoped and feared for them because of what Allah had made binding. > **"We used to testify that whoever did these deeds was in the Fire, until Allah revealed that He does not forgive shirk but forgives less than that for whom He wills, so we refrained and hoped for them and feared for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب واجب کرنے والی آیات نازل ہوئیں ، جیسے یہ آیت ہے : ’’ بے شک وہ لوگ جو یتیموں کا مال ظلم کے طور پر کھاتے ہیں ۔‘‘ یا یہ آیت ہے :” وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں ۔‘‘ یا یہ آیت ہے :” اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر دے گا تو اس کا بدلہ جہنم ہو گا ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم لوگ یہ گواہی دیا کرتے تھے کہ جو شخص ان میں سے کسی کام کا ارتکاب کر لے گا ، وہ جہنم میں جائے گا ، یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے ، اس کے علاوہ وہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : تو اس کے بعد ہم گواہی دینے سے رک گئے اور ہم ان لوگوں کے حوالے سے اندیشے کا شکار ہو گئے اس چیز کی وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے واجب قرار دی ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعصمہ ہے اور وہ متروک ہے ۔

17483

Majma al-Zawaid #17483

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: كُنَّا نَقُولُ لِقَاتِلِ الْمُؤْمِنِ إِذَا مَاتَ: إِنَّهُ فِي النَّارِ، وَنَقُولُ لِمَنْ أَصَابَ كَبِيرَةً ثُمَّ مَاتَ عَلَيْهَا: إِنَّهُ فِي النَّارِ، حَتَّى أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48] فَلَمْ نُوجِبْ لَهُمْ، كُنَّا نَرْجُو لَهُمْ وَنَخَافُ عَلَيْهِمْ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، وَهُوَ مَجْهُولٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَرَوَاهُ بِإِسْنَادٍ آخَرَ فِيهِ عُمَرُ بْنُ بُرَيْدَةَ السَّيَّارِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ الزَّنْجِيِّ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿUmar, may Allah be pleased with them, reported that they used to say of the killer of a believer who died, and of one who committed a major sin and died upon it, that he was in the Fire, until the verse that Allah does not forgive shirk but forgives less than that for whom He wills was revealed, after which they no longer declared it binding but hoped for them and feared for them. > **"We used to say the killer and the major sinner who died upon it were in the Fire, until Allah revealed that He forgives less than shirk for whom He wills, so we hoped for them and feared for them."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ہم مومن کو قتل کرنے والے شخص کے بارے میں یہ کہا کرتے تھے کہ جب وہ مر جائے گا تو جہنم میں جائے گا اور جو شخص کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو اور پھر وہ اسی حال میں مر جائے ، اس کے بارے میں ہم یہ کہتے تھے کہ وہ جہنم میں جائے گا ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس چیز کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے ، اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ۔ راوی کہتے ہیں : تو ہم ان لوگوں کے لئے کوئی چیز واجب نہیں کرتے تھے اور ہم ان کے لیے امید رکھتے تھے اور ان کے بارے میں اندیشے کا بھی شکار تھے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن مغیرہ ہے اور وہ مجہول ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، انہوں نے اس کو ایک اور سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ، جس میں ایک راوی عمر بن بریدہ سیاری ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس کے حوالے سے یہ روایت مسلم بن خالد زنگی سے منقول ہے جس کی توثیق کی گئی ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

17484

Majma al-Zawaid #17484

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كُنَّا نُوجِبُ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى نَزَلَتْ: {إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ} [النساء: 48] قَالَ: فَنَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نُوجِبَ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُوَحِّدِينَ النَّارَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ أَبُو رَجَاءٍ الْكَلْبِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah, may Allah be pleased with him, reported that they used to declare the people of major sins bound for Hell until Allah revealed that He does not forgive shirk but forgives less than that for whom He wills, whereupon the Messenger of Allah ﷺ forbade them to declare any of the monotheists bound for the Fire. > **"We used to declare the people of major sins bound for Hell until this verse was revealed, so the Messenger of Allah ﷺ forbade us to declare any monotheist bound for the Fire."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ، وہ فرماتے ہیں : ’’ ہم کبیرہ گناہ کے مرتکبین افراد کے لئے ( یعنی جہنم ) واجب قرار دیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہو گئی : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس چیز کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک ٹھہرایا جائے ، اس کے علاوہ وہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا ۔‘‘ راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس بات سے منع کر دیا کہ ہم توحید کے قائل افراد میں سے کسی ایک کے لئے جہنم کو واجب قرار دیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابورجاء کلبی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17485

Majma al-Zawaid #17485

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ يُصَلِّي، فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَوَطِئَ عَلَى رَقَبَتِهِ، فَقَالَ الَّذِي تَحْتَهُ: وَاللَّهِ، لَا يُغْفَرُ لَكَ أَبَدًا، فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ: تَأَلَّى عَلَيَّ عَبْدِي أَنْ لَا أَغْفِرَ لِعَبْدِي ; فَإِنِّي قَدْ غَفَرْتُ لَهُ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah — meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him — reported from the Prophet ﷺ that a man was praying when another came and stepped on his neck, so the one beneath said that by Allah he would never be forgiven, whereupon Allah, Mighty and Majestic, said that His servant had sworn upon Him that He would not forgive His servant, yet He had forgiven him. > **"My servant swore upon Me that I would not forgive My servant, yet I have forgiven him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ ایک شخص نماز ادا کر رہا تھا ، ایک اور شخص اس کے پاس آیا ، اور اس نے اس کی گردن پر پاؤں رکھ دیا ، تو جو شخص پاؤں کے نیچے تھا اس نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ تعالی تمہاری کبھی مغفرت نہیں کرے گا ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے میرے بارے میں یہ قسم اٹھائی ہے کہ میں اپنے دوسرے بندے کی مغفرت نہیں کروں گا ؟ میں نے اس کی مغفرت کر دی ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، ان دونوں میں سے ایک کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17486

Majma al-Zawaid #17486

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: لَا تَعْجَلُوا بِمَدْحِ النَّاسِ وَلَا بِذَمِّهِمْ ; فَإِنَّكَ أَوْ لَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْ أَخِيكَ شَيْئًا الْيَوْمَ يُعْجِبُكَ لَعَلَّهُ أَنْ يَسُوءَكَ غَدًا، وَلَعَلَّكَ أَنْ تَرَى مِنْهُ الْيَوْمَ شَيْئًا يَسُوءُكَ لَعَلَّهُ يُعْجِبُكَ غَدًا، وَإِنَّ النَّاسَ يَغْتَرُّونَ، وَإِنَّمَا يَغْفِرُ اللَّهُ الذُّنُوبَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَاللَّهُ أَرْحَمُ بِعَبْدِهِ يَوْمَ يَلْقَاهُ مِنْ أُمِّ وَاحِدٍ فَرَشَتْ لَهُ بِأَرْضِ فَيْءٍ ثُمَّ لَمَسَتْ، فَإِنْ كَانَتْ شَوْكَةٌ كَانَتْ بِهَا قَبْلَهُ، وَإِنْ كَانَتْ لَدْغَةٌ كَانَتْ بِهَا قَبْلَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ. قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي بَابِ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah — meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him — said not to rush to praise people or blame them, for one may see something pleasing in his brother today that displeases him tomorrow, and vice versa, for people are deceived; Allah forgives sins on the Day of Resurrection, and Allah is more merciful to His servant on the day he meets Him than a mother who spreads a bed for her child in the shade then feels it first, so that any thorn or sting strikes her before him. > **"Do not rush to praise or blame people; Allah is more merciful to His servant on the day he meets Him than a mother who feels the bed lest any thorn strike her child before her."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے ، یا اُن کی مذمت کرتے ہوئے جلدبازی سے کام نہ لو ! کیونکہ یہ ہو سکتا ہے کہ آج تمہیں اپنے بھائی کی طرف سے کوئی ایسی چیز نظر آ رہی ہو ، جو تمہیں اچھی لگ رہی ہو ، اور یہ ہو سکتا ہے کہ کل وہ تمہیں بری لگے ، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمہیں آج اس کی طرف سے کوئی چیز بری لگ رہی ہو ، اور کل کو وہ اچھی لگنے لگے ، لوگ غلط فہمی کا شکار ہو جاتے ہیں اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ گناہوں کی مغفرت کر دے گا ، جب بندہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر اس سے زیادہ مہربان ہو گا ، جتنا کسی شخص کی ماں مہربان ہوتی ہے ، جو زمین پر اپنے بچے کے لیے بچھونا بچھاتی ہے ، اور پھر اس پر ہاتھ پھیر کر دیکھتی ہے کہ اگر اس میں کوئی کانٹا ہو ، تو وہ بچے سے پہلے اُس کے ہاتھ پہ لگ جائے ، اور اگر کوئی ڈنک مارنے والا جانور ہو ، تو وہ بچے سے پہلے اُسے ڈنک مار لے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس بارے میں کچھ احادیث آگے چل کر کبیرہ گناہ کے مرتکب افراد کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے متعلق باب میں آئیں گی ۔

17487

Majma al-Zawaid #17487

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - «أَنَّ رَجُلًا لَمْ يَعْمَلْ مِنَ الْخَيْرِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ لِأَهْلِهِ: إِذَا أَنَا مُتُّ فَخُذُونِي فَأَحْرِقُونِي حَتَّى تَدَعُونِي حُمَمَةً، ثُمَّ اطْحَنُونِي، ثُمَّ ذُرُّونِي فِي الْبَحْرِ فِي يَوْمٍ رَاحٍ، قَالَ: فَفَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَخَافَتُكَ، قَالَ: فَغَفَرَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُ».

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah — meaning Ibn Masʿud, may Allah be pleased with him — reported that a man who had never done any good at all except tawhid, when death came to him, told his family to take him, burn him until he became coal, grind him, and scatter him in the sea on a windy day, which they did, and he found himself in the grasp of Allah, Mighty and Majestic, Who asked what carried him to do what he did, and he replied fear of Him, so Allah forgave him. > **"What carried you to do what you did? Fear of You. Then Allah forgave him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ’’ ایک شخص تھا ، جس نے کبھی کوئی بھلائی نہیں کی تھی ، البتہ وہ توحید کا قائل تھا ، جب اس کا آخری وقت قریب آیا ، تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا : جب میں مر جاؤں ، تو تم میری لاش لے کر مجھے جلا دینا اور مجھے کوئلہ بنا دینا ، پھر مجھے پیس دینا اور پھر جس دن تیز ہوا چل رہی ہو اس دن مجھے دریا میں بہا دینا ، اس کے گھر والوں نے ایسا ہی کیا ، پھر وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہوا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس سے دریافت کیا : تم نے جو کیا تھا ، ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا : تیرے خوف کی وجہ سے ، تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مغفرت کر دی ۔‘‘

17488

Majma al-Zawaid #17488

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ بِمِثْلِهِ. رَوَاهُمَا أَحْمَدُ، وَرِجَالُ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَإِسْنَادُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ the like of the preceding narration about the man who instructed his family to burn and scatter him. > **"Like the preceding narration of the man who feared Allah and instructed his family to burn and scatter him."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔ یہ دونوں روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ والی روایت کی سند حسن ہے ۔

17489

Majma al-Zawaid #17489

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ لِأَهْلِهِ: إِنْ فَعَلْتُمْ مَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ، أَوْرَثْتُكُمْ مَالًا كَثِيرًا، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: إِذَا مُتُّ فَأَحْرِقُونِي، ثُمَّ اطْحَنُونِي، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ رِيحٍ فَارْتَقُوا فَوْقَ قُلَّةِ جَبَلٍ فَذَرُونِي ; فَإِنَّ اللَّهَ إِنْ قَدَرَ عَلِيَّ لَمْ يَغْفِرْ لِي، فَفُعِلَ ذَلِكَ بِهِ، فَاجْتَمَعَ فِي يَدَيِ اللَّهِ فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: يَا رَبِّ، مَخَافَتُكَ، قَالَ: فَاذْهَبْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكَ».

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah, may Allah be pleased with him, reported that a man of great wealth, when death came to him, told his family that if they did as he commanded he would bequeath them much wealth, and they agreed, so he commanded that when he died they burn him, grind him, and on a windy day climb a mountaintop and scatter him, for if Allah seized him He would not forgive him; this was done to him, he was gathered into the hand of Allah Who asked what carried him to do it, and he replied fear of his Lord, so He said to go, for He had forgiven him. > **"O my Lord, fear of You. Go, for I have forgiven you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص تھا ، جس کے پاس بہت سا مال تھا ، جب اس کی موت کا وقت قریب آیا ، تو اس نے اپنے اہل خانہ سے کہا : میں تمہیں ، جو حکم دوں گا ، اگر تم ویسا کرو گے تو میں تمہیں بہت سا مال دوں گا ، اہل خانہ نے کہا : ٹھیک ہے ، اس نے کہا : جب میں مر جاؤں ، تو تم مجھے جلا دینا پھر تم مجھے پیس دینا ، پھر جب ہوا چل رہی ہو ، تو تم پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ جانا اور مجھے اُڑا دینا ، کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے تنگی کا شکار کیا ، تو وہ میری مغفرت نہیں کرے گا ، اس کی لاش کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ، پھر اس کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم نے ایسا کیوں کیا ؟ اس شخص نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ، تو پروردگار نے فرمایا : تم جاؤ ! میں نے تمہاری مغفرت کر دی ہے ۔‘‘

17490

Majma al-Zawaid #17490

وَفِي رِوَايَةٍ: «وَكَانَ الرَّجُلُ نَبَّاشًا فَغُفِرَ لَهُ لِخَوْفِهِ». رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِسَنَدَيْنِ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

In one narration, the man was a grave-robber, and he was forgiven on account of his fear of Allah. > **"He was a grave-robber, and he was forgiven on account of his fear."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں :” ایک شخص کفن چور تھا ، تو اس کے خوف کی وجہ سے اس کی مغفرت ہو گئی ۔‘‘ یہ روایت امام ابویعلیٰ نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17491

Majma al-Zawaid #17491

وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَوَقَعَ فِي يَدِ اللَّهِ فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى الَّذِي صَنَعْتَ؟ قَالَ: مَخَافَتُكَ، قَالَ: قَدْ غَفَرْتُ لَكَ». وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَرَوَى بَعْضَهُ مَرْفُوعًا أَيْضًا بِإِسْنَادٍ مُتَّصِلٍ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي الزَّعْرَاءِ، وَهُوَ ثِقَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullah reported that the Messenger of Allah ﷺ said the man fell into the hand of Allah, Who asked what carried him to do what he did, and he replied fear of Him, so He said He had forgiven him. > **"What carried you to do what you did? Fear of You. I have forgiven you."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے تاہم انہوں نے اس کے آخر میں یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ’’ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تو وہ شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوا ، اللہ تعالیٰ نے دریافت کیا : تم نے جو کیا ، ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا : تیرے خوف کی وجہ سے ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے تمہاری مغفرت کر دی ۔‘‘ اس روایت کی سند منقطع ہے ۔ انہوں نے اس روایت کا کچھ حصہ متصل سند کے ساتھ مرفوع روایت کے طور پر بھی نقل کیا ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابوزعراء کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔

17492

Majma al-Zawaid #17492

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «كَانَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ، فَلَمَّا احْتُضِرَ قَالَ لِأَهْلِهِ: انْظُرُوا إِذَا أَنَا مُتُّ أَنْ يَحْرِقُوهُ حَتَّى يَدْعُوَهُ حُمَمًا، ثُمَّ اطْحَنُوهُ، ثُمَّ اذْرُوهُ فِي يَوْمٍ رَاحَ، فَلَمَّا مَاتَ فَعَلُوا بِهِ ذَلِكَ، فَإِذَا هُوَ فِي قَبْضَةِ اللَّهِ، فَقَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: أَيْ رَبِّ، مَخَافَتُكَ، قَالَ: فَغَفَرَ لَهُ بِهَا، وَلَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ إِلَّا التَّوْحِيدَ». قُلْتُ: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ غَيْرَ قَوْلِهِ: "" إِلَّا التَّوْحِيدَ "". رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُ سَنَدِ أَبِي هُرَيْرَةَ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي سَنَدِ ابْنِ سِيرِينَ مَنْ لَمْ يُسَمَّ.

EnglishUnverified translation

Abu Hurayrah, may Allah be pleased with him, reported from the Prophet ﷺ, and likewise Ibn Sirin reported from the Prophet ﷺ, that a man among those before them had never done any good at all except tawhid, and when dying told his family to burn him until coal, grind him, and scatter him on a windy day, which they did upon his death, and he found himself in the grasp of Allah, Who said, O son of Adam, what carried you to do what you did? He replied, O my Lord, fear of You, so He forgave him thereby, though he had done no good at all except tawhid. > **"O son of Adam, what carried you to do what you did? O my Lord, fear of You. Then He forgave him for it."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں ، حسن بصری اور ابن سیرین نے بھی ، نبی اکرم ﷺ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ، آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سے پہلے کے زمانے میں ایک شخص تھا ، جس نے کبھی کوئی بھلائی کا کام نہیں کیا تھا ، البتہ وہ توحید کا قائل تھا ، جب اس کا آخری وقت قریب آیا ، تو اس نے اپنے گھر والوں سے کہا : ہم اس بات کا خیال رکھنا کہ جب میں مر جاؤں ، تو تم لوگ مجھے جلا دینا ، یہاں تک کہ کوئلہ بنا دینا ، پھر مجھے پیسں دینا اور پھر ہوا والے دن میں مجھے اُڑا دیا ، جب وہ شخص مر گیا تو گھر والوں نے اس کے ساتھ ایسا ہی کیا ، پھر اسے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کیا گیا ، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے ابن آدم ! تم نے جو کیا ، ایسا کیوں کیا ؟ اس نے عرض کی : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو پروردگار نے فرمایا : میں نے اس کی مغفرت کر دی ۔‘‘ حالانکہ اس شخص نے توحید کے علاوہ کبھی کوئی بھلائی نہیں کی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ حدیث ’’ صحیح ‘‘ میں مذکور ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں :’’ توحید کے علاوہ ......‘‘۔ یہ تمام روایات امام احمد نے نقل کی ہیں ، اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، جبکہ ابن سیرین کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

17493

Majma al-Zawaid #17493

وَعَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ حَيْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «إِنَّهُ كَانَ عَبْدٌ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، أَعْطَاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مَالًا وَوَلَدًا، وَكَانَ لَا يَدِينُ اللَّهَ دِينًا، فَبَقِيَ حَتَّى ذَهَبَ عُمْرٌ، وَبَقِيَ عُمْرٌ يُذْكَرُ، فَعَلِمَ أَنَّهُ لَمْ يَبْتَئِرْ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - خَيْرًا، دَعَا بَنِيهِ فَقَالَ: يَا بَنِيَّ، أَيَّ أَبٍ تَعْلَمُونِي؟ قَالُوا: خَيْرَهُ يَا أَبَانَا، قَالَ: وَاللَّهِ، لَا أَدَعُ عِنْدَ رَجُلٍ مِنْكُمْ مَالًا هُوَ مِنِّي إِلَّا أَنَا آخِذُهُ مِنْهُ، أَوْ لَتَفْعَلُنَّ مَا آمُرُكُمْ بِهِ، قَالَ: فَأَخَذَ مِنْهُمْ مِيثَاقًا قَالَ: أَمَا لَا فَإِذَا مُتُّ فَخُذُونِي فَأَلْقُونِي فِي النَّارِ، حَتَّى إِذَا كُنْتُ حُمَمًا فَذُرُّونِي "، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِهِ كَأَنَّهُ يَقُولُ: " اسْحَقُونِي، ثُمَّ أَذْرُونِي فِي الرِّيحِ لَعَلِّي أَضِلُّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ "، قَالَ: " فَفُعِلَ بِهِ ذَلِكَ وَرَبِّ مُحَمَّدٍ حِينَ مَاتَ، قَالَ: فَجِيءَ بِهِ أَحْسَنَ مَا كَانَ، فَعُرِضَ عَلَى رَبِّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَقَالَ: مَا حَمَلَكَ عَلَى النَّارِ؟ قَالَ: خَشْيَتُكَ يَا رَبَّاهُ، قَالَ: إِنِّي لَأَسْمَعُكَ كَرَاهِيَةً "، قَالَ يَزِيدُ: " أَسْمَعُكَ رَاهِبًا، فَتِيبَ عَلَيْهِ».

EnglishUnverified translation

Muʿawiyah ibn Haydah, may Allah be pleased with him, heard the Messenger of Allah ﷺ say that a servant of Allah whom Allah had given wealth and children, yet who kept no religion for Allah, lived until his life was nearly gone, realised he had stored no good with Allah, called his sons and asked what kind of father they knew him to be, and they said the best father, so he swore he would take back every wealth of his with them unless they did as he commanded, took their covenant, and commanded that when he died they cast him into fire until coal, then grind and scatter him in the wind so he might escape Allah; this was done to him after his death, he was brought forth in the best form and presented to his Lord, Who asked what carried him to the fire, and he replied fear of his Lord, so his repentance was accepted. > **"What carried you to the fire? Fear of You, O my Lord. Then his repentance was accepted."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم ﷺ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ’’ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے ایک بندہ تھا ، جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد عطا کئے ہوئے تھے ، لیکن وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کوئی کام نہیں کرتا تھا ، وہ اسی طرح کرتا رہا ، یہاں تک کہ اس کی عمر رخصت ہو گئی ، جب اس کا آخری وقت قریب آیا ، تو اسے یہ خیال آیا کہ اس نے تو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کوئی بھلائی پیش ہی نہیں کی ہے ، اس نے اپنے بیٹوں کو بلایا اور بولا : اے میرے بیٹو ! تم مجھے کیسا باپ جانتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : آپ ہمارے بہترین باپ ہیں ، اس نے کہا : اللہ کی قسم ! تم میں سے جس کے پاس بھی میرا جو مال ہے ، وہ میں تم سے واپس لے لوں گا ، یا پھر یہ ہے کہ تم نے وہ کرنا ہے جو میں تمہیں حکم دوں گا ، پھر اس نے ان بچوں سے پختہ عہد لیا اور یہ کہا : میں مر جاؤں ، تو تم میری لاش لے کر مجھے آگ میں ڈال دینا ، یہاں تک کہ جب میں کوئلہ بن جاؤں تو تم مجھے اُڑا دینا ، راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک اپنے زانوں پر رکھ کر یہ فرمایا : تم مجھے پیس دینا اور اُڑا دینا ، تاکہ میں اللہ تعالیٰ سے بچ سکوں ، اس کے ساتھ ایسا ہی کیا گیا ، رب محمد کی قسم ہے ! جب وہ مر گیا ، تو اسے پہلے سے زیادہ اچھی شکل و صورت ( شاید اچھی جسمانی حالت مراد ہے ) میں لایا گیا ، اور اس کے پروردگار کے سامنے پیش کیا گیا ، تو پروردگار نے دریافت کیا : تم آگ میں کیوں گئے ؟ اس نے جواب دیا : اے میرے پروردگار ! تیرے خوف کی وجہ سے ، پروردگار نے فرمایا : میں نے سنا کہ تم اس بات کو ناپسند کرتے ہو ۔ ( یہاں یزید نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ) میں نے تمہیں سنا کہ تم بچنا چاہتے تھے ، تو اس کی توبہ قبول کر لی گئی ۔‘‘

17494

Majma al-Zawaid #17494

وَفِي رِوَايَةٍ قَالَ: «يَا ابْنَ آدَمَ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ؟ قَالَ: مِنْ مَخَافَتِكَ، قَالَ: فَتَلَقَّاهُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - بِهَا». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

In one narration, the Lord said, O son of Adam, what carried you to do what you did? He replied, out of fear of You, so Allah, Mighty and Majestic, met him with forgiveness thereby. > **"O son of Adam, what carried you to do what you did? Out of fear of You. Then Allah met him with forgiveness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ پروردگار نے فرمایا : اے ابن آدم ! تم نے جو کیا ایسا کیوں کیا ؟ اس نے جواب دیا : تیرے خوف کی وجہ سے ، نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو پروردگار نے اُس ( یعنی مغفرت ) کے ہمراہ اُس سے ملاقات کی ۔‘‘ یہ روایت امام احمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم صغیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، امام احمد کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔