Muslim99Muslim99

Majma al-Zawaid · Book 41 · Chapter 7

Book of Supplications

Hadith 17431–17454

24 hadiths in this chapter

The Arabic is the original text. The Urdu and English translations come from the open Hadith API (Toon) dataset and haven't been checked against a published translation — some are machine-translated, so rely on the Arabic for exact wording.

17431

Majma al-Zawaid #17431

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَبْرَةَ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ إِذَا أَصْبَحَ قَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَعْظَمِ عِبَادِكَ نَصِيبًا فِي كُلِّ خَيْرٍ تَقْسِمُهُ الْغَدَاةَ، وَنُورًا يَهْدِي، وَرَحْمَةً تَنْشُرُهَا، وَرِزْقًا تَبْسُطُهُ، وَضُرًّا تَكْشِفُهُ، وَبَلَاءً تَرْفَعُهُ، وَفِتْنَةً تَصْرِفُهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Sabra reported that ʿAbdullāh ibn ʿUmar رضي الله عنهما, when he entered morning, used to say a supplication asking to be among the greatest of His servants in share of every morning-apportioned good, guiding light, spread mercy, extended provision, removed harm, lifted trial, and averted fitna. > **"O Allah, make me among the greatest of Your servants in share of every good You apportion in the morning, light that guides, mercy You spread, provision You extend, harm You remove, trial You lift, and fitna You turn away."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن سبرہ بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما صبح کے وقت یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنْ أَعْظَمِ عِبَادِكَ نَصِيبًا فِي كُلِّ خَيْرٍ تَقْسِمُهُ الْغَدَاةَ، وَنُورًا يَهْدِي، وَرَحْمَةً تَنْشُرُهَا، وَرِزْقًا تَبْسُطُهُ، وَضُرًّا تَكْشِفُهُ، وَبَلَاءً تَرْفَعُهُ، وَفِتْنَةً تَصْرِفُهَا» ’’ اے اللہ ! صبح تو جو بھلائی تقسیم کرے گا اور جو نور عطا کرے گا اور جو رحمت پھیلائے گا اور جو رزق بانٹے گا اور جو مشکل دور کرے گا اور جو آزمائش اُٹھا لے گا اور جس فتنے کو پھیر دے گا ، ان ( سب ) میں سے ہر ایک بھلائی میں ، میرا حصہ سب سے زیادہ رکھنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17432

Majma al-Zawaid #17432

وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، أَنْ تَجْعَلَنِي فِي حِرْزِكَ، وَحِفْظِكَ، وَجِوَارِكَ، وَتَحْتَ كَنَفِكَ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Saʿīd ibn Jubayr reported that Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما used to say a supplication asking by the light of His Face by which heavens and earth shine, to be placed in His refuge, protection, neighbourhood, and beneath His shelter. > **"O Allah, I ask You by the light of Your Face by which the heavens and the earth shine, to place me in Your refuge, Your protection, Your neighbourhood, and beneath Your shelter."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِنُورِ وَجْهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، أَنْ تَجْعَلَنِي فِي حِرْزِكَ، وَحِفْظِكَ، وَجِوَارِكَ، وَتَحْتَ كَنَفِكَ» ’’ اے اللہ ! میں تیری ذات کے نور کے وسیلے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں ، جس نور کی وجہ سے آسمان اور زمین روشن ہیں ( میں یہ سوال کرتا ہوں : ) تو مجھے اپنی امان ، حفاظت اور پناہ میں اور اپنے کرم کے سائے میں رکھنا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17433

Majma al-Zawaid #17433

وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ رُوَيْمٍ، عَنِ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ - وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَكَانَ يُحِبُّ أَنْ يُقْبَضَ - كَانَ يَدْعُو: اللَّهُمَّ كَبُرَتْ سِنِّي، وَرَقَّ عَظْمِي، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا يَوْمًا فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ، إِذَا فَتًى شَابٌّ مِنْ أَجْمَلِ الرِّجَالِ وَعَلَيْهِ دَوَّاحٌ أَخْضَرُ فَقَالَ: مَا هَذَا الَّذِي تَدْعُو بِهِ؟ فَقُلْتُ: كَيْفَ أَدْعُو يَا ابْنَ أَخِي؟ قَالَ: قُلِ: اللَّهُمَّ حَسُنَ الْعَمَلُ، وَبَلَغَ الْأَجَلُ، قُلْتُ: مَنْ أَنْتَ - يَرْحَمُكَ اللَّهُ؟ قَالَ: أَنَا رِيبَائِيلُ الَّذِي يَسُلُّ الْحُزْنَ مِنْ قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَعُرْوَةُ، وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَسَعِيدُ بْنُ مِقْلِاصٍ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

ʿUrwa ibn Ruwaym reported from al-ʿIrbāḍ ibn Sāriya رضي الله عنه, an aged Companion who loved to be taken in death and used to supplicate for seizure on account of old age and frail bones; while in the mosque of Damascus a handsome youth in green asked what he supplicated, instructed him to say a better wording of good deed and reached term, and when asked who he was, said he was Rībail who removes sorrow from believers' hearts. > **"O Allah, the deed is good and the term has reached."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عروہ بن رویم نے ، حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ روایت نقل کی ہے ، جو نبی اکرم ﷺ کے اصحاب میں سے عمر رسیدہ افراد میں سے ایک تھے ، ان کی یہ خواہش تھی کہ ان کا انتقال ہو جائے ، وہ یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ كَبُرَتْ سِنِّي، وَرَقَّ عَظْمِي، فَاقْبِضْنِي إِلَيْكَ» ’’ اے اللہ ! میری عمر زیادہ ہو گئی ہے ، میری ہڈیاں کمزور ہو گئی ہیں ، تو مجھے اپنی طرف بلا لے ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : ایک دن میں مسجد دمشق میں موجود تھا ، اسی دوران ایک نوجوان جو بہت خوبصورت تھا اور اس کے جسم پر سبز لباس تھا ، اس نے کہا : آپ یہ کیا دعا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے کہا : اے میرے بھتیجے ! پھر میں کیا دعا کروں ؟ اس نے کہا : آپ یہ کہیں : «اللَّهُمَّ حَسُنَ الْعَمَلُ، وَبَلَغَ الْأَجَلُ» ’’ اے اللہ ! تو عمل کو اچھا کر دے اور اجل ( یعنی موت ) تک پہنچا دے ۔‘‘ میں نے کہا : تم کون ہو ؟ اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اس نے کہا : میں ’’ ریبائیل ‘‘ ہوں ، جو اہل ایمان کے دلوں سے غم کو دور کرتا ہے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور عروہ نامی راوی کو ایک سے زیادہ افراد نے ثقہ قرار دیا ہے اور سعید بن مقلاص نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17434

Majma al-Zawaid #17434

وَعَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: {إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا} [مريم: 87] قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ: مَنْ كَانَ لَهُ عِنْدِي عَهْدٌ فَلْيَقُمْ، قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَلِّمْنَا، قَالَ: قُولُوا: اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا: أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ، وَإِنِّي إِنْ أَثِقْ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْهُ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُؤَدِّهِ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ. قَالَ: وَزَادَ فِيهَا زَكَرِيَّا عَنِ الْقَاسِمِ: خَائِفًا مُسْتَجِيرًا، مُسْتَغْفِرًا رَاغِبًا إِلَيْكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ قَدِ اخْتَلَطَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Al-Aswad ibn Yazīd reported that ʿAbdullāh رضي الله عنه recited, Except him who has taken with the Most Merciful a covenant, and explained that Allah will say on Resurrection Day that whoever has a covenant with Him should stand; when asked to teach, he instructed a covenant supplication of the Originator of heavens and earth, Knower of unseen and seen, entrusting reliance and requesting fulfilment on Resurrection Day, with Zakarīya adding through al-Qāsim the state of fear, refuge, repentance, and desire. > **"O Allah, Originator of the heavens and the earth, Knower of the unseen and the seen, I covenant to You in this worldly life that if You entrust me to myself You bring me near evil and distance me from good, and I trust only in Your mercy, so make it for me with You a covenant You fulfil to me on the Day of Resurrection; indeed You do not break the promise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

اسود بن یزید بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی : ’’ البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جس نے رحمان سے عہد کیا ہو ۔‘‘ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا : جس شخص کا میرے ساتھ کوئی عہد ہو ، وہ کھڑا ہو جائے ، لوگوں نے کہا : اے ابوعبدالرحمان ! آپ ہمیں تعلیم دیجئے ( یعنی اس بات کی تعلیم دیجئے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیسے عہد کرنا چاہیے ؟ ) تو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لوگ یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، إِنِّي أَعْهَدُ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا: أَنَّكَ إِنْ تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي تُقَرِّبْنِي مِنَ الشَّرِّ، وَتُبَاعِدْنِي مِنَ الْخَيْرِ، وَإِنِّي إِنْ أَثِقْ إِلَّا بِرَحْمَتِكَ فَاجْعَلْهُ لِي عِنْدَكَ عَهْدًا تُؤَدِّهِ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ’’ اے اللہ ! آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے والے ، غیب اور شہادت کا علم رکھنے والے ، میں اس دنیاوی زندگی میں تیرے ساتھ عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے میرے نفس کے سپرد کر دیا ، تو تُو مجھے برائی کے قریب کر دے گا اور بھلائی سے دور کر دے گا ، اور میں صرف تیری رحمت پر بھروسہ رکھتا ہوں ، تو اس بات کو میرے لئے ، اپنی بارگاہ میں عہد بنا لے ، جسے تو قیامت کے دن مجھے ادا کر دینا ، بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں : اس روایت میں زکریا نامی راوی نے قاسم نامی راوی کے حوالے سے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : «خَائِفًا مُسْتَجِيرًا، مُسْتَغْفِرًا رَاغِبًا إِلَيْكَ» ’’ ( میں ) خوف کے عالم میں ، پناہ مانگتے ہوئے ، مغفرت طلب کرتے ہوئے ، تیری طرف رغبت رکھتے ہوئے ( یہ عہد کر رہا ہوں ) ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17435

Majma al-Zawaid #17435

وَعَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - يَدْعُو بِهَذَا الدُّعَاءِ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِنِعْمَتِكَ السَّابِغَةِ الَّتِي أَنْعَمْتَ بِهَا، وَبَلَائِكَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي، وَبِفَضْلِكَ الَّذِي أَفْضَلْتَ عَلَيَّ أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ، اللَّهُمَّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ بِفَضْلِكَ، وَمَنِّكَ، وَرَحْمَتِكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Abū al-Aḥwaṣ reported that he heard ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, supplicate asking by the ample blessing bestowed, the trial by which tested, and the grace favoured, to be admitted to Paradise by grace, favour, and mercy. > **"O Allah, I ask You by Your ample blessing with which You blessed me, by Your trial with which You tried me, and by Your grace with which You favoured me, to admit me to Paradise. O Allah, admit me to Paradise by Your grace, Your favour, and Your mercy."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابواحوص بیان کرتے ہیں : میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا ہے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِنِعْمَتِكَ السَّابِغَةِ الَّتِي أَنْعَمْتَ بِهَا، وَبَلَائِكَ الَّذِي ابْتَلَيْتَنِي، وَبِفَضْلِكَ الَّذِي أَفْضَلْتَ عَلَيَّ أَنْ تُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ، اللَّهُمَّ أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ بِفَضْلِكَ، وَمَنِّكَ، وَرَحْمَتِكَ» ’’ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری اس پھیلی ہوئی نعمت کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں جو تو نے مجھ پر کی ہے اور اس آزمائش کے حوالے سے ، جس میں تو نے مجھے مبتلا کیا ہے ، اور تیرے اس فضل کے وسیلہ سے ، جو تو نے مجھ پر کیا ہے ( ان سب کے وسیلے سے میں تجھ سے یہ دعا مانگتا ہوں : ) کہ تو مجھے جنت میں داخل کر دینا ، اے اللہ ! اپنے فضل ، اپنے احسان اور اپنی رحمت کے ذریعے ، مجھے جنت میں داخل کر دینا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17436

Majma al-Zawaid #17436

وَعَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِي فِي أَهْلِ الشَّقَاءِ فَامْحُنِي، وَأَثْبِتْنِي فِي أَهْلِ السَّعَادَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ أَبَا قِلَابَةَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ.

EnglishUnverified translation

Abū Qilāba reported from Ibn Masʿūd رضي الله عنه that he used to say a supplication asking, if written among the wretched, to be erased and affirmed among the felicitous. > **"O Allah, if You have written me among the people of wretchedness, then erase me and affirm me among the people of felicity."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ابوقلابہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کی ہے ، وہ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ كَتَبْتَنِي فِي أَهْلِ الشَّقَاءِ فَامْحُنِي، وَأَثْبِتْنِي فِي أَهْلِ السَّعَادَةِ» ’’ اے اللہ ! اگر تو نے میرا نام بدنصیب لوگوں میں نوٹ کیا ہے ، تو اسے وہاں سے مٹا کر ، میرا نام سعادت مند لوگوں میں نوٹ کر لے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، البتہ ابوقلابہ نامی راوی نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

17437

Majma al-Zawaid #17437

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ: أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ كَانَ يَدْعُو: اللَّهُمَّ زِدْنِي إِيمَانًا، وَيَقِينًا، وَفَهْمًا - أَوْ قَالَ: عِلْمًا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿUkaym reported that Ibn Masʿūd رضي الله عنه used to supplicate for increase in faith, certainty, and understanding, or he said knowledge. > **"O Allah, increase me in faith, certainty, and understanding."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبدالله بن عکیم بیان کرتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ زِدْنِي إِيمَانًا، وَيَقِينًا، وَفَهْمًا - أَوْ قَالَ: عِلْمًا» ’’ اے اللہ ! میرے ایمان ، یقین ، فہم ۔ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ۔ علم میں اضافہ فرما ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17438

Majma al-Zawaid #17438

وَعَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ إِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّيْلِ قَالَ: اللَّهُمَّ نَامَتِ الْعُيُونُ، وَغَارَتِ النُّجُومُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، اللَّهُمَّ طَلَبِي لِلْجَنَّةِ بَطِيءٌ، وَهَرَبِي مِنَ النَّارِ ضَعِيفٌ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي عِنْدَكَ هَدْيًا تَرُدُّهُ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ.

EnglishUnverified translation

Thawr ibn Yazīd reported that Muʿādh رضي الله عنه, when he rose for tahajjud by night, used to say a supplication addressing the Ever-Living Sustainer while eyes slept and stars set, confessing slow seeking of Paradise and weak flight from Fire, and asking for a guidance kept with Him to be returned on Resurrection Day. > **"O Allah, eyes have slept, stars have set, and You are Ever-Living, Sustainer. O Allah, my seeking of Paradise is slow and my flight from the Fire is weak. O Allah, make for me with You a guidance You return to me on the Day of Resurrection; indeed You do not break the promise."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ثور بن یزید بیان کرتے ہیں : حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب رات کے وقت تہجد کی نماز ادا کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : «اللَّهُمَّ نَامَتِ الْعُيُونُ، وَغَارَتِ النُّجُومُ، وَأَنْتَ حَيٌّ قَيُّومٌ، اللَّهُمَّ طَلَبِي لِلْجَنَّةِ بَطِيءٌ، وَهَرَبِي مِنَ النَّارِ ضَعِيفٌ، اللَّهُمَّ اجْعَلْ لِي عِنْدَكَ هَدْيًا تَرُدُّهُ إِلَيَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ» ’’ اے اللہ ! آنکھیں سو گئی ہیں ، ستارے ڈوب چلے ہیں ، تو زندہ اور قیوم ہے ، اے اللہ ! جنت کے لئے میری طلب سست ہے اور جہنم سے میرا بھاگنا کمزور ہے ، اے اللہ ! اپنی بارگاہ میں ، میرے لئے ایک ایسا تحفہ رکھ لے ، جسے تو قیامت کے دن مجھے دے دینا ، بے شک تو وعدے کے خلاف نہیں کرتا ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے ۔

17439

Majma al-Zawaid #17439

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ قَالَ: أَزْحَفُ عَلَى بَعِيرٍ لِي، وَأَنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتْرُكَهُ فَدَعَوْتُ اللَّهَ فَأَقَامَهُ لِي فَرَكِبْتُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Qurt reported that he was lagging upon his camel while with Khālid ibn al-Walīd رضي الله عنه, intended to abandon it, then supplicated to Allah, so Allah raised it for him and he mounted.

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

عبداللہ بن قرط بیان کرتے ہیں : میرا اونٹ سفر کے دوران تھکاوٹ کا شکار ہو کر رک گیا ، میں حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا ، میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اسے چھوڑ دیتا ہوں ، لیکن پھر میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ، تو اللہ تعالیٰ نے اُسے میرے لئے ٹھیک کر دیا اور میں سوار ہو گیا ۔ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔

17440

Majma al-Zawaid #17440

عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ: «بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ إِذْ أَتَى عَلَى رَجُلٍ يَتَقَلَّبُ فِي الرَّمْضَاءِ ظُهْرًا لِبَطْنٍ يَقُولُ: يَا نَفْسُ نَوْمٌ بِاللَّيْلِ، وَبَاطِلٌ بِالنَّهَارِ، وَتَرْجِينَ الْجَنَّةَ؟ فَلَمَّا قَضَى دَأْبَ نَفْسِهِ أَقْبَلَ إِلَيْنَا فَقَالَ: "" دُونَكُمْ أَخُوكُمْ ""، قُلْنَا: ادْعُ اللَّهَ لَنَا - يَرْحَمُكَ اللَّهُ - قَالَ: اللَّهُمَّ اجْمَعْ عَلَى الْهُدَى أَمْرَهُمْ، قُلْنَا: زِدْنَا، قَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلِ التَّقْوَى زَادَهُمْ، قُلْنَا: زِدْنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "" زِدْهُمْ ""، قَالَ: "" اللَّهُمَّ وَفِّقْهُ ""، فَقَالَ: اللَّهُمَّ اجْعَلِ الْجَنَّةَ مَآبَهُمْ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ - صَاحِبِ الصَّدَقَةِ - عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Burayda رضي الله عنه reported that while the Prophet ﷺ was on a journey, they came upon a man tossing in the midday heat saying to his soul, sleep by night, falsehood by day, yet hoping for Paradise; when he finished disciplining himself he came to them, the Prophet ﷺ said, take your brother, they asked him to supplicate for them, he asked union upon guidance, provision of taqwā, then at the Prophet's instruction for more, success, then Paradise as their return. > **"O Allah, gather their affair upon guidance. O Allah, make taqwā their provision. O Allah, grant him success. O Allah, make Paradise their return."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ سفر کر رہے تھے ، اسی دوران آپ کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا ، جو ریت پر الٹ پلٹ ہو رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا : اے نفس ! راتوں کو سونے والے ! اور دن کے وقت باطل کام کرنے والے ! تم جنت کی امید رکھتے ہو ؟ جب اس نے اپنے نفس کی سرزنش مکمل کی ، تو وہ ہماری طرف آیا ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : تم اپنے بھائی کو سنبھالو ! ہم نے کہا : تم ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ، اللہ تعالیٰ تم پر رحم کرے ، اس نے کہا : اے اللہ ! ان کے معاملے کو ہدایت پر جمع کر دے ، ہم نے کہا : مزید دعا کرو ! اس نے کہا : اے اللہ ! تقویٰ کو ان کا زاد سفر بنا دے ، ہم نے کہا : مزید دعا کرو ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم انہیں مزید دعا دو ! پھر نبی اکرم ﷺ نے دعا کی : اے اللہ ! تو اسے توفیق دینا ، تو اس شخص نے یہ کہا : اے اللہ ! تو جنت کو ان کا ٹھکانہ بنا دے ۔ یہ روایت امام طبرانی نے ابوعبداللہ کے حوالے سے نقل کی ہے ، جو صدقہ کے شاگرد تھے ، انہوں نے اسے علقمہ بن مرثد سے نقل کیا ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17441

Majma al-Zawaid #17441

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - افْتَقَدَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى مُعَاذًا فَقَالَ: " يَا مُعَاذُ، مَا لِي لَمْ أَرَكَ؟ "، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِيَهُودِيٍّ عِنْدِي وَقِيَّةٌ مِنْ تِبْرٍ، فَخَرَجْتُ إِلَيْكَ فَحَبَسَنِي عَنْكَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مُعَاذُ، أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً تَدْعُو بِهِ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِنَ الدَّيْنِ مِثْلُ صُبْرَ أَدَّاهُ عَنْكَ؟ " - وَصُبْرَ: جَبَلٌ بِالْيَمَنِ - " فَادْعُ اللَّهَ يَا مُعَاذُ، قُلِ: اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ، وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ، وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ، وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمُهُمَا، تُعْطِي مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ».

EnglishUnverified translation

Muʿādh ibn Jabal رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ missed him on Friday, came to him after prayer and asked why unseen; he explained detention by a Jew owed an ounce of gold; the Prophet ﷺ offered a supplication by which even debt like Ṣabr, a mountain in Yemen, would be paid, instructing the long praise of the Owner of sovereignty, merger of night and day, bringer of living and dead, boundless provider, Most Merciful of world and Hereafter, and request for enriching mercy. > **"O Allah, Owner of sovereignty, You grant sovereignty to whom You will and strip sovereignty from whom You will, honour whom You will and abase whom You will; in Your Hand is good; indeed You are over all things Powerful. You merge night into day and merge day into night, bring forth the living from the dead and the dead from the living, and provide whom You will without account. Most Merciful of this world and the Hereafter and Most Merciful to them, You grant from them to whom You will and withhold from whom You will; have mercy upon me with a mercy that enriches me from the mercy of any besides You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ جمعہ کے دن نبی اکرم ﷺ نے انہیں غیر موجود پایا ، جب نبی اکرم ﷺ نے نماز ادا کر لی ، تو آپ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے معاذ ! کیا وجہ ہے ، آج میں نے تمہیں نہیں دیکھا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے ایک یہودی کا ایک اوقیہ دینا ہے ، جب میں آپ کی طرف آنے کے لیے نکلا ، تو اس نے مجھے روک لیا ، نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اے معاذ ! کیا میں تمہیں ایسے کلمات کی تعلیم نہ دوں کہ جب تم ان کے ہمراہ دعا کرو گے ، تو اگر تم پر ’’ صبر ‘‘ جتنا قرض ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ وہ تمہاری طرف سے ادا کروا دے گا ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں :” صبر ‘‘ یمن میں موجود ایک پہاڑ کا نام ہے ۔ ( نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ) اے معاذ ! تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، تُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ، وَتُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ، وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ، وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ، وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيمُهُمَا، تُعْطِي مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، وَتَمْنَعُ مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ» ’’ اے اللہ ! اے بادشاہی کے مالک ، تو جسے چاہتا ہے ، حکومت عطا کر دیتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے ، حکومت الگ کر دیتا ہے ، اور تو جسے چاہتا ہے ، عزت دیتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے ، ذلت دیتا ہے ، ہر قسم کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ، بے شک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، تو رات کو دن میں داخل کرتا ہے ، اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، تو مردہ میں سے زندہ نکال دیتا ہے ، اور زندہ میں سے مردہ نکال دیتا ہے ، اور تو جسے چاہتا ہے ، کسی حساب کے بغیر رزق عطا کرتا ہے ، اے دنیا اور آخرت کے رحمان ! اور ان دونوں کے رحیم ! تو ان دونوں ( یعنی دنیا اور آخرت ) میں سے ، جس کو چاہے عطا کر دیتا ہے ، اور جس کو چاہے عطا نہیں کرتا ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنی رحمت کے علاوہ ، ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔‘‘

17442

Majma al-Zawaid #17442

وَفِي رِوَايَةٍ: عَنْ مُعَاذٍ قَالَ: «كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ بَعْضُ الْحَقِّ فَخَشِيتُهُ، فَلَبِثْتُ يَوْمَيْنِ لَا أَخْرُجُ، ثُمَّ خَرَجْتُ فَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: "" يَا مُعَاذُ، مَا خَلَّفَكَ؟ ""، قُلْتُ: كَانَ لِرَجُلٍ عَلَيَّ بَعْضُ الْحَقِّ فَخَشِيتُهُ حَتَّى اسْتَحْيَيْتُ، وَكَرِهْتُ أَنْ يَلْقَانِي، قَالَ: "" أَلَا آمُرُكَ بِكَلِمَاتٍ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ أَمْثَالُ الْجِبَالِ قَضَاهُ اللَّهُ؟ ""، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: "" قُلِ: اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ ""، فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِاخْتِصَارٍ وَزَادَ فِي آخِرِهِ: "" اللَّهُمَّ أَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ، وَاقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَتَوَفَّنِي فِي عِبَادَتِكَ، وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِكَ». رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي الرِّوَايَةِ الْأُولَى نَصْرُ بْنُ مَرْزُوقٍ وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ، إِلَّا أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ مُعَاذٍ، وَفِي الرِّوَايَةِ الثَّانِيَةِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.

EnglishUnverified translation

Muʿādh رضي الله عنه reported in another narration that a man had a claim upon him so he stayed home two days from shame, then came to the Messenger ﷺ who asked what kept him, and offered words by which even mountain-like debts would be settled; he instructed similar wording in brief, with the addition of enrichment from poverty, settlement of debt, and death in worship and jihād in His path. > **"O Allah, enrich me from poverty, settle my debt for me, and take me in Your worship and jihād in Your path."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص کا حق میرے ذمہ واجب الادا تھا ، مجھے اس کے حوالے سے اندیشہ ہوا ، تو میں دو دن گھر میں ہی رہا ، باہر نہیں نکلا ، پھر جب میں باہر نکلا اور نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ ﷺ نے دریافت کیا : اے معاذ ! تم کہاں رہے ؟ میں نے عرض کی : ایک شخص کا کچھ حق میرے ذمہ تھا ، مجھے اس کے حوالے سے اتنا اندیشہ تھا کہ مجھے حیا آئی اور مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ اس کی مجھ سے ملاقات ہو ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں کچھ کلمات کے بارے میں ہدایت نہ کروں ، کہ اگر تمہارے ذمہ پہاڑوں جتنا قرض ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے ادا کروا دے گا ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم یہ پڑھو : ’’ اے اللہ ! اے بادشاہی کے مالک !.....‘‘۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اور اس کے آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : «اللَّهُمَّ أَغْنِنِي مِنَ الْفَقْرِ، وَاقْضِ عَنِّي الدَّيْنَ، وَتَوَفَّنِي فِي عِبَادَتِكَ، وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِكَ» ’’ اے اللہ ! مجھے غربت سے بے نیاز کر دے ، اور میرا قرض ادا کروا دے اور مجھے اپنی عبادت میں اور اپنی راہ میں جہاد کرتے ہوئے موت دینا ۔‘‘ یہ تمام روایات امام طبرانی نے نقل کی ہیں ، پہلی روایت میں ایک راوی نصر بن مرزوق ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ، البتہ سعید بن مسیب نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے اور دوسری روایت میں ایسا راوی ہے جس سے میں واقف نہیں ہوں ۔

17443

Majma al-Zawaid #17443

وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمُعَاذٍ: «أَلَا أُعَلِّمُكَ دُعَاءً تَدْعُو بِهِ لَوْ كَانَ عَلَيْكَ مِثْلُ جَبَلِ أُحُدٍ دَيْنًا لَأَدَّى اللَّهُ عَنْكَ؟ قُلْ يَا مُعَاذُ: اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ، وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Anas ibn Mālik رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said to Muʿādh رضي الله عنه, shall I not teach you a supplication by which even debt like Mount Uhud would be paid for you, instructing a shorter form of the Owner of sovereignty with boundless provision and enriching mercy. > **"O Allah, Owner of sovereignty, You grant sovereignty to whom You will and strip sovereignty from whom You will, honour whom You will and abase whom You will; in Your Hand is good; indeed You are over all things Powerful. Most Merciful of this world and the Hereafter, You grant them to whom You will and withhold from them whom You will; have mercy upon me with a mercy that enriches me from the mercy of any besides You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی دعا کی تعلیم نہ دوں کہ اگر تم وہ دعا کر لو گے ، تو اگر تم پر احد پہاڑ جتنا قرض ہو گا ، تو اللہ تعالیٰ وہ تمہاری طرف سے ادا کروا دے گا ، اے معاذ ! تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ، تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَاءُ، وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَاءُ، وَتُعِزُّ مَنْ تَشَاءُ، وَتُذِلُّ مَنْ تَشَاءُ، بِيَدِكَ الْخَيْرُ، إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَحْمَنُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ تُعْطِيهِمَا مَنْ تَشَاءُ، وَتَمْنَعُ مِنْهُمَا مَنْ تَشَاءُ، ارْحَمْنِي رَحْمَةً تُغْنِينِي بِهَا عَنْ رَحْمَةِ مَنْ سِوَاكَ» ’’ اے اللہ ! اے بادشاہی کے مالک ! تو جسے چاہتا ہے حکومت عطا کرتا ہے ، اور جس سے چاہتا ہے حکومت الگ کر دیتا ہے ، تو جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ، ہر قسم کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے ، اور بیشک تو ہر شے پر قدرت رکھتا ہے ، اے دنیا اور آخرت کے رحمان ! تو جس کو چاہتا ہے وہ دونوں ( یعنی دنیا اور آخرت ) عطا کر دیتا ہے ، اور تو جس کو چاہتا ہے ، اسے ان دونوں میں سے نہیں دیتا ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنے علاوہ ، ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17444

Majma al-Zawaid #17444

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ لِي أَبِي - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: «أَلَا أُعَلِّمُكِ دُعَاءً عَلَّمَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ: "" كَانَ عِيسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُهُ الْحَوَارِيِّينَ ""، لَوْ كَانَ عَلَيْكِ دَيْنٌ مِثْلَ أُحُدٍ ثُمَّ قُلْتِهِ ; لَقَضَى اللَّهُ عَنْكِ؟ قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: قُولِي: "" اللَّهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ، وَكَاشِفَ الْكَرْبِ، مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّ، رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَإِلَهَ الْآخِرَةِ، أَنْتَ رَحْمَانِي فَارْحَمْنِي بِرَحْمَةٍ تُغْنِينِي بِهَا عَمَّنْ سِوَاكَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَيْلِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.

EnglishUnverified translation

ʿĀʾisha رضي الله عنها reported that her father رضي الله عنه offered to teach her a supplication taught to him by the Messenger of Allah ﷺ, who said ʿĪsā عليه السلام used to teach it to the disciples, by which even debt like Uhud would be settled, addressing the Reliever of anxiety, Remover of distress, Answerer of the compelled, Most Merciful of world and God of Hereafter. > **"O Allah, Reliever of anxiety, Remover of distress, Answerer of the supplication of the compelled, Most Merciful of this world and God of the Hereafter, You are my Merciful; have mercy upon me with a mercy that enriches me from any besides You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میرے والد نے مجھ سے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی دعا کی تعلیم نہ دوں ، جس کی تعلیم نبی اکرم ﷺ نے مجھے دی تھی ، اور آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا : ’’ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے حواریوں کو اس کی تعلیم دی تھی ، اگر تمہارے ذمہ اُحد پہاڑ کی مانند قرض ہو اور پھر تم یہ دعا پڑھ لو ، تو اللہ تعالیٰ تمہاری طرف سے ادائیگی کروا دے گا ۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو انہوں نے فرمایا : تم یہ پڑھو : «اللَّهُمَّ فَارِجَ الْهَمِّ، وَكَاشِفَ الْكَرْبِ، مُجِيبَ دَعْوَةِ الْمُضْطَرِّ، رَحْمَنَ الدُّنْيَا وَإِلَهَ الْآخِرَةِ، أَنْتَ رَحْمَانِي فَارْحَمْنِي بِرَحْمَةٍ تُغْنِينِي بِهَا عَمَّنْ سِوَاكَ» ” اے اللہ ! اے پریشانی کو دور کرنے والے ! تکلیف کو ختم کرنے والے ! پریشان حال کی دعا قبول کرنے والے ! دنیا اور آخرت کے رحمان ! تو میرا رحمان ہے ، تو مجھ پر ایسی رحمت کر دے ، جس کے ذریعے تو اپنے علاوہ ہر ایک سے مجھے بے نیاز کر دے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبداللہ ایلی ہے اور وہ متروک ہے ۔

17445

Majma al-Zawaid #17445

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَصَابَ أَحَدًا قَطُّ هَمٌّ وَلَا حَزَنٌ فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - هَمَّهُ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَجًا ""، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَنْبَغِي لَنَا أَنْ نَتَعَلَّمَ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ؟ قَالَ: "" أَجَلْ يَنْبَغِي لِمَنْ سَمِعَهُنَّ أَنْ يَتَعَلَّمَهُنَّ». رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ وَالْبَزَّارُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: "" وَذَهَابَ غَمِّي ""، مَكَانَ: "" هَمِّي "". وَرِجَالُ أَحْمَدَ وَأَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي سَلَمَةَ الْجُهَنِيِّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, reported that the Messenger of Allah ﷺ said that no one afflicted by anxiety or sorrow who says the supplication of servitude, forelock in His Hand, just decree, asking by every Name named, revealed, taught, or reserved in unseen knowledge, to make the Quran the spring of his heart, light of chest, polish of sorrow, and removal of anxiety, except Allah removes his anxiety and replaces sorrow with relief; they asked whether to learn them, and he said yes, whoever hears them should learn them. > **"O Allah, I am Your servant, son of Your servant, son of Your maidservant; my forelock is in Your Hand, Your decree over me is executed, Your judgment over me is just. I ask You by every Name belonging to You, by which You named Yourself, sent down in Your Book, taught to any of Your creation, or reserved in the knowledge of the unseen with You, to make the Quran the spring of my heart, the light of my chest, the polish of my sorrow, and the removal of my anxiety."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ جب بھی کسی شخص کو کوئی پریشانی یا غم لاحق ہو اور وہ یہ پڑھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي عَبْدُكَ، وَابْنُ عَبْدِكَ، وَابْنُ أَمَتِكَ، نَاصِيَتِي بِيَدِكَ، مَاضٍ فِيَّ حُكْمُكَ، عَدْلٌ فِيَّ قَضَاؤُكَ، أَسْأَلُكَ بِكُلِّ اسْمٍ هُوَ لَكَ، سَمَّيْتَ بِهِ نَفْسَكَ، أَوْ أَنْزَلْتَهُ فِي كِتَابِكَ، أَوْ عَلَّمْتَهُ أَحَدًا مِنْ خَلْقِكَ، أَوِ اسْتَأْثَرْتَ بِهِ فِي عِلْمِ الْغَيْبِ عِنْدَكَ، أَنْ تَجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِيعَ قَلْبِي، وَنُورَ صَدْرِي، وَجَلَاءَ حُزْنِي، وَذَهَابَ هَمِّي، إِلَّا أَذْهَبَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - هَمَّهُ، وَأَبْدَلَهُ مَكَانَ حُزْنِهِ فَرَجًا» ’’ اے اللہ ! بے شک میں تیرا بندہ ہوں اور تیرے بندے کا بیٹا ہوں اور تیری کنیز کا بیٹا ہوں ، میری پیشانی تیرے ہاتھ میں ہے ، میرے بارے میں تیرا فیصلہ نافذ ہو گا ، میرے بارے میں تیری تقدیر کا فیصلہ عدل کے مطابق ہے ، میں ہر اس اسم کے وسیلے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں ، جو تیرا اسم ہے ، اور جس کو تو نے اپنے لئے تجویز کیا ہے ، یا جس کو تو نے اپنی کتاب میں نازل کیا ہے ، یا جس کو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو تعلیم دیا ہے ، یا جس کا تعلق اس علم غیب سے ہے ، جو تیرے پاس ہے ( میں ایسے ہر اسم کے وسیلے سے تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں ) کہ تو قرآن کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میری غم کی جلا اور میری پریشانی کی رخصتی ( کا سبب ) بنا دے ۔‘‘ نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ اس کی پریشانی ختم کر دے گا اور اس کے غم کی جگہ اسے کشادگی نصیب کر دے گا ۔‘‘ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے لئے یہ مناسب ہے کہ ہم ان کلمات کو سیکھ لیں ، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جی ہاں ! جو شخص بھی ان کے بارے میں سنتا ہے ، اس کے لیے یہ مناسب ہے کہ وہ ان کو سیکھ لے ۔‘‘ یہ روایت امام احمد ، امام ابویعلیٰ ، امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے ’’ میری پریشانی ‘‘ کی جگہ یہ الفاظ نقل کئے ہیں :” میرے غم ۔‘‘ امام احمد اور امام ابویعلیٰ کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف ابوسلمہ جہنی کا معاملہ مختلف ہے ، اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔

17446

Majma al-Zawaid #17446

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: «إِذَا تَخَوَّفَ أَحَدُكُمْ سُلْطَانًا فَلْيَقُلِ: اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَأَتْبَاعِهِمْ، أَنْ يُفْرِطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ». رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ جُنَادَةَ بْنِ سَلْمٍ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي الْأَذْكَارِ هَذَا الْحَدِيثُ وَغَيْرُهُ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضي الله عنه reported that the Prophet ﷺ said that when one of you fears a ruler, let him name the feared one and seek neighbourhood with the Lord of seven heavens and mighty Throne against him, jinn, men, and followers exceeding against him. > **"O Allah, Lord of the seven heavens and Lord of the mighty Throne, be for me a protector against the evil of so-and-so, son of so-and-so, and the evil of jinn and men and their followers, lest any of them exceed against me. Mighty is Your protection, exalted is Your praise, and there is no god besides You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ’’ جب تم میں سے کسی ایک کو حکمران کے حوالے سے اندیشہ ہو تو اسے یہ پڑھنا چاہیے : «اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ - يَعْنِي الَّذِي يُرِيدُ - وَشَرِّ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ وَأَتْبَاعِهِمْ، أَنْ يُفْرِطَ عَلَيَّ أَحَدٌ مِنْهُمْ، عَزَّ جَارُكَ، وَجَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ” اے اللہ ! سات آسمانوں کے پروردگار ! عظیم عرش کے پروردگار ! تو فلاں بن فلاں کے شر سے مجھے بچانے والا ہو جا ، راوی کہتے ہیں : یعنی یہاں آدمی متعلقہ فرد کا نام لے گا ، اور جنات اور انسانوں اور ان کے پیروکاروں کے نشر سے مجھے بچا لے کہ ان میں سے کوئی ایک میرے خلاف زیادتی کرے ، تیری پناہ زبردست ہے ، تیری تعریف بلند و برتر ہے ، اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ، صرف جنادہ بن سلم کا معاملہ مختلف ہے ، اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ’’ کتاب الاذکار ‘‘ میں یہ روایت اور اس کے علاوہ دیگر روایات گزر چکی ہیں ( یعنی ایسی روایات جو اس باب کے مضمون سے تعلق رکھتی ہیں ) ۔

17447

Majma al-Zawaid #17447

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: إِذَا أَتَيْتَ سُلْطَانًا مَهِيبًا تَخَافُ أَنْ يَسْطُوَ بِكَ فَقُلِ: اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ، وَجُنُودِهِ، وَأَتْبَاعِهِ، وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، إِلَهِي، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما said that when you come to an awe-inspiring ruler fearing his assault, say exaltation above all creation and refuge with the Withholder of seven heavens from falling except by permission, against His servant so-and-so, his armies, followers, and partisans of jinn and men. > **"Allah is Greatest, Allah is greater than all His creation, Allah is mightier than what I fear and dread. I seek refuge in Allah who withholds the seven heavens from falling upon the earth except by His permission, from the evil of Your servant so-and-so, his armies, followers, and partisans of jinn and men. My God, be for me a protector against their evil. Exalted is Your praise, mighty is Your protection, blessed is Your Name, and there is no god besides You."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب تم کسی ایسے حکمران کے پاس جاؤ جس کے بارے میں تمہیں یہ اندیشہ ہو کہ وہ تمہارے خلاف زیادتی کر سکتا ہے ، تو تم یہ پڑھو : «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِهِ جَمِيعًا، اللَّهُ أَعَزُّ مِمَّا أَخَافُ وَأَحْذَرُ، أَعُوذُ بِاللَّهِ الْمُمْسِكِ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ أَنْ يَقَعْنَ عَلَى الْأَرْضِ إِلَّا بِإِذْنِهِ مِنْ شَرِّ عَبْدِكَ فُلَانٍ، وَجُنُودِهِ، وَأَتْبَاعِهِ، وَأَشْيَاعِهِ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ، إِلَهِي، كُنْ لِي جَارًا مِنْ شَرِّهِمْ، جَلَّ ثَنَاؤُكَ، وَعَزَّ جَارُكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ» ’’ اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ اپنی ساری مخلوق سے زیادہ بڑا ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ زبردست ہے جس سے مجھے خوف ہے اور جس سے میں بچنا چاہتا ہوں ، میں اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں ، جس نے سات آسمانوں کو اس بات سے روکا ہوا ہے کہ وہ زمین پر گر جائیں ، البتہ اس کے اذن کا معاملہ مختلف ہے ( اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں ) تیرے فلاں بندے اور اس کے لشکروں اور اس کے پیروکاروں اور اس کے ساتھیوں سے ، جن کا تعلق جنات اور انسانوں سے ہو ، اے اللہ ! تو ان کے شر سے مجھے محفوظ رکھنے والا ہو جا ! تیری ثناء جلیل القدر ہے ، تیری پناہ زبردست ہے ، تیرا اسم برکت والا ہے اور تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ۔‘‘ یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ صحیح ‘‘ کے رجال ہیں ۔

17448

Majma al-Zawaid #17448

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ: "" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ ; فَإِنَّهُمَا بِيَدِكَ لَا يَمْلِكُهُمَا سِوَاكَ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ الَّذِي تُرِيدُهُ لِي خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَفِي دُنْيَايَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَوَفِّقْهُ وَسَهِّلْهُ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا فَوَفِّقْنِي لِلْخَيْرِ - أَحْسَبُهُ قَالَ - حَيْثُ كَانَ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِأَسَانِيدَ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَأَكْثَرُ أَسَانِيدِ الْبَزَّارِ حَسَنَةٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn Masʿūd رضi الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to teach them istikhāra, asking good by His knowledge, ability by His power, and grace and mercy in His Hand, confessing knowledge and power belong to Him, Knower of unseen, and asking facilitation of the intended matter if good in religion, world, and outcome, or facilitation to good wherever it is. > **"O Allah, I seek good from You by Your knowledge, seek ability from You by Your power, and ask You from Your grace and mercy, for they are in Your Hand none owns besides You; for You know and I do not know, You decree and I do not decree, and You are Knower of the unseen. O Allah, if this matter You intend for me is good for me in my religion and my world and the outcome of my affair, then grant me success in it and ease it; and if other than it is good, then grant me success in good wherever it is."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ ہمیں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے ( جس کی دعا کے کلمات یہ ہیں : ) «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ وَرَحْمَتِكَ ; فَإِنَّهُمَا بِيَدِكَ لَا يَمْلِكُهُمَا سِوَاكَ، فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا الْأَمْرُ الَّذِي تُرِيدُهُ لِي خَيْرًا لِي فِي دِينِي وَفِي دُنْيَايَ - أَحْسَبُهُ قَالَ: وَعَاقِبَةِ أَمْرِي فَوَفِّقْهُ وَسَهِّلْهُ، وَإِنْ كَانَ غَيْرُ ذَلِكَ خَيْرًا فَوَفِّقْنِي لِلْخَيْرِ - أَحْسَبُهُ قَالَ - حَيْثُ كَانَ» ’’ اے اللہ ! میں تیرے علم کے مطابق تجھ سے بھلائی مانگتا ہوں ، اور تیری قدرت کی مدد سے تجھ سے قدرت ( یعنی صلاحیت ) مانگتا ہوں ، اور میں تجھ سے تیرا فضل اور تیری رحمت مانگتا ہوں ، کیونکہ یہ دونوں تیرے ہاتھ میں ہیں ، تیرے علاوہ اور کوئی ان دونوں کا مالک نہیں ہے ، بیشک تو علم رکھتا ہے اور میں علم نہیں رکھتا ہوں ، تو قدرت رکھتا ہے اور میں قدرت نہیں رکھتا ہوں ، تو غیب کا بہت زیادہ علم رکھتا ہے ، اے اللہ ! یہ معاملہ جیسے تو میرے لئے چاہتا ہے اگر یہ میرے حق میں ، میرے دین اور میری دنیا میں بہتر ہے ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ بھی ہیں : ) میرے انجام کے اعتبار سے بہتر ہے ، تو اس کی توفیق دیدے اور اسے آسان کر دے اور اگر بھلائی اس کے علاوہ میں ہے ، تو مجھے بھلائی کی توفیق عطا فرما ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ بھی ہیں : ) خواہ وہ جہاں کہیں بھی ہو ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، امام بزار کی زیادہ تر اسانید حسن ہیں ۔

17449

Majma al-Zawaid #17449

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ: «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ قَاعِدًا فِي أُنَاسٍ فَمَرَّ بِهِ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ فَقَالَ: "" هَاتُوا بَنِيَّ حَتَّى أُعَوِّذَهُمَا بِمَا عَوَّذَ بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ إِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ: أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh, meaning Ibn Masʿūd رضي الله عنه, reported that the Prophet ﷺ was sitting among people when al-Ḥasan and al-Ḥusayn رضي الله عنهما passed, so he said, bring my two sons that I may seek refuge for them as Ibrāhīm عليه السلام sought refuge for his sons Ismāʿīl and Isḥāq, with the perfect words against devil, pest, and envious eye. > **"I seek refuge for you two by the perfect words of Allah from every devil and pest, and from every envious eye."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ کچھ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے ، اسی دوران حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ( جو اس وقت بچے تھے ) وہ دونوں وہاں سے گزرے ، تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے دونوں بیٹوں کو لاؤ ! تاکہ میں ان دونوں کو وہ دم کروں ، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے دو صاحبزادوں حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کو دم کیا کرتے تھے ( جس کے کلمات یہ ہیں : ) «أُعِيذُكُمَا بِكَلِمَاتِ اللَّهِ التَّامَّةِ مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ وَهَامَّةٍ، وَمِنْ كُلِّ عَيْنٍ لَامَّةٍ» ’’ میں تم دونوں کو اللہ تعالیٰ کے مکمل کلمات کی پناہ میں دیتا ہوں ، ہر شیطان اور زہریلے کیڑے مکوڑوں سے ، اور ہر حاسد ( لگنے والی ) نظر ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

17450

Majma al-Zawaid #17450

وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَوْذَةٌ كَانَ إِبْرَاهِيمُ يُعَوِّذُ بِهَا إِسْحَاقَ وَإِسْمَاعِيلَ، وَأَنَا أُعَوِّذُ بِهَا الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: سَمِعَ اللَّهُ دَاعِيًا لِمَنْ دَعَا مَا وَرَاءَ اللَّهِ مَرْمًى لِمَنْ رَمَى». قُلْتُ: هَكَذَا وَجَدْتُهُ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ نُعَيْمُ بْنُ مُوَرِّعٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbd al-Raḥmān ibn ʿAwf رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ said that with a refuge Ibrāhīm عليه السلام used to seek refuge for Isḥāq and Ismāʿīl, he seeks refuge for al-Ḥasan and al-Ḥusayn رضي الله عنهما, concerning Allah hearing the supplicant beyond Whom is the aim of whoever casts. > **"Allah heard the supplicant for whoever supplicated; beyond Allah is the aim for whoever casts."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’ وہ کلمات جن کے ذریعے حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت اسحاق علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو دم کیا کرتے تھے ، میں اُن کے ذریعے حسن اور حسین کو دم کرتا ہوں ( وہ کلمات یہ ہیں : ) ’’ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کرنے والے کی بات سن لی جس نے دعا کی ۔ ( روایت کے اگلے الفاظ مجہول ہیں اسی لیے علامہ ہیثمی نے ، اس پر درج ذیل تبصرہ کیا ہے : ) ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے یہ روایت اسی طرح پائی ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی نعیم بن مورع ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

17451

Majma al-Zawaid #17451

وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَمِّ - يَعْنِي: الْغَرَقَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.

EnglishUnverified translation

Abū Hurayra رضي الله عنه reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say refuge from deafness and dumbness, sin and debt, drowning, and anxiety. > **"O Allah, I seek refuge in You from deafness and dumbness, I seek refuge in You from sin and debt, I seek refuge in You from drowning, and I seek refuge in You from anxiety."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الصَّمَمِ وَالْبَكَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْغَمِّ - يَعْنِي: الْغَرَقَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ» ’’ اے اللہ ! میں بہرے پن اور گونگے پن سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں گناہ اور قرض ( یا لازم ہونے والی کوئی ادائیگی ) سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں ڈوبنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ، اور میں پریشانی سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

17452

Majma al-Zawaid #17452

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ». رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.

EnglishUnverified translation

ʿAbdullāh ibn ʿAmr رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say refuge from incapacity, laziness, old age, cowardice, and miserliness. > **"O Allah, I seek refuge in You from incapacity, laziness, old age, cowardice, and miserliness."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ دعا کیا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْهَرَمِ، وَالْجُبْنِ، وَالْبُخْلِ» ’’ اے اللہ ! میں عاجز ہونے ، سستی کا شکار ہونے ، بڑھاپے ، بزدلی اور کنجوسی سے ، تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی تیمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

17453

Majma al-Zawaid #17453

وَعَنْ قُطْبَةَ: أَنَّهُ «سَمِعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَعَوَّذُ مِنَ الْأَسْوَاءِ، وَالْأَهْوَاءِ». قُلْتُ: رَوَى التِّرْمِذِيُّ مِنْهُ التَّعَوُّذَ مِنَ الْأَهْوَاءِ. رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.

EnglishUnverified translation

Quṭba رضي الله عنه reported that he heard the Prophet ﷺ seeking refuge from evil matters and vain desires. > **"O Allah, I seek refuge in You from evil matters and vain desires."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت قطبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو بری چیزوں اور نفسانی خواہشات سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی نے اس میں سے نفسانی خواہشات سے پناہ مانگنے والا حصہ نقل کیا ہے ۔ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ’’ ثقہ ‘‘ ہیں ۔

17454

Majma al-Zawaid #17454

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - وَنَفْثِهِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ "". فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا هَذَا الَّذِي تَعَوَّذُ مِنْهُ؟ قَالَ: "" أَمَّا هَمْزُهُ فَالَّذِي يُوَسْوِسُهُ، وَأَمَّا نَفْثُهُ فَالشِّعْرُ، وَأَمَّا نَفْخُهُ فَمَا يُلْقِي مِنَ الشُّبَهِ "" - يَعْنِي فِي الصَّلَاةِ - "" لِيَقْطَعَ عَلَيْهِ صَلَاتَهُ، أَوْ عَلَى الْإِنْسَانِ صَلَاتَهُ ""، وَأَمَّا عَذَابُ الْقَبْرِ فَكَانَ يَقُولُ: "" أَكْثَرُ عَذَابِ الْقَبْرِ فِي الْبَوْلِ»، رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ كُرَيْبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. قُلْتُ: وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي أَوَاخِرِ الْأَذْكَارِ أَبْوَابٌ فِي الِاسْتِعَاذَةِ وَهَذَا مَوْضِعُهَا.

EnglishUnverified translation

Ibn ʿAbbās رضي الله عنهما reported that the Messenger of Allah ﷺ used to say refuge from Satan, his pricking, blowing, and spittle, and from grave punishment; when asked, he explained pricking as whispering, spittle as poetry, blowing as doubts cast in prayer to cut it off, and said most grave punishment is from urine. > **"O Allah, I seek refuge in You from Satan, from his pricking, his blowing, and his spittle, and from the punishment of the grave."**

اردو ترجمہ · UrduUnverified translation

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ یہ پڑھا کرتے تھے : «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، مِنْ هَمْزِهِ وَنَفْخِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ: - وَنَفْثِهِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ» ’’ اے اللہ ! میں شیطان سے ، اس کے ’’ ہمز ‘‘ اس کے ’’ نفخ ‘‘ ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) اس کے ’’ نفث ‘‘ سے ، اور قبر کے عذاب سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔‘‘ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! وہ چیز کیا ہے ؟ جس سے آپ پناہ مانگ رہے ہیں ، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جہاں تک اس کے ’’ ہمز ‘‘ کا تعلق ہے ، تو اس سے مراد وہ چیز ہے ، جو وہ وسوسہ ڈالتا ہے ، اس کے ’’ نفث ‘‘ سے مراد شاعری کرنا ہے ، اس کے ’’ نفخ ‘‘ سے مراد اس کا شبہات پیدا کرنا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : یعنی وہ شبہات جو وہ نماز کے دوران ڈالتا ہے ، تاکہ وہ آدمی کی نماز کو منقطع کر دے ( یہاں الفاظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) جہاں تک قبر کے عذاب کا تعلق ہے ، تو نبی اکرم ﷺ اس کے بارے میں یہ فرماتے تھے : ’’ زیادہ تر قبر کا عذاب ، پیشاب کی وجہ سے ہوتا ہے ۔‘‘ یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن کریب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں :’’ کتاب الاذکار ‘‘ کے آخر میں پناہ مانگنے سے متعلق کچھ ابواب گزرے ہیں اور یہ ان کا مخصوص مقام ہے ۔